سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر15

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر15

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ضیاءشہزاد
آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا
٭
قسط نمبر15
٭
کلو تایا تیزی سے سرائے کے میدان کی طرف بھاگے۔ بڑے ابا حیرن ہو کر کلو تایا کو بھاگتے ہوئے دیکھنے لگے ۔ گردھاری نے بھی بڑی حیرت سے کلو تایا کو بھاگتے ہوئے دیکھا اور اس کے ساتھ ہی وہ بار بارپیچھے مڑ کر اپنے آدمیوں کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔ ۔ ۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ اماں اور گھر کی سب عورتیںتایا کلو کو بھاگتے ہوئے حیرت سے دیکھ رہی تھیں ۔ کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں دوڑے چلے جا رہے ہیں ۔
٬٬ بھابی۔ ۔ ۔ جی ۔ ۔ ،،اماں اپنا گلا صاف کرتے ہوئے بولیں،یہ کلو جیٹھ جی کو کیا ہوا ۔ ۔ ۔ کہاں بھاگے جا رہے ہیں،،
٬٬ ارے مجھے کیا پتہ کہاں بھاگ کے گیا ہے ،، تائی خیرن نے کہا ۔٬٬ اس کے تو روز نئے ناٹک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بھائی کو چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں بھاگا ہے،،
٬٬ او ۔ ۔ ری ۔ ۔ کم عقلو ۔ ۔ ۔ کلو ۔ ۔ میرا کھسم ہے ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے ۔ ۔ وہ ۔ ۔ کہاں ۔ ۔ گیا ہے ۔ ۔ کیا وہ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے بھائیوں کو ان ۔ ۔ ۔کمینوں کے آگے ۔ ۔ ۔ ایسے ہی چھوڑ دے گا ۔،، تائی اندھی ہکلاتے ہوئے بولیں۔٬٬ دیکھ لینا ۔ ۔ ابھی آ ۔ ۔ ۔جائے گا ۔ ۔ سب کو پتہ چل جائے گا وہ کیوں بھاگا ہے ،،
سب عورتوں میں ضد بحث ہو نے لگی۔ ۔ ۔ مگر مجھے ان کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میرا سارا دھیان اس بات پر تھا کہ تایا کلو کہاں بھاگ کر گئے تھے ۔ وہ بھوت کے روپ والے جو ہماری حویلی کے دروازے پر کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ وہ کون تھے اور بڑے ابا کااور ان کے ساتھ کیا آپس میں جھگڑا ہو جائے گا۔
میں نے پھر نیچے جھانک کر دیکھا تو بڑے ابا اور وہ بھوت والا ٓدمی جس کو کلو تایا نے گردھاری کے نام سے بلایا تھا ایک دوسرے سے تیز تیز آوازوں میں بات کر رہے تھے ۔ میں نے کان لگا کر سنا تو بڑے ابا اس سے کہہ رہے تھے ۔٬٬ دیکھ بھئی ۔ ۔ ۔ کیا نام ہے ترا ۔ ۔ گر ۔ ۔ ۔
٬٬ گردھاری مہاراج ۔ ۔ میں گردھاری مل ہوں ۔ ۔ پنڈت گوکل رام کا سیوک ہوں ۔ ۔ ۔ بھاگیہ ہیں مرے ۔ ۔
٬٬ ہاں تو ۔ ۔۔ ۔ گردھاری ۔ ۔ میرا تمہارے لئے یہی اچھا ماننا ہے کہ تم فوراًً یہاں سے اپنے ان چیلوں کو لے کر کھسک لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابا سراجو کو ابھی تک تمہاری اس حرکت کی خبر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔۔
٬٬ نہیں مہاراج ۔ ۔ ۔ بالکل بھی نہیں جاﺅں گا ۔ ۔ ۔ پنڈت جی کا جو حکم ہے اس کا پالن کروں گا ۔ ۔۔ پرسادکو ہمارے حوالے کردو ۔ ۔ ۔ میں اپنے سیوکوں کو لے کر چلا جاﺅں گا ۔ ۔ بات ختم ہو جائے گی ۔ ۔ کوئی ٹنٹا نہیں رہے گا۔،،
٬٬ بکواس بند کر بے ۔ ۔ بڑے ابا کو ایک دم سے غصہ آگیا ۔ ۔ وہ چیخ پڑے۔٬٬ تیری بھلائی اسی میں ہے کہ تو یہاں سے کھسک لے ۔ ۔ ۔ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کبھی نہ تو کسی سے ڈرتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کے آگے جھکتا ہے ۔ ۔ ۔ سوائے اپنے اللہ کے آگے۔،،
بڑے ابا کو غصے میں تیز آواز سے بات کرتے ہوئے ہم سب نے سنا ۔ ۔ ۔ اماں اپنے برابر میں کھڑی ہوئی تائی خیرن سے بولی ٬٬ بھابی جی ۔ ۔۔ محمودن کو نیچے ابا کے پاس جلدی سے بھیجو ۔ ۔ ۔ لگتا ہے کہ اب لڑائی ہوجائے گی ان کمینوں کی بڑے جیٹھ جی کے ساتھ ۔،،
٬٬ نہیں چاچی جی ۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ میں نہیں جاﺅں گی نیچے ۔،، محمود بھابی نے ترت جواب دیا
٬٬ اری او ۔ ۔ ۔ کم بخت محمودن۔ ۔ ۔ مرد بن ۔ ۔ مرد ۔ ۔ جا سراجو ۔ ۔ ۔ابا۔ ۔ ۔ ۔ کو جا کر بتا دے کہ مردوں میں۔ ۔ ۔ جھگڑا ہو نے والا ہے ۔ ۔ ۔ جوان بچی ہو کر ڈر رہی ہے ۔ ۔ ۔ہیں۔،، اندھی تائی نے ہکلاتے ہوئے بھابی محمودن کو ڈانٹا
٬٬ تو چاچی جی آپ خود چلی جاﺅ نا نیچے ۔ ۔ خود ہی جا کر بتا دو دادا ابا کو ۔ ۔ ۔ مجھے تو بڑا ڈر لگ رہا ہے ۔،،۔ ۔ ۔ محمودن بھابی نے اندھی تائی کو منہ توڑ جواب دیا
٬٬ میں ۔ ۔ میں ۔۔ کوئی ۔ ۔ تیری طرح سے ۔ ۔ ۔ ڈرتی تھوڑی ہوں ۔ ۔ ۔ آ نے دے میرے کھسم کو ۔ ۔ کلو آجا ئے گا تو میں ۔ ۔ خود ہی ابا سراجو ۔ ۔ کو بتا دوں۔ ۔ ۔ گی ۔،، اندھی تائی نے ہکلاتے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی بھابی محمودن کو موٹی سے گالی بھی بکی اور بڑ بڑانے لگیں ۔
٬٬چپ ہو جا ۔ ۔ ۔ خیرن ۔،، تائی خیرن نے اندھی تائی سے کہا ۔٬٬ نیچے دیکھ ترے جیٹھ جی سے پھر وہ موا جھگڑا کر رہا ہے سب عورتیں پھر نیچے جھانکنے لگیں۔ ۔ ۔ میں نے بھی اچک کر نیچے کی طرف دیکھا ۔ بڑے ابا اور گردھاری میں تیز تیز باتیں ہو رہی تھیں۔
میں نے دیکھا کہ گردھاری نے بھونپو پھر اپنے منہ سے لگا یا اور زور زور سے بجانے لگا ۔ بھونپو کے بجتے ہی اس کے پیچھے کھڑے ہوئے بھوت جیسے لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں چھرے والے ڈنڈے اٹھا کر اوپر کی طرف اٹھائے اور جے ہو ۔ ۔ ۔ جے ہو ۔ ۔ ۔ چلانے
لگے ۔بڑے ابا نے جلدی سے گردھاری کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ ۔ ۔ اور غصے سے بولے ۔٬٬ دیکھ بے گردھاری کے بچے ۔ ۔ ۔ اب برداشت کی بھی حد ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ باز آجا ۔ ۔ ۔ نہیں تو لاش گر جائے گی تیری ۔،،
٬٬شانت رہو مہاراج ۔ ۔ لاش گرانا ہمیں بھی آتا ہے ۔ ۔ ۔ بات کو ابھی یہیں رہنے دو ۔،، گردھاری بولا ۔ ۔ ۔ باول میں دو مسلمانوںکی لاشیں گر چکی ہیں ۔ ۔ ۔ اب کیا اور مسلمان مرواﺅ گے مہاراج۔،،
٬٬ ابے چپ ۔ ۔ الو کے پٹھے ۔،، بڑے ابا غصے سے بولے اور انہوں نے آگے بڑھ کر گردھاری مل کا ہاتھ پکڑ لیا۔٬٬ اب اگر تونے سنکھ بجایا ۔ ۔ یا جے ۔ ۔ جے کار کی تو ترا ٹینٹوا دبا دوں گا ۔ ۔ ۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ تیرے ساتھ کتنے چیلے چپاٹے ہیں ۔ ۔ ۔ دیکھ لوں گا ایک ایک کو ۔ ۔ تو مجھے نہیں جانتا ۔ ۔ ۔ بدر الدین نام ہے میرا۔ ۔ ۔اس لے اپنی بکواس بند کر ۔،، بڑے ابا بولے
شانتی سے بات کرو ۔ ۔ ۔ پنڈت جی نے ہم سے یہی کہا تھا کہ شانت رہ کر بات کرنا ۔ ۔ ۔ ہم بات خراب نہیں کرنا چاہتے۔ بس ہماری دادا سراجو سے بات کروا دیں۔،، گردھاری مل بولا ۔ پنڈت جی نے کہا تھا کہ پرساد کو لئے بنا مت آنا ۔ ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ میں کیسے اس کے بنا چلا جاﺅں گا مہاراج۔؟،،
٬٬ ٹھہر جا ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر اور ٹھہر جا ۔ ۔ ۔ ۔ تیرا بندو بست تو کلو آ کر ہی کرے گا ۔،، بڑے ابا نے کہا ۔٬٬ وہ تم لوگوں کی رگ رگ کو جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ابھی واپس آتا ہی ہوگا ۔،،
٬٬ پنڈت گوکل رام جی نے سیوک کو شانت رہنے کا کہا تھا ۔ ۔ ۔ سیوک گردھاری مل اسی کارن شانت ہے ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ سیوک گردھاری مل کو پورا گڑگاﺅں جانتا ہے ۔ ۔ ۔ بات ہی نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ جو کہتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ کرتا بھی ہے ۔،، گردھاری کا بولنے کا انداز بدل گیا تھا ۔۔ ۔ ۔ بڑے ابے یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے سن رہے تھے ۔
اس کے ساتھ ہی گردھاری نے اپنے پیچھے کھڑے ہوئے لوگوں کی طرف مڑ کر دیکھا تو انہوں نے اپنا گلا پھاڑ کر جے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ جے ہو کی آوازیں نکالیں ۔ ان کی یہ آوازیں سن کر میں سہم گیا اور اینٹوں سے اتر کر اپنی اماں کی ٹانگوں سے لپٹ گیا اور رونے جیسی آواز میں اماں سے بولا ۔٬٬ اماں ۔ ۔ اماں ۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ اماں ۔،،
اماں نے مجھے ایک ہاتھ سے پکڑ لیا اوربولیں ۔٬٬ارے ڈر مت ۔ ۔ میں ہوں نا تیرے ساتھ ۔ ۔ یہ دیکھ چاچی اور تائی یہ سب تیرے ساتھ ہیں ۔ ۔ ۔ ڈر مت میرے لال۔،،
مجھے ذرا حوصلہ ملا ۔ ۔ ۔ مگر میرا ڈر اپنی جگہ تھا، پھر بھی اب کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ بڑے ابا کا جھگڑا ہوجائے گا ۔ ۔ ۔ گردھاری کا کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب جاننے کا چاﺅ اپنی جگہ تھا۔ میں نے اماں کی ٹانگیں چھوڑ دیں اور پھر انیٹوں پر آ کر کھڑا ہو گیا اور نیچے جھانکنے لگا۔
میں نے دیکھا کہ بڑے ابا ابھی تک غصے میں تھے اورگردھاری کے جواب میں کچھ کہنے ہی والے تھے کہ میرے ابا بھی حویلی کے دروازے سے باہر نکلے اور بڑے ابا کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے۔٬٬ کلو بھائی کہاں گیا ۔،،ابا نے بڑے ابا سے پوچھا
٬٬ وہ کہیں دوڑتا ہوا گیا ہے۔،، بڑے ابا بولے ٬٬ یہ گردھاری کا بچہ ہم پر چڑھائی کرنے آیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کہتا ہے کہ پنڈت گوکل رام نے بھیجا ہے ۔ ۔ ۔ پرساد کے بچے کو چھڑوانے آیا ہے ۔ ۔ ۔ اس کی بکواس سن کر وہ کہیں دوڑا ہوا گیا ہے ۔ ۔ ۔ کہتا تھا کہ ان کا مزاج تو ۔ ۔ ۔ وہی آ کر ٹھیک کرے گا۔،،
چھت پر چڑھی ہوئی عورتیں اور میں نیچے جھانکتے ہوئے سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ جب ہم نے ابا کو بڑے ابا کے ساتھ کھڑے دیکھا تو میری اماں جھٹ سے بولیں۔٬٬ اللہ ۔ ۔ خیر کرنا ۔ ۔ ۔ پھر وہ تائی خیرن اور اندھی تائی سے بولیں۔٬٬تائی جی ۔ ۔ ۔ میرا تو دل ہول رہا ہے ۔ ۔ ۔ ضیاءالدین کا ابا بھی بڑے غصے والا ہے ۔ جیٹھ جی تو ہیں ہی غصے والے مگر یہ بھی کچھ کم غصے والے نہیں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے کوئی تو نیچے جا کر دادا ابا کو بتائے کہ مردوں میں جھگڑا ہو نے والا ہے ۔،،
٬٬ ہاں ری ۔ ۔ میرا بھی دل بیٹھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تائی خیرن بولیں
٬٬ میں ۔ ۔ نے اسی لئے ۔ ۔ ۔ اس کم بخت محمودن سے کہا تھا کہ نیچے ۔ ۔ جا ۔ ۔ اور ابا کو بتا ۔ ۔ دے ۔ ۔ مردوں میں ۔ ۔ لڑائی ۔ ۔ ہو نے ۔ ۔ والی ہے ۔،، اندھی تائی ہکلاتے ہوئے غصے سے بولیں۔٬٬ مگر یہ تو ڈر گئی ۔،، پھر وہ دوبارہ بھابی محمودن سے بولی ۔٬٬ اری کم بخت مرد بن ۔ ۔ مرد ۔ ۔ جا ۔ ۔ جلدی سے ۔ ۔ نیچے جا ۔ ۔ اور دادا کو بتا کے آ ۔،،
٬٬ تائی اماں ۔ ۔ ۔ تو کیوں نہیں بنتی مرد ۔ ۔ ۔ میں نہیں جاﺅں ۔ ۔ ۔ جب تجھے ڈر لگ سکتا ہے تو کیا مجھے ڈر نہیں لگ سکتا ۔،، محمودن بھابی نے ترت کہا
٬٬ میں ۔ ۔ میں ۔ ۔ کیوں ڈروں کسی ۔ ۔ سے جب مجھے ۔ ۔ غصہ آتا ہے تو ۔ ۔ ۔ میں بھی۔ ۔ ۔ مرد ۔ ۔ ۔ بن جاتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ میرا غصہ کیسا ہے یہ خیرن سے ۔ ۔ پوچھ۔،، اندھی تائی غصے سے ہکلاتے ہوئے بولی
٬٬ اری ہاں ۔ ۔ بہت دیکھا ہے تیرا غصہ ۔ ۔ ۔ جب کلو کو غصہ آتا ہے تو ۔ ۔ ۔ تو دبک جاتی ہے ۔ ۔ ۔ اور میں میں کرنے لگتی ہے۔،، تائی خیرن بولیں
٬٬ وہ تو ۔ ۔ وہ تو ۔ ۔ ۔میں ۔ ۔ ۔ لحاظ کر جاتی ۔ ۔ ہوں اس کا ۔ ۔ ۔ آخر کو میرا کھسم ہے ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ چپ ۔ ۔ ۔نہ رہوں تو کیا ڈنڈا لے ۔ ۔۔ کر کھڑی ہوجاﺅں ۔ ۔ ۔ ۔ کھسم کے ۔ ۔ ۔ آگے ۔ ۔ ۔ نہ خیرن ۔ ۔ ۔نہ ۔ ۔ میری اماں نے ۔ ۔ یہ سیکھ نہیں دی ۔ ۔ مجھے۔،،
٬٬ اچھا اب چپ رہ ۔ ۔ نیچے دیکھ فخرو اور تیرے جیٹھ جی کہیں ان حرام کے پلوں سے لڑ نہ پڑیں ۔،، تائی خیرن نے اندھی تائی کو ڈانٹ پلائی۔ ۔ ۔ سب عورتیں ان سے ڈرتی تھیں ۔ ۔ وہ عورتوں میں سب سے بڑی تھیں اور ویسے بھی دادا ابا نے سب سے یہ کہہ رکھا تھا کہ تائی خیرن بڑی ہیں ۔ ۔ ۔ سب عورتیں ان کا کہنا مانیں۔ ۔ ۔ یہی وجہ تھی کہ میری اماں سمیت سب ہی تائی خیرن سے ڈرتے تھے۔
عورتیں پھر نیچے جھانکنے لگیں ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی میں نے بھی نیچے جھک کر جھانکا ۔۔ ۔ ۔ بڑے ابا کو میرے ابا نے پکڑا ہوا تھا ۔
۔ ۔ ٬٬ بھائی ۔ ۔ اپنے آپ کو سنبھالو ۔ ۔ ۔ ابھی لڑنے کا وقت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ کلو بھائی کو آنے دو ۔ ۔ ۔ پھر دیکھیں گے ان کو۔،، ابا نے کہا اور بڑے ابا کچھ پیچھے کی طرف ہو گئے۔
٬٬ اچھا کیا جو اپنے بھائی کو شانت کرادیا۔۔ ۔ ۔گردھاری سے لڑنے چلا تھا یہ ۔،، گردھاری بولا
٬٬ دیکھو ۔ ۔ گردھاری ۔ ۔ آپے میں رہو ۔ ۔ ہم لڑنا نہیں چاہتے ،، ابا بولے ۔٬٬ہمارا کلو بھائی آجائے تو پھر بات کریں گے تم سے ۔ ۔ ۔ وہ تم لوگوں کے اچھی طرح جانتا ہے ۔،، گردھا ری نے کچھ کہنے کے لئے اپنا منہ کھولا ہی تھا کہ اسی وقت بندروں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں ۔پھر میں نے دیکھا کہ ادھر ادھر سے بہت سارے بندر اچھلتے کودتے ۔ ۔ ۔ چیختے چلاتے اور اپنے منہ سے ٬٬ کھوں کھوں کی آوازیں نکالتے ہوئے حویلی کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ ۔ ۔ سب عورتیں چلائیں ۔٬٬ اری جلدی کرو ۔ ۔ نیچے چلو ۔ ۔ یہ کم بخت مارے بندر کہاں سے نکل آئے ۔ ۔ ۔٬٬ ہماری حویلی کی طرف ہی آ رہے ہیں۔،، اماں بولیں اور انہوں نے مجھے اینٹوں سے اتار کر اپنی گود میں بھر لیا۔ ۔ ۔
(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے