سر ورق / Uncategorized / اے سیّد لولاک ﷺ …امین ساجد سعیدی … امجد جاوید

اے سیّد لولاک ﷺ …امین ساجد سعیدی … امجد جاوید

               

اے سیّد لولاک ﷺ

                امین ساجد سعیدی

امجد جاوید

محترم امین ساجد سعیدی کا نعتیہ مجموعہ….نام پڑھتے ہی بہت بچپن میں ایک میلاد پاک کی محفل میں سنا جملہ یاد آ گیا۔ پتہ نہیں کس نے کہا ،لیکن یادوں میں محفوظ ہے ۔ وہ شاید کچھ یوں تھا کہ جب تھا …. تھا نہ تھا …. تو میرا آقا تھا …. میں یوں کہوں گا ، جب تھا تھا نہ تھا تو میرے آ قاتھے

                اور اس میں کوئی شک نہیں ، اگر وجہ تخلیق کائنات نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ نہ کن فیکون ہوتا ، نہ الست بربکم ہوتا ،

                کہتے ہیں کہ شاعری کیفیات کے اظہار کا نام ہے ، تاہم میں کہتا ہوں نعت رسول ﷺ کہنا عقیدتوں اور شکر گزاری کا اظہار ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مدحت رسول ﷺ دراصل شفقت رسول ہی کا مظہرہے ۔ مبارک باد کے مستحق ہیں ، جناب محمد امین ساجد سعیدی ، جو مسلسل مدحت میں مصروف ہیں ۔ میں اس پر انہی کا ایک شعر پڑھ کر اپنے جذبات کی ترجمانی کرنا چاہوں گا کہ ….

شکر کیسے کرے ساجد ِ بے نوا، لب پہ صلی علی

ہے رواں نعت لکھنے میں اس کا قلم ، آپ کا ہے کرم

ایک دوسری جگہ ساجد کہتے ہیں

ساجد کہاں قابل تھا مگر آپ نے اس کے

الفاظ کو ہے نعت میں ڈھالا، شہہ والا

آپ کی نعت کہنے کا پایا شرف

کیا یہ احساں ہے کم ، یا نبی ﷺ محترم

                مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں محترم امین ساجد سعیدی کے نعتیہ مجموعہ پر مقالہ تحریر کروں ۔ اس پر میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ تو کجا من کجا ، میں ایسے لفظ کہاں سے لاں جو اشکوں سے دھلے ہوئے ہوں ، میں ایسے جذبات کہاں سے لاں جو رات کے پچھلے پہر رب تعالی کے حضور سر بہ سجود ہونے کے وقت ہوتے ہیں ، میں ایسا حوصلہ کہاں سے لاں ، کہ وجہ تخلیق کائنات کے لئے لفظوں کا انتخاب کر سکوں ۔ میں ایسا پاک و صاف من کہاں سے لاں کہ بقول شاعر میری نطق نے بوسے میری زباں کے لئے ،آب زم زم میں دھلے احساسات کہاں سے لاں کہ جو وجد کی پنہائیوں سے موتی دان کر دیں ۔ میں راہِ مدینہ کی خاک سے بھی کم تر ، میں بے نوا ، میں عجمی ، میںکچھ بھی نہیں۔میں تو رشک کرتا ہوں ، محترم امین ساجد سعیدی جیسے احباب پر ، جو مدحت رسول میں اپنا آپ وقف کر چکے ہیں ۔

                مگر حکم ہے ….تو چند اشعار پر اپنی کیفیات کا اظہار کر دینے ہی سے سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔

یہ ہم ہی نہیں ، فطرت بھی مان گئی ہے کہ رب تعالی ہی وہ واحد ہستی ہے ، جو اس سارے معلوم اور نامعلوم زماں و مکاں کی خالق ہستی ہے ۔وہ مالک و مختار و قادر ہے ۔یہ میرے آ قا ﷺ کی شان ہے کہ اللہ واحد لا شریک ….وجہ تخلیق کائنات سے فرماتے ہیں کہ قل ہو اللہ احد…. میرے اور آپ کے آقا نے فرمادیا کہ یہ وہی احد رب ہے ، جو معبود ہے ۔اسے ساجد ©یوں بیان کرتے ہیں ….

شان اعلی تری تُو ہی تو وحدہٰ، لاشریک لہ

ہر عبادت کے لائق تو معبود ہے ، تُو ہی معبود ہے

                                 مجھے نہیں معلوم کہ شاعری کی اصطلاح میں اسے کیا کہتے ہوں گے ، علم و بیان اسے کیا کہتا ہے ، بس میں تو اتنا جانتاہوںکہ وہ ہستی کیا اعلی و ارفع ہے کہ جس کے عاشق کا یہ حال ہے ۔جن کا ذکر سنتے ہی در وا ہو جاتے ہیں ، نام آتے ہی ضرب المثل عمل آ نکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔ ذرا تصور کریں ۔۔۔ مکہ کی تپتی ہوئی ریت ہے ، مکہ کے لڑکے اک غلام کو گھسیٹے چلے جا رہے ہیں ، انگارے دہکا کر ان پر لٹایا جا رہا ہے ،پتھر سینے پر رکھے جا رہے ہیں، کائنات حیراں ہے کہ کون ہے یہ ہستی ، کون سی قوت ہے، یہ کیسی قوت ہے کہ اتنا ظلم ہو نے کے باوجود اگر منہ سے کوئی لفظ نکلتا ہے تو بس احد احد …. نام ذہنوں میں آیا ؟ ….یہی وہ قوت ہے کہ جس کے بارے میں قلندر لاہور ی ؒ نے فرمایا، دہر میں عشق محمد سے اجالا کر دے ۔ جن کیفیات میں یہ شعر کہا گیا ….ساجد آپ سن لیں ۔ آپ کا یہ شعر بھی بہت قیمتی ہے ۔

بلال ِ وقت کو کہہ دو ستم مٹ کے رہے گا سب

وہ اب مسرور ہو جائے ، محمد مصطفی ﷺ آئے

                وہ جلیل القدر ہستیاں ، جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ، وہ صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین ہیں ۔صحابہ اکرام ؓجس روشنی سے منور ہو ئے ، جس روشنی کے باعث وہ آ ئندہ آ نے والے وقت کے لئے مشعل راہ بنے ، وہ نور محمد ﷺ ہے ، جس کا پرتو ان میں جھلکتا ہے ۔آپ اسے عشق کہہ لیں یا اس سے بھی ماورا کوئی کیفیت …. ساجد لکھتے ہیں

بن گئے وہ بوبکر ؓ و عمر ؓ اور عثماں ؓحیدر

جس نے دل سے دیکھا بھالا، کملی والا

بو بکر ؓو عمرؓعثمان ؓ و علی ؓ، پر نور ہے ان سے گلی گلی

یاد ان کی بنی ہے سرمایہ ، جب شہر مدینہ یاد آیا

               

                یہ مقام ِمحمد ﷺ ہی ہے کہ جو ان کا ہے وہی اعلی وارفع ہے ۔ یہاں میں شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لفظوں میں بات کہنا چاہوں گا کہ ….

” آقا علیہ السلام کی محبت کے باب میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کچھ مظاہر بنائے ہیں اور اہل بیت اطہار اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کی محبت کو اہم ترین مظاہرِ ایمان اور مظاہرِ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شامل فرمایا ہے۔

حضور علیہ السلام نے اپنی قرابت اور اپنی اہل بیت کی محبت کو ہمارے اوپر فرض و واجب قرار دیا ہے اور یہ وجوب مذکورہ حکم الہی سے ثابت ہے۔حضور علیہ السلام نے تبلیغ رسالت کے ذریعے ہم پر جو احسان فرمایا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے کوئی اجر طلب نہیں فرمایا سوائے اِس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت اور قرابت سے محبت کریں۔ یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرابت سے محبت کا جو حکم دیا، یہ اجر بھی آقا علیہ السلام بدلہ کے طور پر اپنے لئے طلب نہیں فرما رہے بلکہ یہ بھی ہمارے بھلے کے لیے ہے۔ اِس سے ہمیں ایمان و ہدایت کا راستہ بتار ہے ہیں، ہمارے ایمان کو جِلا بخش رہے ہیں اور اہل بیت و قرابت کی محبت کے ذریعے ہمارے ایمان کی حفاظت فرما رہے ہیں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فرمان کے ذریعے ہماری ہی بھلائی کی راہ تجویز فرما رہے ہیں۔

”فرما دیجیے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی ا ±جرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اللہ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں)“۔(الشوری، 42: 23)

ساجد کے اس نعتیہ مجموعہ میں یہ سبق بار بار دہرایا گیا ہے ۔۔۔جیسے کہ

حیات جاوداں ہے یہ کہ جو آل محمد ﷺ سے

ہمیں بھی پیار ہو جائے تو بیڑہ پار ہو جائے

جو آل محمد سے مودت نہیں رکھتا ، الفت نہیں رکھتا

اللہ کی عنایات سے ہو جاتا ہے وہ عاق، اے سید لو لاکﷺ

اگر چہ ، ایک ایک شعر مجھے اپنی جانب متوجہ کرتا رہا ، تاہم یہی چند شعر میں لے کر حاضر ہو پایا ہوں …. ساجد بھائی قبول فرمائیں ، حکم کی تعمیل کی ہے۔ آخر میں ایک شعر جس کو اگر اپنا لیا جائے ، تو میرا خیال ہے بگڑی بن جائے گی ۔ وہ شعر ہے

وہ بھول نہیں سکتا ، حقیقت کے معانی ، پر کیف کہانی

پڑھتا ہے غلام آپ کے جو عشق میں اسباق ، اے سید لولاکﷺ

اجازت چاہوں گا ۔ اللہ نبی وارث

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بھولا رام کی روح۔۔۔ری شنکر پرسائی/عامر صدیقی

بھولا رام کی روح  ہری شنکر پرسائی/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. ہری شنکر پرسائی،پیدائش ۲۲ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے