سر ورق / ناول / من کے دریچے۔۔۔عابدہ سبین۔۔۔قسط نمبر 11

من کے دریچے۔۔۔عابدہ سبین۔۔۔قسط نمبر 11

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 11

اس کی طبیعت اچھی نہیں تھی اس لیے آج آفس سے چھٹی کرلی۔ طلحہ صبح تیار ہو کر جا چکا تھا۔ دادی کل سے احسان چاچو کی طرف گئی ہوئی تھیں۔ وہ اب تک کسلمندی سے لیٹا تھا جو اس بات کی تصدیق تھی کہ واقعی وہ اچھا محسوس نہیں کر رہا ورنہ وہ کبھی بھی بے وجہ زیادہ دیر صبح میں نہیں لیٹتا تھا۔ صحن میں دھوپ چڑھی تو اٹھ کر اندر آ گیا۔ ہال روم میں صوفے پر گر گیا۔ جسم میں شدید درد محسوس کر رہا تھا۔ باہر سے آہٹ ہوئی تو وہ اٹھ کر نہیں جا سکا۔ کچھ دیر بعد قدموں کی چاپ اسے اپنے قریب سنائی دی۔ وہ اٹھ بیٹھا۔ حرمین کو دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔

”کالج نہیں گئیں تم….؟“

”نہیں، دل نہیں چاہا، مگر آپ آج گھر پر؟ خیریت ہے….؟“

”طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ریسٹ کرنے کو دل چاہ رہا تھا۔“ حرمین نے دیکھا بکھرے بال اور چہرے پر بی تازگی نہیں تھی۔ شاید وہ صبحسے اٹھا ہی نہیں تھا۔ جینز اور بنیان میں آج واقعی وہ کچھ بیمار سا لگ رہا تھا۔“

”پھر میڈیسن لی آپ نے….؟“

”نہیں، دل نہیں چاہا کہ اٹھ کرکچھ کروں، سو بس لیٹا رہا۔“ وہ دوبارہ لیٹ چکا تھا۔ حرمین نے دیکھا، پھر واپس مڑ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ ٹرے میں چائے اور ساتھ ٹیبلٹس لیے حاضر تھی۔

”حارش بھائی! اٹھیں یہ ٹیبلٹ لے لیں۔“ اس نے بڑے سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے آواز دی۔ حارش بمشکل اٹھا تھا۔ اٹھ کر منہ دھو کر آیا۔ پھر اس نے چائے پی اور گولی کھائی۔

”کچھ دیر بعد جب آپ اچھا محسوس کریں تو جا کے دوا لے آئیے گا۔“ وہ اب ہال کی صفائی کر رہی تھی۔ ساتھ اسے ایڈوائز بھی کر رہی تھی۔ ہال کی صفائی کے بعد وہ باہر چلی گئی۔ صحن کی صفائی کی، کچن دیکھا، پھر اس نے حارش کی طبیعت کے خیال سے اس کے لیے دلیہ بنایا۔ اب صرف طلحہ اور حارش کے کمرے صاف کرنے تھے جو اس نے شام پر چھوڑ دئیے۔ وہ دوبارہ ہال روم میں گئی تو حارش صوفے پر لیٹا پھر سو گیاتھا۔ اس نے ڈسٹرب نہیں کیا اور گھر آ گئی۔ امی کو بتایا، امی چلی آئیں۔ حارش بے سدھ لیٹا تھا۔ وہ اس کے قریب آ گئیں۔ پیشانی چھوئی تو ہلکا سا بخار تھا۔ ان کے ہاتھ کے لمس سے حارش نے فوراً آنکھیں کھول دیں اور سامنے انہیں پا کر اٹھ بیٹھا۔

”تائی امی آپ؟“

”حرمین نے بتایا تمہاری طبیعت خراب ہے، دیکھنے چلی آئی۔“

”جی بس کچھ تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا، آپ بیٹھیںناں۔“ وہ اس کے قریب بیٹھ گئیں۔

”بیٹا! اپنا دھیان رکھا کرو۔ تم ضرورت سے زیادہ خود کو مصروف رکھتے ہو۔تمہاری عمرکے بچے لائف انجوائے کرتے ہیں۔ کچھ وقت اپنے لیے نکالو، ہنسو بولو، دیکھنا تم خود فریش محسوس کرو گے۔“

”شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔“

”آج شام میں ہم سب تمہارے چاچو کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے فون پر تاکید کی تھی تمہیں ضرور ساتھ لائیں۔ تمہارے بابا سویرے جلدی نکل گئے۔ میں نے سوچا تمہیںبتادوں شام میں ہمارے ساتھ چلنا ہے۔ اب تم اٹھ کر دوا لاﺅ۔ حرمین نے تمہارے لیے دلیہ بنا دیا ہے، وہ کھاﺅ اور شام تک فریش ہو جاﺅ۔“ وہ صرف سر ہلا کر رہ گیا۔ اب کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔ اٹھ کر نہایا تو اور زیادہ فریش محسوس کرنے لگا۔ تبھی حرمین اس کے لیے دلیہ لے آئی۔

”تم نے مجھے پکا مریض بنا دیا ہے، کچھ اور بنا دیتیں۔“ دلیہ دیکھ کر اس کی بھوک اُڑ گئی۔

”آپ کونہیں پسند؟ اچھا کیا کھانا ہے بتائیں؟“ اس نے بہت اپنائیت سے پوچھا۔ حارش اس کے چہرے پر پھیلی معصومیت اور سادگی میں کھو گیا۔

”بناﺅ گی جو میں کہوں گا۔“

”آف کورس بنا دوں گی ، آپ بتائیں تو۔“ اتنی تیز دھوپ، گرمی کی شدت میں اسے اچھا نہیں لگا کہ وہ مزید اسے تنگ کرتا۔

”چلو چھوڑو، میں یہ ہی کھا لیتا ہوں۔ تم نے بنایا ہے تو یہ بھی مزے کا ہو گا۔“

”آپ مجھے خوامخواہ مکھن لگاتے ہیں۔ اتنا اچھا بھی نہیں بناتی میں۔“ اس کی اتنی تعریف پر وہ خجل ہوئی تھی۔

”بلیو می…. مکھن نہیں یہ سچ ہے۔“ اس نے دلیہ چکھتے ہوئے کہا۔ وہ واقعی لذیذ تھا، حرمین اٹھ کھڑی ہوئی۔

”حارش بھائی! اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو کہہ دیجئے گا میں چلتی ہوں۔“

”تم بھی جاﺅ گی شام میں احسان چاچو کے گھر….؟“

”آپ چلیں گے؟“ وہ حیران کن خوشی سے بولی۔

”اگر تم جاﺅ گی تو….“ پتہ نہیں حارش کے لہجے میں کیا تھا اس کا دل زور سے دھڑکا۔

”میںتو صبح آئی ہوں، کل دادی کے ساتھ گئی تھی۔ شام میں آپ لوگ جائیے گا۔“

”تو ٹھیک ہے میں بھی پھر کبھی چلا جاﺅں گا۔“ حرمین نے دیکھا اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی، مگر وہ خاموشی سے اٹھ گئی اور شام میں وہ ہی کیا اس نے جو کہا تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ حرمین واقعی ہی نہیں جا رہی تو منع کر دیا۔

”میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے بابا۔“ کہہ بابا کو رہا تھا دیکھ اسے رہا تھا۔ پہلی بار وہ چاچو کی طرف جا رہا تھا اور صرف حرمین کے نہ جانے سے منع کر رہا تھا۔

”بابا! میں بھی چلو….؟ اکیلے کیا کروں گی یہاں؟“ اس نے ایک نظر اس ضدی انسان پر ڈالی اور بولی۔

”جیسے آپ کی خوشی، آپ نے خود منع کر دیا تھا کہ میں کل تو آئی ہوں۔“ وہ تیار ہونے چلی گئی۔

”بیٹا! احسان کو اچھا لگتا اگر آپ بھی چلتے تو…. اس کے بچے آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔“

”اچھا میں چلتا ہوں….“ وہ سر جھکا کر بولا۔ لبوں پر آئی مسکراہٹ چھپانے کے لیے اور جب وہ تیار ہو کر آئی تو خود بھی تیار بیٹھا تھا۔ حرمین نے خفگی سے دیکھا اور امی کے پاس آ گئی۔

ض……..ض……..ض

اس کے اندر کے سناٹے ٹوٹنے لگے تھے۔ وہ خوش رہتا تھا، بہت خوش اور اس خوشی کی وجہ وہ تھی۔ طلحہ کو اس کا یہ چینج بہت اچھا لگا تھا۔ احسان چاچو کے بچوں سے مل کر اسے مزہ آیا تھا۔وہ بہن بھائیوں کے لیے ترستا تھا۔ یہاں کتنے بھائی بہنیں تھیں۔ اسے یہ زندگی اچھی لگتی تھی۔ اب اکثر شام میں وہ بھی کاشف، طلحہ اور نرمین کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلتا۔ کبھی لڈو وغیرہ اور خوب مزے کرتا۔ طلحہ کے ساتھ ساتھ اس کا یہ چینج حرمین کو بھی بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ جب وہ دل کھول کے ہنستا تھا تو بہت خوبصورت لگتا تھا۔ ہاں وہ بالکل سلطان چاچو کی طرح تھا اور سلطان چاچو بہت خوبصورت تھے۔ سیاہ بڑی بڑی آنکھیں، کھڑی ناک اور سیاہ گھنے بال، لمبا قد اور کشادہ سینہ، چاچو تو فوجی تھے تب ہی اتنی اچھی ہائیٹ اور جسامت تھی، لیکن وہ بھی بالکل ویسا ہی تھا، بس اس کے چہرے پر مونچھیں تھیں اور اس کا خیال تھا وہ اس پر سوٹ بھی بہت کرتی تھیں۔ وہ بہت اچھا تھا مگر اس کی باتیں حرمین عالم کا دل اور دھڑکنیں دونوں ہلا دیتی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں جانے کیا تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ پاتی تھی۔ وہ بہت بدل گیا تھا۔ ہاں یہ اچھا تھا مگر وہ کہتا تھا میں صرف تمہاری وجہ سے زندگی کی طرف لوٹا ہوں۔ اس کے معاملے میں حارش کا اتنا کریزی ہونا اسے اَپ سیٹ کر دیتاتھا۔

ض……..ض……..ض

آج اتوار تھا، سب گھر پر تھے۔ صبح سے ہی شور ہنگامہ شروع ہو چکا تھا، اور جب فریال،عمر اور عثمان آئے تو اور زیادہ ہو گیا۔ موسم صبح سے ہی اچھا تھا۔ بادل چھائے ہوئے تھے، دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ وہ لوگ باہر ہی بیٹھے تھے۔

”یار! اتنے اچھے موسم میں اگر پکوڑے سموسے ہوں، پودینے کی چٹنی ہو تو کیا زبردست لگے گا۔“ عثمان اور طلحہ نے رائے دی۔

”یار! تم لوگ چٹورے بہت ہو۔ مجھ سے آج کوکنگ نہیں ہوتی۔“ حرمین کو پتہ تھا شامت اس کی آنی ہے سو پہلے ہی منع کر دیا۔

”اُف او تم تین لڑکیاں ہو مل کے بنا لو۔“

”معاف کرو ہمیں، اتنے اچھے موسم میں کچن…. او گاڈ۔“ نرمین اور فریال دونوں نے منع کر دیا۔ حرمین موڈ آف کرتی امی کے ساتھ کچن میں ہیلپ کرانے لگی۔ اس نے سب کی فرمائش پوری کر دی تھی مگر اب وہ ان کے ساتھ نہیں تھی اور ظاہر ہے حارش عالم کو اس کی کمی محسوس کیوں نہ ہوتی۔ وہ سب کے ساتھ بیٹھا تھا مگر اس کی بے چینی صرف طلحہ محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بغور اس کی طرف دیکھ کر آنکھوں میں پوچھا تو وہ سر ہلا گیا اور کچھ دیر بعد اٹھ کر ٹیرس پر چلا گیا۔ ہلکی ہلکی بوندیں اب تیز ہو گئی تھیں اور نیچے سے آتی آوازیں اسے بتا رہی تھیں کہ وہ بارش انجوائے کر رہے ہیں۔ وہ یوں ہی ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ دوسری طرف صحن میں اکیلی بارش میں بھیگتی حرمین عالم اس کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتی خودبخود مسکراتی، کبھی چہرہ صاف کرتی کبھی بالوں کو جھاڑتی اسے بہت اچھی لگی تھی۔ اسے تو حرمین عالم ہر حال میں اچھی لگتی تھی، بس اس کے جذبوں نے ابھی اظہار کے لفظ نہیں تلاشے تھے، ورنہ تو اس کے ہر سو صرف حرمین تھی۔ اسے اپنا ہر کام صرف حرمین کے ہاتھ سے ہونا پسند تھا۔ کھانے سے لے کر کپڑے استری تک وہ صرف حرمین سے کام کہتا تھا۔ اگر کبھی نرمین کوئی کام کر دیتی تو اسے اسی وقت پتہ چل جاتا تھا کہ آج حرمین نے یہ کام نہیں کیا۔ ابھی جب وہ غصے میں گئی تو اسے بہت محسوس ہوا تھا، لیکن اب اسے اس طرح مسکراتا بوندوں سے کھیلتا دیکھ کر من شانت ہو گیا تھا۔ وہ بے خود سا دیکھے گیا حرمین کو۔ خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تھی نظریں اٹھائیں تو ٹیرس پر کھڑا وہ نظر آیا۔ وہ جلدی جلدی دوپٹہ درست کرنے لگی۔ حارش محسوس کر گیا کہ وہ اس کی موجودگی میں ایزی فیل نہیں کر رہی۔ اپنے وجود کو چھپاتی اسے وہ بہت معصوم اور پاکیزہ لگی تھی۔ وہ فوراً ہٹ گیا۔ رات میں جب سب چلے گئے تو طلحہ اس کے پاس آ لیٹا۔

”آج سب انجوائے کر رہے تھے لیکن تو اتنا اَپ سیٹ سا کیوں تھا؟“ یعنی اس کی بے چینی طلحہ نے محسوس کی تھی۔

”طلحہ! مجھے خود علم نہیں ہے یہ کیا ہے؟ یہ بے چینی، یہ بے کلی کیوں ہے؟ مجھے خود پر اختیار نہیں ہے، ایسا کیوں ہے؟“ کتنا کھویا کھویا بول رہا تھا وہ، اتنا خوش تھا پھر یہ بے کلی طلحہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

”طلحہ! میں نے عہد کیا تھا خود سے کہ کبھی شادی نہیں کروں گا۔ کبھی محبت بھی نہیں کروں گا لیکن طلحہ اب مجھے لگتا ہے میں اپنے عہد سے مکر گیا ہوں اس کی معصومیت، سادگی، اس کی ہنسی، اس کی تمام اداﺅںنے مجھ سے میرا سکون چھین لیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر ایک پل کو بھی وہ میری نظروں سے اوجھل ہوئی تو میرا دم گھٹنے لگتا تھا۔ مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا۔ میری ہر خوشی اس کے وجود سے وابستہ ہے۔ میرے ہر جذبے میں وہ ہے لیکن میں اس سے صاف لفظوں میں کہہ نہیں پاتا۔“ یہ تبدیلی تو حارش عالم میں سب سے خوبصورت تھی۔ طلحہ کے لبوں پر مسکراہٹ اتری، حارش عالم کی آنکھوں میں اترے کسی کے نام کے رنگ اور دئیے وہ محسوس کر رہا تھا اور شاید وہ جانتا بھی تھا کہ وہ کون ہے مگر اس کے لبوں سے سننا تھا۔

”کون ہے وہ……..؟“ طلحہ نے سرگوشی کی تو وہ چونکا اپنی بے خودی میں وہ طلحہ کو راز دے گیا تھا۔ اب چھپاتا بھی تو کیسے۔

”حرمین عالم۔“ اس کے لبوں سے نام اُبھرا۔

”تیری چوائس اتنی اچھی ہو سکتی ہے، تیرے جیسے پاجی سے امید نہیں تھی۔“ اس نے شرارت سے چھیڑا۔

”طلحہ! میرے دل نے غلط فیصلہ تو نہیں کیا ناں؟“ اس کو کھو دینے کا ڈر اس خوش ہونے نہیں دیتا تھا۔

”دل کے فیصلے غلط نہیں ہوتے، تمہیں ڈر کیسا ہے، وہ کوئی دور ہے تم سے۔“

”لیکن مجھے اپنی قسمت سے ڈر لگتا ہے۔ آج تک مجھے کوئی خوشی ملی جو نہیں۔“ کتنا وہمی ہو رہا تھا وہ، لیکن شاید اپنے ماضی کو لے کر وہ ٹھیک ہی تو وہم کر رہا تھا، بھلا اس نے خوشیاں دیکھی ہی کب تھیں۔ طلحہ نے زندگی میں اسے کھل کر ہنستا بھی اب دیکھا تھا، جب اس کی جگمگاتی آنکھوں سے اسے کسی کے نام کے جذبے اُبھرتے نظر آئے، حرمین کے لیے وہ کریزی تھا اپنا ہر کام صرف اسے حرمین کے ہاتھ سے انجام پانا پسند تھا، لیکن اس کے دل میں حرمین کے لیے اتنی طوفانی محبت ہو گی، اس کا اندازہ نہیں تھا طلحہ کو۔

”لیکن مائی ڈیئر حارش عالم! اب خوشیوں نے تیرے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے، اب انہیں تم تک آنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اوکے۔“

”طلحہ! وہ میرا پاگل پن بن گئی ہے۔ اگر اس نے میری چاہت کے اقرار میں ناں کر دی تو؟“

”کم آن حارش! اچھا سو چا کرو، اچھا سوچوگے تو ہر کام خودبخود اچھا ہو گا۔ اب سو جاﺅ اور اچھے خواب دیکھو۔“ اس کے بال شرارت سے بکھیرتا مسکراتا وہ اٹھ گیا۔ حارش بھی سونے کے لیے لیٹ گیا۔

ض……..ض……..ض

”بس مجھے اسی لیے بارش پسند نہیں ہے۔“ وہ خاصے خراب موڈ میں تھا سویرے سویرے۔ حرمین نے بڑے حیران انداز میں دیکھا تھا اسے۔

”بارش پسند نہیں ہے آپ کو؟ بھلا اتنا خوبصورت موسم کیسے ناپسند ہو سکتا ہے کسی کو۔“

”میڈم! تمہارے اس خوبصورت موسم کے باعث میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں۔“ اس کی بے زاریت چہرے سے عیاں تھی۔

”اب انسان کو اتنا پریکٹیکل بھی نہیںہونا چاہیے کہ اچھے خاصے موسم سے بیزاریت ہو۔ آپ اسے انجوائے بھی تو کر سکتے ہیں۔ کیا ہوا جو ایک دن آفس لیٹ ہو جائیں گے۔“ وہ اسے گھور غصے سے رہا تھا مگر اس کے چہرے کی معصومیت نے سارا غصہ ہوا کر دیا۔ وہ بے خود ہو گیا۔ کاش وہ اپنے جذبوں کو الفاظ دے پاتا۔ جانے کون سی چیز تھی جو ہر بار اس کے لبوں پر آتے اقرار کے لفظ روک دیتی تھی۔

”حرمین“ اس نے بہت بے خودی میں نام پکارا تھا۔ وہ خود ہی گڑبڑا گئی۔ کاش اس لمحے وہ یہاں سے بھاگ سکتی۔ اسے حارش عالم کی یہ دیوانگی ڈراتی تھی۔ اس نے لفظوں میں کبھی اقرار نہیں کیا تھا، لیکن اس کی آنکھیں ہر راز خود عیاں کر دیتی تھیں۔ وہ جان گئی تھی کہ اس کے دل میں کیا ہے….؟ سارے جذبات اسکے دل کی ہر کہانی اس کی آنکھیں بیان کر دیتی تھیں۔ لیکن کیا اسے یہ اختیار ہے کہ وہ اس کے جذبوں کی ہمسفر بن سکے….؟ دل کی سختی اس کی دیوانگی نے اس کے اندر اپنی جگہ بنا لی تھی اور اگر آنکھیں کھول کر دماغ کی سنتی تو شاید اپنی زندگی کے فیصلے کا اختیار اس کے پاس نہ تھا۔ شاید حارش عالم کی خاموشی میں بہتری تھی۔ اس کے جذبے اگر لفظوں میں ڈھل گئے تو بھلا وہ کیسے اور کیا جواب دیتی….؟

”حارش بھائی! میں چلوں مجھے بابا کو بھی ناشتہ دینا ہے۔ وہ انتظار کر رہے ہوں گے۔“ اس نے فرار کا راستہ اختیار کیا لیکن جب باہر نکلنے سے پہلے ہی اس نے اس کی کلائی تھامی تو دل حلق میں آ گیا۔

”مجھے لگتا ہے تم ڈرتی ہو مجھ سے۔“ اس کے انداز میں بے خودی کے ساتھ شرارت بھی نمایاں تھی۔ اس نے گہری سانس خارج کر کے ایک نظر حارش عالم کو دیکھا جو بغور اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

”ڈر تو آپ کے اندر بھی ہے۔“ اس کی بات پر حارش کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی اس کی کلائی پر۔

”ہاں ڈرتا ہوں، لیکن تم سے نہیں اپنی قسمت سے۔“

”حارش بھی….“ کہنے سے قبل ہی اس نے حرمین کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا، یعنی وہ نہیں چاہتا تھا کہ بھائی کا صیغہ اس کے نام کے ساتھ لگائے۔

”پلیز…….. میرا بازو درد کرنے لگا ہے۔“ اس نے التجائیہ اندازمیں کہا تو مسکراتے ہوئے اس نے بازو چھوڑدیا۔

”مجھے کل آفس کی طرف سے اسلام آباد جانا ہے کچھ دن کے لیے اور جانے سے پہلے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“ وہ اب بہت سنجیدی تھا۔

”آپ لیٹ ہو رہے ہیں، بارش بھی رک چکی ہے۔“ اس نے حارش کی بات کے جواب میں غیرسنجیدہ انداز اختیار کیا۔

”حرمین پلیز۔“ اس نے سنجیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی نگاہوں میں کچھ تھا کہ وہ خاموش ہو گئی۔

”حرمین…. آئی….“

”حارش…. آجا، بارش رُک گئی ہے۔“ طلحہ کی آواز اور آمد پر اس کا موڈ بری طرح بگڑا تھا اور وہ پیر پٹختا اک نگاہ اس پر ڈالتا باہر نکل گیا۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ خفا ہو گیا ہے۔ طلحہ نے اس کا اتنا خطرناک موڈ دیکھا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔

”یہ تیرے تھوبڑے پر بارہ کیوں بجے ہیں صبح صبح۔“

”تجھے بھی اسی وقت مرنا تھا، اگر پانچ منٹ لیٹ ہوجاتا تو قیامت آ جاتی ناں۔“ وہ اس پر برس پڑا۔ طلحہ نے بڑی حیرت سے اسے دیکھا۔

”کیوں، کیا ہوا؟“

”کچھ نہیں۔ اور اب بالکل خاموش ہو جاﺅ، میرا موڈبہت خراب ہے۔“ اس نے غصے سے کہا اور بائیک اسٹار کردی۔

ض……..ض……..ض

صبح جب وہ اسلام آباد گیا تو امی، بابا سے مل کر گیا تھا مگر اس سے شدید خفا تھا، تبھی تو وہ سامنے بھی آئی تو نظر تک نہیں ڈالی۔ جانے کیوں حرمین کے دل میں اداسی نے ڈیرہ ڈال لیا۔ وہ اس سے بنا بات کیے ہی جا رہا تا۔ اس نے ہمت کر کے خود بلالیا۔

”حارش بھائی! چائے لاﺅں آپ کے لیے؟“ اس کے مخاطب کرنے پر ا سنے خفگی بھری نظر ڈالی۔

”نہیں…. تھینکس…. ناشتہ کر کے آیا ہوں۔“ بہت روکھے لہجے میں جواب دے کر امی، بابا سے اللہ حافظ کہتا باہر نکل گیا۔ وہ بہت بے چین دل لیے سارا دن گھومتی رہی، مگر رات کو جب بستر پر لیٹی تو شدت سے رونا آیا۔

”خفا ہو کر تو نہ جاتے کم از کم۔“ وہ ساری رات نہ سو سکی۔ اگلی صبح بھی بے کل سی تھی۔ طلحہ اس کا کھویا کھویا انداز دیکھ رہا تھا۔

”خیریت ہے بہنا! بہت افسردہ ہو، کوئی یاد تو نہیں آ رہا؟“ اس کی شرارت پر مسکرانے کے بجائے اس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

”حرمین! تم رو رہی ہو۔“

”طلحہ بھائی! آپ مجھے حارش بھائی کا نمبر دے سکتے ہیں۔“ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔

”مجھے نہیں بتاﺅ گی، کیا بات ہے….؟“

”وہ مجھ سے خفا ہیں، جاتے وقت بھی شدید خفا تھے۔“

”اوہو…….. تو وہ تم سے ناراض تھا اور غصہ مجھ غریب پر نکلا، مگر کیوں……..؟“ طلحہ نے پوچھا، لیکن وہ کیا بتاتی اسے۔

”پتہ نہیں….“ وہ نظریں چرا گئی۔ طلحہ نے مزید بحث بھی نہیں کی اور اسے نمبر دے دیا۔

”حرمین ڈیئر! ایک بات کہوں؟“ حرمین نے طلحہ کا چہرہ دیکھا جہاں اس لمحے بہت سنجیدگی تھی۔

”وہ بہت حساس دل رکھتا ہے اور اس نے اپنی زندگی میں صرف دکھ دیکھے ہیں۔ پلیز خیال رکھنا۔“ شاید وہ مختصر سی بات میں سب کچھ سمجھا گیا تھا۔ اس نے فقط سر ہلایا تھا۔

شام میں اس نے فرصت ملتے ہی اس کے نمبر پر مِس بیل دی تھی لیکن اس نے پلٹ کر کوئی رسپانس نہیں دیاتھا۔

منزلیں بلند ہوں تو مشکلیں بھی آتی ہیں

مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ تو رکھتے ہیں

جو تمہارے اپنے ہوں تم سے پیار کرتے ہوں

ان کا حال کیسا ہے….؟ کچھ پتا تو رکھتے ہیں

حارش نے شام میں فرصت ملتے ہی موبائل چیک کیا تھا اور اس کے دل کو سکون مل گیا تھا۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔ ساتھ لفظ سوری اسے صاف بتا گیا تھا کہ یہ کس نے سینڈ کیا ہے۔ جواباً اس نے کال کی تھی اور وہ جیسے منتظر بیٹھی تھی، فوراً ہی اٹینڈ کر لی۔

”اب تک خفا ہیں….؟“ سلام کے بعد پہلا سوال کیا تھا اس نے۔

”خفا تھا، مگر اب نہیں ہوں۔“ وہ مسکرائی تھی۔

”کب آئیں گے؟ دادی یاد کر رہی تھیں آپ کو۔“

”اور تم….؟“

”مجھے کیا ضرورت پڑی۔“ اس کے لہجے میں شوخی تھی۔ حارش عالم ہنس دیا۔

”حرمین! تھینکس….“

”کس بات کا….؟‘ اس نے انجان بن کر پوچھا۔

”یہ آ کر بتاﺅں گا ور اس بار تمہیں سننا ہو گا ورنہ….“

”اوکے…. آ تو جائیں۔“

”مس کر رہی ہو مجھے….؟“ کتنی آس تھی ناں اس کے لہجے میں بھلا وہ کیسے جھوٹ بول سکتی تھی مگر اقرار۔

”بہت زیادہ….“ کئی لمحوں بعد اس کی سرگوشی اُبھری تھی۔ پھر ٹوں’ ٹوں کی آواز، مگر اس کے لیے حرمین کا جواب ہی بہت تھا۔

رات میں طلحہ نے دیکھا اس کا موڈ بہت اچھا تھا۔

”لگتا ہے روٹھے پیا مان گئے ہیں۔“ وہ کھل کر مسکرائی تھی۔

”تھینکس بھیا! نمبر دینے کا۔“ وہ اس لمحے بھی موبائل سے کھیل رہی تھی۔

حنا کیسی ہے؟ اور کب بات کریں گے آپ دادی سے، کتنے دن تو ہو گئے ہیں۔“ اس نے نیا ٹاپک چھیڑ دیا۔

”تم کہتی ہو تو آج ہی کر لیتے ہیں بلکہ…. ابھی۔“ وہ جیسے تیار ہی بیٹھا تھا۔

”چلیں میں بھی فیور کروں گی۔“ اس نے خلوص سے کہا۔ دادی تبھی عشاءکی نماز پڑھ کر آئی تھیں اور اپنی چارپائی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ وہ دونوں ان کے پاس آ گئے۔

”دادی! طلحہ بھیا آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔“ وہ آتے ہی ان سے لپٹ کر بیٹھی تھی۔ دادی نے انہیں دیکھا۔

”ہاں…. تو بولو بچے۔“ طلحہ نے حرمین کو گھورا، پھر ہمت باندھی۔ بات تو کرنی تھی ناں۔

”دادی! آپ جانتی ہیں کہ میرا اب کوئی بزرگ نہیں ہے۔ ان فیکٹ حارش کے بعد اب آپ لوگ ہی ہمارے سب کچھ ہیں۔“

”بیٹا! یہ تو آج کس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔ بھلا تجھے کبھی لگا کہ ہم نے تجھ میں اور حارش میں فرق رکھا ہے۔“

”نہیں دادی! میرا مقصد یہ نہیں تھا، دراصل دادی وہ۔“ وہ بڑی تھیں وہ شوخ و شرارتی ضرور تھا، مگر ان کے سامنے اپنے لیے لڑکی منتخب کرنا اور پرپوزل کا ذکر اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ حرمین شاید سمجھ گئی تھی۔

”دادی! بات یہ ہے کہ میں نے بلکہ ہم دونوں بہن بھائیوں نے ایک لڑکی پسند کی ہے اور اب یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ کب آپ لوگ جاکر اسے طلحہ بھیا کے لیے مانگیں۔ دادی بہت پیاری لڑکی ہے۔ طلحہ بھیا کے ساتھ ہی جاب کرتی ہے، پلیز دادی۔“

”اچھا یہ بات ہے، تبھی تو اتنا جھجک رہا تھا۔ بچے میری تو اپنی خواہش ہے جلد سے جلد سارے بچوں کی خوشیاں دیکھ لوں۔ بھلا زندگی کا کیا بھروسہ ہے۔ سب سے زیادہ فکر تو حار ش کی ہے مجھے۔ بچے نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔ فرمان سے بات کروں گی تیری بھی اور حارش کی بھی۔“

”حارش کے لیے کوئی لڑکی دیکھ لی آپ نے؟“ اس نے غیرسنجیدگی سے پوچھا۔

”نہیں…. ہو سکتا ہے اس کی کوئی اپنی پسند ہو اور تجھے تو وہ ہر بات کہتا ہے، تجھے تو پتہ ہو گا؟“

”دادی! وہ ایسا نہیں ہے، شریف سا بچہ ہے، لیکن اگر اس نے کوئی پسند کر لی تو کیا آپ اس کی شادی کر یں گے وہاں….؟“

”ہاں…. میں نے اپنے سلطان کے بہت دکھ دیکھے ہیں اور میں حارش کی دفعہ میں چپ نہیں رہوں گی۔ اس کی خوشیوں کے لیے تو ہر پل میرے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ پاک میرے بچے کو سدا خوشیاں دینا۔ اس کی حفاظت کرنا۔“ وہ حارش کے لیے اتنی ہی جذباتی تھیں، طلحہ کو اس بات کا یقین سا ہو گیا کہ حارش کی خواہش ضرور پوری ہو گی۔

”دادی! میں آتی ہوں۔“ حرمین اٹھ کر چلی آئی۔

سب کچھ بھول کر اسے صرف یہ یاد تھا کہ حارش عالم کی محبت کے آگے وہ ہار بیٹھی ہے اپنا دل…. اس وقت اسے حقیقت کی بالکل بھی فکر نہ رہی تھی۔ یاد تھا تو صرف اتنا کہ حارش عالم اسے دیوانگی سے بڑھ کر چاہتا ہے اور اس کی یہ دیوانگی جانے کب حرمین عالم پر اثر کر گئی۔ یہ سچ تھا کہ اس نے بہت کوشش کی خود کو اس محبت کی آگ میں جلنے سے روکنے کی۔ وہ حارش عالم سے اسی لیے ڈرنے لگی تھی، بھاگنے لگی تھی،لیکن شاید…. اس کی محبت کی گہرائی میں اثر تھا یا اس کی آنکھوں کی سچائی میں….؟ جو بھی تھا حارش عالم اپنی تمام تر وجاہت سمیت اس کے دل میں آ بسا تھا۔ وہ شدتوں سے چاہنے لگی تھی اسے۔ اب اسے صرف اس کی آمد کا انتظار تھا کہ وہ کب آئے گا اور اپنے جذبوں کو لفظوں کا روپ دے گا۔

ض……..ض……..ض

یہ حقیقت ہی تو تھی کہ اس کا من نہیں لگتا تھا یہاں۔ بس چلتا تو کب کا واپس چلا جاتا مگر مجبوری تھی کل کانفرنس تھی اور اس کے بعد ہی وہ واپس جا سکتا تھا۔ صبح طلحہ نے بھی فون کیا تھا اور پہلا سوال یہی کیا تھا۔

”کب آئے گا….؟ تجھے پتا ہے ناں تیرے بنا رہنے کی عادت نہیں ہے مجھے، میرا دل نہیں لگ رہا۔ گھر آنے کو دل نہیں چاہتا۔“

”مجھے کب عادت ہے، تو اتنا یاد آ رہا ہے….؟ بھلا ہم کبھی اتنے دن کے لیے دور ہوئے بھی نہیں۔“ اس نے سچائی سے اعتراف کیا۔

”سچ بتا میں ہی یاد آ رہا ہوں یا کوئی اور….؟“ اس نے چھیڑتے ہوئے کہا تو حارش زور سے ہنس پڑا۔

”بڑا کمینہ ہے تو…. اب یوں مجھے طعنے دے دے کر مارے گا، حالانکہ میں نے کبھی تجھ سے گلہ کیا حنا کے حوالے سے۔“

”کر لینا…. مجھے کیا فرق پڑتا تھا، تجھے پتہ ہے کہ میری زندگی میں پہلے تو ہے پھر کوئی اور….“ طلحہ کی بات پر وہ سو فیصد یقین کرتا تھا۔

”پھر تو نے کیسے سوچ لیا کہ تجھ سے زیادہ میںکسی اور کو یاد کروں گا۔“

”اس لیے مائی ڈیئر حارش عالم! کہ میرے ساتھ اتنے عرصے رہنے کے باوجود بھی کبھی تجھے اتنا خوش نہیں دیکھا نہ ہنستے پایا جتنا کہ جناب اب دانتو ںکی نمائش کرتے ہیں۔“

”طلحہ! تم جل رہے ہو ناں۔“

”اللہ نہ کرے…. میری تو رح مسرور ہوتی ہے تجھے اتنا خوش دیکھ کر، جو میں اتنے سالوں میں نہ کر سکا حرمین نے چند دنوں میں کر دیا اور میں جیلس کس سے ہوں گا وہ میری بہن ہے۔“

”اچھا بابا سوری…. کان پکڑوں۔“

”چل دفع کر، اسلام آباد کے لوگ کیا سوچیں گے اتنا ڈیسنٹ بندہ کان پکڑے کھڑا ہے۔ تجھے ایک بات بتانی تھی صبر نہیں ہو رہا، بس تو جلدی سے آ جا۔“

”تو بتا ناں یار….“

”اوں ہوں…. یہاں آ کے بتانے پر جو مزہ ہے ناں وہ فون پر نہیں۔“

”اچھا…. پھر دو دن اورصبر کر لے۔“

”کیا یار….؟ حارش تین دن تو ہو گئے ہیں اور ابھی مزید دو دن اور…. یار مجھے نیند نہیں آتی اکیلے۔“

”میں یہاں خوشی سے نہیں رہ رہا ہوں، مجبوری ہے۔“

”اوکے! اپنا خیال رکھنا، مجھے آفس جانا ہے۔ اللہ حافظ۔“

”اللہ حافظ!“

ض……..ض……..ض

دادی نے فرمان انکل سے بات کی ہو گی تبھی صبح اسے میسج ملا تھا کہ آفس سے واپسی پر سیدھے گھر آنا اور اس نے عمل بھی کیا تھا۔ وہ ہی بات تھی۔ وہ خوش تھا، بالکل اپنے ماں باپ کی طرح وہ فکرمند تھے ان کے لیے۔“ یہ احساس تک نہ تھا کہ وہ دنیا میں تنہا ہے۔

”حارش آ جائے گا تو ہم باقاعدہ لڑکی والوں کے گھر رشتہ لے کر جائیں گے۔ لیکن بیٹا تم اچھی طرح جانتے ہو ناں لڑکی کو۔ دراصل آج کل جو حالات ہیں، فکر تو رہتی ہے ناں، تم ہمارے بچے ہو، تمہیں فیصلے کا حق ہے لیکن اچھا بُرا جاننا ہمارا فرض ہے۔“

”بابا! لوگ بھی اچھے ہیں اور لڑکی بھی، ہم مل چکے ہیں۔ دراصل جاب کرنا اس کی ضرورت ہے۔ ان کے والد حیات نہیں ہیں، اکیلی ماں ہے اور ایک چھوٹا بھائی۔“ کاشف نے اس کی یہ مشکل بھی آسان کر دی۔ اس نے مشکور نظروں سے اسے دیکھا۔

”مجھے خوشی ہے طلحہ! تم بہت اچھی سوچ رکھتے ہو۔“

”اماں! میں چاہتا ہوں کہ احسان کو بھی جواب دے دو۔ وہ اتنے دن سے کہہ رہا ہے، موقع تو ہے طلحہ کی منگنی کے ساتھ حرمین کی رسم بھی ادا ہو جائے گی۔“ ان کی بات پر جہاں طلحہ کی سوچوں کا رُخ مڑا، حرمین بھی فق چہرہ لیے اٹھ گئی۔ اس کے دل میں عجیب سی لہر اٹھی تھی۔

”حرمین کی رسم….؟“

”جی بیٹا! احسان نے حرمین کے لیے کئی سال پہلے سے کہاتھا اور اب تو وہ مسلسل بضد ہے، عثمان ماشاءاللہ اب سیٹل ہو گیا ہے۔ اچھی جاب ہے۔ ہونہار بچہ ہے۔ حرمین کا بھی یہ آخری سا ل ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب حرمین کی بھی رسم باقاعدہ کروں تاکہ میرے بھائی کو گلہ نہ رہے۔“ کتنے حیرت کی بات تھی ناں….؟ وہ اخلاقاً بھی مسکرا نہ سکا بلکہ ”جی بہتر“ کہتا وہاں سے اٹھ گیا۔ اور جب رات میں حرمین دادی کے لیے چائے دینے آئی تو وہ خود پر قابو نہ پاسکا۔

”حرمین! تم سب جانتی تھیں، پھر تم نے ایسا کیوں کیا….؟“ اور وہ جو پہلے ہی رو رو کے بے حال تھی پھر سے رو پڑی۔

”ہاں میں جانتی تھی اور میںنے کوشش بھی کی تھی کہ حارش عالم کو سچ بتا دوں لیکن بھیا! میں ایسا نہ کر سکی۔ وہ جب کھل کر ہنسا تھا اتنا خوش رہنے لگا تو میرا دل نہ مانا کہ میں اس سے یہ خوشی چھینوں۔ مجھ میں ہمت نہ ہوئی اور اسے حقیقت بتانے کا سوچ کر میں خود بھی اس کی راہوں کی ہمسفر ہو گئی۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں اس کی آنکھوں کی سچائی سے ہار بیٹھی تھی۔ میں کیا کرتی بھیا….؟ بھلا محبت پر کبھی کسی کا اختیار رہا ہے۔“ اس نے طلحہ کی طرف چہرہ کیا تو وہ بھی نظریں چرا گیا۔ حرمین کے چہرے کے آنسو گواہ تھے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔

”مجھے فیصلہ کا تو اختیار نہیں طلحہ بھیا! پر میں حارش عالم کو بھی نہیں بھول سکتی۔ جتنا محبت کے سفر میں وہ آگے بڑھ گیا ہے اتنا ہی سفر میں بھی طے کر چکی ہوں۔ کیا آپ میری اور اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتے….؟“ کتنی امیدیں تھیں، آس تھی اسے۔

”ابھی تو وقت ہے ناں پلیز طلحہ بھیا!“ اس نے دونو ںہاتھ اس کے سامنے جوڑے تو وہ خود کو بہت بے بس محسوس کرنے لگا۔

”حرمین! میں نے زندگی میں حارش کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے نہیں دیکھا۔ اتنا خوش بھی وہ کبھی نہیں رہا اور اب مجھے ڈر ہے کہ اگر کچھ غلط ہو گیا تو عمر بھر کے لیے وہ بکھر جائے گا حرمین! تمہاری محبت میں اس نے سارے جہاں کی خوشیاں دیکھی ہیں۔ اسے تو کوئی اور خوشی نظر ہی نہیں آتی سوائے تمہارے، میں اسے ٹوٹتا بکھرتا نہیں دیکھ سکتا۔“

”آپ دادی سے بات کریں ناں بھیا! دادی حارش عالم کی خوشی کے لیے ہر قدم اٹھا سکتی ہیں، حارش کی خواہش پوری کر سکتی ہیں، صرف وہ ہی بابا اور چاچو سے کہہ سکتی ہیں۔“ ایک آخری امید بس دادی ہی تو تھیں اس کی۔ طلحہ نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے۔

”جتنا میرے بس میں ہوا ناں بہنا! میں کوشش کروں گا کیونکہ حارش کی خوشی مجھے اپنی خوشیوں سے بڑھ کر عزیز ہے۔ تم پلیز رو مت۔ ان شاءاللہ اچھا ہو گا۔“ اس نے بکھرتی ہوئی حرمین کو تسلی دی۔ حالانکہ خود اس کے اپنے دل کو ایک لمحے کا سکون نہ تھا۔

ض……..ض……..ض

وہ ابھی آفس سے آیا تھا صحن میں حارش کو لیٹا دیکھ کر اس کے پاس آ گیا۔

”کب آیا تو……..؟“ حارش اس کے بولنے پر اٹھ بیٹھا۔ طلحہ اس سے یوں لپٹ گیا جیسے صدیوں سے بچھڑاہو۔

”تجھے پتہ ہے میں کتنا اداس ہو گیا تھا۔“

”مجھے علم نہیں ہو گا تو کسے ہو گا….؟ چل اب آ گیا ہوں ناں۔“ حارش نے اسے خود سے الگ کیا۔ طلحہ کی آنکھوں کی سطح نم تھی۔

”طلحہ کم آن یار! تُو تو یوں بی ہیو کر رہا ہے جیسے میں دنیا سے چلا گیا۔“

”بک نہیں۔“ اس نے حارش کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

”اچھا جا کے فریش ہو جا پھر باتیں کریں گے۔“ طلحہ سر ہلا کے اندر چلا گیا جب فریش ہوکے لوٹا تو چائے اس کے سامنے حاضر تھی۔

”تو نے بنائی ہے….؟“

”ہاں….کیوں….؟“ حارش نے حیرت سے پوچھا۔

”نہیں ویسے ہی پوچھا تھا، حرمین بناتی ہے ناں۔“

”دراصل میں نے سوچا کہ عادت ڈال لوں۔ پہلے ہی میں اپنی عادتیں بہت بگاڑ چکا ہوں۔ مجھے خود کو دوسروں کا عادی نہیں بنانا چاہیے تھا۔“ وہ خود کو بہت مضبوطی سے سنبھال کے بولا تھا۔ البتہ وہ طلحہ سے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔ ہاتھ میں تھامے کپ کو گھور رہا تھا۔

”حارش! تو ایسے کیوں کہہ رہا ہے۔“ اس کی آواز میں لرزش واضح تھی۔

”کیونکہ طلحہ! میں حقیقت پسند انسان ہوں۔ یہ بات تو اچھی طرح جانتا تھا کہ میں نے کبھی کسی کے آسرے پر زندگی نہیں گزاری۔ میرا ایمان ہے انسان اتنا ہی زندگی میں پاتا ہے جتنا اس کے رب نے اس کی زندگی میں لکھا ہوتا ہے۔ زیادہ کی طلب نہیں ہے مجھے۔ غلطی میری تھی میں نصیب سے بڑھ کر اللہ سے مانگ رہا تھا۔ حالانکہ اس رب نے میرا نصیب لکھ دیا ہے، سو میری قسمت میں جو ہے وہی مجھے ملے گا۔“

”تجھے کس نے بتایا؟“

”کل شام بابا نے فون کیا تھا جلد لوٹ آﺅں۔ تیرا رشتہ بھی تو لے کر جانا ہے حنا کے گھر۔“ اس کی بات پروہ مسکرایا بھی نہیں تھا۔

”حارش!! دادی سے….“

”طلحہ! تو میرا دوست ہے ناں…. مجھ سے وعدہ کر کہ آج کے بعد ہم اب اس ٹاپک پر بات نہیں کریں گے۔ بھول جائیں گے کہ کبھی یہ دن ہماری زندگی میں آئے تھے۔ وعدہ کر کہ بھول کر بھی مجھ سے یہ ذکر دوبارہ نہیں کرے گا۔“ اس کا مضبوط لہجہ طلحہ کو توڑ رہا تھا۔ وہ خود کو کتنا بھی کمپوز کرے وہ جانتا تھا کہ اس کے اندر کتنی توڑ پھوڑ ہے۔ جس کی ہستی بکھر جائے بھلا وہ کیسے….

”وعدہ کر….“ اس نے ہاتھ طلحہ کے سامنے پھیلاتے ہوئے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخ ہو رہی تھیں۔ طلحہ نے دو پل صرف دو پل اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا، تبھی وہ ضبط کے سارے قفل توڑ بیٹھا اور طلحہ سے لپٹ گیا۔

ض……..ض……..ض

وہ اور طلحہ باہر چلے گئے۔ رات گئے لوٹے تھے۔ اب تک وہ کسی سے بھی نہیں ملا تھا تبھی صبح ہوتے ہی دادی آ گئیں۔ اسے خوب پیار کیا، پھر بابا آئے تھے ملنے۔ انہیں آفس جانا تھا سو جلد چلے گئے۔ کاشف بھی ہیلو ہائے کر گیاتھا۔

”ناشتہ ادھر بن گیا تمہارا، نہا دھو لو میں انتظار کر رہی ہوں۔“ دادی نے حکم دیا۔

”دادی! دل نہیں چاہ رہا۔“ وہ کسلمندی سے لیٹا ہوا تھا۔

”تیری طبیعت تو اچھی ہے ناں….؟ دیکھ ذرا آنکھیں کیسے سرخ ہو رہی ہیں۔“ انہیں فکر ہوئی۔ طلحہ ابھی نہا کر آیا تھا، دادی کی بات سن کر اسے دیکھنے لگا۔

”میں ٹھیک ہوں دادی! یہ طلحہ ہے ناں رات بھر باتیں کرتا رہا، جیسے میں برسوں سے بچھڑا ہوا تھا۔ نیند پوری نہیں ہوئی ناں اس لیے سستی ہو رہی ہے۔“ کتنا پرفیکٹ عذر تراشا تھا۔ طلحہ کی سانسیں بھی بحال ہو گئیں۔

”دادی! آج میں نے خود ناشتہ بنایا ہے، آپ بھی ہمارے ساتھ ناشتہ کریں ناں۔“

”آئے ہائے، تجھے کیا پڑی تھی کچن میں گھسنے کی۔ حرمین ابھی لے آتی ہو گی ناشتہ۔ میں نے بچی کو صبح سے لگایا ہوا ہے کہ حارش کے لیے اچھا سا کچھ بنا دے۔ کئی دن کے بعد گھر آیا ہے۔“ انہوں نے طلحہ کو ڈانٹا۔ حارش اٹھ کر واش روم جا چکا تھا۔ نہا کر آیا تو ناشتہ ٹیبل پر لگاتی حرمین پر نظر کی تھی۔ کملایا چہرہ، سوجھی آنکھیں، اس کا چہرہ کھلتا ہوا ہرگز نہیں تھا۔ حارش کے اندر پھر توڑپھوڑ ہونے لگی تھی، لیکن اس نے کمزور نہیں پڑنا تھا۔ اسے حرمین سے کوئی شکوہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ اگر وہ جانتی تھی پہلے سے تو اس سے کہہ دیتی۔ کم از کم وہ خود کو کنٹرول کر لیتا، لیکن اس نے تو اپنی ہر خوشی اس سے وابستہ کرلی تھی۔ اس سے محبت کے بعد تو ہنسنا بولنا سیکھا تھا اس نے اور اب پھر…. وہ خاموشی سے ٹیبل تک آیا تھا۔ حرمین نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کسی کام کے بہانے باہر چلی گئی۔ اس میں حارش عالم کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔

”کل تمہاری چھٹی ہے، کل حنا کے گھر جانا ہے، تیرے بابانے کہا ہے۔“

”جی دادی! بابانے مجھے بتا دیا تھا۔“ وہ ناشتہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔

”احسان چاچو بھی جائیں گے….؟“

”مشکل ہے وہ تو لاہور گیا ہوا ہے، عثمان بھی شہر سے باہر ہے۔ شاید ہی کوئی آئے۔ خیر ابھی رشتہ تو ڈال آئیں۔ اللہ نے چاہا تو منگنی کرنے سب جائیں گے۔“

”ان شاءاللہ۔‘ اس نے تہہ دل سے کہا۔ طلحہ ہولے سے مسکرا دیا۔

”بابا نے تو کچھ اور بھی کہا تھا دادی۔“ وہ کہہ نہیں پا رہا تھا۔

”کیا…. وہ حرمین والی بات۔“

”جی ہاں۔“

”ہاں، وہ فرمان کی خواہش تھی کہ طلحہ کے ساتھ ہی حرمین کا نکاح کر دیتے، مگر اب احسان اور عثمان کے آنے کے بعد ہی بات کروں گی ان سے۔“

”اچھا دادی! میں چلتا ہوں۔ دیر ہو رہی ہے۔ شام میں آپ کے پاس بیٹھ کر باتیں کروں گا۔“

”جیتے رہو، صدا خوش رہو!“ انہوں نے دعاﺅ ںمیں اسے رخصت کیا۔ طلحہ بھی اس کے ساتھ ہی نکل آیا۔

”حارش! دادی سے بات کروں….؟“ اس کی بات کے جواب میں حارش نے غصے سے گھورا تھا اسے۔

”طلحہ! ہم یہ ٹاپک کلوز کر چکے ہیں ناں!“

”تو جی لے گا اس کی محبت کے بغیر….؟“

”ساری عمر میں نے محبتوں کے بناءہی گزاری ہے۔ ایک یہ ہی رشتہ باقی رہ گیا تھا ناں، یہ محبت بھی کر کے دیکھ لی ہے۔ طلحہ تجھے اب بھی اندازہ نہیں ہوا کہ میری قسمت میں محبت ہے ہی نہں۔ میرا وجود صرف ٹھکرانے اور ٹھیس دینے کے لیے ہے۔ تو کیوں چاہتا ہے کہ میں اپنی عزت نفس بھی مجروح کروں۔ مجھے کسی سے کوئی امید نہیں ہے۔ پلیزاور میں نہیں چاہتا اب کسی اور رشتے کو امتحان میں ڈالوں اور جو بچے کھچے رشتے ہیں انہیں بھی کھو دوں۔“ طلحہ اس کے جواب میں کچھ نہ بول سکا، مگر سچ تو یہ تھا کہ اس سے حرمین کا اترا چہرہ اور بکھرا وجود بھی نہیں دیکھا جاتا تھا۔

”مجھ سے حرمین کا چہرہ اور اداسی نہیں دیکھی جاتی حارش….؟“

”قصور بھی تو اسی کا ہے طلحہ۔ اس نے تومیرے وجود کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہیں۔ کاش مجھے پہلے سے سب پتا ہوتا، پر وہ تو جانتی تھی، جانتے بوجھتے بھی اس نے نہ صرف یہ نہیں کہ مجھے منع کرتی خود بھی۔“

”محبت پر بھلا کبھی کسی کا اختیار ہوتا ہے حارش۔“

”اب کسی بھی بات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔“ پتہ نہیں وہ خود کو کیسے اتنا سخت بنا لیتا تھا۔ طلحہ اسے دیکھتا رہ جاتاتھا۔

ض……..ض……..ض

بابا اور دادی کو حنا اور اس کی فیملی اچھی لگی تھی۔ شریف اور سلجھے ہوئے بچے بھی دونوں پڑھے لکھے، تہذیب یافتہ اور باادب تھے۔ انہیں طلحہ کی پسند پر بہت خوشی ہوئی تھی اور انہیں بات کرنا بھی مشکل نہ ہوا تھا۔ حنا کی ماں اور بھائی ہی اس کی کل کائنات تھے اور طلحہ کو وہ لوگ جانتے تھے کیونکہ طلحہ کئی بار ان سے ملنے آ چکا تھا۔ یوں جلد ہی طلحہ کی منگنی طے پا گئی تھی۔ اب بابا چاہتے تھے کہ طلحہ کی منگنی کے ساتھ ہی حرمین کا نکاح بھی ہو جاتا۔ رخصتی حرمین کے پیپرز کے بعدہوجاتی۔

”اماں! آپ احسان سے پوچھ لیتیں نا کہ پھر ہم تیاری کر لیتے۔“

”میں تو کہتی ہوں کچھ دیر ٹھہر جاتا۔ طلحہ کی اگلے ماہ تاریخ لیں گے تب ہی حرمین کا نکاح ہو جائے گا۔“ دو تین ماہ میں کیا ہو جائے گا۔“ کہہ تو اماں بھی ٹھیک ہی رہی تھیں، اس لیے وہ بھی چپ کر گئے۔

”ایک بات کہوں فرمان….“ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں۔

”جی اماں! حکم کریں۔“

”اللہ پاک نے تجھے فرماں بردار اولاد عطا کی ہے، جو تم فیصلہ کر دو، وہ چپ چاپ مان لیتے ہیں، میں احسان سے بات بھی کر لوں، لیکن کیا ایک بار بھی تجھے نہیں لگا کہ حرمین سے پوچھنا چاہیے….؟“ تین چار سال پہلے وہ نا سمجھ تھی۔ اتنا زیادہ شعور نہیں تھا لیکن فرمان! اب مجھے لگتا ہے کہ ایک بار ہمیں بچی سے پوچھنا چاہیے۔ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس دن سے یہ ذکر ہو رہا ہے وہ بہت چپ چپ رہنے لگی ہے، مرجھا سی گئی ہے۔“

”اماں! ٹھیک کہہ رہی ہیں فرمان! شرم جھجک بے شک لڑکی میں ہوتی ہے مگر حرمین کے چہرے پر صرف مایوسی اور اداسی سی نظر آتی ہے۔ میں اس کی ماں ہوں، مجھے بھی کچھ محسوس ہوتا ہے آخر۔“ عالیہ بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

”پر اماں! اب اگر خدانخواستہ حرمین خوش نہ ہوئی تو میں احسان کو انکار کیسے کروں گا، مجھے اپنے بچوں پر یقین ہے، ایسی بات نہیں ہو گی۔“

”لیکن پھر بھی اماں! آپ حرمین سے پوچھیے گا، کیونکہ مجھ سے یا فرمان سے زیادہ بچے آپ کے قریب ہیں، آپ سے ہر بات کر لیتے ہیں، دل کو تسلی ہو جائے گی۔“ عالیہ بیگم بولیں۔ فرمان عالم نے بھی اثبات میں سر ہلایاتھا۔

”اسی لیے تو کہہ رہی ہوں ابھی چپ ہو جاﺅ، میں دھیرے دھیرے ا س سے پوچھوں گی۔ طلحہ کی منگنی اسے خوشی سے انجوائے کرنے دو۔“

”جو آپ بہتر سمجھیں، لیکن پھر بھی صبح چلئے گا، آخر منگنی کے لیے تو ان سب کو بلانا ہے ناں۔“

”کیوں نہیں، اور ہاں! حارش کو بھی کہہ دینا، وہ تو جاتا ہی نہیں کہیں۔ بھلا وہ بھی تو اس کا اپنا گھر ہے۔ احسان اکثر مجھ سے گلہ کرتا ہے کہ حارش ان کی طرف نہیں آتا۔“

”جی اماں! ضرور کہہ دوں گا۔“ انہوں نے فرماں برداری سے جواب دیا۔

ض……..ض……..ض

دادی اور فرمان عالم کے ساتھ اسے دیکھ کر احسان چاچو بہت خوش ہو گئے تھے۔ کتنے عرصے بعد آیا تھا آج عمیر عثمان نے بھی گلہ کیا تھا۔

”تم لوگ بھی تو کتنے دن سے نہیں آئے، مجھ سے شکوہ کر رہے ہو۔“

”بٹ حارش ہم پھر بھی تم سے ملنے آ جاتے ہیں، تم تو بالکل بھی نہیں آتے۔ اپنا نہیں ناں سمجھتے ہمیں۔“ فریال کے گلے پر وہ ہنس دیا۔

”اچھا…. کان پکڑوں یا مرغا بن جاﺅں۔“ وہ شرارت سے بولا تو تینوں ہنس دئیے۔

”آج میرا بیٹا بڑا خوش ہے۔“ پیار تو بابا بھی بہت کرتے تھے اسے، مگر احسان چاچو جس طرح اسے چاہتے تھے، شاید وہ بابا سے بھی زیادہ اسے پیار کرتے تھے۔ جب تک وہ ان کی نظروں کے سامنے ہوتا تھا وہ صرف اسے ہی دیکھتے۔

”طلحہ کی خوشی ہے، چاچو بھلا میں خوش نہیں ہوں گا تو اور کون ہو گا۔“ طلحہ کی خوشی کے لیے اس نے اپنا دل کسی نہاں خانے میں ڈال کر قفل لگا لیا تھا تاکہ طلحہ کی خوشی مدھم نہ پڑے۔

”چاچو! آپ سب نے آنا ہے کل ہی۔“

”کل پھر مجھ سے تو ابھی معذرت لے لو یار۔“ عثمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

”میں پرسوں ہی آﺅں گا، سوری ان فیکٹ آج کل میں بہت مصروف ہوں۔“

”عثمان پولیس آفیسر کتنے مصروف ہوتے ہیں میں جانتا ہوں۔“

”اچھا یعنی تو اپنے بھائی…. کو ایسا پولیس آفیسر سمجھتا ہے۔“ اس نے مصنوعی خفگی سے کہا، وہ مسکرا دیا۔ اسے عثمان سے بالکل بھی جیلسی نہیں تھی، وہ تو صرف اپنے مقدر سے شکوہ کرتا تھا۔

”مذاق کر رہا تھا بھائی جان! سوری….“ اس نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔

”اچھا…. باقی سب تو آئیں گے ناں….؟“

”ڈونٹ وری، سب آئیں گے ان شاءاللہ۔“ عثمان نے اسے یقین دلایا، وہ مسکرا دیا۔ اگلے دن صبح ہی فریال اور عمیر پہنچ گئے تھے چچی جان کے ساتھ۔ ان کے آنے سے گھر کی رونق بہت بڑھ گئی تھی۔ کل کی تیاری کے ساتھ ساتھ مذاق ہنگامہ بھی ہو رہا تھا۔ طلحہ نے آج آفس سے چھٹی کی تھی مگر وہ گیا تھا۔ طلحہ جانتا تھا سارا دن گھر میں رہنا وہ بھی حرمین کے سامنے اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ شام میں البتہ وہ آیا تو سب کو ادھر جمع دیکھ کر دل شانت ہو گیا۔

”دیکھ لیا تم نے، ہم وعدہ کر کے نبھاتے ہیں، صبح ہی آ گئے تھے۔“ فریال کی آنکھوں کی چمک اسے دیکھ کر بڑھی تھی یا شاید حرمین کو محسوس ہوئی تھی۔

”تھینکس سسٹر….“ اس نے مسکرا کر کہا اور فریش ہونے چلا گیا۔

”حارش بالکل سلطان چاچو کی طرح ہے ناں نرمین ویری ہینڈسم اینڈ چارمنگ۔“ وہ مزاج کی ایسی تھی ہر چیز کی کھل کر تعریف کرنے والی۔

”سو تو ہے، ہمارے بھیا بہت پیارے ہیں۔ فریال! حارش بھیا تم سے بڑے ہیں ناں، تو تم انہیں بھائی کیوں نہیں کہتیں۔“ نرمین نے کہا تو وہ منہ کے زاوئیے بگاڑنے لگی۔

”ضروری ہے کیا….؟ تم دونوں ہو ناں بھائی کہنے کے لیے، میرا نہیں دل چاہتا میں نہیں کہتی۔“

”فریال….“

”بس بھئی نرمین! تم بحث کیوں کر رہی ہو فریال کو جو پسند ہے وہ کہہ دیتی ہے۔“ حرمین نے سہولت سے کہا تو نرمین بھی خاموش ہو گئی۔ دادی ان سے دور بیٹھی تھیں، مگر وہ ان کی آوازیں س رہی تھیں۔ ان کی خواہش بھی تھی کہ حارش کے لیے گھر میں سے ہی کوئی لڑکی مل جائے پھر فریال کی پسند بھی تھی شاید، لیکن سب سے اہم حارش کی خوشی تھی۔ حارش فریش ہو کر ان کے پاس آیا تھا اور ان کی گود میں لیٹ گیا۔

”آج تھک گیا ہوں دادی! سر بھی دکھ رہا ہے بہت۔“

”چائے بنواتی ہوں تیرے لیے، سردرد ٹھیک ہو جائے گا۔“ انہوں نے پیار سے اس کے سر میں ہاتھ پھیرا اور حرمین کو چائے کے لیے کہنے لگیں، وہ بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں جس سے بہت سکون مل رہا تھا۔

”حارش! تو کب کرے گا شادی….؟ میری بھی خواہش ہے کہ تجھے ہنستا بستا دیکھوں۔“

”دادی! ہنسنے کے لیے شادی ضروری ہے کیا….؟“ اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے دادی کو دیکھا۔

”حارش! مذاق مت کر۔ دیکھ طلحہ کی شادی کی تاریخ جب لیں گے تب تک تیرے پاس ٹائم ہے بس، دونوں کی ساتھ ہی کر دیں گے۔“

”کیوں آپ کو میری سکھی زندگی پسند نہیں ہے دادی۔ دراصل ابھی میں اس جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتا اور ویسے بھی طلحہ نے تو لڑکی پسند کر رکھی تھی، میں….“

”حارش! ایک بات کہو….؟ مانے گا ناں….“

”کیا دادی….؟“

”اگر میں خاندان میں سے تیرے لیے کوئی دیکھ لوں، کیا تو میری پسند سے شادی کرے گا۔“

”خیریت ہے ناں….؟ آپ نے کوئی لڑکی پسند کر لی ہے کیا….؟“ وہ دادی کی باتوں کومحض مذاق سمجھ رہا تھا۔

 ”یہی سمجھ لے، فریال مجھے تیرے لیے بہت….“

”دادی….“ وہ اٹھ بیٹھا، وہ صرف مذاق سمجھ کر ایزی لے رہا تھا، لیکن دادی تو کچھ اور ہی سوچے بیٹھی تھیں۔

”سوری دادی! وہ میری بہن ہے، پلیز دوبارہ ایسا مت کہیے گا۔“

”خاندان میں ….“

”خاندان صرف فریال پر ختم ہو جاتا ہے، جب میں خاندان سے پسند….“ یکدم ہی جیسے اسے بریک لگ گئی، وہ کیا کہنے جا رہا تھا۔

”او گاڈ….“ اس نے سر تھام لیا، تبھی حرمین اس کے لیے چائے لے آئی۔

”سوری دادی! لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔“ وہ چائے پئیے بغیر ہی باہر نکل گیا۔ دادی چپ ہو گئیں لیکن وہ کیا بات کہہ رہا تھا، جو ا س نے ادھوری چھوڑ ، وہ الجھ گئی تھیں۔ اندازہ تو حارش کو بھی تھا کہ اس نے غلط بات کہہ دی ہے اور رات کو وہ طلحہ سے یہی کہہ رہا تھا۔

”پھر دادی نے تفصیل نہیں پوچھی….؟“

”نہیں…. بٹ یار!مجھے کم از کم خود پر اتنا کنٹرول ہونا چاہیے تھا ناں…. طلحہ! میری زندگی کے وہ چند دن شاید میرے لیے عمر بھر کا روگ بن گئے ہیں لیکن یار! میں ساری زندگی میں شاید کبھی اتنا خوش نہ رہ سکوں جتنا ان چند دنوں میں، میں نے خوشی دیکھی طلحہ! کیا میری قسمت میں خوشی ہے ہی نہیں….؟“

”حارش! تو ا س طرح مت سوچا کر۔“ اس کے پاس حارش کو تسلی دینے کے لیے بھی لفظ نہیں تھے۔

”طلحہ! آئی رئیلی لَو ہر…. آئی ڈونٹ نو کہ اس کے دل میں بھی میر لیے اتنے ہی شدید جذبات ہیں یا نہیں….؟ مجھے شدید خواہش تھی کہ میں اپنی محبت کے اعتراف میں اس کے لبوں سے صرف ہاں سنو،مگر اب جبکہ یہ خواہش بھی میرے اختیار میں نہیں ہے لیکن وہ میرے سامنے آئی تھی طلحہ! تو مجھے خود پر اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ طلحہ! ہم اپنے پرانے گھر میں واپس چلیں، وہاں کم از کم یوں مجھے دن رات یہ اذیت تو نہیں سہنی پڑے گی۔ ہو سکتا ہے وہ سامنے نہ ہو تو اسے بھولنا آسان ہو جائے۔ طلحہ میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ وہ تمام لمحے میرے ذہن سے محو ہو جائیں مگر میں ناکام ہو گیا ہوں۔“ اس لمحے کوئی حارش عالم کو دیکھتا جو سب کے سامنے خود کو فولاد ظاہر کرتا ہے، کس قدر بکھرا ہوا تھا، کہ اس کے عزیز دوست کو بھی وہ لفظ نہیں مل رہے تھے کہ جن سے وہ اسے تسلی ہی دے دیتا۔

ض……..ض……..ض

طلحہ کی منگنی بہت دھوم سے ہوئی تھی اور سب نے انجوائے کیا تھا۔ حارش کو دیکھ کر طلحہ کو اپنی خوشی بھی اچھی نہیں لگتی تھی، مگر حارش ان دو دنوں میں بہت مصروف رہا اور بظاہر وہ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا۔ آفٹرآل طلحہ کی خوشی اس کے لیے بہت اہم تھی۔ احسان چاچو اور عثمان بھی ان کے گھر دو دن رہے تھے۔ اسے یہ سب بہت اچھا لگا تھا۔

دو دن بہت مزے میں گزرے تھے لیکن اگلے دن سب چلے گئے اور گھر میں پھر وہی خاموشی چھا گئی۔ احسان چاچو دادی کو بھی لے گئے تھے۔ اب اسے دادی کی عادت سی ہو گئی تھی۔ شام میں گھر لوٹتا تو دادی بیٹھی ہوتی تھیں، آج نہیں تھیں۔ دل نہ لگا تو بابا کی طرف آ گیا۔ وہاں سب اکٹھے بیٹھے تھے۔ وہ بھی کاشف کے پاس بیٹھ گیا۔

”کیا ہوا….؟ بڑا اُداس لگ رہا ہے….؟“

”دادی! نہ ہوں تو گھر میں دل نہیں لگتا۔“

”اچھا ہوا تم آ گئے، ہم ڈسکس کر رہے تھے کہ طلحہ کی تاریخ کب تک لیں۔ظاہر ہے انہیں تو ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دو تین ماہ میں شادی کر دیں گے۔“

”یہ تو بابا آپ کا کام ہے، آپ کی جب مرضی ہو۔“

”بیٹا! میں نے سنا ہے کہ آپ دوبارہ اسی گھر میں شفٹ ہونے کا سوچ رہے ہو۔“ ان کی بات پر وہ خاموشی سے سر جھکا گیا۔

”حارش! کوئی پریشانی ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے، تم ہم سے شیئر کرو بیٹا! حل نکالیں گے، یہ تو کوئی حل نہیں ہے کہ آپ ہمیں چھوڑ کر اتنی دور جائیں، ہم سے کوئی غلطی ہو گئی کیا….؟“

”ارے نہیں بابا! وہ تو بس…. دراصل وہاں مجھے آفس قریب پڑتا ہے، آپ پلیز ایسی باتیں مت سوچیں۔“ ان کی بات پر وہ شرمندہ سا ہو گیا۔ طلحہ کو بھی اس نے خوب ڈانٹا تھا کہ اس نے بابا کے سامنے یہ ذکر بھی کیوں کیا۔ پچھلے دنوں وہ بہت جذباتی سا ہو گیا تھا مگر اب بابا پھر دادی کے بارے میں سوچا تو اسے یہ فیصلہ غلط لگا اور وہ خاموش ہو گیا۔

ض……..ض……..ض

دن کس طرح گزرے علم نہ ہوا کہ طلحہ کی شادی بالکل قریب آ گئی۔ اب جبکہ فرمان چاہتے تھے حرمین کا نکاح بھی ساتھ ہو جائے انہوں نے اپنی ماں سے بات کی تھی اور وہ خود احسان سے بات کرنے کی غرض سے ہی آئی تھیں۔ ان کی بات سن کر کئی لمحے کے لیے تو سب بالکل خاموش سے ہو گئے تھے پھر احسان عالم نے ہی ہمت کی۔

”اماں! مجھے یاد ہے فرمان بھائی سے جو میں نے کہا تھا، ہمیشہ سے میری خواہش رہی ہے کہ حرمین میرے گھر میں آئے اور میں اب بھی یہی کہتا ہوں مگر اماں! عثمان ابھی شادی کے لیے راضی نہیں ہے، کم از کم دو سال تک، بس اسی لیے ہم خاموش ہیں۔“

”نکاح تو ہو سکتا ہے ناں….؟“

”دادی! نکاح ہو سکتا ہے مگر، صرف سال دو سال کی بات ہے، مجھے اپنا کیریئر بنانا ہے، آپ لوگ جانتے ہیں میری جاب ابھی نئی نئی ہے اور مجھے محنت کرنی ہے، صرف اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ میری توجہ میری جاب پر ہو۔“

”احسان! فرمان سے کیا کہوں پھر….؟“ دادی کو عثمان کا ریزن پسند نہیں آیا تھا۔ سچ یہ تھا کہ وہ دل میں برا مان گئی تھیں۔ ادھر فرمان عالم پوری تیاری سے بیٹھے تھے اور یہاں عثمان نے ایک طرح سے منع ہی کر دیاتھا۔

”اماں! میں فرمان بھائی سے بات کروں گا اور آپ بھی سمجھا دیجئے گا، اب بھلا آج کل کی اولاد کہاں سمجھتی ہے ہماری باتیں۔“

”احسان! فرمان کے بچے ہیں، جیسا ان کے والدین نے کہہ دیا بچے ذرا بھی نہیں بولتے۔“

”دادی! آپ خفا کیوں ہو رہی ہیں، میں نے منع تو نہیں کیا ناں۔“ عثمان نے منہ بسورا۔

”جیسے تم لوگوں کی مرضی، مجھے فرمان کی طرف چھوڑ آﺅ، حارش تو بولایا بولایا گھوم رہا ہو گا، وہ مجھے خود سے دور نہیں جانے دیتا۔“

”صبح چلی جائیے گا ناں اماں!“ احسان کو اپنی ماں کا علم تھا کہ وہ خفا ہو گئی ہیں۔ وہ کیا کرتے جب بیٹے نے منع کر دیا تھا۔

”بچے صبح بھی جانا اب بھی، پھر بھی چھوڑ آﺅ۔“ انہو ںنے سنجیدگی سے کہا۔

”عمیر! بچے ذرا مجھے گھر تو چھوڑ دے۔“ اندر آتے عمیر کو دیکھتے ہی وہ جیسے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

”کیوں دادی….؟ آج ہمارے پاس رکیں ناں۔“

”اوہو…. میرا بچہ مجھے یاد کر رہا ہو گا تو مجھے لے چل بس۔“ عمیر نے حیرت سے پہلے دادی کو پھر پپا، مما، عثمان کو دیکھا جن کے چہروں پر چھائی خاموشی اسے عجیب سی لگی تھی۔ وہ دادی کے حکم پر موٹر سائیکل باہر نکالنے لگا۔

ض……..ض……..ض

طلحہ کی شادی بالکل سر پر تھی۔ گھر میں سب انجوائے کر رہے تھے بہت خوشی سے۔ کارڈ تقریباً ہر جگہ تقسیم ہو چکے تھے۔ کیونکہ یہ ذمہ داری کاشف کے سر تھی۔

”سوچ لو طلحہ! اگر اور کسی کو بلانا ہو تو….“ آج شام جب اکٹھے بیٹھے سب تو کاشف نے کہا۔

”ورنہ پھراپنے دوستوں کی طرف گیا تو کارڈز نہیں بچیں گے۔“

”حارش! تم نے کسی کو بلانا ہے….؟“ طلحہ نے اسے دیکھا جو بہت خاموشی سے بیٹھا تھا۔

”نہیں…. یو نو…. تمہارے علاوہ میں کسی کو نہیں جانتا اور ویسے بھی بہت زیادہ دوست بنانا میری ہوبی نہیں ہے۔“

”سوچ لے…. ایک بار پھر۔“ گہری پُرسوچ نظریں جب طلحہ کی بات پر اٹھیں تو طلحہ نے اَبرو اچکا دیں۔ وہ سر جھٹک گیا۔

”بابا! میں کسی کو بلانا چاہتا ہوں، اگر آپ لوگوں کو اعتراض نہ ہو تو۔“ طلحہ کی بات پر تقریباً سب ہی حیران ہوئے تھے۔

”بیٹا! ہمیں کیوں اعتراض ہو گا، آپ کے مہمان ہمارے مہمان، ہمیں تو خوشی ہو گی۔“

”حارش! تجھے تو اعتراض نہیں ہو گا….؟“

”آئی تھنک طلحہ! تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔“ اس کے چہرے کا زاویہ قدرے بگڑا تھا۔

”بابا! میں شگفتہ آنٹی کو بلانا چاہتا ہوں، بلکہ میں انہیں یہاں لانا چاہتا ہوں، اپنے گھر میں، تاکہ وہ ہما….“

”ہرگزنہیں….“ وہ یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ چہرے پر آنے والی سختی پر سب حیران تھے۔

”میں نے فیصلہ کر لیا ہے حارش!“ کتنے حیرت کی بات تھی کہ آج ان دونوں کے درمیان اختلاف تھا، صرف ایک بات کو لے کر جنہو ںنے آج تک ہمیشہ ایک دوسرے کی ہر خوشی کا خیال رکھا تھا۔

”پھر ٹھیک ہے…. میں ہی چلا جاتا ہوں، لیکن اس گھر میں ان کے ساتھ رہنا مجھے منظور نہیں ہے۔“ اللہ جانے اس کا دل کیوں اتنا سخت ہو گیا تھا کہ وہ اپنی ماں کے سامنے تک آنے کو تیار نہ تھا۔

”صرف تیری بے کار کی ضد کی وجہ سے میں انہیں اب مزید وہاں نہیں چھوڑ سکتا۔“ طلحہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے مقابل آ گیا، اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔

”تم جانتے ہو حارش عالم! تمہاری ماں کیسی زندگی گزار رہی ہے۔ اعظم انکل کے انتقال کے بعد ان کے بچوں اور بہوﺅں نے ان کا جینا دوبھر کر دیا تھا، تنگ آ کر وہ اپنے بھائی کے گھر آ گئیں لیکن اپنے ماموں اور ممانیو ںکے خوش اخلاق روئیے تو تم بھی دیکھ چکے ہو، اپنے بیٹے کے ہوتے ہوئے وہ دوسروں کے در پر رہ رہی ہیں، وہ بھی اتنی بری حالت میں، کل میں نے انہیں دیکھا تو…. میں برداشت نہ کر سکا۔ کم از کم مجھ سے ان کی اس قدر بری حالت نہیں دیکھی جاتی۔ سو فیصلہ ہو چکا کہ اب وہ یہاں رہیں گی، میں کل انہیں لے آﺅں گا۔“ طلحہ اپنی بات ختم کر کے رکا نہیں تھا۔ وہ بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔

ض……..ض……..ض

حارش کی ضد اور غصے سے وہ واقف تھا۔ جانتا تھا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، مگر وہ اس کی ماں تھیں، ان کی بھی مجبوریاں تھیں۔ بھائی بھابیاں ان کی شکل دیکھ کر خوش نہ تھیں۔ دوسرا نکاح اسی لیے کیا تھا، وہ نہیں چاہتی تھیں کہ خدانخواستہ ان کا دوسری دفعہ پھر…. گھر اجڑے وہ اسی لیے اعظم علی اور ان کے گھر والوں کی ہر بات سہہ لیتی تھیں۔ حارش کے ساتھ بھی وہ اکثر زیادتی کر جاتی تھیں۔ مگر ان کا مقصد صرف گھر بسانا تھا۔ وہ چاہتی تھیں حارش کے لیے بھی گھر میں اور ان کے دلوں میںجگہ بنالیں مگر وہ ناکام رہیں اور اپنے ذرا سے سخت روئیے کی وجہ سے اپنا بیٹا کھو دیا۔ وہ ان سے بددل ہو گیا اور گھر تک چھوڑ گیا، لیکن اب جب ان کا شوہر ہی نہیں رہا تھا تو…. اور بیٹے اور بہوﺅں نے ان کا جینا دشوار کر دیا۔ ان بچوں کے لیے انہوں نے ہر تکلیف برداشت کی اور اب انہوں نے ہی گھر سے نکال دیا۔

طلحہ کو جب ساری صورتحال کا علم ہوا تھا اس نے فوراً فیصلہ کر لیا تھا۔ صرف ایک بار وہ حارش کو سمجھانا چاہتا تھا، اس کے دل میں جو بھی تھا وہ ختم کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے وہ غصہ ختم کر کے رات کو جب گھر آیا تھا تو اس کا پکا ارادہ تھا کہ وہ حارش کے ساتھ پیار سے بات کرے گا۔ اسے یقین تھا کہ حارش ضرور مان جائے گا۔ لیکن جیسے ہی وہ گھر آیا اور کامن روم میں داخل ہوا تو حیرت سے گنگ رہ گیا، شگفتہ آنٹی بیٹھی تھیں اور حارش عالم ان کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خواب تھا یا فلم مگر…. جب آنٹی نے اسے پکارا تو وہ….

’:’طلحہ! آ جاﺅ بیٹا…. وہاں کیوں کھڑے ہو۔“ حارش نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا پھر اسی طرح لیٹ گیا۔ وہ ان کے قریب آ گیا۔

”آنٹی! آپ یہاں….“

”حارش لینے گیا تھا مجھے۔“ ایک اور حیرت کا جھٹکا تھا جو طلحہ کو لگا تھا۔

”حارش! تو….“

”ہاں…. اس لیے کہ تو نے مجھے کبھی بتایا ہی نہیں تھا کہ مما اتنی تنگ زندگی گزار رہی ہیں، میں لاتعلق تھا کہ مما اپنے گھرمیں خوش ہوں گی۔ مجھے نہیں علم تھا کہ اعظم علی کے بعد ان کے بچے، اتنے بدلحاظ ہو جائیں گے کہ اپنی ماں کا وجود بھی نہیں برداشت کریں گے۔ وہ ماں جنہوں نے ان بچوں کی خاطر اپنی ذات بھی بھلا دی تھی۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

”حارش! میں جانتی ہوں بچے کہ میں نے تمہارا ساتھ نہیں دیا۔“

”نو مما پلیز…. اب پرانی کوئی بات نہیں ہو گی۔ آپ اب اپنے گھر میں ہیں، یہاں صرف آپ کا حکم چلے گا اور طلحہ کی شادی کی خوشیاں ہوں گی بس….“ وہ پرانی کسی یاد کا ذکر بھی نہیں سننا چاہتا تھا کیونکہ اس کے پرانے زخموں میں تکلیف شروع ہو جاتی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ خوشی کے اس موقع پر ایسا کچھ بھی ہو۔

ض……..ض……..ض

شگفتہ بیگم کے آنے سے ان کی خوشیاں دوگنی ہو گئی تھیں۔ حارش کے اس قدم پر سب بہت خوش تھے، خاص کر دادی، جنہوں نے بہت چوما تھا اسے۔

”بیٹا! تو نے جو کیا ہے اس سے بڑھ کر میرے نزدیک کوئی کام نہیں۔ ماں کا سایہ بچے کے لیے گھنی چھاﺅں ہے۔ آئندہ کبھی اپنی ماں کو خود سے دور نہ کرنا سمجھے۔“ جواباً اس نے صرف سر ہلایا تھا۔ طلحہ کو جو ایک کمی سی محسوس ہو رہی تھی، اپنی ماں کی، شگفتہ آنٹی نے وہ بہت حد تک کم کر دی تھی، لیکن پھر جب ابٹن مہندی کی رسم شروع ہوئی اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ ظاہر ہے اس وقت میں وہ اپنے ماں باپ دونوں کی کمی شدت سے محسوس کر رہا تھا، حارش اس کا اترا چہرہ دیکھ رہا تھا۔

”طلحہ! اس وقت سارے مہمانوں کی نظریں تجھ پر ہیں اور تو نے شکل پر بارہ بجائے ہوئے ہیں۔“

”حارش! میں نے خود کو بہت سنبھالا ہے یار، مگر ماںباپ تو، ماں باپ ہوتے ہیں۔ میں لاکھ دھیان بٹا لوں مگر آج ان دنوں جو میری زندگی کے اہم ترین دن ہیں،میں انہیں بہت مِس کر رہا ہوں۔“

”میں تیری فیلنگز سمجھتا ہوں طلحہ۔“ اس نے کاندھے پر بازو پھیلا کر اسے قریب کیا۔

”مگر ہم انسان بے بس ہیں، جو اس کی رضا، جو ہم سب کا مالک ہے۔ تو ہی تو کہتا ہے، وہ ہمارے لیے ہمیشہ ہم سے بہتر سوچتا ہے، پھر کیوں دکھی ہو رہا ہے۔ سچ پوچھو تو پھپھو تو مجھے بھی بہت یاد آ رہی ہیں۔ انہوں نے ہمیں پال کر اتنا بڑا کیا، کتنا ارمان تھا انہیں یہ دن دیکھنے کا اور آج جب وہ دن آیا تو پھپھو ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔“ حارش نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا۔

”پلیز…. آپ طلحہ بھیا کو مزید اداس کر رہے ہیں۔“ اس کی اچانک آواز پر وہ دونوں چوک گئے تھے کہ اس قدر ہنگامہ میںبھی ان پر کسی کی توجہ ہے اور ظاہر ہے وہ صرف حرمین عالم ہی ہو سکتی تھی کہ یہ ہمدردی کا جذبہ محترمہ میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ حارش نے ایک نظر اس پرڈالی پھر نگاہیں پلٹ گئیں۔

”بھیا پلیز…. آپ اداس بالکل بھی اچھے نہیں لگتے اور کیا آپ کو ہماری چاہتوں میں کبھی کوئی کمی محسوس ہوئی ہے جو آپ اداس ہو رہے ہیں، اس کا مطلب تو یہ ہوا ناں کہ آپ ہمیں اپنا نہیں سمجھتے۔“ وہ محض طلحہ کو اس احساس سے باہر لانا چاہتی تھی جس کے زیراثر وہ تھا۔

”حرمین!“ طلحہ نے اسے دیکھا جو مصنوعی خفگی چہرے پر سجائے کھڑی تھی۔

”ارے نہیں بہنا! ایسا کیوں سوچا تم نے، میں تو بہت خوش نصیب ہوں اس معاملہ میں کہ مجھے اتنے اچھے اور چاہنے والے رشتے ملے، تم جیسی بہن ملی جو دوسروں کی خوشی کا کتنا خیال رکھتی ہے۔“

”اور دوسروں کو دکھ بھی گہرے دیتی ہیں۔“ اس نے یکدم کہا تو وہ دونوں چپ ہو گئے۔ حارش وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ حرمین کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی، لیکن صرف طلحہ کے خیال سے اس نے خود کو کمپوز کیا اور مسکرا دی۔

”میں تو آپ کو صرف تنگ کر رہی تھی بھیا! تاکہ آپ کا موڈ اچھا ہو جائے۔ اب پلیز آپ اداس مت ہونا۔“ اس نے بالکل نارمل لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا، طلحہ بھی مسکرا دیا تھا۔

ض……..ض……..ض

شادی کے ہنگامے شروع ہو چکے تھے اور آج مہندی کی رات تھی جہاں کاشف نے تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دی تھیں گھر کی سجاوٹ کی ذمہ داری بھی اس نے بخوبی ادا کی تھی کہ دونوں گھر پوری طرح جگمگا رہے تھے۔ حارش کی غائب دماغی تو ویسے تو سب ہی نوٹ کر رہے تھے کہ آج کل گھر میں جس قدر کام بڑھ گئے تھے ان کی غائب دماغی بھی عروج پر تھی۔ وہ یوں تمام کام انجام دے رہا تھا جیسے زبردستی باندھ کے کرائے جا رہے ہوں۔ گھر سے باہر رہنے کو زیادہ فوقیت دیتا۔ پہلے تو سب اس کی وجہ شگفتہ بیگم کی آمد سے منسلک کرتے رہے، مگر جب حارش اور ان کا پیار دیکھا جس میں کسی رنجش کی شبیہ تک نہیں ملتی تھی تو پھر الجھ گئے۔ پوری مہندی کے فنکشن میں وہ طلحہ کے ساتھ جڑا بیٹھا رہا۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ یہاںہو کر بھی نہیں تھا یہاں۔ کسی کے بلانے پر یوں چونک جاتا تھا جیسے نیند سے جاگا ہو۔

”حارش….!“ فریال کی آواز پر وہ یوں ہی چونکا تھا۔ حرمین اور نرمین بھی اس کے ہمراہ تھیں۔

”تم ٹھیک ہو….؟ مجھے نہیں لگتا کہ تم نے آج انجوائے کیا ہے۔“

”میں ٹھیک ہوں، انجوائے کر رہا ہوں۔“ زبردستی لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی تھی۔ مگر حرمین عالم پر نظر جیسے ٹھہری وہ بھی غائب ہو گئی۔

”کیا انجوائے کر رہے ہو، رسم ختم ہو گئی، آدھے سے زیادہ مہمان چلے گئے، اب بچا کیا ہے….؟“

”سوری فریال! میرے سر میں درد تھا ناں۔“ اس کے لب سکڑ گئے۔ اٹھ کر جانے لگا تو طلحہ نے بازو تھام لیا۔

”ڈیئر سسٹرز! تم کیوں پاجی کے ساتھ اپنا مزہ بھی کرکرا کر رہی ہو، جا کے انجوائے کرو۔“ طلحہ نے انہیں ٹالا۔

مگر وہ جانتا تھا حرمین کی آنکھوں میں ٹھہرا پانی کیا چاہتا تھا، طلحہ نے آنکھوں کے اشارے سے اسے حوصلہ دیا تھا۔ وہ لب کچلتی وہاں سے ہٹ گئی۔ نرمین اور فریال بھی مہندی لگانے کے لیے چلی گئیں۔

”تجھے نہیں لگتا حارش عالم! تم خود کو عیاں کر رہے ہو سب پر، اس طرح بی ہیو کر کے۔“ طلحہ کی بات بہت گہری سہی مگر وہ جانتا تھا سمجھتا تھا، لیکن ان دنوں جتنا وہ اس سے دور جانا چاہتا تھا وہ اس قدر ہی سامنے آ جاتی۔ حارش عالم کی زندگی میں کسی محبت کا وجود پہلی بار آیا تھا۔ صحیح معنوں میں حرمین عالم وہ ہستی تھی جس نے اس کے اندر ہلچل مچائی تھی۔ جذبات و احساسات جگائے تھے۔ بھلا اس سے الگ ہونا، اسے بھولنا اتنا آسان تھا۔ اس کی حیات میں نرم جذبے جگانے والی وہ واحد لڑکی تھی، اس نے تو حارش عالم کو سرتاپیر بدل ڈالا تھا۔ اس کے لبوں کو ہنسنا سکھایا تھا۔ اپنی ذات کا احساس دلایاتھا اور پھر خود ہی سارے خواب چکناچور کر ڈالے اس کی آنکھوں سے نوچ کر۔ اسے حرمین سے یہ ہی گلہ تو تھا کہ وہ سب جانتے ہوئے بھی اس کے ساتھ اس کے جذبات کے ساتھ کھیلتی رہی، کاش وہ پہلے جان لیتا تو….

”آج کل میرا خود پر سے اختیار ختم ہو گیا ہے طلحہ! نہیں رہے میرے احساسات میرے بس میں۔“ اس وقت شاید وہ خود سے بھی خفا تھا، تبھی تو بے بس لہجے میں غصہ بھی موجود تھا۔

”پھر مان لے ہار۱ شاید اسی میں تیری جیت ہو۔“ طلحہ کی ذومعنی بات اس کے قطعی پلے نہیں پڑی تھی۔ وہ اسے گھورنے لگا۔

”اور مجھے لگتا ہے طلحہ احمد خوشی سے تیرے دماغ کے سارے اسکرو ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی طلحہ اس کی بے بسی پر مسکرایا تھا حالانکہ حارش کی یہ حالت بذات خود اس کے لیے تکلیف کا باعث تھی۔

”ابھی بھی وقت ہے حارش! حرمین کا نکاح پھر سے کینسل ہو چکا ہے، جانے میرا دل کیوں کہتا ہے کہ وہ رب یہ ہی چاہتا ہے کہ تو ذرا سا اپنی ناک کو نیچے لا کر دادی سے بات تو کر، وسیلہ تو اللہ بناتا ہے ناںیار۔“

”تو پاگل ہو گیا ہے طلحہ! اور بس۔“ حارش نے افسوس بھرے اندازمیں کہا۔

”نکاح اس لیے تھوڑا سا لیٹ ہو گیا کیونکہ عثمان ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ اس میں یہ بات کہاں واضح ہے کہ وہ اس رشتے سے انکاری ہے یا خوش نہیں ہے۔ یار! وہ میرے لیے بھائیوں کی طرح ہے،میں اتنا گرا ہوا قدم کیوں اٹھاﺅں گا، اتنے عرصے سے حرمین اس سے منسوب ہے، سوچ طلحہ! اس نے کتنے خواب سجائے ہوں گے، کتنے جذبات و احساسات اس بندھن سے جڑے ہوں گے۔“

”تو پھر اپنے دل کو سمجھا لے، مجھ سے تیری یہ حالت نہیں دیکھی جاتی، میری اتنی بڑی خوشی ہے مگر حارش! تجھے دیکھتا ہوں تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا۔“ اس نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا تھا۔ حارش نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں دکھ اور تکلیف نمایاں تھے۔ وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہا تھا مگر صرف اس کی وجہ سے وہ اپنی ہر خوشی پر دل سے انجوائے نہیں کر پا رہا تھا۔

”آئی پرامس…. اس کے بعد سے کبھی تو میری آنکھوں اور لبوں پر یہ اداسی نہیں دیکھے گا۔“

”حارش عالم! شاید تجھے خود اندازہ نہیں ہے کہ تیری آنکھوں میں تو عکس ہی اس کا چھلکتا ہے، ان آنکھوں کا کیا کرے گا….؟“

”کاش میں انہیں نوچ کر پھینک سکتا۔“ اس نے لب کچلے۔

”نکال سکتا ہے تو اسے دل سے نکال دے، اپنی روح سے نکال دے، کیونکہ وہ تو حارش عالم کی روح میں سما گئی ہے۔“

”پلیز طلحہ! ٹیل می…. کیا کروں میں….؟ مجھے خود سمجھ نہیں آتا کہ اس نے مجھے اس قدر کمزور کر دیا ہے،میرا خود پر اختیار ختم ہو گیا ہے۔“ وہ ہار گیا تبھی طلحہ کے ہاتھ جھٹکتا اندر کی طرف تیز قدموں سے چل دیا۔ مگر ہال روم میں ہی وہ ٹکرا گئی جس سے وہ بچ کر جانا چاہتا تھا۔ رائل بلیو اور وائٹ کنٹراسٹ کے سوٹ میں بالکل اس کے سامنے ہی تو کھڑی تھی وہ، چمکتا چہرہ اور اداس آنکھوں میں پانی لیے۔ وہ یوں رکا گویا وقت رک گیا۔ کتنے لمحے گزر گئے مگر حارش عالم اس کے چہرے سے نظر نہ ہٹا سکا۔ پھر جیسے یکدم وہ ہوش میں آیا تھا۔ نگاہوں کا زاویہ بدلا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

”حارش….“ حرمین عالم نے اپنی ساری ہمت مجتمع کر کے اسے پکارا تھا۔ حارش عالم کے بڑھتے قدم رک گئے، مگر وہ پلٹا نہیں تھا۔

”میں گناہ گار ہوں آپ کی کہ میں نے سچائی جانتے ہوئے بھی آپ سے چھپائی لیکن…. مجھے خود علم نہ ہوا کہ میں نے یہ کب اور کیوں کیا….؟ شاید اس لیے حارش کہ محبت واقعی ارادے، نیت اور وقت مقرر کر کے نہیں کی جاتی، ورنہ میں کبھی یہ غلطی نہ کرتی آپ سے محبت کرنے کی۔ میری زندگی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی مگر مجھے کبھی اس چیز کا احساس نہیں رہا، کیونکہ تب تک آپ میری زندگی میں نہیں آئے تھے۔ لیکن آپ کے آنے کے بعد مجھے دھیرے دھیرے خود کا ادراک ہوا۔ آپ کی دیوانگی، آپ کی چاہت سے میں لاکھ منہ موڑتی رہی، خود کو بچاتی رہی، پر جانے کب میںاس آگ میں جل پڑی۔ آپ کی ناراضی سہنا میرے بس سے باہر تھا۔ آپ روٹھ جاتے بات نہ کرتے مجھ کچھ اچھا نہ لگتا۔ اور میں خود سے ہار جاتی صرف آپ کی خوشی کے لیے۔ آپ کی ہر ضد مان لیتی تھی۔ میں جانتی تھی کہ آپ کے لبوں نے ہنسنا کیوں سیکھا ہے۔ آپ کی آنکھوں میں جو عکس ہے وہ کس کا ہے۔ پھر بھلا کب تک، کب تک میں خود پر جھوٹے پہرے ڈالتی کہ میرا دل تو آپ کا اسیر ہو چکا تھا۔ بس یہی میری خطا ہے کہ صرف میںآپ کی محبت میں کھو کر اس کڑوے سچ کو فراموش کر گئی، اس امید پر کہ شاید رب میری تقدیر بدل دے، اور اس میں حارش عالم کے نام کی خوشیاں ڈال دے، مگر امید امید ہی رہی۔ لیکن حارش! میں آپ کا سامنا کرنے کی ہمت خود میں نہیں کرپاتی۔ آئی نو آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں آپ کے سامنے نہ آﺅ مگر شاید ہم دونوں اپنی اپنی جگہ مجبور ہیں۔ حارش! میں اتنا اندازہ تو کر سکتی ہوں کہ آپ کب کیا چاہتے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ آپ کے سامنے نہ آﺅں، لیکن آج کل شاید ایسا ممکن نہیں ہے۔ سو پلیز مجھے معاف کر دیجئے گا۔ میں جانتی ہوں کہ میں نے آپ کا دل توڑا ہے مگر پھر بھی شاید جب یہ سچ آپ کے منہ سے سنتی ہوں تو دل بہت دکھتا ہے، سہہ نہیں پاتی پلیز….“ حرمین نے اس کے سامنے آ کر ملتجی نظروں سے اسے دیکھا۔ حارش کی نظریں اٹھیں اور اس کی آنکھوں میں کھو گئیں۔ حرمین کے اتنے واضح اعتراف نے ایک بار پھر اس کے اندر ہلچل مچائی تھی۔ جانے اسے کیا سوجھی کہ اس نے حرمین کو کاندھوں سے تھام کر جھنجھوڑ ڈالا۔

”جب سب کچھ جانتی ہو مانتی ہو کہ حارش عالم تمہارے وجود کے بغیر ادھورا ہے، پھر انکار کیوں نہیں کر دیتیں۔ تم بھی تو محبت کرتی ہو ناں مجھ سے، رہ لو گی عثمان کے ساتھ….؟ بھول پاﺅ گی مجھے….؟“ حرمین کی آنکھوں سے سیال مادہ بہہ نکلا، کتنی بے بس تھی وہ۔ کاش…. اس سے کچھ کہہ پاتی، وہ تمام باتیں جو اس کے دل میں چیختی تھیں، ہنگامہ برپا کرتی تھیں۔

”پلیز حرمین! میں جی نہیں سکتا تمہارے بِنا پلیز….“ اس نے حارش عالم کی بے بسی آنکھیں بند کر کے سنی تھی، آنکھیں کھولتی تو شاید۔

”تم منع کیوں نہیں کر دیتیں۔“ اس نے ایک بارپھر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ یہ روبرو ان کا ایک دوسرے سے پہلا اعتراف تھا، ورنہ تو دل کی حکایتیں وہ صرف نگاہوں سے بیان کرتے تھے۔

”بس ایسا نہیں کر سکتی حارش۔“ بے بسی سے لب کچلے۔

”کیوں…….. حرمین……..؟“ یکدم جیسے حرمین عالم کے دل نے بغاوت کی تھی اس نے حارش عالم کے ہاتھ جھٹکے۔

”آپ خود کیوں نہیں کہہ سکتے یہ سب کے سامنے….؟ کہہ دیں ناں…. آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ صرف ایک بار دادی کے سامنے ذکر بھی کریں گے تو وہ ہر ممکن کوشش کریں گی آپ کے لیے۔ حالانکہ دادی جانتی ہیں کہ میں بھی اس رشتے سے خوش نہیں مگر وہ خاموش ہیں۔ پر حارش عالم! ایک بار صرف ایک بار تم ان سے کہتے تو وہ ضرور مان جاتیں، مگر تم نے خود کوشش ہی نہیں کی۔ کبھی کہا ہی نہیں، بلکہ تم تو اس کوشش میں ہو کہ کسی کو کچھ علم ہو بھی نہیں۔“ وہ جیسے دبی آواز میں چیخ پڑی تھی۔

”حرمین! میں، میں کیسے کہہ سکتا ہوں۔ عثمان، احسان چاچو، بابا، اتنی محبتیں، میری سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، میں کسی کو بھی دکھ نہیں دے سکتا صرف اپنی ذات کے لیے۔“

”پھر حارش عالم! میں ایک لڑکی ہو کر کیسے یہ قدم اٹھا لوں، میری زبان پر بھی انہی کی محبتوں کے قفل پڑے ہیں۔ میرے ماں باپ کی عزت میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہے، میں کیسے انکار کر دوں….؟ تم ایک مضبوط مرد ہو کر یہ اقرار خود سے چھپائے پھرتے ہو، میں ایک کمزور لڑکی ہو کر کیسے سب کی محبتوں کو ذلیل کر دوں۔ آئی ایم سوری حارش عالم! میں بھی یہ نہیں کر سکتی۔“ اس نے حارش کی آنکھوں میں دیکھا، وہ جیسے یکدم پھر مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا تھا، نظریں جھکا گیا۔

”پھر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں سے ایک دوسرے کی محبت مٹا دے۔“ بے رُخی سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔ حرمین نے بہنے والے آنسو صاف نہیں کیے تھے اور وہیں صوفے پر ڈھے گئی۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے