سر ورق / افسانہ / ہم کہ ٹھہرے اجنبی…اسماء نورین

ہم کہ ٹھہرے اجنبی…اسماء نورین

ہم کہ ٹھہرے اجنبی

اسماء نورین

"تم مجھے بہت اچھے لگنے لگ گئے ہو ہاں واقعی یہ سچ ہے. پہلے تو مجھے یقین.ہی نہیں آتا تھا کہ مجھے یعنی جیا کو بھی کبھی تم.اچھے لگ سکتے ہو؟ مگر ہونی کو کن ٹال.سکتا ہے بھلا؟ ہونی تو ہو کر ہی رہتی ہے نا..سو آج. یہ دن بھی آ گیا کہ میں اعتراف کر رہی ہوں خود کو بتا رہی ہوں کہ ہاں ہاں !! تم ! مجھے بہت اچھے لگنے لگ گئے ہو. مجھے تمھارا شدت سے انتظار رہتا ہے اب. ”
..                    …………………………..
یہ Brampton کا علاقہ ہے کینیڈا میں,  ایک ہلال کی شکل میں کالونی بنی ہوئ ہےجسکا نام لوکوموٹو کریسنٹ. Locomotive crescentہے. نیا تعمیر شدہ ایریا ہے. چھوٹے چھوٹے ِجھکی ہوئ چھتوں والے گھر جنکے سامنے بس ڈرائیو وے برف سے خالی ہے باقی تمام فٹ پاتھ تک.برف سے اٹے پڑے ہیںِ. برف صاف کرنے والی گا ڑیاں.مسلسل کام.میں.مصروف رہتی ہیں  سخت سردیوں کی طویل رات ہے جو کاٹے نہیں کٹ رہی آج فریزنگ رین freezing rain کی بھی پیشنگوئی ہے. ایک 32 سالہ عورت اپنے بستر پر نیم.دراز ہے اس نے گردن تک کمبل اوڑھا ہوا ہے سنٹرل ہیٹنگ کے باوجود اسکو سردی محسوس ہو ری ہے..وہ مسلسل ایک.پاوں ہلا رہی ہے اور اسکے ہاتھوں کی حرکت بھی ایک.تسلسل سے جاری ہے. قلم.اسکے ہاتھوں میں چلتا جاتا ہے اور لفظ گویا پھسلتے چلے آرہے ہیں.  اسکی ہینڈ رائٹنگ بے انتہا خوبصورت ہے اسکے قلم میں ایک روانی سی ہے.  عورت کی سب سے بڑی خوبصورتی اسکےبال ہیں.انتہائ ملائم اور ریشمی سےبال جیسے کبھی الجھے ہی نہ ہوں بالکل سیدھے کمر تک آتے سیاہ چمکدار بال جنکو اس نے چھوٹے چھوٹے5.6 رنگین کیچرز کی مدد سے ماتھے پہ آنے سے روکا ہوا ہے لیکن پھر بھی چھوٹی چھوٹی لٹیں بار بار آسکے چہرے پر آگرتیں.  جیسے بالوں کے نیا گرا فال کا بہاو روکنے کی کوشش کیجا رہی ہے.
……………………………
وہ تنے ہوے نقوش لئے کھڑی ناک والا مرد اسوقت کچھ پڑھنے میں مشغول تھا اور ہر سطر کے ساتھ اسکے تنفس کی رفتار اور بھی تیز ہوتی جا رہی تھی اور ماتھے کی شکنیں لمبی ہوتی جارہی تھیں.
"آج تم آے کیوں نہیں. تمہیں اچھا لگتا ہے مجھے انتظار کروانا؟ آج میں نے تمھارے لئے خاص طور پر کافی کوکیز رکھی ہیں. میرا دل کرتا ہے تم.میرے سامنے بیٹھ کر کھایا کرو اور میں تمھیں دیکھتی رہوں. اچھا آج مجھے تم سے بہت ڈھیر زیادہ زیادہ سی باتیں کرنی ہیں. تم بس ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی بھاگ مت جانا. دیکھو میں بالکل اکیلی ہوتی ہوں نا . آج تو حمادسے بھی بہت کم بات ہوئ وہ مصروف ہی اتنا ہوتے ہیں. اچھا دیکھو جب حماد گھر آئیں گے نا تم.مت آنا. بھئ انہیں تم اچھے نئیں لگتے نا. سمجھا کرو نا.”
اف یہ عورت کس حد تک.جا سکتی ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا. میری غیر موجودگی میں یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے اور مئں اس قدر بےخبر کیسے رہا؟ لعنت ہے مجھ پہ . مجھے یہی نہ معلوم.ہوا کی میری بیوی کسی اور کو پسند کرنے لگ گئ ہے.
آخر ہے کون؟
جو مرضی ہو. میں اسکو جان سے مار دوں گا. لیکن.پہلے اپنی بیوی کو ماروں گا پھر اس کسی کو جو بھی ہے وہ کوئ مجھ سے بچ نہئں سکےگا.
.                          ………………..
” لو جی آج تم پھر چھپ گئے؟ میں کیا کروں ایک تو تم شرماتے بہت ہو. بتایا بھی آج میں بالکل اکیلی ہوں حماد کل ہی آئیں گے طوفان کی وجہ سے وہ ڈرائیو نہئں کر پا رہے. اور میں یہاں تمہارے انتظار میں سوکھے جا رہی ہوں لیکن تم ہو کہ مجھے چند گھنٹے بھی دینے کے روادار نہیں ہو. دیکھو آج میں نے کتنی اچھی سیٹنگ کی ہےآتش دان کے بالکل سامنے کرسیاں رکھی ہیں تا کہ ہمیں ٹھنڈ نہ لگے ٹھنڈ بھی تو جیسے آخری بار پڑ رہی ہو. اچھا بتاو نا تم.آرہے ہو.نا؟ ایک ساتھ بیٹھ کر کافی پیتے ہیں یار آجاو نا . ڈبل.چاکلیٹ والی بنای ہے کافی ,کیا یاد کروگے تم.بھی. ویسے تم نے کبھی سگریٓٹ پیا ہے؟ تمہاری پتلی پتلی انگلیوں میں بہت سجے گا سگریٹ ہا ہا ہا اممممم لیکن میرا نہیں خیال کہ تم کبھی سگریٹ پی سکو ایک آدھا بجھا ہوا ٹکڑا ہی اٹھا لینا. کبھی بس صرف ایک بار…پلیز  میری خاطر .ٹھیک.نا؟ . دیکھو مجھے سگریٹ اچھا لگتا ہے. میں عجیب ہوں نا؟ خیر اب حماد کا فون آنے والا ہے میں چلتی ہوں.
………………….
ہاں کیسی ہو جیا؟ کیا کر رہی تھی؟ کوئ آیا ہوا ہے؟
نہیں حماد کون.آۓ گا اس قدر شدید طوفانی موسم.میں بھلا.

دیکھو جیا مجھ سے کبھی کچھ چھپانا مت میں تمہیں وارن کررہاہوں
اف کیا ہوگیا ہے حماد کس قسم.کی باتیں کررہے ہیں آپ؟ میں کیا چھپاوں گی آپ.سے؟
بس جو بھی چھپاو گی میں معلوم کر لوں گا بلکہ کرہی چکا ہوں سمجھو.
اس نے موبائل کو زرا دور کر کے غور سے دیکھا جیسے یقین نہ آرہا ہو کے یہ حماد کی ہی آواز ہے
اس کہ ساتھ ہی لائن ڈراپ ہوگئی. کندھے اچکاتے ہوے موبائل بیڈ پہ پھینکا اور دوبارہ لکھنے میں مشغول ہو گئ
.                     ………….ِ………………
آدھی سے زیادہ رات گزر چکی تھی جب دروازے پہ کھڑ کھڑ کی آواز آئ. وہ بے خبر سو رہی تھی دروازے کی دو چابیاں تھیں ایک ہمہ وقت حماد کے پاس رہتی تھی.
وہ دبے پاوں اندر.داخل ہوا . آج تو رنگے ہاتھوں پکڑے جانا چاہئے مگر یہ کیا جیا بے خبر.سو رہی ہے. کافی ٹیبل پہ ایک ہی کپ میں کافی پتہ نہیں کب کی پڑے پڑے سوکھ گئی تھی. اس نے باتھ روم.میں جھانکا .نہئں کچھ بھی نہئں کوی بھی نہیں تھا. بلکہ کہیں بھی کوئ نہیں تھا. اس نے پورا گھر چھان مارا. کلوزٹ بھی کھول کے دیکھی.
اس جھانکا تانکی میں جیا بھی جاگ چکی تھی.
اوہ حماد آپ؟ اس طرح اچانک؟ گھنٹہ بھر پہلے تو بات ہوئ ہے. آپ نے تو دو دن.بعد آنا تھا نا..
ہمم بس میں نے کہا تم.اکیلی ہو.سو.آگیا
اوہ تھینکیو سو مچ حمادددد آی لو.یو..آپ بہت اچھے ہیں..سچی مجھے یقین ہی نہیں آرہا کہ آپ آگئے ہیں. دیواریں ریکھ دکھ کر مجھے شدید ڈپریشن ہونے لگ گیا تھا. ایسا لگ رہا تھا کے مجھ پہ گرنے لگی ہیں.
اچھا آپ فریش ہو لیں میں کھانا لاوں. اف ایم سو ہیپی.
اکیلے ہوتے ہی ڈائری اٹھا لی . ” یہ.کیا حرکت تھی؟ ہمم؟ آج تم کیا اپنے ساتھ دوستوں کا گینگ اٹھا کر لے آے تھے؟ ہیں؟ تمہیں کیا میں ایسی ویسی لگتی ہوں؟ کان کھول کر سن لو صرف تم اور تم بس. اور مجھے کبھی بھی کوی تم جیسا نہیں لگ سگتا. گاٹ اٹ؟ ”
چلیں جی گرم گرم آلو والے چاول آگئے. ساتھ آپکے پسندیدہ کباب بھی ہیں اور رایتہ بھی. یہ تو دعوت ہو گئ آج ہماری. ایم.سو ہیپی حماد ہسبنڈ ہو تو آپ جیسا . میری تنہائ کا کتنا خیال ہے نا آپکو. آئ ایم لکی انف ٹو ہیو یو .
اور وہ دل.ہی دل میں سخت قسم کی کھولن کا شکار ہو رہا تھا. یہ عورت میرے دل سے اتر چکی ہے اب. عورت اتنی بھی شاطر ہو سکتی ہے کیا کوئ؟
.                      …..ِ……….ِ…….
پوری رات گویا آنکھوں میں کاٹی مگر نہ کسی کو آنا تھا نہ کوئ آیا.
…….  …اف ِِ افففِِ..کس قدر سکون.سے سو رہی ہے یہ.خود مجھے بے سکون کر کے.
کروٹیں بدلتے بدلتے صبح ہو گئ . ناشتے کے وقت پھر ڈائری ہاتھ میں تھی اس کے.
آج کیا لکھے  گی یہ؟
آج تو کوئ واقعہ بھی نہئں پیش آیا.
دیکھتا ہوں.
جونہی وہ لنچ کی تئاری کے لئے گئ جھپٹ کر ڈائری اٹھا لی.
آج تم.کیوں.نہیں آے ؟ حماد سے ڈرتے ہو؟ ھاھاھا.
اور جیسے مردانہ.انا پہ کاری ضرب پڑی تھی.
جیا جیا
اتنے بھونڈے طریقے سے دھاڑ کر وہ جیا کو بلانے لگا جیسے آج زندہ نہیں چھوڑے گا.
.وہ تمہیں کچھ بھی نہیں.کہیں گے….ِاوراس سے آگے ورق پھٹا ہوا تھا ا نتہائ بے ڈھنگےطریقے سے جیسے چڑمڑ کر کتر دیا گیا ہو.
اور آدھے صفحے پہ بڑا بڑا لکھا ہوا تھا
تم ہو.ہی بدتمیز
..نکلے نا.جانور کے جانور. خود.ہی کھا گئے میری کہانی کا.اینڈ. ایڈیٹ. انسین insane
اپنا چوہا.ہونا
.ثابت کر دیا نا آج.

وہ.سن.کھڑا تھا..اور جیا بار بار پوچھ رہی تھی کیا ہوا بتایں ناِکیوں بلا رہے
تھے.

               

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے