سر ورق / کالم / ۔۔۔اور چوپال سج گئی….محمد قاسم سرویا۔۔

۔۔۔اور چوپال سج گئی….محمد قاسم سرویا۔۔

۔۔۔اور چوپال سج گئی
محمد قاسم سرویا۔۔۔ شیخوپورہ
کچھ کرنے کا جذبہ ہو، لگن ہو، خلوص ہو۔۔۔ اچھے دوستوں کا ساتھ ہو۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر کسی کام میں ربِ مہربان کی رحمت بھی شامل ہو جائے تو بڑے شہروں سے بہت دور، مضافات کے باغوں اور کھیتوں کھلیانوں میں بھی توقع سے بڑی ایک علمی و ادبی چوپال سجائی جا سکتی ہے، جس میں شرکت کرنے سے پہلے اکثریت کا خیال ہوتا ہے کہ یہاں کیا ہوگا۔۔۔؟ کیوں اور کیسے کچھ ہو سکتا ہے؟ پھر جو دوست احباب آئے وہ تو نہال و مالا مال ہوئے ہی۔۔۔ نہ آنے والے بھی فرحان و حیران و پشیمان ہوتے رہے۔
جیسے کہ ہمارے گاؤں میں ایک مولبی صاحب کٹے کا جب بھی گوشت کرتے تو اعلان کرتے۔۔۔ جیہڑا اج گوشت کھائے گا اووی پچھتائے گا جیہڑا نہ کھائے گا اوی پچھتائے گا۔ اچھا! گوشت نہ کھا کے پچھتانے کی سمجھ تو آتی ہے، کھا کے پچھتاوے کا ان کا یہ مطبل ہوتا تھا کہ تھوڑا کیوں لیاندا؟ کاش اور لے آتے۔
تھوڑا ماضی میں جائیں تو ایک دن جناب عابد قادری ہمارے گاؤں آئے اور الوداع ہوتے وقت اپنے باغ میں آنے کی دعوت دے گئے۔ پھر ہم چند دوست سردیوں کی ایک ٹھنڈدار لیکن مزیدار صبح ہرے بھرے باغ میں پہنچ گئے۔ پھل سبزیوں اور چاء پانی سے خوب لطف اندوز ہونے کے بعد یہ طے ہوا کہ اس باغ میں پاکستان بھر سے اپنے دیگر دوستوں کو بھی بلا کر ایک علمی و ادبی چوپال سجائی جائے۔ ذہن میں رکھیے گا کہ خاص مقصد صرف ایک ہی تھا۔۔۔ مل بیٹھنا، فروٹ شروٹ کھانا، گپ شپ لگانا، ماضی کی یادوں کو تازہ کرنا اور مصروفیت بھری زندگی سے تھوڑا وقت نکال کر قدرت کے نظاروں سے خود کو سیراب و فیض یاب کرنا۔
اور بالآخر یکم مئی 2019 کو یہ علمی و ادبی چوپال سجی اور کیا خوب سجی۔ دور و نزدیک سے یار بیلی، بَھین بھرا تے نکے وڈھے بال ڈاراں تے قطاراں بنھ بنھ کے آئے۔ ہر کوئی خلوص لے کر آیا، پیار اور عزت دے کر گیا۔۔۔؟
دور و نزدیک کے شہروں، قصبات، دیہات اور مضافات سے ایک سو کے قریب شرکاء نے اس چوپال کو رونق بخشی۔ فل گرمی میں بھی ہر کوئی ہیپی ہیپی رہا اور سبھی خوشی اور سکون سمیٹ کر گئے۔
اس چوپال میں سب سے پہلے حاضرین کے لیے پنجابی ثقافت کو نمایاں اور عیاں کرنے کے لیے ہمارے دیہات و مضافات سے ناپید ہونے والی کچھ چیزوں کی نمائش بھی کی گئی تھی۔ جی ہاں! بڑی مشکل سے کئی گھروں سے تلاش بسیار کے بعد آٹا پیسنے والی ہاتھ کی چکی ڈھونڈی گئی، جس کے بارے میں نئی نسل کو بالکل نہیں پتا کہ یہ کیا ہے اور اس کا کام کیا ہے؟ پرانے زمانے کی عورتیں اس لیے بھی جفاکش و توانا رہتی تھیں کہ وہ گھر کے سارے کام خود کرتی تھیں، جن میں صبح شام چکی پر آٹا پیسنا بھی لازمی امر ہوتا تھا۔ نہ موٹاپے کا ڈر تھا، نہ بی پی ہائی لو ہونے کا خدشہ، دل کی کوئی بیماری بھی نہیں تھی اور ہیپاٹائٹس اے، بی، سی کا تو کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا۔ سکون تھا، امن تھا، صحت تھی، محبت تھی، خلوص تھا، احساس تھا۔
سن چرخے دی مٹھی مٹھی کُوک۔۔۔ تے ماہیا مینوں یاد آنودا۔۔۔
اس بات کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہ چرخہ کاتنے کے وقت ہی ماہیا کیوں زیادہ یاد آتا تھا؟ محقق لوگو۔۔۔ ذرا ہو جائے پھر تحقیق۔ چرخہ تو ہم کسی نہ کسی طرح لے ہی آئے تھے، لیکن اس کے ساتھ تصویریں بناتے وقت کس کس کو ماہیے کی یاد آئی؟ کسی نے نہیں بتایا۔۔۔ یاد کی شدت کم تھی یا زیادہ۔۔۔ تسیں اینوں چھڈ دیو۔۔۔ ساڈی رہتل بہتل توں مجے لوو بس۔۔۔ ذرا سے پچھلے وقتوں کی کسی دیہاتی اماں، ماسی یا بی بی کو اس بارے میں کرید کر دیکھ لیں۔۔۔ پوچھ لیں وہ آپ کو چرخے کی ساری کہانی الف سے ے تک سنا دیں گی۔ لیکن ماہیا یاد آنے والی گل بات نہ پچھیا جے۔۔۔ جُتیاں کھاؤ گے۔
اب تو ہر زمیندار اور مجاں گاواں والے گھر میں برقی مدھانی موجود ہے۔ بس بٹن نپو تے مکھن وکھرا تے لسی وکھری۔ پرانے زمانے میں ہاتھ سے چلانے والی مدھانی ہوتی تھی جو صبح کُکڑ کی پہلی بانگ کے ساتھ ہی چلنے کے لیے تیار ہوتی تھی۔ نماز سبق سے فارغ ہو کر گھر کی بڑی بوڑھیاں جب مدھانی چلاتی تھیں تو اس کی ایک خاص اور مدھر آواز سے گھر کے نکے وڈھے سارے تڑکے ای اٹھ جاتے تھے۔ یہ لطیفہ اسی زمانے کا ہے جب خاوند کا نام لینا بڑا شرمناک سمجھا جاتا تھا۔ کسی عورت کے خاوند کا نام مکھن تھا۔ تو کسی نے پوچھا کہ یہ لسی کے اوپر کیا تَیر رہا ہے؟ وہ شرما کربولی۔۔۔ منے کے ابا۔۔۔
اور آج کل زیادہ تر لوگوں نے پانی وچ مدھانی ڈالنے کے بے مقصد کام کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے۔۔۔ بھلے لوگو! دودھ میں مدھانی ڈالیں تاکہ اور کچھ نہیں تو کم از کم منے کے ابا۔۔۔ اوہو۔۔۔ مکھن تو نکلے۔
پینگھیں لگانے اور پینگھیں بڑھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم نے پارٹیسیپینٹس کا مزا بڑھانے کے لیے پینگھ کے ہوٹوں کا بھی انتظام کیا تھا۔ جس پر سب سے پہلے قادری صاحب نے بیٹھ کر ٹرائی کی تھی کہ رسہ ٹوٹ جائے تو ٹوٹ جائے۔۔۔ دل نہ کسی کا ٹوٹنے پائے۔۔۔ رسہ توووو پھر مل جاتا ہے، دل نہیں وہ چیز جو پھر باغ میں مل جائے۔۔۔ اوہ بھاء جی کیہڑے پاسے ٹُر پئے او۔۔۔؟؟؟
ہانجی قادری صاحب کو اس لیے بٹھایا گیا تھا کہ جیہڑا پہاڑ ڈگنا ہنے ڈِگ پوے۔۔۔ بعد میں گر جانے والے یا والی کے لیے ہڈی جوڑ کے کسی ڈاکٹر کا انتظام نہ کرنا پڑ جائے۔
چوپال میں تقریباً سبھی شرکاء نے خطاب کیا، ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر  : صفیہ شاہد: رابعہ بصری

ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر رپورٹ: صفیہ شاہد ترتیب و تدوین: رابعہ بصری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے