سر ورق / کہانی / منا لینا … عشناء کوثر سردار … دوسری اور آخری قسط

منا لینا … عشناء کوثر سردار … دوسری اور آخری قسط

منا لینا

عشناء کوثر سردار

دوسری اور آخری قسط

ایلیا میر Bnden Burg Gate پر تھی شام کی روشنی میں سارا ماحول جیسے سنہری کرنوں کی لپیٹ میں تھا۔ اسے خبر نہیں ہوئی تھی وہ کب اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا، وہ عجیب دیوانگی آنکھوں میںلیے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ برینڈن برگ گیٹ سے ٹکرا کر منعکس ہونے والی روشنی جیسے ساری کی ساری اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ نظروں میں نہ کوئی شکایت، نہ کوئی شکوہ، نہ سوال تھا۔ وہ عجیب بے تاثر سی لگ رہی تھی۔

”ایلیا ہ میر! اتنے دن سے تم میرا سامنا کیوں نہیں کر رہی تھیں؟ اس میں کیا اسرار ہے؟ تمہیں لگتا ہے میں تمہارے چہرے سے سب راز چرالوں گا؟ تمہارے دل کو سب اگلنے پر مجبور کر دوں گا؟ یا پھر تمہیں خود پر کنٹرول نہیں رہے گا؟ کس بات کا خوف ہے ایلیاہ شہاب میر؟“ وہ اس کی سمت بغور دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور وہ اس لمحے میں کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی۔ تبھی فوراً بولی۔

”مجھے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اشعال حیدر! تم نے جو پوچھا تھا میں نے اس کا جواب تمہیں دے دیا تھا اسی روز…. اور اس کے لیے ہمارے درمیان کچھ بھی ڈسکس کرنے لائق ہے نہیں۔ ہم اچھے دوست تھے اشعال حیدر! میں چاہتی ہوں وہی تاثر باقی رہے۔ اگر کل کہیں اتفاق سے سر راہ یا کہیں دانستہ ہم ملیں تو ہم میں وہ مروت باقی رہے۔ رشتوں میں مروت رہنا ضروری ہے۔ یہ اسلوب تمہیں آنا چاہئیں اشعال حیدر…. اگر نہیں آتے تو سیکھ لو۔ جو رشتہ تھا ہم میں وہ اسی طور باقی رکھنا چاہتی ہوں۔ تمہارے لیے یہی کافی ہونا چاہیے کہ میں وہ رشتہ ختم نہیں کر رہی۔ ہم آج بھی ملے ہیں تو وہ ایک تاثر باقی رہنا چاہیے۔ میں کوشش کر رہی ہوں تم سے رواداری برتنے کی۔ میانہ روی رکھنے کی، کب…. کہاں…. کیا ہوا میں کچھ یاد نہیں کرنا چاہتی، نہ ہی میں تم سے کوئی نیا رشتہ استوار کرنا چاہتی ہوں۔“ وہ صاف گوئی سے کہہ رہی تھی۔ و ہ بغور تکتا ہوا مسکرا دیا۔

”تمہاری آنکھوں سے روشنی پھوٹ رہی ہے ایلیاہ میر! جو میری روح میں جذب ہو رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ تم جو سب کہہ رہی ہو اس کی حقیقت کچھ نہیں…. خود سے جھوٹ بولنے کی مشق کرنا چاہیے تھی تمہیں، شاید کوئی فیور مل جاتی۔ مگر تمہاری آنکھیں تمہارے خلاف بول رہی ہیں۔ خود کو روکنے سے پہلے اپنی ان آنکھوں کو منع کرو کہ مجھ سے راز کی باتیں نہ کہیں۔ تمہاری قلعی کھل رہی ہے۔ تمہیں خود کو مضبوط کھڑا کرنے کا خبط ہے اور اس کے لیے چاہے سب ڈھے جائے۔“

”ہاں ہے مجھے خبط تو پھر…. تم کیا کر رہے ہو اشعال حیدر؟ ایک رشتہ نہیں بن سکا سو تم کہیں اور ٹرائی کرنے آ گئے۔ دانیہ خان نے ٹھکرا دیا تمہیں اور تمہیں میری یاد آ گئی۔ کیا سمجھتے ہو میری تلاش میں نکل کر کوئی احسان کیا تم نے؟ اتنی بے وقوف نہیں ہوں اب یہ بھی نہ جان پاﺅں کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ انگلینڈمیں ہزاروں کمپنیز چھوڑ کر تمہیں یہاں برلن میں ہی انویسٹمنٹ کرنا یاد کیوں آئی؟ تم جانتے تھے میں یہاں ہوں۔ دانیہ خان نے بتایا تھا نا تمہیں؟“ وہ جیسے ہر بات کھل کر کرنا چاہتی تھی، تبھی پُراعتماد انداز سے بول رہی تھی۔

”ہاں بتایا تھا، دانیہ خان نے…. میں نے خود پوچھا تھا اس سے۔“ وہ صاف گوئی سے بولا۔

”دانیہ نے مجھے نہیں ٹھکرایا…. میں نے اسے شادی کے لیے منع کیا تھا۔ مجھے اس کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا تھی۔ میرا حق ہے اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے لینے کا۔ اگر اسے انکار کیا تو یا غلط کیا؟“ وہ بنا کمزور پڑے مضبوط لہجے میںبولا تھا۔

”جھوٹ کہہ رہے ہو تم اشعال حیدر! محبت کرتے تھے تم اس سے، پاگل تھے اس کے عشق میں۔ اس روز تم نے ہی بتایا تھا نا کہ اس کی رنگ اصلی تھی، جو اس نے سوئمنگ پول کے پانی میں اُچھا ل دی تھی اور جسے نکالنے کے لیے تم نے سخت خنک موسم میںبنا سوچے سمجھے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی؟ فکر تمہیں اس ڈائمنڈ رنگ کی نہیں تھی اشعال حیدر! تمہیں فکر اس رشتے کی تھی، اس ایک رشتے کو بچانا چاہتے تھے تم جو تمہارے اور دانیہ خان کے درمیان تھا۔ تم اس سردی میں کپکپاتے ہوئے اس پول کے پانی سے باہر آئے تھے تو وہ رنگ تمہارے ہاتھ میں تھی اور تم کن نظروں سے دانیہ خان کو دیکھ رہے تھے جیسے ا س سے درخواست کر رہے ہو کہ اس رشتے کو بچا لو۔ اسی شام تم نے وہ رنگ دانیہ خان کی انگلی میں واپس پہنائی تھی اشعال حیدر! صرف اس رشتے کو بچانے کے لیے تم دانیہ خان کے سامنے سرنگوں ہوئے تھے اور کیا جتانا چاہتے ہو تم؟ میں اس لمحے وہاں موجود تھی خود دیکھا تھا میں نے تمہاری آنکھوں میں اس کے لیے کتنی محبت تھی، اور….!“ وہ روانی سے بول رہی تھی۔

”اور تمہیں وہ سب اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ محبت اچھی نہیں لگی تھی؟ کیونکہ وہ دانیہ خان کے لیے تھی؟ اگر تمہارے لیے ہوتی تو؟“ ڈھلتے سورج کی کرنوں کے سنہری رنگ اس کے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھے جب وہ اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے بولا اور وہ خاموشی سے دیکھنے لگی تھی۔ پورے ماحول میں جیسے ایک سکوت سا چھا گیا تھا۔ تبھی وہ آہستگی سے بولا تھا۔

”مجھے کچھ جتانے کی ضرورت نہیں پڑی ایلیاہ میر! تم نے خود کہہ دیا، تمہیں اس لمحے وہ محبت اچھی نہیں لگی تھی کیونکہ وہ تمہارے لیے نہیں تھی؟ اور اگر میںکہوں کہ تمہیں حسد تھا یا وہ جلن تھی۔“ وہ منوانے پر تلا تھا۔

”نہیں….!“ وہ روانی سے بولی۔ ”میں نے کبھی حسد نہیں کیا…. اور مجھے ضرورت بھی کیا تھی، کیوں جیلسی فیل کرتی میں؟“ وہ اپنا اعتماد بحال رکھنا چاہتی تھی۔ کسی کمزور لمحے کی گرفت میں آنا نہیں چاہتی تھی۔ مگر وہ اشعال حیدر کی نظروں کی گرفت میں تھی، تبھی اسے صفائیاں دینے کی ضرورت تھی شاید۔

”تم ہمیشہ غلط سوچتے آئے ہو اشعال حیدر! کھیل کھیلنا بہت پسند رہا ہے تمہیں، جال بننے میں ماہر ہو تم، مان لو کہ بچپنا بہت زیادہ رہا ہے تم میں اور اسی بچپنے نے تمہیں وہ کھیل کھیلنے پر مجبور کیا۔ اپنی دوست کا مذاق بنایا تم نے۔ خود ہنسے اور دنیا کو بھی موقع دیا۔ تمہیں تو اتنا بھی سینس نہیں تھا کہ دوستی کے کیا تقاضے ہوتے ہیں۔ کسی اور رشتے کو کیا سمجھو گے تم….اس روز جب تم یہ ثابت کرنے کے جتن کر رہے تھے کہ میں تمہاری محبت میں پاگل ہوں اس شام ہی میں نے تمہیں جان لیا تھا، اس سے پہلے بیوقوف تھی۔ تم پر اعتبار کرتی تھی، تمہیں اپنا اچھا دوست سمجھتی تھی، مگر….! تم دوستی کے بھی لائق نہیں تھے ۔ محبت تو بہت دور کی بات تھی۔“ وہ کھردرے لہجے میں بول رہی تھی۔ مگر وہ پُرسکون انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔

”وضاحتیں دلیلوں کو اور بھی کمزور کرتی ہیں ایلیاہ میر! مجھے کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، ہاں میں نان سیریس تھا۔ نہیں سمجھتا تھا رشتوں کو ان کی امپورٹنس کو، مگر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اور….!“

”اور کچھ نہیں اشعال حیدر…. وہ رشتہ ختم ہو گیا، دوستی تھی تو کالعدم ہو گئی…. اور اگر….!“

”محبت تھی تو….؟“ اشعال حیدر اس کی بات کاٹ کر بولا۔ وہ چپ ہو گئی تھی۔ پھر اعتماد کے ساتھ بہت آہستگی سے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔

”محبت نہیں تھی اشعال حیدر…. محبت کبھی نہیں ہوئی! اور ہو گی بھی نہیں۔“ وہ پُریقین اور پُراعتماد انداز میں کہہ کر پلٹی تھی جب اشعال حیدر نے اسے فوراً کلائی سے پکڑ کراپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ اس کے سینے سے آن ٹکرائی تھی۔ لمحہ بھر کو کچھ سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ آنکھیں بند کرتی تیز تیز سانسیں لیتی رہی تھی۔ وہ شاید بہت تھک گئی تھی۔سستا رہی تھی۔ کوئی تھکن اُتار رہی تھی یا کوئی غصہ…. یا پھر یہ کوئی وقتی بہاﺅ تھا۔ اشعال حیدر کی دھڑکنوں کو اپنی سماعت میں سنتے ہوئے اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں اور سر اٹھا کر اشعال حیدر کو دیکھا وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔

”یہ سفر…. یہ جنوں سب تمہارے لیے ہے ایلیاہ میر!“ اس نے مدھم سی سرگوشی اس کی سماعتوں کی نذر کی…. وہ سر اٹھائے اسے ساکت سی دیکھنے لگی تھی۔

”مان لو میں نے تمہاری سمت، تمہارے لیے تمام سفر کیا۔ اس سفر میں کوئی اور شریک نہیں تھا۔ بس تم تھیں اور میں تھا۔ اور جب تم نہیں تھیں تو صرف میں تھا اور میرا جنوں تھا اور جنوں اُکساتا رہا تھا، تمہاری جانب سفر کرنے پر اُکساتا رہا تھا۔ تمہاری طرف دھکیلتا رہا تھا۔ تم میرے اردگرد دائرہ بنا آئی تھیں جیسے…. میں اسی احاطے میں سرگرداں تمہارا تعاقب کرتا رہا…. بس یہی اور کچھ نہیں….“ وہ مدھم سرگوشیاں کر رہا تھا اس کی سماعتوں میں…. ایلیاہ میر کو اس کے لب اپنے بالوں پر ہلتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اور اس کی دھڑکنوں کا شور خود اس کی سماعتوں میں تھا۔ اتنا سکوت اور کتنا شور…. اس نے ایسے لمحے کو پہلے نہیں جیا تھا۔ ایسے تجربات سے پہلے نہیں گزری تھی۔

”تم سے محبت ہے ایلیاہ میر! اس شام بھی میں دانیہ خان سے محبت جتانے کے لیے نہیں کودا تھا پول کے سرد پانی میں، میں تمہاری آنکھوں میں کچھ ڈھونڈتارہا تھا۔ تمہاری نظروں میں صرف سردپن تھا۔ میرے اندر الاﺅ دہک رہے تھے۔ میں شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔ جل رہا تھا، مگر تمہیں انداز ہ بھی نہیں تھا۔ تم نے سمت بدل لی تھی۔ انگیجمنٹ کر لی تھی…. اور میں کہیں خود سے بچھڑ گیا تھا۔ بس یہی ہوا تھا اور اس کے بعد سکوت تھا ۔ محبت نہیں رہی تھی۔ مگر ہر طرف تھی، جابجا بکھری تمہاری محبت…. میری محبت اور ان سب سمتوں میں سے ہزار سمتیں نکل کر تمہاری طرف جاتی تھیں۔ ہر طرف…. ہر سمت…. بس محبت تھی اور تم….! تم نے مجھے کسی اور طرف دیکھنے نہیں دیا ایلیاہ میر! میرے لیے وہ شام ادراک کی تھی جب تمہاری آنکھوں میں آنسو تیرتے دیکھے تھے، جب سب ہنس رہے تھے وہاں تھیٹر میں، اس شام…. جب تم نے کہا کہ تمہیں محبت نہیں…. اس شام…. میرے اندر محبت نے ہر سو اپنا پڑاﺅ ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد میں سب پریٹنڈ کرتا رہا، حیلے بہانوں سے خود سے الجھتا رہا۔ میرے لیے یہ کھیل کھیل نہیں رہا تھا۔ تمہیں ہرٹ کرنے کے بعد…. تمہارا مذاق بنانے کے بعد تم سے کبھی کچھ نہیں کہہ پایا مگر تم میرے چار سو ہی تھیں۔“وہ مدھم لہجے میں سرگوشیاں کررہا تھا، جب وہ یکدم اس سے دور ہوئی تھی۔ اسے بغور تکتی ہوئی اس سے چند قدم تفاوت پر کھڑی ہوئی تھی…. آہستگی سے سر انکار میں ہلایا تھا…. شاید اس کی آنکھوں میں نمی بھی تیر رہی تھی، مگر وہ فوراً پلٹی اور چلتی ہوئی وہاں سے نکل گئی تھی۔ وہ وہیں کھڑا اسے جاتادیکھتا رہا تھا۔

٭….٭….٭

”میں نہیں جانتی تم دونوں کے بیچ کیا ہوا…. مگر ایلیاہ ایسی لڑکی نہیں جو معمولی باتوں کو دل میں جگہ دے۔ تم جانتے ہو اس نے اپنی منگنی کس لیے توڑی تھی؟“ نانو نے کافی کا سپ لیتے ہوئے اسے دیکھا۔ اشعال حیدر سر انکار میں ہلانے لگا تھا۔ تبھی نانو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولیں۔

”کالج کے شاید کسی فرینڈ نے شرارت میںکوئی ویڈیو کلپ اَپ لوڈ کر دیا تھا اور ایلیاہ کوٹیگ بھی کر دیا تھا۔ وہ ویڈیو حارث نے دیکھ لیا تھا۔ وہ شاید اس کا انتظاربھی کرتا مگر اس واقعے کے بعد شاید دوریاں بڑھ گئیں اور سچوئیشن اتنی اختیار سے باہر ہوئی کہ ایلیاہ نے منگنی کی انگوٹھی اُتار کر حارث کے ہاتھ میں رکھ دی۔ ایلیاہ میں برداشت کرنے کی ہمت اور صلاحیت بہت زیادہ ہے، مگر کچھ چیزیںبرداشت سے باہر ہوتی ہیںشاید…. اس کے بعد ایلیاہ نے کبھی اپنی زندگی کے بارے میں نہیں سوچا۔ نہ پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ حالانکہ حارث نے کئی بار معافی مانگی، رابطہ کیا، تعلقات بحال کرنے کی درخواست کی، مگر ایلیاہ کے نسوانی وقار اور اَنا پر بہت بڑی چوٹ تھی جیسے اعتبار ٹوٹا تھا اور اس کے بعد رشتہ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ ایلیاہ نے تینو ںبہنوں کی شادیاں کی تھیں، انہیں اپنے گھروں کا کیا تھا، اب بھی حارث فون کرتا ہے۔ تبھی تو ایلیاہ اَپ سیٹ ہو جاتی ہے۔“ نانو نے بتایا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

”تمہیں کیا ہوا؟“

”نانو! مجھ سے زیادہ بے وقوف شخص دنیا میں نہیں ہو گا شاید، ایلیاہ کو میری وجہ سے میری چھوٹی سی شرارت کی وجہ سے اتنا سفر کرنا پڑے گا، یہ تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ نانو! تھیٹر میں ڈرامہ کی ریہرسل تھی اور میں نے اور اسمارٹ بنتے ہوئے یوں ایک شرارت کر دی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا ایلیاہ اتنی ہرٹ ہو گی اور کوئی ہمارے ہی ٹولے کا ایڈیٹ اسے سوشل نیٹ ورک پر اَپ لوڈ بھی کر دے گا۔ سوچو تو اچھا نہیں ہوا۔ ایلیاہ کی منگنی ختم ہو گئی، مگر ایک طرح سے یہ میرے حق میں اچھا ہوا…. اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا، اس ویڈیو کلپ اَپ لوڈ کرنے اور ٹیگ کرنے والے کو تھینکس کہوں یا اس کو ڈھونڈوں اور اس کی کلاس لوں۔“ وہ عجیب شش و پنج میں دکھائی دیا تھا۔ مگر ایسا کرتے ہوئے وہ بہت معصوم لگا تھا۔ نانو نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی۔

”میں اندازہ نہیں لگا پا رہی کہ تم نے ٹھیک کیا یا غلط مگر مجھے لگتا ہے جو ہوتاہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ کی مرضی اسی میں تھی۔ اگر تمہیں ایلیاہ سے سچ میں کوئی اُنسیت ہے تو اس کا اعتماد بحال کرو، وہ بہت حساس ہے، کہنے کو وہ مذاق تھا مگر اس کے اثرات گہرے تھے۔ اس کی رسپیکٹ کو دھچکا لگاتھا، تمہارے لیے اسے جتانا ضروری ہے کہ اس کی عزت و وقار، اَنا تمہارے لیے اہم ہے، تم اس سب کی عزت کرتے ہو، لڑکیا ںحساس ہوتی ہیں۔ ان کی فیلنگز کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔“ نانو نے پیار سے سمجھایا۔

”مگر میں کیا کروں نانو! آپ کی اس پیاری، چہیتی نواسی نے مجھے ریجیکٹ کر دیا ہے، صاف انکار کیا ہے منہ پر۔ اس کے بعد کیا صورتحال نکل سکتی ہے؟“ وہ خاموش ہو کر نانو کی طرف دیکھنے لگا تھا۔ اس کی آنکھوں کی بے چینی حد سے سوا تھی۔ نانو نے اس کا شانہ تھپتھپایا، تبھی وہ بولا تھا۔

”میں خالی ہاتھ لوٹنے کے لیے نہیں آیانانو! غلطیوں کو سدھارا جا سکتا ہے اور میں اپنی کوتاہیوں پر پشیمان ہوں اور پورے دل سے چیزوں کو بنانے کی ٹھان کر آیا ہوں۔ میں تھکوں گانہیں نہ پیچھے ہٹوں گا۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولا اور نانو نے تائید میں سر ہلایا تھا۔

٭….٭….٭

وہ عزم کر کے آیا تھا مگر شاید اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ایلیاہ میر کی خاموشی اسے پسپا کرنے کے درپے تھی۔ اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا، مگر اس روز وہ اسے حارث کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ وہ ریسٹورنٹ میں کونے کی ٹیبل پر اس کے سامنے بیٹھی تھی اور حارث جانے کیا کہہ رہا تھا کہ وہ ہنس رہی تھی۔ مگر اس ہنسی سے اس کے چہرے پر کوئی طمانیت نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں کیا تھا کہ اشعال حیدر کواپنے اردگرد شور سنائی دیا تھا، عین اسی لمحے ایلیاہ میر کی نگاہ اس پر پڑی اور وہ بدستور ساکت کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ ایلیاہ میر لب بھینچ کر اس کی طرف سے نگاہ پھیر گئی تھی اور اشعال حیدر کے اندر یہاں وہاں دور تک وسوسے پھیلنے لگے تھے۔ ایک اضطرابی کیفیت نے سب اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور وہ پلٹ کر چلتا ہوا باہر نکل آیا تھا۔ اس شام بہت دیر تک وہ یونہی چلتا رہا تھا۔ خنکی نسوں میں خون منجمد کر دینے کو تھی۔ مگر اسے جیسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ جانے کب تک یونہی چلتا رہتا کہ اس کا سیل فون بجا تھا۔ ایلیاہ کی ممی کی کال تھی۔

”اشعال بیٹا! کہاں ہو تم؟ تمہاری نانو کی طبیعت اچانک بگڑ گئی ہے۔ ایلیاہ کا نمبرنہیں لگ رہا۔ شاید بیٹری ڈیڈ ہے۔ تم پلیز جلدی سے گھر آﺅ، انہیں ہاسپٹل لے کر جانا پڑے گا۔“ وہ عجلت سے کہہ رہی تھیں اور پھر فون کا سلسلہ مقطع ہو گیا تھا۔ اشعال حیدر نے کیب روکی اور فوراً وہاں پہنچا تھا۔

نانو کا شوگر لیول یکدم ہی بڑھ گیا تھا۔ ان کی حالت غیر تھی۔ اس نے اسی کیب میں اٹھا کر انہیں ڈالا اور بروقت ہاسپٹل پہنچایا تھا اور جب تک نانو کی حالت بہتر نہیں ہوئی وہ وہیں موجود رہاتھا۔ جانے کتنے لمحے گزرے تھے، اشعال حیدر کا دماغ ماﺅف تھا۔نظروں کے سامنے ایلیاہ میر کا چہرہ تھا بس۔ وہ کھلکھلاتا چہرہ، چاہے اس کی ہنسی میں سکوت تھا، مگر وہ کس کے ساتھ تھی اور پیرٹینڈ کر رہی تھی کہ وہ خوش ہے اور اشعال حیدر کے اندر خاموشیاں بڑھنے لگی تھیں۔

ڈاکٹر نے نانو کی حالت خطرے سے باہر قرار دی تھی۔ ان کا شوگر لیول نارمل ہو گیا تھا اور وہ ان کے پاس آ گیا تھا۔ نانو نے اس کاہاتھ تھاما اور مسکرا دی تھیں۔

”کیا ہے نانو؟ اتنی جواں عمری میں ہیں آپ پھر بھی اتنا پریشان کرتی ہیں…. اچھا لگتا ہے آپ کو…. مانا خوبصورت لڑکیوں کا ستانا بھی اچھا لگتا ہے مگر کبھی کبھی جی بہت اوب بھی جاتا ہے۔“ وہ مسکراتا ہوا کہہ رہا تھا اور نانو مسکرا رہی تھیں۔

”ستر برس کی ہو گئی ہوں میں۔ تجھے اب بھی خوبصورت لڑکی لگتی ہوں۔“

”میرے لیے تو آپ ایورگرین رہیں گی نانو۔ سچ میں آپ خوبصورت ہیں۔ یہ آج کل کی لڑکیاں تو بس ڈائٹنگ کی ماری ہوتی ہیں۔ آج کل کی لڑکیوں میں وہ خوبصورتی کہاں؟“ وہ نانو کا موڈ بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تبھی نانو نے پوچھا تھا۔

”ایلیاہ نہیں آئی؟“

”آپ کی نواسی بہت بڑی بزنس ٹائکون بن گئی ہے ، ہو گی بزی موٹی موٹی فائلوں کے ساتھ…. یہ بتائیں کس بات کی ٹینشن لی جو شوگر لیول اس خطرناک حد تک بڑھا لیا؟ مانا خوبصورت لڑکیوں میں ایک چاشنی اور مٹھاس ہونا چاہیے…. مگر اب اتنی بھی نہیں۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔ نانو نے اس کے شولڈر پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔

”مجھے گھر لے چل، ایلیاہ کو دیکھنے کو بہت دل کر رہا ہے۔“ وہ جانے کس سوچ میں تھیں۔ اشعال نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔

”اشعال بیٹا! حارث نے ایلیاہ کو ایک بار پھر پروپوز کیا ہے اور ایلیاہ نے اس کا پروپوزل قبول بھی کر لیا ہے۔ میں جانتی ہوں ایلیاہ یہ سب کیوں کر رہی ہے، مگر یہ ٹھیک نہیں ہے۔“ جب گھر کے راستے میں تھے تبھی نانو نے کہا تھا اور وہ ساکت سا نانو کی طرف دیکھنے لگا تھا۔

”تمہیں یہ ڈر ہے کہ ہار جاﺅ گے؟“ نانو نے اس کو بھانپتے ہوئے کہا۔ اس نے پُرسکون اندازمیں سر انکار میں ہلا دیا۔

”مجھے کوئی ڈر نہیں ہے نانو! نہ ہارنے کا نہ پسپا ہونے کا۔ مجھے یقین ہے ایلیاہ میر آخر میں میرے ساتھ ہو گی۔“ وہ یقین سے کہہ رہ تھا۔

”ایسی غلط فہمی کیوں ہے تمہیں؟ جانتے ہو حارث کی فیملی کل آ رہی ہے اور باقاعدہ پھر سے منگنی کی رسم کی بات چل رہی ہے۔ وہ لوگ جلد رشتہ پھر سے پکا کرنے کے بعد شادی کی بات کرنا چاہیں گے۔ ایلیاہ سے زیادہ اچھی لڑکی انہیںکبھی مل ہی نہیں سکتی۔ اتنے بڑے بزنس اور پراپرٹی کی اکلوتی وارث ہے وہ۔ ایسی لڑکی کون ہاتھ سے جانے دے گا؟ اور یہ حارث تو ہمیشہ کا لالچی ہے، پہلے بھی اس نے رشتہ اسی لیے جوڑا تھا اور پھر ٹوٹنے پر بھی ہمیشہ ایلیاہ کے سر پر مسلط رہا، اور اب آخرکار اس نے اس سے ہاں اگلوا لی، چاہے جیسے بھی۔ مگر ایلیاہ اس رشتے پر رضامند ہے، وجہ کچھ بھی ہو۔ چاہے یہ فیصلہ غلط ہی کیوں نہ ہو، مگر ایلیاہ ضد میں سب کرے گی، میںجانتی ہوں اسے۔“ نانو فکرمندی سے کہہ رہی تھیں، وہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

”اشعال بیٹا! کچھ بھی کرو، مگر یہ سب ہونے سے روک لو۔“ نانو جیسے درخواست کر رہی تھیں۔ اشعال انہیں کوئی تسلی نہیں دے پایا تھا۔ مگر ایک بے چینی اس کے اندر پھیلنے لگی تھی۔

٭….٭….٭

ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ خنکی اور بڑھ گئی تھی مگروہ بہت اطمینان سے داخلی دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھی کافی کے سپ لے رہی تھی۔ وہ خود میں اتنی مگن تھی کہ نہ تو اسے اشعال حیدر کے قدموں کی چاپ سنائی دی نہ اس نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔ وہ اطمینان سے اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔

”ایلیاہ میر! دور جانے کے اور بھی راستے ہوتے ہیں، مگر ضروری نہیں تم آنکھیں بند کر کے جو راہ پہلے قدموں کے سامنے آئے اس پر چلنا شروع کر دو؟“ وہ بولا اور ایلیاہ میر چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ وہ لمحہ بھر کو اس کی سمت خاموشی سے تکتا رہا پھر آہستگی سے بولا۔

”کسی سے دور جانا ہو تو اس کے لیے خودکشی ضروری نہیں، حارث کو چننا بے وقوفی ہے۔ تمہارے جیسی عقل مند لڑکی ایسا فیصلہ لے سکتی ہے، میں سوچنے سے قاصر ہوں۔اگر اس رشتے میںکوئی صداقت ہوتی تو وہ اس طرح ختم نہیں ہوتا۔ جو رشتے دل سے بنتے ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ پھر کوئی دور جائے یا پاس چلا آئے۔ چاہے صدیوں کی دوری آ جائے، یا میلوں کی تفاوت، دل سے دل ملے رہتے ہیں۔ یہ بات تمہیں جتانے کی ضرورت نہیں پڑنا چاہیے۔“ وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ٹھہراﺅ تھا اور آنکھوں میں ایک جنوں، مگر سب سے بڑھ کر جو تھا وہ اس کا اعتماد تھا اور اس کا ٹھہراﺅ…. جیسے اسے کوئی فکر نہیں،نہ کوئی ڈر…. اور ایلیاہ میر کو یہ بات بہت کھلی تھی تبھی وہ سکون سے مسکرائی تھی۔

”تمہیں خوشی نہیں ہوئی اشعال حیدر؟ حارث آفندی ہر طرح سے ایک پرفیکٹ میچ ہے۔ لونگ اور کیئرنگ ہے، تمہیں معلوم ہے میرے سر میں درد تھا اور وہ اپنی اہم ترین میٹنگز کینسل کر کے آ گیا اور مجھے چائے پر لے گیا۔ وہ اتنا خیال کرتاہے میرا اور….!“ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

”اور تمہیں اس سے محبت نہیں ہے ایلیاہ میر! خود کو اس غلط فہمی سے باہر نکالو اور سچ کا سامنا کرنا سیکھو۔ اگر وہ رشتہ اتنا پائیدار ہوتا تو ختم نہیں ہوتا۔ جو چیزیں اس طرح ختم ہو جائیں ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی۔ وہ رشتہ اتنا ہی بے معنی ہے۔“ وہ اطمینان سے بولاتھا۔ جانے کیا جتانا چاہتا تھا وہ اسے مگر وہ پُرسکون انداز سے مسکرائی اور اپنا ہاتھ پھیلا کر اس کے سامنے کر دیا تھا۔ اس کی تیسری انگلی میں ایک جگمگاتی رنگ تھی۔

”یہ کل پہنائی اس نے مجھے۔ میں خوش ہوں اشعال حیدر….! تم اچھے دوست ہو میرے میں چاہتی ہوں تم تب تک یہاں رکو جب تک میری منگنی کی رسم نہ ہو جائے۔“ وہ اس کی پُرسکون دنیا کو جیسے تہس نہس کر دینا چاہتی تھی۔

تبھی اشعال حیدر نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھاما اور بغور دیکھتے ہوئے آہستگی سے بولا۔

”تم چاہے کتنے بھی طوفان لے آﺅ، کتنے بھی حیلے بہانے کر لو، چاہے ہواﺅں کے رُخ بدل دو، تم اپنی محبت کو میری طرف قطرہ قطرہ بہنے سے نہیں روک سکتیں۔ یہ بہاﺅ مسلسل ہے ایلیاہ میر! اور تمہارے اختیار سے باہر ہے۔ اس پر قابو پانا اور فصیلیں اٹھانا، تم محبت کو میرے مخالف سمت چلنے پر مجبور نہیں کر سکتیں نہ اپنے دل کو میرے خلاف کر سکتی ہو۔“ وہ پُراعتماد دکھائی دیاتھا۔

ایلیاہ میر ساکت سی اس کی سمت تکنے لگی تھی پھر اچانک اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ یوں کھینچ لیا جیسے وہ انگاروں کی لپیٹ میں ہو۔

”ان آنکھوں کی خاموشیاں صرف میں پڑھ سکتا ہوں ایلیاہ میر! چاہے تم چہرہ پھیر لو، یا اپنی آنکھیں مجھ سے میری سمت سے غافل کر لو، چاہے یہ آنکھیں مجھے دیکھیں یا بے خبر ہو جائیں مجھ سے ان کا واسطہ ختم نہیں ہوتا، نہ وہ ربط ٹوٹتا ہے۔ تم جانتی ہو یہ ربط کیا ہے؟ یہ محبت ہے ایلیاہ میر! تم مانو یا نہ مانو، مگر تمہارے میرے درمیان محبت کا ایک ربط ہے اور فاصلوں کو ہمیشہ محدود کرتی آئی ہے۔ چاہے تم اس ربط کو توڑنے کی کتنی بھی کوشش کرو یہ ربط ٹوٹتا نہیں، نہ وہ تسلسل ختم ہوتا ہے۔“ وہ جیسے اسے کمزور کر رہا تھا، مگر وہ مسکرا دی تھی۔

”تم خوابوں کی دنیا میں رہتے ہو اشعال حیدر! اگر خود نہیں رہتے تو بھی تمہیں لڑکیوں کو اس خوبصورت دنیا میں لے جانا، وہاں کی سیر کرانا بہت اچھا لگتا ہے، تمہیں اچھا لگتا ہے جب بہت سی نظریں تمہارے زاویے سے دیکھتی ہیں، تمہارے نظریے سے سوچتی ہیں اور تمہاری دنیا میں تمہارے وجود کا تعاقب کرتی ہیں۔ وہ لمحہ تمہارے لیے بھرپور ہوتا ہے، بے پناہ خوشی کا؟“ وہ اس کی سمت تکتی ہوئی مسکرائی تھی۔ پھر اسی اعتماد سے سر نفی میں ہلانے لگی تھی۔

”اشعال حیدر‘ میں ان بے وقوف لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو تمہاری دنیا میں تمہارا تعاقب کرتے کرتے گم ہو جائیں اور تم ان کا تذکرہ کل بیٹھ کر اپنے انتہائی فضول سے دوستوں میں کرو، ہنسو اور مذاق اُڑاﺅ۔ یہی کرتے آئے ہو نا تم اب تک؟ تمہیں تو اتنا بھی اندازہ نہیں کہ وقت کتنا گزر گیا اور اب تمہارے یہ سارے اسم کارگر نہیں رہے…. کم از کم میں کھلی آنکھوں سے تمہاری بنائی گئی دنیا کی سچائی ضرور دیکھ سکتی ہوں۔ مجھے تمہارے بنائے گئے حیرت کدے میں نہیں رہنا۔ نہ اس جادوئی دنیا کی سیر کرنی ہے، میرا ہاتھ پکڑ کر اس جادوئی دنیا میں لے جانے کی کوشش مت کرو اشعال حیدر! تمہاری کی جانے والی ہر کوشش عبث ہو گی۔ کیونکہ میں خوابوں کی زندگی نہیں جیتی…. نہ مجھے تمہاری باتوں کا طلسم پاگل کرتا ہے نہ تمہارا چارم مجھے یا میری عقل کو اندھا کرتا ہے۔ میرے ساتھ یہ کھیل کھیلنا بند کرو….“ وہ جتاتے ہوئے بولی مگر اشعال حیدر اطمینان سے مسکرا رہا تھا۔

”تم کچھ بھی کہو ایلیا میر! تمہاری آنکھوں کو تمہاری مخالفت کی عادت ہو گئی ہے۔ تمہیں خبربھی نہیں اور یہ آنکھیں مجھے چپکے چپکے بتا رہی ہیں کہ ان کی روشنی میری تلاش میں سرگرداں رہی ہے۔ تب بھی میںپاس تھا اور تب بھی میں کہیں نہیں تھا۔ یہ روشنی مجھے تلاشتی رہی تھی۔ایک پل میںاب بھی اس کی حقیقت کھل جائے گی، اگر میں ان نظروں کے سامنے سے اوجھل ہو جاﺅں، یہ روشنی ایک لمحے کو بھی اگر مجھے نہیں دیکھے گی تو اندھیرے نگلنے لگیں گے اسے۔ تجربات کر کے سیکھنا بیوقوفی ہو سکتا ہے ایلیاہ میر! اس روشنی کو اپنے اندر دفن مت کرو…. کیونکہ میں تمہیں ان اندھیروں کے حوالے نہیں کر سکوں گا۔ میں چاہتا ہوں یہ روشنی بڑھتی رہے اور تمہارا وجود روشن رہے۔ یہ روشنی محبت کی ہے ایلیاہ میر! کتنے جتن کرو گی، کتنی تدبیریں…. اور اگر بہت اعداد و شمار کر کے آخر میں خسارہ رہا تو تم کسے الزام دو گی؟ اس کے لیے قصوروار کسے ٹھہراﺅ گی؟“ وہ اس کے اندر کا سکون متزلزل کر رہا تھا۔

ایلیاہ میر اس کی سمت خاموشی سے دیکھتی رہی تھی۔ ان آنکھوں میں بے چینی تیر رہی تھی مگر اس سے بھی کہیں زیادہ سکوت تھا اور اس سکوت میں محبت تھی۔ بیاں اور لابیانی کے درمیان، محبت خاموش کھڑی تھی۔ اگر کچھ تھا بھی تو ایلیاہ میر اس کی نفی کرنا چاہتی تھی۔

”رات دانیہ خان سے بات ہوئی تھی اشعال حیدر! اس کی شادی ختم ہو گئی ہے۔ تمہارا ذکر متواتر کر رہی تھی وہ، بہت دکھی ہے وہ، رشتے ٹوٹنے کی چبھن بہت جان لیوا ہوتی ہے شاید۔ وہ بہت بکھری دکھائی دے رہی تھی۔ ہم نے ایک گھنٹے تک بات کی، میں نے اسے حوصلہ دیا۔ مگر وہ تمہارا پوچھتی رہی، تمہیں اس سے بات کرنا چاہی اشعال حیدر! اس نے خود کہا کہ وہ تم سے بات کرنا چاہتی ہے، آج کل میامی میں ہے۔“ وہ ہمدردی جتاتی ہوئی بولی تو وہ جانے کیوں مسکرا دیا تھا۔

ایلیاہ میر حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔ اشعال حیدر نے شہادت کی انگلی اس کے دل پر رکھی پھر مدھم سرگوشی میں بولا تھا۔

”تم یہاں سے آنے والی آوازوں پر کان بند کرنا چاہتی ہو ایلیاہ میر! تم جانتی ہو تم ناکام ہو، مگر تم اس غلطی کو دہراتے رہنا چاہتی ہو۔ مجھے دانیہ خان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں وہ باب اپنے ہاتھوں سے خود بند کر چکا ہوں…. کیونکہ میں جانتا ہوں دانیہ خان وہ کتاب نہیں ہے جسے میں سطر سطر پڑھتے رہنا چاہوں اور ہزار بار پڑھنے کے بعد بھی نہ تھکوں اور تم جانتی ہو میں کس چہرے کو سینکڑوں بار پڑھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ تمہیں بھی تو خبر ہو گی نا، کیونکہ تمہاری آنکھیں بھی تو وہی درخواستیں کرتی ہیں اور تمہاری خاموشی کو توڑنے کی بھر پور کوشش کرتی ہیں مگر تم پھر سے وہ فصیلیں اٹھانا چاہتی ہو۔ تم کیوں نہیں چاہتیں میں ان طوفانوں سے نمٹوں اور ان کا رُخ موڑ دوں؟ تمہیں یقین ہے نا میں ہر ناممکن کو ممکن کر پاﺅں گا؟“ وہ اس کی آنکھوں میں براہ راست جھانک رہا تھا۔ ایلیاہ میر نے ایک لمحے میں اس کا ہاتھ جھٹکا تھا۔ دھڑکنوں کا شور کچھ بڑھ گیا تھا۔ سارا وجود جیسے مشکلوں میں گھر گیا تھا۔ وہ فوراً اٹھی، ارادہ وہاں سے ہٹ جانے کا تھا مگر کلائی اشعال حیدر کے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی تھی۔ اشعال حیدر اس کی سمت بغور دیکھ رہا تھا۔

”اس روشنی کو میری سمت بہنے دو ایلیاہ میر….! ان دھڑکنوں کی نفی مت کرو ورنہ اس روشنی کے اختتام پر صرف ایک خاموشی ہو گی اور اس سکوت میں زندہ رہنا بہت کٹھن ہو گا۔“ وہ جیسے درخواست کر رہا تھا۔ ان آنکھوں میں کچھ تھا۔ ماحول میں بہت اضطرابیت تھی۔ بوندوں کے گرنے کے تسلسل جاری تھا۔ بارش کی آواز کچھ کہہ رہی تھی، مگر وہ جیسے کچھ سننا نہیں چاہتی تھی۔ اشعال حیدر کی جنوں خیزی حد سے سوا تھی۔

”مت کرو ایسے ایلیاہ میر!“ مدھم لہجے میں اس نے جیسے التجا کی تھی۔ ایلیاہ میر نے اس کی سمت سے نگاہ پھیر لی تھی۔ اس کے ہاتھ کی گرفت سے ہاتھ نکالنا چاہا تھا، مگر تبھی جانے کیا ہوا تھا۔ اشعال حیدر نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ وہ اس کے سینے سے آن ٹکرائی تھی۔

بارش کا شور بڑھنے لگا تھا اور اس شور میں دھڑکنوں کا شور بھی صاف سنائی دے رہا تھا۔ دھڑکنوں میں واضح ارتعاش تھا۔ کانوں میں شور بڑھنے لگا تھا۔ وہ آنکھیں میچے کھڑی اس بات کا تعین نہیں کر پائی تھی کہ کس کی دھڑکنوں کا شور زیادہ تھا۔ وہ اس کا خود کا دل تھا یا صرف اشعال حیدر کا دل ہی اس دیوانگی سے دھڑک رہا تھا۔ کانوں میں دونوں آوازیں مدغم تھیں۔ اشعال حیدر کے وجود کی تپش اس کی دھڑکنوں کا شور…. جیسے اسے ہاتھ پکڑ کر کھینچ رہا تھا۔ اس کے سینے پر سر رکھے کھڑی وہ جیسے ایک میکانیت میں گھری تھی۔ اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس کے وجود کو پرے دھکیل دیتی یا پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھتی اور اس گستاخی پر سرزنش کرتی۔ وہ جیسے لمحوں کے تسلسل کی گرفت میں تھی۔ نہیں جانتی تھی کیا تھا یہ، وہ اس کے قرب میں راحت محسوس کر رہی تھی۔ بہت پروٹیکٹو محسوس کر رہی تھی۔ اشعال حیدر نے اپنے بازوﺅں کا گھیرا اس کے گرد باندھ دیا تھا۔

”تم سے بہت محبت ہے ایلیاہ میر! بہت بہت زیادہ! تم اگر اپنے گرد کوئی قلعہ بنا لو ہزار قفل لگا لو، ساری چابیاں کسی دور گہرے سمندر میں پھینک آﺅ تب بھی میں تم سے تم تک کا سفر کروں گا۔ میں وہ چابیاں ڈھونڈ کر سارے قفل کھول لوں گا۔ ساری فصیلیں گرا دوں گا اور سب دروازے چاک کر دوں گا۔ پھر کبھی بند نہ ہونے کے لیے۔ میری محبت ایسی ہے ایلیاہ میر! اتنی زورآور…. طاقتور، نہ بھٹکنے والی، نہ کھونے والی…. نہ جھکنے والی، نہ روٹھنے والی…. بے حساب محبت! جلاتی، گھیراﺅ کرتی، لمحہ لمحہ ساتھ چلتی محبت، یہ محبت کبھی زوال پذیر نہیں ہو گی ایلیاہ میر! کبھی کم نہیں ہو گی۔“ وہ مدھم سرگوشیاں کر رہا تھا۔ اس کی سانسوں کی تپش سے ایلیاہ میر کو اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ اس تپش میں خود کو جلتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔ اس برستی بارش میں خنک موسم میں ایک الاﺅ اسے جیسے اپنی لپیٹ میںلے رہا تھا۔ اس کی سماعتوں میں اشعال حیدر کی محبت بول رہی تھی۔

”ایلیاہ شہاب میر! آئی ایم سوری! بہت بُرا ہوں میں…. نہیں ہو پایا مجھے ادراک…. شعور نہیں تھا…. بے وقوف تھا میں…. مگر اس کے باوجود…. بے حساب محبت کرتا ہوں میں تم سے! یہ محبت سونے نہیں دیتی مجھے، جاگتارہا ہوں میں، جب سے تم نے دوریو ںکو درمیان میں رکھا مجھے کچھ سجھائی نہیں دیا، نہ کچھ جانا…. نہ سمجھا، بس اتنا یاد تھا کہ تم ساتھ نہیں ہو اور تمہیں ساتھ کرنا ہے۔ تمہارے ساتھ چلنا ہے، تمہیں منانا ہے، ہزارمنتیں کرنا ہیں۔ غلطیوں، کوتاہیوں کی معافی مانگنی ہے، سب باتوں کا ازالہ کرنا ہے اور میں نے باقی کے تمام سفر موقوف کر دیے اور فی الفور تمہاری طرف قدم بڑھانے لگا۔ بہت ادھورا تھا تمہارے بنا…. بہت ادھورا ہوں جب سے تم ساتھ نہیںہو!“ اشعال حیدر کا جلتا بجھتا لہجہ اس کی سماعتوں میں تھا۔ وہ جیسے الاﺅ کا حصہ ہونے لگی تھی۔ تبھی اس نے آنکھوں کھول کر اسے دیکھا تھا۔

ان دونوں کی دیوانگی جھٹلائی نہیں جا سکتی تھی۔ وہ جنوں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا مگر ایلیاہ کی سماعتوں میں اس شام تھیٹر میں ہنسی کی آوازیں گونجنے لگی تھیں۔ جہاں وہ ان سب کے ساتھ کھڑا اس پر ہنس رہا تھا۔ اس کا مذاق اُڑا رہا تھا، جانے کیا ہوا تھا، ایلیاہ میر نے دونوں ہاتھوں سے یکدم اسے پرے دھکیلا تھا، آنکھوں کی نمی رخساروں پر چمکنے لگی تھی۔

”مجھے تم سے محبت نہیں ہے اشعال حیدر!“ وہ خود اپنی نفی کرتی ہوئی چیخی تھی۔ ”نہیں ہے تم سے محبت…. کبھی بھی نہیں تھی…. نہ کل…. نہ کبھی اور نہ ابھی! میرا تعاقب کرنا بند کر دو۔ نہیں چاہیے مجھے یہ محبت، نہیں ضرورت مجھے تمہاری، نہیں کرتی میں تم سے محبت۔“ وہ آنسوﺅں کے ساتھ بولی اور پھر یکدم پلٹ کر تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اشعال حیدر اس بارش کے شور میں تنہا کھڑا رہ گیا تھا۔

٭….٭….٭

ممی نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔ ایلیاہ میر کافی کے سپ لیتی نیوز پیپر دیکھتی خود میں گم تھی یا پھر خود کو مصروف رکھ کر وہ ممی کے مطلوبہ سوالوں کے جوابات دینا نہیں چاہتی تھی۔ ممی نے ٹوسٹ پر بٹر کی تہہ لگا کرچیز لیئر رکھتے ہوئے اسے بغور دیکھا تھا۔

”تم واقعی حارث آفندی سے شادی کرنا چاہتی ہو ایلیاہ؟“ ممی کا سوال غیرمتوقع نہیں تھا۔ وہ ان سوالوں کے لیے پہلے سے پری پیئر تھی تبھی سر ہلا دیا تھا۔انداز بے فکر تھا۔

جیسے وہ خود سے بھی جھوٹ بولتے رہنا چاہتی تھی۔ ممی نے بریک فاسٹ کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے اسے بغور دیکھا تھا۔

”مجھے نہیں لگتا تمہارا یہ فیصلہ ٹھیک ہے ایلیاہ! حارث کو تم ایک چانس دے کر دیکھ چکی ہو۔ کتنے موقعے اور دینا چاہتی ہو تم اسے؟ اور تمہیں شادی ہی کرنا ہے تو پھر حارث آفندی ہی کیوں…. وہ کوئی اور بھی تو ہو سکتا ہے نا؟“ ممی نے جتانے کو کہا تھا۔ ایلیاہ میر منہ تک لے جاتا ٹوسٹ والا ہاتھ روک کر ماں کو دیکھنے لگی تھی۔

”ممی! یہ اتنا بڑا مسئلہ کیوں بن گیا ہے؟ آپ نے ہی تو کہا تھا میں نے منگنی توڑ کر غلط کیا اور جب غلطی کو سدھار رہی ہوں تو آپ اسے غلط انتخاب قرار دے رہی ہیں….آپ کو ہی شوق تھا نا میری شادی کا…. اب جب ہاں کر دی ہے تو کیا مسئلہ ہے؟ ممی! وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ حارث نے مجھ سے خود کہا کہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہے اور….!“ ٹوسٹ کی بائیٹ لے کر نگلتے ہوئے وہ روانی سے بول رہی تھی جب ممی نے کہا۔

”اپنی غلطی پر شرمندہ تو اشعال حیدر بھی ہے نا؟“ ممی کا سوال اسے ساکت کر گیا تھا اور ایلیاہ میر ممی کی طرف سے نگاہ ہٹاتے ہوئے پُرسکون دکھائی دیتی ہوئی ٹوسٹ کی بائیٹ لینے لگی تھی۔

”وہ اپنی غلطی پر پشیمان ہے ایلیاہ،اپنی غلطی کا احساس اسے بھی ہے تو کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی دوسرا موقع نہیں؟“ ایلیاہ نے پرسکون انداز میں ماں کو دیکھا تھا۔ وہ شاید لاجواب ہو گئی تھی مگر خود کو بہت نارمل ظاہر کرنا چاہتی تھی۔

”ایلیاہ! اشعال سے زیادہ بہتر لڑکا تمہیں کہیں نہیں مل سکتا۔ تم غلطی کرو گی اگر اسے ایک اور موقع نہیں دو گی۔ وہ تمہاری تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔تمہارے لیے یہاں آ کر بیٹھ گیا ہے۔ اسے کوئی کام نہیں کیا، دنیا کا فارغ انسان ہے وہ کیا؟ آج کل کون کسی کو اپنا ایک لمحہ بھی دیتا ہے؟ اشعال حیدر کے لیے صرف تم اہم نہیں ہو ایلیا، وہ تمہاری فیملی کو بھی وہی امپورٹنس دیتا ہے تمہیں معلوم ہے اس روز جب تمہاری نانو کی طبیعت خراب تھی تو میں نے تمہارے سیل فون پر کال کی تھی، مگر جب نمبر بند ملا تو دوسری کال میں نے حارث آفندی کو کی تھی، مگر وہ ٹال گیاتھا۔ اس نے یوں ظاہر کیا جیسے اسے میری آواز سنائی نہیں دے رہی۔ یا لائن کلیئر نہیں اور اس کے بعد تیسری کال میں نے اشعال حیدر کو کی تھی۔ جسے میں نے تیسرا آپشن بنایا تھا وہ یہاں سب سے پہلے پہنچا تھا، اگر وہ تمہاری نانو کو بروقت ہاسپٹل نہ پہنچاتا تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔“ ممی کے کہنے پر وہ خاموشی سے دیکھتی رہی تھی۔ جیسے اس کے پاس ایک لفظ بھی نہیں تھا۔

”جنہیں ہم آخر سمجھیں جب وہی اول بن کر سامنے آئیں تو حیرت ان اول بن کر سامنے آنے والوں پر نہیں ہوتی، ان پر ہوتی ہے جنہیں آپ اول سمجھے بیٹھے تھے اور وہ اول تھے ہی نہیں۔ قصور اس میں اپنی عقل کا ہوتا ہے ایلیاہ میر! مجھے اندازہ ہے میں جس رشتے کو فوری طور پر اہمیت دے رہی تھی وہ رشتہ اس اہمیت کے قابل نہیں تھا۔ اشعال حیدر کو اتنا چھوٹا مت کرو ایلیاہ میر! یہ صرف تمہاری سوچ ہے۔ حقیقتاً وہ اتنا چھوٹا نہیں ہے۔“ ممی کہہ کر اٹھ گئیں اور ایلیاہ میر ساکت بیٹھی رہ گئی۔

٭….٭….٭

اس کا ذہن بہت الجھا ہوا تھا۔ وہ زیادہ سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر سوچ کا ہر زاویہ جانے کیوں جا کر اشعال حیدر پر ختم ہو رہا تھا۔ وہ خود اپنے خیالوں کو جھٹکتی رہی تھی۔ اسے ایک اہم فائل چاہے تھی تبھی اس نے ڈرائیور کو حارث آفندی کے آفس کی طرف موڑنے کی تلقین کی تھی۔ تبھی اس کا سیل فون بجا تھا۔ دانیہ خان کا نمبر اسکرین پر تھا۔ اس نے کال پک کرنے میں دیر نہیں کی تھی۔

”ایلیاہ میر! کہاں ہو تم؟ میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لینا چاہتی، مگر میں ایک بات کو لے کر بہت گلٹی فیل کر رہی ہوں، میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ میں نے اشعال حیدر کو چھوڑا، حقیقت یہ ہے کہ جب میں نے شادی کے لیے دباﺅ ڈالا تبھی اس نے مجھے منع کر دیا تھا۔ وجہ تم تھیں، وہ تم سے محبت کرتا تھا اور اس کا ادراک اس کو تب ہوا تھا جب تم اس سے دور چلی گئی تھیں۔ میں اب بھی اشعال حیدر سے محبت کرتی ہوں ایلیاہ میر! مگر میں چاہوں بھی تو اس کی زندگی کا حصہ نہیں بن سکتی، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔“

”تم کیا بات کر رہی ہو دانیہ؟ میں شادی کر رہی ہوں حارث آفندی ہے، تم اشعال حیدر کی زندگی کا حصہ بن سکتی ہو، یہ ممکن ہے کیونکہ میں کبھی اشعال حیدر کی زندگی کا حصہ نہیں رہی۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے۔“

”غلط فہمی نہیں ایلیاہ! میں تمہیں کسی سنگین غلطی سے بچانا چاہتی ہوں۔ اگر مجھے حق ہوتا تو اشعال حیدر صرف میرا ہوتا، مگر وہ میرے لیے نہیں اور تم میری بات سمجھ نہیں رہی ہو۔ اس نے تین برس قبل مجھ سے آخری بار بات کی تھی، اس کے بعد وہ مجھ سے رابطے میں نہیں مگر تب وہ تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔ میں نے اس کا جنوں دیکھا تھا ایلیاہ….اس سے زیادہ میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتی، مجھے شرمندگی تھی کہ تم سے جھوٹ بولا، میں وہی کلیئر کرنا چاہتی تھی۔“ دانیہ خان نے کہہ کر سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ وہ ساکت سی بیٹھی رہ گئی تھی۔ یہ سب اس کی حمایت کیوں کر رہے تھے۔ سب اس کا ذکر کیوں کر رہے تھے؟ وہ جس ذکر سے کنی کترا رہی تھی، ہر زبان پر وہی ذکر عام تھا۔

حارث آفندی کا آفس آ گیا تھا۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی تو وہ چونکی تھی پھر دروازہ کھول کر اُتری اور عمارت میں داخل ہو گئی۔ لفٹ سے حارث آفندی کے آفس تک آنے تک صرف ایک ذکر اس کے ذہن میں تھا۔ صرف ایک نام تھا بس، اس نے سر جھٹکتے ہوئے جیسے اس ذکر کو ذہن سے نکال پھینکنے کی کوشش کی اور حارث کے روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہونا چاہا تھا، مگر قدم وہیں ٹھٹک کر رُک گئے تھے۔ وہ اپنی جگہ ساکت رہ گئی تھی۔ حارث آفندی اپنی پرسنل اسسٹنٹ کے ساتھ بزی تھا۔ دروازہ کھلنے پر وہ چونکا تھا۔ ایلیاہ میر کی طرف حیرت سے دیکھا تھا۔ اس کی پرسنل اسسٹنٹ کچھ دور ہوئی تھی۔ یہ وہ شخص تھا جسے اس نے چنا تھا۔ جسے دوسرا موقع دیا تھا۔ اس کا ذہن ماﺅف ہو گیا تھا۔ حارث آفندی اس کی اچانک آمد پر حیران تھا، تبھی فوری طور پر کچھ نہیں کہہ سکا تھا۔ وہ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے پلٹی اور عمارت سے نکل آئی تھی۔ کچھ سچ کتنے کڑوے ہوتے ہیں اس کا ادراک اسے ہو گیا تھا۔

٭….٭….٭

”مواقع ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اس کے مستحق بھی ہوں۔ غلط لوگوں کو مواقع دے کر خود کو الزام دینا یا قصوروار ٹھہرانا دانشمندی نہیں۔“ نانو نے اس کا سر پیار سے تھپکتے ہوئے کہا تھا۔ وہ نانو کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ وہ خود کے غلط ثابت ہونے پر شرمندہ تھی۔ ممی اور نانو کی تو خیر تھی، مگر اشعال حیدر…. اس سے زیادہ وہ سوچ نہیں سکی تھی۔

اسے سمجھ نہیںآ رہا تھا کہ اگر وہ کوئی نہیں تھا، یا اسے اس کی کوئی پروا نہیں تھی یا کوئی وابستگی نہیں تھی تو پھر وہ اس کے سامنے شرمندہ ہونے کا سوچ کر ہی کیوں ڈر رہی تھی…. اسے یہ احساس کیوں ہو رہا تھا کہ اس کے غلط ثابت ہونے پر وہ کوئی اطمینان ظاہر کرے گا یا اسے اس کی ہار یا پسپا ہونے کو طمانیت دے گا۔ اسے لگ رہا تھا ابھی وہ چلتا ہوا آئے گا اور اس کے مدمقابل کھڑا ہو کر پورے ازلی اعتماد سے مسکرائے گا اور جتائے گا کہ دیکھو ایلیاہ میر! تم نے جو فیصلہ کیا تھا اس نے تمہیں پسپا کر دیا۔ اس نے رنگ اُتار کر نانو کے ہاتھ میں تھمائی تھی۔

”حارث آئے تو اسے یہ لوٹا دیجیے گا۔ میں اس سے ملنا یا اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتی۔“ کہہ کر وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔

سوچیں بہت الجھی ہوئی تھیں۔ اس نے کھڑکی کھول کر اندر کی کثافت کو کچھ کم کرنا چاہا۔ باہر آﺅٹ ڈور لیونگ ایریا میں وہ ممی کے ساتھ بیٹھا کافی کے سپ لیتا شاید کوئی اہم بات ڈسکس کر رہا تھا۔ ایلیاہ کا کمرہ عین اس ایریے کے سامنے تھا، مگر وہ شاید اس طرف دانستہ نہیں دیکھ رہا تھا۔ ایلیاہ میر بے خبر کھڑی اس کی طرف جانے کیوں دیکھے گئی تھی۔ شاید ذہن ٹھیک سے بیدار نہیں تھا۔ یا پھر وہ اپنے حواس کو اختیار میں نہیں کر پا رہی تھی یا پھر بے دھیانی میں ہی وہ اشعال حیدر کی طرف تکے گئی تھی۔

یہ وہ شخص تھا جس نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ اس کی محبت کو روندتے ہوئے گزر گیا تھا۔ خود تو ہنسا تھا، دوسروں کو بھی موقع دیا تھا کہ اس کا مذاق اُڑائیں۔ اس کا وقار…. اس کی عزت…. اس کا کردار…. اس کا تشخص، اس شخص نے سب جیسے مسخ کر دیا تھا۔ وہ اس پر اعتبار کر بیٹھی تھی اور اس کے لیے تو سب مذاق تھا۔

”تمہیں محبت ہو گئی ہے کیا؟ اتنی کھوئی کھوئی کیوں رہنے لگی ہو ایلیاہ میر؟“ وہ جب بہت دنوں تک اس کے سامنے نہیں آئی تھی تو وہ اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا اور ایلیاہ شہاب میر کے پاس ایک لفظ بھی نہیں تھا۔ وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے گئی تھی۔

”کیا معاملہ ہے ایلیاہ…. تمہاری منگنی ہوئی ہے نا؟“

”میں یہ نہیں چاہتی!“ وہ فوراً بولی تھی۔

”مگر کیوں…. تمہیں کسی اور سے محبت ہے؟“ وہ مسکرایا تھا۔ کہیں وہ میں تو نہیں؟“

”ڈونٹ بی اسٹوپڈ اشعال حیدر! تم جیسے بندے سے محبت نہیں ہو سکتی۔“ وہ انکاری تھی۔

”جھوٹ بول رہی ہو تم….“ وہ سے رد کرتا ہوا بولا تھا۔

”میں جھوٹ نہیں بول رہی….“

”کیونکہ تمہیں مجھ سے محبت ہے؟“ وہ اس کی آنکھوں میں براہ راست تکتا ہوا مسکرایا تھا۔

”شٹ اَپ اشعال! کچھ بھی بولتے ہو۔“ وہ منکر تھی، جانے لگی تو اشعال نے کلائی تھام لی تھی۔

”تم خود کہو گی ایلیاہ شہاب میر! یاد رکھنا…. یہ محبت تمہیں اتنا بے بس کر دے گی کہ تم خود مجھ سے کہو گی…. اور….!“ وہ جیسے اسے اکسا رہا تھا، وہ ساکت سی دیکھنے لگی تھی۔

”اور….؟“ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔وہ کچھ دیر خاموشی سے تکتا رہا تھا پھر مسکرا دیا تھا۔

وہ نہیں ملتا ایک بار ہمیں….!!

اور یہ زندگی دوبارہ نہیں….!!

”زندگی ایک بار ہے ایلیاہ میر! ایک بار جیتے ہیں، محبت سے ہاتھ کھینچنا پچھتاووں میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اگر کسی سے محبت ہے تو کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں…. ہو سکتا ہے وہ بھی اسی بات کا منتظر ہو کہ تم پہلا قدم لو…. آگے بڑھو…. اور وہ پذیرائی کرے؟“ وہ ان آنکھوں میں جھانک رہا تھا…. اور وہ ہاتھ چھڑا کر یکدم ہی پلٹی تھی اور آگے بڑھ گئی تھی۔ دل اس ساتھ پر بہت دیر تک تیز تیز دھڑکتا رہا تھا۔ وہ دھڑکنوں پر اختیار نہیں رکھ پا رہی تھی…. نہ سوچ پر کوئی بندھ باندھ پا رہی تھی۔ سوچ کا ہر زاویہ اس شخص پر جا کر رک رہا تھا اور اس نے اس شام ریہرسل کے دوران جب اسکرپٹ لکھنا تھا تو جانے کیوں وہ سب لکھ دیا تھا جونہیں لکھنا چاہیے تھا، اسکرپٹ اس کا لکھا تھا، ایک ایک لفظ اس کے دل کی آواز تھا، اور جب ریہرسل میں اس نے وہی اسکرپٹ لفظ بہ لفظ کہہ بھی دیا تو کیسا مذاق بنا تھا اس کا….!!

وہ لمحہ بھلائے نہیں بھولا تھا، کتنی انسلٹ ہوئی تھی، سب نظریں اس پر تھیں اور ہر کوئی اس پر ہنس رہا تھا۔ اشعال حیدر نے کہا تھا ہاتھ بڑھاﺅ گی تو پذیرائی ہو گی اور اس شام وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔ اشعال حیدر خود پرست شخص تھا، وہ کسی سے محبت نہیں کر سکتا تھا…. ہر بات اس کے لیے مذاق تھی…. اس کا نسوانی وقار بُری طرح مجروح ہوا تھا۔ یہ تھا اشعال حیدر…. جو اسے اُکسا رہا تھا، سب کہنے پر، اور جب اس نے کہا تو اس نے ایلیاہ میر کو سب کے سامنے تماشا بنا دیا تھا۔ وہ دن تھا جب اس نے اس کے بارے میں سوچا تھا…. اور اس کے بعد ہمیشہ اس کی نفی کی تھی، حارث سے منگنی کر لی اور کبھی پلٹ کر بھی دوبارہ اس راہ کو نہیں دیکھا، وہ جب سب پیچھے چھوڑ آئی تھی تو راستے یکدم ہی اس کے تعاقب میں آنے لگے تھے۔ کوئی اسرار تھا یا کوئی بھید…. یا محبت میںایسی ہی ہوتا ہے…. جب کوئی ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو دوسرابے خود سا اس کی سمت کھنچنے لگتا ہے…. یہ محبت کا کوئی کلیہ تھا یا جو بھی مگر اس کی نظریں دیکھ رہی تھیں اشعال حیدر اس کی سمت متوجہ تھا۔ بے خود سا دیکھ رہا تھا۔ ممی اس آﺅٹ ڈور ایریے سے اٹھ کر چلی گئی تھیں۔ وہ اکیلا وہاں بیٹھا تھا۔ یکدم ہی بارش ہونے لگی تھی۔ اشعال حیدر کی نظروں کا تسلسل نہ رکنے والا تھا، تبھی اس نے کھڑکی بند کر دی تھی اور پلٹ کر روم سے نکل آئی تھی۔

”ایلیاہ بی بی! ممی آپ کو باہر بلا رہی ہیں۔ اشعال حیدر صاحب کے ساتھ آﺅٹ ڈور ایریا میں بیٹھی ہیں۔“ خدیجہ نے کہا تھا۔ اس نے سر ہلا دیا تھا۔ خدیجہ نے اس کی طرف چھتری بڑھا دی تھی۔ ایلیاہ نے تھامی اور باہر آگئی تھی۔ بارش تیز تھی تبھی اس نے چھتری کھول کر تھام لی اور اس طرح چلتی ہوئی اس Timber Frame سے بنے آﺅٹ ڈور ایریا میں آ گئی تھی جو خوبصورتی سے ڈیکوریٹڈ تھا۔ اشعال حیدر بدستور وہاں موجود تھا۔ اسے دیکھ کر کھڑا ہوا تھا۔ ایلیاہ میر نے کورڈپلیس کے نیچے کھڑے ہو کر چھتری کو بند کیا اور اس آﺅٹ ڈور ایریا میں داخل ہوگئی تھی۔ ممی وہاں نہیں تھیں اور اسے اس بات کی حیرت تھی۔

”ممی کہاں ہیں؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔ اشعال بنا جواب دئیے اسے بغور دیکھنے لگا تھا۔ وہ مقابل آن کھڑی ہوئی اور تنک کر بولی تھی۔

”ممی کہاں ہیں؟ انہوں نے یہاں بلایا تھا مجھے اور….!“ اشعال حیدر نے اس کے لبوں پرشہادت کی انگلی رکھ دی اور اس سے آگے وہ ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکی تھی۔ سرد موسم کے باعث اس کا وجود کانپنے لگا تھا۔

”ایلیاہ میر! میں جادوگر نہیں ہوں کہ کسی کو بھی غائب کر دوں۔ آنٹی کسی کام سے اندر گئی ہیں۔“ ایلیاہ میر نے ہمت کر کے اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے ہٹایا اور پلٹنے لگی تھی جب اشعال حیدر نے اسے کلائی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ اس کا سر اس کے سینے سے آن ٹکرایااور وہ اس کے بازوﺅں میں تھی…. اشعال حیدر نے اس کے گرد اپنا حصار باندھ دیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ نظروں میں غصہ تھا۔

”یہ کیا بدتمیزی ہے اشعال حیدر؟“ وہ گھورتے ہوئے خود کو اس کے بازوﺅں کے حصار سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی تھی مگر وہ حصار اتنا مضبوط تھا کہ توڑنا یا باہر نکلنا ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ تھک کر گھورنے لگی تھی۔

”مجھے تم سے جن باتوں کی امید نہیں ہوتی ہے تم وہی کرتے ہو ہمیشہ اشعال حیدر! یہاں جھوٹ بول کر کیوں بلایا؟ اور یہ کیا حرکت ہے؟“ وہ ڈپٹتے ہوئے گھورنے لگی، مگر وہ مسکرا رہا تھا۔ اتنی قربت تھی، اس کی دھڑکنوں کا شور وہ صاف سن پا رہی تھی۔ بارش کی آواز کے ساتھ اس کی خاموشی بھی جیسے بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ اس پر اس کی نظریں…. جو ہمیشہ اسے مشکل میں ڈال دیتی تھیں۔ وہ اب بھی اس کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹا گئی تھی۔ تبھی وہ بغور تکتے ہوئے اس کے چہرے سے بالوں کی لٹ ہٹاتے ہوئے بولا۔

”نظر چرا لینے سے کیا کچھ چھپاﺅ گی ایلیاہ میر…. تمہیں خبر نہیں ہے مگر تمہاری یہ آنکھیں مجھ سے سب کہتی ہیں جو تم نہیں کہنا چاہتیں…. یا دانستہ چپ کی مہریں لبوں پر لگائے ہوئے ہو۔ میں جانتا ہوں اس انکارکے پیچھے ایک واضح ہاں ہے…. ایک اقرار ہے…. تمہیں غصہ ہے تو نکالو مجھ پر…. کم آن پنچ می…. ہٹ می…. نکل آنے دو اس غصے کو باہر…. مگراس محبت کو اس طرح اپنے اندر مت دباﺅ، میں اپنے کیے کی معافی مانگ چکا ہوں اور کیا چاہتی ہو تم؟ کسی کوتاہی یا غلطی کی سزا سزائے موت ہو سکتی ہے…. تو مار دو مجھے ، کسی طرح تمہاری اس کھوکھلی اَنا کو سکون تو ملے گا نا؟“

”میں کوئی بات کرنا نہیں چاہتی اشعال!“ وہ اپنے طراف سے اس کے بازوﺅں کا گھیرا توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔

”ول یو میری می ایلیاہ میر!“ وہ اپنی گرفت اور مضبوط کرتے ہوئے بولا۔ اور وہ ساکت سی اس کی طرف دیکھنے لگی۔ اس نے عقیدت سے ایلیاہ میر کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر دیاور وہ گنگ رہ گئی تھی۔

”میں اور آنٹی یہی بات کر رہے تھے ایلیاہ! میں نے اپنے پیرنٹس کو کل یہاں بلوا لیا ہے، میں چیزوں کو اور بکھرنے نہیں دینا چاہتا۔ تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں…. اور تم بھی یہ مزید ڈرامہ بند کرو، پانچ سال ویسٹ کروائے ہیں تم نے میرے اور نہیں کرنے دوں گا۔ تمہیں ابھی معاف نہیں کرنا تو شادی کے دس سال بعد معاف کر دینا۔ بٹ شادی ابھی ہو گی ایک ہفتے بعد…. کل ہم منگنی کریں گے۔“

”وہاٹ….؟“ وہ چونکی۔ ”اتنی جلدی؟“ وہ بے دھیانی میں کہہ گئی۔

”ایکچوئیلی مسئلہ یہ ہے کہ میں سچا پکا مومن ہوں۔ دیسی لڑکا،تمہاری بدگمانی اتنی تفاوت سے دورنہیں کر سکتا۔ اس کے لیے کچھ قربت ضروری ہے اور وہ قربت شادی کے بعد ہی نصیب ہو سکتی ہے۔“ وہ شرارت سے مسکراتا ہوا بولا۔ ایلیاہ میر اس کی سمت دیکھ نہیں سکی تھی۔

”میں یہ شادی نہیں کروں گی۔“ اس نے مدھم آوازمیں کہا۔

”تم سے کون پوچھ رہا ہے…. زبردستی اٹھا کر لے جاﺅں گا نکاح کے بعد…. تمہاری جیسی خودپسند لڑکی کو جھیلنے کی ہمت اور کون کر سکتا ہے؟ یہ اشعال حیدر ہی ہے جو ایسا کر سکتا ہے۔ سو آرام سے ہاں کہہ دو۔“ وہ شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ ایلیاہ میر نے گہری سانس لی اور پھر نفی میں سر ہلادیا تھا مگر اس انکار کی نفی اگلے ہی لمحے ہو گئی تھی جب اس نے اپنا سر اشعال حیدر کے فراخ سینے پر رکھ دیا تھا۔ بارش کی آواز اس خاموشی کو توڑنے لگی تھی۔ محبت کی سرگوشیاں ہر طرف پھیلنے لگی تھیں۔ اشعال حیدر نے اس کے گرد بازوﺅں کا گھیرا اور بھی تنگ کر دیا تھا۔ خاموشی سب کہہ رہی تھی۔ وہ بھی جو وہ دونوں اس لمحے کہنے سے گریز کر رہے تھے۔ ایلیاہ میر کو ایک طمانیت کا احساس ہوا تھا۔

ض……..ختم شد……..ض

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عشق ہو ! نادیہ احمد آخری قسط

عشق ہو ! نادیہ احمد آخری قسط ”تو کیا آپ واقعی ”فرہاد عالی“ کے متعلق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے