سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 3

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 3

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 3

بسمہ نے ہچکچاتے ہوئے گفٹ پکڑ لیا۔ باسط ہلکے سے مسکرایا۔

”اپنا خیال رکھیے گا”

بہت دیر پہلے دھیما ہوجانے والا دل ایک دم دوبارہ تیز دھڑکنے لگا۔ باسط اپنی بہن کے ساتھ جاچکا تھا۔

اس نے گفٹ فورا سامنے رکھی ٹیبل پہ رکھ دیا۔ جیسے خوف ہو کہ اگر گھر میں سے کسی نے دیکھ لیا تو ڈانٹ نا پڑ جائے کہ ایک لڑکے سے گفٹ لے لیا وہ بھی گھر والوں کو بتائے بغیر۔ بشرہ آپی باقی گفٹس اور چیزیں سمیٹنے آئیں تو وہ گفٹ بھی اٹھا کر نیچے کمرے میں لے گئیں۔ ان کی انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اسے بھی کسی اور مہمان کا گفٹ سمجھ رہی ہیں انہوں نے بسمہ سے کچھ پوچھا نہیں۔ سارے گفٹس نیچے ڈرائنگ روم کی ٹیبل پہ رکھ دیئے گئے۔ ناچاہتے ہوئے بھی بسمہ کی نظریں باسط والےگفٹ کے ساتھ ساتھ تھیں۔ 1 تو بج ہی گیا تھا سب کپڑے وغیرہ بدلنے میں لگ گئے۔ ادھر ادھر بکھرا سامان تھوڑا بہت سمیٹا گیا کہ صبح تک سونے کا انتظام ہو سکے۔ کئی دفعہ بسمہ کا گزر ڈرائنگ روم کے دروازے کے سامنے سے ہوا اور ہر باراس کی نظر باسط کے گفٹ پہ جا کر ہی ٹہری۔ رات اتنی ہوگئی تھی کہ یہ طے پایا کہ اب یہ سب گفٹس صبح کھولے جائیں گے۔ بستر پہ لیٹتے ہی کر بسمہ کو بے چینی شروع ہوگئی کہ گفٹ میں آخر ہوگا کیا۔ کبھی سوچتی اٹھ کر الماری میں چھپا دے کسی کو بتائے ہی نہیں کہ باسط نے کوئی تحفہ دیا ہے۔ کبھی سوچتی کی بس سب گفٹس میں مکس ہوگیا ہے کسی کو کیا پتا کہ کس نے دیا ہے۔ پھر دھیان آیا کہ بشرہ آپی اور اسماءآپی بچوں سمیت وہیں سورہی ہیں بچے تحفے ادھر ادھر نا کردیں۔ تھکن اتنی تھی کہ زیادہ دیر سوچ بھی نہیں پائی اور نیند میں ڈوبتی چلی گئی۔

صبح گھر میں چہل پہل سے اس کی آنکھ کھلی پہلی بار ایسا ہوا تھا جب وہ سب کے جاگنے تک سوتی رہی مگر کسی نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا نہیں۔ دوسرے ہی لمحے اسے گفٹ یاد آیا کچھ سوچے سمجھے بغیر وہ ایک دم بستر سے اٹھی اور بھاگ کے ڈرائنگ روم میں آگئی دونوں آپیاں اپنے بچوں کو لئے بیٹھی تھیں اور ناشتہ کروا رہی تھیں۔ معمول کے مطابق ڈانٹ ڈپٹ چل رہی تھی مگر بسمہ کا دھیان ان کی طرف تھا ہی کب اس کی نظریں تو سب سے پہلے ٹیبل پہ رکھے گفٹس پہ گئیں سب کچھ جوں کا توں دیکھ کر اسے سکون ہوا اور جیسے ہوش آگیا۔

 ”وہ آپی رات جو جھمکے پہنے تھے وہ یہاں ٹیبل پہ چھوڑے کیا میں نے؟” سٹپٹا کر اس نے بے تکی بات بنا دی۔

”جھمکے؟ نہیں تو وہ تو تم نے فورا ہی اتار کر جیولری باکس میں رکھے تھے نا، وہاں نہیں ہیں؟”

اسماءآپی کی نظریں چھوٹی بیٹی پہ تھیں جسے وہ نوالا کھلانے بلکہ ٹھسانے کی کوشش میں تھیں مگر جواب بسمہ کو دیا۔

”اچھا میں وہیں دیکھ لیتی ہوں”

 ”یہ سب بعد میں کرنا جلدی سے ناشتہ واشتہ کر کے فارغ ہوجاو گفٹس اور لفافے کھولیں۔ بچوں نے صبح سے دماغ کھایا ہوا ہے کہ خالہ جانی کے گفٹس کھولیں۔ بھیا بھی کئی بار انہیں ڈانٹ کے جا چکے ہیں مگر آج تو یہ قابو میں ہی نہیں آرہے۔” اسماءآپی نے اس کے مڑتے مڑتے پیچھے سے تھوڑا زور سے کہا۔

وہ ”جی آپی” کہہ کر غسل خانے میں گھس گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ناشتے سے فارغ ہوکر ڈرائنگ روم میں آگئی۔ اسے دیکھتے ہی باقی سب بھی آگئے جیسے بس اسی کا انتظار ہو۔ اسے عجیب بھی لگا اور اچھا بھی۔ اتنا پروٹوکول تو اسے کبھی نہیں ملا کہنے کواسکول میں پوزیشن ہولڈر تھی مگر بھیا اور اسد کے صرف پاس ہونے پہ جتنی سیلیبریشن ہوتی اتنی اس کے فرسٹ یا سیکنڈ آنے پہ نہیں ہوتی تھی۔ وہ اہمیت جو وہ گھر کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ چاہتی تھی۔ وہ اسے آج مل رہی تھی۔ یہ سب اس نے اسماءآپی اور بشرہ آپی کی شادی پہ بھی نوٹ کیا تھا جب ان سے وی آئی پی کی طرح برتاو کیا جارہا تھا۔ مگر اپنے لئے یہ سب ہوتے دیکھنا، یہ سب بہت الگ احساس تھا۔ پہلے تو اس کی کبھی نہیں چلی باقی سب سے چھوٹی تھی اور اسد سے بڑی ہونے کے باوجود لڑکی ہونے کی وجہ سے اس کی ہی سننی پڑتی تھیں وہ مرد جو تھا۔ بقول دادی، کہ بھائی چھوٹا بھی ہو تو بڑا ہی سمجھنا چاہئے انہیں تو بسمہ کا اسد کو نام لے کر پکارنا بھی پسند نہیں تھا۔ بسمہ تب چونکی جب فہد بھیا نے اسے کہا ”بسمہ لفافے تمہارے پاس ہیں یا امی کے پاس لے آو تو پہلے وہ کھول لیں۔” ان کے ہاتھ میں کاپی پین تھا۔

”نہیں بھیا پہلے گفٹس کھولتے ہیں نا۔ آپ اور ابو بعد میں لفافوں کا حساب کرتے رہئے گا وہ سارے امی کے پاس ہی ہیں۔”

بشرہ آپی یہ کہتے ہوئے اٹھ گئیں۔ انہوں نے سب سے پہلے باسط والا گفٹ اٹھایا۔

 ”سب سے پہلے تو یہ سب سے اسپیشل گفٹ کھلے گا” سب معنی خیز انداز میں ہنس پڑے

تب بسمہ کو اندازہ ہوا کہ سب کو پہلے سے پتا تھا کہ یہ گفٹ باسط نے دیا ہے۔

 ”ان لوگوں کو برا نہیں لگا؟” گھر کے خوش گوار ماحول پہ وہ خوش بھی تھی مگر ان کے غیر متوقع رویوں پہ حیران بھی۔

 ”یہ تو بسمہ کو ہی دو خود کھول کے دیکھے کہ ان کے انہوں نے کیا دیا” اسماءآپی نے شوخ لہجے میں کہا۔”

 ”یہ لیں جی دلہن صاحبہ کھولیئے اپنے ہونے والے سرتاج کا تحفہ” بشرہ آپی نے فورا گفٹ اس کے سامنا کردیا۔ وہ ایک دم گڑبڑا گئی۔

”آپی آپ ہی کھول لیں”

 ”یار تم لوگ گفٹس دادی کے روم میں لے جا کر کھول لو ہمیں لفافوں کا حساب کرنے دو” بھیا کا جھنجھلاہٹ میں دیا ہوا مشورہ بسمہ کو غنیمت لگا کم از کم سب بڑوں کے سامنے نہیں کھولنا پڑتا گفٹ۔وہ تینوں بہنیں گفٹس لے کر دادی اور بسمہ والے کمرے میں آگئیں۔

گفٹ کھولتے ہوئے بسمہ کے ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔ پہلی بار کسی لڑکے کا گفٹ کھول رہی تھی۔ ڈبہ دیکھ کر بھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ اندر کیا ہے عموما تو اس نے یہی دیکھا تھا کہ گھر میں کوئی بھی الیکٹرانکس کا پرانا ڈبہ ہوتا اس میں سوٹ یا چوڑیاں یا کوئی بھی ایسا گفٹ پیک کر دیا جاتا جس کا ڈبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ سمجھی اس میں بھی کوئی ایسا گفٹ ہوگا شاید کوئی شو پیس۔ موبائل کے ڈبے میں سوٹ تو آ نہیں سکتا،ڈبہ کھول کے ایک لمحے کو وہ ششدر رہ گئی۔ اس میں بالکل نیا موبائل رکھا تھا۔

 ”واہ بسمہ تیرے تو عیش ہوگئے” بشرہ آپی بول پڑیں۔ اس نے موبائل آن کیا تو اندازہ ہوا اس میں سم بھی ہے سگنل پورے ہوتے ہی ٹون بجنے لگی۔ ایک ساتھ تین میسج آگئے۔ نمبر باسط کے نام سے پہلے سے سیو تھا۔

 ”چلو بھءچلو یہاں تو پرسنل باتیں شروع ہونے والی ہیں” بشرہ آپی اور اسماءآپی گفٹس وہیں چھوڑ کے ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔

”ہیلو باسط ہئیر”

”ہیلو بسمہ گفٹ کیسا لگا”

”اتنا ایٹیٹیوڈ تو مت دکھائیں یار آپ کا منگیتر ہوں”

بسمہ کو تینوں میسج دیکھ کے اندازہ ہوا کہ باسط شاید رات سے ہی میسج کر رہا ہے۔

اسے لگا وہ ناراض نہ ہوجائے۔ غیر ارادی طور پہ اس نے ٹائپ کرنا شروع کردیا۔

 ” سوری موبائل ابھی آن کیا۔ یہ تو بہت مہنگا گفٹ ہے” سینڈ کر دینے کے بعد سوچا کہ گھر میں سے تو کسی سے پوچھا ہی نہیں۔ بھیا کو پتا چلے گا تو وہ تو بہت ناراض ہونگے۔ پھر سوچنے لگی کیا پتا نہ بھی ہوں آجکل تو سب نرالا برتاو کر رہے ہیں۔

وہ اپنی سوچوں میں ہی تھی کہ دوبارہ ٹون بجی۔

 ”جنہیں زندگی سونپ دی ہو ان کو موبائل دینا مہنگا تو نہیں۔”

یہ ایک دم اتنا فری کیوں ہوگیا؟۔ بسمہ کچھ حیران بھی تھی اور الجھن میں بھی۔

 منگنی کوئی اتنا مظبوط بندھن بھی نہیں یہ تو بس ایک وعدہ ہے اس پہ اتنی جلدی اتنی بے تکلفی؟ اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کا کیا جواب دے۔ کافی دیر وہ موبائل ہاتھ میں لیئے بیٹھی رہی۔

”بسمہ؟ آپ کو میری بات پسند نہیں آئی یا میرا تحفہ؟ ”

اب بسمہ کو لگا کسی کو تو بتا ہی دے۔ یہ نا ہو ذرا سی لا پرواہی نئے بنے بنائے رشتے کو خراب کردے۔

باہر نکلتے نکلتے دروازے پہ رک گئی۔ بتاوں کسے؟ جو ڈانٹے بغیر مسئلہ حل کرسکے؟ پھر اسے خیال آیا ڈانٹ تو سب سے ہی پڑنی ہے تو امی سے پوچھ لیتی ہوں ان سے ڈانٹ کھانے کی سب سے زیادہ عادت ہے تو سب سے کم بے عزتی محسوس ہوگی۔ آنکھیں بند کرکے دو تین گہرے سانس لئے اور ہمت جمع کرکے کچن میں چلی گئی۔

”امی!”

”ہمم”

امی چولہے پہ کچھ پکانے میں مگن تھیں۔

 ”یہ ب۔۔۔ کل جو تحفہ ملا اس میں سے موبائل نکلا ہے” وہ باسط کہتے کہتے جھجھک گئی۔

”ہاں بتایا مجھے بشرہ اور اسماءنے اچھے خاصے گفٹس کھولنا چھوڑ چھاڑ بھاگ کے بتانے آگئیں سب کو”

”اس پہ میسج آرہے ہیں”

”کس کے”

 ”جن کا گفٹ ہے” وہ اب بھی باسط کا نام لینے سے کترا گئی۔

 ”تو میں کیا کروں؟” امی کا مسلسل دھیان چولہے پہ رکھے بھگونے پہ تھا۔

”یہی تو میں پوچھنے آئی تھی کہ میں کیا کروں؟ مطلب جواب دوں یا نہیں”

 ”کرلو بات منگیتر ہے تمہارا اچھا ہے شادی سے پہلے کچھ ذہنی ہم آہنگی ہوجائے گی بس ایک حد میں رہ کر بات چیت کرنا یہ نا ہو کہ گھر کے کام پڑے ہوں اور شہزادی فون پہ لگی ہوں۔ مجھے نہیں پسند لڑکیوں کا ہر وقت فونوں میں گھسے رہنا۔” جس بات پہ ڈانٹ سننے کی توقع تھی اس پہ تو نہیں پڑی جو غلطی کی ہی نہیں تھی اب تک اس پہ ڈانٹ پڑ گئی۔ بسمہ کمرے میں آگئی۔

 ”تحفہ تو اچھا ہے مگر بہت مہنگا ہے” بسمہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے تو دوبارہ یہی میسج کردیا۔

 ”افف آپ اس پہ کب تک پریشان ہوتی رہیں گی؟ آپ سے بات بھی تو کرنی تھی آپ چاہیں تو میں موبائل واپس منگوا لوں پھر آپ کے ابو یا فہد بھائی کے موبائل پہ کال کرلیا کرونگا آپ سے بات کرنے کے لئے۔ ٹھیک ہے؟”

”ان کے موبائل پہ تو بہت عجیب لگے گا بات کرنا”

” جی بالکل لگے گا مجھے اندازہ تھا اسی لئے موبائل دیا آپ کو، اب داد دیں اپنے ہونے والے سرتاج کی ذہانت کی”

 ”اوہو بس اتنی سی بات پہ ذہانت کے دعوے کرنے لگے” بسمہ ہنس دی۔ بالکل لاشعوری طور پہ وہ ایک دم ہی مطمئین بھی ہوگئی اور کانفیڈنٹ بھی پتا نہیں امی کی اجازت کا نتیجہ تھا یا باسط کے دوستانہ رویئے کا۔

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ہوگیا کہ بسمہ جہاں جاتی موبائل ساتھ ساتھ ہوتا۔ جیسے ہاتھ پہ چپک گیا ہو۔ کئی دفعہ برتن دھوتے میں سنک میں گرتے گرتے بچا۔ کبھی آٹا گوندھتے میں آٹے سے لتھڑ جاتا۔ یا سالن پکاتے میں چکنائی سے تربتر ہوجاتا۔ پھر بڑی احتیاط سے صاف کیا جاتا۔ شروع شروع میں سب ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرتے رہے اس کی اور باسط کی میسجنگ کے حوالے سے اور پھر ایک دم دادی سے اعتراضات شروع ہوئے اور اسد تک نے اس کار خیر میں حصہ لینا شروع کردیا۔ ان کا اعتراض صرف زیادہ میسجنگ پہ ہوتا تو الگ بات تھی مگر خود اجازت دے کر اب اسے اس قسم کی باتیں سنائی جانے لگیں جیسے اس نے اپنی پسند سے کسی سے چکر چلا لیا ہو۔

کبھی دادی اس کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر قرب قیامت کی پیشنگوئی کرتیں، کبھی امی باپ بھائی کے سامنے بے حیائی پہ ٹوکتیں، کبھی بھیا سستی کا بہانا قرار دیتے۔ جبکہ اس کی کوشش ہوتی کہ اس کی میسجنگ سے اس کا کام متاثر نا ہو۔ کبھی اسد طنز کرتا کہ بسمہ ہائی فائی ماڈرن لڑکی ہوتی جارہی ہے کہ کھلے عام لڑکے سے باتیں کرتی ہے۔ بہنوں کوشکایت ہوتی کہ بسمہ اب ہمیں منہ ہی نہیں لگاتی۔

ہر دفعہ کسی کی بات پہ دلبرداشتہ ہو کر سوچتی کہ اب باسط سے کہہ دے گی کہ میسجنگ بند کریں اب شادی کے بعد ہی بات ہوگی مگر شاید کوئی نشہ تھا جو چھوٹتا ہی نہیں تھا۔ پہلی بار کوئی ایسا ملا تھا جو ہر وقت اس کی ہر بات سننے کو تیار تھا جو اس کی بےوقوفانہ بات پہ بھی فدا ہوتا۔ جو ہر وقت اس کی خوبصورتی اور ذہانت کو کھلے الفاظ میں سراہتا۔ یہ رشتہ گل بانو اور فائزہ کی دوستی سے کچھ الگ ہی تھا۔اس کے رومان پرور تصورات جیسا۔

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔

گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی مسئلوں پہ بات کر لے گی۔ گھر والوں کا رویہ بھی اور باسط کی رنگت بھی۔ ایک دو دفعہ اس نے باسط کو مشورہ بھی دیا کہ وہ وائیٹننگ فیشل کروا لیا کرے یا پھر کوئی فئیرنیس کریم یوز کرنی شروع کردے۔ کبھی باسط مذاق میں بات ٹال جاتا اور کبھی خاموش ہوجاتا کچھ دیر کے لئے۔ پھر وہ صفائیاں پیش کرنے کی کوشش کرتی کہ اسے مسئلہ نہیں بس لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور اسے اچھا نہیں لگے گا کہ کوئی باسط کا مذاق اڑائے۔

کئی دفعہ سوچا کہ اسے نہیں ٹوکے گی مگر پھر کسی گورے ہیرو کو دیکھ لیتی یا گھر پہ کالوں کا مذاق اڑتا دیکھتی تو شدت سے خواہش ہوتی کہ کاش باسط کا رنگ تھوڑا صاف ہوتا۔ پہلے شاید گھر والوں نے لحاظ رکھا ہو مگر اب سب گھما پھرا کر باسط کی رنگت پہ کچھ نا کچھ بولنے ہی لگے تھے۔ اس پہ اسے اور غصہ آتا کہ دیکھ کر بھی خود وہی لوگ آئے تھے اب اسے ایسےسناتے ہیں جیسے اس نے کالے دولہا کی ضد کی تھی۔ اس پہ قنوطیت سی طاری رہنے لگی تھی اسے لگنے لگا ہر بری چیز جان بوجھ کے اس کے حصے میں رکھی جاتی ہے۔ ویسے بھی گھر والوں کو اس کی کوئی خاص پروا تھی نہیں کم از کم یہ ایک چیز تو ڈھنگ کی دے دیتے اسے۔ اب اسے پکا یقین ہونے لگا تھا کہ وہ گھر میں اضافی ہے اور اسے بوجھ سمجھ کے سر سے اتارا جا رہا ہے۔ وہی اسد جو منگنی سے پہلے باسط کی ہر چیز کی تعریفیں کرتا تھا اب بار بار اس کے کمپلیکشن کا مذاق اڑاتا۔ ایک دن وہ واقعی کافی چڑ گئی جب اسد اسے بلا وجہ چڑائے جارہا تھا۔

”تمہارے کالو صاحب کو چمکیلے رنگ پہننے کا اتنا شوق ہے فل ٹائم کنٹراس مار کے آتے ہیں ”

سب اس کی بے تکی باتوں پہ ہنس رہے تھے جس پہ بسمہ کو اور غصہ آرہا تھا۔

”اوپر سے پتا نہیں کس چیز سے منہ دھو کے آتے ہیں یہ لش پش منہ چمک رہا ہوتا ہے باٹا کے جوتوں کی طرح”

 ”آئے ہاں کبھی کبھی تو واقعی بہت چمک رہا ہوتا ہے اس کا منہ کالا کالا۔” دادی بھی حمایت میں بول پڑیں۔

”تو نہیں کرنا تھا نا یہ کالا کالا پسند۔ بھگتنا تو مجھے پڑے گا ساری زندگی اس کا رنگ بھی اور آپ لوگوں کا طنز بھی۔”

 ”ارے ارے دیکھو ذرا اس کی گز بھر کی زبان اب ماں باپ کے فیصلوں پہ اعتراض ہوگا۔ بی بی اتنا اعتراض تھا تو خود کوئی شہزادہ ڈھونڈ لیا ہوتا۔ ماں باپ شکل نہیں دیکھتے یہ دیکھتے ہیں کہ بیٹی خوش کہاں رہے گی۔”

 ”تو مذاق بھی تو آپ لوگ ہی اڑا رہے ہیں” وہ روہانسی ہوگئی۔

 ”ارے بھائی ہے چھوٹا دو باتیں مذاق میں کرلیں تو ٹسوے بہانے لگیں محترمہ، ارے سسرال میں کیا کیا برا بھلا سننا پڑتا ہے وہ کیسے سہو گی۔”

” دادی ضروری ہے کہ ایسی سسرال دھونڈی جائے جو کچھ برا بھلاضرور کہے؟”

آج پتا نہیں اسے کیا ہوگیا تھا وہ منہ در منہ جواب دینے کو تیار بیٹھی تھی۔

 ”لاحول ولا پگلا گئی ہو کیا؟ کوئی جان بوجھ کے ایسی سسرال نہیں ڈھونڈتا اولاد کے لئے مگر سسرال جگہ ہی ایسی ہے بیٹیوں کو بڑا دل مضبوط کر کے اپنا گھر چھوڑنا ہوتا ہے۔”

”دادی جو لوگ اپنی بیٹی کو محبت دے سکتے ہیں وہ بہو کو کیوں نہیں؟”

”کیونکہ بہو سگا خون نہیں ہوتی”

 ”نہیں دادی مسئلہ یہ ہے کہ انہیں محبت دینے کی عادت ہی نہیں،چاہے وہ بیٹی ہو یا بہو مجھے کونسا پیار دے دیا آپ لوگوں نے؟ ہاں بس یہ ہے کہ ایسا رویہ بڑے بھیا یا اسد کی بیوی کے ساتھ ہوگا تو وہ چپ کرکے نہیں سہے گی کیونکہ وہ سگا خون نہیں اپنے سگے رشتوں کی شکایت کرتے ہوئے اپنی ہی انا مجروح ہوتی ہے۔”

وہ صرف سوچ کے رہ گئی ایک آنسو گال تک آگیا اگلا نکلنے سے پہلے پہلے وہ اٹھ کر کمرے میں آگئی۔تکیے میں منہ دیئے کافی دیر روتی رہی۔ ہر بار روتے ہوئے اسے امید ہوتی کہ کوئی تو چپ کرانے آئے گا۔ مگر سب ایسے اپنے کاموں میں لگے رہتے کہ اسے لگتا اس کو رلانا ہی مقصد تھا شاید تبھی کسی کو اس کے رونے پہ ترس نہیں آتا تھا۔ نا کوئی منانے کی کوشش کرتا نہ اپنے غلط رویئے پہ معافی مانگتا۔ آج بھی وہ روئے جارہی تھی کہ موبائل کی ٹون بجی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ کس کا میسج ہے مگر اس وقت وہ اس سے بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سارا غصہ ہی اس سے شروع ہوا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی اس نے میسج کھول لیا۔

”میری زندگی کی روشنی کہاں گم ہے؟”

 ”جائیں آپ مجھے ابھی بات نہیں کرنی” وہ خود کو جواب دینے سے نہیں روک پائی مگر جواب سختی سے ہی دیا۔

”ارے کیوں بھئی اتنا غصہ کیوں جناب؟”

کچھ نہیں بس اسد سے تھوڑا جھگڑا ہوگیا۔””

”اوہو یہ تو گڑبڑ ہوگئی۔ ہماری بسمہ کا موڈ خراب ہے اور وہ اتنی دور ہے ??”

” پاس ہونے پہ کیا فرق پڑنا تھا”

”وہ تو آپ پاس ہوتیں تو آپ کو پتا چلتا ??”

”پھر بھی کیا ہوتا” وہ اپنی ناراضگی بھول بھال کے باتوں میں لگ گئی۔

”ابھی بتاوں گا تو آپ ناراض ہوجائیں گی”

”لو یہ کیا بات ہوئی۔ بتائیں نا باسط”

”نہیں بھئی ابھی بتا دوں گا تو آپ کہیں گی باسط آپ گندی گندی باتیں کرتے ہیں”

”پہلے کبھی آپ کو کہا ہے ایسا”

 ”پہلے نہیں کہا مگر میں جو کروں گا وہ ابھی بتا دیا تب آپ یہ ضرور کہیں گی”

 میسج پڑھ کر بسمہ کی کان کی لوئیں تک سرخ ہوگئیں۔

”آپ بد تمیز ہیں بہت، جائیں میں واقعی بات نہیں کر رہی۔”

موبائل سائیڈ میں رکھ کر اس نے تکیے میں منہ چھپا لیا۔ دو تین دفعہ موبائل مزید بجا پھر خاموش ہوگیا۔ بسمہ کی دھڑکن بہت بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پہ آجانے والی مسکراہٹ اب اس سے کنٹرول نہیں ہورہی تھی۔

اور پھر آہستہ آہستہ باسط کے میسجز مزید شوخ ہوتے چلے گئے۔ کہیں کہیں پہ وہ صرف شوخ نہیں ہوتے بلکہ بسمہ کو لگتا کہ کافی فحش ہیں مگر وہ منع بھی کرتی تھی تو باسط مذاق میں بات اڑا دیتا۔ زیادہ سختی سے وہ کچھ کہہ بھی نہیں پاتی تھی۔ ورنہ باسط ناراض ہوجاتا تھا ایک دو دفعہ اس نے کہہ بھی دیا کہ یار تمہیں میری باتیں اتنی بری لگتی ہیں تو ہم نہیں کرتے بات۔ تم سے ایک بات برداشت نہیں ہوتی زندگی بھر مجھے کیسے برداشت کرو گی۔

پتا نہیں یہ دھمکی ہی ہوتی تھی یا نہیں مگر بسمہ کو دھمکی ہی لگتی تھی۔ پھر وہ بھی عادی ہوتی چلی گئی۔ زیادہ عجیب تب ہوا جب ایک دو بار اسماءآپی نے بغیر پوچھے اس کا موبائل دیکھا بھی اور کچھ ایسے ویسے ٹائپ کے جوک اس سے پوچھے بغیر اپنے نمبر پہ فارورڈ بھی کر لئے۔ وہ دیکھتی رہ گئی اس کا خیال تھا کہ گھر میں کوئی ہنگامہ وغیرہ ہوگا کہ بسمہ منگیتر سے اس قسم کی باتیں کرتی ہے مگرباتوں باتوں میں اسماءآپی ایک دن کہہ گئیں۔

 ”یار بسمہ تیرے منگیتر کا سینس آف ہیومر اچھاہے شکر کر میرے میاں کی طرح بورنگ نہیں ہےوہ”ناس سے پتا نہیں آپی کی کیا مراد تھی مگر اسے اچھا نہیں لگا۔

 اب اسے شادی شدہ خواتین کی محفل میں بیٹھنے کی بھی اجازت مل گئی تھی اور جو باتیں بڑی روانی سے یہاں کی جاتیں باسط کے میسجز اسے ان کے مقابلے میں تمیزدار لگتے تھے۔ کبھی کبھی تو وہ خود سٹپٹا کے کمرے سے نکل جاتی جتنی ذاتی باتیں بہت آرام سے زیر بحث ہوتیں۔ اور پھر وہ ان باتوں کی بھی عادی ہوتی چلی گئی۔ وقت گزرتا جارہا تھا شادی کی تاریخ بھی قریب آرہی تھی۔ باسط چاہ رہا تھا کہ شادی کا سوٹ اور کمرے کا فرنیچر پسند کرنے کے لئے وہ اور بسمہ ساتھ جائیں اور بسمہ کا خون خشک ہورہا تھا یہ سوچ سوچ کر کہ بھیا تو جائیں گے ہی ان کے سامنے وہ بول ہی کیا سکے گی۔

پہلے تو باسط ڈائریکٹ اصرار کرتا رہا پھر ایک دن اس کی دونوں بہنیں اور دونوں بھابھیاں آگئیں اجازت لینے، اس وقت تو امی نے کہا ہم گھر کے مردوں سے پوچھ کے بتائیں گے مگر ویسے سب راضی تھے بس دادی کو منانا تھا۔ دادی کی بھی سب سے مضبوط دلیل یہی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اور ہمیشہ کی طرح امی کی مرضی ہی فیصلہ ٹہری۔ مگر نہیں ہمیشہ کی طرح نہیں بسمہ کو یاد ہے جب وہ چھوٹی تھی اور دادی اتنی کمزور نہیں ہوئی تھیں، بھیا بھی اسکول میں تھے تب دادی کی کہی ہوئی بات پتھر پہ لکیر ہوتی تھی۔امی کے لئے اس سے الگ کوئی فیصلہ کرنا تو دور کی بات اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی ممنوع تھاتب تک دادا زندہ تھے گھر دادا کے نام تھا۔ دادا کے انتقال کے بعد ابو نے تھوڑابہت جو جو بھی دونوں بھائیوں کا حصہ بنتا تھا وہ دے کر اور بہن سے حصہ معاف کروا کر گھر اپنے نام کروالیا تھا۔ دونوں بھائی ویسے ہی کافی عرصہ پہلے الگ گھر لے چکے تھے۔اس کے بعد سے ہی کب یہ فیصلے کا اختیار دادی سے امی کے ہاتھ میں آیا بسمہ کو پتا نہیں چلا۔ بس کبھی کبھار امی کو کہتے سنتی کہ اماں کو غنیمت سمجھنا چاہیئے کہ انہیں ہم نے ساتھ رکھا ہوا ہے ورنہ نبھا کے تو انہوں نے کسی بہو سے نہیں رکھی۔ یہ بات براہ راست دادی کو کبھی نہیں کہی گئی مگر اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا کہ وہ سن نا لیں۔ ایک ہی کمرے میں تو وہ اور دادی رہتے تھے۔ اس نے کئی بار باہر امی کو یہ کہتے سنا اور دادی ساتھ بیٹھی ہوتیں۔ ان کے چہرے کی تاریکی بسمہ کو اداس کرجاتی تھی۔ مگر اسے حیرت اس بات پہ ہوتی کہ اس کے باوجود دادی کے لئے سسرال کا یہ چلن ٹھیک تھا اور ایسے ہی چلتا آیا ہے اور چلے گا۔ وہ اپنے اس چلن کو بھگت رہی تھیں مگر اپنے خیالات میں تبدیلی پہ تیار نہیں تھیں۔ سسرال میں نبھانے کے طریقے بتاتے ہوئے وہ ان کی دادی نہیں بلکہ ماں کی ساس کی حیثیت سے مشورے دیتی تھیں۔ جن میں سرفہرست سسرال میں چپ چاپ خدمت کرنے کی تلقین ہوتی۔ اس سے بھی حیرت کی بات یہ کہ امی اس نصیحت کی حامی تھیں۔ اور اب دادی کی اسی سوچ کو ان پہ استعمال کیا گیا کہ اسے جن لوگوں کے ساتھ جا کر گزارا کرنا ہے وہی ساتھ شاپنگ کرانا چاہتے ہیں تو ہم منع کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ بقول ابوکے کہ منگنی کر کے ہم نے بیٹی آدھی تو بیاہ دی۔ سسرال کے مسئلے ہیں بہت سوچ سمجھ کے چلنا پڑتا ہے۔

خیر اجازت ملنے کے بود دوبارہ ایک دن باسط کے گھر سے کافی بڑا لشکر آیا اس کی دونوں بہنیں دونوں بھابھیاں بہنوں اور بھائیوں کی بڑی بیٹیاں اور گود والے بچے۔ طے یہ پایا کہ خواتین کی ٹولی بسمہ کو ساتھ لے کر جائے گی اور بھیا جاکر باسط کو شاپنگ کروائیں گے۔ دلہن کے سوٹ کے لئے کئی دکانیں چھانی گئیں بسمہ خاموش بیٹھی تھی اور جو صلح مشورہ ہورہا تھا وہ باسط کے گھر والوں میں آپس میں ہی ہورہا تھا۔ بڑی دیر کے بعد ایک لمبے کرتے کے ساتھ اسٹائلش سا لہنگا سب کو پسند آیا ڈیزائن وغیرہ تو ٹھیک ہی تھا مگر رنگ بسمہ کو پسند نہیں آیا زیادہ، مگر جب فائنل کر کے اس سے پوچھا گیا تو وہ صرف ہاں میں ہی سر ہلا سکی۔ اب کیا بولتی؟ اتنے میں باسط کی دوسری نمبر کی بھابھی کے پاس باسط کی کال آگئی۔ باسط اور بھیا فرنیچر کی دکان پہ تھے۔ جو یہاں سے آدھا گھنٹہ دور دوسری مارکیٹ میں تھی فورا سب کچھ فائنل کر کرا کے ٹیکسی کی گئی اور سب فرنیچر کی دکان پہ پہنچ گئے۔ بسمہ کچھ حواس باختہ سی ہوگئی تھی۔ باسط اور بھیا ایک ساتھ تھے۔ بھیا کافی جھنجھلائے ہوئے تھے کیونکہ اول تو دکان ہی کافی مہنگے فرنیچر کی تھی پھر یہ بات بھی بسمہ نے سن ہی لی تھی جو پچھلی مارکیٹ سے نکلنے سے پہلے باسط کو کہی گئی تھی کہ ابھی کچھ فائنل نہیں کرنا ہم بس ”پانچ منٹ” میں آتے ہیں۔ دکان پہ آتے ہی فرنیچر پسند کرنے کا چارج بڑی بہن اور بھابھی نے سنبھال لیا۔ بقول ان کے کہ کمرا بڑا ہے صرف بیڈ سائیڈ ٹیبلز اور ڈیوائڈر سے تو عجیب لگے گا۔ اور اب وہ کوئی ایسا سیٹ دیکھ رہی تھیں جس سے کمرہ بہتر طور پہ سج سکے۔ باسط کا دھیان اب فرنیچر کی بجائے بسمہ پہ تھا۔ ہر کچھ دیر بعد وہ بسمہ کے کسی سائیڈ پہ آجاتا اور بسمہ سٹپٹا کے ایک دو قدم آگے یا ایک دو قدم پیچھے ہوجاتی۔ ایک جگہ بسمہ کے پیچھے ہونے پہ وہ بھی رک گیا سب آگے نکل گئے۔

 ”کیا مسئلہ ہے یار تھوڑی دیر میرے ساتھ نہیں چل سکتیں۔ کھا جاوں گا کیا؟” اس نے کافی دھیمی آواز میں کہا تھا مگر پھر بھی بسمہ گھبرا گئی۔

”افف آہستہ بولیں نا بھیا نا سن لیں”

”ارے ریلیکس نا تمہارے بھیا ابھی فرنیچر کے مسئلے میں الجھے ہیں انہیں یاد بھی نہیں ہوگا کہ تم ساتھ ہو۔”

”اتنے بےچین کیوں ہورہے ہیں ایک مہینہ ہی تو رہ گیا ہے بس۔ مل لیتے آرام سے”

”اسی لئے تو زیادہ بے چین ہوں جیسے جیسے دن قریب آرہے ہیں تمہارے بغیر رہنا مشکل لگ رہا ہے”

 ”اچھا نا اتنا صبر کرلیا تو اب اور کرلیں۔” وہ کہہ کر جلدی سے آگے بڑھ گئی۔

آخر کار بڑی مشکل سے باسط کے گھر والوں کو ایک بیڈ روم سیٹ پسند آیا جس میں بیڈ، سائیڈ ٹیبل، ڈیوائیڈراور ڈریسنگ ٹیبل کے علاوہ ایک صوفہ، شوکیس، آئرن اسٹینڈ، بلاوجہ کا لیمپ اور اس کی ٹیبل بھی تھی۔ اور وہ بھی ان کے خیال میں بس ٹھیک تھا۔ فرنیچر کی بکنگ وغیرہ کروا کے وہ لوگ باہر نکل رہے تھے تو سامنے ہی بسمہ کو اپنی ایک کلاس فیلو نظر آگئی وہ قریب کی ایک دکان پہ شاید اپنے گھر والوں کے ساتھ دکان سے باہر رکھے آئیٹمز دیکھ رہی تھی۔ ان سے کچھ دور پانچ چھ لڑکوں کا ایک ٹولا مسلسل ان پہ کمنٹس پاس کررہا تھا۔ لڑکوں کی عمریں پچیس سے تیس کے درمیان ہی تھیں۔ ایک دو فقرے انہوں نے اتنی زور سے اور ایسے کہے کہ سب کی ہی توجہ ان لڑکوں کی طرف گئی۔ باسط کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

”شرم نہیں آتی لوگوں کو بچیوں کو بھی نہیں چھوڑتے”

بسمہ بتانے ہی والی تھی کہ یہ اس کی کلاس فیلو ہے مگر ”بچیوں” سن کے وہ سن سی ہوگئی۔

اس نے کچھ بھی بولنے کا ارادہ بدل دیا۔ وہاں سے پھر بھیا اور باسط کسی اور طرف چلے گئے اور خواتین کا ٹولا میچنگ کے جوتے لینے نکل گیا۔ کافی ڈھنڈائی کے بعد جوتے پسند کئے گئے اور واپسی ہوئی۔ بسمہ چونکی تب جب ایک انجان گھر کے سامنے ٹیکسی رکی اور سب اترنے لگے۔ رافیعہ باجی اسے ہچکچاتا دیکھ کے بولیں آو کچھ چائے وغیرہ پی کے تھکن اتارتے ہیں تم اپنا کمرہ بھی دیکھ لینا۔ اسے بہت عجیب لگا کہ اس سے پوچھنا تو الگ بات اسے بتانے کی بھی زحمت نہیں کی گئی کہ اسے سسرال والے گھر لے کے جارہے ہیں۔ کہنے کو یہ کوئی خاص بات نہیں تھی مگر اسے کافی تذلیل محسوس ہوئی کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت ہی نہیں جو جہاں لے جائے بغیر پوچھے؟

سب اندر آگئے ساس اور دیور کافی خوش دلی سے ملے۔ ساس نے فورا صدقے کے پیسے نکالے۔ میری بہو پہلی بار اپنے گھر آئی ہے۔ گاڑی میں محسوس ہونے والی تذلیل کا اثر کچھ کم ہوتا محسوس ہوا۔ سب بسمہ کے اردگرد تھے خاص طور سے بچے چاچو کی دلہن چاچو کی دلہن کرتے ہوئے اردگرد گھوم رہے تھے۔ پھر سب اس کے اردگرد بیٹھ گئے ایک دو بچے اس سے جڑ کے بیٹھے ہوئے تھے اور ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہے تھے۔ ایک تو وہ بولتے میں ہی جھجھک رہی تھی ساری باتیں دوسرے ہی کر رہے تھے پھر کوئی بات کرتے کرتے ان بچوں پہ نظر پڑ جاتی تو وہ اور گڑبڑا جاتی۔ باسط کی چھوٹی بھابھی نازیہ کو شاید اندازہ ہوا کہ وہ پرسکون نہیں ہوپارہی تو اس نے اسے وہاں سے اٹھا لیا کہ چلو تمہیں گھر دکھائیں اور کمرہ بھی۔ گھر ٹھیک ہی تھا بس جیسا متوسط طبقے کے گھرانوں کا ہوتا ہے نیچے ساس سسر کا کمرہ بڑے بھائی اور بھاوج کا کمرہ اور بیچ میں تھوڑا بڑا ہال ٹائپ کمرہ جسے لاونج کے طور پہ استعمال کیا جارہا تھا۔ اوپر کے پورشن میں دو ہی کمرے بنے ہوئے تھے اور ایک کونے میں اٹیچ باتھ تھا۔ دونوں کمرے باہر سے ایک جتنے ہی لگ رہے تھے ایک نازیہ بھابھی کا کمرہ تھا دوسرا باسط کا۔ پہلے نازیہ بھابھی نے اپنا کمرہ دکھایا پھر دوسرے کمرے میں لے آئیں یہاں فرش پہ ایک سنگل میٹرس بچھا ہوا تھا اور پرانا سا کارپٹ تھا۔ ایک طرف چھوٹی میز پہ ایک لیپ ٹاپ پڑا تھا۔ ایک کرسی پہ باسط کے کپڑے پڑے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے اس کے دماغ میں اس کمرے کا تصور الگ تھا بلکل سیٹ سجا ہوا۔ مگر پھر خیال آیا کہ فرنیچر تو لیا ہی ابھی ہے۔ مطلب باسط کےکمرے میں پہلے سےفرنیچر ہےہی نہیں؟ اس کے ذہن می پہلی بار خیال آیا کہ باسط کی تنخواہ کیا اتنی کم ہے کہ وہ تھوڑا بہت سامان بھی نہیں لے پایا کمرے کے لئے۔ شادی کے بعد خرچے چل بھی پائیں گے یا نہیں؟ کمرے کو نہ بکھرا ہوا کہا جاسکتا تھا نہ سمٹا ہوا۔ نازیہ بھابھی کمرے کی حالت دیکھ کر ہنس دیں۔

”دیکھ رہی ہو اپنے منگیتر کی حالت؟ سب پھیلا کے رکھتا ہے،اب تم ہی آ کے سنبھالنا”

اور بلا وجہ ہی بسمہ کے ذہن میں ایک بات آئی۔

”غیر شادی شدہ فرد کیا فیملی کا حصہ نہیں ہوتا کہ اس کی ضرورتیں اس کی بیوی ہی آکے پوری کرے گی؟”

 ”کیا سوچ رہی ہو۔ پریشان مت ہو یار سب مردوں کی یہی عادت ہے یہ بھی آفس جاتے ہوئے سب پھیلا کر جاتے ہیں کپڑےیہاں پھینکے تولیا وہاں اف۔ چلو ادھر ہی بیٹھتے ہیں میں بتا آئی تھی رافیعہ بھابھی کو وہ اوپر ہی لے آئیں گی چائے۔ نازیہ بھابھی نے بڑی والی بھابھی کا نام لے کر بتایا۔

بسمہ کی کیفیت عجیب سی تھی کمرہ اجنبی بھی تھا مگر باسط کی چیزوں کا اردگر ہونا اسے بہت رومانوی احساس دلا رہا تھا۔ نازیہ بھابھی ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں مگر بسمہ کا دھیان ان کی باتوں پہ کم ہی تھا۔ وہ ایسے بیٹھی ہوئی تھی کہ دروازے کی طرف اس کی پیٹھ تھی

 ”ہمیں گھر سے بھگا کر ہماری منگیتر کو یرغمال بنایا ہوا ہے” اسے پیچھے سے باسط کی شوخ آوازسنائی دی۔ وہ چونک کے مڑی تو دروازے میں باسط کھڑا ہوا تھا۔

 ”تمہارے لئے ہی یرغمال بنا کر لائیں ہیں جناب” نازیہ بھابھی نے بھی شرارتی انداز میں کہا۔ کہنے کو کافی رومانوی سچویشن تھی ایسی سچویشنز بسمہ نے کئی بار کہانیوں میں پڑھی تھیں۔ مگر وہ بالکل بھی ویسا محسوس نہیں کرپائی جتنا رومانوی وہ ان سچویشنز کو سمجھتی تھی۔ اسے شدید بے چینی اور اختلاج قسم کا احساس ہورہا تھا۔

”بھابھی ہم نیچے چلیں چائے بن گئی ہوگی۔ دیر بھی ہوگئی ہے”

 ”ہاں تم بیٹھو میں لے کر آتی ہوں۔ اپنے منگیتر سے کچھ باتیں کرلو باولا خود ہورہا ہے اور ہمیں بھی کردے گا” وہ بھی نازیہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی

”بھابھی میں بھی ساتھ چلتی ہوں”

 ”اففو منگیتر ہے تمہارا کوئی بات نہیں دومنٹ بیٹھ کے بات کرلو، بے فکر رہو اوپر کوئی نہیں آئے گا” وہ پریشان کمرے کے بیچ میں کھڑی رہ گئی اور نازیہ اسے چھوڑ کے نیچے چلی گئی۔

باسط دو تین قدم بڑھ کر اس کے قریب آگیا۔ بسمہ کو اس کے پرفیوم کی خوشبو اپنے اردگرد محسوس ہوئی۔ مگر کچھ مختلف سی تھی شاید اتنی دیر باہر گھومنے پہ پسینے کی بھی مہک تھی۔ اتنے قریب اس کے جسم کی خوشبو سے اسے اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہورہے تھے۔ ایک دم ہی حلق خشک ہوگیا۔ اس کی نظریں باسط کے جوتوں پہ تھیں۔

 ”یار سر تو اٹھاو۔ نیچے جوتے ہی دیکھتی رہو گی کیا؟ بسمہ۔۔۔۔ ” اس نے آہستہ سے بسمہ کا ہاتھ پکڑا۔ بسمہ کواس گرفت میں اور اسلم کی گرفت میں کافی فرق لگا۔باسط کی گرفت میں استحقاق تھا جیسے اسے پتا ہو کہ بسمہ ہاتھ نہیں چھڑوائے گی۔ مگر پھر بھی بسمہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔

”او یار منگیتر ہوں میں تمہارا کیوں اتنا شرماتی ہو۔ ایک مہینے بعد کیا کرو گی۔تب بھی اجازت ملے گی یا نہیں”

”وہ تو نکاح کے بعد ہوگا نا”

”نکاح بھی تو ساتھ جینے کا اقرار ہے وہ تو پہلےہی کرچکے ہم۔ زندگی آپ کے نام ہے میری جان”

باسط نے آہستہ سے اپنے ہونٹوں سے اس کا گال چھوا۔

بسمہ کو بہت کراہیت کا احساس ہوا۔ وہ ایکدم پیچھے ہٹ گئی۔

 ”میں نیچے جارہی ہوں” وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی مکروہ چیز لگ گئی ہے آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔ دادی نے آخر ٹوک دیا۔

”ارے چھوڑ دے پانی کا پیچھا۔ ایک دن کی دھول مٹی سے کالی نہیں ہوجائے گی۔ ویسے بھی وہ کیا پھیشل کرواتی ہیں دلہنیں وہ تو ہوگا ہی۔”

وہ نلکا بند کر کے گیلا چہرہ لے کر ہی پنکھے کے نیچے بیٹھ گئی۔

”ائے کیا ہوا؟ تھک گئی کیا؟”

دادی کو اس کے تاثرات سے کچھ گڑبڑ کا احساس تو ہوا مگر سمجھ نہیں آیا کہ اسے ہوا کیا ہے۔ ان کے حساب سے تو اسے خوش آنا چاہیئے تھا کہ اپنی شادی کا جوڑا خرید کے آئی تھی۔ مگر اس کے چہرے پہ پھیلی وحشت نے انہیں واقعی کافی ڈرا دیا تھا۔

”دادی بہت گرمی ہے آج، شاید اسی وجہ سے گھبراہٹ ہورہی ہے۔”

وہ اس وقت بالکل چپ رہنا چاہتی تھی مگر دادی کی نظریں جواب طلب انداز میں مسلسل اس کے چہرے پہ ہی تھیں ایسے میں بالکل چپ رہنا ناممکن ہی تھا۔ جواب دے کے وہ اٹھ کر کمرے میں آگئی۔ بستر پہ ساکت لاش کی طرح لیٹ گئی۔ اس کی نظریں چلتے پنکھے پہ تھیں مگر ذہن وہیں باسط کے کمرے میں تھا۔ بار بار وہ منظر ذہن میں آتا اور ہر بار اسے خود سے اور باسط سے پہلے سے زیادہ کراہیت محسوس ہوتی۔

اسلم کی بار میں اسے احساس شرمندگی ضرور تھا کہ اس نے اسلم پہ غلط اعتبار کیا مگر کم از کم اسے اتنا آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اسے اطمینان تھا کہ اب اسلم اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل گیا ہےمگر اب اسے شدید احساس گناہ اور احساس بے بسی تھا۔ احساس گناہ اس لئے کیونکہ اسے لگا کہ باسط کے نامناسب میسجز پہ اگر وہ پہلے ہی سختی سے روک دیتی تو باسط کی اتنی ہمت نا ہوتی۔ اور بے بسی اس لئے کیونکہ وہ باسط کو اپنی زندگی سے نکال نہیں سکتی تھی۔ اسے ایک نامحرم نے چھوا ایک نام کے رشتے کا سہارا لے کر اور وہ روک بھی نہیں پائی۔ وہ بے تاثر چہرہ لئے لیٹی تھی اور آنسو نکل کر بالوں میں جذب ہورہے تھے۔ اسے یقین تھا کہ غلطی اسی کی ہے۔ اسے ہمیشہ یہی سکھایا گیا تھا کہ مرد ہمیشہ عورت کی شہہ پہ ہی کچھ کرنے کی ہمت کرتا ہے اور اب تو واضح تھا اس نے باسط سے اتنی بات چیت کی تھی تبھی باسط یہ سب کرنے کی ہمت کرپایا۔ اسے احساس ہی نہیں ہواکہ وہ کتنی دیر ایسے ہی ساکت پڑی رہی وہ چونکی تب جب مغرب کی اذان کی آواز اس کے کانوں میں آئی ایک سحر کی سی کیفیت میں اٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی۔ شاور کھول کر کافی دیر صرف پانی بہاتی رہی جسم پہ۔ کئی دفعہ صابن لگایا۔ جب کپڑوں کی طرف ہاتھ بڑھانے کا سوچتی تو لگتا ابھی تو ٹھیک سے جسم پاک ہی نہیں ہوا اور پھر صابن لگا لیتی۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے بعد جب امی نے دروازہ بجایا تو باہر آئی۔ پھر وضو کے لئے واش بیسن پہ کھڑی ہوگئی چہرے پہ پانی ڈالنے کی باری آئی تو بس ڈالتی ہی رہی، اسے مسلسل نجاست کا احساس ہورہا تھا۔

”ہٹ بھی چک لڑکی مجھے بھی وضو کرنا ہے ٹائم نکلوائے گی کیا نماز کا”

دادی نے کہا تواس نے چونک کے جلدی جلدی وضو ختم کیا اور نماز پہ کھڑی ہوگئی۔ اسے نہیں یاد کہ اس نے کتنے سجدے کیے،کتنے رکوع اور کتنے قیام بس ذہن میں ایک بات تھی کہ کسی طرح گناہ کی معافی مل جائے۔ آخر جب بالکل تھک گئی تو مصلا سمیٹ کر بستر پہ آکر لیٹ گئی۔

اور پھر کئی دن تک یہ پانی کا کھیل چلتا رہا نہانے جاتی تو گھنٹوں لگا دیتی، ہاتھ منہ دھونے کھڑی ہوتی تو صابن ملتی رہتی، نماز پہ کھڑی ہوتی تو تھک کر ٹانگیں بے جان ہوجاتیں تب ہی مصلا چھوڑتی۔ اس کی چہرے اور ہاتھوں کی جلد خشک پپڑی کی مانند ہوگئی۔

جب کسی بھی طرح سکون نا ملا تو ایک دن چادر اوڑھی اور کہہ کے نکل آئی کہ میں فائزہ کے گھر جارہی ہوں۔ امی اور دادی اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں۔

فائزہ اسے دروازے پہ دیکھ کر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔ وہ فورا اسے لے کر اپنے کمرے میں آگئی۔

 ”یار تھوڑی دیر بیٹھ، امی ابھی کوئی لیکچر وغیرہ کے نوٹس بنا رہی ہیں تب تک ہم تھوڑی باتیں کر لیتے ہیں پھر امی سے جو بات کرنی ہو کرلینا۔”

فائزہ کو یاد تھا کہ بسمہ نے منگنی سے بھی پہلے اس سے کہا تھا کہ وہ آنٹی سے مشورہ کرنا چاہتی ہے وہ یہی سمجھ رہی تھی کہ بسمہ مشورے کے لئے آئی ہے۔

”اچھا رک میں پانی وانی لاوں پھر آرام سے باتیں کرتے ہیں۔”

وہ جانے کے لئے پلٹی مگر بسمہ نے ہاتھ پکڑ کے روک لیا اور ایک دم رونا شروع کردیا۔ فائزہ اسے ایسے روتے دیکھ کر پریشان ہوگئی۔

”بسمہ کیا ہوا یار سب ٹھیک ہے؟ باسط بھائی نے کچھ کہا؟ کچھ ہوا ہے ان کے گھر پہ؟ یا کسی نے تجھے کچھ کہا ہے؟”

بسمہ کوئی بھی جواب دینے کی بجائے روتی رہی۔ فائزہ نے مزید سوال کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا وہ اسے روتا دیکھتی رہی۔ کافی دیر رونے کے بعد خود ہی اس کے رونے کی شدت میں کمی آگئی اور پھر جب صرف سسکیاں رہ گئیں تو فائزہ اٹھ کر پانی لے آئی۔

”چل منہ دھو کے آ پھر بتا مسئلہ کیا ہے”

بسمہ ساتھ ہی بنے واش روم سے جلدی جلدی منہ پہ ایک دو چھپاکے مار کے آگئی۔

کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی جیسے سمجھ نا آرہا ہو کہ کہاں سے شروع کرے

”فائزہ کل باسط کے گھر والے آئے تھے مجھے ساتھ شاپنگ پہ ”

”اچھا پھر سوٹ پسند نہیں آیا”

”ابے پاگل ہے کیا تیرے خیال میں اس بات پہ اتنا روﺅں گی۔ مجھے کونسا اپنی پسند کے کپڑے پہننے کی عادت ہے۔”

”تو”

 ”وہاں سے وہ لوگ گھر لے گئے اپنے۔ ان کی دوسری نمبر کی بھابھی کمرہ دکھانے لے گئیں تو پیچھے سے باسط آگئے۔ ان کی بھابھی ہمیں اکیلا چھوڑ کر نیچے چلی گئیں۔”

”اچھا پھر”

”یار انہوں نے مجھے زبردستی کس کیا میں منع بھی کر رہی تھی”

”ہمم اور تیرا دھرم بھرشٹ ہوگیا؟”

”ہاں تو ایسے کیسے؟منگنی کوئی شرعی رشتہ تو نہیں ہوتی جو انہوں نےایسے کس کرلیا”

 ”اچھا اور وہ جو تو ناولز پڑھتی ہے بڑے شوق سے اس میں کونسا بڑی شرعی رشتے داریاں دکھائی جاتی ہیں۔ ہر دوسرے ناول میں ہیرو ہیروئین کے معانقے و بوسے ہوتے ہیں شادی کے بغیر۔”

اپنی بات کے طنز کو ظاہر کرنے کی کوشش میں فائزہ بہت گاڑھی اردو استعمال کر گئی۔

”یار سچی بات ہے میں خود بھی حیران ہوں کہ یہ سب رومینٹک لگنا چاہیے تھا مگر نہیں لگ رہا بہت شدید احساس گناہ ہورہا ہے کہ میں نے انہیں اتنا بڑھنے کی ہمت دی ہی کیوں؟”

” یعنی تجھے لگتا ہے یہ تیری غلطی ہے”

فائزہ نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔

”تو! نہیں ہے؟”

”تو نے فرمائش کی تھی کہ کس کریں مجھے۔”

”پاگل ہے کیا تجھے پتا ہے میں تو انہیں ہاتھ پکڑنے کا بھی نا کہوں خود،میری تو اتنی ہمت شاید شادی کے بعد بھی نا ہو”

 ”تو جب تیری مرضی کے بغیر انہوں نے تجھے چھوا اور اس کی انہیں کوئی شرعی اور قانونی اجازت بھی نہیں تو غلطی ان کی ہوئی نا۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتا اس کے بعد سے تیری باسط بھائی سے کوئی بات ہوئی؟ کیا کہہ رہے ہیں وہ اس کے بارے میں؟”

 ”میں نے تب سے موبائل ہی نہیں دیکھا اٹھا کر جو پرس لے کر گئی تھی اسی میں پڑا ہے ابھی تک۔ تب سے بس دماغ پہ یہ سوار ہے کہ کسی طرح یہ گناہ دھل جائے کبھی نہاتی ہوں کبھی وضو کرتی رہتی ہوں فائزہ میں پاگل ہوجاوں گی۔”

 ”تبھی اتنی ڈرائے اسکن ہورہی ہے تیری؟ بسمہ تو باسط بھائی سے بات کر ہوسکتا ہے وہ صرف اپنی محبت کی شدت کے اظہار کے طور پہ یہ سب کر گئے ہوں۔ دیکھ منگیتروں کے درمیان آج کل یہ سب اتنا عام ہے کہ عموما لوگوں کو یہ غلط لگتا ہی نہیں ہے۔ نہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں برائی کیا ہے۔ تیری بھی مرضی ہوتی تو بات الگ تھی مگر اب یہ صرف ان کی غلطی ہے مگر وہ بھی شاید جان بوجھ کے کی گئی غلطی نہ ہو۔”

” فائزہ مگر یار یہ گناہ ہے”

 ”بیٹا جی رشوت لینے سے لیکر قتل تک کونسا گناہ ہے جو آج کل نہیں ہورہا؟ تیرے پاپا نے کبھی رشوت نہیں لی؟ تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا؟ تیری امی نے کبھی کسی کی غیبت نہیں کی؟ اگر ان سب گناہوں پہ ہم رشتے نبھانے کے لیئے کمپرومائز کر لیتے ہیں تو کم از کم باسط بھائی کو اپنا موقف بتانے کا موقع تو دے۔ باقی شادی سے انکار کرنا تیرا شرعی حق ہے تجھے لگے کہ تو ایسے بندے کے ساتھ نہیں رہ پائے گی تو منع کردے۔”

فائزہ کی بات سن کر بسمہ سوچ میں پڑ گئی۔

 ”شادی سے انکار تو ممکن ہی نہیں تجھے پتا ہے۔ جو شادی طے ہی مجھ سے پوچھے بغیر کی گئی ہے اس سے میں ایک مہینے پہلے انکار کیسے کرسکتی ہوں۔ مجھے اس کا اختیار ہی کب ہے؟”

”اچھا رک میں امی کو بلا کر لاتی ہوں تیرے مسئلے بھی نرالے ہیں۔”

بسمہ نے سر ہلا دیا۔

تھوڑی دیر میں ہی فائزہ، نفیس آنٹی کو لے کر آگئی۔ مختصر الفاظ میں فائزہ نے انہیں سب بتا بھی دیا اپنے مشورے سمیت۔

کچھ دیر آنٹی خاموش رہیں جیسے کچھ سوچ رہی ہوں۔

”بسمہ بیٹا مسئلہ اس سے زیادہ سنجیدہ ہے جتنا فائزہ سمجھ رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تمہاری فیملی سمیت اسے کوئی مسئلہ سمجھے گا نہیں۔ اگر اسے غلطی سمجھیں گے تو تمہیں بھی اس میں شریک سمجھا جائے گا یا پھر سرے سے اسے کوئی برائی ہی نہیں سمجھیں گے۔ جبکہ میرے حساب سے یہ ہراسمینٹ ہے۔ سیدھا سیدھا جرم”

جرم کا نام سن کر بسمہ کے جسم میں سرد سی لہر دوڑ گئی۔ وہ جو اسے اب تک صرف اپنا گناہ سمجھ رہی تھی کہ تھوڑی بہت توبہ تلا سے معاملہ نمٹ جائے اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ باسط کا یہ عمل مجرمانہ نوعیت رکھتا ہوگا۔ اس نے اس پہلو سے سوچا ہی کب تھا وہ تو کب سے خود کو مورد الزام ٹہرا رہی تھی۔

”امی اتنی سی بات پہ بھی سزا ہوتی ہے کیا”

 ”فائزہ بات تو خیر اتنی سی نہیں ہے دیکھا جائے تو بڑی بات ہے۔ بسمہ کم عمر ہے مگر باسط ناتجربہ کار یا بچہ نہیں ہے کہ اسے لگا کہ منگیتر ہے تو بلا اجازت کچھ بھی کرلیا جائے۔اور باسط کی اتنی ہمت بڑھانے میں اس کے اور بسمہ کے گھر والوں دونوں کا ایک جتنا ہاتھ ہے۔ بسمہ نے اپنے عمر کے حساب سے کافی بہادری اور عقلمندی کا ثبوت دیا کہ ناصرف باسط کو وہیں روک دیا بلکہ خاموشی سے سب چھپانے کی کوشش نہیں کی۔”

 ”آنٹی وہ تو میں خود پریشان بہت تھی تبھی فائزہ سے بات کرنے آگئی۔ ورنہ گھر میں تو کسی کو بتانے کی میری ہمت ہی نہیں ہے۔” بسمہ نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔

 ”بسمہ بیٹا آپ نے ٹھیک کیا۔ آپ جتنا چھپاو گی باسط کو اتنا ہی موقع ملے گا آپ کی خاموشی کا غلط فائدہ اٹھانے کا۔ جیسے نامناسب میسجز بھی اس نے ہی کئے اور انہی کی وجہ سے وہ یہ بھی سمجھا کہ آپ شادی سے پہلے بھی کسی بھی قسم کا ریلیشن رکھنے کے لئے تیار ہونگی۔”

”مگر امی وہ صرف محبت کا اظہار بھی تو ہوسکتا ہے نا”

”فائزہ زبردستی محبت کا اظہار، محبت کا اظہار نہیں ہوتا اپنی طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے”

”آنٹی اب میں کیا کروں”

 ”یہ واقعی مشکل بات ہے جتنا میں تمہاری فیملی کو جانتی ہوں میرا نہیں خیال کہ اس کو بنیاد بنا کر وہ لوگ رشتہ ختم کریں گے یا کم از کم باسط سے کوئی بازپرس کریں گے۔ ساری غلطی بسمہ کی کہی جائے گی جبکہ اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں یہ جس حد تک درست کرسکتی تھی اس نے کیا۔”

نفیس آنٹی سے بات کر کے بسمہ کا احساس گناہ بہت حد تک کم ہوگیا تھا مگر رشتہ ختم کرنے کی بات یا پھر باسط سے پوچھ تاچھ کی بات اسے عجیب لگ رہی تھی۔ باسط سے رشتہ توڑنا تو وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی پچھلے 10 ماہ سے یہ تعلق تھا۔ دن بھر اس سے باتیں کی تھیں۔ مستقبل کے منصوبے بنائے تھے چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کی تھیں۔ ایک مہینے کے بعد اس کی شادی تھی صرف ایک اس بات کو بنیاد بنا کر یہ سب کیسے ختم کیا جاسکتا تھا۔ اول تو اس کی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی کو یہ بتا سکے کہ اس دن کمرے میں کیا ہوا تھا۔ اسے خود احساس گناہ نہ ہوتا تو وہ کبھی فائزہ کو بھی نہیں بتاتی۔

کچھ سوچ کر آنٹی بولیں۔

 ”تم ایسا کرو ایک دفعہ اچھی طرح سوچو کہ تم خود کیا کرنا چاہتی ہو۔ کہنے کو یہ جرم ہے مگر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کا فیصلہ کرنے کا حق تمہیں ہے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔ تم ذہین اور معاملہ فہم لڑکی ہو۔ مجھے امید ہے کہ جس حد تک تمہارے ہاتھ میں ہوا تم صحیح فیصلہ کرو گی۔ بہتر ہوگا تم ایک بار گھر میں کسی بڑے سے یا اپنی کسی بہن سے بھی مشورہ کرلو۔”

آنٹی کی بات سے لگ رہا تھا کہ انہیں بھی اندازہ ہے کہ بسمہ جتنی ہی عقلمند کیوں نہ ہو گھر والوں کے آگے کچھ نہیں کرپائے گی۔

گھر آکر بسمہ کو اتنی تھکن محسوس ہونے لگی کہ وہ فورا ہی سونے لیٹ گئی۔ اور کئی گھنٹے سوتی رہی۔ جب اٹھی تو اسے اپنا آپ کافی ہلکا اور تازہ دم لگا۔ ذہن پہ کافی دن کا رکھا بوجھ کم محسوس ہورہا تھا۔اسے احساس ہوا کہ سارا تناو احساس گناہ اور شرمندگی کا تھا۔ مگر بہرحال اس حقیقت کا ادراک کرکے کہ باسط کا اقدام مجرمانہ نوعیت کا تھا وہ سنجیدگی سے اس معاملے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ نفیس آنٹی کا تجزیہ اس کے گھر والوں کے حوالے سے ٹھیک ہے یا نہیں۔ ایک طرف اس کی عزت نفس چاہتی تھی کہ اس کے گھر والے نفیس آنٹی کے خیالات کو غلط ثابت کردیں اور دوسری طرف اس کے جذبات چاہتے تھے کہ معاملہ بڑھے بغیر ہی ختم ہوجائے۔ وہ اپنی زندگی باسط کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔ پھر اس نے آخر کار اسماءآپی سے بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ اسے پتا تھا کہ گھر میں امی کی چلتی ہے اور امی ہر کام اسماءآپی کی رائے کے مطابق کرتی ہیں۔ اس نے کئی دن سے الماری میں پڑے پرس میں سے موبائل نکالا۔ اس پہ باسط کے کوئی بیس پچیس میسجز اور کئی مس کالز آئی ہوئی تھیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے اس نے اسماءآپی کا نمبر ملایا۔

”ہیلو آپی کیسی ہیں”

 ”بسمہ کیا حال ہیں بھئی امی بتا رہی تھیں تم شاپنگ پہ گئی تھیں منگل کو، کیسا سوٹ لیا؟فون بھی اسی لیے نہیں کیا میں نے اسی دن سے آنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ شہیر کو جو موشن آنے شروع ہوئے تو سچ ہلکان ہوگیا میرا بچہ، ساتھ ساتھ میں بھی۔ اب بچہ بیمار ہو تو ماں بھی ساتھ ہی آدھی ہوجاتی ہے۔ سب دیکھتی جاو اگلے سال تم بھی ہماری طرح انہی کاموں میں لگی ہوگی۔”

انہوں نے اس سے فون کرنے کی وجہ پوچھنے کی بجائے اپنی ہی بات کہنی شروع کردی۔ پہلے بسمہ کے دل میں آیا کہ بس ادھر ادھر کی بات کرکے فون رکھ دے مگر پھر سوچا کہ ایک دفعہ فیصلہ کرلیا تو کرلیا اب بات کر ہی لینی چاہیئے۔

”ہاں آپی سوٹ بھی لیا تھا اور فرنیچر بھی میرے ساتھ ہی لیا۔ پھر گھر بھی دکھانے لے گئے تھے۔”

 ”ارے واہ اپنا روم دیکھا؟ کیسا ہے؟ اور سن باسط سے اکیلے میں بات کا موقع ملا۔ اتنا رومینٹک ہے وہ یہ موقع تو نہیں چھوڑا ہوگا شادی سے پہلے منگیتر سے ملنے کا جو رومانس ہے نا سچ بس کیا بتاوں۔ کتنی لکی ہے تو بسمہ” بسمہ کو لگا شاید آپی صرف بات ہی کرنے کی بات کر رہی ہیں اسی لیے اس نے سوچا تھوڑا بات کلئیر کرے۔

”آپی موقع تو ملا مگر باسط بہت زیادہ کلوز ہورہے تھے۔ میں گھبرا کر نکل آئی تھی روم سے”

”لو یہ کیا بات ہوئی ایسا کیا کردیا بچارے نے”

”آپی۔۔۔۔۔ انہوں نے ” وہ لمحہ بھر کو رکی ”انہوں نے مجھے کس کیا”

 ”اوہوووو مجھے پتا تھا تمہارا منگیتر کبھی بھی شاندار موقع نہیں چھوڑے گا۔ بس بھیا کو نا بتانا وہ فضول اس سے جھگڑنے پہنچ جائیں گے۔ تو بھی عجیب ہے موقع انجوائے کرنا چاہیئے تھا نا۔ چل یہ بھی ٹھیک ہی ہے تھوڑا بھرم بھی تو پڑے ہونے والے میاں پہ کہ اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والی چیز نہیں۔” بسمہ اتنی شدید دل برداشتہ ہوئی اس نے فورا ہی کام کا بہانا کر کے کال کاٹ دی۔ اتنا تو اسے پتا تھاکہ بھیا کو غصہ بھی اس بات پہ آتا ہے جس پہ گھر والے شہہ دیں۔ ورنہ انہیں فکر نہیں ہوتی کہ گھر میں کیا چل رہا ہے۔ اس نے تھکے تھکے ہاتھوں سے باسط کو میسج ٹائپ کیا۔

 ”سوری میں بہت شرما گئی تھی۔ اسی لیئے موبائل بھی نہیں دیکھا بس اب پلیزشادی تک ہم بات نہیں کریں گے پلیز پلیز۔ اتنی بات تو مانیں گے نا میری۔”

اس نے یہ دیکھے بغیر کہ باسط نے کیا میسج کیے تھے یہ میسج کر کے موبائل آف کردیا۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔

ایک مہینہ جیسے پر لگا کے اڑ گیا۔ وہ بیوٹی پارلر کی ایک کرسی پہ بیٹھی یہی سوچ رہی تھی۔ ویسے وقت ہی کہاں ملا خریداریاں، پارلر کے چکر، مہمانوں کا آنا جانا عجیب بھگدڑ میں سارے دن گزر گئے۔ کل سادگی سے مسجد میں نکاح بھی ہوگیا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ کسی اور کی زندگی میں ہورہا ہو اور وہ صرف دیکھ رہی ہو۔ نکاح کے وقت پین ہاتھ میں لیے کچھ سوچنے کا بھی ٹائم نہیں ملا ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں سر بھی ہلا دیا دستخط بھی کردیئے رو بھی لی حالانکہ وہ اصل میں کچھ بھی محسوس ہی نہیں کرپارہی تھی۔ ٹائم تو اسے اب ملا تھا تین گھنٹے سے بیوٹیشن نے بلا کے بٹھایا ہوا تھا۔ کبھی بال کھڑے کر کے چلی جاتی کبھی منہ پہ فاونڈیشن مل جاتی۔ اپنی شکل آئینے میں دیکھ کر بسمہ کو فی الحال تو بالکل یقین نہیں تھا کہ وہ ذرا بھی اچھی لگے گی۔ ایک تو پارلر کا ماحول ہی اس کے لیے عجیب تھا۔ اتنے بڑے پارلر میں اس کا آنا ہی پہلی بار ہوا تھا۔ جینز اور گہرے گلے والی ٹی شرٹس پہنے کم عمر ہیلپر لڑکیاں اور اسی قسم کے کپڑوں میں ملبوس گولڈن بالوں والی سینئر بیوٹیشن۔ اسی کے کپڑوں سے شرٹ کے گلے کی فراخی کا زیادہ اندازہ بھی ہورہا تھا باقی لڑکیاں تو بچاری کمزور سی تھیں۔ برائیڈل سروس والے ایریا میں باڈی ویکس کراتی دلہنیں اس کے چودہ طبق روشن کرنے کے لیئے کافی سے زیادہ ہی تھیں۔

شکر یہ ہوا کہ میک پورا ہونے کے بعد وہ واقعی اچھی لگ رہی تھی بس اپنی عمر سے کافی زیادہ لگ رہی تھی۔ وہ تیار ہو کے ویٹنگ ایریا میں آگئی جہاں کچھ خواتین اپنی دلہنوں کے ساتھ آئی بیٹھیں تھیں اور وقت گزاری کے لئے آتی جاتی دلہنوں پہ تبصرہ کر رہی تھیں۔ ان کی باتوں سے یہ لگ رہا تھا کہ اگر کوئی کالی ہے، موٹی ہے یا عمر زیادہ ہے تو دلہن بن کر اس نے کوئی گناہ کر دیا۔ بہت سی خواتین اپنے ساتھ ایک دو خواتین کو خاص طور سے اندر لائیں بسمہ کو دکھانے کہ کتنی پیاری گڑیا جیسی دلہن بھی بیٹھی ہوئی ہے۔ بسمہ کو شدید الجھن ہورہی تھی آتی جاتی خواتین کے اس طرح دیکھنے اور تبصرے کرنے پہ۔ اسے مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی انتظار کرنا پڑابھیا کے آنے کا اور اتنی سی دیر میں ہی وہ کافی بےزار ہوگئی۔ بھیا اسے سیدھا شادی ہال ہی لے گئے وہاں صرف دادی اور ایک رشتے کی خالہ آئی ہوئی تھیں جو بچاری باقی رشتہ داروں میں کچھ کم حیثیت تھیں اولاد بھی بس ایک بیٹی تھی جو کچھ سال پہلے بیاہ دی تھی تو شادیوں پہ انہیں چھوٹے موٹے کام کے لئے ہی بلایا جاتا جو وہ تکلف میں کردیتیں اور بلانے والے ایسے ظاہر کرتے جیسے یہ سب کرنا ان کی ذمہ داری تھی، انہیں شادی پہ بلا کر اتنی عزت جو دی گئی تھی۔ باقی خواتین تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں دادی اور وہ خالہ جنہیں سب بٹو خالہ کہتے تھے وہ سادے سے کپڑوں میں جلد ہی تیار ہوگئی تھیں اور انہیں گاڑی والا ہال پہنچا گیا۔

جب تک لوگ آنے شروع نہیں ہوئے تھے تو بسمہ کو لگ رہا تھا وقت گزر ہی نہیں رہا گرمی سے اس کا برا حال تھا ایک چھوٹا سا بریکٹ فین اس کے منہ پہ چل رہا تھا ای سی تھا تو مگر بار بار لائٹ آنے جانے سے اس کی کولنگ نا ہونے کے برابر تھی۔

اور پھر ایک دم کب لوگ آگئے بارات آگئی فوٹو شوٹ رخصتی سب بھاگتے دوڑتے ہوگیا۔ باسط کی شوخیاں عروج پہ تھیں دل کھول کے سگی اور رشتے کی سالیوں کے ہر قسم کے مذاق کا جواب دیا جارہا تھا۔ اور بسمہ کا ٹینشن اور تھکن سے برا حال تھا۔ بار بار پیٹ میں مروڑ سے اٹھ رہے تھے اور باتھروم جانا ناممکن۔ گھر آکر بھی پتا نہیں کونسی رسمیں جاری تھیں۔ بشرہ ساتھ آئی تو تھی مگر وہ اپنی چھوٹی بیٹی کو سنبھالنے میں مگن تھی اور باقی سب رشتے دار منہ دکھائی نپٹا رہے تھے۔ بہت دیر بعد رسمیں ختم ہوئیں اور اس کو اوپر کمرے میں لایا گیا تو باسط کی سب سے چھوٹی بہن نے کہا بھابھی آپ باتھ روم وغیرہ سے ہو آئیں تو تھوڑا میک اپ فریش کروالیں۔ باتھ روم آتے ہی اس کا دل چاہا منہ بھی دھو لے ٹھنڈے پانی سے، چہرہ عجیب تپتا ہوا محسوس ہورہا تھااورآنکھوں میں جلن۔ پچھلی تین چار راتوں سے گھر میں ہنگامے کی وجہ سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی اب بھی آدھی سے زیادہ رات گزر ہی چکی تھی۔ بہت ضبط کرکے خود کو منہ دھونے سے روکا اور بس ضرورت سے فارغ ہوکر نکل آئی۔ سسرال آنے سے لے کر کمرے میں آنے تک اس کو پتا ہی نہیں تھا کہ بشرہ آپی ہیں کہاں ان کے آنے کا مطلب ہی سمجھ نہیں آیا اسے۔ باسط کی ایک کزن جس نے بیوٹیشن کا کورس کیا ہوا تھااس نے بسمہ کے میک اپ کو دوبارہ تھوڑا ٹچ اپ کیا۔ وہ میک اپ ٹھیک کر رہی تھی اور بسمہ سوچے جا رہی تھی کہ ایسی ایک کزن ہر خاندان میں ہوتی ہی ہے جو بچاری مفت میں ایسی سروسز فراہم کرتی ہے اور جب پیسے دے کر کام کرانے کی باری ہو تو کسی دوسری بیوٹیشن کو پیسے دے کر منہ خراب کرانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بسمہ اس بچاری کے تھکن زدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی جسے دیکھ کے اندازہ ہورہا تھا کہ آج کی برات کی ساٹھ فیصد خواتین نے اسی سے میک کرایا ہے۔

وہ لڑکی اپنا سامان سمیٹ ہی رہی تھی کے باہر اونچی آواز میں بحث اور ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں بہت ساری نسوانی آوازوں میں ایک مردانہ آواز شاید باسط کی تھی۔ بسمہ کی دھڑکن ایک دم تیز ہوگئی ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہوگئے۔ وہ لڑکی ہلکے سے مسکرائی اور آہستہ سے کہا بیسٹ آف لک اور باہر نکل گئی۔

کچھ ہی دیر بعد باسط کمرے میں آگیا۔ بسمہ کا چہرہ خود ہی جھک گیا۔ اسے شرم سے زیادہ کچھ عجیب سا احساس ہورہا تھا اسے سمجھ ہی نہیں آیا اپنے احساس کو کیا نام دے۔ مگر جو بھی تھا خوشگوار نہیں تھا۔ اس کا دل ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا کہ اب باسط زبردستی کرے گا۔ ایک مہینے پہلےتک جو بھاگ جانے کا تھوڑا بہت حق اس کے پاس تھااور اس دن اس نے استعمال کیا وہ ایک کاغذ پہ دستخط کر کے وہ گنوا چکی تھی۔ اس تعلق کے متعلق اس کی ساری معلومات بس سائنس کی کتاب میں موجود ایک غیر واضح سی ڈفینیشن تک محدود تھی۔ اس سے اگلی معلومات وہ تھی جو گل بانو کی شادی پہ دادی سے سنی تھی۔ گل بانو کا تین دن اسپتال میں رہنا۔ باقی کیا تھا وہ صرف اس کا اندازہ تھا۔ اس کا دل چاہا وہ گہری نیند سوجائے جو ہونا ہے ہو، کم از کم اسے پتا نا چلے۔ آنکھ اسپتال میں کھلے یا گھر میں تب کی تب دیکھی جائے گی۔

باسط شاید اپنے ہار اور شیروانی وغیرہ اتار رہا تھا۔ کمرے میں بہت خاموشی تھی کہ نیچے کی باتوں کہ ہلکی ہلکی آوازیں اور باسط کے کپڑوں کی سسراہٹ بھی سنائی دے رہی تھی۔

”بسمہ!”

باسط نے بیڈ کے پاس آکر ہلکے سے اسے پکارا۔

بسمہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آج باسط کی رنگت کافی کھلتی ہوئی لگ رہی تھی۔ نقوش اس کے ویسے بھی جاذب نظر تھے ہی وہ مجموعی طور پہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔

باسط سامنے بیٹھ گیا۔

”اچھا لگ رہا ہوں نا”

باسط کے لہجے میں کہیں بھی مہینہ پہلے ہونے والے واقعے کا کوئی اثر نہیں تھا۔

بسمہ نے ہلکے سے مسکرا کر سر جھکا لیا۔

 ”ارے کنجوس لڑکی نئے نویلے میاں کی تھوڑی سی تعریف کردو گی تو کیا ہوجائے گا۔ مانا آپ جتنے حسین نہیں مگر ہم پہ بھی لڑکیاں مرتی ہیں۔”

بسمہ کو ہنسی آگئی۔

باسط نے ہاتھ تھاما۔

”آج اجازت ہے نا محترمہ؟ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا میری اسنو وائٹ اتنی شرمیلی ہے۔” بسمہ اپنی بدلتی کیفیت سے حیران تھی۔ اسے اب واقعی ٹھیک ٹھاک والی شرم آرہی تھی کسی بھی اور احساس کے بغیر۔

”اچھا جی پہلے اپنا گفٹ لیں گی یا میرا گفٹ دیں گی”

دلہن کو بھی کوئی گفٹ دینا ہوتا ہے۔ اف لعنت ہے مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں بسمہ نے ہکا بکا ہو کر باسط کی شکل دیکھی۔ باسط اس کے چہرے پہ اڑتی ہوائیاں دیکھ کر ہنس پڑا۔

 ”یار تم اتنی ہی ہونق ہو یا آج کوئی خاص تیاری کی ہے۔” پھر اٹھ کے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک گفٹ باکس نکال کے لے آیا۔

”یہ تمہارا گفٹ وہ کیا کہتے ہیں اردو میں؟ منہ دکھائی، ہے نا؟ اور میرا گفٹ میں خود لے لوں گا جو اس دن آپ نے پورا نہیں لینے دیا۔”

باسط کے لہجے میں شرارت تھی۔

بسمہ کی آنکھ کھلی تو کچھ دیر کے لیے اسے سمجھ ہی نہیں آیا وہ کہاں ہے غیر ارادی طور پہ اس نے سر گھمایا روز کی عادت تھی ذرا دور دوسرے بستر پہ دادی کو دیکھنے کی مگر نظر اتنی دور جا ہی نہیں پائی بالکل برابر میں سوتے باسط پہ نظر پڑتے ہی وہ بوکھلا کے اٹھ گئی۔ چند لمحوں میں ہی رات ذہن میں گھوم گئی بالکل ایسے جیسے کوئی خواب دیکھا ہو۔ دھندلی دھندلی سی تصویریں ایسے یاد آرہی تھیں جیسے وہ کسی سحر کے زیر اثر تھی۔ اوپر روشن دان سے آتی روشنی دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ دن کافی نکل آیا ہے باہر سے چہل پہل کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔

اس کے اٹھنے سے باسط کی نیند بھی ڈسٹرب ہوگئی۔

 ”کیاہوا؟ سو جاو نا یار۔” باسط نے اسے قریب کرنے کی کوشش کی۔ وہ جھجھک کر دور ہو گئی۔

”سب اٹھ گئے ہونگے”

”ہاں تو”

”عجیب لگے گا نا ہم روم میں ہیں”

 ”ارے یار سب کو پتا ہے ہم ہی سب سے دیر سے سوئے ہونگے۔تمہیں اٹھنا ہے اٹھ جاو مجھے شدید نیند آرہی ہے۔” باسط نے بہت سیدھے سادے سے انداز میں کہا نہ اس میں کوئی شوخی تھی نہ ناراضگی۔

وہ بے چارگی سے بیڈ کے کونے میں ہو کر بیڈ گئی۔ منہ ہاتھ دھونے کے لیے بھی کمرے سے باہر جانا پڑتا اور ابھی اسے بہت جھجھک محسوس ہورہی تھی۔ باسط نے بازو آنکھوں پہ رکھ کے دوبارہ سونے کی کوشش شروع کردی۔ ایک دو منٹ وہ ایسے ہی لیٹا رہا۔ پھر اٹھ کے بیٹھ گیا۔

 ”اچھا میں سنیہ کو بھیجتا ہوں۔” باسط نے اپنی چھوٹی بہن کا نام لیا۔ اور روم سے نکل گیا۔ تھوڑی سی دیر بعد سنیہ اور بشرہ آپی اندر آئیں۔ اور بشرہ آپی کو دیکھ کے بسمہ کے ذہن میں سب سے پہلے یہی خیال آیا کہ اب آنے کا کیا فائدہ۔ ایک تو اسے ان کے چہرے کی معنی خیز مسکراہٹ سے ہی الجھن ہورہی تھی۔ اسے پتا تھا کہ سنیہ ادھر ادھر ہوگی اور یہ کچھ نا کچھ بےتکا پوچھیں گی۔ جس کے بارے میں بسمہ بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور کم از کم کسی ایسے شخص سے تو بالکل نہیں جس سے وہ بالکل بے تکلف نہیں تھی۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

من کے دریچے۔۔۔عابدہ سبین۔۔۔قسط نمبر 11

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 11 اس کی طبیعت اچھی نہیں تھی اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے