سر ورق / افسانہ / کُنڈی نہ کھولنا ….شکیل احمد چوہان

کُنڈی نہ کھولنا ….شکیل احمد چوہان

کُنڈی نہ کھولنا

از

شکیل احمد چوہان

                پرانے وقتوں کی بات ہے۔ وہ پُوکے جھاڑے کی ایک رات تھی۔ عشاءکی نماز کے بعد گاﺅں کے بڑے بوڑھے اپنے اپنے لحافوں میں گھُسے پڑے تھے۔ سردی اتنی کہ دانت سے دانت ٹکرا رہے تھے۔ چوہدری جہانگیر کے ڈیرے پر دیسی کیکر کے کوئلے انگیٹھی میں دہک رہے تھے، جس کی وجہ سے وہ بڑا سا کمرہ قدرے گرم تھا۔ کچھ کوئلوں کی تپش باقی سانسوں کی حرارت ،ماحول تو بہتر ہونا ہی تھا۔ اتنے میں منگتوچینی کے پیالوں میں گرم چائے لے کر آگیا، سب سے پہلے اُس نے چوہدری جہانگیر کو چائے کا پیالہ پیش کیا چوہدری جہانگیر نے گاﺅ تکیے پر اپنی کُہنی رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اُوپر کی طرف اُٹھایا، حقے کی نلی ایک طرف کی اور منگتو کے دونوں ہاتھوں سے وہ چائے کا پیالہ اُٹھا لیا۔ منگتو نے چوہدری جہانگیر کی رضائی خود ہی اوپر کی طرف کرتے ہوئے اپنی خدمت گزاری کا ثبوت پیش کیا۔اُس کے بعد منگتو نے نجی لوہار، پپو کمہار، ناظر ترکھان، مولوی صادق، سُودا نائی، آبی بیوپاری اور کالے موچی سے ہوتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی چائے دی۔

                چائے پکڑتے ہوئے بابے خیرے نے منگتو سے پوچھا:

                ”وڈے چوہدری جی کہاں ہیں۔۔؟“

                ”وڈے چوہدری جی۔۔۔ آپا کے سسرال گئے ہیں، کل یا پرسوں آئیں گے۔“

                ”اچھا۔۔۔“ بابے خیرے نے کانپتے ہاتھوں سے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے صرف ایک لفظ کہا۔

                ”چوہدری جی!! وہ مَج (بھینس) بڑی ہی سوہنی تھی۔“ آبی بیوپاری نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔

                ”اب کھُول مت لانا۔“منگتو نے جلدی سے کہہ دیا سب ہنس پڑے۔

                ”کھولنے کا کام تو کالے کا ہے۔“ ناظر ترکھان نے ہنستے ہنستے کہا تھا۔ کالے موچی نے ناظر ترکھان کو گھُوری ڈالتے ہوئے جواب دیا:

                ”تیرے پاس کون سی مَج ہے جو میں کھولوں گا۔۔؟“

                ”کالے نے سچی پکی توبہ کر لی ہے۔۔۔اب تو یہ پنج ویلے مسیت (پانچ وقت مسجد) میں آتا ہے۔“ مولوی صادق نے کالے موچی کی تعریف کی۔

                ”مولوی صادق!! کچی مٹی پکنے کے بعد نہیں بدلتی۔“ پپو کمہار نے اپنے تجربے کی بات بتائی۔

                ”لوہار کی پٹھی کے پاس بیٹھو گے تو کپڑے تو جلیں گے نا۔“ نجی لوہار نے اپنی سُنا دی۔

                ”نجی کھُل کر بات کر۔۔۔“ چوہدری جہانگیر نے چائے کا آخری گھونٹ لینے کے بعد کہا۔ منگتو نے دونوں ہاتھوں سے خالی پیالہ چوہدری کے ہاتھ سے لیا۔

                ”چوہدری جی!! کالے کی بیٹھک اب بھی دریا پار کے چوروں کے ساتھ ہے۔“ نجی لوہار نے اپنی بات کی وضاحت کی۔ نجی کے ساتھ بیٹھے ہوئے سُودے نائی کو بے چینی ہو رہی تھی کیونکہ اِس ساری گفتگو میں اب تک اُسے اپنے خیالات کا موقع نہیں ملا تھا وہ جلدی سے بول پڑا:

                ”چوہدری جی!! دیگ کچی ہے یا پکی وہ پتہ کرنے کے لیے چاول کا ایک دانہ ہی کافی ہوتا ہے۔“

                ”ایک دوسرے کے کپڑے اُتارتے رہتے ہو کبھی مسیت میں بھی آجایا کرو۔۔۔فجرے (صبح) ہم چار پانچ بندے ہی ہوتے ہیں، مسیت میں ۔“چوہدری جہانگیر نے کچھ خفگی سے کہا تھا۔

                ”آنکھ ہی نہیں کھُلتی۔۔۔ چوہدری جی!!“ ناظر ترکھان نے جلدی سے کہا۔ آبی بیوپاری کی سوئی وہیں ہی اَٹکی ہوئی تھی وہ پھر سے بولا:

                ”چوہدری جی!! چوہدری ریاست کو وہ مَج آپ کو بیچ دینی چاہیے تھی ہم آٹھ بندے اُس کے ڈیرے پر گئے تھے۔۔۔ اُس نے ڈیرے پر آیوں کی بھی نہ رکھی۔“

                ”بالکل ۔۔۔ہاں جی۔۔۔ گل تو ٹھیک ہے۔۔۔کھری بات ۔۔۔سچ اے۔۔۔صحیح کہا تونے۔۔۔“ باقی چھ نے اپنے اپنے الفاظ میں آبی بیوپاری کی تائید کی صرف چوہدری جہانگیر خاموش تھا وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔ اُس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو اُٹھنے کا اشارہ کیا۔ باقی کام منگتو نے سرانجام دیا منگتو نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے سب کو ہاتھ کے اشاروں سے وہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا۔ سب لوگ دبے پاﺅں وہاں سے چلے گئے۔

                وہ گھر گیا۔ اُس کے بیوی بچے سو رہے تھے اُس نے اپنے گھر کی باہر سے کُنڈی لگا ئی اور نکل پڑا، وہ یخ ٹھنڈی کالی سیاہ رات تھی سناٹا اتنا کہ اپنی سانس کا شور بھی سنائی دے۔ وہ کچی پگڈ نڈیوں پر چلتا رہا، کئی گندم کے کھیتوں میں سے گزرا ،گندم کے ہزاروںننھے پودے اُس کے قدموں سے کُچلے گئے اب وہ دریا کے کنارے پر تھا۔ اُس نے اپنے جوتے اُتارے اور اپنی بگل میں دبا لیے دریا اُترا ہوا تھا، اُس میں پانی تو گھٹنے گھٹنے ہی تھا مگر برف سے زیادہ ٹھنڈا اُس نے دریا بھی پار کیا سامنے چوہدری ریاست کا ڈیرہ تھا۔ اُسے معلوم تھا چوہدری ریاست کے دو بُولی کُتے رات کے اِس پہر میں کہیں سے بھی نکل کر اُس پر حملہ کر سکتے ہیں پھر بھی وہ ڈیرے کی طرف چل پڑا ۔بھینسوں کے ڈھارے (کمرے) میں گیا وہ بھینس پہچانی جو چوہدری جہانگیر کو پسند آئی تھی ۔اُس کے تین دن کے کٹے (بچے) پر پرانی بوری ڈالی پھر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھایا بھینس کی رسی کھولی اور واپس چل پڑا واپسی کا سفر اُس نے دوسرے رستے سے کیا واپسی میں وہ کئی گنے کے کھیتوں کے پاس سے گزرا، ڈیرے پر پہنچا بھینس ڈھارے میں باندھی اُسے چارہ ڈالا ،کٹے کو کھلا چھوڑ دیا اور ڈھارے کی باہر سے کُنڈی لگا دی۔

                دوسری طرف چوہدری جہانگیر نے ساری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دی۔ انگیٹھی میں دہکتے ہوئے کوئلے بھی سو گئے تھے مگر چوہدری کو نیند نہ آئی۔ مولوی صادق کی آواز چوہدری جہانگیر کے کانوں میں پڑی فجر کی آذان ہو رہی تھی اُس نے اپنی رضائی ہٹائی اور مسجد میں چلا گیا۔

                مسجد میں صرف پانچ افراد تھے۔ مولوی صادق نے نماز پڑھائی اُس کے پیچھے بابا خیرا، بابا دینا، کالا موچی اور چوہدری جہانگیر تھا۔

                دن چڑھا سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ عصر کے بعد پھر سے چوہدری جہانگیر کے ڈیرے پر رونق لگ گئی رات والے سارے لوگ تھے، سوائے کالے موچی اور مولوی صادق کے مولوی صادق تو اِس وقت بچیوں کو مسجد میں قرآن شریف پڑھاتا تھا اِس لیے وہ وہاں موجود نہیں تھا کالے موچی کی کسی کو خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہے۔

                منگتوصحن میں رات کے لیے انگیٹھی میں جلانے کے لیے لکڑیاں کاٹ رہا تھا اندر بڑے سے کمرے میں سب لوگ حقوں سے دھواں نکال رہے تھے ۔چوہدری جہانگیر کمرے میں داخل ہوا سب لوگ کھڑے ہوگئے ، اونچے ، نیچے، موٹے ،باریک کئی سُروں میں چوہدری جہانگیر کو سلام کیا گیا۔

                چوہدری جہانگیر نے سلام کا جواب دیا اور اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا سب لوگ بیٹھ گئے۔ ابھی سب لوگ بیٹھے ہی تھے۔

                چوہدری ریاست بڑے جلالی انداز میں کمرے میں داخل ہوا اُس کے پیچھے آٹھ دس لوگ اور بھی تھے جن میں سے آدھوں کے کندھوں پر بندوقیں تھیں اور باقی کے ہاتھوں میں لمبی لمبی ڈانگیں جن کے اوپر گنڈاسے لگے ہوئے تھے۔

                آﺅ۔۔۔بسم اللہ۔۔۔چوہدری ریاست۔۔۔“ چوہدری جہانگیر نے بڑے تپاک سے بانھیں کھولتے ہوئے چوہدری ریاست کا استقبال کیا اور اُسے اپنے برابر میں بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔

                منگتو۔۔۔۔!! اوئے منگتو۔۔۔!! چوہدری جہانگیر نے بڑے وقار سے منگتو کو آواز لگائی۔

                ”جی چوہدری جی۔۔۔“ منگتو فٹ سے باہر سے بھاگتا ہوا آگیا۔

                ”چوہدری ریاست آیا ہے روٹی ٹُکر کا بندو بست کر۔“

                ”نا۔۔۔چوہدری۔۔۔نا۔۔۔۔ آج روٹی ٹُکر نہیں۔۔۔“ چوہدری ریاست تلخی سے بولا اُس کا یہ رویہ دیکھ کر چوہدری جہانگیر کو تشویش ہوئی۔

                ”خیر تو ہے۔۔۔؟“

                ”خیر ہی تو نہیں ہے۔۔۔تجھے بھینس نہیں بیچی۔۔۔تو۔۔۔۔؟ اُسے تونے چوری کروا لیا۔۔“

                ”چوہدری ریاست!!تو میرے ڈیرے پر آیا ہے اِس لیے لحاظ کر رہا ہوں۔“

                ”لحاظ۔۔۔؟ لحاظ تونے رکھا ہی کب ہے۔۔۔چوہدری جہانگیر!!میرے ڈیرے سے سیدھا کھُرا تیرے ڈیرے پر آیا ہے۔ اوئے کرمُوکھو جی بتاتا کیوں نہیں چوہدری کو۔“کرمُوکھو جی بڑے اعتماد سے اُٹھ کر چوہدری جہانگیر کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اپنی گردن کو ہاں میں جنبش دی۔ ڈیرے پر بیٹھے افراد کے درمیان کھُسر پھُسر شروع ہوگئی۔

                ”کالا موچی کہاں ہے۔۔۔؟“ پپو کمہار نے ناظر ترکھان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں پوچھا تھا ۔ناظر نے ارد گرد دیکھا کالا موچی کہیں نظر نہیں آیا۔

                ”وہ مَج چوری ہوگئی۔۔۔؟“ آبی بیوپاری نے اپنے دائیں بائیں نجی لوہار اور سُودے نانی کی طرف دیکھ کر کہا۔

                ”تم سب اِدھر آﺅ۔۔۔“ وہ پانچوں ہاتھ باندھیں چوہدری جہانگیر کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ چوہدری نے جانچتی نگاہوں سے سب کو دیکھا۔

                ”اگر تم میں سے کسی نے چوری کی ہے تو ابھی بتا دے۔۔۔بعد میں۔۔۔میں چور کی کھال اُتار دوں گا۔“سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر آبی بیوپاری آگے بڑھا اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا:

                ”نا۔۔۔نا۔۔۔چوہدری۔۔۔ہم میں سے یہ کام کسی نے بھی نہیں کیا“

                ”منگتو۔۔۔! سارے گاﺅں میں دیکھ کر آ۔۔۔“چوہدری جہانگیر نے غصے سے حکم دیا۔ منگتو کے پیچھے پیچھے ہی آبی، پپو، نجی، سُودا بھی چلے گئے۔

                ”چوہدری جی!! کالے موچی کی خبر لے کر آﺅں۔۔۔؟“ناظر ترکھان نے دبے لفظوں میں پوچھا۔ چوہدری جہانگیر نے آبرو کے اشارے سے اجازت دی۔

                ”چوہدری جی!! کھُرا آپ کے ڈیرے سے آگے نہیں جاتا“ کرمُو کھوجی نے ڈرتے ڈرتے عرض کی۔

                ”کرمُو۔۔۔سوچ سمجھ کر بات کیا کر۔۔۔اب چوہدری جہانگیر چوری کی بھینسیں اپنے ڈیرے پر باندھے گا۔“چوہدری جہانگیر نے کرمُو کو غصے سے ڈانٹ دیا۔

                ”چھوٹے چوہدری!! تو ایک بار دیکھ تو سہی۔۔۔کُرمو کھوجی کاکھُراآج تک غلط ثابت نہیں ہوا۔۔۔“

                بابا خیرابول پڑا ، چوہدری جہانگیر نے غصے سے بابے خیرے کی طرف دیکھا بابے خیرے کو کہا کچھ نہیں شائد وہ اُس کی سفید داڑھی کا لحاظ کر گیا تھا۔

                اتنے میں منگتو پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔

                ”چوہدری جی!! سب جگہ دیکھ آیا ہوں بھینس کہیں نہیں ہے۔“ منگتو کے پیچھے پیچھے ہی ناظر ترکھان بھی آگیا اُس نے بھی نفی میں گردن ہلائی تھی۔

                ”منگتو!! کیا بھینس ہمارے ڈیرے پر ہے۔۔۔؟“چوہدری جہانگیر نے جلال سے پوچھا۔ منگتو نے جلدی سے حیرت کے ساتھ سوالیہ انداز میں جواب دیا:

                ”ہمارے ڈیرے پر۔۔۔؟ ناں۔۔۔ناں۔۔۔ جی“

                 پپو، آبی، سُودا ، نجی وہ سب لوگ بھی واپس آگئے۔

                ”چوہدری جی!! سارا گاﺅں دیکھ لیا ہے۔۔مَج (بھینس) نہیں ملی۔“ آبی بیوپاری نے گردن جھکا کر اطلاع دی۔

                ”چوہدری ریاست!!تیری بھینس مل جائے گی۔ فکر نہ کر۔۔۔اُوئے تم سب کالے موچی کو ڈھونڈ کر لاﺅ“ چوہدری جہانگیر نے یقینی انداز میں کہا۔

                ”رہنے دو اوئے۔۔۔کالے موچی کو۔۔۔۔چوہدری!! کھُرا تیرے ڈیرے پر آتا ہے اور تو سارے گاﺅں کی تلاشی لے رہا ہے۔ صرف اپنے ڈیرے کی تلاشی لے لے بھینس مل جائے گی۔“چوہدری ریاست نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔ اُس کا انداز اور لہجہ چوہدری جہانگیر کو لڑ گیا تھا۔ وہ غصے سے اُبل پڑا۔

                ”چوہدری ریاست!! میں پھر سے تیرا لحاظ کر رہا ہوں ۔ اِس لیے کہ تو اِس وقت میرے ڈیرے پر بیٹھا ہے۔“چوہدری جہانگیر نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔

                ”تو مت کر لحاظ اور اپنے ڈیرے کی تلاشی دے دے۔“ چوہدری ریاست نے بھی تلخی سے جواب دیا۔

                ”تلاشی۔۔۔؟ آج تک تو ایسا ہوا نہیں۔۔۔اور آگے بھی نہیں ہوگا۔“ چوہدری جہانگیر نے حتمی انداز میں جواب دیا۔

                ”اگر تو تلاشی نہیں دے گا۔۔۔؟ پھر کُنڈی کھولنی پڑے گی!!“ چوہدری ریاست نے بھی اپنا فیصلہ سُنا دیا تھا۔

                ”کُنڈی۔۔۔؟ کُنڈی کھولنی پڑے گی۔۔۔؟ چوہدری کو۔۔۔؟ ایک بھینس کے لیے۔۔۔! کالے کا ہی کام لگتا ہے۔۔! کہیں ذبح ہی نہ کر لی ہو۔“ چوہدری جہانگیر کے حمایتیوں نے اپنی حیرت اور فکر مندی کا اظہار اپنے اپنے الفاظ میں کیا ۔چوہدری جہانگیر نے کچھ دیر سوچا پھر اُٹھ کر چل پڑا۔

                ”چل چوہدری ریاست۔۔۔!!“

                مغرب کی آذان سے کچھ دیر پہلے مولوی صادق نے قرآن شریف پڑھنے والی بچیوں کو چھٹی دی۔ مسجد سے گھر جانے کے لیے نکلا، مسجد کے دروازے کی باہر سے کُنڈی لگائی اور اپنے گھر چلا گیا ابھی وہ گھر کے اندر داخل ہی ہوا تھا، گلی میں سے گزرتے ہوئے ہجوم کا شُور اُس کے کانوں میں پڑا وہ جلدی سے باہر آیا گلی میں سب سے آگے چوہدری جہانگیر اور اُس کے ساتھ چوہدری ریاست چلتے ہوئے مسجد ہی کی طرف جا رہے تھے۔ اُن دونوں کے پیچھے پیچھے بہت سارے افراد تھے مولوی صادق کو بھی تشویش ہوئی وہ بھی اُن کے پیچھے چل پڑا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے پہنچ کر چوہدری جہانگیرا ور چوہدری ریاست کھڑے ہوگئے۔ چوہدری ریاست نے مسجد کے دروازے کی باہر سے لگی ہوئی کُنڈی کو دیکھ کر پھر سے طنزیہ انداز میں کہا۔

                ”چوہدری جہانگیر!! اگر تو سچا ہے تو ۔۔؟کھول دے مسجد کی کُنڈی ۔۔۔تیرا میرا فیصلہ ہو جائے گا۔ “چوہدری جہانگیر نے ایک نظر چوہدری ریاست کی طرف ڈالی پھر اپنے قدم مسجد کے دروازے کی طرف اُٹھائے جیسے جیسے چوہدری جہانگیر کے قدم مسجد کے دروازے کی طرف اُٹھ رہے تھے لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بڑھ رہی تھی سب سانسیں ساکن ہو چکی تھیں۔

                سب کی پلکوں کے کواڑ کھُلے ہوئے تھے سب کی آنکھوں کے آئینوں میں دو ہی تصویریں تھیں چوہدری جہانگیر اور مسجد کی کُنڈی۔ چوہدری جہانگیر نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا پھر دوسری سیڑھی پر اب اپنے ہاتھ کُنڈی کھولنے کے لیے بڑھائے اُس نے دائیاں ہاتھ کُنڈی پر رکھا ہی تھا ہجوم میں سے ایک آواز بلند ہوئی:

                ”کُنڈی نہ کھولنا۔۔۔!! چوہدری جی۔۔۔کُنڈی نہ کھولنا۔ “سب کی نظروں نے اُس آواز کا تعاقب کیا جس میں بے شمار درد تھا۔مولوی صادق نظریں جھکائے کھڑا تھا اور روتے ہوئے زور زور سے کہہ رہا تھا:

                ”کُنڈی نہ کھولنا۔۔۔!! چوہدری جی۔۔۔کُنڈی نہ کھولنا ۔۔۔وہ بھینس میں نے چوری کی تھی۔“چوہدری جہانگیر کا ہاتھ رُک گیا اور وہ اُلٹے پاﺅں مسجد کی دونوں سیڑھیاں اُتر آیا۔ سارے ہجوم کی نظروں کا مرکز و محور مولوی صادق تھا۔ اِس سے پہلے کہ مولوی صادق کو لانت ملامت ہوتی ایک بزرگ گھوڑی پر بیٹھ کر وہاں آیا اور مسجد کی کُنڈی کھول کرچپ چاپ مسجد میں داخل ہوگیا۔

                ”ابّا جی۔۔۔“چوہدری جہانگیر نے منہ میں کہا۔

                ”وڈے چوہدری جی۔۔۔!!“ ہجوم میں سے کئی دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔

                چوہدری اکبر نے صحن میںکھڑے ہو کر کلمہ حق بلند کر دیا مغرب کی آذان سنتے ہی سب سے پہلے چوہدری جہانگیر مسجد میں داخل ہوا اُس کی دیکھا دیکھی سارا کا سارا گاﺅں مسجد داخل ہوگیا سب سے آخر میں مولوی صادق جھکی ہوئی گردن کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تھا۔آذان ختم ہوگئی مگر مولوی کے مصلحے پر کوئی کھڑا نہ ہوا۔

                ”مولوی صادق!! آگے آ اور نماز پڑھا !!جو کو ئی بھی مولوی صادق کو بُرا آدمی سمجھتا ہے وہ اِس کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔“ بڑے چوہدری نے اعلان کی طرز پر حکم دیا مولوی صادق نظریں جھکائے لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا مصلحے تک پہنچا اور مغرب کی نماز پڑھائی گاﺅں کے سب لوگوں نے مولوی صادق کے پیچھے نماز ادا کر لی۔ سوائے چوہدری ریاست اور اُس کے ساتھیوں کے۔

                عید کے بعد آج پہلی بار اتنے نمازی گاﺅں کی مسجد میں تھے۔ دعا کے بعد پھر چوہدری اکبر بولا:

                ”نماز کے بعد سارے لوگ ڈیرے پر آجائیں۔“

                چوہدری ریاست اور اُس کے ساتھیوں نے جماعت کے بعد اپنی اپنی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد مسجدتقریباً خالی ہوگئی تھی گاﺅں کے سارے لوگ جا چکے تھے صرف چوہدری اکبر اور بابا خیرا بیٹھے ہوئے تھے۔ چوہدری ریاست بھی اُٹھ کر جانے لگا تھا۔

                ”ریاست پُتر فیصلہ تو کرتے جاﺅ۔۔۔!” چوہدری اکبر نے ریاست کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بٹھا لیا۔

                ”تایا جی!! جس گاﺅں کا امام ہی چور ہو۔۔۔ اور گاﺅں کے مالک اُس کے سرپرست ہوں۔۔۔وہاں فیصلہ۔۔۔؟“چوہدری ریاست نے شکست زدہ مسکراہٹ سے جواب دیا۔

                ”وہ امام کے ساتھ ساتھ۔۔۔انسان بھی تو ہے۔۔۔اور انسان ہی غلطیاں کرتے ہیں۔“بابے خیرے نے کہا۔

                ”غلطی۔۔۔غلطی ۔۔۔ سے ہوتی ہے اور چوری جان بوجھ کر کی جاتی ہے۔“ چوہدری ریاست نے خفگی سے جواب دیا۔

                ”جو غلطی تو نہ کرے اور چوری کر بیٹھے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔۔۔؟ “چوہدری اکبر نے مولوی صادق کی صفائی کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں ریاست سے مشورہ بھی مانگ لیا۔

                ”تایا جی!! مجھے اجازت دیں۔۔۔آپ نے اور آپ کے گاﺅں نے مولوی کے حق میں فیصلہ تو پہلے ہی دے دیا ہے۔“ چوہدری ریاست نے گِلے کے انداز میں کہا۔

                ”نہ پُتر میں نے تو زندگی میں کبھی بھی فیصلے نہیں کیے۔۔۔میں نے تو صرف لوگوں کو معاف کیا ہے۔۔۔تو میرے ساتھ ڈیرے پر چل میں رب کے گھر میں بیٹھا ہوں، جو فیصلہ تو کرے گا میں اُس پر آمین کہوں گا۔“ چوہدری اکبر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔ چوہدری اکبر کے بعد بابا خیرا بول پڑا:

                ”وڈے چوہدری نے تو کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا۔۔۔فیصلے کے لیے گواہوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ فیصلہ یہ نہیں ہے کہ مولوی چور ہے یا پھر چوکیدار بلکہ فیصلہ تو یہ ہے کہ مولوی اچھا ہے یا بُرا۔۔۔؟ چور، چوری کرے تو ہاتھ ضرور کاٹنے چاہیں اگر ساری عمر کی چوکیداری کے بعد۔۔۔! چوکیدار غلطی کر بیٹھے۔۔۔تو لوگوں سے صلاح (رائے) کرلو۔۔۔وڈے چوہدری نے بھی لوگوں کی صلاح ہی لی ہے۔ ۔۔کیوں کہ زبانِ خلق نَقارہ خدا ہے ۔۔۔ شائد اِسی لیے سارے گاﺅں والوں نے مولوی کے حق میں گواہی دی ہے۔ بات کرنے سے بات ختم ہوتی ہے۔ اپنی سُنا اور مولوی کی سُن۔۔۔وڈے چوہدری نے کہا ہے نا ۔۔۔جو فیصلہ تو کرے گا ۔۔۔ہمیں قبول ہوگا۔۔۔ “ بابے خیرے کی باتوں کے بعد چوہدری ریاست خود ہی اُٹھ کر ڈیرے کی طرف چل پڑا۔

                سب لوگ پہلے ہی ڈیرے پر پہنچ گئے تھے۔

                ”پُتر ریاست اپنی بات سب کو بتا “ بڑے چوہدری نے بڑے اطمینان سے کہا۔

                ”تایا جی!! کل میرے ڈیرے پر چوہدری جہانگیر اور اُس کے سات ساتھی آئے تھے جن میں مولوی بھی تھا۔۔۔چوہدری نے میری بھینس کی قیمت لگائی۔۔میں نے کہا اِس بھینس کو چھوڑ کر چوہدری جہانگیر تو کوئی بھی پسند کر لے۔ چوہدری جہانگیر نے کہا تو قیمت بول۔۔میں نے وہ بھینس دینے سے انکار کر دیا چوہدری نے مولوی صادق کو بھیج کر وہ بھینس چوری کروالی۔“

                یہ بات سُن کر مولوی صادق گردن جھکائے کھڑا ہوگیا۔

                ”تو بول مولوی صادق۔۔۔“ بڑے چوہدری نے بولنے کی اجازت دے دی۔

                ”چوہدری جی!! میں نے بھینس چوری کی ہے۔۔۔۔ میں مانتا ہوں۔۔۔مگر ۔۔۔ناہی کسی کے کہنے پر اور نہ ہی اپنے لیے۔“

                ”پھر تونے چوری کیوں کی۔۔؟ اور اِس وقت وہ بھینس کہاں ہے۔“ بڑے چوہدری نے تحمل سے پوچھا۔

                ”وہ بھینس آپ کے ڈیرے کے پیچھے جو ڈھارا (کمرہ) ہے وہاں ہے اور چوری میں نے چوہدری جہانگیر کی خوشی کے لیے کی تھی۔“

                ”جہانگیر کی خوشی۔۔۔؟“بڑے چوہدری نے حیرت سے پوچھا۔

                ”جی چوہدری جی۔۔۔ آپ نے اور چھوٹے چوہدری نے ہمیشہ گاﺅں والوں کی خوشی کا خیال رکھا ہے اگر میں چوری نہ کرتا تو کوئی اور کر لاتا مگر ہم چھوٹے چوہدری کو اُداس نہیں دیکھ سکتے۔۔۔ چھوٹے چوہدری جی جب سے بھینس کے بغیر ،چوہدری ریاست کے ڈیرے سے آئے تھے اُن کا منہ لٹکا ہوا تھا۔۔جو مجھ سے دیکھا نہیں گیا تب ہی میں نے فیصلہ کر لیا کہ جو بھی ہو وہ بھینس چھوٹے چوہدری کے ڈیرے پر ضرور آئے گی۔“

                ”تجھے ڈر نہیں لگا۔۔۔ یہاں سے چار میل دور ہے میرا ڈیرہ۔۔۔ میرے ڈیرے پر دو بُولی کُتے بھی ہیں ۔وہ تجھے کچا ہی کھا جاتے۔۔۔“ چوہدری ریاست نے حیرت سے پوچھا تھا۔اُس کے فوراً بعد بابے خیرے نے تشویشی انداز میں مولوی صادق سے سوال کیا:

                ”مولوی صادق!! عشاءکی نماز تونے پڑھائی پھر ہمارے ساتھ یہاں آگیا۔۔۔یہاں سے بھی ہم سب اکٹھے ہی اُٹھے تھے۔۔۔فجرے بھی سب سے پہلے تو ہی مسیت میں پہنچا تھا۔ بھینس تو کب لے کر آیا۔۔۔؟“

                ”بابا!! یہاں سے جانے کے بعد میں گھر گیا سب گھر والے سُو رہے تھے میں نے گھر کی باہر سے کُنڈی لگائی اور نکل پڑا۔۔۔راتوں رات بھینس لے کر آگیا۔۔۔بھینس ڈھارے میں باندھی۔۔گھر آکر نہایا کپڑے بدلے اور مسیت میں آکر آذان دی۔“سارا ہجوم مولوی صادق ہی کی زبانی اُس کی چوری کا قصہ بڑے شوق اور حیرت سے سُن رہا تھا۔

                ”رستے میں بہت سارے کماد (گنے) کے کھیت بھی ہیں، کوئی بارلہ یا بھگیاڑ (سُوور یا بھیڑیا) تجھے مل جاتا ۔۔۔تو۔۔۔؟ “چوہدری جہانگیر نے پوچھا۔

                ”میں جی آیة الکرسی پڑھتا ہوا گیا تھا اور واپس بھی پڑھتا ہوا آیا تھا اورکتوں کا بندوبست بھی میں نے کیا ہوا تھا۔۔۔کالا موچی کہتا ہے بڑے سے بڑے خونخار کتے کو گُڑ کھلا دیا جائے تو وہ کچھ نہیں کہتا۔گُڑ بھی میرے کھیسے (جیب) میں ہی تھا، مگر مجھے چوہدری ریاست کے بُولی کُتے مِلے ہی نہیں“مولوی صادق نے بھولے پن سے جواب دیا۔

                سب مولوی صادق کی بات سُن کر ہنس پڑے اور دیر تک قہقوں کا شور رہا۔ اُس کے بعد بڑے چوہدری نے اپنا دائیاں ہاتھ ہوا میں بُلند کیا تو شور یک دَم ختم ہوگیا۔

                ”ریاست پُتر!! تو اب خود ہی فیصلہ کر دے۔۔۔“ بڑے چوہدری نے کہا۔

                ”ریاست نے مولوی کی طرف دیکھا جس کی گردن جھُکی ہوئی تھی پھر اُس نے بابے خیرے سے نظریں ملائیں جن میں التجا تھی۔ ڈیرے پر موجود سب افراد کی نظریں چوہدری ریاست پر مرکوز تھیں سب کی سانسیں سا کن تھیں ۔ سب جانتے تھے جو بات چوہدری ریاست کہے گا وہ حتمی ہوگی۔چوہدری ریاست نے سارے مجمے پر نظر دوڑائی ،ایک لمحے سوچا پھر بول اُٹھا:

                ”تایا جی!! وہ بھینس میری بہن نے اپنے جہیز کے لیے پسند کر رکھی تھی اِس لیے چوہدری جہانگیر کو خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اب میں وہی بھینس ۔۔۔مولوی صادق کو اُس کی بہادری کے انعام میں تحفہ دیتا ہوں۔“ڈیرے پر موجود سب لوگ یہ سن کر خوشی سے جھوم اُٹھے اور ستائشی نظروں سے چوہدری ریاست کو دیکھنے لگے۔ سودے نائی نے تو اُٹھ کر چوہدری ریاست کے لیے نعرہ بھی لگا دیا۔

                ”ایک بھینس میری طرف سے بھی۔۔۔مولوی صادق کو اُس کی بہادری کا انعام ۔۔۔“بڑے چوہدری نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔

                 بابے خیرے نے بڑے چوہدری کی طرف دیکھا اُس کے بعد مشکور نگاہ چوہدری ریاست پر ڈالی پھر کہنے لگا :

                ”مولوی صادق !! ہر بار چوری پر انعام نہیں ملتا۔۔۔ آگے سے کسی کی بھی۔۔۔بہادری میں بھی۔۔ ۔۔۔۔۔

                ”کُنڈی نہ کھولنا۔“

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے