سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 45

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 45

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 45

پاکستان میں ڈائجسٹ انڈسٹری کا آغاز اُردو ڈائجسٹ سے ہوا جو لاہور سے شائع ہوتا تھا پھر لاہور ہی سے سیارہ ڈائجسٹ کا اجرا ہوا، یہ دونوں ڈائجسٹ ہی مشہور زمانہ ریڈر ڈائجسٹ کی تقلید میں نکالے گئے تھے جس میں موضوعات کی کوئی قید نہیں تھی، گویا ہر موضوع کو ہضم کرنے کی گنجائش موجود تھی، بلاشبہ اردو ڈائجسٹ 60 ءکی دہائی کا سب سے زیادہ شائع ہونے والا ڈائجسٹ تھا، ہم نے اس ڈائجسٹ کو 1965 ءسے پڑھنا شروع کیا، یہ پاکستان بھارت جنگ کا سال تھا، پورا پاکستان ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ اس جنگ میں شریک تھا، ہم نے 6 ستمبر کے روز اپنے گھر کے قریب ایک ہیئر ڈریسر کی دکان پر بیٹھ کر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی تقریر سنی بلاشبہ ان کے یہ الفاظ ”دشمن کو معلوم نہیں ہے کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے“دلوں کو گرما دینے والے تھے ، ہمیں یاد ہے کہ دکان میں موجود تمام افراد نے فوراً ہی نعرئہ تکبیر بلند کیا، اس زمانے میں لوگ اپنے طور پر خندقیں کھود کر بھی فوج کی مدد کر رہے تھے۔

ہیئر ڈریسر کی یہ دکان ہمارے ایک دوست کے بڑے بھائی کی تھی، وہ ہمارے ساتھ اسکول میں پڑھتا تھا، ہماری اخبار بینی کا شغل اسی دکان پر جاری رہتا تھا اور اس کے بعد ناظم آباد کے ایک فٹ پاتھی بک اسٹال پر ہم اپنا مطالعے کا شوق پورا کیا کرتے تھے، اسی اسٹال پر تمام ڈائجسٹ اور دیگر رسائل سے آشنائی ہوئی، ہمیں یاد ہے کہ جب اردو ڈائجسٹ کا نیا شمارہ آتا تو اسٹال پر سب سے بلند ڈھیریاں اردو ڈائجسٹ ہی کی ہوتی تھیں، دوسرے نمبر پر سیارہ ڈائجسٹ تھا، 65ءکی جنگ کے حوالے سے دونوں ڈائجسٹوں نے بھرپور مضامین اور کہانیاں شائع کیں، ایک کہانی کا نام ابھی تک ذہن میں ہے، ”بی آر بی بہتی رہے گی“

ہماری ڈائجسٹ بینی کا آغاز انہی دونوں ڈائجسٹوں سے ہوا، اس سے پہلے ہم ”ایک آنا لائبریری“ سے ناول کرائے پر لاکر پڑھا کرتے تھے، ہم نے طلسم ہوش ربا وغیرہ بھی ایسی ہی لائبریریوں سے کرائے پر لے کر پڑھی، حالاں کہ اُس وقت ایک آنہ بھی اہمیت رکھتا تھا، پان ایک آنے کا تھا، چائے کا کپ 2 آنے، روٹی بھی شاید ایک آنے کی تھی، بعد میں 2 آنے کی ہوگئی، سنیما کا سب سے چھوٹا ٹکٹ 6 آنے کا تھا جس پر 2 پیسے اضافی بطور بھتہ بکنگ کلرک وصول کرلیا کرتا تھا، بسوں کے کرائے بھی آنہ دو آنہ سے زیادہ نہیں تھے، شاید ناظم آباد سے کیماڑی تک کا کرایہ چار آنے ہوگا،اگرچہ ملک میں اعشاریہ نظام رائج ہوچکا تھا اور 5 پیسے یا 10 پیسے کا سکہ بھی جاری ہوچکا تھا، پرانے نظام کے تحت ایک آنے میں چار پیسے اور 2 آنے میں 8 پیسے ہوا کرتے تھے، نئے اعشاریہ نظام کے تحت ایک آنے میں تقریباً 6 پیسے تصور ہوتے تھے اور فوری طور پر پرانا نظام ختم نہیں تھا، اسی طرح کلو کی جگہ سیر ، پاو، چھٹاک، تولہ، ماشہ کے اوزان مروج تھے، اسکول کی نصابی کتاب میں بھی ہم نے یہی پڑھا تھا۔

ہماری عمر کم تھی شاید ساتویں یا آٹھویں جماعت میں حسینی بوائز سیکنڈری اسکول میں پڑھ رہے تھے، ہم نے کبھی اس زمانے میں ایک آنے سے زیادہ کا ٹکٹ بس میں نہیں لیا اور کبھی کبھی بغیر ٹکٹ لیے بھی سفر کیا، کوشش کرتے تھے کہ کسی بھری ہوئی بس میں سوار ہوں اور کنڈیکٹر کی نظر سے بچے رہیں، اس طرح ایک آنہ بچانے کی کوشش جاری رہتی۔

اُردو ڈائجسٹ کی قیمت ڈیڑھ روپیہ تھی لیکن ہمیں یاد ہے کہ 65ءکی جنگ کے بعد 2 روپے ہوگئی تھی، سیارہ ڈائجسٹ بھی اسی قیمت میں ملتا تھا، اُس وقت کے فلمی رسائل میں شمع کراچی ، شمع لاہور بہت نمایاں تھے، جنگ سے پہلے شمع دہلی بھی مل جاتا تھا، اسی ادارے کا ایک پرچا شبستان ڈائجسٹ تھا جو کبھی کبھی پرانی کتابوں، رسالوں کی دکانوں میں نظر آجاتا،دہلی سے ایک ادبی رسالہ ”بیسویں صدی“ بھی آیا کرتا تھا، اسے خاصا معیاری خیال کیا جاتا تھا، خوشتر گرامی اس کے مدیر تھے جو ”تیرونشتر“ کے عنوان سے سیاسی خبروں پر اور سیاست دانوں کے بیانات پر طنزیہ و مزاحیہ تبصرہ کیا کرتے تھے،ان کا یہ کالم بہت مقبول تھا، راجا مہدی علی خان سے ان کی بڑی یاری تھی، راجا صاحب ممبئی کی فلمی دنیا میں عظیم موسیقار مدن موہن کے ساتھ فلمی گیت لکھ کر شہرت حاصل کر رہے تھے،ان کی مزاحیہ شاعری پہلی بار ہم نے بیسویں صدی ہی میں پڑھی۔

”انشا“ کے نام سے جون ایلیا اور شکیل عادل زادہ نے ایک ادبی رسالہ بھی جاری کیا تھا اور اس کا حال وہی تھا جو دیگر ادبی رسائل کا تھا، اس زمانے میں کراچی سے ”نیا دور“ ”افکار“، ”نقش“، ”جائزہ“، ”سیپ“ وغیرہ نکلا کرتے تھے ، ان کی اشاعت بہت ہی کم ہوتی تھی، بعد میں انشا ہی کو عالمی ڈائجسٹ میں تبدیل کیا گیا، اگرچہ اس کا انداز اُردو یا سیارہ ڈائجسٹ جیسا نہیں تھا جن میں انٹرویوز، سفرنامے اور دوسرے موضوعات بھی ہوتے تھے، عالمی ڈائجسٹ مکمل طور پر فکشن کا رسالہ تھا، البتہ اپنے سائز وغیرہ میں اردو ڈائجسٹ جیسا ہی تھا، شاید صفحات بھی اُردو یا سیارہ ڈائجسٹ جتنے ہی ہوں گے، کراچی سے کامیابی حاصل کرنے والا یہ پہلا ڈائجسٹ ہے، اس کی اشاعت اپنی منفرد کہانیوں کی وجہ سے بڑھنا شروع ہوئی اور بڑھتی ہی چلی گئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی ڈائجسٹ کی کامیابی میں مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کا کردار بڑا اہم تھا، وہ عالمی ڈائجسٹ میں ”حکیم بڈھن“ کے عنوان سے اپنی لکھنو کی یاد داشتیں بیان کرتے تھے جو یقیناً ان کی کامیاب افسانہ طرازی تھی ،اس کے علاوہ ہندو دیو مالا پر مشتمل کہانیاں بھی وہی لکھتے تھے، چھپکلی ، اگیا بیتال وغیرہ اس طرح دیو مالائی کہانیوں کا رواج ہوا اور جب شکیل صاحب نے عالمی ڈائجسٹ سے علیحدگی اختیار کرکے سب رنگ ڈائجسٹ کا اجرا کیا تو سارا کھیل ایسی ہی کہانیوں سے شروع ہوا، سب رنگ ڈائجسٹ کی پہلی مقبول ترین سلسلہ وار کہانی سونا گھاٹ کا پجاری تھی اور اس کے ساتھ غلام روحیں بھی ہندو دیو مالا اور اسلامی تصوف کا امتزاج تھی، یہ کہانیاں انوار مجتبیٰ صدیقی لکھتے رہے،سب رنگ کے ابتدائی شماروں کو عالمی ڈائجسٹ کا تسلسل کہا جاسکتا ہے، ہم نے عالمی ڈائجسٹ حکیم بڈھن کے دلچسپ قصوں کی وجہ سے پڑھنا شروع کیا تھا اور پھر ایک سلسلہ وار کہانی ”خواب زادہ“ ہماری پسندیدہ کہانی بن گئی، اس کے مصنف کا نام یاد نہیں آرہا اور بعد میں بھی ہماری ان سے کبھی کوئی ملاقات یا رابطہ نہیں رہا۔

عالمی ڈائجسٹ کی بعض بہت ہی دلچسپ کہانیاں ابھی تک ذہن پر نقش ہیں ، بعض کے نام یاد نہیں رہے، خصوصاً ایک کہانی حضرت یحیٰ ؑ کے حوالے سے شائع ہوئی تھی، شاید آپ بھی حضرت یوسفؑ کی طرح بہت حسین و جمیل تھے، ایک شہزادی آپ پر عاشق ہوگئی تھی لیکن آپ اس کے فریبِ عشق میں نہیں آئے، چناں چہ انتقاماً اس نے بادشاہ کے سامنے برہنہ رقص کرکے انعام میں آپ کا سر مانگا، اس طرح آپ شہید کردیے گئے، ایک اور کہانی ”علی اصغر بروجردی“ کے نام سے شائع ہوئی تھی جو ایران کے پس منظر میں تھی، ایک نہایت ظالم و سفاک اور بدکردار شخص کی داستان ۔

عالمی ڈائجسٹ کا عروج و ترقی شکیل عادل زادہ کے علیحدہ ہونے اور سب رنگ نکالنے کے بعد ماند پڑگیا، سب رنگ کا پہلا ہی شمارہ اپنی طرف متوجہ کرنے والا تھا، خصوصاً ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین کے لیے، چناں چہ ہم بھی پہلے ہی شمارے سے اس کے قاری بن گئے تھے۔

ہم اپنی ابتدائی اقساط میں ناظم آباد کے فٹ پاتھی بک اسٹال کا ذکر کرچکے ہیں جو ”ماموں“ کا بک اسٹال کہلاتا تھا، یہ اسٹال گویا ہمارا دارالمطالعہ تھا، مفت میں تمام ڈائجسٹ و رسائل پڑھ لیا کرتے تھے، ماموں کا اصل نام کیا تھا، ہمیں یاد نہیں رہا،ہمارے بڑے عزیز دوست اور ایک حوالے سے استاد ناصر سوری الحمداللہ بہ ہوش و حواس ہیں ، شاید انھیں ماموں کا اصل نام یاد ہے،انھوں نے بھی ہمارے ساتھ یہاں بہت وقت گزارا ہے اور وہ ماموں سے بھی خوب واقف تھے۔

 ماموںکے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں نے اس بک اسٹال کو سنبھالا اور آج تک یہ اسٹال قائم ہے، ان کا بڑا لڑکا مرتضیٰ آج بھی ناظم آباد بس اسٹاپ نمبر 2 پر اسی اسٹال کے ذریعے روزی کمارہا ہے، کبھی کبھی ناظم آباد جانا ہوتا ہے تو اس سے ملاقات ہوجاتی ہے، دوسرا بیٹا نفسیاتی مریض بن چکا ہے، اس کا نام غفار ہے، درحقیقت اس اسٹال کو جاری رکھنے کا سہرا غفار ہی کے سر ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ اب ہوش و حواس میں نہیں رہا۔

ماموں کی زندگی میں اس اسٹال پر تقریباً تمام ہی ڈائجسٹوں کے مدیر چکر لگایا کرتے تھے اور ماموں ہمیں بتایا کرتے تھے کہ یہ سب رنگ کے ایڈیٹر شکیل عادل زادہ ہیں اور یہ معراج رسول ہیں جب کہ مسٹری میگزین کے غلام محمد غوری اسی اسٹال سے چند قدم آگے رہائش پذیر تھے، یقیناً مشتاق احمد قریشی صاحب بھی ماموں اور ان کے اسٹال سے واقف رہے ہوں گے، بعد ازاں جب ہمارے مراسم داستان ڈائجسٹ کے مدیر خان آصف سے ہوئے اور ہم اسی اسٹال کے پاس فٹ پاتھ پر شطرنج کھیلنے لگے تو خان صاحب کے ذریعے دیگر ڈائجسٹ انڈسٹری کے فعال لوگوں سے راہ و رسم ہوئی، اظہر کلیم، انور شعور، اقبال پاریکھ، شکیل صدیقی، سردار سلیم، نعیم خانزادہ ، ابرار ف، حفیظ بریلوی ، فہیم انصاری اور بہت سے لوگ اس اسٹال پر جمع ہوتے تھے، شعور بھائی بہت سویرے اٹھنے کے عادی تھے اور اکثر اپنی بیٹی شائستہ کی انگلی پکڑے اس اسٹال پر نظر آتے ہیں، شائستہ ماشاءاللہ اب خود ایک آرٹسٹ ہیں ، حال ہی میں شائستہ نے انعام راجا کے حوالے سے اپنی کچھ یادیں فیس بک پر شیئر کی ہیں،یہ تمام نام پرانے ڈائجسٹوں میں دیکھے جاسکتے ہیں، اس وقت تک ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس انڈسٹری میں ہم بھی کبھی کوئی کردار ادا کریں گے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہماری زندگی میں اکثر و بیشتر بہت کچھ حادثاتی طور پر ہوتا رہا، بہت سے کام یا مشغلے حادثاتی طور پر ہی شروع ہوئے اور ہم کسی ارادے یا منصوبہ بندی کے تحت کسی خاص سمت میں کبھی نہیں گئے لیکن جب کسی خاص سمت میں سفر کا آغاز ہوگیا تو پھر قدم رکے بھی نہیں، زندگی کے پُرپیچ راستوں نے بڑے چکر دیے کہاں کہاں نہ پھرایا مجھے ہرجائی نے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ ہماری دلچسپی کے موضوعات میں بڑا تنّوع رہا لیکن ایک بنیادی دلچسپی کا عنصر شاید فطری ہے یعنی شعر و ادب اور تاریخ سے لگاو، ہمیں یاد ہے کہ نویں جماعت میں نثرونظم کی کتابیں الگ الگ تھیں البتہ تاریخ شاید چھٹی جماعت سے ہی نصاب میں شامل تھی، نثرونظم سے دلچسپی نویں جماعت سے شروع ہوئی، موزوں طبع تھے لہٰذا خود بھی الٹے سیدھے شعر کہنے شروع کردیے، پہلا شعر یہ تھا

ہم نے رکھی ہے بنائے آشیاں

آسماں پر کوندتی ہیں بجلیاں

اسی زمانے میں دو ایسے دوست زندگی میں آئے جو نویں جماعت ہی کے طالب علم تھے لیکن ان کا تعلق دوسرے اسکولوں سے تھا، ان سے ہماری ملاقات ماموں کے بک اسٹال پر ہی ہوئی تھی، ایک کا نام محمد وصی تھا اور دوسرا شفیق الرحمن، دونوں کو شاعری کی بیماری تھی، اس طرح تعلق مضبوط ہوا اور ایرانی ہوٹلوںمیں ملاقات ہونے لگی، اپنی اپنی تک بندی ایک دوسرے کو سنا کر خوش ہولیتے تھے، شفیق الرحمن دو تین سال تک رابطے میں رہا پھر نامعلوم کہاں غائب ہوگیا اور آج تک دوبارہ نہیں ملا، البتہ وصی سے دوستی و محبت طویل عرصے تک رہی، تقریباً 68 ءسے 86 ءتک پھر غم روزگار کے تھپیڑوں نے ہمیں ایسا الگ کیا کہ ایک دوسرے کی خبر نہ رہی، چند سال پہلے ہمیں بڑی شدت سے اس کی یاد آئی اور ہم اس کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اب وہاں کوئی اور ہی خاندان رہتا ہے، پاس پڑوس سے معلوم کیا تو کوئی سراغ نہ ملا، وصی گریجویشن کے بعد ٹیلی فون کے محکمے میں ملازم ہوگیا تھا، ہم نے کوشش کی کہ وہاں سے کچھ معلومات حاصل ہوں تو عجیب عجیب خبریں ملیں ، کسی نے بتایا کہ اس کا ٹرانسفر اسلام آباد ہوگیا تھا، کسی نے کہا کہ وہ میرپورخاص چلا گیا، قصہ مختصر یہ کہ وصی کا کوئی سراغ نہ مل سکا، شاید دو سال پہلے ناظم آباد کے ایک واقف سے اچانک ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ وصی کے بھائی نارتھ کراچی میں کسی جگہ رہتے ہیں اور وصی کا انتقال ہوچکا ہے، انا للہِ وانا الیہ راجعون

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے