سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر16

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر16

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ضیاءشہزاد
”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”
٭
قسط نمبر16
٭
اسی وقت بندروں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں ۔پھر میں نے دیکھا کہ ادھر ادھر سے بہت سارے بندر اچھلتے کودتے ۔ ۔ ۔ چیختے چلاتے اور اپنے منہ سے ٬٬ کھوں کھوں کی آوازیں نکالتے ہوئے حویلی کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ ۔ ۔ سب عورتیں چلائیں ۔٬٬ اری جلدی کرو ۔ ۔ نیچے چلو ۔ ۔ یہ کم بخت مارے بندر کہاں سے نکل آئے ۔ ۔ ۔٬٬ ہماری حویلی کی طرف ہی آ رہے ہیں۔،، اماں بولیں اور انہوں نے مجھے اینٹوں سے اتار کر اپنی گود میں بھر لیا۔ ۔ ۔
٬٬ اری رک تو سہی ۔ ۔ ۔ ۔ ،، تائی خیرن بولیں ۔٬٬ یہ کلو کو تو دیکھ ۔ ۔ ۔ اس نے تو اپنے سر پر بندر بٹھایا ہوا ہے ۔،،
٬٬ ہاں تائی ۔ ۔ ۔ دیکھ ۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ کلو چاچا کے کندھے پر بندر کیسے مزے سے بیٹھا ہے ۔ ۔ ۔ محمودن بھابی بولیں ۔ ۔ ۔ ٬٬ دادا ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے کلو چاچا کو ۔ ۔ مداری بن گئے کلو چاچا ۔،،
٬٬ اری ۔ ۔ او ۔ ۔ چھی ۔ ۔ نال ۔ ۔ ۔ ،، اندھی تائی نے ہکلاتے ہوئے بھابی محمودن کو گالی بکی۔ ۔ ۔ ٬٬ خبر دارجو میرے کھسم کو ۔ ۔ تو نے ۔ ۔ مم دا۔ ۔ ری کہا تو ۔ ۔ ۔ ۔ زبان کھینچ لوں گی تیری ۔ ۔ ۔ سمجھی ۔ ۔ مداری ہو گا تیرا ۔ ۔ ۔کھسم ۔ ۔ ۔ سمجھی۔،،
٬٬ میں تو چاچی جی بس ایسے ہی بول رہی تھی ۔ ۔ ۔ کوئی کلو چاچا سچ مچ کے مداری تھوڑی ہیں۔،، بھابی محمودن نے اپنی صفائی میں کہا
٬٬ بس ۔ ۔ ۔ بس ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ س س سب جانتی ہوں۔ ۔ ۔ الور والوں کو ۔ ۔ ۔ اصل کے مداری ۔ ۔ ۔ تو ۔ ۔ الور والے۔ ۔ ۔ ہیں۔،، اندھی تائی بھابی محمودن سے بولیں
٬٬ چاچی جی ۔ ۔ میرے گھر والوں تک مت جانا ۔ ۔ ۔ کہہ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ بہت لحاظ کرتی ہوں میں ۔ ۔ ۔ میری زبان کھل گئی تو میں بھی ۔ ۔ ۔ متھرا والوں کی سب کھول کر رکھ دوں گی ۔ ۔ ہاں۔،، بھابی محمودن نے اندھی تائی سے زبان چلائی تو اماں نے اسے ڈانٹ دیا۔٬٬ اری او ۔ ۔ ۔ محمودن ۔ ۔ ۔ اپنی زبان بند رکھ ۔ ۔ بڑوں سے خوب زبان چلاتی ہے تو ۔ ۔ ۔ دادا جی کو پتہ چل گیا تو تیری خیر نہیں ہو گی ۔ ۔ سمجھی ۔،،
٬٬ چاچی سعیدن ۔ ۔ تائی کو بھی تو سمجھاﺅ ۔ ۔ ذرا سی بات کو کتنا بڑھا دیا ۔،، بھابی محمودن نے کہا
٬٬ اچھا محمودن ۔ ۔ چپ ہو جا تو ۔ ۔ ۔ میرے سامنے بھی تیری کترنی خوب چلتی ہے ۔ ۔ ۔ بہو ہے تو میری ۔ ۔ میں تیرے پاس کھڑی ہوں اور تو اندھی خیرن سے زبان چلا رہی ہے ۔ ۔ ۔ ایں،،
٬٬ اماں جی ۔ ۔ وہ تو میں ۔ ۔ ۔ بھابی محمودن نے کچھ کہنا چاہا تو تائی خیرن نے انہین پھر جھاڑ دیا۔۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ اندھی تائی سے بولیں ٬٬ اری ۔ ۔ اری ۔ ۔۔ او اندھی خیرن ۔ ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ میرے بیٹے کو مداری کیوں بول رہی تھی ۔ ۔ کم بخت ۔ ۔ کیا ہو گیا تجھے،، تائی خیرن نے اندھی تائی کو جھاڑ پلا دی ۔٬٬ اور تونے یہ محمودن کو رانڈ کیوں بولا ۔۔ ۔ کیا میرا بیٹا مر گیا ہے ۔ ۔ ۔ بول،،
٬٬ میں ۔ ۔ میں تو ۔ ۔ ۔ اس محمودن ۔ ۔ کو مثال دے رہی تھی۔ ۔ ۔ یہ میرے کھسم کو ۔ ۔ مداری جو بول ۔ ۔۔ رہی ۔ ۔ تھی ۔ ۔ گز بھر کی زبان ہے اس رانڈ کی ۔،، اندھی تائی نے ہکلاتے ہوئے کہا
٬٬ اری کم بخت تو میری بہو کو رانڈ کہہ رہی ہے ۔ ۔ مریں اس کے دشمن ۔ ۔ ۔ کبھی تو منہ سے اچھی بات نکال لیا کر ۔ ۔ ہکلی ،، تائی خیرن نے غصے سے اندھی تائی کو پھر ڈانٹا اور اندھی تائی بڑ بڑا کر رہ گئیں۔
ادھر عورتوں میں لڑائی ہو رہی تھی ۔ ۔ مگر مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ میں تو بس ان کی باتوں کو سنی ان سی کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ اینٹوں پر کھڑا ہو ننیچے جھانک کر دیکھ رہا تھا ۔
میں نے دیکھا کہ کہ بڑے ابا نے گردھاری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور وہ خوب زور لگا کر اسے چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا ، اس کے پیچھے جو دوسرے بھوت والے لوگ کھڑے ہو ئے تھے وہ آگے بڑھنے کے لئے قدم بڑھاتے مگر گردھاری انہیں اپنے دوسرے ہاتھ کے اشارے سے روک دیتا تھا ۔ ابا بڑے ابا سے کہہ رہے تھے ۔٬٬چھوڑ دو بھائی ۔ ۔ ۔ اس وقت اس سے الجھنے کا وقت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ بات خراب ہو گئی تو ہمیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔،،
٬٬ اماں ۔ ۔ نیچے دیکھو ۔ ۔ بڑے ابا کی اس بھوت والے سے لڑائی ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔،، میں نے چیختے ہوئے اماں کو بتا یا ۔ ۔ ۔ میری بات سن کر سب عورتوں نے بھی نیچے جھانکا اور چلائیں ۔ ۔ ۔ ٬٬ ارے ۔ ۔ کوئی دادا کو خبر کرو نیچے جا کر ۔ ۔ ۔ ،، تائی خیرن کہہ رہی تھیں۔،، ارے کوئی تو نیچے چلا جائے۔ ۔ ۔ مار کٹائی ہو گئی تو بہت برا ہوگا۔ ۔ ۔ ہمارے مرد اکیلے ہیں۔ ۔ ۔ اتنے ساروں سے کیسے نمٹیں گے ۔ ۔ ۔ ارے کوئی آواز ہی لگاﺅ۔،،
عورتیں پھر نیچے حویلی کے دروازے کی طرف دیکھنے لگیں ۔۔ ۔ میں نے دیکھا کہ بڑے ابا نے ابھی تک گردھاری کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھاوہ اپنا ہاتھ چھڑانے کے لئے پورا زور لگا رہا تھا ۔ کبھی اپنے ہاتھ کو اوپر کی طرف لے جاتا اور کبھی نیچے کی طرف لا کے زور کا جھٹکا دیتا لیکن بڑے بابا نے اس کے ہاتھ کو اس مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا کہ گردھاری کا بس نہں چل رہا تھا ۔ بڑے ابا کہہ رہے تھے ۔٬٬ اس مردود نے ہمیں بھسم کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ ۔ ۔ میں کیسے چھوڑ دوں اس کو ۔،،
٬٬ مہاراج تو نے کوئی لاگ لگائی ہے۔ ۔ ۔ تو نے میرا ہاتھ جس طرح پکڑا ہوا ہے وہ ابھی تک نہیں چھڑا سکا ہوں ۔،، گردھاری بولا ۔٬٬ باول تو کیا پورے گڑگاﺅں میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جس نے گردھاری سے ٹکر لی ہو ۔ ۔ ۔ میرا ہاتھ چھوڑ دے ۔ ۔ ۔ ورنہ کالی ماتا کی قسم تجھے بھسم کردوں گا ۔ ۔ ۔ تو گردھاری کو نہیں جانتا۔،،
٬٬ بھائی ۔ ۔ ۔ غصہ تھوک دے ۔ ۔ ۔ وہ دیکھو کلو بھائی بھی آ رہے ہیں اپنے لاﺅ لشکر کے ساتھ ۔،، ابا نے بڑے ابا کو سمجھایا۔۔ ۔ ۔٬٬ بھائی کلو بہت تیز ہے ۔ ۔ ۔ وہ ضرور بات کو سنبھال لے گا ۔،،
کلو کیا سنبھالے گا ۔ ۔ اسے تو میں ہی پورا پڑ جاﺅں گا ۔ ۔ تو دیکھتا رہ فخرو۔ ۔ ۔ یہ ابھی تھوڑی دیر میں چیخے گا ۔ ۔ روئے گا ۔،،
٬٬ تیرا بھائی کلو مجھے اچھی طرح جانتا ہے کہ گردھاری کیا بلا ہے۔ ۔ ۔ ہاتھ چھوڑ دے ۔ ۔ پھرکہتا ہوں ۔،، گردھاری نے کہا ۔٬٬ ابھی اپنے سنگتوں کو اشارہ بھی کر دیں تو تیری تکہ بوٹی کر دیں گے۔ ۔ ۔ چھوڑ دے میرا ہاتھ میں تجھے شما کر دوں گا۔ ۔ ۔ پنڈت گوکل رام نے جھگڑے سے منع کیا تھا اس لئے میں چپ ہوں اور میرے آدمی بھی برداش کئے ہوئے ہیں۔،،
اماں نے ٹھیک ہی کہا تھا ۔ ۔ ۔ ہماری حویلی کی طرف بندر دوڑے چلے آرہے تھے ، وہ اچھل رہے تھے اور کھو ۔ ۔ کھو ۔ ۔ کھیاں ۔ ۔ ۔ اور کھی کی آوازیں نکال رہے تھے۔ مجھے ویسے تو بندروں سے بڑا ڈر لگتا تھا ۔ وہ ہر وقت پماری حویلی کے صحن میں کود کر آ جاتے تھے۔ ۔ ۔ دیواروں پر چڑھے رہتے تھے ۔ ۔ بس انہیں دیکھ دیکھ کر تھوڑا سا ڈر کم تو ہو گیا تھا لیکن جب بندر دانت نکالتے ہوئے ہمارے صحن میں کود کر آ جاتے تھے تو میں ڈر جاتا تھا میری چیخ نکل جاتی اور اماں مجھے اپنی گود میں بھر لیتی تھی۔ یہ بھی ڈر مجھے اس وقت لگتا تھا جب اماں صحن میں بنے چبوترے پر چولہے کے پاس بیٹھی روٹی پکاتی تھی اور دیوار سے کچھ بندر اچک کر وہ روٹی لے اڑتے تھے ۔ اس وقت مجھے یہ بندر بہت برے لگتے تھے ۔ ویسے تو ہماری حویلی میں روٹیاں پکانے کی ذمہ داری دا دا نے بھابی محمودن پر ڈال رکھی تھی ۔ وہ بہت اچھی اور نرم روٹیاں بناتی تھیں جو دادا ابا کو بہت پسند تھیں ۔ اسی وجہ سے دادا نے یہ کہہ رکھا تھا کہ سالن باری باری سب بنالیا کرو مگر روٹیاں کم از کم میرے لئے محمودہ ہی بنائے گی ۔ لیکن مجھے اپنی اماں کے ہاتھ کی بنی روٹیاں پسند تھیں اس لئے اماں میرے لئے خاص طور پر روٹیاں بناتی تھی۔
نجانے میرا ذہن کیوں روٹیوں کی طرف چلا گیا تھا کہ مجھے اس بات کا دھیان ہی نہ رہا کے حویلی کے باہر بہت سارے بندر جمع ہو گئے تھے ۔ ان بندروں کے پیچھے کلو تایا کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کے کندھے پر ایک بڑا سا بندر بیٹھا ہوا تھا اور پیچھے بھی بہت سے بندر جمع تھے ۔ ادھر حویلی کے دروازے پر کھڑے ہوئے بڑے ابا اور میرے ابا یہ سب کچھ بڑی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گردھاری اور اس کے ساتھی بھی یہ سب کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ کچھ دیر کے لئے تو بڑی خاموشی رہی ۔ اوپر چھت پر کھڑی ہوئی عورتیں جو پہلے ایک دوسرے سے
الجھ رہی تھی وہ بھی خاموش تھیں ۔ ایسا لگتا تھا جیسے سب بے ہوش ہوگئے ہوں ۔ پھر عورتوں میں سے کوئی بولا ۔٬٬ دیکھا۔ ۔ ۔ میرے کھسم ۔ ۔ ۔ کے آتے ۔ ۔ ہی ۔ ۔ س س سب کے منہ ۔ ۔ کیسے بند ہو گئے ۔ ۔ دیکھا میرے کلو کی کتنی ۔ ۔۔ دھاک ۔ ۔ ہے ۔ ۔ ٬٬اندھ تائی بول رہی تھی
٬٬ اب پھر اندھی تائی کو دورہ پڑ گیا کلو چاچا کا ۔،، بھابی محمودن بڑ بڑائی
٬٬دیکھ ۔ ۔ خیرن ۔ ۔ تو ۔ ۔ اس محمودن ۔ ۔۔ کا منہ ۔ ۔ ۔ بند ۔ ۔۔ کر ۔ ۔ ۔ وا ۔ ۔ ۔دے۔ ۔ ۔ نہیں تو ۔ ۔ ۔ ،،اندھی تائی غصے سے ہکلاتے ہوئے بولیں
٬٬ اری چپ کر ۔ ۔ نیچے دیکھ ۔ ۔ پھر مردوں میں منہ ماری ہو نے لگی ۔،، تائی خیرن نے غصے سے کہا اور سب عورتیں پھر نیچے دیکھنے لگیں۔٬٬ گردھاری ۔ ۔ ۔ اب میں تجھ سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے آدمیوں کو لے کر یہاں سے چلا جا ۔ ۔ ۔ ورنہ بہت خون خرابہ ہوگا۔ ۔ ۔
٬٬ اچھا کلو مہاراج ۔ ۔ ۔ اب تو بھی مجھے دھمکی دے گا۔ ۔ ۔ تو مجھے نہیں جانتاکیا ۔ ۔ ۔ تو اچھی طرح جانتا ہے مجھے ۔ ۔ ۔ کیا مندر میں تو نے میرے چمتکار نہیں دیکھے تھے ۔،، گردھاری کلو تایا سے چیختے ہوئے بولا
٬٬ بات تیرے چمتکار کی نہیں ہے گردھاری ۔ ۔ ۔ میں سب جانتا ہوں کہ تو بڑا چمتکاری ہے ۔ ۔ مگر اس وقت بات یہ ہے کہ تو نے ہماری حویلی پر آ کر ہماری بڑی بے عزتی کی ہے ۔ ۔ ابا سراجو کی حویلی پر تو آج تک کسی پنکھی نے بھی پر نہیں مارا تھا ۔ ۔ پھر تیری کیسے ہمت ہوئی ۔ ۔ ۔ بول ۔،، کلو تایا بھی چیخ کر بولے ۔ وہ بڑے غصے میں تھے
٬٬ اچھا کلو مہراج یہ بتا ۔ ۔ ۔ تو میرا کیا بگاڑ لے گا ۔ ۔ ۔ میں بات ابھی ختم کر دیتا ہوں اور دکھاتا ہوں تجھے چمتکار۔،، گردھاری نے عجیب سی آواز نکالتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ چمتکار سے پہلے تو میرے یہ چیلے ہی کام تمام کر دیں گے ۔ ۔ ۔ ویسے بھی اب مسلوں کو بھسم کر نے کی آگیا ہے ہمیں۔،،
کتنے آدمی لے کر آیا ہے تو اپنے ساتھ ۔ ۔ ۔ یہی کوئی دس بارہ ۔ ۔ بس ان پر ہی اکڑ رہا ہے تو ۔،، کلو تایا نے گردھاری سے کہا
٬٬ یہ دس بارہ بھی بہت ہیں کلو مہاراج تم لوگوں کاکریا کرم کرنے کے لئے۔ ۔ ہمارے یہ ترشول ہی تم لوگوں کا ابھی کام تما کر دیں گے۔،، گردھاری نے جواب دیا
٬٬ ابے چمتکار کے بچے میرے ساتھ پوری فوج ہے ۔ ۔ ۔ کام تو اب تم لوگوں کا اترے گا ۔ ۔ ۔ پھر کہتا ہوں واپس لوٹ جا۔،، کلو تایا بولے
٬٬ فوج لے کر آیا ہے تو ۔ ۔ کہاں ہے تیری فوج۔ ۔ میں بھی تو دیکھوں کیسی فوج ہے تیری۔،، گردھاری چیخا
٬٬ یہ دیکھ ۔ ۔ میرے چاروں طرف فوج ہی فوج ہے۔،، کلو تایا نے اپنے آگے اور پیچھے اچھلتے کودتے بندروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ٬٬ میرے ایک اشارہ کرنے کی دیر ہے پھر تو بھی میرا چمتکار دیکھ لے گا ۔ ۔ ۔ کیا تو میرا مندر میں دکھایا ہوا چمتکار
بھول گیا گردھاری۔،،
٬٬تواپنے چھوٹے سے چمتکار پر اترا رہا ہے کلو ۔ ۔ ۔ میرے چمتکار کو تو پورا گڑگاﺅں دیکھ چکا ہے ۔۔۔ ،، گردھاری بولا ۔ ۔ ۔ ٬٬ تواپنے بھائی کو بول کہ یہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ۔ ۔ پھر ایک چمتکار میں ابھی اور یہیں تجھے دکھا دیتا ہوں۔،،
ٍ ٬٬ ابے تو کیا چمتکار دکھائے گا ۔ ۔۔ مجھ سے اپنا ہاتھ تو چھڑ وا نہیں سکا ۔،، بڑے ابا بولے ۔٬٬ بس بس بہت ہو چکا ۔ ۔ ۔ تیرا چمتکار تو میں دیکھ چکا ہوں۔۔ ۔ ۔ ،،
٬٬ اچھا تو لے ۔ ۔ یہ دیکھ ۔ ۔ ،، گردھاری چیخا اور اس نے اپنے دوسرا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور بولا۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے ))

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے