سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 44

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 44

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

قسط نمبر 44

گزشتہ تقریباً دو ماہ سے صحت کے بعض مسائل پریشان کر رہے ہیں، خاص طور پر زیادہ دیر بیٹھنا مشکل ہورہا ہے، ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کی شکایت ہمیں خاصی پرانی ہے، 2010 ءمیں بائیں گھٹنے میں درد اور سوجن شروع ہوئی، ہم نے سوچا ، ممکن ہے کہ کوئی پرانی چوٹ تازہ ہورہی ہے، کچھ ہومیو پیتھک دوائیں استعمال کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا، ہمارے عزیز دوست حکیم شمیم احمد نے بھی طب یونانی کے کچھ نسخے استعمال کرائے لیکن کوئی افاقہ نہ ہوسکا، ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہم دور بھاگتے ہیں کیوں کہ ہمیں معلوم ہے یہ طریقہ علاج اس حد تک کمرشلائز ہوچکا ہے کہ ڈاکٹر کو مریض کی صحت سے زیادہ صرف اپنی فیس سے دلچسپی ہوتی ہے، بین الاقوامی ڈرگ مافیا صرف ایسی دواوں کے فروغ پر توجہ دیتی ہے جو مریض کو فوری اور عارضی آرام دے سکے، اس طرح ان کی پروڈکشن بڑھتی ہے لیکن مرض کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرسکتے، اکثر ایلوپیتھک میڈیسن کے سائیڈ افیکٹس بھی کوئی نیا مرض پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

ہم ، معراج رسول صاحب ، علی سفیان آفاقی صاحب، محمود احمد مودی صاحب ، مرحوم اظہر کلیم، جناب مشتاق احمد قریشی صاحب، احمد سعید شافع صاحب اور دیگر بہت سے ہمارے احباب ہومیو پیتھی یا طب یونانی کی طرف اسی لیے متوجہ ہوئے ۔

ہمارے بائیں گھٹنے کا مسئلہ جب حد سے گزر گیا اور ہمارے لیے چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا تو ہم نے ضروری سمجھا کہ اب ضروری نوعیت کے کچھ ٹیسٹ کرالیے جائیں مگر اس کام کے لیے بھی کسی مخلص اور ایماندار ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے جس کی نگرانی میں تمام ٹیسٹ ہوسکیں ورنہ کمرشل ازم کے اس دور میں ڈاکٹر حضرات بلاوجہ بھی فضول قسم کے ٹیسٹ کرواتے اور لیبارٹری والوں سے بھتے وصول کرتے ہیں۔

کراچی میں صرف ایک ہی ڈاکٹر ہمارے لیے قابل بھروسا ہیں،وہ ہمیں بہت عزیز ہیں اور ان کی ہم سے محبت بھی کسی سے کم نہیں ہے،ان کا نام ڈاکٹر علی ارسلان ہے، اب الحمد اللہ پروفیسر ہوچکے ہیں، آج کل کراچی کے لیاقت نیشنل اسپتال میں ہیں۔

علی ارسلان ہمارے محترم علی سفیان آفاقی کے سگے بھتیجے ہیں، وہ جن دنوں انگلینڈ سے ایف آر سی ایس کر رہے تھے انہی دنوں سے ان کے لکھنے پڑھنے کے شوق کا آغاز ہوگیا تھا، معراج رسول صاحب سے ان کا رابطہ تھا اور وہ سسپنس ڈائجسٹ کے لیے کہانیاں لکھا کرتے تھے، پھر وہ پاکستان آئے اور نیوی میں بھرتی ہوگئے، جن دنوں وہ کراچی کے پی این ایس شفا میں تعینات تھے، ہم نے ایسی ہی پیچیدہ صورت حال میں ان سے رابطہ کیا تھا اور تمام ٹیسٹ کرائے تھے، یہ 1999 ءکی بات ہے ، ہمارا خیال تھا کہ شاید ہمیں کوئی ہارٹ پرابلم ہوگئی ہے، ارسلان نے تمام ٹیسٹ رپورٹ دیکھنے کے بعد اعلان کردیا کہ آپ کو ایسی کوئی بھی پرابلم نہیں ہے، آپ کا مسئلہ اعصابی ہے، کام کا بہت زیادہ دباو صحت کے موجودہ مسائل کا سبب ہے،پھر انھوں نے کچھ ایلوپیتھک دوائیں بھی تجویزکیں اور ہم نے استعمال کیں، الحمد اللہ ہم بالکل ٹھیک ٹھاک ہوگئے، چناں چہ ایک بار پھر ہمیں علی ارسلان کی یاد آئی، انھیں فون کیا اور تمام ماجرا بیان کیا، فوراً بولے ”آجاو “

قصہ مختصر یہ کہ ان کی نگرانی میں ضروری ٹیسٹ ہوئے، ارسلان نے بتایا کہ جناب آپ کو آسٹرو پروسز کا مرض شروع ہوچکا ہے اور اب آپ کے لیے فلاں فلاں احتیاط اور تدابیر اختیار کرنا ضروری ہےں،اس بیماری میں ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں، کیلشیم اور وٹامن ڈی کا مستقل استعمال مفید ثابت ہوتا ہے، انھوں نے ہمیں دودھ اور دہی کے پابندی سے استعمال کی تاکید کی ، کیلشیم کی ٹیبلیٹ تجویز کیں اور وٹامن ڈی تھری کے انجکشن وغیرہ۔

ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ ہمیں یہ شکایت کیوں ہوئی، جب کہ ہم ہمیشہ سے دودھ دہی ، لسّی وغیرہ کے شوقین رہے ہیں، آج تک نہایت پابندی سے اللہ کی ان نعمتوں سے لُطف اندوز ہوتے ہیں، ہم نے اپنی اس حیرت کا اظہار ارسلان سے بھی کیا اور انھیں بتایا کہ دودھ کا مستقل استعمال ہم نے ساری زندگی کیا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم کیلشیم کی کمی کا شکار ہوئے؟

یہ موضوع چھڑا تو بات کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ تک پہنچ گئی، ارسلان کا موقف یہی تھا کہ دودھ وغیرہ فی زمانہ معیاری دستیاب نہیں ہے،اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا، ہم نے ارسلان کو بتایا کہ ایک زمانے میں ہمارا معمول تھا کہ ہم روزانہ کم از کم 2 کلو دودھ پیتے تھے، وہ بڑے حیران ہوئے ، یہ شاید 1976-77 ءکا زمانہ تھا، ہماری دوستی ایک ایسے بندے سے ہوگئی تھی جو دودھ کا آڑھتی تھا، منو دودھ روزانہ اس کے پاس آتا تھا ، دوستی کا سبب ہم دونوں کا مشترکہ شطرنج کا شوق تھا، اس زمانے میں رات 2 بجے شہر کے مضافات اور حیدرآباد تک سے دودھ آیا کرتا تھا، ہم دونوں ناظم آباد میں رات دس بجے سے ایک فٹ پاتھ پر بیٹھ کر شطرنج کھیلا کرتے تھے اور 2 بجے دودھ آنے تک یہ سلسلہ جاری رہتا، دودھ کی آمد کے بعد وہ اپنے کام میں مصروف ہوجاتااور ہم دودھ کی بڑی بالٹی کے ڈھکن میں دودھ بھر کر کچا ہی پی جاتے تھے اور اپنے گھر کا رُخ کرتے تھے، کیسا بے فکری کا زمانہ تھا ، وہ بھی!

ہم نے پوچھا ”آپ کی ایلوپیتھی میں اس کا کوئی حتمی علاج ؟ “

علی ارسلان نے اس موضوع پر ہمیں خاصا طویل تفصیلی لیکچر دیااور بتایا کہ کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی اس بیماری کا سبب ہے لہٰذا ایسی خوراک مستقل استعمال کریں جس سے کیلشیم اور وٹامن ڈی آپ کو ملتا رہے، بس یہی اس کا علاج ہے جو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے، باقی درد وغیرہ کے لیے وہی روایتی پین کلر وغیرہ لیتے رہےں۔

ہم نے اپنے پسندیدہ ڈاکٹر صاحب کے مشوروں پر مکمل طور سے عمل کیا اور اپنے طور پر ہومیوپیتھک میڈیسن سے بھی مدد لی، الحمد اللہ صحت بہتر ہوگئی لیکن گزشتہ آٹھ نو سال سے ایسٹروپروسز کے مسائل گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں خصوصاً جب طبیعت عادتاً یا مجبوراً بے پرہیزی پر مائل ہوتی ہے، مثلاً ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے 7 تاریخ کے دوران میں ہمارے بہت عزیز دوست جناب سید انتظار حسین شاہ زنجانی کراچی آتے ہیں اور ان کے ساتھ نشستیں ہوتی ہیں، ہوٹل بازی ہوتی ہے، نہاری ، پائے، بریانی ، کباب، سب کچھ ہی ان سات دنوں میں کھایا جاتا ہے، اسی طرح جب ہم لاہور ، پنڈی وغیرہ جاتے ہیں تو تمام پرہیز بالائے طاق رکھنا پڑتا ہے، جس کا نتیجہ بھی بعد میں بھگتنا پڑتا ہے۔

ایسا ہی کچھ گزشتہ مہینوں میں بھی ہوا ہے جس کی وجہ سے اب ریڑھ کی ہڈی متاثر ہے، زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے کمر کی تکلیف بڑھ جاتی ہے، اب پھر پرہیز پر زور ہے لیکن اس صورت حال نے لکھنے پڑھنے کی عادت سے بھی محروم کر رکھا ہے، چناں چہ بھائی امجد جاوید ناراض ہیں کہ ہم ڈائجسٹوں کی الف لیلہ نہیں لکھ رہے۔

عزیزان من! ان شاءاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، الحمد اللہ اب صحت کے مسائل پہلے سے بہتر ہیں،کچھ دوسرے روز مرہ زندگی کے مسائل بھی اچانک درپیش ہوئے تھے ان سے بھی نجات مل رہی ہے لہٰذا زیادہ نہیں مگر تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا شروع ہوچکا ہے، البتہ زیادہ طویل قسط کی توقع نہ رکھیں۔

٭٭

Posted by 100 Lafzon ki Kahani on Monday, April 8, 2019

گزشتہ دنوں عزیزی مبشر علی زیدی نے رابطہ کیا اور بتایا کہ ایک پروگرام وائس آف امریکا سے ڈائجسٹوں کے عروج و زوال پر ہوگا جس میں شکیل عادل زادہ ، برادرم محمود احمد مودی ، پرویز بلگرامی ، بدر سعید کے علاوہ آپ سے بھی اظہار خیال کی درخواست ہے، پروگرام ہوا اور بہت اچھا ہوا، شکیل بھائی ہمیشہ محتاط گفتگو کرتے ہیں، البتہ ہم نے اور مودی صاحب نے زوال کے اسباب پر مناسب حد تک روشنی ڈالی، چوں کہ یہ پروگرام فیس بک پر شیئر کرلیا گیا تھا لہٰذا امید ہے کہ اکثر ہمارے قارئین نے بھی دیکھ لیا ہوگا، ایسے کسی پروگرام میں مختصر بات ہی ممکن ہوتی ہے، کسی بھی مسئلے پر سیر حاصل گفتگو کا موقع نہیں ہوتا، ڈائجسٹوں کے عروج و زوال کی مختصر وجوہات ایک جملے میں بیان ہوسکتی ہیں، اہل افراد اسے بام عروج تک لے گئے اور نا اہلوں نے زوال کا راستہ دکھایا۔

دنیا بھر میں بڑی بڑی عظیم سلطنتوں اور قوموں کے عروج و زوال کی کہانیاں بھی اسی حقیقت کی آئینہ دار ہیں، بے شک ڈائجسٹ انڈسٹری کے آغاز پر جن لوگوں نے اس شعبے میں قدم رکھا، ان کی غیر معمولی صلاحیتوں ، محنت اور جستجو سے انکار ممکن نہیں، انھوں نے معیار پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رکھی، اس معاملے میں کسی بخل کو قریب نہ آنے دیا، سب رنگ کے شکیل عادل زادہ تو اس معاملے میں اس قدر آگے نکل گئے کہ ان کا ماہنامہ ، سال نامہ بن گیا اور آخر کار بند ہوگیا لیکن ان کی طبیعت نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ کوئی کمزور کہانی پرچے میں شامل کریں، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ بازی گر کی قسط لکھتے ہوئے اگر وہ مطمئن نہ ہوتے تو اپنے ہی لکھے ہوئے صفحات پھاڑ کر پھینک دیتے اور دوبارہ لکھنا شروع کردیتے ،کچھ ایسے ہی رویّے اور طور طریقے ہم نے خان آصف ، ایچ اقبال میں بھی دیکھے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے زبان و بیان کی اصلاح و درستی پر بھی نہ صرف یہ کہ زور دیا بلکہ عملی طور پر بھی ان کی کوششیں ہمیشہ جاری رہیں اور بعد میں دوسروں نے ان کی پیروی کی، اپنے کام سے اس درجہ اخلاص ہی انسان کو بام عروج پر پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔

اس پروگرام میں سرگزشت کے موجودہ مدیر پرویز بلگرامی بھی موجود تھے، انھوں نے نئے لکھنے والوں سے خاصی مایوسی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اب کہانیوں پر بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، پرویز بلگرامی سے ایسے ہی ڈپلومیٹک بیان کی امید تھی، ان کی مجبوریوں کو ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے خیال سے مبشر علی زیدی کو انھیں اس پروگرام میں اظہار خیال کی دعوت نہیں دینا چاہیے تھی، کسی بھی ادارے سے وابستہ کوئی ملازمت پیشہ حقیقت حال کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتا اور نتیجے کے طور پر اصل حقائق پر پردہ پڑا رہ جاتا ہے، ویسے بھی پرویز بلگرامی کا تعلق ڈائجسٹ انڈسٹری کے اس دور سے ہے جب دور زوال کا آغاز ہوچکا تھا،انھوں نے جن پرچوں سے اپنے کرئر کا آغاز کیا، ان میں سرفہرست مسٹری میگزین اور سچی کہانیاں تھے، مسٹری میگزین اور ایڈونچر غلام محمد غوری نکالا کرتے تھے، غوری صاحب کو کبھی ڈائجسٹوں کے اعلیٰ معیار سے دلچسپی نہیں رہی، وہ کم خرچ اور بالانشیں کے اصول پر ہمیشہ کاربند رہے، دوسری طرف صہام مرزا گروپ میں جب شمیم نوید پہنچے تو یہاں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی تھی ،اعلیٰ درجے کے تخلیق کاروں کو بھرپور معاوضہ دینے کا رواج نہ تھا، اس کے بجائے شمیم نوید نے ڈاک سے آنے والی کہانیوں کو ازسر نو ری رائٹ کرکے قابل اشاعت بنانے کا سلسلہ شروع کیا، چناں چہ سارا دباو

 ایڈیٹر اور سب ایڈیٹر صاحبان پر آ پڑا، ہم نے جب ماہنامہ سرگزشت کا آغاز کیا تو پرویز بلگرامی کی کہانی ہمیں ڈاک سے موصول ہوئی، کہانی کا موضوع اچھا تھا لیکن زبان و بیان نہایت کمزور چناں چہ مناسب اصلاح و درستی کے بعد سرگزشت کے پہلے شمارے میں اسے جگہ دی گئی،بعد ازاں ان کا آنا جانا دفتر میں شروع ہوا تو ہم نے ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی، موضوع تجویز کرکے ان پر کہانیاں لکھوائیں لیکن ان کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ بہت زیادہ لکھنے اور اپنی آمدن بڑھانے کے چکر میں معیار کی زیادہ فکر نہیں کرتے تھے، اس سلسلے میں اکثر بنگلا اور ہندی کہانیوں کا ترجمہ کرتے، ایک دو واقعات ایسے بھی ہوئے جن کے بعد ہم نے ان کی طرف سے توجہ ہٹالی، وہ بھی سچی کہانیوں تک محدود ہوگئے کیوں کہ شمیم نوید اس ادارے سے علیحدہ ہوگئے تھے، ان کی جگہ ہمارے پرانے دوست سلیم فاروقی نے سنبھال لی تھی اور وہ پرویز بلگرامی کا بھی بہت خیال رکھتے تھے مگر ساتھ ہی دونوں کے درمیان ایک خاموش سی چپقلش بھی موجود تھی، علیحدگی میں دونوں ایک دوسرے سے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہتے تھے، دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ شکوے شکایات تھیں، سلیم فاروقی اب اس دنیا میں نہیں رہے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، بنیادی طور پر وہ ایک نیک طبیعت انسان تھے، ہمارا ان سے دوستی کا رشتہ ایک اور حوالے سے بھی بڑا گہرا تھا، وہ ہمارے بہت قریبی دوست جناب احمد جاوید کے پیر بھائی تھے، ان کا تعلق اردو ادب کے اس گروپ سے تھا جس نے 70 ءکی دہائی میں خود کو نمایاں کیا اور کراچی کے حلقہ ءارباب ذوق کی مستقل نشستوں میں ان کا نام قابل توجہ ہوا، ان لوگوں میں احمد جاوید، سجاد میر، انور سن رائے، عذرا عباس، افضال سید وغیرہ نئی نسل کے ادبی نمائندے تھے، انور سن رائے اور سجاد میر سے ہماری پہلی ملاقات 1974 ءمیں اسی حلقہ ءارباب ذوق کی نشست میں ہوئی تھی۔

سلیم فاروقی ، منظر امام ،ثروت حسین، شوکت عابد ، احمد جاوید کے بہت قریب تھے چناں چہ جب احمد جاوید کے پی کے میں اپنی جاب کے دوران میں ایک بزرگ سیف اللہ اخوند زادہ کے ہاتھ پر بیت ہوئے اور ان سے بے حد متاثر ہوئے، انھوں نے اپنے کراچی کے دوستوں کو فراموش نہیں کیا اور پہلی فرصت میں سلیم فاروقی (پرانا نام سلیم وہاب تھا) اور شوکت عابد کو اپنے ہمراہ کے پی کے لے گئے اور سیف اللہ صاحب سے بیت کرایا، یہ دونوں کلین شیو جب کراچی واپس آئے تو باریش ہوچکے تھے اور پھر یہ ریشِ دراز ہمیشہ قائم رہی، شوکت عابد سے کچھ عرصہ پہلے آرٹس کونسل میں ملاقات ہوئی تو ہم انھیں پہچان نہ سکے کیوں کہ اب داڑھی بہت بڑھ چکی ہے۔

سلیم فاروقی صاحب علم، ٹیلنٹڈ اور محنتی انسان تھے لیکن ہمیشہ قسمت کے پھیر میں رہے، کسی قدر طبیعت میں لااُبالی پن بھی تھا جو ان کی شاعرانہ فطرت کا خاصا تھا، سچی کہانیاں میں انھیں شمیم نوید کے بعد اچھا موقع ملا مگر کچھ زیادہ عرصہ وہ یہاں نہ گزار سکے، ہمیں نہیں معلوم ان کے سچی کہانیاں چھوڑنے کا اصل سبب کیا تھا لیکن سچی کہانیاں چھوڑنے کے بعد وہ پرویز بلگرامی سے خوش نہیں تھے جس کا اظہار اکثر کرتے رہتے تھے۔

ہمارے جے ڈی پی چھوڑنے کے بہت بعد جب معراج رسول صاحب اپنی بیماری کے سبب ادارے سے رخصت ہوچکے تھے اور اس دوران میں ادارہ آہستہ آہستہ خود بھی بہت سی کمزوریوں کا شکار ہوچکا تھا، پرویز بلگرامی یہاں نمودار ہوئے، ایک روز ہمارے کلینک آئے اور ہمیں اپنی آمد کی اطلاع دی، ہم نے خوشی کا اظہار کیا، وہ اکثر آتے اور بعض امور میں مشورے بھی کرتے، حالات کی خرابی کا رونا بھی روتے، جیسا کہ دبے دبے الفاظ میں مبشر علی زیدی کے پروگرام میں بھی روتے رہے، ہمیں حیرت ہوتی ہے جب ہم سنتے ہیں کہ وہ معراج رسول صاحب سے اپنی گہری قربت اور مشاورت کا اظہار کرتے ہیں، حالاں کہ پہلے جب وہ جے ڈی پی میں آیا کرتے تھے تو ان کا واسطہ و تعلق صرف ہم سے رہا، معراج صاحب سے نہیں، بعد میں جب وہ اس ادارے میں باقاعدہ ملازم ہوئے تو معراج صاحب جاچکے تھے۔

سرگزشت کے خصوصی نمبر نکالنے کی ابتدا ہم نے کی تھی اور جب پرویز بلگرامی ہمارے پاس آیا کرتے تھے تو اس حوالے سے بھی ان کی حوصلہ افزائی ہم نے کی، اب ایک طویل عرصہ ہوچکا ہے کہ وہ ہمارے پاس نہیں آتے، خدا معلوم اس کا سبب کیا ہے، بہر حال سبب کچھ بھی ہو ہم جیسے گوشہ نشیں کی صحت پر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پہلے آتے تھے تو کچھ لے کر ہی جاتے تھے، اب نہیں آتے تو یہ ان کی ہی محرومی ہے،تازہ صورت حال میں اہم سوال یہ ہے کہ نئے لکھنے والوں پر اتنا زیادہ انحصار ہی کیوں کیا جارہا ہے، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے یقیناً انھیں ان کے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے موقع ملنا چاہیے مگر پورا پرچا ان کی کمزور کہانیوں سے بھر دینا تو دانش مندی نہیں ہے پھر مسئلہ صرف زبان و بیان کا نہیں ہے جسے بلگرامی صاحب مانجھ رگڑ کے چمکالیں گے، کہانی کا اہم مسئلہ تو اس کا مرکزی خیال اور پھر اس خیال کی عمدہ طریقے سے پیش رفت ہے جو پڑھنے والے کو باندھ کے رکھتی ہے۔(جار

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے