سر ورق / ناول / خون ریز امجد جاوید قسط نمبر  4

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر  4

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر  4

بابا اور میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے ویڈیوز دیکھیں اور پھر میرا سیل فون مجھے واپس کرتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے کہا

” مجھے اس چوہدری سردار پر شک تھا مگر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی ۔اب مجھے سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ مخالفت کیوں کر سکتاہے ۔“

” کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟“ میں تیزی سے پوچھا

”دیکھو ، میں یہ باتیں تم سے چند ماہ بعد کرنے والا تھا لیکن اب چونکہ حالات ایسے بن گئے ،اس لئے میں تمہیں سب کچھ تفصیل سے بتاتاہوں ۔ لیکن ایک بات ذہن میں رکھنا ۔ جب تک دشمن کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہ مل جائے ، غلط فہمی میں اسے نقصان نہ پہنچانا ۔“ بابا نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو میں تیزی سے بولا

” سوری بابا، میں آپ کی اس بات سے پوری طرح اتفاق نہیں کروں گا۔ ہم ٹھوس ثبوت تلاش کرتے رہے تب تک دشمن ہم پر وار کر جائے ۔ایسا تو ممکن نہیں ہے ۔“

” تمہاری بات بھی بالکل ٹھیک ہے ، جائز ہے اوراحتیاط کا تقاضا تو یہی ہے لیکن، اس میں تھوڑایہ شک رہ جاتا ہے کہ کہیں کسی بے گناہ کاغلط فہمی میںکوئی نقصان نہ ہو جائے ۔“بابا نے پر سکون لہجے میں کہا

” ٹھیک ہے ، یہ بعد کی بات ہے مگر آپ مجھے بتائیں وہ ….“ میںنے تجسس سے بھرپور لہجے میں کہا ، میں جلد از جلد جان لینا چاہتا تھا ۔تبھی بابا کچھ دیر تک خاموش رہے پھر بولے

”جب تم سیاسیات کے دوسرے سال میں آ ئے تو میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ تمہیں اس علاقے کی خدمت کے لئے سیاست دان بناﺅں گا ۔ وہ سیاست نہیں جو آج ہو رہی ہے بلکہ وہ حقیقی سیاست جو لوگوں کی خدمت کر کے کی جاتی ہے ۔ میں نے سوچا تھا لیکن حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ تم آ ﺅ ۔ چند ماہ یہاں رہ کر پورے علاقے کے لوگوں سے ملو ، انہیں دیکھو، ان کے مسائل کے بارے میں جانو ، ان کے دکھوں کو محسوس کر و ۔وہ کس سطع پہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کا مشاہدہ کرو پھر خود فیصلہ کرو کہ ان کے درد کا درماں کیا ہے ؟کوئی مسیحا تو آ ئے ان کے لئے ؟ یہ ترستے ہوئے دکھی ، پیلاہٹ مارے چہرے کسی کا انتظار کر رہے ہیں ۔کیوں ایسا ہے ؟ “بابا کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے تھے ۔

” بابا یہ تو سب جانتے ہیں کہ سسٹم ٹھیک نہیں ہے ۔“ میں نے کہا

” کن لوگوں نے کیا ہے یہ سسٹم خراب ، کرپٹ مافیا زنے ، ان لوگوں نے جو عوام تک روٹی پہنچنے ہی نہیں دیتے ، راستے میں چھین لیتے ہیں ۔اگر اس ملک کا جاگیر دار وسائل پر قابض ہے تو باقی دوسرے بھی صاف ستھرے نہیں ہیں ۔یہاں سرمایہ دار کو اپنے منافع سے غرض ہے بھلے وہ زہر ہی فروخت کرنے سے حاصل ہو ۔ گدی نشین ، لوگوں کو کیسا روحانیت کا سبق دے رہے ہیں ، یہ کبھی کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی اور بہت سارے طبقے ہیں ، کس کس کا رونا روئیں ۔ “بابا کے لہجے میں دکھ تھا

” لیکن بابا یہ سارا سسٹم ہم تو ٹھیک نہیں کر سکتے نا ؟“میںنے کہا

” یہ چوہدری سردار بھی اس مافیا کا حصہ ہے ۔جب آ کٹوپس کسی جسم کو جکڑ لیتا ہے تو اس کے بازو کاٹنے پڑتے ہیں۔یہ اس آ کٹوپس مافیا کا ایک بازو ہے، جسے کاٹنا ہے، ورنہ وہ ہمیں مار دے گا ۔“

” میرے آ نے سے ….“ میں کہتے کہتے رُک گیا

” ہاں تیرے آ نے سے یہ اس علاقے سے آ ﺅٹ ہو سکتا ہے ۔یہ اب تک صوبائی اسمبلی کا رکن ہے ۔ آنے والے الیکشن میں یہ قومی اسمبلی کا رُکن بننے کاخواب دیکھ رہا ہے ۔اس نے اس علاقے سے چوہدری سلطان جیسے غنڈے کو تیار کیا ۔ اس کی پوری پشت پناہی کی ۔پورے علاقے پر اس کی دہشت پھیلا دی ۔ ہم اسے دیکھ رہے تھے کہ یہ کر کیا رہا ہے ۔ہم جو چند دوست ہیں یہی سوچ رہے تھے کہ تم اگر سیاست میں آ نا پسند کرو تو ہم تمہیں اس چوہدری سردار کے مقابلے پر لے کر آ ئیں گے ۔ یہی میری غلطی کہہ لو ، یہی میرا گنا ہ ہے اور یہی جرم ہے ۔ جس کی وجہ سے اس نے پورا پلان بنا کر اتنی جلدی وار بھی کر دیا ۔“بابا نے آ خری لفظ بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہے تھے ۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت ان کی کیا حالت تھی ۔

”اسے اس قدر جلدی کیوں تھی ؟آپ تو اس کے حمایتی رہے ہیں ،اسے آپ پر کیوں شک ہو رہا ، میں پتہ نہیں سیاست میں آ تا ہوں یا نہیں؟وہ مجھے ہی کیوں ….“ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولا

”میں تمہیں بتانا نہیں چاہتا تھا لیکن اب بات کھل ہی گئی ہے تو سن لو ، یہ چوہدری سردار جب نیا نیا سیاست میں آیاتو اس نے سیاست نہیں غنڈہ گردی تھی۔ اس نے تمہارے دادا اور میرے باپ کو رات کے اندھیروں میں گن پوائنٹ پر خوف زدہ رکھا ۔ وہ انہیں مار دینے کی دھمکیاں دیتا رہا ۔ وہ اپنے خاندان کو بچانے کی فکر میں اس سے بلیک میل ہو تے رہے ۔اس کا ساتھ دیتے رہے ۔دھیرے دھیرے وہ ایک مافیا کی صورت اختیار کر گیا ۔ اس علاقے میں اس کی جس نے بھی مخالفت کی ، اس کے ساتھ بہت برا ہوا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی معلوم ہو جائے ۔ اب یہی دیکھ لو ، ابھی صرف تمہارا نام آیا ہے اور اس نے کیا کر دیا ۔“

” یہ آپ نے مجھے کبھی نہیں بتایا ۔ کاش یہ باتیں مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میں اس کا ….“ میں نے کہنا چاہا تو بابا نے مایوسی بھرے لہجے میں کہا

”میں تمہیں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اس کا مقابلہ کر بھی سکتے ہو کہ نہیں۔ میںنے تمہیں اسی لئے اس گاﺅں سے دور رکھا تھا ۔میں تمہیں سی ایس پی آفیسر بنانا چاہتا تھا ۔ تمہارے دادا اسی لئے تمہیں ایک مضبوط آ دمی دیکھنا چاہتے تھے مگر اب مجھے لگتا ہے کہ تمہیں مزید پڑھائی کے لئے یورپ بھیج دوں ۔“

”بابا، ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ آ پ مایوس ہو جائیں ۔ ابھی آپ کا بیٹا زندہ ہے ۔ میں آپ ہی کے نہیں اپنے دادا جی کے خواب بھی پورے کروں گا ۔“میں نے پر جوش لہجے میں کہا تو بابا چونک گئے انہوں نے حیرت سے پوچھا

” دادا کے خواب ، مطلب میں سمجھا نہیں؟“

” آپ کو یاد ہے اللہ بخشے دادا جی مجھے پہلوان بنانا چاہتے تھے ۔ انہوں نے ایک اکھاڑا بھی بنایا تھا ۔اسی علاقے کے ایک رستم کو بھی ملازم رکھا تھا ، یاد ہے آ پ کو ؟“

”ہاں ہاں بالکل یاد ہے ۔میںنے تمہیں پہلوان نہیں بننے دیا تھا ، میں چاہتا تھا کہ تم ان چکروں میں مت پڑو بلکہ ایک اعلی درجے کے آ فیسر بنو ۔“ بابا نے اپنی دہراتے ہوئے کہا

” دادا جی صرف پہلوان ہی نہیں بنانا چاہتے تھے بلکہ وہ مجھے سبق دیتے رہتے تھے ۔ تب مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ آخر چاہتے ہیں لیکن اب مجھے پتہ چلتا ہے کہ وہ مجھے اندر سے مضبوط انسان دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان کے مہاجر ہونے کا دکھ، اب مجھے سمجھ میں آ تا ہے ۔ انہوں نے مجھے قیام پاکستان کے بارے بڑے چشم دید واقعات سنائے ہیں ، جو مجھے اب بھی پوری طرح یاد ہیں ۔ یہ ساری بات کہنے کا مقصد یہ ہے بابا کہ میں ایک ذمہ دار انسان ہوں ۔جسے اپنے خاندان اور اپنے وطن کی عزت کا پاس ہے ۔ آپ مت گھبرائیں بلکہ مجھے حوصلہ دیں ۔“

” تمہاری بات سن کر مجھے اچھا لگا میرے بیٹے ،مجھے حوصلہ ہوا ۔ چوہدری سردار ایک سانپ ہے اس سے بچ کے نکل جانا بہت مشکل ہے میرے بچے ۔“بابا نے سنجیدگی سے کہا تو میں مسکراتے ہوئے بولا

” مجھے سانپ مارنا آ تا ہے بابا۔ اب دیکھنا میں اس کے ساتھ کرتا کیا ہوں ۔آپ بے فکر ہو جائیں ۔“

” اللہ تمہاری مدد کرے گا بیٹا ۔“ بابا نے کہا تو میں ان کے پاس گیا ، ان کا ہاتھ پکڑ کر چوما اور پھر باہر نکلتا چلا گیا ۔

٭….٭….٭

سہ پہر کی جاتی ہوئی دھوپ میں گاﺅں کے معززین آہستہ آہستہ لان میں اکھٹے ہونے لگے تھے ۔انہیں مسلّی برادری ہی لے کر آئی تھی ۔میرے بابا بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے ۔ایسے میں پھتّو مسلی کو وہاں لایا گیا ۔یہ مثال مشہور ہے کہ عدالت میں سچ اور پنچائت میں جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ پھتّو مسلّی کو سامنے کھڑا کر کے ایک بزرگ نے پوچھا

” ہاں بھئی تو نے علی احسن پر الزم کیوں لگایا تھا کہ قتل اس نے کیا ہے ؟“

اس کے جواب میں پھتّو مسلّی نے وہی ساری باتیں دہرا دیں جو میرے سامنے اعتراف کر چکا تھا ۔ اس نے واضح طور پر کہہ دیا کہ میںنے چوہدری سلطان کے کہنے پر ایسا کیا ۔ آخر میں اس نے بزرگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

” میں بہت شرمندہ ہوں ۔ میں اپنی غلطی مانتا ہوں کہ مجھے ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا ،مجھے معافی دے دی جائے ۔“

”چلو ٹھیک ہے تم نے اپنی غلطی مان لی ۔ ہم تمہیںمعاف کرتے ہیں ۔اب تم جانو اور تمہاری برادری ۔ جاﺅ چلے جاﺅ ۔“بابا نے کہا اور اسے جانے کا اشارہ کر دیا ۔ وہ اسی وقت ہاتھ جوڑتا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔اس کے ساتھ آئے سفارشی بھی ایک ایک کر کے جانے لگے ۔میں ابھی وہیں بیٹھا تھا کہ ارم کا فون آ گیا ۔ میں وہاں سے اٹھ کر اند رکی جانب چلا گیا ۔مجھے اس کا فون آنا اچھا لگا تھا ۔

” کہئے محترمہ کیسے مزاج ہیں ؟“میں نے خوش دلی سے کہا

” بڑے چہک رہے ہو ، لگتا ہے کوئی بڑی خوشی ملی ہے ، شاید اسی لئے مجھے یاد نہیں رکھا ۔ سنا کیسے حالات ہیں ؟“ اس نے خوشگوار لہجے میں پوچھا

” حالات تو بس ٹھیک ہی ہیں، جیسے پہلے تھے ۔یہ تو تمہارے فون آ نے کی خوشی تھی ۔“ بجائے تفصیل بتانے کے، میں اسے طرح دے گیا

”اچھی خوشی ہے ، میںنے فون کر لیا ، خود توفیق نہیں ہوئی ۔“ اس نے شکوہ کیا تو میں ہنستے ہوئے بولا

”یہی تو خوشی ہے کہ تمہارا فون آ یا، مجھے یقین ہوا کہ تم مجھے یاد رکھتی ہو ۔“

” اچھا چھوڑو مت ، یہ بتاﺅ وہ تمہارے دشمن کا پتہ چلا ۔“ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو میںنے کہا

” ہاں ، کچھ ثبوت ملے ہیں ، پختہ یقین باقی ہے ۔“

” یہ کیا بات ہوئی بھلا…. “ یہ کہتے کہتے رُک گئی پھر تیزی سے بولی ،” کب آرہے ہو لاہور ؟“

” جب تم بلا لو ، میرا کیا ہے ، وہ کیا کہتے ہیں کچی ڈور سے بندھے….“

” ابھی آ جاﺅ ، دیکھتی ہوں میں تمہیں ۔“ اس نے ایک دم سے خمار آلود لہجے میں کہا، جیسے کوئی بہت ترسا ہوا ہو ۔

”ابھی نکلا تو صبح تک پہنچ جاﺅ گا ۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا

” ٹھیک ہے میں انتظار کررہی ہوں۔ آ جاﺅ ، یہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا ۔میں نے تو یونہی کہا تھا مگر اس نے تو بات ہی نہیں سنی تھی۔

میں اندر لاﺅنج میںایک صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔ میرا دماغ چوہدری سردار کے بارے ہی میں سوچتا چلا جا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے میں نے اس بابت ابھی کوئی فیصلہ نہیں کرنا تھا۔جس طرح ارم نے پہلے بنا کہے میری مدد کی تھی ، میں اس سے بات کر سکتا تھا ۔بلکہ مجھے اس سے بات کرنا چاہئے تھی ۔مجھے چوہدری سردار کے لئے کوئی نہ کوئی لائحہ عمل بنانا تھا ۔میں یونہی بنا سوچے سمجھے اس پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔ابھی وہ کھل کر سامنے بھی نہیں آ یا تھا ۔ میں نے ارم سے گپ شپ کرنے کے لئے لاہور جانے کا فیصلہ کر لیا ۔اس سے بات کر کے کوئی نہ کوئی راہ تو نکلے گی ۔

 میں علی الصبح لاہور پہنچ گیا تھا ۔ میں اکیلا ڈرائیونگ کرتے ہوئے اکتا گیا تھا ۔ سامنے سے آ نے والی ٹریفک کی وجہ سے آنکھیں چندھیا گئی تھیں ۔ میں سیدھا یونیورسٹی ہاسٹل چلا گیا ۔ انورنے ابھی تک کمرہ نہیں چھوڑا تھا ۔ وہ میرے انتظار میں تھا ۔وہ مجھ سے باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور لمبی تان کر سو گیا ۔

دو پہر سے ذرا پہلے میری آ نکھ کھلی ۔ انور کمرے میں نہیں تھا ۔ میں کافی دیر تک کسلمندی سے پڑا رہا ۔ پھر فون بیل کی آ واز پر فون دیکھا تو وہ ارم کی کال تھی ۔ میںنے پک کی تو وہ بولی

”اتنا مدہوش سوتے ہو ؟“

” کیا ہوگیا، ابھی بیل ہوئی ہے تو میںنے فون پک کر لیا ۔“ میںنے خوشگوار لہجے میں کہا

” میںنے یہ تیسری بار فون کیا ہے ۔“ اس نے کھا جانے والے لہجے میں کہا تو میں ہنس دیا ۔میںنے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ بولی ،” لاہور پہنچتے ہی مجھے کال کیوں نہیں کی ؟“

” یار آتے ہی سو گیا تھا ، اب جاگا ہوں بولو کہاں پہنچوں ؟“ میں نے سکون سے کہا

” اچھا تم تیار ہو جاﺅ ، میں کچھ دیر بعدبتاتی ہوں ۔“ اس نے کہا اور ساتھ ہی فون بندکر دیا ۔میں کچھ دیر پڑا رہا پھراٹھ کر نہانے چلاگیا ۔ واپس آکر تیار ہونے لگا تو اسی دوران انور کا فون آ گیا ۔

” کمرے ہی میں ہونا ؟“

” ہاں ادھر ہی ہوں، تم مجھے بتاﺅ ، صبح سے کہا ںتھے ؟“ میں نے پوچھا

”یار میرے شہر سے ایک لڑکا آیا ہوا تھا ۔ ایڈمیشن لینا ہے یہاں اس نے۔ اسی کے ساتھ تھا ۔آ جا کھانا کھاتے ہیں ۔“ اس نے بتایا

” وہیں بیٹھو ، میں تیار ہو کر آ تا ہوں ۔“میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔ کچھ دیر بعد میں فوڈ کورٹ چل دیا ۔وہاںکئی دوست مل گئے ۔دوپہر کب کی ہو چکی تھی۔ ہم کھانے کے بعد وہیںدھوپ میں بیٹھے یونہی گپ شپ کرتے رہے لیکن میں بے چین تھا ۔ ارم کا فون آ جانا چاہئے تھا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے بھول ہی گئی ہے ۔ شام ہو نے کو آ گئی تو اس کی کال آ ئی ۔ وہ میرے ہاسٹل کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی ۔

” ایسے کرو ، روڈ پر آ جاﺅ ، میں تمہیں وہیں سے پک کرلیتی ہوں ۔“

”میرے پاس گاڑی ہے ….“میںنے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولی

”وہیں رہنے دو ۔میرے پاس جو ہے ۔“

” اوکے ، آ رہا ہوں ۔“ میںنے کہا اور اٹھ گیا

” کدھر ….؟“ اس نے پوچھا

” تیرا بھائی ڈیٹ پر جا رہا ہے ۔ تمہیں کوئی اعتراض ؟“ میں نے پوچھا

” اُو چل بکواس نہ کر ، پہلے کبھی تیری ہمت نہیں پڑی ،آج ڈیٹ مارنے جا رہا ہے ۔“اس نے طنزیہ کہا تو میں بولا

” میری کار یہیں ہے ۔ یہ لو چابی ۔ “ میںنے چابی اسے دیتے ہوئے کہا اور روڈ کی جانب چل دیا ۔ میں روڈ تک پہنچا ہی تھا کہ چند لمحوں بعد ہی میں وہ آ گئی ۔ اس نے سفید کار میرے قریب روکی تومیں اس میں بیٹھ گیا ۔میںنے ایک بھر پور نگاہ سے اسے دیکھا ۔ اس نے سفید شرٹ کے ساتھ نیلی جین پہنی ہوئی تھی ۔ اس نے اپنے گلے کے ارد گرد گرے رنگ کا مفلر لپیٹا ہوا تھا ۔ میک اپ سے بے نیاز چہرہ اور بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے ۔بس آ نکھوں میں ہلکا ہلکا کاجل تھا ۔ وہ بہت گریس فل لگ رہی تھی ۔میں نے ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

” مجھے کیوں بلایا ، خیریت تھی ؟“ میںنے عام سے لہجے میں پوچھا

” ایسے ہی میں بور ہو رہی تھی ان دنوں ، سوچا دو چار دن تمہارے ساتھ گزار لوں ۔“ اس نے سکون سے کہا

” میرے ساتھ گزار لو مطلب ؟ اتنے بڑے شہر میں کوئی نہیں ملا بوریت دور کرنے کے لئے ، میں ہی کیوں ؟“ میں نے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولی

” یار تم اتنے سوہنے منڈے ہو ، کوئی بھی لڑکی تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہے گی ۔ویسے کیا تم یہ اعزاز محسوس نہیں کر رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ وقت برباد کرنا چاہ رہی ہوں ۔“ اس نے برباد پر زور دیتے ہوئے کہا تو میں کھلکھلا کر ہنس دیا ۔ وہ مجھے ایک بدلی ہوئی ارم لگی تھی۔ اس کی یہ ادا مجھے اچھی لگی تھی ۔بلاشبہ وہ درمیان میں تکلف کی ان دیکھی دیوار گرا دینا چاہتی تھی ۔

 اس نے کار نہر پر ڈال لی تھی اور سیدھی چلتی چلی جارہی تھی ۔ ڈھلتی ہوئی شام میں نہر کنارہ بڑا اداس لگتا ہے ۔یوں جیسے کوئی سارے دن کا انتظار وہاں چھوڑ کر چلا گیا ہو ۔ مجھے خواہ مخواہ میں اداسی ہونے لگی ۔ تبھی وہ چہکتی ہوئی بولی

” ہاں اب مجھے بتا ، کون ہے تیرا اصل دشمن ؟“

”وہیں ایک ایم پی اے ہے ، چوہدری سردار۔“ میںنے دھیمے سے جواب دیا۔پھر اسے تفصیل بتا نے لگا ۔وہ غور سے میری بات سنتی رہی ۔ اس نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ویڈیوز کہاں ہیں ۔ اسے میری بات کا ہی یقین تھا ۔کچھ دیر سوچ کر خود کلامی کے سے انداز میں بولی

”یہ ویسے ان سیاست دانوں کی روٹین ہے ۔ وہ کسی کو بھی اپنے سامنے کھڑا برداشت نہیں کر سکتے ۔ لیکن جس طرح اس نے کیا، وہ کچھ دوسرا سوچنے پر مجبور کر رہا ہے ۔عام طور پر ایساہوتا نہیں ہے ۔“

” میں سمجھا نہیں ؟“ میںنے کہا ، میں چاہتا تھا کہ وہ کھل کر اس موضوع پر بات کرے ۔

” دیکھو ، جب بھی کوئی عمل ہمارے سامنے ہوتا ہے ، ظاہر ہے اس کا کرنے والا کوئی نہ کوئی تو ہوتا ہے ۔ اسی عمل میں اس کا پورا پورا اظہار ہو رہا ہوتا ہے ۔اگر کوئی تھوڑی سی سوچ سمجھ رکھتا ہو تو اس میں مقصد بھی سامنے آ جاتا ہے ۔ اس ایم پی اے نے جو کیا ، وہ صرف تمہیں اپنے راستے سے ہٹانا نہیں بلکہ کوئی دشمنی نکالنا چاہتا ہے ۔یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں ۔“اس نے اسی سوچ بھرے لہجے میں جواب دیا تو میں بولا

”اس کی تھوڑی بہت سمجھ مجھے آ گئی ہے ، میں نے بابا سے بات کی تھی ۔“

” ممکن ہے انکل کوئی بات چھپا گئے ہو ں ۔ایسا کچھ ضرور ہوگا ۔آج نہیں تو کل سامنے آ جائے گا ۔“ وہ پرسکون انداز میں بولی

”میں ایسا کچھ نہیں جانتا ۔“ میں نے دھیمے سے کہا

” خیر چھوڑو، وہ جو بھی ہے ، اس سے نپٹ لیں گے ۔ابھی تم مجھے یہ بتاﺅ آ وارہ گردی کرنی ہے یا کہیں پر سکون جگہ پر بیٹھ کر گپیں لگانی ہیں ۔“

” جیسے تمہاری مرضی ۔“ میں نے کہا تو اس نے کار اگلے ٹرن سے دائیں جانب سڑک پر ڈال لی۔ ہم میں خاموشی چھا گئی ۔کچھ دیر بعد ایک بڑی ساری کوٹھی کے سامنے اس نے کار روکی ہی تھی کہ گیٹ کھل گیا ۔وہ کار پورچ میں لے گئی ۔ کار رکتے ہی دھیمے سے لہجے میں بولی

” میں یہاں رہتی ہوں ۔“

” کافی خوبصورت جگہ ہے ۔“ میں ارد گرد دیکھتے ہوئے بولا

” ابھی تم نے یہ گھر دیکھا ہی کہاں ہے جو یوں تعریف کر رہے ہو ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا

” چلو دکھا دو ، جہاں جہاں سے دکھانا چاہتی ہو ۔“ میں بھی ایک دم سے بے تکلفی پر اترا تو وہ بھر پور انداز میں ہنس دی اس کے قہقہ میں بھرپور زندگی کا احساس تھا ۔لاﺅنج میں کوئی بھی نہیں تھا ۔تبھی ایک ملازمہ نمودار ہوئی تواس نے تحکمانہ لہجے میں کہا

” پینے کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی لے آ ﺅ ۔“ پھرمیرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لیتے ہوئے اندر کی جانب چل دی ۔ ایک کمرے میں داخل ہو کر بولی ،” یہ میرا کمرہ ہے ۔“

” جب پوری طرح دیکھ لوں گا تو تبصرہ کروں گا ۔“ میںنے کہا تو وہ پھر کھکھلا کر ہنس دی ۔ اس بار مجھے یوں لگا جیسے وہ زبردستی ہنس رہی ہو ۔ میں نے محسوس تو کیا لیکن سمجھ نہ سکا۔

” فریش ہوکرآ جاﺅ۔“واش روم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی

میں فریش ہو کر آیا تو وہ کمرے میں نہیں تھی۔ کمرہ کافی ٹھنڈا تھا ۔میں بیٹھنے کے لئے کرسی دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ کمرے میں آ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی مہنگے پرفیوم کی مہک سارے کمرے میں پھیل گئی ۔اس نے دروازہ ہلکا سا بند کیا اور پھر بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

”آﺅ کمبل میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔“

”کمبل میں باتیں گرم ہو جاتی ہیں۔“میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو خمار آ لود لہجے میں بولی

” جیسی بھی باتیں کرو ، نرم ، گرم چاہے سخت ،آﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ کمبل میں گھس گئی ۔ میں نے جوتے اتارے اور اس کے ساتھ کمبل میں بیٹھ گیا ۔اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کرتا ملازمہ ایک ٹرالی میں پینے پلانے کا سامان رکھے آ گئی ۔ اس نے وہ بیڈ کے قریب کیا اور پلٹ گئی ۔ میرے سامنے فارن کی شراب رکھی ہوئی تھی۔ اس نے بوتل کھولی تو ایک گلاس میں شراب ڈالنے لگی ۔اسی دوران میں نے گلاس اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا ۔

” کیا تم نہیں پیﺅ گے ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” نہیں، میں بالکل بھی نہیں پیتا ۔“ میںنے کہا

” اوہ ، اچھا کرتے ہو۔ “ یہ کہہ کر وہ اپنے گلاس میں برف ڈالتے ہوئے بولی ،” چلو یہ بار بی کیو تو لو تھوڑا ۔“

میں ایک پلیٹ میں تھوڑا بار بی کیو لے کر کھانے لگا ۔ وہ پہلا پیگ غٹا غٹ پی گئی ، جیسے بہت پیاسی ہو ۔ دوسرا پیگ اپنے سامنے رکھ کر بولی

”تمہیں ابھی تک یہ بات بے چین کر رہی ہوگی کہ میں نے تمہیں یوں اچانک کیوںبلا لیا ؟“

” اتنا پریشان نہیں کر رہی جتنا تمہارا یہ پینا پلانا مجھے حیران کر رہا ہے ۔“ میںنے صاف گوئی سے کہا تو وہ ہنس دی ۔پھر میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی

”تم نے کبھی سوچا ، میں تم پر اچانک مہربان کیوں ہوگئی ہوں ؟“

” ہاں ویسے ، پہلے تو میں نے نہیں سوچا تھا ، لیکن ابھی خیال آ یا ، کیوں ہو گئی ہو مہربان ؟“ میںنے مزاح کے موڈ میں کہا تو وہ انتہائی سنجیدگی سے بولی

”مجھے تم بہت اچھے لگتے ہو ، آ ج سے نہیں بہت عرصہ پہلے سے ۔یاد ہے تمہیں ، ایک بار ہم اپنے ڈیپارٹمنٹ لان میں بیٹھے تھے ۔“

” وہ تو کئی بار بیٹھے تھے ۔“ میںنے ہنستے ہوئے کہا

” تم سیریس نہیں ہو یار ۔“وہ سنجیدگی سے بولی

” میں سیریس ہو ں ،بولو۔“ میں نے اپنا موڈ بدلتے ہوئے کہا

”میں اس دن کی بات کررہی ہو، جب تمہاری اورمومل کی شرط لگی تھی اور مومل ہار گئی تھی ۔“اس نے کہا

” ہاں مجھے یاد ہے ۔“ میں نے کہا

”لیکن تم نے خود اس کی ہار کو جیت میں بدل دیا تھا ۔ اس کا دل رکھ لیا تھا تم نے ۔اس دن مجھے احساس ہوا کہ تم دل کے کتنے اچھے ہو ۔“وہ موڈ میں بولی اور اس کے ساتھ ہی اس نے دوسرا پیگ اپنے اندر اتار لیا ۔

” کیا تم اسی طرح تیزی سے پیتی ہو ؟“ میں نے اکتاہٹ سے پوچھا

” نہیں ، پہلے دو پیگ ، پھر اس کے بعد سکون سے ، سرور برقرار رکھنے کے لئے پیتی ہوں ۔ “اس نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا

” یار میں تمہارے پاس گپ شپ کرنے آیا ہوں اور تم ….“میں کہتے کہتے رُک گیا تو وہ ہنستے ہوئے بولی

”تم کرو گپ شپ ۔ میرے پینے کو اپنے ذہن پر سوار مت کرو ۔ میں پورے ہوش و حواس میں جواب دوں گی ۔“

” اچھا پھر تم مجھ پر مہربان ہو گئی ۔میں تمہیں اچھا لگا ۔“ میںنے بات بدلنے کی خاطر کہا تو وہ سوچتے ہوئے بولی

”ہاں بس ۔پھر ہم جم میں ملے ، میں نے خود تم سے بے تکلف ہونا چاہا ، پھر ہماری دوستی ہو گئی ۔ اچھے دوست بہت کم ملتے ہیں علی ۔وہ جو دل کے اچھے ہوں ، ورنہ قدم قدم پر منافق پڑے ہیں ۔“ اس نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔اس دوران وہ آگے بڑھ کر بوتل اٹھانے لگی تو اس کے گلے میں پڑا ہوا گرے مفلر ڈھیلا ہو کر اتر گیا ۔اس کی بائیں گردن پر ایک لکیرنما سرخ نشان تھا ، یوں جیسے وہاں تازہ چوٹ لگی ہوئی ہو ۔

” یہ کیا ہے ؟“ میں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا

” کچھ نہیں ، بس ایسے چوٹ لگ گئی تھی ۔“ اس نے عام سے لہجے میں یوں کہا جیسے یہ کوئی اہم بات نہ ہو ۔میں خاموش رہا تو اس نے میرے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا

” کس سوچ میں پڑگئے ہو یار ۔ لگتا ہے تمہیں میرا یہ پینا پلانا اچھا نہیں لگا ۔لیکن کیا کروں ، میں منافق نہیں ہوں ۔جو ہوں تمہارے سامنے ہوں ۔خیر ، چھوڑ ان باتوں کو ،یہ تو چلتا رہتا ہے ،یہ کھاﺅ ۔“ اس نے بار بی کیوکی پلیٹ میرے سامنے کرتے ہوئے کہا۔

” یونیورسٹی کے بھی کیسے دن تھے یار ، کوئی فکر نہیں تھی ۔ابھی یہاں سے گیا ہوں تو کن چکروں میں پڑ گیاہوں ۔“ میں نے جان بوجھ کر باتوں کا رخ پلٹتے ہوئے کہا تو وہ چند لمحے پر سکون رہی پھر بڑے جذباتی انداز میں کہتی چلی گئی ۔

”یہ دنیا ہے نا یار ، نہ کوئی اسے سمجھا ، اور نہ ہی کوئی اس دنیا کو سمجھا سکا ہے ۔ جس طرح ہوا ئیں موسم بدل دیتی ہیں ، اسی طرح اس دنیا کے حالات بھی ہماری زندگی کے رُخ بدل دیتے ہیں ۔ہر انسان اپنے اندر خواہشیں رکھتا ہے ، اس کے مقاصد ہوتے ہیں ،وہ اپنے طور پر دنیا کو استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن ….دنیا اسے اپنے انداز میں استعمال کر جاتی ہے ۔“

” کتنا مشکل ہے اس دنیا میں زندگی کرنا ۔“ میںنے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولی

” لگتا ہے شاعری بھی کرتے ہو ۔اچھا کوئی اچھا سا پھڑکتا ہوا شعر تو سناﺅ ۔“ اس نے کہا ہی تھا کہ ان لمحات میں اس کا سیل فون بج اٹھا ۔اس نے فون اٹھایا ۔ اسکرین پر نگاہ پڑتے ہی اس نے تیزی سے کال رسیو کرتے ہوئے کہا ،”ہاں بولو ۔“پھر کچھ لمحوں تک دوسری طرف سے سنتے رہنے کے بعد بولی ،” اوکے ، بہت احتیاط سے ۔ میں آ رہی ہوں ۔اب وہ کسی طور بھی نظروں سے اوجھل نہ ہو ۔“ یہ کہتے ہی اس نے فون اپنی جیب میں ڈالتے ہوئے میری جانب دیکھا۔لمحہ بھر سوچنے کے بعد بولی ،” علی ڈیر ، تم آ رام کرو ، میں ایک دو گھنٹے کے لئے کہیں جا رہی ہوں ۔“

” اس حالت میں کہاں جا رہی ہو ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا

” حالت مطلب ، تمہارا کیا خیال ہے میںنشے میں ہوں ۔“ اس نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا

”ہر شرابی نشے میں دھت ہونے کے بعد یہی کہتا ہے کہ وہ نشے میں نہیں ہے ۔ میں تمہیں اس حالت میں باہر نہیں جانے دوں گا ۔“ میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

”یار ، یہ دو تین پیگ میرا کچھ نہیں بگاڑتے ، تم آ رام کرو ۔میں ابھی آ جاتی ہوں ۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

”آرام سے بیٹھ جانے کی تمہیں ضرورت ہے ۔ سکون سے بیٹھو۔“ میں نے اس کے ہاتھ سے کار کی چابی پکڑتے ہوئے کہا

”علی ، میرا جانا بہت ضروری ہے ۔“ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو میں سمجھ گیا اب اس کے ساتھ جتنی مرضی بحث کر لی جائے ، اس کے دماغ میں یہ آ گیا ہے کہ مجھے جانا ہے تو بس جانا ہے ۔ تبھی میں حتمی انداز میں بولا

” چل پھر میں چلتا ہوں تیرے ساتھ ۔“

یہ کہتے ہوئے میں بیڈ سے اتر گیا ۔ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر باہر نکل گئی ۔ میںنے جلدی سے جوتے پہنے اور پورچ میں چلا گیا ۔ وہ کار کے پاس کھڑی تھی ۔اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی ۔ میں اس کی وجہ نشہ ہی سمجھا تھا ۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔وہ دوسری جانب میرے ساتھ بیٹھ گئی تو میںنے کار سٹارٹ کر کے بڑھا دی ۔

”تیز چلو، مجھے جلدی پہنچنا ہے ۔“ اس نے کہا پھر مجھے راستہ بتاتی رہی کہ کس طرف جانا ہے ۔ہمارا سفر جنوب کی طرف تھا ۔ہم جوہر ٹاﺅن پار کر گئے تو اس کے آ گے ایک کالونی آ گئی ۔یہاں تک کہ اس نے ایک گلی کی نکڑ پر رکنے کا اشارہ کیا ۔تب تک وہ اپنا سیل فون نکال چکی تھی ۔ اس نے کسی سے کہا” میں پہنچ چکی ہوں ، کہاں ہو تم لوگ ؟“ اس نے چند لمحے سنا اور پھر فون بند کر کے جیب میں رکھا ور ڈیش بورڈ کھول لیا ،جہاں دو پسٹل پڑے ہوئے تھے ۔ اس نے وہ تیزی سے نکالے تو میںنے پوچھا

” ارم ، مجھے بتاﺅ بات کیا ہے ؟“

” ایک بندے کو اٹھانا ہے ۔“ اس نے سکون سے یوں کہا جیسے کسی دوکان سے کوئی کوئی شے خریدنی ہو ۔مجھے حیرت ہوئی لیکن میں ظاہر نہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا

”کہاں سے ؟“

” وہ سامنے جو دائیں جانب سفید گیٹ والا گھر ہے ، اس میں وہ ہے ۔ اس کے باہر ایک بھکاری کھڑا ہے ۔“ اس نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا پھر میری طرف دیکھ کر بڑے جذباتی سے لہجے میں بولی ،” سوہنے، میں اگر دس منٹ تک واپس نہ آ ﺅں نا تو تم واپس چلے جانا۔“ یہ کہہ کر وہ کار سے اترنے لگی تو میں نے بے ساختہ کہا

” ٹھہرو….ایک پسٹل مجھے دو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔“ میںنے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا

” تم چلو گے میرے ساتھ ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” بالکل ، میں چلوں گا تیرے ساتھ ۔“ میںنے فیصلہ کن لہجے میں کہا تو اس نے چند لمحے سوچا پھر لپک کر پیچھے پڑا ایک ڈبہ اٹھایا ۔ اس میں بھی دو ریوالور اور کچھ میگزین پڑے تھے ۔

” یہ لو ، مگر بہت احتیاط سے ۔“ اس نے کہا تو میں نے وہ دونوں پسٹل اٹھا لئے ، انہیں لمحہ بھر میں چیک کیا اور چابی اگنیشن میں ہی چھوڑ کر اس کے پیچھے چل دیا ۔

وہ تیزی سے چلتی چلی جا رہی تھی ۔بھکاری کے لئے چھوٹا گیٹ کھلا ہوا تھا ۔وہ اس سے کھانا پکڑ رہا تھا ۔ جیسے ہی ارم اس کے قریب گئی ، بھکاری نے اندر کھڑے شخص کو زور سے دھکا دیا اور اس کے ساتھ ہی اندر چلا گیا ۔ اتنی دیر میں ارم تیزی سے اندر چلی گئی ۔ اس نے جاتے ہی سامنے کھڑے شخص کے سر پر زور سے پسٹل کا دستہ مارا ، وہ وہیں لڑکھتا چلا گیا ۔بھکاری نے باہر والے گیٹ کا کنڈا کھول دیا مگر اس کے پٹ ویسے ہی بند رکھے ۔ارم اندر داخل ہو گئی تھی ۔ اتنی دیر میں دو لڑکے مزید اندر آ گئے تھے ۔ تبھی ارم نے میری طرف دیکھ کر کہا

” مجھے کور دینا ، ہمیں اوپر جانا ہے۔“

میں سمجھ گیا کہ مجھے کیا کرنا تھا ۔ وہ دوسروں لڑکوں کو ہدایت دیتے ہوئے آ گے بڑھ گئی ۔ہم نے گیٹ سے پورچ تک کا فاصلہ آ دھے منٹ سے بھی کم وقت میں طے کیا تھا ۔سامنے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ ہم لاﺅنج میں جا پہنچے ، تبھی میری نگاہ اوپر پڑی ، ایک شخص پوری توجہ سے ارم کا نشانہ لے رہا تھا ، میںنے بلاجھجک اس پر فائر کر دیا ۔ اوپر کھڑے شخص نے فائر کردیا تھا لیکن وہ چھت پر جا لگا ۔اتنی دیر میں ارم سیڑھیاں چڑھ چکی تھی ۔ اس کے پیچھے میں تھا ۔ ساتھ والے لڑکے ابھی پیچھے تھے ۔ چشم زدن میں ارم اوپر چلی گئی ۔ سامنے ایک راہداری تھی ۔ جس کے دونوں جانب کمرے تھے ۔اسی لمحے سامنے سے دو لوگ ایک کمرے سے نکلے۔ بیک وقت ہم دونوں نے ان پر فائر کر دیا ۔وہ وہیں لڑھک گئے ۔ ارم نے پسٹل خاموش نہیں ہو نے دیا ۔ وہ ایک بیڈ روم کے سامنے جا رکی ۔ اس نے احتیاط سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ کھلتا چلا گیا ۔تبھی پچھلی طرف سے تحکمانہ لہجے میں کہا گیا

”بس ، پھینک دو پسٹل ، ڈاکو رانی ۔“

میں نے آ واز کی سمت دیکھا ۔ ایک نوجوان پتلون ٹی شرٹ میں کھڑا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا جس کا رخ ارم کی طرف تھا۔ارم اپنی جگہ ساکت ہو گئی تھی ۔ وہ نوجوان مجھ سے چند فٹ کے فاصلے پر کھڑا تھا ۔ اس کی ساری توجہ ارم کی جانب تھی ۔ اسی لمحے میںنے ایک فیصلہ کر لیاتھا ۔میں اس نوجوان کی محویت کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا ۔ ارم نے جیسے ہی اپنا پسٹل نیچے گرایا، تبھی میں نے اسی لمحے کے سویں حصے میں اس نوجوان کے منہ پر کک لگا دی ۔ اس نے اُوخ کی آ واز نکالی ہی تھی کہ میں سیدھا ہوتے ہوئے اس پر جا پڑا۔وہ لڑکھڑا کر خود پر قابو پا چکا تھا میںنے اسے پسٹل سیدھے کرنے کا وقت ہی نہیں دیا ۔میں اپنی جگہ سے اچھلا اور اس کے کاندھوں پر دونوں بند مکوں سے سے ضرب لگائی ۔میں ابھی پیچھے نہیں ہٹاتھا کہ اس نے پسٹل میری پسلیوں میں دے مارا ۔ درد کی لہر پورے بدن میں پھیل گئی ۔ میںنے ایک کہنی اس کی گردن پر رکھ کر دبائی اور دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ پر پسٹل کا دستہ مارا ۔اس کے ہاتھ سے پسٹل نکل گیا ۔تبھی اس کی ران میرے ایک ہاتھ کے نیچے آ گئی ۔ میںنے اس کی ران پر پسٹل کی نال رکھتے ہوئے فائر کر دیا ۔ وہ چیختا ہوا فرش پر گر گیا۔ یہ سب آدھے منٹ سے بھی کم وقت میں ہوا ۔ اتنے میں ارم بھی اس کے سر پر پہنچ گئی ۔ اس نے فرش پر گرے نوجوان کے منہ پر ٹھوکر ماری ۔ نیچے سے ایک لڑکا ہمارے قریب آ گیا ۔

” باندھو اسے ….“ ارم نے کہا تو وہ اسے باندھنے لگا تبھی وہ نوجوان کے سینے پر پاﺅں رکھ کر بولی ،”بتا ، وہ کتیا کہاں ہے ؟“

” مجھے نہیں پتہ ۔“ اس نے کہا ہی تھا کہ ارم نے اس کے سینے پرزور سے ٹھوکر ماردی ۔ پھردوسری ٹھوکر لگاکر بولی

” تم کیا سمجھتے ہو میں اس تک پہنچ نہیں سکتی ۔ میں اسے پاتال سے بھی نکال لاﺅں گی ، بول نہیں تو یہیں …. “ یہ کہتے ہوئے وہ پسٹل کی نال اس کے ماتھے پر رکھتے ہوئے بولی،” بول ورنہ مار دوں گی ۔“

” وہ اندر سے نکل گئی ہے ۔“ اس نے سامنے بیڈ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

” سنبھالو اسے ۔“ اس نے ایک لڑکے کی طرف دیکھ کر کہااور بیڈ روم میں جا گھسی ۔ میں اس کے کور پر تھا۔سامنے کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ہم دونوں کھڑکی میں گئے۔ ملجگی روشنی میں شیڈ کے ساتھ ایک لڑکی دکھائی دی جو بہت تیزی سے نیچے اترنے کی کوشش میں تھی ۔

” نہیں چھوڑوں گی …. “ یہ کہہ کر ارم کھڑکی کودنے لگی تو میںنے اسے رو کتے ہوئے کہا

” نیچے سے جاﺅ ۔ “ میں نے کہا اور کھڑکی سے باہر چلا گیا ۔

” زندہ چاہئے ۔“ مجھے اس کی صرف آ واز سنائی دی کیونکہ میں شیڈ سے نیچے اترنے لگا تھا ۔ میری کوشش تھی کہ میں اس سے پہلے نیچے پہنچ جاﺅں ورنہ وہ پہلے اتر کر مجھے آ سانی سے نشانہ بنا سکتی تھی ۔جس وقت اس لڑکی نے زمین پر قدم رکھے ، اس کے ساتھ ہی میںنے بھی قدم لگا لئے ۔اس نے بجائے میرا سامنے کرنے کے ایک طرف بھاگنے کو ترجیح دی ۔اس نے بھاگتے ہوئے اپنی جیکٹ میں ہاتھ ڈالا اور چشم زدن میں پسٹل نکال لیا ۔اس وقت تک میں اس کے سر پر پہنچ چکا تھا ۔ اس نے فائر کرنے کے لئے اپنا بازو سیدھا کرنا چاہا تو میںنے پیچھے سے اسے پکڑ لیا ۔پھر اپنا گھٹنا اس کی ٹانگوں کی جڑ میں مارا۔ وہ لڑکھڑا گئی ۔میں نے ہلکا سا دھکا دیا تو وہ اپنی ہی جونک میں فرش پر لڑکھتی ہوئی گر گئی ۔اس کے ہاتھ میں اب بھی پسٹل تھا ۔ اس نے مجھ پر فائر کرنا چاہا ، میںنے اس کے ہاتھ پر ٹھوکر مار دی ۔دوسری اس کی پسلیوں میں ماری تو وہ وہی پڑی دہری ہو گئی ۔ مجھے اپنے پیچھے بھاگتے قدموں کی آ واز سنائی دی ۔ میںنے مڑ کر دیکھا ۔ تین لوگ بھاگتے ہوئے آ رہے تھے ۔ پتہ نہیں وہ ہمارے ساتھ تھے یا اس لڑکی کے ساتھ تھے ۔ میں تن کر سیدھا ہو گیا ۔ ان تینوں نے آ تے ہی مجھ پر وار کیا ۔ ایک کے ہاتھ میں لوہے کا راڈ تھا ۔دو سرے کے ہاتھ میں ہاکی تھی ۔راڈ سے میں نے اپنا سر بچایا تھا کہ ہاکی میرے کاندھے پر لگی ۔میں اگر انہیں وقت دے دیتا تو ایک آ دھ منٹ میں وہ مجھے نڈھال کر کے پھینک سکتے تھے ۔

میں نے اپنی ساری قوت مجتمع کی اور راڈ والے پر جا پڑا ۔ وہ مجھ سے گر نہ سکا لیکن میں اس کا وار بچا گیا تھا ۔میرے پسٹل کی نال اس کے پیٹ کے پاس تھی ، میں نے فائر کر دیا ۔اس کی چیخ بلند ہوئی ۔تب تک ارم بھی بھاگتی ہوئی وہاں آ گئی ۔ اس کے پیچھے دو لڑکے تھے ۔ ارم اس لڑکی کی جانب بڑھ گئی ۔ جبکہ ہم نے ان دونوں کو سنبھال لیا ۔ وہ بھاگنا چاہتے تھے ۔ لیکن ہم نے بھاگنے نہیں دیا ۔ انہیں وہیں ڈھیر کر لیا ۔

” علی ، گاڑی لاﺅ ، اسے لے جانا ہے ۔“ اس نے پختہ فرش پر پڑی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ کار گلی میں کھڑی تھی ۔ میں اسی وقت وہاں سے بھاگا ، کار تک پہنچا وہاں سے کار لی اور گیٹ تک آ گیا ۔ ارم اس لڑکی کو اٹھا کر گیٹ تک لے آ ئی تھی ۔ اس نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اس میں لڑکی کو ڈال دیا ۔ پھر خود بھی ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی

” چلو، جلدی کرو ۔“

اس نے کہا ہی تھا کہ میںنے کار بھگا دی ۔وہ مجھے راستہ بتاتی رہی ۔ میں پوری توجہ سے مڑتامڑاتاایک نو تعمیر کالونی میں جا پہنچا ۔ اس نے ایک ادھے ادھورے تعمیر شدہ بنگلے کے اندر کار رکوا دی ۔پھر خود باہر نکل کر اس نے لڑکی سے کہا

” چل باہر نکل ۔“

وہ لڑکی باہر آ گئی ۔ ارم نے اسے گردن سے پکڑا اور اندر کی جانب لے کر چل دیا ۔ اندر ایک کمرے میں روشنی تھی ۔ وہاں ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا ، جس نے نظر کی عینک لگا رکھی تھی ۔ اس نے سامنے والے کمرے کی جانب اشارہ کیا اور خود کمرے میں چلا گیا ۔ اس نے اندر جا کر روشنی کی اور سکون سے باہر چلا گیا ۔ارم نے اس لڑکی کو پختہ فرش پر پھینک دیا ۔ میں نے دیکھا ناٹے سے قد کی وہ لڑکی کافی حد تک حسین تھی ۔ خاص طور پر اس کی آ نکھیں بہت خوبصورت تھیں ۔ اس کے بوائے کٹ بال مٹی میں اَٹ گئے تھے ۔

” چل اب شروع ہو جا ۔“ ارم نے کہا اور پاس پڑی ایک کرسی میری طرف دھکیل کر خود دوسری پر بیٹھ گئی ۔

” تم جانتی ہو کہ میں ایک لفظ بھی نہیں کہوں گی ، مجھے مارنا ہے تو مار دو ۔“ اس نے سکون سے یوں کہا جیسے اسے اپنی موت کا یقین ہو گیا ہو ۔

” تیرے سر کے بال سے لے کر تیرے پاﺅں ہرایک ناخن تک بولے گا ، ایک ایک بوٹی بولے گی ، جب میںنے تمہیں بلوایا تو ۔ بہتری اسی میں ہے کہ خود بولو ۔ “ارم نے دانت پیستے ہوئے کہا

”جو کرنا ہے کرو ۔“اس لڑکی نے گھورتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کرتی ، ارم کا سیل فون بج اٹھا ۔ اس نے اسکرین کی طرف دیکھا اور پھر بولی

” جی ۔“

 اتنا کہنے کے بعد وہ چند لمحے دوسری طرف سے کچھ سنتی رہی ، پھر یہی” جی “ کہہ کر فون کال بند کر دی ۔اس نے ایک لمحہ سوچ پھر جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو ۔ وہ اٹھی اور اس لڑکی کے قریب جا کر اُس کے بال پکڑ کر بولی

”یہ میری گردن پر زخم تم نے ہی لگایا تھا نا ، لو پھر ۔“ یہ کہتے ہی اس نے اپنے ناخن اس کی گردن کے دائیں جانب گاڑ دیتے ۔ وہ درد کی شدت سے چیخ اٹھی تھی ۔ ارم کا ہاتھ لہو سے بھر گیا ۔ چند لمحے یونہی ناخن گاڑے رکھنے کے بعد اس نے ہاتھ ہٹایا تو اس کا ہاتھ لہو سے تر ہو چکا تھا ۔وہ اٹھی اور قریب پڑے پانی سے اپنا ہاتھ دھویا ، پھر میری جانب دیکھ کر بولی ،” آ ﺅ چلیں ۔“

” تم بہت خطرناک عورت ہو ؟“ میں نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے کہا

” مجھے ایک لفظ اعتراض ہے ۔“ اس نے خمار آ لود لہجے میں کہا

” کس لفظ پر ؟“ میںنے گئیر لگاتے ہوئے پوچھا

” عورت پر ۔“ یہ کہہ کر اس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا ،” یار لڑکی ہوں۔“

میں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ میری پوری توجہ ڈرائیونگ پر تھی ۔

میں نے ارم کا ایک نیا چہرہ دیکھا تھا ۔کہاں وہ میرے ذہن میں شہزادی کا روپ لئے ہوئے تھی ۔شہزادیاں تو بڑی نرم نازک ہوتی ہیں۔ پھولوں کی ، تتلیوں کی اور رنگوں سے کھیلنے والی شہزادی کا یہ نیا روپ میرا دماغ گھما دینے کے لئے کافی تھا ۔وہ مجھے یوں لگی تھی جیسے کوئی خون کی پیاسی روح ہو ۔ اس لڑکی کی گردن میں ناخن گاڑتے وقت اس کے چہرے پر کتنی وحشت تھی ۔ اس کی آ نکھیں کتنی بھیانک ہو گئی تھیں ۔وہ لمحہ ارم کے بارے میں سارے نرم و نازک خیالات کو یکسر صاف کر چکا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی کئی سارے سوال ابھر آ ئے تھے ۔وہ حقیقت میں کون تھی ؟ اس کا تعلق کس طرح کے جرائم پیشہ لوگوں سے تھا ؟ وہ کس مافیا سے تعلق رکھتی تھی ؟ کیا وہ مجھے اپنے قریب کر کے مجھے پھنسانا چاہتی تھی ؟ وہ مجھے اپنے گینگ میں شام کرنا چاہتی تھی ؟ اس کی پیار بھری قربت کے پیچھے یہ بھیانک مقصد تھا ؟ میں جس طرح سوچتا جا رہا تھا، ارم کا وجود مجھے اتنا ہی الجھانے کا باعث بن رہا تھا ۔ کیا مجھے اس کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے یا فوراً اس سے الگ ہو جانا چاہئے ، اس بارے میں فوری فیصلہ نہیں کر پایا تھا ۔

٭….٭….٭

 میری آ نکھ کھلی تو میں ارم کے بیڈروم میں تھا ۔میں نے اٹھنا چاہا تو بدن سے ابھرتی ہوئی ٹیسوں سے رات کے سارے منظر میری نگاہوں کے سامنے گھوم گئے ۔ رات واپسی پر میں ارم کے کمرے میں آ کر لیٹ گیا تھا ۔ میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا یہ سب کیا ہے ؟اس کی کیا دشمنی ہے کسی سے ؟ اور سب سے اہم سوال کہ وہ کون ہے ؟اس وقت وہ کمرے سے باہر جا کرفون پر نجانے کس سے باتیں کرتی رہی تھی ۔ میں اس کے بارے میں سوچتے ہوئے سو گیا تھا ۔ ابھی جب میری آ نکھ کھلی تو میں بیڈ پر پڑا یہی سوچتا رہا تھا ۔میںنے یہ فیصلہ کیا کہ دیکھو ں تو سہی وہ اصل میں ہے کون ؟ وہ میرے سامنے خود ہی آ جاتی ہے یاچھپ جاتی ہے ؟ میں یہ فیصلہ کر کے پر سکون سا ہو گیا تھا ۔میںنے ایک طویل سانس لی ، میرے علاوہ کمرے میں کوئی نہیں تھا ۔ارم کاپتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہو سکتی ہے ؟

مجھے فکر یہ ہو رہی تھی کہ میرے سارے کپڑے میری کار میں تھے ۔رات کی دھماچوکڑی میں میرے کپڑے خراب ہو چکے تھے ۔میں ابھی اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ارم کمرے میں آ گئی ۔ اس نے ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا ، ہلکے ہلکے پسینے کی بوندیںاس کے چہرے اور گردن پر تھیں ۔اس نے اندر آ تے ہی مسکرا کر پوچھا

” کب جاگے ہو ؟“

” ابھی کچھ دیر پہلے ۔“ میںنے دھیمے سے جواب دیا

”اچھا جاﺅ فریش ہو کر آ جاﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے سامنے الماری کی جانب بڑھی ۔ اس نے ایک شاپنگ بیگ نکالا۔ وہ میرے سامنے رکھتے ہوئے بولی’ ،’دیکھو ، یہ تمہیں پورے آ جائیں گے ؟“

” یہ کس کے کپڑ ے ہیں ؟“ میں نے پوچھا

”تمہارے لئے خریدے تھے میںنے ،یہ اور بھی پڑے ہیں۔“ اس نے ایک مزید شاپنگ بیگ نکال لیا ۔میں نے انہیں دیکھا اور باتھ روم کی جانب چل پڑا۔اس نے میرے لئے کپڑے بھی خرید کر رکھے ہوئے تھے ؟ اس کا مطلب ہے ارم کا میرے بارے میں جو بھی ارادہ تھا، وہ کوئی چند دنوں کا نہیں لگتا تھا ، وہ میرے ساتھ اپنے تعلق کو طویل عرصے تک لے کر جانا چاہتی تھی ۔وہ ایسا کیوں چاہتی ہے ؟ یہ ایک نیا سوال میرے سامنے آ گیا تھا ۔

میں تیار ہو کر لاﺅنج میں آ گیا تھا ۔ارم وہیں ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی ۔سامنے ناشتہ پڑا ہوا تھا ۔ میں نے بیٹھتے ہی پوچھا

” رات کیا معاملہ تھا ؟“

”یہ بہت پرانا پھڈّا ہے میرا ، تم ناشتہ کرو ۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا اور پلیٹ اپنے آ گے سرکا لی ۔ میںنے بھی مزید کوئی بات نہیں کی ۔ناشتے کے بعد میں چائے کا مگ لے کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا ۔ وہ بھی پاس آ کر بیٹھ گئی۔ وہ خاموشی سے چائے پی رہی تھی پھر ایک دم سے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا

”ویسے یار فائٹر تو تم بھی اچھے ہو ۔ “

”جب اپنی جان پر بن جائے تو کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑتا ہے ۔“ میں نے کہاتو ہنستے ہوئے شرمندہ لہجے میںبولی

” سوری ، رات اچھا بھلا سکون غارت ہو گیا ۔“

” چلو کوئی بات نہیں ۔بندہ سوچتا کچھ ہے اور ہو کچھ جاتا ہے ۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” شاید یہی زندگی ہے ۔“ اس نے اپنا مگ گھماتے ہوئے یاسیت سے کہا

” اچھا آج کا پروگرام کیا ہے ؟“ میں نے بات بدلنے کے لئے پوچھا

”بس یہیں بیٹھ کر گپ شپ کریں گے ، دوپہر کے وقت نکلیں گے کسی ریستوران سے کھانا کھائیں گے ، اس کے بعد تم جو کہو ۔“

”اوکے ۔“ میںنے سکون سے کہا اور پھر چائے کا آخری سپ لے لیا۔

ہم لاﺅنج میں آ بیٹھے تھے ۔وہ کسی سوچ میں گم تھی ،پھر اچانک سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور سوچتے ہوئے لہجے میں بولی

”وہ جو چوہدری سردار ہے ، کیا تم نے اس کے بارے میں کچھ معلومات لی ہیں ؟ میرا مطلب ہے وہ کیا کرتا ہے ، کن سے اس کا تعلق ہے ؟“

”میں نے کبھی دلچسپی نہیں لی تھی ، یہ تو مجھے پرسوں شام پتہ چلا کہ وہ بھی میرا دشمن ہے ، میرے سامنے تو اس کا بزنس یہی زمیندارہ ہی ہے ۔“میں نے بتایاتو وہ مسکرا دی ، پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولی

”بات یہ ہے ، یہ جو گینگ بنتے ہیں یامافیا کی صورت اختیار کر جاتے ہیں ، یہ سب چھوٹی چھوٹی طاقتیں مل کر ایک بڑی طاقت بنتے ہیں ۔ ان سب میں اتحاد یا اختلاف ان کی ذاتی فائدے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ایک دوسرے کی مدد کرنی ہو ، سہارا دینا ہو ، صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کے کہیں کہیں فائدے مشترک ہوتے ہیں ۔“

”ظاہر ہے ، ان سب کا مقصد ایک ہوتا ہے تو اکھٹے ہوتے ہیں نا ؟“ میں نے اس کی بات سمجھتے ہوئے کہا تو بولی

”دیکھو ، جیسے لینڈ مافیا ہے ، وہ زمینوں کی، جائیدادوں کی لوٹ کھسوٹ میں شامل ہوتے ہیں ۔اگر ان کے لوگ سیاست میں ہوں گے تو انہیں بروقت پتہ چلتا ہے کہ کہاں پر کیا ہونے والا ہے ۔ اگر ایک ویران علاقے میں بہت بڑی سڑک نکلنے والی ہے تو یہ لینڈ مافیا پہلے ہی اونے پونے دام سے وہ علاقہ خرید لے گا ۔اس مافیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، ایک سڑک چھاپ غنڈے سے لے کر ایوانوں میں بیٹھنے والے سیاست دانوں تک ۔ ہر ایک کا فائدہ ہوتا ہے ۔ یہی فائدہ انہیں اکھٹا رکھتا ہے ۔“

 ” تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے یہ دیکھنا ہے کہ چوہدری سردار کسی مافیا کے ساتھ تو نہیں ہے ۔“ میں نے اسکی بات سمجھتے ہوئے کہا

” بالکل ، کیونکہ جب تم اس کی مخالفت میں نکلو گے تو وہ ایک اکیلا شخص نہیں ہوگا ، ایک مافیا سے جنگ لڑنا پڑے گی ۔ اس اکیلے بندے کو منظر سے ہٹا بھی دیا تو اس کی جگہ کوئی دوسرا لے لے گا ، سسٹم کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔“ اس نے پر جوش لہجے میں سمجھایا

”ہر مافیا اپنے اندر کا ایک الگ سسٹم رکھتا ہے ۔“ میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو اس نے آ نکھوں کے اشارے سے میری بات کی تصدیق کر دی تو میں نے کہا ،” اس کا مطلب ہے ، مجھے بہت سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔“

” بالکل ، اور اس سے بھی پہلے ، تمہارے پاس وہ قوت بہر حال ہو نی چاہئے ، جس سے تم نے اس مضبوط مافیا کو توڑنا ہے ۔ ورنہ مافیا تمہیں کچل کر رکھ دے گا ۔یہی آج کی حقیقت ہے ۔“ اس نے تلخی سے کہا

”میں ایک بات جانتا ہوں ارم ، اگر بندے میں حوصلہ ہو اور اسے اپنی سچائی کا یقین ہو تو یہی سب سے بڑی قوت ہوتی ہے ۔جنگ قوتوں سے نہیں حوصلے سے لڑی جاتی ہے ۔“

” اُﺅ ئے سوھنے منڈے ، حوصلہ بھی تو ایک قوت ہے اور سچائی، دنیا کی سب سے بڑی طاقت …. اس کے سامنے کوئی نہیں رک سکتا ۔“ اس نے ایک جذب سے کہا تو مجھے عجیب سا لگا ۔

” میرے پاس تو یہی ہے ۔میں اسی بل بوتے پر انہیں اپنے علاقے سے نکال کر رہوں گا۔“میں پر جوش لہجے میں کہا ۔ وہ ہلکا سا مسکرا دی ۔پھر اپنا سیل فون سیدھا کرتے ہوئے بولی

”میرا ایک صحافی دوست ہے ، اس سے پتہ کرتی ہوں تمہارے اس چوہدری سردار کے بارے میں ۔“ اس نے نمبر پش کئے اور رابطہ ہونے کا انتظار کرتی رہی ۔رابطہ ہو جانے پر اس نے اپنا سوال دہرایاپھر کچھ تک سنتی رہی ۔درمیان میں وہ ہوں ہاں کرتی رہی ۔ یہاں تک کہ سیل فون بند کرنے کے بعد ناگواری سے بولی ،”وہی جو میرے دماغ میں آ رہا تھا ۔“

 ” کیا آ رہا تھا تمہارے دماغ میں ۔“ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”وہ چوہدری سردارایک تو انسانی اسمگلر ہے ۔ دوسرامنی لانڈرنگ کرتا ہے اور تیسرا منشیات کا دھندہ کر تا ہے ۔اب اس کے پاس اتنی دولت آ گئی ہے ، اتنا طاقت ور ہو گیا ہے کہ ایم این اے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔“

”یہ ایک صحافی کی معلومات ہے ، کیا اس ملک کے ادارے ….“ میں نے کہنا چاہا وہ تیزی سے بولی

”انہی اداروں کو قابو میں کرنے کے لئے ہی تو یہ لوگ سیاست میں ، حکومتی ایوانوں میں ہوتے ہیں ۔خیر یہ ایک دوسری بحث ہے ، تم اپنے علاقے سے پتہ کرواﺅ کہ تمہارے علاقے سے کتنے لوگ باہر کے ملک گئے ہیں اور کیسے ہیں ؟ تھوڑی سی تحقیق کرو گے تو سب کھلتا چلا جائے گا ۔“

”چلو ، میں جاتے ہی سب سے پہلا یہی کام کروں گا ۔“میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

” ایک اور بات کے بارے میں ضرور جاننا ، تمہارے علاقے میں لوگ کس حد تک منشیات کے عادی ہیں ؟اگر تمہیں اپنے دشمن پر ہاتھ ڈالنا ہو تو یہیں سے ابتدا کرنا۔“ اس نے سوچتے ہوئے کہا

” ہاں ، یہ نشہ تو گھر کے گھر برباد کر دیتا ہے ۔“میں نے سوچتے ہوئے کہا

”میں اب اس کے بارے میں مزید معلومات دوں گی تمہیں ۔ اب یہ تم پر ہے کہ اس کا سامنا کیسے کر پاﺅگے ۔“ ارم نے انتہائی سنجیدگی سے کہا،

ایک لمحے کے لئے مجھے یوں لگا جیسے چوہدری سردار ایک پہاڑ کی مانند میرے سامنے آن کھڑا ہوا ہو ۔ لیکن یہ جنگ اس نے مجھ پر مسلط کر دی تھی ۔ میں نے اپنا دفاع تو کرنا تھا ۔ کچھ دیر بعد ہم اٹھے اور کار نکال کر نکل پڑے ۔ سارا دن شہر کی خاک چھاننے کے بعد سہ پہر کے وقت اس نے مجھے ہاسٹل چھوڑ دیا ۔ میں نے انور کو فون کیا، وہ کمرے ہی میں تھا۔میں وہاں پہنچا تو اس نے غور سے میرا چہرہ دیکھا، پھر تجسس سے پوچھا

” کسی سے لڑ کر آئے ہو ؟“

” او نہیں یار ، ایسے ہی کل شام کلب چلا گیا تھا ۔وہاں فائٹ ہو گئی ۔اتنے دنوں بعد جو ….“ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولا

” یار تم لوگوں کی منطق بھی سمجھ میں نہیں آ تی ، کھیل کے نام پر لڑنا جھگڑنا۔ خیر کیا پروگرام ہے ؟فخر کو بلا لوں ؟“

” نہیں ، مجھے آج ہی واپس جانا ہے ۔گاﺅں میں کچھ کام آ ن پڑے ہیں ۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔ میں کچھ دیر اس سے باتیں کرتا رہا ، پھر گاﺅں جانے کے لئے لاہور سے نکل پڑا۔

٭….٭….٭

صبح کا نور ہر جانب پھیل چکا تھا ۔ میں اپنے معمول کے مطابق جاگنگ کے لئے نکل آیا تھا ۔ آدھی رات ہو نے کو تھی ، جب میں اپنے گاﺅں واپس پہنچا تھا۔ تھکا ہو نے کے باعث سو گیا تھا ۔ معمول کے مطابق آ نکھ گئی تو میں بستر سے اٹھ کر باہر نکل آیا تھا ۔ جاگنگ کرتے ہوئے دماغ میں مسلسل ارم کی باتیں گونج رہی تھیں ۔ کیا اس کی معلومات درست تھیں ؟ اگر درست تھیں تو مجھے بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا تھا اور اگرا یسا نہیں تھا تو پھر مجھے درست معلومات بہرحال ملنی چاہئے تھیں ، ورنہ میں کہیں بھی دھوکا کھا سکتا تھا ۔ بہت سوچ کر میں نے تنّی کو فون کر کے بلا لیا ۔میں جب واپس آیا تو وہ میرے انتظار میں تھا ۔ میں اسے لے کر مہمان خانے کی جانب چل دیا۔ سورج نکل آیا تھا ۔ ملازم چائے وہیں لے آ یا ۔ مہمان خانے میں ہم دونوں ہی تھے ۔

” سنا کیا حال ہیں علاقے کے ؟“

”کوئی ہلچل نہیں سوائے چوہدری سلطان کے ، وہ ملک سے باہر چلا گیا ہے ۔ لیکن یہ کچی پکی خبر ہے ۔“ اس نے سکون سے کہا

”اچھا مجھے یہ بتا ہمارے علاقے سے کتنے نوجوان باہر کے ملکوں میں گئے ہوئے ہیں ؟“ میں نے پوچھا تو اس نے سوچتے ہوئے کہا

” کافی سارے گئے ہوئے ۔“

” انہیں بھیجتا کون ہے ؟ “ میں نے پوچھا

” یہی چوہدری سردار کا بندہ ہے ، شہر میں اس کی ٹریول ایجنسی ہے ۔وہ ہر ملک میں بھیج دیتا ہے بندہ ۔“ اس نے یوں کہا جیسے یہ عام سی بات ہو ۔

” اچھا ، تو اس چوہدری سردار کا اصل کام کیا ہے ؟“میں نے سوال کیا تو وہ چونک گیا ۔ اسے اب سمجھ میں آ یا تھا کہ میں اس سے کیا پوچھنا چاہ رہاتھا ۔وہ چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد بولا

”جو دو نمبری ہے ،وہی کرتا ہے ۔نشہ بیچتا ہے ۔ دکھانے کو ایک کاٹن فیکٹری ہے ۔ اس کی آڑ میں بہت کچھ ہوتا ہے ۔“اس نے کہا تو میں سمجھ گیا ارم کی معلومات کا فی حد تک درست تھیں ۔

” اس کا مطلب ہے اس کے پاس بدمعاش قسم کے لوگ بھی بہت زیادہ ہوں گے ۔“میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

”ہاں ، بہت ہیں ، وہ تو بہت کم لوگوں کے سامنے آ تا ہے ، اس کا سارا کام یہی لوگ دیکھتے ہیں ، انہی لوگوںنے تو پورے علاقے میں خوف پھیلایا ہوا ہے ۔کوئی بندہ ان کے خلاف بات نہیں کر سکتا ۔“

” چوہدری سلطان کی اتنی اوقات نہیں تھی کہ پولیس والے اس کی بات مانتے میرا خیال ہے کہ اسلم اے ایس آئی ٹائپ لوگ اسی کے لوگوں میں سے تھے ۔“ میں نے مزید تصدیق کی تو تنّی نے سر ہلا دیا ۔ پھر سرسراتے ہوئے لہجے میں بولا

”اس کی پہنچ بہت دور تک ہے ۔اسے معمولی مت لینا علی ۔“

” ہاں دیکھتے ہیں ، تم ایسا کرو ،دوپہر کے بعد کچھ لڑکے چوک میں بھیجنا ۔میں آج ہی کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔پھر رات مجھے ملنا ، اگر ہو سکے تو اپنے دوستوں کو بھی مجھ سے ملوا دینا ۔ جہاں آ سانی ہو ، ہم وہیں ملیں گے ۔“ میں نے کہا

” ٹھیک ہے ۔ میں رات تک انہیں اکھٹا کر لوں گا ۔ پھر جگہ بھی بتا دوں گا ۔“ تنّی نے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا

” میں تیرے لئے ناشتہ بھیجتا ہوں ۔وہ کر کے جانا ۔“ میں نے کہا اور اٹھ گیا۔ وہ کرسی پر پھیل کر بیٹھ گیا ۔ میں مہمان خانے سے نکلتا چلا گیا ۔

چوہدری سردار کے بارے میں سن کر میں خواہ مخواہ دباﺅ میں آ گیا تھا ۔میری تمام تر سوچوں کا محور وہ راستہ تھا ، جس کے باعث میں اس تک پہنچ سکتا تھا ۔ ایسا کیسے ہونا تھا ، مجھے کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ ناشتہ کرنے تک میںنے سب کچھ اپنے دماغ میں سے نکال دیا ۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں وقت کا انتظار کروں گا ۔

لاہور سے گاﺅں آ تے ہوئے میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔ مجھے لوگوں میں جانا تھا ۔ان سے ملنا جلنا تھا ۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہونا تھا ۔ ان کے ساتھ خوشیاں بانٹنی تھیں ۔تاکہ میرے اور ان کے درمیان جو اجنبیت تھی ، وہ ختم ہو جائے ۔ اس کا آغاز میںنے اپنے گھر ہی سے کیا ۔میں نے گیراج میں کھڑی موٹرسائیکل لی اور چل دیا ۔ میرا رخ اپنے چاچا زاد بھائیوں کے گھر کی طرف تھا ۔ میںدس منٹ میں ان کے گھر پہنچ گیا ۔ گیٹ کے ساتھ ہی موٹر سائیکل کھڑی کر کے میں اندر کی جانب چل پڑا۔ صحن میں چاچی جی تخت پوش پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ ان کے پاس گاﺅں کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ۔میری طرف دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئیں ۔ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔ ان کے لبوں سے آواز نہیں نکل رہی تھی ۔ میں نے جا کر سلام کیا اور پیار کے لئے اپنا سر آ گے کر دیا ۔ اس نے شدت جذبات سے دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ پکڑا اور میرے ماتھے کو چوم کر میرے سر پر پیار دے دیا ۔ پھر ایک پیڑھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لرزتے ہوئے لہجے میں بولی

”صدقے پتر ، آ بیٹھ ادھر ۔“

 میں پیڑھے پر بیٹھ گیا تو گاﺅں کی عورتیں ایک جانب سمٹ گئیں ۔ وہ بھی حیران تھیں کہ میں ان کے ہاں کیسے آ گیا ہوں ۔ایک ملازمہ نے اندر اطلاع دی ۔ یوں کچھ ہی دیر بعد اکبر اور اصغر کے علاوہ ان کی بیویاں بھی باہر آ گئی ۔ وہ سب مجھ سے ملے ۔ اکبر کچھ کھنچا کھنچا سا میرے سامنے بیٹھ گیا ۔اس دوران یونہی تکلفاً حال احوال پوچھتے رہے ۔

” یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ، بتا لسی پئے گا یا چائے ؟ “ چاچی نے پوچھا تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” میں کون سا مہمان ہوں، جس شے کو دل چاہئے گا مانگ لوںگا ۔ “

” میں اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں ۔“ اصغر کی بیوی نے کہا اور اٹھ گئی تو میں نے اسے روکتے ہوئے کہا

”بھابھی ابھی ضرورت نہیں ۔ہو سکتا ہے میں کھانا کھا کر جاﺅں ۔“

میرے یوں کہنے پر وہ لمحہ بھر حیرت سے مجھے دیکھ کر وہیں بیٹھ گئی ۔ہمارے درمیان خاموشی آ ن ٹھہری تھی ۔ ظاہر ہے میں ان کے ہاں گیا تھا تو مجھے ہی بات کرنا تھی ۔ تبھی میں نے دھیمے سے کہا

” چاچی جی ، آپ حیران تو ہوں گی کہ میں یوں اچانک کیسے آ گیا ۔ حالانکہ میرے جیل سے آ نے کے بعد گاﺅں سے، علاقے سے بہت لوگ آئے ، لیکن اگر کوئی نہیں آیا تو میرا خونی رشتے دار نہیں آ یا ۔“

” تم ہمیں الزام دینے آئے وہ یا ہم سے باز برس کرنے ؟“اکبر نے تلخی سے کہا تو میںنے مسکراتے ہوئے کہا

”نہیں، مان سے آیا ہوں ، یہ پوچھنے آیا ہوں کہ میرے بھائی ، مجھے پوچھنے کیوں نہیں آ ئے ۔“

” تم لوگوںنے ہمیں اپنا سمجھا ہی کب ہے ۔ بھائی ہونا تو بہت دور کی بات ہے ۔“ اکبر نے اسی طرح تلخی اور حقارت سے کہا

”دیکھو ، میں یہاں یہ بحث کرنے نہیں آ یا کہ کون کس کو کیا سمجھتا ہے ۔مجھے صرف ایک بات کا جواب چاہئے ؟“میں نے حتمی لہجے میں پوچھا

” کون سی بات ؟“ اکبر نے تجسس سے یوں پوچھا جیسے وہ میری بات سن کر مجھ پر احسان کر رہا ہوں ۔

” ہم ایک دادا کی اولاد ہیں ، آخرایسا کیا ہوگیا کہ ہم ایک دوسرے سے متنفر ہیں ، ناراض ہیں ، بات نہیں کرتے ؟“ میںنے پوچھاتو اکبر کچھ دیر تک خاموش رہا ۔ سب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ تبھی وہ تلخی سے بولا

” تایا نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔“

” مثلا ً کیا اچھا نہیں کیا ؟“ میںنے پوچھا

” یہی کہ زمین کی تقسیم میں میرے بابا کو وہ حصہ دیا جو اچھا نہیں تھا ۔ خود دادا کے نزدیک تھے ۔ سو اپنی پسند کی زمین لے لی ۔ جیسے سڑک کے ساتھ والی قیمتی زمین اب تم لوگوں کے قبضے میں ہے ۔“اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔ تب میںنے نہایت تحمل سے سمجھانے والے انداز میں کہا

”پہلی تو بات ہے میرے بھائی ، ساری زمین دادا نے خود تقسیم کی ، اس پر ہمارے والدین کو بولنا چاہئے تھا ۔دوسری بات جس وقت دادا نے زمین تقسیم کی ، تب اس سڑک کا نام و نشان تک نہیں تھا ، وہاں کچی سڑک بھی نہیںتھی ۔تمہیں بھی پتہ ہے ۔اس سڑک کے لئے بابا نے زمین دی ہے ۔“ میں سانس لینے کو رُکا تب اس نے کہنا چاہا ، مگر میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے ہوئے کہا ،” اگر تمہارے دل میں وہ زمین لینے کی خواہش ہے تو میںنے تمہیں وہ زمین دی ۔ میں اس کے عوض کچھ نہیں مانگتا ،نہ پیسہ، نہ بدلے میں کوئی زمین ۔میں اپنے بھائی کو وہ زمین تحفے میں دیتا ہوں ۔“ میں نے کہا تو اکبر نے شدیدحیرت سے میری طرف دیکھا پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اسی حیرانگی میں بولا

” یہ کیا بات کر رہے ہو تم ؟“

” تم شاید یہ سوچ رہے ہو گے کہ اس میں میرا کتنا فائدہ ہے ۔ ایسی بات ہے نا ؟“ میںنے اس کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا

”تم اچانک یہ آ فر کیوں لے کر آ گئے ہو ؟“

” نہیں یہ آفر نہیں ہے میرے بھائی ، بلکہ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ یہ زمین جائداد کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے ۔انسان کی قدر ہو نی چاہئے ۔آج کوئی گولی مجھے لگ جاتی ہے ،میں مر جاتا ہوں ، زمین تو یہی پڑے رہے گی نا ۔“

” اللہ نہ کر ے میرا پتر ۔“ چاچی نے روہانسا ہوتے ہوئے بے ساختہ کہا تو اکبر نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا

” علی ، یہ سبق تم نے کہاں سے سیکھ لیا ؟“

” اس زندگی نے سکھایا ہے مجھے یہ سبق ، دادا اپنے ساتھ کیا لے گئے ، چاچا جی اپنے ساتھ کیا لے گئے ۔بابا نہیں رہیں گے ، یا میںنہیں رہتا تب ….جو اس جہان سے چلے گئے ، ان کے کام تو یہ زمین جائداد نہیں آ رہی ۔ہم اگر ایک دوسرے کے بارے میں نفرت رکھیں گے تو یہ زمین ہمارے کام نہیں آ ئے گی ۔لیکن ہم اگر اکھٹے ہوں گے تو اس سے بھی زیادہ زمین بنا لیں گے ۔یہ بات سمجھنے کی کوشش کرو ، دشمن ہمیں لڑوا کر ہم میں نفرت ڈال کر ہم پر ہی مسلط ہونا چاہتا ہے ۔کیا ایسا نہیں ہے ؟“ میں نے کہا تو اکبر چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا

” ہاں ایسا تو ہے ، لوگ ہمیں ملانے کی بات نہیں کرتے بلکہ ایسی باتیں ہی کرتے ہیں ، جن سے ہمارے درمیان نفرت بڑھے ۔“

” میں یہی بات کہنے آ یا ہوں ،ہم جو زندہ ہیں ، اس شے کے لئے لڑ رہے ہیں جو ہمیں وراثت میں ملی ہے ۔میں اگر تمہیں چند ایکڑ زمین دے کر تمہاری نفرت ختم کر سکتا ہوں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ہم اکھٹے….“ میں نے کہنا چاہا تو اکبر اٹھا اور اس نے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے کہا

” نہیں علی نہیں ،اب مزید کچھ نہ کہو ، میری آ نکھیں کھل گئی ہیں ۔مجھے معاف کردو ، میںنے بہت غلط سوچا تھا ۔“

”لیکن اب زمین تمہیں لینا پڑے گی ۔میرے بڑے بھائی کی طرح ،ہمارے سر پر ہاتھ رکھو ، مجھے بھی اصغر کی طرح سمجھو ۔ہم تین بھائی ہوں گے تو لوگ ہماری طرف آ نکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکیں گے ۔“میں نے کہا تو میری آ واز جذبات سے لرز رہی تھی ۔

” اچھا چل چھوڑ ان باتوں کو ۔اب اس بارے بات نہیں کرنی ۔ چل میں چلتا ہوں تیرے ساتھ تایا جی سے خود معافی مانگتا ہوں اپنے رویے کی ۔“ اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا

”اسے کچھ دیر بیٹھنے تو دے ، اب آ یا ہے تو کچھ کھانے پینے دے ۔“ چاچی نے اکبر کو ڈانٹ دینے والے لہجے میں کہا

”اب تایا جی کے گھر ہی جا کر کھائیں پئیں گے ۔ آپ سب بھی آ جاﺅ ادھر ، “ یہ کہہ کر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا ،” چل یار ۔“

وہ مجھے اپنے ساتھ لیتا ہوا موٹر سائیکل کی جانب بڑھا ۔ میں سیٹ پر بیٹھا تو وہ میرے پیچھے بیٹھ گیا ۔ہم حویلی کی جانب چل دئیے ۔

حویلی میں رونق لگی ہوئی تھی ۔ میرے چاچا زاد ، چاچی اور بھابیاں اپنے بچوں سمیت آ گئی تھی ۔ بابا نے اکبر کو کوئی بات ہی نہیں کرنے دی ۔ بس اسے اپنے گلے لگا کر رو دئیے تھے ۔اکبر شرمندہ سا ان سے معافی مانگتا رہا ۔ اماں بہت خوش تھیں ۔اتنے عرصے بعد حویلی میں چہل پہل سے ان کے چہرے پر خوشی آ گئی تھی ۔ بھابیاں کھانے بنوانے میں مصروف ہو گئی ۔ اکبر اور اصغر ، بابا کے پاس بیٹھے تھے ۔اماں اور چاچی باتیں کر رہی تھیں ۔ میرے اندر ایک سکون سے اتر گیا تھا ۔

 ٭….٭….٭

دوپہر ہو چکی تھی ۔ میرے چاچا کی فیملی واپس اپنے گھر جا چکی تھی ۔ میں نے موٹر سائیکل لیا اور گاﺅں کے اس چوک میں جا پہنچا ، جہاں برگد کا بڑا سا درخت تھا۔ پتہ نہیں وہ کتنے موسم دیکھ چکا تھا ۔ لوگ اس کے نیچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک طرف بنی مسجد اور دوکانوں کے ساتھ دھوپ میں چار پائیاں ڈال کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ کچھ بزرگ حقے کے ارد گرد جمع باتیں کر رہے تھے ۔ ایک بابا چند لڑکوں کے ساتھ رسیاں سیدھی کر رہا تھا ۔ کچھ نوجوان تاش کھیل رہے تھے ۔میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔

”اُو واہ بھئی واہ ، علی تم کدھر بھول پڑے ہو ؟“

” کمال کرتے ہو یار ، میرا بچپن میری جوانی ادھر گزر گئی ، اب رہنا ادھر ہے تو کتنی دیر اس چوک سے دور رہ سکتا ہوں ۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

” یہ تو ہے ۔“ اس نوجوان نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو ایک بزرگ بولا

” پر پتر وہ پہلے والا وقت نہیں رہا ، اب ملنا جلنا بھی کسی نہ کسی مقصد کے لیئے ہوتا ہے ۔جیسے جیسے لوگوں کے پاس دولت آ تی جاتی ہے ،دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔“

” آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے بابا جی۔ میرے جیسے لوگ ترس رہے ہیں اس پرانے وقت کے لئے۔وہ وقت اب کہاں واپس آ ئے گا ۔“ میںنے اس بزرگ کی ہاں میں ہاں ملا دی ۔

” تیرے شاباش ہے پتر تم نے کم ازکم غنڈوں سے تو جان چھڑوا دی ۔میرا خیال ہے وہ اب ادھر کا رُخ نہیں کریں گے ۔بڑا ظلم کرتے تھے یہ لوگوں پر ، بڑے لوگ تنگ تھے ۔“

” اب کوئی نہیں کرے گا ظلم، کوئی کرے تو مجھے بتائے گا ۔“ میں نے سکون سے کہا ۔ یہی میرا مقصد تھا کہ وہاں بیٹھ کر یہ بات کردوں ۔میںنے یہ بات کہی ہی تھی کہ ایک بزرگ نے لرزتے ہاتھوں سے اپنی عینک درست کرتے ہوئے روہانسا ہو کر کہا

”تو پتر پھر ایک کام اورکر دے تیرا اس گاﺅں پر بڑا احسان ہوگا ۔نسل تباہ ہو رہی ہے ، کسی کی عزت محفوظ نہیں ۔“

” کون سا کام ہے بابا جی بتائیں ۔“ میں نے سکون سے کہا

” میں بتاتا ہوں ۔“ ایک دوسرے بزرگ نے حقے کی نَے کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا۔ وہ ایک لمحہ کو کھنکار کر بولا،” ہمارے یہاں گاﺅں ہی میں نہیں ، ارد گرد بھی نشہ بہت فروخت ہو رہا ہے ۔نوجوان نسل اپنی زندگی تو خراب کر ہی رہے ہیں ، اپنے گھروں کو بھی برباد کرنے لگے ہیں ۔اسے بند ہونا چاہئے ۔“

”بند تو یہ ہو جائے گا بابا، لیکن آپ سب کیوں خاموش ہیں اب تک ، کیوں نہیں روکتے اپنے بچوں کو یا پھر نشہ فروخت کرنے والوں کو ۔“ میںنے جذباتی ہو کر پوچھا تو وہی بابا بولا

”ہمیں پتہ ہی اس وقت لگتا ہے ، جب یہ نوجوان نشے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ وہ تو برباد ہو رہے ہیں ، گھروالوں پر بوجھ بھی ہیں ۔ اب یہی بات سن لو ، اس کا چھوٹا بیٹا نشے کا عادی ہے ۔ وہ ٹیکے لگاتا ہے ۔جو نشہ فروخت کرتے ہیں ، اس کا اتنا قرض ہو گیا ہے کہ یہ اتار ہی نہیں سکتے ۔ اب پتہ ہے اس نشہ بیچنے والے نے کیا کہا ہے ؟“

” کیا کہتا ہے ؟“میںنے پوچھا

”یہ بڑے دکھ والی بات ہے پتر ، عزت غیرت والا تو سن کر مر جائے ، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ قرض دو ورنہ اپنی چھوٹی بہن دے دو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ رو دیا ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا

”بہت دُکھ والی بات ہے ۔“

” وہ مرجائیں ،کھپ جائیں، جو کریں ، بات اب گھر کی عزتوں پر آ گئی ہے ۔ ہم غریب لوگ ، نہ کسی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، نہ کسی سے لڑ سکتے ہیں۔“اس نے اپنی آ نسو پونچھتے ہوئے کہا

”بابا آپ فکر نہ کریں ، آج کے بعد وہ جو کوئی بھی ہے ایسی بات کہنے کی ہمت نہیں کر پائے گا لیکن آپ سب کو بھی کچھ کرنا ہو گا ۔“

” بتا کیا ، ہم کیا کریں ؟“اس نے پوچھا

” مجھے چند نوجوان دے دو ، جو میرا ساتھ دیں ۔ وہ جو خود نشے کے خلاف ہوں ۔ میں یہاں اپنے گاﺅں میں نشہ نہیں رہنے دوں گا ۔“ میں نے عزم سے کہا ۔ تبھی میںنے دیکھا ہم سے تھوڑا فاصلے پر تاش کھیلنے والے ، اپنا کھیل چھوڑ کر ہماری بات سن رہے تھے ۔ ان میں سے ایک جوشیلے نوجوان نے مجھ سے کہا

” علی بھائی ، میرے پاس تو میری صرف جان ہے ۔ جہاں چاہو لگا دوں گا مگر یہ گند یہاں سے ختم کروا دو ۔“

” میرا ساتھ دو ، میرے ساتھ چلو ، مجھے بتاﺅ وہ کون لوگ ہیں ۔آگے میرا کام ہے ، میں جنگ لڑ لوں گا اُن کے ساتھ ۔“

” میں آدھے گھنٹے میں لڑکے لے کر تمہارے پاس آ تا ہوں ۔“اس نے سینہ ٹھوک کر کہا تو میں نے کہا

” میں یہیں بیٹھا ہوں ۔لے آﺅ تو آج ہی بات ختم کرتے ہیں ۔“

میرے کہنے پر وہ سبھی لڑکے اٹھ کر چل دئیے ۔تقریباً آ دھے گھنٹے بعد وہاں دس بارہ لڑکے اور جوان اکھٹے ہو گئے ۔

”مجھے یہ بتاﺅ ، وہ لوگ کون ہیں ، کہاں سے آتے ہیں؟“ میں نے ان سے پوچھاتو ایک لڑکے نے ،مجھے بتایا

”وہ شہر کی طرف سے آتے ہیں ، وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتے ، بدمعاش قسم کے لوگ ہیں ، کوئی ان سے بھی بات نہیں کرتا ۔اگر کوئی سوال کرے تو بدمعاشی اور غنڈی گردی پر اتر آ تے ہیں ۔“

” اور یہاں آکر وہ اپنا ٹھکانہ کہاں بناتے ہیں ؟“میں نے پوچھا

”گاﺅں کے باہر والی سڑک پر جو قبرستان ہے ، وہ وہیں آ کر رکتے ہیں۔ وہیں قبرستان میں سارے نشے باز موالی جمع ہو تے ہیں ۔ وہاں وہ رکتے ہیں اور انہیں نشہ بیچ کر چل دیتے ہیں۔“اسی لڑکے نے مجھے بتایا

”کس پر آتے ہیں ، مطلب سواری کیا ہوتی ہے ؟اسلحہ وغیرہ؟“ میں نے مزید کرید کی

”ایک جیپ ہے ان کے پاس ، اس میں دو لوگ ہوتے ہیں اسلحہ لے کر ، باقی ایک یا دو وہ ہوتے ہیں جو نشہ ….“

” اوکے ۔“ یہ کہہ کر میںنے ان نوجوانوں کی طرف دیکھا اور پھرسنجیدگی سے کہا،”دیکھو ، وہاں لڑائی بھی ہو سکتی ہے ، ممکن ہے نوبت گولی تک آ جائے ۔ جس میں ہمت ہے وہ میرے ساتھ آ ئے ، باقی واپس چلے جائیں ۔“

میں یہ کہہ کر چل پڑا۔ میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کیا اور قبرستان کی جانب چل دیا ۔میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کہ کون کون میرے پیچھے آ رہا ہے ۔ میں نے بریک ہی قبرستان کے باہر والی سڑک پر لگائے ۔میںنے تب دیکھا کئی سارے نوجوان وہاں آ چکے تھے ۔قبرستان کے ارد گرد چار دیواری تھی ۔میں اس کے اندر چلا گیا ۔وہاں کئی سارے نشئی لوگ درختوں کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ، کوئی کسی قبر کے ساتھ ٹیک لگا کر پڑاہوا تھا ۔ مجھے ان کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا ۔میں چند لمحے وہاں کھڑا سوچتا رہا ، پھر میں نے فخر کو فون کر دیا ۔

”تم آئے بھی اور چلے بھی گئے ، کم از کم مل تو لیتا ، اتنی کیا ایمر جنسی تھی تمہیں ۔“ اس نے علیک سلیک کی بجائے پر جوش لہجے میں شکوہ کرنے لگا

” تھی نا ، اسی لئے واپس آ گیا ہوں ۔“میں نے سنجیدگی سے کہا

” خیریت تو ہے نا ، بات کیا ہے ؟“ اس نے پوچھا

”وہ یار تیرے ایک ڈاکٹر انکل ہیں جو نشے بازوں کا علاج کرتے ہیں ۔“میں نے تیزی سے پوچھا

” ہاں کرتے ہیں ، پر تمہیں کیا ضرورت پڑ گئی ؟“ اس نے پوچھا تو میں نے اسے اختصار سے اپنے گاﺅں کے لوگوں کے بارے میں بتایا ۔

” میں ابھی ان سے بات کرکے بتاتا ہوں ۔“ ساری بات سمجھ کر اس نے کہا اور فون بند کر دیا ۔

 سہ پہر ہونے کو تھی ۔ہمیں ان نشہ بیچنے والوں کا انتظار تھا ۔سڑک صاف تھی اور ہم لوگ قبرستان میں تھے ۔ نشے باز ہمیں دیکھ تو رہے تھے لیکن وہ ہم سے کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کر پار ہے تھے ۔ ان کی آ نکھوں میں حیرت ضرورت تھی ۔ہر طرف ہو کا عالم تھا ۔ تبھی ایک ہارن کی آ واز پر نشے باز موالی یوں چونکے جیسے ان میں زندگی بھر گئی ہو ۔وہ اٹھ کر قبرستان سے باہر جانے لگے ۔ہم بھی ان کے پیچھے باہر آ گئے ۔ چھوٹی سی سڑک پر ایک سرخ رنگ کی پرانے ماڈل کی جیپ کھڑی تھی ۔اس میں چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔نشے باز پسنجر سیٹ کی طرف اکھٹے ہوگئے تھے ۔ڈرائیور ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔ جبکہ پیچھے بیٹھے ہوئے دو بدمعاش قسم کے لوگ گنیں پکڑے بیٹھے ان سب کو دیکھ رہے تھے ۔میں نوجوانوں کو سمجھا چکا تھا کہ انہوں نے کرنا کیا ۔ ایک نوجوان آ گے بڑھا اور اس نے ڈرائیور سائیڈ والا دروازہ کھولا، سٹارٹ جیپ کو بند کر کے چابی اگنیشن میں سے نکال لی ۔ جیپ بند ہو گئی ۔جب تک وہ یہ سمجھتے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے میںنے پچھلا دروازہ کھولا اور بدمعاش کا کالر پکڑ کر نیچے کھینچ لیا ۔ ایساہی دوسری طرف سے کیا گیا ۔ میری طرف والا بدمعاش جب نیچے آ رہا تھا ، اس نے گن سیدھی کرنا چاہی ، تب تک میں دوسرے ہاتھ سے اس کی گن پر قابو پا چکا تھا ۔ جب وہ سڑک پر گرا تو اس کی گن میرے ہاتھ میں تھی ۔اسے نہتا دیکھ کروہاں موجود نوجوان اس کی طرف بڑھے ۔ میں انتہائی سرعت سے دوسری جانب چلا گیا ۔ وہ بدمعاش اس نوجوان سے گتھم گھتا تھا ۔ میں نے گن نال کی جانب سے پکڑی اور گھما کر بٹ اس کی کمر پر دے مارا ۔ وہ وہیں دہرا ہو گیا ۔اتنی دیر میں نشہ فروخت کرنے والے کو بھی نیچے اتار لیا گیا تھا ۔ چند منٹ میں ان کی اچھی خاصی دھلائی ہونے لگی تھی۔وہاں موجود موالی خوف زدہ ہو کر ایک جانب ہٹ گئے تھے ۔ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے ؟ کچھ ہی دیر بعدان چاروں کو قبرستان کی دیوار کے ساتھ لگا کر کھڑا کر دیا گیا ۔

”کون بھیجتا ہے تم لوگوں کو ؟“ میںنے اس سے پوچھا جو پسنجر سیٹ پر بیٹھ کر نشہ فروخت کررہا تھا ۔

”دیکھ او لڑکے جو ہوگیا سو ہو گیا ، اگر تم اپنی خیریت چاہتے ہو تو ہمیں جانے دو ۔“ اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا

” پھر کیا ہو جائے گا ۔“ یہ کہتے ہوئے میں آ گے بڑھا اور اسے گردن سے پکڑ کر سڑک پر لے آ یا ۔میںنے اسے دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھاکر سڑک پر دے مارا۔ وہ وہیں تڑپنے لگا ۔میں نے اس کے ٹھوکر ماری تو وہ بلبلا اُٹھا ۔ اس کے ساتھ ہی میںنے پوچھا ،” بول ، کون بھیجتا ہے تم لوگوں کو ؟“

”تم ….بہت پچھ….تاﺅ ….گے۔“اس نے کہا وہ تکلیف کی شدت سے بول نہیں پا رہا تھا ۔

”اس کا مطلب ہے ، تم نہیں بتاﺅ گے ۔ چل تھوڑی دیر بعد تم خود ہی بکو گے ، تب میںنہیں سنوں گا ۔“ میں نے کہا اور ڈرائیور کو پکڑ لیا۔وہ فوراً ہی بولنے لگا

” مجھے نہیں ، میں تو آ ج ہی ان کے ساتھ آ یا ہوں ۔“

میں نے اسے چھوڑ دیا ، پھر بدمعاشوں کی جانب بڑھا ۔ وہ مجھے قہر آ لود نگاہوں سے گھور رہے تھے ۔

” تم دونوں مجھے بتاﺅ گے یا پھر مجھ سے مار کھاﺅ گے ؟“

”اوئے ، تمہیں نہیں پتہ ہم کون ہیں، اگر تمہیں ….“ ایک نے کہنا چاہا تو میںنے اسے پکڑااور گھسیٹ کر سڑک پر لے آ یا ۔ وہ مزاحمت کرنے لگا تھا ۔میں نے نوجوانوں کو اشارہ کیا تو وہ بھاگتے ہوئے آ ئے اور اسے پکڑ کر پیٹنے لگے ۔ اسی دوران جب میں دوسرے بدمعاش کی جانب بڑھا تو ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

” ہم معافی مانگتے ہیں ، کبھی دوبارہ نہیں آ ئیں گے، ہمیں جانے دو ۔“

” میں نے اس بندے کا نام پوچھنا ہے ، جو تمہیں یہاں بھیجتا ہے ۔“ میں نے اسے گردن سے پکڑتے ہوئے کہا تو دھیمے سے بولا

”یہ کوئی نہیں بتائے گا ، ورنہ وہ ہمیں مار دیں گے ۔“

”اچھا تو یہ بات ہے ۔“ میںنے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا ۔ تبھی میں نے نوجوانوں سے کہا

” ان سب کو اسی جیپ کے پیچھے باندھو، ان کا جو سامان ہے ، جیپ میں ہی رکھ دو اور چوک میں لے چلو ۔وہیں اس نے بات کرتے ہیں ۔“

میرے کہنے کی دیر تھی ۔ وہ نوجوان تیزی سے ان کی طرف بڑھے ۔تبھی میرے دماغ میں ایک خیال آیاتو میں نے تیزی سے کہا

” ٹھہرو ابھی ۔“

میرے کہنے پر وہ سبھی رُک گئے ۔ میں نے ان چاروں کی طرف دیکھ کر پوچھا

” مجھے یہ بتاﺅ ، تم میں سے ادھار کے بدلے یہ رشتہ کس نے مانگا تھا ؟“

وہ چاروں میرے سامنے خاموش کھڑے تھے ۔ تبھی نشیﺅں میں سے ایک لڑکا آ گے بڑھا ۔ اس نے کانپتے ہوئے ، بڑی بے بسی سے نشہ فروخت کرنے والی کی طرف اشارہکر کے کہا

” اس بے غیرت نے میری بہن کا رشتہ مانگا تھا ۔“ یہ کہتے ہی وہ رُو پڑا۔ اس نشئی میں ابھی تھوڑی بہت غیرت تھی جو ان لمحات میں جاگ اٹھی تھی ۔

” اب تم پیچھے ہٹ جاﺅ ۔“ میں نے نشہ فروخت کر نے والے کی طرف دیکھتے ہوئے نشئی سے کہا تو پیچھے ہٹ گیا ۔ میں نشہ فرخت کرنے والی کی طرف بڑھا ، اور جاتے ہی اس کے منہ پر پر گھونسہ دے مارا۔ وہ تکلیف سے دہرا ہو گیا تو میں نے اس کے منہ پر گھٹنا دے مارا وہ چیختا ہوا زمین پر گر گیا ۔ میں نے اسے کالر سے پکڑ کر اٹھا لیا اور پھر لگا تار اس کی دھنائی کرنے لگا ۔میں نے جب یہ محسوس کیا کہ اب یہ میرے ہاتھوں مر جائے گا تو میںنے مر کر نوجوانوں سے کہا

” اب ان سب کو لے چلو ۔“

سبھی نوجوانوںنے تیزی سے جیپ کے ساتھ انہیں باندھا اور لے کر چل دئیے ۔ میں موٹر سائیکل پر ان کے پیچھے پیچھے تھا۔میں ایک نئی جنگ چھیڑ چکا تھا ، اب اس کا انجام کیا ہونے والا تھا ، میں خود نہیںجانتا تھا ۔

ہم چوک میں پہنچے تو شام ہو رہی تھی ۔ ایسے میں فخر کا فون آ گیا ۔میں نے کال رسیو کی تو ا س نے کہا

” میری انکل سے بات ہوگئی ہے ۔ وہ مجھے ابھی ملے ہیں ۔وہ فون کرتے ہیں تمہیں۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔ اگلے چند لمحوں میں انکل کا فون آ گیا ۔ انہوں نے کہا

”بیٹا، یہ کتنے لوگ ہوں گے ؟“

”اس گاﺅں میں دس پندرہ تو ہوں گے ۔ لیکن اگر ساتھ والے گاﺅں ملا لیں تو زیادہ ہو جائیں گے ۔“

” ٹھیک ہے ، انہیں میرے ہسپتال تک آ نا ہوگا ،میں ایک گاڑی بھیج رہا ہوں ، اس میں ڈاکٹر بھی ہوںگے ۔جتنے لوگ بھی ہوں ، انہیں ان کے ساتھ بھیج دینا ۔ان کے علاج کا خرچ ہماری این جی او برداشت کر لے گی ۔“

” تھینک یو انکل میں ….“

’ ’ ایک اہم بات سن لو ، وہ لوگ تو صبح تک پہنچیں گے ، لیکن اس وقت ان سب نشے کے عادی لوگوں کو نشے کی ضرورت ہو گی ۔وہ انہیں ضرور دے دینا ، ورنہ وہ پرابلم کریں گے ۔باقی جب وہ یہاں آ جائیں گے تو دیکھ لیں گے ۔“

” ٹھیک ہے انکل میں سمجھ گیا ۔“ میںنے کہا تو انہوں نے فون بند کر دیا ۔ مجھے ایک روحانی خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔جیسے میں کوئی بہت اچھا کام کر رہا ہوں ۔ شاید اسی خوشی نے مجھے طاقت اور حوصلہ دیا تھا ۔

میں نے وہاں موجود نوجوانوں کوبلایا اور انہیں سمجھایا کہ سب نشیﺅں کے گھر والوں سے ملو ، انہیں علاج کے لئے صبح بھجوانا ہے ۔میں یہ سب ان کے ذمے اس لئے لگا رہا تھا کہ مجھے پورا یقین تھا کہ ان چاروں کے لیئے مجھ پر دباﺅ آ نے والا تھا ۔وہ سب سمجھ گئے تھے۔ انہوں نے ذمہ داری لے لی ۔ انہوں نے کسی حد تک جیپ سے نشہ آور چیزیں اٹھا لی تھیں، باقی اسی میں پڑی رہنے دیں ۔ ان چاروں کو دیکھنے کے لئے گاﺅں اُمنڈ آ یا تھا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہوں ۔

دو گھنٹے گزرے ہوں گے ۔ایک اجنبی نمبر سے کال ملی ۔ میں کال رسیو کی ہی تھی کہ دوسری جانب سے کسی نے انتہائی کرخت اور حقارت سے پوچھا

” اوئے تم نے ہمارے بندوں کو پکڑ کو گاﺅں میں بٹھایا ہوا ہے ؟“

” تم کون ہو ؟“ میں نے جواب دینے کی بجائے سوال کردیا

”میں جو کوئی بھی ہوں ، اگر زندگی چاہتے ہو تو انہیں فوراً چھوڑ دو ،ورنہ پھر تیرے ساتھ جو ….“

” بکواس بند کرو ۔“ میں نے اسی سکون سے کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا

”لگتا ہے تیرا دماغ ٹھیک کرنا ہی پڑے گا ۔“

”میرے سامنے آ ، مجھ سے آ کر بات کر ،پھر دیکھتا ہوں ۔“ میں نے کہا تو وہ فون بند کر گیا ۔میںنے سیل فون اپنے کان سے ہٹایا تو مجھے اپنے سامنے تنّی کھڑا دکھائی دیا ۔ اس کا چہرہ جوش سے سرخ ہو رہا تھا ۔مجھے اپنی جانب متوجہ پا کر بولا

” بہت بڑا کام کر دیا ہے تم نے ۔ اب اسے سنبھالنا ، دشمن بڑی طاقت سے سامنے آ ئے گا ۔“

”تم کس مرض کی دوا ہو ۔“ میںنے مسکراتے ہوئے کہا

”سمجھ گیا ۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا اور واپس پلٹ گیا ۔

میں وہیں ایک دوکان کے باہر کرسی پر بیٹھ گیا ۔وہ لوگ چوک میں بندھے ہوئے بیٹھے تھے ۔ان کے قریب ہی جیپ کھڑی تھی ۔جس میں مختلف قسم کی نشہ آ ور چیزیں تھیں ۔شام کا دھندلکا پھیل چکا تھا ۔سردی بھی بڑھ رہی تھی ۔ایسے میں پولیس جیپ ایک راستے سے آتی ہوئی دکھائی دی ۔وہ چوک میں آ کر رکی تو بہت سے لوگ تتر بتر ہو گئے ۔وہ دور کھڑے تماشہ دیکھنے کی کوشش میں تھے ۔ جیپ میں سے راﺅظفر باہر نکلا ۔اس نے ماحول کا جائزہ لیا پھر مجھ پر نگاہ پڑتے ہی میری جانب آ گیا ۔میں اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا ۔ اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور حال احوال پوچھتے ہوئے مجھے لے کر ایک جانب چل پڑا۔کچھ دور تنہائی میں لے کر بولا

”لگتا ہے ، اب دفاع سے زیادہ اٹیک پر آ گئے ہو ؟“

” یہ تم نے ہی سکھایا ہے مجھے ۔بل میں ہاتھ ڈالوں گا تو کوئی سانپ بچھو باہر نکلے گا۔“ میںنے عام سے انداز میں کہہ دیا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا

”میں ابھی انہیں لے جاﺅں گا، وہ بھی گرفتار کر کے ۔ کل پرسوں ان کی ضمانتیں ہو جائیں گی ۔یہ پھر سے یہی کچھ کرنے لگیں گے ۔یہ اب اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ انہیں روکنا بہت مشکل ہے ۔“

”جب تک تیرے جیسے لوگ موجود ہیں ، یہ نہیں رک سکیں گے ۔جبکہ یہ تیرا فرض ہے تم انہیں روکو ۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا

”یار کس فرض کی بات کر رہے ہو تم، یقین جانو تم پر اغوا کا پرچہ ہوسکتا ہے ۔میں ہی تمہیں گرفتار کرنے آ جاﺅں گا ۔پھر وہی سب ….“ آخری لفظ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں طنز در آ یا تھا ۔صاف ظاہر تھا کہ وہ ان کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔

”کچھ بھی کر لو اب میںانہیں اپنے علاقے میں نہیں آ نے دوں گا چاہئے تم بھی ان کے ساتھ آ جایا کرو ۔“میں نے سختی سے کہا

”تمہارا مطالبہ کیا ہے ؟“اس نے وجہ جاننا چاہی

” یہ کس کے لوگ ہیں ؟“ میں نے پوچھا

” حمید ٹھیکیدار کے لوگ ہیں یہ۔“ اس نے سکون سے کہا

”ان پر ایف آ ئی آر دو گے ؟“میںنے پوچھا

” پتہ نہیں یار ، یہ تو واپس جا کر پتہ چلے گا، کس پر ایف آئی آر کٹتی ہے ، ان پر یا تم پر ۔“ اس نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا

”راﺅ بات صرف اتنی سی ہے کہ پارٹی مت بنو ۔کہیں تمہیں بھی پچھتانا نہ پڑ جائے ۔جاتے جاتے ایک پیغام بھی لیتے جاﺅ ۔ جو بھی ان کے پیچھے ہے اسے کہہ دینا ، میں بہت جلد اس تک پہنچ جانے والا ہوں ۔“میں نے سمجھانے والے انداز میںکہا تو راﺅ نے سکون سے میری بات سنی اور سر ہلا کر بولا

” اب لے جاﺅں ان لوگوں کو ؟“

 میں جانتا تھا کہ وہ مجھ پر طنز کر رہا ہے ۔ورنہ مجھ سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔دوسرے لفظوں میں اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ بھی پارٹی ہے ۔وہ ان کے ساتھ ہے جن کے بندے میںنے پکڑے تھے ۔تبھی میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” لے جاﺅ ، مگر اپنی ذمہ داری پر ۔ان کے بارے میں تم سے سوال بھی ہو سکتا ہے ۔“

اس نے میری جانب خشمگیں نگاہوں سے دیکھا لیکن مزید کوئی بات کئے پلٹ گیا ۔ وہ ان چاروں کے پاس گیا ۔ باقی عملے نے انہیں ایک گاڑی میں ڈالا اور لے کر چل دئیے ۔میں کچھ دیر وہاں رہا ، پھر حویلی واپس آ گیا ۔

ساری رات اسی کشمکش میں گزر گئی کہ صبح ان نشئیوں کو ہسپتال بھجوانا ہے۔ صبح بس میں گاﺅں کے سارے نشیﺅں کو ڈال دیا گیا ۔کچھ گھر والے ان کے ساتھ چل دئیے ۔ اردگرد کے علاقے سے بھی چند نشئی لے کر آ گئے ۔انہیں بھی ان کے ساتھ بھیج دیا گیا ۔مجھے اس کی اطلاع گاﺅں میں موجود نوجوانوں ہی نے دی تھی ۔لوگ خوش تھے کہ ان سے ایک عذاب ٹل رہا ہے ۔ دن چڑھے مجھے سونے کا موقعہ ملا ۔میں جو سویا تو مجھے خبر ہی نہ رہی ۔

٭….٭….٭

شام سے تھوڑی دیر پہلے میں لان میں بیٹھا دھوپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ میںنے ایک وار کردیا تھا ۔ اب اس کے ردعمل کا انتظار کر رہا تھا ۔ اگر دشمن نے وار کرنا ہو تو تو کیسے کرے گا ؟ایسے میں میرا سیل فون بجا ۔ وہ ارم کا فون تھا ۔ میںنے کال رسیو کی تو اس نے پوچھا

” ارے یہ تم بچارے نشئی لوگوں کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔ تمہارا کیا لیتے ہیں ۔ اپنا نشہ کرتے ہیں اور….“

” تمہیں کس نے بتایا ؟“ میں نے پوچھا

” ابھی فخر سے بات ہوئی تھی ۔ اس نے مجھے بتایا ۔خیر تو ہے نا ؟“ اس نے پوچھا

” تم نے ہی تو کہا تھا ، میںنے آتے ہی پہلا یہ کام کردیا ۔“میں نے اسی پر بات ڈال دی پھراسے تفصیل بتا دی ۔

” اُوہ ، تو یہ بات ہے ۔“ ساری بات سن کر اس نے کہا

”ہاں اور میں منتظر ہوں کہ ….“میںنے کہنا چاہا تووہ بولی

”میں آ جاﺅں ؟“

”آ جاﺅ ، اگر تم آ سکتی ہو تو ۔ “ میںنے کہا

” اچھا ، میں دیکھتی ہوں لیکن تم نے اپنا بہت خیال رکھنا ہے ۔“

”وہ تو رکھ رہا ہوں اپنا خیال ۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ گہری سنجیدگی سے سمجھانے والے انداز میں بولی

”میری بات یاد رکھنا ۔ حملہ کسی افتاد کی مانند ہوتا ہے ، وہ اپنی ہی کسی نہ کسی کمزوری کے باعث ہوتا ہے ۔ وہ کمزروی کہیں ارد گرد ہی ہوتی ہے ۔ آنکھیں اور کان کھول کر رکھنا ۔جب بھی تم کسی پر حملہ کرو تو اندھا دھند نہ کرو ، جب تک تمہیں یقین نہ ہو جائے کہ ہدف تمہارے نشانے پر ہے ۔“

” تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو ۔“ میںنے اس کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تو وہ بولی

” میں دیکھتی ہوں ، انتظار مت کرنا ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا ۔ وہاں بیٹھے مجھے کسلمندی ہونے لگی ۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں پھر سے جا کر سو جاﺅں ۔ میں اٹھا اور اندر چلا گیا ۔میں لاﺅنج میں آ یا تو اماں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ میںنے ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ وہ میری جانب پیار سے دیکھ کر بولی

”جب سے یہ حادثہ ہوا ہے ، تمہاری ساری روٹین بدل گئی ہے ۔ نہ سونے کا وقت ، نہ جاگنے کا ۔ “

” اماں ، بس سمجھ لو کہ نیند اُڑ ہی گئی ہے ۔ جب آتی ہے تو سمجھو غنیمت ہے ۔دشمن بڑے ہو گئے ہیں اماں ، میرے لئے دعا کیا کرو ۔“ میںنے گہری سنجیدگی سے کہا ۔ وہ بھی سمجھتی تھیں کہ میں کن حالات سے گزر رہا ہوں پھر بھی دہل کر بولیں

” اللہ تمہاری حفاظت کرنے والا ہے میرے پتر ۔اپنا خیال رکھا کرو ۔ “

” وہ تو میں رکھتا ہوں ۔“میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

” اچھا چل تو بیٹھ میں تیرے لئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ اُٹھ گئیں ۔ میں وہیں صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔

 رات کھانے کے بعد گاﺅں سے کچھ نوجوان آ گئے ۔ میں ان کے ساتھ مہمان خانے میں گپ شپ لگانے لگا ۔رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ تنّی کا فون آ گیا ۔ میں نے کال رسیو کرکے کہا

” ہاں بول ۔“

” ابھی مجھے غفورے نے اطلاع دی ہے کہ حمید ٹھیکیدار وہاں چوہدری سردار کے ڈیرے پر ہے ۔ دونوں میں یہ صلاح ہو رہی ہے کہ علی احسن کو پہلی فرصت میں ختم کر دیا جائے ورنہ یہ سر دردی مزید بڑھ جائے گی ۔“

” پھر فیصلہ کیا ہوا ہے ؟“میںنے پوچھا

” ابھی تو بات چل رہی ہے ۔ کہہ رہا ہے کہ وہ ٹھیکیدار بہت غصے میں ہے ۔“اس نے بتایاتو ایک دم سے میرے دماغ میں ایک خیال آ گیا ۔ میںنے لمحہ بھر میں فیصلہ کر لیا ۔

”اچھا چل تو ایسے کر ڈیرے پر آ ، میں وہیں آ تا ہوں ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہتے ہوئے رابطہ ختم کر دیا ۔میں نے گاﺅں سے آئے نوجوانوں کو رخصت کیا اور خود موٹر سائیکل لے کر ڈیرے کی جانب چلا گیا ۔ڈیرے پر تقریباً ہر طرح کے ہتھیار رکھوا دئیے تھے ۔چاچا فیضو نے علاقے میں بندے ساتھ ملانے شروع کر دئیے تھے ۔وہ اس نے اپنی حد تک رکھے تھے لیکن وہ لوگ بھی سمجھتے تھے کہ چاچا فیضو کس لئے یہ سب کر رہا ہے ۔ میں جو کچھ کر رہا تھا وہ بھی علاقے سے چھپا ہوا نہیں تھا ۔

ڈیرے پر چاچا فیضو ہی تھا ۔ وہ جاگ رہا تھا ۔ میںنے جیسے ہی ڈیرے میں قدم رکھا ، وہ اٹھ کر صحن میں آ گیا ۔اس نے آتے ہی پوچھا

” خیر تو ہے پتر ؟“

” خیر ہی ہے چاچا ، آ ادھر کمرے میں بیٹھتے ہیں ۔“ میںنے کہا اور اسے ساتھ لے کر ایک کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ اندر چار پائی پڑی تھی ۔ میں اس پر جا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ ہی دیر بعد باہر موٹر سائیکل کی آ واز سنائی دی ۔

” کون ہے اس وقت ؟“ چاچے فیضو نے پوچھا

” وہ تنّی ہوگا ، اسے لے آ اندر ۔“ میں نے کہا تو وہ باہر چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد وہ بھی اندر آ گیا ۔ کچھ دیر بعد میں نے اس سے کہا

”غفورے سے پوچھ، وہ حمید ٹھیکیدار چلا گیا ہے یا ابھی ادھر ہی ہے ؟“

میرے یوں کہنے پر وہ ایک دم سے چونک گیا ، جیسے اسے سمجھ آ گئی ہو کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے کوئی جواب دئیے بغیر فون نکال کر غفورے کے نمبر ملا دئیے ۔ لمحوں میں رابطہ ہو گیا ۔ اس نے اسپیکر آ ن کر دیا تھا ۔

”ابھی تو یہیں ہے ۔کھانا کھا رہے ہیں۔“ غفورے نے بتایا

” مطلب ابھی آ دھا گھنٹہ لگ جائے گا ۔“ تنّی نے پوچھا

” بالکل ، “ یہ کہہ کر اس نے جلدی سے پوچھا ،” خیر تو ہے نا ؟“

”خیر ہی ہے ۔ تم اس کی گاڑی کی تصویر مجھے بھیج دو ۔ اس کے بعد پھر رابطے میں رہنا ۔“ میں نے کہا تو اس نے اجنبی آ واز سن کر پوچھا

” یہ کون ؟“

” وہی ہمارا دوست ۔“ تنّی نے تیزی سے کہا تو وہ خاموش ہو گیا پھر بڑے جوش سے بولا

” میں رابطے میں ہوں ۔“

اس کے ساتھ ہی تنّی نے فون بند کر دیا ۔میں اسے سمجھانے لگا کہ ہم نے کرنا کیا ہے ۔

آدھی رات گزر چکی تھی ۔میں نے خود کو اچھی طرح سے ڈھانپ لیا ہوا تھا ۔ میرے اور تنّی کے سر پر ہیلمٹ تھا ۔ میری جیکٹ کے اندر دو پسٹل تھے ۔ اسی طرح تنّی کو بھی میںنے پسٹل دے دئیے ۔تنّی موٹر سائیکل چلانے لگا ۔تقریباً پندرہ سے بیس منٹ کے اندر ہم نہر والے پل پر پہنچ گئے ۔ چوہدری سردار کے ڈیرے سے دو راستے آ تے تھے ۔ ایک یہی سیدھا سڑک والا راستہ تھا جو تھوڑا زیادہ تھا ۔ دوسرا نہر کے ساتھ ساتھ تھا جو بڑا مختصر سا تھا ۔وہ جدھر سے بھی آ تا ، اسے پل ضرور پار کرنا تھا ۔ہم ایک جانب اندھیرے میں کھڑے ہو گئے ۔ تنّی کا فون میرے پاس تھا ۔ میں مسلسل غفورے سے رابطے میں تھا ۔ اس نے مجھے بتا دیا تھا کہ حمید ٹھیکیدار ڈیرے سے نکل چکا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی معلومات دے دیں کہ وہ تین لوگ ہیں ۔ایک ڈرائیور ، حمید ٹھیکیدار اور تیسرا اس کا گن مین۔اس کے ساتھ ہی اس نے اس کی فور وہیل کی تصویر بھیج دی تھی ۔

ہمیں پل کے پاس کھڑے ہوئے کوئی تین چار منٹ ہوئے ہوں گے ۔میںنے دیکھا، نہر کے ساتھ ساتھ ایک گاڑی چلتی ہوئی آ رہی ہے ۔ کچا راستہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ تیز نہیں چل رہی تھی ۔ بالکل پل کے پاس آ کر وہ کافی آ ہستہ ہوئی اور پھر تیز ہو گئی ۔ وہ حمید ٹھیکیدار والی ہی فور وہیل تھی ۔اسی دوران تنّی نے موٹر سائیکل کو گئیر لگا دیا تھا۔ ہم تھوڑے سے فاصلے پر چل پڑے تھے۔ تنّی نے ایک دم سے سپیڈ بڑھائی اور بالکل ڈرائیور کے پاس لے گیا ۔ ہم برابر آ گئے تھے ۔ سردی کی وجہ سے شیشہ بند تھا ۔ میںنے پسٹل نکالا ہوا تھا ۔ میںنے لمحہ سے بھی کم وقت میں ڈرائیور کا نشانہ لیا اور لگاتار تین فائر کر دئیے ۔ فور وہیل لڑھک چکی تھی ۔ تنّی نے ذرا سا آ سرا کیا تو میںنے ٹائر میں فائر جھونک دئیے ۔ اس کے ساتھ ہی تنّی نے موٹر سائیکل کی رفتار کم کر دی ۔ فور وہیل آ گے نکل کر بے قابو ہو چکی تھی ۔ وہ اپنی ہی رفتار میں سیدھی ایک درخت سے جا لگی ۔ایک زور دار دھماکہ ہوا اور فور وہیل رک گئی ۔

تّی نے قریب جا کرہیڈ لائیٹس بند کر دیں ۔ فور وہیل کی اپنی ہیڈ لائیٹس آن تھیں ۔اسی ملجگی روشنی میں دیکھا،فور وہیل کا ایک دروازہ کھل رہا تھا ، اس میں سے گن مین تیزی سے نکلا۔ اس کا چہرہ لہو لہان ہو رہا تھا ۔ میںنے اس پر فائر نہیں کیا ۔ اس نے تیزی سے پسنجر سیٹ والا دروازہ کھولا اور حمید ٹھیکیدارار کو باہر نکالنے لگا ۔ ہمارے پاس وقت بہت کم تھا ۔ دھماکے کی آواز ارد گرد سنی گئی تھی ، کچھ ہی دیر میں کوئی نہ کوئی یہاں پہنچ جانے والاتھا۔ میں نے تنّی کو ذرا قریب جا نے کا کہا۔ وہ آ گے بڑھ گیا ۔ گن مین پورا زور لگا کر حمید ٹھیکیدار کو باہر نکال چکا تھا ۔ وہ بھی لہولہان تھا ۔ میںنے گن مین کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا ۔ وہ وہیں پر گھوما اور زمین پر آ رہا ۔ حمید ٹھیکیدار کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ زمین سے اٹھ جا تا ۔ڈرائیور کا پتہ نہیں کیا بنا تھا ۔ میںتیزی سے اتر اور سیدھا حمید کے پاس پہنچ گیا ۔ اس کے ماتھے پر پسٹل کی نال رکھی اور فائر کر دیا ۔ وہ ایک بار ہی جھٹکا لے سکا تھا ۔ اس کے بعد ساکت ہو گیا ۔ مجھے ڈرائیور سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔ میں واپس موٹر سائیکل پر بیٹھا تو تنّی نے گیئر لگا دیا ۔ وہ انتہائی تیز رفتاری سے واپس ڈیرے کی جانب چل دیا تھا ۔

میں ساری رات ڈیرے پر ہی رہا ۔صبح کی نیلگوں روشنی پھیلی تو میں باہر نکلا ۔ تنّی سو رہا تھا ۔ میں نے اسے سونے دیا ۔میں جاگنگ کرتا ہوا حویلی کی جانب چل پڑا اور پھرتا پھراتا ہوا حویلی جا پہنچا ۔

 ٭….٭….٭

سہ پہر کے وقت جب میں لان میں آیا تو بابا کے پاس کافی سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں بھی خاموشی سے وہیں بیٹھ گیا ۔ ان سب میں یہ بحث چل رہی تھی کہ حمید ٹھیکیدار کو حادثہ پیش آ یا ہے کہ اسے قتل کیا گیا ہے ؟قتل پر یقین اس لئے ہو رہا تھا کہ جو گولیاں انہیں ماری گئیں تھیں ۔ظاہر ہے اگر حادثہ ہوا ہوتا تو پھر گولیاں کہاں سے آ گئی تھیں ۔سبھی اپنی اپنی رائے دیتے رہے اور میں خاموشی سے سنتا رہا ۔کوئی کسی سے دشمنی بتا رہا تھا تو کسی سے ۔مجھے لگا علاقے میں ایک طرح سے بھونچال آ گیا تھا ۔ایسا ہونا ہی تھا ۔ پر سکون جھیل میں اگر پتھر گرنے لگیں تو ہلچل مچ جاتی ہے ۔میں کچھ دیر وہاں بیٹھا باتیں سنتا رہا ۔تبھی ایک بزرگ نے میری طرف دیکھ کر پوچھا

”تمہارا کیا خیال ہے بیٹا؟“

”میرا یہ خیال ہے کہ جو آپ بوتے ہو وہی کاٹتے ہو ۔اس علاقے میں کوئی تیسرا بندہ فائدہ اٹھا رہا ہے ۔میںنے جب بھی کوئی اچھا کام کرنے کی کوشش کی اس کا ردعمل بڑا عجیب سا آ یا ہے ۔ روشن مسلّی والا قتل مجھ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے پیچھے چوہدری سلطان نکلا ۔ اس نے مجھ پر ہی فائرنگ کروا دی ۔چوہدری سلطان نے اقبال صاحب کو بے عزت کیا، میںنے ان لوگوں کو پکڑ وایا۔ اسی رات اس کے بندے قتل ہو گئے ؟کون تھا وہ ، جس نے اتنے بندے قتل کر دئیے ؟ اب یہ واقعہ ہوگیا ۔ میںنے نشہ بیچنے والوں کو پکڑا۔ ان نشئیوں کا علاج کروانے کی کوشش کی تو حمید ٹھیکیدار والا واقعہ ہوگیا ؟سوچنے والی بات ہے نا ۔“میں نے بڑے شکوہ بھرے لہجے میں دکھی انداز کے ساتھ کہا

” وہ تیسرا فرد کون ہو سکتا ہے ؟“اسی بزرگ نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا تو ساتھ بیٹھے بزرگ نے کہا

”وہی جس کو فائدہ ہو سکتا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ فائدہ کسے ہے ؟ یہ جو حمید ٹھیکیدار تھا ، رات چوہدری سردار کے ہاں سے اٹھ کر گیا تھا ۔اب یہ بات تو چوہدری سردار بتا سکتا ہے ۔ کون تھا اس کا دشمن ؟“

”مان بھی لیا جائے یہ قتل ہوا ہے توچوہدری سردار کو تو پتہ ہوگا ۔قاتل کو بھی معلوم ہوگا کہ وہ کہاں سے آ رہا ہے ۔اس کا مطلب تھا کہ جو کوئی بھی تھا ، اس کا تعلق چوہدری سردار کے ڈیرے سے ضرور ہے ۔“ وہیں بیٹھے ایک شخص نے اپنی رائے دی ۔ تبھی میںنے ناگواری سے کہا

” جی آپ درست کہتے ہیں ۔یہ جو اس علاقے پر حکومت کر رہے ہیں ،اس علاقے کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔کسی کی عزت محفوظ نہیں ، کون کھڑا ہوگا ان کے مقابلے میں ۔میرے جیسا بندہ جسے کچھ پتہ ہی نہیں ، اس پر قتل ڈال دیا ۔ کیسی اندھیر نگری ہے یہ ۔“

” بس بیٹا کیا کریں ، جن کے پاس اختیارات ہیں ، وہ اس کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ یا شاید وہ اختیارات تک رسائی ہی اسی لئے حاصل کرتے ہیں کہ لوگوںپر ظلم کر سکیں ۔“

”جب تک مظلوم ہیں ، ظالم رہے گا ، عوام کو بھی تھوڑی ہمت کرنا چاہئے ، انہیں بھی اپنے حق کے لئے آ واز اٹھانی چاہئے ۔“ میںنے دل سے کہا

”کوئی کیا کرے ، اب ایک غریب گھر کا لڑکا ،پچھلے دو ماہ سے غائب ہے ۔قصور اس کا یہ تھا کہ وہ چوہدری سردار کے منشی سے الجھ بیٹھا تھا ۔ اس کا باپ انہی کی زمین پر مزارع تھا ۔ منشی روپے پیسے کے معاملے میں زیادتی کر رہا تھا ۔اس نے اپنا حق مانگا ، اگلے دو چار دن میں وہ غائب ہو گیا ۔اب اس کے گھر والے اس لڑکے کو تلاش کر کر کے تھک گئے ہیں ۔کہیں نہیں مل رہا ۔ پولیس نے درخواست تک نہیں لی ،بولے خود ہی آ جائے گا ۔“

” یہی تو ظلم ہے ، اب اس میں شعور کیا کرے گا ، جب لوگ ہی بے چارے پسے ہوئے ہیں ۔“ ساتھ بیٹھے بزرگ نے کہا تو دوسرا بولا

” طاقت چاہئے بیٹا طاقت ، وہ بندہ جو ان کی آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کے بات کر سکے ۔جو ان کا ہاتھ پکڑ سکے ۔“

” آپ کی بات بالکل درست ہے، میں اس سے انکار نہیں کرتا ، لیکن جب تک علاقے کے لوگ اکھٹے نہیں ہو جاتے ۔ چاہے کسی ایک مقصد پر ہی ہوں ۔ تب تک ایسا ہی چلتا رہے گا ۔عوام کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے ۔جیسے کل کی بات ہے ۔عوام نے اپنے مسئلے کو سمجھا ، سب مل کر چلے اور بہت حد تک ایک مسئلہ حل ہوگیا ۔ایسے ہی دوسرے مسائل ہیں ۔“میں نے پر جوش لہجے میں کہا تو بزرگ بولا

” لیکن اس کے ساتھ یہ قتل بھی تو ہو گئے ہیں ۔“

” میرے خیال میں یہ ان کی آ پس کی لڑائی ہوگی یا کوئی تیسرا بندہ فائدہ اٹھا رہا ہے ۔میںنہیں کہہ سکتا کہ وہ تیسرا بندہ مظلوم ہے یا ظالم ۔کسی کا ستایا ہوا ہے یا خود اس علاقے پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔“ میں نے پھر ایک بیان جاری کر دیا ۔ اس کے بعد سب لوگوں کی طرف دیکھ کر اپنے بیان کا ردعمل جاننا چاہا ۔ سبھی سوچ میں پڑ گئے تھے ۔ کسی نے جواب نہیں دیا ۔ میں نے جو چاہا تھا اس کا اثر ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ کچھ دیر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ۔ میں اٹھ کر حویلی سے باہر آ گیا ۔

میں پیدل ہی ڈیرے کی جانب چل پڑا تھا ۔میں یہی سوچتا جا رہا تھا کہ اب کس سے چوہدری سردار کو ایسا گھائل کیا جائے کہ وہ بلبلا اٹھے ۔میرا خیال تھا کہ اس تک میرا پیغام پہنچ چکا تھا ۔ حمید ٹھیکیدار کی موت نے اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہوگا ۔اس وقت میں کھیتوں میں جا رہا تھا ۔ میرا سیل فون بج اٹھا ۔وہ اجنبی کال تھی ۔ میں نے کال رسیو کر لی ۔رابطہ ہوتے ہی اس نے میرا نام لے کر تصدیق کی پھر بولا

” میں حمید ٹھیکیدار کا بیٹا بات کر رہا ہوں ۔“

” جی بہت افسوس ہوا آپ کے والد صاحب کی وفات کا ۔ آپ ….“

” بہت خوب ، میرے ہی باپ کو قتل کر کے مجھ سے ہی افسوس کر رہے ہو ، میں نے تمہیں فون اس لئے کیا ہے کہ میں تمہیں چھپ کر قتل نہیںکروں گا ، سامنے ماروں گا ۔اپنی جتنی حفاطت کر سکتے ہو کر لو ۔“اس نے انتہائی نفرت سے کہا تو میںخود پر قابو رکھتے ہوئے تحمل سے بولا

” دیکھو ، تم جو بھی ہو ، میں دھمکی سے نہیں ڈرتا ۔ تم جہاں کہو ، میں ابھی وہاں آ جاتا ہوں ۔لیکن ….اتنا سمجھ لو میں نے تمہارے باپ کو نہیں مارا ۔“

” تم جھوٹ بولتے ہو ۔“ اس نے انتہائی غصے میں کہا

”تمہیں غلط بتایاگیا ہے ۔“ میں نے سختی سے کہا

”تمہارے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ، مجھے معتبر بندوں نے بتایا ہے ۔“ اس نے یقین بھرے لہجے میں کہا

”چلیں ایسا کرتے ہیں ، جنہوں نے تمہیں بتایا ، تم ان بندوں کو لے آ ﺅ ، میں بھی چند بندوں کو لے آ تا ہوں ۔ وہ ان سب لوگوں میں بیٹھ کر ثابت کر دیں تو میں تمہارا جرم دار ۔اور اگر وہ ایسا نہ کر سکیں تو اپنے باپ کا قاتل تلاش کرو ، یہ وہی ہوگا جو تمہیں غلط راستے پر ڈال رہا ہے ۔“ میںنے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”تم آ جاﺅ گے پنچائت میں ؟“ اس نے پوچھا

” مجھے یہ بتاﺅ کب اور کہاں رکھنی ہے پنچائت ۔میں تم سے پہلے پہنچوں گا ۔اگر وہاں مجھ پر ثابت نہ ہوسکا تو پھر ….یہ بھی طے کرلو ۔“میں نے سخت لہجے میں کہا تو دوسری جانب چند لمحے خاموشی رہی ۔ پھر آ واز ابھری

” میں بتاتا ہوں تمہیں ۔“

اس کے ساتھ ہی رابطہ ختم ہو گیا ۔میں سمجھ گیا کہ مجھے گھیرنے کے لئے لوگ سر گرم ہو گئے ہیں ۔

ڈیرے پر پہنچ کر مجھے تنّی کا خیال آ یا وہ نجانے کہاں تھا ۔ چاچا فیضو بھی ڈیرے پر نہیں تھا ۔ میں کچھ دیر وہاں رہا ، پھر کھیتوں کی جانب نکل گیا ۔چاچا فیضو مویشیوں کے لئے چارہ کاٹ رہا تھا ۔ میں اس کے پاس چلا گیا ۔کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے کہا

” علی پتر ایک بات کہوں ؟“

”جی چاچا کہو ۔“ میں نے اس کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا

”یار ایک بات ہے ۔اگر میںتنّی جیسے بندے کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں تو کیا دوسرے اس کے بارے میں نہیں جانتے ؟“

” بات تو تم نے پڑی پتّے کی کہی ہے چاچا ، ذرا اس کی تفصیل سمجھاﺅ ۔“

” اس میں تفصیل والی کیا بات ہے ، راز وہی ہوتا ہے جو خود تک رہے ۔تنّی جیسے چھوٹے چھوٹے مہرے کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ بھروسہ وہی جو خود پہ کیا جائے ۔“ چاچا فیضو نے تیزی سے چارہ کاٹتے ہوئے کہا

”ٹھیک ہے ، میں آ ئندہ خیال رکھوں گا ۔“ میں نے کسی متوقع بحث سے بچنے کے لئے فوراً بات مان لی ۔ کیونکہ میرے خیال میں چاچا فیضو بہت زیادہ محتاط تھا ۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ تنّی میرے کس حد تک کام آ رہا تھا ۔ میں کھیتوں میں آ گے بڑھ گیا ۔ میں نے تنّی کال ملائی ۔ اس نے کال رسیو کرتے ہوئے کہا

” ہاں علی ،۔“

” کہاں ہو تم ؟صبح سے رابطہ ہی نہیں کیا ؟“میں نے پوچھا

”وہ غفورا پھنسا ہوا ہے صبح کا ، سارے نوکر وں کی تفتیش ہو رہی ہے کہ کس نے یہاں سے اطلاع باہر دی ہے ۔“ اس نے بتایا تو میرا ماتھا ٹھنکا ، اس کا سیل فون پکڑا جاتا تو ساری بات کھل جانی تھی ، کہیں ایسا تو نہیں کہ حمید ٹھیکیدار کے لڑکے نے اسی بنا پر مجھے فون کیا ہو ؟ کیا غفورے نے ساری بات بتا دی ہوگی ؟ کیا اس کے سیل فون سے پتہ چل گیا ہوگا ؟ یہ بڑی گڑ بر والی بات تھی ۔ میںنے تیزی سے پوچھا

” وہ اب کہاں ہے ؟“

”وہ ڈیرے پر ہی ہے ۔ گھبرانے والی بات نہیں ، ڈیرے والوں نے ان کے فون مانگے ہیں ، اس نے اپنا سستا فون انہیں دے دیا اور دوسرا فون وہ صبح گھر ہی چھوڑ گیا تھا ، جو اس وقت میرے پاس ہے ۔“

” اوہ ،یہ ٹھیک ہوا ۔“ میںنے اطمینان کی سانس لی ۔

” جب دشمنوں کے گڑھ میں رہنا ہے تو کچھ سوچ سمجھ تو چاہئے ہوتی ہے نا بندے کو ۔یہ غفورے والا معاملہ حل ہو جائے تو میں آ تا ہوں ۔“ اس نے کہا تو میں نے فون بند کر دیا ۔حالات کروٹیں لے رہے تھے ۔ اب مجھے بہت زیادہ محتاط ہو نے کی ضرورت تھی ۔ میں نے ڈیرے سے موٹر سائیکل لیا اور واپس حویلی چلا گیا ۔ شام کے سائے پھیل چکے تھے ۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر4

رات گزرتی چلی جا رہی تھی ۔میری آ نکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیں تھا ۔ میں اپنے حالات کے بارے میں جتنا سوچتا اتنی ہی میری بے چینی بڑھتی چلی جا رہی تھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں کس راہ پر چل نکلا ہوں ۔مجھے میرے دشمنوںنے کس راہ پر ڈال دیا تھا ۔غفورے سمیت سارے نوکروں کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔اگر غفورے کے پاس سے وہ سیل فون مل جاتا تو دشمن مجھ پر چڑھ دوڑتے ۔ ابھی ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، پھر بھی انہوںنے مجھے دھمکی دے دی تھی ۔ ظاہر ہے اب کہیں نہ کہیں ان سے سامنا تو ہونا تھا ۔میں کب تک چوہدری سردار کے ارد گرد لوگوں کا مارتا رہوں گا ۔ شاید تب تک میں بھی زندہ نہ رہ سکوں اور اپنے اصل دشمن کو مار ہی نہ سکوں ۔ میں بے چین ہو رہا تھا کہ مجھے حویلی کے گیٹ پر ہارن کی آواز سنائی دی ۔ س کے ساتھ ہی میرا سیل فون بج اٹھا ۔وہ ارم کا فون تھا ۔ میںنے کال رسیو کی تو وہ بولی

” اوئے سوہنے منڈے ، تیرے دَر پر کھڑے ہیں ۔“

” میں آ رہا ہوں ۔“ میں نے کہا اور بیڈ سے اٹھ گیا ۔ میں نے چادر اوڑھی اور باہر کی جانب چل پڑا ۔ مجھے اس وقت اس کا آ نا بہت اچھا لگا تھا ۔ چوکیدار ان سے پوچھ رہا تھا ۔ میں گیٹ پر گیا تو وہ ان سے سوال جواب کر رہا تھا ۔میں نے ارم کو دیکھا۔ وہ اکیلی تھی ۔ میں اس کی ہمت پر حیران ہوتا تھا کہ یوں کس طرح پھرتی ہے ۔ میںنے گیٹ کھولنے کا کہا تو وہ کار پورچ میں لے گئی ۔ وہ کار سے باہر نکلی تو میںنے خوشگوار حیرت سے پوچھا

” اتنی رات گئے ، یہ کون سا وقت ….“

” تیری یاد ستائی اور ہم نکل پڑے ۔ تم اتنے بے درد ہو کہ اندر جانے کا نہیں کہہ رہے ہو ۔“وہ ہنستے ہوئے بولی۔ میںنے اس ہاتھ پکڑا اور اندر کی جانب جاتے ہوئے کہا

”یار ویسے تمہاری ہمت دیکھ کر بڑا حوصلہ ہوتا ہے ۔“

” ابھی تم نے زندگی میں دیکھا ہی کیا ہے ، تم بھی نڈر ہو جاﺅ گے ۔جب برا یا اچھا وقت انسان پر پڑتا ہے نا تو سب کچھ ہو جاتا ہے ۔“ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا ۔ تب تک ہم لاﺅنج سے گزر چکے تھے ۔ وہ میرے کمرے میں آ گئی ۔میں نے اسے بٹھایا اور کسی ملازم کو جگانے کے لئے کمرے سے جانے لگا تو وہ بولی

” سب سو رہے ہوں گے ۔کسی کو بھی ڈسٹرب نہ کرو ۔ میں چائے پینا چاہوں گی ، وہ میں خود بنا لوں گی ۔“

” تم بیٹھو ، میں بنا لاتا ہوں ۔“ میں نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔ میں کچن میں گیا ۔ چائے رکھی ہی تھی کہ ارم کچن میں آ گئی ۔وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی ۔ وہ میری طرف بڑی گہری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔

” کیا بات ہے یوں دیکھ رہی ہو ؟“ میںنے مسکراتے ہوئے پوچھا

”یار ، پتہ نہیں تم کب سے اچھے لگنے لگ گئے ہو ۔“ اس نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا تو میں ہنستے ہوئے بولا

” ایک بار بتا چکی ہو کہ میں کب اچھا لگا تھا اب بھول بھی گئی ہو ؟“

 ” نہیں یار وہ جو دل سے ہوتا ہے ۔ نظروں کو اچھا لگنا اور دل سے اچھا لگ جانا دو مختلف باتیں ہیں نا، سمجھا کرو ۔“ اس نے اسی جذباتی لہجے میں کہا

”چلو میں نے مان لیا ۔ اب جلدی سے یہ بتا دو کہ یہ مسکہ کس لئے لگایا جا رہا ہے تاکہ مجھے بھی معلوم ہو ۔“

” اُوئے کوئی مَسکہ نہیںاُوئے ۔تجھے اپنے لئے چائے بناتے ہوئے دیکھ کر پیار آ رہا ہے ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہاتو میںنے کہا

” اگر دن کے وقت آ جاتی تو مجھے یوں چائے نہ بنانا پڑتی ۔“

” میں آ نا تو کل ہی چاہ رہی تھی لیکن کچھ کام آن پڑے ۔اب میں بالکل فری ہو کر آ ئی ہوں ۔کچھ دن تمہارے ساتھ رہوں گی ۔“ اس نے کہا

” چلو اچھا ہے ۔“ میں نے کپ نکالتے ہوئے کہا ۔ کچھ دیر بعد ہم چائے کے مگ لئے واپس کمرے میں آ گئے ۔ وہ اطمینان سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ میں بیڈ کی دوسری جانب بیٹھا تو اس نے سپ لے کر کہا

”میں نے وہ تمہارے چوہدری سردار کے بارے میں کافی معلومات لی ہیں ۔ وہ اکیلا یہ سب نہیں کررہا وہ ایک بڑے گینگ کا اہم رکن ہے ۔یہ جو کل اس کا ایک ساتھی قتل ہوا ہے ۔یہ اس کے لئے ایک معمولی سا بندہ تھا ۔“

” اچھا ، تمہیں اتنی خبر ہے ؟“ میںنے کہا

” ہاں مجھے اس سے بھی آ گے کی خبریں ہیں ۔“ یہ کہہ کر اس نے بڑے اطمینان سے سپ لیااور پھر بولی ،”وہ صرف تمہیں الجھا ہی نہیں رہا، اس کی آ ڑ میں کچھ دوسرے کام بھی کر رہا ہوگا ۔شاید وہ ان لوگوں کو صاف کر رہا ہے جو اس کے مطلب کے نہیںرہے ۔یہ سارے بندے تمہارے ہاتھوں ہی سے صاف کروا رہا ہے ۔“

” کیا کہہ رہی ہو تم ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا

”ٹھیک کہہ رہی ہوں ،تمہیں وہ جس ٹریک پر ڈالتا ہے تم اسی ٹریک پرچل پڑتے ہو ۔جتنی تم نے مجھے بات بتائی تھی ، یہ اتنی بڑی بات نہیں کہ اس قدرکوئی تمہارے خلاف ہو جائے ۔میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔“ اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو میںنے تیزی سے کہا

” میں تمہاری بات مان لیتا ہوں ۔مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم سچ کہہ رہی ہو لیکن یہ اگر سچ ہے اور محض ہمارا خیال یا مفروضہ نہیں تو اس پر یقین کرنے کی کوئی تو وجہ ہو گی ۔“

” اب تم نے بالکل درست بات کی ہے ۔میں آ ئی ہی اسی لئے ہوں کہ تمہیں اس جنجال سے نکال سکوں ۔“ اس نے بڑے سکون سے کہا

” جنجال ….؟کیسے ، یہ کیسے کرو گی تم ؟“ میںنے پوچھا

” ایک دودن میں سب واضح ہو جائے گا ۔ مجھ پر یقین رکھو ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے آخری سپ لیا اور مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا ۔ پھر چند لمحے سوچ کر بڑے سکون سے بولی

” دیکھو ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا ، کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا ۔ضروری نہیں کہ گولی کی زبان ہی میں بات کی جائے ، بعض اوقات باتوں سے بھی کام نکل آ تے ہیں ۔ تم دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“

” وہ مجھے جان سے مارنے ….“ میںنے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولی

” جب تک تم ان کے کام آ تے رہو گے تمہیں کچھ نہیں ہوگا ۔تم دیکھ لینا ، ایک یا دو دن بعد تمہارے سامنے ایک نیا بندہ کھڑا کر دیں گے ۔پھر تم اسے مارو گے ۔پھر ایک بندہ …. تمہیں اس گرداب میں پھنسا دیا جائے گا ۔“

” میں یہ نہیں کہتا کہ تم غلط کہہ رہی ہو ، ٹھیک کہہ رہی ہو تم لیکن یہ کیسے ممکن ہے ۔اس کی کوئی نہ کوئی توجہہ تو تم دے سکتی ہو نا ؟“ میںنے پوچھا

” یہ جو شاطر لوگ ہوتے ہیں نا ، یہ سانپ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں ، سانپ تو اپنے بچے بھی کھا جاتا ہے ۔انسان اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔“ اس نے سوچتے ہوئے کہا

”یہ کوئی دلیل نہیں دے رہی ہو تم ۔خیر ،ابھی ہم سوتے ہیں ، اس معاملے پر صبح بات ہو گی ۔“ میں نے کہا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ کمبل اوڑھنے لگی ۔تب میںنے کہا،”یہ تمہارا بیڈ روم نہیں ، تم جاﺅ وہ سامنے والے کمرے میں ۔ “

” اُو یار سونے دو ، تم چلے جاﺅ ادھر ۔“ اس نے منہ پر کمبل لیتے ہوئے کہا تو میں بیڈ سے اٹھ گیا ۔

میں اس کمرے میں آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔لیکن ارم کی باتیں میرے دماغ میں سوچوں کا بگولہ بنا چکی تھیں ۔وہ بہت حد تک درست کہہ رہی تھی ۔ تبھی اچانک میرے زہن میں خیال آ یا ، فرض کر لیا اس کی بات بالکل سچ ہے ، یا پھر جھوٹ بھی ہے لیکن وہ اس قدر معلومات کیسے رکھتی ہے ؟ کیا وہ بھی چوہدری سردار کے مافیا گینگ کی ہے یا پھر اس کے کسی مخالف گینگ کی ؟یہ جو میرے ہی گھر پر آ کر میرے ہی بیڈپر لیٹی ہوئی تھی کیا یہ میری دوست ہے یا دشمن ؟ اب تو میں اس کے بارے میں بھی پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا ۔آخر یہ ارم ہے کیا شے ؟ مجھے اس کے بارے میں اب سنجیدگی سے جاننا تھا ۔ انہی سوچوں کے دوران نجانے مجھے کب نیند آ گئی ۔

٭….٭….٭

اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم لان میں آ گئے ۔اس نے معمول سے ہٹ کر سیاہ شلوار قمیص پہن رکھی تھی ۔اس پر سنہرے رنگ کا ہلکا ہلکا کام ہوا تھا ۔ اس نے بلیک جیکٹ پہنی ہوئی تھی ۔گلے میں بڑی سی چادر تھی ۔ میں پہلی بار اسے ایسے لباس میں دیکھ رہا تھا ۔شاید اس نے سمجھ لیا تھا کہ یہاں کا ماحول ایسا ہے تو اسی کے مطابق لباس پہنے ۔ ہم لان میں دھری کرسیوں پر جا بیٹھے ۔ وہ نجانے کیا سوچتے ہوئے خاموش تھی ۔ میں چند لمحے اس کے چہرے پر دیکھتا رہا پھرمسکراتے ہوئے پوچھا

” کیا سوچ رہی ہو ؟“

”میں نے تمہارا علاقہ نہیں دیکھا۔میرا دل چاہ رہا ہے میں تمہارے گاﺅں کے ارد گرد کا ماحول بھی دیکھوں ۔“ اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہاتو میں ہنس دیا ، پھر بولا

”یہاں کیا دیکھنے والی چیز ہے ۔یہاں شمال کی جانب سے یہاں گاﺅں تک ہریالی ہے ، اس سے آ گے بھی سمجھ لو دو کلومیٹر تک فصلیں ہیں ، پھر صحرا شروع ہو جاتا ہے ۔کچھ فاصلے تک چھوٹے چھوٹے ٹیلے کہیں صاف پکی زمین پھر اس سے آ گے بہت بڑا صحرا شروع ہو جاتا ہے ۔یہاں تک کہ بھارت کی سرحد آ جاتی ہے ۔“

” اور یہ دائیں بائیں ؟“ اس نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا

”بس سمجھ لو کے نہر کے ساتھ ساتھ ایک پٹی ہے ۔مشرق سے مغرب کی طرف ۔“ میں نے اسے بتایا

”چل پھر آ ، آج ادھر صحرا کی طرف نکلتے ہیں ۔یہاں کہیں کوئی مزار ہوگا ، اونچا سا ، سفید رنگ کا ؟“ اس نے پوچھا

” ہاں ہے تو سہی ، لیکن تمہیں کیسے پتہ ؟“ میںنے پوچھا

”کسی نے بتایا تھا ، سنا ہے وہاں جو بھی دعا کی جائے پوری ہو جاتی ہے ۔“ اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا

”یار تم بھی ان باتوں پر یقین رکھتی ہو ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا

”اگر چلنا ہے تو چلو ، یہاں بیٹھے باتیں بناتے رہو گے۔“ اس نے ناراض ہو جانے والے انداز میں کہا

”چلو چلتے ہیں۔“ میں نے کہا اور اپنے ڈرائیور کو آ واز دی ۔ وہ لمحوں میں آ گیا ۔ میں نے اسے جیپ نکالنے کو کہا تو گیراج کی جانب چل دیا ۔اگلے دس منٹ بعد ہم صحرا کی جانب نکل چکے تھے ۔

ہمارے گاﺅں سے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر وہ ایک بڑا سارا مزار تھا ۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر بستی تھی ۔مزار کے باہر چھوٹا سا ایک بازار تھا ۔جس میں کچی پکی دوکانیں تھیں ، کچھ دوکانیں یونہی چھپر ڈال کر بنائی گئی تھیں ۔ اسی بازار سے آ گے سیڑھیاں تھیں ، جس سے اوپر بنے مزار تک جایا جاتا تھا ۔ شاید کبھی وہ بہت بڑا ٹیلہ رہا ہوگا ۔جب وہاں مزار بنایا گیا تھا ۔سارا دن وہاںلوگ آتے جاتے تھے ۔جمعرات کو لوگوں کا رش رہتا تھا ۔لوگ دور دور کی بستیوں سے وہاں پر آتے ۔ وہیں پر کھانے پکاتے اور کھا کر چلے جاتے ۔ عموماً اس دن کئی ڈھول بجتے رہتے تھے۔ لوگ اپنی منتیں مانگنے وہاں جاتے تھے ۔ یہاں میلہ بھی لگتا تھا ۔میں لڑکپن میں چند بار یہاں میلہ دیکھنے آ یا تھا ۔بہت عرصے بعد اب میں یہاں دوبارہ آ یا تھا۔ وہاں کا ماحول کافی بدلا ہوا تھا ۔دوکانیں زیادہ ہو گئی تھیں ۔ لوگوں کا آ نا جانا زیادہ ہو گیا تھا ۔ جد ید دور کی بہت زیادہ چیزیں وہاں دیکھنے کو ملیں ۔ ایک جانب دھول بج رہا تھا ۔عقیدت مند سیڑھیاں چڑھتے چلے جا رہے تھے ۔

میںنے جیپ ایک کھلے سے میدان میںپارک کی جہاں پہلے سے کچھ کاریں اور دوسری گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ارم اتر گئی تو میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ ہم بازار میں سے ہوتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب بڑھے ۔دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھ کر ہم مزار کے کھلے احاطے میں آ گئے ۔ وہاں سے اردگرد کا علاقہ صاف دکھائی دیتا تھا ۔ دور دور تک ویرانی اور بے آب و گیا صحرا پھیلا ہوا تھا ۔کہیں کہیں ڈھور ڈنگر چرتے ہوئے نظر آ رہے تھے ، جو اس ویران منظر میں زندگی کی علامت تھے ۔مزار کے احاطے میں کافی رونق تھی ۔ اتنا زیادہ رش نہیں تھا لیکن اتنے تھوڑے لوگ بھی نہیں تھے ۔ ایک جانب چند مقامی قوال زور و شور سے گا ئے جا رہے تھے ۔ کچھ لوگ ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔مزاربالکل سامنے تھا ، اس کے دائیں جانب چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیاں بنی ہوئی تھی جہاں شاید وہاں آ ئے لوگوں کو ٹھہرایا جاتا تھا ۔بائیں جانب ایک لمبا سا ہال نما برآمدہ تھا ، جہاں لنگر تقسیم ہوتا تھا ۔ مزار کے دروازے پر دو مجاوربیٹھے ہوئے تھے ۔ارم مزار کے اندر جانے لگی تو ایک موٹے سے مجاور نے بھاری آ واز میں کہا ۔

”عورتیں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے ، یہیں دعا مانگ لو ۔“

 وہ وہیں دعا مانگنے لگی ۔ میں اس کے ساتھ کھڑا رہا ۔ میں بھی اندر نہیں گیا ۔ وہ دونوں مجاور ہماری طرف بڑے غور سے دیکھ رہے تھے ۔ شاید وہ ہمیں ’لوبرڈ “ سمجھ رہے تھے ۔ارم نے دعا ختم کی تو اس نے ایک بڑا نوٹ نکال کر وہاں موجود لوہے کے صندوق میں ڈالنا چاہا تو وہی مجاور تیزی سے بولا

” بی بی ادھر دے دو ، لنگر میں ڈال دیں گے ۔“

ارم نے وہ نوٹ اس کی جانب بڑھا دیا ۔ دوسرا بھی لالچ بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ ارم نے ایک مزید نوٹ نکالا اور اسے بھی دے دیا ۔ پھر میری جانب پلٹ کر بولی

”کچھ دیر بیٹھیں یہاں پر ۔“

” جیسے تمہاری مرضی ۔“ میں نے کاندھے اُچکا کر کہا۔ ہم وہاں سے مزار کے احاطے ہی میں موجود ایک درخت کے نیچے آ بیٹھے ۔ وہ وہاں بیٹھی اپنے سیل فون سے ویڈیو بناتی رہی ۔ کبھی کوئی تصویر بنا لیتی ۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر مزار کے دائیں جانب چلی گئی ۔ وہاں سے بستی اور صحرا کی ویڈیو بنائی ۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد اس نے واپس چلنے کا کہا ۔ ہم جیپ تک آ کر واپسی کے لئے چل دئیے ۔ ارم یوں خاموش تھی جیسے کسی گہری سوچ میںہو۔میں بھی اسے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔مگر میرے دماغ میں یہ سوال موجود تھا کہ وہ آخر اس مزار پر کس مقصد کے لئے گئی تھی؟یہ سوال اس لئے بھی ذہن میں اٹھا تھاکہ پہلے کبھی میں نے اس طرح کی عقیدت اس میں نہیں دیکھی تھی ۔ارم میرے سامنے رنگ بدلتی چلی جا رہی تھی ۔میں الجھتا چلا جا رہا تھا کہ اس کا اصل رنگ کون سا ہے ؟

دوپہر کے وقت واپس آ ئے تو لنچ تیار تھا۔ اماں انتظار کر رہی تھیں۔ہم چاروں نے بڑے خوشگوار ماحول میں لنچ لیا ۔ بابا اور اماں آرام کرنے چلے گئے ۔ میں اور ارم وہیں لاﺅنج ہی میں بیٹھ گئے ۔مجھے وہ کافی سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی ۔ میں نے ہولے سے پوچھا

” ارم آج تم ضرورت سے زیادہ اداس لگ رہی ہو ، کیا بات ہے ، مجھ سے شیئر نہیں کروں گی ؟“

اس پر اس نے مجھے ترچھی نگاہ سے دیکھا، پھر اداسی والی مسکان کے ساتھ بولی

”میں زندگی کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔ کبھی کبھی انسان زندگی جینا چاہتا ہے لیکن اس کے جینے کے سارے راستے بند کر دئیے جاتے ہیں ۔وہ کہیں بھاگ نہیں سکتا ۔کوئی احتجاج بھی نہیں کر سکتا ۔“

” الہی خیر ، یہ تم کیا سوچ رہی ہو ؟“ میںنے مذاق کے موڈ میں کہا

” تم نہیں سمجھو گے یار، تمہیں پتہ ہی نہیں ہے ۔“ اس نے سرہلاتے ہوئے مسکرا کر کہا

” مجھے لگتا ہے تمہیں آ رام کی ضروت ہے ، جاﺅ اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو ، پھر باتیں ہوں گی ۔“ میں نے کہا تو وہ چند لمحے سوچتی رہی پھر بولی

” نہیں یار ، آ ج میرا عیاشی کا موڈ کر رہا ہے ۔ چلو گے میرے ساتھ ؟“

” یہاں کیا عیاشی ہے ؟ یہاں حویلی میں تو تجھے پینے کو کچھ نہیں ملے گا ۔ اور کس طرح کی ….“میں نے کہنا چاہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی

”یہاں نہیں ہے تو کیا تیرے شہر میں بھی نہیں ہے ۔“

” ایسی بات ہے کیا ؟“ میں نے اسے حیرت سے دیکھا تو وہ آ نکھیں مٹکا کر رہ گئی ۔پھر بڑے سکون سے اٹھتے ہوئے بولی

” ہاں ، ایسی ہی بات ہے ۔ چل تھوڑی دیر آ رام کر لے ، پھر شام ہو نے سے پہلے تیار ہو جانا ، شام ہوتے ہی نکل چلیں گے ۔“

شام کے سائے پھیل رہے تھے جب ہم شہر جانے کے لئے نکلے ۔اس بار ارم اپنی کار میں خود ہی ڈرائیونگ کر رہی تھی ۔ اس نے جین کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔اس کے اوپر اس نے سلیو لیس جیکٹ تھی ۔ہم گاﺅں سے باہر نکلے تو مغربی اُفق سرخ ہو رہا تھا ۔کہیں کہیں گہرے سرمئی بادل تھے ۔ ڈھلتی ہوئی شام مجھے ہمیشہ پرکشش لگتی تھی ۔ وہ منظر بڑا دلکش تھا ۔ میرے محویت دیکھ کر ارم نے افسردہ سے لہجے میں کہا

” یار پتہ نہیں زندگی کا سفرکب اور کہاں ختم ہو جائے ۔ سورج کے بارے میں تو پھر پتہ ہوتا ہے کہ یہ کتنے بجے غروب ہو جائے گا ۔“

” تم ساری باتیں چھوڑو ، مجھے صرف ایک بات بتاﺅ ، یہ اتنی اداسی اور یہ خوامخواہ کا زبردستی فلسفہ کیوںجھاڑ رہی ہو ؟“ میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ ہلکے سے مسکرا دی ۔ پھر بولی

”تم میرا دکھ نہیں سمجھ رہے ہو ۔ “ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکی اور پھر بولی ،”اچھا فرض کرو ، ایک لڑکی جس نے کبھی کسی کو نہ چاہا ہو ، کبھی کسی کی تمنا نہیں کی ہو ، اسے بس ایک ہی جنون ہو کہ وہ ایک منزل کی جانب بڑھتی چلی جائے ۔ لیکن اچانک ایک موڑ پر وہ اپنا دل ہار جائے ۔ اُسے کسی سے محبت ہو جائے ۔ وہ رک کر ٹھہر کر سوچے تو اسے اپنا آپ بھی گم ہو تا ہوا دکھائی دے ، وہ اپنا سفر ختم کر دینا چاہے ۔ وہیں کہیں بیٹھ کر اپنی چاہت میں ڈوب جائے ، لیکن سفر اس کے پیروں تلے سے رکے ہی نہ ، بتاﺅ تب وہ کیا کرے۔“

” خدا کے لئے ارم ، بور مت کرو بلکہ تم ایسا کرو ، مجھے یہیں اتار دو پلیز ، میں پیدل واپس چلا جاﺅں گا ۔میرا دماغ مت خراب کرو ۔“ میںنے بھنّا کر کہا تو ایک دم سے ہنس دی ۔پھر شوخ سے لہجے میں بولی

” ارے اتنی جلدی بور بھی ہو نے لگے ۔اگر تجھے کسی کے ساتھ پیار بھری باتیں کر نی پڑ جائیں ، محبت بھری باتیں ، تب کیا کرو گے ؟“

” تب کی تب دیکھی جائیں گی ، محبت کی یہ باتیں سوچ کر نہیں آتیں ، خود بخود آ جاتی ہیں ۔ “ میںنے کہا تو بولی

” ہاں یہ تو ہے جیسے مجھے ، اب دیکھو میں ….“اس نے کہنا چاہا تو میںنے ا س کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں کہا

” اب یہ بیہودہ فلسفہ جھاڑا تو میں تمہاری گردن دبا دوں گا ۔“

وہ مسکرا کر ہ گئی ۔ میںنے اسکے کاندھے سے ہاتھ ہٹایا تو اس نے پلیئر پر ایک گیت لگا دیا ،جو میرے خیال میں خاصا رومانوی تھا ۔شہر آ نے تک ہم میں خاموشی رہی ۔میں مسلسل اسئی کے بارے میں سوچتا رہا تھا ۔

شہر کے مضافات ہی میں ایک نئی کالونی بن رہی تھی ۔اس نے کار ادھر موڑ دی ۔ وہ نئی کوٹھی تھی ۔ اس نے جا کر ہارن دیا تو کچھ دیر بعد ایک نوجوان سے ملازم نے گیٹ کھول دیا۔ وہ کار سمیت اندر چلے گئی ۔اس گھر میں کوئی بھی نہیں تھا ۔ ہم لاﺅنج میں بیٹھ گئے تو ملازم نے آ کر پوچھا

” آپ کے لئے کچھ لاﺅں ؟“

” نہیں ابھی نہیں ، ہم تھوڑی دیر بعد چائے پئیں گے ۔“ اس نے کہا تو ملازم واپس چلا گیا ۔

” تمہاری یہاں بھی شناسائی ہے ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا

” ہاں ، بہت پرانی ، یہ سب لوگ لاہور سے یہاں آ کر بسے ہیں ۔ “اس نے کہا تو میں نے تیزی سے پوچھا

” لیکن یہاں تو کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا ؟“

”ابھی کچھ دیر میں دکھائی دے جائیں گے ۔“ اس نے کہا اور صوفے پر دراز ہو گئی ۔وہ مسلسل میری جانب دیکھے چلے جا رہی تھی ۔

” کچا کھانا ہے مجھے ؟“ میںزچ ہوتے ہوئے کہا

” کھاﺅں گی سہی لیکن تمہاری مرضی سے ۔“ اس نے آ نکھ دباتے ہوئے کہا تو میں ہنس دیا ۔

” واقعی تیرا آ ج عیاشی کا موڈ ہے ۔“

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی اس کا سیل فون بج اٹھا ۔ وہ دوسری طرف سے کچھ سنتی رہی پھر بولی

”ٹھیک ہے ۔ میں نکلتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ،پھر میری طرف دیکھ کر بولی ،” چل یار ، کوئی ہمارا انتظار کر رہا ہے ۔“

ہم اٹھ گئے ۔ ملازم باہر ہی تھا ۔ ارم نے کار نکالی اور ہم پھر سے شہر کی جانب چل پڑے تھے ۔ ارم بڑی توجہ سے ڈرائیونگ کر رہی تھی ۔ جیسے راستہ سمجھ ر ہی ہو ۔ ہمارے درمیان خاموشی تھی ۔ ہم ایک بیکری کے سامنے جیسے ہی پہنچے، ایک کار ہم سے آ گے آ گے چلنے لگی ۔کچھ ہی دیر میں وہ کار مارکیٹ اوربازار سے نکل کر رہائشی علاقے کی جانب مڑ گئی ۔ ارم اس کے پیچھے تھے ۔ آگے چلتی ہوئی کار ایک بڑی ساری کوٹھی کے سامنے جا رکی ۔وہ پوری توجہ سے سامنے والی کار کو دیکھ رہی تھی ۔ چند لمحوں بعد بڑا سا گیٹ کھل گیا ۔ ہمارے آ گے والی کار چل پڑی جبکہ ارم اپنی کار سمیت اندر چلی گئی ۔

پورچ میں ایک بھاری بھرکم نوجوان نے بڑے تپاک سے ہمارا استقبال کیا ۔وہ ہمارے سامنے بچھا چلا جا رہا تھا ۔ ہم جیسے ہی لاﺅنج میں پہنچے ایک تھل تھل کرتے جسم والی، بڑارنگین و سنگین قسم کے لباس پہنے ادھیڑ عمر عورت آ گئی ۔ اس کے لبوں پر بڑی دھیمی سی مسکان اور آ نکھوں میں مکارانہ چمک تھی ۔ اس نے میری جانب ایک نگاہ بھر کر دیکھا پھر ارم کی جانب متوجہ ہو گئی ۔

” آ ئیے آ ئیے …. تشریف لائیے ، بڑا انتظار تھا آ پ کا ، بیٹھیں ۔“اس نے بچھ جانے والے انداز میں صوفے کی جانب اشارہ کیا ۔ وہ بھاری بھر کم نوجوان ابھی تک کھڑا تھا ۔ ارم نے اپنے پرس میں سے ایک بڑا نوٹ نکالا اور اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بڑی ادا سے بولی

” پان کھا لینا ۔“

” اوہ جی واہ ، خیر ہو ئے ۔“ اس نے بے ساختہ کہا ۔تبھی وہ عورت بولی

”حضور کھانا ابھی کھائیں گے یا ٹھہر کر ۔“

” میڈم ،کھانا بھی کھا لیں گے ، پہلے ذرا گلا تر کریں گے ، پھر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے ۔ ذرا سرور ہو توسکون آ ئے تبھی کھانا بھی اچھا لگے گا ،اب آپ جو چاہئیں ۔“اس نے ترسے ہوئے انداز میں کہا

”تو چلیں پھر اندر ۔“ میڈم اٹھتے ہوئی بولی۔ وہ ہمارے آ گے چل دی ۔ ہم اس کے پیچھے تھے ۔ ذرا سا آ گے گئے تو نیچے سیڑھیاں اتر رہی تھیں ۔ہم سیڑھیاں اُترے تو ایک ہال نما کمرے میں تھے ۔ جہاں نہایت عمدہ قالین لگا ہوا تھا ، دیوار کے ساتھ گاﺅ تکیے لگے ہوئے تھے ۔ہم وہاں پر جا کر بیٹھ گئے ۔ تقریباً دو منٹ بعد ایک کامنی سی لڑکی ہمارے سامنے آ گئی ۔ اس نے وہی مغلیہ دور والا فیروزی رنگ کا فراک اور چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا تھا ۔سر پر بڑا سا آنچل تھا ۔ہلکا ہلکا زیورپہنا ہوا۔ اس نے وہی شاہی انداز میں آداب کیا اورارم کے سامنے جابیٹھی۔

میں حیران تھاکہ ارم کیا کر رہی ہے ۔یہ اس کی عجیب قسم کی عیاشی میرے سامنے آ رہی تھی ۔ دو لڑکیاں میرے سامنے تھیں ۔ آ نے والی لڑکی نے مجھے بالکل نظر انداز کر دیا تھا ۔ مجھے بڑا زعم تھا کہ کوئی بھی لڑکی مجھے بہرحال نظر انداز نہیں کر سکتی تھی ۔ لیکن میرا یہ زعم اس وقت ٹوٹ گیا تھا ۔ایک اور لڑکی سیڑھویں پر نمودار ہوئی ۔ اس کے ہاتھ میں پرانے زمانے کی طشتری تھی ۔ اس میں برتن بھی پرانے انداز کے تھے ۔ وہ اس نے لا کر رکھے ، کوئی بات کئے بنا واپس چلی گئی ۔مغلیہ دور کی فلموں میں ایسے برتن دیکھنے کو ملتے تھے ۔ جن میں بادشاہ شراب پی رہے ہوتے تھے ۔ میرے سامنے بھی کچھ ایسا ہی سین چل رہا تھا ۔سامنے بیٹھی لڑکی نے بڑی نزاکت سے پیمانہ بھرا اور ارم کو پیش کرتے ہوئے بولی

” لیجئے ، ذرا ہوش میں آ ئیے ۔“

” واہ، مجھے اچھا لگا تمہارا انداز ، کیا بات ہے ؟“ ارم نے بے ساختہ صدقے واری ہو جانے والے انداز میں کہا اور اس کے ہاتھ سے پیگ لیتے ہوئے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ سامنے والی حسینہ نے شرما کر اپنا ہاتھ بڑی نرمی سے واپس کھینچ لیا ۔ ارم نے پیگ لبوں سے لگا لیا ۔ میں یہ تماشہ دیکھ رہا تھا ۔ یہاں تک کہ ارم نے دوسرا پیگ بھی ختم کر لیا ۔

 طوائفوں کے کوٹھے اب ایسی کوٹھیوں میں منتقل ہو گئے تھے ۔بہت خاص قسم کے لوگ ، جو بلاشبہ مہنگی عیاشی ہی افورڈ کر سکتے تھے ، وہی یہاں آتے ، تنہائی اور سکون میں وقت گزار کر چلے جاتے تھے ۔ جدید دور میں سازندوں کے جھنجھٹ بھی نہیں رہے تھے کہ انہیں باقاعدہ پالا جاتا تھا ۔ہائی فائی قسم کے ڈیک ہر طرح کا میوزک بجا لیتے تھے اور ایسا سب تنہائی ہی میں ہو جاتا تھا ۔ ارم نے بھی ایسا ہی کیا تھا مگر میری حیرت یہ تھی وہ تو عورت تھی ، اسے کیا کشش؟ اگر کسی مرد کے پاس جاتی تو حیرت نہ ہوتی ۔لڑکی نے میوزک لگا دیا تھا اور دھیرے دھیرے ناچنے لگی تھی ۔ارم کسی ترسے ہوئے تماشائی کی مانند اسے دیکھے چلے جا رہی تھی ۔ اس کے ایک ایک انگ کو سمجھتی اور اسے داد دے رہی تھی ۔کوئی اور وقت ہوتا تو شاید مجھے بھی اچھا لگتا ، میں اس میں کھو جاتالیکن اس وقت مجھے یہ سب بکواس لگ رہا تھا ۔ ارم تیسرا پیگ بھی ختم کر چکی تھی ۔میوزک میں بھی تھوڑا تیزی آ گئی تھی ۔وہ طوائف نرت بھاﺅ لے رہی تھی ۔ تقریباً ایک گھنٹہ یونہی گزر گیا ۔ ایسے میں ارم اٹھ کر اس لڑکی کے پاس گئی اور اسے گلے سے لگا لیا ۔ وہ اس سے اس طرح چمٹی تھی جیسے کوئی پیاسا پانی کی طرف جاتا ہے ۔ مجھے لگا جیسے ارم کوئی لڑکا ہو اور …. یہ سوچتے ہی مجھے عجیب کراہت ہونے لگی ۔ بلاشبہ ارم ان لڑکیوں میں سے تھی ، جنہیں لڑکوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔مجھے یقین ہو گیا کہ ارم ہم جنس پرست ہے ۔ جوہ میرے سامنے جس طرح کی حرکتیں کر رہی تھی ، مجھے کراہت کے ساتھ غصہ بھی آ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں شدید حیرت میں ڈوب گیا تھا ۔شہزادیوں جیسا روپ رکھنے والی ارم اس قدر گھٹیا شوق رکھتی ہے ؟میںنے اس بارے سوچا بھی نہیں تھا ۔جب سے وہ ملی تھی ، تب سے لے کر اب تک ارم کے بارے میں شائبہ تک نہیں ہوا تھا ۔اس کی شراب کی عادت بارے میں اس لئے نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس جیسی اپر کلاس کی بہت ساری لڑکیاں کسی نہ کسی نشے کی عادی ضرور ہوتی ہیں ۔ چونکہ وہ اپنا طرز زندگی یورپی طرز کا رکھنا چاہتی ہیں تو یورپ میں شراب کو نشہ تصور نہیں کیا جاتا ۔ وہ ایسی کسی نہ کسی لت کا شکار ہو ہی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ ارم جس طرح اس حسینہ کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی ۔جس تشنگی کا وہ مظاہرہ کر رہی تھی ۔ اس سے میرا دماغ خراب ہو رہا تھا ۔اب شاید حیرت بہت پیچھے رہ گئی تھی۔ میرے سامنے ایک گھٹیا قسم کی ارم تھی ۔ وہ کچھ دیر اس حسینہ سے چمٹی رہی پھر واپس جگہ پر آ کر بیٹھ گئی ۔ وہ بڑی پرسکون دکھائی دے رہی تھی لیکن مجھے وہ زہر لگ رہی تھی ۔

ارم پوری محویت کے ساتھ اس میں کھوئی رہی ۔میں نے بھی ان دونوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی کہ وہ کرتی کیا ہیں ؟تقریباً بیس منٹ تک وہ حسینہ ناچتی رہی پھر سکون سے بیٹھ گئی تو ارم نے کہا

”دل خوش کر دیا تم نے ، اب جلدی سے تیار ہو جاﺅ ۔“

” جیسے آ پ کی مرضی ۔“اس نے نخرے سے کہا اور اٹھ گئی ۔وہ سیڑھیاں چڑھ گئی تو کچھ دیر بعد وہی بھاری بھرکم نوجوان آ گیا ، اس نے آتے ہی دونوں ہاتھوں سے بڑی تمیز کے ساتھ اوپر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا

” آ ئیں جی ، کمرے میں چلیں ۔“

دوسری منزل پر ایک کھلی سی راہداری تھی۔ اس کے دائیں بائیں چند کمرے تھے ۔ وہ ہمیں ایک کمرے میں لے گیا ۔اندر سے کمرہ کافی گرم، کشادہ اور سجا ہوا تھا ۔ آ رام دہ بیڈ کے ساتھ ہی دو کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ارم بیڈ پر ڈھیر ہوگئی اور میںنے کھڑکی سے کرٹن ہٹا کر دیکھا ۔میرے سامنے کوٹھی کا لان ، بیرونی گیٹ اور پھر باہر سڑک تھی ۔سڑک بالکل سنسان تھی ۔میں چند لمحے وہاں کھڑا رہا ، پھر پلٹ کر واپس ایک کرسی پر آ ن بیٹھا تھا ۔میرے دل میں ارم کے لئے ایک ناخوشگوار سی کیفیت تھی ۔میں اس کی وجہ نہیں سمجھ سکا تھا ۔شاید فطرت سے محبت کرنے والا ایسے ہی محسوس کرتا ہے ؟

کافی دیر بعد وہ طوائف کمرے میں آ ئی تو مختصر ترین لباس میں تھی ۔جیسے چند دھجیاں خود سے باندھی ہوئی ہوں ۔میں اٹھا تو ارم نے پوچھا

” کہاں جا رہے ہو ؟“

”میں کمرے کے باہر تمہارا انتظار کرتا ہوں ۔“یہ کہہ کر میںنے باہر کی جانب قدم بڑھائے تو وہ بولی

” نہیں ادھر بیٹھو “

لیکن میں نے ان سنی کر کے باہر کی جانب قدم بڑھے قدم روکے نہیں ۔باہر ملجگا سا اندھیرا تھا ۔ایک دیوار سے ٹیک لگا کر میں ارم کے خیالات میں کھو گیا۔وہ ہر بار ایک نئے روپ میں میرے سامنے آتی تھی ۔ اب وہ نئے روپ میں میرے سامنے آ ئی تھی ۔ ایک عجیب کراہت آمیز ناخوشگواریت میرے اندر ہلچل مچا رہی تھی ۔ میںنے ایسا ماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔اس لئے خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا ۔مجھے لگا جیسے میں کچھ بھوکے اور ترسے لوگوں میں پھنس گیا ہوںمیرا دل وہاں سے کھسک جانے کو کر رہا تھا ۔میں نے بڑی مشکل سے خود کوباندھ کے رکھا تھا۔

اچانک ہی اس حسینہ کی سسکیاں تیز ہو گئی تھیں ۔ا یک سسکی وہ ہوتی ہے ، جو لطف کے احساس میں بے اختیار منہ نکل جاتی ہے ۔ لیکن ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو وہی لطف تکلیف کا باعث ہوجاتا ہے ۔جیسے زیادہ مٹھاس کڑواہٹ بدل جاتی ہے ۔ وہ طوائف تکلیف سے کراہ رہی تھی ۔ اس کے کراہنے میں لطف نہیں،درد تھا۔میں حیران ہو رہا تھاکہ حسینہ کی آواز نے ماحول کو تڑکا کر رکھ دیا۔

”چھوڑو مجھے میں ابھی آ تی ہوں ۔“

” نہیں ابھی نہیں، کہاں جا رہی ہو ؟“ ارم کی آواز یوں آ ئی جیسے وہ ذبح ہو رہی ہو۔

” بس چند منٹ ، پھر جو مرضی کرنا ….“ طوائف کی آواز ابھری اور پھر اس کے چند کمحوں بعد ہی ایک دم سے دروازہ کھلا اور وہ طوائف کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔وہ میرے قریب سے وحشیانہ انداز سے گزرگئی ۔میںنے اسے روکنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی ۔اس کے پیچھے ہی ارم زور زور سے چیختی باہر نکلی ۔

” کہاں ہو ، تم ایسے نہیں جا سکتی ۔سامنے آ ﺅ ۔“

راہداری میں آواز گونج کر رہ گئی ۔

”چل اب بس کرو ، چلیںواپس ۔“ میں نے ہولے سے کہا ۔ اس نے میری سنی ان سنی کرتے ہوئے انتہائی غصے میں کہا

”کہاں ہو ، باہر آ ﺅ ، میں کہتی ہو باہر آ ﺅ ۔“

اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ سے اشارے سے پوچھا ”کس کمرے میں گئی ہے“۔میں نے ناگواری سے اشارے سے ہی تیسرے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا ۔جہاں وہ تیزی سے اندر گئی تھی ۔ ارم اس جانب بڑھی ہی تھی کہ اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لمبے قد کا جوان باہر نکل آیا ۔ اس نے ارم کی جانب انگلی کرتے ہوئے انتہائی غصے میں کہا

” بند کر اپنی بکواس اور دفعہ ہو جا یہاں سے ۔“

وہ طوائف اس جوان کی اوٹ میں کھڑی تھی ۔اس نے ٹی شرٹ اور ٹراوزر پہن لیا تھا ۔

”باہر نکالو اس لڑکی کو ، میں نے رات بھر کے پیسے دئیے ہوئے ہیں۔“ ارم نے غصے میں کہا تو وہ جوان دانت پیستے ہوئے بولا

”میں کہتا ہوں ، خیریت اسی میں ہے کہ یہاں سے چلتی بنو ، ورنہ ….“

” ورنہ کیا کرو گے ، کیا کرو گے ؟“ ارم نے غصے میں کہا تو جوان نے اپنا ہاتھ آ گے کیا جس میں پسٹل تھا ۔ اس نے ارم پر پسٹل تانتے ہوئے حقارت سے کہا

”ایک گولی تیرے بھیجے میں اُترے گی اور تیرا سارا بے غیرتانہ خمار اتر جائے گا ، چل بھاگ یہاں سے بے غیرت کہیں کی۔“

 ارم نے میری جانب دیکھا۔ میں اس معاملے میں ارم کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔لیکن اس وقت ارم کی آ نکھیں چمک رہی تھیں ۔یہی وہ لمحہ تھا ، جب ارم نے چشم زدن میں اپنی ٹانگ گھمائی۔ پتہ اس وقت چلا جب جوان کے ہاتھ سے پسٹل نکل کر دور جا گرا ۔اس سے پہلے کہ وہ جوان صورت حال سمجھتا۔ارم کا دوسرا پیر اس جوان کے منہ پر لگا ،وہ لڑکھڑا گیا ۔لیکن اگلے لمحے میں وہ سنبھل گیا ۔ اس نے بڑھ کر ارم پر وار کرنا چاہاتو میں درمیان میں آ گیا ۔میں نے اس جوان کا وار روکا اور جوابی طور پر ایک گھونسہ اس کے منہ پر جڑ دیا ۔ارم نے پوری قوت سے ایک کک اس کی ٹانگوں کے درمیان ماری تو وہ دوہرا ہو گیا ۔ میںنے ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھا اور کہنی اس کی ریڑھ کی ہڈی پر دے ماری ۔وہ جھکتا چلا گیا ۔اس دوران ارم اس کا پسٹل اٹھا چکی تھی ۔اس نے انتہائی تیزی سے اس کا میگزین نکال کر دیکھا وہ بھرا ہوا تھا۔ وہ جوان دوبارہ اٹھ رہا تھا کہ ارم نے اس کے سر پر پسٹل کی نال رکھتے ہوئے کہا

” بس بہت ہوگیا چوہے بلی کا کھیل۔ چل میرے ساتھ ۔“ ارم نے فاتحانہ انداز میں نفرت سے کہا تو مجھے لگا ، جو منظر میں دیکھ رہا تھا ، دراصل وہ کچھ اور تھا ۔ میں لمحے میں سمجھ گیا ۔تبھی میںنے اپنا پسٹل نکال کر اسے کہا

” چل نکل باہر ۔“

” پہلے اس کے ہاتھ باندہ دو ۔“اس نے اپنی جین کی ایک جیب سے نائیلون کی رسی مجھے دیتے ہوئے کہا ۔ میںنے اس کے ہاتھ باندھ دئیے تو مجھے محسوس ہوا وہ جوان شراب کے نشے میں ہے ۔ وہ غصہ تو کر سکتا تھا لیکن بھر پور مزاحمت نہیں کر سکتا تھا ۔میںنے اسے آ گے لگا لیا ۔ وہ قہر آ لود نگاہوں سے ہمیں دیکھ رہا تھا ۔ ارم نے اس طوائف سے کہا

” چل تم بھی نکلو باہر ۔“

” مجھے معاف کر دو ۔“اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو ارم نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا۔

” تم ہمیں یہاں سے باہر نکالو گی ، ہم نکل گئے تو تمہیں کچھ نہیں کہیں گے ، اگر کوئی ….“ ارم نے تیزی سے کہا اور پسٹل اس پر تان دیا ۔ وہ انتہائی خوف زدہ ہو گئی ۔اس نے طوائف کو پکڑا اور اپنے آگے دھکیل لیا ۔

ہم دونوں انہیں لئے سیڑھیاں اترے ۔لاﺅنج میں وہ میڈم بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس نے جب ہمیں اس طرح اترتے دیکھا تو حیرت سے چیختے ہوئے بولی

” یہ کیاکر رہے ہو ؟“

”اب بولی نا تو تو گولی تیرے دماغ میں گھسیڑ دوں گی ۔خاموشی سے بیٹھ ۔“ ارم نے کہا

” میری بچی کو کیوں لے کر جا رہی ہوں۔“اس نے روتے ہوئے کہا

”تاکہ تم ہمارے جانے کے بعد کوئی بے غیرتی نہ کر سکو ۔ایک گھنٹے بعد یہ واپس تمہارے پاس ہوگی ، اگر تم نے ….“ ارم کہتے کہتے رک گئی ۔ پھر مجھے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ ہم ، اُن دونوں کو لے کر پورچ میں آ گئی ۔ باہر آ تے ہی اس نے جوان کے سر پر پوری قوت سے پسٹل کا دستہ مارا۔ وہ چکرا گیا ۔ میںنے باہر کھڑی کار کا پچھلا دورازہ کھولا اور اس میں پھینک دیا ۔ وہ بے ہوش چکا تھا ۔میں تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو ارم نے اس طوائف کو اگلی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا ، وہ ذرا سا ہچکچائی تو ارم نے اسے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو وہ تیزی سے بیٹھ گئی ۔ میں نے کار بڑھائی تو وہ پچھلی نشست پر بیٹھ چکی تھی ۔گیٹ اندر سے بند تھا ۔میرے رکتے ہی ارم نے تیزی سے نکل کر گیٹ کھول دیا ۔ میںنے کار باہر نکال لی تو وہ واپس آ کر بیٹھتے ہوئے بولی

”وہیں لے جا سکتے ہو جہاں شام وقت ہم گئے تھے ۔“

” ہاں ،“ میںنے ہنکارا بھرا اور کار کی رفتار بڑھا دی ۔ اگلے کراس سے وہی کار جو ہمیں اس کوٹھی تک چھوڑ گئی تھی ہمارے سامنے آ گئی ۔تبھی ارم نے اطمینان بھرا سانس لیا ۔

ہم کوٹھی تک جا پہنچے ۔ ہمارے ساتھ ہی وہ کار اندر پورچ تک آ گئی ۔ اس میں چار نوجوان تھے ۔ انہوں نے ان دونوں کو کار سے نکالا ۔اس طوائف کو ایک کمرے میں لے جا کر بند کر دیا ، جبکہ اس جوان کو نیچے تہہ خانے میں لے گئے ۔تہہ خانے میں ارم نے اس جوان کو ہوش میں لانے کے لئے پانی کی بوتل اس کے چہرے پر انڈیلی تو وہ ہوش میں آ گیا ۔ جیسے ہی اس کی نگاہ ارم پر پڑی اس کا چہرہ غصے سے بھر گیا ۔اس نے نفرت سے کہا

” بہت پچھتاﺅ گی ۔“

”وہ تو بعد کی بات ہے ، ابھی مجھے میرے سوالوں کے جواب دو ۔ اٹھو ۔“ اس نے فرش پر پڑے جوان کی پسلیوں میں ٹھوکر مارتے ہوئے کہا۔وہ جوان تڑپ کر اٹھ بیٹھا تو ارم نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا

” تم کیا سمجھتے تھے ، میں تم تک پہنچ نہیں سکتی ۔ بولو ، بھارت سے جو کل ایجنٹ یہاں آ ئے ہیں وہ کہاں ہیں ؟“

جیسے ہی ارم نے یہ کہا تو اس جوان کے چہرے پر حیرت طاری ہو گئی ۔ چند لمحوں کے لئے وہ خوف زدہ ہو گیا تھا ۔اس کا تنا ہوا بدن ڈھیلا ہوگیا ۔وہ انکار میں سر ہلا تے ہوئے بولا

” مجھے نہیں پتہ ۔“

”اس کا مطلب ہے تم کتے کی موت مرنا چاہتے ہو ۔خیر ہوتی ہے ملاقات تم سے ۔“ اس نے کہا اور مجھے ساتھ آ نے کا اشارہ کرکے تہہ خانے سے نکلتی چلے گئی ۔ لاﺅنج میں آ کر بولی

” علی ، ہمیں ابھی لاہور کے لئے نکلنا ہے ۔تمہیں کوئی پرابلم تو نہیں؟“

” مجھے کیا پرابلم…. “ میںنے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولی

”ٹھیک ہے نکلو پھر ۔“

”میں کیا کروں گا لاہورجا کے ؟“ میں نے کہا

”علی ، تم نہیں جانا چاہتے تو نہ سہی لیکن یہ وقت ہم دونوں کے لئے بڑا قیمتی ہے ۔بلکہ یوں بھی سمجھ لو کہ مجھ پر بھاری ہے ۔“ اس نے میری آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے

” اچھا ٹھیک ہے چلو ۔“ میں نے کہا

”وہ ایسے نہیں مان رہا ، کوشش کر لو ، نہیں تو اسے اٹھا لو ۔ وہیں بات کرتے ہیں۔میںنکل رہی ہوں ۔“اس نے سامنے کھڑے ایک نوجوان سے کہا پھر جواب کا انتظار بھی نہیں کیا اور پورچ میں کار تک آ گئی ۔

٭….٭….٭

” یہ سب کیا ڈرامہ تھا ۔“میںنے کار بڑی شاہراہ پر ڈالتے ہوئے پوچھا

”ہاں ڈرامہ تو تھا ۔“اس نے طویل سانس لے کر کہا

”کیا مجھے نہیں بتاﺅں گی ؟“میں نے شکوہ بھرے لہجے میں پوچھا

” بتاتی ہوں ۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا پھر چند لمحے رُک کرسنجیدگی سے بولی ،”اس جوان کا نام ساجن بٹ ہے ۔کچھ عرصہ پہلے یہ لاہور کے مضافات کا چھوٹا موٹا بدمعاش تھا ۔اس نے ہمارے دو بندوں کو مار دیا اور ایک دم سے غائب ہو گیا ۔کہاں رہا کسی کو پتہ نہیںتھا ۔ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ وہ کہیں پکڑا گیا ہے اور جیل میں ہوگا ۔ لیکن اس کے بارے میں بہت خطرناک قسم کی معلومات ملیں۔اس نے ہمارے آ دمی بھاری رقم لے کر مارے تھے ۔بندوں کو مارنے کے فوراً بعد وہ بیرون ملک فرار ہوگیا ۔وہ ایک پورے پلان کے ساتھ فرار ہوا تھا ۔یعنی اس کی مدد کرنے والے وہی لوگ تھے جن کا یہاں پر باقاعدہ ایک نیٹ ورک چل رہا تھا ۔اب سوال یہ پیدا ہوگئے تھے کہ وہ نیٹ ورک کن کا تھا ؟ ان کے مقاصد کیا تھے؟اور یہ نیٹ ورک کب سے کام کر رہا تھا ؟“

” پھر پتہ چلا ؟“ میںنے پوچھا

”بالکل ، ان کے طریقہ کا ر سے انداز ہ ہوا کہ وہ کون ہو سکتے تھے ۔ایک برس کی بھر پور محنت کے بعد وہ نیٹ ورک ہمارے سامنے آ گیا ۔ اسے بالکل کچھ نہیں کہا گیا ۔بس اس کے معاملات دیکھتے رہے کہ وہ کر کیا رہے ہیں ۔تبھی مزید یہ انکشاف ہوا یہ لوگ پورے پنجاب میں پھیلے ہوئے ہیں ۔بہت سارے لوگ ان کے لئے کام کر رہے تھے۔“

” کیا یہ ہمارے علاقے میں بھی موجود ہیں ؟“میں نے تجسس سے پوچھاتو وہ سنجیدگی سے بولی

”بالکل ، یہاں تو زیادہ زور ہے ان کا ۔“

” وہ کیسے ؟“ میںنے حیرت سے پوچھا

”وہ اس طرح …. خیر ، تمہیں پتہ چل جائے گا ۔“ یہ کہتے کہتے رُک گئی ، پھر لمحہ بھر سوچتے رہنے کے بعد بولی ،” میں تمہیں تفصیل سے بتاتی ہوں۔ اس ساجن نامی بندے کے بارے میں ایک ماہ پہلے پتہ چلا کہ یہ پاکستان آ گیا ہوا ہے ۔اس کی چند تصویریں مجھ تک پہنچ گئیں ۔اس کے بارے میں علم بھی ہو گیا کہ اس کے کون کون سے ٹھکانے ہیں ۔یہ پچھلے دو ہفتوں سے وہیں اس میڈم کے پاس چھپا ہوا تھا ، جہاں سے آج ہم نے اسے اٹھایا ہے ۔“

” یہ میرے پاس آ نا اور پھر دربار پر جانا ، یہ کیا تھا ؟“میںنے پوچھا

”ہم پچھلے دو ہفتوں سے اس پر نگاہ رکھے ہوئے تھے ۔ان دو ہفتوں میں یہ کوئی دس سے زیادہ بار اسی دربار پر گیا تھا ۔وہاں اس کی چند لوگوں سے ملاقات ہوتی تھی ۔ آج سے تین رات قبل ، یہ اپنے چند لوگوں کے ساتھ صحرا میں رہا ہے ۔اس نے بھارت سے آ نے والے دو بندوں کو رسیو کیا ، اس کے بعد انہیں کسی خاص ٹھکانے پر پہنچا کر یہ یہاں میڈم کے پاس چھپا ہوا تھا ۔“ اس نے بتایا تو میںنے پوچھا

” یہ میڈم تمہیں پہلے سے جانتی تھی ؟“

” اوئے نہیں اُوئے ، پچھلے ایک ہفتے سے اس میڈم کے سامنے ایک بڑی رقم رکھ کر کہا جا رہا تھا کہ ایک بہت امیر ترین لڑکی ایک رات اپنا دل بہلائے گی ۔وہ مان گئی ۔ان لوگوں کو پیسے سے غرض ہوتی ہے ۔جتنی رقم میں نے دی اتنے وہ بیس دن میں بھی نہ کما سکیں ۔مجھے بس اس گھر میں انتہائی خاموشی داخل کر اس ساجن کو سامنے لانا تھا ۔میں جانتی تھی کہ ساجن کا اسی لڑکی پر دل آ یا ہوا ہے ۔ سو اسی کو پسند کیا ۔اسی سے ہی میںنے ساجن تک پہنچنا تھا ۔ وہ پہنچ گئی ۔“

 ” لڑکی تو پہلے سامنے آ ئی نہیں ، تم نے کب پسند کر لی ؟“ میں نے پوچھا

”اُو سوہنے ، جب یہ ڈیل ہو رہی تھی تو انہوں نے لڑکیوں کی تصویریں بھجوا ئیں تھیں ۔“ اس نے کہا

” ویسے یہ تمہاری ہم جنس پرستی والی عادت ….“میںنے کراہت سے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹ کر بولی

” اُو کوئی خدا کا خوف کرو ۔ پتہ ہے میں کس تکلیف اور جبر سے گزری ہوں، یہ میں ہی جانتی ہوں ۔ لیکن تم اسے یوں سمجھ سکتے ہو کہ میں اسے اس سطع پر لے آ ئی تھی ، جہاں اس نے مرد کی ضروت شدت سے محسوس کی تھی ۔میں جب اسے چھوڑتی تو اس نے فطری طور پر اسی مرد کی طرف جانا تھا جو ا س کی ضرورت پوری کرتا ۔ وہ بلاشبہ ساجن تھا ۔ میں احتجاج کرتی تو ساجن ہی نے سامنے آ نا تھا ، سووہ آ گیا ۔“

” اس کا مطلب تھا کہ تم نے پلان کیا ہوا تھا ؟“ میںنے پوچھا

” ہاں ، وہ موٹا جیسے میں نے نوٹ دیا تھا ، وہ وہاں کا مخبر تھا ۔وہ دکھائی دیا کہیں بعد میں ؟“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” اوہ ، مطلب تم وہ نہیں ہو جو نظر آ رہی تھی ۔“ میںنے قہقہ لگاتے ہوئے کہا تو دانت پیستے ہوئے بولی

” تم ذرا لاہور چلو ، وہاں جا کر بتاتی ہوں، اب تو میں کھل ہی چکی ہو ں تمہارے سامنے ۔“

”مجھے بخشو ۔“ میں نے سختی سے کہا تو وہ مزہ لیتے ہوئے بولی

” فرض کرو اگر تم میری جگہ ہو تے اور اس طوائف ….“

” شٹ اپ ۔“ میںنے کہا تو وہ زور سے قہقہ لگا کر ہنس دی ۔

”اب لاہور میں تجھے مجھ سے کون بچائے گا ۔“ یہ کہہ کر اس نے سڑک کے بائیں جانب ایک ڈھابے کو دیکھتے ہوئے کہا،” یہاں گاڑی روک یار۔ کچھ کھا پی لیں ۔“

میں نے خاموشی سے کار اس ڈھابے کی جانب موڑ دی ۔رات کا دوسرا پہر ختم ہونے کو تھا ۔ اس ڈھابے پر ویرانی سی چھائی ہوئی تھی ۔چند اونگھتے ہوئے لوگ بیٹھے تھے جو ہمیں دیکھتے ہیں اٹھ بیٹھے تھے ۔

” کچھ کھانے کو مل جائے گا ؟“ میںنے پوچھا

” جو چاہیں وہی مل جائے گا ۔ آپ بتائیں ہم ابھی بنا دیتے ہیں۔“ ایک شخص نے کہا تو میں نے اسے کھانے کا آرڈر دے دیا ۔ ہم ایک جانب بیٹھ گئے ۔جلد ہی کھانا آ گیا ۔کھانے کے دوران میںنے ارم سے پوچھا

”یہ ساری بھاگ دوڑ تم کیوں کر رہی ہو ، کس کے لئے کر رہی ہو؟کیا تم بھی کسی کے ساتھ جڑی ہوئی ہو ؟“

” ہاں میں جڑی ہوئی ہوں ۔“اس نے اعتراف کیا

”کس کے ساتھ ؟“ میںنے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پوچھا تو وہ خاموش رہی پھر بولی

”تمہارے اس سوال کا جواب میں کل دوں گی ، فی الحال کھانا کھاﺅ ۔“

اس کے بعد ہمارے درمیان بات نہیں ہوئی ۔ کھانا ختم کرکے ہم گاڑی کی جانب جا رہے تھے کہ میرا سیل فون بج اٹھا میں نے غیر ارادی طور پر بڑبڑاتے ہوئے کہا

” الہی خیر ، اس وقت کس کا فون آ گیا ۔“

میں نے فون نکال کر اسکرین پر دیکھا تو وہ تنّی کا فون تھا ۔میں نے پریشان ہو کر کال رسیو کرتے ہوئے پوچھا

” ہاں بول تنّی خیریت ہے نا ؟“

” سب خیر ہے ، ہم سب یہاں گاﺅں میں اکھٹے ہو ئے تھے ۔ بس اب تھوڑی دیر بعد نکلنے لگے ہیں ۔اگر ان سب سے ملنا ہے تو نکل آ ﺅ ۔“

” اوہ یار ، مجھے پہلے بتانا تھا ، میں اس وقت لاہور پہنچنے والا ہوں ۔“میں نے تیزی سے کہا

”کب گئے تھے لاہور ؟“ اس نے پوچھا

”یہی شام کے وقت نکلا تھا گاﺅں سے ۔“

 ” اوہ ، تو مطلب یہاں نہیں ہو چلیں پھر کسی وقت ملاقات ہو جائے گی ، سب بڑی محبت سے ملنا چاہ رہے تھے ۔“اس نے مایوسانہ لہجے میں کہا

”ہاں پھر سہی ۔“ میںنے کہا اور پھر فون بند کر دیا ۔ ار م مجھ سے پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی ۔ اس نے گیئر لگاتے ہوئے کہا

” چل اب لاہور جا کر ہی رکنا ہے ۔“

” جیسے دل چاہے حضور ۔“ میں نے کہا اورسیٹ بیلٹ باندھ لی۔ نجانے کیوں تنّی کے بے وقت فون نے مجھے الجھا کر رکھ دیا تھا ۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے