سر ورق / ناول / بلاوا …خورشید پیر زادہ قسط نمبر5

بلاوا …خورشید پیر زادہ قسط نمبر5

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر5

”امان کس لڑکی کے بارے میں پوچھ رہا تھا؟-“ نندنی نے کوشل کا فون بند ہوتے ہی پوچھ لیا-

”وہ- پتہ نہیں- یاد نہیں آرہا- لیکن اپنے لئے نہیں کسی اور کے لئے پوچھ رہا تھا- مگر اپنی کالونی میں تو کوئی نیرو-“ کوشل کو بولتے بولتے نام یاد آگیا- ”ہاں- نیرو نام کی لڑکی کو پوچھ رہا تھا- اپنے علاقے میں تو اس نام کی کوئی نہیں ہے نا؟-

”ارے وہ شینو— جو کونے والے بڑے سے گھر میں رہتی ہے- اسی کا تو نام ہے نیرو-“ نندنی نے کہا

”اچھا- مگر تمہیں کیسے پتہ- اس کو تو سب شینو کے نام سے ہی بلاتے ہیں-وہ تو بہت پیاری ہے یار- جسے ملے گی اس کی قسمت جاگ جائے گی— “

” نہیں— مجھے نہیں لگتا کہ یہ بات ہوگی- وہ تو گھر سے ہی بہت کم نکلتی ہے- اور لڑکوں کی طرف تو دیکھتی تک نہیں – وہ نیرو نہیں ہوگی- یا پھر کوئی دوسری ہی بات ہوگی-“

”پکا- وہ نیرو ہی ہے نا؟-“ کوشل نے بولتے بولتے فون نکال لیا-

”ارے ہاں پکا پتہ ہے-مجھے- اپنی کالونی میں تو بس وہی ایک نیرو ہے-“ نندنی نے زور دے کر کہا-

”ٹھیک ہے—- ایک منٹ– میں امان کو بتادوں-“ یہ کہہ کر کوشل نے امان کا نمبر ڈائل کیا- امان نے فون اٹھا کر دیکھا اور واپس رکھ دیا-

”کیا ہوا- کس کی کال تھی؟-“ شیکھر نے امان کو کال ریسیو نہ کرتے دیکھ کر پوچھا-

”وہی یار- کوشل- یہ لڑکیاں پکا دیتی ہیں فون کرکرکے- کئی بار تو رات کے دو دو بجے فون کرکے پوچھے گی- کیا کر رہے ہو جانو- ہا ہا ہا-“ امان ہنستے ہنستے روہن کا غمگین سا چہرہ دیکھ کر چپ ہو گیا-”کیا ہوگیا ہے یار- ہو جاتا ہے— تم اتنے سنکی کیوں ہو رہے ہو- تمہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک اچھی لڑکی مل جائے گی- ٹائم پاس کے لئے بھی اور مستقل بھی- کہو تو آج ہی بلاﺅں ایک ٹائم پاس- مست لڑکی ہے- دیکھتے ہی گھنگھرو بجنے لگیں گے دل میں-“

”ہاں بلا لے یار-“ رویندر چہکتے ہوئے بولا-

”تمہارا دل نہیں بھرا اب تک- بول روہن کیا کہتا ہے-“ شیکھر نے رویندر کو ڈانٹتے ہوئے روہن سے پوچھا-

”مجھے نیند آرہی ہے-“ روہن نے اتنا ہی کہا تھا کہ امان کا فون پھر بج اٹھا-

”کیا ہے یار- تمہیں پتہ ہے نا کہ آج یار دوست آئے ہوئے ہیں- دوبارہ فون مت کرنا-“ امان نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا-

”ایک منٹ- ایک منٹ- فون مت کاٹنا — وہ نیرو ہے ایک ہمار ی کالونی میں- کیا کرنا ہے اس کا؟-“ کوشل نے جلدی جلدی بولتے ہوئے کہا-

امان تو حیرت اور خوشی سے اچھلتا ہوا کھڑا ہوگیا-

”کیا ؟— نیرو مل گئی-“ امان کی بات سنتے ہی سب کے چہرے کھل اٹھے- اور وہ سب بھی امان کے ساتھ کھڑے ہوگئے- روہن کا چہرہ تو خوشی کے مارے چمکنے لگا تھا-

کوشل امان کی حیرت کو سمجھ نہیں پائی- ”ایسا کیا ہوگیا-“

”مگر پہلے تم نے منع کیوں کر دیا تھا؟-“ امان نے اس کی نہ سنتے ہوئے اپنا سوال کیا-

”وہ یہاں سب اس کو شینو کہتے ہیں- مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کا اصلی نام نیرو ہے- ابھی نندنی نے بتایا ہے-“

کوشل نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ روہن نے امان کے ہاتھ سے فون چھین سا لیا-

”کیسی ہے وہ؟— مطلب دیکھنے میں؟-“

”تم کون ہو؟-“ بدلی ہوئی آواز سن کر کوشل نے پوچھا-

”میں روہن ہوں-“ روہن کا دل بلیوں اچھل رہا تھا بولتے ہوئے-

”کیوں؟— رشتہ آیا ہے کیا اس کا تمہارے لئے-“ کوشل نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا-

”نہیں- وہ- مگر-“ روہن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے-

”نہیں- تو ایسا کرو کہ اس کا خیال بھی اپنے دماغ سے نکال دو- وہ ایسی ویسی نہیں ہے- بالکل الگ ٹائپ کی ہے- ساری لڑکیوں سے الگ- تم سمجھ رہے ہو نا- وہ کبھی کبھار ہی گھر سے نکلتی ہے- سیدھی کالج جاتی ہے- سیدھی آتی ہے- لڑکوں کی طرف دیکھتی بھی نہیں ہے- اور نہ ہی کبھی انہیں اپنے پاس پھٹکنے دیتی ہے- وہاں کوشش کرو گے تو اپنا وقت ہی برباد کرو گے- سمجھ گئے-“ کوشل نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی روہن کو سمجھانے میں-

”ہاں- مگر لگتی کیسی ہے- یہ تو بتا دو-“ روہنکا دل اب بھی نہیں مانا-

”کوئی لڑکی کسی لڑکے کے سامنے دوسری لڑکی کی تعریف نہیں کرتی-ہی ہی ہی- آل دی بیسٹ- امان کو فون دو-“ کوشل نے کہا-

روہن نے فون امان کو پکڑایا اور صوفے پر جاکر بیٹھ گیا- امان نے فون لیتے ہی کان سے لگا لیا-”ہاں-“

”میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا معاملہ ہے-“ کوشل نے کہا-

”تم اس بات کو چھوڑو- تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا-“ امان بولا-

”کیا؟-“

”نیرو کو بتانا ہے کہ اس سے کوئی ملنے آیا ہے- اور ہو سکے تو اس کو بلا کر لانا ہے-“

”نہیں یار- میں بتا تو رہی ہوں- بلاکر لانا تو دور کی بات ہے -اگر اس کے سامنے اس طرح کی بات بھی کر دی تو بات گھر تک پہنچ جائے گی- میں کچھ نہیں کر سکتی- سوری-“ کوشل نے مایوس ہوکر کہا-

”تیری سوری کا کیا میں اچار ڈالوں گا-“ امان نے غصے ہوکر فون کاٹ دیا-

”اوئے دیکھو ذرا- میرے یار کا چہرہ کتنے دنوں بعد کھلا ہے- اب تو نیرو بھابھی کو یہاں سے لے کر ہی جائیں گے- ٹیلے پر-“ روہن کے چہرے پر خوشی دیکھ کر نشے نے رویندر کا سرور اور بڑھا دیا-

”مگر یار کوشل نے تو صاف منع کر دیا ہے- ہم اس تک پہنچیں گے کیسے؟— مطلب بات کیسے کریں گے؟— ویسے بھی کوشل بتا رہی تھی کہ وہ تو نہایت ہی شریف لڑکی ہے- کوئی نہ کوئی تو راستہ ڈھونڈنا ہی پڑے گا-“ امان نے اپنے دماغ پر زور دیتے ہوئے کہا-

”چلو اب چھوڑو- اب آرام سے سوجاﺅ- کل صبح دیکھیں گے-“

”امان بھائی ایک بار اس کا گھر پوچھ لیتے تو- ابھی جاکر دیکھ آتے-“ روہن بہت زیادہ بے چین ہو گیا-

”کمال کرتا ہے یار- رات کے نو بجے- اور وہ بھی ایسی لڑکی جو بلاوجہ گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں- تمہیں گھر کے باہر ملے گی کیا تمہیں اپنی شکل دکھانے کے لئے-“ امان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا-

”نہیں- وہ- بس ایسے ہی- باہر سے یونہی دیکھ آتے-“ روہن نے اپنا سر جھکاتے ہوئے امان اور شیکھر کی طرف دیکھا-

”چلو بھائی- گاڑی باہر نکالو- بھابھی جی کا گھر دیکھ کر آتے ہیں- ابھی کے ابھی-“ نشے میں جھومتا ہوا رویندر کھڑا ہوگیا- شیکھر نے بھی کندھے اچکا دیئے تو امان کھڑا ہو گیا-

” چلو پھر – باہر کی ہوا کھا کر آتے ہیں-“

گاڑی میں جاتے ہوئے امان نے کوشل کو فون کیا-”کوشل-“

”اب کیسے آگئی میری یاد- جانو– دوست گئے کیا-“ کوشل نے انگڑائی لیتے ہوئے سیدھے لیٹ کر کتاب اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا- نندنی پاس ہی بیٹھی تھی-

”میں ذرا جلدی میں ہوں- وہ نیرو کے گھر کی لوکیشن بتا دو-“ امان سیدھا مطلب کی بات پر آگیا-

”یہاں آرہے ہو کیا-“ کوشل خوشی سے اچھل پڑی-

”ہاں- اب بتاﺅ بھی-“

”مجھے بھی لے چلنا اپنے ساتھ-“

”پاگل تو نہیں ہے- کیسے لے جا سکتا ہوں میں-“

”اس دن بھی تو لے کر گئے تھے رات کو- نندنی یہاں سنبھال لے گی- مجھے سویرا ہونے سے پہلے چھوڑ جانا- — لگتا ہے اب تمہارا مجھ سے دل بھر گیا ہے-“ کوشل نے مری ہوئی آواز میں کہا-

”یار سمجھنے کی کوشش کرو- میرے دوست آئے ہوئے ہیں- آج صبر کر لو- ایک دو دن میں وعدہ رہا- اب تم مجھے جلدی سے نیرو کا گھر بتا دو- ہم گورنمنٹ کالج کے پاس پہنچ گئے ہیں-“ امان نے اسے وعدے پر ٹرخاتے ہوئے کہا-

”ہمارا گھر یاد ہے نا؟-“

”ہاں-“

”اسی گلی میں جب تم ہمارے گھر کی طرف آﺅ گے تو جو دوسرا والا چوراہا ہے- اس چوراہے پر ہی اس کا گھر ہے – بڑا سا- ڈارک گرے کلر کا رنگ ہے- مگر ابھی وہاں جا کر کرو گے کیا؟-“ کوشل نے گھر بتانے کے بعد سوال کیا-

”اوکے بائے- تھینکس-“ امان نے کہا اور فون کاٹ دیا-چوراہے پر پہنچتے ہی امان کو کوشل کا بتایا ہوا گھر مل گیا-دو گلیوں کے سنگم پر خوبصورت دو منزلہ عمارت کے دونوں اطراف گیٹ تھے-

”لے بھائی روہن- مل گیا نیرو کا گھر- اب بول کیا کرنا ہے؟-“ امان نے گاڑی چوراہے سے پہلے ہی روک دی- نیرو کا گھر ملنے کی بات سنتے ہی روہن لرز سا گیا- اس کی دھڑکنیں بڑھنے لگیں- اس کو دل ہی دل میں ایسا لگا جیسے وہ پرانے ٹیلے پر کھڑا ہے اور نیرو دور سے اس کو پکار رہی ہے- روہن نے گھر دیکھتے ہی آنکھیں بند کر لیں- مگر نیرو کی اس کے دماغ میں جو تصویر ابھری وہ شروتی کی تھی-

”واپس چلو-“ روہن کے ماتھے پر پسینہ چھلک آیا-

”اب کیا ہوا؟-“ شیکھر نے کہا –

”کچھ نہیں بس گھر دیکھنا تھا – دیکھ لیا- اب چلو-“ روہن نے کہا اور امان نے چوراہے سے گاڑی گھما لی-کچھ آگے جا کر ان کو ایک کچا راستہ بائیں طرف جاتا دکھائی دیا-

دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس راستے پر اتفاق کیا اور اس راستے پر چل پڑے-

”اف خدایا- یہاں تو کیچڑ ہی کیچڑ ہے- چلو واپس چلو- یہ راستہ نہیں ہے-

٭٭٭٭٭٭٭

نتن دل ہی دل میں اس لڑکی کو کوس رہا تھا جس کے پیار میں پاگل روہن نے اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی خوار کر دیا تھا-

”کہاں ہو یار تم— کل صبح سے تمہارا فون ٹرائی کر رہا ہوں- فون کیوں آف کر رکھا ہے-“ نتن کے پاس صبح اٹھتے ہی جب روہن نے رویندر کے نمبر سے اسے فون کیا تو وہ خوشی جھوم اٹھا-

”وہ- فون کھو گیا ہے بھائی- میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ میں رویندر کے ساتھ عمر کوٹ جا رہا ہوں- وہیں ہو ں میں ابھی-“ روہن نے جواب دیا-

”ہاں بتایا تھا- مگر رویندر کا نمبر میرے پاس کہاں ہے- گھر بھی گیا تھا وہاں سے بھی نہیں ملا- تم پہلے بھی تو فون کر سکتے تھے- پتہ ہے کتنا پریشان ہوں میںتمہارے لئے-“ نتن نے مری ہوئی آواز میں روہن کے لئے فکرمند ہونے کا ناٹک کیا-

”پتہ ہے بھائی- لیکن یہاں آنے کے بعد وقت ہی نہیں ملا- ابھی صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے آپ کو فون کیا ہے— پتہ ہے-“ روہن چہکتی ہوئی آواز میں بولنے لگا تھا کہ نتن نے اس کو ٹوک دیا-

”سنو- میں نے شروتی سے سب اگلوا لیا ہے- دراصل تمہارے خوابوں کے پیچھے اور کوئی نہیں ہے- وہی ہے- میں اس عامل سے بھی مل آیا ہوں‘ جس نے اس کی مدد کی تھی- تم اپنا وہم چھوڑو اور واپس آجاﺅ-“

نتن کی بات سے روہن کو ایک جھٹکا سا لگا- وہ بوکھلاتا ہوا سابولا- ”مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟-“

نتن نے ایک بار پھر اس کو بیچ میں ہی ٹوک دیا- ”ہو سکتا ہے نہیں یار- یہی ہوا ہے- تم واپس آﺅ گے تو میں تمہیں سب بتا دوں گا- مگر یار اس کی نیت غلط نہیں تھی-وہ تم سے بے انتہا محبت کر تی ہے- سچ میں- تم پر جان دیتی ہے وہ- کل جب بول رہی تو بلک بلک کر رو رہی تھی تمہارے لئے- اب تم جلدی واپس آکر اس سے مل لو- پھر میں گھر والوں سے بات کر لوں گا- آرہے ہو نا تم-“

”لیکن یہاں مجھے نیرو مل گئی ہے- اور جیسا مجھے خواب آیا تھا- ٹھیک اسی جگہ-“

روہن کی اس بات نے نتن کے پلا ن پر جیسے گڑھوں پانی ڈال دیا-

”یہ کیسے ہو سکتا ؟-“ نتن نے حیرت سے پوچھا-

”ہاں بھائی- بالکل اسی جگہ اس کا گھر ہے- ایک بات اور بتاﺅں – مجھے خواب میں بھی اکثر یہی گھر دکھائی دیتا ہے- بالکل ویسا ہی- کل جب میں نے وہ گھر دیکھا تو اسے دیکھتے ہی میرے پسینے چھوٹ گئے تھے–“ روہن نے اپنی بات پوری کی-

”دیکھنے میں کیسی ہے ؟-“ نتن دل مسوس کر بولا-

”میں نے دیکھا نہیں ہے ابھی- لیکن سب پتہ کر لیا ہے- اس کا نام نیرو ہی ہے- مگر یہاں سب اس کو شینو کہتے ہیں- بہت شریف لڑکی ہے- کبھی بلا وجہ گھر سے باہر نہیں نکلتی- او رکہتے ہیں کہ بہت خوبصورت بھی ہے-“ یہ کہتے ہوئے روہن کی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں-

”دیکھو – تم مجھے بھائی کہتے ہو نا- اس لئے بڑے بھائی کے ناطے سمجھا رہا ہوں- ابھی کے ابھی واپس آجا- ورنہ کسی بڑی مصیبت میں پھنس جاﺅ گے- شروتی بھی کم خوبصورت نہیں ہے یار— اورمیں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ تیری نیرو‘ شروتی سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو سکتی- تمہیں اتنا پیار کرتی ہے کیا بتاﺅں- اور اس کی شرافت تو تم دیکھ ہی چکے ہو- اس کا قصور صرف اتنا سا ہے کہ وہ تم سے پاگل پنے کی حد تک پیار کرتی ہے- بس کہنے سے شرما رہی تھی-“ نتن اپنی ہی بات پر زور دیئے جا رہا تھا کہ روہن نے اس کو ٹوک دیا-

”مگر بھائی اس نے تو پہلے کبھی مجھے دیکھا بھی نہیں تھا- پھر وہ مجھ سے پیار کب سے کرنے لگی- او رمان لو کہ مجھے کہیں دیکھا بھی ہوگا تو بنا جانے میرے لئے کسی عامل وامل کے پاس کیوں جائے گی- بولو-“

نتن ان باتوں کا جواب دینے کے لئے تیار نہیں تھا- اس کے دل میں تو یہی تھا کہ روہن کو کوئی نیرو ملنے والی نہیں ہے- اور جیسے ہی اس کو وہ بتائے گا کہ شروتی ہی وہ سب کر رہی تھی تو وہ اس پر یقین کرکے واپس دوڑا چلا آئے گا-

”تم آﺅ گے تبھی تو بتاﺅں گا نا- یہاں فون پر کیسے سمجھاﺅں- بہت لمبا معاملہ ہے- آ رہے ہو نا آج؟-“

روہن کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا- ”میں— میں تھوڑی دیر بعد فون کرتا ہوں بھائی-“

”جیسے تمہاری مرضی- مگر مجھے تمہارے فون کا انتظار رہے گا-“ نتن نے فون کاٹا اور غصے سے بیڈ پر پٹک دیا- اس کو آج پھر شروتی سے ملنے جانا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

”کیا ہوا یار-“ روہن کے چہرے پر الجھن دیکھ کر رویندر نے پوچھا-

”کیا بتاﺅں یار- کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے-“ اور روہن نے اس کو نتن کے ساتھ ہونے والی پوری بات بتادی-

”ایک بات بولوں-“ رویندر سنجیدہ ہوکر بولا-

”ہاں- بولونا-“ روہن اس کی طرف دیکھنے لگا-

”دیکھ دل سے بڑا کچھ نہیں ہوتا- تم صرف اپنے دل کی بات سنو- اور خود فیصلہ کرو- نتن بھائی کی بات مان بھی لیں تو پھر بھی ایک سوال کا جواب تو نہیں ملتا نا-“ رویندر نے کہا-

”وہ کیا؟-“ روہن غور سے اس کی بات سنتا ہوا بولا-

”وہ یہ کہ اگر مان بھی لیں کہ شروتی تمہارے پیار میں یہ سب ٹوٹکے کروا رہی تھی تو وہ اپنا نام نیرو کیوں بتاتی- شروتی نے اپنا نام کیو ں نہیں بتایا- اور عمر کوٹ کا ایڈریس کیوں دیتی- بولو- سوچنے کی بات ہے کہ نہیں- اور یہاں عمرکوٹ میں نیرو ہمیں مل بھی گئی ہے- اور اس کا گھر- سب سے بڑی بات تو اس کا گھر ملنا ہے- جس کے بارے میں تم نے کل آکر بتایا تھا کہ تمہیں خواب میں وہی گھر دکھائی دیتا ہے- اس لئے تمہیں ڈر کے مارے پسینہ آگیا-“ رویندر نے بات پوری کرکے کہا-”اب بولو- کیا کہتا ہے تمہارا دل-“

”میرا دل یہ کہتا ہے کہ تم اپنا فو ن آف کر دو-“ روہن مسکراتے ہوئے بولا-”تجھ میں اتنی عقل آئی کہاں سے- میں نے تو یہ سب سوچا بھی نہیں- فون آف کردے- ابھی ہمیں وہیں چلنا ہے- نہا دھو لو-“

”کہاں چلنا ہے؟-“

”وہیں یار- میری سسرال- تیری بھابھی کو دیکھ کر ہی آئیں گے آج- چاہے پورا دن وہیں گزر جائے-“ روہن ہنسنے لگا-اس کے چہرے کی کھوئی ہوئی رونق لوٹ آئی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

روہن اور رویندر چوراہے پر کھڑے تھے- امان اور شیکھر کو انہوں نے گلی کے کونے سے ہی واپس بھیج دیا تھا- کھڑکیوں کے اندر لہرا رہے پردے‘ کاپر کلر کا گیٹ- دیواروں کا رنگ- سب کچھ روہن کا جانا پہچانا سا تھا- اس لئے تھوڑا بے چین تھا-

”یار کسی نہ کسی کو تو باہر آنا چاہئے- پتہ نہیں اندر کوئی ہے بھی یا نہیں-“ روہن نے بے تاب ہوکر کہا-

”آجائے گا یار- یہاں بیٹھ کر آرام سے مونگ پھلی کھاتے ہیں- کبھی نہ کبھی تو بھابھی جی کا دیدار ہوہی جائے گا-“ رویندر نے کہا- دونوں ایک مونگ پھلی کے ریڑھے والے کے پاس سامنے والے گھر کے چبوترے پربیٹھے تھے-اچانک گھر کے اندر سے آنے والی آواز نے دونوں کو اچھلنے پر مجبور کر دیا-

”شینوبیٹی- میں مارکیٹ جا رہی ہوں- آکر دروازہ بند کرلو-“

”آئی امی- جاﺅ آپ – میں بند کرلوں گی- جلدی آجانا- مجھے ٹیوشن بھی جانا ہے-“

باہر بیٹھ کر آواز پر کان لگائے روہن اور رویندر کو اندازہ لگانے میں دیر نہ ہوئی کہ بعد میں آنے والی نہایت سریلی آواز صرف اور صرف نیرو کی ہی تھی-

”یار آواز تو بڑی پیاری ہے- خدا کرے شکل بھی آواز کے مطابق ہی ہو-“ رویندر نے دعا کرتے ہوئے کہا-

”پتہ ہے رویندر- جب ہم عمر کوٹ کے لئے چلے تھے تو میں صرف یہی سوچ رہا تھا کہ ایک بار ‘ صرف ایک بار دیکھ کر آنا ہے‘ میرے خواب میں سچائی ہے بھی یا نہیں-سیرئیسلی مجھے نیرو سے کوئی لینا دینا نہیں تھا-مگر یار یہاں کی آب و ہوا‘ یہ گھر‘ یہ چوراہا‘ اور یہ آواز‘ سب کچھ اپنا اپنا سا لگ رہا ہے یار- ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ سب میرے لئے نیا ہے- ایسے لگ رہا جیسے – یہیں پر رہنے لگ جاﺅں- یہ آواز سنتا رہوں- سچ یار- مجھے یہاں بہت سکون محسوس ہو رہا ہے- کوئی تو بات ہوگی نا؟— وہ بھی میرا یونہی انتظار کر رہی ہوگی یا نہیں— اگر اس نے میری بات سننے سے صاف منع کر دیا تو-“ روہن آنکھوں ہی آنکھوں میں کہیں اور کھویا ہوا تھا-

”ابھی سے اتنی لمبی مت سوچ یار- دیکھ آنٹی جی آرہی ہیں- یہ ہی تمہاری ساسو ماںہے- غور سے دیکھ لے-“ کہتے ہوئے رویندر کھڑا ہوگیا اور سر جھکا کر سلام کرنے لگا-“

”نمستے آنٹی جی-“ روہن کے چہرے پر گھبراہٹ ابھر آئی-

”نمستے بیٹا-“ کہہ کر آنٹی جی رک گئیں-” کچھ کام ہے بیٹا؟-“

”نہیں- بس یونہی آنٹی جی- آپ بڑی ہیں- بزرگ ہیں ہماری- بس اس لئے-“ رویندر ابھی بھی سر جھکائے کھڑا تھا-

”بھگوان تمہارا بھلا کرے بیٹا- جگ جگ جیو-“ کہہ کر آنٹی جی مسکرائیں اور آگے بڑھ گئیں-

”اوئے مروائے گا کیا—ایسے کیوں کیا؟-“ روہن آنٹی جی کے جاتے ہی رویندر کو لتاڑنے لگا-

”ہی ہی ہی- بھائی- میں تو ابھی سے جان پہچان کررہا ہوں- شادی کے بعد بھابھی جی کو لینے تمہارے ساتھ مجھے ہی تو آنا ہے- اور پھر دیکھ- دعا بھی مل گئی-“ رویندر کو روہن کی لتاڑ سے کوئی فرق نہیں پڑا-

”تم بھی گھن چکر ہو پورے کے پورے-اگر آج نیرو نہیں دکھائی دی تو؟ انہوںنے اب تمہارا چہرہ بھی یاد کر لیا ہوگا- آج کے بعد میرے ساتھ یہاں مت آنا-“ روہن نے غصہ ہوتے ہوئے کہا-

”چھوڑ نا یار- آج کے بعد یہاں آنا ہی نہیں پڑے گاتمہیں- باہر ہی ملنا بھابھی جی سے- ایک منٹ- میں ابھی آیا-“ رویندر نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا-

”اوئے کیا کر رہے ہو یار- کہاں جا رہے ہو- واپس آجاﺅ-“ روہن ہڑبڑا کر کھڑ اہوگیا- رویندر نے واپس مڑ کر بتیسی دکھائی اور روہن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گیٹ پر پہنچ کر بیل بجا دی- تبھی اس کو گیٹ کی جھریوں کے بیچ سے ایک لڑکی کے آنے کا احساس ہوا تو وہ گیٹ کھلنے کا انتظار کرنے لگا-

”ہاں جی-“ لڑکی نے کہا

”تم؟-“ لڑکی اور رویندر کے منہ سے ایک ساتھ تم نکلا- رویندر دو قدم پیچھے ہٹ گیا- دروازے پر ریتو کھڑی تھی- وہی پتلی اور لمبی خوبصورت سی لڑکی جس کے ساتھ رویندر کی بس میں اور پھر کار میں مڈبھیڑ ہوئی تھی-

”آ- آ‘ ہاں جی- مگر آپ کا نام تو ریتو ہے نا-“ رویندر بوکھلاتے ہوئے بولا-

”ہاں تو؟- یہاں کیا لینے آئے ہو؟—- تمہیں کیسے ملا یہ گھر-“ ریتو نے تنکتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ کولہوں پر جما لئے-

”وہ-وہ– ہم تو— ایسے ہی آگئے تھے جی– بھٹکتے ہوئے– معاف کرنا– مگر — وہ– کہاں ہیں؟-“ رویندر نے اٹکتے اٹکتے اپنی بات پوری کی-

”وہ کون؟—- تمہیں چاہئے کیا؟-“ ریتو کی آواز تیز ہوکر اب روہن کے بھی کانوں میں پڑنے لگی تھی-

ریتو کے غصے سے بولنے کی وجہ سے رویندر ابھی تک سنبھل بھی نہیںپایا تھا–

”وہ— وہ— بھابھی جی-“

”کون بھابھی جی؟—- تمہارا دماغ خراب ہے کیا— یہاں کوئی بھابھی جی نہیں رہتی- تم آخر کیا لینے آئے ہو؟-“ جیسے ہی ریتو نے اس کو کھری کھری سناتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کیا‘ رویندر کو ایک بہانہ سوجھ گیا-

”ہمارا فون— اوئے روہن آجا – مل گیا تیرا فون- میرا شک صحیح تھا کہ انہوں نے ہی چرایا ہے- شکل سے ہی پتہ لگ رہا تھا کہ انہی کا کام ہے-“ رویندر اب اس کو حاوی ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا-

”فون؟-“ روہن کی سمجھ میں ابھی تک نہیں آیا تھا کہ وہ کس لئے گیا تھا اور اب کیا بک رہا ہے- مگر رویندر کے بلانے پر وہ دل ہی دل میں اس کو گالیاں دیتا ہوا گیٹ پر پہنچ ہی گیا-

”کیا ہوا؟-“

”ارے تمہارا فون- یہ دیکھ اس کے ہاتھ میں-“ رویندر ‘ ریتو کے ہاتھ میں روہن کے جیسا فون دیکھ کر اس کو سر پر چڑھانے لگا-

اب ہڑبڑانے کی باری ریتو کی تھی- اس طرح سے خود پر گلی میں الزام لگاتے دیکھ کر وہ بوکھلا گئی-

”ہمیں تو یہ— بس میں ملا تھا-“ ریتو کی نظریں جھک گئیں-

”اچھا- بس میں ملا تھا- بس میں تو میں بھی ملا تھا- مجھے کیوں نہیں اٹھا لائیں تم- بولو- کہہ دیتی گھر والوں سے کہ بس میں پڑا ملا تھا میں-“ رویندر لگاتار اس پر حاوی ہوتا جا رہا تھا-

”یار اب چپ بھی کر- اتنا بولنے کی کیا ضرورت ہے؟-“ روہن نے اس کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”کیوں نہ بولوں میں- گھر آئے مہمان کو پانی پوچھنا تو دور کی بات- عزت اتارنے پر تلی ہوئی ہے محترمہ- اس کو تو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ کیسے میں نے ان کو لفٹ دلوائی تھی-“ رویندر کی آواز اور اونچی ہوگئی-

”آپ- آپ پلیز اندر آجائیں— یہاں تماشہ کیوں کر رہے ہیں؟-“ ریتو نے پوری نزاکت کے ساتھ کہا-

”نہیں- ہمیں نہیں آنا-“ رویندر بول ہی رہا تھا کہ روہن نے اس کو پیچھے سے دھکا مارا-

”چل رہا ہوں نا یار- دھکا کیوں مار رہے ہو-“ اور پھر وہ ریتو کو گھورتے ہوئے اس انداز سے اندر بڑھ گیا جیسے وہ اسی کا گھر ہو-

”آجایئے- آپ اندر بیٹھیں- میں ابھی آتی ہوں-“ کہہ کر ریتو اوپر بھاگ گئی-

”تم اتنا چلا کیوں رہے تھے بے—- میرا پتہ صاف کروانا ہے کیا-“ روہن نے اندر جاکر صوفے پر بیٹھتے ہوئے رویندر کو ڈانٹا-

”اچھا – تم نے میرا چلانا سن لیا-ا س کا نہیں سنا کہ کیسے میری عزت تار تار کر رہی تھی- پھر مجھے اس کے ہاتھ میں تیرا موبائل دکھائی دیا- میں اتنا سنہرا موقع کیسے جانے دیتا – ہی ہی ہی-“ رویندر نے ہنستے ہوئے اپنی چھاتی چوڑی کر لی-

”ٹھیک ہے یار- مگر ہم یہاں نیرو کے لئے آئے تھے- بھول گیا کیا-“ روہن نے ٹھنڈے لہجے میں کہا-

”او تیری- میں تو سچ میں ہی بھول گیا تھا- سوری یار- اب ہم گھر کے اندر تو آہی گئے ہیں- دیکھ-“رویندر اچھل کر بولا-

”چپ- کوئی آرہا ہے-“ روہن کے کہتے ہی دونوں چپ ہوگئے اور نیرو کے کمرے میں قدم رکھتے ہی روہن سدھ بدھ کھو کر کھڑا ہوگیا- اور پلک جھپکائے بنا اسے دیکھنے لگا- حالانکہ وہ اس پری کو پہلے دیکھ چکا تھا مگر اب کی تو بات ہی دوسری تھی- نیلی کڑھائی والے ڈھیلے ڈھالے سوٹ میں وہ وہ سچ مچ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی- اس کے انگ انگ سے نزاکت ٹپک رہی تھی- پھر روہن تو اس کو دیکھنے سے پہلے ہی اپنا مان چکا تھا- اس کا دل اس خوشی کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا– دھیمے دھیمے قدموں سے نظریں جھکائے ہوئے وہ چل کر ان کے پاس آئی اور جیسے ہی جھک کر اس نے ٹرے میز پر رکھی‘ ریشمی بالوں کی ایک لٹ اس کی آنکھوں کے سامنے لڑھک آئی- کھڑی ہوکر اس نے اپنی لٹ کو کان سے پیچھے لے جاتے ہوئے مدھر آواز میں کہا-

”بیٹھیں نا-“ روہن تو کھڑا ہوکر جیسے بیٹھنا ہی بھول گیا تھا-

”جی تھینکس-“ مگر وہ کھڑا ہی رہا-

”ارے بیٹھیں تو سہی- ٹھنڈا لیجئے-“ نیرو نے اس کو پھر ٹوکا-

” جی- جی بیٹھ رہا ہوں-“ نیرو کے چہرے کی خوبصورت میں روہن اس قدر کھو گیا تھا کہ اس بار بھی کھڑا ہی رہا- رویندر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا-

”بیٹھ جا یار-“

”وہ ہاں-“ روہن نیرو کے ٹرانس سے جیسے ابھی آزاد ہوا ہو-

”آپ لیجئے – ہم آتے ہیں-“ یہ کہہ کر نیرو جانے کے لئے مڑی-

”آپ ہی نیرو بھا— جی ہیں نا-“ رویندر کے منہ سے بھابھی جی نکلتے نکلتے رہ گیا- اتنا سنتے ہی نیرو چونک کر پلٹی-

”آپ کو میرا نام کیسے معلوم— یہ نام تو کوئی لیتا ہی نہیں یہاں پر- سوائے امی کے- وہ بھی کبھی کبھار- بچپن میں تھا میرا یہ نام-“ نیرو نے حیرت سے رویندر کو دیکھتے ہوئے کہا-”میرا نام اب شینو ہے- پلیز دوبارہ وہ نام مت لینا-“

”دیکھ لو جی- ہیں نا ہم کمال کے- ہم تو آپ کے پچھلے جنموں کی باتیں بھی جانتے ہیں-“ رویندر نے مسکراتے ہوئے کہا- نیرو نے اس بات کو مذاق سمجھا-وہ ہلکا سا مسکرائی اور باہر نکل گئی-

”کیسی لگی بھابھی جی؟-“ اس کے جاتے ہی رویندر نے روہن کے کندھے پر ہاتھ مارا-

”یہ تو میں نے کبھی سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا یار- اتنی سندر لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی-“ روہن ساتویں آسمان پر تھا-“

”دیکھی کیوں نہیں؟—- اس دن بس میں نہیں دیکھی تھی کیا’“ رویندر نے یاد دلایا-

”ہاں مگر اس دن میں نے اسے اس نظر سے نہیں دیکھا تھا یار— بس ایک پل کے لئے ہی تو نظریں ٹھہری ہوں گی اس پر- روہن نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ ریتو اور نیرو دونوں کمرے میں آگئیں-

”یہ لیجئے آپ کا فون-“

”تھینکس-“ فون لیتے ہوئے جیسے ہی روہن کی انگلیوں نے نیر و کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا اس کے دل کے سبھی تار جھنجھنا اٹھے- اتنا جادو تھا اس کے ہاتھوں میں- تبھی ریتو بھرائی ہوئی آواز میں کہا-

ہم نے چوری نہیں کیا تھا- سیٹ کے نیچے پڑا تھا- ہم نے سوچا خان صاحب کا ہوگا- ہم نے وہیں ڈرائیور کو بھی دینے کے بارے میں سوچا تھا لیکن ہمیں لگا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے- جس کا بھی ہوگا وہ فون تو کرے گا ہی- تبھی اس کو بتا دیں گے- گھر آکر دیکھا تو اس کی بیٹری ختم ہوچکی تھی ہمارے پاس چارجر بھی نہیں تھا اس کا- چاہو تو آنٹی جی سے پوچھ لینا- ہم نے آتے ہی ان کو بتا دیا تھا-“

”اوہو- آپ تو اتنی سی بات کو دل پر لے رہی ہیں- آپ کو پتہ ہے نا کہ میری مذاق کرنے کی عادت ہے-“ رویندر مسکراتے ہوئے بولا-

”تم سے کون بات کر رہا ہے-“ ریتو نے غصے سے کہا تو نیرو ہنس پڑی-

”ٹھیک ہے- تھینکس- اب ہم چلتے ہیں-“ کہتے ہوئے روہن اٹھ کھڑا ہوا- باہر نکلنے سے پہلے روہن نے مڑ کر دیکھا- لیکن نیرو تو اس کو چھوڑنے باہر آئی ہی نہیں-وہ دوسری طرف منہ کئے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے