سر ورق / ناول / دل رُبا ۔۔۔نفیسہ سعید۔۔۔پہلی قسط

دل رُبا ۔۔۔نفیسہ سعید۔۔۔پہلی قسط

دل رُبا

نفیسہ سعید

پہلی قسط

اس کے چاروں طرف پھیلے آگ کے شعلے اسے ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے سانپ اپنی لمبی لمبی زبانیں لئے اس کی جانب لپک رہے ہوں، اس کا خوبصورت جسم ان شعلوں کی زد میں آکر دھڑا دھڑ جل رہا تھا اور چربی کی بو اس کے نتھنوں میں آرہی تھی، چیخ چیخ کر اس کی آواز بیٹھ گئی تھی، تکلیف کی شدت سے بند ہوتی اپنی آنکھوں کو بمشکل کھول کر اس نے آخری بار اپنے سے کچھ فاصلے پر کھڑے ان افراد کو دیکھا جو اس کی بے بسی اور اذیت ناک موت کا نظارہ ایسی خاموشی سے کر رہے تھے جیسے یہ حقیقت نہ ہو، بلکہ کسی فلم کی شوٹنگ کےلئے فلمایا جانے والا کوئی سین ہو اور وہ سب سیٹ پر کھڑے ہوئے تماشائی۔

ان کی آنکھوں میں نظر آنے والی بے حسی اور سرد مہری نے اس کی آخری امید کو بھی ختم کر دیا اور زمین پر گرتے گرتے اسی آخری پل میں اس نے دوزخ کی آگ کا تصور بھی کیا، جس کی شدت اس آگ سے کئی گناہ زیادہ ہو گی، لیکن دنیاوی عیاشی میں مشغول بے خبر انسان اپنی چار روزہ زندگی میں گم ہو کر سب کچھ بھلا دیتا ہے۔ ”واہ رے انسان تیری بے خبری۔“

QQQQ

وہ بے تحاشا تھک چکی تھی، تھکن سے اس کی پنڈلیاں دکھ رہی تھی، اس نے صوفے پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں سامنے پڑی ٹیبل پر رکھ لیں اور جھک کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی پنڈلیاں دبانے لگی، ڈریسنگ روم میں اے سی کی کولنگ بھی معمول سے کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی تھی یا شاید اسے ہی ٹھنڈ زیادہ لگ رہی تھی، اس نے یہاں وہاں نظر دوڑائی اور کچھ فاصلے پر رکھا بڑا سا دوپٹہ جو جانے کس کا تھا، اٹھا کر اپنے گرد لپیٹ لیا، اسی دم زور دار آواز سے دروازہ کھول کر امیر بھٹی اندر داخل ہوا ساتھ ہی نصیبو لعل کے تیز گانے کی آواز بھی اندر تک سنائی دی، وہ یکدم ہی کوفت میں مبتلا ہو گئی۔

”او ہو دل ربا جی جلدی آجائیں آپ کا ڈانس ہے۔“

”میرا ڈانس؟“ دل ربا نے اس کی جانب سوالیہ انداز سے تکا۔

”ابھی تو میں ڈانس کرکے آئی ہوں بمشکل پانچ منٹ پہلے، اب میرا نہیں انمول کا نمبر ہے۔“ اس کا انداز ناگواری لئے ہوئے تھا۔

”وہ تو ٹھیک ہے جی پر تماشائی صرف اور صرف آپ ہی کو دیکھنا چاہتے ہیں، مسلسل آپ کے نام کی آواز گونج رہی ہے ہال میں۔“ امیر بھٹی نے اپنے لہجے کو قدرے خوشامدانہ بناتے ہوئے لجاجت سے کہا۔

”تو میں کیا تمہیں پاگل نظر آرہی ہوں، ابھی مسلسل ایک گھنٹہ کی پرفارمنس کے بعد آکر بیٹھی ہی ہوں کہ پیچھے ہی تم آگئے ہو۔“ وہ تنک کر بولی۔

”مجھے تو جی….“ امیر بھٹی کی بات درمیان میں ہی رہ گئی، ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر میڈم روبی اندر داخل ہوئی اور ایک تیز اور کٹیلی نظر امیر بھٹی پر ڈالی۔

”نہ تو میں نے کیا تمہیں یہاں آرام کرنے کیلئے بھیجا تھا؟ دل ربا جانی لوگ تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں، بس جلدی سے آجاﺅ، پھر ہم شو ختم کریں۔“ امیر بھٹی کو لتاڑنے کے ساتھ ساتھ میڈم نے بڑے پیار بھرے انداز سے دل ربا کو مخاطب کیا جبکہ ان کے لہجے کا مصنوعی پن دل ربا سے چھپا نہ رہ سکا، اب دل ربا کیلئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی، وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی، خود پر لیا ہوا دوپٹہ اتار کر پھینکا اور کمرے میں موجود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا بھرپور تنقیدی جائزہ لیا، اسکن کلر کا اسکن ٹائٹ لباس اس کے خوب صورت سراپے پر کسا ہوا اس کے وجود کے ہر عضو کو نمایاں کر رہا تھا، وہ جانتی تھی کہ اس حالت میں اس کا ہیجان خیز رقص تماشائیوں کا کیا حشر کرتا تھا، یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اس کے بعد کسی اور کو دیکھنے سے انکار کر دیتے تھے اور اس کی اس اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے پچھلے کچھ عرصے سے میڈم کا رویہ بھی اس کے ساتھ کافی تبدیل ہو چکا تھا، اب جب وہ دل ربا سے بات کرتی تو لہجے میں خوامخواہ ہی چاپلوسی کی حد تک شیرینی سمو لیتی تھی، جس سے کبھی کبھی تو دل ربا کو کافی الجھن ہوتی تھی، لیکن زیادہ تر میڈم کا یہ انداز اس کی دلی مسرت کا باعث بنتا۔

”ڈارلنگ ذرا جلدی چلی جاﺅ تاکہ شو کو ختم کیا جا سکے، سچی اب تو بہت نیند آرہی ہے۔“ میڈم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر بمشکل اپنی جمائی کو روکتے ہوئے کہا اور وہیںصوفے پر بیٹھ گئی، جبکہ دل ربا تھکے تھکے قدموں کے ساتھ دروازہ کھول کر ڈریسنگ روم سے باہر نکل گئی۔

QQQQ

”بس بھئی اب نہیں، اب میں بہت تھک گئی ہوں۔“ دریاب نے اپنی کمر کے گرد لپیٹا دوپٹا کھولا اور چہرے پر آئے ہوئے پسینے کو صاف کرتی ہوئی دھپ سے کرسی پر بیٹھ کر لمبے لمبے سے سانس لینے لگی۔

”پلیز یار ایک ڈانس اور….“ سی ڈی پلیئر کے پاس بیٹھی ہوئی رائمہ نے کسی قدر لجاجت سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، لیکن دریاب نے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور اپنے پاس کھڑی دسویں جماعت کی شمائل سے باتیں کرنے لگی، ان کے سکول میں آج عید ملن پارٹی تھی، جس کیلئے لڑکیاں اپنے اپنے گھروں سے ٹیپ ریکارڈ اور سی ڈی پلیئر لے کر آئی تھیں اور اپنی اپنی کلاسز میں خوب انجوائے کر رہی تھیں، لیکن سب سے زیادہ رش دریاب کی کلاس میں تھا، وجہ تھی دریاب کا رقص، جسے دیکھنے کیلئے دوسرے سیکشن اور کلاسز کی لڑکیاں بھی یہاں جمع تھیں۔

”سنا ہے آج دریاب گل نے بڑا خوبصورت ڈانس کیا ہے۔“ سندھی کی مس مومل راشدی نے کلاس روم میں داخل ہوتے ہوئے با آواز بلند پوچھا، مس مومل راشدی ابھی سکول میں نئی اپائنٹ ہوئی تھی، نوجوان سی یہ ٹیچر سکول کی بچیوں میں خاصی مقبول تھی۔

”چلو دریاب اب ایک ڈانس ہمیں بھی دکھاﺅ۔“ مِس مومل نے کرسی پر بیٹھی ہوئی دریاب کو بڑی بے تکلفی سے مخاطب کیا۔

”نو مس اب نہیں، میں اب بہت تھک گئی ہوں۔“ دریاب نے بغیر کسی لحاظ و مروت کے صاف انکار کرتے ہوئے کہا جبکہ مس مومل، دریاب کے اس جواب سے خاصی شرمندہ ہوئی۔

”چلو کوئی بات نہیں، میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی۔“ مس نے اپنی شرمندگی اور خفت کو چھپاتے ہوئے کہا۔

دریاب نے مس مومل کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور خاموشی سے شمائل کا ہاتھ تھامے کلاس سے باہر نکل گئی، وہ ایسی ہی تھی اپنے دل کی سننے والی، ہمیشہ وہ کام کرتی جس پر اس کا دل آمادہ ہوتا، ورنہ بنا کسی لحاظ و مروت کے انکار سامنے والے کے منہ پر دے مارتی اور یہ جرا ¿ت و بے باکی غالباً اس کی فطرت کا ایک حصہ بن چکی تھی، جس سے فرار اب کم از کم اس کیلئے ناممکن ہو چکا تھا۔

QQQQ

”بھئی جس جس کو مجھ سے آٹو گراف لینا ہے لے لو، بہت جلد میں ایک بہت بڑی سپر سٹار بن جاﺅ گی، پھر تم سب دیکھ کر کہو گی اوہو یہ تو دریاب ہے، اے کاش ہم نے اس سے ایک آٹو گراف ہی لے لیا ہوتا۔“ بریک ٹائم میں وہ گراﺅنڈ میں اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی خوب زور، زور سے بول رہی تھی۔

”کیوں کیا سپر سٹار بننے کے بعد تم اپنی دوستوں کو بھی بھول جاﺅ گی، تف ہے یار، ہمیں تم سے یہ امید نہ تھی۔“ یہ یقینا شمائل تھی۔

”یو نو یار ہمارے ملک میں تو فلموں کا کوئی فیوچر نہیں ہے، اس لئے لازمی سی بات ہے مجھے اپنا یہ شوق پورا کرنے کےلئے بالی وڈ جانا پڑے گا، اب بتاﺅ بھلا تم آٹو گراف لینے پڑوسی ملک آﺅ گی۔“ دریاب کی تیز ہنسی میں اس کی ساری دوستوں نے اس کا ساتھ دیا اور وہ سب مل کر کوئی گانا گا رہی تھیں، ساتھ ہی تالیوں کی آواز بھی تھی، اس شور شرابے کی بنا پر گراﺅنڈ میں موجود ہر لڑکی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی جانب متوجہ ہونے پر مجبور تھی۔

”یار لگتا نہیں یہ دریاب گل تمہاری کزن ہے۔“ کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی سجیہ نے کوک کا سپ لیتے ہوئے سمرن کے سانولے سلونے سنجیدہ سے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اظہار خیال کیا جبکہ سمرن نے جواب میں صرف ایک نظر ذرا فاصلے پر موجود دریاب پرڈالی اور خاموشی سے سموسہ کھانے میں مشغول ہو گئی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ نہ صرف رہن سہن اور عادات کے حوالے سے بلکہ شکل و صورت کے حوالے سے بھی اس میں اور دریاب میں زمین و آسمان کا فرق تھا، حالانکہ دریاب اس کے سگے چچا کی بیٹی تھی، نہ صرف یہ بلکہ وہ ایک ہی گھر میں جوائنٹ فیملی سسٹم کے تحت رہتی تھیں، بے شک ان کے پورشنز مختلف تھے، لیکن گھریلو ماحول تو تقریباً یکساں ہی تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی عادت یکساں نہ تھی۔

”ویسے ایک بات تو بتاﺅ تمہاری اس کزن کے اتنے بگاڑ میں کس کا ہاتھ ہے۔“ سجیہ نے ہنستے ہوئے ایک نظر دریاب پر ڈالی جو اپنے پاس سے گزرنے والی ہر لڑکی پر آوازیں کسنے میں مشغول تھی، اسی بنا پر لڑکیاں ان کے پاس سے گزرتی ہوئی تھوڑی سی خائف ہو رہی تھیں۔

”میری ماں کا۔“ سمرن آنٹی آہستہ آواز میں ہونٹوں ہی ہونٹوں میں بدبدائی کہ اس کی آواز صرف وہ خود ہی سن سکی جبکہ سجیہ بریک ختم ہونے کی بیل سن کر کلاس کی جانب بڑھ چکی تھی۔

QQQQ

”امی پلیز مجھے کھانا دے دیں، بھوک لگی ہے۔“ سمرن نے کوئی چوتھی دفعہ شہ پارا کو پکارا، لیکن سمرن کی اس پکار کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ نہایت انہماک سے کیبل پر آنے والی کوئی انڈین فلم دیکھنے میںمشغول رہی۔

”امی….“ سمرن سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے شہ پارا کو کندھے سے تھام کر ہلایا۔

”کیا مصیبت ہے، لے لو کچن سے جا کر خود، اب بچی تو نہیں۔“ شہ پارا نے اپنے تسلسل میں رخنہ اندازی پر بری طرح جھنجلاتے ہوئے اسے اچھی طرح لتاڑ دیا اور جواباً سمرن خاموشی سے کھڑی ہو گئی، اس کی آنکھوں میں یکدم ہی آنسو آگئے اور گلے میں گولہ سا پھنس گیا، اس نے خاموشی سے ایک نظر کارپٹ پر سر کے نیچے فلور کشن رکھ کر لیٹی ہوئی اپنی ماں اور اس کے کندھے سے لگی دریاب پر ڈالی اور کمرے سے نکل کر کچن کی جانب آگئی۔

بوائل گوشت دیگچی میں ڈھکا رکھا تھا جبکہ چھلے ہوئے آلو قریبی باﺅل میں پڑے سیاہ ہو رہے تھے، اس نے باﺅل اٹھا کر سنک کے نیچے رکھا اور اس میں اتنا پانی بھر دیا جس میں آلو ڈوب جائیں، اب باﺅل اپنی جگہ پر واپس رکھ کر وہ فریج کی جانب آگئی، فریج میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے کھا کر وہ اپنا پیٹ بھر سکتی، یہاں تک کہ گندھا ہوا آٹا بھی موجود نہ تھا، اس نے خاموشی سے فریج کا دروازہ بند کر دیا، وہ جانتی تھی کہ اب اس کی ماں شام تک ٹی وی کے آگے سے نہیں اٹھے گی کیونکہ اس کے بابا رات کو دیر سے دکان بند کرکے آتے ہیں۔ لہٰذا اب یہ کھانا رات کو ہی مکمل ہونا تھا، وہ چپ چاپ سیڑھیاں چڑھتی اوپر تائی کے پورشن میں آگئی، جہاں تائی جی اور فاریہ بھابی کچن میں رکھی ٹیبل پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔

”آجاﺅ سمرن کھانا کھاﺅ۔“ فاریہ بھابی نے اسے دیکھتے ہی آواز دی، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اس وقت نیچے کچھ بھی نہ بنا ہو گا شہ پارا رات کا بچا ہوا سالن اطمینان سے بنا سمرن کا سوچے پر اٹھے کے ساتھ کھا چکی ہو گی جبکہ دریاب دوپہر کا کھانا نیچے اپنی امی کے ساتھ کھاتی تھی، رہ گئی سمرن تو اس کی پروا کسے تھی، سمرن خاموشی سے کرسی پر آکر بیٹھ گئی اور پلیٹ میں سالن نکال کر کھانا شروع کر دیا۔

”دریاب کہاں ہے؟“ تائی نے سرسری سا پوچھا۔

”امی کے پاس غالباً کوئی فلم دیکھ رہی ہے۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے بتانا پڑا۔

”کئی بار ارم کو سمجھایا ہے بچی کو پارو کے پاس اتنا نہ جانے دیا کرے، مگر مجال ہے جو اس کی سمجھ میں کوئی بات آئے، لڑکی ذات ہے، کل کلاں کو کچھ ہو گیا تو دیکھنا، سر پکڑ کر روئے گی۔“ تائی جی نے بنا سمرن کا لحاظ کئے غصے سے کہا اور ان کے کہے گئے الفاظ نے سمرن کے حساس دل کو اپنی ماں کے حوالے سے خاصا دکھایا، لیکن وہ جانتی تھی کہ تائی کے الفاظ بے شک سخت سہی، لیکن کافی حد تک درست بھی ہیں۔

QQQQ

آغا رحمان گل کے تین بیٹے تھے سب سے بڑے جہانگیر، پھر سرفراز اور شہباز جبکہ ایک بیٹی فریحہ تھی جو شادی کے بعد اسلام آباد میں رہائش پذیر تھی سب کی شادیاں انہوں نے اپنی مرضی سے کیں ماسوائے سرفراز کے ویسے تو ان کی ساری اولاد ہی بہت فرماں بردار تھی لیکن عادات و اطوار کے حوالے سے تینوں بھائی ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔

جہانگیر سب سے بڑا بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی ذمہ دار تھا کم عمری سے ہی وہ کاروبار میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا جبکہ سرفراز نہ صرف لا ابالی بلکہ قدرے عیاش فطرت کا حامل نوجوان تھا اور ان دونوں کے برعکس شہباز اپنے کام سے کام رکھنے والاگم صُم سا شخص تھا جس کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف اعلیٰ تعلیم کا حصول تھا اسے اپنے باپ کے کاروبار سے کوئی دلچسپی نہ تھی وہ مقامی یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

سرفراز نہ صرف شکل و صورت کے اعتبار سے واجبی سی شخصیت کا حامل تھا بلکہ تعلیمی میدان میں بھی کوئی خاص حیثیت نہ رکھتا تھا بڑی مشکل سے گھسیٹ گھسیٹ کر اس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی اس کے باوجود آغا جی کے ساتھ سپر سٹور پر جا کر بیٹھنا وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتا تھا ہاں البتہ جب پیسوں کی ضرورت ہوتی تو وہ سٹور ضرور جاتا اور پھر ضرورت کے مطابق پیسے حاصل کرنے کے بعد پندرہ، بیس دن تک وہ سوائے رات کے گھر میں بھی دکھائی نہ دیتا۔

یہ ہی وجہ تھی کہ آغا صاحب اور سکینہ چاہتے تھے کہ جلد از جلد اس کی شادی کر دی جائے عام روایتی ماں باپ کی طرح ان کی بھی سوچ تھی کہ شاید اسی طرح ان کا بیٹا سدھر جائے دوسرے بیٹوں کی طرح انہوں نے اس کا رشتہ بھی خاندان میں ہی طے کر رکھا تھا شازیہ ان کی بڑی بہو سادیہ کی چھوٹی بہن ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی سادہ مزاج اور قوت برداشت رکھنے والی لڑکی تھی۔ آغا جی کا خیال تھا کہ سرفراز جیسے اتھرے آدمی کےلئے اس سے بہتر لڑکی کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی سرفراز کی دن بہ بدن بگڑتی ہوئی حرکات و سکنات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ جلد از جلد شازیہ کو بیاہ کر گھر لے آئیں اور ابھی انہوں نے اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کا سوچا ہی تھا کہ سرفراز نے از خود ہی دھماکہ کر ڈالا۔

QQQQ

پچھلے کچھ دنوں سے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کےلئے نادرن ایریاز گیا ہوا تھا اس دوران آغا جی کے حکم کے مطابق سادیہ اور سکینہ نے مل کر بالا ہی بالا اس کی شادی کی ہلکی پھلکی تیاریاں شروع کر دی تھیں کہ اچانک ہی ایک دن وہ ایک نہایت حسین و جمیل اور طرحہ دار لڑکی کا ہاتھ تھامے آن موجود ہوا۔

”یہ میری بیوی پارو ہے۔“

الفاظ تھا یا کوئی بم پورا گھر لرز کر رہ گیا پارو کے انداز و اطوار یہ سمجھانے کےلئے کافی تھے کہ اس کا تعلق کس علاقہ سے ہے۔ آغا جی فوری طور پر انہیں گھر سے نکال دینا چاہتے تھے غصے کی شدت سے ان کی آنکھوں میں لہواتر آیا تھا۔

”اس گندگی کے ڈھیر کو لے کر نکل جاﺅ میرے گھر سے۔“

بے تحاشا غصے سے وہ ہولے ہولے کانپ رہے تھے اور ان کا بلڈپریشر ہائی ہو گیا تھا لیکن سرفراز جو شہ پارا کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکا تھا اس پر باپ کی اس حالت کا کوئی اثر نہ ہوا۔

”کیوں نکل جاﺅں میں اس گھر سے، آپ کی وراثت کا پورا پورا حق دار ہوں میں اور مجھے امید ہے کہ آپ جیسا دین دار آدمی اتنی بڑی بے دینی کی بات نہیں کر سکتا اگر آپ نے مجھے نکالا تو جہانگیر اور عمر کو بھی نکالیں۔“

یہ کہہ کر وہ نہایت اطمینان سے پارو کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا اس کی اس جرا ¿ت اور بدتمیزی نے آغا جی کو بالکل خاموش کر دیا اس طرح سرفراز کو اس گھر میں رہنے کی اجازت تو مل گئی لیکن اس کا کھانا پینا فی الفور علیحدہ کرکے اسے اوپر والے پورشن میں شفٹ کر دیا گیا کیونکہ اس مسئلے کا فوری اور بہتر حل اس کے سوا کوئی اور نہ تھا۔

پارو کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ کوئی نہ جانتا تھا لیکن یہ دیکھ کر سب حیران ہوتے تھے کہ پارو جیسی حسین و جمیل لڑکی کو سرفراز جیسے کم رو شخص میں کیا نظر آیا جو نہ صرف شکل و صورت بلکہ مالی اعتبار سے بھی کوئی ایسا مستحکم نہ تھا کہ اس کی خاطر پارو جیسی لڑکی سب کچھ تیاگ دے لیکن شاید ان دونوں کا ملن نصیب میں لکھا تھا سو ہو گیا کیسے ہوا؟ یہ شاید کوئی بھی نہ جان پایا اور نہ ہی کبھی کسی نے جاننے کی کوشش کی لیکن یہ سچ تھا کہ پارو میں سوائے شکل و صورت کے کوئی دوسری ایسی خوبی نہ تھی جو گھریلو عورتوں میں پائی جاتی ہو اور اس کا اندازہ جلد ہی سرفراز کو بھی ہو گیا۔

وہ صبح سویرے اٹھنے کی عادی نہ تھی یہ ہی وجہ تھی کہ جب دن چڑھے جاگتی تو بجائے کوئی کام کرنے کے نہا دھو کر خوب نک سک سے تیار ہو جاتی شروع شروع میں تو سرفراز اسے دیکھ دیکھ کر جیتا اور کسی حسین مورتی کی مانند نظر آنے والی پارو کی پوجا کرتا اور چاہتا کہ سامنے بٹھا کر اسے تکا کرے لیکن کب تک؟ حسن و آتشی کا یہ خمار جلد ہی اتر گیا جب روز بازار کا پکا جیب اور پیٹ پر بھاری پڑنے لگا تو سرفراز کے ماتھے پر نمایاں طور سے بل نمودار ہونے لگے اور اس حوالے سے گھر میں ایک نئی تو تکار شروع ہو گئی لیکن وہ پارو بھی کیا جس پر رتی برابر اثر ہو اور ایسے میں سکینہ کو مدد کیلئے آگے آنا پڑا اور پھر ان کے ساتھ ساتھ سادیہ کی پرخلوص کوششوں کے زیر اثر شہ پارا نے تھوڑا بہت پکانا تو سیکھ لیا لیکن کبھی اس نے یہ کام روایتی عورتوں کی طرح دلچسپی سے نہ کیا اس کی دلچسپی گھریلو امور سے زیادہ شاپنگ، سینما اور ہوٹلنگ کے علاوہ سارا دن وی سی آر پر نت نئی انڈین فلموں تک محدود تھی اور اس کی ان حرکتوں کے باعث جلد ہی سرفراز کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا لیکن اب اس احساس کا کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ پارو اس کی بیٹی سمن کی ماں بن چکی تھی اور اولاد واحد چیز ہے جو مرد و عورت دونوں کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے سو سرفراز بھی صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور اپنی اولاد کو دیکھتے ہوئے اسے جلد ہی اس زیادتی کا احساس بھی ہو گیا۔

جو وہ اپنے ماں باپ سے روا رکھتا تھا اور اس زیادتی کے ازالے کےلئے وہ آغا جی کے ساتھ سپر سٹور جانے لگا لا ابالی سے سرفراز کی جگہ ایک سمجھدار شخص ابھر کر سامنے آیا جسے کاروباری شعور اپنے دونوں بھائی کے مقابلے میں زیادہ تھا اس کی انتھک محنت اور حکمت عملی سے سپر سٹور نے ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور کی شکل اختیار کر لی سرفراز کی اس محنت اور کوشش کو اس کے گھر کے ہر فرد نے عملی طور پر سراہا اور لاشعوری طور پر کوشش کی جانے لگی کہ سرفراز کی بیوی کو بھی گھر میں وہ ہی مقام دیا جائے جو سادیہ اور شہباز کی بیوی ارم کو حاصل ہے لیکن جانے کیوں شہ پارا کو کبھی بھی کسی کے ساتھ مل کر بیٹھنا پسند نہ تھا وہ شروع سے ہی علیحدہ پورشن میں رہنے کی عادی ہو چکی تھی اس کے میکے سے تو بھی کوئی آیا نہ تھا اور سسرال والوں سے اس کا اتنا ملنا جلنا نہ تھا لہٰذا وہ ہمیشہ اکیلے رہنے کو ترجیح دیتی یہاں تک کہ بازار بھی اکیلی ہی چلی جایا کرتی ہاں البتہ سال میں ایک ہفتہ کےلئے وہ لاہور ضرور جاتی اور یہ سفر ہمیشہ سرفراز کے سنگ ہی ہوتا عام خیال تھا کہ شاید لاہور میں اس کا میکہ آباد ہے لیکن تجسس کے باوجود اس بارے میں کبھی کسی نے کریدنے کی کوشش نہ کی وجہ غالباً شہ پارا کا لیا دیا رویہ تھا۔

سمن کے دو سال بعد ہی سمرن پیدا ہو گئی یہ بھی اتفاق ہی تھا کہ دونوں لڑکیاں شکل و صورت اور رنگ و روپ کے اعتبار سے ماں سے قطعی مختلف تھیں سمن تو بالکل اپنے باپ جیسی تھی البتہ سمرن کے نقش و نگار ماں جیسے جبکہ رنگت تھوڑی سی دبتی ہوئی سرفراز جیسی تھی لیکن حقیقت تھی کہ وہ دونوں شہ پارا کی بیٹیاں تو معلوم ہی نہ ہوتی تھیں اور حسن کی دلدادہ شہ پارا کو کبھی اپنی بیٹیوں سے کوئی دلی لگاﺅ محسوس نہ ہوا یہ ہی وجہ تھی کہ دونوں بچیوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش میں زیادہ تر ہاتھ دادی یا پھرتائی سادیہ کا رہا سادیہ کے چونکہ اپنے تینوں بیٹے ہی تھے لہٰذا انہوں نے بیٹی کی تشنہ خواہش ان دونوں بہنوں سے پوری کر لی سمن اور سمرن کی طبیعت کا رکھ رکھاﺅ اور ٹھہراﺅ اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ ان کی تربیت سادیہ جیسی سلیقہ شعار عورت کے ہاتھوں ہوئی ہے۔

عمر کی شادی اپنی کزن ارم سے سرفراز کی شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد ہو گئی تھی ارم کے پہلے دونوں بیٹے پیدائش کے فوراً بعد ہی فوت ہو چکے تھے سمرن تقریباً دو سال کی تھی جب ارم نے دو جڑواں بیٹیوں کو جنم دیا۔ دریاب اور نایاب اور تخلیق کے اس عمل کے دوران ارم کو بمشکل بچایا گیا اور اب اس کی اتنی تشویشناک حالت کے سبب دو بچوں کو سنبھالنا ایک نہایت ہی مشکل امر تھا جبکہ سکینہ اپنی ضعیف العمری اور بیماری کے سبب بچیوں کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر تھیں اور سادیہ پہلے ہی اپنی تینوں بیٹوں کے ساتھ سمن اور سمرن کو بھی سنبھالے ہوئے تھیں ایسے میں شہ پارا کو جانے کیا ہوا دریاب کی ذمہ داری سنبھالنے کےلئے اپنی خدمات پیش کر دیں جسے سن کر ہر کوئی حیران رہ گیا کہاں اپنی بچیاں تو سنبھال نہ سکی کجا دوسرے کی بچی، لیکن بہرحال شہ پارا کی یہ پیشکش نہ صرف پرخلوص بلکہ برمحل تھی اس لئے کسی کے پاس اعتراض کی گنجائش نہ تھی۔

دریاب بے انتہا سرخ و سفید اور نہایت ہی خوبصورت بچی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ اسے دیکھتے شہ پارا کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا اور جھٹ پٹ اپنی خدمات پیش کر دیں جبکہ اپنی دونوں بیٹیوں کو تو پیدائش کے وقت دیکھتے ہی وہ ہکا بکا رہ گئی تھی اور یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی کہ اتنی سانولی سلونی بچیاں اس کی ہو سکتی ہیں ایسے میں دریاب کا سرخ و سفید رنگ و روپ شہ پارا کی توجہ کا مرکز بن گیا کوئی اور وقت ہوتا تو شاید اہل خانہ کو اعتراض ہوتا کیونکہ اس کی کی جانے والی تربیت سے تو سرفراز ہی مطمئن نہ تھا تو دوسروں کی بات تو پھر بعد کی تھی لیکن وہ جو سیانے کہہ گئے کہ مجبوری کا نام شکریہ تو اس کی عملی تفسیر اس موقع پر دیکھنے میں آئی جب اپنی سگی اولاد کی تربیت کی ذمہ داری ماں اور بھابی کو سونپنے والے سرفراز نے بھائی کی بیٹی کی تربیت بیوی کے ہاتھوں ہوتے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں اور وہ جو کہتے ہیں کہ خون سے زیادہ گود اپنا اثر دکھاتی ہے تو اس کا عملی نمونہ بھی جلد ہی سامنے آگیا۔

QQQQ

شہ پارا کی شروع سے عادت تھی صبح سویرے تیار ہو کر گھر سے نکل جانا یا پھر سارا دن کیبل پر آنے والی نت نئی فلموں سے لطف اندوز ہونا، گھریلو ذمہ داریاں صرف اس حد تک تھیں کہ رات کو گھر آنے پر میاں کو کھانا مل جائے خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو جبکہ دونوں بیٹیاں اکثر و بیشتر اوپر تایا کے گھر سے ہی کھا لیا کرتی تھیں البتہ دریاب کی ذمہ داری شہ پارا میں تبدیلی لانے کا سبب بنی سدا کی لاپروا اور خود میں مگن رہنے والی شہ پارا ایک دم سے ہی ذمہ دار ماں بن گئی وہ راتوں کو جاگ کر سگی اولاد کی طرح اس کی دیکھ بھال کرتی چونکہ وہ فیڈر پیتی تھی لہٰذا ہمیشہ اس کے فیڈر کی صفائی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا اس کیلئے خریدے گئے قیمتی اوررنگ برنگے کھلونوں سے پارو کا کمرا بھر چکا تھا پھر بھی وہ دریاب کےلئے شاپنگ کرتے نہ تھکتی تھی یہاں تک کہ اگر دن میں کچھ وقت وہ نیچے ارم کے پاس ہوتی تو یہ وقت شہ پارا کےلئے کاٹنا دشوار ترین ہو جاتا جانے یہ خدا کی کون سی مصلحت تھی کہ اپنی بیٹیوں کو منہ نہ لگانے والی پارو میں دریاب کی تو مانوں جان تھی یہ ہی وجہ تھی کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی مکمل طور پر پارو ہی کے رنگ میں رنگتی گئی۔

بچپن میں اس کی ہر وقت ٹی وی اور فلم میں بے تحاشہ دلچسپی کسی نے محسوس ہی نہ کی اور ویسے بھی جب تک دادا، دادی زندہ رہے دریاب کی یہ دلچسپی کھل کر کبھی سامنے ہی نہ آئی لیکن ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی دریاب کی شکل میں ایک دوسری شہ پارا ابھر کر سامنے آگئی فیشن کی دلدادہ، رقص کی شوقین، نماز روزے سے غافل ہر وقت فلم کی طرف ہی توجہ مرکوز رکھنے والی دریاب گل جس نے جانے رقص میں کب اور کیسے مہارت حاصل کی پتا ہی نہ چلا، شروع شروع میں تو سب سے چھپ کر پارو کے سامنے کسی انڈین گانے پر کرتی۔ پارو کے کمرے میں اب اکثر ہی نور جہاں اور ناہید اختر کے تیز چیختے ہوئے گانے سنائی دیتے شروع شروع میں سب سے چھپ کر کیا جانے والا یہ عمل رفتہ رفتہ سب کے سامنے آنے لگا اور دریاب کی اس خوبی کا ادراک سب سے پہلے سمرن پر ہی ہوا تھا کیونکہ سمن کے مقابلے میں اس کی کوشش ہوتی کہ وہ تائی سے زیادہ اپنی ماں کے قریب رہے اور اسی کوشش کے نتیجے میں اکثر و بیشتر وہ دریاب کا وہ رقص دیکھنے سے مستفید ہو جاتی جو وہ شہ پارا کے کہنے پر اس کے کمرے میں کر رہی ہوتی دریاب کے اس شوق کو ہمیشہ بچی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا لیکن اس شوق کے اتنے بھیانک اور دورس نتائج نکلیں گے یہ کوئی نہ جانتا تھا ورنہ شاید اس وقت اس کے شوق کی روک تھام کیلئے کوئی ایسا عملی قدم ضرور اٹھایا جاتا جو آگے چل کر دریاب کو اس ذلت بھرے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا سبب بن سکتا جو مستقبل میں دریاب کا مقدر بننے والا تھا۔

جہانگیر اور سادیہ کے تین ہی بیٹے تھے بڑا زوہب، پھر شاہ زیب اور سب سے چھوٹا شاویز، زوہب کی شادی اپنی خالہ زاد فاریہ سے ہو چکی تھی اور ان کے ماشاءاللہ سے دو بچے بھی تھے جبکہ شاہ زیب کا رشتہ بچپن میں ہی سکینہ بی بی اور آغا جان کی خواہش کے عین مطابق سمن سے طے تھا اور اس نسبت پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض بھی نہ ہوا یہ ہی وجہ تھی کہ جب شاہ زیب نے مزید تعلیم کے حصول کیلئے کینیڈا جانے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا تو جہانگیر صاحب نے اپنی اجازت کو سمن کے ساتھ نکاح سے مشروط قرار دے دیا اور ان کی اس شرط پر شاہ زیب سمیت کسی کوئی اعتراض نہ تھا لہٰذا جھٹ منگنی پٹ بیاہ کے تحت فوری طور پر اس شادی کا اہتمام کیا گیا اور شاہ زیب کے ساتھ ہی سمن کے کاغذات بھی جمع کروا دیئے گئے ویزا لگتے ہی سمن کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر شاہ زیب کی ہمراہی میںکینیڈا روزانہ ہونا پڑا سمن کے جانے کے بعد سمرن بالکل تنہا رہ گئی غیر ارادی طور پر وہ دونوں بہنیں ماں کی نسبت ایک دوسرے سے زیادہ قریب تھیں۔ دادی کے بعد سمن نے ہمیشہ سمرن کو جذباتی طور پر سہارا دیا وہ اس کی چھوٹی چھوٹی خواہش بن کہے جان جایا کرتی تھی وہ دونوں بہنیں اپنا زیادہ تر وقت تایا ہی کے گھر گز ارا کرتی تھیں جبکہ ان کے گھر اور ماں پر دریاب کی حکمرانی تھی۔

دریاب ہمیشہ سمرن سے ضد باندھے رکھتی اس کی کاپی، کتابیں خراب کر دینا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ہمیشہ سمرن کی کوئی نہ کوئی چیز اسے پسند آجاتی جو وہ ضد کرکے سمرن سے ہتھیا لیا کرتی حالانکہ شہ پارا نے اپنی بیٹیوں کے مقابلے میں ہمیشہ اسی کو فوقیت دی تھی اس کی پسند، اس کی خواہشات پارو کےلئے زندگی کی علامت تھیں اس نے کبھی بھی کسی چیز کی خواہش یا طلب کےلئے دریاب کو نہ ترسایا تھا اس کے باوجود دریاب ہمیشہ اسی چیز میں زیادہ دلچسپی لیتی جو سمرن کےلئے اس کے بابا، سمن یا کوئی دوسرا شخص لے کر آتا اور سمرن اپنی صلح جو طبیعت کے باعث خاموشی سے ہر چیز دریاب کے حوالے کر دیتی جب تک سمن رہی اس نے ہمیشہ سمرن کا دفاع کیا وہ کبھی بھی کوئی چیز دریاب کو دینے نہ دیتی کیونکہ بقول اس کے، سمرن کا یہ عمل دریاب میں خود پسندی کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھانے کا سبب بن رہا ہے لیکن سمرن کے خیالات بالکل مختلف تھے وہ دریاب کو ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتی تھی حالانکہ دریاب کے طرز عمل نے ہمیشہ اس کی حوصلہ شکنی کی۔ لیکن جانے کیوں اپنی خوبصورت ماں سے بے تحاشا محبت کرنے کے باعث اس سے وابستہ ہر چیز سے محبت اور عقیدت خود بخود سمرن کے دل میں پیدا ہو جاتی تھی جبکہ دریاب تو پھر ایک جیتا جاگتا وجود تھا جو اس کی ماں سے وابستہ تھا نہ صرف وابستہ بلکہ اس کی ماں کے چہرے پر مسرت بکھیرنے کا سبب بھی تھا۔

اس کی ماں نے ہمیشہ دریاب کےلئے اعلیٰ سے اعلیٰ چیز خریدی۔ اس عمل نے دریاب کے دماغ کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا، کوئی کم قیمت چیز اس کی نظروں میں جچتی ہی نہ تھی اور یہ سب شہ پارا ہی کی بدولت ممکن ہوا تھا ورنہ اس کی سگی ماں کو اتنی فرصت ہی نہ تھی کہ وہ دریاب کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا اس قدر احساس رکھ سکے یہ بھی شاید قدرت ہی کی کوئی مصلحت تھی کہ دریاب کی جڑواں بہن نایاب کو ایک سال کی عمر میں اتنا شدید بخارا ہوا کہ اس کے اترنے تک نایاب کو ذہنی طور پر بالکل مفلوج کر دیا اس کے مہنگے ترین علاج نے ارم کی کمر ہی توڑ ڈالی تھی لیکن اس کے باوجود بچی مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو سکی نایاب کے بعد آرزو اور پھر ولید بھی ارم کی وہ توجہ حاصل نہ کر سکے جو ان کا حق تھا کیونکہ ارم کا زیادہ تر وقت نایاب پر ہی صرف ہو جاتا ایسے میں دریاب کو مکمل طور پر شہ پارا کے سپرد کرکے وہ مطمئن ہو چکی تھی۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دریاب کے ٹھاٹ باٹ نے اس کے فیصلے پر درستگی کی مہر ثبت کر دی تھی۔ دریاب کی رقص میں دلچسپی کا کچھ کچھ اندازہ تو سمرن کو ہو ہی چکا تھا لیکن وہ اس قدر رقص کی دلدادہ ہے یہ سمرن کو پارٹی والے دن پتا چلا جب سکول میں ہر طرف دریاب کے ڈانس کی دھوم مچی ہوئی تھی اور یقینا اس سب کے پس پردہ کردار اس کی اپنی ماں کا تھا سمرن جب بھی اپنی ماں کو بے خیالی میں چلتا پھرتا دیکھتی جانے کیوں اسے اسٹیج ڈانسر کا گمان ہوتا اور اس کی تائی تو کئی دفعہ ڈھکے چھپے الفاظ میں کہہ بھی چکی تھیں کہ ”شہ پارا کا تعلق ضرور کسی ناچنے گانے والے خاندان سے ہے“ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان دونوں بہنوں نے ننھیال کے نام پر کبھی اپنا کوئی رشتہ دار نہ دیکھا تھا صرف ایک بار بچپن میں جب وہ اپنی ماں کے ساتھ لاہور گئی تھی تو ہوٹل ہی کے کمرے میں ایک ادھیڑ عمر عورت اور برقعہ پوش جوان لڑکی اس کی ماں سے ملنے آئی تھیں وہ دونوں عورتیں اسے دیکھنے میں بھی اچھی نہ لگی تھیں لیکن سمرن سے ان کی والہانہ محبت یہ ضرور بتاتی تھی کہ ان کا سمرن سے ضرور کوئی نہ کوئی رشتہ ہے۔ وہ رشتہ کیا تھا آج تک سمرن کو معلوم ہی نہ ہو سکا اور نہ ہی اس نے کبھی جاننے کی کوشش کی۔ ایک دفعہ شہ پارا نے خود ہی ترنگ میں آکر سمرن کو بتایا تھا کہ اس کی پرورش اس کی خالہ نے کی تھی جب اس کی ماں چھ ماہ کی پارو کو چھوڑ کر اپنے کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی اپنی ماں کے بارے میں بتاتے ہوئے پارو کو کسی بھی قسم کی شرمندگی کا احساس نہ تھا جبکہ اپنی نانی کے بارے میں یہ سب جان کر سمرن کا دل اس قدر خراب ہوا کہ پھر اسے مزید کچھ جاننے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔

اس دن کے بعد اس نے اپنی ماں سے کبھی بھی کوئی سوال نہ کیا وہ جان چکی تھی کہ اس کی ماں کے ماضی پر پڑا ہوا پردہ ہی ان دونوں بہنوں کے حق میں بہتر ہے۔

QQQQ

وہ جیسے ہی کالج سے گھر آئی کچن سے آنے والی اشتہا انگیز خوشبوﺅں نے اسے پل بھر کو حیران کر ڈالا۔

”یا الٰہی میں کسی غلط گھر میں تو نہیں آگئی۔“ پہلا خیال اس کے ذہن میں یہ ہی آیا اور پھر اپنے خیال پر خود یہ ہنستی ہوئی تیزی سے کچن کی جانب بڑھی جہاں حیرت کا دوسرا اور شدید ترین جھٹکا اس کا منتظر تھا شہ پارا بیگم دوپہر کے اس سمے نہایت گرمی میں بے حال بڑی تندہی کے ساتھ کھانا بنانے میں مصروف تھیں۔

”خیریت ہے امی کوئی آرہا ہے؟“

سمرن نے حیرت سے دریافت کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اپنے سسرالی عزیزوں کیلئے اس کی ماں نے کبھی بھی ایسا اہتمام کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی تھی ویسے بھی آنے والا ہر مہمان ہمیشہ تائی جی کے گھر ٹھہرتا تھا اور جو کبھی کوئی ملنے کیلئے نیچے آتا تو ہمیشہ بازاری لوازمات سے ہی اس کی خاطرکی جاتی ایسے میں اتنی بھری دوپہر میں شہ پارا کی کچن میں موجودگی واقعی اچنبھے کا سبب تھی۔

”ہاں۔“ مختصر سا جواب دے کر شہ پارا ہانڈھی میں چمچہ چلانے میں مصروف ہو چکی تھی سمرن نے کچھ دیر تو انتظار کیا کہ شاید آگے بھی کچھ بتایا جائے لیکن پارو کی بے نیازی یہ بتا رہی تھی کہ ابھی وہ مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے سمرن نے آگے بڑھ کر دیگچیوں کے ڈھکن اٹھا کر جھانکا اور چکن بریانی دیکھتے ہی اس کی بھوک چمک اٹھی۔

”واﺅ زبردست آج تو آپ نے میری فیورٹ ڈش بنائی ہے۔“ ایک مان بھرے لاڈ سے اس نے ماں کی جانب دیکھا۔

”ہاں دریاب کو بھی چکن بریانی بہت پسند ہے ورنہ میرا ارادہ تو پلاﺅ بنانے کا تھا۔“

سنک پر ہاتھ دھوتے ہوئے پارو نے جواب دیا اور تولیہ سے ہاتھ صاف کرکے چولہے کی آگ کو مدھم کر دیا اور باہر کی جانب چل دی جبکہ اس کے جواب نے جانے کیوں سمرن کے جوش و خروش کو بالکل ماند کر دیا اس کی بھوک کا احساس ایک دم ہی ٹھنڈا ہو گیا ایسے جیسے کسی نے جلتے ہوئے کوئلوں پر پانی ڈال دیا ہو اس نے خاموشی سے دیگچی کا ڈھکن واپس رکھ دیا یہ جانے بغیر کہ بریانی کے علاوہ اور کیا پکا ہے وہ خاموشی سے کچن سے باہر نکل آئی۔

”کیا تھا جو اماں ایک بار میرا دل رکھنے کیلئے ہی کہہ دیتی کہ آج بریانی میرے لئے ہی بنی ہے۔“ اس کا حلق نمکین پانی سے بھر گیا پارو کی دی گئی وضاحت سے اس کا دل اس قدر برا ہوا کہ یہ بھی نہ معلوم کر سکی کہ ان کے گھر آج کون مہمان آرہا تھا؟ خاموشی سے ہاتھ منہ دھو کر یونیفارم تبدیل کرکے سونے کےلئے لیٹ گئی۔

شام میں جب اس کی آنکھ کھلی تو حسب معمول ٹی وی لاﺅنج سے تیز میوزک کی آواز آرہی تھی شروع شروع میں سمن کے جانے کے بعد جب وہ اپنے فلور پر زیادہ رہنے لگی تھی تو اسے ہر دم میوزک کا یہ کھٹ راگ بہت پریشان کرتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ رفتہ رفتہ وہ اسی ماحول کی عادی ہوتی جا رہی تھی ابھی بھی خاموشی سے اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا اور کچن میں آگئی ٹھنڈی بریانی پلیٹ میں نکالی اور وہیں ٹیبل پر بیٹھ کر کھانے لگی۔

”تھینک گاڈ یار تم یہاں بیٹھی ہو پلیز ذرا ایک کپ اچھی سی چائے تو بنا دو۔“ ایک دم ہی دروازے سے دریاب کی آواز سنائی دی وہ چونک اٹھی۔

”چائے؟ کس کیلئے۔“

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کی ماں اور دریاب شام میں کبھی بھی چائے نہیں پتیں۔

”ارے کمال ہے تمہیں نہیں پتا زوار آیا ہوا ہے۔“

”زوار۔“ سمر نے حیرت سے زیر لب دہرایا۔

”وہ کب آیا؟“

”رات میں آیا تھا آج دوپہر میں مما جی نے نیچے لنچ پر بلایا تھا ابھی بھی نیچے ہی ہے حیرت ہے تمہیں تائی کے گھر میں کسی نے نہیں بتایا کہ زوار آرہا ہے؟ بہرحال ایک کپ چائے بنا کر لے آﺅ تمہاری بھی ملاقات ہو جائے گی۔“

وہ شان بے نیازی سے کہتی ہوئی واپسی کیلئے مڑ چکی تھی۔

”پلیز چائے ضرور بنا دینا ورنہ مجھے آنا پڑے گا۔“ وہ کوئی جواب نہ دے سکی نوالہ نگلتے ہوئے چاول اس کے حلق میں ہی کہیں پھنس گئے جسے اس نے پانی کے گھونٹ سے مشکل سے نیچے اتارا ”زوار“ نہ صرف اس کی پھپھو فریحہ کا بیٹا تھا بلکہ بچپن سے سمرن سے منسوب تھا حالانکہ بہت کم کراچی آتا لیکن جب بھی آتا سمرن اپنے اور اس کے درمیان موجود رشتے کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتی اور اس دفعہ تو اپنی تعلیمی مصروفیات کی بنا پر وہ تقریباً دو سال پہلے کراچی آیا تھا جب وہ نویں کلاس میں تھی تب صرف ایک ہفتہ کیلئے زوار اور پھپھو کراچی آئے تھے اس وقت پھپھو اس کیلئے ڈھیروں ڈھیر تحائف لے کر آئی تھیں۔ اسے آج بھی یاد تھا وہ وقت جب زوار دریاب کو دیکھ کر حیرت سے گنگ رہ گیا تھا۔

”ارے مامی آپ کی بیٹی تو دریاب نظر آتی ہے سمن اور سمرن تو بالکل آپ کی بیٹیاں ہی نہیں لگتیں۔“

”سترہ، اٹھارہ سالہ زوار کے اس جملے میں جانے ایسا کیا تھا کہ اچانک ہی سمرن کو اپنا آپ ایک دم ہی حقیر سا لگنے لگا اور وہ خود بہ خود ہی اپنا موازنہ دریاب سے کرنے لگی اور جیسے جیسے وہ موازنہ کرتی اس کا احساس کمتری عروج پاتا گیا اور یہ ہی وجہ تھی کہ اپنی پڑھائی کا بہانہ بنا کر وہ پورا ہفتہ اپنے کمرے میں ہی محدود رہی جبکہ دریاب اور زوار حسن کے قہقہوں سے گھر گونجتا رہتا حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے اس گریز کو سوائے تائی سادیہ اور شاہ ویز کے کسی نے محسوس نہ کیا یہاں تک کہ پھپھو نے بھی نہیں اور یہ بات پھانس کی مانند سمرن کے دل میں گڑ گئی تھی۔

QQQQ

”زہے نصیب آج سورج کہاں سے نکلا تھا بی بی سمرن کے بھی دیدار نصیب ہو گئے۔“ وہ کچن میں فاریہ بھابی کے پاس کھڑی کوئی بات کر رہی تھی جب اسے شاہ ویز کی آواز سنائی دی۔

”کہاں ہوتی ہو کزن آج کل اوپر بھی نہیں آتیں۔“

”یہیں ہوتی ہوں بس ذرا کالج میں سمسٹر ہو رہے تھے اسی کی تیاری کر رہی تھی۔“

”چلو اب آہی گئی ہو تو ذرا جلدی سے میرے اور زوار کیلئے اچھی سی چائے تو بنا دو۔“ آرڈر دے کر وہ واپس کمرے کی جانب مڑ چکا تھا۔

اور مجبوراً مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق سمرن نے خاموشی سے چائے بنائی اور ٹرے میں بسکٹ کا جار رکھ کر شاہ ویز کے کمرے کی جانب چل دی دروازہ کھلا ہوا تھا اور پردہ دروازے کے پیچھے ہونے کے باعث سامنے کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا سامنے ہی زوار اور شاہ ویز ایک ہی بیڈ پر نیم دراز غالباً ٹی وی دیکھ رہے تھے۔

”آجاﺅ رک کیوں گئیں؟“

شاہ ویز نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا جب کہ زوار ٹی وی کے چینل سرچ کرنے میں مصروف رہا۔

”السلام علیکم۔“ سمرن نے آہستہ آواز میں سلام کیا اور خاموشی سے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھ کر واپسی کےلئے پلٹ گئی۔

”وعلیکم السلام! تم سارادن کہاں ہوتی ہو نظر نہیں آتیں۔“

بظاہر ریموٹ سے مصروف زوار نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈال کر سوال کیا۔

”آپ کو سوائے دریاب کے نظر ہی کون آتا ہے۔“ دل چاہا یہ جواب دے لیکن اپنی عادت کے برخلاف کہہ نہ سکی اور جب بولی تو صرف یہ۔

”یہیں ہوتی ہوں گھر پر۔“

پر جانے کیوں اس کی آواز رندھ گئی اور جلدی سے باہر نکل گئی۔

”اسے کیا ہوا ہے۔“ پیچھے سے زوار کی تحیر آمیز آواز سنائی دی جانے شاہ ویز نے کیا جواب دیا اس نے کچھ سنا ہی نہیں اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے اپنے پورشن میں چلی گئی۔

QQQQ

شام میں وہ اپنے کمرے میں بیٹھی کل کا ٹیسٹ یاد کر رہی تھی جب اچانک ہی کمرے کا دروازہ کھول کر زوار اندر داخل ہوا۔

”یہ تم کیوں نہیں چل رہیں ہمارے ساتھ۔“ وہ عین اس کے سر پر آکھڑا ہوا۔

”کہاں؟“ اس نے کتاب سے نظر اٹھا کر سوال کیا۔

”باہر گھومنے پھرنے کیلئے۔“ بات کرتے کرتے اس کی نظر سمرن کے چہرے پر پڑی۔

”کیوں تمہیں مامی جی نے نہیں بتایا تھا اپنے پروگرام کا۔“

”نہیں“ جواب دے کر وہ دوبارہ کتاب میں گم ہو چکی تھی۔

”او کم آن یار بور مت کرو چلو شاباش جلدی سے تیار ہو کر آجاﺅ۔“

”مجھے نہیں جانا کل میرا بیالوجی کا ٹیسٹ ہے۔“

”واٹ!“ وہ واپس جاتے جاتے رک گیا۔

”چلو جلدی تیار ہو جاﺅ تم جانتی ہو مجھے انکار سننے کی عادت نہیں ہے۔“

”بھلا میں تمہاری عادتوں کے بارے میں کیسے جان سکتی ہوں۔“ سمرن کے دل میں آیا کہہ دے مگر کہہ نہ سکی اور خاموشی سے اپنی کتابوں میں مصروف رہی۔

”چلو جلدی اٹھو۔“ ایک دم ہی اس نے سمرن کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کر دیا۔

”تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں تیار ہو کر نیچے نہ آئیں تو میں تمہیں اسی حلیے میں لے جاﺅں گا اوکے۔“

اس نے سمرن کے ملگجے سے حلیے پر نظر ڈال کر گویا دھمکی دی اور پھر بنار کے تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا اور وہ کتنی دیر تک اپنی جگہ کھڑی اس کی انگلیوں کا لمس اپنے بازو پر محسوس کرتی رہی۔

عشق کے علاقے میں حکم یار چلتا ہے، ضابطے نہیں چلتے

حسن کی عدالت میں عاجزی تو چلتی ہے، مرتبے نہیں چلتے

دوستی کے رشتوں کی پرورش ضروری ہے

سلسلے تعلق کے خود سے بن تو جاتے ہیں

لیکن ان شگوفوں کو ٹوٹنے بکھرنے سے

روکنا بھی پڑتا ہے

چاہتوں کی مٹی کی آرزو کے پودے کو، سینچنا بھی پڑتا ہے

رنجشوں کی باتوں کو بھولنا بھی پڑتا ہے

جب وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو زوار حسن گاڑی نکال چکا تھا اور خوب سجی سنوری دریاب اس کے ساتھ اگلی نشست پر براجمان تھی بلکہ شہ پارا پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔

”او ہو بھئی جلدی آجاﺅ دیر ہو رہی ہے۔“

اسے دیکھتے ہی دریاب نے آواز لگائی وہ بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھ گئی۔

”تمہیں جانا ہی تھا تو پہلے ہی تیار ہو جاتیں۔“ شہ پارا کی ناگوار اور کوفت زدہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

”آپ نے کب کہاتھا مجھ سے تیار ہونے کیلئے۔“ اس نے سوچا ضرور لیکن پلٹ کر اپنی ماں سے کہہ نہ سکی۔

”تمہیں جب ہمارے ساتھ جانا ہی تھا تو ذرا اچھا سا تیار ہی ہو جاتیں۔“

پیچھے کی طرف مڑ کر دریاب نے اس کا بھرپور تنقیدی جائزہ لے کر مشورہ دینا ضروری سمجھا۔

”ٹھیک ہی تو لگ رہی ہے۔“ زوار نے بیک ویو مرر سے اس پر ایک نظر ڈالی۔

”ہاں مامی بتائیں پہلے کہاں جانا ہے؟“

”پہلے کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے کھانا پیک کروالو کیونکہ سینما میں تو تمہیں پتا ہی ہے کبھی کوئی ڈھنگ کی چیز نہیں ملتی اور ہاں تم نے ٹکٹ تو لے لئے تھے نا۔“

پارو نے سینما میں لگی ایک انڈین فلم کا نام لیتے ہوئے دریافت کیا۔

”جی۔“ زوار نے جواب دے کر ایک نظر لاتعلقی سے باہر دیکھتی سمرن پر ڈالی جس کی طبیعت سینما جانے کا سنتے ہی خاصی مکدر ہو چکی تھی۔

”افوہ! زوار ذرا جلدی گاڑی چلاﺅ سچی مجھے تو ابھی سے بڑی بھوک لگ رہی ہے۔“ اس سے قبل کہ وہ سمرن سے کوئی بات کرتا اس کی توجہ دریاب نے اپنی جانب مبذول کروا لی اور پھر اس سارے پروگرام کے دوران وہ خود کو ان کے سب کے ساتھ خاصا مس فٹ محسوس کرتی رہی۔

اس کی ماں جو اس سے زیادہ دریاب گل کی مما جی تھی اس پر دریہ اور زوار کی بے جابے تکلفی کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا بلکہ وہ ان دونوں کو اتنا قریب دیکھ کر بھرپور خوشی کا اظہار کر رہی تھی اور سمرن اس سمے اس پل کو پچھتا رہی تھی جب اس نے ان کے ساتھ آنے کا فیصلہ کیا تھا ان تینوں کی مثلث کے درمیان تو سمرن کی گنجائش ہی نہ تھی کاش اس بات کا احساس اسے پہلے ہو گیا ہوتا حالانکہ اس کی کھوئی کھوئی سی کیفیت دیکھ کر شروع شروع میں ایک دو بار زوار نے ٹوکا بھی لیکن پھر دریاب کی کمپنی میں وہ اسے یکسر فراموش کر گیا۔

QQQQ

”تمہیں نہیں لگتا کہ دریاب آج کل زوار میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہی ہے۔“ فاریہ بھابی نے پنکی کی فراک تبدیل کرتے ہوئے اچانک ہی سمرن سے سوال کیا اور وہ جو جانے کس خیال میں گم تھی ان کے مخاطب کرنے پر ایک دم پر بوکھلا اٹھی۔

”کہاں گم ہو تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔“

”کیا۔“ اس نے یکسر غائب دماغی سے سوال کیا۔

”افوہ ایک تو پتا نہیں تم کیوں اپنی ذات سے اس قدر لاپروا ہو کہیں سے بھی پارو چاچی کی بیٹی نہیں لگتیں۔“ اور وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر خاموشی سے پنکی کے ساتھ کھیلنے لگی فاریہ بھابی کچھ دیر تو کھڑی اسے دیکھتی رہیں پھر پنکی کا فیڈر لے کر کچن کی جانب چل دیں۔

”تم نہیں گئیں اپنی اماں اور دریاب کے ساتھ گھومنے پھرنے دونوں ابھی ابھی زوار کے ساتھ گئی ہیں۔“ شاہ ویز نے اندر داخل ہوتے ہی اس پر ایک نظر ڈال کر سوال کیا۔

”نہیں میرا کل ٹیسٹ ہے۔“ اپنی عزت کی سرخروئی کےلئے جھوٹ کا سہارا لینا ضروری تھا ورنہ وہ تو یہ بھی نہ جانتی تھی کہ اس کی ماں، دریہ اور زوار کے ساتھ کہیں گئی ہے۔

”یار یہ ٹیسٹ وغیرہ صرف تمہارے ہی ہوتے ہیں دریاب کے نہیں ہوتے جب دیکھو خوب تیار ہو کر گھومتی ہی نظر آتی ہے۔“ شاہ ویز نے اس کے ستے ہوئے چہرے پر ایک نظر ڈال کر اظہار خیال کیا۔

”وہ ویسے بھی کون سا پڑھتی ہے جو اسے کسی ٹیسٹ کی فکر ہو گی اسے تو اگر کوئی فکر ہے تو صرف فیشن اور اپنی تیاری کی اس کے علاوہ دنیا کی ہر فکر اس کیلئے بے کار ہے۔“

بھابی فیڈر لے کر واپس آگئی تھیں اس لئے اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھتے ہوئے اظہار خیال کر بیٹھیں۔

”ہاں یہ تو ٹھیک ہے۔“ شاہ ویز نے ٹی وی آن کرتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔

”بھابی میں جا رہی ہوں۔“ وہ اچانک ہی اٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی سے پاﺅں میں چپل پہن کر سیڑھیوں کی جانب چل دی۔

”رکو تو سہی نیچے جا کر کیا کرو گی نیچے تو کوئی بھی نہیں ہے۔“

لیکن وہ تائی کی بات کو یکسر نظر انداز کرتی خاموشی سے نیچے اتر آئی۔ جہاں پھیلا سناٹا اسے اپنے اندر تک اترتا محسوس ہوا۔

QQQQ

زوار جا چکا تھا گھر کی زندگی اپنے معمول پر آگئی تھی۔ شہ پارا پھر سے اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں گم ہو چکی تھی اور ان مصروفیات میں دریہ ہمیشہ ان کی ہم قدم تھی اور سمرن آج تک یہ ہی نہ جان پائی کہ اس کی اصل جگہ کہاں ہے؟ اپنے گھر یا اوپر تائی کے گھر جہاں کا ہر فرد ہمیشہ اس کیلئے دیدہ دل فرش راہ کئے ہوتا جبکہ اپنی سگی ماں اس سے اتنا سرسری سا ملتی جیسے کوئی جاننے والی ہو پہروں آئینہ کے سامنے کھڑی سمرن سوچتی رہ جاتی کہ اس کے اس دبتے ہوئے رنگ و روپ کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہ خود یہ چاہتی تھی کہ اس کی رنگت اتنی سانولی ہو اور اگر یہ اللہ کی رضا تھی تو پھر کیوں۔ اس کی ماں کے دل میں اس کی محبت کا احساس نہ جاگا۔

ہر گزرتے دن اس نے خود کو زیادہ سے زیادہ کتابوں کی دنیا میں گم کر لیا وہ پہلے ہی کافی کم گو تھی لیکن اب تو بالکل بولنا ہی بھول چکی تھی ایسے میں جب اکثر سمن کا فون آیا تو اس کی ہوں ہاں اسے بھی پریشان کر دیتی لیکن وہ کیا کر سکتی تھی اتنی دور پردیس میں رہتے ہوئے بہن کی دل جوئی کرنا اس کیلئے ممکن نہ تھا جبکہ وہ اپنی بہن کے دکھ سے بھی واقف تھی اسی طرح کئی بے کیف دن گزرتے چلے گئے جو صرف سمرن کیلئے بے کیف تھے جبکہ دریاب کےلئے تو ہر نیا ون پہلے سے بڑھ کر کیف انگیز ہوتا جا رہا تھا جانے وہ اور شہ پارا خوب تیار ہو کر جانے کہاں کہاں گھومتی پھرتیں اب تو دریاب نے گاڑی بھی چلانا سیکھ لی تھی کالج وہ برائے نام جاتی کیونکہ اسے پڑھائی سے کوئی خاص شغف نہ تھا البتہ نت نئے کورسز کرنے کیلئے وہ خوب شام میں تیار ہو کر گھر سے باہر نکل جاتی اور اس مقصد کیلئے شہ پارا نے ایک مہران خرید رکھی تھی جو شروع سے ہی دریہ کے زیر استعمال تھی۔

QQQQ

زندگی اپنے مخصوص ڈگر پر رواں دواں تھی۔ وہ بھی صبح سورج طلوع ہونا اور شام میں غروب ہو جانا دن کا آغاز اور رات کا آجانا غرض کہ کچھ بھی ایسا نہ تھا جو قابل ذکر ہو، وہ بھی روکھے پھیکے دن جو اپنی مخصوص اور روزمرہ کی رفتار سے گزر رہے تھے سمرن نے آنرز کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا جبکہ دریاب ابھی بھی کالج ہی جاتی تھی گزرتے وقت نے جہاں سمرن کو مزید سنجیدہ کر دیا تھا وہاں دریاب کی طبیعت کی جولانی بھی کھل کر سامنے آگئی کچھ تو اللہ نے حسن ہی بے تحاشا دیا تھا دوسرا وہ اپنے حسن کی حفاظت بھی باخوبی جانتی تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے حسن کو سنوارنے کا سلیقہ بھی اس میں خوب سے خوب تر بنا رہا تھا اور یہ گر یقینا اس نے شہ پارا سے سیکھا تھا۔

سرفراز صبح سے گئے رات میں گھر آتے تو ایسے میں ہمیشہ انہیں سمرن پڑھتی ہی دکھائی دیتی سنجیدہ اور کم گو سی سمرن اپنے باپ کے آرام اور کھانے پینے کا ہر ممکن خیال رکھتی، جانے کیوں گزرتے وقت نے شہ پارا اور سرفراز صاحب کے درمیان ایک ان دیکھی دیوار سی حائل کر دی تھی ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے وہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر اجنبی ہو چکے تھے سرفراز صاحب کی گھر میں موجودگی کے دوران یا تو وہ خوب انہماک سے کوئی فلم دیکھ رہی ہوتی یا پھر دریاب کے ساتھ واک کرنے نکل جاتی سرفراز صاحب کو اگر کوئی پریشانی تھی تو وہ دریاب کے حوالے سے تھی جانے کیوں انہیں اب کچھ عرصہ سے یہ احساس ستانے لگا تھا کہ شہ پارا کے ساتھ نے دریاب کی اصل شخصیت کو مسخ کر دیا ہے وہ دریاب کو دیکھتے تو سوائے خود نمائی، غرور و تکبر کے انہیں اس میں کوئی خوبی دکھائی نہ دیتی اور اسی حوالے سے انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز کو بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی تھی جسے اس نے درخور اعتناءہی نہ جانا شہ پارا کے توسط سے دریاب جن لگژری سہولیات کو اپنا لائف اسٹائل بنا چکی تھی ان کے تصور نے شہباز اور ارم کی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ دریاب کی منہ زور خواہشوں کو پورا کرنا ان کے اختیار میں نہ تھا اس لئے اس مسئلے کا بہترین حل چشم پوشی تھا جسے انہوں نے مکمل طور پر اختیار کر رکھا تھا جبکہ جہانگیر اور تائی سادیہ سمیت ان کی پوری فیملی بھی سرفراز صاحب کی ہم خیال ہونے کے باوجود محض اس لئے خاموش تھی کہ جب سگے ماں باپ کو کوئی احساس نہیں تو ”میں اور تو“ کون ہوتے ہیں بات کرنے والے یہ ہی وجہ تھی کہ خاندان کے ہر فرد نے جان بوجھ کر اس سارے معاملے سے پردہ پوشی اختیار کر رکھی تھی اور شہ پارا، دریاب کے حوالے سے مکمل طور پر خود مختار زندگی گزار رہی تھی اور رہی دریاب تو اپنی زندگی کے اٹھارہ سال شہ پارا کی سرپرستی میں گزارنے کے بعد خاصی آزاد خیال اور بے باک ہو چکی تھی۔ بے انتہا منہ پھٹ دریاب بنا کسی لحاظ سے ہر بات منہ پر دے مارنے کی عادی ہو چکی تھی۔

سچ ہے خون سے زیادہ تربیت شخصیت پر مکمل طور سے اثر انداز ہوتی ہے سمرن شہ پارا کی بیٹی ہونے کے باوجود انتہائی سلیقہ شعار، با اخلاق، سلجھی ہوئی، رکھ رکھاﺅ کی حامل شخصیت کی مالک تھی جبکہ اس کے برعکس دریاب بے انتہا بد تمیز، خود غرض، اپنی نفس کی ماری ہوئی شخصیت اختیا کر چکی تھی جہاں سمرن قناعت پسندی کی قائل تھی وہاں دریاب کے نفس کا پیمانہ لالچ اور طمع جیسی بیماریوں کا شکار ہو چکا تھا مزید کی خواہش نے اس میں سے اچھے برے کی تمیز یکسر ختم کر دی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ خاندان کے علاوہ بھی جو لوگ دریاب کی شخصیت کے اس تاریک پہلو سے تھوڑا بہت واقف ہو چکے تھے اس سے دور رہنا پسند کرتے تھے لیکن اسے اس کی خود پسندانہ فطرت نے کبھی اس بات کا احساس نہ ہونے دیا۔ اپنی خوبصورتی کے حوالے سے کالج میں لڑکیوں کی ہر وقت کی قصیدہ خوانی نے اس کے فخر و غرور میں بے تحاشا اضافہ کر دیا تھا ایسے میں اس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی پرواہی نہ کی سوائے شہ پارا کے جانے کیسے وہ دونوں ایک دوسرے کےلئے لازم و ملزم قرار پا چکی تھیں۔

QQQQ

گھر والوںکے علم میں لائے بغیر دریاب نے ڈانس اکیڈمی جوائن کر لی تھی اور اس عمل میں اسے مکمل طور پر پارو کی پشت پناہی حاصل تھی ڈانس کا شوق دریاب کی زندگی میں جنون کی سی کیفیت اختیار کر چکا تھا در پردہ ڈانس کے ذریعے وہ شوبز کی دنیا میں اوپر تک جانے کا فیصلہ کر چکی تھی اور کسی بھی نتیجہ کی پروا کئے بغیر اس کے ہر فیصلہ میں ہمیشہ شہ پارا اس کے ساتھ ہی کھڑی نظر آتی اب بھی ایسا ہی ہوا ڈانس اینڈ آرٹ اکیڈمی میں ہفتہ میں دو دن رقص کی کلاس ہوتی دریاب ہمیشہ شہ پارا کے ساتھ ہی اکیڈمی جایا کرتی جہاں دو، دو گھنٹے پارو اس کے انتظار میں باہر لابی میں بیٹھا کرتی اور تقریباً رات آٹھ بجے کے بعد جب یہ دونوں واپس آتیں تو اول تو کبھی کسی نے ان سے جواب طلبی ہی نہ کی اور جو کبھی اتفاق سے کبھی کسی نے پوچھ بھی لیا تو ایک سو ایک بہانے گھڑے گھڑائے ، ان کی پٹاری میں موجود ہوتے جن کا بروقت استعمال انہیں ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ رکھنے کا موجب بنتا۔

ویسے بھی اپنی زندگی کے تیئس سال اس خاندان میں گزارنے کے بعد پارو کے دل میں کسی کا وہ ڈر و خوف یا لحاظ مروت باقی نہ رہا جو ابتدائی چند سالوں میں اس کی شخصیت کا خاصہ رہا تھا حقیقت یہ تھی کہ آغا جی اور سکینہ بی بی کی موت اور سرفراز صاحب کی بے اعتنائی نے اسے مکمل طور پر باغی کر دیا تھا شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اپنی محرومی کا بدلہ وہ دریاب کی ذات سے لے رہی تھی اور یہ بات شاید وہ خود بھی نہیں جانتی تھی بہرحال جو بھی تھا سچ یہ تھا کہ ان کا قدم دریاب کو بدترین تباہی کی جانب لے جا رہا تھا جس کا احساس کسی کو بھی نہ تھا یہاں تک کہ پارو کو بھی نہیں وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی بے تحاشا محبت، بے جا لاڈ پیار نے دریاب کو بے راہ روی کے راستوں پر ڈال دیا ہے بہت اوپر جانے کی خواہش میں کچھ بھی کھو دینا دریاب کےلئے کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا شوبز کی چکا چوند نے بے خبری میں ہی اسے گھیر لیا تھا کچی عمر میںاس کی آنکھوں میں بسنے والا خواب وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت کا روپ دھارنے کیلئے بے قرار ہو چکا تھا اور اسی خواب کے حصول نے دریاب کے دل سے اپنی روایات، خاندانی وقار اور جاہ و جلال کو بھی بالکل فراموش کر دیا تھا۔

وہ تو بچی تھی بروقت سمجھایا جاتا تو شاید سمجھ جاتی لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کی کچی آنکھوں کو یہ خواب بخشنے والی پارو تھی شاید ایک بڑی فلمی اداکارہ بننا کبھی پارو کی خواہش رہا ہو جو وقت نے پوری نہ ہونے دی اور اب اپنی وہ خواہش پوری شدت کے ساتھ وہ دریاب کے خون میں اتار چکی تھی۔لاشعوری طور پر اپنی پہلے دن کی اس گھر میں آمد پاروکبھی نہ بھولی تھی۔ آغاجی کے کہے گئے الفاظ ”گنداخون“ آج بھی اس کا بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بن جاتے تھے اور پھر اپنے لئے سب کی آنکھوں میں ہتک آمیز تاثرات کی اذیت بھی اسے آج تک یاد تھی اپنی سگی اولاد کی پرورش دوسروں کے ہاتھوں ہونے والی بات بھی وہ کبھی نہ بھولی تھی اور اس سب کے ردعمل میں اس کے دل میں پیدا ہونے والی نفرت شاید دریاب کی محبت سے بھی کم نہ ہو سکی پارو کے زخم وقت نے مندمل ضرور کئے لیکن شاید….

QQQQ

پچھلے ایک گھنٹہ سے فون کان سے لگائے دریہ جانے کس سے باتیں کر رہی تھی آواز اس قدر دھیمی تھی کہ کچھ فاصلے پر بیٹھی سمرن کو بھی کچھ سنائی نہ دے رہا تھا شہ پارا صوفے پر دریہ کے بالکل قریب ہی بیٹھی تھی فون پر مصروف ہونے کے باعث نہ صرف ٹی وی کی آواز کم تھی بلکہ دونوں میں سے کوئی بھی ٹی وی کی جانب متوجہ نہ تھی یہ ہی وجہ تھی کہ سمرن کوئی نیوز چینل لگائے بیٹھی تھی ورنہ عام حالات میں تو ان دونوں میں سے کسی ایک کی بھی موجودگی میں نیوز چینل لگایا جانا بذات خود ایک جرم تھا۔

”یہ لو مما جی سے بات کرو۔“ دریہ کی بات سن کر سمرن لاشعوری طور پر ان کی جانب متوجہ ہو گئی اور یہ جاننے کا فطری تجسس کہ دوسری سمت کون ہے اس نے غیر ارادی طور پر ٹی وی کی آواز کو قدرے کم کر دیا حالانکہ کسی کی ٹوہ لینا اس کی فطرت نہ تھی لیکن اس وقت وہ اپنے شک کو یقین میں بدلنا چاہ رہی تھی۔

”ہاں بیٹا وعلیکم السلام، تم تو ایسا کراچی سے گئے کہ دوبارہ پلٹ کر پوچھا تک نہیں۔“

تو سمرن کا شک درست نکلا دوسری طرف یقینا زوار حسن ہی تھا۔ سمرن کا دل ایک دم ہی ساری دنیا سے اچاٹ ہو گیا اس نے نہایت خاموشی سے ریموٹ صوفے پر رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی ایک نظر صوفے پر بے حد مصروف دریہ اور پارو پر ڈالی اور اپنے کمرے کی سمت جانا ہی چاہتی تھی کہ اچانک لاﺅنج کا دروازہ کھول کر شاہ ویز بڑی تیزی سے اندر داخل ہوا اور کمرے میں موجود دونوں ہستیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہوا سمرن کے عین مقابل آکھڑا ہوا۔

”جلدی سے باہر آﺅ مجھے تمہیں کچھ دکھانا ہے۔“ خلاف توقع وہ بے حد ایکسائیٹڈ تھا۔

”کیا دکھانا ہے۔“ کچھ دیر قبل والی بے زاری اور اپنی شخصیت کو نظر انداز کرنے کا دکھ ابھی بھی اس کی آواز میں جھلک رہا تھا۔

”ایک تو تم سوال جواب بہت کرتی ہو جلدی چلو۔“

سمرن خاموشی سے لاﺅنج کا دروازہ کھول کر شاہ ویز کی ہمراہی میں باہر نکل گئی جبکہ خود کو نظر انداز کرنے کا شاہ ویز کا یہ عمل دریہ کو اندر تک جلا کر بھسم کر گیا۔

”تمہیں پتا ہے میرا بی بی اے کالاسٹ سمسٹر بہت اچھے نمبروں سے کلیر ہوا ہے۔“ وہ سیڑھیوں سے تیز تیز اترتا ہوا بول رہا تھا۔

”مجھے کیسے پتا چلتا جب تم نے بتایا ہی نہیں۔“ وہ ذرا سا خفگی سے بولی۔

”اصل میں کچھ ایسا ہے ڈیئر کزن کہ بھائی نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اچھے رزلٹ کے سبب وہ مجھے گاڑی کےلئے پیسے بھیجیں گے اور میں جانتا تھا کہ انشاءاللہ اپنی محنت کے ذریعے یہ دونوں کامیابیاں میں ضرور حاصل کر لوں گا لہٰذا اچھا رزلٹ اورگاڑی یہ دو سرپرائز تھے جو میں نے تمہیں دینے تھے بس اسی لئے نہیں بتایا۔“ وہ سامنے کھڑی سلور مہران کا دروازہ کھولتے ہوئے قدرے وضاحت کرتا ہوا سب کچھ بتاتا گیا۔

”چلو بہت بہت مبارک ہوا اب جلدی سے مٹھائی کھلاﺅ۔“ وہ ایک دم ہی سب کچھ فراموش کرکے خوش و خرم ہو گئی۔

”تم بیٹھو گاڑی میں، میں تمہیں مٹھائی کھلانے ہی لے کر جا رہا ہوں۔“

اس نے فرنٹ ڈور سمرن کےلئے کھول دیا اور دروازہ تھام کر منتظر نگاہوں سے اس کی جانب تکنے لگا جبکہ وہ ایک دم ہی کنفیوز ہو گئی۔

”میں اکیلی۔“ وہ گھبرا کر بولی (جانے تائی اور سب کیا سوچیں۔)

”میں امی کو بتا چکا ہوں، بھابی نے خود جانے سے منع کر دیا ہے کیونکہ فریال (بھابی کی بیٹی) کو ٹمپریچر ہے اب کوئی اور اعتراض ہو تو وہ بھی جلدی سے بتا دو، ورنہ بیٹھ جاﺅ۔“

”وہ دراصل میں نے اسکارف نہیں لیا اور ہاں۔“ جیسے اسے کچھ یاد آیا۔

”ایسے کرو دریہ کو بھی بلا لاﺅ جانے وہ کیا سوچے۔“

”اسکارف کے بغیر بھی تم بہت اچھی لگ رہی ہو اور اچھا ہی ہوا جو اسکارف لے کر نیچے نہیں آئی ہو، یقین جانو اسکارف میں تم میری کزن کم آنٹی زیادہ لگتی ہو۔“

دریہ کے ذکر کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہوا وہ ہنس کر بولا۔

”بری بات شاہ ویز دوبارہ میرے اسکارف کا مذاق مت اڑنا۔“ وہ سخت برامان کر بولی۔

”اوہ سوری یار تم جانتی ہو میں مذاق کر رہا تھا ویسے بھی تم نے سر پر دوپٹہ اتنی اچھی طرح اوڑھا ہے کہ اسکارف کی کمی محسوس ہی نہیں ہو رہی۔“ وہ ستائش بھری نظروں سے اس کا بھرپور جائزہ لیتا ہوا بولا جبکہ شاہ ویز کے اس طرح دیکھنے سے وہ بری طرح پزل ہو گئی او رشاید پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ شاہ ویز کے ساتھ آگے بیٹھتے ہوئے اس کی خود اعتمادی کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگا اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا دل شاہ ویز کی محبت کی روشنی سے جگمگانے لگا ہے اور اس حقیقت کا ادراک ہوتے ہی وہ شاہ ویز کے ساتھ خود سے بھی نظریں چرانے لگی۔

وہ دونوں سی ویو آگئے جہاں بنا کوئی بات کئے دونوں نے ایک لمبی چہل قدمی کی نہ جانے الفاظ دونوں کے پاس ختم ہو گئے تھے یا دلوں میں تازہ سر اٹھانے والے چور جذبوں نے ان کی زبان بندی کر دی تھی۔ پھر وہاں سے واپسی میں وہ پزاہٹ آگئے جہاں کے ترو تازہ ماحول میں دونوں آہستہ آہستہ اپنی پرانی جون میں واپس آگئے پزا کھانے کے بعد سمرن کا دن آئس کریم کھانے کا چاہا جس کا اظہار اس نے برملا شاہ ویز سے کر دیا اور چند ہی لمحوں میں شاہ ویز اس کےلئے آئس کریم کپ پارسل کی صورت میں لے آیا۔

”ایسا کرو تم آئس کریم گاڑی میں بیٹھ کر کھا لو، میں ذرا فاریہ بھابی کیلئے پزا پیک کروا لوں۔“ گاڑی کی چابی سمرن کو دے کر وہ واپس پلٹا۔

”بات سنو شاہ ویز ایک پزا دریاب کےلئے بھی پیک کروا لو اسے پزا بہت پسند ہے۔“ اس نے اکثر و بیشتر پزا ڈلیوری اپنے گھر ہوتے دیکھی تھی، اسی لئے بول پڑی جبکہ شاہ ویز بنا کوئی جواب دیئے اندر چلا گیا اور جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو خالی ہاتھ تھا۔

”بھابی کھانا کھا چکی ہیں، میں نے فون کرکے پوچھا تھا، انہوں نے منع کر دیا۔“ اپنے خالی ہاتھ آنے کی وضاحت اس نے بنا پوچھے ہی کر دی۔

”اوردریاب۔“ وہ پوچھے بنا نہ رہی سکی، جانے کیوں دریاب کے سامنے شاہ ویز کے ساتھ اس طرح رات کو اکیلے آنا اسے کچھ اچھا محسوس نہ ہو رہا تھا اور اپنے اس گلٹ کو کم کرنے کیلئے وہ چاہتی تھی کہ دریاب کیلئے بھی کچھ لے کر ہی گھر جائے۔

”تم ہر وقت دریاب، دریاب کیوں کرتی رہتی ہو، کیا پرابلم ہے تمہارے ساتھ۔“ وہ سخت چڑ کر بولا۔

”یاد رکھنا دوبارہ جب بھی میرے ساتھ آﺅ تو پلیز اس خود غرض لڑکی کا نام بھی مت لینا، جانتی ہو اتنی بے باک لڑکیاں مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں، وہ تو کزن ہونے کے ناتے تھوڑی بہت بات کر لیتا ہوں، ورنہ ایسی لڑکیوں کے پاس سے گزرنا بھی میں اپنی توہین سمجھتا ہوں۔“

گاڑی کو تیزی سے ریورس کرتے ہوئے وہ سخت غصے میں تھا جبکہ دریاب کے حوالے سے اس کے خیالات اور چہرے پر پھیلی ہوئی نفرت نے سمرن کو حیرت زدہ کر دیا، وہ حیران تھی کہ دریاب جیسی حسین ترین لڑکی سے بھی بھلا نفرت کی جا سکتی ہے، وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ دریاب جیسی لڑکیاں ہر شخص کے دل پر راج کرنے کا گر جانتی ہیں، اپنے خیال کی پہلے ہی مرحلے پر ناکامی پر حیرت زدہ تھی، لیکن سچ یہ تھا کہ شاہ ویز کے الفاظ نے سمرن کے اندر سکون ہی سکون بھر دیا تھا، اس نے بے حدمطمئن ہو کر گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا لی۔ دریاب جو انجانے میں سمرن سے اس کا ہر رشتہ چھینتی آئی تھی۔ شاہ ویز کو اس سے کبھی نہ چھین سکے گی اور شاہ ویز جیسے اچھے اور بااخلاق دوست کا ساتھ سمرن کیلئے نعمت خداوندی تھا جس کیلئے وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا، گاڑی کی خاموشی اور خنک فضا اچانک ہی استاد غلام علی کی خوبصورت آواز سے گونج اٹھی۔

اب میں سمجھا تیرے رخسار پر تل کا مطلب

دولت حسن پر دربان بٹھا رکھا ہے

سمرن نے بے اختیار آنکھیں کھول دیں اور غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ اپنے گال پر موجود تل تک آگیا۔ اسی پل شاہ ویز نے اس پر ایک نظر ڈالی جانے، اس کی نظر میں ایسا کیا تھا سمرن گھبرا کر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

گاڑی میں مکمل خاموشی تھی اور غلام علی کی آواز ماحول کو مزید پر فسوں بنا رہی تھی۔

وہ جیسے ہی یونیورسٹی سے گھر واپس آئی اپنے گیٹ کے بالکل قریب کھڑی بلیک لینڈ کروزر کو دیکھ کر لمحہ بھر کو حیران رہ گئی، شاید زوہیب بھائی یا شاہ ویز سے ملنے کوئی آیا ہو، ورنہ ان کے گھر تو اس سے قبل اتنی بڑی گاڑی میں کبھی کوئی مہمان نہ آیا تھا، گیٹ سے ذرا ہٹ کر کھڑا موٹی موٹی مونچھوں والا شخص غالباً اس گاڑی کا ڈرائیور تھا۔ سمرن کو دیکھتے ہی اس شخص نے گیٹ دانستہ چھوڑ دیا اور قدرے دور جا کر کھڑا ہو گیا، سمرن حیران پریشان جیسے ہی اپنے فلور تک پہنچی لاﺅنج سے آنے والی آوازیں سن کر دنگ رہ گئی، اسی دم خوب نک سک سے تیار پارو اپنے کمرے سے نکل کر تیزی کے ساتھ لاﺅنج کے دروازہ کی جانب بڑھ گئی، وہ اس قدر ایکسائیٹڈ تھی کہ سیڑھی کے قریب کھڑی سمرن پر بھی نظر نہ ڈالی، سمرن خوامخواہ ہی تجسس میں مبتلا ہو گئی اور بجائے اپنے کمرے کی جانب بڑھنے کے باہر کرسی پر بیگ رکھ کر خودبھی لاﺅنج ہی میں آگئی، پردہ اٹھا کر جیسے ہی اندر داخل ہوئی، لاﺅنج میں موجود ہر شخص نے حیرت بھری نظر سے اس کی جانب تکا۔

”السلام علیکم….“ وہ ایک دم ہی گھبرا اٹھی، اپنی گھبراہٹ کے باوجود اس کی پہلی نظر سامنے بیٹھے سوٹڈ بوٹڈ شخص پر پڑی، تقریباً پینتیس سال کی عمر کا مرد، گندمی رنگت درمیانہ قد، گھٹا ہوا جسم، کندھوں تک آتے گھنگھریالے بال، گلے میں قیمتی چین، ہاتھ میں بریسلٹ دریہ کے قریب بالکل ایسے بیٹھا تھا جیسے کوئی بھکاری بارگاہ حسن میں نذرانہ عقیدت پیش کر رہا ہوں یا شاید کوئی دیو، پری کو اپنی قید میں کرنے کیلئے روپ بدل کر آیا ہو اور اپنی دوسری تشبیہ سمرن کو بالکل درست اور بروقت معلوم ہوئی، کیونکہ اس وقت سفید شیفون کی فراک میں سجی سنوری دریہ بالکل پری ہی دکھائی دے رہی تھی۔

”وعلیکم السلام، آجاﺅ بیٹا، یہیں بیٹھ جاﺅ میرے پاس۔“ شہ پارا نے بڑی محبت سے سمرن کےلئے اپنے قریب جگہ بناتے ہوئے پکارا، اتنے محبت بھرے انداز کے باوجود سمرن ان کے انداز میں موجود اکتاہٹ محسوس کر چکی تھی، اسی لئے بنا کوئی جواب دیئے واپس پلٹ جانے کو ہی بہتر جاتا۔

”بھئی دانش صاحب سے تو ملتی جاﺅ۔“ سمرن اپنے عقب میں آتی شہ پارا کی آواز سن کر تھم گئی اور ذرا سی گردن موڑ کر پیچھے صوفے پر بیٹھے شخص پر ایک نظر ڈالی۔

”یہ دانش سہگل ہیں معروف فیشن ڈیزائنر۔“

”وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن یہ یہاں ہمارے گھر کس رشتے سے آئے بیٹھے ہیں؟“ اپنے ہوش سنبھالنے سے لے کر آج تک سمرن نے کبھی کسی مرد کو اپنے گھر اس طرح بیٹھے نہ دیکھا تھا، شہ پارا جیسی بھی تھی اس کے حوالے سے کبھی کوئی اس گھر تک نہ آیا تھا، پھر آج ایسا کیا ہو گیا جو ایک اجنبی مرد اتنے استحقاق سے دریاب کے قریب بیٹھا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور اس ماحول میں دریاب کی خاص الخاص کی جانے والی تیاری سمرن کو سخت ناگوار گزر رہی تھی اور اس درجہ ناگواری کا احساس ہی تھا جو وہ اپنی ماں سے جواب طلب کر بیٹھی۔

”دراصل تمہیں نہیں پتا دریاب آج کل آرٹ اینڈ ڈانس اکیڈمی سے رقص کی کلاسز لے رہی ہے۔“ مزید نیا انکشاف ہوا۔

”اور اس اکیڈمی کے مالک بھی دانش صاحب ہی ہیں، پچھلے ہفتے ہی دریہ کو کلاسیکل رقص کے مقابلے میں پہلا انعام ملا ہے، بس اسی تقریب کے موقع پر میری دانش صاحب سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا یہ میرے دور پار کے رشتے دار نکل آئے۔ دراصل ان کی والدہ میری کزن تھیں۔“

نظریہ ضرورت کے تحت بولا جانے والا جھوٹ ایک ہی پل میں ان کے لہجہ سے عیاں ہو گیا، لیکن سمرن کو ان کے سچ جھوٹ سمیت دانش سہگل سے بھی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ لہٰذا بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے باہر نکل آئی، اس کی بھوک بھی ایک دم ہی ختم ہو گئی۔ کرسی سے بیگ اٹھا کر اپنے کمرے میں آگئی اور پھر بنا کھانا کھائے ہی سو گئی، عصر کے قریب جب اس کی آنکھ کھلی تو بھوک کی شدت سے پیٹ دکھ رہا تھا۔ وہ کھانا لینے کےلئے کچن میں آگئی، جہاں سنک میں برتنوں کا ڈھیر اس بات کا غماز تھا کہ مہان کی خاطر داری خوب دل سے کی گئی ہے۔ سلیب پر بنا ڈھکے مختلف لوازمات گواہی دے رہے تھے کہ خاطر تواضع کیلئے سب سامان اسپیشل طور پر بازار سے منگوایا گیا ہے اور پھر سہگل صاحب کی آمد ان کے گھر رفتہ رفتہ بڑھتی چلی گئی۔

اس آمدورفت پر شاہ ویز شدید طیش میں تھا، لیکن جہانگیر صاحب کی طبیعت کی خرابی کے باعث اسے اتنی فرصت ہی نہیں مل رہی تھی کہ وہ اس سلسلے میں شہ پارا یا دریاب سے کچھ باز پرس کرتا اس کے علاوہ سادیہ بھی نہیں چاہتی تھیں کہ اس مسئلے میں شاہ ویز انوالو ہو۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ اس کی ہدایت کے عین مطابق جب بھی سہگل آتا سمرن خاموشی سے اوپر تائی کے فلور پر چلی جاتی، اسے اچھا لگتا تھا کہ شاہ ویز اس کے حوالے سے اتنا حساس ہے۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔قسط نمبر12

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر12 الحان اپنے کمرے میں ادھر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے