سر ورق / مضامین / امجد حسین حافظ کرناٹکی:میری نظر میں غلام نبی کمار

امجد حسین حافظ کرناٹکی:میری نظر میں غلام نبی کمار


امجد حسین حافظ کرناٹکی:میری نظر میں

غلام نبی کمار
ڈاکٹر امجدحسین حافظ کرناٹکی کو میں مجاہدِ اردو کے نا م سے پکارنا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں۔امجد حسین کو حافظ کرناٹکی بننے میں کتنی محنت کرنی پڑی ،یہ ایک دلچسپ امر ہے۔امجد حسین ڈاکٹر کیسے ہوئے،یہ بھی دلچسپ حقیقت ہی ہے۔یہ جاننا بھی قارئین کے لیے دلچسپی سے کم نہ ہوگا کہ حافظ کرناٹکی نے ”موجِ تسنیم“سے”غزل ساز“ تک کا سفر کیسے طے کیا۔اس کے علاوہ وہ کون سی زبان ہے جو حافظ کرناٹکی کی شہرت و مقبولیت کی وجہ بنی اور وہ کون سی صنف سخن ہے جس میں حافظ کرناٹکی کا جوہرسب سے زیادہ نکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔اردو زبان و ادب میں حافظ کرناٹکی کا کیا مقام ہے اور اردو ادب کو ان کی کیا دین ہے؟۔ان سب باتوں کا آپ کو میری اس مختصر تحریر سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔
امجد حسین کا جنم18 جون 1964 کو شکاری پوری، شیموگہ کرناٹک میں ہوا۔موصوف پیدائشی ذہین و فطین ہیں۔باغبانی اور تجارت ان کا پیشہ ہے اور ادب ان کا بہترین اور سب سے پسندیدہ مشغلہ۔حافظ ، افضل العلماء،ادیب، فاضل، ایم۔اے، بی۔ایڈ کی تعلیم سے فیض یاب ہوئے۔اپنی ادبی اورسماجی خدمات کے اعتراف میں دو بار اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازے گئے۔ پہلی بار گلبرگہ یونی ورسٹی سے سرفراز کیے گئے اور پھر حال ہی میں جروسلم یونی ورسٹی ملیشیا سے ڈاکٹر آف ہیومینٹی کی سند تفویض کی گئی۔ مزید برآں درجنوں اعزازات اور انعامات سے نوازے جا چکے ہیں۔حافظ کرناٹکی کئی اعلیٰ عہدوں پر فائض ہو کر اپنی دانشوری، دیدہ وری اور بصارت و بصیرت کا ثبوت دے چکے ہیں۔ جن میں سکریٹری انجمنِ اطفال کرناٹک، سکریٹری مدینتہ العلوم ایجوکیشنل اینڈ چیرٹیبل ٹرسٹ، وائس چیرمین الامین ایجوکیشنل سوسائٹی بنگلور، جنرل سکریٹری زبیدہ نرسری اسکول تا ڈگری کالج، سابق سکریٹری کرناٹک اردو اکادمی،چیرمین کرناٹک اردو چلڈرنس اکادمی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔انھوں نے سعودی عرب، بنگلہ دیش، کویت، مصر ، دبئی،نیپال،انڈونیشیا، قطر، عمان، سری لنکا، بھوٹان، بحرین وغیرہ ممالک کا سفر بھی کیا ہے ۔
اردو زبان و ادب کو حافظ کرناٹکی نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے۔ لکھنا، پڑھنا، مختلف قلم کاروں کی تحریروں پر اپنی رائے قائم کرنا،ادبی محفلیں جمانا، سماجی خدمات کا فریضہ انجام دینا اور بڑے بڑے ادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ادبی گفتگو کرناحافظ کرناٹکی کا معمول بن گیا ہے۔اردو زبان کی حافظ کرناٹکی نے جتنی خدمت کی ہے اس کے لیے ایسی کئی عمریں درکار ہیںجتنی وہ گزار چکے ہیں۔وہ دن رات ادبی کارگزاریوں میں مصروف رہتے ہیں۔اگر ایسا کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ حافظ کرناٹکی ایک سچے اور یماندار خادم کی طرح تن من دھن سے اردو زبان کی خدمت میںمصروفِ عمل ہیں۔
امجد حسین حافظ کرناٹکی ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔جنھوں نے بہت کم عرصے میں اردو میں اپنی بادشاہت کا ثبوت پیش کیا۔اردو کاشاید ہی کوئی اخبار یا رسالہ ہو جس میں حافظ کرناٹکی کی تخلیقات نہ شائع ہوئی ہوں۔غرض کہ ہر قابل ذکر اخبار و رسالے میں حافظ کرناٹکی کی تخلیقات شائع ہوئی ہیں۔حافظ کرناٹکی کی ادبی شخصیت یہیں تک محدود نہیں بلکہ انھوں نے اردو زبان کی بیش بہا خدمت کی ہے جس کا ثبوت اردو میں شائع ان کی پچھتر سے زائد کتابیں ہیں۔حافظ کرناٹکی اردو زبان کے ساتھ بے انتہا لگاو¿ رکھتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس زبان کے ساتھ اپنی وابستگی کو محض دلچسپی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس ذوق و شوق کو اپنے خونِ جگر سے جلا بخشتے رہے۔
حافظ کرناٹکی نے اردو کی ہر اہم صنف میں لکھا ہے۔ میں انھیں عہدِ حاضر میںرباعی کا تاجدار کہتا ہوں، ادب اطفال کا معمار تصور کرتا ہوں،اردو غزل کا غزل ساز سمجھتا ہوں،عہد ساز ادیب تسلیم کرتا ہوں، نعت گوئی کا امام کہتا ہوں، اردو خدمت گزارنام سے یاد کرتا ہوں،تخئیل پرداز شاعر قرار دیتا ہوں،بچوں کا چاچا نہرو کہتا ہوں جو نہ صرف بچوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے بلکہ ان کے ذوق کو اپنی تخلیقات سے جِلا بخشتا ہے۔حافظ کرناٹکی کے نام سے میدان ِادب میں ایک ایسی آواز اُبھری ہے جو صدیوں میں سننے کو ملتی ہے۔حافظ ادب کی حفاظت کا نام ہے۔صوبہ کرناٹک میں حافظنے کئی مکتبے قائم کیے ہیں جو اِن کے فکرِ فردا کی نشانی ہے۔ کرناٹک کا بچہ بچہ حافظ کرناٹکی کے نام کا حفظ کیا ہوا ہے۔ حافظ کرناٹکی نے بچوں کے دلوں میں علم کی وہ جوت جگائی ہے،جو ہمیشہ اپنی روشنی بکھیرتے رہے گی۔ایسے مرد ادیب اور درویش صفت انسان خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔
حافظ کرناٹکی عصر حاضر میں اردو رباعی کے تاجدار ہیں۔انھوں نے اردو رباعی میں کئی کامیاب تجربے کیے ہیں۔حافظ کرناٹکی نے بچوں کے لیے بہت ہی آسان زبان میں رباعیاں کہی ہیں۔ان کے ہاں حمدیہ رباعیات کا خزانہ ہے جو بہت سلیس ہیں نیزبرجستگی اورشستگی جن کی شان ہے۔ان کی رباعیوں میں جو شیرینی اور روانی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔ ان کی زبان اتنی نکھری ہوئی ہے کہ شعر کیا رباعیاں بھی ازبر ہوجاتی ہیں۔حافظ کرناٹکی کے یہاں تخئیل کی جو فراوانی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ان کے رباعیوں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں۔”موجِ تسنیم “ کے علاوہ حافظ کرناٹکی کی ”رباعیاتِ حافظ“ کے نام سے چار جلدیں شائع ہو چکی ہے۔حافظ کرناٹکی نے دنیا جہاں کی ہر چیز کو اپنا موضوعِ سخن بنایا۔حافظ صاحب نے ہر نوعیت کی رباعیاں تخلیق کی ہیں۔رباعی گوئی میں انھیں کمال کی مہارت حاصل ہے۔ ان کے یہاں بے شمار حمدیہ رباعیات، نعتیہ رباعیات اور غزلیہ رباعیات ملتی ہیں۔حافظ کرناٹکی کے مذکورہ مجموعوں میں رباعیات کا بحرِ ذخار موجود ہے جن سے واقعی میں ایک دنیا سیراب ہوسکتی ہے۔حافظ کرناٹکی کی ایک نعتیہ رباعی ملاحظہ فرمائیے:
ہم پا گئے اسلام نبی جی کے طفیل
اللہ کا پیغام نبی جی کے طفیل
قرآں بھی احادیث بھی دینِ حق بھی
کیا کیا ملے انعام نبی جی کے طفیل
موجودہ دور میں شاید ہی کوئی رباعی گو ہو جو اس صنف میں حافظ کرناٹکی کی ہمسری کر سکتا ہو یا جوان کی طرح زود گو ہو۔حافظ کرناٹکی گفتگو کرتے ہیں تو موتی جڑتے ہیں۔ان کی شریں کلامی بھی شعر کا چٹخارہ ہوتی ہیں۔حافظ کرناٹکی نے رباعی گوئی میں اظہار کے نت نئے طریقے تلاش کیے ہیں۔حافظ رباعی گوئی میں حافظ و سعدی سے متاثر نظر آتے ہیں جس کا موصوف اعتراف بھی کرتے ہی۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ نئی نسل کے رباعی گو شعرا کے لیے حافظ کرناٹکی نے اپنے تخلیقی اظہار سے زمین ہموار کر دی ہے۔
حافظ کرناٹکی ادب اطفال کے معمار تصور کیے جاتے ہیں اور اس بات میں کوئی دورائی بھی نہیں ہے۔انھوں نے بچوں کے لیے بچوں ہی کی زبان میں نظمیں کہی ہیں، غزلیں کہی ہیں،رباعیاں کہی ہیں اورمضامین لکھے ہیں ۔حافظ کرناٹکی نظمیں ہوں یا غزلیں، رباعیاں ہوں یا قطعات ،مضامین ہوں یا رسالے،بچوں کو حرارت اورتوانائی عطا کرتے ہیں۔حافظ کرناٹکی کی تخلیقات سے بچوں کے ذہنوں کی آبیاری اور خوب نشوونما ہو تی ہے۔بچوں پر لکھتے وقت حافظ صاحب اپنا خون جلاتے ہیں، شب بیداری کرتے ہیں۔کیسے ان کے بچوں کو بال و پر عطا ہو ،دن رات اسی سوچ میں محو رہتے ہیں۔حافظ صاحب کو بچوں کا شاعر کہنا میرے خیال سے زیادہ مناسب رہے گا۔انھوں نے بچوں کے لیے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔جن میں”معصوم ترانے“، ”مہکتی کلیاں“، ”گلشن گلشن شبنم شبنم“، ”زمزمے“، ”ستارے“، ”ہندوستان“، ”معصوم غزلیں“، ”بچوں کی غزلیں“، شاخِ نہال“، ”بچوں کی بیت بازی“ وغیرہ شامل ہیں۔آپ ان کی سوانحی کوائف کو بغور دیکھیں ،انداز ہوجائے گا۔افسوس اس بات کا ہے کہ اس صدی میں بھی بچوں کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔جب کہ یہی بچے کل کے محافظ ہوں گے، قلم کار ہوں گے، سائنس داں ہوں گے ،استاد ہوں گے۔حافظ کرناٹکی اپنی تخلیقات سے بچوں کی جس قدر ذہنی پرورش کر رہے ہیں،وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔چاچا نہرو بچوں سے صرف پیار کرتے تھے لیکن حافظ صاحب بچوں پر اپنی جان بھی نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔کیونکہ انھیں بخوبی علم ہے کہ یہی بچے ہماری بڑی میراث ہے۔ یہی وصف ہمیں ان کی تخلیقات میں نظر آتا ہے۔بچوں پر لکھی گئی ان کی تحریریں بہت جاندار اور تہہ دار ہوتی ہیںجو بچوں کو حوصلہ اور جذبہ عطا کرتی ہیں،زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں، زندگی کی قدروقیمت بتاتی ہیں، بڑوں کی عزت کرنا سکھاتی ہیں، ذوق و شوق کو پروان چڑھاتی ہیں، فکر اور تخئیل کو معنویت بخشتی ہیں، حلال اور حرام میں فرق کرنا سکھاتی ہیں۔ بچوں پر لکھی گئی ان کی تحریروںمیں علم و عمل کی پاسداری ہے،رشتوں کی پہچان ہے،والدین کی اہمیت ہے،اچھے برے کی تمیز ہے،دوستوں کی قدر ہے،بڑوں کے لیے عزت ہے،وقت کی اہمیت ہے ، سچ اور جھوٹ کا فرق ہے وغیرہ۔
حافظ کرناٹکی نے اردو غزل گوئی کو بھی ایک اعتبار بخشا ہے۔ان کی غزلیں معاصر غزل گوشعرا کے ہم پلہ رکھی جا سکتی ہیں۔حافظ کرناٹکی رباعی کے ساتھ ساتھ غزلیں بھی کہتے رہے ہیں۔انھوں نے اردوغزل کی بھی خوب آبیاری کی ہے۔ ان کی غزلوں کا حال ہی میں ایک مجموعہ” غزل ساز “شائع ہو کر منظر عام پر آیا ہے۔حافظ کرناٹکی کی غزلیں سادگی اور دلنشینی کی اعلیٰ مثال ہے۔ حافظ کرناٹکی نے زندگی کے مختلف النوع موضوعات کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے۔غزل ساز کا ایک شعر پیش خدمت ہے:
یہ تاج ہی تو ہے کوئی دستار تو نہیں
اس کو کسی فقیر کی ٹھوکر میں ڈال دے
حافظ کرناٹکی کی غزلوں سے زندگی کا کوئی موضوع پوشیدہ نہیں۔ان میں جدت اور تخئیل کی کارفرمائی پائی جا تی ہے۔حافظ کی غزلیں موجودہ حالات و واقعات کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی غزلیں انسان کو باور کراتی ہیں کہ وہ زمین سے جڑا ہے اوراس حقیقت سے مکرنا اس کے لیے زیاں کا سودا ہے۔حافظ کرناٹکی نے اپنے زرخیز تخلیقی ذہن سے اردو غزل کومعنی خیزوسعت بخشی ہے۔موصوف خوبصورت استعارات، تشبیہات اور قرآنی تلمیحات کے استعمال سے غزل کو بہترین انداز سے آراستہ کرتے ہیں۔حافظ کرناٹکی کی غزلیں اردو شاعری میں ایک خوشگوار فضا کی آمد کا اعلان کہی جا سکتی ہےں۔
امجد حسین المتخلص حافظ کرناٹکی عروض شناس ہیں۔آپ ان کی رباعیوں کا تجزیہ کر کے دیکھیں یا ان کی غزلوں کو عروض کے پیمانے میں ٹٹول کردیکھیں، ان کی نظمیں ہوں یا قطعات،ان میں عروض کی پابندی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔بعض عروض داں شاعر اپنی عروض دانی سے شعر کو پیچیدہ اور معنی کو گنجلک کر دیتے ہیں ۔چنانچہ حافظ صاحب اس فن میں بھی یکتا نظر آتے ہیں۔ موصوف شاعر ایسے قافیے اور ردیف تراشتے ہیں جن سے شعر کا حسن دوبالا اور اس کی معنویت میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔
امجد حسین نے بچوں کے لیے بہت سے معنی افروز مضامین بھی لکھے ہیں۔ جہاں وہ اپنی شعری تخلیقات سے بچوں کی ذہنی نشوونماکرتے رہے ، وہیں وہ وقتاً فوقتاً ایسے مضامین بھی رقم کرتے رہے جن سے بچوںکو پرواز حاصل ہو۔ان مضامین میں انھوں نے بچوں کی ہمت و شجاعت، دلیری و بے باکی، سچائی و ایمانداری،تعلیم کی اہمیت،عزت و حُرمت کی باتوں پر زور دیا ہے۔”صد رنگ مضامین“ اور ”سب رنگ مضامین“ اور خوئے مطالعہ“ وغیرہ کتابیں بچوں پر لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہیں۔حافظ کے مضامین فکر اور تخئیل سے معمور ہیں۔
حافظ کرناٹکی ایک اچھے صحافی بھی ہیںانھوں نے کئی رسالے بھی نکالے ،جن میں عموماً بچوں کی طبیعت کا خاص خیال رکھا جاتا۔حافظ صاحب ایک بہترین منتظم ہیں۔ ان کی سرپرستی میں فی الوقت کئی مدرسوں میں تعلیم و تدریس کااہتمام ہو رہا ہے۔الغرض حافظ کرناٹکی کی دانائی و بینائی کا راقم کی اس مختصر تحریر سے قارئین کو اندازہ ہوگیا ہوگاکہ حافظ صاحب ایک ایسی ادبی شخصیت کا نام ہے جو علم کے سمندر میں غوط زنی کرکے آیا ہے ،ایک ایسا نام جو ہمیںہمیشہ مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

صادق کے تجرباتی افسانے… غلام نبی کمار

صادق کے تجرباتی افسانے غلام نبی کمار                 اردو ادب کا شاید ہی کوئی قاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے