سر ورق / افسانہ / ڈمپی اور کامنی…ناصر صدیقی

ڈمپی اور کامنی…ناصر صدیقی

ڈمپی اور کامنی

ناصر صدیقی

آکاش کمارکے لڑکپن میں فلموں کا بڑا کریز تھالیکن اسکا پتا بچوں کو فلم دکھانے کا مخالف تھا۔جب مشہور فلم میکر، نراج کپور کی فلم’’بی بی‘‘ ریلیز ہوئی تو اسکی شہرت گلی گلی پہنچ گئی اور یہی پندرہ سالہ آکاش کی پہلی فلم بنی جوپتا نے اسے سنیما میں دکھائی۔فلم کی ہیروین ،نوخیز اور کٹیلی جوانی سے لبریز، ڈمپی تھی جس کے نیم عریاں اور بکنی والے مناظراسکے دل و دماغ پہ قبضہ کر کے لاشعور میں ہمیشہ کے لئے بیٹھ گئے۔
پھر پڑھائی اور( بیرون ملک کے )روزگار نے اسے فلموں سے بے خبر ہی کردیا۔لیکن قسمت سے کون لڑے؟۔یہی آکاش فلم لائن میں آ گیا اور دیکھتے ہی دیکتے چھا بھی گیا۔ قسمت کایہ بھی دیکھئے کہ ڈمپی اسکی ساس بن گئی جب اسکی بیٹی پنکی اور آکاش کی سپر ہٹ فلمی جوڑی، زندگی کی بھی جوڑی بن گئی۔ادھر ڈمپی ،جو شادی ، پھر طلاق کے بعدایک دو گرما گرم فلمیں دے کر اب صرف خاص اورآرٹ فلمیں کرنے کا فیصلہ کر بیٹھی تھی، جب ساس بنی تو سب کچھ چھوڑ کر پنکی کے یہاںآکر رہنے لگی بس فلمی پارٹیوں میں جاتی جن کا جادوآخر تک چلتا ہے۔
اس دن ڈمپی بن سنور کر بلکہ چھمک چھلو بنی ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھی کہ پنکی اپنی سولہ سنگار مکمل کرے تو دونوں ماں بیٹی ایک فلمی تقریب میں جائیں۔پاس ہی آکاش بھی اخبار پہ نظریں جمائے بیٹھا ہو ا تھا۔اچانک ڈمپی اپنے آپ کسی خیال کے آنے پر مسکرا اٹھی۔آکاش یہ دیکھ نہ سکا تھا۔اس نے آکاش کو متوجہ کر کے پوچھا:
’’تم نے اپنے بچپن،لڑکپن میں فلمیں دیکھیں؟‘‘
اس پر آکاش نے مسکرا کر ڈمپی کو عجیب انداز سے دیکھا اور پھر کہا:’’جی صرف ایک دو فلمیں۔اتفاق سے میری زندگی کی پہلی فلم آپ کی بھی پہلی فلم تھی۔‘‘یہ کہہ کر وہ واپس اخبار کی طرف سنجیدگی سے دیکھنے لگا۔
اس میں ،میں تو اچھی خاصی۔۔۔ٹو پیس بکنی۔۔پتہ نہیں اس فلم کو لے کر میرے بارے اب آکاش کیا سوچتا ہوگا؟ ابھی ڈمپی کچھ اور بھی سوچنے میں لگی تھی کہ پنکی آگئی۔خوشبو ماں بیٹی دونوں میں آرہی تھی لیکن مخصوص خوشبو سے آکاش نے اپنی گردن اٹھائی تو گھر کی نوکرانی کامنی کو بھی آتے دیکھا۔ ماں بیٹی ڈرائیور کے ساتھ چلی گئیں تو آکاش نے کامنی کو ایک اچھی کافی بنانے کو کہا۔
دونوں تقریب کے بعد واپس آئیں تو رات اچھی خاصی بیت چکی تھی اور آکاش بھی ابھی لوٹا نہیں تھا۔ پنکی تو کپڑے تبدیل کئے بغیربستر پر نیند بھرے انداز میں ڈھیر ہو گئی لیکن ڈمپی، جو پنکی کے ڈھیر سارے زیورات پہن چکی تھی،انھیں الماری میں رکھنے لگی ۔ایک البم ملی تو تجسس سے مجبور ہو کر اسے دیکھنے لگی ۔آکاش کی تھی جس میں فلمی تقریب،شوٹنگ،اپنی شادی اور ہنی مون کی تصوریں تھیں۔ ان کے نیچے کچھ اور تصویروں کا گمان ہو اجنھیں دیکھ کر ڈمپی چونک گئی!تمام کی تمام اسکی فلموں کی پرانی اخباری سیکسی تصویریں تھیں جو اسے ماضی کی نہیں حال کی شرم دلانے لگیں۔ اس نے بے ساختہ پنکی کی طرف دیکھا۔وہ بے چاری تو سارے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔
کیا میں آکاش کی پسندیدہ ہیروین تھی یا اس کی جوانی نے صرف بکنی، نیم عریانی،بوس و کنار اور بھیگی ساڑی کو اچک لیا ہوگا؟اب آکاش کیا سوچتا ہے؟؟ان سوالوں کے جواب آکاش ہی دے سکتا تھا ڈمپی اپنی حد میں صرف یہاں وہاں کی سوچ سکتی تھی۔بس یہ ہے کہ شرم کے ساتھ ساتھ وہ مسکرائی بھی تھی۔ خاموشی سے سای تصویریں اور البم اپنی جگہ رکھ کر اپنی خواب گاہ میں آئی۔ یہ سچ ہے کہ نیند اسے خاصی دیر کے بعد آگئی ۔
*****
اس دن نہ جانے کیوں ڈمپی پہلی بارپنکی اور آکاش کے باتھ روم میں نہائی تھی ۔آکاش، جو موجود نہیں تھا،اس وقت آ گیا جب ڈمپی اسی کمرے کی کشادہ بالکنی پہ کھڑے ہوکر اپنے بال سکھا رہی تھی۔ کپڑے بھیگے بدن کے ساتھ چپک گئے تھے کہ یہ اسکی عادت رہی ہے کہ نہاتے وقت تولیہ استعمال نہیں کرتی ہے ۔دونوں کی نظریں ملیں نہیں کہ ڈمپی کی پیٹھ آکاش کی طرف تھی۔وہ حیران ضرور رہا کہ نہ جانے کیوں اسکی ساس آج یہ باتھ روم استعمال کر گئی ہے!یہ بات اس نے پنکی سے بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
دوسرے دن جب سب ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے اورکامنی کچن میں تھی کہ ڈمپی موبائل سے کسی کو فون کرنے لگی: ’’۔۔ ۔ ۔جی پہچان گئی ہوں۔۔۔۔ہیں کافی ہیں۔۔۔تو میں خود آؤنگی۔۔۔نہیں میں ضرورآؤنگی۔۔‘‘اور کال منقطع کر دی۔
’’کون ؟‘‘ پنکی نے پوچھا تو ڈمپی نے بتایاکوئی پرانی جان پہچان والی ہے جو میری پرانی ساڑیاں مانگ رہی ہے۔
آکاش کے جیسے کان کھڑے ہوگئے۔ڈمپی کی طرف دیکھے بغیر کہا۔’’اگر ایسا ہے تو اپنی کچھ ساڑیاں کامنی کو بھی دیجئے!‘‘
ڈمپی مسکرائی کہ آکاش پہلی بار اس سے کسی چیزکے کرنے کا کہہ چکا ۔
’’ضرور دونگی،نوکرانی کو بھی۔‘‘
اس پرآکاش صرف مسکرا یاجو نوکرانی کی بجائے کامنی کا نام بھی سننا چاہتا تھا۔
اس دن کے بعد سے اب ڈمپی، آکاش اور کامنی پہ اپنی حد میں نظریں بھی رکھنے لگی تو حالات نے اسے بہت کچھ بتا اور سمجھا دیا:
’’آکاش نوکرانی پہ عاشق لگتا ہے۔میری بیٹی کا اس کمینی سے کیا مقابلہ۔لیکن یہ مرد ذات توبہ توبہ!اسکے بھرے بھرے جسم پہ مرتا ہوگا آکاش ورنہ صورت اتنی قابل قبول ہر گز نہیں۔‘‘ڈمپی اب یہی سوچ سوچ کر اپنی بیٹی کے مسقبل سے پریشان ہوتی تھی۔’’ایک بات کی سمجھ نہیں آتی!‘ ڈمپی یہ بھی سوچتی،’’ کہ یہ نوکرانی کے سارے کپڑوں کے رنگ اور فیشن، لپ اسٹک ،جیولری میری پسند کی کیوں اور کیسے ہیں؟کون اسے یہ سب بتا گیا ہے۔خود تو اتنی پڑھی لکھی بھی نہیں کہ میرے بارے کسی کتاب یا اخبارات میں دیکھ سکے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آکاش۔۔۔۔؟ نہیں ایسا’’ اب‘‘ نہیں ہو سکتا۔‘‘اور شرما گئی کہ عورت بھی تو تھی۔
اگلے دن نوکرانی بغیر اطلاع دیئے غائب تھی۔گھر کے کتنے کام اوٹ پٹانگ میں کئے گئے تو کامنی کی کمی کا سب کو احساس ہوا۔پنکی اور ڈمپی نے شاید ہی کبھی گھر کا کام کیا تھا۔آکاش بھی کافی عرصے بعد اپنے لئے چائے بنا کر ڈرائینگ روم میں آیا تو اسکے ہاتھ سے ایک کانچ کا گلاس ٹوٹ گیا ۔ ڈمپی، جو پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی، یہ دیکھ کے مسکرا اٹھی اور’’ہائے رے کامنی!‘‘کہہ کر کانچ کے ٹکڑے اٹھانے لگی۔ اس کی اس ادا سے آکاش بھی مسکرا یااورصوفے پہ بیٹھ کر اپنی چائے پینے لگا ۔ایک نظر اخبار پہ بھی تھا لیکن دوسری مجبور نظر ڈمپی پہ پڑی تو کامنی پہ اسے غصہ آنے لگا۔۔ ڈمپی کے لباس کاگریبان بے حد کھلا تھا اور جھکنے پر کسی بی گریڈ فلم کا ایک سیکسی منظر بن گیا تھا ۔
کامنی آئی تو آکاش نے سب کے سامنے اسے اتنا ڈانٹا کہ رونے لگی جو اپنے اپائج پتی کو لینے ریلوئے اسٹیش گئی ہوئی تھی۔ ا سکا خیال تھا جلد لوٹ آئے گی لیکن ریل نے دیر لگا دی۔
رات ہوئی تو اپنے رویے سے پشیمان ہوکر آکاش کامنی کے پا س آئی۔ معافی تو مانگ لی ساتھ ہی ایک لاکھ روپے کی نقدی بھی دے دی۔ اتنے روپے دیکھ کر ’’نوکرانی‘‘ پہلے حیران ہوئی پھر الگ انداز سے مسکرا کر پیسے رکھ لئے۔آکاش بھی مسکرایا۔
ایک خوشی کا تہوارآگیا تو اسی نسبت آکاش سب کے لئے تحائف لایا۔ نوکرانی کے لئے ڈھیر ساری ساڑیاں ، جس میں ایک بکنی بھی تھی، وہی رنگ کی جو فلم ’’بی بی‘‘میں ڈمپی نے پہنی ہوئی تھی۔کچھ ہی دیر بعد وہ کامنی کے پاس آئی کہ بکنی کسی اور کے لئے لی تھی جو غلطی سے ساڑیوں میں۔ ۔۔ ۔توکامنی نے دلکشی سے مسکرا کر کہا:
’’ اب رہنے دیجئے صاحب!۔تہوار میں چیزیں واپس لینا اچھاشگن نہیں ہوتا ہے چاھے غلطی سے کیوں نہ دی گئی ہو۔‘‘اس پر آکاش چپ ہو کر ایسے واپس گیا کہ کامنی حیران رہ گئی،کچھ شک بھی کیا لیکن اسکی حدیں معلوم نہیں۔
اب ڈمپی یہ دیکھتی تھی کہ کامنی اور آکاش کے تعلقات بے حد اچھے ہونے لگے ہیں لیکن شک کے سواوہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
*****
پنکی کسی لیٹ نائٹ فلمی پارٹی میں گئی ہوئی تھی ۔آکاش شوٹنگ سے واپس آیا تو کامنی نے کھانا پیش کیا۔کچھ دیر بعد سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر تھے بس پنکی ابھی تک نہیں آئی تھی۔آکاش کوآج نیند نہیں آ رہی تھی۔جب نیند نے بالکل ہی جواب دیا تو اپنے بچپن، لڑکپن،جوانی ، حال اور مستقبل کی یادوں اور پلانوں میں گم ہو گیا۔ماضی رنگین تھا،حال پرسکون لیکن مستقبل میں کچھ خدشات تھے۔اچانک ماضی کی کئی محرومیاں نے اچک کر اسے اداس کر دیا ۔اداسی سنبھل نہ سکی تواٹھ کر نوکرانی کے کمرے کی طرف جانے لگا۔ اتفاق سے ڈمپی نے،جوآج اپنی بے خوابی سے تنگ آکر کافی عرصے بعد ایک سگریٹ پھونکنے اپنی بالکنی میں چلی آئی تھی، آکاش کو جاتے دیکھا تو شک بھرے نداز میں اسکا پیچھا کرنے لگی ۔ آکاش، کامنی کے دروازے پر پہنچ کر دستک دینے لگا۔کچھ دیر بعد کامنی نکلی جو آکاش کے چہرے کو دیکھ کر سب کچھ سمجھ گئی:
’’اندر آئیں نا۔میرے پتی موجود نہیں ہیں اس وقت۔‘‘
’’نہیں! بہت گھٹن ہے۔آج باہر ہی ٹھیک رہے گا۔ویسے پتی ہوتے بھی تو کیا فرق پڑتا؟‘‘اس اداسی میں بھی آکاش اپنی فطری بزلہ سنجی سے دور رہ نہ سکا۔
دونوں دروازے کے پاس ہی کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ایک مرحلے پرآکاش رونے سا لگا تو کامنی نے اسے اپنے سینے پہ لگا کے بھینچ دیا۔
’’تو یہ بات ہے!آج پکڑا ہی گیا ۔شک تو مجھے کافی دنوں سے تھا۔‘‘ غصہ کی بجائے ،بے ساختہ اور لاشعوری انداز میں،ڈمپی کے’’ تن بدن’’ میں ’’آگ سی‘‘ لگ گئی جو دور سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
۔’’مجھے دونوں کی باتیں سننا چاہئیں!‘‘یہ فیصلہ کر کے ڈمپی دونوں کے ایسے قریب آئی کہ چپکے سے ان کی باتیں سن سکے۔
’’اب اور زیادہ مت رویئے صاحب!کاش میں آپ کا مداوا ہو سکتی لیکن مجھے معلوم ہے کہ آپ کا درد کیا ہے۔ میں اسے آپ کے پاس لا بھی تو نہیں سکتی۔‘‘اور خود بھی رونے لگی۔
’’تم انھیں لابھی دو۔میں پھر بھی کچھ نہیں کر سکتا۔میری طرح کی بے بسی کوئی اور نہ دیکھے۔منزل قریب ہے لیکن بے بسی اسے کتنا دور لے گئی ہے۔ میں تو____‘‘اور ہچکی بندھ گئی۔
’’یہ کونسی منزل ہے؟‘‘ڈمپی سوچنے لگی،’’نوکرانی سے تو اسکے ایسے تعلقات نہیں۔ورنہ ایسے موقع پر ہر مرد، عورت سے سکون حاصل کرتا ۔ کامنی تو سب کچھ دینے کے لئے بھی تیار ہے لیکن آکاش ہی انکاری ہے۔کہیں وہ مجھ سے۔۔۔۔۔‘‘اس سوچ سے ڈمپی شرما گئی اور دونوں کو چھوڑ کوواپس اپنی خوابگاہ میں چلی آئی۔اب بہت کچھ سوچنے لگی تھی۔ایک سوچ نے تو اسے بہکا بھی دیا یہ باور کرا کے کہ وہ ابھی تک جوان اور پرکشش ہے لیکن اس سوچ کی راہ میں پنکی کی رکاوٹ بھی آگئی۔کچھ دیر بعد اسے کسی کی آہٹ سنائی دی۔’’شاید پنکی ہے۔یا آکاش واپس جا رہا ہوگا۔‘‘یہ سوچ کر اس نے کھڑکی سے ہال کی طرف دیکھاجہاںآکاش کھڑا ہو کر،ڈمپی کے کمرے کی طرف ایسے کشمکش بھرے انداز میں دیکھنے لگا تھا شاید وہ ڈمپی کی طرف ہی آئے۔
ڈمپی اپنی اس بے ساختہ اور لہریا سوچ سے گھبرا گئی کہ ’’آکاش‘‘ اگر ’’ابھی‘‘ اس کے پاس آجائے تو وہ خو کو روک بھی نہیں سکے گی۔۔پنکی کو پھر کیا منہ دکھلائے گی؟ کہ ماں ہی۔۔’’نہیں! آکاش کوآنا نہیں چاہیے۔وہ یہاں نہیں آئے گا۔‘‘ اور پھر اس نے دیکھا کہ آ کاش نہ جانے کیا سوچ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہا۔ڈمپی نے مسکرا کر اطمینان کا سانس لیالیکن اسکے دل میں کچھ پنپ بھی رہا تھا کہ وہ ایک انسان ،ایک عورت بھی تھی۔پھر اس کی نظر اپنے سینڈل پہ پڑی جن کے آگے کے ر خ باہر ہی کی طرف تھے۔(ختم شد)
(؟۔۔۔۔۔
۱۸جنوری دو ہزار انیس)
ڈمپی___
۲

سینڈلوں کا اس طرح ہونا ٹھیک نہیں،یہ سوچ کر ڈمپی بستر سے اٹھی ۔جونہی اس نے سینڈلوں کے رخ درست کئے اسے بادلوں کی گرج سنائی دی۔
بارش ہو رہی ہے یا آرہی ہے؟اس سوال کے جواب کے لئے وہ ہال میں کھلنی والی ایک کھڑکی کے پاس آئی۔ اسے کھولا تو باہر چھم چھم بارش برس رہی تھی۔وقفے وقفے سے بجلی بھی چمکتی تھی۔
پنکی بارش میں پھنس گئی ہوگی،وہ سوچنے لگی،ایک تو ممبئی کی بارش برتی ہے تو رکتی ہی نہیں۔ اسے اپنی فلم ’’ساگر‘‘ کے پرانے دن یاد آگئے جب کسی گانے میں مصنوعی بارش کو لے کر اس نے اعتراض کیا تھا کہ وہ شوٹنگ نہیں کرائے گی جب تک حقیقی بارش نہ ہو۔اس پر پیک اپ کا اعلان کیا گیا۔ چند روز بعد کسی اور علاقے میں اصل بارش میں یہ گانا شوٹ کیا گیا۔ اس سے ضافی خرچہ بھی ہوا۔ جب اس نے یہ پیشکش کی کہ اس کے پیسوں سے یہ خرچہ کاٹ دیا جائے تو فلم کے فلم ساز اور ہدایت کار رمیش سپی(مشہور فلم:شعلے۔ انداز ۔ سیتا اور گیتا) نے مسکرا کر اس پیشکش کو مسترد کیا کہ وہ تو خود ایسے فنکاروں کا قدر کرتا ہے۔مصنوعی بارش اسکی مجبوری تھی ورنہ وہ اپنی ہرفلم اصل لوکیشن اورمناظر میں فلمانے کے حق میں ہے۔
بارش میں بھیگنا ڈمپی کی ایک کمزوری بھی تھی لیکن اب وہ ایسا کرنے میں ایک شرم سی محسوس کرتی تھی۔کبھی کبھی وہ اس شرم کے بھگانے کے بے حد قریب بھی آتی تھی۔اچانک اسے نہ جانے کیا ہو گیا کہ وہ آکاش کے کمرے کی طرف آنے لگی۔دروازے پر دستک دی تو آکاش نے کھولا:’’جی! خیر تو ہے نا؟‘‘لہجہ بے حد سپاٹ تھا۔
’’جی ،خیر تو ہے۔وہ پنکی۔۔۔‘‘
’’میں نے فون کیا تھا،بارش رکتے ہی آجائے گی۔‘‘اور حیران سا ہوا کہ ڈمپی خود بھی اپنی بیٹی کو فون کر کے اسکی خیریت معلوم کر سکتی تھی!
’’وہ دراصل!۔۔۔بارش۔۔میں ٹیرس(چھت) پہ جاکر بارش میں نہانا چاہتی ہوں،اوپر جانے میں ڈر لگتا ہے۔’’اور مسکرا کر اپنی اٹھی ہوئی شرمیلی نگائیں جھکالیں۔
آکاش ڈمپی کے اس بچپنا اور الھڑ پن پر حیران ہوا کہ اتنی عمر میں ہو کر بھی۔۔۔۔اسکے احترام میں مسکرا کر کہا:’’ چلیں۔‘‘
چل کے دونوں ٹیرس (چھت)پر آئے۔ گرم چائے بنا کر پینے کا سوچ کرآکاش تو وہاں بنے اپنے شیشے کے لگژری کمرے میں گیا جہاں ہر چیز موجود تھی(اٹیچڈ باتھ روم،کچن،بیڈ روم۔بڑی اسکرین والی ٹی وی،انٹر نیٹ وغیرہ) جب کہ ڈمپی کھلے آسمان کے نیچے بارش میں بھیگنے لگی۔دیکھتے دیکھتے پھر وہ نہ جانے کس جذبات میں آکر ناچنے بھی لگی۔
اپنی ساس کے الھڑ پن اور بارش کے لئے جنون کو انجوائے کرنے کی بجائے آکاش چائے بنانے کچن میںآگیا۔ سوچ رہا تھا کہ وہ ڈمیی جیسی عورت پر ایک فلم بھی بنائے گا۔چائے پک کر تیار ہوگئی توایک بھرا کپ لئے آکر صوفے پر بیٹھ گیا یہ سوچ کر کہ ڈمپی اگر یہاں آئی تو اسے بھی گرم چائے پیش کرے گا۔
ادھر ڈمپی اپنی ترنگ میں اب بھی ناچ رہی تھی ۔ بارش جیسے اسکے تھرکتے جسم کو لے کر اور بھی مچل کر اپنی بوندیں دینے لگی تھی۔ناچتے ناچتے ڈمپی اپنے خیالوں اور خوابوں میں کھو گئی تو دیکھا کہ وہ بھیگی ساڑی میں سمٹے سمٹائے ،اپنے آئیڈیل محبوب کے سامنے کھڑی ہے۔
’’ڈمپی! تم بھی عجیب لڑکی ہو!بارش دیکھ کر یہ نہیں دیکھتی کہ کہاں کھڑی ہو۔بس اپنے کو بھیگنے دیتی ہو!پتہ ہے اس وقت تم کہاں پر ہو؟‘‘
نہیں!‘‘ ڈمپی شوخیانہ انداز لئے مسکرائی تو گالوں میں گڑھے پڑے۔لیکن جانتی بھی تھی کہ اس وقت کس جگہ پر ہے۔
’’ہم اس وقت پارک میں ہیں۔اتفاق یہ ہے کہ بارش نے سب کو بھگا دیا ہے ،صرف ہم دونوں رہ گئے ہیں۔خود تو بھیگ گئی ہو مجھے بھی پوی طرح بھگوا دیا۔‘‘
’’تمہیں بھیگنا اچھا نہیں لگتا؟‘‘
’’بالکل نہیں! مجھے بس تمہارے پیار میں بھیگنا اچھا لگتا ہے۔‘‘اور ہاتھ کھینچ کر ڈمپی کواپنے گلے لگایا۔
ڈمپی مسکرائی،شرمائی وربولی:’’تم بھی تو پیار کرتے وقت جگہ نہیں دیکھتے کہ آس پاس لوگ بھی ہوتے ہیں۔‘‘
’’’حساب برابر!‘‘ کہہ کر وہ ہنسا۔ پھر دونوں اسی طرح ایک دوسرے سے پیوستہ ہو کر، دور کھڑی اپنی کار کی طرف آنے لگے جو بارش کے پردے پر دھندلی سی نظر آتی تھی۔
اچانک ڈمپی چونک گئی کہ وہ کس دنیا میں چلی گئی تھی!اسے یاد آیا کہ وہ تو آکاش کے ساتھ ٹیرس پر چلی آئی تھی۔شاید آکاش نے اسکی یہ خواب بھری کیفیت دیکھ لی ہوگی۔چل کر وہ سوٹ میں آئی۔ آکاش نے آہٹ سن کر اپنی گردن گھما ئی۔ ڈمپی کی بھیگی اور چپکی ہوئی ساڑی اسکے جسمانی خدو خال دکھانے میں پوری طرح بے شرم ہو چکی تھی۔آکاش نے اسے چائے کی پیشکش کی تو ’’فوراً لاو!‘‘ کہہ کر مسکرائی۔ڈمپی اور اپنے لئے دوسرا کپ بھر کر آکاش واپس آیا۔ڈمپی کی چائے سامنے کی تپائی پہ رکھ اپنی چائے لئے صوفے پر بیٹھ گیا۔پہلی گرم چسکی لے کر اس نے ڈمپی کی طرف دیکھا اور سپاٹ لہجہ میں کہا:
’’ آج آپکا بارش کے لئے یہ جنون دیکھ کر اس پر ایک فلم بنانے کا آئیڈیا مل گیا ہے۔ایک میچور،من موجی اور لہریا عورت کے اس کردار کے لئے آپ کے خیال میں کون سی اداکارہ فٹ ہوگی؟‘‘
’’صرف اور صرف ودیا بالن۔‘‘
’‘میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ ہیرو کے لئے؟‘‘
’’ہیرو۔۔۔‘‘ڈمپی اپنے تجربوں کو پکارنے لگی،’’ہیرو۔۔۔ہاں! تم بھی فٹ ہو۔ باقی جو چند اچھے اداکار ہیں وہ ودیا بالن کی عمر کے حساب چھوٹے ہیں۔تم ٹھیک لگو گے۔‘‘
’’ہوںںںںں‘‘اکاش نے مسکرا کر کہا۔ پھر پوچھا:’’ اگر ودیا نے انکار کیا تو؟‘‘
’’تو۔۔۔ باقی تو۔۔ تو پھر ٹی وی سے کوئی اچھی آرٹسٹ لے لو،آج کل وہاں اچھی ٹیلنٹ موجود ہے۔‘‘
’’نہیں! نئی اداکارہ کا، رسک نہیں لے سکتا۔ایک تجربہ کار اور فلمی اداکارہ چاہیے۔آپ بھی اس کردار کو کر سکتی ہیں۔‘‘آکاش کے لہجہ میں کوئی مذاق نہیں تھا۔
’’میں؟‘‘ڈمپی شرمائی،’’تو پھر میرا ہیرو کون ہوگا؟‘‘
’’میں۔‘‘آکاش بطور فن کار اس بار بھی پوری طرح سنجیدہ تھا۔
’’ کیا تم سنجیدہ ہو؟‘‘
’’جی بالکل!اس میں یہ بھی بات اور خوبی ہوگی کہ آپ حقیقی طور سے یہ کردار ابھی کر بھی چکی ہیں۔‘‘
‘‘تو چلیں اسکی رہرسل کرتے ہیں،بارش تو اب بھی ہو رہی ہے۔‘‘
اس پر آکاش سٹپٹا سا گیا کہ ابھی تو فلم صرف خیالوں میں بند ہے۔رہرسل کے فوراً بعد شوٹنگ ہوتی ہے۔ یہاں تورہر سل کے نام پر حقیقی منظر ہوگا۔
’’’خاموش کیوں ہو؟آخر فلم اور اصل زندگی میں انیس بیس کا ہی تو فرق ہوتا ہے۔یہاں یہ دیکھنے کا موقع ملے گا کہ اگر ہماری کیمسٹری فیل ہوئی تو سمجھو فلم میں بھی فیل ہوگی۔‘‘اس وزنی بات پر آکاش کو راضی ہونا پڑا۔
دونوں چل کر بارش میں بھیگنے لگے۔کچھ ہی دیر میں ڈمپی اپنی پرانی ترنگ میں آکر نااچنے لگی ۔ جیسے پھر اپنے خواب کی دنیا میں داخل ہو گئی تھی، آکاش سے لپٹ کر بولی:
’’ مجھے بارش میں بھیگنے کے ساتھ ساتھ تمہارے پیار میں بھی بھیگنا اچھا لگتا ہے۔یہ بھی میرا ایک جنون ہے۔‘‘ اس پرآکاش شش و پنچ میں پڑ گیا کہ یہ اصل مکالمے ہیںیا اختراعی اور فلمی؟’’آکاش! تم خاموش کیوں ہو؟کیا مجھ سے پیار نہیں کرتے ہو؟‘‘
’’پیار کرتا ہوں ،مگر۔۔۔میں شادی شدہ ہوں۔‘‘
’’لیکن میں خود کو اب بھی کنواری سمجھتی ہوں۔دکھا دوں اپنے کنوار پنے کا ثبوت؟‘‘
’’ہاں! دکھا دو!‘‘اب آکاش بھی پرکھنا چاہتا تھا کہ یہ سب حقیقت میں ہو رہا ہے یا فلمی ہے؟
اس پر ڈمپی اپنی ساڑی اتارنے لگی تو آکاش نے چاہا کہ اسے فوراً روک دے کہ وہ کچھ اور چیز بلکہ ڈمپی کے فن کی تلاش میں تھا ۔ لیکن اسکے لاشعور میں بسی پرانی فلمی ڈمپی(بی بی گرل) نے اسے مجبور کر دیا کہ ڈمپی جو کرنا یا دکھانا چاہتی ہے ،اسے کرنے اور دکھانے دیا جائے ۔ ڈمپی نے اپنی ساڑھی اتاری۔بلاؤز اور انگیا کھول کر،اتار کر اس نے آکاش کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:’’میرے سینے کے کنوارپنے کو دیکھو! انھیں چھو کر محسوس کرو۔یہ ثبوت اگر کافی نہیں تو۔‘‘اور اسکا ہاتھ اپنے پیٹی کوٹ کی طرف بڑھا۔
’’نہیں!‘‘ آکاش نے اسکا ہاتھ روک دیا،’’مجھے اور ثبوت نہیں چاہیے۔یہی کافی ہیں۔‘‘اور اپنی، لاشعور کی ’’ڈمپی‘‘سے لپٹ گیا۔
پھر چل کر دونوں شیشے کے کمرے(سوٹ) میں آگئے تو پیٹی کوٹ میں ایک سرسراہٹ سی ہوئی۔بارش اب اپنے پورے جوبن پر آکر پیاسی زمین پر برسنے لگی تھی۔اب جل تھل ہونے سے کوئی بچ نہیں سکتا تھا۔(ختم شد)
(
۹ تا ۱۲ جنوری دو ہزار انیس)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے