سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 12

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 12

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 12

 اس دن آفس سے آ ف تھا۔ آیت النساءسکون سے اپنے صبح کے معمولات سے فراغت کے بعد فریش ہوئی،پھر ڈٹ کر ناشتہ کرنے کے بعد کاریڈور میںبیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی۔اس کے گیسو ابھی گیلے تھے۔اس دن دادا جی صبح ہی صبح کہیں چلے گئے تھے۔ ایسے میں اس کا فون بج اٹھا۔اس نے اسکرین پر دیکھا، وہ فون شکیل کا تھا۔ کال رسیو ہو تے ہوئے شکیل نے کہا

” میں نے سوچا ابھی سو رہی ہو گی ۔“

” نہیں، میں اتنی دیر تک سو ہی نہیں سکتی۔“ اس نے کہا

” ٹھیک ، اچھا کیا پروگرام ہے آ ج ، کہیں بزی تو نہیں؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، کہیں بھی بزی نہیں، خیر ہے ؟“ اس نے جواب دیتے ہوئے پوچھا

” میں چاہ رہا تھا ، آج کہیں باہر جایا جائے ۔کسی پارک میں یا….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بولی

” میرا من چاہتا ہے کہ آ ج میں گھر پر رہوں۔“

” چلیں ٹھیک ہے ، میں آتا ہوں ۔“ اس نے کہا اورفون بند کر دیا۔آیت نے فون رکھا اور مسکراتے ہوئے اخبار اٹھا لیا۔وہ اخبار پڑھتے ہوئے شکیل کے بارے میں سوچنے لگی ۔

زیادہ وقت نہیںگزرا تھا، شکیل اس کے پاس وہیں آ گیا۔ اس وقت تک ملازمہ اس کے پاس چائے رکھ گئی تھی،جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ وہ اس کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا

” واہ ۔! میں بھی چائے کی طلب محسوس کر رہا تھا۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک مگ اپنی جانب سرکا یا اور پھر اس میں سے سپ لے لیا۔

” اس کا مطلب ہے تم چائے پینے آ ئے ہو یہاں۔“ آ یت نے مسکراتے ہوئے کہا

”نہیں، میں صرف تنہائی محسوس کر رہا تھا۔اگر چائے کے ساتھ باتیں بھی میسر آ جائیں تو یہ احساس نہیں رہتا۔ “ اس نے صاف انداز میں کہا ۔ آ یت اس کی بات نہ سمجھ پائی تھی۔ کیونکہ اسے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ اپنے احساسات بیان کرتا ہے ، یا پھر اُس کا علاج کرنے کی غرض سے ایسی باتیں کہتا ہے ۔ سو وہ خاموش رہی۔ اس پر وہی بولا،”زندگی کا احساس تبھی ہوتا ہے جب ہم کسی دوسرے کو دیکھیں، ورنہ پتہ ہی نہیںچلتا۔“

” یہ بات تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ۔جس طرح پانی میں ، آ ئینے میں انسان اپنے آ پ کو دیکھتا ہے ، اسی طرح ہم دوسرے انسان کو دیکھ کر اپنے آپ کا تجزیہ کرتے ہیں ۔کسی کی طرح کا ہو جانا پسند کرتے ہیں یا پھر اس جیسا ہونا نا پسند کرتے ہیں۔“ آ یت نے کہا اور چائے کی چسکی کی ۔

”یہ ہونے اور نہ ہو نے کا معیار کیا ہوگا؟“ شکیل نے یونہی سوال کر دیا

” ظاہر ہے ہماری سوچ، ہمارے اندر ہی کہیں کوئی پیمانہ بنا ہو تا ہے نا۔جو ہماری سوچ نے ہی بنایا ہوتا ہے ، ہم اسی ویژن سے دیکھتے ہیں۔بعض اوقات وہ حقیقت ہوتی ہی نہیںہے ، جسے ہم حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ چاندنی میں کسی شے کا رنگ اور سورج کی روشنی میں اسی شے کا رنگ مختلف ہوگا۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

”یہی بات میں کہنا چاہ رہا ہوں ۔ہم اگر اپنی سوچ کو بدل لیں توزندگی کا ویژن بدل جاتا ہے ۔“ شکیل نے مسکراتے ہوئے کہا

” طاہر ہے پھر سوچ کو پرکھا جائے گا کہ وہ حقیقی ہے یا نہیں؟ سوچ کو ہم خود قبول کرتے ہیں کوئی دوسرا ہم پر تھوپ نہیں سکتا۔ ہماری کمزوریاں ہیں ، غیر حقیقی سوچ کو ہم تک رسائی دیتی ہیں۔اور وہ لوگ انتہائی جہل کا شکار ہیں کہ جو اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ سوچ کا نتیجہ ہی اس کے حقیقی اور غیر حقیقی ہونے کا راز فاش کر دیتا ہے ۔“ آ یت نے سنجیدگی سے کہا

”بالکل ایسا ہی ہے ۔جیسے تم نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیااور….“ اس نے کہنا چاہا تو آ یت نے تیزی سے کہا

” نہیں، میں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ میرے فیصلے کی بنیاد کچھ دوسری ہے ۔“

” کیا ہے بنیاد؟“ شکیل نے بھی اتنی ہی تیزی سے پوچھا

”وہ تم اس وقت تک نہیں سمجھ پاﺅ گے جب تک تم خود اس تجربے سے نہیںگزرو گے۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی تو سکون سے بولا

” یہ بات تمہاری بالکل ٹھیک ہے ۔لیکن ایک تجربے کی ناکامی سے زندگی ختم تو نہیںہو جاتی ۔“

”یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم تجربے سے سیکھتے ہیں،لیکن کیا ہم اسی بنیاد کو لے لیں جس میں ناکامی ہو ؟“ آیت نے کہتے ہوئے اس سے پوچھا

” میں سمجھا نہیں؟“ اس نے پوچھا

”تم زندگی کے جس دوراہے پر ہو، کیا وہاں تمہارے حالات لے کر آ ئے ہیں؟کیا حالات خود بخود بن جاتے ہیں یا اس میں ہمارا بھی کوئی عمل دخل ہوتا ہے؟تم نے زندگی کو اپنی ہی سوچ سے دیکھا ، جو تم نے پڑھا ، سیکھا اسی کے مطابق ۔جس کا نتیجہ جو ہوا وہ تمہارے سامنے ہے ۔سو ۔! کیا تم وہی تجربہ دہرانا پسند کرو گے ؟“ آیت نے کہتے ہوئے اسکے چہرے کی طرف دیکھا

” بالکل نہیں، لیکن تم اس علم ہی کی نفی کر رہی ہو ۔ کیا یہ اس علم کی حقیقت سے انکار نہیں؟“ شکیل نے پوچھا تو وہ پر سکون لہجے میںبولی

” بالکل نہیں، میں نے انکار نہیںکیا ، بلکہ اس علم کی تکمیل کی بابت کہا۔صرف انسان کی مادی زندگی نہیںہے،اس کی روحانی زندگی بھی ایک حقیقت ہے تو پھر اس کا انکار کیوں؟ “ آیت نے کہا تو شکیل اس کی بات سن کر چند لمحے خاموش رہا پھر بولا

” اچھا چھوڑو ان باتوں کو ، میں آج تم سے ایک بڑی اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔“

” اہم بات ؟“ آیت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” جی ہاں ، لیکن شرط یہی ہے کہ تم نے ناراض نہیں ہونا۔“ شکیل نے سنجیدگی سے کہا

” بولو، اگر ناراض ہو بھی گئی تو تھوڑی دیر کے لئے ہوںگی، پھر مان جاﺅں گی ۔“ وہ شگفتہ لہجے میں بولی تب شکیل مسکراتے ہوئے بولا

” تو پھر سنو۔! تمہیں شاید پتہ ہے کہ نہیں،ہمارے بڑے ، مطلب میرے والدین اور تمہارے دادا، ہم دونوں کی شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔“

شکیل نے یہ سمجھا تھا کہ یہ خبر آیت کے لئے دھماکہ خیز ثابت ہوگی لیکن آیت کے چہرے پر ذرا سا بھی ، کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں ابھرا ۔ وہ جس طرح پر سکون تھی ، ویسے ہی رہی، چند لمحے خاموشی کے بعد وہ بولی

” میں اسی دن سمجھ گئی تھی شکیل ، جب دادو نے تمہیں میرے علاج کے لئے تمہیںمقررکیا تھا۔انہوں نے اگر ایسا سوچا تو کوئی اچنبھے والی بات نہیںہے۔“

”میں اس بات کا مطلب کیا لوں ، کیا تم اس رشتے پر راضی ہو ؟“ شکیل کے لہجے میںکافی حد تک حیرت الجھی ہوئی تھی ۔

” میرے راضی ہونے یا نہ ہونے کاکوئی سوال نہیں یہاں، دونوں طرف سے ایسا سوچا گیا۔ یہ ان کی سوچ ہے ۔ جیسے تمہیں بھی ضرورت ہے ، ساتھی کی ، بیوی کی ، یا تنہائی کا مدوا، کچھ بھی ۔“

” کیا تمہیں ضرورت نہیں؟“شکیل نے حیرت سے پوچھا

” نہیں، ضرورت نہیں، بلکہ میں ان سب سے بے نیاز ہو چکی ہوں۔“ وہ سکون سے بولی

” بے نیاز ، میں سمجھا نہیں؟“ اس نے حیرت ہی سے پوچھا

” ابھی تم نہیں سمجھو گے شکیل ، تم میرے بارے میں تو سوال کر رہے ہو ، اپنے بار ے میں بتانا پسند کرو گے کہ کیا تم مجھ سے شادی کرنا پسند کرو گے؟ کرو گے تو کیوں؟“ آ یت نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گیا۔وہ کچھ لمحے خاموش رہا پھر گہری سنجیدگی سے بولا

” میں سچ کہوں تو اس بارے میں نے سوچا ہی نہیں، والدین سوچ رہے ہیں کہ میری شادی ہو جائے اور ظاہر ہے مجھے بھی ضرورت ہے ۔لیکن جو تم نے پوچھا کہ ساتھی کی ، بیوی کی یا تنہائی کا مدوا، اس بارے میں نے نہیںسوچا۔“

” تو سوچو،زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ ،جو ضرورت کے تحت ہے ، بنیادی ضرورت کیا ہے ؟ یہ سوچ لو ، پھر ہم اس پر بات کریں گے ۔“ آیت نے بڑے تحمل سے کہا

”لیکن اگر فیصلہ کرنا ہی پڑ جائے تو ….“ اس نے پوچھا

” یہ قبل از وقت بات ہے ۔اس پر سوچنے کی ضرورت نہیں۔پہلے تم خود اپنا اطمینان کرو ، باقی ساری باتیں بعد کی ہیں۔“ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی

شکیل خاموش ہو گیا۔ اسکے مگ میں پڑی ہوئی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس کے پاس کہنے کو کوئی بات نہیں تھی ۔وہ خاموشی میں کتنی دیر تک یونہی بیٹھا رہا۔ پھر اٹھتے ہوئے بولا

” ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ۔“

” اوکے ۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ گیٹ کی جانب چل پڑا۔

ز….ژ….ز

طاہر کا بھی اس دن آ ف تھا۔ وہ فارم ہاﺅس ہی میں سرمد کے ساتھ واک کر رہا تھا۔اس نے گرین ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا، جبکہ سرمد نے نیوی بلیو،جس میں پیلے رنگ کی دھاریاں تھیں۔وہ دونوں واپس لان میں آئے ، جہاں طاہر کو توقع کی تھیں کہ رابعہ ان کے لئے جوس لئے بیٹھی ہوگی ۔ مگر وہاں ساجد بیٹھا ہوا تھا۔ساجد ان دونوں کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ طاہر اس سے گلے ملا تو سرمد نے بھی اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے پوچھا

” تم یہاں باہر کیوں بیٹھے ہوئے ہو ؟“

” بھابھی نے تو کہا تھا لیکن میں یہاں تھوڑا اچھا محسوس کر رہا تھا۔“

” تمہاری تھکن سے تو لگتا ہے ، ابھی آ ئے ہو ؟تم فریش ہوجاتے ۔“ طاہر نے اس سے کہا

”سیدھے بہاول پور سے ہی آ رہاہوں ۔میں وہاں رہنا نہیںچاہتا تھا ، فون بھی بند کیا ہوا ہے میںنے ۔“ اس نے تلخی سے کہا

” ہاں ، مجھے رات پتہ چل گیا تھا۔خیر آ ﺅ ۔ فریش ہو جاﺅ ، پھر ناشتہ کرتے ہیں۔“ طاہر نے اندر کی جانب مڑتے ہوئے کہا

بہاول پور والا انتخابی نتیجہ وہی نکلا، جس کے بارے میں طاہر کو بہت پہلے ہی سے اندازہ تھا۔اس کے بابا سکندر حیات کا امیدوار ہار گیا اور بزنس کمیونٹی کا جو امیدوار تھا، وہ جیت گیا تھا۔ ایسا کیوں ہوا ؟اس ہار جیت کی جو بھی وجوہات تھیں، ان سے قطع نظر، طاہر یہی سمجھ رہا تھا جب سوچ کی بنیاد میں تفریق ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ بھی ویسا ہی نکلتا ہے۔

ناشتے کے بعد طاہر اور ساجد باہر لان میںآ کر بیٹھ گئے ۔ساجد نے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور اس میں سے سگریٹ نکال کر طاہر کی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا

”یہ لو ۔“

” نہیں ، میں نے سگریٹ چھوڑ پینا چھوڑ دیا ۔“ طاہر نے کہا

” کب سے ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” کافی عرصہ ہو گیا،سرمد کو پسند نہیں۔“ اس نے جواب دیا

” اچھا کیا۔“ اس نے سمجھتے ہوئے کہا پھر اپنی سگریٹ سلگا کر بولا،” انکل سکندر حیات نے امیدوار کے انتخاب سے لے کر الیکشن کا نتیجہ آ جانے تک تم سے رابطہ تک نہیںکیا ۔تمہاری خاموشی الیکشن پر اثر انداز ہوئی ۔ انکل بھی اور عوام بھی اس بات کو جانتے ہیں۔“

”ہاں۔! ایک راہ نکلی تھی ۔ اماںفارم ہاﺅس پر آ ئی اور واپس چلی گئی ۔ میںجانتا ہوں، اماں نے کوئی صلح کی راہ نہیں دکھائی۔ رابعہ نے مجھے کچھ نہیں بتایا، مگرکوئی ایسی بات تو ہے جس پر رابعہ خاموش ہو گئی تھی۔“طاہر نے کہا جس پر ساجد بولا

” تم بھی پلٹ کر بہاول پور نہیںگئے۔“

 وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اسے جو بھی معلومات مل رہی تھیں وہ ساجد ہی اسے دے رہا تھا۔ سو اس پر تبصرہ کئے بنا اس نے کہا

 ”مجھے الیکشن سے ، ہار جیت سے کوئی مطلب نہیںتھا لیکن یہ ضرور امید تھی کہ اسی بہانے کوئی واپسی کی راہیں نکل آتیں، مگر اب وہ بھی ناممکن ہو گئی ہیں۔“

” ناممکن ، وہ کیسے ؟“ ساجد نے پوچھا تو وہ بے چین ہو کر کہتا چلا گیا ۔

”بابا اگر جیت جاتے تو شاید کوئی راہ نکل آ تی جس کا امکان کم تھا۔ وہ اِس جیت کو اپنے کھاتے میں ڈال کر بس مزید دباﺅ ڈالتے یا ان کی ضد زیادہ بڑھ جاتی۔ اب ہار جانے سے شکست کا سارا بوجھ مجھ پر ہوگا۔ میں ہی شکست کی وجہ سمجھا جاﺅں گا۔ ضد کی آ گ پر شکست کی شرمندگی کا تیل پڑے گا تو غصہ کی حدت بڑھ جائے گی ۔ اب ان کا عتاب مجھ پرکیسا ہو سکتا ہے، میںوہ تو نہیںجانتا تھالیکن حالات بن گئے ہیں جن سے محبتوں کی راہیں بند ہو گئی ہیں۔ نفرتیں بڑھ جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔“

” اللہ کرم کرے گا ، کوئی راہ نکل آ ئے گی ۔“ ساجد نے یوں تسلی دی جیسے اسے بھی کوئی امید نہ ہو ۔

” ہاں ، وہی ہے جو کوئی راہ نکالے گا۔“ وہ پر امید انداز میں بولا تو ان میں خاموشی چھا گئی۔ساجد نجانے کیا سوچ رہا تھا ۔ لیکن طاہر اپنے بارے میں سوچنے لگا۔

اس کی زندگی بہت محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ صبح ہی سے سرمد کو اپنے ساتھ واک پر لے جاتا۔ واپس آ کر جب تک وہ تیار ہوتا، رابعہ بھی سرمد کو تیار کر دیتی۔ سبھی ناشتہ کرتے اور وہ سرمد کو سکول چھوڑ کر آ فس چلا جاتا۔ اس کی پوری کوشش ہوتی کہ سرمد کو سکول سے لے کر فارم ہاﺅس جائے تاہم آفس میں زیادہ کام ہو نے کی وجہ سے ڈرائیور اسے لے فارم ہاﺅس چھوڑ آ تا تھا۔ شام کا وقت وہ سرمد کو لے کر کھیل میںمیدان میں گذارتا، پھرڈنر تک وہ سرمد کے ساتھ رہتا۔ اس کے بعد وہ کچھ دیر ٹی وی لاﺅنج میں رہ کر بیڈ روم میں چلا جاتا۔ یہ معمولات انہی دنوں بدلتے جب اسے اسلام آ باد جانا پڑتا۔ یاپھر ایک دن کا تھوڑا سا وقت ، جب وہ ذیشان شاہ صاحب کے پاس جاتا تھا۔

سرمد اس کے ساتھ پوری طرح جُڑ گیاتھا۔ خود طاہر بھی سرمد سے بے حد محبت کرنے لگا تھا۔ اس کی وجہ سرمد کی معصویت تھی۔ اس نے طاہر کو اپنے پاپا کے روپ میں پایا تو اس نے اپنی بے پایاں محبت دی ۔اس کے اندر اپنے باپ کی جو محبت تھی وہ طاہر کو دے رہا تھا۔طاہر زندگی میں پہلی بار ایک ایسے انوکھے تجربے سے گذر رہا تھا کہ بے لوث محبت کیا ہوتی ہے ۔ کتنی قوت ہوتی ہے بے غرض محبت میں ۔شاہ صاحب جس بے رنگ محبت کی بات کرتے ہیں، اسے اندازہ ہورہا تھا۔ وہ محبت جو بے رنگ ہو تی ، وہ اپنے رنگ زندگی میں کیسے بھرتی ہے، یہی تجربہ طاہر پر گذر رہا تھا۔اور وہ اس سر مستی میں بہت سکون محسوس کر رہا تھا۔ایک طرف اس کے بابا کی ضد تھی، اور دوسری جانب سرمد کی بے لوث محبت، اس کا فیصلہ ہمیشہ سرمد کے لئے ہی ہوتا تھا۔

” یار ویسے ایک بات کی مجھے سمجھ نہیںآئی ، تم سمجھے ہوتو مجھے سمجھاﺅ۔“ کافی دیر بعد ساجد نے سگریٹ کو ٹیبل کے ساتھ مسلتے ہوئے جارحانہ لہجے میں کہا

” کون سی بات ؟“ طاہر نے پوچھا

” یہ کہ آ یت نے آ خر تمہیں کیوں پھنسا دیا؟ اور تم بھی پھنس گئے؟“ اس نے مایوسانہ انداز میں پوچھا

” تمہیں کس نے کہا کہ مجھے آیت نے پھنسایا ہے یامیں پھنسا ہوں، نہیں ایسا نہیں ہے ۔ رابعہ سے شادی میرا اپنا فیصلہ ہے ۔“ طاہر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”یار یہ تمہارا سیاسی بیان ہے یا اپنی شرمندگی مٹانے کو کہہ رہے ہو یا پھر آیت کو بچانے کی کوشش۔کیا میں نہیںجانتا ، تم آیت سے شادی کے خواہش مند تھے، اس سے عشق کا دعوی کرتے تھے۔“ ساجد نے دبے دبے غصے میں سر مارتے ہوئے کہا تو وہ بہت زیادہ پیار سے بولا

” میں اس سے اب بھی عشق کرتا ہوں ۔یہ شدت بڑھی ہے کم نہیںہوئی ۔“

” اب مجھے تمہاری دماغی حالت پر شک ہونے لگا ہے ۔اب بھی اس سے عشق ؟ رابعہ سے شادی کر لی ، عشق آ یت سے ، یہ کیا گورکھ دھندا ہے ، مجھے بھی سمجھاﺅ ؟“ اس نے انتہائی طنزیہ لہجے میں کہا

”چونکہ تم ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے ، اس لئے نہ سمجھو تو ہی بہتر ہے ۔کوئی اور بات کرو ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولا تو ساجد نے اکتاتے ہوئے کہا

”مجھے کوئی بات نہیںکرنی ، تم گیسٹ روم کھلوا دو، میں نے دو تین دن ادھر رہنا ہے ، میںنے وہاں جا کر لوگوں کی باتیں نہیںسننی۔ساری الیکشن کی تھکن ادھر ہی اُتارنی ہے ۔“

” پکی بات ہے اب اس موضوع پر بات نہیںکرو گے؟“ طاہر نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا

” پکی بات ہے۔“ اس نے غصے میں کہا اور ایک دم سے ہنس دیا۔

” میں کہتا ہوں کسی سے ۔“طاہر یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا۔

ز….ژ….ز

شکیل اپنے کلینک میں بیٹھا سوچتا چلا جا رہا تھا۔ کیا اسے جیون ساتھی کی ضرورت ہے جو زندگی بھر اس کا ساتھ نبھائے، ایک بیوی چاہئے ، جو اس کے نئے خاندان کی بنیاد رکھے ، یا محض تنہائی کا مدوا کرنے والی کو ذی روح چاہئے جس سے اس کی تنہائی ختم ہو سکے۔اس کی سوچ تو بہت دور تک گئی تھی۔ مگر اس نے خود کو وہیں تک محدود رکھا، جہاں تک آ یت نے بات کی تھی ۔وہ ان تینوں میں فرق سمجھ سکتا تھا۔ اسے یہ بھی سمجھ تھی کہ کوئی بھی تعلق ہو ،وہ جمع تفریق کے ساتھ نہیںنبھایا جاتا، بلکہ اس کے لئے بنے لوث محبت چاہئے ہوتی ۔

وہ شارلین بارے سوچتا تو اسے بہت سارے خلا نظر آ تے ۔ کہیں اُس کی طرف سے کہیں اپنی طرف سے ۔ان کے ہاں دولت کوئی مسئلہ نہیںتھا، اس کے پاس بھی بہت دولت تھی ، شارلین بھی بہت اچھا کماتی تھی۔لیکن نجانے یہ مسئلہ بھی کہیں سے آ گیا۔ہر چیز ہونے کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔ پہلے پہل شکوے شکایت پیدا ہوئے ، کچھ عرصہ بعد وہ ایک دوسرے کو وقت نہیں پاتے تھے۔ وقت آگے بڑھا تو ان میں تلخیاں دَر آئیں، جو جھگڑوں کی بنیاد بننے لگیں۔ یہاں تک کہ ان میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ اگر ان میں حقیقی محبت ہوتی ، وہی جو باطن سے بے رنگ ہوتی ہے تو شاید وہ آج ایسا سوچ بھی نہ رہا ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت کرنے کے باوجود آج وہ تنہا ہے ۔

آج جو اس نے آیت سے بات کی ، کیا انہی تعلقات کو بنانے کی بات تھی ؟ اگر ایسا ہو بھی تو کیا وہ آیت سے محبت کرنے لگا ہے ؟ اگر نہیں کرتا تو کیا وہ اسے ایسی محبت دے پائے گا ، جس کا تصور آ یت کے پاس ہے؟وہ تو اس کا علاج کرنے نکلا تھا، کیا وہ خود اس کے خیالات سے متفق ہو گیا ہے ؟اگر بالفرض محال اس کے والدین کی خواہش کے تابع ان دونوں کی شادی ہو بھی جاتی ہے تو کیا وہ آ یت کو محبت دے پائے گا ؟ وہی محبت جو آ یت چاہتی ہے یا وہ محبت جس پر اس کا اپنا یقین ہے ؟

وہ سامنے دھرے کاغذ پر آڑھی ترچھی لکیریں مارتے ہوئے سوچتا چلا جا رہا تھا۔ سوال در سوال اس کے سامنے چلتے چلے جا رہے تھے جن کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔

” میرے پاس تو وہی ویژن تھا نا جو دادا جی نے دیا، میں نے اسی پس منظر میں اسے سمجھا۔“ اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا

” مگر پھر جب اس کے خیالات جان لئے ، سمجھ لئے تب ، پھر تو بات نہیںکرنی چاہئے تھی نا۔“ اس کے اندر سے آ واز ابھری ۔

” میں اس کا اہل ہو سکتا ہوں ۔“ اس نے خود کو پھر تسلی دی

”لیکن جو ابھی سوال تمہارے سامنے آ ئے ہیں ، ان کا جواب تو دے دو اگر دے سکتے ہو تو،ورنہ تمہیں کوئی حق نہیں کہ تم کسی کی زندگی کو ڈسٹرب کرو۔“ اندر سے پھر آ واز ابھری

”کیا مجھے اب انتظار کرنا ہوگا کہ مجھے آیت سے محبت ہو جائے یا جسے بھی جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں اس سے ؟“ اس نے خود سے سوال کیا

” ظاہر ہے اگر اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہے تو ورنہ تمہارے پاس ایک تجربہ تو ہے ہی ۔“ اندر سے اسے معقول جواب ملا

اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا قلم رکھ دیا اور پیچھے ہٹ کے کرسی سے ٹیک لگا لی ۔وہ اُلجھ گیا تھا۔

ز….ژ….ز

شام ہو چکی تھی۔طاہر واپس آیاتو سرمد اس کے انتظار میں تھا۔اس نے آتے ہی کہا

” پاپا ۔! آ ج آپ نے بہت دیر کر دی ۔“

” ہاں بیٹا، آج آفس میں بہت کام تھا۔آپ سناﺅ کیسا دن گزرا؟“ طاہر نے سرمد کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھاتے ہوئے پوچھا

” بہت اچھا، آج ہمیں بھی سکول میں بہت کام ملا ۔ابھی ختم کیا ہے ۔“ سرمد نے بتایا

” گڈ بوائے،پھر آج کیا پروگرام ہے ؟“ اس نے پوچھا شاید سرمد کوئی بات کہنا چاہتا ہو

” نہیںپاپا ، میں بہت تھک گیا ہوں ، اب میں آرام کروں گا۔“ اس نے تھکے ہوئے انداز میں کہا

” ٹھیک ہے ، لیکن ڈنر کے بعد ۔“ طاہر نے کہا

”اوکے۔“ اس نے سرہلاتے ہوئے کہا اور اٹھ گیا۔

طاہر فریش ہو کر گیسٹ روم کی جانب چل دیا۔

ساجد بیڈ پر لیٹا ہوا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریموٹ تھا۔ طاہر پر نگاہ پڑتے ہی اس نے ٹی وی بند کر دیا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ طاہر اس کے پاس دھرے ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

” کیسا رہا دن ؟“

”میں توآج جی بھر کے سویا ہوں۔کبھی اتنا نہیںسویا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” ہاں تمہیں تھکن بھی تو کئی دنوں کی تھی ۔“ وہ دھیمے سے لہجے میں بولا

” سیاست بھی عجیب کھیل ہے یار ، کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ، ہم اپنی تھوڑی سی طاقت حاصل کرنے کے لئے ، بہت سارے ایسے لوگوں کو طاقت ور بنا دیتے ہیں، جو یہ کھیل ہی طاقت کا کھیلتے ہیں۔“ ساجد نے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا

”اصل میں جب ہمارے پاس کوئی ویژن نہیںہوتا نا تو ہم ایسے ہی روایتی کھیل میں شامل ہو جاتے ہیں۔لاشعوری طور پر ہم اس سٹم کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔جو اسی روایت کو پختہ کرتا چلا جاتا ہے ۔“ طاہر نے اپنا خیال ظاہر کیا تو ساجد چند لمحوں کے خاموش ہو گیا۔پھر جھجکتے ہوئے بولا

” یار طاہر میں نے ایک بات سوچی ہے ۔جس سے انکل سکندر حیات کا غصہ ختم ہو سکتا ہے اور تمہارے معاملات بھی ویسے کے ویسے ہی رہیں گے ۔“

” ایسا کیا سوچا تم نے ؟“ اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا

”دیکھو۔! انکل صرف اس لئے تمہاری اور رابعہ کی شادی سے ناراض ہیں کہ تمہارا یہ سٹیٹس ہی نہیں ۔انہیں رابعہ سے نہیں، لوگوں کا ، عوام کا خوف ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔مطلب سکندر حیات کی بہو ایک ایسی عورت ہے ، وغیرہ وغیرہ “ اس نے سمجھاتے ہوئے کہا

” ایک اور بات بھی ہے ۔“ طاہر نے کہا پھر لمحہ بھر خاموشی کے بعد بولا،” وہ بات یہ ہے کہ میں نے ان کی مرضی سے شادی نہیںکی ۔“

” ہاں یہ بھی درست ہے ۔ظاہر ہے جب تم ان کی مرضی سے شادی کرتے تو یہ بھی نہ ہوتا ۔خیر میں کہہ رہا تھا اگر تم اپنے معاملات اپنے والدین کے ساتھ درست کر لینا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی حل ہے۔“ ساجد نے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا

” بولو، کیا ہے حل ؟“ اس نے پوچھا

” اگر آیت النساءمان جاتی ہے، یا دوسرے لفظوں میں اسے تم سے محبت ، یاہمدردی یاتھوڑا بہت بھی مان ہے یا تمہاری بات مان سکتی ہے تو یہ معاملہ حل ہوگا ۔“ ساجد نے طاہر کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا جو بالکل سپاٹ تھا۔کوئی جذبہ وہاں نہیںتھا۔

”تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟“ اس نے کسی حد تک بات کو سمجھتے ہوئے پوچھا

” وہ اگر تم سے شادی کر لے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“ ساجد نے وہ بات کہہ ہی دی

” اگر یہ بات ہے تو وہ پہلے ہی ….“ طاہر نے کہنا چاہا تو ساجد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے کہا

” مطلب ، تم رابعہ کو بھی مت چھوڑو، اسے یہیں اپنے عقد میں رکھو۔لیکن زمانے کے سامنے نہیں ۔ آیت النساءسے ویسے ہی شادی کرو ، جیسے انکل چاہتے ہیں۔ وہ پہلے بھی خواہش مند تھے کہ ایسا ہو جائے، تمہیں پتہ ہے انہوں نے خود جا کر تمہارے لئے بات کی تھی ۔ سب ڈن تھا۔“ساجد نے صلاح دیتے ہوئے سمجھایا۔

” کیا تم سمجھتے ہو ایسا کچھ کرنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“ طاہر نے دھیمی سے مسکان سے پوچھا

” بالکل ، جو چیز انکل چاہتے ہیں ، وہی ہوجائے گا ۔ آیت ان کی خوشی ، رابعہ تمہاری ۔کہیں نہ کہیں تو سمجھوتہ ہو جائے گا نا۔“ اس نے سمجھایا

”پہلی بات تو یہ ہے ساجد ، سچ بتانا ، یہ کیا تمہاری اپنی سوچ ہے یا تم ….“ اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی ۔اس پر ساجد سمجھ گیا تھا کہ طاہر کیاکہنا چاہتا ہے ۔اس لئے فوراً بولا

” اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے کسی نے بھیجا ہے تو یہ بات ذہن سے نکال دو ۔ یہ صرف اور صرف میری اپنی سوچ ہے ۔اگر اس طرح سے کوئی راہ نکلتی ہے تو کیا اچھا نہیںہے ۔“ اس نے وضاحت کرتے ہوئے پوچھا

” میں تو اپنے والدین سے الگ ہونے کا سوچ بھی نہیںسکتا ۔لیکن ساجد میاں اب شاید بابا اس بات پر نہ مانیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو سیٹ ہاری گئی ہے ، یہ صرف صرف آ یت کی وجہ سے ۔ وہ ہر تعلق کو سیاست کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟“ طاہر نے بھی وضاحت کرتے ہوئے اس سے تصدیق چاہی تو ساجد نے سوچتے ہوئے کہا

” ہاں ، تمہاری یہ بات بالکل درست ہے ، میںنے خود ان سے سنا ہے کہ وہ طاہر کے لئے اتنا بڑا سیٹ اپ بنا سکتی ہے ، لاہور سے چل کر بہاول پور میں آ کے بزنس کمیونٹی کو طاہر کے لئے آ مادہ کر سکتی ہے تو ان کا امیدوار جتانے میں آ یت ہی کا ہاتھ ہے ۔ویسے انکل تو اس سے بھی آ گے کی سوچ سوچتے ہیں۔“

” وہ کیا سوچتے ہیں؟“ اس نے پوچھا

”یہی کہ آ یت نے کوئی انتقام لینے کی کوشش کی ہے ۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے پہلے تمہیں ورغلایا ، پھر تمہاری شادی رابعہ ….“ اس نے کہنا چاہا تو طاہر نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے کہا

” میں جانتا ہوں ، وہ اِس وقت آ یت کے دشمن ہو رہے ہیں۔ایسی صورت میں وہ اب آ یت کو کیسے قبول کریں گے ، بلکہ اب تو وہ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔“

” تمہاری بات معقول ہے ۔ایسا ہی ہوگا ۔لیکن اگر بات چیت چلائی جائے ، انہیںبتایا جائے کہ ایسا نہیںہے تو….“ ساجد نے اپنی سی کوشش کی ۔

” بات تو تب چلا ئی جائے نا ، جب اس معاملے کے لئے آ یت سے بات کی جائے ۔وہ راضی ہو تبھی یقین کے ساتھ بات ہو سکتی ہے ۔“طاہر نے کہا

” اسے اعتراض نہیںہونا چاہئے ۔جب تم نے اس کی بات مان لی تو اسے بھی تمہاری بات ماننی چاہئے۔ شریعت میں دوسری شادی کی جا سکتی ہے ۔“ ساجد نے دلیل دی

” اگر ایسا کرنا ہوتا تو میں بہت پہلے کر چکا ہوتا ، اب یہ ایشو نہیںہے ۔ دوسرا سرمد ہمارے درمیان وہ کمٹمنٹ ہے ،جسے میں ہر اعتبار سے نبھانا چاہتا ہوں ۔“ طاہر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

” عجیب بات کرتے ہو تم بھی ، یار اس طرح تو مزید اچھا ہو گا، سرمد کو دو مائیں مل جائیں گی۔بڑی ماما اور چھوٹی ماما۔اگر اس طرح کرنے کو شریعت منع نہیں کرتی ، والدین بھی راضی ہو جاتے ہیں تو کیا جاتا ہے ، میرے خیال میں یہ ایک بہترین راہ ہے ۔“ساجد نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا

” اس کے لئے آ یت سے بات کرنا ہو گی ۔ پہلے اسے راضی کرنا ہوگا تو ہی بات بڑھائی جا سکتی ہے ۔ یا پھر پہلے بابا سے بات ہو وہ اگر راستہ دیں تب بات ہو ؟“ طاہر نے ساجد سے مشورہ کرتے ہوئے پوچھا

”دیکھو، میں آ ج ہی واپس جاتا ہوں ۔میں ان سے بات چلانے کی کوشش کرتا ہوں ، اگر ان کی طرف سے ہاں کا اشارہ ملتا ہے تو پھر تم آ یت النساءسے بات کر لینا۔ میرا خیال ہے کوشش کرنے سے کوئی مثبت راہ نکلے گی ۔“ ساجد نے کہا تو طاہر سر ہلا تے ہوئے بولا

”ٹھیک ہے ، میں اس پر سوچتا ہوں ۔تم بھی سوچو۔ دیکھتے ہیں۔آﺅ ، ڈنر کے لئے۔“

” میں ادھر ہی کروں گا ڈنر ،وہ بھی کافی دیر بعد ، ابھی مجھے بھوک نہیںہے ۔“ ساجد نے کہا تو طاہر اٹھ گیا ۔ اس کے ذہن میں سوچوں کا ایک ریلا بہنے لگا تھا۔

وہ رات کا نجانے کو ن سا پہر تھا جب طاہر کی آ نکھ کھل گئی تھی۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آ نکھ کیوں کھلی ہے ۔ وہ کچھ دیر خالی الذہن سا بیٹھا رہا ۔ اس کے ساتھ بیڈ پر سرمد پڑا ہوا گہری نیند میں تھا۔ اس سے آ گے رابعہ کروٹ لئے لیٹی ہوئی تھی ۔ وہ بھی گہری نیند میں تھی ۔اے سی کی خنک ہوا سے کمرے کا ماحول خوشگوار تھا۔وہ سوچنے لگا کہ ایسا کیوںہوا ہے ۔ وہ جب سویا تھا، اس وقت اس کے ذہن میں ساجد کی باتیں ہی گونج رہی تھیں۔جس قدر اسکی زندگی میں رابعہ اور سرمد کی اہمیت ہو گئی تھی ، اس سے کہیںزیادہ اسے اپنے والدین کی چاہت تھی ۔ایک راہ اگر ساجد نے دکھائی تھی تو وہ غلط نہیںتھی ۔ سوچ اگر حقیقت میں بدل جائے اور سب پہلے جیسا بھرپور محبتوں والا دور واپس آ جائے تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا تھا۔

اس کی سوچ بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔یہ ٹھیک تھا کہ شریعت دوسری شادی سے منع نہیں کرتی لیکن کیا اس میں رابعہ کی مرضی شامل ہو گی ؟ وہ جانتا تھا کہ وہ ایک لفظ بھی نہیں کہے گی اور نہ ہی کسی بھی تاثر کا اظہار کر ے گی ۔ وہ ایک مجبور عورت ہے، جسے آ یت النساءنے سہارا دیا ہوا ہے ۔وہ چاہتے ہوئے بھی ایک لفظ نہ کہہ پائے گی ۔کیا میں اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھاﺅں گا ؟اگر ایسی ہی راہ ہوتی ، یہی ممکن ہو تا تو آ یت یہ شرط رکھتی کہ میرے ساتھ تمہیں رابعہ سے بھی شادی کرنا ہو گی ؟ آ یت اگر چاہتی تو رابعہ کی شادی کسی بھی دوسرے اچھے انسان سے کر سکتی تھی ۔اس نے اگر رابعہ کے لئے اسے پسند کیا تو یہ آ یت کی سب سے بڑی قربانی تھی ۔ اپنی سب سے اچھی شے قربان کر نے کا جذبہ تھا۔

اس کی سوچ بدلی تو اس نے سوچا،اگر وہ ایسا کرے گا تو صرف اپنے والدین کی خوشنودی کے لئے۔اس کا مطلب ہے کہ اب تک اس نے جو کیا وہ والدین کی نظر میں غلط تھا ۔یہ سب کیا تو دراصل دوسرے لفظوں میں وہ یہ ثبوت دے رہا ہے کہ و ہی درست ہے جو اس کے والدین چاہتے ہیں۔اب تک جو اس نے کیا غلط کیا؟

یہ سوچتے ہوئے اس نے ایک طویل گہری سانس لی ۔اس کے تصور میں آیت النساءآ گئی ۔ اس کی کہی ہوئی بہت ساری باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگیں۔ تبھی اس نے سوچا ۔وہ آیت النساءسے عشق کا دعویدار تھا اور اب بھی ہے ۔جس سے وہ عشق کرتا ہے ، اسی نے یہ راہ دکھائی تھی ۔ کیا وہ اس راہ پر چلتے ہوئے تھک گیا ہے؟ ایک امتحان پڑا تو گھبرا گیا؟ اس نے تو بے لوث ہو کر اپنی جان تک دے دی تھی ، کیا وہ ابھی تک اندر سے بے رنگ نہیںہوا؟ کیا دنیا کے رنگ اب بھی اس کے اندر موجود ہیں؟ وہ تو بے رنگ ہونے کے دعویدار تھا ؟ کیا ہوا ؟ جسے سے وہ عشق کادعوی کرتا ہے کیا اتنا ہی عشق تھا؟کیا اس کے رنگ اتنے ہی کچے تھے کہ حالات کی ذرا سی تپش نے وہ سارے رنگ اُڑا دئیے ؟

وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ وہ یہ کیا سوچ رہا تھا؟ کہیں یہی سوچ اس کے عشق کی راہ کھوٹی نہ کر دے ۔وہ بے چین ہو گیا۔اسے کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ انہی لمحات میں اسے آ یت النساءکی کہی ہوئی بات یاد آ گئی ۔

”کوئی بھی محبت ہے اگر اس میں قربانی نہیںتو وہ نری نفسانیت ہے۔مجھے تمہارے عشق کے دعوی پر بھی کوئی اعتراض نہیں، لیکن تم اپنی قبول ترین شے قربان کرو ۔ میری محبت تمہیں سب سے زیادہ قبول ہے تو اسے قربان کر کے دکھاﺅ۔اگر تم اسے قربان کر سکتے ہو تو میںسمجھو گی کہ تم واقعی مجھ سے محبت کرتے ہو ۔قربانی کے بغیر ممکن ہی نہیںہے کہ عشق میں ارتقاءپیدا ہو سکے ۔“

اسے شاہ صاحب سے کی ہوئی بات یاد آ گئی۔

”تو پھر جھانکنا ہے مستقبل میں؟“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور لمحہ بھر رُک کر اس کے چہرے پر دیکھتے رہے، کوئی جواب نہ پا کر بولے،” کیونکہ پھر اس کے لئے آپ کو اپنے عشق سے دستبردار ہونا پڑے گا۔“

” نہیں سرکار ، مجھے میرا عشق چاہئے۔“اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا

” جائیں پھر ، آ پ کا عشق سلامت ہے ۔“ وہ بہت پیار اور خلوص سے بولے۔

اسے رابعہ سے کیا ہوا وعدہ یاد آ گیا۔

” میں کوئی بھی دعوی یا وعدہ نہیں کرتا یہ وقت بتائے گا، میں یہ ڈائری خالی رکھنے کی کوشش کروں گا ، جسے میں نے کبھی نہیں دیکھنا۔“

وہ پر سکون ہوگیا۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ساجد کو منع کر دے گا۔

ز….ژ….ز

اس دن ذیشان رسول شاہ صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے محو گفتگو تھے۔ ان کے سامنے ایک بزرگ، نوجوان اور طاہر بیٹھے ہوئے ہمہ تن گوش تھے۔نوجوان نے سوال کیا تھا کہ باطن کا ظاہر کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔ جس کے جواب میں وہ گفتگو فرما رہے تھے۔

” دیکھیں ۔! عام طور پر اگر کوئی کسی کے ساتھ برائی کرتا ہے تو جس کے ساتھ برائی ہوئی وہ ایک حق رکھتا ہے کہ اپنا بدلہ لے لے۔مظلوم اگر ظالم سے بدلہ لیتا ہے تو اس پر حد نہیں،سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ بدلہ لینا اس کا حق ہے ۔برائی کا جواب برائی میں دیا جائے یا یوں کہہ لیں برائی کا بدلہ برائی سے لیا جائے تو وہ برائی ہی رہتی ہے ، وہ کبھی اچھائی نہیں بنتی ، جیسے گالی کابدلہ گالی ، تو گالی یہاں اچھائی نہیںبن گئی وہ برائی ہی رہے گی ۔ جبکہ۔! انسانیت کا اعلی ترین معیار یہ ہے کہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیا جائے۔یہ باطنی لطافت ہے ، جس کا تعلق صریحاً باطن سے ہے ۔یہ کوئی فلسفہ نہیں دنیا کے اعلی ترین انسان نے کر کے دکھا دیا۔مثلاً طائف والوں نے جو سلوک کیا، اس پر آپ رحمتہ العالمین ﷺ کا ردعمل کیا تھا،مکّہ میں جو ہوا ، ایک خاتون جو روزانہ آپ ﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی، پھر مکہ والوں نے ہی شعب ابی طالب میں تین برس تک رکھا لیکن جب مکّہ فتح ہوا تو آ پ نے عام معافی کا اعلان کر دیا، اس معافی میں نجانے کیا کیا کچھ تھا۔ اگر باطن بے رنگ ہے تو اعمال بھی بے رنگ ہی ہوں گے۔“

”جس طرح ظاہر کو فنا ہے، اس میں توڑ پھوڑ ، شکست و ریخت ہے ، کیا ایسا باطن میںبھی ہے ؟“ اسی نوجوان نے سوال کیا

”ظاہر میں تغیر ہے جبکہ باطن میں تغیر نہیں۔ہم زندگی کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں لیکن ہمارا باطن بالکل ویسا ہی رہتا ہے ۔ نہ اس میں چھوٹا ہوتا ہے اور نہ بڑا۔اسے آپ اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں کہ جب ہم آ ئینہ دیکھتے ہیںتو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم بڑے ہو گئے ہیں۔بال سفید ہوگئے ہیں، چہرے پر جھریاں پڑ گئی ہیں۔لیکن اندر وہی ہے ، جس سے ہم اپنے آپ کو ماپ رہے ہوتے ہیں،کہ ہم کہاں تک آ پہنچے ہیں۔ہر انسان کے اندر ایک روحانی شخصیت موجود ہے جسے ایکٹیویٹ کیا جا سکتا ہے ۔جو انسان اس روحانی شخصیت کو ایکٹیویٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ ظاہرکی شکست و ریخت سے آ زاد ہو جاتا ہے ۔ یہ ایکٹیویشن عشق ہی سے ہوتی ہے ۔ “

” کیا مثبت منفی کو انسان کی بقا کا ضامن قرار دیا جا سکتا ہے ؟“

” منفی اور مثبت ، یہ انسان کی بقا کا ضامن نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات جب سے بنی ہے ، اس میں موجود ہر شے مٹی ہو رہی ہے ۔کوئی جتنا بھی طاقتور ہے وہ مٹی ہو جاتا ہے ۔لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مٹی نہیںہوتیں۔یہ بات اگر انسان میں دیکھیں تو بھی کہ انسان مٹی ہو رہا ہے ۔ لیکن کچھ چیزیں جو انسان کے ساتھ منسلک ہیں، وہ بقا میںہیں۔ مطلب ایسا کوئی راز ہے جو چاہے تو مٹی نہ ہونے دے ۔اس کا مطلب ہے مثبت اورمنفی سے بھی آ گے کی کوئی شے ہے جو انسان کی بقا کی ضامن ہے ۔ وہ ہے عشق ۔“ یہ کہہ کر شاہ صاحب لمحہ بھر کو رُکے اور پھر فرمانے لگے ،”عام عوام یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کا دائرہ کار مثبت اور منفی کے ساتھ وابستہ ہے۔لیکن اہل علم اور دانشور یہ جانتے ہیں کہ زندگی کا دائرہ کار عشق کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ اگر عشق نہ ہو تو مثبت اور منفی کی کسوٹی کے اوپر کوئی بھی ذی روح پورا نہیںاُترتا۔اب ا س کی ظاہری مثال میں یوں دوں گا کہ ہمارے سو لوگوں سے تعلقات ہو تے ہیں۔ اب تعلقات مثبت اورمنفی کی بنیاد نہیں نبھائے جاتے بلکہ باطنی لطافت سے نبھائے جاتے ہیں۔“

” انسان کے اندر جو روحانی شخصیت ہے ایکٹیویٹ ہو جانے کا پتہ کیسے چلتا ہے؟“

” ظاہر ہے اس کے اعمال سے ۔ اب دیکھیں،دنیا میں بہت سارے انسان ماضی میں اور اب حال میںبھی ایسے ہیں جو ناقابل یقین صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ کہاں سے آ تی ہے ؟ کوئی شیر کو سدھا نہیںسکتا، لیکن شیر کو سدھایا بھی جا رہا ہے ، وہ انسان شیر کو سدھا لے گا جو یہ صلاحیت رکھتا ہے ۔جب انسان کے ہاتھ میں یہ قوت آ جاتی ہے تو وہ اس صلاحیت کا اظہار کرتا ہے ۔ایسی بے شمار ملی جلی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ اب یہاں سے پتہ چلتا ہے ۔ جس نے اپنی باطنی قوت کو نفس کے رنگ میں رنگ لیاتو وہ انسان کی فلاح نہیں رکھتی اور جس نے اپنے باطن کو بے رنگ عشق سے جوڑ لیا دراصل وہی انسانیت کے اعلی ترین معیار پر ہے ۔“

”کیا باطن کی طرح ظاہر بھی بقا پا سکتا ہے ؟“

” بالکل پا سکتا ہے ۔ہمارے جو بھی معاملات چل رہے ہوتے ہیں ، اس کے پس پردہ ہماری باطنی قوت ہی تو ہوتی ہے ۔اگر باطن کی طاقت کو سچائی سے جوڑا جائے تو وہ بقا پا گئی اور جسے جھوٹ پر رکھا جائے ، وہ بقا نہیں پاسکتی۔جن انسانوں نے اپنے باطن کو بے رنگ رکھا،انہوں نے خود کو بچا لیا۔ہزاروں برس گذر جانے کے باوجود بھی ان کی قبروں پر چراغ روشن ہیں، انہیں زمانہ یاد رکھتا ہے ۔ ان کی قبر شکست وریخت سے محفوظ رہتی ہے۔ وہ اپنے افکار میں زندہ ہیں۔انکی باتیں زندہ ہیں۔ان کا پیغام زندہ ہے ۔کسی بھی صورت میں وہ زندہ ہیں۔“یہ کہہ کر وہ چند لمحوں کے لئے رُکے ، پھر فرمانے لگے ،” دیکھیں سچ کو موت نہیں ہے اور جس ذات سے سچ صادر ہوتاہے اسے موت کہاں سے آ سکتی ہے ۔اس طرح بہت ساری چیزیں ہیںجنہیںتغیر نہیں۔انہیںبقا اسی صورت میں ہے جب غیر جانبدار ہو کر بے رنگ ہو اپنے بے رنگ باطن کے ساتھ جُڑا جائے ، پھر بقا ہی بقا ہے ۔“

”حضور ، جو برے اعمال والا ہے ، جیسے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ سیاہ باطن ہے ،کیا باطن کے بھی رنگ ہوتے ہیں؟“

” باطن تو بے رنگ ہے ، اس پر نفسانی خواہشوں کا رنگ چڑھایا ہوا ہوتا ہے ۔بے رنگی ہی سے رنگ پھوٹتے ہیں۔بے رنگ باطن کے ساتھ کسی بھی رنگ کا ظہور تو ہو سکتا ہے کہ وہ رنگ دراصل بے رنگ ہے ۔ کیونکہ اگر رنگ میں بے رنگی برقرار نہیں رکھ سکتا تو رنگ ہی خام ہے۔ ہر رُوپ میں ، ہر رنگ میں کوئی آ سکتا ہے تو وہ بے رنگی ہے اگر کوئی رنگ میں آ کر یہ کہے کہ میںہر رنگ میں جا سکتا ہوں تو یہ خام خیالی ہے۔“ یہ کہتے ہی ان کا روئے سخن ان بزرگ کی طرف چلا گیا جو اب تک خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ تبھی وہ بزرگ گویا ہوئے

” ان نوجوانوں سے بات مکمل کرلیں، پھر ہوتی ہے گفتگو۔“

” ان سے تو ہوگئی بات، آپ فرمائیں۔“ انہوں نے کہا توروئے سخن انہی کی جانب رکھا۔ طاہر سمجھ گیا کہ اب ان کی گفتگو میں مخل نہیںہونا چاہئے ۔ ظاہر ہے وہ کوئی مخصوص بات کرنا چاہتے ہوں۔ اس لئے وہ کھڑا ہو گیا اور اجازت چاہی ۔ اس کے ساتھ وہ نوجوان بھی اٹھ گیا۔ دونوں کمرے سے باہر آگئے۔

ز….ژ….ز

آیت النساءاس وقت آفس سے اٹھنے والی تھی۔اس نے اپنی کرسی گھما ئی اوردائیں طرف موجود کھڑکی پہ نگاہ ڈالی تو روشن دن اسے بہت اچھا لگا۔ اسے یاد آیا کہ اسے تو امبرین سے ملنے جانا ہے ۔مزید کوئی اہم کام نہیںبچا تھا سو وہ آفس سے اٹھ گئی ۔ اس وقت وہ نیچے استقبالیہ تک پہنچی تھی کہ شکیل کا فون آ گیا۔

” کہاں ہو ؟“ اس نے پرسکون لہجے میں اختصار سے پوچھا

” آ فس میں ۔“ اس نے ویسے ہی مختصر جواب دیا

” کب تک آ نا ہے ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” خیر ہے ، بات کیا ہے ؟“ اس نے جواباً پوچھ لیا

” ایسے ہی کچھ باتیں کرنے کو دل چاہ رہا تھا۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” اوکے،میں گھر آ رہی ہوں ۔وہیں باتیں کرتے ہیں۔“ اس نے تحمل سے کہا

” نہیں کہیں باہر،ایسی جگہ جہاں کھلی فضا ہو ۔“ اس نے اپنی رائے دی۔

” تم میرے گھر کی چھت پر بیٹھ کر بات کر لینا، وہاں فضا کھلی ہوگی۔“ اس نے مذاق کے موڈ میں کہا تو شکیل بھی ہنستے ہوئے بولا

” اوکے تمہارے گھر کی چھت ہی سہی۔مگر ۔! وہ ڈنر کے بعد ،بس چائے پئیں گے۔“

” اوکے ڈن۔“ آیت نے کہا تو اس نے بھی ڈن کرکے فون بند کر دیا۔

جس وقت وہ گھر پہنچی تب سورج غروب ہوئے کافی وقت ہو گیا تھا۔دادا جی لاﺅنج میں بیٹھے ہوئے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ا س کی آ مد کا احساس کرتے ہی ٹی وی کی آواز بند کرکے بولے

” بیٹا۔! آ ج اتنی دیر،آفس سے تو جلدی نہیں نکل آئی تھی۔“

”مجھے امبرین کے پاس جانا تھا، سکول کے کچھ معاملات تھے۔ وہ کئی دن سے بلا رہی تھی، خیر تھی دادو۔“ اس نے انہی کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا

”بالکل خیر ہے۔مجھے دراصل کہیںجانا تھا، سوچا تم آ جاﺅ تو پھر میںجاﺅں۔“ دادا جی نے بتایا

” ڈنر نہیں لے گے میرے ساتھ۔“ اس نے پوچھا

 ”اوکے ، فریش ہو جاﺅ۔ میںڈنر کے بعد ہی جاﺅں گا۔“ دادا نے کہا اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔

 ڈنر کے دوران دادا جی نے بتایا کہ انہیںاپنے کسی دوست سے ملنے جانا ہے ، جلدی واپس آ جائیں گے۔وہ یونہی معمول کے مطابق دن بھر کی روداد سناتی رہی۔ ڈنر کے بعد دادا چلے گئے۔

زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ شکیل کی کار پورچ میں آ ن رُکی۔اس وقت آیت لاﺅنج ہی میںتھی۔چند منٹ بعد وہ بھی لاﺅنج میںآ گیا۔

”اگر چند منٹ پہلے آ تے تو دادو سے بھی مل لیتے ۔“ آیت نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا

” میں مل آیا ہوں۔وہ ہمارے ہاں ہی تو گئے ہیں۔“ شکیل نے خوشگوار لہجے میںکہا

” وہ تو کسی دوست کا بتا رہے تھے۔“ آیت نے مسکرا کے کہا

” میرے دادا ان کے دوست ہی ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ ہنس دیا۔

” اوہ اچھا۔“ آ یت نے سمجھتے ہوئے کہا

” میں وہی بات تو کرنا چاہتا تھا تم سے ۔“ شکیل نے اس بار گہری سنجیدگی سے کہا

” تو پھر چلیں چھت پر ؟“ آ یت نے پر مزاح لہجے میں پوچھا

” نہیں، وہاں باہرلان میں کھلی فضا ہے۔“ اس نے مدہم لہجے میں کہا تو آیت نے ملازمہ سے چائے کا کہا اور باہر کی جانب چل دی ۔ شکیل بھی اس کے ساتھ ہی بڑھ گیا۔

” یہاں کافی سکون ہے۔“ شکیل نے آیت کی سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا

”ہاں تو کیا بات کرنا چاہتے ہو ۔“ اس نے کوئی توجہ دئیے بنا پوچھا

”تمہیں شاید معلوم نہیں یا پھر احساس نہیں، میرے والدین اور دادا جی کی درمیان بات حتمی مراحل میں پہنچ چکی ہے۔بہت کچھ طے ہو رہا ہے ۔لیکن ہم ابھی تک کسی بات پر متفق نہیںہوئے۔“شکیل نے الجھتے ہوئے کہا تو آیت پر سکون لہجے میںبولی

”کس بات پر متفق ہونا چاہتے ہو تم؟“

” یہی کہ ہماری شادی ہو جانی چاہئے یا نہیں؟“ شکیل نے تذبذب میںکہا

”مجھے تو کوئی اعتراض نہیں،دادو اگر سمجھتے ہیں کہ میری اور تمہاری شادی ہو جائے تو ٹھیک ہے ۔“ آیت نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پر سکون لہجے میںکہا

”لیکن تمہاری اور میری سوچ میںبڑا فرق ہے ۔ہمارے پاس جو محبت کے تصورات ہیں وہ ایک جیسے نہیں۔ لیکن ۔! ایک بات ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ رُک گیا

” وہ کیا بات ہے؟“ آیت نے پوچھا

”دیکھو۔! جہاں تک میرا علم ہے محبت کے بارے میں ، اس پر میرا تجربہ ناکام ٹھہرا، اور تمہارا تصور کافی حد تک مجھے متوجہ کر رہا ہے ۔یہ بات عقل کو لگتی ہے کہ جب انسان روح اور مادہ کا شاہکار ہے تو کوئی بھی معاملہ ان دونوں کے بنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ، اگر ہو بھی تو ادھورا ہے ۔“ اس نے بہت مشکل سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی ۔

”اگر تم ایسا سمجھو تو کیا تمہیں اپنا علم ادھورا نہیںلگے گا ؟“ آیت نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا

” علم کی کوئی حد تو نہیں ہے ،یہ ساری زندگی میں بھی مکمل نہیںہوسکتا۔جو تصور تم نے دیا ، میں اسے بھی سمجھنے کی کوشش کروں گا اور اسے اپنے تجربات میںلاﺅں گا ۔“ اس نے عزم سے کہا

” کیسے ، کہاں کرو گے تجربہ ؟ اپنے کلینک پر ؟“ آیت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”میں سمجھا نہیں ، تم کہنا کیا چاہ رہی ہو ؟“ اس نے پوچھا

”تم اسے سمجھ بھی لو گے تو زندگی کا خلا ویسا ہی رہے گا۔وہ خلا جو شارلین کی وجہ سے ہے، تجربہ گاہ تمہاری اپنی ذات ہے ۔جب تک تم اس تجربے سے نہیںگزرو گے، تمہیںکیا پتہ ؟“ آیت نے سمجھایا

”تمہارا کیا خیال ہے ، وہ شارلین جس کے ساتھ میںختم کر چکا ہوں ، وہ میرے ساتھ ختم کر چکی ہے ، ہمارے درمیان اب کچھ بھی نہیںرہا، اس سے ؟“ وہ انتہائی حیرت سے بولا

” اصل معاملہ تو یہی ہے ، میرا جو تصور ہے محبت کا ، اس میں تو بے رنگ ہونا پڑتا ہے۔جب تک بے رنگ نہیںہو جاﺅ گے ، باطن کو نہیں پاسکو گے ۔مطلب شارلین چاہے تم سے ختم کر چکی ہے ، کیا تم بھی ختم کر چکے ہو ؟نہیں تم بھی دل میں اتنی ہی نفرت کا رنگ لئے بیٹھے ہو جتنی وہ ، کسی ایک کو نفرت کا رنگ چھوڑنا ہوگا، تم ، شارلین سے تمام اختلاف بھلا کر ، تمام تر نفرت بھلا کر، بے رنگ ہو کر اسے منانے کی کوشش کرو ،ان ماں بیٹے سے کہیںبھی تھوڑی سی محبت ہے ، اسے تلاش کرو ، پھر کہیںجا کر تم بے رنگی کی حقیقت کو سمجھ پاﺅ گے۔“ آیت نے کہا تو وہ کافی دیر تک خاموش رہا، پھر دھیمے سے لہجے میںبولا

” مجھے اعتراف ہے کہ میں نے تمہارا علاج کرنے کی ٹھانی تھی لیکن مجھے اب یہ پتہ ہے کہ تم مضبوط خیالات اور تصورات کی مالک ہو ۔ظاہر ہے ایسا کوئی مضبوط انسان ہی کر سکتا ہے۔اور یہ بات کہ تم محبت کو سمجھتی ہو ۔وہ ماضی تھا، میں آگے چلنا چاہتا ہوں۔“

” نہیں، بات یہ نہیں،تم کیوں مضبوط نہیں ہو ؟دراصل تمہاری اَنا آڑے آ رہی ہے ۔بے رنگی کے لئے یہ رنگ نکالنے ہوں گے من سے ، پھر کہیںمحبت کا ادراک ہوتا ہے ۔اور محبت ہی تو انسان کو مضبوط کرتی ہے۔وہ محبت جو بے رنگ ہو ۔“ آیت نے دھیمے لہجے میں کہا تو شکیل بولا

”دیکھو، محبت کے بارے میں ہم بات کر لیتے ہیں لیکن میں یہاں شادی کی بات کرنا چاہوں گا ، ہماری شادی کی بات ۔“

” تو کیا تم شادی بنا محبت کے کرنا چاہتے ہو ، کیا تم یہ بھی نہیںسوچ سکے کہ بیوی چاہئے، جیون ساتھی یا محض تنہائی کا مداوا؟میں اب بھی کہہ رہی ہوں کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن کیا تم محبت کو ایک ثانوی شے سمجھتے ہو ؟کیا تم اسے محض سمجھوتہ یا کمٹمنٹ سمجھتے ہو ؟“ آیت تیزی سے کہتی چلی گئی ۔

”دیکھو، تم مجھے ماضی میں دھکیل رہی ہو ، جہاں محبت ہے ہی نہیں، سوری ٹو سے ….کیا میںسمجھ لوں کہ تمہاری محبت کسی دوسرے کے لئے وقف ہے اور تم ….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت اس کی بات قطع کر کے بولی

”میری محبت ہر انسان کے لئے ہے۔محبت کوئی جذبہ یا احساس نہیں،ایک رویہ ہے ۔ جس طرح روشن شمع کی روشنی ہر طرف ہوتی ہے ، اسی طرح محبت ہوتی ہے۔جیسا تعلق محبت ویسی ہو جاتی ہے ۔“

” کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو ں کہ پہلے شارلین کو حتمی طور پر اپنی زندگی سے نکال دوں ؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، میں چاہتی ہو تم سب کچھ بُھلا کر، پورے دل سے ، بے رنگ ہو کر شارلین کو محبت دو ۔مانتی ہوں تمہارے لئے مشکل ہو گی لیکن ناممکن نہیںہے۔“آیت نے انتہائی رسان سے کہا

”اگر اس کے ساتھ پھر سے تعلق بن جاتا ہے تو پھر ؟“شکیل نے پوچھا

” یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ مجھے خوشی ہوگی، تم بے رنگ محبت کے کامیاب تجربے سے گزر گئے ہو ؟“

” اور اگر ناکام رہا تو ؟“ شکیل نے پھرپوچھا

” تو پھر میں مان لوں گی کہ جو تم کہتے ہو وہی درست ہے ؟“ آیت نے حتمی لہجے میں کہا

”یہ تم بہت بڑا فیصلہ بلکہ رسک لے رہی ہو ، میری نیّت پر انحصار کر رہی ہو۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو آ یت بھی مسکرا دی ، پھر بولی

” لگتا ہے کھلی فضا تمہیں اچھی نہیں لگ رہی۔چائے یہیں پیﺅ گے یا اندر چل کر ؟“

” میرا خیال ہے مجھے ابھی چلنا چاہئے۔“ اس نے کہا

” نہیں، آ ﺅ اندر چلتے ہیں، چائے پی کر ہی جانا۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی ۔تبھی شکیل بھی اس کے ساتھ اٹھ گیا۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا…امجد جاوید..قسط نمبر 14

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 14 آیت النساءشام ہونے تک کبھی شکیل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے