سر ورق / ناول / چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔۔آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 1

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔۔آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 1

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں
آسیہ مظہر چوہدری

قسط نمبر 1
”مریم تم نے گلنار کو دیکھا کیا؟“ پریشے نے راہداری میں کھڑی مرینہ سے پوچھا تھا۔
” ابھی تو یہیں تھی اب شاید زرینہ کے پاس نہ چلی گئی ہو تم سائنس ڈیپارٹمنٹ میں جا کر دیکھ لو۔“ مرینہ نے جواب دیا۔
”اوکے۔!“ کہہ کر پریشے سائنس ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی اور تھوڑی پیش رفت کے بعد اس نے گلناز کو ڈھونڈ لیا تھا جو زرینہ کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی۔
”تم یہاں کھڑی ہو اور میں تمہیں پوری یونیورسٹی میں پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہوں۔“ پریشے اسے دیکھتے ہی ناراضگی سے بولی۔
”وہ پری مجھے زرینہ کو کچھ نوٹس دینے تھے اس لیے یہاں چلی آئی۔“ وہ بولی۔
”اچھا چلو اب گھر چلیں۔“ پریشے نے اس کا بازو کھینچا اور ساتھ ہی بیرونی گیٹ کی طرف چل دی۔
”ارے پری ! رکو تو ۔مس امتیاز کا لیکچر نہیں لینا کیا؟“ اس نے یہ کہتے ہوئے اپنا بازو چھڑایا۔
”نہیں کیونکہ مس امتیاز آج چھٹی پر ہیں اور مس شوکت کا بھی آج آف ہیں۔“ پریشے نے اسے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کیونکہ پریشے کو معلوم تھا کہ گلناز جیسی پڑھاکو لڑکی جلدی جانے کی وجہ ضرور پوچھے گی۔
”ہیں۔؟ دونوں چھٹی پر ہیں؟“ وہ جواباً اپنے آپ سے بولی تھی۔
”اب ہر کوئی تمہاری طرح کاتو نہیں ہوتا کہ ایک سو دو بخار میں بھی یونی پہنچ جائے۔“
پریشے نے ایک پرانے واقعے کا طعنہ اسے مارا تھا۔ اور وہ جواباً شرمندہ سی دائیں بائیں دیکھنے لگی تھی۔
”جلدی چلو۔ لالہ خان کا ڈرائیور پہنچ گیا ہو گا۔“ پریشے نے دوبارہ اس کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتی مرکزی گیٹ کی جانب بڑھ گئی تھی۔
٭….٭….٭
جس وقت وہ دونوں گھر پہنچیں کھانا لگ چکا تھا۔ اس لیے دونوں آتے ہی فوراً اپنے مشترکہ کمرے کی طرف بھاگیں اور پانچ منٹ میں فریش ہو کر ڈائینگ ہال میں پہنچ گئیں ۔ کھانا ابھی باقاعدہ لگا تھا اس لیے دونوں نے ہی عافیت جانی ۔ کیونکہ امو جان کا اصول تھا کہ گھر کے سب فرد کے کہ لیے کہ کھانا ہمیشہ اکٹھے کھایا کریں اور جو ان کے اصول سے سرتابی کرتا اس کی امو جان کے ہاتھ خوب شامت آتی۔
ان دونوں نے مشترکہ باآواز بلند سلام کیا اور اپنی اپنی چئیرز پر بیٹھ گئیں تھیں۔ دو منٹ بعد کھانا لگا دیا گیا تھا سب خاموشی سے کھانے لگے۔ کھانے کے بعد سبز قہوہ پیش کیا گیا تھا اور ا سکے بعد خواتین اٹھ کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھیں کیونکہ جب ضروری بات کرنی ہوتی تھی امو جان گھر کے خواتین کو پردہ نشین ہونے کا حکم صادر کر دیتیں اب ڈائینگ ٹیبل پر امو جان ، لالہ ظہیر اور مہروز خان موجود رہ گئے تھے۔
”امو جان! آپ نے کچھ ضروری بات کرنی تھی۔“ لالہ خان نے مودب انداز میں امو جان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ظہیر خان اور مہروز بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے ۔
”ہاں ہمیں بہت ضروری بات کہنی ہے۔“ امو جان نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا۔
”حکم امو جان۔۔۔“ لالہ جان بولے۔
”شہروز اپنے بیٹے کو یہاں بھیج رہا ہے۔“ امو جان کی اس بات نے ان تین بیٹھے نفوس کو ساکت کر دیا تھا۔
”کیا۔۔۔؟“ لالہ خان یہ سن کر حیرت زدہ رہ گئے۔
”بلکہ اجازت چاہ رہا ہے۔“امو جان نے بات دہرائی تھی۔
”تو کیا آپ نے اجازت دے دی ہے۔“ مہروز خان نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
”یہ سوال ہے یا رائے ہے؟“ امو جان نے جواباً ان کی طرف دیکھا تو وہ گڑبڑا کر رہ گئے۔
”امو جان سوال ہے۔“وہ نگاہیں جھکائے بولے تھے۔
”اگر سوال ہے تو اس سوال کا جواب بھی تمہیں معلوم ہے۔“ ان کا انداز ہنوز سپاٹ تھا۔
“تو پھر امو جان آپ کیا چاہتی ہیں؟“ لالہ خان نے ان کی جانب دیکھتے ہوئے ان کی رائے جاننا چاہی۔
”کیا تم بھول گئے وہ طوفان جو بیس سال پہلے میری زندگی میں آیا تھا جس نے میرے گھر کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ میرے اجڑنے کا وقت بھول گئے۔ ان کے لہجے میں اب کے ایک گہرا کرب اتر آیا تھا جو نمکین پانیوں کی صورت ان کی آنکھوں میں بھی نظر آ رہا تھا۔
” امو جان ہم سب اس وقت کے گواہ ہیں بے شک ہم پر وہ ایک کڑا وقت تھا۔“ ظہیر خان نے ٹیبل پر دھرا ان کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر دبایا تھا۔
”تو اب آپ کا کیا فیصلہ ہے؟“ لالہ خان نے سوالیہ انداز میں ان سے پوچھا۔
”تم کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ان تینوں کی جانب دیکھا تھا۔
” ہم۔۔۔“ وہ تینوں بیک وقت بولے۔
”ہاں اس بار یہ فیصلہ تم لوگ کرو گے۔“امو جان یہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کے کھڑے ہونے کے بعد وہ تینوں بھی احتراماً کھڑے ہو گئے۔
”کل کا وقت ہے تم لوگوں کے پاس۔۔۔ سوچ لینا۔۔۔“ وہ اٹل انداز میں کہتیں اپنے کمرے لہ جانب بڑھ گئی تھیں جب کہ وہ تینوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر رہ گئے تھے۔
٭….٭….٭
”تائی جان کیا بات ہو گی؟“ وہ دونوں اس وقت تائی پشمینہ کے کمرے میں موجود تھیں، جہاں چچی گل بخت اور چچی ثمرہ بھی موجود تھیں۔
”ہمیں کیا معلوم ۔۔۔ اموجان ہم سے ذکر کرتی ہیں کیا؟“ انہوں نے سوالیہ انداز میں جواب دیا۔
”کوئی ضروری بات ہی ہو گی۔“ گلناز نے اپنی رائے دی اور اس کی رائے پر پری نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔
”احمقوں کی ملکہ ظاہر ہے کہ کوئی ضروری بات ہی ہو گی مگر میں یہ پوچھ رہی ہوں کہ بات کیا ہے؟“
”تو اموجان سے پوچھ آو¿۔“ گلنار بی بی نے ایک اور عقلمندانہ مشورہ دیااور پریشے اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”ارے پریشے! کیوں اس معصوم کو ڈانٹ رہی ہو؟“ ثمرہ چچی نے مسکراتے ہوئے گلناز کا دفاع کیا تھا۔
”معصوم۔۔۔ ؟ اس جیسے چند اور معصوم پیدا ہو جائیں تو پوری دنیا ہی بدل جائے ۔“ پریشے نے اسے دیکھتے ہوئے طنزاً کہا تھا جبکہ وہ اس کے غصے اور جھنجھلا نے پر سر جھکا کر مسکرا رہی تھی۔
”ہماری گل جیسی تو پورے خاندان میں کوئی نہیںہے۔“ پشمینہ تائی نے محبت بھرے انداز میں کہا تھا۔
”جی یہ نادر نمونہ صرف ہمارے پاس ہی ہے۔“ پری کے تاو¿ کھاتے لہجے پر وہ چاروں بے اختیار مسکرا دی تھیں۔
٭….٭….٭
”گڈ مارننگ ڈیڈ“ وہ ہنستا مسکراتا ہشاش بشاش سا سیڑھیا ں اترتے ہو ئے دور سے بولا تھا۔
”گڈ مارننگ مائی سن“ وہ بھی مسکراتے ہوئے بولے۔
”آج اتنی جلدی اٹھ گئے، خیریت تو ہے نا۔؟“انہوں نے جوس کا سپ لیتے ہوئے پوچھا تھا۔
”جی ڈیڈ! آج ڈیوڈ کے ساتھ سکاٹ لینڈ جانا ہے۔“ اس نے فرائی انڈے کا پیس منہ میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔
” سب ٹھیک ہے نا؟“
”جی ڈیڈ سب کچھ ٹھیک ہے ۔ سائٹ ایریا کی طرف چکر لگانا ہے۔“ وہ بولا۔
”ہوں“ انہوں نے ہنکارا بھرا۔
”حیدر تمہاری پاکستان کی فلائٹ کب کی ہے؟“
یہ پوچھتے ہوئے پتا نہیں کیوں ان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ ایک انجانی سی چبھن انہیں اپنے دل میں گڑتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
”جی ڈیڈ! نیکسٹ سنڈے ہے۔“ وہ ان کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ بار بار اسے یاد دہانی کیوں کروا رہا ہے یہ ایسا ٹاپک تھا جو وہ ہر روز صبح اس سے ڈسکس کرتے تھے جس کا وہ انہیں اپنی جانب سے تسلی بخش جواب دیتا تھا لیکن اگلی صبح پھر وہی سوا ل اسے تیار ملتا ہے وہ اپنے باپ کی ذہنی کیفیت کے بارے میں بہت اچھی طرح آگاہ تھا اس کے باپ کے ذہن میں جو ایک خلش کا کانٹا تھا اب اسے نکالنا تھا اور پاکستان جانا بھی اس کے مقصد کی اصل کامیابی تھی۔
٭….٭….٭
ڈیوڈ اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھے نوٹس بنا رہے تھے جب نیہااور جولی انہیںڈھونڈٹی یہاں آئی تھیں۔
”پوری یونیورسٹی میں تم لوگوں کو ڈھونڈتی پھر رہی ہوں۔“ نیہا آتے ہی حسب معمول بلند آواز میں شروع ہو گئی تھی۔
”کیوں خیریٹ ہے جو ہمیں ڈھونڈ رہی تھی، ویسے تم یوں ڈھونڈتی ہوتو پھر خیریت تو نہیں ہوتی۔“ ڈیوڈ نے شرارت سے کہتے ہوئے نیہا کو چھیڑا تھا حیدر بھی اس کی شرارت خیز مسکراہٹ دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
”تم دونوں سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔“ نیہا غصے سے پاو¿ں پٹختی واک آو¿ٹ کر گئی تھی۔
”یار سن لیتے، کیا کہہ رہی تھی شاید کوئی ضروری بات ہو ۔“ حیدر نے اب سیریس ہو کر کہا تھا۔
”اس کی ضروری بات اگر تمہیں پتا چلے تو کانوں کو ہاتھ لگاو¿ گے۔“
”کیوں ؟“ وہ سوالیہ بولا۔
”کہہ رہی ہے کہ مسٹر جانسن کے روم میں ربڑ کے سانپ چھوڑتے ہیں کیونکہ انہوں نے اسکی انسلٹ کی ہے۔“
ڈیوڈ نے اصل بات بتائی تو اس کا قہقہہ بے ختیار لائبریری کے چاروں جانب گونج اتھا تھا۔
٭….٭….٭
لالہ خان جب پنے کمرے میں آئے تو رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی، نیند تو انہیں ویسے بھی کم آتی تھی مگر جو تھوڑی بہت آتی تھی اموجان کے فیصلے نے وہ بھی اڑا دی تھی۔ وہ نڈھال سے چلتے دیوار گیر کھڑکی کے ساتھ ایزی چئیرپر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئے تھے۔ درد تھا کہ ان کے انگ انگ میں سرایت کر رہا تھا۔
”شہروز بھائی ! آپ کے لائے طوفان نے میری زندگی کو کیسے ویران کیا ہے اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں ہے ۔امو جان کو بھی نہیں۔ کرب کی ایک لہر ا ان کے پورے جسم میں اٹھی تھی۔ اس سب میں میرا کیا قصور تھا جس کی مجھے اتنی بڑی سزا ملی۔ میں کہاں سے انصاف تلاش کروں میرے درد کا مداوا کون کرے گا؟“
ان کے دل سے سوالوں کی ہوک نکل نکل کر کمرے میں گردش کر رہی تھی۔
میں نے عشق کا راستہ چنا تھا مگر آپ سب نے مجھے درد کا راستہ چننے پر مجبوور کر دیا۔ ضبط کی انتہا ختم ہو چکی تھی اور نمکین پانی قطروں کی مانند ان کے گالوںپر بہتا جا رہا تھا۔
٭….٭….٭
وہ چاروں اس وقت کیفے ٹیریا میں بیٹھیں سموسوں سے بھرپور انصاف کر رہی تھیں جب مرینہ نے ان تینوں کو اپنی جانب متوجہ کیا،
”کیا ہے؟“ پری نے آدھا سموسہ منہ میں ڈالتے جواباً اسے دیکھا ۔
”تمہیں کوئی نئی خبر پتا چلی کیا؟“ اس کا اشارہ گلناز کی جانب تھا۔
”نہیں تو۔“گلناز نے لاعلمی سے سر ہلایا۔
”کیا خبر ہے؟“ اب کے زرمینہ نے بھی پوچھا۔
”گلناز کے ڈیپارٹمنٹ کی نئی پروفیسر مس عائلہ خان زئی آ رہی ہیں۔“ مرینہ نے ان سب کو بتایا۔
”ہوں اچھا مگر یہ تو گلناز کے لیے گڈ نیوز ہے۔“ پری نے سرجھٹکا اور دوبارہ سموسہ اٹھا لیا۔
”اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی رابعہ بتا رہی تھی کہ بہت گریس فل شخصیت ہیں۔“ مرینہ نے ان کی معلومات میں اضافہ کیا۔
”جلدی سموسہ کھاو¿ اور عائلہ نامہ بند کرو، مس شوکت کا پریکٹیکل اسٹارٹ ہونے والا ہے۔“
زرمینہ نے کہا تو وہ سب جلدی جلدی کھانے لگیں مگر گلناز کی پتا نہیں کیوں یہ نام سن کر دل کی کلی کھل اٹھی تھی۔
٭….٭….٭
آج ان تینوں کو امو جان کی عدالت میں پیش ہونا تھا۔ وہ تینوں اکٹھے ان کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ امو جان نماز پڑھنے میں مصروف تھیں وہ تینوں خاموشی سے نواڑی کرسیوں پر بیٹھ کر ان کی نماز ختم ہونے کا انتطار کرنے لگے تھے۔ تینوں بھائی اپنی اپنی سوچ میں گم تھے اور دل میں سوچ رہے تھے کہ امو جان نے انہیں کس امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اموجان نماز ختم کرنے کے بعد اب دعا مانگ رہی تھیں ۔چند لمحوں بعد اب نماز سے فارغ ہوکر ان کی جانب متوجہ ہوئیں۔
”السلام و علیکم“ تینوں نے سلام کیا۔
”واعلیکم السلام“ انہوں نے جواب دیا تھا اور نماز کی چوکی سے اٹھ کر اپنے نواڑی پلنگ پر جا کر بیٹھ گئی تھیں۔
”ہااں تو پھر تم تینوں کا کیا فیصلہ ہے؟“ انہوں نے اپنا دوپٹہ درست کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
”امو جان گستاخی معاف کیجیے گا ہماری زندگی کے تمام فیصلے آپ کرتی ہیں جن کا حق بھی ہم نے آپ کو دے دیا ہے پھر آپ یہ فیصلہ ہمیں کرنے کو کیوں کہہ رہی ہیں؟“ ظہیر خان آج پہلی مرتبہ ان کے سامنے کھل کر بولے تھے۔
” تم نے وہ کہاوت سنی ہو گی کہ اصل سے سود پیارا ہوتا ہے اور ہم بھی اس کہاوت کی مثال بن گئے ہیں۔میں زری گل جمال جس نے عہد کیا تھا کہ شہروز کی زندگی بھر شکل نہیں دیکھوں گی ۔آج ہار گئی ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے ان کے لہجے کا دبدبہ کہیں دور جا سویا تھا۔ اس وقت وہ مکمل ماں کے روپ میں لوٹ آئی تھیں۔ اس ماں کے لیے سب کچھ اس کی اولاد ہوتی ہے۔
”جرم شہروز نے کیاتھا اس کی اولاد نے نہیں کہ میں شہروز کے کیے کی سزا اس کے بیٹے کو دوں۔“ انہوں نے لمحہ بھر توقف کیا اور دوبارہ گویا ہوئیں۔
”اور رہی بات تم لوگوں کو فیصلہ کرنے کا کیوں کہا تو بات یہ ہے کہ اب یہ گھر لوگوں کا ہے اس پر شہروز یا اس کے بیٹے کا کوئی حق نہیں۔ اگر تم چاہو تو انکار بھی کر سکتے ہو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ساری زندگی تم میری جائز نا جائز مانتے آئے ہو اس بار میں تمہاری مانوں گی۔“ امو جان تفصیلاً بات کر کے خاموش ہو گئی تھیں۔ اب ان کی نگاہیں ان تینوں پر تھیں جیسے ان کے فیصلے کی منتظر ہوں۔“
ہمیںکوئی اعتراض نہیں ہے امو جان۔“ سب سے پہلے لالہ خان بولے تھے۔
”وہ ہمارا خون ہے اور ہم اتنے کم ظرف نہیں ہیں کہ اپنے خون کو رد کریں۔“ یہ مہروز خان تھے۔
”یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں امو جان ! شیروز چاہہے جیسا بھی ہے، ہے تو ہمارا بھائی،جو اس نے کہا وہ اس کے اعمال۔۔۔“ ظہیر خان بھی اپنی کہہ کر خاموش ہو گئے۔
بیس سال کے بعد امو جان کی خشک ہوئی آنکھوں سے چند آنسو بہہ نکلے تھے۔ ان کی سرد مہری کا خول آہستہ ٹوٹتا جا رہا تھا۔
٭….٭….٭
”تو تم ہمیشہ کے لیے پاکستان جا رہے ہو؟“ وہ چاروں اپنی مخصوص جگہ یعنی لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حیدر کی بات پر نیہا نے بے ساختہ خیال ظاہر کیا تھا۔
”نہیں ہمیشہ کے لیے تو نہیں مگر یہ بھی نہیں جانتا کہ کتنے ٹائم کے لیے۔“ وہ جواباً بولا تھا۔
”تم نے ٹھیک فیصلہ کیا ہے پاکستان جانے کا ۔ شاید اس طرح انکل کی لائف سیٹ ہو جائے۔“ جولی نے بھی اس کے پاکستان جانے پر اسے اپر یشی ایٹ کیا تھا کیونکہ وہ حیدر کے اس اقدام سے بہت خوش تھی۔
”ہاں یار جولی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ انکل کو اب اپنوں کی ضرورت ہے ۔ اب یہ سو کالڈ خاندانی نفرتیں ختم ہو جانی چاہیے۔“ ڈیوڈ نے بھی اس کا حوصلہ بڑھایاتھا۔
”میںتمہارے پاکستان جانے کے حق میںذرا بھی نہیں ہوں کیونکہ میں ایک اچھا دوست کھونا نہیں چاہتی مگر انکل کی حالت دیکھ کر یہ کڑوا گھونٹ پینے کو تیار ہوں۔“نیہا نے اپنے ازلی منہ پھٹ انداز میں اس سے کہا تھا۔
وہ اپنے ان تینوں دوستوں کی بے لوث محبتوں پر اپنے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ آج کے دور میں جب مخلص دوست ملنا ناپید ہو گئے ہیں اس کو اتنے اچھے دوست ملے تھے۔
”نیہا میرے جانے کے بعد تم کسی ٹیچر کے ساتھ کوئی شرارت نہیں کرو گی۔وعدہ کرو“ حیدر نے اسے سمجھایا تھا جب کہ جولی اور ڈیوڈ مسکرانے لگے تھے۔
”ہوں“ وہ لمبا سا ہوں کہہ کر سوچنے لگی اور پھر چند لمحوں بعد بولی۔
”اوکے نہیں کروں گی مگر ایک شرط پر“ اس نے یہ بول کر ساتھ ہی شرط رکھ دی تھی۔
”کیسی شرط؟“ حیدر نے ناسمجھی کے عالم میں پوچھا۔
”پہلے وعدہ کرو‘ ‘وہ بولی تھی۔
”حیدر مت کرنا۔ پہلے بات سن لو کیونکہ اس کی شرطیں خطرناک ہی ہوتی ہیں۔“ ڈیوڈ نے اسے روکا تھا جبکہ جولی اب بھی مسکرا رہی تھی۔
”کچے ٹینڈے کے منہ والے شکل اچھی نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لیاکرو۔ “ نیہا نے ایک زور دار دھکا اس کی کمر پر لگاتے ہوئے کہا تھا۔
”وعدہ“ حیدر نے ہاتھ آگے کر دیا۔
”دیکھا یہ ہوتا ہے اندھا اعتماد“ نیہا جواباً فاتح نظروں سے ڈیوڈ کو چڑا رہی تھی۔
”اب بولو کیا شرط ہے؟“
” یہ کہ تم اپنے ساتھ جب آو¿گے تو اپنے جیسی خوبصورت ہمارے لیے بھابھی لاو¿ گے۔“ نیہا نے شرط سنا دی جب کہ حیدر اس کے بچپنے پر مسکرا کر رہ گیا۔
’ دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ اس کی شرطیں خطرناک ہوتی ہیں سوچ لینا“ ڈیوڈ مصنوعی گھبراہٹ طاری کیے بولا تھا۔
” جولی اپنے اس کو سنبھالو۔“ نیہا نے اب ڈیوڈ کے کمزور پوائنٹ پر ہاتھ ڈالا تھا۔
”میں کیا“ جولی یکدم اپنے گھسیٹے جانے پر ہڑ بڑا کر رہ گئی۔
”قسم سے سو شیطانوں کو ڈالو تو ایک نیہا بنتی ہے۔“ ڈیوڈ بے بس سا دانت کچکچا کر رہ گیا تھا۔
”تو بولو کیا کہتے ہو؟“ نیہا اب دوبارہ اس کی جانب آئی تھی۔
”اوکے منظور ہے مگر اگر نہ ملی تو“ حیدر نے زیر لب مسکراتے ہوئے پوچھا۔
”تو پھر میں یہاں تمہاری کسی افریقن گدھی سے شادی کرا دوں گی۔“ نیہا نے دھمکی دی تھی اور وہ اس کی دھمکی پر بے ساختہ مسکرا اٹھا تھا۔
٭….٭….٭
امو جان کی سوات سے کچھ عزیز رشتے دار عورتیں ملنے آئی ہوئی تھیں اس لیے گلناز اور پری نے ان کے حکم پر یونیورسٹی سے چھٹی کر لی تھی کیونکہ گھر میں صرف ثمینہ تائی موجود تھیں ۔ گل بخت چاچی اور ثمرہ چاچی لالہ خان کے ساتھ ڈاکٹر کی طرف گئی ہوئی تھیںاس لیے مہمانوں کی خطر مدارت کا ملبہ ان دونوں پر آ گرا تھا ۔ گلناز تو خاموشی سے اپنے حصے کے کام خوش اسلوبی سے نمٹا رہی تھی جبکہ پری برے برے منہ بناتی کام کر رہی تھی۔
”پری جلدی ہاتھ چلاو¿،کھانے کے ٹائم میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔“ ثمینہ نے اس کی سست روی دیکھ کر اسے ٹوکا تھا۔
”کر تو رہی ہوں اور کیسے کروں؟“ وہ جواباً ناک چڑھائے بولی تھی۔
”گلناز تم اب چائے کی ٹرے زنان خانے میں دے کر آو¿۔ “ ثمینہ نے چائے کی ٹرے اسے تھماتے ہوئے کہا تھا وہ ڈوپٹہ درست کرتی زنان خانے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
”گل بخت تو تمہاری طرح بیوقوف نہیں ہے نا اور اس کی بیٹی بھی ہے تم لوگوں نے پرائے مال کو کیوں رکھا ہوا ہے۔“ اس نے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اندر بیٹھی کسی عورت کا یہ کہا گیا جملہ اس کی ہنسی کے پرچخے اڑا گیا تھا ۔ وہ یکدم ہڑ بڑا کر رہ گئی تھی جس کے نتیجے میں گرم گرم چائے تھوڑی سی اس کے ہاتھ پر چھلک گئی تھی ۔ اس کا وجود آندھیوں کی زد میں آ گیا تھا۔
”کیا ہوا؟ یہاں کیوں کھڑی ہو؟“ پری نے اسے دروازے پر ایستادہ دیکھ کر پوچھا تھا۔
”پری یہ چائے تم اندر لے کر جاو¿۔ مجھے چکر آ رہے ہیں۔“
اس نے چائے کی ٹرے اس کی جانب بڑھائی اور تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگ گئی۔
”ہیں اسے کیا ہوا؟“ پری نے سوچا اور پھر اگلے ہی لمحے سر جھٹک کر اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔
٭….٭….٭
کمرے میں آتے ہی اس کے اندر کا جوار بھاٹا پھر اٹھا تھا۔ اس کی سسکیوں کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔
”تو کیا لالہ خان میرے ابو نہیں ہیں؟“ اس احساس نے ہی اس کی جان نکال دی تھی۔
”نہیں، یہ عورت جھوٹ بول رہی ہو گی یا کوئی اور بات ہو گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ اگر ہم اس گھرانے کی بیٹیاں نہ ہوتے تو یہ لوگ ہمیں کیوں رکھتے۔“
وہ اپنے آپ کو تسلی دلاسوں سے مطمئن کر رہی تھی پر پھر بھی کچھ ایسا تھا کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح مطمئن نہیں کر پائی تھی۔
٭….٭….٭
”حیدر تم نے شاپنگ کر لی ہے نا؟ تیاری مکمل ہے تمہاری؟“ وہ اس وقت شہروز خان کے آفس میں بیٹھا ایک فائل دیکھ رہا تھا۔ جب انہوں نے اس سے پوچھا تھا ۔ اس نے چونکنے کے انداز میں سر اٹھایا۔
”جی بابا! میری مکمل تیاری ہے۔“ وہ سرسری سا جواب دے کر دوبارہ فائل میں گم ہو گیا تھا ۔
”میرا مطلب ہے امو جان کے لیے، گھر والوں کے لیے“ چند لمحوں بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے تھے۔
”حیدر ان کے اس انداز پر مسکرا اٹھا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ یہ سوال ضرور کریں گے۔
” نو بابا، میں نے تو نہیں کی ۔ دراصل مجھے ان لوگوں کی پسند نا پسند کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔“ وہ جواباً بولا۔
” مجھے سب پتا ہے۔“ وہ بے ساختہ بول اٹھے تھے۔
اس نے ان کی جانب دیکھا تووہ یکدم سر جھکا گئے تھے۔
”جی بابا آپ مجھے بتائیں میں سب خرید لوں گا۔“اس نے بغیر کوئی تاثر دیے کہا تھا۔
”امو جان کو کڑھائی والی چادریں پسند ہیں۔ مہروز اور ظہیر کو عمدہ اور جدید قسم کے پین پسند ہیں جبکہ لالہ کو۔۔۔“ لالہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ یکدم خاموش ہو گئے تھے۔
” اور لالہ اکا جان کو کیا پسند ہے؟“ حیدر نے سوال کیا تو وہ چونکے۔
”ہاں اسے گھڑیاں بہت پسند ہیں۔“ وہ دھیرے سے مسکرائے تھے۔
”اور تائی پشمینہ، چچی گل بخت اور ان کی وہ بیٹی گلناز اور ظہیر تایا کی بیٹی پریشے کو کیا پسند ہے؟“ اس نے ایک ہی سانس میں باقی سب کی پسند کا پوچھ ڈالا تھا اور وہ ااسے مسکراتے ہوئے بتانے لگے تھے۔
٭….٭….٭
صبح جب وہ یونیورسٹی جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی تو پورا راستہ خاموش رہی۔ حالانکہ پری اس سے ادھر ادھر کے سوال کرتی رہی تھی جن کا وہ محض ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی تھی ۔ یونیورسٹی آنے کے بعد بھی وہ خاموش رہی ۔ پری نے ایک دو بار اس سے خاموش ہو نے کی بابت پوچھا تو وہ ٹال گئی تھی۔ آج مس نائلہ خان زئی کا پہلا دن تھا۔ دو پیریڈ کے بعد گلناز کی کلاس کا انہوں نے پہلا پیریڈ لینا تھا۔ وہ جو نئی ٹیچر کے آنے پر بے حد خوش تھی۔ اب ساری خوشی بھول چکی تھی۔ اس کے ذہن کے پردے پر اب بس ایک سوال نقش ہو کر رہ گیا تھا کہ وہ کون ہے؟ کس خاندان کی ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ ایسے بہت سے سوال اسے بے چین کر رہے تھے
٭….٭….٭
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
الہیٰ ترک الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے
شرابِ بے خودی کے بھر کر ساغر یاد آتے ہیں
نہیں آتی تو ان کی یاد مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یا دآتے ہیں
حقیقت کھل گئی حسرت ترے ترکِ محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

لالہ خان کے کمرے کے سامنے سے گل بخت گزری تو غزل کے ان بولوں نے ان کے پاو¿ں جکڑ لیے کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ لالہ خان کو آجکل پھر دورہ پڑا ہوا ہے اور جب ایسا ہوتا تھا تو پھر ایسی ہی غزلوں نغموں کی آواز ان کے کمرے سے آتی تھی۔ انہوں نے پلٹ کر اس کے دروازے پر دستک دی اور دروازے کی ناب گھماتی آہستہ سے ان کے کمرے میں داخل ہو گئی۔ آگے وہ ان کے سوچے ہوئے حلیے کے مطابق موجود تھے۔ دیوار گیر کھڑکی کے پاس رکھی ایزی چئیرپر بے خود سے جھول رہے تھے جبکہ سامنے رکھا ریکارڈ مغینہ کی آواز کے ساتھ اپنی نیلی پیلی روشنیاں پورے کمرے میں بکھیر رہا تھا۔ انہوں نے آہستہ سے ٹیپ ریکارڈ کا بٹن بند کر دیا ۔ ریکارڈ بند ہونے پر وہ ہوش و خرد کی دنیا میں واپس لوٹ آئے تھے۔ ان کو دیکھا تو چونک کر سیدھے ہوئے۔
”آپ یہاں اس وقت؟ خیریت تو ہے نا؟“ وہ انہیں اس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر حیران ہوئے تھے۔
”جی خیریت ہے لیکن اس وقت مجھے آپ خیریت میں نہیں لگ رہے۔“ ان کے لہجے میں طنز چھپا تھا جسے لالہ خان نے بخوبی نوٹ کیا تھا۔
”مجھے کیا ہوا؟ ٹھیک ہوں میں۔“ وہ انجان بنتے بولے تھے۔
”اتنا انجان بننے کی ایکٹنگ بند کر دیجیے۔ بس اب بہت ہو گیا آپ کا یہ سوگ، جائیے اور اپنے لیجیے۔ یہ آپ کی زندگی ہے اور کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے ساتھ کھیلے۔“ گل بخت نے دوٹوک بات کی تھی اور وہ ان کی بات پر لبوں پر زخمی مسکراہٹ سجائے مسکرا اٹھے تھے۔
”جب اسٹینڈ لینے کا وقت تھا تب نہیں لیا تو اب کیا فائدہ۔“ ان کا لہجہ ہنوز زخمی تھا۔
”کسی سے محبت کا دعویٰ کر کے اسے سرِ راہ چھور دینا بہادری نہیں بزدلی ہوتی ہے۔“ انہوں نے ایک اور طنز کا تیر چھوڑا تھا۔
”ہاں میں بزدل ہوں۔ ایک گرا ہوا شخص ہوں۔ مجھے کسی سے محبت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔“ وہ یکدم آپے سے باہر ہو گئے تھے۔
”شاہ زر ہوش کیجیے ۔ یوں چیخنے چلانے سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔“
گل بخت ان کی پھوپھی کی بیٹی تھی اور کسی زمانے میں ان کی دوستی بھی رہی تھی اس لیے وہ ان سے بحث و مباحثہ کر لیتی تھیں ورنہ اور کسی میں جرات نہیں تھی کہ وہ ان سے سوال جواب کرتا۔
”اگر شہروز لالہ کے ایک غلط اقدام سے یہ گھر بکھرا تھا تو بعد میں آپ کی نادانیوں اور بے وقوفیوں نے اسے زیادہ بگاڑا تھا۔ اگر انا کا راستہ چننے کی بجائے معافی کا راستہ چنتے تو یہ گھر کبھی نہیں بکھرتا۔ اس گھر کو بکھیرنے میں صرف شہروز کا قصور نہیں ہے۔ آپ سب قصور وار ہیں۔“
گل بخت زیادہ نہیں بولتی تھیں لیکن جب بولتی تھیں تو پھر اگلے بندے کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھیں۔
”آپ کب تک دوسروں کی زندگیوں کو سنوارتے اور اپنی زندگی کوبگاڑتے رہیں گے۔“ انہوں نے اب کے نرم لہجے میں کہا تھا۔
”میری زندگی تو کب کی بگڑ چکی ہے جسے سنوارنے کا وقت بہت پیچھے چلا گیا ہے اتنا پیچھا کہ اب میں چاہوں بھی تو واپس نہیں لا سکتا۔“ وہ کھوئے کھوئے سے بولے تھے۔
”آپ چاہیں تو واپس آ سکتا ہے، بس تھوڑے سے حوصلے اور استقامت کی ضرورت پڑتی ہے۔“ گل بخت نے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا۔
”گلناز کیسی ہے؟ اتنے دن ہوئے اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔“ انہوں نے دانستہ موضوع چینج کر دیا اور گلناز کی بابت پوچھنے لگے۔
”ٹھیک ہے اور مجھے لگتا ہے اسے حقیقت سے آشنا کر دینا چاہیے کیونکہ وہ باشعور ہو چکی ہے اور اسے اپنا اصل معلوم ہونا چاہیے۔ یہ اس کا حق بھی ہے۔“ گل بخت جواباً بولی تھیں۔
”ہوں صحیح کہا آپ نے امو جان سے اس حوالے سے بات کی آپ نے۔“ وہ پر سوچ سے انداز میں پوچھنے لگے تھے۔
”نہیں۔ ابھی تو نہیں کی پر جلد کروں گی کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ اسے یہ بات کسی اور کے منہ سے پتا چلے۔“ انہوں نے رسانیت سے کہا۔
”بیس سال پہلے جو ہوا اس کے نشان مٹے نہیں پر مدھم ضرور ہو گئے۔“
”وقت کی دھوپ اچھے برے واقعات جو رونما ہوتے ہیں انہیں اپنے اندرجذب کر لیتی ہے اور انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ “
کل بخت نے اپنا تجزیہ بیان کیا تھا اور لالہ خان ان کی بات پر محض سر ہلا کر رہ گئے تھے۔
”رات کافی ہو گئی ہے۔ اب چلتی ہوں۔“ یہ کہہ کر دروازے کی جانب بڑھیں اور اچانک رک گئیں۔
”میری بات پر غور ضرور کیجیے گا۔“ یہ کہہ کر باہر نکل گئیں تھیں۔ جبکہ لالہ خان ہلتے پردے کو دیکھتے رہ گئے تھے۔
٭….٭….٭
عائلہ خان زئی یونیورسٹی کے پہلے دن ہی تمام لڑکیوں کی پسندیدہ بن گئی تھیں۔ ان کی گریس فل شخصیت نرم گفتاری ۔ مدھم ٹھہرے لہجے نے ہر لڑکی کا دل موہ لیا تھا ۔ کلاس میں گلناز کا تعارف بھی ان سے ہوا تھا مگر وہ اس واقعے کے زیر اثر تھی اس لیے دوسری لڑکیوں کی طرح زیادہ چارم نہیں ہوئی تھی۔ اس عورت کی باتیں مسلسل اس کے ذہن میں ہتھوڑے کی مانند برس رہی تھی اور بے کلی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اڑ کر کسی ایسے شخص کے پاس پہنچ جا ئے جو اسے تمام حقیقت سے سے آگاہ کر دے ااور کہہ دے کہ جو اس نے سنا ہے سب غلط ہے، جھوٹ ہے وہ شاہ زر خان کی بیٹی ہے بس کوئی اتنا کہہ دے اس کی تسلی ہو جائے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ حقیقت سے جتنا بھاگا جائے وہ اتنا ہی تعاقب کرتی ہے۔
٭….٭….٭
کل اس کی پاکستان کی فلائٹ تھی اور اس خوشی میں شہروز خان نے اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس میں ان کے آفس کے کچھ کولیگ چند دوست احباب شامل تھے جبکہ حیدر کی طرف سے نیہا ، جولی اور ڈیوڈ آئے تھے ۔وہ چاروں اس وقت ایک الگ ٹیبل پر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
”ہمارے پاس چند گھڑی بیٹھ جاو¿۔ اڑتے پھر رہے ہو۔“ نیہا نے حسب عادت شکوہ کیا۔
”نیہا ڈئیر اور مہمانوں کو کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔“ وہ اس کے شکوے پر مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
”مس نیہا آفندی کا دراصل کہنا یہ ہے کہ اور سب جائیں بھاڑ میں صرف ہمیں پروٹوکول دیا جائے۔۔۔کیوں؟“ ڈیوڈ نے یہ کہتے ہوئے نیہا کی جانب تائیدی نظروں سے دیکھا۔
”یہ چیز ڈیوڈ تم میری کمپنی میں رہتے ہوئے کتنے ذہین ہو گئے ہو۔“ نیہا نے فخریہ کالر جھاڑے تھے۔
”ہاں یہ تو ہے۔۔۔“
”اوکے آل بوائز۔۔۔ جانے سے پہلے میں چند باتیں کہنا چاہوں گا۔“ حیدر نے ٹیبل بجا کر ان سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ۔ وہ تینوں سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے۔
”اپنی اسٹڈی پر پورا دھیان دینا ہے۔ نوشی اور خاص طور پر نیہا تم نئے آنے والے اسٹوڈنٹس کے ساتھ کسی قسم کا مذاق نہیں کرو گے، ٹیچرز کو بھی مت تنگ کرنا، اچھی بچی بن کر رہو گی تو میں تمہیں بھابھی گفٹ کروں گا۔“ آخر میں وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔
”اوہ۔۔۔“ نیہا نے جواباً ہونٹ سکیڑے۔
”کیاہوا؟“ حیدر نے پوچھا،
”تمہاری باتوں پر عمل کرنا مشکل ہے مگر بھابھی کے لیے کڑوا گھونٹ پینا منظور ہے۔“ وہ برے برے منہ بناتے ہوئے بولی تھی۔
”تھینکس۔۔۔!“ وہ ہنس دیا تھا۔
٭….٭….٭
”گلناز تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ “ وہ گھر کی پچھلی جانب بنے باغ میں جھولے پر بیٹھی اپنے خیالوں میں گم تھی جب پریشے اس کے سر پر آ کر بولی تھی۔
”کیا ہوا ہے مجھے؟“ انداز ہنوز گم تھا۔
”واہ جی واہ۔۔۔ تمہاری مشکوک سرگرمیاں۔۔۔ کھویاکھویا انداز کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو بولو۔“ پریشے اب کچھ نرم انداز میں بولی تھی۔
”جب کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں تو کیا بتاو¿ں۔“ وہ جھنجھلا اٹھی۔
”او کے تمہاری مرضی۔“ پریشے یہ کہہ کر فوراً اندر کی جانب بڑھ گئی۔
گلناز جانتی تھی کہ وہ ناراض ہو گئی ہے مگر وہ یہ بات اسے کیسے بتاتی جو وہ خود سے کرنے سے ڈرتی تھی۔
”مجھے امی سے بات کرنا ہو گی۔“ یکدم اسے کچھ خیال آیا اور وہ تیزی سے گل بخت کت کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔
٭….٭….٭
شہروز ااور حیدر جب تمام مہمانوں کو الوداع کہہ کر چھوڑ آئے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔
”حیدر اب تم آرام کرو صبح پھر جلدی اٹھنا ہے۔“ انہوں نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا تھا۔
” نہیں ڈیڈ آج آپ اور میں باتیں کریں گے۔“ وہ انہیں بازو سے تھام کر ڈرائنگ روم میں لے آیا تھا۔
”کیا باتیں کرنی ہیں؟“ وہ اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولے تھے۔
” مجھے ایک مرتبہ پھر سے وہ سب کچھ سننا ہے۔“ وہ ان کی ٹانگوں پر سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔
”اس میں اذیت کے سوا کچھ نہیں ہے۔“ وہ افسردہ ہو گئے۔
وہ خاموشی سے ان کے چہرہ کی جانب دیکھنے لگا تھا۔ وہ اپنی عمر سے زائد بوڑھے لگنے لگے تھے ان کے چہرے پر ایک مستقل کرب ٹھہرا ہوا تھا۔
”کیا دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اسے اپنی جانب دیکھتا پو کر پوچھا تھا۔
”یہ کہ اب آپ کتنے بوڑھے لگتے ہیں، اپنا بالکل خیال نہیں رکھتے۔“ وہ بولا۔
” یار اب بوڑھا ہو گیا ہوں تو بوڑھا ہی لگوں گا ۔“ انہوں نے اس کی بات کو مذاق میں ٹالا تھا۔
”نہیں ڈیڈ آپ کی عمر اتنی نہیں ہے جتنے آپ نظر آتے ہیں۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
”تم بیٹے کی نظر سے دیکھ رہے ہو۔اس لیے ایسا کہہ رہے ہو۔“ وہ ہولے سے مسکرائے تھے۔
”ڈیڈ مما کی آپ سے ملاقات کہاں ہوئی تھی؟“ اس نے وہ سوال چھیڑ دیا جو نئے سرے سے ان کے زخموں کے کھرنڈ ادھیڑ دیتا تھا ۔ پشیمانی اور ندامت انہیں نئے سرے سے اپنے لپیٹ میں لے لیتی تھی۔
” تہیں ایک بات کہوں گا یا نصیحت ، جو بھی کہہ لو جب انسان جوان ہوتا ہے تو اسے اپنے آپ پر بڑا زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر جو چاہے کر سکتا ہے۔ رشتوں کے بغیر ، ان کے سہارے کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے کیونکہ اسے اپنی جوانی کا غرور ہوتا ہے مگر وہی شخص جب بڑھاپے کی عمر میں پہنچتا ہے تو نہ رشتوں کو تلاش کرتا ہے ۔ ان کے سہاروں کو تلاش کرتا ہے۔ بڑھاپے میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ رشتے ہوتے ہیں۔“کہتے ہوئے وہ لحظہ بھر کو رکے تھے۔
”اور میں نہیں چاہتا کہ تم رشتوں کے بغیر زندگی گزارو اس لیے میں تمہیں تمہارے اصل کی جانب بھیج رہا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا میری بدنصیبی تم پر سایہ کرے۔“ ان کی آنکھوں میں آنسوو¿ں کے ننھے ننھے قطرے نظر آنے لگے تھے۔
” بابا میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے نا کہ میں آپ کو اپنے خاندان سے ضرور ملواو¿ں گا۔“ یہ کہتے ہوئے وہ یکدم اٹھ بیٹھا۔
”ہاں میں شدت سے اس دن کا انتظار کر رہا ہوں۔“ وہ آنکھوں میں آنسوو¿ں کی نمی لیے مسکرائے تھے۔
” بس آپ میرے لیے دعا کیجیے گا۔“ وہ بے اختیار ان کے سینے سے لگ گیا تھا۔
”میری دعائیں ہر پل تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تمہیں تمہارے مقصد میں کامیاب کرے آمین“۔
انہوں نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے دل سے دعا دی تھی۔
”بابا میں آپ کو اور یہ تنہائی کاٹنے نہیں دوں گا۔میرا وعدہ ہے آپ سے“ اس نے دل میں پکا عہد کیا تھا۔
٭….٭….٭
”کیوں اب تک اس بے وفا کی آس پر بیٹھی ہوئی ہے۔ برسہا برس بیت گئے اس نے پلٹ کر خبر تک نہ لی مگر تم اب بھی اس کے انتظار میں ہو ۔ کیوں اپنی زندگی اجاڑ رہی ہو۔“ زہرہ نے اسے آج پھر سمجھایا تھا۔
اس کا اب معمول بن چکا تھا وہ جب بھی اس کی طرف آتی اس موضوع کو ضرور گوش گذار کرتی اور پھر اسے ایک لمبا سا اچھی زندگی گزارنے کا لیکچر دیتی، ، وہ اس کی باتیں آرام سے سن لیتی تھی۔ مگر ماننے میں اس کا اختیار نہ تھا جیسے زہرہ کو اسے سمجھانا زہرہ کے اختیار میں نہ تھاایسے ہی اسے اختیار نہ تھا ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ بے بس تھیں۔
”آس تو محبت کی سب س پہلی کڑی ہوتی ہے، اگر محبوب کی آس ہی ختم ہو جائے تو محبت ہی ختم ہو جائے۔ محبت کو زندہ رکھنے کے لیے آس ضروری ہوتی ہے۔“ اس نے بہت ٹھہر ے ہوئے لہجے میں اسے جواب دیا تھا اور وہ اس کے فلسفے پر اور چڑ گئی تھی۔
”پوری زندگی اس فلسفے پر عمل کرتی رہنا مگر حاصل کچھ نہ ہو گا جس کی آس لگائے بیٹھی ہو وہ اپنی زندگی عیش سے گزار رہا ہو گا ۔اسے تمہارا خیال تک نہیں آتا ہو گا۔“ زہرہ کو بے حد تاو¿ آیا تھا۔
”میں جانتی ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا اس کی محبت اتنی کمزور نہیں تھی زہرہ۔“ وہ پر یقین لہجے میں بولی تھی۔
”کمزور تھی تب ہی تمہیں بیچ منجھدار میں چھوڑ گیا۔“
اب کے وہ خاموش ہو گئی تھی شاید اس بات کا جواب اس کے پاس بھی نہ تھا۔
٭….٭….٭
وہ گل بخت کو ڈھونڈتی ان کے کمرے میں آئی تو وہ وہاں موجود نہ تھیں۔ اب وہ اس خیال کے تحت کچن میں آئی کہ شاید وہاں موجود ہوں مگر وہ وہاں بھی نہ تھیں۔ کچن میں ثمرہ چچی مہروز خان کے لیے قہوہ بنا رہی تھیں۔
”ثمرہ چچی امی کہاں ہیں؟ آپ نے دیکھا ہے انہیں۔“ اس نے دروازے میں ہی کھڑے ہو کر ان سے پوچھا وہ اس کے پکارنے پر پلٹی تھیں۔
” ہاں وہ امو جان کے کمرے میں ہیں۔“ ثمرہ چچی نے بتایا تو وہ فوراً امو جان کے کمرے کی طرف چل دی۔ عام حالات ہوتے تو وہ امو جان کے کمرے میں جاتے ہو ئے سو مرتبہ سوچتی۔ اسے شروع ہی سے امو جان کی شخصیت خوف آتا تھا حالانکہ اموجان اس سے کبھی بھی سخت طریقے سے پیش نہ آتی تھیں مگر ان کی شخصیت کو لے کر اس کے اندر خوف بیٹھ گیا تھا۔ پریشے کا بھی یہی حال تھا مگر وہ امو جان کے سامنے بات کر لیتی تھیں جب کہ اس کی تو امو جان کو دیکھتے ہی گھگھی بندھ جاتی تھی اور وہ آج اس واقعے کے اتنے زیر اثر تھی کہ امو جان کا ڈر خوف بھی کہیںد ور جا سویا تھا۔ امو جان کے دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے ہولے سے دستک دی تھی۔
”آ جاو¿۔۔۔“ دستک کے چند منٹ بعد امو جان کی آواز گونجی تو وہ ناب گھماتی آہستہ سے اندر داخل ہو گئی۔کمرے میں آگے گل بخت اور لالہ کان موجود تھے۔ لالہ خان کو دیکھ کر وہ یکدم جھجکی تھی لیکن پھر فوراً ہی سنبھل گئی تھی۔
”السلام و علیکم۔۔۔!“ اس نے فوراً سلام کیا۔
”وعلیکم اسلام گلناز بیٹی کہاں ہوتی ہیں آپ؟“ لالہ خان نے پر شفقت انداز میں ان سے پوچھا تھا پر وہ لفظ بیٹی کی بازگشت میں گم تھی۔
”امو جان میں آپ سے کچھ پوچھنے آئی ہوں۔“ لالہ خان کے سوال کا جواب اس نے دینا گوارا نہیں سمجھا اور امو جان سے مخاطب ہوئی۔
گل بخت اس کے تیوردیکھ کر ٹھٹک گئی تھی جبکہ لالہ خان بھی اس کے لاتعلق انداز پر چونک گئے تھے۔
”ہاں پوچھو۔۔۔“ اموجان نے سر ہلایا۔
” کیا لالہ خان میرے اصل باپ ہیں؟“ اس کا جملہ ان تینوں نفوس پر بجلی بن کر گرا تھا جبکہ لالہ خان تو یہ سن کر حیرت کے مارے گنگ رہ گئے تھے۔
”گلناز ہوش میں تو ہو؟“ گل بخت نے فوراً سخت لہجے میں ٹوکا تھا لیکن وہ ان سنی کر گئی تھی۔
”امو جان مجھے جواب دیجیے۔“ ا س ے دوبارہ امو جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
” گلناز تم حد سے بڑھ رہی ہو ۔ تمہیں کس نے یہ حق دیا کہ تم ہم سے یہ سوال کرو۔“ امو جان جو چند منٹ لگے تھے
سنبھلنے میں وہ دوبارہ اصل حالت میں لوٹ آئی تھیں۔
”گستاخی معاف امو جان! مگر ہر انسان کو اس کی اصل شناخت جاننے کا حق ہوتا ہے اور کوئی بھی اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔“ اس نے یہ کہتے ہوئے لالہ خان کی جانب زخمی نگاہو ں سے دیکھا تھا۔
لالہ خان سر جھکا کر رہ گئے تھے۔
”ہاں سہی کہا تم نے ہر انسان کو اس کا اصل جاننے کا حق ہوتا ہے مگر مجھے تم یہ بتاو¿ تمہیں کس بات سے لگا کہ لالہ خان تمہارے باپ نہیں ہے، کیا اس نے تمہیں سگی بیٹی کی طرح نہیں پالا، کیا تمہاری فرمائش پوری نہیں کیں، کس فرض سے اس نے کوتاہی کی کہ تم آج ہم سے یہ پوچھنے کھڑی ہو کہ لالہ خان تمہارے باپ ہیں یا نہیں۔ صرف باپ ہونا ضروری نہیں ہوتا اچھا باپ ہونا ضروری ہوتا ہے جو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکے ، انہیں معاشرے میں ایک اچھا مقام دلوا سکے۔ ہاں شاہ زر تمہارا سگا باپ نہیںہے مگر اس نے سگے باپ سے بڑھ کر تمہیں چاہا ہے، تمہارا خیال رکھا ہے کیا تم اس بات سے بھی انکار کرتی ہو؟“ امو جان نے لحظہ بھر رک کر سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ۔ وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔
” معاشرے میں ارد گرد نظر دوڑاو¿ ۔ کتنے ایسے بچے ملیں گے جن کے سگے باپ سوتیلوں سے بڑھ کر ان سے پیار کرتے ہوں گے۔ ان کی جائز خواہشوں کا گلا گھونٹتے ہوں گے۔ پر ہاں ان میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ سگے ہوتے ہیں۔رشتے اور رشتوں کو برتنا بعد میں آتا ہے، سب سے پہلے انسان کااچھا ہونا ضروری ہوتا ہے کہ وہ سگے اور غیر رشتوں کو بھی ایک طرح سے نبھا سکے، اپنوں کی طرح تو ہر کوئی قربانی دے لیتا ہے مگر اصل مزہ تو تب ہے جب غیروں کے لیے بھی قربانی دی جائے۔“اموجان یہ کہہ کر خاموش ہو گئیں۔
پورے کمرے میں چار نفوس کے موجود ہونے کے باوجود ایسا سناٹا طاری تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی واضح سنائی دے سکے۔ گلناز ابھی تک سر جھکائے کھڑی ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اب کبھی بھی وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکے گی۔
٭….٭….٭
وہ سب اس وقت ہیتھرو ائیر پورٹ کے وسیع لاو¿نج میں میں موجود تھے۔ حیدر کی فلائٹ کا ٹائم ہونے والا تھا۔ اس لیے وہ سب فرداً فرداً اس سے گلے مل رہے تھے۔ ڈیوڈ ، مائیکل، ٹونی ، اسلم جو اس کے یونی فیلوز تھے وہ بھی آج اسے الوداع کہنے آئے تھے۔ ان سب سے مل کر وہ نیہا اور جولی کی جانب آیا۔
”جولی اس نیہا کا خیال رکھنا کیونکہ میرے گروپ میں صرف ایک تم ہی ہو جو سمجھدار ہو ۔“ حیدر نے جولی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
”تم بے فکر رہو حیدر میں اس کا پورا خیال رکھوں گی۔“
جولی جانتی تھی کہ حیدر نیہا سے چھوٹی بہنو ںکی طرح پیار کرتا ہے بلکہ وہ اپنے گروپ کے سب دوستو ں سے ہی پیار کرتا تھا ۔ حیدر شہروز محبت کی مٹی سے گندھا ہوا تھا۔ اس لیے ہر طرف محبت ہی بانٹتا تھا۔ اسے اپنے سے منسلک ہر رشتہ عزیز تھا جسے نبھانے کی وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرتا تھا ۔ وہ سب کیلئے محبت کی اعلیٰ مثال تھا۔
”جاو¿ حیدر! تم جس مقصد کے لیے جا رہے ہو اللہ تمہیں کامیاب کرے ۔ ایک بہن کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔“
نیہا نے بھی ہاتھ ملاتے ہوئے اسے د ل سے دعا دی تھی۔ وہ تشکر سے مسکرا دیا تھا۔ ان سب سے ملنے کے بعد اس کی نظر شہروز خان پر پڑی تھی جو ایک جانب قطار میں لگی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ان کے چہرے سے افسردگی جھلک رہی تھی اور انداز ایسا جیسے شکستہ اور ہارے ہوئے ہوں۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ان کی جانب آیا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کے قریب بیٹھ گیا تھا۔
”بابا!“ اس نے پکارا تو وہ چونکے۔
” کیا سوچ رہے ہیں؟“
”کچھ بھی نہیں“ وہ مصنوعی سا مسکرائے تھے۔
”کچھ تو سوچ رہے تھے؟“
”حیدر میں تمہیں وہاں بھیج تو رہا ہوں پر میرا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا ہے۔خدشات اور وہم کسی ناگ کی طرح بار بار مجھے ڈس رہے ہیں۔ یہ ڈر الگ کنڈلی مارے بیٹھا ہے کہ اگر انہوں نے تمہیں قبول نہیں کیا تو“ انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کر دیا تھا۔
”بابا جان اموجان کی بات ہوئی تھی نا آپ سے۔ وہ راضی ہیں تو باقی بھی راضی ہیں انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا آپ ٹینشن نہ لیں۔“ اس نے دلاسہ دیا۔
”امو جان نے کس طرح رضامندی ظاہر کی ہے تم نہیں جانتے اس وقت میری کیا حالت تھی؟“ وہ شکستہ لہجے میں بولے تھے۔
”چلیں جیسے بھی رضامندی توظاہر کر دی ورنہ دو ٹوک انکار کر سکتیں۔ پلیز آپ اب پریشان مت ہوں۔ اچھا اچھا سوچیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
اس نے یہ کہہ کر ان کا ماتھا چوما تھا اور وہ جواباً کسی ٹوٹی ہوئی شاخ کی طرح ان کی بانہوں میں سما گئے تھے۔ وقت نے انہیں کس دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا کہ آج وہ اپنے چھوٹے ہوئے رشتوں کے لیے تڑپ رہے تھے مگر وہ رشتے ان کی پہنچ سے بہت دور ہو گئے تھے۔
٭….٭….٭
”مس شوکت ! گلناز دو ددن سے یونیورسٹی نہیں آ رہی۔ خیریت ہے نا؟“ وہ دونوں اس وقت اسٹاف روم میں بیٹھی ہوئی تھیں جب عائلہ نے ان سے پوچھا تھا۔
”ہاں مجھے بھی حیرت ہے ورنہ گلناز ہماری ایسی اسٹوڈنٹ ہے جو سخت سے سخت طبیعت خرابی میں بھی چھٹی نہیں کرتی۔“ مس شوکت نے بھی تعجب کا اظہار کیا۔
”ہاں ماشاءاللہ کافی بریلینٹ اسٹوڈنٹ ہے۔ مجھے تو اس نے پہلے دن ہی اپنی بہترین کارگردگی پر متوجہ کر لیا تھا اور باقی کسر اسٹاف نے پوری کر دی۔“ وہ دھیمے دھیمے سے مسکراتے ہوئے بول رہی تھیں۔
”ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ گلناز اس یونیورسٹی کے بہترین اسٹوڈنٹس میں سے ایک ہے۔“ مس شوکت نے بھی ان کی اس بات سے ااتفاق کیا تھا۔
”وہ اس کی کزن جو اس کے ساتھ ہوتی ہے ، کیا نام ہے اس کا؟“ مس عائلہ نے ایک دم کچھ خیال آنے پر پوچھا تھا۔
”ہاں پریشے نام ہے۔“ مس شوکت بولیں۔
” اس سے پوچھ لیتے ہیں۔“ مس عائلہ نے جواباً کہا۔
”ہوں بلاتی ہوں۔ “ مس شوکت اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اطلاعی گھنٹی بجانے لگیں۔
٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

من کے دریچے۔۔۔عابدہ سبین۔۔۔قسط نمبر 11

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 11 اس کی طبیعت اچھی نہیں تھی اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے