سر ورق / افسانہ / گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔

گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔

گرد، گرمی، دهوپ
ناصر خان ناصر۔ امریکہ

دهول، مٹی اڑاتی خاک آلود گاڑیاں
صحرا کا دل، بہاولپور، پہلے چهوٹا سا قصبہ تها، پھر شہر بنا۔ اب آبادی بہت بڑھ چکی ہے. کچے پکے مکان. کچھ علاقے ابهی تک موہنجوداڑو تہزیب کے ادوار سے باہر نہیں نکلے. کچھ سبزہ زاروں میں گهرے، ایسے کہ چند پوش علاقوں پر پیرس کا گمان ہو۔
وہ بہت عرصے بعد لوٹا تها. سارے شہر میں گهوم پهر کر پرانی یادوں کو ڈهونڈتا پهرا.
اسے دهندلے سے خواب کی طرح جو باتیں یاد تهیں، وہ ساری کی ساری غلط ثابت ہوئیں. مثلا نور محل اسکے خیالوں بہت بڑا اور وسیع تها مگر تب تک اس نے بکهنگم پیلس کہاں دیکها تها؟
اب تو اسےاپنا ابائ گهر بهی بہت تنگ تنگ اور بھدا سا نظر آیا.
پهر اسے اپنے پرانے دوستوں کی یاد آئ.
آفتاب.
آفتاب کا گهر وہی تها. بیل بجائ تو کسی نے دروازہ نہیں کهولا .
دروازه زور سے بجانے پر ایک صاحب بهنائے ہوئے برآمد ہوئے.
"شریفوں کا محلہ ہے یہ، دروازے سے ہٹ کر کهڑے ہوں. خواتین کی بے پردگی ہوتی ہے.
کیا بات ہے، کس سے ملنا ہے؟
وہ صاحب غصے میں غرائے.
اسے ہنسی آ گئ. ابهی تک یہاں کچھ نہیں بدلا. دل کو بڑی تسلی ہوئ.
اپنا مدعا عرض کیا تو معلوم ہوا کہ عرصہ دراز سے آفتاب صاحب بمع اہل و عیال کینیڈا مستقل منتقل ہو چکے ہیں.
اب سکول کے زمانے کے دوست وحید کی تلاش شروع کی.
اسکا خوبصورت گهر ماڈل ٹاون اے میں تها۔ بڑے سے گول کمرے والا. بہاولپور کے تمام سفید پوش گھرانوں میں ڈرائینگ روم کو بیٹھک یا گول کمرہ ہی کہا جاتا تھا۔ قدیم محلہ جات میں گھروں میں تہہ خانہ اور گول کمرہ امارت کی اک نشانی سمجھا جاتا تھا۔
بہاولپور میں گاڑی چلانا خود موت کو دعوت دینا ہے… خوش قسمتی سے ڈرائیور سارے راستے اور گر جانتا تها.
گول کمرے والا گهر نہ کہیں ملنا تها نہ ملا.
اگلے روز وہ پیدل سیر کے لئے نکلا. وحید کا گهر ڈهونڈنے کی تمنا پهر من میں جاگ اٹھی. اس نے دیوانہ وار ہر اس گهر کی بیل بجانا شروع کر دی، جس پر زرا سا بھی شائبہ ہوا کہ یہ وحید کا گھر ہو سکتا ہے.
ڈهونڈنے سے تو خدا بهی بل آخر مل جاتا ہے.
کسی نے اسکی راہنمائی کی اور وحید کے گهر کی نشاندہی کر دی.
بیل بجتی چلی گئ. دروازہ کهلا.
یہ وحید نہیں ہو سکتا. موٹا سا گنجا ادمی.
"وحید صاحب سے ملنا تها”
"فرمائیے”
"پہچانے”
"سوری… نہیں”
"میں امجد ہوں”.
"ہم عباسیہ سکول میں اکٹهے پڑهتے تهے”
"کچه یاد نہیں آ رہا ٹهیک سے” لہجے میں سرد مہری تهی.
"یاد ہے تم نے ماسٹر اشفاق صاحب کی عینک توڑ دی تهی اور الزام میں نے خود اپنے سر لے کر بڑی مار کهائ تهی….
یاد ہے تم مجهے ملنے آتے تهے تو میں تم کو واپس تمہارے گهر تک چهوڑنے جایا کرتا تها!
اور وہ تقی صاحب کی بیٹی کو چهیڑتے ہوئے…..”
"اچها خدا حافظ”
"خدا حافظ”
وہ واپسی کا راستہ بهول چکا تها!
واپسی کیا ہوتی ہے؟
گرد، گرمی، دهوپ…
صحرا کا دل بہاولپور. …
اسی علاقےکے ایک خستہ گرد آلود محلے کا صحرا نورد اجنبی دنیا کی خاک چهاننے کے مدتوں بعد وطن واپس لوٹا تو اسے اپنا گهر نہیں ملا….
آپ حضرت جلال الدین حسین جہان گشت شاہ مخدوم جہانیاں سرکار کہلاتے ہیں۔
مزار شریف اوچ شریف میں اب تلک مرجع خلائق ہے…
بچپن کے بچهڑے دوست بچپن ہی کی طرح ہوتے ہیں. ایک بار بچهڑ کر پهر کبھی نہیں ملتے. ان سے ملتے جلتے چہروں کو مڑ کر دیکھو بھی تو لوگ عجیب عجیب سے شک کرتے ہیں۔
یادوں کے بسائے محل، زمین پہ بنے محلات سے کہیں زیادہ وسیع و عریض ہوتے ہیں. شاید ہر انسان کا اپنا تخیل ان میں رنگ آمیزی کر کے انهیں پرستان بنا دیتا ہے…
اس فرضی پرستان سے حقائق کی سنگلاخ زمین پر اترتے ہوئے سخت تکلیف ہوتی ہے. نرم جگہوں پر پاوں دھنس جائیں تو تمناوں کا خاکستر شدہ لہو آنکھوں سے بہنے لگتا ہے۔
ہر شخص جہاں گشت شاہ مخدوم جہانیاں سرکار نہیں ہوتا .
کچه لوگ ماضی کی لاٹھی تهام کر مستقبل کو کهوجتے ہیں. گر پڑیں تو انھیں پھر کوئ راستہ کبھی نہیں ملتا.

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سیلانی پاکستانی…شکیل احمد چو ہان

سیلانی پاکستانی شکیل احمد چو ہان ”ارے وہ دیکھو ”سیلانی پاکستانی“ آج پھر آگیا۔“ پا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے