سر ورق / کہانی / گرمیوں کے دن…کملیشور/عامر صدیقی

گرمیوں کے دن…کملیشور/عامر صدیقی

گرمیوں کے دن

 کملیشور/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

کملیشور،پیدائش: ۶ جنوری۲۳۹۱ ء، مین پوری، اتر پردیش۔میدان: کہانی،اسکرین پلے برائے ہندی سنیما/ٹی وی۔ اہم تخلیق: ناول ” کتنے پاکستان” ۔ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ، پدم بھوشن ۔ انتقال: ۷۲ جنوری ۷۰۰۲ ئ، فرید آباد۔

…………

چنگی دفتر خوب رنگ برنگا، چھیل چھبیلاہے۔ اس کے دروازے پرقوس و قزح جیسے سائن بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ سید علی پینٹر نے اپنے بڑے مشاق ہاتھوں سے ان بورڈوں کو بنایا ہے۔ دیکھتے دیکھتے شہر میں بہت سی ایسی دکانیں ہو گئی ہیں، جن پر سائن بورڈ لٹکنے شروع ہوگئے ہیں۔ سائن بورڈ کا لگنا یعنی اوقاتِ کار کا بڑھنا۔ بہت دنوں پہلے جب دینا ناتھ حلوائی کی دوکان پر پہلا سائن بورڈ لگا تھا تو وہاں دودھ پینے والوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی تھی۔ پھر سیلاب سا آ گیا اور نئے نئے طریقے اور بےل بوٹے ایجاد کئے گئے۔ ”اوم“ یا”جے ہند“ سے شروع کرکے ”ایک بار ضرور ہمیں آزمائیں“ یا پھر”ملاوٹ ثابت کرنے والے کو سو روپیہ نقد انعام“ کے دعووں یا للکاروں پر تحریر ختم ہونے لگی۔

چنگی دفتر کا نام تین زبانوں میں لکھا ہے۔ چےئرمےن صاحب بڑی بدھی کے آدمی ہیں، ان کی سوجھ بوجھ کا ڈنکا بج رہا ہے، اس لئے ہر سائن بورڈ ہندی، اردو اور انگریزی میں لکھا جاتا ہے۔ دور دور سے لیڈر حضرات تقریریں کرنے آتے ہیں، دیسی اور بدیسی لوگ آگرے کا تاج محل دیکھ کر مشرق کی طرف جاتے ہوئے یہیں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ان پر اثر پڑتا ہے، بھائی۔ اور پھر موسم کی بات، میلے ٹھیلوںتماشوں کے دنوں میں حلوائیوں، جولائی، اگست میں کتاب ،کاغذ والوں،شادی کے سیزن میں کپڑے والوں اور خراب موسم میں ویدوںحکیموں کے سائن بورڈوں پر نیا روغن چڑھتا ہے۔ شدھ دیسی گھی والے سب سے اچھے رہے، جو چھپروں کے اندر دیوار پر گیرو یا کوئلے سے لکھ کر کام چلا لیتے ہیں۔ اسکے بغیر کام نہیں چلتا۔ اہمیت بتاتے ہوئے وےدجی نے کہا۔”بغیر پوسٹر چپکائے سنیما والوں کا بھی کام نہیں چلتا۔ بڑے بڑے شہروں میں جائیے، گھانس لیٹ بیچنے والے کی دکان پر سا ئن بوٹ مل جائے گا۔ بڑی ضروری چیز ہے۔ بال بچوں کے نام تک کے سائن بوٹ ہیں، نہیں تو نام رکھنے کی ضرورت کیا ہے؟ سائن بوٹ لگاکے سکھ دیو بابو کمپوڈر سے ڈاکٹر ہو گئے، بیگ لے کے چلنے لگے۔“

پاس بیٹھے رام چرن نے ایک اور نئے کرشمے کی خبر دی ۔” انہوں نے بدھیو والا اِکّا گھوڑا خرید لیا ۔۔۔“

”ہانکے گا کون؟“ٹین کی کرسی پر یوگا کا آزمودہ یام ا ٓسن جمائے بیٹھے پنڈت نے پوچھا۔

” یہ سب جیب کترنے کا طریقہ ہے۔“وےدجی کی توجہ اِکّا گھوڑے کی جانب مرکوز تھی۔”مریض سے کرایہ وصول کریں گے۔ سائیس کو بخشش دلائیں گے، بڑھکے شہروں کے ڈاکٹروں کی طرح۔ اسی سے پیشے کی بدنامی ہوتی ہے۔ پوچھو بھلا، مریض کا علاج کرنا ہے کہ رعب و دبدبہ کا مظاہرہ کرنا ہے۔ انگریزی آلے دکھا کے مریض کی آدھی جان پہلے ہی خشک کر ڈالتے ہیں۔آئیوروےدی، نبض دیکھنا تو دور، چہرہ دیکھ کر بیماری بتادے ۔ اِکّا گھوڑا اس میں کیا کرے گا؟ تھوڑے دن بعد دیکھنا، ان کا سائیس کمپوڈر ہو جائے گا۔“ کہتے کہتے وےدجی بڑی گھسی ہوئی ہنسی میں ہنس پڑے۔ پھر بولے۔” کون کیا کہے بھائی؟ ڈاکٹری تو تماشا بن گئی ہے۔ وکیلوں مختاروں کے لونڈے بھی ڈاکٹر ہونے لگے۔ خون اور سنسکار سے بات بنتی ہے، ہاتھ میںجب آتا ہے، ویدیہ کا بیٹا ویدیہ ہوتا ہے۔ آدھی ودیہ لڑکپن میں جڑی بوٹیاںکوٹتے پیستے آ جاتی ہے۔ تولہ، ماشہ ، رتی کا ایسا انداز ہو جاتا ہے کہ دوائیاں غلط ہو ہی نہیں سکتی ہےں۔ دوائیوں کا چمتکار اس کو بنانے کی ترکیبوںمیں ہے۔ دھنونتر۔۔۔ ۔“وےدجی آگے کہنے جا ہی رہے تھے کہ ایک آدمی کو دکان کی طرف آتے دیکھ کر خاموش ہو گئے اور بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف کچھ اس طرح دیکھنے ، جانچنے لگے کہ جیسے یہ گپ لڑانے والے فالتو کے آدمی نہ ہوں بلکہ ان کے مریض ہوں۔

آدمی کے دکان پرچڑھتے ہی وید جی نے بھانپ لیا۔ مایوس ہو کر انہوں نے اسے دیکھا اور لاتعلق سے ہو گئے۔ لیکن دنیا دکھاوا بھی کچھ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے، کل یہی آدمی بیمار پڑ جائے یا اسکے گھر میں کسی کو بیماری گھیر لے۔ اس لئے اپنا رویہ اور پیشے کا وقار ایک دم چوکس رہنا چاہئے۔ خود کو بٹورتے ہوئے انہوں نے کہا،”کہو بھائی، راضی خوشی۔“

 اس آدمی نے جواب دیتے ہوئے شیرے کی ایک کنستریا سامنے کر دی،”یہ ٹھاکر صاحب نے رکھوائی ہے۔ منڈی سے لوٹتے ہوئے لیتے جائیں گے۔ ایک ڈیڑھ بجے کے قریب۔“

”اس وقت دکان بند رہے گی۔“وےدجی نے بیکار کے کام سے اوبتے ہوئے کہا۔“ حکیم وےدوں کی دکانیں دن بھر نہیں کھلی رہتیں۔ بیوپاری تھوڑے ہی ہیں، بھائی۔“لیکن پھر کسی دوسرے دن اور موقع کی امید نے جیسے زبردستی کہلوایا۔“خیر، انہیں دقت نہیں ہوگی، ہم نہیں ہوں گے تو برابروالی دکان سے اٹھا لیں۔ میں رکھتا جاو ¿ں گا۔“

اس آدمی کے جاتے ہی ویدجی بولے ۔”شراب بندی سے کیا ہوتا ہے؟ جب سے ہوئی ،اسکے بعد سے کچی شراب کی بھٹیا ںگھر گھر چالو ہو گئیں۔ سیرا گھی کے بھاﺅ بکنے لگا۔ اور ان ڈاکٹروں کو کیا کہیے۔انکی دکانیں ہولی بن گئی ہیں۔ لیسنس ملتا ہے دوا کی طرح استعمال کرنے کا، پر کھلے عام جنجر بکتا ہے۔ کہیں کچھ نہیں ہوتا۔ ہم بھنگ افیون کی ایک پڑیا چاہیں تو تفصیل دینی پڑتی ہے۔ “

” ذمہ داری کی بات ہے۔“پنڈت جی نے کہا۔

” اب ذمہ دار ویدہی رہ گئے ہیں۔ سب کی رجسٹری ہو چکی، بھائی۔ ایسے غیر پنچ کلیانی جتنے گھس آئے تھے، ان کی صفائی ہو گئی۔ اب جس کے پاس رجسٹری ہوگی وہی وےدیہ کر سکتا ہے۔ چورن والے بھی وید بن بیٹھے تھے۔سب ختم ہو گئے۔ لکھنو ¿ میں سرکاری جانچ پڑتال کے بعد سند ملی ہے ۔“

وید جی کی بات میں چاشنی کا مزہ نہ پا کر پنڈت اٹھ گئے۔ وید جی نے اندر کی جانب قدم بڑھائے اور دواخانے کا بورڈ لکھتے ہوئے چندر سے بولے ،”سفےدا گاڑھا ہے بابو، تارپین ملا لو۔“پھروہ ایک بوتل اٹھا لائے جس پر اشوکارِشٹ کا لیبل لگا تھا۔

اسی طرح نہ جانے کون کون سی دواﺅں کی بوتلوں میں کس کس اقسام کی آتمائیں بھری ہےں۔ سامنے کی اکلوتی الماری میں بڑی بڑی بوتلیں رکھی ہےں۔ جن پر طرح طرح کے ارشٹوں اورآسوﺅں کے نام چپکے ہیں۔ صرف پہلی قطار میں یہ شیشیاں کھڑی ہیں۔ان کے پیچھے ضرورت کا کا دوسرا سامان ہے۔ سامنے کی میز پر سفید شیشیوں کی ایک قطار ہے، جس میں کچھ مزیدار چورن، نمک بھاسکر وغیرہ ہےں، باقیوں میں جو کچھ بھرا ہوا ہے، اسے صرف وید جی ہی جانتے ہیں۔

تارپین کا تیل ملا کر چندر آگے لکھنے لگا۔ ”پروفیسرکوی راج نتیانند تیواری “،اوپر کی عبارت” شری دھنونتر ی دواخانہ“ خود وید جی لکھ چکے تھے۔ سفےدے کے وہ الفاظ ایسے لگ رہے تھے جیسے روئی کے پھاہے چسپاں کر دیے ہوں۔ اوپر جگہ خالی دیکھ کر وید جی بولے،”بابو، اوپر جے ہند لکھ دینا اور یہ جو جگہ بچ رہی ہے، اس میں ایک طرف دوائی کی بوتل، دوسری طرف کھرل کی تصویر۔آرٹ ہمارے پاس مڈل تک تھا ،لیکن یہ تو ہاتھ سدھنے کی بات ہے۔“

چندر کچھ اونگھ رہا تھا۔ خواہ مخواہ پکڑا گیا۔خوش خطی اچھی ہونے کا یہ انعام اسکو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ بولا،”کسی پینٹر سے بنواتے ۔۔اچھا خاصا لکھ دیتا، وہ بات نہیں آئے گی ۔“اپنا پسینہ پونچھتے ہوئے اس نے کُوچی نیچے رکھ دی۔

”پانچ روپے مانگتا تھا بابو۔دو لائنوں کے پانچ روپے۔ اب اپنی محنت کے ساتھ یہ سائن بوٹ دس بارہ آنے کا پڑا۔ یہ رنگ ایک مریض دے گیا۔ بجلی کمپنی کا پینٹر بدہضمی سے پریشان تھا۔ دو خوراکیں بنا کر دے دیں، پیسے نہیں لئے۔ سو وہ دو تین رنگ اور تھوڑی سی وارنش دے گیا۔ دو بکسے رنگ لگ گئے ۔ اوریہ بوٹ بن گیا اور باقی سے کرسی رنگ جائے گی۔تم بس اتنا لکھ دو،لال رنگ کے شیڈ ہم دیتے رہیںگے۔ حاشیہ ترِنگا کھِلے گا؟“ وید جی نے پوچھا اور خودہی قبولیت کی سند بھی دے دی۔

چندر گرمی سے پریشان تھا۔ جیسے جیسے دوپہرنزدیک آتی جا رہی تھی، سڑک پر دھول اور لو کا زور بڑھتا جا رہا تھا، نتیجے میں چندر انکار نہیں کر پایا۔ پنکھے سے اپنی پیٹھ کھجلاتے ہوئے وید جی نے اجرت کے کام والے، پٹواریوں کے بڑے بڑے رجسٹر نکال کر پھیلانا شروع کئے۔

سورج کی تپش سے بچنے کے لئے دکان کا ایک کِواڑ بھےڑکر وید جی خالی رجسٹر پر خسراکھتونیوں سے نقل کرنے لگے۔

 چندر نے اپنا پنڈ چھڑانے کےلئے پوچھا،”یہ سب کیا ہے وید جی ؟“

وید جی کا چہرہ اتر گیا، بولے،”خالی بیٹھنے سے بہتر ہے کچھ کام کیا جائے، نئے لیکھ پالوں کو کام دھام آتا نہیں، روز قانون گو یا نائب صاحب سے جھاڑیں پڑتی ہیں۔ جھک مارکے ان لوگوں کو یہ کام اجرت پر کرانا پڑتا ہے۔ اب پرانے گھاگ پٹواری کہاں رہے، جن کے پیٹ میں قانون بستا تھا۔ روٹیاں چھن گئیں بے چاروں کی؛ لیکن صحیح پوچھو تو اب بھی سارا کام پرانے پٹواری ہی ڈھو رہے ہیں۔ نئے لیکھ پالوں کی تنخواہ کا سارا روپیہ اسی کی اجرت میں نکل جاتا ہے۔ پیٹ اُن کا بھی ہے۔ تیاپانچا کرکے کسانوں سے نکال لاتے ہیں۔ لائیں نہ تو کھائیں کیا۔ دو تین لیکھ پال اپنے ہیں، انہی سے کبھی کبھار ہلکا بھاری کام مل جاتا ہے۔ نقل کاکام، رجسٹر بھرتے ہیں۔“

باہر سڑک ویران ہوتی جا رہی تھی۔ دفتر کے بابو لوگ جا چکے تھے۔ سامنے چنگی میں خس کی ٹٹّیوں پر چھڑکاﺅ شروع ہو گیا۔ دور ہرہراتے پیپل کا شور لو کے ساتھ آ رہا تھا۔ تبھی ایک آدمی نے کواڑ سے اندر جھانکا۔ وید جی کی گفتگو، جو شاید لمحے دو لمحے بعد درد سے بوجھل ہو جاتی، رک گئی۔ ان کی نگاہ نے آدمی کو پہچانا اور وہ محتاط ہو گئے۔ فوراً بولے،”ایک بوٹ آگرے سے بنوایا ہے، جب تک نہیں آتا، اسی سے کام چلے گا۔ فرصت کہاں ملتی ہے جو ان سب میں سرکھپائیں۔“اور ایک دم مصروف ہوتے ہوئے انہوں نے اس آدمی سے سوال کیا،”کہو بھائی، کیا بات ہے؟“

 ”ڈاکٹری سرٹیفیکیٹ چاہئے۔کوسما ٹےشن پر خلاصی ہیں گے صاحب۔“ریلوے کی نیلی وردی پہنے وہ خلاصی بولا۔

اسکی ضرورت کا پورا اندازہ لگاتے ہوئے وید جی بولے،” ہاں ، کس تاریخ سے کب تک کا چاہئے۔“

 ”پندرہ دن پہلے آئے تھے صاحب، سات دن کو اور چاہئے۔ “

کچھ حساب جوڑ کر وید جی بولے،”دیکھو بھائی، سرٹیفیکیٹ پکا کرکے دیں گے، حکومت کا رجسٹر نمبر دیں گے، روپےا چار لگیں گے۔“ وید جی نے جیسے کھٹ سے چار روپے پر اسکے بھڑک جانے کا احساس کرتے ہوئے کہا،”اگر پچھلا نہ لو تو دو روپے میں کام چل جائے گا۔“

خلاصی مایوس ہو گیا۔ لیکن اسکی مایوسی سے زیادہ بڑی مایوسی وید جی کے پسینے سے نم چہرے پرنمودار ہو گئی۔ بڑی بد لحاظی کے انداز سے خلاصی بولا،”سوبرن سنگھ نے آپ کے پاس بھیجا تھا۔“ اسکے کہنے سے کچھ ایسا لگا ،جیسے یہ اس کا کام نہ ہو بلکہ سوبرن سنگھ کا کام ہو۔ پر وید جی کے ہاتھ میںنبض آگئی ، بولے،”وہ ہم پہلے ہی سمجھ رہے تھے۔ بغیر جان پہچان کے ہم کرتے نہیں، عزت کا سوال ہے۔ ہمیں کیا معلوم تم کہاں رہے، کیا کرتے رہے؟ اب سوچنے کی بات ہے۔ اعتبار پر جوکھم اٹھا لیں گے۔ پندرہ دن پہلے آپکا نام رجسٹر میں چڑھائیں گے، بیماری لکھیں گے۔ہر تاریخ پر نام چڑھائیں گے،تب کہیں کام بنے گا۔ ایسے گھر کی کھیتی نہیں ہے۔“کہتے کہتے انہوں نے چندر کی طرف مدد کےلئے دیکھا۔ چندر نے ساتھ دیا،”اب انہیں کیا پتہ کہ تم بیمار رہے کہ ڈاکہ ڈالتے رہے ۔ سرکاری معاملہ ہے۔“

” پانچ سے کم میں دنیا چھور کا ڈاکٹر نہیں دے سکتا۔“کہتے کہتے وید جی نے سامنے رکھا لیکھ پال والا رجسٹر کھسکاتے ہوئے جوش سے کہا،”ارے، دم مارنے کو فرصت نہیں ہے۔ یہ دیکھو، دیکھتے ہو نام۔ ایک ایک مریض کا نام، مرض، آمدنی۔۔۔ انہی میں آپکا نام چڑھانا پڑے گا۔ اب بتاﺅ کہ مریضوں کو دیکھنا زیادہ ضروری ہے کہ دو چار روپے کے لئے سرٹیفیکیٹ دے کر اس سرکاری لفڑے میں پھنسیں۔“کہتے ہوئے انہوں نے تحصیل والا رجسٹر ایک دم بند کر کے سامنے سے ہٹا دیا اور صرف احسان کرسکنے کےلئے تیار ہونے جیسی صورت بنا کر قلم سے کان کرودنے لگے۔

ریلوے کا خلاصی ایک منٹ تک بیٹھا کچھ سوچتا رہا۔ اور پھر وید جی کو سر جھکائے اپنے کام میں مشغول دیکھ کر دکان سے نیچے اتر گیا۔ ایک دم وید جی نے اپنی غلطی محسوس کی، لگا انہوں نے بات غلط جگہ منقطع کر دی اور ایسی منقطع کہ ٹوٹ ہی گئی۔ اچانک کچھ سمجھ میں نہ آیا، تو اسے پکار کر بولے،”ارے سنو، ٹھاکر سوبرن سنگھ سے ہماری، جے رام جی کی ،کہہ دینا۔ان کے بال بچے تو راضی خوشی ہےں؟“

” ہاں سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔“خلاصی نے رک کر کہا۔

 اسے سناتے ہوئے وید جی ،چندر سے بولے،” شہر”دس گاو ¿ں“ کے ٹھاکر سوبرن سنگھ علاج کےلئے یہیں آتے ہیں۔ بھئی، ان کےلئے ہم بھی ہمیشہ حاضر رہے ۔“

چندر نے بورڈ پر آخری الفاظ ختم کرتے ہوئے پوچھا،”چلا گیا۔“

” لوٹ پھر کے آئے گا۔“وےد جی نے جیسے خود کو سمجھایا،لیکن اس کے واپس آنے کی بات پر یقین کرتے ہوئے بولے،” گاو ¿ں کے وید اور وکیل ایک ہی ہوتے ہیں۔ سوبرن سنگھ نے اگر ہمارا نام اس سے کہا ہے تو ضرور واپس آئے گا۔ گاو ¿ں والوں کی سمجھ ذرا مشکل سے کھلتی ہے۔ کہیں بےٹھ کے سوچے سمجھے گا، تب آئے گا ۔۔۔“

”اور کہیں سے لے لیا، تو؟“ چندر نے کہا تو وید جی نے بات کاٹ دی۔” نہیں، نہیں بابو۔“کہتے ہوئے انہوں نے بورڈ کی طرف دیکھا اور تحسین بھرے انداز سے بولے۔“واہ بھئی چندر بابو۔ سائن بوٹ جچ گیا۔کام چلے گا۔ یہ پانچ روپے پینٹر کو دے کر مریضوں سے وصول کرنا پڑتا۔ اِکّا گھوڑا اور یہ خرچہ۔ بات ایک ہے۔ چاہے ناک سامنے سے پکڑ لو، چاہے گھماکر۔ سید علی کے ہاتھ کا لکھا بوٹ مریضوں کو چنگا تو کر نہیں دیتا۔ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے۔“کہتے ہوئے وہ دھیرے سے ہنس پڑے۔ پتہ نہیں، وہ اپنی بات سمجھ کر خود پر ہنسے تھے یا دوسروں پر۔

تبھی ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ایک بار تولگا کہ خلاصی آ گیا۔ پر وہ پانڈو روگی تھا۔ دیکھتے ہی وید جی کے چہرے پر طمانیت چھلک آئی۔ وہ اندر گئے۔ ایک تعویز لاتے ہوئے بولے،”اب اس کا اثر دیکھو۔ بیس پچیس روز میں اس کا چمتکار دکھائی دے گا۔“پانڈو روگی کے بازو میں تعویز باندھ کر اور اس کے کچھ آنے پیسے جیب میں ڈال کر وہ سنجیدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ مریض چلا گیا تو بولے،”یہ ودیا بھی ہمارے والد صاحب کے پاس تھی۔ انکی لکھی کتابیں پڑی ہیں۔ کئی بار سوچتا ہوں، انہیں دوبارہ نقل کر لوں۔ بڑے تجربے کی باتیں ہیں۔ وشواس کی بات ہے، بابو۔ ایک چٹکی دھول سے آدمی چنگا ہو سکتا ہے۔ ہومیوپیتھک اور بھلا کیا ہے؟فقط ایک چٹکی چینی۔ جس پر وشواس جم جائے، بس۔“

چندر نے چلتے ہوئے کہا۔” اب تودکان بند کرنے کا وقت ہو گیا، کھانا کھانے نہیں جائیے گا؟“

”تم چلو، ہم پانچ منٹ بعد آئیں گے۔ “وےدجی نے تحصیل والا کام اپنے آگے سرکا لیا۔ دکان کا کواڑ ادھ کھلا کرکے بیٹھ گئے۔ باہر دھوپ کی طرف دیکھ کر نظر چوندھیا جاتی تھی۔

برابر والے دکاندار بچن لال نے دکان بند کر کے، گھر جاتے ہوئے وید جی کی دکان کھلی دیکھ کر پوچھا۔” آپ کھانا کھانے نہیں گئے ۔“

”ہاں ایسے ہی، ایک ضروری کام ہے۔ ابھی تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے۔“وےدجی نے کہا اور زمین پر چٹائی بچھالی۔ رجسٹر میز سے اٹھا کر نیچے پھیلا لئے۔ لیکن گرمی تو گرمی تھی۔ پسینہ تھمتا ہی نہ تھا۔ رہ رہ کر پنکھا جھلتے، پھر نقل کرنے لگتے۔ کچھ دیر من مار کے کام کیا، پر ہمت چھوٹ گئی۔ اٹھ کر دھول پڑی پرانی شیشیاں جھاڑنے لگے۔ انہیں قطار سے لگایا۔ لیکن گرمی کی دوپہر یا۔۔۔ وقت رکا سا لگتا تھا۔ ایک بار انہوں نے کواڑوں کے درمیان سے منہ نکال کر سڑک کی طرف غور سے دیکھا۔ ایک آدھ لوگ نظر آئے۔ ان آتے جاتے لوگوں کی موجودگی سے بڑا سہارا مل گیا۔اندر آئے، بورڈ کا تار سیدھاکیا اور دکان کے سامنے لٹکا دیا۔ دھنونتری دواخانے کا بورڈ دکان کی گردن میں تعویز کی طرح لٹک گیا ہے۔

کچھ وقت اور گزرا۔ آخر انہوں نے ہمت کی۔ ایک لوٹا پانی پیا اور جانگھوں تک دھوتی سرکا کر مستعدی سے کام میں جٹ گئے۔ باہر کچھ آہٹ ہوئی۔ فکر سے انہوں نے دیکھا۔

”آج آرام کرنے نہیں گئے حکیم جی۔“گھر جاتے ہوئے ایک جان پہچان کے دکاندار نے پوچھا۔

”بس جانے کی سوچ رہا ہوں۔ کچھ کام نکل آیا تھا، سوچا، کرتا چلوں ۔“وید جی دیوار سے پیٹھ ٹکا کر بیٹھ گئے۔ کرتا اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ اِکہری چھت کی دکان بھٹی سی تپ رہی تھی۔ وید جی کی آنکھیں بری طرح نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں۔ ایک جھپکی آگئی ۔۔کچھ وقت ضرور گزر گیا تھا۔ رہانہیں گیا تو رجسٹر کا تکیہ بناکر انہوں نے پیٹھ سیدھی کی۔ پر نیند۔۔آتی اور چلی جاتی، نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔

دفعتاً ایک آہٹ نے انہیں چونکا دیا۔ آنکھیں کھولتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ بچن لال دوپہر بِتا کر واپس آ گیا تھا۔

”ارے، آج آپ ابھی تک گئے ہی نہیں ۔“اس نے کہا۔

وید جی زور زور سے پنکھا جھلنے لگے۔ بچن لال نے دکان سے اترتے ہوئے پوچھا،”کسی کا انتظار ہے کیا؟“

”ہاں ، ایک مریض آنے کو کہہ گیا تھا ۔ ابھی تک آیا نہیں۔“وےد جی نے بچن لال کو جاتے دیکھا تو بات درمیان میں ہی منقطع کرکے خاموش ہو گئے اور اپنا پسینہ پونچھنے لگے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے