سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں ۔۔۔ مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر11

ان لمحوں کے دامن میں ۔۔۔ مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر11

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر11

”مجھے یقین نہیں آ رہا الحان کہ میں واقعی یہ کر پا رہی ہوں….“

تقریباً آدھ گھنٹہ کے ٹرائی اور کلاس کے بعد وہ گھوڑے پر بیٹھی اسے کسی کی مدد کے بغیر ہلکے ہلکے چلاتے ہوئے ہینڈل کیے ہوئے تھی…. وہ خاصی خوش دکھائی دے رہی تھی…. الحان ایک الگ گھوڑے پر سوار اس کے برابر میں سواری کر رہا تھا….

”کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہوتی…. بس تھوڑی سی لگن اور محنت…. باقی کام اپنے آپ آسان ہو جاتا ہے….“

وہ اپنے گھوڑے کو سنبھالتا اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا تھا….

”ہوں….“

مسکان سر ہلا کر رہ گئی….

”سو؟“

الحان نے اپنا گلہ کھنگارا…. وہ شاید کچھ پوچھنے کو بے چین تھا….

”اس دن کے سانحہ کے بعد سے تمام لڑکیوں کا ری ایکشن کیسا تھا؟“

”تم برینڈا کے الزام کی بات کر رہے ہو؟“

وہ سواری کرتے دوران الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”یس!“

وہ متانت بھرے لہجے میں گویا ہوا….

”کچھ خاص نہیں…. سب لڑکیاں نارمل ہو گئیں….“

”اور مانہ؟“

”مانہ کیا؟“

مسکان تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”مانہ کے مصنفہ ہونے کی خبر سب کو ہو چکی ہے…. وہ اس سب کو کیسے فِیل کر رہی ہے…. میرا مطلب اینی پرابلم؟“

”مجھے نہیں معلوم…. وہ لڑکی تو زیادہ بات تک نہیں کرتی…. اپنا زیادہ تر وقت اس عجیب سے درخت کے سائے تلے بیٹھ کر گزار دیتی ہے…. وہ بہت پُراسرار اور عجیب ٹائپ کی لڑکی ہے….“

مسکان کے لہجے میں کچھ الگ سا تھا…. کچھ روکھا روکھا، اکتایا ہوا سا…. الحان کو اس کا لہجہ بہت عجیب لگا…. تبھی وہ براہ راست گردن گھما کر اس کی جانب دیکھنے لگا…. وہ اس کا لہجہ سمجھ نہیں پایا تھا…. مزید اسے اگلوانے کے لیے وہ اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگا….

”ہاں عجیب تو وہ ہے…. میں جانتا ہوں….“

”میں جانتی ہوں کہ وہ مجھے اپنی فرینڈ کنسیڈر کرتی ہے…. لیکن….وہ…. واقعی بہت عجیب ہے….“

مسکان نے اپنے شولڈر اُچکائے….

”میں سمجھا تھا کہ شاید تم دونوں بہت کلوز ہو ایک دوسرے کے….“

وہ سادگی سے پوچھنے لگا….

”ہاں….“

وہ تیوری چڑھانے لگی….

”سوری الحان! تم شاید مجھے غلط سمجھ رہے ہو یا بیڈ؟“

”نہیں…. اٹس او کے…. میں تمہاری رائے کی عزت کرتا ہوں…. اور میں تمام لیڈیز کے بارے میں تمہاری رائے جاننا چاہتا ہوں….“

وہ مصنوعی مسکراہٹ مسکرا دیا…. وہ اس لڑکی کی باتوں کے ذریعے اسے جاننا چاہتا تھا…. اور شاید وہ جان چکا تھا….

مسکان نے اپنے اسٹائلش تراشیدہ بالوں کو ہلکے سے جھٹکا دیا اور بال ہوا میں لہراتے اس کے شولڈر کے پیچھے جا گرے….

”خیر! میں تمام لیڈیز کے بارے میں کچھ خاص رائے بیا ن نہیں کر سکتی…. کیونکہ سبھی لیڈیز مانہ کی وجہ سے مجھ سے بھی اُکتائی اُکتائی رہتی ہیں….مانہ نے سب کے سامنے یہی شو کیا ہے کہ ہم دونوں بیسٹ فرینڈز اور ایک دوسرے کے بہت کلوز ہیں…. جبکہ ہم دونوں تو زیادہ بات تک نہیں کرتی ہیں….“

وہ اپنی ترنگ میں بولتی چلی جا رہی تھی….

”میں واقعی یہی سمجھتا رہا کہ تم دونوں ایک دوسرے کے بہت کلوز ہو….“

الحان کے چہرے کے ہر ہر نقش پر غصہ نمودار تھا…. لیکن وہ بمشکل خود پر کنٹرول کیے، مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سجا کربولا….

”میرے پاس اور کوئی چوائس نہیں تھی الحان!….“

اسنے ایک آہ بھری اور پھر سے بولی….

”اس کی یہاں کوئی دوست نہیں تھی…. سبھی اسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتی تھیں…. مجھے اسکے لیے اچھا نہیں لگتا تھا…. اس لیے میں نے سوچا کہ چلو بات چیت کر لی جائے تاکہ وہ خود کو تنہا فِیل نہ کرے…. دیکھو الحان! شاید تمہیں یہ سن کر اچھا نہ لگے…. لیکن…. تم نے میری رائے مانگی ہے اور تم سچ جاننا چاہتے ہو…. اسی لیے بتا رہی ہوں…. مجھے یقینا ایسا لگتا ہے اور میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ مانہ واقعی تمہاری توجہ چاہتی ہے…. اس نے خود کو خاموش اور ہم سے الگ بی ہیو کر کے تمہیں بےوقوف بنایا ہے…. وہ صرف تمہاری توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے بس!“

الحان نے آہستگی سے اپنا سر ہلایا…. اس کا خون فُل زور و شور سے جوش مار رہا تھا…. غصہ تھا کہ پھٹ پڑنے کو تیار تھا…. لیکن اس نے خود پر کنٹرول رکھا…. وہ فی الحال کچھ بولنا یا کرنا ہرگز نہ چاہتا تھا….

”اچھا!…. تعجب ہوا سن کر…. کہ اس نے یہ سب میری توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا….“

وہ بمشکل بول پایا….

”اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مسئلہ ضرور ہے الحان!…. ورنہ کوئی بھی نارمل لڑکی اس طرح سے بی ہیو ہرگز نہیں کرتی جس طرح سے مانہ بی ہیو کرتی ہے…. میں سمجھ نہیں پا رہی اس لڑکی کو….“

وہ متانت سے بولتی مسکرا دی…. الحان کو اس پل وہ مسکراتی ہوئی زہر لگ رہی تھی….

”آئی تھنک ہمیں اب واپس چلنا چاہیے…. شام گہری ہوتی جا رہی ہے….“

الحان نے مہارت سے بات بدل دی…. وہ جلداز جلد اس جگہ سے نکل کر چوب محل واپس جانا چاہتا تھا…. اسے لگا تھا کہ شاید وہ مانہ کی سہیلی کے ساتھ رائیڈنگ پر آیا ہے…. لیکن وہ غلط تھا…. وہ اس کی سہیلی نہیں بلکہ چوب محل میں موجود باقی تمام لیڈیز میں سے ایک تھی…. جو دوستی کا لبادہ پہنے اسے ڈس لینے کو تیار تھی…. الحان جلد سے جلد مانہ تک پہنچنا چاہتا تھا…. اسے مسکان کی اصلیت کے بارے میں بتانا چاہتا تھا…. براق سے گھوڑے اب تقریباً دوڑتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے….

ض……..ض……..ض

”کیا مطلب کہ مانو مسنگ ہے؟“

الحان کے واپس آتے ہی عاشر نے اس کے سر پر بم بلاسٹ کیا…. عاشر بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا….

”تمہارے یہاں کے لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے اسے جنوب کی طرف جاتے دیکھا تھا…. ان سب نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کہیں نہیں ملی….“

الحان اپنا سر تھام کر رہ گیا…. اس نے سر اٹھا کر وسیع آسمان پر نگاہ دوڑائی…. موسلادھار طوفان اپنی آمد کا سندیس بڑی تیزی سے لیے چلا آ رہا تھا…. اس نے جلدی سے وہاں پر موجود اپنے تمام نوجوانوں کو ایک بار پھر سے اکٹھا کیا اور ایک ٹیم بنا کر مانہ کو ڈھونڈنے کا ارادہ کیا…. سبھی لوگ اپنے اپنے گھوڑے سنبھالے مانہ کو ڈھونڈنے کے لیے تیار ہو کھڑے ہوئے….

”میں کریو کے کچھ لوگوں کو تمہارے ساتھ بھیج دوں؟“

عاشر نے آفر دی….

”نہیں عاشر! …. یہ لوگ یہاں کی جگہوں سے واقف ہیں…. کریو کی ضرورت نہیں اور اس بگڑتے موسم میں تو ریڈیو بھی کام نہیں کرنے والے…. بس تم میرے اور ان تمام لوگوں کے واپس آنے تک کسی کو باہر نہیں نکلنے دینا…. میں مزید کسی کے کھو جانے کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتا….“

الحان منتشر لہجے میں گویا ہوا…. عاشر سر ہلا کر رہ گیا….

الحان جلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوتا ٹیم سمیت جنوب کی جانب بڑھنے لگا….

”یہ لڑکیاں اتنی بےوقوف کیوں ہوتی ہیں…. پلک جھپکتے ہی گم ہو جاتی ہیں….“

بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہی پانی کی بوندیں ٹپ ٹپ برسنے لگیں….

”سر! بارش کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے…. مجھے لگتا ہے کہ ہمیں الگ الگ راستے پر جا کران میڈم کو ڈھونڈنا چاہیے…. اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ میڈم اس بارش سے بچنے کے لیے راستے میں موجود کیبنز میں سے کسی ایک کیبن میں لازمی پناہ لیے کھڑی ہوئی ہوں گی….“

الحان کی دائیں جانب والے ساتھی نے ہوا کی تیز رفتار اور بارش کے شور کا سینہ چیرتے ہوئے اونچی آواز میں چیخ کر کہا….

الحان سر ہلاتے ہوئے دور نظر آتے کیبنز کی جانب دیکھنے لگا…. Ranch میں جگہ جگہ پربہت سے کیبنز موجود تھے جو کہ خاص اسی موسم کے لیے بنائے گئے تھے…. یہاں کا موسم ایسا ہی تھا…. اچانک خراب ہو جایا کرتا تھا…. اور پھر یہ موسلادھارمینہ صبح تک جاری رہا کرتا تھا…. اور اگر کوئی اچانک اس موسم کا شکارہو جایا کرتا تو وہ راستے میںبنے کسی نزدیکی کیبن میں پناہ لے لیا کرتا…. خنک ہوا زور و شور سے آگے بڑھتی الحا ن کے چہرے سے ٹکرائے چلی جا رہی تھی….

”اوکے! تم سب لوگ اپنی اپنی راہ لو…. میں سامنے جاﺅں گا…. اور ہاں….اگر طوفان مزید بڑھ جائے تو تم لوگ کیبنز میں چلے جانااور طوفان رکنے تک وہیں پر رہنا…. میں مزید کسی قسم کے نقصان کی گنجائش ہرگز نہیں رکھتا….“

سب لوگ اثبات میں سر ہلاتے الگ الگ راستے پر چل نکلے…. الحان نے اپنا گھوڑا سامنے کی طرف دوڑانا شروع کیا…. بادلوں کی گھن گرج، ہوا کی سائیں سائیں، بارش کی تڑاپ شڑاپ کرتی آوازیں الحان کو مزید بے چین کیے دے رہی تھیں…. الحان کا سفید گھوڑا اپنی اگلی ٹانگوں کو فضا میں نیم دائرہ بنا رہا تھا…. اور اس قابلیت پر داد کا خواہاں تھا…. بارش کے فرش پر گھوڑے کی پُریقین ٹاپوں،بارش کے پانی میں پڑتے ہی ایک الگ قسم کی موسیقی پیدا کیے دے رہی تھی…. موسلادھار طوفانی بارش کی بنا پر اب الحان کو سامنے کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا…. سردی سے ٹھٹھرتا وہ اپنی آنکھوں سے بارش کی برسات صاف کرتا زیرلب بڑبڑانے لگا….

”آئی ہوپ کہ وہ ٹھیک ہو…. آئی ہوپ کہ اس نے کسی کیبن میں پناہ لے لی ہو….“

پریشانی چہرے پر سجائے وہ ایک بار پھر سے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگاتا دھیرے دھیرے آگے کی جانب بڑھنے لگا….

ض……..ض……..ض

”یااللہ! کہاں پھنس گئی میں….“

فل بارش میں بھیگی وہ سردی سے ٹھٹھرتی کیبن کی کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی…. تیز ہوا اور طوفانی بارش اس قدر تھی کہ اسے کچھ دکھائی نہ دیا…. اسی پل ایک درخت کی ٹہنی تیز ہوا سے اُڑتی اس کی کھڑکی سے آن ٹکرائی…. مانہ خوف سے چیختی لڑکھڑاتی ہوئی فرش پر جا گری…. اس کے بازو پر گہری چوٹ آئی تھی…. درد سے کراہتی وہ سی سی کرتی ایک بارپھر سے اٹھ کھڑی ہوئی…. چشمہ اُتار کر اس نے ادھر اُدھرنظر دوڑائی…. پاس ہی رسی پر اسے ایک ٹاول پڑا دکھائی دیا…. جلدی سے ٹاول اٹھاتی وہ چشمہ صاف کرتی ایک بار پھر سے چشمہ آنکھوں پر لگا کھڑی ہوئی…. اس نے پھر سے اردگرد نگاہ دوڑائی، پاس ہی ایک چھوا سا فائر پلیس دکھائی دیا…. بیڈ کے ساتھ ایک چھوٹا سا کیبنٹ بھی موجود تھا…. وہ جلدی سے چلتی فائرپلیس کے پاس گئی…. اس پر رکھی ماچس اٹھاتے ہی وہ سردی سے ٹھٹھرتے ہاتھوں سے ماچس جلانے کی ناکام کوشش کرنے لگی…. سردی اس قدر تھی کہ اس کے ہاتھ حرکت میں ہی نہ آ رہے تھے…. وہ جلدی سے کیبنٹ میں جھانکنے لگی…. کیبینٹ میں بہت سے کمبل ایک ساتھ رکھے دکھائی دئیے…. وہ جلدی سے آگے بڑھی…. کمبل اٹھاتے ہی وہ خود کو لپیٹنے کو تیار تھی کہ یکایک بارش اور ہوا کے فل زور و شور کے ساتھ دروازہ پورا کا پورا کھلتا، لکڑی کی دیوار سے جا ٹکرایا…. اس اچانک کی اُتادپر وہ خود کے مارے چیخ اٹھی…. اک لمحے کو اس کا سانس رُکتا محسوس ہوا…. دل کی دھڑکنیں F-16 کی سی تیزی سے دوڑتی محسوس ہوئی…. وہ پھٹی نگاہوں سے بنا پلکیں جھپکائے دروازے کی جانب تکے چلی گئی…. اسے لگا کہ شاید یہ اس کی آنکھوں کا دھوکہ ہے…. اس کے لب کپکپانے لگے….

”الحان؟“

اس کی آواز دور اندر سے کہیں اُبھری تھی….

الحان، سر سے پاﺅں تک بھیگا، بے تاب نگاہیں مانہ پر ٹکائے لمبی لمبی سانس کھینچ رہا تھا…. اس کے چہرے اور سر سے ٹپکتا پانی ٹپک ٹپک کر اس کے بھیگے کپڑوں میں جذب ہوتا چلا جا رہا تھا….

”مانو!“

اس نے سرگوشی میںاس کا نام پکارا…. دروازہ بند کرتا وہ تیزی سے چلتا اس کے قریب چلا آیا….

”اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے…. کہ تم بالکل ٹھیک ہو…. میں بہت ڈر گیا تھا مانو! کہ کہیں تم….“

وہ لمبی لمبی سانس کھینچتا اپنا سانس بحال کرنے لگا….

”کیا فضول حرکت ہے یہ؟…. کیا ضرورت تھی تمہیں اتنا دور چلے آنے کی؟“

اس کے تفکرانہ انداز پر مانہ سر جھکائے دھیرج سے گویا ہوئی….

”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ موسم اچانک سے خراب ہو جائے گا….“

”تم اتنی دور آئی ہی کیوں؟“

”مجھے نہیں پتا چلا….میں چلتے چلتے اتنی دور نکل آئی…. مجھے واپسی کا راستہ بھی یاد تھا…. میں واپسی کے لیے مڑی ہی تھی کہ موسم اچانک سے خراب ہو گیا…. اس سے پہلے کہ میں چوب محل واپس پہنچتی، اتنی تیز بارش شروع ہو گئی…. یہ تو شکر ہے کہ یہ کیبن یہاں پر موجود تھا….“

”جی ہاں…. شکرہے کہ یہ کیبن موجود تھا…. ورنہ آج آپ گئی تھیں…. اوپراللہ تعالیٰ کے پاس!“

الحان کے ٹونٹ پر وہ خاموش ہو کھڑی ہوئی…. نادم اندازمیں وہ اپنا سر جھکا کھڑی ہوئی…. اس نے دیکھا کہ الحان دو قدم پیچھے ہٹا تھا…. وہ متلاشی نگاہوں سے کیبنٹ میںجھانکتا دکھائی دیا….

”یہ مجھے ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک چلا آیا…. یعنی اسے ابھی بھی میری پرواہ ہے….“

اس کی جانب دیکھتی وہ دل ہی دل میںہمکلام ہوئی….

”نہیں….یہ اس کا ایریا ہے…. اور یہاں پر ہم سب اس کی ذمہ داری ہیں….اگر یہاں کچھ ہو جائے کسی کے ساتھ تو اس کا ذمہ دارالحان کو ٹھہرایا جا سکتا ہے…. ہاں….یہ صرف اپنے لیے آیا ہے یہاں….“

وہ من ہی من میں جنگ لڑنے لگی تھی….

”لیکن جو بھی ہو…. وہ آیا تو ہے…. مجھے الحان کو سوری بول دینا چاہیے….“

وہ اس کی جانب دیکھتی لب بھینچنے لگی….

”الحان!“

اس نے دھیرج سے اس کا نام پکارا…. الحان نے شاید سنا نہیں تبھی وہ کیبنٹ میں سے فوڈ کین اٹھائے کھڑکی کے پاس آ کھڑا ہوا….

”یہاں پر ہم لوگ زیادہ تر ڈرائی فروٹ اور یہ کین فوڈ ہی رکھتے ہیں…. یہ چیزیں دیرپا ٹھیک رہتی ہیں ناں…. اس لیے….“

وہ کین کھولنے میں مصروف تھا….

”الحان!“

اس بار اس نے تھوڑی اونچی آواز میںاسے پکارا….

”مانہ! تم اندر جا کر چینج کر لو…. یہاں کا موسم ایسے ہی اچانک خراب ہو جاتا ہے…. اسی لیے ہم نے یہاں کے تمام کیبنز میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کر رکھی ہے…. کہ کبھی کوئی اچانک اس طوفان میں پھنس جائے تو اسے زیادہ پرابلم نہ ہو….“

وہ اس کی پکار اَن سنی کرتا اپنی ہی ترنگ میں بولے چلا جا رہا تھا….

”مانہ؟ یعنی یہ ابھی بھی مجھ سے خفا ہے…. اس نے اکیلے میں کبھی بھی مجھے مانہ کہہ کر نہیں پکارا….“

وہ من ہی من میں بولتی ایک بار پھر سے اس کی جانب دیکھتی اسے مخاطب کرنے لگی….

”الحان! میں….“

”ہمیں آگ جلا لینی چاہیے….“

وہ اس کی بات کاٹتا اپنے آپ کو مصروف ظاہر کرنے لگا….

”تم اندر جا کر چینج کرلو…. اور ان کپڑوں کو وہیں پرٹانگ دو…. سوکھ جائیں گے تو واپس یہی پہن لینا….“

اک ٹیس سی اٹھی اور اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ سی گئیں…. وہ اسے پھر سے اگنور کر رہا تھا…. حلق میں اٹکا گولا اسے مسلسل اذیت دئیے چلا جا رہا تھا…. اس کی ناک سردی سے سرخ ٹماٹر ہو چلی تھی…. وہ دھیرے دھیرے چلتی کیبنٹ کے پاس چلی آئی…. وہاںایک ٹوکری رکھی تھی…. مانہ نے کانپتے کمزور ہاتھوں سے وہ ٹوکری اپنی جانب کھینچی…. ٹوکری میں بہت سے کپڑے رکھے دکھائی دئیے مگر وہ سب کے سب مردانہ کپڑے تھے…. اس نے اس پل ان کپڑوں کو بھی مال غنیمت سمجھا…. وہ ایک جوڑا اٹھاتی اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہو گئی…. الحان پلٹ کر بند دروازے کی جانب دیکھنے لگا….

”مجھے معلوم ہے…. یہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے…. مگر کیا؟…. اگر یہ سوری بولنا چاہتی ہے…. تو یقینا مجھے خوشی ہو گی کہ اسے آخرکار میرا احساس ہوا، مجھ پر اعتبار ہوا…. اور اگر یہ پھر سے واپس اپنے گھر جانے کی رَٹ لگانا چاہتی ہے…. تو میںاس سے کیا کہوں؟ سوری بولے…. تو بھی کیا کہوں؟…. میں اس سے بات ہی نہیں کروں گا…. بس!“

وہ دل ہی دل میں فیصلہ کرتاماچس اٹھا کھڑاہوا….

جیسے ہی وہ آگ جلا کر فارغ ہوا، مانہ کھلے ڈھلے کپڑوں میں ملبوس، ٹاول سے اپنے بال خشک کرتی اس چھوٹے کمرے سے باہر نکل آئی…. الحان نے اس کی جانب دیکھنا ضروری نہ سمجھا تھا…. اس کے نکلتے ہی وہ تیزی سے چلتا اندر داخل ہو گیا…. دروازہ بند ہوتے ہی مانہ، پاس رکھے بیڈ پر بیٹھتی بال خشک کرتی بند دروازے کی جانب دیکھنے لگی…. جب بال اچھی طرح سے خشک کر چکی تو تولیہ وہیں بیڈ پر رکھتی وہ کین اٹھاتی اسے کھولنے کی ناکام کوشش کرنے لگی…. اسی پل الحان بھی چینج کیے اس چھوٹے کمرے سے باہر نکل آیا…. مانہ کو کین کے ساتھ زورآزمائی کرتے دیکھ کر وہ آگے بڑھا…. اس کے ہاتھوں سے کین کھینچتا وہ متانت بھرے لہجے میں گویا ہوا….

”تم سے نہیں ہو گا یہ…. تم وہاں جا کر بیٹھو آرام سے…. میں کھول کر دیتا ہوں تمہیں….“

”الحان!“

”میں نے کہا ناں کہ وہاں جا کر بیٹھو….“

وہ بنا اس کی جانب دیکھے مصروف انداز میں گویا ہوا…. مانہ خاموشی سے اس کی جانب دیکھتی رہی…. پھر رندھی آواز سے گویا ہوئی….

”الحان! سٹاپ اِٹ…. میں آپ سے بات کرنا چاہ رہی ہوں اور آپ….“

آنسوﺅں کا گولا اس کے حلق میںآن اٹکا…. اس کی آواز کانپ رہی تھی….

”کیا بات کرنا چاہتی ہو؟“

اس نے بنا پلٹے پوچھا…. لہجہ بالکل سپاٹ تھا….

”کیا آپ میری طرف دیکھ کر بات نہیں کر سکتے ہیں؟“

اس نے پوچھا….

”جو کہنا ہے…. کہو…. میں سن رہا ہوں….“

مانہ خاموش ہو رہی…. کافی دیر وہ خاموش کھڑی اس کے پلٹنے کا انتظار کرتی رہی…. الحان سے وہ کین کھل نہیں رہا تھا…. وہ مسلسل اس کین کو کھولنے کی کوشش میںلگا رہا….

”آئی ایم سوری…. میں نے آپ کو غلط سمجھا…. آپ پر شک کیا…. آپ پر اعتبار نہیں کیا…. اس سب کے لیے آئی ایم رئیلی ویری سوری!“

وہ دھیمے سے گویا ہوئی…. تمام بات کہتے ہی وہ اپنی سانس روک کھڑی ہوئی…. اگلے ہی پل الحان نے کین کی مصروفیت چھوڑ، ایک لمبی سانس کھینچی…. وہ آہستگی سے پلٹا….

”تھینک گاڈ…. کہ تم نے کہہ دیا….“

”کیا؟“

وہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”میں تو ڈر رہا تھا…. کہ کہیں تم پھر سے ایلیمنیٹ کی رَٹ لگا کر اپنے گھر واپس جانے کی ضد نہ کرنے لگو….“

”میں نے سوری بولا ہے الحان!“

”میں نے بھی تمہیں معاف کیا مانو!“

وہ دو قدم آگے بڑھا….

”میں چاہتا تھا کہ تمہیں احساس ہو…. کہ جو کچھ بھی تم میرے ساتھ کر رہی ہو…. وہ بہت غلط ہے…. میں چاہتا تھا کہ تم سوری بولو…. اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں مانو! کہ میں زندگی بھر تمہارا مجھ پر ٹرسٹ کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا…. آئی پرامس!“

وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوا…. مانہ اثبات میں سر ہلاتی رہ گئی….

”مجھے بھوک لگی ہے….“

وہ بات بدلتی، فائرپلیس کے پاس جا بیٹھی…. الحان بھی دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کے سامنے، فائرپلیس کے پاس جا بیٹھا….

”سردی ہڈیوں میں اُتر چکی ہے…. ہاتھ کام ہی نہیں کر رہے….“

وہ کین کھولنے کی کوشش میں مصروف رہا…. مانہ نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر دوڑائی اور پھر ہاتھ آگے بڑھا کرہاتھ سیکنے لگی….

”کچھ باتیں زبان تک نہیں آتیں…. اور کچھ کان سن نہیں پاتے…. اور حقیقت میں وہی باتیں بہت اہم ہوتی ہیں….“

کین کھولتے ہی وہ کین اس کی جانب بڑھاتا بے حد دھیمے لہجے میں گویا ہوا…. مانہ کین تھامتی، حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”مطلب؟“

”مطلب کہ آپ مصنفہ ہیں….اور میں نے سنا ہے کہ لکھاری لوگ تو خاموشی کی خاموشی کو بھی بہت باریک بینی سے جانچ لیا کرتے ہیں!“

وہ چمکتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا…. مانہ اس سے نظریں نہ ملا پائی…. نہ سمجھی کا اظہار کرتی، کین میں سے (مسک۔ نٹس) نکال کرکھانے لگی….

”اگر کان لگا کر اپنے دل کی گہرائیوں سے سن سکو…. تو تمہیں میری باتوں پریقین آ جائے….“

”مجھے آپ پر یقین ہے الحان!“

”تھینک یو!“

وہ ٹکٹکی باندھے اسکی جانب دیکھنے لگا…. مانہ اس کی نظروں کی تپش کی تاب نہ لاتی سر جھکا بیٹھی….

”آپ ایسے نہیں دیکھیں مجھے پلیز…. مجھے آپ کی نظروں سے خوف آتا ہے….“

وہ نظریں جھکائے بولی…. الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا….

”اتنا ڈراﺅنا تو نہیں ہوں یار!“

”کچھ زیادہ ہی خوفناک ہیں….“

مانہ بھی دھیمے سے مسکرا دی….

”اُف یہ مسکراہٹ….“

الحان لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

”کتنا بے چین تھا یہ مسکراہٹ دیکھنے کو….“

”ایک نمبر کے ڈرامے باز ہیں آپ….“

”ہرگز نہیں…. آپ بس ہمارے دل کی باتیں نہیں سمجھتیں….“

وہ ایک انداز سے بولا….

”اچھا خیر!…. مسکان کے ساتھ ڈیٹ کیسی رہی؟….“

وہ پوچھ رہی تھی…. الحان یکایک چونک اٹھا….

”ارے ہاں…. یادآیا…. میں نے فیصلہ کیا ہے…. کہ اس بار کی ایلیمنیشن میں، میں مسکان کو ایلیمنیٹ کرنے والا ہوں….“

”کیوں؟“

مانہ کو اچنبھا ہوا…. وہ پھٹی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”تمہیں معلوم ہے کہ وہ لڑکی تم سے کتنی نفرت کرتی ہے….“

الحان ایمانداری سے بولا….

”مانو! تم یقین نہیں کرو گی کہ اس نے تمہارے خلاف کیا کیا بولا ہے…. میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا نہ ہی ہرٹ ہوتے دیکھ سکتا ہوں…. اس لیے بتا رہا ہوں کہ اس لڑکی سے دور رہو….“

”مسکان؟…. نہیں…. وہ ایسا نہیں کر سکتی….“

مانہ پر سکتے نے وار کیا….

”وہ تم سے، تمہاری قابلیت سے، تمہاری کامیابی سے نفرت کرتی ہے مانو!…. جب تک وہ اس شو میں موجود ہے…. اس سے بچ کر رہنا…. اس سے دور رہنا…. پلیز….“

مانہ عالم اضطراب میں لب کاٹنے لگی…. الحان خاموش ہو رہا….

”میں یقین نہیں کر پا رہی….“

وہ بہت ہرٹ دکھائی دے رہی تھی…. الحان اٹھ کر اس کے نزدیک جابیٹھا….

”جس پر تمہیں یقین کرنا چاہیے…. اس پر تم یقین نہیں کرتیں…. اور جس پر نہیں کرنا چاہیے…. اس پر اندھا یقین رکھتی ہو….“

مانہ نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھنے لگی…. اس کی آنکھیں نم تھیں…. الحان نے دونوں ہاتھ بڑھا کر اس کے گالوں پراٹکے آنسوﺅں کو صاف کیا تھا…. وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”ایسا نہیں کرو…. تمہیں ہرٹ دیکھ کر میرا دل دکھتا ہے….“

آنسو پونچھتے ہی وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا….

”اور یہ آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں…. میں ان آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا….“

اتنا سننا تھا کہ اس کے آنسو فل بند توڑ کر تواتر سے بہہ نکلے…. الحان بُری طرح سے گھبرا گیا….

”ارے…. شش…. ڈونٹ کرائے…. پلیز سٹاپ کرائینگ….“

وہ اس کے شلوڈر پر سر رکھے دل کھول کر رو دی…. الحان اس صورتحال سے پریشان ہو بیٹھا تھا…. اس کے آنسوﺅں سے اس کا شولڈر بھیگ بھیگ سا گیا…. وہ کافی دیر روتی رہی…. نجانے کتنے عرصہ کا دکھ آج وہ آنسوﺅں کی صورت بہائے چلی جا رہی تھی…. الحان ہلکے سے اس کا سر سہلانے لگا…. جب وہ رو رو کر تھک چکی تو ہوش میں آتے ہی جھٹکے سے سیدھی ہو بیٹھی…. اس کی آنکھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں…. وہ سوں سوں کرتی اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی….

”آئی ایم سوری!“

وہ رندھی آوازمیں گویا ہوئی….

الحان خاموشی سے اس کی جانب دیکھتا رہا…. پھر ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ اس کے کان کے پیچھے اڑستا دھیمی آواز میں گویا ہوا….

”آج تمہیں جتنارونا تھا تم رو چکیں…. آج کے بعد…. میں تمہاری آنکھوںمیں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا…. پرامس می کہ تم آج کے بعد کبھی نہیں روﺅ گی….“

”یہ آنسو تو زندگی کا حصہ ہیں الحان!…. زندگی بھر کے ساتھی…. جب کوئی نہیں ہوتا…. تب یہی تو ہوتے ہیں ہمارے ساتھ…. زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کے لیے….“

ٹپ ٹپ برستے انسوﺅں کے ساتھ وہ رندھی آواز میں گویا ہوئی….

”کیوں نہیں ہے کوئی…. میں ہوں تمہارے ساتھ…. زندگی بھر کے لیے…. اگر تم اجازت دو تو….“

الحان سرگوشی میں گویا ہوا…. مانہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان بول رہا تھا….

”میری عام سی زندگی میں بہت خاص ہو گئی ہو تم…. ایک دم اچانک سے…. مجھے کان و کان خبر تک نہیں ہوئی…. اور تم دبے قدموں میرے دل کی گہرائیوں میں اُترتی چلی گئیں…. میں نے بہت کوشش کی کہ تمہیں نہ سوچوں…. لیکن…. میں ہار گیا اس دل سے….“

مانہ بے یقینی کے عالم میں الحان کی جانب تکے چلی جا رہی تھی…. اسے لگا شاید وہ کسی حسین خواب میں گم ہے جو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جایا کرتا ہے….

الحان کی انگلیاں اس کے گالوں پر تھرکنے لگیں….

”میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں مانو!…. پلیز مجھے غلط مت سمجھنا….“

وہ رُک رُک کر بولا…. شاید اسے مانہ کے روٹھ جانے کا ڈر تھا….مانہ ہنوز بے یقینی کے عالم میں براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی…. الحان نے کچھ کہنے کو لب کھولے…. پھر رُکا…. کچھ سوچنے لگا…. خشک ہوتے لبوں کو تر کرتا وہ ایک بار پھر سے براہ راست اس کی آنکھوںمیں جھانکنے لگا….

"I love you!!…..”

اس نے سرگوشی کی…. اک سرد سی لہر مانہ کے پورے جسم میں دوڑتی چلی گئی…. وہ ساکت بیٹھی، بے یقینی کے عالم میں براہِ راست اس کی آنکھوںمیں جھانک رہی تھی….

”اور یہ بات میں پورے ہوش و حواس میں تم سے کہہ رہا ہوں….

”مانو!…. "I’m in love with you

حیران کن نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی، وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی، تیزی سے اٹھتی، کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی….

”مانو!“

الحان بھی اسی تیزی سے اٹھتا اس کے پیچھے چلا آیا….

”آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“

اس نے غصے کا اظہار کیا….

”ہاں…. جانتا ہوں….بہت اچھے سے جانتا ہوں…. کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں…. جو مجھے معلوم نہ ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں….“

الحان نے اپنی وکالت کی….مانہ اب کے براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگی….

”جب سے ہم ملے ہیں…. تب سے آپ چھوٹے بچوں کی طرح ہی بی ہیو کر رہے ہیں….“

وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی…. الحان لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

”تو انسان بچوں جیسی حرکتیں کس کے سامنے کرتا ہے؟…. اسی سے ناں…. جسے وہ پسند کرتا ہے…. جس سے وہ محبت کرتا ہے…. رائٹ؟“

مانہ لاجواب ہو کھڑی ہوئی…. الحان اب کے دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”تمہیں ابھی بھی مجھ پر یقین نہیں مانو؟“

وہ پوچھ رہا تھا…. مانہ نظروں کا زاویہ پھیرے کھڑکی سے باہر برستی بارش کو دیکھنے لگی….

”مجھے بتاﺅ…. کہ میں کیسے ثابت کروں کہ میں واقعی تم سے محبت کرنے لگا ہوں؟….“

وہ التجا کرنے لگا….

”اب سے پہلے کتنی لڑکیوں کو بول چکے ہیں یہ سب کچھ؟“

وہ ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی….

”صرف تمہی سے کہہ رہا ہوں، مانو! ٹرسٹ می!“

مانہ معنی خیز نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی…. الحان چند ثانیے خاموش کھڑا رہا…. پھر بولا….

”میں دل و جان سے قبول کرتا ہوں…. اپنی وہ تمام غلطیاں جو میں پاسٹ میں دہرا چکا ہوں مانو!…. میں مانتا ہوں کہ میرے بہت سے افیئرز رہ چکے ہیں…. بٹ ٹرسٹ می…. جو میں تمہارے لیے فیل کرتا ہوں…. ایسا میں نے کبھی کسی کے لیے فِیل نہیں کیا…. نیور…. یہ پہلی اور آخری بار ہے…. پلیز مجھ پر یقین رکھو…. میں تمہارایقین ٹوٹنے نہیں دوں گا….“

اس کے لہجے، اس کے انداز بیان میں سچائی تھی…. مانہ نے محسوس کیا…. وہ اس کی جانب دیکھنے لگی…. پھر دھیمے سے گویا ہوئی….

”میں فی الحال اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی الحان!“

”تمہیں وقت درکار ہے؟…. جتنا مرضی وقت لو…. بس ایک بار بول دو…. کہ تمہیں مجھ پر یقین ہے….“

وہ پھر سے التجا کرنے لگا….

”الحان! ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے…. مجھے نیند آ رہی ہے…. گڈ نائٹ….“

وہ جانے لگی…. الحان نے جلدی سے اس کے بازو پکڑ کر اسے جانے سے روک لیا….

”کیا چاہتی ہو تم؟…. کیسے ثابت کروں اپنی محبت؟…. اگر تم چاہتی ہوکہ میں ان تمام لڑکیوں کو ایلیمنیٹ کر دوں…. تو میں کر دوں گا…. ٹرسٹ می!“

”میں ایسا کچھ نہیں چاہتی الحان!…. آپ کے اور میرے راستے الگ ہیں…. ایسا کچھ نہیں ہو سکتا…. جیسا آپ چاہتے ہیں….“

”کیوں نہیں ہو سکتا…. کیا پرابلم ہے؟“

وہ پوچھنے لگا….

”کیونکہ….“

وہ چند ثانیے خاموش رہی…. پھر سے بولی….

”آپ بہت اونچے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں…. اور میں…. آپ میں اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے…. اور ویسے بھی…. آپ کے طبقے کے لوگ…. ریلیشن شپ اس طرح سے بدلتے ہیں…. جیسے ایک سے دو بار پہنے گئے پرانے کپڑے…. آئی ایم سوری…. میں آپ کے ساتھ اس راہ پر ہرگزنہیں چلوں گی…. جس کا انجام مجھے پہلے سے معلوم ہے….“

وہ نم بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”ایسا کچھ نہیں ہو گا مانو! ایک بارمجھ پر ٹرسٹ کر کے تو دیکھو…. میں….میں…. “

”الحان! میں فی الحال آپ پر ٹرسٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں…. پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ….“

”یُو نو واٹ…. تمہیں مجھ پر ٹرسٹ ہے…. اور تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے…. میں تمہاری آنکھوں میں دیکھ سکتا ہوں…. تمہاری آنکھوں میں صاف صاف لکھا ہے کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو….“

الحان نے سرگوشی کی….

”ناممکن….“

اس نے ایک جھٹکے سے اپنے بازو چھڑائے….

”ہم ایک دوسرے کو جانتے ہی کتنا ہیں…. زیادہ سے زیادہ ایک، ڈیڑھ مہینے سے…. بس؟…. یہ بہت کم عرصہ ہوتا ہے کسی کو جانچنے، پرکھنے کے لیے…. اور آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اس ڈیڑھ مہینے میں مجھ سے محبت ہ گئی ہے؟….“

الحان خاموشی سے اس کی جانب دیکھتا رہا…. پھر فیصلہ کن انداز میںبولا….

”ٹھیک ہے…. تمہاری یہی مرضی ہے تو یہی سہی…. میں اس شو کے اینڈ میں…. کسی لڑکی کو سلیکٹ نہیں کروں گا…. تم یہ شو چھوڑ کر چلی جاﺅ گی…. تب بھی میں تمہارے ہی پاس آﺅں گا…. اس شو سے الگ…. تمہیں لگتا ہے کہ میں یہ سب اس شو کی خاطر کر رہا ہوں؟…. نہیں…. میری محبت میری فیلنگز صرف میں محسوس کرتا ہوں…. اور میں تمہیں ثابت کر کے دکھاﺅں گا…. کہ میری محبت، میری فیلنگز تمہارے لیے کس قدر سچی اور پائیدار ہیں…. میں تمہارے دل میں اپنے لیے، اپنے نام کی محبت کی لَو، تمہاری آنکھوں کے ذریعے بھانپ سکتا ہوں…. صرف تمہارے لبوں سے اقرار کا منتظر ہوں…. اور اس اقرار کے لیے…. تمہارے دئیے گئے ہر امتحان سے لڑ جاﺅں گا…. یہ میرا تم سے وعدہ ہے…. گڈ نائٹ!“

وہ ٹھوس لہجے میں بولتا، الٹے قدموں چلتا، واپس آتش دان کے پاس جا بیٹھا…. مانہ تفکر بھرے انداز میں اسے دیکھتی، پاس رکھے بیڈ کی جانب بڑھنے لگی…. وہ بیڈ پر لیٹی، لحاف اوڑھتی، کھڑکی کے باہر برستی بارش پر نگاہیں جماتی نجانے کہاں کہاں کی سوچوں میں غلطاں تھی….

”جس انسان کے دل میں روشنی نہ ہو…. وہ چراغوں کے میلے سے کیا حاصل کر سکتا ہے بھلا؟….“

من ہی من میں ہمکلام ہوتی وہ لب بھینچنے لگی….

”الحان مجھے نہیں جانتے…. وہ صرف…. میری زندگی کے صرف ایک پہلو سے واقف ہیں…. میرا پاسٹ کیا ہے…. وہ یہ نہیں جانتے…. اور اگر جان جائیں…. تو شاید میری طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کریں….“

آنسو کے دو قطرے لڑھکتے ہوئے تکیے میں جذب ہو گئے….

”میں اتنا اونچا خواب نہیں دیکھ سکتی…. میں اتنی اونچی اُڑان نہیں اُڑ سکتی…. میرے پَر بہت کمزور ہیں…. میں اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی….“

من ہی من میں ہمکلام ہوتی وہ نجانے کتنی دیر تک خود سے لڑتی رہی، جب لڑ لڑ کر تھک چکی تو نیند نے اپنا وار کیا…. کھڑکی سے باہر برستی بارش کو اپنی نظروں کا محور بنائے وہ دھیرے دھیرے آنکھیں موندے،نیند کی آغوش میں کھو سی گئی….

ض……..ض……..ض

ایک بن تھا مہیب، جس کے درخت تھے عجیب…. جس کے پتوں سے اٹھتا تھا دھواں عجیب…. دھویں سے جب سورج کی کرنیں گزرتی تھیں تو گم گم ہو جاتیں…. ٹیڑھی ہو ہو جاتیں…. دھویں سے گزر کر فضا کو سنوارتیں…. سنوارتی ہوئی فرش پر دھیمے دھیمے، دھیرے دھیرے…. قدم رکھتی ہوئی اُتر آتیں…. شاید ڈرتی تھیں کہ بن جاگ نہ جائے…. دھویں، سنورتی ہوئی فضا، موتیوں سے دمکتے ہوئے مخملی فرش کے درمیان، ٹیڑھی میڑھی، گم ہوتی، پھر ہویدا ہوتی ہوئی گلیوں کا جال دور تک بچھتا چلا گیا تھا…. ان گلیوں میں کوئی چلتا پھرتانظر نہ آتا تھا…. گلہری بھی تو کہیں نہیں تھی…. اس سنسان بن میں ایک ہلکی ہلکی مہک سستا رہی تھی…. جانے کہاں سے آتی تھی…. کتنی دور سے آئی تھی…. دور کہاں جانے والی تھی…. درختوں پر ہانے رنگوں کے پھل جانے کس کے انتظار میں سو رہے تھے…. کبھی کبھی گلیوں پر کسی اُڑتے ہوئے پرندے کا سایہ چپکے سے گزر جاتا…. اس بن میں سایوں سے بچتی مہکتی ہوئی ایک نازک سی لڑکی، لہک لہک کر مٹک مٹک کر قدم اٹھاتی چلی جا رہی تھی…. کبھی اس درخت سے کبھی اس درخت سے سرگوشیاں کرتی…. پھراپنے ہی آپ مسکراتی، زیرلب گنگناتی ہوئی رُک جاتی…. کچھ سوچتی اور پھر آگے بڑھ جاتی…. اس کی بانہوں میں کانچ کی رنگ برنگی چوڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ کولہے سے کولہا ملائے کسی سہانے خواب میں مست سو رہی تھیں…. اس کے دائیں ہاتھ میں ایک وائلن تھا…. جب وہ ہاتھ اٹھاکر وائلن کو دیکھتی تو اس کی چوڑیاں خواب سے چونک چونک اٹھتیں…. اور بن کی کسی سنسا ن گلی میں ایک لمحے کے لیے ایک شور اٹھتا اور گم ہو جاتا….

کبھی کبھی وہ وائلن کو غور، مسرت سے، ڈر سے دیکھتی اور اپنے سانس کی رفتار کو بہت ہی سست کر دیتی…. شاید وائلن کی اصلی دھن ابھی اپنے سفر سے نہ لوٹی تھی…. یہ سوچ کر اس کے ہاتھ، چوڑیوں کو جھنجھناتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ لپٹ جاتے اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی ایک گلی سے دوسری گلی میں داخل ہو جاتی…. پیچھے مُڑ کر دیکھتی…. پھر کچھ دیر چل لینے کے بعد مُڑتی کہ شاید اس کے پیچھے کوئی حسین شہزادہ نہ آ رہا ہو…. اور ایک لمبا گہرا سانس لیتی اور اس کے قدم رُک رُک جاتے…. اس کا اگلا قدم گلی کے فرش پر پوری طرح سے جم جاتا…. اس کا پچھلا قدم آدھا فرش پر اور ایڑی فضا میں معلق ہو جاتی…. اس کی معلق ایڑی میں ریشمی دھاگوں میں بندھی شلوار کے تنگ تنگ پائنچوں میں گٹھی ہوئی پائل چمکتی ہوئی صاف صاف دکھائی دیتی…. وہ اس طرح دھندلائی، دمکتی ہوئی گلیوں میں گزرتی ہوئی ایک صحن میں بالکل بے دھیانی سے چلی آئی…. اور فضا کی عریانی سے چونک اٹھی…. اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی…. اس کی نظر درختوں کی دیوار سے ٹکرا کر اوپر کی طرف اٹھی…. اٹھتی گئی…. درخت لمبے ہوتے گئے…. دھندلا دھندلا، نیلا نیلا آسمان اونچا ہوتا گیا…. اس کی نظر تھک گئی…. اور پھر ایک دم سے صحن کے فرش پر آ رہی…. وہ بُری طرح گھبرا گئی…. اس کے سرخ شفاف ماتھے پر پسینے کی بوندیں اُبھر آئی تھیں…. اس کے گھبرائے ہوئے، پسینے سے نہائے ہوئے چہرے پر کسی یاد سے ایک نور سا چھا گیا…. اس کے ہاتھوں میں جنبش سی ہوئی…. ہاتھ اوپر کو اٹھے…. دونوں ہاتھوں میں وائلن تھامے وہ ایک دھن چھیڑ بیٹھی…. ایک میٹھی سی، مدُھر سی، دل موہ لینے والی دھن…. اس دھن میں ایک درد چھپاتھا…. ایک میٹھا سا درد…. جو سننے والے کو اپنی طرف کھینچ کر لے آتا تھا…. اس کی لَے اونچی ہوتی رہی…. اس نے وائلن بجاتے بجاتے کن اکھیوں سے دیکھا…. درخت اب بونے ہو رہے تھے…. اور ان کی دیواروں میں درزیں پیدا ہونے لگی تھیں…. درزیں، دروازے بن رہے تھے…. جو گلیوں میں کھلتے تھے…. وائلن کی دھن سے بن جاگ اٹھا…. فضا کانپنے لگی…. آسمان لرزنے لگا…. ان کی مدد کے لیے بادل اور برق اٹھ دوڑے…. بادل گرجنے لگے…. برق چمکنے لگی….درخت ڈرنے لگے…. اس افراتفری کو دیکھ کر اس لڑکی نے بھاگنا شروع کیا…. وہ گلیوں میں گم ہوتی، نکلتی ہوئی شاہراہ پر آ نکلی…. جہاں سے دور عین سامنے کی طرف برق کی روشنی میں آسمان صاف نظر آ رہا تھا…. بھاگتے بھاگتے کبھی رُک جاتی، مُڑ کر دیکھتی، اوپر کی طرف تکتی اور وائلن کی دھن ایک بار پھر سے چھیڑ دیتی…. اس کی دھن سے فضا، بن، آسمان، بادل، بجلی ایک بار پھر تلملا اٹھتے، چیختے، دھاڑتے، آنکھیں دکھاتے…. وہ پھر بھاگتی…. اب وہ بن کو پار کرنے ہی والی تھی کہ بادل اس زور سے گرجا کہ اس کا دل دہل گیا…. اس کے قدم زمین نے پکڑ لیے…. پھر بجلی کوندی…. اس کی چمک اتنی روشن تھی کہ اس کے سامنے پھیلتے ہوئے منظر کی ایک ایک تفصیل اس پر وا ہو گئی…. بن کے پار ایک وسیع میدان تھا…. اس بن اور میدان کے درمیان نیچی سطح پر دریا بہہ رہا تھا…. دریا کے عین وسط میں ایک ناﺅ تھی…. اس ناﺅ میں ایک نوجوان تھا…. نوجوان زور زور سے ناﺅ کھینچتا، بن کے دہانے کی طرف بڑھ رہا تھا…. اس کی آس بندھی…. اس کا ڈر کم ہوا…. وہ تیز تیز قدم اٹھاتی دریا کی طرف بڑھی…. وہ دریا کے قریب ہوتی گئی…. اب وہ پانی میں گرتے ہوئے، پانی سے اٹھتے ہوئے چپوﺅں کی آواز صاف صاف سن رہی تھی…. دریا کی طرف سے آتی ہوا میں ایک تندی تھی….اس تند ہوا میں اس کا قدم اٹھانا محال ہو گیا…. مگر وہ دریا کے کنارے کی طرف بڑھتی رہی…. جب اس کے قدموں نے دریا کے کناروں کو چھوا تو بجلی بہت زور سے کڑکی اور کڑکتے ہوئے فضا کو چیرتی، شعلہ دکھاتی ہوئی دریا کی طرف اس ناﺅ کی طرف گرنے لگی…. اس کا دل مسوس گیا…. اور اس کے دل سے ایک ہوک اٹھی…. اور چیخ بنی…. اس کے کانوں نے چیخ سنی…. اور اس کی آنکھوںنے نوجوان کے چہرے کو بجلی کی سرخ سرخ روشنی میں دیکھا…. مانہ نے اس سرخ سرخ روشنی میں اس نوجوان اور نازک لڑکی کو پہچان لیا…. وہ لڑکی مانہ خود تھی…. اور نوجوان جس کی طرف بجلی لپکی چلی آ رہی تھی…. الحان تھا…. اس احساس کے شور نے اس کے جسم میں ایک لرزا پیدا کر دیا…. وہ چیختی ہوئی خواب سے چونک پڑی…. اس کی چیخ کو سن کر آتش دان کے قریب سویا الحان ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا…. اس نے مانہ کی جانب دیکھا…. وہ خوف سے کانپ رہی تھی…. وہ اس کی جانب دوڑا…. مانہ کا چہرہ پسینے میں شرابور تھا…. اس کے ہونٹوں پر ایک ہی فقرہ رقص کر رہاتھا…. وہ کانپ رہی تھی….

”الحان پر بجلی گری…. الحان پر بجلی گری!“

الحان ہڑبڑاہٹ میں اسے تھامتے ہوئے بولا….

”مانو!…. کیا ہوا…. کوئی ڈراﺅنا خواب دیکھا؟“

مانہ نے کوئی جواب نہ دیا…. اس کے حواس ابھی درست نہ ہوئے تھے…. وہ بار بار اپنا فقرہ غیرشعوری طور پر مجبوری کے تحت دہراتی جاتی تھی….

”الحان پر بجلی گری…. الحان پر بجلی گری….!“

الحان کے شعور نے اب فقرہ قبول کر لیا…. وہ تحمل سے گویا ہوا….

”مانو! میں بالکل ٹھیک ہوں…. دیکھو تمہارے سامنے موجود ہوں…. مجھے کچھ نہیں ہوا…. مجھ پر کوئی بجلی نہیں گری…. تم نے کوئی بُرا خواب دیکھا ہے…. ہوش میں آﺅ….“

الحان اس کے لیے پانی لے کر آیا…. پانی کے دو گھونٹ پیتے ہی وہ حواس میں واپس آنے لگی…. لمبے لمبے سانس کھینچنے لگی….

”تم ٹھیک ہو؟“

وہ بغور اس کی جانب دیکھتا پوچھ رہا تھا…. مانہ اثبات میں سر ہلانے لگی…. الحان نے لمبی سانس کھینچی….

بارش تھم چکی تھی…. کھڑکی کے شیڈ سے گرتی پانی کی بوندیں زمین کو سلام کرتے ہی، خاموشی کا زور توڑتیں ایک الگ دھن چھیڑے دے رہی تھیں…. الحان نے کھڑکی کے باہر نگاہ دوڑائی…. ہلکی پھلکی بوندا باندی ابھی بھی جاری تھی….

”شکر ہے کہ طوفان تھم گیا…. میں باہر جا کر جائزہ لے کر آتا ہوں۔“

وہ اٹھا اور باہر جاتے دروازے کی جانب بڑھ گیا…. دروازہ کھلتے ہی سرد ہوا کے جھونکوں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا…. وہ سی کرتا، سرد ہوا سے ٹھٹھرتا باہر نکل گیا…. مانہ کھڑکی پر نگاہ دوڑاتی، بیڈ سے نیچے اُتری…. اس چھوٹے کمرے میں جاتے ہی اس نے اپنے اور الحان کے کپڑوں کو ہاتھ لگا کر جائزہ لیا…. کپڑوں میں نمی ابھی بھی باقی تھی…. وہ کچھ سوچنے لگی…. اردگرد نگاہ دوڑائی…. پاس ہی اسے ایک سٹیل کا ڈونگا رکھا دکھائی دیا…. شاید وہ پانی پینے کے استعمال کے لیے تھا…. مانہ نے جلدی سے وہ ڈونگا اٹھایا…. دوسرے ہاتھ میں اپنے اور الحان کے کپڑے دبوچتی وہ آتش دان کے پاس چلی آئی…. ایک لحاف کھینچ کر اس نے فرش پر بچھا دیا…. الحان کی شرٹ اس لحاف پر سیدھی رکھتی، وہ اب ڈونگے کو اپنی شال کی مدد سے پکڑتی، آتش دان میں بھڑکتی آگ پر سیکنے لگی…. جب ڈونگا اچھے سے گرم ہو گیا، تو ڈونگے کو الحان کی شرٹ پر پھیرتی وہ شرٹ کی نمی دور کرنے لگی….

الحان باہر شیڈ تلے بندھے اپنے گھوڑے کی پیٹھ سہلاتا دور دور نظر دوڑا رہا تھا…. دور دور تک کسی مددگار کا نام و نشاں تک دکھائی نہ دیتا تھا…. گھوڑا اپنی دم ہلاتا الحان ہی کی جانب دیکھ رہا تھا…. الحان اس کی پیشانی سہلاتا، واپس اندر چلا آیا…. دروازہ بند کرتے ہی اس نے ڈونگے کی مدد کے ذریعے کپڑے آئرن کرتی مانہ پر نگاہ دوڑائی…. اسے تعجب ہوا…. وہ اشتیاق بھری نگاہوں سے اس کی حرکات نوٹ کرتا، اس کے سامنے جا بیٹھا….

”یہ کیا کر رہی ہو؟“

وہ اشتیاق سے پوچھنے لگا….

”کپڑوں میں ابھی بھی نمی باقی تھی…. سوچا آئرن کر لوں…. تاکہ کپڑے پہننے کے قابل ہو جائیں….“

وہ مصروف انداز میں بولی…. الحان مسکرا دیا….

”گریٹ…. آئرن؟…. یہ کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا ہے تم نے کپڑے آئرن کرنے کا؟“

مانہ نے اس پر نگاہ دوڑائی، پھر کپڑے آئرن کرتی مصروف انداز میں گویا ہوئی….

”پرانے زمانے میں…. میرا مطلب کہ پہلے کے زمانے میں لوگ اسی طرح سے کپڑے آئرن کیا کرتے تھے….“

”کتنی پرانی عورت ہو تم؟“

وہ اپنے مخصوص انداز میں قہقہہ لگانے لگا…. مانہ نے ایک خفا سی نگاہ اس پر دوڑائی….

”میری نانی ماں نے بتایا تھا….“

وہ اس کی خفگی نوٹ کرتا، اپنی ہنسی روکتا، سیدھے ہو بیٹھا….

”اوکے…. آپ کی نانی ماں نے بتایا…. گڈ…. گڈ آئیڈیا…. اور کیا کیا بتایا آپ کی نانی ماں نے؟“

وہ ہنوز اشتیاق سے پوچھنے لگا….

”مذاق اُڑانے کی ضرورت نہیں…. میں سچ کہہ رہی ہوں….“

”مجھے معلوم ہے کہ تم سچ کہہ رہی ہو…. مجھے تم پر ٹرسٹ ہے مانو! میں بس تمہیں سننے کا شوقین ہوں….“

اسی پل ایک انجن کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی…. وہ جلدی سے اٹھا اور باہر کی جانب دوڑ لگائی…. ایک ٹرک انہی کے کیبن کی جانب بڑھتا دکھائی دیا….

”مانو! ہمارے مددگار آن پہنچے….“

وہ ٹرک ڈرائیور کو ہاتھ سے اشارہ کرتا اونچی آواز میںبولا….

مانہ جلدی سے الحان کے کپڑے اٹھاتی دروازے کی جانب دوڑی….

الحان اندر داخل ہوا….

”آپ پہلے چینج کر لیں…. پھر میں کر لوں گی….“

اس نے کپڑے الحان کی جانب بڑھائے….

”نہیں پہلے تم جاﺅ…. میں یہ آگ بجھا دوں تب تک….“

الحان نے آتش دان کی جانب قدم بڑھائے…. مانہ جلدی سے اس چھوٹے کمرے میں داخل ہو گئی….

ض……..ض……..ض

مانہ کو پہلے سے معلوم تھا کہ چوب محل پہنچتے ہی اسے وہاں پر موجود تمام سات لڑکیوں کے مستغیثانہ چہروں، انداز اور ترش نگاہوں کا سامنا کرنا ہو گا…. اور ایسا ہی ہوا…. چوب محل میں قدم رکھتے ہی…. مسکان کے سوا سبھی لڑکیوں نے مستغیثانہ انداز میںاس کی جانب دیکھا…. جبکہ مسکان اسے دیکھتے ہی تفکرانہ اندازمیں اس کے پاس دوڑی چلی آئی…. اسے گلے لگاتی وہ تفکر بھرے انداز میں گویا ہوئی….

”مانہ! تھینک گاڈ کہ تم ٹھیک ہو….“

اس نے آہ بھری….مانہ مصنوعی مسکراہٹ مسکراتی ایک اچٹتی سی نگاہ برابرمیں کھڑے الحان پر دوڑانے لگی…. جو مسکان پر ایک نفرت بھری نگاہ دوڑاتا، پھنکار کر رہ گیا تھا….

”منافق عورت…. ہونہہ!“

وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوا….

”میں آپ سب سے بعد میں ملتا ہوں…. آئی نیڈ سم ریسٹ! سی یُو!“

وہ متانت بھرے لہجے میں بولتا، سیڑھیاں پھلانگتا چلا گیا…. اس بار الحان کا روم بھی اسی چوب محل کے اندر ہی موجود تھا…. تمام لڑکیاں، سیڑھیاں پھلانگتے الحان پر سے نگاہ ہٹاتیں اب پھر سے مانہ کی جانب گھورتی دکھائی دی تھیں…. ایسے جیسے اس سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہو…. وہ ان سب کو اگنورکرتی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی….

”ہمیں بتا کرجاﺅ مانہ!…. کہ تم کہاں گئی تھیں؟….“

آشلے کی زہریلی آواز نے اس کو قدم بڑھانے سے روک دیا….

”میں تمہیں کچھ بھی بتانا ضروری ہرگز نہیں سمجھتی آشلے…. سوری لیڈیز! میں بہت تھکی ہوئی ہوں…. بعد میں ملتی ہوں…. بائے….“

وہ بنا ان لیڈیز کی جانب دیکھے، اپنی کہتی،سیڑھیاں پھلانگنے لگی…. لڑکیوں کی آپس کی کھسرپھسر نے اس کا کمرے تک پیچھا کیا تھا…. دروازہ بندکرتی، وہ دروازے سے ٹیک لگائے ایک لمبی سانس کھینچ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

شاور لینے اور ڈھنگ سے تیار ہونے کے بعد وہ زینہ بہ زینہ نیچے اُترتی، لاﺅنج کا جائزہ لینے لگی…. لاﺅنج کے ایک صوفہ پر عاشر اپنا لیپ ٹاپ سنبھالے کسی کام میں گم دکھائی دیا…. وہ دھیرے دھیرے چلتی اس کے برابر والے صوفہ پر جا بیٹھی…. اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی…. وہاں اور کوئی موجود نہ تھا…. عاشر نے کسی کی آمد محسوس کرتے ہی لیپ ٹاپ پر سے نظریں اٹھائیں….

”مانہ!“

وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو بیٹھا….

”کہاں چلی گئی تھیں تم؟…. کم از کم مجھے تم سے اس بے وقوفانہ حرکت کی امید ہرگزنہ تھی….“

وہ خفا دکھائی دے رہا تھا….

”آئی ایم رئیلی ویری سوری عاشر!…. مجھے احساس ہے اپنی غلطی کا…. لیکن میں راستہ نہیں بھولی تھی…. میں کھوئی نہیں تھی…. مجھے یہ جگہ،یہاں کی فضا اس قدر بھائی کہ میں آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی…. اور جب میں واپسی کے لیے مڑی تو اچانک سے موسم اس قدر خراب ہو گیا کہ میرا واپس آنا ناممکن ہو گیا…. اگر موسم اس طرح سے اچانک خراب نہیں ہوتا…. تو میں یقینا واپس آ جانے والی تھی…. آئی ایم سوری…. میری وجہ سے….“

”اٹس اوکے…. آئندہ خیال رکھنا….“

مانہ خاصی نادم دکھائی دے رہی تھی…. عاشر اس پر نگاہ دوڑانے لگا….

”تم نے کچھ کھایا؟“

وہ پوچھ رہا تھا….

”نہیں…. فی الحال بھوک نہیں….“

وہ تھکے تھکے اندازمیں بولتی، سرسری سی نگاہ کچن کی جانب دوڑانے لگی….اسے کسی لڑکی کی جھلک دکھائی دی…. جو شاید ان دونوں کی باتیں کرتے ے دوران انہی دونوں پر نظر رکھے ہوئے تھی…. اورپھر مانہ کے دیکھ لینے کے ڈر سے جلدی سے کچن کے دروازے کے پیچھے چھپ کھڑی ہوئی…. مانہ کو اچنبھہ ہوا….

”یہ میرا وہمہ ہے…. یا پھر؟….“

وہ من ہی من میں سوچتی، عاشر کو مخاطب کرنے لگی….

”میں چائے بنانے جا رہی ہوں…. آپ پئیں گے؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”ہاں ضرور!…. لیکن سٹرانگ ٹی….“

وہ فرینڈلی لہجے میں مخاطب ہوا….

”شیور!“

مانہ مسکراتی ہوئی کچن کی جانب بڑھنے لگی…. کچن میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازے کے پیچھے نگاہ دوڑائی، وہاں کوئی نہ تھا…. وہ لب بھینچے سوچنے لگی….

”یہاں یقینا کوئی تھا….“

پھر اپنا واہمہ سمجھتی وہ چائے بنانے لگی…. چائے بن جانے کے بعد وہ دو مگ ٹرے میںرکھے کچن سے باہر نکلی…. برٹش مسلم صاحبہ جو کہ رومانٹک طبیعت کی مالکہ تھی…. اسے کچن کے دروازے کے باہر کھڑی ، عاشر کو ٹکر ٹکر دیکھتی دکھائی دی…. مانہ نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا…. وہ یقینا آس پاس سے بے خبر، عاشر ہی کو دیکھتی دکھائی دی تھی…. اس کی نظروں میں چھپی عاشر کے لیے پسندیدگی، واضح طور پر عیاں تھی…. مانہ کو پہلے حیرانگی ہوئی، اس نے کچھ سوچتے ہوئے دونوں پر باری باری نگاہ دوڑائی…. پھر دھیمے سے مسکرتی گلا کھنگارنے لگی…. اس کے گلا کھنگارنے پر صاحبہ بُری طرح سے چونک اٹھی….

”مم…. مانہ!“

وہ بُری طرح سے گھبرا گئی…. مانہ معنی خیز نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی دھیمے سے گویا ہوئی….

”کیا ہوا؟“

”کک…. کچھ نہیں…. میں بھی چائے بنانے جا رہی تھی….“

وہ جلدی سے فرار ہو گئی…. مانہ مسکراتی، ٹرے تھامے عاشر کے برابر والے صوفہ پربراجمان ہو گئی….

”مجھے لگتا ہے…. کہ یہاں پر کوئی کسی کا بہت بڑا کرش ہے!“

مانہ نے اسے چھیڑنے والے انداز میں کہا….

”تم الحان اور اپنی بات کر رہی ہو؟“

اس نے مصروف انداز میں پوچھا….

”بالکل نہیں….“

”تو پھر؟….“

”کوئی اور ہے…. جو یہاں پرکسی کو چھپ چھپ کر دیکھتا ہے….“

اس نے مسکراتے ہی لب بھینچ لیے….

”کس کی بات کر رہی ہو مانہ؟ پہیلیاں مت بجھواﺅ….“

”ابھی مجھے کنفرم نہیں…. پہلے میں خود کنفرم کر لوں…. پھر بتا دوں گی….“

عاشر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتا ہلکے سے مسکرا دیا….

”جب کنفرم ہی نہیں تو بتایا کیوں؟….“

وہ کپ اٹھانے لگا….

”ویسے میں سوچ رہی تھی کہ یہاں پر موجود تمام لڑکیوں میں سب سے الگ اور سمجھدار لڑکی صاحبہ ہے….“

”کیوں…. تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟“

اس نے چائے کا ایک سِپ لیا…. مانہ مگ ہاتھ میں تھامتی، کچھ سوچتے ہوئے بولی….

”ویسے ہی بتا رہی ہوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے…. آپ کو صاحبہ کیسی لگتی ہے؟….“

وہ پوچھنے لگی….

”ہاں….اچھی لڑکی ہے….“

وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا…. اور ایک بار پھر سے مگ ہونٹوں سے لگا بیٹھا…. وہ دھیمے سے مسکرایا تھا…. ایک گمنام مسکراہٹ…. مانہ نے محسوس کیا…. اس مسکراہٹ میں کچھ تھا…. وہ لب بھینچنے لگی…. چائے کا سِپ لیتی وہ ایک بار پھر سے کچن پر نگاہ دوڑانے لگی…. اور اس بار اس کا شک یقین میں بدل گیا…. صاحبہ ایک بار پھر سے…. دروازے کی اوٹ سے عاشر کی جانب دیکھتی دکھائی دی…. مانہ مسکرا دی….

”آئی وش…. کہ الحان اس شو کے اینڈ میں صاحبہ کو ہی سلیکٹ کرے…. وہ واقعی بہت اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے…. میں نے نہ اسے کبھی لڑتے دیکھا ہے نہ ہی کسی کی سازش کرتے….“

وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی….

”ہوں!….“

اس بار وہ خاصا سنجیدہ دکھائی دیا تھا…. مانہ اسے پرکھنا چاہتی تھی…. اور شاید وہ پرکھ بھی چکی تھی….

”مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے….ایکسکیوزمی!“

وہ مگ ہاتھ میں تھامے، موبائل اٹھاتا، چوب محل سے باہر نکل گیا…. غالباً وہ یہ حرکت کر کے صاحبہ کے لیے اپنی پسندیدگی کا بھی اعلان کرتا گیا تھا…. مانہ کھلکھلا کر مسکرا دی….

”تو یہ بات ہے….“

وہ چوب محل کے دروازے کی جانب دیکھتی مسکرائے چلی جا رہی تھی…. اسی پل الحان، چوب محل سے باہر نکلتے عاشر اور پھر مانہ پر نگاہ جمائے،سیڑھیاں اُترتا، سیدھا اس کے قریب چلا آیا…. اس کے چہرے کے ہر ہر نقش سے جیلسی واضح طور پر پھوٹتی دکھائی دے رہی تھی…. مانہ نے اسے اپنی جانب آتے دیکھتے ہی سنجیدگی چہرے پر سجا لی تھی….

”جب عاشر تمہارے اردگرد ہوتا ہے…. تو تمہاری مسکراہٹ گہری سے گہری تر ہوتی چلی جاتی ہے…. اور مجھے دیکھتے ہی تم سڑی ہوئی سی شکل کیو ںبنا لیتی ہو؟…. کیا…. کیا، چل کیا رہا ہے تم دونوں کے بیچ میں؟“

وہ بے حد تپا ہوا دکھائی دے رہا تھا…. مانہ تیوری چڑھا کر رہ گئی….

”کیا مطلب کیا چل رہا ہے؟“

وہ اس کی جانب دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”سین کیا ہے باس؟…. بچی نہیں ہو تم جو تمہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا پوچھ رہا ہوں؟….“

مانہ پھنکار کر رہ گئی….

”آپ اوور ری ایکٹ کر رہے ہیں الحان!“

”میں اوور ری ایکٹ کر رہا ہوں؟….“

وہ اس کی بات دہراتا، دانت پیسنے لگا…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ پھر سے بولا….

”مجھے تمہارا اور اس کا تمہارے اردگرد منڈلانا بالکل پسند نہیں ہے….“

وہ شعلہ برستی نگاہیں اس پر ٹکائے بھرپور غصہ اور جیلسی کا اظہار کر رہا تھا…. مانہ کو اس کے غصہ پر غصہ آنے لگا….

”کیا؟…. کیا میں یہاں کسی اور سے بات تک نہیں کر سکتی؟ اور اگر بات کرتی ہوں تو اس کا مطلب کہ میرا اور اس کا کوئی سین ہے…. رائٹ؟“

وہ اس کے دوبدو تھی….

”ایسا نہیں ہے….“

وہ برجستہ بولا….

 ”میں نے کافی بار دیکھا ہے…. تو مجھے ایسا لگا کہ تم دونوں ایک دوجے کے کافی کلوز ہو…. اس لیے میں جاننا چاہتا ہوں کہ…. کیا سین ہے؟“

اس بار وہ تحمل سے بولا…. لیکن جیلسی ابھی بھی اس کے لہجے سے ٹپکتی صاف محسوس کی جا سکتی تھی….

”ہم دونوں فیوچر میں ایک ساتھ کام کرنے والے ہیں…. ہم دونوں میں اچھی دوستی ہے…. انڈرسٹینڈنگ ہے…. اور کچھ نہیں…. جب دو لوگ آپس میں مسکراکر بات کرلیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیںہوتا الحان! کہ ان دونوں کے بیچ کوئی ایسا ویسا سین ہے….“

اس کے لہجے میں غصہ تھا، ناراضی تھی…. الحان نے محسوس کیا…. لیکن خاموش رہا….

”آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے الحان؟…. آپ یہاں پر موجود ہر لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جاتے ہیں…. اور کبھی کبھی گروپ ڈیٹ پر جاتے ہیں…. تو کیا میں آپ کے بارے میں بھی ایسا ہی کچھ سمجھوں کہ آپ کا ان سب کے ساتھ کوئی نہ کوئی سین ہے؟….“

اس نے اسے لا جواب کر دیا تھا…. وہ کچھ کہنے کی چاہ میں لب کھولتا، خاموش ہو کھڑا ہوا تھا….

”مرد ذات…. خود ہزاروں لڑکیوں کے ساتھ ڈیٹ پر چلا جائے کوئی بڑی بات نہیں…. اور جسے وہ پسند کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اسے کسی کے ساتھ ہنسنے بولنے کی اجازت تک نہیں…. واﺅ…. کیا بات ہے آپ مرد حضرات کی….“

وہ غصہ میں پھنکارتی، پیر پٹختی، چوب محل سے باہر نکل گئی…. الحان وہیں کھڑا، اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش میں گم، لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے