سر ورق / کہانی / بد حواسیاں…اسرار احمد

بد حواسیاں…اسرار احمد

بد حواسیاں

اسرار احمد

میں ابھی سکول کے دروازے سے باہر نکلا ہی تھا کہ وہ میرے سکوٹر کے سامنے آگیا،میں نے بمشکل بریک لگا کر اسے بچایا(حقیقت میں خود کو بچایا ورنہ اس نے جو میرا حال کرنا تھا میری ہڈیاں تاعمر اپنی جگہ سے ہجرت کر جاتیں)….بس استاد بہت ہوگئے تیرے نخرے چل آج میرے ساتھ ہی چلو ،وہ مجھے بازو سے ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔لل لیکن مم میں نے شاہ جی آپ کو کل بھی بتایا تھا کہ میں استاد ہدایت اللہ موسیقی کا نہیں ،اردو کا استاد ہوں، میں بمشکل ہکلاتے ہوئے بولا۔۔۔یہ بات اب ملک صاحب کو ہی سمجھانا میں نے اور بھی بہت کام کرنے ہیں سلطان شاہ جنجھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔لیکن میرا سکوٹر۔۔۔۔میں منمنایا۔۔۔اس کھٹارہ کو چوری کر کے کسی نے خود پر نحوست نہیں ڈالنی،سلطان شاہ میرے سکوٹر کی شدید توہین کرتے ہوئے بولا حالانکہ وہ اتنا بھی بری حالت میں نہیں تھا بس تھوڑا سا رنگ اتر زنگ جم گیا تھا،بیٹھنے کی جگہ تھوڑا سا سائیڈ کو سرک گئی تھی اور بس چند منٹ بعد تھوڑی دیر کے لیے بند ہو جاتا تھا۔۔۔۔اب وہ مجھے تقریباً دھکیلتے ہوئے اپنی جیپ کی طرف بڑھا،یہ افتاد مجھے پر دوسری مرتبہ پڑ رہی تھی ،علاقے کے منجھے ہوئے سیاستدان ملک مستقیم کے اٹھارہ سالہ بیٹے ملک صلاح الدین عرف صلو دا راک اسٹار کو گلوکاری کا شوق تھا،اپنے بیٹے کے شوق کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے شہر کے معروف استاد ماسٹر ہدایت اللہ کی خدمات لینے کے لیے اپنے کارندہ خاص سلطان شاہ کو بھیجا تو وہ کمبخت مجھے ہی استاد ہدایت اللہ سمجھ کر اٹھانے آگیا تھا حالانکہ میں نے آج تک  صرف بچوں کے کان کے نیچے ہی بجائی تھی اس کے علاہ کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔۔۔۔راستے میں پہلے پہل  تو میں نے سلطان شاہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ میں وہ ہدایت اللہ نہیں ہوں جس کی اسے تلاش ہے جب وہ ٹس سے مس نہ ہوا تو میں منتوں پر اتر آیا۔میں اپنے لہجے میں دنیا جہان کی بیچارگی سما کر بولا شاہ جی میں بڑا دکھی بندہ ہو جی۔۔۔۔پھر تو تمہارے گلے میں بھی بڑا درد ہوگا۔۔۔۔جی ہاں شاہ جی بڑا درد ہے جی قسم سے گلہ بڑا دکھ رہا ہے،مجھے جانے دیں گھر جا کر گولی کھا کر سوؤں گا تو بڑا آرام۔۔۔۔۔اوئے میں گانے والے گلے کی بات کر رہا ہوں اور کھلاتا ہوں تجھے گولی اور دیتا ہوں آرام وہ میری بات کاٹ کر پستول نکال کر بولا۔۔۔۔میرے تو پسینے چھوٹ گئے،نن نہیں شاہ جی میں جھوٹ نہیں بول رہا میری کہانی سنو گے تو آپ کے بھی آنسو نکل آئیں گے،میں روہانسے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔کیوں تم منہ میں گلیسرین ڈال کر سناؤ گے وہ پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔نہیں جی کہانی ہے ہی ایسی میں مسکین صورت بنا کر بولا۔۔۔تو نہ سناؤ کیوں مجھے رلانا چاہتے ہو اس کی جنجھلاہٹ عروج پر تھی۔۔۔۔۔جی کیا بتاؤں آپ کو(میں بھی ڈھیٹ تھا)جب میں پیدا ہوا تو چھوٹا سا تھا۔۔۔میری بد حواسی اپنے جوبن پر تھی۔۔۔۔۔ہیں!!! اس نے آنکھیں نکالتے ہوئے میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔مم میرا مطلب جب میں چھوٹا سا تھا تو مجھے ڈھیر ساری بیماریوں نے آن گھیرا ڈاکٹروں نے کہا کہ میرے بچنے کی کوئی امید نہیں۔۔۔اوئے بند کر اپنی بکواس ایسا نہ ہو کہ میرے ہاتھوں بھی تیرے بچنے کی امید نہ رہے،،،عجیب بد دماغ آدمی تھا میں اسکے دل کو موم کر کے اپنی جاں خلاصی کے چکر میں تھا اور وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔

حویلی پہنچ کر سلطان شاہ مجھے سیدھا ڈرائنگ روم میں لے آیا اور مجھے انتظار کرنے کا کہہ کر خود غائب ہو گیا،ڈرائنگ روم میں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا،سامنے دیوار پر صلو دا راک اسٹار کی  قد آدم تصویر لگی ہوئی تھیں،آدھے گنجے سر،ہاتھ میں گٹار پکڑےاور آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے تقریباً چائنہ کا گرو رندھاوا لگ رہا تھا۔۔۔۔میں دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ جلد از جلد ملک مستقیم سے ملاقات ہو اور یہ غلط فہمی دور ہو۔۔۔۔انتظار تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔۔۔بیرونی دروازے پر تو مسلح گارڈ موجود تھے لیکن حویلی میں کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔میں دل ہی دل میں  ملک مستقیم کو کوسنے لگا کہ اگر وہ درست پتہ بتاتا تو میری شامت نہ آتی۔۔۔سلطان شاہ نے میرے محلے میں آکر استاد ہدایت اللہ جو کہ موسیقی کی تعلیم دیتے تھے کا پوچھا اور کسی سر پھرے نے میرا پتہ بتا دیا یقیناً وہ میرا کوئی شاگر  ہی ہو گا اور یہ حرکت اس نے اپنی کسی پرانی پٹائی کا بدلہ لینے کے لیے کی ہوگی۔۔۔۔ اور مجھے رہ رہ کر ملک مستقیم پر غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔۔بیٹے کو صراط مستقیم پر چلانے کی بجائے مجھ ہدایت اللہ کو بھی بے ہدایت کرنے پر تلا ہوا تھا۔۔۔تھک کر میں صوفے پر لیٹ گیا کب آنکھ لگی پتہ نہیں چلا۔۔۔۔منہ پر پڑنے والے پانی کے  زور دار چھینٹے سے آنکھ کھلی تو دیکھا سلطان شاہ مجھے گھور رہا تھا میں اندازہ نہ کر پایا کہ میں کتنی دیر سویا تھا۔۔۔اوئے اٹھ جا ملک صاحب آرہے ہیں۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد ملک مستقیم ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو میں جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔وہ آکر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔اچھا تو یہ ہے وہ بندہ جو میں نے کام کے لیے رکھنے کو کہا تھا۔۔۔۔بندہ اعتماد کا ہے نا اور وہ استاد ہدایت اللہ کا کیا بنا صلو کل رات بھی مجھ سے پوچھ رہا تھا۔۔۔ملک مستقیم نے میری طرف دیکھ کر نان اسٹاپ بولتے ہوئے کہا۔۔۔۔ملک جی یہی تو استاد ہدایت اللہ ہے۔۔۔۔ملک مستقیم نے  چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔تمہارا دماغ تو درست ہے یہ ہے استاد ہدایت اللہ؟؟؟؟ملک مستقیم نے غصے سے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔استاد ہدایت اللہ ساٹھ سال کا بڈھا پے۔۔۔اور تم پتہ نہیں کسے اٹھا لائے ہو۔۔۔۔جی ہاں جی ملک صاحب میں صبح سے شاہ جی کو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں وہ  ہدایت اللہ نہیں ہوں،بلکہ میں سکول میں پڑھانے والا استاد ہوں،میں بھی درمیان میں کودا۔۔۔سلطان شاہ کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔۔۔۔میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ چلو میری جان چھوٹی لیکن میری یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔۔۔۔تم کیا کرتے ہو جی میں استاد ہوں بچوں کو اردو پڑھاتا ہوں ۔۔۔۔اچھا تو لکھنے پڑھنے والے ہو۔۔۔۔ملک مستقیم میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔جی بس تھوڑا بہت لکھ لیتا ہوں اخبار میں کبھی کبھار میرا کالم چھپ جاتا ہے میں نے ملک پر اپنی علمی قابلیت جھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔ارے یہ تو اور بھی اچھی بات ہے سلطان شاہ جو  تھوڑی دیر پہلے ایسے چپ تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو اچانک بلند آواز میں بولا۔۔۔۔ملک صاحب الیکشن سر پر ہے اسے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں آپ کو تقریریں لکھ کر دے گا۔۔۔۔میرا دل چاہا کہ سلطان شاہ کا منہ توڑ دوں۔۔۔۔یہ بندہ پتہ نہیں کیوں میرے پیچھے پڑا ہوا تھا۔۔۔آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا کی مثل صادق آ رہی تھی۔۔۔۔ملک مستقیم کی باچھیں کھل گئیں۔۔۔چلو جی صیح ہو گیا اب سے تم میرے لیے تقریریں لکھا کرو گے۔۔۔۔میرے تو اوسان خطا ہو گئے۔۔۔۔میں جان چھڑانے کے چکر میں تھا لیکن سلطان شاہ مجھے اس چکر سے نکلنے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔سلطان شاہ تم کھڑے کیوں ہو جاؤ ماسٹر جی کے لیے کچھ کھانے کو لاؤ۔۔۔۔نہیں نہیں ملک صاحب ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔۔پھر کبھی۔۔۔۔۔پھر کبھی کیا کل تو آپ نے تقریر لکھ کر آنا ہے اور وہ ایسی ہو کہ چودھریوں (مخالفین) کے ہوش اڑ جائیں۔۔۔۔میرے اوسان خطا ہوگئے۔۔۔ میں سیدھا سادا پرائمری ٹیچر تھا۔ملک پر اپنی علمی قابلیت جھاڑنے کے چکر میں کالم نگاری کا جھوٹ بول بیٹھا تھا آج تک  صرف علم کے فائدے اور وقت کی اہمیت جیسے مضامین لکھے اور پڑھائے تھے لیکن کبھی تقریر لکھی تھی نہ کی تھی۔۔۔۔اگلے دن میں گھر پر آرام کر رہا تھا کہ سلطان شاہ مجھے لینے کے لیے آن دھمکا۔۔۔۔اسے دیکھ کر مجھے تقریر والی بات یاد آئی خیر میں بہانا کر کے اندر گیا کاپی پینسل لے کر کچھ لکھنا چاہا تو ذہن  ماؤف سا ہونے لگا۔۔۔۔خیر میں نے کوشش کر کے چند سطریں لکھ کر سلطان شاہ کے حوالے کر دی۔۔۔۔لیکن وہ مجھے بھی ساتھ لے جانے پر مصر تھا۔۔۔۔بقول اسکے کہ یہ ک مستقیم کا حکم تھا۔۔۔۔حویلی پہنچے تو ملک مستقیم پہلے سے ہی ڈرائنگ روم میں موجود تھا۔۔۔۔۔۔مجھ دیکھ کر بانہیں پھیلا لی،اور ملازم کو چائے لانے کا کہا۔۔۔۔ماسٹر جی بس کل جب میں جلسے میں تقریر کروں تو مزہ آ جائے۔۔۔۔ملک مستقیم نے سلطان سے تقریر لیتے ہوئے کہا۔۔۔ملک نے مسکراتے ہوئے جیب سے عینک نکالی اور گلہ کھنکار کر بلند آواز میں پڑھنا شروع کردیا۔۔۔۔۔میرے بھائیوں اور بہنوں آپ سب مجھے بے حد عزیز ہو میرے دل کے قریب ہو ۔۔۔۔ملک نے زور زور سے سر ہلا کر مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔سلطان شاہ کی بتیسی بھی باہر نکل آئی۔۔۔۔میں بھی پھیل کر صوفے پر بیٹھ گیا اور چائے اور کیک سے انصاف کرنے لگا۔۔۔۔آپ کی حالت دیکھ کر۔۔۔۔۔ملک نے دوبار پڑھنا شروع کردیا۔۔۔۔آپ کی حالت دیکھ کر میں مم میری دلبر۔۔۔شائستہ۔۔۔اوئے یہ شائستہ کو تو کیسے جانتا ہے۔۔۔۔۔ تو میری جوانی کے قصے کھول رہا ہے۔۔۔۔ ہوجاتے ہیں ایسے مسئلے مسائل جوانی میں۔۔۔اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں ووٹ کے لیے اپنی محبت کی داستانیں سناتا پھروں۔۔۔اوئے سلطان شاہ یہ مجھے چودھریوں کا بندہ لگتا  ہے۔۔۔پتہ کر اسکا۔۔۔۔ملک مستقیم نے غصے سے سرخ  ہوتے چہرے کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔کیک کا ٹکڑا میرے حلق میں جا کر پھنس گیا۔۔۔سلطان شاہ بھی پھاڑ کھانے والی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ارے نہیں نہیں ملک صاحب یہ لکھا ہے کہ آپ کی حالت دیکھ کر میں دلبرداشتہ ہوجاتا ہوں مطلب پریشان ہوجاتا ہوں۔۔۔دکھی ہوجاتا ہوں۔۔۔۔میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔تو ایسے لکھو نا سلطان نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔کیا کر رہے ہو ماسٹر جی۔۔۔کچھ آسان لکھو۔۔۔۔اچھا سلطان یہ شائستہ والی بات تمہاری بیگم صاحبہ تک نہیں پہنچنی چائیے۔۔۔ملک مستقیم نے مجھ سے بات کرتے کرتے اچانک سلطان سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔سلطان شاہ زور زور سے سر ہلا کر رہ گیا۔۔کیا یاد دلا دیا ماسٹر۔۔۔۔شائستہ۔۔۔۔۔شائستہ۔۔۔۔ملک مستقیم نے بڑ بڑاتے ہوئے تقریر پھینکی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا۔۔سلطان شاہ بھی  اس کے پیچھے چلا گیا۔۔۔۔میں نے بھی وہاں سے نکل جانے میں ہی عافیت سمجھی۔۔۔۔اگلے دن پتہ چلا کہ ملک مستقیم شراب کے نشے میں دھت شائستہ۔۔۔۔شائستہ پکارتا ہوا پولیس کے ہاتھ لگ گیا تھا۔۔۔۔پولیس تو اسے عزت و احترام کے ساتھ گھر چھوڑ آئی تھی پر اس حالت میں کسی نے اس کی ویڈیو بنا لی تھی جو کہ صبح سے نیوز چینلز پر چل رہی تھی۔۔۔ساری صورت حال دیکھ کر مجھے اپنی فکر ہورہی تھی کیونکہ ملک مستقیم کو شائستہ کی یاد میری وجہ سے آئی تھی اور وہ اب یقیناً مجھ پر تپا بیٹھا ہوگا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ سلطان شاہ مجھ تک پہنچتا میں نے اپنا ضروری سامان سمیٹا اور گاؤں کی راہ لی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے