سر ورق / افسانہ / رشتہ…اقبال حسن آزاد

رشتہ…اقبال حسن آزاد

رشتہ

اقبال حسن آزاد

                ”اگر کوئی پوچھے کہ میرا تم سے کیا رشتہ ہے تو کہنا کہ وہی جو پھول کا خوشبو سے،بادل کا بارش سے ،گیت کا سنگیت سے اور چاند کا رات سے ہے۔وہی….وہی ….جو ہوا کا سانسوں سے اور دل کا دھڑکن سے ہے۔اگر ہم کسی سماجی اور مذہبی بندھن میں نہیں بندھے تو کیا ہوا،ہماری آتمائیں تو ایک ہیں نا!ہمارے خیالات، احساسات و جذبات سب ایک ہیں۔میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک پل بھی نہیں جی سکتے ۔ اور پھر یہ پوچھنے والے ہوتے کون ہیں کہ تمہارا مجھ سے کیا رشتہ ہے۔“

                عامر سر جھکائے خاموشی کے ساتھ شہناز کی باتیں سنتا رہا۔ اس کی انگلیاں مسلسل کافی کی خالی پیالی سے کھیل رہی تھیں۔کیفے کے نیم تاریک، نیم رومانی کیبن میں بیٹھے بیٹھے دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہے۔پھر اچانک عامر اُٹھ کھڑا ہوا۔

                ”چلو، چلتے ہیں۔ کافی دیر ہو چکی ہے۔“شہناز نے اس کی بات سن کر اپنا بڑا سا پرس اُٹھایا اور کرسی چھوڑ کر کھڑی ہو گئی۔

                دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے اور دونوں نے تعلیم بھی ایک ہی اسکول میں حاصل کی تھی لیکن پہلے ان کی ملاقات کبھی نہیں ہو پائی تھی۔ عامر اس سے دو سال سینئر تھا اور اسکول کی تعلیم ختم کرنے بعد دہلی چلا گیا تھا۔نئی نئی جوانی کا خمار تھا۔ باپ سے ضد کر کے اس نے ایک اسمارٹ موبائل لے لیا تھا۔ اس کے بعد فیس بک اور وھاٹس ایپ سے شناسائی ہوئی۔ پلس ٹو کرنے کے بعد جب اس کا داخلہ ایک انجینئرنگ کالج میں ہو گیا تو مانو اس کے پنکھ کو پرواز مل گئی۔ انہی دنوں فیس بک پر اس کی ملاقات شہناز سے ہوئی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ جب انہوں نے ایک دوسرے کے سامنے اپنی زندگی کے اوراق اُلٹنے شروع کیے تب معلوم ہوا کہ دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے ہیں۔اس انکشاف کے بعد وہ اور بھی قریب ہو گئے اور جیسے ہی عامر کے کالج میں چھٹیاں ہوئیں وہ فوراً اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے والد صاحب ایک مڈل اسکول میں ٹیچر تھے۔والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ عامر سے بڑی دو کنواری بہنیں تھیں۔ دو چھوٹے بھائی بھی تھے۔ بہنیں تعلیم ختم کر چکنے کے بعد بَر کی تلاش میں بیٹھی تھیں اور بھائی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ والدین کی نظر میں وہ ایک ایسا درخت تھا جو جلد ہی پھل دینے والا تھا ۔ گرچہ گھر بہت تنگی و تُرشی کے ساتھ چل رہا تھا پھر بھی وہ جی جان سے اس کی پرورش و پرداخت میں لگے ہوئے تھے اور کھاد اور پانی کی کمی ہونے نہیں دیتے تھے ۔انہیں کیا معلوم تھا کہ اس کے پھلوں کو کسی اور کی نظر لگ گئی ہے۔

                شہناز سے اس کی پہلی ملاقات بوٹانیکل گارڈن میں ہوئی۔ فیس بک پر دونوں ایک دوسرے کی تصویریں دیکھ ہی چکے تھے مگر کسی خوشنما شے کا عکس دیکھنے اور اس چیز کو کھلی کھلی آنکھوں سے دیکھنے میں جو فرق ہوتا ہے وہی دونوں نے محسوس کیا۔ عامر لمبے چوڑے قد کاٹھ کا ایک خوبرو نو جوان تھا۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی تھی اور سرخ شرٹ اور بلو جینز میں وہ کوئی ماڈل دکھائی دے رہا تھا۔ شہناز گوری ناری ،نازک سی ایک دلکش لڑکی تھی جس نے جینز کے اوپر ٹاپ پہن رکھا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر پہلے پہلے تو ذرا ٹھٹکے، جھجھکے پھر ایک دوسرے کے قریب آگئے۔

                ملاقاتوں کا یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا۔ شہناز کے والد کسی بینک میں کلرک تھے اور والدہ پرائمری اسکول کی ٹیچر تھیں۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی لہذا زیادہ لاڈ پیار نے ا سے قدرے بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنے آگے کسی کو کچھ سمجھتی ہی نہیں تھی۔ عامر کی قربت نے اسے اور بھی شوخ کر دیا تھا۔ ایک روز وہ اچانک اس کے گھر پہنچ گئی۔ عامر اسے دیکھ کر گڑبڑا گیا۔ مگر اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ سبھوں سے اپنا تعارف کرایا اور فِری ہونے کی کوشش کرتی رہی۔ عامر کو محسوس ہوا کہ اس کے گھر والوں نے شہناز کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ اسی رات عامر نے اسے میسج کر کے آئندہ اسے اپنے گھر آنے سے منع کر دیا۔ شہناز اس کی بات سن کر خفا ہو گئی اور لگاتار دو دنوں تک اس نے عامر کی کوئی کال ریسیو کی اور نہ ہی اس کے کسی میسج کا جواب دیا۔ عامر کے لیے یہ دو دن دو صدی کے برابر تھے۔کہتے ہیں کہ ایک مرد کے جسم میں ستّر ہزار نسیں ہوتی ہیں اور کون سی نس کب دبانی ہے یہ صرف ایک عورت ہی جانتی ہے۔عامر کی تو گویا جان ہی نکل گئی۔ وہ کال پہ کال کرتا رہا ،میسیج پہ میسیج بھیجتا رہا،معافیاں مانگتا رہا لیکن شہناز کو نہ پسیجنا تھا نہ پسیجی۔ یہاں تک کہ عامر کی روانگی کا دن آ گیا اور وہ بجھے ہوئے دل کے ساتھ دلّی روانہ ہو گیا۔وہاں پہ کئی روز بے کلی میں گزرے ۔آخر ایک دن شہناز کا میسیج آ ہی گیا۔

”I was just kidding.”    

                عامر کو پہلے تو غصہ آیا….بہت غصہ آیا۔ اس نے بھی سوچا ،چلو میں بھی کچھ روز مذاق کر لوں۔چُپ ہوجاو ¿ں۔ نہ کوئی کال ریسیو کروں نہ کسی میسیج کا جواب دوں۔ مگر مرد اس معاملے میں خاصا کمزور واقع ہوا ہے۔چند روز تو کیا وہ چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر سکا اور شہناز کو جوابی میسیج بھیج دیا۔ سارے گِلے شکوے دور ہو گئے اور پھر وہی شب و روز تھے اور وہی عاشق و معشوق۔

                شہناز نے پلس ٹو کرنے کے بعد دلی جانے کی ضد باندھ لی۔ گرچہ اس کے والدین اکلوتی بیٹی کو اپنی نظروں سے دور کرنا نہیں چاہ رہے تھے لیکن اس کی ضد کے آگے انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح اس کا داخلہ بھی اسی انجینیئرنگ کالج میں ہو گیا جہاں عامر زیر تعلیم تھا۔عامر ایک لاج میں رہتا تھا۔ شہناز کی رہائش کا انتظام ایک پرائیویٹ گرلس ہوسٹل میں ہو گیا۔ ایک ہی کالج ہونے کی وجہ سے دو نوں کی چمن دل میں خوشیوں کے پھول کھِل اُٹھے۔ راوی عیش ہی عیش لکھتا تھا۔ ہر دن عید اور ہر رات شب برات تھی۔راز و نیاز اور وعدے وعید کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔دو سال کیسے ہنستے کھیلتے گزر گئے پتا ہی نہ چلا۔ عامر کا کالج میں آخری سال تھا کہ اس کا کیمپس سیلیکشن ہو گیا۔ اب تو ان دونوں کے خوابوں کی تعبیر گویا سامنے کھڑی تھی۔ شہناز بھی اب کلی سے کھل کر پھول بن چکی تھی۔زلفیں گویا زنجیریں تھیں کہ جن میں عامر گرفتار تھا۔آنکھیں کیا تھیں گویا شراب کے پیالے تھے جن کا نشہ ایسا چڑھا تھا ایسا چڑھا تھا کہ اُترنے کا نام نہ لیتا تھا۔گال دو گلاب تھے کہ جن کی خوشبو نے مشام جاں کو معطر کر رکھا تھا۔بھرے بھرے سُرخ ہونٹ ہمہ وقت دعوت گناہ دیتے نظر آتے اور اُس کی شہوت انگیز آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔وہ ایک ایسا شہزادہ تھا جسے کسی پری نے قید کر رکھا تھااور اس نے یہ قید صدق دل سے قبول کر لی تھی۔ وہ اس کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔شہناز نے کئی دفعہ حد سے بڑھنے کی کوشش بھی کی لیکن عامر ہر بار پیچھے ہٹ جاتا۔ی شایدکوئی غیبی طاقت اسے یہ غلط قدم اُٹھانے سے روک دیتی۔لیکن اس کے قدم کھینچ لینے سے شہناز کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔اس نے فیس بک پر دونوں کی بے حجابانہ تصویریں ڈالنی شروع کر دیںاوریہ اعلان کر دیا کہ عامر اس کی پہلی اور آخری محبت ہے۔فیس بک پر کی گئی گل افشانیاں جب عامر کے گھر والوں کو معلوم ہوئیں تو وہ کافی متردد اور متفکر دکھائی دینے لگے۔اس کی بڑی بہنوں سے لوگ پوچھنے لگے کہ یہ لڑکی کون ہے اور عامر سے اس کا کیا رشتہ ہے؟ انہوں نے عامر سے فون پر استفسار کیا تو اس نے یوں ہی روا روی میں کہہ دیا کہ کوئی خاص بات نہیں۔ اپنے شہر کی لڑکی ہے۔ آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ ایک بار وہ ہمارے گھر بھی آئی تھی۔ آجکل وہ یہیں ہے اور میرے ہی کالج میں پڑھتی ہے۔کہنے کو تو اس نے یہ سب کچھ کہہ دیا لیکن اندر ایک بے چینی سی پیدا ہونے لگی۔ اس نے بارہا شہناز کو فیس بک پر تصویریں ڈالنے کے لیے منع کیا تھا مگر وہ کب سننے والی تھی، آخر یہ سوال پھن کاڑھ کر سامنے آ ہی گیا کہ وہ میری کون لگتی ہے؟ اس سے میرا کیا رشتہ ہے؟؟ اور جب اس نے یہ بات شہناز کو کہی تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

                ”اگر کوئی پوچھے کہ میرا تم سے کیا رشتہ ہے تو کہنا کہ وہی جو پھول کا خوشبو سے،بادل کا بارش سے ،گیت کا سنگیت سے اور چاند کا رات سے ہے۔وہی….وہی ….جو ہوا کا سانسوں سے اور دل کا دھڑکن سے ہے۔اگر ہم کسی سماجی اور مذہبی بندھن میں نہیں بندھے تو کیا ہوا،ہماری آتمائیں تو ایک ہیں نا!ہمارے خیالات، احساسات و جذبات سب ایک ہیں۔میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک پل بھی نہیں جی سکتے ۔ اور پھر یہ پوچھنے والے ہوتے کون ہیں کہ تمہارا مجھ سے کیا رشتہ ہے۔“

                پھر شہناز نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔

                ”ہم لوگ جلد ہی رشتہءازدواج میں بندھنے والے ہیں۔“

                عامر اس اچانک حملے سے گھبرا گیا۔

                ”یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟ شادی ؟؟ اتنی جلدی؟؟؟ نہیں نہیں۔ ابھی میری دو بڑی بہنیں گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ چھوٹے بھائی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ابھی میرے سر پر بہت سارے کام ہیں۔“

                اس کی بات سُن کر شہناز بپھر اُٹھی۔

                ”بہنوں کی شادی کرنا اور بھائیوں کو تعلیم دلانا تمہارا نہیں تمہارے والدین کا کام ہے۔کیا تمہارے بھروسے پر انہوں نے اتنے سارے بچوں کو پیدا کیا تھا؟تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے اور نوکری ملتے ہی کرنی ہے۔“عامر ہکّا بکّا سا ہو کر اسے دیکھتا رہا۔ اس وقت وہ کسی شیرنی طرح معلوم ہو رہی تھی۔ وہ اسے کچھ عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے بدلتے ہوئے تیور کو دیکھ وہ ذرا نرم پڑی اور اس کے گلے میں اپنی مر مریں بانہیں ڈال کر ہولے سے مسکرائی۔

                ”تم کیوں ٹینشن لیتے ہو۔ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا ہے۔ تمہاری بہنوں کی شادی بھی ہو جائے گی اور بھائی بھی پڑھ لکھ لیں گے لیکن اس سے پہلے ہم دونوں….“

                عامر ایک نئی کشمکش کا شکار ہو گیا۔اس نے شہناز سے محبت کی تھی۔ ٹوٹ کر اسے چاہا تھا۔ وہ اس کے لیے محرّک کا کام کرتی رہی تھی۔ قدم قدم پر اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہی تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ اب تک ساری کامیابیاں اسی کے طفیل سے ملی ہیں لیکن وہ اتنی جلد شادی کے بندھن میں بندھنا نہیں چاہتا تھا۔شہناز تو اپنا فیصلہ سنا کر چلی گئی اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ رہا۔

                کئی روز یونہی گزر گئے۔

                شہناز اُسے قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

                ”دیکھو عامر! یہ ہم دونوں کی زندگیوں کا سوال ہے۔دنیا ایسے ہی چلتی ہے۔ پُرانے پتّے جھڑتے جاتے ہیں،نئی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں۔تم تو بر سر روزگار ہونے جا ہی رہے ہو، میں بھی اپنی تعلیم مکمل کر کے کسی جاب سے لگ جاو ¿ں گی۔میرے ممی پاپا نے میرے نام کافی رقم جمع کر رکھی ہے۔ یہیں دلی میں فلیٹ لے کر رہیں گے۔شادی کے بعد تم اپنے گھر والوں کی جو مدد کرنا چاہو کرنا مگر پہلے مجھ سے شادی کرنی ہو گی۔“

                عامر کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا تو اس نے اس کے میں اپنی گداز بانہیں ڈال کر اسے اپنی جانب کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے گیلے ہونٹ ثبت کر دیئے۔عامر کو اپنا آپ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔اسے اپنے کہے گئے الفاظ کھوکھلے اور بے جان سے لگنے لگے۔شہناز نے ایک بار پھر اُس کی نس دبا دی تھی۔عامر کو ڈھیلا پڑتے دیکھ کر اس نے اسے سمجھانا شروع کیا۔

                ”میں نے ممی پاپا سے بات کر لی ہے۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تم اگر چاہو تو اپنے گھر والوں کو اس کی اطلاع دے دو۔“عامر اب تک کچھ سنبھل چکا تھا ۔وہ دھیرے سے بولا۔

                ”ایسے نہیں۔ مجھے گھر جانا ہو گا۔اپنے بڑوں سے اجازت لینی ہوگی۔“

                ”اور اگر اجازت نہ ملی تو؟“شہنا زنے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو اس کی آنکھوں میں ڈال کر پوچھا۔اس ”تو “ کا عامر کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔لیکن شہناز کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

                عامر کئی دنوں تک سوچتا رہا۔ شہناز روز اسے ذہنی طور پر تیار کرنے کی کوششیں کرتی رہی ۔آخر ایک دن عامر نے گھر جانے کا پروگرام بنا ہی لیا لیکن اس نے اس کی خبر اپنے گھر والوں کو نہیں دی۔اس نے سامان سفر باندھا اور دوسرے ہی روز گھر کے لیے روانہ ہو گیا۔ راستے بھر اس کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑکتا رہا۔ ایک چور اس کے دل میں بیٹھا ہوا تھا۔چور کا دل کمزور ہوتا ہے۔ ذرا سی آہٹ پر دھڑک اُٹھتا ہے۔اس کا دل بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ خدا خدا کر کے وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ پورے گھر پر ایک عجیب سا سنّاٹا پھیلا ہوا تھا۔ لگتا تھا جیسے کوئی میّت ہو گئی ہو۔ وہ دبے قدموں سے گھر کے اندر داخل ہوا۔بڑی بہن آنگن میں بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی۔ دوسری دالان میں چولہے کے پاس کھانا بنا رہی تھی اور امّی دالان میں بچھی چوکی پر آنکھیں بند کیے لیٹی تھیں۔ ابّا اور چھوٹے بھائی کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔آہٹ پاکر بہنوں نے مُڑ کر اس کی جانب دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی کی ایک چمک سی لہرائی اور وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کی جانب لپکیں۔

                ”ارے! اچانک کیسے آنا ہوا؟ فون تو کر دیتے۔“اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔وہ صرف اتنا کہہ سکا۔

                ”امّی سو رہی ہیں کیا؟ اُن کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“

                ”نہیں۔کئی دنوں سے نڈھال ہیں۔ کھانا پینا بھی بہت کم کر دیا ہے۔“

                ”مجھے کیوں نہ خبر کیا؟“

                ”امّی نے منع کر رکھا تھا۔ کہہ رہی تھیں کہ بے چارا خواہمخواہ پریشان ہو جائے گا۔“اس کا دل بھر آیا ۔بیگ کونیچے رکھ کر وہ امّی کے پائتانے بیٹھ گیا۔پُرانی چوکی کے اندرون سے ایک آہ سی نکلی اور امّی نے آنکھیں کھول دیں۔ سامنے بیٹے کو دیکھ کر آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے اور ہونٹ کپکپانے لگے۔ایک جھرّیوں بھراکپکپاتا ہاتھ ہوا میں اُٹھا۔ اس نے فوراً اسے تھام لیا۔بوڑھے لبوں سے ایک لرزیدہ آواز نکلی۔

                ”کیسے ہو عامر؟ بہت دُبلے ہو گئے ہو۔“ اس نے امّی کو ایسا دیکھا جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔اس نے تو کبھی غور ہی نہیں کیا کہ امّی اتنی بوڑھی ہو گئی ہیں۔پہلے وہ کتنی خوبصورت ہوا کرتی تھیں۔ سرخ شہابی چہرے پر دو ستارہ جیسی آنکھیں۔اسے پاو ¿ں پاو ¿ں چلنا سکھاتے ہوئے دو مضبوط ہاتھ۔اسے سینے سے لگاتے ہوئے وہ ممتا بھری چھاتی جس کی چھتر چھایا میں وہ خود کو ہر طرح سے محفوظ و مامون پاتا تھا۔اس کی آنکھیں ڈبڈبا اُٹھیں۔وہ وہ امّی کے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔بہنوں نے اپنے دوپٹّے سے اس کے آنسو پونچھے اور اسے کاندھوں سے پکڑ کر اُٹھایا۔ طبیعت ذرا سنبھلی تو اس نے کپڑے تبدیل کئے۔ منہ ہاتھ دھویا اورکپڑے تبدیل کیے اور پھر امّی کے قریب

 آ بیٹھا۔اس اثنا میں اس کے لیے ناشتہ تیار کر لیا گیا تھا۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ چائے پی رہا تھا کہ ابّا اور چھوٹے بھائی بھی آ گئے۔اسے دیکھ کر سبھوں کے چہرے خوشی سے دمک اُٹھے۔اسے لگا جیسے وہ کوئی صبح کا بھولا تھا جو شام کو گھر لوٹ آیا ہے۔ 

                اس رات نے اس نے شہناز کو میسیج کیا۔

                ” بے شک تم سے میرا وہی جو رشتہ ہے جوپھول کا خوشبو سے،بادل کا بارش سے ،گیت کا سنگیت سے اور چاند کا رات سے ہے۔وہی….وہی ….جو ہوا کا سانسوں سے اور دل کا دھڑکن سے ہے۔لیکن…. میرا میرے گھر والوں سے وہی رشتہ ہے جو گوشت اور ناخن کا ہوتا ہے۔“

٭٭٭

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جامین۔۔۔شکیل احمد چوہان

جامین شکیل احمد چوہان کئی سال پہلے کی بات ہے، شکرگڑھ کے نواحی گاو¿ں سے …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    شکریہ بھائی امجد جاوید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے