سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز … قسط نمبر 46

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز … قسط نمبر 46

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 46

ماموں کے بک اسٹال کا تذکرہ ابتدا میں بھی ہوا تھا اور شاید آئندہ بھی کسی خاص حوالے سے دوبارہ ہوسکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس بک اسٹال سے نہ صرف یہ کہ ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں بلکہ اس اسٹال نے ہمارے شوق مطالعہ کی تسکین میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا، حد یہ کہ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب غم روزگار نے ہمیں مجبور کردیا کہ ہم بھی اخبار فروشی شروع کردیں، یہ مشورہ ہمیں ماموں نے ہی دیا تھا اور اس سلسلے میں تمام معاونت اور مدد بھی انھوں نے فراہم کی، ہمارا میٹرک کا سال شروع ہوا تھا، اخراجات بہت بڑھ چکے تھے، والدہ تنہا یہ بوجھ نہیں اٹھاسکتی تھیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے کبھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ ہم تعلیم چھوڑ دیں اور کوئی کام دھندا کریں، البتہ ہمیں شدت سے یہ احساس ستاتا تھا کہ ہم بھی کچھ کریں اور والدہ کی مدد کریں۔

ہماری عمر 12 سال تھی جب والد کا انتقال ہوا، والدہ نے اس سے پہلے کبھی گھر سے باہر قدم بھی نہیں نکالا تھا، قریبی عزیز و رشتے دار تقریباً سب کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، والدہ کی طرف سے ہماری صرف ایک خالہ حیات تھیں اور وہ بھی کراچی میں نہیں تھیں، البتہ ہماری ددھیال خاصی بڑی تھی لیکن اس مشکل وقت میں ایک آدھ کے سوا کسی عزیز نے مدد نہیں کی، خوش قسمتی سے والدہ کو ایک ایسی تنظیم کے تحت چلنے والے مدرسے میں ملازمت مل گئی جو صرف لڑکیوں کو قرآن پاک کی مفت تعلیم دیا کرتی تھی، تنظیم کا نام ہمیں یاد نہیں رہا، ناظم آباد نمبر 1 کے اسٹاپ پر ہی ان کا مدرسہ تھا، یہ مدرسہ بھی کسی مخیر انسان نے اپنے گھر کے ایک بڑے کمرے میں کھولنے کی اجازت دے رکھی تھی، اس کمرے میں لڑکیوں کی دو شفٹیں ہوتی تھیں، صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اور دوپہر 2 بجے سے شام 6 بجے تک، اس زمانے میں والدہ کی تنخواہ 30 روپے ماہانہ مقرر ہوئی تھی۔

یہ وہ صورت حال تھی جو ہمیں کوئی نہ کوئی کام شروع کرنے پر اکساتی رہتی تھی لہٰذا زندگی میں پہلی جاب ایک موٹر رکشہ گیرج میں شروع کی، یہ گیرج ہمارے حسینی بوائز سیکنڈری اسکول کی پشت پر واقع تھا، ہمارے گھر کے پاس ایک خاتون رہا کرتی تھیں جن سے والدہ کی واقفیت تھی، ان کا بیٹا عبدالرشید اس گیرج میں کام سیکھنے جایا کرتا تھا، والدہ نے ان سے بات کرکے ہمیں بھی رشید کے ہمراہ اس گیرج میں بھیج دیا لیکن ہماری یہ جاب ہاف ٹائم تھی یعنی اسکول سے 12 ساڑھے بارہ بجے واپسی کے بعد کھانا کھاکر ہم گیرج چلے جاتے اور پھر گیرج سے واپسی اکثر رات دس بجے تک ہوتی، واپسی میں رشید ہمارے ساتھ ہوتا، اس گیرج کے مالک کوئی رضوی صاحب تھے، بے حد شریف انسان اور ان کی بیگم بھی نہایت شریف اور رحم دل خاتون تھیں، ان کے دو بیٹوں کے نام ہمیں یاد رہ گئے ہیں کیوں کہ وہ بھی حسینی بوائز سیکنڈری اسکول میں ہی پڑھتے تھے اور عجیب اتفاق ہے کہ جب ہم نے اس اسکول میں داخلہ لیا تو ہمیں کورس کی کتابیں ان کے بیٹے جمشید سے ہی حاصل ہوئیں، حالاں کہ اس وقت تک نہ ہم انھیں جانتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے واقف تھے، یہ قصہ بھی بڑا عجیب اور دلچسپ ہے۔

ہوا یہ کہ جب ہم نے پانچویں جماعت پاس کی تو ہمارے والد کا انتقال ہوگیا، پانچویں جماعت تک ہم ناظم آباد اورنگ آباد کے ایک سرکاری اسکول میں زیر تعلیم رہے،اس کا نام ”نٹال کالونی اسکول “تھا اور صرف پانچویں جماعت تک ہی یہاں تعلیم دی جاتی تھی، چھٹی جماعت کے لیے اسکول تبدیل کرنا ضروری تھا لیکن اسی مرحلے پر والد کی وفات ہمارے خاندان پر ایک سانحے کی طرح نازل ہوئی، والد صاحب تقریباً دو سال بیمار رہے، انھیں تھروٹ کینسر ہوا تھا۔

والدہ کے لیے کسی اسکول میں نیا داخلہ کرانا خاصا مشکل کام تھا، انھوں نے کبھی گھر سے باہر قدم ہی نہیں رکھا تھا، ہماری ایک قریبی عزیزہ جو خاصی صاحب حیثیت تھیں اور نارتھ ناظم آباد میں ایک بڑے بنگلے میں رہائش پذیر تھیں، یہ بنگلہ مشہور عالم دین علامہ سید رضی مجتہد کی ملکیت تھا،گویا وہ ان کی کرائے دار تھیں، علامہ صاحب نہایت نیک اور خدا ترس انسان تھے ، حسینی بوائز سیکنڈری اسکول ان کی ملکیت تھا، خود ان کا قیام اس زمانے میں جیلانی منزل ، ناظم آباد میں تھا جو عباسی شہید اسپتال کے قریب ہے۔

ہماری عزیزہ جو رشتے کے اعتبار سے ہماری بھتیجی ہوتی تھیں، اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، بہت نرم دل ، خدا ترس اور مخیر خاتون تھیں، ان کی اپنی بھی عجیب کہانی ہے، بہر حال انھوں نے اپنے مالک مکان یعنی رضی مجتہد صاحب کے نام ایک رقعہ لکھ کر ہمیں ان کے گھر بھیج دیا، ایک چھوٹے سے کمرے میں علامہ صاحب نے ہم سے ملاقات کی، رقعہ پڑھا اور پھر ایک اور رقعہ حسینی اسکول کے پرنسپل کے نام لکھ کر ہمیں دیا کہ ہم ان سے رابطہ کریں۔

دوسرے روز ہم اسکول پہنچ گئے، والدہ ہمارے ساتھ تھیں، پرنسپل نے علامہ صاحب کا رقعہ پڑھا اور ہمیں چھٹی جماعت میں داخلہ مل گیا، چھٹی جماعت کے کلاس ٹیچر جعفر حسین صاحب نہایت درد مند دل رکھنے والے ، کان پور کے روسا میں سے تھے، شاید پاکستان آکر انھیں اسکول میں نوکری کرنا پڑی مگر ان کا رئیسانہ انداز ان کی شخصیت اور لباس سے جھلکتا تھا، وہ ٹیچرز روم میں اکثر پائپ پیتے نظر آتے تھے، لباس میں ہمیشہ عمدہ قسم کی شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کرتے، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا رول رکھتے جس سے کسی لڑکے کو سزا دینا مقصود ہوتا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر بہت آہستہ آہستہ رول مارتے کہ اسے زیادہ تکلیف نہ ہو، کمال آدمی تھے اور علم کا سمندر تھے، کلاس میں اسلامیات پڑھاتے تھے یا فارسی۔

حسینی بوائز سیکنڈری اسکول پرائیویٹ تھا، چھٹی جماعت کی ماہانہ فیس 7 روپے تھی، ہماری آدھی فیس معاف کردی گئی لہٰذا ساڑھے تین روپے ماہانہ ادا کرنا ضروری تھا، ہمارے پاس کورس کی کتابیں نہیں تھیں، ہمارے کلاس ٹیچر صاحب نے ایک لڑکے کو بلایا جو چھٹی جماعت پاس کرچکا تھا اور اب ساتویں جماعت میں گیا تھا اور اسے حکم دیا کہ اپنی کتابیں انھیں دے دیں، اس لڑکے کا نام جمشید رضوی تھا اور ہم اس کے باپ کے گیرج میں کام سیکھ رہے تھے،پہلے مہینے میں ہمیں کوئی تنخواہ وغیرہ نہیں دی گئی لیکن دوسرے مہینے سے پندرہ روپے ماہانہ تنخواہ مقرر ہوئی جو ہماری والدہ کے لیے بڑی خوشی اور اطمینان کی بات تھی۔

حسینی بوائز سیکنڈری اسکول میں دو شفٹیں ہوا کرتی تھیں، پہلی شفٹ لڑکوں کی اور دوسری لڑکیوں کی، ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اس زمانے میں ہمیں نہایت قابل اور شفیق اساتذہ ملے ، حالاں کہ ہماری نالائقیاں اس زمانے میں عروج پر تھیں، فلمیں دیکھنے ، ناولیں پڑھنے کا شوق شروع ہوچکا تھا، والدہ اس حوالے سے خاصی برہم رہا کرتی تھیں لیکن ان کی برہمی کی فکر کسے تھی؟ یہاں برسبیل تذکرہ ایک دلچسپ واقعہ سناتے چلیں جس سے ہماری آوارہ مزاجی اور ہمارے اساتذہ کی شفقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ناول وغیرہ تو ہم لائبریری سے کرائے پر لاکر پڑھ لیا کرتے تھے ، لائبریری والے ایڈوانس کے طور پر دو سے پانچ روپے تک لیا کرتے تھے، کرایہ ایک آنہ روز تھا، ہمارے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے تھے کہ ایڈوانس دے کر لائبریری کے ممبر بنیں اس کا حل یہ نکالا کہ والد کی پرانی کتابوں میں ڈپٹی نظیر احمد کا ناول ”توبة النصوح“ بھی تھا ، ہم وہ ناول لائبریری والے کے پاس لے گئے اور ضمانت کے طور پر اسے دے دیا، اس طرح لائبریری کے ممبر بن گئے، دوسرا شوق فلمیں دیکھنے کا تھا، اس زمانے میں سے کمتر ترین ٹکٹ چھ آنے کا ہوا کرتا تھا لیکن بکنگ کلرک ساڑھے چھ آنے وصول کرتے تھے۔

جب ہم ساتویں جماعت میں پڑھ رہے تھے تو ہمارے نئے کلاس ٹیچر مشتاق حسین ہوا کرتے تھے ، وہ جغرافیہ پڑھاتے تھے، لڑکوں پر ان کی ہیبت بہت تھی ان کی سخت مزاجی کا بڑا چرچا تھا، دیگر اسکول کے اساتذہ کے مقابلے میں کم عمر تھے، شاید 36,37 سال عمر ہوگی، خاصے لحیم شہیم اور تندرست و توانا نظر آتے تھے، چہرے پر بھی کرختگی نمایاں رہتی لیکن بعد کہ تجربات سے اندازہ ہوا کہ وہ اندر سے بہت نرم اور شاگردوں سے باپ کی طرح محبت کرنے والے انسان تھے، اکثر ہمیں گیرج سے تنخواہ دیر سے ملتی جس کی وجہ سے ہم وقت پر فیس نہ دے پاتے، کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ پورا مہینہ فیس نہیں دی، وہ ہم سے صرف اتنا کہتے کہ اپنی والدہ سے کہنا کہ آکر مل لیں، بہت بعد میں ایک بار والدہ نے ہمیں بتایا کہ وہ ہماری فیس جو آدھی تھی ، اپنی جیب سے مقررہ تاریخ کو جمع کرادیا کرتے تھے، بعد میں والدہ انھیں پہنچا دیا کرتی تھیں۔

ایک بار ہم فلم دیکھنے ناظم آباد کے ریجنٹ سنیما میں گئے، چھ آنے والے ٹکٹ کی لائن میں لگے ہوئے تھے اور یہ چھ آنے بھی خاصی مشکل اور تگ و دو کے بعد حاصل ہوتے تھے، جب ہمارا نمبر آیا تو ہم نے مٹھی میں دبے ہوئے چھ آنے کھڑکی کے سوراخ سے اندر بڑھادیے، عام طور پر دیوار میں اوپر نیچے دو سوراخ ہوا کرتے تھے، نیچے والے سوراخ سے پیسے دے کر ٹکٹ حاصل کیا جاسکتا تھا اور اوپر والے سوراخ سے ہم بکنگ کلرک کا چہرہ دیکھ سکتے تھے، نیچے سے پیسے اندر بڑھاکر جب اوپر کے سوراخ سے دیکھا تو سر مشتاق حسین بکنگ کلرک کی کرسی پر براجمان تھے، انھوں نے بھی ہمیں دیکھا لیکن ٹکٹ پھاڑ کر خاموشی سے ہمیں دے دیا اور ہم فورا ہی واپس پلٹ پڑے۔

اب یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہم اندر سنیما ہال میں داخل ہوں یا واپس گھر کی طرف بھاگ نکلیں ، یہ خوف طاری تھا کہ سر مشتاق بکنگ سے فارغ ہوکر کہیں ہمیں ڈھونڈتے ہوئے سنیما ہال میں نہ آجائیں پھر سوچا کہ شاید وہ ایسا نہ کریں لہٰذا ہال میں چلے گئے لیکن پوری فلم کے دوران میں ایک دھڑکا سا لگا رہا، دوسرے روز اسکول جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے والدہ سے جان چھڑائی لیکن جب دوسرے دن بھی اسکول جانے کا وقت آیا تو گھر سے اسکول کے لیے روانہ ہوئے اور ایک پارک میں جاکر بیٹھ گئے ، اسکول جانے کی ہمت ہی نہ تھی، ہمیں یقین تھا کہ سر مشتاق جو کسی کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کرتے تھے ، ہمارے انتظار میں ہوں گے۔

کئی روز تک ہم اسکول نہیں گئے، گھر سے اسکول کے لیے نکلتے اور کسی پارک میں یا ادھر اُدھر آوارہ پھر کر وقت گزارتے پھر اسکول کی چھٹی کے وقت واپس گھر آجاتے، خدا معلوم والدہ کو کیسے شک ہوا کہ ایک روز وہ ہمارے ساتھ ساتھ ہی گھر سے نکل پڑیں اور اسکول تک نہ صرف یہ کہ ساتھ گئیں بلکہ اسکول کے گیٹ پر کھڑے ہوکر ہمیں کلاس تک جاتا دیکھتی رہیں، ہم بیان نہیں کرسکتے کہ اُس وقت ہماری حالت کیا تھی، سر مشتاق حسین کا خوف ہمارا حال تباہ کیے ڈالتا تھا۔

حسب معمول مشتاق صاحب کلاس میں داخل ہوئے اور حاضری رجسٹر کے مطابق نام پکارے جانے لگے، ہمارا نام پکارا گیا تو قاعدے کے مطابق ہم نے کھڑے ہوکر اپنی موجودگی کا یقین دلایا، مشتاق صاحب نے نظر اٹھاکر ہماری طرف دیکھا اور کہا ”اسی طرح کھڑے رہو“

جب وہ پوری کلاس کی حاضری لے چکے تو اشارے سے ہمیں اپنے پاس بلایا اور اپنے مشہور طریقہ ءواردات کے مطابق ہمارا ایک کان پکڑ کر اس طرح گھمایا کہ ہم ٹیبل پر ان کے آگے سر بہ سجود ہوگئے، وہ اسی بے رحمی کے ساتھ کان کو مروڑا کرتے تھے، اس طرح اسٹوڈنٹ کا کان ان کے انتہائی قریب آجاتا تھا اور پھر وہ بہت آہستہ آہستہ سرگوشیوں کے انداز میں اس کی سرزنش شروع کرتے تھے، انھوں نے آہستگی سے ہم سے سوال کیا ”ہفتے میں کتنی فلمیں دیکھتے ہو؟“

ہم نے کراہتے ہوئے منمناکر جواب دیا ”سر ایک“

”آئندہ جب فلم دیکھنی ہو تو سیدھے ہمارے پاس آجانا اور ٹکٹ لے لینا لیکن ہفتے میں ایک سے زیادہ فلمیں نہ دیکھنا“ اس کے بعد ہمارا کان چھوڑ دیا اور ہاتھ کے اشارے سے ہمیں جانے کے لیے کہا، کان مروڑنے کی تکلیف اپنی جگہ قائم تھی اور ساتھ ہی عجیب سی خوش گوار حیرت بھی ہوئی تھی کہ سر مشتاق ہر ہفتے ہمیں مفت فلم دیکھنے کا موقع دے رہے تھے، ہم تو اپنی ٹھیک ٹھاک پٹائی کے خیال سے لرزاں تھے اسی لیے کئی روز اسکول نہیں آئے تھے لیکن یہاں صورت حال برعکس نکلی، اس کے بعد تو ہماری عید ہوگئی، ہر ہفتے ایک فلم مفت میں دیکھ لیتے تھے، فلم خواہ اچھی ہو یا بری اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں تھی، اس کے بعد ہم نے ریجنٹ سنیما پر لائن میں کھڑے ہونا بھی چھوڑ دیا تھا، بس اس انتظار میں ایک طرف کھڑے رہتے کہ سر مشتاق اپنے آفس سے نکل کر بکنگ آفس کی طرف بڑھیں اور ہم انھیں جاکر سلام کریں۔

ہم نے ان سے جھوٹ بولا تھا کہ ہم ہفتے میں صرف ایک فلم دیکھتے ہیں، ایسا نہیں تھا، ہمارے پاس چھ آنے آنا شرط تھی، پھر ہمارے قدم خود بہ خود کسی سنیما کی طرف اٹھنے لگتے تھے،اس کے علاوہ اتوار کا دن تو مخصوص ہی فلم دیکھنے کے لیے تھا، اس روز اکثر کسی دوست کے ساتھ یا ایک سے زیادہ دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنا اس زمانے میں ایک بڑی تفریح سمجھا جاتا تھا۔

ہمارے دیگر اساتذہ میں بزرگ صورت اور خاصے معمر حُبِ حیدر صاحب تھے، فارسی زیدی صاحب پڑھایا کرتے تھے، انگلش کے ٹیچر جعفر حسین ( اسکول میں دو جعفر حسین تھے ایک وہ جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے) تھے اور یہ وہ واحد ٹیچر تھے جو انگریزی لباس میں یعنی پینٹ شرٹ میں یا کبھی سوٹ میں نظر آتے تھے باقی کے تمام اساتذہ شیروانی اور پاجامہ پہنتے تھے، شاید پرانے وقت کے لوگ تھے اور اپنی پرانی وضع قطع قائم رکھنا ضروری سمجھتے تھے، عالم رضوی صاحب شاعر بھی تھے، ان کا تعلق لکھنو سے تھا، اسکول کا سہ ماہی یا شاید ششماہی میگزین وہی نکالتے تھے، زکی صاحب بھی پینٹ شرٹ پہنتے تھے اور کامرس کا شعبہ ان کے پاس تھا، ان سے ہمارا واسطہ نویں جماعت میں ہوا، قصہ مختصر یہ کہ یہ تمام لوگ بڑے ذمے دار اور لڑکوں پر بھرپور توجہ دینے والے ہوا کرتے تھے، ہم نے اس زمانے میں جو کچھ بھی پڑھا ، وہ آج تک بھولا نہیں ہے، شاید ان کے پڑھانے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا، اسلامیات میں جو احادیث اس زمانے میں پڑھیں ، آج تک یاد ہیں۔

ہمیں پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا ایک جنون تھا لیکن اس حوالے سے ہماری دلچسپی کے موضوعات بھی مخصوص تھے، خاص طور پر تاریخ سے دلچسپی حد سے زیادہ تھی، اس کے علاوہ کہانی ہمیں شروع ہی سے پسند تھی، نصابی کتابوں میں کہانیاں زیادہ نہیں ہوتی تھیں، چناں چہ ”آنہ لائبریری“ کا رُخ کیا اور پھر نامعلوم کتنی لائبریریاں چاٹ ڈالیں، لائبریریوں میں موضوعات کی کوئی قید نہیں تھی، تاریخ ، رومانس، جاسوسی، پراسراریت غرض ہر قسم کے موضوعات لائبریریوں میں موجود تھے، اردو ادب کے کلاسیکل لٹریچر کا مطالعہ بھی ہم نے آنہ لائبریری کی مدد سے کیا، منٹو، عصمت، پریم چند، طلسم ہوش ربا، قصہ چہار درویش وغیرہ اور حد یہ کہ بعد ازاں شعرا کے مجموعہ ءکلام بھی لائبریری سے لاکر ہی پڑھے، ایسا بھی ہوا کہ کوئی کتاب بہت پسند آئی تو پھر وہ لائبریری واپس نہیں گئی، ایسی ہی ایک کتاب کلیاتِ اقبال بھی ہے جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے، یہ بظاہر بہت چھوٹی سی پاکٹ بکس ہے جو مشورہ بک ڈپو دہلی سے شائع ہوئی اور اس کی قیمت ایک روپیہ تھی، عمدہ کاغذ اور کارڈ کی جِلد، علامہ کے چاروں مجموعے اس میں موجود تھے، ہم نے جب نویں جماعت میں نصاب میں شامل شکوہ اور جواب شکوہ پڑھی تو علامہ اقبال کے دیوانے ہوگئے، اسی زمانے میں ایک لائبریری میں یہ مجموعہ نظر آیا اور ہم لے آئے لیکن پھر اسے واپس نہیں کیا۔

پہلے تذکرہ ہوچکا ہے کہ 1965 ءسے ہماری راہ و رسم ماموں بک اسٹال پر شروع ہوئی اور اس طرح ایک اور دارالمطالعہ فٹ پاتھ پر ہمیں میسر آگیا، صبح سویرے ہم اس اسٹال پر پہنچتے اور تقریباً تمام ہی اخبارات کا مطالعہ کرتے، اسی طرح رات 8 بجے کھانا کھاکر گھر سے نکلتے اور ماموں کے پاس پہنچ جاتے، وہ ہمیں اسٹال پر بٹھاکر کھانا کھانے چلے جاتے اور ہم ڈائجسٹ یا مختلف رسالے کھنگالتے رہتے، ماموں کی واپسی عموماً رات گیارہ بجے ہوتی، وہ ہمیں کوئی ناول یا ڈائجسٹ وغیرہ رات بھر پڑھنے کے لیے بھی دے دیا کرتے تھے جسے ہم صبح ہی واپس لوٹادیتے، کیسا عجیب اور پُرلطف زمانہ تھا اور اس زمانے سے کیسی کیسی دلچسپ یادیں وابستہ ہیں۔

امجد جاوید صاحب نے ماموں کے بک اسٹال کی موجودہ تصویر کی فرمائش کی تھی، اتوار کو ہم نے رات میں ناظم آباد کا چکر لگایا اور کچھ تصاویر اپنے موبائل میں محفوظ کیں، اتفاق سے ماموں کے بک اسٹال پر ان کے بیٹے کے بجائے پوتا موجود تھا، بہر حال ہم نے ایک دو تصویریں بنائیں جو امجد جاوید صاحب کی نذر ہیں، ان شاءاللہ کسی روز دن کے وقت جائیں گے تو مزید تصویریں لیں گے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 45

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے