سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید… آخری قسط

ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید… آخری قسط

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

 آخری قسط

”میں تو سمجھ رہا تھا تمہاری ضد اور غصہ والی عادت اب ختم ہو چکی ہو گی مگر تم سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ بجائے ختم ہونے کے یہ عادتیں تم میں مزید پختہ ہو چکی ہیں۔“

وہ ہی نرم لہجہ میں وہ ہمیشہ سے نبیرہ سے گفتگو کرنے کا عادی تھا، نبیرہ کی سماعتوں سے گزرتا اس کے دل میں اترتا چلا گیا مگر اب شاید وہ دل کے بجائے سوچنے کےلئے دماغ استعمال کرنے لگی تھی یہ ہی سبب تھا جو صرف ایک سیکنڈ لگا اسے سنان کے لہجے کے ٹرانس سے باہر آنے میں اور اگلے ہی پل وہ فوراً نارمل ہو گئی۔

”چلو شکر ہے تمہارے میرے بارے میں لگائے جانے والے اندازے اب بھی درست ثابت ہوتے ہیں ورنہ میں تو سمجھی تھی وقت کے ساتھ جہاں سب کچھ ختم ہوا وہاں یہ عادت بھی ختم ہو گئی ہو گی بہرحال جو بھی ہے اس سلسلے میں، میں اپنے فیصلے سے تقریباً تمام ہی لوگوں کو آگاہ کر چکی ہوں پھر تم نے کیوں زحمت کی جبکہ تم جانتے ہو کہ میرا جواب اب ہاں میں کبھی بھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔“

جب وہ بولی تو سابقہ ہٹ دھرمی ابھی بھی اس کے لہجے میں موجود تھی اور سنان جو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے اپنے سامنے پاکر پگھل جائے گی اس کا یہ اندازہ سو فیصد غلط ثابت ہوا، اسے نبیرہ سے اس لب و لہجہ کی بھی امید نہ تھی جس میں وہ بات کر رہی تھی اس نے تو ہمیشہ سے ہی اپنی ہر بات کے جواب میں اس کا سر تسلیم خم ہی دیکھا تھا جب کہ آج کی صورتحال پہلے سے کافی مختلف تھی۔

”دیکھو نبیرہ میں مانتا ہوں تمہارے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی میں ہم سب شامل تھے ہم لوگوں کے سبب ہی تم دیار غیر میں ان لوگوں کے ہاتھوں اذیت اٹھا کر واپس آئی ہو مگر اب اس غلطی کا اندازہ تقریباً تمام ہی لوگوں کو ہو چکا ہے اور سب فرداً فرداً تم سے معافی مانگنے کو بھی تیار ہیں ہم سب دل و جان سے یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری کھوئی ہوئی خوشیاں واپس مل جائیں اور یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب تم ہماری بات مان لو۔“

سنان اس سے ہر حال میں اپنی بات منوانے کا فیصلہ کرکے ہی یہاں آیا تھا جس کا اندازہ اس کی گفتگو اور لہجے میں چھپی امید سے لگایا جا سکتا تھا۔

”یہاں ہم کا صیغہ غالباً تم اپنی ماں اور بہن کیلئے استعمال کر رہے ہو۔“

اپنی بات کو درمیان سے ہی روک کر اس نے سنان کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور پھر بنا اس کا جواب سنے بات کو آگے جاری رکھتے ہوئے بولی۔

”جانتے ہو سنان سکندر بھی جب کوئی بات کرتا تھا تو ہمیشہ ہم ہی کا صیغہ استعمال کرتا تھا جس سے اس کی مراد آنٹی فاطمہ اور رفیدا ہوتیں اور میں دو دفعہ دو مردوں کے ہاتھوں اس ”ہم“ سے ہی تو برباد ہوئی ہوں یاد ہے تم کو اپنی آخری گفتگو جب تم نے مجھ سے محض اس لئے قطع تعلق کیا کہ تمہاری وجہ سے تمہاری بہن کا گھر برباد ہو ہا تھا اب سوچو ذرا اگر آگے آنے والے چند سالوں میں صورتحال آج سے مختلف ہو جائے اور تمہارے سامنے پھر میں اور رحاب آن کھڑے ہوں اور تمہیں ہم میں سے کسی ایک کا گھر بچانا پڑے تو کیا کرو گے، میری خاطر اپنی بہن کو برباد کرنے کا حوصلہ ہے تم میں۔“

”ایسا اب نہیں ہو گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے اب میرے اور تمہارے درمیان کوئی نہیں آئے گا۔“

اس نے ملتجی لہجہ میں نبیرہ کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی۔

”نہیں سنان اب یہ سب کچھ ناممکن ہے میں کسی بھی ایسے مرد پر اب اعتبار نہیں کر سکتی جو سوچنے کےلئے اپنی ماں اور بہن کا دماغ کا استعمال کرتا ہو ویسے بھی یقین جانو پیار محبت، عشق و عاشقی جیسے الفاظ میری زندگی سے نکل چکے ہیں، میں اب وہ جذباتی سی نبیرہ نہیں رہی جو محبت کے نام پر سب کچھ وارنے پر تیار رہتی تھی میں تو اب ایک پختہ دل و دماغ کی مالک نبیرہ ہوں جس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اس کا بیٹا ابوذر ہے اب میرا جینا مرنا سب میرے بیٹے کیلئے ہے اس کے علاوہ دنیا کا کوئی بھی مرد میرے نزدیک ثانوی حیثیت کا مالک ہے خواہ وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو۔

”تم مجھے ہر بار دنیا کے ان مردوں میں کیوں شامل کرتی ہو جو تم سے محبت کرنے والے نہ تھے جب کہ تم اچھی طرح جانتی ہوں اس محبت ہی کے نام پر تو میں نے اپنی ساری زندگی وار دی ہے وہ زندگی جو میں تمہارے بنا جیا ہوں موت سے بھی بدتر تھی۔ نبیرہ نہ کرو میرے ساتھ ایسا ظلم۔“ وہ رو دینے کو تھا۔

”سنان تم شاید نہیں جانتے میرا آٹھ سالہ بیٹا حماد اپنے ہر ملنے والے سے برملا یہ کہتا ہے کہ اس کی ماں اس کے بھائی کو اغواءکرکے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگ گئی، اب خود سوچو بھلا میں اگر تم سے شادی کر بھی لیتی ہوں تو میرے بیٹے پر میرا کیا امیج بنے گا کیا وہ سب کچھ جو سکندر نے اس کے دماغ میں بٹھایا ہے درست ثابت نہ ہو جائے گا اس کے دل میں پلتی میری نفرت دو گنا ہو جائے گی اور پھر یہاں آکر میری ساری محنت، قربانی رائیگاں جائے گی جو میں نے اس کےلئے اور ابوذر کےلئے دی، اس مقام پر تو یقینا ابوذر بھی مجھ سے بدظن ہو کر اپنے باپ اور بھائی کا ساتھ دے گا تم سے شادی سکندر کے بیان پر تصدیق کی مہر ثابت ہو گی جو میں ہرگز نہ چاہوں گی۔“

”دیکھو نبیرہ دوسروں کی خاطر اپنی زندگی برباد نہ کرو کہنے دو جو کچھ سکندر تمہارے بارے میں کہہ رہا ہے، کل کو جب تمہارے بچے بڑے ہوں گے انہیں خود ہی سب حقیقت کا علم ہو جائے گا اور اس سلسلے میں، میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دوں گا۔“

سنان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کس طرح نبیرہ کے انکار کو اقرار میں تبدیل کر دے وہ جب آج نبیرہ سے بات کرنے آیا تھا تو اپنی محبت کے زعم میں مبتلا تھا مگر اب آہستہ آہستہ اس کا یہ زعم ختم ہوتا جا رہا تھا مگر پھر بھی وہ آس کا دامن تھامے ہوئے تھا۔

”نہیں سنان جو تم چاہتے ہو وہ اب کبھی نہیں ہو سکتا تم اور تمہارے ساتھ بے شک سب دنیا والے مجھے ڈھیٹ اور بے حس لڑکی کا خطاب دے دیں مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا مگر میرے لئے اب دوسری شادی کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے، اگر مجھے شکست دینے کیلئے سکندر بنا شادی کے وقت گزار رہا ہے تو میں بھی ابوذر کی پرورش تنہا کرکے یہ ثابت کردوں گی کہ دنیا میں عورت کمزور نہیں ہے وہ بھی اگر چاہے تو مرد ہی کی طرح تن تنہا اپنے بچے کی پرورش کر سکتی ہے جانتے ہوسنان تم سے شادی کرنا میری شکست اور سکندر کی جیت ہو گی اس نے جگہ جگہ تمہارے نام کے ساتھ مجھے بدنام کیا ہے مگر اب جب میں تم سے شادی نہیں کروں گی تو یقین جانو وہ ایک بار پھر مجھ سے ہار جائے گا اور اس کی یہ ہی شکست دیکھنے کیلئے میں اپنی تمام جوابی تیاگ کر اپنے بیٹے کی پرورش کروں گی بالکل اسی طرح جس طرح وہ حماد کی کر رہا ہے بلکہ ہو سکتا ہے اس سے بھی اچھی ہی کروں کیونکہ مجھے یقین ہے ایدھا کی تربیت کے مقابلے میں، میری تربیت بہترین ہو گی، میں حماد پر بھی ثابت کروں گی کہ اس کے باپ نے جو کچھ میرے بارے میں اس سے کہا وہ صریحاً جھوٹ کا پلندہ تھا اور یہ صرف اور صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب میں بنا کسی سہارے کے اپنے بیٹے کو پال پوس کر کسی اعلیٰ مقام تک پہنچا دوں ویسے بھی شاید اب میں خود کو ذہنی طور پر کبھی بھی شادی کےلئے آمادہ کر سکوں گی لہٰذا میرا تمہیں بہترین دوستانہ مشورہ یہ ہے کہ تم کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کر لو میرے انتظار میں اپنی جوانی برباد نہ کرو۔“

اس کے لہجے کی ثابت قدمی اس کے ارادے کے اٹل ہونے کو ظاہر کر رہی تھی اور شاید اب وہ مزید کچھ سننا بھی نہ چاہتی تھی اسی سوچ کے تحت سنان شکست خوردہ انداز میں کمرے سے باہر نکل آیا سامنے ہی رحاب اور شفا کسی اچھی خبر کے انتظار میں کھڑی تھیں مگر سنان کی حالت نے بنا پوچھے ہی انہیں سب کچھ سمجھا دیا اور آج رحاب کو خود پر غصہ اور سنان پر دل کھول کر دکھ ہوا کاش وہ اور جنید اپنی جھوٹی انا کےلئے یہ سب کھیل نہ کھیلتے تو یقینا سب کچھ اتنا غلط نہ ہوتا مگر شاید کاتب تقدیر نے جو کچھ ان سب کے نصیب میں لکھا تھا وہ ایسا ہی ہونا تھا اس میں کسی کا کوئی قصور نہ تھا مگر پھر بھی سنان کو یقین تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ وہ نبیرہ کو رام کر لے گا شاید وہ اپنی محبت کا اعتماد کھونا نہیں چاہتا تھا۔

جب کہ اس کے پیچھے کھڑی نبیرہ بالکل مطمئن اور پرسکون تھی، ویسے بھی وہ زندگی میں صرف ایک بار ہی فیصلہ کرنے کی عادی تھی فیصلے کرکے بدلنا اس کے فطرت میں شامل نہ تھا، وہ چال جو آج سے کچھ سال قبل رحاب نے چل کر اسے بے دست و پاکیا تھا آج اسی پر واپس پلٹ گئی اور اس میں یقینا نبیرہ کا کوئی عمل دخل نہ تھا بلکہ شاید یہ تو مکافات عمل تھا اور وقت کی الٹی چال نے آج اس مقام پر رحاب کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر سنان کو کھڑا کر دیا تھا جہاں کبھی نبیرہ تن تنہا کھڑی تھی اسے یقین تھا اگر سنان اپنی بہن کے بجائے خود اپنی کسی مجبوری کے تحت اس سے کنارہ کشی اختیار کرتا پھر نبیرہ میں موجود کوئی عیب اسے راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرتا تو آج یقینا اس کی واپسی نبیرہ کیلئے ایک اعزاز ہوتی پھر شاید وہ حماد کا خود کیلئے استعمال لفظ ”بوائے فرینڈ کے ساتھ فرار“ بھی بھول جاتی مگر جن حالات میں سنان نے اسے بیچ راہ میں چھوڑ کر اپنا راستہ تبدیل کیا تھا اب اس کیلئے سنان جیسے مرد کو اپنانا بھی ممکن نہ رہا تھا اور یہ بات اس کے علاوہ شفا بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ اب اگر وقت نے کبھی نبیرہ کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور بھی کیا تو یقینا وہ دوسرا مرد پھر بھی سنان نہ ہو گا کیونکہ وہ جس طرح اپنی زندگی سے سکندر کو نکالنے میں کامیاب ہوئی تھی بالکل اسی طرح اس کا دل بھی سنان کی محبت سے خالی ہو چکا تھا وہ سکندر اور سنان نامی دونوں مردوں کو بالترتیب اپنی زندگی اور دل سے نکال چکی تھی اور اب شفا کو انتظار تھا اس وقت کا جب کوئی تیسرا شخص نبیرہ کی زندگی میں داخل ہو کر پورے خلوص نیت، دیانتداری اور محبت کے ساتھ اس کی دنیا ہی بدل دے اور اسے یقین تھا ایسا ضرور ہو گا دیر سے ہی سہی مگر ایک رائٹ مین اس کی زندگی میںآئے گا ضرور….

جیتی جاگتی دنیا کے ہنگاموں میں

یوں لگتا ہے جیسے میں ایک سایہ ہوں

کھویا ہے وہ جیسے ہاتھ کی لکیروں میں

ایسے اپنے ہاتھ کو تکتا رہتا ہوں

QQQQ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔۔آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 1

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 1 ”مریم تم نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے