سر ورق / کہانی / عشق ہو ! نادیہ احمد آخری قسط

عشق ہو ! نادیہ احمد آخری قسط

عشق ہو !

نادیہ احمد

آخری قسط

”تو کیا آپ واقعی ”فرہاد عالی“ کے متعلق کچھ نہیں جانتے سر؟“ اس نے مایوسی سے سوال کیا تھا۔ کل کا دن بیزاری میں گزرا تھا ۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ پورا دن سستی میں رہی تھی ۔ ایسے میں پڑھائی تو دور کی بات وہ گھر کا کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر پائی ۔ صبح ناشتے کا بھی موڈ نہیں تھا کیونکہ طبیعت شدید بوجھل تھی ۔ قاسم نے صبح کال کی تو وہ تقریباََ سوئی پڑی تھی۔ اسے حیرت ہوئی کیونکہ اپنے حساب سے اس نے یہ سوچا تھا کہ انمول سے یونیورسٹی جانے سے پہلے ایک بات خیریت پوچھ لے لیکن اس کی نیند میں بھری آواز سن کر اس نے جلد ہی کال بند کر دی تھی۔ وہ ویسے بھی فون پہ لمبی گفتگو پسند نہیں کرتا تھا جبکہ آج تو خود انمول کی بھی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس سے ہاں اور نہیں سے بڑھ کر بات کر پاتی۔ شکر ہے صفائی والی ماسی دوپہر کے بعد آتی تھی کیونکہ اس وقت انمول کی واپسی ہوچکی ہوتی تھی۔ اسے سلیپنگ سوٹ میں دیکھ کر وہ بھی حیران ہوئی تھی ۔ بہرحال شام تک حالت کچھ بہتر ہوئی تھی لیکن ذہن اب بھی تھکا تھکا سا تھا۔ قاسم کی کمی اسی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ وہ اسے کال کرنا چاہتی تھی لیکن قاسم کو بلا ضرورت کال کرنا پسند نہیں تھا اور خود اس نے اب دوبارہ فون رات میں ہی کرنا تھا ہاں اگر خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی ہوتی تو وہ الگ مسئلہ تھا لیکن اپنے کام کے دوران وہ انمول کی محظ ہیلو ہائے کے لئے کی گئی کالز کو پسند نہیں کرتا تھا اور انمول اس بات کا ہمیشہ خیال رکھتی تھی کہ کام کے دوران اسے ڈسٹرب نہ کرے۔

”آپ نے کہا تھا مجھے اپنے کام کے سلسلے میں کسی مدد کی ضرورت ہو تو آپ کے پاس آسکتی ہوں“۔ وہ یونیورسٹی سے واپسی سے پہلے یہ کنفرم کرکے کہ پروفیسر رضوی اپنے آفس میں ہیں اور مصروف نہیں ان کے پاس آگئی تھی ۔

”بالکل کہا تھا اور میں اپنی اس بات پہ قائم بھی ہوں“۔اسے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے نہایت خوشدلی سے جواب دیا تھا۔ انہیں اندازہ نہیں تھا محض ایک دن کے وقفے سے ان کی انمول سے دوبارہ ملاقات ہوگی لیکن یہ بھی سچ ہے وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے تھے۔

”میں آپ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی سر لیکن۔۔۔“میز کا کونا اپنے ناخن سے کھرچتے اس نے معذرت کرنا چاہی۔ پروفیسر رضوی یقینناََ اس کی کیفیت سے باخبر تھے اسی لئے حوصلہ افزائی کے پیشِ نظر مسکرا کر کہا۔

”یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی کہ ہماری یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے کسی طالبعلم کے ریسرچ ورک میں میرا بھی کچھ کانٹریبیوشن ہو“۔ ان کے رویے نے انمول کو واقعی تسلی دی تھی ۔انٹرکام پہ اپنے اور اس کے لئے کافی منگوانے کے بعد وہ اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے۔ انمول نے ان کے سامنے اپنا سوال دہرایا تھا۔ وہ ”فرہاد عالی“ کے متعلق جاننا چاہتی تھی۔ اپنی کل کی تحقیق سے وہ انہیں آگاہ کرچکی تھی اور اب اسے کسی ایسے شخص کی تلاش تھی جو فرہاد کو جانتا تاکہ اس سے اس کی شخصیت کے متعلق معلومات اکٹھی کر سکتی اور اگر ممکن ہوتا تو خود اس سے مل پاتی۔ وہ اس کی شخصیت کے چھپے پہلوو ¿ں کو جان کر ہی اس کی شاعری پہ اپنا نظریہ بیان کرنا چاہتی تھی۔یہ کتاب میں لکھی کسی نظم کی تشریح یا خلاصہ نہیں تھا ، یا پھر کسی مضمون کا تنقیدی جائزہ جو وہ پروفیسر رضوی سے سمجھنا چاہتی تھی ۔ ایک ”آو ¿ٹ آف دا وے“ ہیلپ تھی اور یہی وجہ تھی کہ اسے اب ان کے پاس بیٹھے جھجک محسوس ہورہی تھی۔ اس کے سوال پہ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انہوں نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا تھا۔ آفس بوائے ان کی ٹیبل پہ کافی رکھ رہا تھا اور وہ بغور کافی کے اس کپ کو دیکھ رہے تھے جس میں سے اس وقت بھاپ اٹھ رہی تھی۔ آفس بوائے نے انمول کا کپ اس کے سامنے رکھا اور پھر دروازے سے باہر نکل گیا۔

”تو کیا آپ کسی ایسے شخص کو بھی نہیں جانتے جس کے ذریعے ”فرہاد عالی“ تک پہنچا جا سکے“؟ انہوں نے اسے مدد کی آفر کی تھی اور اس وقت انمول کی اس سے بڑھ کر مدد اور کیا ہوسکتی تھی کہ وہ اسے اس گمنام شاعر کے متعلق بتا دیتے لیکن ان کے پاس اس کے لئے مثبت جواب نہیں تھا۔ پروفیسر رضوی کی باتوں نے اسے اداس کیا تھا۔ ان کے سنجیدہ اور بے تاثر چہرے کو دیکھتے انمول نے مایوسی سے ایک اور سوال کیا۔

”آپ ”فرہاد“ سے کیوںملنا چاہتی ہیں؟“ دونوںکہنیاں میز پہ ٹکائے وہ اب اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

”میر اور غالب نے بھی اپنی بات کہنے کے لئے اشعار کا سہارا لیا لیکن گمنامی کا راستہ اختیار نہیں کیا ۔ آج ایک عالم ان کا قدردان ہے ۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار ایسے شاعر ہیں جن کا نام شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہے اور ان میں سے ہر کوئی اس ”شہرت “ کا متلاشی” تھا“ اور ”ہے“۔ “ پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ ایک اتنا باکمال شاعر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے وہ بھی آج کے دور میں۔

”یہ بھی تو ہوسکتا ہے اسے شہرت کی آرزو ہی نہ ہو۔وہ اپنی گمنامی کے ساتھ خوش ہو۔ مطمعن ہو“۔ سگریٹ کی راکھ کو راکھ دانی میں جھٹکتے پریفیسر رضوی نے تبصرہ کیا۔

”ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا کہ آج کے دور میں کوئی اپنے ہی کام کا کریڈیٹ دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتے ہوئے لے۔ کوئی ایک تو ہوگا نا سر جو اس سے واقف ہوگا۔ اس کے لفظوں کے پیچھے چھپے درد سے واقف ہوگا۔ وہ جس کا غم منا رہا ہے کوئی تو اس محبت کے روگ سے واقف ہوگا۔“اس گتھی کو سلجھانے میں وہ خود بے حد الجھ گئی تھی۔ میز پہ رکھی اس کی کافی سرد ہوچکی تھی لیکن اس کا دھیان ایک بار بھی اس طرف نہیں گیا تھا۔

”انمول میرا خیال ہے تم ایک انتہائی قابل اور ذہین لڑکی ہو اور تم میں یقینناََ اتنی صلاحیت ہے کہ شاعری پہ اپنا تنقیدی مقالہ بناءکسی کے پس منظر کو جانے لکھ دو ۔ تو پھر کیوں اس تحقیق میں اپنا وقت برباد کر رہی ہو“۔اس سے پہلے وہ خود بھی یہی سوچ رہی تھی کہ یقینناََ وہ ایسا کرسکتی ہے اور وہ کر بھی جاتی۔ یہ شاعری اس کے دل و ذہن پہ کچھ اس طرح مسلط تھی کہ وہ بآسانی اپنا کام کر سکتی تھی۔ فرہاد نے اپنے کلام میں زندگی کے جس حسین رنگ کو متعارف کروایا تھا وہ ”محبت“ سے ”درد“ کا بندھن تھا۔ گو یہ سب نیا نہیں تھا لیکن ہاں اس کے کہنے کا انداز نرالا تھا اور اس کے لفظوں کا خنجر انمول کو روح میں اترتا محسوس ہوتا تھا۔ اس سے پہلے جب تک وہ اس کے کلام کی دیوانی تھی اس بات سے کوئی سروکار نہ رکھتی تھی کہ یہ شخص کون ہے لیکن کل سے یہ جیسے اس کی ضد بن چکی تھی کہ اسے ”فرہاد علی“ کے متعلق پتا لگانا ہے۔

”مجھے لگتا ہے اس کے کلام کو سمجھنے کے لئے اس کی شخصیت کو کھوجنا نہایت اہم ہے۔ میں جس شاعری سے متاثر ہوں وہ محض الفاظ تو نہیں ہیں نا سر۔۔۔وہ ایک انسان کے جذبات ہیں اور ان کی روح تک پہنچنے کے لئے اس انسان کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے۔ آخر وہ کون ہے ؟ کیا ہے اور کس طرح کہہ دیتا ہے ایسی گہری باتیں“۔ اس نے انہیں اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ جانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پروفیسر رضوی یا تو اسے سنجیدہ نہیں لے رہے یا پھر اسے ٹال رہے ہیں۔ وہ خود بھی تو ایک بار نہیں چونکے تھے اور نہ ہی انہوں نے اس پہ حیرانی کا اظہار کیا تھا۔

”ہر انسان کی ذات کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور جذبات سب میں یکساں پروان چڑھتے ہیں ایسے میں اگر آپ کو ایک شاعر کی کہی چند بے تکی نظمیں دل کے قریب لگنے لگیں تو یہ محض ایک اتفاق ہے“۔ کندھے اچکاتے وہ عام سے لہجے میں بولے اور اپنے کپ سے کافی کا آخری گھونٹ لے کر خالی کپ میز پہ رکھا۔

”سب کے پاس جذبات نہیں ہوتے سر۔ اس دنیا میں بہت سے لوگ اس کے بناءبہت مطمعن اور پرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں جذبات کی کوئی اہمیت نہیں۔ نہ اپنے اور نہ ہی کسی دوسرے کے“۔اس نے بے ساختہ کہا تھا ۔ پروفیسر رضوی اس کی آنکھوں میں پنہاں درد کی جھلک دیکھ کر حیران ہوئے تھے اور ان کی حیرانی وہ خود بھی دیکھ چکی تھی اس لئے یکدم نگاہیں جھکالیں ۔حلق میں آنسوو ¿ں کا پھندہ اٹکا تھا جو خود پہ قابو پانے کی کوشش میں آنکھوں سے نہیں چھلکے تھے ۔

وہ مزید کچھ بھی کہے بغیر ان کے کمرے سے اپنی چیزیں اٹھائے باہر نکل آئی۔

٭٭٭

پارکنگ تک پہنچتے اس کے لئے اپنے روکے ہوئے آنسوو ¿ں پہ بند باندھنا مشکل ہوگیا تھا۔ اس وقت پارکنگ لاٹ گاڑیوں سے بھری ہوئی تھی کیونکہ یونیورسٹی کا ٹائم ابھی باقی تھا لیکن دور دور تک کوئی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ اسے بھی پروفیسر رضوی سے ملنے کے بعد اپنی ایک پروفیسر کے پاس جانا تھا لیکن اس وقت وہ ایسی ذہنی حالت میں نہیں تھی کہ وہاں رک کر کسی کا سامنا کر پاتی۔ گاڑی میں بیٹھ کر اسٹیرئنگ پہ سر ٹکائے اس نے زاروقطار رونا شروع کر دیا تھا۔ آخر کب تک انسان اپنا بھرم قائم رکھ سکتا ہے کبھی نا کبھی تو اس کے صبر کا پیمانہ چھلک ہی جاتا ہے سو اس کا چھلک گیا تھا۔ وہ سب سے ببانگِ دہل کہتی تھی کہ اسے ”فرہاد عالی“ کی شاعری پسند ہے اور وہ اس کا پسندیدہ شاعر ہے لیکن آج تک اس نے کبھی کسی کو یہ نہیں بتایا تھا وہ خود اس طرز کی زندگی جینا چاہتی ہے جس کا ذکر ”فرہاد“ لفظوں مین کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ شدید آئیڈیل پرست تھی جو شائد سب ہی زندگی مین کسی نا کسی مقام پر ہوتے ہیں لیکن جس حقیقت میں وہ زندہ تھی اور جس طرح اس کے آئیڈئلزم کا خاتمہ ہورہا تھا وہ اسے ہر دن اذیت دیتا تھا۔ قاسم کا غیر جذباتی رویہ اسے تکلیف دیتا تھا۔ وہ ایک بے حد رومینٹک روح تھی جو ایک انتہائی غیر رومینٹک اور دوسرے معنوں میں سپاٹ انسان کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ قاسم ایک اچھا انسان تھا لیکن افسوس وہ انمول کو محبت نہیں دے سکتا تھا۔ وہ محبت جو وہ خود قاسم سے کرتی تھی ۔

رونے سے دل ہلکا ہوا تھا اور اب اپنی حماقت پہ افسوس ہورہا تھا کہ اس طرح پروفیسر صاحب کے کمرے سے اٹھ کر چلی آئی ہے ۔ یقینناََ انہیں برا لگا ہوگا لیکن اب یہ سب سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس نے اگنیشن میں چابی گھماکر گاڑی اسٹارٹ کی اور پارکنگ سے نکال کر گھر کی راہ لی۔

٭٭٭

”تم نے ثابت کر دیا نبیلہ کہ تمہارے لئے باپ سے بڑھ کر اس شخص کی محبت ہے جس کا ساتھ تمہاری زندگی میں فقط چند مہینوں سے ہے۔ “

”تم نے مجھے اور میری تربیت کو غلط ثابت کر دیا۔ ہماری سالوں کی محبت پہ ایک ایسے انسان کو ترجیح دی ہے جس نے آج تک تمہیں کچھ نہیں دیا“۔وہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا۔ نبیلہ نے کمرے کا دروازہ لاک کرکے بلیڈ سے اپنی کلائی کاٹ لی تھی۔ حیدر سعید کے لئے ان کا اسٹیٹس اکلوتی اولاد کی زندگی سے عزیز ہوسکتا تھا لیکن اس کے لئے زندگی ”علی“ سے بڑھ کر نہیں تھی۔ صالحہ اس کے پیچھے گئی تھیں۔ وہ ماں تھیں اور انہیں نبیلہ کی دھمکی سے خوف آیا تھا مگر جب تک دروازے کا لاک کھلوایا گیا دیر ہوچکی تھی۔ بہت سا خون بہہ جانے کے باعث وہ کارپٹ پہ اوندھے منہ بیہوش پڑی تھی ۔ مٹیالے رنگ کے بیش قیمت قالین کو اپنے ہی خون سے لت پت دیکھ کر حیدر سعید کا حوصلہ ٹوٹ گیا تھا۔ اسے فوری طبی امداد اور شہر کے سب سے مہنگے اسپتال میں وی آئی پی ڈاکٹروں کا علاج زندگی کی طرف واپس لے آیا تھا ۔ وہ ہوش میں تھی اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس آئی تھی لیکن ان گزرے دنوں میں یہ تو بس وہی جانتے تھے اس کے اقدامِ خود کشی کو کن کڑی شرطوں پہ دنیا کی نظروں سے چھپا پائے تھے ۔ اخبارات کی سرخی بننے سے روک پائے تھے۔ خود اپنے ہی خاندان میں اگر اس بات کی ہوا بھی نکل جاتی تو بنی بنائی عزت کا شیرازہ بکھر جاتا اور یہ شیرازہ تو اب بھی بکھرنے ہی والا تھا۔

”یہ بچی ہے۔۔نادان ہے۔ آپ کیوں مایوس ہورہے ہیں“۔صالحہ اکلوتی اولاد کے کھونے کے خوف سے تازہ تازہ باہر آئی تھی لیکن شوہر کی بے بسی کو بھی اچھی طرح محسوس کر سکتی تھی۔ اسے لگا تھا حیدر سعید یہ سب خفگی میں کہہ رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ اپنی ہر امید کھو چکے ہیں ۔ کم سے کم اس حوالے سے کہ نبیلہ اپنی ضد پوری کروائے بغیر مانے گی نہیں اور وہ اب ایک دوسرے نہج پہ سوچ رہے تھے۔ انہیں کس طرح اس ساری صورتحال میں اپنی ساکھ اور اپنا بھرم سلامت رکھنا تھا۔ اس معاشرے کی ہنسی سے خود کو بچانا تھا۔ جہاں انسانوں پہ لگا مرتبے اور اسٹیٹس کا لیبل ہی در حقیقت ان کی اصل شناخت سمجھا جاتا ہو وہاں فقط شرافت یا محبت کی بنیاد پہ استوار ہوئے ایک رشتے کو کس طرح لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے محفوظ کرنا تھا اور وہ اس متعلق ان گزرے دنوں میںبہت کچھ سوچ چکے تھے۔ ایک کمپرومائز تھا جو انہیں کرنا تھا اور مسئلہ حل ہوسکتا تھا لیکن وہ کمپرومائز انہیں اپنی شرائط پہ کرنا تھا۔ کب، کیسے اور کہاں۔۔۔یہ حیدر سعید طے کرنے والے تھے۔

”میں مایوس نہیں ہوں صالحہ بس وقتی تکلیف میں ہوں ۔ جب اولاد اپنے ہاتھوں اپنا نصیب بگاڑنے کہ در پہ ہو تو ماں باپ کیا کر سکتے ہیں۔ بہرحال اس لڑکے کو بلاو ¿ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں“۔بیڈ کراو ¿ن سے ٹیک لگائے بیٹھی نبیلہ نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا تھا۔ اسے واقعی یقین نہیں آرہا تھا کہ انا کی دیوار میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ صالحہ حیرت زدہ سی آنکھیں پھاڑے ان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ٹھیک ہے وہ نبیلہ کی طرف سے انتہائی فکرمند تھیں۔ وہ ان کی لاڈلی، اکلوتی اولاد تھی اس کی خوشی کے لئے کسی بھی حد تک جانے کی طاقت رکھتی تھیں لیکن اس کی یہ فرمائش ناقابلِ فہم تھی۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ آہستہ آہستہ سمجھا بجھا کر نبیلہ کے ذہن سے اس محبت کا بھوت اتارنے کی کوشش کریں گیں۔ حیدر سعید کے دو ٹوک انداز نے اسے بغاوت کی ترغیب دی تھی لیکن وہ اسے ایک ماں بن کر ہینڈل کر سکتی تھیں۔ تھوڑا سا پیار اور جذباتی بلیک میلنگ سے ان کے خیال میں یہ مسئلہ بڑے سکون سے حل ہوسکتا تھا ۔ حیدر سعید کا بناءکوشش ہتھیار ڈال دینا انہیں حیران نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔

”حیدر!“صالحہ نے پکارا لیکن وہ کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔ ایک نگاہ نبیلہ کہ پرسکون چہرے پہ ڈال کر وہ شوہر کے پیچھے اس کے کمرے سے چلی گئی تھیں ۔ پیچھے نبیلہ نے اپنے لبوں آرہی ہلکی سی مسکراہٹ کو دبانے کی کوشش میں نچلا لب کاٹا ۔ وہ واقعی یہ جنگ جیت چکی تھی۔ ایسا اس کا خیال تھا۔

¿ ¿٭٭٭

”میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم میری بیٹی کو کہاں رکھو گے اور کس حال میں رکھو گے کیونکہ میں تمہاری اوقات سے باخبر ہوں اور اس احمق لڑکی کی ضد سے مجبور جسے تمہارے جیسے دو ٹکے کے انسان میں ہیرو نظر آتا ہے۔“صالحہ کے سمجھانے کے باوجود حیدر سعید نے نبیلہ کی شادی علی سے کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس سلسلے میں آج اسے اپنے اس عالیشان گھر میں بلوایا گیا تھا جس کی اونچی چھت تلے کھڑے ہوکر اسے یہ احساس شدت سے ہورہا تھا کہ حیدر سعید جیسی قد آور شخصیت کے مقابلے میں وہ ایک بونا ہے اور یقینناََ انہوں نے اسے یہ احساس دلانے کے لئے ہی یہاں بلایا تھا۔ نبیلہ سامنے نہیں آئی تھی اور اس ہال میں بس حیدر سعید اور صالحہ موجود تھے۔ وہ دونوں اس کے سامنے رکھے ایک دو سیٹر صوفہ پہ بے حد سنجیدہ بیٹھے تھے جبکہ صالحہ تو قدرے نالاں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس سے ملنے سے پہلے تک وہ فقط اس کے معمولی خاندان کو لے کر فکرمند تھیں اس سے مل کر وہ اس کی عام سی حالت دیکھ کر شدید اپ سیٹ تھیں۔” کیا تھا اس لڑکے میں سوائے اچھی صورت کے جس پہ ان کی اکلوتی بیٹی مر مٹی تھی۔ “ ۔ اسے دیکھ کر پہلی سوچ ان کے ذہن میں یہی آئی تھی اور ساتھ ہی انہوں نے اپنے نزدیکی لوگوں میں نبیلہ کے ہم عمر اور ہم پلہ ہر اس لڑکے بشمول اس رشتے کے متعلق سوچا تھا جو ہر ہر لحاظ سے علی سے بہتر تھے ۔وہ خود ایک سطحی سوچ رکھنے والی اپنی کلاس کی نمائندہ انہی کے گھڑے اصولوں کی تابع تھیں۔ انسان کو اس کی ظاہریت کی بناءپہ جانچنا ان کے مزاج کا حصہ تھا وہ نبیلہ کی علی میں انوالومنٹ کو بھی اسی پیرائے میں دیکھ رہی تھیں۔ ساتھ بیٹھے حیدر سعید ٹانگ پہ ٹانگ جمائے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں مخملی صوفہ کی سائیڈ پہ مارتے اس کی طرف متوجہ تھے۔ یقینناََ وہ اس وقت بے حد اسٹریسڈ تھے۔

”آپ اگر میری محبت کو آزمانا چاہتے ہیں تو میں ہر امتحان دینے کے لئے تیار ہوں سر“۔ملازم اس کے سامنے پڑی کافی ٹیبل پہ چند لوازمات سرو کر رہا تھا ۔ اس نے فقط پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگاتے اپنے خشک حلق کو تر کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔ یہاں آنے سے پہلے وہ حیران تھا تو یہاں آکر پریشان۔ وہ نہیں جانتا تھا نبیلہ نے کس طرح اپنے والدین کو اس رشتے کے لئے تیار کیا ہوگا اگر جان جاتا تو نبیلہ کی عقل پہ ماتم کرتا جس نے نہ صرف اپنی جان کی پرواہ نہیں کی بلکہ اپنے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکالنے کی تیاری بھی پوری طرح کر دی تھی۔ یہ فقط حیدر سعید کا خاندان جانتا تھا کہ پچھلے کچھ دنوں میں بدنامی کے اس طوفان سے انہوں نے کس طرح خود کو بچایا ہے اور آج اگر وہ ان کے سامنے بیٹھا ہے تو اس کی واحد وجہ اس طوفان کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کی ہی ایک کوشش ہے۔ ملازم حیدر سعید اور صالحہ کو چائے سرو کرنے کے بعد اس کا چائے کا کپ سامنے میز پہ رکھ کر خود کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔

”ہونہہ ۔ تم اور تمہاری محبت۔ افسانوی نام رکھ لینے سے کوئی سچ میں دودھ کی نہریں نہیں نکال لیتا ۔“تنفر سے کہتے انہوں نے بے حد حقارت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔ علی کو ان کا انداز یہ باور کروانے کے لئے کافی تھا کہ اس ملاقات میں ان کی دلچسپی یا اس رشتے میں ان کی رضامندی صفر ہے اور یہ جو کچھ ہورہا ہے نبیلہ کی زور زبردستی کا نتیجہ ہے۔ صالحہ کا ناراض چہرہ اور حیدر سعید کے تیور اسے سب کچھ سمجھا رہے تھے پھر بھی وہ ان سے یہ توقع نہیں رکھتا تھا کہ وہ اسے ذلیل کرنے کے لئے اپنے گھر بلائیں گے۔

”نبیلہ جیسی اسپیشل لڑکی کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں“۔حیدر سعید نے اس ”کچھ بھی“ کو انگلیوں کی پوروں پہ گننا چاہا تھا اور کچھ یہی کام اس وقت پاس بیٹھی صالحہ بھی دل ہی دل میں کر رہی تھیں۔ گنتی شروع ہوتے ہی ختم ہوگئی تھی کیونکہ ان کے نزدیک علی جیسا معمولی انسان ان کی نازو پلی بیٹی کے لئے ان میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا ماسوائے مر جانے کے اور اس کے مرنے سے کم سے کم نبیلہ کی تو کوئی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی تھی ہاں البتہ خود ان کی تکلیف ضرور کم ہوجاتی ۔وہ بھلا اس کی ضروریات کو خاک پورا کر پاتا۔ خود علی نے بھی یہی سوچا تھا وہ شائد نبیلہ یہ تمام آسائشیں اور سہولیات کبھی نہ دے پائے جن کے ساتھ وہ اپنے باپ کے گھر میں رہنے کی عادی ہے لیکن پھر بھی وہ اس کی خاطر زندگی میں محنت اور کوشش کے بل پہ اتنا تو ضرور ہی کرے گا کہ جن سے اس کی بنیادی ضروریات پوری ہوسکیں۔ وہ اسے ہر ممکن ایک اچھی زندگی دینے کی کوشش کرے گا اور اس کے لئے وہ حیدر سعید سے کچھ مہلت مانگنا چاہتا تھا۔

”کہنا بہت آسان ہے برخودار اور کرنا اتنا ہی مشکل۔ ورنہ تم نبیلہ کو ورغلانے کی بجائے پہلے اس کے قابل بن کر دکھاتے۔ سوچا ہوگا امیر باپ کی اکلوتی اولاد ہے ایموشنل بلیک میلنگ سے مجھ سے اپنی ہر بات منوا لے گی۔ جہیز میں گاڑی بنگلہ روپیہ پیسہ سب مل جائے گا اور تمہاری قسمت بدل جائے گی“۔وہ غریب تھا ۔ یہ اس کا مقدر تھا عیب نہیں پھر بھی وہ ایک باپ کی اپنی اولاد سے وابستہ توقعات ٹوٹنے پہ اس کے اندر کی تلخی کو حق بجانب سمجھتا تھا اسی لئے اب تک ان کے تذلیل بھرے جملوں کو نظر انداز کرتے اپنے مخصوص دھیمے اور نپے تلے انداز میں بولا تھا لیکن اب یہ اس کی برداشت کی حد تھی۔ ٹھیک ہے ہر مالدار شخص کو اپنے سے کمتر اور کم پیسے والا انسان اس کی طرف نگاہیں کئے بھکاری ہی نظر آتا ہے یا اسے یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ وہ اس کی جمع کی ہوئی دولت چھین کر اپنا مقدر بدلنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور ایسا ہو بھی جاتا ہے کہ بہت سے لوگ شارٹ کٹ کے ذریعے اپنی غربت کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ علی نے تیرہ سال کی عمر سے سخت محنت کی تھی۔ اس نے تمام عمر اپنے گھر والوں کو پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے بے انتہا محنت کرتے دیکھا تھا لیکن اس سب کے باوجود اپنی زندگی کے سخت ترین دنوں میں بھی کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا۔ پھر اب تو ان کے ہاتھ میں علی کی صورت امید کا دیا تھا۔ وہ کچھ نا ہونے سے لے کر کچھ ہے تک کا سفر کرتا آج اس مقام پہ آیا تھا اسے بھلا حیدر سعید کی دولت سے کیا سروکار۔ نبیلہ کی جگہ کوئی اس کی اپنی کلاس کی لڑکی ہوتی جس سے وہ اتنی ہی محبت کرتا تو وہ اسے بھی سر آنکھوں پہ بٹھاتا۔ اس کی خوشیوں کی خاطر بھی سر توڑ کوشش کرتا۔

”آپ میری توہین کر رہے ہیں حیدر صاحب۔ میرا انتخاب صرف نبیلہ ہے اور اس کی محبت میں کچھ بھی کرنے کی سکت رکھتا ہوں میں ۔ مجھے افسوس ہورہا ہے آپ کی اس سوچ پہ حالانکہ آپ میرے متعلق کچھ بھی تو نہیں جانتے“۔وہ بے ادب ہوا تھا نہ ہی آواز بلند تھی لیکن اس نے احتجاج کیا تھا۔

”تم جیسوں کو جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ نالی کی پیداوار نالیوں میں ہی گھٹ گھٹ کر مرجاتے ہو تم لوگ“۔اس بار صالحہ نے دخل اندازی کرتے اپنے شوہر کے خیالات کی ترجمانی کی تھی۔

”ہم نالیوں کی پیداوار آپ محلوں میں رہنے والوں سے اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ ہمیں اپنے سوا ہر دوسرا شخص کیڑا مکوڑا نہیں نظر آتا۔ بہرحال اس عزت افزائی کا شکریہ میں چلتا ہوں“۔علی کو اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ دونوں محض اسے ذلیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ وہ کوئی بد مزگی نہیں چاہتا تھا کیونکہ یہ اس کے مزاج کا حصہ نہیں تھی۔ نبیلہ کی محبت اپنی جگہ لیکن اگر اس کے والدین کی خوشی شامل ہی نہیں تو پھر اس بات کو آگے بڑھانے سے کیا فائدہ۔۔۔اسے نبیلہ کے لئے سوچ کر دکھ ہوا تھا۔ افسوس یہاں ہر دولت مند اور با اختیار انسان کا رویہ اور سوچ ایک سا ہے۔

”رکو!“حیدر سعید اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔

”اس گھر سے کوئی سائل کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا “۔ان کی آواز پہ اس نے پلٹ کر دیکھا تھا ۔

”آپ جو ذلت میری جھولی میں ڈال چکے ہیں اس کے بعد آپ سے کسی خیر کی امید نہیں رہی“۔وہ تمسخرانہ لہجے میں کہتا مسکرایا۔ وہ دونوں اب آمنے سامنے کھڑے تھے۔

”اولاد کی ضد نے عاجز نہ کیا ہوتا تو آج تم جیسے انسان کی ہمت نہ ہوتی مجھے آنکھیں دکھانے کی۔ بہر حال میں نبیلہ کا رشتہ تم سے کرنے کے لئے راضی ہوں۔لیکن میری کچھ شرطیں ہیں“۔ اس بار حیدر سعید کا رویہ مختلف تھا۔

”آپ کاروباری آدمی ہیں شرطوں پہ ہی رشتہ جوڑیں۔ میں دل کا سوداگر ہوں اپنا آپ گروی رکھ کر بھی انہیں پورا کروں گا“۔جینز کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس نے کندھے اچکائے۔

”شادی کے بعد نبیلہ اسی گھر میں رہے گی۔ میں اسے تمہارے ساتھ کسی گندے سے محلے میں رہنے ہرگز نہیں جانے دوں گا“۔علی خاموش کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا۔

”یہ شاعری وغیرہ سب چھوڑنی ہوگی۔ میرا داماد یہ گھٹیا بازاری شعر و شاعری کرے گا تو سوسائٹی میں میری کیا پوزیشن ہوگی۔ تمہیں میری فیکٹری جوائن کرنی ہوگی“۔انہوں نے مزید کہا۔

”اور ہاں اس گھر میں بس تم رہ سکتے ہو اپنے ماں باپ کو یہاں لانے کے متعلق سوچنا بھی مت بلکہ ان سے اپنا ہر تعلق ختم کرنا ہوگا تمہیں “۔وہ پہلے ہی صالحہ کو اس متعلق بتا چکے تھے۔ بیٹی کی خاطر اس کی پسند کو گھر داماد بنا کر رکھنا بہرحال اتنا برا آپشن نہیں تھا۔ اس طرح وہ زمانے کی باتوں سے بھی کسی حد تک بچ جاتے اور اس بدنامی سے بھی جو نبیلہ کی کسی سرکشی کی صورت ان کے گلے کا طوق بن سکتی تھی۔ صالحہ کو بھی ان کی بات مناسب لگی تھی۔

”آپ یقینناََ ایک کامیاب بزنس میں ہیں اور خرید و فروخت کے تمام رموز سے واقف۔۔۔اب اتنی fascinating آفر پہ کوئی انکار بھی کیسے کرے“۔ اس کے پرجوش لہجے پہ فاتحانہ انداز میں حیدر سعید نے صوفہ پہ بیٹھی صالحہ کی طرف دیکھا تھا جیسے جتا رہے ہوں دیکھا مجھے انسانوں کی کتنی پرکھ ہے۔ یہ جو غریبی کا مگوٹھا چہروں پہ سجائے اپنی مفلسی کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں درحقیقت اس کے پیچھے مقصد اونچے طبقے والوں کے دلوں میں رحم اور ہمدردی کے جذبات جگا کر ان سے مراعات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ عزتِ نفس اور اخلاقیات سے ان کا واسطہ بس اسی وقت ہوتا ہے جب تک ان کی بولی نہ بولی جائے۔ جتنی اونچی انا اتنی اونچی بولی۔ حیدر سعید جیسا گھاگ اور زیرک نگاہ والا بزنس مین اچھی طرح جانتا ہے کب کس کے آگے کون سی ہڈی ڈالنی ہے۔ صالحہ کے چہرے پہ مرعوبیت تھی۔ انہیں تو پہلے ہی اندازہ تھا کہ یہ محبت کا کھیل رچانے کے پیچھے مقصد صرف ایک ہے۔ ان کی دولت۔۔۔۔اور اب ان کے شوہر نے جو دام لگائے تھے وہ بہرحال ان کے سامنے کھڑے اس شخص کی اوقات سے تو بڑھ کر ہی تھے لیکن دام تو چیز وں کے طے ہوتے ہیں ان کی اہمئیت اور ضرورت کے پیشِ نظر۔۔۔انسانوں کی خرید و فروخت تو بہرحال خریدنے والے کی حیثیت پہ منحصر ہوتی ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر اور جذباتیت کو پرے رکھتے ہوئے انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ نبیلہ کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنا ناممکن تھا لیکن جو حالات وہ ان کے لئے پیدا کر چکی تھی ایسے میں ان جیسے سمجھدار انسان کے لئے یہ ڈیل اتنی بری تو نہیں تھی۔ پھر ان کا اتنا وسیع کاروبار ہے جس کی وارث ان کی بیٹی ہے تو کیا ہرج ہے اس کی شادی کے بعد ان کا یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے اور گھر کا مال گھر ہی میں رہ جائے۔

”کیا میں نبیلہ سے مل سکتا ہوں؟“ علی نے ایک توقف کے بعد سوال کیا۔

حیدر سعید مطمعن سے انداز میں واپس صالحہ کے پاس جا کر بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے پائپ میں تمباکو بھرتے محض سر کے اشارے سے اپنی مرضی اس تک پہنچائی تھی۔ملازم ان کا پیغام نبیلہ کو دینے گیا تھا اور اس دوران علی ایک ہی جگہ کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ مگر بے تاثر تھا جس سے اس وقت یہ اندازہ لگانا نا ممکن تھا کہ اس کے ذہن میں آخر چل کیا رہا ہے۔ چند منٹوں کے بعد نبیلہ کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ ایک پل اسے لاو ¿نج میں دیکھ کر ٹھٹکی اور پھر اس نے حیدر سعید اور صالحہ کے مطمعن چہروں کو دیکھا۔ وہ دونوں ہی اسے دیکھ کر مسکرائے تھے ۔ وہ بھی انہیں دیکھ کر مسکرانا چاہتی تھی لیکن علی کی خود پہ مرکوز نگاہوں نے اسے پریشان کیا تھا۔ یہ وہ نظریں نہیں تھیں جن میں اس کے لئے وارفتگی اور عشق جھلکتا تھا۔ یہ وہ نظریں بھی نہیں تھیں جن میں نبیلہ کے لئے عزت اور محبت دکھائی نظر آتی تھی۔ ان میں شکوہ تھا۔ شکایت تھی۔ ناراضی تھی۔ بدگمانی تھی۔

 ”تمہارے والد نے بڑی شاندار قیمت لگائی ہے میری۔ پوچھنا بس اتنا تھا کیا اس عزتِ نفس کی بولی میں تمہاری رضا بھی شامل ہے ؟

”اگر تمہارا جواب ہاں ہے تو مجھے یہ سودا نا منظور ہے نبیلہ کیونکہ میں نے تم سے محبت کی ہے اور بے حد و حساب کی ہے لیکن اس کے بدلے مجھے گوارہ نہیں کوئی میری انا اور عزت خریدنا چاہے۔ “وہ شاک ہوئی تھی تو دوسری طرف چونکے حیدر سعید بھی تھے۔ نبیلہ نے حیرانی سے ان کی سمت دیکھا ۔ وہ کچھ نہیں جانتی تھی کہ اس کے باپ نے علی سے کیا کہا ہے ۔ اسے تو بس یہی اندازہ تھا کہ وہ علی سے ملنا چاہتے ہیں تاکہ نبیلہ اور اس کی شادی کی بات ہوسکے۔

”علی میں۔۔۔۔“اس نے بولنا چاہا لیکن علی نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

”میرے پاس ایسی عالیشان محل نما کوٹھی نہیں پر ایک چھوٹا سا مکان ہے جہاں میں تمہیں عزت کے ساتھ رکھ سکتا ہوں۔ لاکھوں کروڑوں کا بنک بیلنس نہیں پر یہ وعدہ کرتا ہوں تمہاری ضرورتوں کا پورا خیال رکھوں گا“۔اس نے مزید کہا تھا ۔ حیدر سعید ایک بار پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔

”میرے والدین نے تمام عمر اپنے پیٹ پہ پتھر باندھ کر میری پرورش کی ہے کیسے آپ کی دولت کی چکا چوند دیکھ کر انہیں بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دوں حیدر صاحب؟“علی نے اس بار سوال کرتے رخ موڑ کر حیدر سعید کی طرف دیکھا تھا۔

”معافی چاہتا ہوں مجھے یہ گھاٹے کا سودا منظور نہیں۔ ”فرہاد علی رضوی“ از ناٹ فار سیل حیدر صاحب“۔بڑے دو ٹوک انداز میں فیصلہ ہوچکا تھا ۔ اس نے ثابت کر دیا تھا کہ ہر شخص بکاو ¿ نہیں ہوتا۔ عزت فقط دولت والوں کی میراث نہیں اور غربت میں یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص بھکاری بن جائے۔ حیدر سعید کو اگر کوئی خوش فہمی تھی کہ انہیں دنیا کے ہر شخص کی پرکھ ہے اور وہ اپنی بیش بہا دولت کے بل پہ کسی کو بھی خرید سکتے ہیں تو ان کی یہ خوش فہمی علی نے آج ختم کر دی تھی۔ اس نے محبت کو جھکنے دیا تھا نہ ہی محبت کے نام پہ خود کو بکنے۔۔۔۔۔اور اب نبیلہ کے جواب کا منتظر تھا۔ نبیلہ کی کنفیوژن ختم ہوگئی تھی۔ علی کی تلخ گفتگو اسے یہ سمجھانے کے لئے کافی تھی کہ کس بناءپہ حیدر سعید نے اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالے ہیں۔ وہ اگر سمجھتی تھی کہ یہ ان کی محبت ہے تو وہ غلط تھی۔ وہ یہ سب صرف اپنی انا میں کر رہے تھے۔

”ڈیڈ نے تم سے جو کچھ کہا وہ ان کی سوچ تھی اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا نہ ہی انہوں نے مجھ سے پوچھ کر تمہیں یہ سب کہا پر میں اتنا جانتی ہوں تم سے محبت کی ہے اور محبت سودے بازی نہیں ہوتی۔ میں دل کے راستوں پہ تمہارے ساتھ چلنے کی خواہاں ہوں اب یہ تم پہ منحصر ہے انہیں پھولوں سے بھر دو یا کانٹوں سے۔ میں تم سے تمہاری عزتِ نفس کے بدلے اپناسکھ نہیں مانگوں گی علی“۔اس تجدید کے بعد اس سے بڑھ کر اور چاہیئے بھی کیا تھا ۔یکدم دل پہ دھرا بوجھ ہلکا ہوگیا تھا۔ محبت جیت گئی تھی۔

”پاگل ہوگئی ہو تم نبیلہ۔۔۔میں تمہاری اچھی اور بہتر زندگی کی خاطر یہ سب کر رہا ہوں ورنہ یہ دو کوڑی کا انسان کہاں اس قابل تھا کہ اسے

کوئی اپنی بیٹی کا ہاتھ تھما دے“۔حیدر سعید کا مشتعل ہونا لازمی تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا اپنے ہاتھوں سے اس احمق لڑکی کا گلا دبا دیں جو محبت کے نام پہ اپنا آپ برباد کرلینا چاہتی تھی۔

”آپ کو کس نے حق دیا ڈیڈ آپ علی کے لئے ایسی زبان استعمال کریں۔ آپ کے پاس پیسہ ہے تو اس کا مطلب سامنے کھڑا شخص اتنا گیا گزرا ہے جسے آپ جو چاہیں گے کہہ دیں گے۔ “وہ اب براہِ راست ان سے مخاطب تھی۔ اگر وہ اسے پہلے سے اپنی اس حرکت کے متعلق بتا دیتے تو وہ مر کر بھی علی کو یہاں ان سے ملنے نہ بلاتی۔ وہ جانتی تھی اس کے لئے اس کی عزتِ نفس کتنی اہم ہے ۔ وہ سودے باز نہیں ۔ ان ڈھائی تین سالوں میں کبھی کوئی ایک موقع بھی تو ایسا نہیں آیا تھا جب اسے علی پہ لالچی ہونے کا گمان ہوا ہو۔ اس کی جیب میں بہت کم پیسے ہوتے تھے تو دوسری طرف نبیلہ کا پرس نوٹوں سے بھرا ہوتا تھا پھر بھی کبھی ایک بار بھی اس نے علی کی موجودگی میں کیفے ٹیریا کا بل نہیں دیا تھا۔ وہ اس کے معیار کی آو ¿ٹنگ افورڈ نہیں کرسکتا تھا اسی لئے ایسی کسی جگہ پہ نہیں جاتا تھا جہاں اس کی بجائے نبیلہ کو پیسے خرچنا پڑیں۔ حالانکہ وہ اسے معیوب نہیں سمجھتی تھی لیکن علی کو یہ گوارہ نہیں تھا۔ وہ اس کے پیسوں پہ عیش کرنے اس کے ساتھ گھوم پھر نہیں سکتا تھا اور نبیلہ کی اس کی یہی ادا اچھی لگتی تھی۔ کتنی ہی بار نبیلہ نے اسے کسی موقع کی مناسبت سے تحفہ دینے کی کوشش کی لیکن علی نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ وہ خود اسے اکثر چھوٹی چھوٹی چیزیں تحفے کے طور پہ دیا کرتا تھا لیکن اسے نبیلہ سے کچھ بھی لینا پسند نہیں تھا۔ اس کے معمولی تحائف کے مقابلے میں یقینناََ وہ اسے اپنی حیثیت کے مطابق قیمتی چیز دیتی اسی لئے اس نے شروع میں ہی اسے اس بات سے منع کر دیا تھا۔

”اس کی وکالت تو ایسے کر رہی ہو جیسے وہ تمہیں ملکہ بنا کر لے جارہا ہے۔ دن میں تارے نظر آجائیں گے جب اس جھونپڑی میں رہنا پڑے گا“۔صالحہ بھی شوہر کی طرفداری کرتے تیز لہجے میں بولیں۔ وہ تو اب یہ سوچ رہی تھیں انہیں اپنے آبائی علاقے میں کس پیر فقیر سے رابطہ کرنا پڑے گا جو اس کے سر سے عشق کا بھوت اتار پائے کیونکہ انہیں پورا یقین تھا یہ گلی محلوں میں رہنے والے جادو ٹونے بھی کرواتے ہیں ۔ اب یونہی تو نہیں ان کی نازو پلی اولاد ایک بیکار شخص کے لئے مرنے سے گھبراتی ہے نہ غربت کی بھینٹ چڑھنے سے چوکتی ہے۔

”دل والوں کی اپنی سلطنت ہوتی ہے جہاں اینٹ پتھروں سے بنے گھر نہیں چاہت کے شیش محل ہوتے ہیں۔ وہ جہاں بھی رکھے گا میرے لئے وہی محل ہوگا۔ “وہ ہر حال میں راضی با رضا تھی ۔ وہ اسے غربت سے خوفزدہ کر رہے تھے

”تو پھر میں بھی دیکھوں گا کتنے دن اس شیشے کے گھر میں رہ پاو ¿ گی ۔ تم کچی عمر کے عشق پہ باپ سے بغاوت پہ آمادہ ہو پر میرے پاس عقل اور تجربہ ہے۔ جب زندگی مین ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لئے سسکنا پڑے گا تو پھر منہ اٹھا کر میرے در پہ مت آنا“۔

”نہیں آو ¿ں گی۔ اولاد ماں باپ کی دعاو ¿ں کی محتاج ہوتی ہے لیکن ایک غرور کے مارے دولت مند شخص کے پاس افسوس میرے لئے نیک تمنائیں بھی نہیں تو پھر ایسے انسان کے پاس کیوں آو ¿ ں گی“۔

٭٭٭

عجیب لڑکی

وہ شب کے گہرے لباس میں تھی

تمام لمحوں کے سب رویوں کو جانتی ہے

وہ سوچتی تو بہت سلیقے سے ساری الجھن سلجھ سی جاتی

وہ میرے ماتھے پہ اپنی انگلی سے موت لکھتی

میں مر سا جاتا

وہ میرے ماتھے پہ اپنی انگلیوں سے زندگی کو کھرچنے لگتی

میں جی سا جاتا

وہ بات کرتی تو اس کے اونچے لفظ

تتلیوں کی طرح اڑنے لگتے

میں تتلیوں کو پکڑنے لگتا

وہ اپنے اندر ہزار موسم ہزار رنگ ہزار خوشبو لئے ہوئے ہے

مگر بظاہر وہ اپنے لہجے کو اپنے چہرے کو

اپنی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں کو عام لوگوں کی طرح سے رکھتی

وہ شب زدہ سی عجیب لڑکی!!!!

آج کی رات بڑی بوجھل اور طویل تھی۔ وہ ایک منظر بھلائے نہیں بھولتا تھا اور اس کے ساتھ جانے کتنے منظرفلم کی طرح ذہن کے پردے پہ نمودار ہوتے تھے۔ ماضی بھوت بن کر حال میں آکھڑا ہوا تھا۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ بے چینی سی بے چینی تھی۔ ہر سانس بوجھل محسوس ہورہی تھی۔ ان ٹھہری ہوئی آنکھوں کا عکس اب تک نگاہوں کے سامنے تھا ۔ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں، جو بآسانی گنی جاسکتی تھیں ۔ زندگی سے مایوسی ٹھاٹھیں مار رہی تھی پہلی بار اسے لگا تھا شائد اسے دھوکا ہوا ہے دوسری بار نہیں۔ وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھی تھی اور جتنا وقت اس سے محوِ گفتگو رہی وہ لاشعوری طور پہ اس کے اس انداز کو گاہے بگاہے نوٹ کرتا رہا تھا۔ وہ بات کرتے کرتے ایک ہی منظر پہ ٹھہر جاتی تھی۔ اور پھر اچانک منظر بدل گیا تھا ۔ اب وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ چہرہ بدلا تھا نگاہیں نہیں۔ ان آنکھوں میں بھی وہی درد تھا جو آج اس نے انمول کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہی اداسی تھی۔ وہی ٹھہری ہوئی زندگی تھی۔ ٹوٹے ہوئے خواب تھے اور ریزہ ریزہ حسرتیں۔۔۔۔سٹِل آئیز۔۔مسکراتے ہوئے لبوں پہ رکی ہوئی شکائتیں۔۔۔۔۔۔علی کا ذہن الٹی گنتی گنتا پچیس سال پیچھے چلا گیا تھا۔ وہ اس وقت اپنے عالیشان اور لگژری بنگلے کے نرم گرم اور پرسکون بیڈ روم کی بجائے اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں واقع اپنے دو کمرے کے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے آبائی مکان میں تھا۔ پچھلے کچھ عرصے میں اس مکان میں چند تبدیلیوں نے اس کی بد حالی کو کم تو کیا تھا پھر بھی یہ جگہ ہرگز اس لڑکی کے شایانِ شان نہیں تھی جو اپنے باپ کا شاندار اور پرتعیش محل جیسا گھر چھوڑ کر صرف اس کی محبت میں اس کے ساتھ چلی آئی تھی۔ حیدر سعید کی اس کے لئے رنجش بجا تھی ۔ وہ کسی طور ان کی اکلوتی اور آسائشوں میں پلی بیٹی کے لئے مناسب نہیںتھا لیکن نبیلہ نے اس کی عزت کو اپنی محبت کے پیراہن میں ڈھانپ کر اس مشکل مرحلے کو آسان کر دیا تھا۔ وہ حیدر سعید کے گھر سے خالی ہاتھ نکلی تھی ۔ اس کی ضد اور اپنی انا میں انہوں نے اسی وقت ان دونوں کا نکاح کروا دیا تھا اس شرط پہ کہ وہ اب اس سے مرتے دم تک کوئی تعلق رکھے گیں نہ ہی اس کی کسی مشکل میں اس کا ساتھ دیں گے۔ نبیلہ نے ان کی مرضی پہ سر تسلیمِ خم کیا تھا۔

 وہ اپنے ساتھ اسے اس معمولی سے مکان میں لے آیا تھا کیونکہ یہ اس مجبوری تھی۔ وہ اس سے شادی کی خواہش رکھتا تھا لیکن اس طرح نہیں ۔ اس شہزادیوں جیسی لڑکی کے شایانِ شان تو نہیں تھا یہ گھر جہاں اسے لانا پڑا تھا۔ اس کے ماں اور باپ دونوں کے لئے یہ خبر حیران کن تھی پھر بھی انہوں نے بیٹے کی خوشی کی خاطر اسے سر آنکھوں پہ بٹھایا تھا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ اس کے ماں اور باپ سے باتیں کرتے خوش تھی۔ اپنے فیصلے سے مطمعن تھی ۔ علی کی خاطر بہت بڑا اسٹیپ لیا تھا اس نے۔ لیکن آٹھ بائے دس فٹ کے اس انتہائی مختصر اور آلائشوں سے مبرا کمرے میں نبیلہ کو لے جاتے ہوئے علی کے ذہن میں حیدر سعید کا ایک ایک لفظ گونج رہا تھا۔ اس وقت جو کچھ انہوں نے علی کو کہا تھا وہ اس سے نالاں تھا لیکن اس کی وجہ سے جو سب نبیلہ نے سنا وہ ایک ایک حرف اس کے اندر تازیانے بجا رہا تھا۔ اس وقت بھی تکیے سے کمر ٹکائے نگاہیں اپنے سامنے اکھڑے ہوئے پلستر کی بے رنگ دیوار پہ مرکوز وہ گہری سوچ میں گم تھا۔

”کیا دیکھ رہے ہو؟“نبیلہ نے پاس بیٹھتے اس کا ہاتھ تھاما۔ وہ یکدم چونکا تھا۔

”کچھ سوچ رہا ہوں“۔اس نے ایک گہری سانس لی۔ نبیلہ کے ہاتھ کی پشت پہ انگلیاں پھیرتے وہ اب بھی اتنا ہی ڈسٹرب تھا۔

”ڈیڈ کی باتوںسے بہت ہرٹ ہو نا تم؟ ان کی طرف سے میں معذرت کرتی ہوں تم پلیز وہ سب بھول جاو ¿“۔اس کی بائیں کلائی پہ اب بھی بینڈیج تھی جسے آج سارے دن کی ہنگامہ خیزی میں بدلا نہیں گیا تھا۔ اس وقت بھی اس کے ہاتھ میں ہلکی سی ٹیس اٹھ رہی تھی لیکن وہ علی کو یہ سب بتا کر مزید پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی۔

”بھول ہی تو نہیں سکتا!“وہ اب اس کی کلائی پہ بندھی بینڈیج کو بغور دیکھ رہا تھا ساتھ ساتھ انگلی کی پور بھی اس پہ پھیر رہا تھا۔

”علی۔۔۔“شائد اس کی انگلی زخم سے ٹکرائی تھی۔ درد کی شدت سے وہ سسکی ۔

”درد تو نہیں ہورہا؟“اس نے منہ اٹھا کر دیکھا ۔ نبیلہ نے بے اختیار گردن نفی میں ہلائی لیکن اس کی آنکھوں میں تیرتے موتی دیکھ کر وہ جان چکا تھا کہ اسے تکلیف ہوئی ہے۔ آگے بڑھ کر اس نے کلائی کو اپنے ہونٹوں سے چھوا اور نبیلہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ اب اس کے سینے پہ سر ٹکائے پرسکون بیٹھی تھی۔ نبیلہ کے بالوں میں لگا کلپ اتار کر اس نے سائیڈ پہ رکھ رہا تھا۔

”تمہارے ڈیڈ نے میری غربت کو طمانچہ بنا کر میرے چہرے پہ مارا ہے۔ ان کا ہر طنز زہر میں بھیگے تیر سا میرے سینے میں اترا ہے نبیلہ اور میں یہ سب کبھی نہیں بھولوں گا“۔اس کے کھلے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ دھیمی آواز میں بولا۔

”لیکن علی یہ بھی تو سوچو کہ اس سب میں میں تمہارے ساتھ کھڑی ہوں۔ انہوں نے مجھے بھی تو طعنے اور بدعاو ¿ں کے سائے میں رخصت کیا ہے۔ پھر آج تو ہماری محبت کی جیت کا دن ہے۔ ہم دو سے ایک ہوئے ہیں ۔ کیوں تم ان کی سخت باتوں کو یاد کرکے دل جلاتے ہو؟“ان کی شادی جیسے بھی حالات میں ہوئی تھی لیکن آج ان کی زندگی کی نئی شروعات تھی۔ سب کچھ ویسا نہیں تھا لیکن یہی بہت تھا کہ وہ دونوں ساتھ تھے۔ آج کی رات تو محبت کو موضوع ہونا چاہیئے تھا پھر وہ کیوں ان تلخیوں کو یاد کرنا چاہتا تھا۔ نبیلہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ اس سادہ سے حلیے میں بھی وہ اتنی ہی پرکشش نظر آرہی تھی جیسی ہر بار دکھائی دیتی تھی۔پھر اس کے اتنے قریب کہ اس کی سانسوں کی مہک بآسانی محسوس کر سکتا تھا۔ فرق اتنا تھا آج آنکھوں میں اس سے ملنے کی خوشی کے ساتھ اپنوں کو چھوڑنے کا غم بھی دکھائی دے رہا تھا لیکن یہ غم ، ملال ہرگز نہیں تھا۔ شدتِ جذبات سے اس کی اپنی آنکھیں بھی سرخ ہورہی تھیں۔

”اسی بات کا زیادہ ملال ہے۔ میری تحقیر پہ تو میں بھی خاموش رہ جاتا۔۔۔جو کچھ انہوں نے کہا وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا کہ ایک باپ اپنی

بیٹی کو بلا سوچے سمجھے کسی سے بھی منہ اٹھا کر نہیں بیاہ دیتا لیکن جو کچھ انہوں نے تم سے کہا ہے نبیلہ وہ میں فراموش نہیں کرسکتا ۔ اور تم بھی وہ سب مجھے بھلانے کی کوشش مت کرنا“۔وہ جانتی تھی یہ سب باتیں وہ شدتِ محبت میں کہہ رہا ہے۔ اور یہی وہ یقین تھا جس نے نبیلہ کو ماں باپ کی مرضی کے خلاف جانے پہ مجبور کیا تھا۔ جو اس کی بے عزتی کو اپنی ذلت سے بڑھ کر محسوس کرتے اس پہ رنجیدہ وہ شخص یونہی دل میں سجائے جانے کے قابل تھا جیسے نبیلہ نے اسے سجایا تھا۔

”میں وعدہ کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔تمہیں اس سے زیادہ دولت اور آسائش دوں گا جوکل تک تمہیں تمہارے باپ کی بدولت حاصل تھا“۔ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس نے نبیلہ کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔

”میری دولت تمہارا پیار ہے علی۔ میرے لئے یہ چھوٹا سا گھر محل سے بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں تمہاری اور محبت تمہارا ساتھ میسر ہے۔ “وہ ایک بار پھر اس کے سینے میں چھپ گئی تھی۔

”جانتا ہوں یہ سب تم میری محبت میں کہہ رہی ہو اور اتنا یقین ہے کہ سدا اس پہ راضی رہو گی کبھی حرفِ شکایت زباں پہ نہ لاو ¿ گی ۔ تم نے اپنے حصے کی وفا نبھا لی ہے اب میری باری ہے۔ آج سے میری زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اس دنیا کی ہر خوشی کسی بھی قیمت پہ تمہارے قدموں میں لاکر رکھوں گا اور میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک اپنے مقصد کو پورا نہیں کر لیتا۔“وہ کسی کو بھی پاگل کر دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ جس طرح پچھلے چند سالوں سے اس کا دل نبیلہ کے نام پہ دھڑکتا تھا ایسے کتنے ہی لڑکے اس کی ایک مسکراہٹ پہ جان دینے کو مچلتے تھے لیکن وہ خوش نصیب تھا جسے نبیلہ کی محبت میسر آئی تھی۔ اس کی قربت کا حقدار وہ تھا جس کے لئے اس کا وجود سراپا محبت تھا۔ خوشبو جیسی لڑکی نے آج کی رات اپنی محبت سے اس کے وجود کو بھی معطر کر دیا تھا۔

٭٭٭

نہ تو کل چاندنی رات تھی نہ ہی آج صبحِ بہاراں۔ یہ اس کا نرم و ملائم بستر نہیں تھا جہاں اے سی کی خنکی سے بدن کو راحت ملتی تھی۔ حبس زدہ چھوٹے سے کمرے میں اس کھردرے پلنگ پہ سونا یقینناََ اتنا سہل نہ ہوتا اگر محبوب کی قربت میسر نہ ہوتی۔ اس نے بھی علی کی خاطر خود کو ہر مشکل اور تکلیف کے لئے تیار کر لیا تھا ۔ وہ اس کے وسائل سے واقف تھی اور اسے اس کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا تھا۔ جو زندگی نبیلہ کے لئے تلخ اور نئی تھی علی اور اس کے گھر والے اس کے ساتھ برسوں سے رہ رہے تھے ۔ وہ بھی اس کی طرح انسان تھے اور اللہ نے ان کی تخلیق بھی یقینناََ اسی محبت سے کی تھی پھر کس طرح وہ انہیں ان کی کم مائیگی کا احساس دلا سکتی تھی۔ اس نے خود سے عہد کیا تھا وہ علی کا سہارا بنے گی ۔ اس کی طاقت بنے گی۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ علی کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی ہے جس کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

 وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھی تھی اور اپنے پہلو میں علی کو نہ پاکر حیران سی کمرے سے باہر نکل آئی۔ وہ اسے باہر برآمدے میں ہی مل گیا تھا ۔ اس کی تیاری سے لگتا تھا جیسے وہ اس سے بہت پہلے سے جاگا ہوا تھا اور معمول کی طرح سفید کرتے اور جینز میں تیار کھڑا تھا۔ برآمدے کے اس وقت کوئی نہیں تھا البتہ باورچی خانے سے آرہی آوازوں سے اندازہ ہوتا تھا شبنم وہیں تھی۔ لیکن نبیلہ کو جس بات نے حیرت میں مبتلا کیا وہ برآمدے کے وسط میں پڑی کپڑے کی سفید بوری تھی جس میں اکثر آٹا یا پھر اناج بھرا ہوتا ہے لیکن اس میں ایسی کوئی جنس نہیں تھی ۔

”یہ کیا ہے علی اور اتنی صبح صبح کہاں جا رہے ہیں“؟ بالوں کو کلپ میں لپیٹتے وہ تجسس سے سوال کرتی اس تک پہنچی تھی ۔

”یہ؟متاعِ حیات“۔ نبیلہ نے ایک نظر علی کے سنجیدہ چہرے پہ ڈالی اور پھر خود ہی اس بوری کو کھول کر اس میں رکھا سامان دیکھنے لگی۔

”یہ تو کتابیں ہیں۔۔۔۔اور یہ آپ کی ڈائریاں؟ ان میں آپ کی ساری شاعری لکھی ہے۔ یہ سب لے کر کہاں جا رہے ہیں؟“ وہ حیرت زدہ سی ایک ایک کرکے اس میں رکھی چیزیں باہر نکال کر وہاں پڑے تخت پہ رکھ رہی تھی۔

”کبھی یہ میرا اوڑھنا بچھونا تھا لیکن اب اسے دیکھتا ہوں تو ردی کا ڈھیر لگتا ہے۔ایک صاحبِ ذوق سے سودا ہوا ہے۔ ان کی اچھی قیمت دینے کو تیار ہے“۔علی بے حد سنجیدگی سے کہتے خود بھی اسی تخت پہ بیٹھ گیا اور کتابوں کو واپس اسی بوری میں منتقل کرنے لگا۔

”آپ اپنی کتابیں بیچ رہے ہیں؟ “اسے شاک لگا تھا۔

”لیکن کیوں علی؟“وہ گھٹنوں کے بل علی کے پیروں میں بیٹھے حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ علی نے کتابیں تخت پہ رکھتے اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔

”یار کچھ پیسوں کی ضرورت ہے اور اس وقت فوری بس یہی حل سوجھا ہے۔ خیر تم کیوں پریشان ہوتی ہو “۔ وہ بے تاثر لہجے میں بولا تھا۔

”یہ میں آپ کو بالکل نہیں دوں گی۔ اس میں تو آپ کا برسوں کا کلام لکھا ہے اور آپ ہی نے کہا تھا آپ کی سب سے بڑی خواہش اسے کتابی صورت میں لانا ہے“۔نبیلہ نے اس کی دونوں ڈائریاں اٹھا تے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔ ان میں لکھے لفظوں کو اس نے پتا نہیں کتنی ہی بار پڑھ رکھا تھا اور اب تو جیسے یہ سب اسے زبانی یاد تھا۔ وہ اس کلام سے علی کی وابستگی سے آشنا تھی ۔ پھر کس طرح وہ اپنی اتنی محنت کو چند سو روپوں میں بیچ سکتا ہے۔

”وہ سب زمانہِ جاہلیت کے قصے تھے میری جان اب حالات بدل چکے ہیں اور میری سوچ بھی۔ یہ سب لکھنا پڑھنا احمقانہ لگتا ہے کیونکہ نہ تو ان چند حرفوں سے بازار سے گھی ملتا ہے نہ گھر کا چراغ جلتا ہے تو پھر کیا فائدہ ان میں وقت ضائع کرنے کا“۔اس نے دائیں ہاتھ سے نبیلہ کا گال تھپتھپایا۔ بے یقینی سے وہ اب بھی بناءپلکیں جھپکائے اس کو دیکھ رہی تھی۔

”خیر تم رکھنا چاہو تو رکھ لو ویسے بھی اس سے کتابوں کی ڈیل ہوئی تھی ۔ یہ تو بس یونہی رکھ لیں ساتھ کہ اب میرے لئے بیکار ہیں“۔علی نے سر جھٹکتے کہا اور ایک بار پھر کتابیں بوری میں ڈالنے لگا۔ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے ایک بار پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ نبیلہ سر جھکائے سیمنٹ کے فرش پہ بیٹھی تھی اور علی کی دونوں ڈائریاں اس کی گود میں رکھی تھیں۔ علی خاموشی سے گھر سے باہر نکل گیا۔

٭٭٭

اس نے کتابیں بیچ کر ایک سلائی مشین اور نبیلہ کی ضرورت کا مختصر سا سامان خریدا تھا۔ وہ اس کے شایانِ شان تو نہیں تھا لیکن فی الوقت یہی غنیمت تھا۔ یہ ایک مخصوص مشین تھی جس کے ساتھ اسٹینڈ لگا ہوا تھا ۔ اس میں سلائی کے ساتھ اوور لاک اور کاج کرنے کی بھی خاصیت موجود تھی۔ کرسی پہ بیٹھ کر پیر کی مدد سے اسے چلایا جاسکتا تھا۔ عموماََ ایسی مشینیں فیکٹریوں اور درزی خانوں میں رکھی ہوتی ہیں اور کافی مہنگی ہوتی ہیں۔ علی کو یہ پرانی مشین کم قیمت پہ اسی اسٹچنگ یونٹ سے مل گئی تھی جہاں اس نے سلائی سیکھنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ کوئی عام یونٹ نہیں تھا ۔ یہاں بننے والا مال نہایت مشہور برانڈ کے لیبل سے بیرونِ ملک ایکسپورٹ کیا جاتا تھا۔ انتہائی کم قیمت میں تیار ہونے والی ہوزری کی ا ن قمیضوں کو بڑے بڑے اسٹوروں میں ڈالروں میں فروخت کیا جاتا جبکہ ان پہ ہونے والا خرچ اور لوکل مزدور کو دی جانے والی مزدوری نہ ہونے کے برابر تھی۔

 علی کا ذہن ان دنوں بری طرح ڈسٹرب تھا۔ حیدر صاحب کی باتوں نے جو تکلیف پہنچائی سب سے بڑھ کر نبیلہ کا اس پہ اندھا اعتماد اور شدید محبت اسے دن رات چرکے لگا رہے تھے۔ وہ ایک حساس انسان تھا اور ایسے لوگ دنیا کا ہر وار دل پہ سہتے ہیں۔ اس نے بھی اپنی غربت کے سبب اب تک بہت سے تکلیف دہِ لمحے دیکھے تھے لیکن وہ انہیں اپنے لفظوں کے ذریعے باہر نکالتا تھا کہ یہی اس کا کتھارسس تھا۔ اس دن کے بعد سے علی نے شاعری کرنا ترک کر دی تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ لفظ اس سے روٹھ گئے تھے بلکہ وہ خود اب ان کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسے یہ باور ہوچکا تھا کہ اس کے شعروں سے ملنے والی داد اس کے حالات کبھی بدل نہیں پاے گی ۔ دو جگہ ملازمت کے باوجود بھی زندگی میں کون سی نمایاں تبدیلی آگئی تھی۔ کاروبار کے لئے وسیع سرمایے کے ساتھ تجربہ درکار تھا۔ یہ ایک اتفاق تھا کہ کچھ روز پہلے اس کی ملاقات خرم سے ہوئی تھی۔ خرم کا ایک درمیانے درجے کا اسٹچینگ یونٹ تھا اور لگ بھگ سو کے قریب کاریگر بیک وقت اس کے پاس کام کرتے تھے۔ وہ ملک کی بڑی فیکٹریوں سے ہوزری کا کپڑا لے کر آرڈر پہ گارمنٹس تیار کرتا اور وہ فیکٹریاں اس پہ بڑی بڑی برانڈ کے لیبل لگا کر انہیں برآمد کرتیں۔ اس میں سب سے کم آمدن اس کاریگر کو ہوتی جو یہ گارمنٹس سیتے تھے۔ انہیں یومیہ معاوضہ ملتا جبکہ اسٹیچنگ یونٹ مالکان وزن کے حساب سے معاوضہ پاتے ۔ دوسری طرف فیکٹری سے کوالٹی چیک کے بعد نکلنے والی شپ منٹ فی گارمنٹ پہ کمپنی کو یہ کپڑا بیچتی۔ علی نے خرم سے پہلی ملاقات کے بعد ہرگز نہیں سوچا تھا کہ وہ اس کے ماتحت یہ کام کرے گا لیکن کل کی ہیجان خیزیوں نے زندگی کو تین سو ساٹھ ڈگری کی سطح پہ الٹ دیا تھا۔ حیدر سعید کی دی ہوئی ذلت اور نبیلہ کے حصے میں آئی محرومیوں کا ازالہ اب صرف وہی کر سکتا تھا اور وہ اسی صورت ممکن تھا کہ وہ اپنی ذات کو فراموش کرکے دن رات اتنی محنت کرے کہ اس مقام پہ جا کھڑا ہو جہاں حیدر سعید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔۔نبیلہ نے اس کی خاطر زہر کا گھونٹ پیا تھا اور اسے امرت میں بدلنا چاہتا تھا۔ اس رات اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ نبیلہ کو زندگی کی ہر خوشی دے گا لیکن اس خوشی میں اپنا آپ شامل کرنا بھول گیا تھا۔

٭٭٭

 علی نے پچھلے دوماہ میں نا صرف خرم کے پاس کام کرکے سلائی سیکھی تھی بلکہ اس کاروبار کے رموز پہ بھی بھرپور توجہ دی تھی۔ وہ ایک ذہین انسان تھا اور اس قلیل وقت میں اس پیشے کی بہت سی باریکیاں سمجھ گیا تھا۔خرم نے اس کے مسائل سمجھتے ہوئے اس کی مدد کی تھی ۔ مشین کے ساتھ وہ گھر میں بھی ایک دو گھنٹے ہاتھ صاف کرتا اور اب تو وہ بہت سا میٹریل بھی گھر لے آتا تھا ۔ صحن میں بنے چھوٹے سے کمرے کو جو اب سے پہلے کاٹھ کباڑ سے بھرا تھا اس نے صاف کرکے اپنے کام کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان دنوں وہ بس ایک ہی ملازمت کر رہا تھا۔ خرم کے پاس کام کرنے میں بڑی قباحت مخصوص وقت تھا ۔ پھر وہاں معاوضہ بھی یومیہ ملتا تھا جبکہ گھر پہ وہ زیادہ سے زیادہ وقت لگا کر وہاں سے دوگنا کام نبٹا لیتا اور معاوضہ اسے وزن کے حساب سے ملتا۔ اس ایک عقمندانہ فیصلے میں محنت کو شامل کرتے اس کی آمدن دوگنی ہوگئی تھی لیکن علی کی منزل اس سے بہت آگے تھی اور یہ محض شروعات تھی۔

آہستہ آہستہ اس نے خرم کے بجائے ڈائریکٹ فیکٹری سے آرڈر لینے شروع کر دیئے۔ کام زیادہ ملا تو مشینوں کا اضافہ کرنا پڑا ساتھ ہی چند کاریگر بھی اپنے ساتھ شامل کئے۔ وہ انہیں خرم سے زیادہ معاوضہ دیتا بدلے میں وہ اسے بہترین کام پوری دل جمعی سے کرکے دیتے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے علی کا چھوٹا سا اسٹیچنگ یونٹ فیکٹری والوں کی نظروں میں آنے لگا جہاں نا صرف کام صفائی سے ہوتا اور کم سے کم کنڈم مال

نکلتا بلکہآرڈر بھی وقت پہ پورا کیا جاتا۔ اب تو کام بڑھنے کے سبب اس نے گھر کی بجائے ایک چھوٹا سا کارخانہ الگ سے کرائے پہ لے لیا تھا جہاں کاریگر بھی زیادہ تھے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا وہ رات کو گھر آنے کی بجائے وہیں سو جاتا اور پھر اگلے دن کام پہ لگ جاتا۔ ان دنوں وہ کام کو ایک نئے انداز میں بڑھانے کے چکروں میں تھا۔ اب اس کا ارادہ فیکٹری سے میٹریل خرید کر اسے براہِ راست ایکسپورٹ کرنے کا تھا اور وہ اس سلسلے میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہا تھا۔ اس نے اپنے کارخانے سے تیار کردہ چند بہترین کوالٹی کے سیمپل کچھ بڑے اسٹوروں کو بھیجے تھے ۔ اس کے کام کو معیار کے مطابق قرار دیا گیا لیکن اس کے وسائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کچھ تحفظات ظاہر کئے گئے تھے۔ جواب میں علی نے انہیں فیکٹری سے نہایت کم معاوضے کی آفر کرتے ہوئے ایک ایسا پلان بھیجا تھا جس کے تحت اسٹور مالکان اسے پہلے آرڈر کی ادائیگی ایڈوانس کریں گے اور اس رقم سے وہ اپنے کارخانے کا سیٹ اپ بڑھائے گا۔ اس کا کام بہترین تھا تو معاوضہ کم، ایسے میں یہ ایک متاثر کن آفر تھی اور اس کی قسمت اچھی تھی جو اس کا پلان اپروو ہوگیا۔ اور اب تین سال کی انتھک محنت کے بعد علی بالآخر ان تمام بڑے ناموں کے ساتھ ڈائریکٹ کام کرنے لگا تھا جن تک اس کا بنایا کام پہلے دوسرے ذرائع کے توسط سے پہنچتا تھا۔

ایک سال بعد اپنی طویل معذوری کو جھیلتے قیوم کا انتقال ہوگیا تھا اور اس کے ڈیڑھ ماہ بعد علی شبنم اور نبیلہ کو لے کر محلے کا اپنا پرانا اور خستہ حال مکان ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر اس نئی سوسائٹی میں آگیا تھا۔ مکان کرائے کا تھا اور بہت بڑا بھی نہیں تھا لیکن تعمیر نئی تھی ۔ بنیادی ضروریات بھی اس گھر اور محلے سے بدرجہا اتم بہتر تھیں ۔ لیکن یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ نبیلہ کو لاکر رکھنا چاہتا تھا۔ حالانکہ وہ اس پہ بہت خوش تھی بلکہ اسے تو علی کے ساتھ اس ٹوٹی پھوٹی جگہ پہ رہنے میں بھی کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ اس سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی اور محبت قربانی دینے کے وصف سے آگاہ ہوتی ہے۔ ایک سال میں نبیلہ کی ملاقات کبھی اپنے والدین سے نہیں ہوئی تھی۔ وہ اس سے ملنا نہیں چاہتے تھے تو خود نبیلہ نے بھی ان سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس دوران اس نے کبھی اپنے گھر یا ماں باپ کا ذکر بھی علی کے سامنے نہیں کیا تھا۔ وہ جانتی تھی اس کے اس عمل سے علی کو تکلیف ہوتی لیکن اس کی خاموشی علی کو اور بھی اذیت دیتی تھی۔ وہ اس کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر چکی تھی یہ سوچ علی کو دن رات بے چین رکھتی۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ نبیلہ کو اپنے ماں باپ کی یاد نہ ستاتی لیکن وہ ان حالات میں اسے حیدر سعید سے ملوانے لے کر جاتا تو وہ اس کا مفہوم منفی ہی سمجھتے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر نبیلہ کو ان کے تلخ اور ذلت بھرے رویے سے چوٹ پہنچے۔ اسے اس وقت تک محنت کرنی تھی جب تک کہ وہ اس نام نہاد معاشرے میں اپنا قابلِ عزت مقام نہیں بنا لیتا جو دراصل آج کے زمانے میں فقط مال و دولت سے ہی ممکن تھا۔ علی کی یہی سوچ اس کی ہمٹ ٹوٹنے نہیں دیتی تھی کہ اسے نبیلہ کو وہ سب کچھ واپس لوٹانا ہے بمعہ ان رشتوں کے جو وہ اس کی خاطر تیاگ آئی ہے۔ لیکن نبیلہ کو اگر آج بھی دولت اور محبت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو وہ علی سے محبت کا تقاضا ہی کرتی۔ تین سال کی مسلسل کوشش اور انتھک محنت کے بعد علی اپنے کارخانے کو ایک رجسٹرڈ کمپنی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس سال اس کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ انٹرنیشنل برانڈ کی تین بڑی کمپنیوں کے ساتھ اس کے مستقل بنیادوں پہ کانٹریکٹ ہوئے جس کے بعد اسے ایکسپورٹ لائسنس مل گیا تھا۔ اس نے کارخانے کو وئیر ہاو ¿س میں تبدیل کرتے ہوئے ایک معیاری سیٹ اپ کا آغاز کیا ۔ مشینوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ اب اس کے پاس ورکرز کی تعداد بھی پہلے سے دوگنی ہوچکی تھی۔ وہ لوگ اب بڑے گھر میں شفٹ ہوچکے تھے ۔ گھر میں کل وقتی ملازم کا اضافہ ہوگیا تھا ۔ بس سے موٹر سائیکل اور پرانی گاڑی سے زیرو میٹر گاڑی کا سفر کرتے علی کی مصروفیات میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے کام کے پیچھے بھاگ دوڑ کرنے والے علی کے پیچھے اب خود کام بھاگنے لگا تھا۔ فرصت پہلے بھی اس پہ حرام تھی اب تو مزید وقت پہ مہر لگتی جا رہی تھی۔ گھر میں ا ن دنوں پیسے کی فراوانی تھی لیکن ان دونوں کا رشتہ مصروفیت تلے دب گیا تھا۔اپنی بے تحاشہ مصروفیت میں وہ چند گھنٹے کی نیند بھی مشکل سے لے پاتا کجا نبیلہ کو وقت دیتا۔ وہ جدی پشتی رئیس تھا بلکہ محض چند سال پہلے ایک مشین سے کام شروع کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچا تھا۔ وہ بیٹھ کر ورکرز پہ حکم نہیں چلا سکتا تھا۔ ”کچھ نہیں “سے ”کچھ ہونے“ تک کے سفر میں اس کی دن رات انتھک محنت تھی ۔ جائز اور حلال طریقے سے اپنے زورِ بازو پہ بھروسہ رکھتے جو چیلنج اس نے قبول کیا تھا اسے پورا کرنے میں اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ان دونوں کی” محبت“، ان کا ”وقت“ اور علی کا عشقِ خاص اس کی ”شاعری “ کی قربانی شامل تھی۔ ”فاران“ کی پیدائش کے دن اس کی کمپنی کی پہلی شپ منٹ ڈسپیچ ہوئی تھی اور یہ دن اس کے لئے تاریخی حیثیت کا حامل تھا۔ وہ نبیلہ کے پاس اسپتال نہیں جاسکا تھا کیونکہ اس کی موجودگی وئیر ہاو ¿س میں اہم تھی۔ ایک ذرا سی غلطی اس کی تین ماہ کی محنت پہ پانی پھیر سکتی تھی اور وہ کامیابی کی پہلی سیڑھی پہ کھڑا ہونے سے پہلے ہی زمیں بوس نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اسٹچنگ، ایمبرائیدری، واشنگ، فولڈنگ اور فائنل پیکنگ تک ہر مرحلے میں وہ سر پہ موجود تھا۔ یہی نہیں اس نے لوڈنگ کے دوران کارٹن تک خود اٹھائے تھے۔ عام ورکرز کی طرح لوڈر ٹرک میں کارٹن رکھتے اس کے ماتھے پہ کوئی بل تھا نہ ہی چہرے پہ تھکن۔۔۔ہاں پریشانی تھی تو نبیلہ کے حوالے سے جو اس وقت اسپتال میں اس کی ماں اور ملازمہ کے ساتھ تھی۔ دل میں یہ بھی تاسف تھا کہ وہ اسے پچھلے نو ماہ میں وہ ایموشنل اسپورٹ نہیں دے پایا تھا جو ان دنوں اس کی طرف سے وہ اکسپیکٹ کر رہی تھی لیکن نبیلہ تو پچھلے ساڑھے تین سال اس کی کمی کو محسوس کر رہی تھی۔

٭٭٭

”I’m extremely sorry sweetheart آج شپمینٹ کی وجہ سے میں ٹائم پہ ہوسپٹل نہیں پہنچ سکا“۔

” پچھلے ساڑھے تین سال میں تم کم ہی میرے پاس وقت پہ پہنچے ہو“۔

”تم نے دیکھا یہ کتنا کیوٹ ہے“۔

”میں چاہتی تھی اپنی پہلی اولاد کو ہم دونوں ایک ساتھ دیکھیں اور تمہاری مصروفیت نے میرا ایک اور خواب بھی پورا نہیں ہونے دیا“۔

”میں یہ محنت تمہارے خوابوں کی تکمیل کے لئے ہی کر رہا ہوں۔۔۔۔“

”یہ سب تم اپنے لئے کر رہے ہو علی کیونکہ تم بہت بڑے آدمی بننا چاہتے ہو۔ میرے باپ سے زیادہ امیر جس نے تمہیں اپنے گھر میں کھڑا کرکے تمہاری معمولی حیثیت جتاتے ہوئے اپنا گھر داماد بنانے کی آفر کی تھی اور تمہاری انا پہ وہ آفر گہری ضرب بن کر لگی تھی لیکن تم اس وقت یہ بھول گئے کہ میں اپنے باپ کے سامنے کس طرح تمہارے لئے، تمہاری عزت اور محبت کی خاطر ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔ دولت اور محبت میں سے تمہاری محبت کا انتخاب کیا تھا میں نے۔۔۔دولت کی تمنا ہوتی تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر تمہارے ساتھ نہیں آتی“۔

”اسی لئے تو میں چاہتا ہوں کہ ایک بار پھر تمہارے پاس وہ سب کچھ ہو جو میری وجہ سے تم نے چھوڑ دیا“۔

”کیا میں نے تم سے کبھی ان سب چیزوں کا تقاضا کیا؟ کبھی اپنے کسی رویے سے محسوس ہونے دیا کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے؟ میں نے اپنی مرضی سے سب کچھ چھوڑا تھا کیونکہ مجھے تم چاہیئے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہیں پاکر میں تمہیں ہمیشہ کے لئے کھو دوں گی“۔

”یہ سب وقتی باتیں ہیں نبیلہ اور کچھ عرصے میں جب ہمارے حالات بہتر ہوجائیں گے تو تمہاری یہ خلش بھی ختم ہوجائے گی۔ “

”دولت کے ڈھیر پہ بٹھا کر مجھ سے میری زندگی کے خوبصورت دنوں کا تاوان لے کر تم کہتے ہو میری ہر خلش ختم ہوجائے گی۔ “

”تم یہ سب باتیں اس لئے کہہ رہی ہو کیونکہ تم نے زندگی میں کوئی ایک دن بھی میری طرح نہیں گزارا ہے۔ تم تک کوئی مشکل نہ پہنچے اس کے لئے دن رات محنت کرتا ہوں میں۔ نیند، بھوک، بیماری کو اگنور کرکے رات دن ایک کرتے ہوئے صرف اس لئے مشقت کر رہا ہوں کہ تم ۔۔۔نبیلہ تم خوش رہ پاو ¿۔ “

”میں نے اور میرے خاندان نے غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزاری تھی میں آگے بھی اسی طرح جی سکتا تھا لیکن تمہیں ان حالات میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں اگر یہ initiative نہ لیتا تو یا تو اس پسماندہ محلے میں رہتے رہتے تم گھٹ گھٹ کے مرجاتی یا پھر ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ کر واپس اپنی دنیا میں چلی جاتی۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک آپشن سوچوں بھی تومیرا دم گھٹنے لگتا ہے“۔

”بس اتنا ہی اعتبار تھا میری محبت پہ؟“

” تم کیوں نہیں کرتی اعتبار میری محبت کا؟ تمہارے اعتبار کو کیا ہوا نبیلہ۔۔۔وہ کیوں ڈگمگانے لگا ہے۔ “

”مجھے تم چاہیئے ہو۔ تمہارا وقت چاہیئے ہے“۔

”تو مل جائے گا وقت۔ کہاں بھاگا جا رہا ہے ؟ سارا دن نکموں کی طرح تمہارے پہلو میں گزار دوں یہ چاہتی ہو تم۔ اس وقت سب سے زیادہ اہم ہے پیسہ جس کے لئے بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے۔ باہر رہ کر دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ جانتی ہو اس پرائیوٹ اسپتال کا بل کتنا ہے ؟ یہاں کے ڈاکٹرایک ایک وزٹ کا کیا چارج کرتے ہیں ؟ یہ ادائیگیاں تمہارے پہلو میں بیٹھ کر شعر کہتے نہیں ہوسکتی تھیں مائی ڈئیر۔۔۔۔۔اس لئے کیا ہے خود کو اتنا ہلکان اور آج اگر یہ سب نہ کرتا تو تم کسی سرکاری اسپتال کے گندے سیلن زدہ کاریڈور میں لگے عارضی بستر پہ میری اولاد پیدا کرتیں جہاں کسی کونے کھدرے میں کتے اور بلیاں بھی اپنے بچے پیدا کر رہے ہوتے ہیں“۔

٭٭٭

وہ دسمبر کی ایک خنک مگر اداس صبح تھی۔ خزاں رسیدہ درختوں کے زرد پتوں سے جھانکتے سورج کی دھیمی سی تمازت سست بدنوں کو حرارت دینے میں ناکام ہوئے جاتی تھی۔ سورج کا تھال ابھی افق کے اس پار کھڑا اپنی پہلی چھب دکھلا رہا تھا جب اس نے بے دلی سے کھڑکی کا پردہ سرکایا۔ سامنے لان میں سکھ چین کے درختوں کے نیچے سوکھے پتوں کا ڈھیر لگا تھا جو مالی کے آنے تک یونہی رہنے والا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فرینچ ونڈو کو سلائیڈ کیا اور آدھی کھڑکی کھل گئی۔ ایک ہی پل میں سرد ہوا کا تیز جھونکا اس کے گلابی گالوں کو سرخ کر دگیا تھا۔ آن ِ واحد میں کمرے کے نرم گرم ماحول کو” سرد ی“ نے منتشر کر دیا تھا ۔” خنکی “کا احساس اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر رہا تھا پر اس پل وہ جیسے اس ”شدت“ کو اپنے اندر اتارنا چاہتی تھی اسی لئے تو ”بے آرام“ ہونے کے باوجود اس احساس سے” حِظ“ اٹھا رہی تھی۔

 چند منٹ یونہی سکون و بے سکونی کے ساتھ گزرے ۔ وال کلاک میں اب آٹھ بج رہے تھے۔ ایک گہرا سانس لیتے اس نے شیشہ برابر کیا اور پردے گرا دئیے۔ کمر پہ بکھرے اپنے ریشمی سیاہ بالوں کو جوڑے میں لپیٹتی وہ سست روی سے چلتی کمرے سے باہر نکل رہی تھی جب علی کی آواز پہ قدم ٹھہر گئے ۔ شائد اس کی آنکھ کھڑکی سے آرہی سورج کی روشنی سے کھلی تھی ۔ وہ خود صبح خیز تھا لیکن طویل عرصے سے اس کا سونے جاگنے کا کوئی شیڈول نہیں تھا۔ بعض اوقات پوری پوری رات جاگ کر گزرتی خاص طور پہ ان دنوں جب شپ منٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہوتی۔ اس دوران وہ گھر بھی آدھی رات کے بعد آتا ۔ اس وقت تک نبیلہ اور فاران دونوں سو چکے ہوتے جبکہ اکثر وہ ان کے جاگنے سے بھی پہلے گھر سے نکل جاتا۔ یوں کئی کئی دن نبیلہ کا اس سے سامنا نہیں ہوتا تھا۔شبنم کے انتقال کے بعد تو یہ تنہائی اور بھی پریشان کرنے لگی تھی۔ فاران نے اس کی مصروفیت میں اضافہ کیا تھا لیکن جب سے وہ اس بڑے گھر میں شفٹ ہوئی تھی جہاں فاران کے لئے ایک کل وقتی ملازمہ کا انتظام الگ سے ہوچکا تھا اپنی فرصت کے باعث وہ حد درجہ بیزار رہنے لگی تھی۔

 علی ان دنوں اپنی فیکٹری کی تعمیر میں الجھا ہوا تھا ۔ اس سلسلے میں اس کا ایک پیر شہر میں تو دوسرا شہر سے باہر ہوتا تھا۔ گارمنٹس اندسٹری میں تیزی سے بڑھتی اس کی ساکھ نے اسے اور بھی الجھا دیا تھا۔ پیسہ کمانے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ضرورت پوری کرنے کے لئے کمائی گئی رقم ہاتھ کی مٹھی میں سما جاتی ہے۔ ضرورت کو آسمان سا وسیع کرلیں تو خزانے بھی کم لگنے لگتے ہیں۔ علی بھی ضرورت کی تگ و دو سے بہت آگے جا چکا تھا۔ پانچ سال پہلے اپنی جمع کی ہوئی سیکینڈ ہینڈ کتابوں کو بیچ کر ایک سلائی مشین خریدی تھی اس نے۔ پانچ سال بعد شہر میں اس کے تین وئیر ہاو ¿س ڈے اینڈ نائٹ شفٹ کی صورت کام اگل رہے تھے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ لائسنس کے تحت اس سے پہلے اس کی کمپنی اسمال بزنس انٹرپرائز میں شامل تھی لیکن اپنے پھیلتے ہوئے کاروبار کے ساتھ اس کا شمار پاکستان کے بڑے یونٹس میں ہونے لگا تھا۔ وہ ہوزری بزنس میں اس وقت مڈل ایسٹ اور یوکے کی مارکیٹ کا بڑا حصہ captureکر چکا تھا۔ پولو شرٹس اور ٹی شرٹس سے کام کا آغاز کرتے وہ اب ہوزری اور Knitted گارمنٹس کی چند دوسری مصنوعات بھی بنانا چاہتا تھا ۔ ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والی پینتیس فیصد برآمدات کی صورت پاکستان کی ایک بہت بڑی انڈسٹری سمجھی جاتی تھی اور دنیا کی بہترین کاٹن مینوفیکچرنگ، لو لیبر کاسٹ اور بہترین آو ¿ٹ پٹ کی بدولت پاکستان پوری دنیا میں کافی مقبول تھا۔ دنیا کی نظر میں اس نے بہت تیزی سے کامیابی کا یہ سفر طے کیا تھا لیکن اسے اپنی رفتار چیونٹی سی معلوم ہوتی تھی۔ ٹریڈ لائسنس، فیکٹری پلاننگ، میٹریل ، مشینری اور ایسے ہی ان گنت مسائل تھے جن سے وہ آج کل نبرد آزما تھا اور کچھ گھنٹے پہلے ہی اس کی گھر واپسی ہوئی تھی۔ پچھلے تین دن سے وہ اسلام آباد میں کامرس منسٹر سے ملاقات اور چند اہم معاملات کے سلسلے میں رکا ہوا تھا۔

”اتنی جلدی کیوں جاگ گئی؟“وہ بس چار ، پانچ گھنٹے ہی سویا تھا۔ نبیلہ اس کے بلانے پہ واپس بیڈ کی طرف چلی گئی تھی۔ اس نے ایک نظر کاٹ میں سوئے فاران کو دیکھا اور تکیہ سیدھا کرتے ایک بار پھر بستر پہ نیم دراز ہوگیا۔

”میری آنکھ تو ہر روز اسی وقت کھل جاتی ہے علی کیونکہ میں وقت پہ سوجاتی ہوں“۔ اس کا لہجہ عام سا تھا ۔ اس دن کے بعد نبیلہ نے علی سے شکوہ نہیں کیا تھا۔ وہ پہلے بھی اس سے شکایت کرنے سے گریز کرتی تھی لیکن پھر بھی گاہے بگاہے اسے ٹوک دیا کرتی تھی۔ وہ خود کو کام میں ہلکان کر رہا تھا اور نبیلہ کو اس کی مشکلات کا پورا احساس تھا ۔ وہ نہیں چاہتی تھی علی ان کی زندگی کے اہم اور اچھے دن پیسہ کمانے کے جنون کی نظر کر دے۔ وہ خود بھی چاہتی تھی کہ وہ بہت زیادہ ترقی کرے ، شہرت کی بلندیوں کو چھوئے لیکن اس طرح نہیں۔۔۔۔ان دونوں کے درمیان اس سے پہلے کبھی بحث ہوئی تھی نہ اس کے بعد ۔ علی نے اس سے بعد میں اپنے سخت لفظوں پہ معذرت کی تھی اور نبیلہ نے اسے مسکرا کر معاف بھی کر دیا تھا لیکن

”I know you are lucky“ نیند سے مخمور لہجے میں کہتے وہ دھیما سا مسکرایا اور پھر خود کو اسٹریچ کرتے دونوں بازو انگڑائی کی صورت پھیلائے۔

”ابھی آٹھ بجے ہیں۔ کچھ دیر مزید سو جاو ¿ میں جانتی ہوں تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی ہے“۔وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سکی تھی۔ سنجیدگی سے کہتے وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ جانتی تھی اس کی نیند ادھوری ہے

”یہیں بیٹھو میرے پاس۔ اتنے دن بعد دیکھ رہا ہوں تمہیں جی بھر کے دیکھنے تو دو“۔

”دس بجے میٹنگ ہے میری آرکیٹیکٹ کے ساتھ فیکٹری کے فلور پلان کو لے کر“۔ وہ خاموش رہی۔ اس کا خیال تھا اتنے دن بعد وہ گھر واپس آیا ہے تو

”کچھ بولوگی نہیں؟“

”کیا بولوں؟“

”کچھ بھی ۔۔۔اس وقت کوئی بہت اچھی سی بات سننا چاہتا ہوں تمہارے لبوں سے جس کے بعد میری ساری تھکن ختم ہوجائے اور آج کا دن بہت اچھا گزرے“۔

”میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں علی“۔

”جانتا ہوں اور میں بھی تم سے بہت بہت محبت کرتا ہوں۔تم جانتی ہو میری زندگی میں تمہاری کیا اہمیت ہے “۔

”پہلے میں بھی یہی سمجھتی تھی میں تمہارے لئے سب سے اہم ہوں“۔

”یہ سب میں۔۔۔۔۔“

”جانتی ہوں یہ سب تم میرے لئے کر رہے۔ تمہیں لگتا ہے مجھے یہ سب آسائشیں دے کر تم میری ان تمام قربانیوں کا ازالہ کررہے ہو جو تمہارا ہاتھ تھام کر میں نے دی ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو شائد میں ایک دن حالات سے تنگ آکر تمہیں بیچ راہ میں چھوڑ کر واپس لوٹ جاتی ۔ “

بڑی مدت نبھا کے موڑ پر ٹھہری رہی ہوں میں

مجھے آیا نہیں تیرے بچھڑنے کا یقیں برسوں

٭٭٭

٭٭٭

ڈئیر ڈائری

جیسے جیسے زندگی میں خوشحالی داخل ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے خوشی رخصت ہوتی جارہی ہے۔ علی کا کاروبار دن با دن بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے

ساتھ ان کی مصروفیت بھی۔ میری سونی کلائیاں سونے کی چوڑیوں سے بھر گئی ہیں لیکن میرا پہلو سونا ہوگیا ہے۔ کبھی جس شخص کی صبح شام میں ہوا کرتی تھی آج اس کے پاس میرے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ علی نے خود کو کام میں اتنا مصروف کر لیا ہے کہ مجھے خود ان سے اپنے لئے

وقت مانگتے ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ ان سے بات کرنے کے لئے بیسیوں بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں میری کسی غیر ضروری بات سے ان کا وقت ضائع تو نہیں ہوگا۔ کبھی ہم گھنٹوں بے مقصد باتیں کیا کرتے تھے لیکن آج کام کی بات کرنے سے پہلے وقت دیکھنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ یہ سب میرے لئے کر رہے ہیں۔ میری خوشی کے لئے کر رہے ہیں۔ مجھے اس دنیا کی ہر آسائش دینا ان کی اولین ترجیح ہے لیکن میری ترجیحات کا کیا؟ میری خواہش تو ان کی محبت تھی ۔ وہ لطیف جذبات تھے جنہیں اپنے شعروں میں ڈھال کر کبھی علی نے میرے دل کے دروازے پہ دستک دی تھی۔ یہ کیسی محبت ہے علی جس نے میرے حصے میں تنہائی اور آپ کے مقدر میں تھکن لکھ دی ہے؟

کاش وہ وقت لوٹ کر واپس آسکتا جب زندگی کا حسن کاغذ کے نوٹ نہیں میری اور آپ کی محبت تھی۔

٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے