سر ورق / کہانی / منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا

عشناء کوثر سردار

پہلا حصہ

”مجھے نہیں معلوم تھا اگر محبت دل میں گھر کرتی ہے تو اپنے پنجے اس طرح مضبوطی سے گاڑھ دیتی ہے کہ جب جانے لگتی ہے تو سارا وجود اور اس کی ساری توانائی اُکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے ۔ میں کچھ گمان کچھ بدگمانی میں محبت کے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ میں نہیں جانتا اگر وہ بے بسی تھی یا کچھ اور، مگر میں اس لمحے میں قید ہو کر رہ گیا، اور محبت کہیں بہت دور نکل گئی۔ جیسے کوئی راستہ بھول جائے، ہاں شاید محبت رستہ بھول ہی گئی تھی اور حد تو یہ تھی کہ مجھے بھی کچھ ازبر نہ تھا۔“ اشعال حیدر نیم تاریکی میں اس کے سامنے بیٹھا بول رہا تھا اور وہ سب خاموشی سے سننے کے بعد حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”محبت ان لمحوں میں ہوتی ہے جب سانس ساکن ہوتی ہے، وہ لمحہ جب وقت رکتا ہے اور ہر شے تھم جاتی ہے، پتہ نہیں واقعی تھم جاتی ہے یا یہ فقط ایک احساس ہوتا ہے مگر مجھے لگا تھا جیسے دنیا رک گئی ہو اور میں لمحوں کی گنتی کرتا رہا، اعداد و شمارمیں کوئی غلطی نہ ہو جائے، سو ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی گنتی کئی بار کی، مگر اس کے باوجود لگتا ہے کہیں کچھ رہ گیا ہے جو باقی ہے، جو شمار نہیں ہوا۔“

”اور تمہیں واقعی دانیہ سے محبت تھی؟“ وہ بولی تو اسے اپنا لہجہ خود اجنبی سا لگا تھا۔ اشعال حیدر نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ اسے اپنے سوال کے پوچھے جانے پر خود شرمندگی سی محسوس ہوئی تھی۔ برلن کے اس ریسٹورنٹ میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ وہ شام بہت عجیب سی تھی یا اسے عجیب سی لگ رہی تھی۔

”ایلیاہ میر! آئی کانٹ بلیو، تم اب بھی اتنی ہی بدھو ہو، لیکن تم اپنے نام کا ایک ہی ماسٹر پیس ہو۔ تم جیسا کوئی نہیں…. تم یونیک ہو۔“ وہ مسکرا رہا تھا۔

” مجھے نہیں معلوم تھا تمہیں پانچ سال پہلے جس حالت میں کیمپس میں چھوڑوں گا تم مجھے اسی حالت میں واپس بھی ملو گی۔“ وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے مسکرایا۔ اور وہ خجل سی ہو کراس کی طرف دیکھنے لگی۔ پھر اس کی طرف سے نگاہ ہٹا کر شیشے کے پار دیکھنے لگی۔ برلن شہر میں زندگی رواں دواں تھی اور وہ نہیں جانتی تھی آج ایک لمحے میں ہر طرف زندگی رواں دواں تھی تو وہ ایک لمحے میں قید ہو جائے گی۔ وہ خود کو بہت نارمل ظاہر کرنا چاہتی تھی جیسے اس اچانک ملاقات پر وہ حیران نہیں، سرراہ تو کوئی بھی مل سکتا ہے؟ وہ بہت پُرسکون اندازمیں مسکرائی تھی۔

”تغیر اور تبدیلیاں وقوع پذیرہوتی ہیں اشعال حیدر! مگر شاید تم وہ آنکھ نہیں رکھتے جو ان تبدیلیوں کو ڈھونڈ سکے۔ پانچ سال قبل جب ہم کیمپس ختم کر کے اپنے اپنے عزائم لے کر بچھڑ رہے تھے تو کیا پتا تھا کل ہم دوبارہ بھی ملیں گے؟“ وہ مسکرائی۔ ”دیکھو آج برلن کی اس بھیگتی شام نے ہمیں اچانک یہاں اس جگہ ملا دیا۔ تم شاید نہیں جانتے مگر ان پانچ سالوں میں بہت سے لمحے آئے اور ان لمحوں میں زندگی بہت بدل گئی اور بدل تو تم بھی گئے ہو اشعال حیدر! کل کا وہ لااُبالی سا لڑکا آج کا ایک مشہور بزنس ٹائیکون اور مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا جس سے آج میں ملنے جا رہی ہوں وہ تم ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی اور وہ ہنسنے لگا تھا۔

”ایلیاہ میر! مت کہو یار تم اب بھی اتنی ہی بے خبر رہتی ہو۔ ہر طرف سے، تم جانتی ہو جب ہم کیمپس میں تھے تو مجھے تب بھی تمہیں دیکھ کر اتنی ہی حیرت ہوتی تھی۔“

”ہاں! جانتی ہوں اور تم تب بھی یہی کہتے تھے ایلیاہ میر! اتنی بے خبر نہ رہا کرو، کسی دن کھو جاﺅ گی اور تمہیں دنیا کا کوئی مائیکروسکوپ ڈھونڈ نہیں پائے گا۔“ وہ مسکرائی۔

”اور تم واقعی کھو گئی….“ اس کی بات کاٹ کر وہ تیزی سے بولا اور اس کے انداز میں حیرت تھی۔ ”تم ایسے کیسے کھو گئی ایلیاہ میر؟ تم نے تو کوئی رابطہ ہی نہیں رکھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا تم ایسے گم ہو جاﺅ گی۔“ وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا اور وہ پُرسکون اندازمیں مسکرا رہی تھی۔

”میں کھوئی نہیں تھی، کچھ بزی ہو گئی تھی۔ کھونے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ ان کے تعاقب میں کتنی آوازیں آتی ہیں، میں کبھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔ شروع کے دنوں میں سب کے ساتھ رابطے میں تھی مگر پھر اچانک زندگی بدل گئی۔“ وہ کہہ کر لب بھینچ گئی تھی۔ تبھی وہ چونکا تھا۔

”تمہاری شادی ہو گئی؟“ ایلیاہ میرنے سر ہلکے سے انکارمیں ہلایا اور مسکراتے ہوئے اشعال حیدر کو دیکھا۔

”شادی تو تم کر رہے تھے نا؟ پوری طرح تیار تھے۔ بس گھوڑے پر چڑھنے کی کسر باقی تھی۔ پھر اچانک کیا ہوا؟ دانیہ خان نے اچانک سے ارادہ کیسے بدل لیا؟ محبت کرتے تھے ناں تم دونوں ایک دوسرے سے۔ محبت ایسے اچانک سے کیسے اُڑن چھو ہو سکتی ہے؟“ ایلیاہ میر نے کہا اور وہ ایسے سوالوں سے بچنے کی سعی کرنے لگا۔ اس کا وزیٹنگ کارڈ بغور دیکھتے پھر بڑبڑایا۔

”تمہارے وزیٹنگ کارڈ پر تو مسٹر کامران جتوئی درج ہے؟ یہ کون ہے؟“ اشعال حیدر نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

”مسٹر کامران جتوئی ہمارے فنانس ہیڈ ہیں۔ ان کی وائف کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تو ایمرجنسی میں انہیں ہاسپٹل جانا پڑ گیا، کمپنی کا سی ای او ہونے کے ناطے یہ ذمے داری میری بنتی تھی سو مجھے اس میٹنگ کے لیے آنا پڑا۔ مجھے نہیں معلوم تھا یہاں آپ ہوں گے۔“ وہ مسکرائی۔

”تمہیں دیکھ کر مجھے بھی حیرت ہوئی۔ ویسے کافی بدل گئی ہو تم۔“ وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے مسکرایا۔

”بدل گئی ہوں؟“ وہ چونکتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔ ”یو مین کچھ اور عجیب ہو گئی ہوں؟“ وہ مسکرائی۔

”شاید….“ اشعال حیدر نے مسکراتے ہوئے شانے اُچکائے۔

”ویسے جیسی آج ہو ویسی اگر پانچ سال قبل کیمپس میں ہوتیں تو کچھ عجیب نہیں تھا کہ مجھے تم سے محبت ہو جاتی۔“ وہ مسکرا دیا۔ اور ایلیاہ میر نے بس اسے خاموشی سے دیکھا تھا۔

”ایسے خاموشی سے کیا دیکھ رہی ہو؟ تمہیں یقین نہیں ہے کیا کہ مجھے تم سے محبت ہو سکتی تھی؟“ وہ مسکرایا۔ اور ایلیاہ میر کو وہ وہی پانچ سال قبل والا اشعال حیدر لگا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ویسی ہی شرارت تھی اور وہی لااُبالی، وہ بے فکر تھا جیسے اسے زمانوں سے کچھ سروکار نہ تھا اور وقت پر جیسے اس کا کل اختیار تھا۔ وہ جانے کیوں مسکرا دی۔

”کیوں کیا ہوا؟“ اس کے مسکرانے پر وہ بولا۔

”تمہارا انداز آج بھی اتنا ہی بے فکر ہے جیسے تمہیں زمانوں سے کوئی سروکار نہیں اور جیسے وقت پر تمہیں مکمل اختیار ہے اشعال حیدر! مگر شاید زندگی کلیوں، مفروضوں پر نہیں گزرتی، اعداد و شمار کبھی کبھی کام نہیں آتے اور تدبیریں رائیگاں جاتی ہیں۔ ضروری نہیں جیساہم سوچیں ویسا ہو بھی، کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہوتا ہے جیسا قیاس کیا ہو، اور تب شاید بہت حیرت ہوتی ہے۔“ ایلیاہ میرمسکرائی۔جیسے وہ اسے جتا رہی تھی کہ پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تھا پھر مسکرا دیا۔

”اگر میں تمہیں پروپوزکرتا تو کیا تم انکار کر پاتیں؟“ وہ چونک کر دیکھنے لگی۔ جیسے اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گا۔ اور اشعال حیدر ایسے مسکرایا جیسے کوئی کسی کو چارو ںشانے چت کرنے پر مسکراتا ہے۔ ایلیاہ میر نظر چرا کر سامنے پڑی فائل کو کھول کر دیکھنے لگی۔ جیسے تذکرے کو خیرباد کہہ دینا چاہتی ہو اور اس لمحے کے تسلسل کو توڑ دینا چاہتی تھی۔ مگر وہ اس کی جانب بغور دیکھتا ہوا کہہ رہاتھا۔

”اگر وقت کی نبض تھم جائے تو تم کسی لمحے کے تسلسل کو توڑ نہیں پاﺅ گی، ایلیاہ میر! مگر میں نے زمانوں کو کبھی اپنی گرفت میں لینے کی نہیں ٹھانی۔ شاید میں چاہتا تھا کہ تم اگر جو بے خبر ہو تو غافل رہو۔ کیونکہ کبھی کبھی تغافل کارآمد ہوتا ہے باخبر ہونے سے کہیں زیادہ۔“ وہ مسکرا رہا تھا اور وہ جیسے اس کی آنکھوں میں دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ نگاہ جھکائے فائل کو گھورے جا رہی تھی۔

”ایلیاہ میر! تمہیں کبھی محبت نہیں ہوئی؟“ اشعال حیدر اچانک فائل اس کے سامنے سے اٹھا کر یوں ہی دیکھنے لگا، انداز سرسری تھا مگر وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔ ایلیاہ میر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی تبھی پُراعتماد نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے مسکرائی۔

”دو پرانے دوست جب ملتے ہیں تو باتیں کبھی ختم ہونے میں نہیں آتیں۔ مگر میں چاہتی ہوں اب ہم کام کی بات بھی کر لیں۔ تمہاری کمپنی پچاس کروڑ کی انویسٹمنٹ کرنے کے لیے انٹرسٹڈ ہے نا؟ ہم اس کے متعلق بات کر لیتے ہیں۔“ وہ اپنی طرف سے مکمل پُراعتماد دکھائی دینے کی کوشش کرتی ہوئی بولی مگر وہ جانے کیوں مسکراتا رہا۔

وہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ مسلسل بھیگتی ہوئی شامیں تو کئی بار دیکھی تھیں اس نے برلن میں مگر اس شام میں جیسے کوئی اسرار تھا، کوئی بھید تھا، وقت کیسا ستم کرنے پر تلا تھا…. یا اپنے اندر کیا اسرار رکھتا تھا، وہ نہیں جانتی تھی مگر اس شام جب وہ میٹنگ برخاست کر کے لوٹی تو بہت الجھی ہوئی تھی۔

٭….٭….٭

وہ اشعال سے زندگی میں کبھی ملنا نہیں چاہتی تھی، کچھ ایسا ہی قصد کیا تھا اس نے، جب وہ کیمپس میں بچھڑ رہے تھے تو اس نے یہی ٹھانی تھی کہ وہ ان لمحوں کو کبھی واپس نہیں چاہے گی، کبھی ان کے پلٹنے کی خواہش نہیں کرے گی، مگر وقت عجیب ہے، کبھی کبھی حیران کن موڑ پر وقت کی نبض تھم جاتی ہے اور اس سے آگے آپ سوچ بھی نہیں پاتے۔ وہ ڈنر کی ٹیبل پر بے دھیانی سے پلیٹ میں چمچ چلا رہی تھی جب ممی نے اسے گھورا۔

”ایلیاہ! تم اپنا ڈنر ٹھیک سے نہیں کر رہیں؟“ ممی کے کہنے پر وہ چونکی اور سر نفی میں ہلایا۔

”کیا ہوا، تم ٹھیک تو ہو؟“ ممی نے اسے تشویش سے دیکھا۔ تبھی ان کو مطمئن کرنے کے لیے وہ مسکرائی۔

”مجھے زیادہ بھوک نہیں ہے ممی! شام میں میٹنگ تھی، چائے کے ساتھ کچھ اسنیکس کھا لیے تھے۔ آپ بلاوجہ فکر مت کیا کریں۔“ اس نے چمچ بھر کر منہ میں ڈالا۔

”بریانی کافی اسپائسی پکائی ہے۔ حمیدہ کے ہاتھ کی تونہیں لگتی۔“

”ثنا آئی تھی، اسی نے مدد کی تھی حمیدہ کی۔“

”ثنا آئی تھی اور ڈنر کیے بنا چلی گئی؟“ وہ چونکی۔

”اس کی ساس سیڑھیوں سے پھسل جانے کے باعث زخمی ہو گئی تھیں، سو اسے جانا پڑا۔ شادی کے بعد یہی تو ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی اپنی زندگی، میکے میں ٹائم گزارنا جیسے ناممکن ہو جاتا ہے۔“

”اٹس آل رائٹ ممی! آپ ہی تو کہتی ہیں لڑکیوں کی اصل زندگی شادی کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔“ وہ مسکرائی۔ ”بائے دا وے ثنا کی ساس زیادہ زخمی تو نہیں ہوئیں؟“

”نہیں، پاﺅں میں موچ ہے۔ مگر تم جانتی ہو ثنا جب بھی یہاں آتی ہے، پیچھے سے ایسی کوئی کال ضرور آتی ہے۔ میں تو اپنی بچی سے بات کرنے کو ترس جاتی ہوں۔“

”تو آپ مجھ سے بات کرلیا کریں نا۔“

”تمہارے پاس کہاں وقت ہوتا ہے ایلیاہ! جانے کون سی گھڑی تھی جب میں نے تمہارے بیٹا ہونے کی خواہش کی تھی۔ تم تو بیٹا بن گئیں مگر میں نے اپنی ایک بیٹی کو کھو دیا۔“ ممی بہت افسردہ دکھائی دی تھیں۔ ایلیاہ نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔

”ایسے مت کہیں ممی! میں نے وہی کیا جو اس گھر کی سب سے بڑی بیٹی کافرض تھا۔ بیٹا، بیٹی سب ایک جیسے ہوتے ہیں ممی! اولاد پر اپنے والدین کی ذمہ داری اس طرح عائد ہوتی ہے چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ اگر آج کوئی بیٹا بھی ہوتا تو وہ بھی بابا کی وفات کے بعد اپنے ذمہ داریوںکو پورا کر رہا ہوتا۔ ثنائ، دعا، پریشے مجھ سے چھوٹی تھیں جن پر ذمے داریوں کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا تھا۔ مگر مجھے خوشی ہے میں نے اپنی ان ذمے داریوں کو پورا کیا، آج اپنے گھروں میں خوش ہیں اور….!“

”اور تم ایلیاہ…. تمہاری زندگی کا کیا؟ تمہارے بابا کی اچانک ڈیتھ کے بعد جو بوجھ تمہارے کاندھوں پر آن پڑا اس سے تمہاری اپنی زندگی ختم ہو گئی۔ مجھے قلق تھا کوئی بیٹا نہیں، ماں ہمیشہ بیٹے کی خواہش کرتی ہے اور میری بھی یہ خواہش تھی، مگر آج مجھے افسوس ہے، مجھے ایسی خواہش کرنا نہیں چاہیے تھی۔ قدرت نے مجھے جتا دیا، بیٹا اہم نہیں، اولاد نیک ہونا چاہیے۔ بیٹی ہو یا بیٹا، اپنی ذمہ داریوں کو بس اٹھانا جانتا ہو، تم نے جو کیا ہے شاید کوئی بیٹا ہوتا تو وہ بھی نہیں کرتا۔“ ممی کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی۔ ایلیاہ میر نے ان کے آنسو اپنی پوروں پر چن لیے تھے۔

”سب اچھے سے ہو گیا ہے ممی! آپ کو کس بات کا افسوس ہے اب؟“ وہ ممی کو کھانا کھلانے لگی تھی۔

”تمہارا گھر آباد نہیں ایلیاہ! مجھے اس بات کا افسوس ہے۔ ان پانچ سالوں میں تم نے خود کو اپنی خوشیوں کو جس طرح اگنور کیا ہے مجھے اس کا افسوس ہے جس طرح تم نے سب کی خوشیوں کے لیے خود کے آرام و سکون کو تج دیا مجھے اس کے لیے افسوس ہوتا ہے۔ میرے لیے میری چاروں بیٹیاں برابر ہیں، مگر میری خواہش ہے میں تمہیں اپنے گھر کا دیکھوں۔ جس طرح دعا، پریشے اورثنا خوش ہیں۔“ ممی نے اس کا ہاتھ روکا اور وہ خوامخواہ مسکرا دی۔

”میں خوش ہوں ممی! میں آپ کے ساتھ ہوں۔ شادی کا کیا ہے، ہو جائے گی۔ شادی ہونا کیا مشکل ہے؟“ وہ ممی کا موڈبدلنے کو کہہ رہی تھی۔

”نانو کہاں ہیں؟ ابھی ہوتیں تو کہتیں تانیہ پتہ،بیٹیوں کی اتنی پروا نہ کیا کر تیرے آنگن کی چڑیاں ہیں۔ دیکھنا اُڑ جائیں گی اپنے آپ ایک دن۔“ وہ نانو کے اندازمیںبولی اور ممی مسکرا دی تھیں۔

٭….٭….٭

اس شخص کے سامنے آ کھڑے ہونے کو وہ کوئی معمولی واقعہ قرار دے کر بھول جانا چاہتی تھی مگر وقت اس کی نفی کرنے پر لگا تھا۔ وہ آفس میں تھی جب اشعال حیدر کی کال آئی۔

”کیا ہم Heising میں مل سکتے ہیں؟“ اس کے پوچھنے پر وہ فوری طور پر کچھ نہیں کہہ پائی۔ تبھی وہ پھر بولا۔

”اوکے! میں انتظار کر رہا ہوں۔“ وہ حتمی طور پر فیصلہ سناتا ہوا بولا۔

”اشعال حیدر! ابھی مجھے بہت کام ہے اور….!“

”مجھے امید ہے تم ضرور آﺅ گی اور میں تمہیں لینے آ رہا ہوں؟“ مگر وہ انکار سننے کو تیار نہیں تھا۔ ایلیاہ میر کو وہ سچوئیشن بہت مشکل لگ رہی تھی۔

”اشعال! کام زیادہ ہے اور…. ہم کل مل لیتے ہیں۔ ایسا کیا ضروری ہے؟ اگر پروجیکٹ کو لے کر کوئی مسئلہ ہے تو میرے منیجر سے مل لو۔“ وہ بولی تبھی وہ اس کی بات کاٹ کر تیزی سے بولا۔

”آل رائیٹ! میں تمہارے آفس آ جاتا ہوں۔“ وہ فیصلہ کن انداز میںبولا تھا۔

”نہیں!“ وہ تیزی سے بولی۔ ”او کے ٹھیک ہے میں Heising آ جاتی ہوں۔“ اس نے کہا اور اشعال حیدر مطمئن ہو گیا۔

”گڈ گرل…. میں انتظار کر رہا ہوں۔“ کال کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔

ایلیاہ میر کتنی دیر خاموشی سے فون کو دیکھتی رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ اس کے سامنے تھی اور وہ اسے اطمینان سے دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا۔

”ایلیاہ میر! تم آدم بیزار تو ہمیشہ سے تھیں آئی نو، مگر اب کیا بات ہے خود سے بھی کترا کر گزرنے لگی ہو؟“ اور اس نے فوراً سر انکار میں ہلایا۔

”ایسا کچھ نہیں ہے اشعال حیدر! میں آفس میں تھی، یہ کیا بچپنا ہے؟ ہم کبھی بعد میں بھی مل سکتے تھے۔ اتنا ضروری نہیں تھا ابھی ملنا۔“ وہ ڈانٹتی ہوئی بولی مگر وہ اس کی ڈانٹ سن کر مسکرا دیا۔

”ایلیاہ میر! اتنی الجھنوں میں کیوں گھر رہی ہو…. مدعا کیا ہے؟ یہ الجھنیں پہلے سے ہیں یا ان کی وجہ میرا آنا بنا ہے؟“ وہ جیسے اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

”میری الجھنوں کا باعث تم نہیں ہو اشعال حیدر! میرے زمانوں کا تمہارے زمانوں سے کوئی واسطہ یا کوئی سروکار نہیں۔“ وہ پُراعتماد انداز میں بولی۔

”تمہارے زمانوں کا واسطہ میرے زمانوں سے نہیں ہو سکتا ایلیاہ میر! کیونکہ تم اپنے زمانوں کو پوٹلی میں میں بند کر دینے کی قائل ہو۔ اگر کوئی ربط بن بھی سکتا تو تم وہ ربط بننے نہیں دیتیں۔ جس طرح تم نے اتنے سالوں تک خود کو سب سے لاتعلق رکھا وہ تمہارے اندر کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ میں وہ خوف تمہاری آنکھوں میں دیکھ سکتا ہو ںایلیاہ میر!“ وہ اسے جتاتے ہوئے بولا۔ ایلیاہ میر کے پاس جیسے اس لمحے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ اشعال حیدر کی طرف سے نگاہ پھیر کر اس نے ایک گہری سانس لے کر جیسے خود کو مطمئن کیا تھا اور پھر بولی تھی۔

”اشعال حیدر! تم جس وقت کی بات کر رہے ہو وہ زمانے بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں کہیں، میں ان زمانوں میں پلٹ کرواپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ ان زمانوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں تھا۔“ وہ مدھم لہجے میں بول رہی تھی۔

”تمہیں ڈر لگتا ہے اگر تمہارے گزرے دن تمہارے آج کے دروازے پر دستک دیتے ہیں؟ کس بات سے خوفزدہ ہو ایلیاہ میر؟“ وہ جانے کیا جتانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ پُراعتمادی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”میرے گزرے دنوں میںایسا کچھ نہیں ہے اشعال حیدر جس کا ملال یا کوئی پچھتاوا مجھے ہو۔ مجھے پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے ڈر نہیں لگتا مگر میں اپنے آج میں جینا چاہتی ہوں۔ جو لمحے گزر جاتے ہیں ان کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ میرا لمحہ موجود میرا سب کچھ ہے۔ میرا یقین، میرا اثاثہ بس یہی ہے۔“ وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ اشعال حیدر اسے خاموشی سے کچھ دیر تک دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔

”تم بدل گئی ہو ایلیاہ میر! تمہیں جھوٹ بولنا آ گیا ہے۔ تم ہواﺅں سے چھپنے کا فن سیکھ گئی ہو، ہواﺅں کی مخالفت کرنے لگی ہو۔ تمہیں ہواﺅں کے مخالف چلنا آ گیا ہے۔ تم خود نہیں جانتیں مگر تم اب رُخ بدل کر چلنے لگی ہو۔“ وہ اس کی طرف سے دھیان پھیر کر کافی کے سپ لینے لگی تھی۔

اشعال حیدر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا تھا۔ تبھی وہ پُرسکون اندازمیں مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔ پھر آہستگی سے بولی۔

”یہاں برلن میں کیا شے کھینچ لائی تمہیں؟ تم تو غالبا ´ انگلینڈمیں تھے نا؟ کہیں تم یہاں دانیہ خان کو تلاشنے تو نہیں آئے؟“ وہ جیسے اس کی بولتی بند کر دینا چاہتی تھی۔ اپنی دانست میں اس نے اشعال حیدر کی کمزور نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔ مگر دوسری طرف ری ایکشن بہت مختلف تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا، جیسے اس کے کہے کی نفی کر رہا ہو۔

”تمہیں دانیہ خان کے بارے میں باتیں کرنا اچھا لگتا ہے نا؟ تم اب بھی خود سے زیادہ دانیہ خان کے بارے میں سوچتی ہو، مجھے یہ جان کر حیرت نہیں ہے ایلیاہ میر! کیونکہ میں جانتا ہوں تمہیں عادت ہے خود سے آنکھیں بند کر کے چلنے کی۔“ وہ اطمینان سے کہہ رہا تھا۔

”دانیہ خان تمہیں بھی تو اتنی ہی عزیز تھی نا؟ بلکہ تمہارے دل کے تو کچھ زیادہ قریب تھی وہ؟ تھی کہ نہیں؟“ وہ مسکرائی۔“ ویسے کبھی کبھی میں ان دنوں کو سوچتی اور مسکراہٹ اپنے آپ میرے لبوں پر آجاتی تھی، کچھ زیادہ بیوقوف تھے ہم۔“ وہ ہر شے معمول پر ظاہر کرنے پر بضد تھی۔

”ہم نہیں،تم….“ وہ جتاتے ہوئے بولا اور اس کے مسکراتے لب ایک لمحے میں بھنچ گئے تھے۔ ایک سایہ چہرے پر آ کر گزرا تھا اور وہ اپنا دھیان پھیر کر دوسری سمت دیکھنے لگی تھی۔

”تمہارا چہرہ اب بھی ویسا ہی کھلی کتاب ہے ایلیاہ میر! اس کے تمام اوراق پلٹے بنا میں اب بھی سب ایک لمحے میں پڑھ سکتا ہوں اور بتا سکتا ہو ںکہ کس صفحے پر کیا درج ہے۔ تمہیں عادت ہے خود کی نفی کرنے کی۔ یہ بات تم خود بھی جانتی ہو مگر مانتی نہیں۔“ جانے کیا ہوا تھا کہ وہ ایک لمحے میں بیگ کاندھے پر ڈالتی ہوئی اٹھی مگراس سے قبل کہ وہ سرعت سے وہاں سے نکل جاتی اشعال حیدر نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔

” میرا دم یہاں گھٹ رہا ہے اشعال حیدر! میں کھلی فضا میں سانس لینا چاہتی ہوں۔“ وہ جیسے یہاں سے اچانک چلے جانے کا ریزن بتا رہی تھی۔

”اوکے! ٹھیک ہے ہم باہر چلتے ہیں۔“ وہ رقم پلیٹ میں رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ہی باہر آ گیا۔وہ اس خنک شام میں خاموشی سے چل رہی تھی۔ اشعال حیدر اس کے ساتھ خاموشی سے چلتا ہوا اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔

اس لمحے میں بس خاموشی تھی اور خاموشی میں جیسے بہت سے بھید تھے مگر وہ دونو ںخاموش تھے۔ اشعال حیدر جیسے اس خاموشی کا سبب جانتا تھا تبھی اس خاموشی کے جمود کو توڑنا نہیں چاہتا تھا۔

”تم دانیہ خان کے ساتھ کیو ںنہیں ہو اشعال حیدر؟“ اس نے یکدم پوچھا، بنا اس کی طرف دیکھے۔ اشعال حیدر کے لیے یہ سوال غیرمتوقع تھا۔ وہ سمجھا تھا وہ کوئی اور بات کرے گی یا خاموشی کو برقرار رکھے گی مگر وہ دانیہ خان کی بات کر رہی تھی۔ اشعال حیدر نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اشعال حیدر کی خاموشی پر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ اس کی طرف سے نگاہ پھیر کر اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔

”تم تو بہت بولنے کے عادی تھے نا اشعال حیدر…. آج کیا ہوا؟ تمہارے لیے لفظ کبھی کم نہیں پڑتے تھے، پھر آج تم وہ بولنے کا ہنر کہاں گنوا آئے؟ دانیہ خان کے چلے جانے کا صدمہ ہے یا کوئی اور بات؟“ اس نے چھیڑا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی مگر وہ کچھ نہیں بولا۔ ایلیاہ میر اس کی طرف سے نگاہ ہٹا کر سامنے دیکھنے لگی تھی۔ اندر جیسے بہت گھٹن تھی۔ اس نے کھل کر سانس لی تھی۔ تبھی اچانک بونداباندی شروع ہو گئی تھی۔ وہ اس کے ساتھ قدم قدم چل رہی تھی۔ بارش کے ہونے پر دونوں نہیں چونکے تھے، نہ ان کے چلنے کے معمول میں کوئی تبدیلی آئی تھی۔

”تم شاید بدل گئے ہو اشعال حیدر! تمہیں بولنے کا وصف نہیں رہا۔ دانیہ خان کیوں گئی ویسے؟ تم نے اسے جانے کیوں دیا؟ تم تو اس کے بنا جینے کا تصور بھی نہیں رکھتے تھے نا؟ پھر کیا ہوا ایسے کیسے جانے دیا تم نے اسے؟ مجھے واقعی حیرت ہے اشعال، اگر میں نہ کہوں تو یہ جھوٹ ہو گا۔ دانیہ خان کو تمہارے ساتھ آج نہ دیکھ کر مجھے سچ میں حیرت ہوئی۔ مجھے لگا تھا اگر کبھی زندگی میں تم سے سامنا ہوا تو تم دانیہ خان کا ہاتھ تھامے کھڑے دکھائی دو گے۔“ وہ مسکرا رہی تھی۔

”اور تم اسی لیے پلٹ کر پیچھے دیکھنا نہیں چاہتی تھیں؟“ وہ یکدم اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

”دانیہ خان یہاں نہیں ہے، سو اس کے بارے میں بات کرنا معنی نہیں رکھتا، رائیٹ؟“ اس پر اپنی نظر جماتے ہوئے وہ بولا۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے چل رہی تھی جب ایک تیزرفتار گاڑی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی دی تھی۔ اس سے قبل کہ وہ کسی حادثے کا باعث بنتی اشعال حیدر نے اسے تیزی سے تھام کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ وہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ سنبھل نہیں سکی تھی۔ تیزی سے آتی گاڑی زن سے ان کے قریب سے گزر گئی تھی مگر اس گاڑی کے شور سے کہیں زیادہ شور اسے اپنے اندر محسوس ہوا تھا۔ اس کے سینے پر سر رکھے وہ کتنی دیر تک گہرے گہرے سانس لیتی رہی تھی۔

اس کی مخصوص خوشبو اس کے نتھنوں میں گھستی محسوس ہوئی تھی۔ شاید کہیں اس کی دھڑکنوں کا شور بھی سنائی دیا تھا مگر اس شور سے کہیں زیادہ شور اس کے اپنے اندر تھا۔ اس خنک شام میں اچانک ہی کوئی الاﺅ دہکا تھا۔ بارش میں کسی شعلے نے سارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا اور وہ آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر دیکھنے لگی تھی۔ نظروں میں سردمہری تھی اور وہ نگاہ چرا گئی تھی۔ وہ اس شخص کی آنکھوں میں جیسے ایک پل کو بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ بغور اس کی سمت دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ سرعت سے اس سے دور ہوئی تھی اور خجل سے انداز میں نظریں پھیر کر دوسری سمت دیکھنے لگی تھی۔ بارش تیز ہونے لگی تھی۔ بوندوں کا تسلسل بڑھنے لگا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو ایک دوسرے سے اجنبی بنے کھڑے رہے تھے جیسے کوئی واسطہ نہ ہو، نہ کوئی رابطہ۔ دونو ںبھیگ رہے تھے۔

”سو ویئر وی ور؟ (So shere we were?)“ وہ جیسے اس لمحے کے سردپن یا طلسم کو توڑتا ہوا بولا تھا۔ لبوں پر دوستانہ مسکراہٹ تھی…. اور وہ ایک نگاہ اسے دیکھ کر سامنے دیکھتے ہوئے دوبارہ چلنے لگی تھی۔ اشعال حیدر اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا۔

تیز بارش میں بھیگنے کے باعث اس کا وجودکپکپا رہا تھا۔ یہ اس کے اچانک پاس آنے کا اثر تھا یا کچھ اور مگر وہ جیسے اس لمحے اس سے بات کرنے یا اس کی سمت دیکھنے سے کنی کترا رہی تھی۔ جیسے کسی لمحے نے اس کو اپنے اندر قید کر لیا ہو۔ اس کا چہرہ عجیب سے اثرات رکھتا تھا اور اشعال حیدر اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہ اس چہرے کو سطر سطر پڑھ لینا چاہتا ہو یا وہ اسے دیکھتے رہنا چاہتا ہو۔ اس چہرے سے اس کی نگاہ بندھ سی گئی تھی۔

”کوئی لمحہ گرفت میں لینے والا ہوتا ہے نا؟“ اس نے پوچھا تھا مگر ایلیاہ میر نے ا س کی طرف دیکھنے سے گریز ہی کیا تھا۔

”ایلیاہ میر! زندگی میں بہت سی جگہ ہم اپنے رویوں پر حیران رہ جاتے ہیں۔ تم پوچھ رہی تھیں دانیہ خان کیسے چلی گئی؟ اور انکشاف یہ ہوا تھا کہ مجھے اس سے محبت نہیں تھی۔“ وہ بولا اور وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔

”تمہیں اس سے محبت نہیں تھی؟ یا اسے تم سے محبت نہیں تھی؟“ وہ جیسے وضاحت چاہ رہی تھی۔

”سب جانتے ہیں اشعال حیدر اس رشتے کی حقیقت کیا تھی؟ دانیہ خان ملی تھی مجھے، پچھلے برس، میں زیورخ میں ایک کانفرنس اٹینڈ کرنے گئی تھی، وہیں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہزبینڈ کے ساتھ تھی۔ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ پچیس منٹ تک ہم ساتھ بیٹھے باتیں کرتے رہے، مگر ان پچیس منٹوں میں ایک بار بھی تمہارا ذکر نہیں آیا اور جب میں نے ان کی جوڑی کو سراہا تبھی اس نے کہا تھا۔ وہ تم سے محبت نہیں کرتی تھی۔ تم اس کے لیے غلط انتخاب تھے۔ اور شاید کوئی بے وقوفی….“ وہ بولی اور وہ ہنس دیا۔ وہ چونک کر دیکھنے لگی تھی۔

”ہاں شاید…. بے وقوفی…. مجھے بھی اس کااندازہ بہت بعد میں ہوا۔ محبت ایسے نہیں ہوتی ایلیاہ میر! نہ محبت ایسی ہوتی ہے۔ میں شاید جانتا بھی نہیں تھا محبت کیا ہوتی ہے۔ اس محبت میں ہم کبھی نہیں رہے۔ محبت کبھی ہمارے ساتھ چلی نہ اس نے کوئی بات کی۔ دانیہ خان سے اس بات کا انکشاف میں نے ہی کیا تھا۔ جب وہ مجھ سے شادی کی بات کر رہی تھی، مجھے لگا تھا جیسے کوئی اجنبی میرے سامنے بیٹھا ہو اور میں اس کے ساتھ دو قدم بھی نہ چل سکتا ہوں۔ کجا اس کے ساتھ پوری عمر جینا؟ سو میں نے قدم روک لیے تھے۔ وقت کی نبضیں روک دی تھیں۔ وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ میری طرف شکوہ کرتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ جیسے اسے امید تھی میں اسے روک لوں گا، یا ابھی کہوں گا کہ یہ مذاق تھا، مگرمیں نے اسے نہیں روکا۔ اس جانے دیا…. اور وہ پلٹ پلٹ کر میری طرف بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔مگر میں پلٹ کر مخالفت سمت میں چلنے لگا تھا۔ شاید محبت ہمیشہ ہمارے مخالف سمت چلنا پسند کرتی ہے اور میں اس مخالف سمت چلنے والی محبت کا تعاقب کرنے لگا تھا۔ میں جیسے اس مخالف سمت میں چلنے والی ہوا کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ ہوا کبھی ہاتھ نہیں آتی، سو میرے ہاتھ بھی خالی رہے تھے۔ کون سا لمحہ ادراک کا تھا، میں نہیں جانتا تھا،مگر میرے قدم رکے نہیں تھے۔ مجھے یوں بے سمت چلنا اچھا لگنے لگا تھا۔ میں تنہا چل رہا تھا۔ کوئی میرے ساتھ نہیں تھا۔ مگر شاید کہیں محبت میرے ساتھ چل رہی تھی…. تھوڑی دوری پر، مگر بہت سے راستے میرے ساتھ چل رہے تھے اور محبت ان سب سمتوں میں جیسے منقسم ہو رہی تھی۔ روشنی آس پاس پھیل رہی تھی اور میں چلتا گیا۔ اگر بے سمت بھی تھا سب کچھ، تو میں خوش تھا تنہا بھی تھا تو کوئی ملال نہیں تھا اور….!“ وہ بول رہا تھا جب وہ اس کی سمت دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلانے لگی، پھر مسکرا دی۔

”داستانیں مت سناﺅ اشعال حیدر…. اگر دانیہ خان تمہیں نہیں چھوڑتی تو آج تم اس کے ساتھ ہوتے۔ بہت دیوانے تھے تم اس کے لیے، یاد ہے جب اس نے تمہاری پہنائی ہوئی ایمی ٹیشن رنگ پول کے پانی میں پھینک دی تھی؟ تم نے بنا کچھ سوچے سمجھے اس پول کے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔ حالانکہ وہ دسمبر کی خنک شام تھی مگر تمہیں جیسے پرواہ نہیں تھی۔ تم اتنے ہی پاگل تھے نا؟“ وہ جتاتے ہوئے بولی اور وہ ہنس دیا۔

”اور تمہیں معلوم ہے وہ نقلی رنگ نہیں تھی۔ وہ اصلی ڈائمنڈ رنگ تھی۔ تبھی تو میں نے پول کے یخ ٹھنڈے پانی میں سوچے سمجھے بنا چھلانگ لگا دی تھی۔ تم خود سوچو اگر دانیہ خان کو بتا دیتا کہ وہ اصلی ڈائمنڈ رنگ ہے تو وہ اسے کبھی پانی میں پھینکتی؟“ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔

ایلیاہ میر نے کپکپاتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ پھر نگاہ ایسے بے یقینی سے اس کی سمت سے پھیری تھی جیسے اسے اس پر اعتبار نہ ہو اور اشعال حیدر نے یکدم اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کی سمت دیکھنے لگی تھی۔ تبھی اس نے اپنا کوٹ اُتار کر ایلیاہ میر کے شانوں پر ڈالا تھا۔ اور اس کا ہاتھ تھام کر چلتے ہوئے البش ٹری کے نیچے آن کھڑے ہوئے تھے۔ تیز بارش اور ہوا کی وجہ سے بہت سے سفید پھول ٹوٹ کر بکھرنے لگے تھے۔ وہ دونوں چپ چاپ کھڑے تھے۔ اس خاموشی میں کیا بھید تھا۔

”ایلیاہ میر! آئی ایم سوری!“ چپ کا سکوت ایک لمحے میں ٹوٹا تب اشعال حیدر کی طرف سے معذرت کے لفظ آئے تھے۔ ایلیاہ میر نے اسے خاموشی سے دیکھا تھا۔ وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ ان آنکھوں میں کیا تھا؟ وہ اس کی طرف دیکھ نہیں سکی تھی اور نگاہ پھیر گئی تھی۔

”مجھے واپس جانا ہے! اتنی دیر ہوگئی ہے۔ موسم خراب ہے اور ممی پریشان ہو رہی ہوں گی۔“ وہ یکدم بول کر پلٹنے لگی تھی۔ مگر اشعال حیدر نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ وہ پھر بولا تھا۔

”میں بہت شرمندہ ہوں ایلیاہ میر! جو بھی ہوا، وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے اندازہ ہے بہت غلط ہوا ہے، اور….!“

”ہم پھر بات کریں گے اشعال حیدر! مجھے جانا ہے،آئی ہیو ٹو گو!“ وہ جیسے اس کی سننا نہیں چاہتی تھی۔

”ہم اچھے دوست ہیں کل کی طرح آج بھی۔ تم چاہو تو گھر آ سکتے ہو۔ ممی کو تم سے مل کر اچھا لگے گا۔“ وہ جیسے چیزوں کو معمول پر ظاہر کرنے کے جتن کر رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔

ایلیاہ میر نے اپنا ہاتھ آہستگی سے اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور پلٹ کر چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔ اشعال حیدر اسے جاتا دیکھتا رہ گیا تھا۔

٭….٭….٭

بہت دنو ںکی بات ہے

فضا کو یاد بھی نہیں

یہ بات آج کی نہیں

بہت دنوں کی بات ہے

کئی باتیں تھیں،کئی تذکرے تھے

گئے دنوں کے سارے رنگ تھے

مگر وہ اپنی آنکھیں بند کر لینا چاہتی تھی

شباب پر بہار تھی

فضا بھی خوشگوار تھی

نجانے کیوں مچل گیا

میں اپنے گھر سے چل پڑا

کسی نے مجھ کو روک کر

بڑی ادا سے ٹوک کر

کہا تھا لوٹ آئیے

میری قسم نہ جائیے!!

”مجھے تم سے محبت ہے اشعال حیدر…. بہت بہت زیادہ!“ اس کی اپنی مدھم سرگوشی اس کے کانوں میں سنائی دی تھی۔

”جانے کب سے! نہیں جانتی! مجھے اندازہ بھی نہیں، کیسے…. مگر اس محبت کی جڑیں بہت دور تک میرے اندر تک پھیلنے لگیں، بہت محبت ہے اشعال حیدر…. بہت بے حد…. بے تحاشا!“ اس کا کپکپاتا لہجہ…. اس کی سماعتوں میں گونجنے لگا تھا۔

مگر مجھے خبر نہ تھی

ماحول پر نظرنہ تھی

نہ جانے کیوں مچل گیا

میں اپنے گھر سے چل پڑا

میں شہر سے پھر آ گیا

خیال تھا کہ پا گیا

اسے جو مجھ سے دور تھی

مگرمیری ضرور تھی

”تم نے کہا تھا نا کہہ دو گی تو موسم رک جائیں گے؟ سب رنگ مٹھی میں ہوں گے…. یہی شرط تھی نا؟ سو کہہ دیا، اب تم خاموش کیوں ہو؟ یہ خاموشی کس لیے اشعال حیدر؟ اس چپ میں کیا بھید ہیں؟ مجھے اس چپ سے ڈر لگ رہا ہے۔ یہ خاموشی اتنی بڑھ کیوں رہی ہے؟ اس کا سکوت میں اپنے اندر کیوں محسوس کر رہی ہوں؟ اگر یہ محبت ہے تو اتنا ڈر کیوں ہے اس میں؟ کس بات کا ہے یہ خوف؟ کیا میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی یا پھر کیا؟ اس کی اپنی آواز اس کے اطراف گونج رہی تھی۔ کچھ دیر تک خاموشی برقرار رہی اور پھر اس کی ہنسی نے خاموشی کا سکوت توڑ دیا تھا۔

”ایلیاہ میر! کیا بچپنا ہے یہ؟ آر یو کریزی؟“ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر لائٹس جلیں اور سب کلاس میٹ، دوست وہاں تھیٹر روم میں آ گئے تھے۔ سب مسکرا رہے تھے، ہنس رہے تھے۔ اور وہ ساکت کھڑی تھی۔

دانیہ خان مسکراتی ہوئی اشعال حیدر کے ساتھ آن رکی تھی اور اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ اشعال حیدر مسکرا رہا تھا۔ اور وہ ساکت کھڑی تھی۔

”تم جانتی ہو ایلیاہ میر! اشعال حیدر صرف ایک لڑکی سے محبت کر سکتا ہے اور وہ دانیہ خان ہے۔ تو تم نے اس کی باتوں میں آ کر ایسی بے وقوفی کرنے کی سوچی بھی کیوں؟ تم جانتی ہو نا اشعال حیدر کو عادت ہے مذاق کرنے کی؟ وہ ان باتوں کو سیریس کہاں لیتا ہے۔ اسے محبت ہے تو صرف دانیہ خان سے۔ اور اس سے یہ اگلوانا بھی آسان نہیں تھا۔ اشعال حیدر اتنی ٹیڑھی کھیر ہے یہ میں ہی جانتی ہوں۔“ وہ مسکرا رہی تھی اور ایلیاہ میر کی آنکھیں پانیوں سے بھرنے لگی تھیں، سارے منظر لمحہ بھر میں دھندلانے لگے تھے۔

”آہ ایلیاہ میر! تھیٹر کرتے کرتے تمہیں اچانک سے یہ شوق کیا آ گیا؟ تم اشعال حیدر کی باتوں میں کیسے آ گئیں؟ کیمپس کے تھیٹر میں کسی ڈرامے میں کام کرنا، ڈائیلاگز بولنا اور بات ہے اور اشعال حیدر کا دل جیتنا اور بات…. اور تم تو جانتی ہو اسے محبت نہیں ہو سکتی۔“ اور اس پر منوں پانی آن پڑا تھا۔ کیسی شرمندگی سی شرمندگی تھی کسی نے اس کا انکارکیا تھا۔ اس کے وجود کی نفی کی تھی۔ اس کا مذاق بنایا تھا۔ خود اپنے سامنے نہیں، سب کے سامنے….کئی چہرے تھے جو اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ مذاق اُڑا رہے تھے اس پر ہنس رہے تھے۔ اشعال حیدر کے لیے مذاق تھا یہ۔

اس کی محبت…. اس کے جذبات، اس کے لیے سب مذاق تھا۔ یہ تھا اس کا دوست…. ا س کا سب سے قریبی دوست، کیسا مذاق بنایا تھا اس نے اس کا۔ اس کے اکسانے پر وہ اس تھیٹر میں آئی تھی۔ اس کے کہنے پر اس نے اس پلے میں حصہ لیا تھا۔ اس کے کہنے پر اس نے وہ ڈائیلاگز بولے تھے، وہ محبت جو اس کے لیے اس کے دل میں تھی۔ وہ خاموشی کو توڑ کر پہلی بار اس سکوت سے باہرآئی تھی، مگر کیا قدر رہی تھی؟ اس کے لیے سب مذاق تھا…. اور کتنی بڑی انسلٹ ہوئی تھی اس کی۔ وہ ساکت سی کھڑی تھی۔ اس کی کیسی تضحیک کی گئی تھی۔ کتنی بے عزتی ہوئی تھی۔ اس کا وقار…. اس کی اَنا….اس کا نسوانی وقار…. سب جیسے مٹی میں مل گیا تھا۔ سب کو چپ کرنے کو وہ چیخی تھی۔

”شٹ اَپ! ایسا کچھ نہیں ہے، میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں کہ اشعال حیدر جیسے پلے بوائے سے محبت کرنے کی غلطی کروں۔ اشعال حیدر سب سے قریب میرے ہے، میرا سب سے اچھا دوست ہے، تو کیا میں اسے جانتے بوجھتے ایسی حماقت کر سکتی ہوں؟ جبکہ میں جانتی ہوں کہ وہ دانیہ خان کے ساتھ ہے۔ اشعال حیدر نے مجھ سے کہا تھا ہمیں پلے کے لیے ریہرسل کرنا ہے، اور اس نے اسکرپٹ میرے ہاتھ میں دیا تھا۔ وہ اسکرپٹ تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایلیاہ میر اتنی بے وقوف نہیں اپنے اس دوست کا اعتبار کرے اور محبت؟ آہ نیور، آئی کانٹ لو سچ پرسن۔ مجھے سرے سے محبت پر یقین ہی نہیں۔ کجا اس پلے بوائے سے محبت کرنا۔“ وہ اپنا مان رکھنے، اپنا وقار بحال کرنے کو مسکرائی تھی۔

اشعال حیدر لب بھینچ کر اسے دیکھنے لگا تھا۔ اور دانیہ خان اشعال حیدر کو دیکھنے لگی تھی۔

”اشعال حیدر…. تم سے محبت کبھی نہیں کر سکتی ایلیاہ میر، اس زندگی میں تو نہیں۔ شاید یہ تمہارا خواب رہے، یا حسرت، مگر ایلیاہ میر اتنی بے وقوف نہیں ہے۔“ وہ مسکرائی، اسی پُراعتماد انداز سے۔ وہ اپنا وقار بحال کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس کا اعتماد بحال ہو چکا تھا خود پر۔ وہ اتنی ہی خوداعتمادی سے کھڑی تھی۔ وہی تمکنت تھی اس میں۔

”منہ دھو رکھو اشعال حیدر! مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنے نظرباز ہو کہ اپنی دوست پر بھی نظر رکھو گے؟“ وہ مسکرائی۔ کھیل ہی کھیلنے ہیں تو ڈھنگ سے تو کھیلو، تمہیں تو کھیلنا بھی نہیں آتا اشعال حیدر! ایسے فضول بچکانہ کھیل تو بچے بھی نہیں کھیلتے۔ یہ امید نہیں تھی تم سے۔“ وہ مسکرائی اور پھر اعتماد سے چلتی ہوئی اس کے پاس سے ہو کر وہاں سے نکل گئی۔

وہی حسین شام ہے!

بہار جس کا نام ہے

چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر

نہ جانے جاﺅں گا کدھر

کوئی نہیں جو روک کر

کوئی نہیں جو ٹوک کر

کہے کہ لوٹ آئیے

میری قسم نہ جائیے

میری قسم نہ جائیے!!

”ایلیاہ میر!“ وہ کوریڈور میں اس کے پیچھے آیا تھا۔ وہ لمحہ بھر رُکی مگر پلٹ کر نہیں دیکھا تھا اشعال حیدر دوڑتا ہوا اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔ اسے خاموشی سے دیکھا تھا۔

”ایلیاہ میر! میں….!!“

”شٹ اَپ اشعال حیدر! ایک لفظ بھی مت کہنا۔ نہیں سننا چاہتی میں تمہیں۔ مجھے نہیں پتہ تھا تم نے یہ پلان بنایا ہے، ورنہ میں بھی تمہارے ساتھ اس پلے میں کام کرنے کی حامی نہیں بھرتی۔ کیا سمجھتے ہو؟ بہت توپ چیز ہو؟ کہاں کے ہیرو ہو؟ اگر تم کہیں کے پرنس بھی ہوتے تو ایلیاہ میر تمہیں نہیں چنتی! تم بہت بے تُکی اور بچکانہ حرکتیں کرتے ہو اشعال حیدر! تمہیںدوست ہونے کے ناطے ہر بار رعایت نہیں دی جا سکتی۔ کیا ثابت کرنے چلے تھے…. کیا ہو تم اشعال حیدر؟ تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو مجھ جیسی لڑکی کو تم سے محبت ہو سکتی ہے؟ وہ سب اسکرپٹ تھا، اشعال حیدر اور وہ تمہارا رچایا گیا ایک بچکانہ کھیل۔ آئندہ ایسے بچکانہ کھیل پلان کرنے سے پہلے سوچ لینا۔ ہر لڑکی دانیہ خان کی طرح بے وقوف نہیں ہوتی؟ تم جیسے دوست سے بہتر ہے میں ایک دشمن پال لوں۔“ کہتے ہی وہ چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی اور اشعال حیدر اسے جاتا دیکھتا رہ گیا تھا۔ تیز بارش کی بوچھاڑاندر آ رہی تھی۔بادل گرجے تھے، ممی نے نجانے کب اندر آ کر روم کی کھڑکیوں کو بند کیا تھا۔ وہ چونک کر ممی کو دیکھنے لگی تھی۔

”کہاں چلی گئی تھیں تم ایلیاہ؟ کئی بار فون کیا تمہارا فون سوئچڈ آف تھا اور آفس سے پتہ چلا کہ تم میٹنگ کے لیے گئی ہو؟ موسم اتنا خراب تھا، میرا تو دل ہولا جا رہا تھا۔“ ممی اس کے سامنے آ رکی تھیں۔

”سوری ممی! سیل فون کی بیٹری ڈیڈ تھی اور مجھے اندازہ نہیں تھا اتنا وقت لگ جائے گا۔ آپ نے ڈنر کیا؟“ ممی اس کے سامنے بیٹھ کر اس کے لیے کافی بنانے لگی تھیں۔

”یہ کیا تم نے چینج نہیں کیا؟ ابھی تک اسی طرح گیلے کپڑوں میں ہو۔ چلو اٹھو فوراً چینج کر کے آﺅ۔ بیمار پڑ جاﺅ گی۔“ مگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی۔ کافی کا کپ اٹھا کر سپ لیا تھا۔ پھر ممی کی طرف دیکھا۔

”میں اشعال حیدر سے ملی تھی ممی!“

”اشعال سے؟ اشعال یہاں، برلن میں کیسے؟“ وہ چونکی پھر مسکرائی تھیں۔

”وہ یہاں بزنس کے سلسلے میں آیا ہے۔ ہماری کمپنی میں انویسٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔“

”اچھا! یہ تو اچھی بات ہے۔ وہ تو کافی نان سیریس ٹائپ لڑکا تھانا! پانچ سال میں کتنا بدل گیا سب کچھ۔ دانیہ خان سے شادی ہو گئی اس کی؟ دانیہ بھی ساتھ ہے اس کے؟“ ممی نے پوچھا۔

”نہیں ممی…. دانیہ اس کے ساتھ نہیں ہے۔ میں نے نہیں پوچھا اس سے کہ شادی ہوئی یا نہیں۔ میں نے اسے کہہ دیا ہے وہ گھر آ سکتا ہے۔“

”یہ تو اچھا کیا تم نے۔ لیکن تم اتنی تھکی ہوئی کیوں لگ رہی ہو…. کیا ہوا؟“ ممی نے اسے جانچا۔

”کچھ نہیں ممی…. آج کل کام کچھ زیادہ ہے سو!“ اس نے بات بنائی، پھر کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میں چینج کر کے آتی ہوں۔“ کہتے ہی وہ اٹھی اور واش روم میں گھس گئی۔

٭….٭….٭

وہ شاید جیسے کوئی اشارہ چاہتا تھا۔ ممی نے فون کر کے اسے انوائیٹ کیا اور اگلے ہی دن وہ ڈنر کے لیے ان کے گھر میں تھا۔ نانو اور ممی کے ساتھ گپیں مارتا ہوا، وہ وہی پرانا اشعال حیدر لگ رہا تھا۔ جیسے پانچ سال کا کوئی گیپ آیا ہی نہیں۔ جیسے اس کا اس گھر کے لوگوں سے کوئی رشتہ ٹوٹاہی نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں تھے تو سبھی فیلوز کے ساتھ وہ تقریباً ہر روزآن دھمکتا تھا اور فیلوز نہ بھی آتے تو وہ آن موجود ہوتا۔ کبھی اسے نانو کے ہاتھ کا بنا کدو کا حلوہ کھانا ہوتا اور کبھی اسے ممی کے ہاتھ کی چائے اور سموسے کھینچ لے آتے۔”تمہیں کوئی کام نہیں ہے ہر روز آن دھمکتے ہو؟“ وہ چڑ کر کہتی تھی۔

”ہاں نہیں ہے کام۔“ وہ اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی پلیٹ میں سے کھانے لگتا تو وہ گھورنے لگتی تھی۔

”تمہیں خود تو کوئی کام ہے نہیں، آ کر مجھے بھی ڈسٹرب کرتے ہو۔“ وہ چڑ کر کہتی۔

”اوہ! تو تمہیںمیرا آنا ڈسٹرب کرتاہے؟‘ وہ شرارت سے مسکراتا۔ ”اچھا کیا ہوتا ہے؟“ وہ چھیڑنے لگتا۔

”ڈونٹ بی اسٹوپڈ…. میرا ٹیسٹ اتنا خراب نہیں۔ منہ دھو رکھو۔ تم جیسے فلرٹ ٹائپ بندے سے سو قدم دور ہو کر چلنا پسند کروں گی میں۔ پرلے درجے کے دل پھینک ہو۔ اس روئے زمین پر آخری آپشن بھی بچے تب بھی میں تمہارے لیے نہیں سوچنا چاہوںگی اشعال حیدر!“ وہ گھورتے ہوئے جتاتی اور کتاب لے کر اٹھ کھڑی ہوتی۔ مگر وہ ہاتھ تھام لیتا، وہ غصے سے پلٹ کر دیکھتی۔

”تمہیں اچھا لگتا ہے اپنے اس فیانسی کے خواب دیکھنا؟“ وہ مسکرا کر کہتا۔

”ہی از ناٹ مائی فیاسی بٹ، ایک پروپوزل ہے وہ بس۔ ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا اور تمہیں کیوں پیٹ میں درد اٹھ رہا ہے، اگر میں کسی کے خواب دیکھتی بھی ہوں تو؟ تم جاﺅ نا اپنی دانیہ خان کے پاس۔ جاﺅ اس کا دماغ کھاﺅ۔“

”اوہ جیلسی، اتنی جلن؟“ وہ چھیڑتا، وہ غصے سے گھورتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچتی۔

”سنو! دوست ہو اس لیے برداشت کر رہی ہوں ورنہ اٹھا کر باہر پٹخ آتی۔“ وہ بنا پرواہ کیے اسے ہاتھ تھام کر سکون سے بٹھاتا اور آرام سے اس کی پلیٹ میں سے نگٹس اٹھا کر کھانے لگتا۔

”اتنا نمکین کھاتی ہو اسی لیے موڈ اتنا خراب رہتاہے تمہارا۔ تھوڑا میٹھا بھی کھایا کرو۔ نانو کدو کا حلوا اچھا بناتی ہیں، اور گلاب جامن بھی۔ تم کہو تو تمہارے لیے بھی کہہ کر بنوا دوں؟“ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا۔ وہ گھورنے لگتی۔

”اشعال حیدر! تم جیسا ڈھیٹ شخص کبھی نہیں دیکھا میں نے۔ اس عمر میں نانو کو پریشان کرتے ہو تم۔کوئی کام نہیں کرواتا ان سے۔ یہ کوئی کام کرنے کی عمر ہے ان کی؟ تم جب آتے ہو ادھر اُدھر کی فرمائشیں کر کے ناک میں دم کر دیتے ہو اور وہ نانو بیچاری تمہارے لیے….“

”اچھا جلن کم ہوئی ہے یا بہت زیادہ؟“ وہ اس کی بات کاٹ کر پُرسکون انداز میں پوچھتا۔ وہ چونک کر دیکھتی۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اور وہ اس کی کیفیت سمجھ کر مسکرا دیتا۔

”مس ٹیوب لائٹ! آئی ٹاکنگ اباﺅٹ دانیہ خان…. جلن ہوتی ہے نا؟“

”شٹ اَپ اشعال حیدر! کتنے اری ٹیٹنگ ہو، اگر تم دوست نہ ہوتے تو قسم سے تمہیں کبھی برداشت نہیں کرتی۔“ وہ نگاہ پھیرتے ہوئے کہتی۔

”مگر مجھے جلن ہوتی ہے۔“ وہ نگٹس کھاتے ہوئے اطمینان سے کہتا وہ چونک کر دیکھتی۔

”تمہارے دماغ کی بتی ہمیشہ اتنی ہی دیر سے جلتی ہے کیا؟ اس افلاطون کی بات کر رہا ہوں جس کا پروپوزل تمہارے لیے آیا ہے۔“ وہ جتاتا۔

”تمہیں اس سے کیوں جلن ہوتی ہے؟“ وہ چونک کر اسے دیکھتی، پھر اس کے شرارت سے بھرے اندازپر اسے مزید گھورتی۔

”مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش مت کیا کرو۔ اٹھا کر سمندر میں پھینک آﺅں گی کسی دن۔“ وہ دھمکی دیتی۔

”یار کتنی دھمکیاں دیتی ہو تم۔پچاس کلو سے زیادہ وزن نہیں ہے تمہارا، مجھ جیسے اونچے لمبے انسان کو کیسے اٹھا سکتی ہو تم؟ ہاں اگر تمہارا موڈ ہو تو میں اپنے بازوﺅں میں اٹھا کر تمہیں سمندر کنارے واک کروا سکتا ہوں۔“ وہ شرارت سے مسکراتا۔ وہ ہاتھ کا مکا بنا کر اسے انتہائی غصے سے دیکھتی پھر اٹھ کر وہاں سے نکل جاتی۔وہ روز اس پر بگڑتی مگر وہ بنا پرواہ کیے روز آن دھمکتا تھا۔

”تم اس گدھے سے شادی کرو گی؟“ وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی جب وہ اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا تھا۔ وہ پلٹ کر اطمینان سے اسے دیکھتی۔

”تمہارا پرابلم کیا ہے اشعال حیدر! مجھے خبر بھی نہیں ہے اور تم ہر دن ایک نئی نیوز کے ساتھ آن دھمکتے ہو؟ اب کیا سن کر آئے ہو؟ میری شادی کی ڈیٹ فکس تو نہیں کروا آئے؟“ وہ پُرسکون انداز میں اسے دیکھتی۔

”یارٹیوب لائٹس ناٹ فیئر، اتنی جلدی شادی کا موڈ ہے تمہارا۔ ابھی تو میں اپنے قدموں پر بھی کھڑا نہیں ہوا۔ اب کہیں تم مجھے کڈنیپ کرکے زبردستی شادی مت کر لینا۔“ وہ اپنے نام کا ایک تھا۔ وہ گھورتی رہ جاتی تھی مگر اس پر جیسے کوئی اثر ہی نہیں ہوتا تھا۔

”وہ تمہارے ساتھ بالکل سوٹ نہیں کرے گا۔ مانا دماغ سے ٹیوب لائٹ ہو مگر اب ایسی گئی گزری بھی نہیں ہو۔ آئی مین ٹھیک ٹھاک ہی لگتی ہو دیکھنے میں۔“ وہ کہاں باز آنے والا تھا۔

”یہ رشتہ میری مرضی سے نہیں ہو رہا، ڈیڈ کے دوست کا بیٹا ہے۔ مجھے نہیں پتہ ڈیڈ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن ڈیڈ جوبھی سوچیں گے میرے لیے بہتر ہو گا۔ زندگی مذاق نہیں ہے اشعال! ڈیڈ دل کے پیشنٹ ہیں، میں ان کی کوئی بات رد نہیں کر سکتی۔ ڈیڈ کو بہت خواہش تھی بیٹے کی، جب میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھی تب سے۔ جب انہوں نے نیا بزنس شروع کیا ان کے دماغ میں تھا کہ بیٹا ہو گا اور یہ بزنس آگے جا کر وہ سنبھالے گا۔ مگر جب بیٹے کی جگہ میںاس دنیا میں آئی تو ڈیڈ نے بالکل بھی ری ایکٹ نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے ایک بیٹے سے زیادہ پیار دیا اور میں اپنے ڈیڈکی بیٹی نہیں بیٹا ہوں۔ میں کبھی ان کو کوئی تکلیف نہیں دوں گی۔ میں ابھی سے ان کے ساتھ ان کا بزنس دیکھ رہی ہوں۔ ان کا پورا خیال رکھ رہی ہوں۔ وہ مجھے آنکھیں بند کر کے کنویں میں چھلانگ لگانے کو کہیں گے تو آئی ول ڈو اِٹ۔“ اس کا لہجہ مضبوط تھا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا تھا اور وہ پلٹ کر مضبوط قدموں پر چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔

”ایلیاہ! دیکھوبیٹا چائے کا پانی کھول رہا ہے۔“ ممی کی آواز اسے ان بیتے دنوں سے واپس کھینچ لائی تھی۔وہ جلدی سے چائے کی پتی ڈالنے لگی تھی۔

”آج کتنے دنوں کے بعد گھر گھر لگ رہا ہے نا؟ ہم تو جیسے مشینی زندگی جیتے چلے جا رہے تھے۔ لگی بندھی روٹین کے ساتھ۔ کتنے دنوں بعد دل سے کھل کر مسکرائے، اس گھر میں ہنسی کی آواز گونجی۔ تم کہہ رہی تھیں اشعال بدل گیا ہے،وہ تو ویسا کا ویسا ہے۔“ ممی مسکرا رہی تھیں۔ وہ جیسے زبردستی مسکرائی تھی۔

”ممی! میرے سر میں کچھ درد ہے آپ پلیز، اس چائے کو دیکھ لیں۔“ کہتے ہی وہ وہاں سے نکل گئی تھی۔

”ایلیاہ نے خود پر زندگی کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔ شہاب میر کی موت کے بعد اس نے اس کے حصے کا سارا بوجھ اپنے کاندھوں پر لے لیا۔ شہاب میر اسے اپنا بیٹا کہتا تھا اور وہ بیٹا بن گئی۔ تینوں چھوٹی بہنوں کی شادیاں کیں، شہاب کے بزنس کو آگے بڑھایا۔ ماں کا ہم سب کا خیال رکھا، مگر وہ خود اپنے آپ کو بھول گئی۔ خود اپنی زندگی داﺅ پر لگا دی اس نے۔ اپنی منگنی ختم کر دی، وقت آگے بڑھ گیا مگر جیسے اسے پرواہ تک نہیں۔ سب کی دیکھ بھال اسی طرح کرتی ہے وہ۔ سب کا خیال ویسے ہی رکھتی ہے مگر خود اپنی فکر کرنا بھول گئی ہے۔“ وہ راہداری سے گزر رہی تھی جب نانو کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔

وہ جانے کیوں بجائے اپنے کمرے میں جانے کے اس طرف آ گئی تھی۔ نانو اسے دیکھ کر خاموش ہو گئی تھیں۔وہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ پھر مسکرایا تھا۔

”تم نانو کو اتنا تنگ کرتی رہی ہو؟“ وہ اس کی خبر لینے لگا تھا۔ وہ اطمینان سے اسے دیکھتے ہوئے سامنے ہاتھ بانددھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ جیسے وہ کمزور پڑنا یا خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ مسکرا رہا تھا۔

”میں نے کیا کیا ہے؟“ وہ پوچھ رہی تھی۔

”تم نے ہی تو سب کیا ہے!“ وہ جیسے بہت کچھ جتا رہا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو چپ ہو کر دیکھنے لگی تھی۔

”نانو! بتاﺅ اس کے سامنے….یہ آپ سے روز فرمائشیں کر کے کدو کا حلوہ اور گلاب جامن بنواتی رہی ہے نا؟“ وہ اپنی ازلی شرارت سے بول رہا تھا، نانو مسکرا دی تھیں۔

”میں تمہاری طرح اتنا میٹھا نہیں کھاتی۔“ وہ جتاتے ہوئے بولی۔

”ہاں! جانتا ہوں، تبھی اتنی کڑوی باتیں کرتی ہو۔“ وہ مسکرایا۔

”اچھا بچو! تم بیٹھو باتیں کرو میں ذرا نماز پڑھ لوں۔“ نانو ان دونوں کی باتوں پر مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔

نانو کے جانے کے بعد اشعال حیدر نے اسے بڑے آرام سے دیکھا۔ وہ پلٹ کر جانے لگی، جب اشعال نے کلائی تھام لی تھی۔ وہ چونکی پھر پلٹ کر دیکھنے لگی تھی۔ نظروں میں کوئی شناسائی نہیں تھی۔ جیسے وہ اس سے آج پہلی بار ملی ہو۔

”مجھے ہر بار کیوں لگتا ہے ایلیاہ شہاب میر! کہ تم مجھ سے پہلی بارملی ہو؟ تمہارے چہرے پر ہر بار پہلے سے زیادہ اجنبیت کیوں ہوتی ہے؟ اور یہ آنکھیں جیسے یکسر انجان بن جاتی ہیں۔ جیسے انہوں نے کوئی سرگوشی سنی نہ ہو؟ ایسا کیا کرتی ہو تم ایلیاہ شہاب میر! یہ جو وسوسے تمہاری آنکھوں میں تیرتے ہیں یہ کوئی اَن کہی سرگوشی ہیں یا ان کے مفہوم ان باتوں سے بھی گہرے ہیں جنہیں میں سمجھنے کے جتن آج تک کرتا آیا ہوں؟ اور یہ بھید ہر بار پہلے سے سو گنا کیسے ہو جاتے ہیں؟“ وہ مدھم لہجے میں کہہ رہا تھا، بغور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا۔ وہ نظر چرا گئی تھی۔ وہ اس کے مقابل کھڑا تھا اس کو اپنا آپ پسپا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

”ایلیا میر! وسوسے ٹھیک نہیں، انہیں رکھنے سے یہ بڑھتے ہیں اور ان کا سو گنا یا ہزار گنا ہونا خوابوں کے تسلسل کو عمل میں آنے ہی نہیں دیتا۔ زندگی کے لیے، ان وسوسوں کا ختم ہونا ضروری ہے تاکہ ان کی جگہ خوابوں کو ملے۔ زندگی میں زندگی کا بہاﺅ بہت ضروری ہے اور تم تمام دروازے بند کرتی آئی ہو۔“ وہ جیسے اسے سطر سطر پڑھ رہا تھا۔ وہ جیسے الجھن میں گھری کھڑی تھی۔

”ان باتوں کا کیا مطلب نکلتا ہے اب اشعال حیدر! تمہیں نہیں لگتا تم فضول باتیں کر رہے ہو، جن کا کوئی سر پیر نہیں۔ زندگی کی سمجھ بوجھ تم سے زیادہ ہے مجھے۔ تم نے زندگی کو مذاق بنایا ہے ہمیشہ، اور ساری باتوں کو مذاق میں اُڑایا ہے، تم زندگی کو اتنے سیریس اندازمیں ڈسکس کرتے اچھے نہیں لگتے۔ جسے خود زندگی کا پتہ نہ ہو وہ دوسروں کو نشاندہی کرتا اچھا نہیں لگتا۔“ وہ جیسے حقائق بتا رہی تھی، مگر وہ اسی طور بغور اسے دیکھتا رہا تھا۔

ایلیاہ میر نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنا چاہا مگر اس نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا۔ وہ الجھ کر اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”شادی کرو گی مجھ سے ایلیاہ میر؟“ وہ اس کی آنکھوں میں براہ راست دیکھتا ہوا بولا۔ وہ جیسے ساکت سی رہ گئی تھی۔

”میں تمہارا ہاتھ تھام کر زندگی کے راستوں پر آگے بڑھنا چاہتا ہوں ایلیاہ شہاب میر…. پھر وہ راستے چاہے طویل ہوں یا مختصر اس سے فرق نہیں پڑتا۔ تم اپنی زندگی میرے ساتھ گزارنا چاہو گی؟“ و ہ پوچھ رہا تھا اور وہ ساکت سی کھڑی تھی۔

”ایلیاہ میر! رشتوں کی ابتداءکیسے ہونا چاہیے، نہیں جانتا میں، مگر اس رشتے کی داغ بیل میں اپنے پورے دل سے ڈال رہا ہوں۔ جو چیزیں خود سے بنائی جاتی ہیں انہیں آپ کبھی توڑ نہیں سکتے اور یہ رشتہ میں بنانا چاہتا ہوں۔ زندگی کی یا اس کے تمام اسرار و رموز کی خبر چاہے نہ ہو مجھے مگر اتنا معلوم ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ ول یو میری می؟“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اور وہ یکدم ہی سر انکار میں ہلانے لگی تھی۔

”نہیں…. کبھی نہیں….!“ بہت مدھم لہجے میں کہہ کر وہ یکدم پلٹی اور وہاں سے نکل گئی۔ اشعال حیدر اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔

٭….٭….٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے