سر ورق / شاعری / نظمیں۔۔۔مریم تسلیم کیانی

نظمیں۔۔۔مریم تسلیم کیانی

مریم تسلیم کیانی

محبوب سے برسوں بعد ملاقات

وہ میری سوچ میں آنے لگتا ہے

میں کھڑکی بند کردیتی ہوں

وہ سمجھتا ہے کہ شاید

اب تلک وہی حالت ہے

اس نے میرےدل و دماغ کی ایک کھلی کھڑکی کا

جو صرف اس کے لیے کھلتی تھی ،

 چور رستہ دیکھ رکھا تھا

وہ جو اتنے برس بعد

لوٹا تھا

یا لوٹایا گیا تھا ،

جانتا نہیں تھا

کہ اب دل تو کب کا گروی رکھ چھوڑا تھا

کہاں ؟ اب تو یاد بھی نہیں !

اور دماغ کی کھلی کھڑکی پہ

ہزاروں اندیشوں

وسوسوں

مستقبل کی فکروں

سماج سے بندھی اخلاقی پاسداریوں

ان دیکھے واہموں

حِیرانیوں

مالی پریشانیوں

اور ان چاہے رشتوں کی ڈوریوں نے

اپنے انبارکھڑے کردیئے ہیں

اب کھڑکی باہر سے کھلی تو دکھاءدیتی ہے

مگر اندر سے وہ بند ہے

وہ کوشش تو بہت کرتا ہے

کہ کسی طرح کھڑکی سے اندر کود جائے مگر

مِیرے نئے دکھ جیت جاتے ہیں. .

وہ انبار گرا نہیں پاتا

وہ دوبارہ ہار جاتا ہے. .

٭….٭….٭

تلخی

اب دکھائی دے رہا ہے

وہ سب جھوٹ تھا جو

بچپن سے کانوں میں

انڈیلا جاتا تھا

کہ سچ بولو اور دنیا جیت لو

حقیقت میں

جھوٹا انسان فتح پاتا ہے

اور سچا مرجاتا ہے

٭….٭….٭

حساس

اگر تم حساس ہوتے

تو میرے نزدیک آکر

مجھ سے

اتنی دور نہ جاتے !

٭….٭….٭

ہم

تمام عمر کے پیچ وخم

جیسے ایک دم کھلے ہیں

 ہم اپنی عمر کے

عجیب دور میں

اپنے اپنے درد کی

گھٹڑیاں اٹھائے ملے ہیں !

٭….٭….٭

بے گھر

اب یہ گھر مجھے بے گھر لگتا ہے

کبھی اِس دیوار سے کبھی ا ±س دیوار سے ڈر لگتا ہے

کبھی لگتا ہے کہ ہوا بند ہے

کبھی بند چھتوں سے پانی رسنے لگتا ہے

کبھی یہ گھر بہت چھوٹا سا لگتا ہے

کبھی اتنا بڑا کہ چلتے چلتے

دم نکلنے لگتا ہے

کبھی لگتا ہے کہ غم سے نڈھال

ساری چوکھٹیں ماتم کرتی ہیں

کبھی شفاف آئینے دیواروں سے لگے ٹوٹنے لگتے ہیں

کبھی بستر پڑے پڑے جلنے لگتا ہے

 کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ چھت

مضبوط لگتے لگتے کھوکھلی ہوکے گر پڑے گی

کبھی مجھے لگتا ہے کہ سجاوٹ وبناوٹ کی تمام چیزیں

فانوس ،رنگین پنکھے اور دیدہ زیب بھاری پینٹنگز

تھک کر آخر کار گر پڑیں گی

کبھی طاقت ور دروازے سارے

ان دیکھی آندھی سے جھولنے لگتے ہیں

کبھی پردے خود بہ خود سرکتے ہیں

کبھی کچن کے آخری کیبنٹ میں رکھے

قیمتی کانچ کے برتن کچ کچ کرکے ٹوٹنے لگتے ہیں

کبھی لگتا ہے واشنگ مشین میں گھومتے دھلتے کپڑے

آپس میں الجھ الجھ کر چیخیں مار کر

وہیں دم توڑ دیں گے

ان کپڑوں کی لاشیں رسی پر

ٹانگنے کے جرم میں مجھے عمر قید کی سزا ہونے لگتی ہے

اب یہ گھر مجھے بے گھر لگتا ہے

کبھی اِس دیوار سے کبھی ا ±س دیوار سے ڈر لگتا ہے

٭….٭….٭

میں اور تم

وہ تم تھے

جو مجھے حسین خواب دکھاتےتھے

وہ میں تھی

جس نے خوابوں کی بھیانک تعبیر دیکھی تھی

وہ تم تھے

جو خیالوں کی دنیا میں رہتے تھے

وہ میں تھی

جو دنیا کے عذاب جھیلتی تھی

وہ تم تھے

جس کا عشق ہی مشغلہ تھا

وہ میں تھی

جس پر پہلا لمس اترا تھا

وہ تم تھے

جس نے چاند تارے توڑے تھے

وہ میں تھی

جو سورج کی تمازت میں جلی تھی

وہ تم تھے

جس کو لفظوں سے کھیلنا آتا تھا

وہ میں تھی

جو لفظوں سے آگے نکل چکی تھی. .

بہت آگے !!

کوئی تصویر

٭….٭….٭

میں ڈر گئی

کبھی خود سے

کبھی تم سے ڈر گئی

کبھی اپنوں سے

کبھی غیروں سے ڈر گئی

کبھی دوستی سے

کبھی دشمنی سے ڈر گئی

کبھی سناٹے سے

کبھی شور سے ڈر گئی

کبھی کسی وجہ سے

کبھی بلاوجہ ہی ڈر گئی

کبھی انسانوں سے

کبھی حیوانوں سے ڈر گئی

کبھی مولوی سے

کبھی کافر سے ڈر گئی

کبھی زیادہ

کبھی تھوڑا سا ڈر گئی

کبھی بیماری سے

کبھی صحت سے ڈر گئی

کبھی سچ سے

کبھی جھوٹ سے ڈر گئی

کبھی روح سے

کبھی جسم سے ڈر گئی

کبھی ماں باپ سے

کبھی بچوں سے ڈر گئی

کبھی گھر سے

کبھی باہر سے ڈر گئی

 کبھی زندگی سے

کبھی موت سے ڈر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہاں میں ڈر گئی !!

٭….٭….٭

آو فلرٹ کریں

ایک دوسرے کو جی بھر کے دھوکا دیں

ایک دوسرے کی روح میں گھس کر

ایک دوسرے کے جسموں کو نوچ نوچ کر

زخمی کردیں

اور دوسرے جسم کی تلاش میں

کسی اور کے زخم کریدنے نکل جائیں

آو خوب سارا فلرٹ کریں

فلرٹ کریں

کہ اب یہ دستور عام ہوچلا ہے

تم۔مجھ سے۔ میں کسی سے

اور کوئی اس سے

جذبات تقسیم کررہا ہے

اب تقسیم کرنا کتنا سہل ہوگیا ہے

موبائل کی زنجیروںمیں قید انسانی وجود

جیسے بچپن کی کہانیوں میں

 جن کی جان

 چھوٹے سے پنجرے میں قید طوطے میں ہوتی تھی !

آج کل کے انسان بھی جن بن گئے ہیں

بس طوطے کو اب تھامے رکھنا ہوتا ہے !

آو فلرٹ کریں

جی۔بھر کر کریں

بار بار کریں

اور لگاتار کریں !

٭….٭….٭

 ” تعارف "

یہ میں ، ہوں ، میں ،

جیسے آپ ،آپ ہیں ،

میں پیدا ہوتے ہی الجھن میں ہوں ،

اگر میں عشق ہوں تو فنا کیوں نہیں ہو جاتی ،

میں سمندر کی بے تاب لہر ہوں تو بہہ کیوں نہیں جاتی۔

میں رقص جنوں میں ہوں ، تو دیوانگی سر کیوں نہیں چڑھتی ،

بے چین روح ہوں تو جسم سے نجات کیوں نہیں پاتی ،

میں ڈرتی ہوں انسانی اشکال میں گھومتے بھیڑیﺅں سے ،

میں نفرت کی آگ میں جلے ہوئے دلوں سے خوف کھاتی ہوں ،

مجھے صحرا سے ڈر لگتا ہے ،

ویرانوں سے بھاگ آئی ہوں ،

زیست کی تمام تر رنگینوں اور ان کی حقیقتوں سے آگاہی ہے،

ہجوم دوستاں کے سرورمیں بچکانہ کائنات بناتی ہوں ،

کبھی آئینہ رو نظر آتی ہوں ،

کبھی ہنستی ہوں خود اپنی نادانی پر ،

کبھی بے سبب اداس بہت ہوتی ہوں ،

کبھی سوچتی بے تحاشا ہوں ،

کبھی لکھتی ہوں ایسے کہ ہر لفظ روح کا درد اگل دیتا ہے

اور کبھی تمام کے تمام الفاظ کھو جاتے ہیں ،

بناوٹ اور دکھاوے ان کو نگل جاتے ہیں ،

میں کبھی بنجر ہوں اور کبھی جنم کو جنم دیتی ہوں،

میں جذبوں ، خوابوں اور دعاو ¿ں کو بہت سنبھال کے رکھتی ہوں

اور ان سے دھاگے لےکر خود کو بنتی ہوں،

میں روشنی نہیں مگر میں تاریکی بھی نہیں ،

ایک شام کا سا ملگجا ہوں کبھی

تو کبھی دن کا دھندلکا ہوں

ایسی بہتی ہوئی ندی ہوں

جس کے کنارے کئی گیت ،

کئی نغمے مدھر تانوں میں لپٹے اترتے ہیں،

میں زندگی کے سمندر کی تمام لہروں کو چھوتی ہوں

اور موتی موتی کہانیوں میں ٹانک دیتی ہوں ،

سچے سلمہ اور روپہلے گوٹے کی طرح،

میں خواب جیتی ہوں،

میں حقیقت کو پینٹ کرتی ہوں کہ میں حقیقت ہوں ،

اپنے ارد گرد ہر اچھی بری حقیقت کا حصہ ہوں،

میں سرتا پا موم ہوں ،

ہر عام عورت کی طرح مجھے جو بنا دو ، میں بن جاتی ہوں ،

ہر ماحول میں ڈھل جاتی ہوں ،

مجھے برا سمجھا جائے تو بھی اچھا

اور اچھا سمجھا جائے تو بھی کیا برا ،

!!!

یہ میں ہوں ،میں !!

٭….٭….٭

کہانی بس اتنی سی تھی

کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں

کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں

یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہ داری تھی

یا ایک بس اسٹاپ تھا

جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے

اور چلے جاتے تھے

جیسے ایک ہوٹل تھا جہاں کچھ دیر کے لیے لوگ ٹھہرتے تھے

اور میں ان کو اپنی کہانی میں کچھ دیر کردار رکھتی تھی

کہانی میری تھی ہی کیا

میرا اپنا کردار تو سب میں بٹا ہوا تھا

جو دکھائی کسی کو نہ دیتا تھا

میں اپنی زندگی کی کہانی میں ہی خود

ایک کردار کو جنم دیتی تھی

ایک کردار کو مارتی تھی

میری کہانی بھی کتنی عجیب تھی

کہ اس میں اصل اور خالص کچھ تھا ہی نہیں

ایک گھڑی ہوءنقلی اور بناوٹی زندگی

کے علاوہ

کہانی تو بس اتنی سی تھی

کہ کہانی کچھ تھی ہی نہیں !!

٭….٭….٭

اب وہ کیا کر رہا ہوگا ؟

اب مجھے کسی اور سے محبت ہوگئی ہے

اور وہ مجھ سے نفرت کررہا ہوگا

میں خوش ہوں کتنی

وہ اپنے گھر میں اداس ہوگا

میرا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر

ہاتھ وہ اپنے مل رہا ہوگا

میری باتوں میں کسی اور کے لفظ سن کر

اپنے لفظوں پر شرمندہ ہورہا ہوگا

میری آنکھوں میں کسی اور کا عکس دیکھ کر

اپنی ہی نظروں میں گر رہا ہو گا

میں مسرور ہوں کسی کی ہو کر

یہ سوچ کر وہ خود سے ہی کٹ رہا ہوگا

اب میری باتوں میں وہ لفظ مہمل کی طرح ہے

وہ اپنی یادوں میں مجھے تفصیل سے سوچ رہا ہوگا

اچھا وقت جو گزراتھا ساتھ میں اس کے

اسے وہ وقت بہت برا لگ رہا ہو گا

میں کسی کی ہوچکی دل وجان سے اب

اور وہ خود سے جدا ہو چکا ہو گا

اب مجھے کسی اور سے محبت ہوگئی ہے

اور وہ مجھ سے نفرت کر رہا ہوگا !

٭….٭….٭

"اکیسوی صدی کا عشق”

مجھے اور تمہیں کوئی ڈر نہیں

نہ کوئی وعدہ وفا کرنا ہے

نہ کوئی امید چراغ جلانا ہے

ایک شادی تھی فرسودہ رسم زمانے کی

وہ مرحلہ بھی طے کر چکے ہم

اپنی اپنی جگہ ہم کتنے مطمئن ہیں

اب ملنے ،بچھڑنے کا عذاب ہے کب

اب جستجو وصال کیسا

اب لذت لمس کی کسے تمنا

نہ زمانے کی فکر

نہ لوگوں کا خوف

ہم ان تمام جذبوں سے کتنے آگے نکل گئے ہیں نا

ہاتھوں کی پوروں میں سمٹ آئے ہیں

تم لمحہ لمحہ میرا انگ انگ چھوتے ہو

میں بھی اپنے سرہانے تمھارے لفظ پیتی ہوں

انگلی کے ایک اشارے پر دنیا کتنی سمٹ آئی ہے

ہم کو کتنا قریب لے آئی ہے

اور مجھے اور تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہے۔۔

کیوں کہ میں نے بھی اپنے موبائل کا پاس ورڈ کسی کو نہیں بتایا۔۔۔!

٭….٭….٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شوبز سے تازہ ترین۔۔ اشفاق حسین

 خلیل الرحمن قمر کے الزامات ،عروہ حسین کا جواب  اداکارہ عروہ حسین رائٹر وڈائریکٹر خلیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے