سر ورق / افسانہ / جنگل راج…راجہ یوسف

جنگل راج…راجہ یوسف

 

      جنگل راج       

    راجہ یوسف

 ” وہاں اندھیر نگری چوپٹ راج تھا۔ لومڑیاں شیروں کا شکار کر رہی تھیں۔ حال یہ تھا کہ شیرکٹتے جارہے تھے، مارے جا رہے تھے ۔ لیکن وہ بے دست و پا لگ رہے تھے ۔ جنگل کے سارے چرند پرند انگشت بدنداں تھے۔لیکن کوئی بات نہیں کررہا تھا۔“

” لیکن کوئی بات کیوں نہیں کر رہا تھا۔“

” کیوںکہ سب کو اپنی جان کی پڑی تھی۔ کوئی بھی دوسروں کے لئے اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔“

” خطرہ ۔۔۔ اور وہ بھی حقیر لومڑیوں سے ۔ جن کا سرہم ایک ہی وار میں دھڑ سے الگ کر سکتے ہیں۔ © © ©“

 ” جنگل کے سارے جانور ایک دوسرے کااعتماد کھوچکے تھے ۔ اور سبھی جاتیاں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہی تھیں۔“

 ” لیکن ہمیں یقین نہیں آرہا ہے کہ کس طرح سے کم ظرف لومڑیاں بہادر شیروں کا شکارکر رہی تھیں ۔

” کیونکہ حکومت شیروں کے ہاتھوں سے پھسل چکی تھی۔ اور وہ فرقوں میں بٹ چکے تھے

 ” شیر کیسے حکومت چھور سکتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے۔“

  یہ ایک بوڑھا کتا تھا جس کے سامنے جنگل کے بہت سارے نونہال اور جوان جانور بیٹھے تھے ۔ کتا کہانی سنا رہا تھا اوروہ بڑے انہماک سے اس کی کہانی سن کر حیران ہورہے تھے۔ ان میں سے کچھ جوان جانوربڑی بے یقینی کے ساتھ بوڑھے کتے کو تک رہے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ زیادہ سننے والے تمسخراڑانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہے ہیں تو اس نے اپنی سامنے والی ٹانگیں آگے کر دیں، اپنی تھوتھنی پنجوں پر رکھ دی اور آنکھ موند لیں ۔ نونہالوں کے چہروں پر بے چینی رقصاں ہوگئی۔ وہ یہ پوری کہانی سننا چاہتے تھے۔ لیکن بوڑھا کتا غصے میں اپنی آنکھیں بند کر چکا تھا۔ نونہال ، جوان جانوروں کی ملامت کرنے لگے جو کتے کا مذاق اڑا رہے تھے۔ وہ بوڑھے کتے کی منت سماجت کرنے لگے لیکن کتا کچھ نہ بولا ۔ پھر جب چھوٹے چھوٹے بچوں نے اسے تنگ کرنا شروع کیا تو اس نے دور بیٹھے جگالی کرتے ہاتھی کی طرف اشارہ کیا ۔

 ” مجھ سے زیادہ ہاتھی کو پتا ہے۔ آگے کی کہانی اسی سے سن لو۔ “ جو شوقین تھے انہوں نے ڈھیر ساری گاس اکھٹی کر لی اور ہاتھی کے سامنے ڈال دی اور خود اس کے سامنے بیٹھ کر اسے آگے کی کہانی سنانے کے لئے اسرار کرنے لگے۔ ہاتھی نے ان سے وہاں تک کی کہانی سنی جو انہوں نے کتے سے سنی تھی۔ کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے ہاتھی گویا ہوا ۔

 صاف وشفاف پانی سے لبالب مست ندی جنگل کے بیچوں بیچ گذر رہی تھی۔ ندی کے دونوں کناروں پر خوبصورت پھولوں سے بھری ڈالیاں تھیں ۔ شفاف پانی اچھلتا مچلتا کناروں سے ٹکراتا تھا۔ اور پانی کے قطرے موتیوں کی طرح اچھل اچھل کر پھولوں کی ڈالیاں تر کر رہے تھے۔ دور دور سے آرہی رنگ برنگی تتلیاں ڈالیوں میں مست مست اٹھکیلیاں کرتی، نرم و نازک پر ہلاتی اور پھولوں کو چھو کر نکل جاتی تھیں۔ خرگوش، گلہریاںاور چھوٹے چھوٹے جانور دوڑیں لگا رہے تھے۔ چڑیاں ، کوئل ، مینا ہر صبح ندی کے کنارے پیڑوں پر بیٹھ کر چہچہارہی تھیں۔ ندی کے پانی کا شور ، پرندوں کی چہچہاہٹ ، ہوا کی تال پر پھڑپھڑاتے درختوں کے پتے سماں باندھ دیتے تھے۔ اور سارے ارد گرد کو مہکاتے تھے۔ جنگل میں شیر ، بھیڑیئے، لومڑی، ہرن ، گائے ، بکری ، بھیڑاور دوسرے چرند پرند ایک ساتھ خوشی خوشی رہتے تھے۔اور ایک دوسرے کا خیال بھی رکھتے تھے۔ بلاوجہ کوئی ہنگامہ کوئی شور شرابا نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کسی وجہ سے دو گرہوں میں جھگڑا ہو بھی جاتا تھا تو زیادہ دیر تک تنا نہیں رہتا تھا۔ کوئی نہ کوئی بیچ بچا کرنے آہی جاتا تھا۔ کیوں کہ سبھی جانتے تھے کہ بات بادشاہ شیر تک جائے گی تو وہاں معمولی غلطی بھی معاف نہیں کی جاتی تھی۔ سارے جنگل میں شیربادشاہوں کا دبدبہ صدیوں سے قائم تھا۔

  اب کی بار جنگل کا راجہ ایک سیکولر شیر بنا۔ وہ شیر خونخوار بھی نہیں تھا۔ اس کے دل میں اپنی رعایا کا بڑا خیال رہتا تھا۔وہ بلاوجہ کسی کو تنگ نہین کرتا تھا۔ اور نہ ہی کسی کو یہ حق دیتا تھاکہ وہ دوسرے پر ظلم و زیادتی کرے۔راجہ نے آہستہ آہستہ اپنی رعایاکو بہت سارے حقوق منتقل کرنے شروع کردئے۔ بھیڑیئے جو شیر سے ڈرے ڈرے رہتے تھے اور اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے ، ان کو شیر کی بیٹھک میں بیٹھنے کا موقعہ نصیب ہورہا تھا۔ لومڑیاںجو چالاکی اور مکاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں انہیں کچھ زیادہ ہی اپنے کرتب دکھانے کا موقعہ مل رہا تھا۔ کتے جو ہر زمانے کے وفادار تھے ،آج بھی راجہ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لیکن ہرن، گائے، بکری، بھیڑ کے مشکلات کم نہیں ہوئے بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوا ۔ ان پر کبھی بھی کوئی بھی حملہ آور ہوجاتا تھا۔ پہلے بھی انہیں بے دردی سے کاٹا جاتا تھا۔ آج بھی ان کا حال بہتر نہیں تھا۔ وہ صرف شیر کو جنگل کا راجہ مانتے تھے اور اسی کو شکار کھیلنے کا مجاز بھی سمجھتے تھے۔ لیکن اب کوئی بھی ان پر حملہ کرتا تھا اور وہ کسی کے سامنے شکایت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اب سبھی مانس کھانے والے جانور ایک ساتھ مل چکے تھے اور وہ ایک ساتھ شکار بھی کرتے تھے۔ راجہ کا سیکولر ہونے میں گاس کھانے والے جانوروں کا کوئی فایدہ نہیں ہوا تھا۔

  آہستہ آہستہ جنگل کی حکومت شیر کے خاندان سے پھسلتی چلی گئی۔ اب جمہور کا زمانہ تھا۔ کوئی بھی راجہ بن سکتا تھا۔ ۔۔ لیکن شیر کے خاندان کی اب بھی سبھی عزت کرتے تھے۔ اور ابھی بھی ان کے وفادار بنے تھے۔ سیکولر شیر نے جب جنگل کی حکومت چھوڑ دی تھی اس وقت اس نے رقعت آمیز تقریر کی تھی۔شیر وں کے ظلم کی دہائی دی۔ صدیوں سے قائم جنگل پر ان کی زبردستی حکومت کو غیر جمہوری کہا۔ قوم کو شیر کے پنجوں سے آزادی دلادی ۔ اب سارے جنگل واسی آزاد تھے اور وہ اب کسی کو بھی اپنا بادشاہ چن سکتے تھے۔ لیکن ساتھ ہی تمام جنگل واسیوں کو یہ بھی نصحیت کی تھی کہ وہ چاہئے کتے بھیڑیئے کو جنگل کا راجہ بنا دیں، گائے بکری کو حکومت سونپ دیں، لیکن لومڑی کو کبھی بھی اپنا حاکم نہ بنالیں ۔۔۔ ویسے بھی جنگل کے سارے چرند پرند لومڑیوں کی چترتا اور لالچ سے واقف تھے۔ وہ بھی لومڑیوں کی مکاری اور چالاکی کی وجہ سے ان کو حکومت سے دور ہی رکھنا چاہتے تھے۔ اور اگرچہ لومڑیوں کو حکومت تو نہیں ملی لیکن یہ ہمیشہ حکومت کے قریب رہتی تھیں۔ اور اپنی چالاکی سے ہر راجہ کے مشورے میں شامل بھی رہتی تھیں۔ لیکن بڑی خاموشی کے ساتھ پرجا کو بانٹ بھی رہی تھیں۔ یہ خود کو شاکاہر ی ظاہر کرتی تھیں لیکن شوق سے گائے بھینس کا شکار کرتی تھیں اور بڑے پیمانے پر مانس کا کاروبار بھی کرتی تھیں۔ جنگل کے گھاس کھانے والے جانور بار بار ان کے جھانسے میں آجاتے تھے۔ اور گوشت کھانے والوں سے یہ اپنی ہمدردی جتاتی تھیں۔ لومڑی ہر حال میں جنگل کے چرند پرند کو بانٹنے کا کام پہلے پہل چوری چھپے کرتی تھیں۔ اور پھر کھلم کھلا کرنے لگیں۔ جب ان میں طاقت آگئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک ایک جاتی پر دعوا بول دیا جائے۔ وہ شیرکو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی تھیں۔ لیکن ان کو نہ چھیڑنے کا فیصلہ بھی کرلیاتھا۔ کیونکہ داناں نے ان سے کہہ دیاتھا کہ شیر ابھی ابھی حکومت سے دست بردار ہوئے ہیں۔ ابھی راجہ مہاراجاں کا تازہ خون ان کی شریانوں میں دوڑ رہا ہے۔ کہیں انہوں نے واپسی حملہ کیا تو بنا بنایا کھیل پھر سے بگڑ جائے گا۔ اس لئے انہوں نے سب سے پہلے کتوں پر حملہ بول دیا۔ ایک تو یہ کسی حد تک شریف جانور تھا اور دوسرا اس میں وفاداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اور ایک بات یہ بھی تھی کہ کتا شیر کے قریب تھا اور اس کا وفادار بھی۔ پھر بھیڑوں کی بھاری آئی۔ اسی طرح لومڑیوں نے پہلے سارے جنگل کے واسیوں کو الگ الگ بانٹ کر رکھ دیا ۔ پھر ایک ایک کرکے اپنے بلوائیوں سے ختم کرایا۔ کوئی بچا بھی تو وہ دم دبا کر لومڑیوں کی خدمت میں لگ گیا۔ اب ان کا ایک ہی طاقتور دشمن بچا تھا اور وہ تھا شیر۔ لیکن لومڑیوں کو یہ ڈر ستا رہا تھا کہ کیا پتا کبھی ایک جھٹ ہوگئے، آخر ہیں تو شیر ہی ۔ حالانکہ شیربھی بکھر چکے تھے۔ حکومت سے بے دخلی کے بعد ان کا اتحاد بھی ٹوٹ چکا تھا۔ ۔۔ اب یہاں بھی لومڑیوں کی گنانی چال کامیاب رہی ۔ انہوں نے شیروں کو بھی آپس میں بانٹنے پر کام شروع کیا۔ شیر کی ساری جاتیوں کو بانٹنے کے ساتھ ساتھ ان کو رنگ، نسل اورلب ولہجے کے آھار پر بھی حصے کر دیئے تھے۔ شیروں کی سب سے کمزور جاتی بلی کی مدد کرتے رہے اور ان کو ساری شیر کومنٹی کا امام بنا دیا۔ بلیاں آئے روز فتوے جاری کرتی رہتی تھیں۔ ببر شیروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگی تھیں اور انہیں کافر تک کہہ دیتی تھیں۔ وہ مذہب اور اخلاق کے پرچار میں شیروں کو ناستک۔ چیتا کو دہشت گرد۔ اور تیندوے کو لومڑیوں کا دشمن مشتہر کر چکی تھیں۔

   آخر وہ دن بھی آہی گیا جب جنگل کے چاروں اورصرف لومڑیوں کے چرچے ہورہے تھے۔ اور سبھی جاتیوں پر ان کا اثر بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ اکثر جنگل میں کوئی فساد کرواتی تھیں اور الزام شیروں پر لگاتی تھیں۔ بلیوں سے ان کے خلاف فتوے جاری کرواتی تھیں۔ ایک ایک شیر کو تنہا کرکے، اس کو کسی جرم میں پھنسا کر کسی بھی بہانے اس کا شکار بھی کرواتی تھیں۔ لیکن جب انہیں کہیں سے اس بات کی بھنک بھی لگ جاتی تھی کہ شیر متحد ہورہے ہیں تو ان کے ساتھ دوستی کا ناٹک کرتی تھیں ۔ شیروں کو اعتماد میں لیتی تھیں۔ لیکن ان کی پیٹھ پیچھے ان کو گرانے کے لئے گڑھا بھی کھدوا دیتی تھیں۔ لومڑیوں اور شیروں کے بیچ یہ آنکھ مچول کا کھیل کئی سال تک چلتا رہا۔ لیکن اس دوران جانوروں میں اثررکھنے والے شیر ختم ہوچکے تھے۔لومڑیوں نے شیروں کا جینا دوبھر بنا دیا تھا۔ اور شیر بھی دبتے چلے جا رہے تھے۔ شیر لومڑیوں سے دور کونوں کھدروں میں چھپ رہے تھے ۔ کچھ دوسرے جنگلوں کا رخ کر رہے تھے۔

  شیروں کو دبانے اور ان کے اتحاد کو تار تار کرکے بکھرا دینے کے بعد لومڑیاں خود کو جنگل کا راجہ سمجھ رہی تھیں۔ اب وہ ایک ایک کرکے اپنی پرجا کی چیر پھاڑ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ باقی جاتیاں لومڑیوں سے دور ہوتی گئیں۔ اور جنگل پر اب صرف لومڑیوں کا راج تھا۔ اب جنگل میں جو کھیل شروع ہوا تھا وہ دیکھنے کے قابل تھا۔ لومڑیاں جب حکومت میں آگئیں تو راج پاٹھ چلانے کے سارے گن بھی سیکھ چکی تھیں۔ باقی دنیا میںمانس اور چمڑے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں اس لئے لومڑیوں نے بڑی چالاکی کے ساتھ گائے ، ہرن، بکری ، بھیڑ کا سفایا کرنا شروع کر دیا۔اور ان کا مانس، چمڑہ یہاں تک کہ ان کی ہڈیاںتک بازاروں میں بھیجنی شروع کر دی۔ پھر راج پاٹ میں آئی لومڑیاں پرجا میں پھنسی لومڑیوں کی جان کی دشمن بن گئی۔کمزور لومڑیوں کے سا تھ پرجا کی طرح برا سلوک کیا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے راج پاٹ والوں نے پرجا کو جاتیوں میں بانٹ دیا۔ کسی کو پچھڑی ذات، نیچ، چمار اور چنڈال کے لیبل چسپاں کر دئے اور ان پر یہ پابندیاں لگا دی کہ نہ وہ راج محل میں آسکتی ہیں اور نہ ہی ان کو کسی عبادت گھر میں آنے جانے کی اجازت ہوگی ۔۔۔

 اب صدیوںسے وہاں کے چرند پرند ، دلت لومڑیاں۔ بچے کھچے بھیڑیئے، کتے ، گائے ہرن دعا مانگ رہے ہیں کہ جنگل میں پھر وہی زمانہ لوٹ آئے ۔ شیرپھر سے جنگل کا راجہ بن جائے۔ لیکن شیر ۔۔۔ وہ فرقوں میں بٹے ہیں۔اور کافر کافر کھیل کھیل رہے ہیں۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جامین۔۔۔شکیل احمد چوہان

جامین شکیل احمد چوہان کئی سال پہلے کی بات ہے، شکرگڑھ کے نواحی گاو¿ں سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے