سر ورق / مکالمہ / احمد اقبال سے مکالمہ

احمد اقبال سے مکالمہ

شکاری اور مداری جیسی کہانیوں کے خالق،

 ڈائجسٹ اور فکشن کا ایک بڑا نام

 اور معروف سینئر کہانی کار

 احمد اقبال سے مکالمہ
بشکریہ صفی سرحدی۔آواز گروپ۔
سوال:۔ ایک مکمل کہانی کو سلسلہ وار لکھنے یا ایک ہی بار مکمل کر دینے میں سب سے مشکل پہلو کیا ہوتا ہے؟

احمد اقبال:۔ سلسلہ وار کہانی کا ایک بلیو پرنٹ پہلے مرتب کرنا ضروری ہوتا ہے جیسے کسی کثیر المنزلہ عمارت کا نقشہ۔۔ اسے آپ کہانی کا پلاٹ سمجھ سکتے ہیں۔ اس میں پھیلنے کی گنجائش ہونی چاہئے۔ واقعات اور ڈائیلاگ بعد میں ڈالے جا سکتے ہیں۔ میں مرکزی کردار کم سے کم رکھتا ہوں اور ایک بار ان کا خاکہ بن جائے تو ذہن میں اس کی تصویر رہتی ہے۔ واقعات آگے بڑھتے ہیں تو خود اپنا رخ متعین کرتے ہیں۔ ایک بار میں مکمل ہونے والی کہانی میں ایک موضوع ہوتا ہے اور زیادہ اہم اس کا تاثر رہتا ہے۔

سوال:۔ اپنے کس کردار میں آپ کو احمد اقبال سب سے زیادہ نظر آئے؟

احمد اقبال:۔ شاید ’شکاری‘ کے کردار ’غالب‘ میں۔

سوال:۔ ایک ہی کہانی جو اتنے سال چلی ہو کیا ایک ہی کینوس سے Cover ہو پاتی ہے؟ یا اگر تبدیلی لانی پڑے تو اسکا سب سے ضروری پہلو کونسا ہونا چاہیئے؟

احمد اقبال:۔ طویل عرصہ چلنے والی قسط وار کہانی کا کینوس بڑھایا جا سکتا ہے تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ۔ وہ دوسری کہانی بن جائے گی۔

سوال:۔ کچھ ایسا بھی لکھا کبھی جسے اون کرنے کا دل نا ہو؟

احمد اقبال:۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ ہر تخلیق آپ کی اولاد ہوتی ہے۔

سوال:۔ لکھنے کی سب سے بڑی انسپائریشن کیا تھی؟

احمد اقبال:۔ زندگی کے تجربات اور مشاہدات۔

سوال:۔ آپ خود اپنا لکھے ہوئے کو اچھا کیوں نہیں سمجھتے۔ پاپولر فکشن کو ادب سے الگ کیوں سمجھا جاتا ہے؟

احمد اقبال:۔ ہمارے ملک میں ایسا ہی ہے۔ تا ہم اب میں ادب عالیہ میں بھی اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں۔

سوال:۔ لیکن اپ جیسا جہاندیدہ اور سمجھدار انسان ایک متھ پہ چل رہا ہے تو کیوں؟ اور پاپولر فکشن و ادب میں کیا بنیادی فرق ہے جو دونوں کو الگ کرتا ہے؟

احمد اقبال:۔ نہ یہ میرا فیصلہ ہے نہ یقین۔ یہ اردو ادب کی غلط روایت ہے جو ایسے ہی چلی آ رہی ہے۔ میں اس متھ پر چل رہا ہوں۔ یہ آپ نے کیسے فرض کر لیا۔ اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات ہو گی۔

سوال:۔ کیا یہ صورت حال صرف اردو ادب میں ہی ہے یا باقی دنیا میں بھی پاپولر فکشن اور ادب کے مابین یہی کشمکش ہے۔ آج کی کہانی اور ماضی کی کہانیوں میں کوئی فرق جو بہت محسوس ہوتا ہو؟

احمد اقبال:۔ کوئی نہیں۔ انسان وہی اس کے جذبات وہی۔

سوال:۔ ایک ادیب کو معاشرے کے اصلاحی پہلو کی طرف کتنا دھیان دینا چاہیئے یا بس جو محسوس ہو وہ لکھ دے اصلاح ایک ادیب کے مطمع نظر ہو ضروری نہیں؟

احمد اقبال:۔ ادیب کو مبلغ نہ سمجھا جائے۔ وہ معاشرے کو مثبت سوچ ضرور دیتا ہے لیکن اپنی کہانی کے پیرائے میں جو قاری کے ذہن کو اسیر کر لے۔ وہ انسانی کردار کی اعلیٰ ترین صفات کو یوں سامنے لاتا ہے کہ پڑھنے والا خود اپنی ذات کی خامی کو محسوس کرے۔

سوال:۔ کیا ایک تھرلنگ ناول کے لئے بھی قلبی واردات سے گزرنا ضروری ہے؟

احمد اقبال:۔ نہیں۔ وہ مطالعہ اور مشاہدے پر منحصر ہوتا ہے۔

سوال:۔ سر کیا ناول لکھنے کا ارادہ ہے؟

احمد اقبال:۔ میں بنیادی طور پر ناول نگار ہی تھا لیکن وہ ناول قسط وار کہانیاں بن گئے۔ میں نے اردو انگریزی فکشن میں ناول کے لیے خصوصی کشش محسوس کی اور اس کی تکنیک کو سمجھا تو اپنی تحریر میں استعمال کیا۔ ایک ناول زیر ترتیب ہے لیکن سرگزشت اور افسانوں کی فرمائش انٹر ویوز اور ادبی تقریبات کے چکر میں فرصت عنقا ہے۔

سوال:۔ ہر انسان کی زندگی میں پچھتاوے ہوتے ہیں، جو ادیب کلاسیکل ادب کے لئے لکھ گئے، ان کو پیسہ نا ملا، وہ بھی پچھتاتے ہوں گے، آپ نے کہا کہ آپ نے اسی چیز سے بچنے کے لئے پاپولر فکشن کو چنا اور پیسہ کمایا، لیکن پھر بھی آپ پچھتاوے کا شکار لگتے ہیں، موجودہ نسل کو آپ کیا مشورہ دیں گے کہ ہم لوگ پچھتاوے کا شکار نا ہوں؟

احمد اقبال:۔ صاحب آپ سے مصاحبت نصیب ھو رہی۔ آپ کا دم غنیمت اور وجود نایاب ہے۔
(اقبال صاحب خود نوشت سوانح کی کچھ اقساط سائٹ “دانش” پہ شائع ہوئیں، پھر اس سلسلہ کو کتاب آنے تک موقوف کر دیا۔ دلچسپی رکھنے والے احباب “احمد اقبال” لکھ کر دانش پہ سرچ کر سکتے ہیں۔)

سوال:۔ مفصل لکھنا زیادہ مشکل ہے یا مختصر؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو مزاج میں لکھنے کی خواہش کو تحریک دیتے ہیں۔

احمد اقبال:۔ یہ میرا کل وقتی کام نہ ہوتا۔ میں کوئی کاروبار کرتا اور فرصت کے وقت میں لکھنے کی خواہش ضرور پوری کرتا۔ نہ لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔

سوال:۔ اپنے لکھے کس کردار کو پڑھ کر دل کہتا ہے کہ یہ میں ہوتا ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟

احمد اقبال:۔ مخدوش۔ اب یہ کھیل عوامی دلچسپی کھو چکا ہے اور خالی اسٹیڈیم میں بائس کھلاڑی صرف ریکارڈ کے لیے کب تک کھیلیں گے۔ ایک خیال میرے ذہن میں ہے جس کی بات ابھی تک کسی نے نہیں کی۔ ایک ایک دن کی اننگ والے ٹیسٹ سے ٹمپو فاسٹ ہو سکتا ہے۔ چار دن میں فیصلہ۔ یہ ون ڈے کے مقابلے میں تکنیک کی اہمیت برقرار رکھنے کا مقصد پورا ہو سکتا ہے۔

سوال:۔ سر کیا شکاری کے کرداروں کی انسپائریشن حقیقی زندگی سے ملی یا یہ مکمل طور پر فرضی ہیں؟ اگر سارے نہیں تو کوئی ایسا کردار جو آپ نے حقیقی زندگی میں ملنے والے یا جاننے والی کسی شخص کو متاثر ہو کر تخلیق کیا ہو؟

احمد اقبال:۔ یہ سب ہمارے اس پاس بسنے والے عام لوگ ہیں جو آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے۔ کسی میں کوئی مافوق الفطرت صفت نہیں۔ جن کرداروں نے مجھے عملی زندگی میں مختلف وجوہات کی بنا پر متاثر کیا وہ کسی کہانی کا حصہ نہیں بنے۔ میری کہانیوں کے کردار قاری کے دل میں نفرت نہیں محبت اور پسندیدگی کے جذبات جگاتے ہیں

سوال:۔ اپنی تخلیق کردہ کرداروں میں کوئی ایسا کردار جو آپ کی شخصیت کے قریب ترین ہو؟۔ انگریزی ادب میں کون کون سے رائٹرز کن وجوہات کی بنا پر پسند ہیں؟ برصغیر کے کونسے موسیقار، گلوکار اور گلوکارائیں پسند ہیں؟ پسندیدہ شعراء کے بارے بھی بتا دیں تو عنایت ھو گی؟

احمد اقبال:۔ انگریزی میں سر فہرست نوبل پرائز یافتہ جان اسٹین بیک اور ارنسٹ ہمنگوے ہیں۔ اسٹین بیک انگلش کا کرشن چندر ہے بے بس غریب اور استحصال کے شکار انسانوں کا ترجمان۔ ہمنگوے انسانی قوت و عظمت کا علمبردار جس نے جنگ عظیم میں عملا” شرکت کی اور اس کے خلاف جہاد کیا۔ موسیقار ترتیب وار ایس ڈی برمن، خیام، روشن، کھیم چند پرکاش، نوشاد، شنکر جے کشن۔ گلوکار فلمی آشا، لتا، مناڈے مکیش، نیم کلاسیکی گائیکی میں گائیکی میں مہدی حسن، عابدہ پروین، ملکہ پکھراج۔ کلاسیکی فہرست بہت طویل ہے جس میں گائک اور انسٹرومنٹس کے استاد ہیں۔

سوال:۔ سر آپ ہمارے محمد رفیع کو نظر انداز کر گئے؟

احمد اقبال:۔ جی۔۔۔۔۔

سوال:۔ اپنے بچپن کے دنوں کا کچھ مختصر احوال، لال کرتی اسکول کی یادیں۔ پنڈی سے آپ کی محبت کا قصہ، لاہور شام نگر میں ایک پڑوسن کا احوال، آپ کی شخصیت سازی میں اس ترتیب یا واقعات کا کتنا حصہ رہا۔ یہ ایک سوال ہے لیکن گزارش اتنی سی ہے کہ مقدور بھر تفصیل سے بیان کریں؟

احمد اقبال:۔ اتنی تفصیل تو میرے سر گذشت میں ملے گی۔

سوال:۔ ہمارے ہاں مشہور ہے جو کچھ مدت پشاور میں گزار گیا، اس کے دل سے یہ شہر پھر نکلا نہیں؟ آپ کے کیا تاثرات ہیں پشاور کے بارے میں، یہاں گزارے وقت کو کیسے یاد کرتے ہیں؟

احمد اقبال:۔ حی ایسا ہی ہے۔ میں پشاور آتا رہتا ہوں۔

سوال:۔ بہت خوشی ہوئی یہ جان کر جس مصنف کو ہم لوگ مدتوں پڑھتے رہے، اس کی ذہنی تربیت میں ہمارے شہر منتخب عالم پشاور کا حصہ ہے۔ اگر ممکن ہو تو فارغ بخاری یا رضا ہمدانی صاحبان میں سے کسی کے ساتھ گزارے کچھ لمحات ہمارے ساتھ شیئر کریں؟

احمد اقبال:۔ جی وہ دو سال کا یادگار وقت میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میری ابتدائی ذہنی تربیت انہوں نے ہی کی میں نے اس وقت کی پشاور کی مشہور سنگر بادشاہ زرین جان کو اسکی وفات پر خراج تحسین پیش کیا تھا دارالادب پبلشرز کا مالک ارشاد میرا جگری دوست تھا میں نے پشاور کی ثقافتی تاریخ پر بہت پوسٹ لگائی ہیں۔

سوال:۔ ’’شکاری‘‘ کی رابعہ خیالوں میں ایک مدت تک چھائی رہی۔ ایک منظر میں بیان تھا کہ رابعہ نے نیلے رنگ کی ساڑھی پہنی ہے، ساڑھی پہ پیلے پھول ہیں۔ احمد صاحب سے آج کی نسل شادی کے حوالے سے بہت عمدہ مشورے لے سکتی ہے، آپ کی جہاں دیدگی کا یہ پہلو کہیں بھی کھل کے نہیں آ سکا۔ اس ضمن میں آپکا مشاہدہ بہت جدید، گہرا اور عملی ہے۔ آپکی دانش سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔

احمد اقبال:۔ میں نے بتایا کہ مجھے اپلائیڈ سایکالوجی سے بہت دلچسپی تھی اور میں نے اپنی تعلیم کے دوران لاہور کے پاگل خانے میں دو ماہ کیس اسٹیڈی کی تھی۔ پھراپنی فیملی فرینڈز اور محلے میں بارہا میں نے خاندانی تنازعات کو کامیابی سے نمٹایا، ان میں ایک طلاق نہ ہونے دینا۔

سوال:۔ سر، لگتا ہے خود آپ بھی شکاری کا شکار ہو گئے کیونکہ اس کے بعد مداری اس طرح قاری کو گھائل نہ کر سکی جیسے شکاری نے کیا؟

احمد اقبال:۔ آپ نے صحیح فرمایا۔ در اصل فن کا ہر شہکار سر زد ہوجاتا ہے اور ایک بار ہی تخلیق ہوتا ہے۔ جیسے کہ مصوری میں مائیکل اینجلو کی مونا لیزا۔ موسیقی میں بیتھوون کی پانچویں سمفنی۔ راج کپور کی ’’میرا نام جوکر‘‘۔

سوال:۔ آپ حقیقت پسند لگتے ہیں نا کہ خود فریبی کا شکار؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے کبھی فلم کے لئے رابطہ نہیں کیا جبکہ میرے خیال میں آپ کسی سے بھی بہتر کہانی اور اس سے بھی بہتر ڈائلاگ لکھنے پر قادر ہیں؟

احمد اقبال:۔ جی متعدد بار۔ پہلی بار 1976 میں پاکستان کی فلم ’’کافی ہائوس‘‘ کے لیے ایف آئی اے کے ڈائیریکٹر قمر الاسلام نے کہا تھا۔ اس میں ممتاز اور محمد علی تھے۔ میں نے معذرت کرلی۔ میں فلمی دنیا کے چکروں سے دور رہنا چاہتا تھا۔ سب سے بڑی آفر 1988 میں بمبئی سے سلمان خان کے والد “سلیم جاوید” کی تھی کہ ہمارا اسٹوری ڈیپارٹمنٹ جوائن کر لو۔ اتنا بڑا قدم اٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔ ایک پیشکش گزشتہ سال لاہورمیں ملی تھی لیکن وہ اپنے قدراں اور دوست صحافی مشہور کالم نویس تھے ان کا نام نہیں بتا سکتا۔ آفرز اور بھی کچھ دلچسپ ملیں۔ شہباز شریف کے سیکرٹریٹ سے ایک خاتون سیکشن آفیسر سبینہ بٹ ایک لاکھ ماہانہ پہ بلاتی رہیں مگر مجھے سیاست کی دلدل میں پائوں ہی نہیں رکھنا تھا۔ چلا جاتا تو آج نیب والوں نے لٹکا رکھا ہوتا۔ دنیا ٹی وی نے بھی ایک لاکھ پر اسکرپٹ ڈائریکٹر بلایا تھا لیکن نام اور کام کی مناسبت سے یہ بہت کم تھا۔ سابق چیف سیکرٹری افضل رندھاوا مرحوم اپنی یاد داشتیں لکھوانا چاہتے تھے۔ اردو انگلش میں ان کے پاس فائلوں سے نکالے صفحات، فوٹو کاپی اور کیسٹ ریکارڈ تھے میں نے دیکھے بغیر 5 لاکھ مانگے۔ اس کے ساتھ آفس گاڑی وغیرہ۔ وہ پہلے بہت خفا ہوئے پھر مان گئے۔ میں نے ماڈل ٹائون میں ان کی نئی کوٹھی کی تقریب میں شرکت کی تو وہ 5 لاکھ پر مان گئے جب کام دیکھا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میں نے معاوضہ دس لاکھ کر دیا۔ ان کا ہارٹ فیل ہو گیا سال بعد۔

سوال:۔ حیرانی کی بات ہے۔ آپ معاشی مسائل کی بنا پر اپنے دل کی نہ سن سکے اور پاپولر ادب (ڈائجسٹ) کی قربت پسند کی لیکن فلم جو کہ دنیا بھر میں طاقتور میڈیم مانا جاتا ہے اس سے کنی کترا گئے؟

احمد اقبال:۔ جینے کی مجبوری سب کراتی ہے جناب۔۔۔۔۔!!!!

سوال:۔ آپ نے بوڑھے ماموں اور کالے خان جیسے کردار لکھے۔ کوئی خاص وجہ؟

احمد اقبال:۔ سب سے مشکل صنف ادب ہے۔ کسی کو ہنسانا۔

سوال:۔ بڑا ادب زندگی کی تشریح کرتا ہے یا اسے redefine کرتا ہے؟

احمد اقبال:۔ دونوں کام کرتا ہے کیونکہ اصل میں دونو ں ایک ہیں۔

سوال:۔ موجودہ دور میں آپ نے کہا سر کہ اردو ادب کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے سر؟ آج کل بھی بہت سے اچھے افسانہ نگار اور ناول نگار سامنے آ رہے ہیں، بہت سینیئرز بھی لکھ رہے ہیں تو کیا وہ معیاری نہیں ہے یا آپ کے خیال میں جو بین الاقوامی اسٹینڈرڈ ہے اس کے مطابق ہونا چاہئے (کیونکہ یہ بات تو حقیقت ہے سر کہ ہم ابھی بین الاقوامی معیار کا ادب تخلیق نہیں کر پائے) بس آپ سے ان خیالات کی تصدیق یا تردید جو بھی ہو درکار ہے، رہنمائی فرمائیں؟

احمد اقبال:۔ ایک تو کتابوں کا یہ حال ہے کہ کوئی شائع نہیں کرتا اور نہ کوئی خریدتا ہے۔ سب اپنے پلے سے 300 یا 500 چھپوا کے تقریب رونمائی کراتے ہیں اور اعزازی کاپیاں تقسیم کر دیتے ہیں۔ تارڑ جیسے یا امجد اسلام امجد اور افتخار عارف بکتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ انگریزی کا غالب آنا ہے جو شاید اس صدی سے پہلے زبان نہیں رہے گی پنجابی کی طرح بولی رہ جائے گی۔ جیسے انڈیا میں یہ ہندی کہلاتی ہے۔ بولی جاتی ہے لکھی نہیں جاتی۔ عالمی اردو کانفرنس میں دو سال پہلے یہ موضوع تھا تو علاوہ دیگر کے بھارت کے مشہور نقاد اور ناول نگار ڈاکٹر انیس اشفاق کی( جو گزشتہ سال مجھے اپنا نیا ناول“خواب سراب” دے گئے تھے) اور پاکستان کے نقاد اور محقق اس بات پر متفق تھے کہ اردو کے بولی رہ جانے کے بنیادی اسباب دو ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یہ درس وتدریس کی زبان نہیں ہے میڈیکل انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی زبان انگلش ہے۔ یہ سرکاری مراسلت کی اور عدالتی زبان نہیں ہے۔ اس صدی کے آخر تک انگلش سائنس اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے 6000 زبانوں کا خاتمہ ہو گا اور 300 زبانیں رہ جائیں گی۔

سوال:۔ پچھلے برس سی ایس ایس کے لیے اردو زبان کے اطلاق کا قانون پاس ہوا تھا دیکھیں کیا عمل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہی ہے کہ ایک تو مصنف کو کاپی رائٹس اور معاوضہ نہیں ملتا( سر اس کی وجہ ضرور بتائیں اور یہ بھی کہ اس کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے(اور دوسرا تراجم کی طرف بھی تبھی کوئی آئے گا جسے معقول معاوضہ دیا جائے گا یہ تبھی ممکن ہے جب قومی زبان اردو ہو جاپان چین کوریا وغیرہ کی طرح جرمن، سوئڈش وغیرہ بھی انگلش کو کچھ نہیں سمجھتے۔ جب اردو قومی زبان ہوگی تبھی آگے کے کام ہو سکیں گے۔ اس ضمن میں آپ کا مشورہ بہت اہم ہے۔

احمد اقبال:۔ میں کیا اور میری اوقات کیا۔ آئین ہے سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اب تو بہت دیر ہو چکی ہے۔

سوال:۔ سر ہمارے لیے تو ہے کم از کم ایک بزرگ کا مشورہ تو ہم تک پہنچ جائے گا۔ حکومتوں نے پہلے کسی بزرگ دانشور کی سنی ہے جو اب سنے گی۔ کیا آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا اور کیا جس سے پیار ہوا تو اس کو پا لیا یا گنوا دیا؟

احمد اقبال:۔ جواب کے لیے آپ سرگزشت دیکھئے۔

سوال:۔ کیا فنی لحاظ سے اردو ادب روبہ زوال ہے یا ترقی کر رہا ہے؟ عالمی ادب میں اردو ادب کو کہاں دیکھتے ہیں؟

احمد اقبال:۔ عالمی ادب میں تو ابھی فیض کے علاوہ دو چار شعرا کے تراجم ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی کے لازول ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کا ترجمہ کولمبیا یونیورسٹی میں ان کی بیٹی نے کیا ہے۔ نوبل پرائز ادب پر صرف ٹیگور کو ’’گیتانجلی‘‘ پر ملا ہے۔ عربی میں مصر کے نجیب محفوظ کو مل چکا ہے۔ اردو کے مقام کا تعین آپ خود کر سکتے ہیں۔ کتابوں کی تعداد اشاعت انتہائی کم اور ادبی رسائل کے بند ہونے، مشاعروں کی روایت ختم ہونے سے اندازہ کرنا کیا مشکل ہےکہ اردو ادب کتنا رو بہ زوال ہے۔

سوال:۔ ادیب کا بنیادی کام کیا ہے؟ پاپ فکشن کی تعریف آپ کے نزدیک کیا ہے؟

احمد اقبال:۔ ادیب کام نہیں کرتا۔ تخلیق کرتا ہے جیسے مصور یا موسیقار۔ ادب کوئی پیشہ بھی نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے پڑھ کے اختیار کر لے۔ پاپ فکشن اگر ہے تو میں نے پڑھا نہیں۔

سوال۔ آپ نے کہا ادیب کو مبلغ نہ سمجھا جائے تو پھر تخلیق کاری کو کہاں فٹ کیا جائے گا؟

احمد اقبال:۔ جہاں دنیا نے فٹ کر رکھا ہے۔ تخلیق کار تو سب ہیں۔ شاعرادیب، مصور، موسیقار۔ ان کو نوبل پرائز بھی ملتا ہے اپنے کام پر۔ آپ کا معاشرہ ان کو جو حیثیت چاہے دے

سوال:۔ سر آپ اپنی تخلیق کو ادب عالیہ کا درجہ کیوں نہیں دیتے؟ کیا یہ وہ نہیں جو آپ لکھنا چاہتے تھے یا اسلئے کہ یہ ادب وہ ہے جو آپ نے دوسروں کی خواہش یا پسند کو مدنظر رکھ کر لکھا؟ کیا کبھی ایسا موقع آیا کہ آپ کو کہانی ایڈیٹر یا کسی اور فرمائش یا خواہش پر تبدیل کرنا پڑی ہو یا اسکے کرداروں سے وہ کام کروانا پڑا ہو جس کی بادی النظر میں ان کرداروںسے توقع نہیں رکھی جا سکتی؟

احمد اقبال: میرا خیال ہے ہمارے یہاں “ادب” اسے سمجھا جاتا ہے جو ‘ادبی پرچے میں شائع ہوتا ہو۔ کیا ایسا نہیں کہ ناقدین کو “ادبی پرچا” میں شائع مواد ہی کو “ادب” کہنے پر اصرار نے یہ الجھن پیدا کی ہے۔ آپ کی نظر میں ابن صفی نے ادبی کام نہیں کیا۔ اسی طرح یہ سوال بھی کہ ناقدین نے “ادبی اصول” مغرب سے مستعار لیے تو کیا اردو ادب کے ناقدین اس درجے پر ہیں کہ اعلا ادب کی شناخت کر سکیں۔ کیا ہمارے یہاں تخلیق کار سے زیادہ ناقدین کی کمی نہیں۔ شکاری میں چوہدری دلاور کا کردار سکندر سے بھی مضبوط محسوس ہوتا ہے ۔ آپ کی نظر میں آپ کے ان کرداروں میں سب سے مضبوط کردار کونسا ہے۔

سوال: عمران سیریز لکھنے کا تجربہ کیسا رہا ؟ پر مواد غالباً آپکا تشکیل دیا ہوا کردار تھا۔ اس بابت بھی کچھ فرمائیے؟

احمد اقبال۔ عمران سیریز اور پرمود یتیز میں نے نہیں لکھے۔

سوال:۔ آپ کے خیال میں کیا ہمارے ہاں تخیل نگاری، حقیقت نگاری سے زیادہ سراہی جاتی ہے، اگر ہاں تو کیوں؟

احمد اقبال:۔ تخیل نگاری اصل میں داستان گوئی ہے الف لیلہ کے وقت سے طلسم ہوش ربا اور ڈائجسٹوں کی مافوق الفطرت کرداروں والی کہانیوں تک ایک ہی سلسلہ ہے جن بھوت چڑیل خلائی مخلوق سپرمین کردار ہارر مووی سب میں بچے بڑے کی دلچسپی کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذہنی سطح پر رومانی کہانیاں اور فلمیں زیادہ مقبول ہیں حقیقت نگاری میں زندگی کے تلخ حقائق غالب رہتے ہیں جو تفریح فراہم نہیں کر سکتے تو یہ ادب کم پڑھا جاتا ہے۔ اب یہ خود ستائشی نہیں کہ شکاری سے میں نے پہلی بار مافوق الفطرت کرداروں والی کہانیوں کا طلسم توڑا اور ثابت کیا کہ ہم جیسے عام انسانوں کی زندگی کی کہانی بھی پسند کی جاسکتی ہے۔ اس کا کوئی کردار نہ کشتوں کے پشتے لگا سکتا تھا نہ کسی کا خیال پڑھ سکتا تھا نہ غیب کا حال جان سکتا تھا۔ رابعہ سکندر نازو غالب سو فی صد میرے آپ جیسے انسان تھے۔

بشکریہ دانش ویب سائٹ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ۔۔۔سیف خان

محترمہ روبینہ رشید سے مکالمہ سیف خان جے ڈی پی میں اپنی تیکھی, کرائم کہانیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے