سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 4

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 4

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 4

سنیہ نے پہلے سے الماری میں سجے اس کے جہیز کے کپڑوں میں سے ایک دو نسبتا آرام دہ سوٹ نکالے۔

 ”بھابھی بتائیں ابھی کونسا سوٹ پہنیں گی؟” بسمہ کے بولنے سے پہلے بشرہ آپی بول پڑیں۔

 ”ارے یہ کیسے بتائے گی۔ ہماری بسمہ ان معاملات میں بہت سیدھی ہے ویسے ہی پہلے دن اتنی شرم آرہی ہوتی ہے اسی لیئے تو میں ساتھ آئی تھی یہ تو کچھ بولے گی ہی نہیں۔ ایسا کریں سنیہ یہ تو بہت سادے سے سوٹ ہیں وہ سی گرین فراک نکال لیں جس پہ گوٹے کا کام ہے۔

 ”بشرہ آپی نے پیچھے الماری میں ٹنگی ایک کافی بھاری سی فراک کی طرف اشارہ کیا۔ سنیہ نے سوالیہ نظروں سے بسمہ کی طرف دیکھا کیونکہ اس سے بسمہ کی کافی دوستی پہلے ہی ہوچکی تھی اور بسمہ اسے اپنی پسند کا سوٹ بتانے ہی والی تھی۔ مگر مجبورا بسمہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

بسمہ تیار ہو کے نیچے آئی تو پتا چلا بشرہ آپی اور ایک دو کزنز ناشتہ لے کر آئی ہوئی تھیں۔ باسط بھی تھوڑی دیر میں تیار ہو کے نیچے ہال میں آگیا اور بسمہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جس پہ باسط کے کزنز اور بسمہ کے گھر والوں سب نے ہی ایک زور دار ”اووو” کیا۔

 ”لو بھئی تم نے تو ایک ہی رات میں پلو سے باندھ لیا ہمارے دیور کو” نازیہ بھابھی نے کہنے کو مذاق کیا مگر لہجے میں صرف مذاق نہیں تھا۔ بسمہ شرمندہ سی ہوگئی۔ ہنسی مذاق چلتا رہا جس کا ہدف بسمہ اور باسط دونوں تھے مگر جواب باسط ہی دے رہا تھا۔

ولیمہ ایک دن بعد تھا بشرہ آپی چاہ رہی تھیں کہ بسمہ کو کل شام تک کے لیے لے جائیں مگر باسط نہیں مان رہا تھا۔ آخر کار یہی طے ہوا کہ باسط اپنے گھر والوں کے ساتھ آج شام ہی بسمہ کو لینے آجائے گا۔

ولیمہ بھی خوش اسلوبی سے نمٹ گیا۔ مگر یہ صرف بسمہ کا خیال تھا کیونکہ دونوں اطراف میں کئی ایسی چھوٹی چھوٹی تکراریں رسموں پہ ہوئیں جن کی وجہ سے کچھ رشتہ دار کافی ناراض ہوگئے تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی کیٹرنگ اور کھانا بھی زیادہ نہیں بھایا تھا۔ جس پہ بسمہ اور باسط کی غیر موجودگی میں طنزیہ باتیں ہو ہی جاتیں مگر ان دونوں کی لیے فی الحال سب سیٹ تھا۔ باسط کی ساری توجہ بسمہ پہ تھی جہاں بسمہ ہوتی کچھ دیر بعد باسط بھی وہیں ہوتا۔ صوفے پہ تو تقریبا جڑ کے بیٹھ جاتا۔ آخر دو تین دن بعد ایک دن نازیہ بھابھی اوپر آئیں تو بسمہ کمرے میں اکیلی تھی باسط کچھ دیر کے لیے دوستوں کے پاس گیا تھا۔ نازیہ بھابھی اندر آگئیں۔

 ”بسمہ میں ایک بات کرنا چاہ رہی تھی مگر دیکھو برا مت ماننا۔ میں بھی بہو ہوں یہاں کی میں نہیں چاہتی کہ تم اپنی سادگی میں یا کم عمری میں کسی ناخوشگوار مسئلے سے گزرو۔”

 ”نہیں بھابھی آپ کہیں آپ بڑی ہیں میرے بھلے کے لیے ہی کہیں گی۔” ان کے لہجے نے بسمہ کو ڈرا دیا مگر اس نے کوشش کر کے اپنا لہجہ عمومی ہی رکھا۔

 ”دیکھو یار سیپریٹ گھر ہو یا گھر میں غیر شادی شدہ لڑکیاں نا ہوں تو یہ لپٹنا چپٹنا چل جاتا ہے مگر ساس سسر کے سامنے اچھا نہیں لگتا نا۔ باسط تو مرد ہے وہ نہیں کرے گا ان چیزوں کا خیال تم تو لڑکی ہو سمجھا کرو۔ کسی دن ساس نے ٹوک دیا تو نئی سسرال میں کیا عزت رہ جائے گی؟ لوگوں کے سامنے باسط سے تھوڑا فاصلہ رکھا کرو۔ مناسب نہیں لگتا یہ سب۔ ”

بسمہ کو اول تو ان کی بات ہی عجیب لگی پھر جس قسم کے الفاظ انہوں نے استعمال کیے وہ کافی قابل اعتراض تھے کیونکہ بسمہ خود بھی کوشش کرتی تھی کہ باسط پاس آکر بیٹھا ہے تو تھوڑا فاصلہ کر لے سب کے سامنے باسط کااتنا قریب بیٹھنا اسے عجیب لگتا تھا۔ اور تب زیادہ لگتا جب کوئی بلکہ عموما نازیہ بھابھی ہی کوئی نا کوئی شوخ جملہ کہہ دیتی تھیں۔

”جی بھابھی میں خیال کروں گی”

بسمہ کو اتنی شرمندگی ہوئی کہ وہ زیادہ بول ہی نہیں پائی۔ اور پھر بسمہ نے اور زیادہ خیال رکھنا شروع کردیا کہ باسط اور وہ سب کے سامنے زیادہ قریب نا ہوں۔ اسے نازیہ بھابھی کے اعتراض کے طریقے نے بہت دھچکہ سا پہنچایا تھا۔ اور وہ دوبارہ ایسا کوئی اعتراض سننا نہیں چاہتی تھی۔ اور ظاہر ہے یہ بات باسط نے بھی محسوس کرلی۔ وہ ایک دن کچن میں کھڑی سلاد کاٹ رہی تھی باسط برابر میں آکر فریج سے پانی نکالنے لگا۔ وہ تھوڑا اور دور ہوگئی۔

”ارے بیگم صاحبہ کیوں مجھ سے بھاگتی پھرتی ہیں”

 ”اففو باسط سمجھا کرو نئی دلہن ہے لڑکیاں تم لڑکوں کی طرح بے شرم نہیں ہوتیں۔” ساتھ ہی کھڑی نازیہ بھابھی نے بسمہ کے بولنے سے پہلے جواب دیا۔

باسط نے ایک نظر نازیہ پہ ڈالی اور ایک بسمہ پہ۔ خاموشی سے پانی پی کر گلاس رکھا جاتے جاتے کچھ سوچ کے رکا۔

”بسمہ فارغ ہوجاو تو اوپر آنا ذرا۔”

 ”اوہو اب تو دن میں بھی دیور جی کو یاد ستانے لگی” نازیہ بھابھی نے حسب عادت جملہ چست کر ہی دیا اور اتنا بلند آواز میں کیا کہ باسط نے ضرور سنا ہوگا۔ بسمہ نے پہلے سوچا کہ اوپر نا جائے مگر باسط کے لہجے کی سنجیدگی کا خیال آیا تو وہ سلاد اتنی ہی چھوڑ کر اوپر آگئی۔

 ”جی آپ نے بلایا تھا۔” بسمہ کی کیفیت ایسی تھی جیسے شرارت کرنے کے بعد پرنسپل کے آفس میں اسٹوڈنٹ کی ہوتی ہے

”آو بیٹھ جاو پھر بات کرتے ہیں”

بسمہ بیڈ کے ایک سائیڈ پہ بیٹھ گئی۔

باسط اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

”بسمہ جانو کوئی مسئلہ ہے کیا۔ شادی سے پہلے تم کتراتی تھیں وہ سمجھ آتا ہے اب کیا ہوا؟”

”باسط سب نوٹ کرتے ہیں۔”

”۔ تو کرنے دو کیا فرق پڑتا ہے”

”اچھا نہیں لگتا نا نازیہ بھابھی بھی ٹوک چکیں ہیں کہ امی ناراض ہوں گی”

” یہ نازیہ بھابھی نے کہا تم سے؟ لو بھلا کہہ بھی کون رہا ہے”

”کیا مطلب”

 ”کچھ نہیں۔ ٹھیک ہے تم گھبراو نہیں میں خیال کروں گا آئیندہ۔ مگر پلیز تم بھی سب کے سامنے ایسے پیچھے نا ہوا کرو شوہر ہوں تمہارا عجیب لگتا ہے۔”

بسمہ نے سر ہلا دیا۔ اس نے سکون کا سانس لیا چلو ایک مسئلہ تو خیریت سے حل ہوگیااور شکر بھی کیا کہ باسط کو اوپریٹ کرتا ہے۔ مگر یہ پہلا اور چھوٹا مسئلہ تھا۔

اگلے کچھ دنوں میں کھیر پکوا کر اسے ایک طرح سے باقاعدہ گھر کے کاموں میں حصہ دے دیا گیا۔ مگر پتا نہیں نازیہ بھابھی کے ساتھ کیامسئلہ تھا وہ اسے کوئی کام خود سے نہیں کرنے دیتیں ہر کام میں خود ہی ساتھ کھڑی ہوجاتیں کئی بار بسمہ کی ترکیب بدل دی اور کھانے کا مزہ خراب ہوگیا اور جب کھانا لگتا تو کسی کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بول پڑتیں۔

 ”بھئی آپ لوگ کچھ کہیے گا نہیں نئی نئی دلہن ہے کم عمر بھی ہے اونچ نیچ ہوجاتی ہے یہ بھی میں نے تھوڑا مدد کروا دی۔ اسے ابھی ٹھیک سے پکانا نہیں آتا نا۔” بسمہ کو سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیوں لگا کہ اسے پکانا نہیں آتا کچھ چیزیں تو وہ پہلے ہی جانتی تھی پھر منگنی سے شادی کے بیچ دس گیارہ مہینوں میں اس نے کافی کچھ سیکھ لیا تھا۔ وہ صرف جھنجھلا کے رہ جاتی۔ باسط کی چھٹیاں بھی ختم ہو گئی تھیں وہ تھک کے آتا تو بسمہ کو مناسب نہیں لگتا کہ وہ اتنی جلدی سسرال کی شکایتیں کرنے لگے۔

باسط آفس سے آتا تو نازیہ بھابھی اسے پانی لینے دوڑا دیتیں اور باسط کے سامنے ٹوکنا نہیں بھولتیں کہ شوہر کے آتے ہی ان چیزوں کا خیال رکھا کرو۔ کئی بار پیچھے سے آکر اسے دوپٹہ سر پہ اڑھانے لگتیں کہ جیٹھ یا سسر آرہے ہیں ایسے اچھا نہیں لگتا۔ وہ خود بھی سر پہ دوپٹا اوڑھے رکھتیں مگر وہ عموما اتنا مختصر ہوتا کہ صرف سر کے گرد ہی ہوتا۔

اس دن بھی باسط کے آنے کے ٹائم پہ دروازہ بجا بسمہ دروازہ کھولنے کے لیے بڑھی تو فورا نازیہ بھابھی نے روک دیا۔

”تم پانی لے آو میں کھول آتی ہوں۔”

بسمہ پانی لے کر آئی تو باسط ہال کے صوفے پہ بیٹھا جوتے اتار رہا تھا۔ نازیہ بھابھی ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔

”ارے یار آج تو بہت تھک گیا”

”لیٹ جاو یہیں تھوڑی دیر”

باسط نے بسمہ سے پانی کا گلاس لے کے پیا اور واقعی وہیں لیٹ گیا نازیہ بھابھی کے گھٹنے پہ سر رکھ کر۔ اس کا انداز اتنا عام سا تھا جیسے یہ کوئی روز کی بات ہو۔ بسمہ حیران سی کھڑی رہ گئی۔

نازیہ بھابھی کا ایک ہاتھ باسط کے بالوں پہ تھا۔

”دیور جی بیوی کے آتے ہی آپ ہمیں تو بھول ہی گئے۔”

”ارے نہیں نازی ایسی بات نہیں ہے، بس مصروفیت ایسی ہو گئی۔”

بسمہ ان دونوں کی گفتگو اور انداز گفتگو پہ گنگ سی ہوگئی تھی۔ غیر ارادی طور پہ ہی وہ بول پڑی۔

”باسط آپ کشن لے لیں نازیہ بھابھی ان ایزی ہورہی ہوں گی۔ آپ کی وجہ سے بندھ گئیں ہیں۔”

 ”لو اس میں بندھنے کی کیا بات ہے تم لوگوں کی شادی سے پہلے تو عموما شام میں ہم لوگ ایسے ہی باتیں کرتے تھے وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا اصل میں میری اور باسط کی سوچ بہت ملتی ہے نا۔ میرے لیے تو یہ بالکل بھائیوں جیسا ہے۔ مگر لوگ ان جذباتی رشتوں کو نہیں سمجھتے دماغ میں ہی گند ہوتا ہے۔” اسے اندازہ ہو گیا کہ نازیہ بھابھی اسے ہی کہہ رہی ہیں۔ جب کہ اس کے ذہن میں یہ پہلو تو آیا ہی نہیں وہ تو صرف اس پہ حیران تھی کہ یہی نازیہ بھابھی تھیں جنہوں نے کچھ دن پہلے اسے ٹوکا تھا۔

وہ خاموشی سے کچن میں آگئی۔ ہاں مگر جو سوچ پہلے تھی اس کے ساتھ ساتھ اس کے دماغ میں اب وہ سمت بھی تھی جس کی نازیہ بھابھی نے تردید کی تھی۔ نوٹ تو وہ پہلے بھی کرچکی تھی کہ نازیہ بھابھی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہی رہتیں تھیں کہ باسط کی پسند ناپسند کا انہیں بسمہ سے زیادہ پتا ہے اور اس کی ہر ذمہ داری وہ بسمہ سے زیادہ بہتر طور پوری کرسکتی ہیں بسمہ کے خیال میں یہ کوئی جتانے والی بات تھی نہیں ویسے، کیونکہ یہ عام فہم بات ہے کہ نئی آنے والی دلہن کو کچھ وقت تو لگے گا شوہر کی پسند نا پسند سمجھنے میں اور روز ملنے والے وہ چاہے آفس میں ساتھ کام کرنے والا چوکیدار ہی کیوں نہ ہو وہ اس شخص کے بارے میں زیادہ جانتا ہو گا۔ اسے بار بار جتانے کی کوئی وجہ بنتی نہیں تھی۔ سوائے اس کے کہ ان کا آپس میں تعلق ہی الگ نوعیت کا ہو۔ ورنہ وہ باسط کی کتنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہیں وہ تو وہ ایک دفعہ دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی شادی سے پہلے۔ ان کا طریقہ ہی یہ تھا کہ کوئی بھی کام ہوتا وہ پہلے سے کرنا ہے کرنا ہے کا شور مچا دیتیں پھر ساتھ میں یہ بھی سنایا جاتا کہ گھر کی ساری ذمہ داری ہی ان پہ ہے وہ کام کرتی ہیں تو ہوتا ہے ورنہ تو اس گھر میں کچھ بھی نا ہو۔ اور آخر یہ ہوتا کہ وہ ہر کام کسی نا کسی کو سپرد کر کے کروالیا کرتیں اور کہنا یہی ہوتا کہ ”میں” نے کیا ہے۔ سب سے بڑی زیبا بھابھی زیادہ بحث میں پڑنے والی خاتون نہیں تھیں بات چیت میں کچھ سخت مزاج خاتون لگتی تھیں مگر کسی کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتی تھیں۔ اور نازیہ بھابھی کبھی غلطی سے انہیں کچھ بول جاتیں تو وہ اچھا خاصا کرارا جواب ہاتھ میں تھما دیتی تھیں۔ بسمہ نے نوٹ کیا کہ یہی ایک کردار تھیں گھر کا جس سے نازیہ بھابھی پنگا لینے میں کتراتی تھیں۔ سنیہ سے تو نازیہ بھابھی کی تکرار تقریبا روز کا معمول تھی۔ دونوں کا رشتہ روایتی نند بھاوج جیسا تھا۔ نا سنیہ انہیں بخشتی نا یہ سنیہ کو۔ ساس سسر کی خدمت اور احترام کی جتنی لمبی لمبی تقریریں نازیہ بھابھی کیا کرتیں ان کے عمل اس سے بالکل ہی الگ تھے۔ ساس تو ان کے لیے کسی گنتی شمار میں ہی نہیں تھیں۔ بسمہ کو کبھی کبھی ناچاہتے ہوئے بھی نازیہ بھابھی اور اس کی ساس کا رشتہ امی اور دادی جیسا لگتا۔ اسے حیرت ہوتی اپنے ان احساسات پہ کہ وہ نازیہ بھابھی کو امی سے ملا رہی ہے مگر یہ احساس بہت شدید ہوتا جسے وہ جھٹلا نہیں پاتی تھی۔ ان کی عموما باتیں ماں کی عظمت پہ مبنی ہوتیں مگر نا بسمہ نے انہیں ساس کا احترام کرتے دیکھا نا اپنے بچوں کی ٹھیک سے دیکھ بھال کرتے ”بالکل امی کی طرح۔” یہ سوچ اسے ایک دم اداس کر دیتی۔ گھریلو معاملات کے علاوہ نازیہ بھابھی کا ایک اور پسندید مشغلہ تھا حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین کے کردار کی دھجیاں اڑانا۔ ان کے کردار کے بارے میں وہ ایسے ایسے ”حقائق” بتاتیں جو بسمہ کے چودہ طبق روشن کر دیتے۔ کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے ناشتے کے بعد سب خواتین ہال میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ سسر اخبار پڑھتے پڑھتے وہیں چھوڑ گئے تھے انہوں نے سامنے پڑا وہ اخبار اٹھا لیا اور سامنے ہی چھپی خبر زور سے پڑھنے لگیں۔

 ”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لیئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے۔”

معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب۔

انہوں نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار سائیڈ میں رکھ دیا۔

 ”کاش کوئی ان عورتوں کا سمجھا سکتا کہ عورت کی اصل بادشاہت تو اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں۔ نہ اپنا گھر سنبھلتا ہے نہ دوسروں کا بسنے دیتی ہیں۔”

بقول ان کے انہیں اس قسم کی مرد مار جنگجو ٹائپ عورتوں سے سخت چڑ تھی۔

 ”یہ صرف مردوں کے ساتھ نین مٹکا کرنے کے بہانے ہیں کہ باہر نکل کر اپنا آپ مردوں کو دکھایا جاسکے اور کچھ نہیں۔” ان کے لہجے میں ایسی خواتین کے لیے بہت نفرت تھی۔ بسمہ کو اس وقت لگا وہ دادی کی جوانی دیکھ رہی ہے۔ اسے حیرت یہ ہوئی کہ اتنی دور دور رہنے والی دو خواتین جو ایک ہی نسل سے تعلق بھی نہیں رکھتی کہنے کو دو بالکل الگ ادوار کی خواتین ہیں ان کی سوچ اس قدر ایک جیسی ہو سکتی ہے۔

اس گھر میں نازیہ بھابھی کی اگر بنتی تھی تو بڑی نند رافیعہ باجی سے بنتی تھی۔ ان دونوں کی سوچ پسند ناپسند سب ایک جیسا تھا دونوں مل کر بیٹھتیں تو گمراہ نئی نسل، کام چور بہوئیں اور بد کردار تقریریں جھاڑنے والی عورتوں پہ بلا تکان گھنٹوں تبادل? خیال کر لیتی تھیں۔

ان دونوں کو ہی نئی دلہنوں کا شوہرسے بات کرنا دن میں اپنے کمرے میں رہنا، شوہر کے ساتھ اکیلے باہر جانا گناہ جیسا معیوب لگتا اور فی الحال ان کے اس نظریے کی زد پہ بسمہ تھی۔ شکر یہ ہوا کہ باسط خود بھی زیادہ گھومنے پھرنے کا شوقین نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے گھر کی خواتین کو باہر لے کر جانا پسند نہیں دوست دیکھتے ہیں اچھا نہیں لگتا۔ اسی کے کہنے پہ بسمہ نے نقاب کے ساتھ حجاب کرنا بھی شروع کردیا تھا۔ مگر ایک بات جو بسمہ نے بہت عجیب نوٹ کی وہ یہ کہ باہر بازار وغیرہ میں گھومتے ہوئے باسط کی توجہ خریداری اور بسمہ کی باتوں سے زیادہ اردگرد کھڑی عورتوں پہ ہوتی اور پھر وہ ان کے آگے بڑھتے ہی ان کی ڈریسنگ، فگر اور بے پردگی پہ کافی کھلے الفاظ میں تنقید کرتا تھا۔ اس کا کہنا ہوتا تھا کہ یہ خواتین خود کو دکھانے ہی تو نکلی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ میرے گھر کی عورتوں خاص طور پہ بسمہ کے بارے میں کوئی غلط سوچے۔ بسمہ کو حیرت ہوتی کہ کسی کی سوچ پہ کیسے پابندی لگائی جاسکتی تھی اسکول سے لے کر اب تک کم از کم یہ چیز اس نے سمجھ ہی لی تھی کہ لوگ اچھا یا برا کسی معیار کی بنیاد پہ نہیں اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پہ بناتے ہیں۔ مثال اس کےسامنے ہی تھیں نا جس قسم کی خواتین کو نازیہ بھابھی برا سمجھتی تھیں فائزہ ان کی تعریفیں کرتی تھی۔ جیسی بہوئیں دادی کو ناپسند تھیں امی ان کی تعریفیں کرتی تھیں۔ حد تو یہ تھی کہ گھر کے ہر بندے کا ایک ہی فرقہ ہونے کے باوجود کچھ باتوں کے بارے میں الگ الگ عقیدہ اور نظریہ تھا اور اسی نظریئے کی بنیاد پہ سب نے اپنے اپنے پسندیدگی کے معیار بنائے ہوئے تھے۔ زیبا بھابھی کے مطابق سچا پاکستانی ہونا ہی اصل اور سچے مسلمان کی نشانی تھی اور رافیعہ باجی کے مطابق ہم امت مسلمہ کے طور پہ ایک بڑے خطے کا حصہ ہیں اور پاکستان کو الگ کوئی ریاست سمجھنا امت سے بغاوت ہے۔ مزے کی بات یہ کہ کئی بار دونوں کی جذباتی تقاریر سننے کے باوجود بسمہ نے کبھی کوئی ایک عادت بھی دونوں میں ایسی نوٹ نہیں کی جس سے پاکستان یا امت مسلمہ کا بھلا ہوتا ہو۔ یہ سوچتے ہوئے بسمہ خود بھی سوچتی کہ وہ خود ہی آخر بحیثیت مسلمان یا پاکستانی کے کیا کر رہی ہے۔ اور پھر سوچ کے ہی رہ جاتی کہ وہ کر ہی کیا سکتی ہے۔ اپنی سسرال کے جھمیلوں سے نکلے تو کسی فلاحی کام کا سوچے۔ فائزہ نے ایک دفعہ اسے کہا بھی اس نے نفیس آنٹی کے ساتھ مل کر ایک کچی بستی میں تھوڑے بچوں کو مفت تعلیم دینی شروع کی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ خود بھی ذہنی طور پہ تیار نہیں مگر اپنے فیصلے پہ تصدیق کی مہر لگوانے کے لیے اس نے باسط سے بھی پوچھ لیا۔ پہلے تو فائزہ کا نام سن کر ہی اس کا منہ تھوڑا بن گیا۔ اسے واقعی سمجھ نہیں آتا تھا کہ لوگ فائزہ اور نفیس آنٹی سے کیوں چڑتے ہیں جبکہ اس نے ہمیشہ انہیں سب کا مددگار ہی پایا تھا۔

وہ دونوں کسی کی بھی مدد کرنے کے لیے اپنی تمام توانائی صرف کردیتی تھیں۔

پہلے تو وہ خاموشی سے ٹی وہ دیکھتا رہا مگر جب بسمہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھتی رہی تو تھوڑا چڑ کے بولا

”یار یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ عزت دار گھرانے کی بہو ہوکر تم اب گلی محلوں میں گندے سندے بچوں کے پیچھے خوار ہوگی؟ ”

”اصل میں فائزہ اتنی اچھی دوست ہے میں خود سے اسے منع کرتی اچھا نہیں لگتا مگر اب یہ کہنا آسان ہوگا نا کہ آپ کو پسند نہیں۔”

 ”یار تم عورتوں کا اپنا دماغ نہیں ہوتا کیا ہر اچھے برے کا ملبہ شوہر پہ ڈال دیتی ہو ‘انہیں نہیں پسند’ پھر کہا جاتا ہے کہ ہمیں برابر نہیں سمجھتے۔”

”باسط میں نے یہ کب کہا۔” منع بسمہ بھی کرنا چاہتی تھی مگر اس کے خیال ان بچوں کے بارے میں ایسے نہیں تھے جس طرح باسط نے کہا وہ بس روز گھر سے کام چھوڑ کے نکلنے میں ہچکچا رہی تھی۔

شروع کے دنوں میں بسمہ کو باسط جتنا خیال رکھنے والا، رومینٹک اور مددگار طبیعت کا لگا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اندازہ ہوتا جارہا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ بڑے بھیا کی طرح ہی اسے بحث بالکل پسند نہیں تھی۔کسی بھی چھوٹی سی بات پہ ناراض ہوکر اچھا خاصا طوفان کھڑا کردیتا تھا۔ کھانے میں چند ہی چیزیں پسند تھیں اور ان میں بھی اس کا معیار بہت انوکھا تھا کوئی بھی پکائے اسے کوئی نہ کوئی کمی مل ہی جاتی تھی اور یہ صرف اس کا نہیں سسر سمیت گھر کے تمام مردوں کا مسئلہ تھا۔ بس فرق یہ تھا کہ بسمہ ان دونوں بھاوجوں سے بہتر ہی پکاتی تھی مگر باسط کے علاوہ باقی دونوں بھائی اپنی اپنی بیگمات کے کھانے خاموشی سے کھا لیتے تھے۔ لیکن اس بات کی کسر ان کے بیٹے پوری کردیتے تھے۔ بڑے بھائی عبدالواحدکے دو بیٹےاور ایک بیٹی تھے بڑا نویں میں تھا بیٹی دوسرے نمبر پہ ساتویں کلاس میں اور دوسرا بیٹا پانچویں میں۔ دوسرے نمبر کے بھائی عبدالرافع کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی ان کا بیٹا بھی اولاد میں سب سے بڑا تھا مگر صمد بھائی کا چھوٹا والا اور رافع بھائی کا بڑاوالا دونوں تقریبا ہم عمر تھے اس لیے ایک ہی کلاس میں تھے۔ بیٹی دوسری کلاس میں تھی۔ ان تینوں لڑکوں کی فرمائشیں پوری کرنا جان جوکھم کا کام تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ یہی بچے بسمہ سے ناصرف بہت جلدی اٹیچ ہوگئے تھے بلکہ اس سے ضد بھی کم ہی کرتے تھے۔ سب عموما شام میں اپنی کتابیں لا کر بسمہ کے پاس ہی کام کرتے تھے سوائے سب سے بڑے فہد کے۔ اس کا رویہ بسمہ کو عجیب ہی لگتا تھا جیسے وہ بسمہ کو چاچی کی بجائے صرف لڑکی سمجھتا ہو۔ عموما اس سے کتراتا تھا مگر کئی بار بسمہ نے اسے اپنی طرف عجیب طریقے سے گھورتے ہوئے پایا۔ بسمہ کو بھی احساس تھا کہ اس سے بسمہ کی عمر کا کوئی زیادہ فرق بھی نہیں وہ خود بھی اس سے بے تکلف ہوتے میں جھجھک محسوس کرتی تھی۔ ایک دم کسی اتنے بڑے لڑکے کو باسط کے رشتے کے حوالے سے محرم کے طور پہ برتنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ بسمہ اگر اس کی موجودگی میں غیر ارادی طور پہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی یا وہ بسمہ کے اپنے کمرے میں آتے ہی شارٹس بدل کے جینز پہن لیتا تو کوئی نا کوئی ٹوک دیتا کہ چاچی بھتیجے کے رشتے میں یہ تکلف نہیں ہوتے۔ یہ سب وہ احساس تھے جو بسمہ صرف محسوس کر سکتی تھی کسی سے تذکرہ نہیں کرسکتی تھی باسط سے بھی نہیں۔ شادی سے پہلے تک جو اس کا خیال تھا کہ شاید باسط کی صورت میں اسے ایک دوست مل جائے وہ آہستہ آہستہ غلط ثابت ہوتا جارہا تھا۔ شروع شروع کا رومان آہستہ آہستہ صرف جسمانی تعلق تک محدود ہوتا جارہا تھا اور وہ بھی باسط کی مرضی اور شرائط پہ۔ بسمہ تھکی ہوئی ہو نیند پوری نا ہوئی ہو طبیعت خراب ہو اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی تھی۔ ساتھ ہی وہ اپنا دن بھر کا غصہ کام کی پریشانی سب اسی وقت بسمہ پہ اتار دیتا یہ خیال کیے بغیر کہ بسمہ کو تکلیف ہوگی۔ وہ اپنی غرض پوری کرکے سو جاتا اور بسمہ پوری رات خوف سے جاگتی رہتی اور تکلیف سے سسکتی رہتی۔ اس کے وہ تمام رومانوی تصورات جو اس رشتے سے جڑے تھے ایک ایک کر کے ٹوٹتے جارہے تھے۔ ورنہ منگنی سے شادی کے درمیانی عرصے میں وہ کافی مطمئین ہوگئی تھی کہ باسط اس کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھے گا اور زبردستی نہیں کرے گا۔

پہلی بار یہ تب ہوا جب آفس میں باسط کی باس سے کسی بات پہ منہ ماری ہوئی، آفس سے بھی جھنجھلایا ہوا آیا تھا، پہلے توکھانے پہ بہت چیخا چلایا کہ تم لوگ گھر میں پورا دن پڑے پڑے کرتی ہی کیا ہو جب ایک کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں پکتا۔ چیخ چلا کرآدھا کھانا چھوڑ کر ہی اوپر چلا گیا۔ بسمہ کام نپٹا کر اوپر پہنچی تو کمرے میں سگریٹ کا دھواں بھرا ہوا تھا۔ باسط کی سانسیں تیز تھیں اور خلاوں میں کہیں گھور رہا تھا۔

 ”سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔” باسط نے اسی طرح خلا میں گھورتے گھورتے ایک دم کہا اور کافی بےہودہ گالی دی ”باس ہے تو سمجھتا ہے ہم اس کے باپ کے نوکر ہیں۔ مفت میں پیسے نہیں دیتا گدھوں کی طرح کام کراتا ہے۔”

بسمہ نے پہلی بار باسط کے یہ تیور دیکھے تھے وہ ڈر بھی گئی اور پریشان بھی ہوئی۔

”کیا ہوا باسط آفس میں کچھ ہوا کیا؟”

 ”ہوا بھی ہے تو تم کیا کر لو گی؟ تم عورتوں کو مفت کی روٹیاں توڑنے کو ملتی ہیں بے عزت تو ہم ہوتے ہیں دو دو ٹکوں کی نوکری کے لیئے، نکل کر کمانا پڑے تو عقل ٹھکانے آجائے تم لوگوں کی دو وقت کا کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں پکتا۔” بسمہ ہکا بکا باسط کو دیکھ رہی تھی کہ اس سب میں اس کا کیا قصور ہے۔

بسمہ خاموشی سے دوسری طرف کروٹ لے کرسونے لیٹ گئی اسے پتا ہوتا کہ مسئلہ کیا ہے تو وہ اسے پرسکون کرنے کے لیے کچھ بولتی بھی مگر باسط کے تیوروں سے لگ رہا تھا وہ کچھ بتائے گا ہی نہیں۔ بسمہ کے اس طرح خاموشی سے لیٹنے پہ وہ اور غصے میں آگیا اس کا بازو کھینچ کر سیدھا کیا۔

”میں گدھا ہوں جو بکواس کیئے جارہا ہوں مہارانی کو اپنے آرام کی پڑی ہے”

یہ آخری جملہ تھا جو باسط نے بولا۔ پھر صرف بسمہ کی سسکیاں گونجتی رہیں۔ اس رات بسمہ اتنی ڈر گئی اسے لگ رہا تھا وہ سوگئی تو گل بانو کی طرح مر جائے گی۔ فجر کی اذان پہ وہ اٹھی تو اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ اچھے خاصے ٹھنڈے موسم میں وہ ٹھنڈے پانی سے ہی نہا لی وضو کر کے مصلہ بچھایا مگر کھڑے ہوکر یاد ہی نہیں آیا کیا پڑھنا ہے وہ قیام سے ہی سجدے میں چلی گئی اور پتا نہیں کتنی دیر سجدے میں سر رکھے روتی رہی۔

اور پھر یہ سب تقریبا روز کا معمول بن گیا۔ شروع شروع میں بہت تکلیف ہوتی تھی رونا بھی آتا تھا پھر آہستہ آہستہ وہ بے حس لاش ہوگئی۔ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ اس کی حالت سہمی ہوئی چڑیا جیسی ہوگئی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے پڑ گئے۔ رنگت کی گلابیاں زردی میں بدل گئیں۔ شادی کو کوئی چھ یا سات مہینے گزر گئے تھے ایک دن فائزہ کی کال آئی تو اس نے بتایا کہ وہ لوگ سب شفٹ ہورہے ہیں آسٹریلیا۔ نفیس آنٹی نے اسکالر شپ اپلائی کی تھی پی ایچ ڈی کے لیے وہ منظور ہوگئی تھی۔ ساتھ ہی فائزہ کے والد ظفر انکل ان لوگوں کے میٹرک کرنے کے دوران ہی اسٹریلیا گئے تھے جہاں ان کی جاب ہوگئی تھی۔ تو اب پوری فیملی کا وہاں جانا آسان تھا۔ فائزہ کے لیے بہت خوشی کی بات تھی مگر بسمہ اس خبر سے اور ٹوٹ گئی۔ صرف فائزہ ہی تھی جس سے وہ اپنے دل کی بات کرسکتی تھی۔ اس سے بات کرنے کا موقع کم ہی ملتا تھا مگر ایک ڈھارس تو تھی نا۔ اسے لگ رہا تھا اب وہ فائزہ اور نفیس آنٹی سے دوبارہ کبھی نہیں مل پائے گی۔

میڈم نفیس کی کہانی

میں سیدہ نفیس صفدر ہوں۔ مگر مسز سید صفدر رضوی نہیں۔ ہمیشہ کئی جگہ لوگ باگ یہی گڑبڑ کرتے ہیں کہ جب میں شادی شدہ ہوں توصفدر میرے شوہر کا نام ہوگا۔ مگر یہ میرے والد کا نام ہے۔ مگر لوگ مجھے جانتے میڈم نفیس کے نام سے ہیں، میرے نام سے، نہ میرے والد کے نام سے، نہ میرے شوہر کے نام سے۔

میں ایک گورنمنٹ کالج میں زولوجی کی لیکچرر ہوں۔ تعلیم ایم فل تک ہے۔ اور آگے پڑھنے کے شوق نے اس عمر تک پیچھا نہیں چھوڑا جب اولاد جوان ہورہی ہے۔ اسی لیے پی ایچ ڈی کے لیئے اسٹریلیا میں اپلائی کیا تھا۔ اور اب چند ہی دنوں میں، میں مستقل تو نہیں، مگر ایک لمبے عرصے کے لیئے پاکستان سے چلی جاوں گی۔

میری شخصیت خواتین میں کافی متنازعہ ہے۔ عموما خواتین میرے منہ پہ میری گرویدہ ہونے کے دعوے کرتی ہیں مگر میرے پیٹھ پیچھے انہیں میرے طور اطوار ہضم نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے انہیں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب میں سید ہوں تو پردہ کیوں نہیں کرتی؟ جبکہ میرا لباس شرعی پردے کی تمام حدود کو پورا کرتا ہے۔ دوسرا اعتراض پہلے اعتراض کے حوالے سے دیکھا جائے تو مضحکہ خیز ہے وہ یہ کہ جب میں عورت ہوں تو میک اپ کیوں نہیں کرتی؟ زیور کیوں نہیں پہنتی؟ انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ میں انسان ہوں۔ بھلے عورت ہوں مگر کوئی آرائشی ”چیز” نہیں۔ جسے اس لیے سجنا پڑے کے دوسرے دیکھیں تو تعریف کریں۔ یا میرے اسٹیٹس کا اندازہ لگا سکیں۔ کیوں؟ اگر کسی کو لگے گا کہ میں خوبصورت ہوں یا میرے پاس بہت پیسے ہیں تو وہ مجھے دو زیادہ روٹیاں دے گا کھانے کو؟ چلیں فضول بحث کو ایک طرف کرتے ہیں میں اپنی کہانی سنانے جارہی تھی۔

میرا تعلق ایک روایتی سید گھرانے سے ہے جہاں خواتین اور پردہ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ اور ان کے لیے پردے کا مطلب خواتین مکمل طور پہ اپنی زندگی کے لیے دوسروں پہ انحصار کریں۔ احترام کے نام پہ ہم سید خواتین دوسری ذات کی خواتین کی بے دھڑک بے عزتی کرتی ہیں انہیں خود سے کمتر سمجھتی ہیں۔ نجیب الطرفین سید ہونے کی وجہ سے شادی بھی سادات میں ہی ہوتی ہے اور یہ اصول صرف لڑکی کے لیے ہے۔ بہرحال 10 سال کی عمر تک میں نے گھر سے باہر کی دنیا دیکھی ہی نہیں تھی۔ اس کے بعد بھی باہر کی دنیا تو کیا دیکھتی ایک گھر کی دہلیز کے بعد اگلی چیز اگلے گھر کی دہلیز دیکھی. یہ وہی اگلا گھر ہے جس کے ڈراوے خواتین اپنی بیٹیوں کو دیتی ہیں کہ اگلے گھر جاو گی تو کیا کرو گی۔ یعنی سسرال۔ جی 10 سال کی عمر میں میری شادی کردی گئی تھی۔ یہاں سے میری زندگی میں انقلاب آیا۔ میری شادی میرے ایک کزن سے کی گئی تھی جو کہ مجھ سے عمر میں 15 سال بڑے تھے۔ یعنی اس وقت 25 سال کے تھے۔ سید محمد متقی جیسا مرد میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ نکاح کے بعد پہلی ملاقات میں انہوں نے مجھے کتابیں لا کر دیں۔ گھر والوں کو شرط بتا دی کہ رخصتی، کم از کم میرے آٹھویں پاس کرنے کے بعد ہوگی۔ بڑی لے دے ہوئی اس فیصلے پر مگر وہ خاندان کے گدی نشین کے بیٹے تھے۔ تو کسی اور کا اثر و رسوخ چل ہی نہیں پایا۔ والد صاحب پچھتاتے کہ لڑکی کو جلد سے جلد رخصت کرنے کا ارادہ تھا اور اب پختہ عمر تک گھر ہی بٹھانا پڑے گا۔ پانچویں تک کی تعلیم میں نے دو سال میں ہی گھر میں مکمل کرلی پہلی بار کتاب ہاتھ میں لے کر مجھے احساس ہوا کہ یہی میرا پہلا عشق ہے۔ اس سے پہلے تک میں ایک دیہی علاقے کی عام سی لڑکی تھی۔ کتاب کی دنیا میرے لیے جادو نگری تھی۔ میری اصل دنیا سے کہیں زیادہ الگ اور زیادہ منطقی۔ میں جتنا پڑھتی جارہی تھی مجھے احساس ہوتا جارہا تھا کہ کتاب کی باتیں دراصل زندگی سے بہت مختلف ضرور ہیں مگر ان کی مدد سے زندگی مزید آسان ہی ہوتی ہے مشکل نہیں۔ میرے آٹھویں پاس کرتے ہی دوبارہ میری رخصتی کی بات نکالی گئی۔ مگر میں نے متقی کو خط لکھ کر درخواست کی کہ میں مزید پڑھنا چاہتی ہوں۔ مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے کیسے سب سنبھالا مگر معاملہ مزید میرے پرائیویٹ انٹر کرنے تک ٹل گیا۔ اب کے متقی نے مجھے پہلی بار اکیلے میں بلایا۔ میں نے پہلی بار ایک بالغ لڑکی کی نظر سے انہیں دیکھا۔ تینتیس سال کے مضبوط مرد جو دیکھنے میں کوئی لحیم شہیم نہیں تھے نا ہی مردانہ وجاہت کا کوئی اعلی پیکر مگر ان کی شخصیت کے اعتماد، ذہانت اور رعب نے مجھے پہلی بار میں متاثر کیا۔ انہوں نے مجھے ملاقات کی وجہ بتائی جسے سن کر میں ششدر رہ گئی۔ بقول ان کے جس عمر میں ان کا اور میرا نکاح ہوا اس وقت ایک بچے کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کہ بھائی اور شوہر میں فرق کیا ہوتا ہے۔ شرعی اعتبار سے ولی کی رضامندی ایک ضروری عنصر ہے مگر نکاح کی جائز ہونے میں سب سے اہم فریقین کی رضامندی ہے۔ دس سال کی ایک بچی منطقی طور پہ شادی کی تمام ذمہ داریوں کو سمجھ ہی نہیں سکتی۔ اور ان کے مطابق وہ کوئی ناجائز رشتہ نہیں بنانا چاہتے تھے جس میں دوسرے فریق کو اس کی لا علمی کی بنیاد پہ شامل کیا گیا ہو۔

 ”آپ کو شاید اندازہ نا ہو کہ مجھ پہ اس عرصے میں کتنا دباو تھا مگر میں کسی لڑکی پہ یہ ظلم کر کے خود کو گناہ گار نہیں کرسکتا تھا کہ اسے اس کی رائے کے استعمال کا مکمل حق دیئے بغیر ازداوجی رشتہ نبھانے کے لیئے مجبور کروں۔ یہ واضح طور پہ گناہ ہے۔ آپ اب ناصرف بالغ ہیں بلکہ تعلیم یافتہ ہیں۔ اگر آپ اس رشتے کو جاری رکھنا چاہتی ہیں تو بھی یہ آپ کی مرضی کے مطابق ہوگا اور اگر نہیں رکھنا چاہتیں تو یہ آپ کا شرعی حق ہے کوئی کسی بھی قسم کے اخلاقی طعنوں کی آڑ میں آپ سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔”

متقی نے یہ کہہ کر اپنی بات کا اختتام کردیا۔ میں انہیں ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے میں نے کوئی خلائی مخلوق دیکھ لی ہو۔ آپ کو اگر میرے اردگرد کے ماحول کا اندازہ ہو تو آپ کو بھی یقینا احساس ہوگیا ہوگا کہ ہمارے لیے خلائی مخلوق کا آنا اتنا ناممکن نہیں جتنا ایسی سوچ کے حامل ایک مرد کا وجود۔ ایسے مرد کی ہمراہی کوئی بالکل بے دماغ عورت ہی شاید رد کرے۔ تو میں نے بھی وہی کیا جو ایک باشعور لڑکی کو کرنا چاہیے۔ کچھ ہی دن بعد میری باقاعدہ رخصتی ہوگئی ورنہ سسرال کے گھر میں میرا آنا صرف تقاریب کی حد تک تھا۔

پہلی رات متقی کمرے میں آئے تو میرا دل ایک عام سی لڑکی کی طرح ہی شدید دھڑک رہا تھا۔ مگر ان کے بات شروع کرنے کے بعد ایک دم بہت پرسکون ہوگئی۔ ان کی بات چیت اور رویہ بہت دوستانہ تھا۔ عمومی سی بات چیت ہوئی اور ہم سوگئے نہ انہوں نے کوئی پیش قدمی کی نہ مجھے یہ عجیب لگا۔ میں نے کئی بار سوچا اور مجھے عجیب یہ لگتا کہ انتہائی شدید عقیدت کے باوجود مجھے ان میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس نہیں ہوئی۔ ان سے مشورہ کرکے میں نے دوبارہ فرسٹ ائیر سائنس میں ایڈمیشن لے لیا۔ ہم گھنٹوں سائنس اور فلسفے پہ گفتگو کرتے مگر اس کے بعد بس۔ وقت گزرتا گیا گھر میں سوال اٹھنے لگے کہ اب تک کوئی خوش خبری کیوں نہیں ہے۔ متقی نے بہت خاموشی سے انتظام کیا اور ہم شہر میں شفٹ ہوگئے۔ انٹر کے بعد میں نے بی ایس سی زولوجی میں ایڈمیشن لے لیا۔

ایک دن رات کھانے کے بعد انہوں نے مجھے سٹنگ روم میں ہی روک لیا کہ کوئی اہم بات کرنی ہے۔

 ”نفیس ہماری شادی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ آج ہم اس موضوع پہ بات کرلیں تو بہتر ہے۔” مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاید ہمارے ازداوجی تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور میرا اندازہ درست نکلا۔

 ”کیا تم نے کبھی مجھ میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس کی” بہت واضح، مختصر اور جامع سوال تھا۔ اس کا جواب بھی بہت جامع ہوسکتا تھا مگر کیسے؟ میں ان کے اتنے احسانات تلے ہونے کے بعد کیسے کہہ سکتی تھی کہ مجھے ان میں کبھی کشش محسوس نہیں ہوئی۔ میری خاموشی دیکھ کر وہی آگے بولے۔

”دیکھو اتنا وقت اس لیئے لگ گیا کیونکہ ہم دونوں کو اس سوال کا جواب پتا ہے مگر ہم دونوں کو واضح طور پہ یہ ماننے میں اخلاقیات آڑے آرہی ہے۔ نا میں نے پیش قدمی کی نا تم نے تقاضا کیا۔ یعنی ہم دونوں کی کیفیت ایک ہے۔ اور یہ بات اب واضح ہوجائے تو بہتر ہے۔ مجھے پتا ہے کہ میں ایک نارمل مرد ہوں اور تم ایک نارمل عورت۔ ہمیں ایک دوسرے سے کوئی اختلاف کوئی لڑائی نہیں مگر اس کے باوجود ہم دونوں ایک دوسرے میں کشش محسوس نہیں کرتے۔”

وہ کچھ لحظہ رکے۔

 ”پہلے تم سے یہ بات نا کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں چاہتا تھا تم سائنسی اعتبار سے اس معاملے کو سمجھ سکو۔ ہم ہر کسی سے محبت کر سکتے ہیں، احترام کر سکتے ہیں مگر ہر کسی سے جسمانی کشش محسوس نہیں کرسکتے۔”

میں نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔ یہ مجھے بھی اچھی طرح پتا تھا کہ ہم اسی میں کشش محسوس کرتے ہیں جس سے صحت مند نسل آگے بڑھ سکے۔

 ”دیکھو نفیس میں پہلے بھی اس رشتے کے حق میں نہیں تھا، ہمارے خاندان میں جینیاتی بیماریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ تمہیں پتا ہے میری اپنی دو بہنیں ذہنی مسائل کا شکار ہیں اس کے باوجود ان کی شادی خاندان میں ہی کی گئی۔ اب وہ دونوں اتنی صلاحیت نا ہونے کے باوجود اپنے مکمل ذہنی معذور بچوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دیکھو معذور بچے برے نہیں ہوتے مگر جانتے بوجھتے انہیں ایسی زندگی دینا ظلم ہے۔ ہمیں ایک دوسرے میں قدرتی کشش ہوتی تو بات الگ تھی۔ مگر اس کا نہ ہونا مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کر رہا ہے کہ یقینا اس کا کہیں تو تعلق اس فیکٹ سے ہے کہ ہم ایک صحت مند نسل دنیا میں نہیں لاسکتے۔”

یا تو ان کی بات بہت جامع تھی یا شاید میری اپنی سائنس کے متعلق معلومات نے یہ باتیں سمجھنا آسان کردیا تھا۔ مگر ان کی دلیل حقیقت پہ مبنی تھی۔

”تو آپ دوسری شادی کریں گے؟”

مجھے اور کچھ سمجھ نہیں آیا پوچھنا

 ”ہمم، یہیں آکر مسئلہ اٹک رہا ہے۔ میں تو دوسری شادی کر کے اپنی زندگی سیٹل کر لوں گا تم کیا ہمیشہ اس کاغذی رشتے کی قید میں رہو گی؟ اگر میں طلاق دیتا بھی ہوں تو تمہیں واپس اسی ماحول میں واپس جانا پڑ جائے گا جہاں ناصرف تمہاری تعلیم چھڑوادی جائے گی بلکہ دوبارہ تمہاری رائے کا احترام کیے بغیر کسی سے شادی کردی جائے گی۔ اگر تم سے پوچھ کے رشتہ طے کیا جانا ہوتا تو میں کب کا یہ رشتہ ختم کرچکا ہوتا۔”

”ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ فی الحال صرف آپ شادی کرلیں۔ میں تعلیم مکمل کرتی ہوں تب تک کوئی نا کوئی طریقہ سمجھ آجائے گا۔”

پھر یہی طے پایا۔ میں نے قانونی طور پہ انہیں دوسری شادی کی اجازت دے دی دونوں کی گھر کی طرف سے اعتراضات ہوئے کیونکہ لڑکی کسی اور خاندان کی تھی۔ اور متقی سے اس کی ملاقات دونوں کی جابز کے سلسلے میں ہوتی تھی۔ تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی اور اس کے گھر والے بھی اس کی رائے کا احترام کرتے تھے۔

مجھے ہمیشہ متقی کی اس بات نے متاثر کیا کہ وہ بغیر کوئی کشیدگی بڑھائے اپنے دلائل سے روایتی اعتراضات کرنے والوں کو مطمئین کر دیتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں دوسروں کی رائے کا احترام ضرور کرتے مگر انہیں اپنی زندگی میں بگاڑ کی اجازت نہیں دیتے اور بہت معاملہ فہمی کے ساتھ انہیں مطمئین کر کے وہی کرتے جو ان کا فیصلہ ہوتا اگر کبھی دوسرے کا مشورہ قابل قبول اور مثبت ہوتا تو اسے مانتے بھی ضرور تھے۔

یہ بتانے کا مقصد یہ کہ دوسری شادی کسی اور خاندان میں کرنے کی اجازت بھی انہوں نے لے لی اور فائزہ سے ان کی شادی کے بعد اسے بھی خاندان میں وہی احترام ملا جو مجھے متقی کی خاندانی بیوی ہونے کی حیثیت سے ملتا تھا۔

اس کے بعد کچھ ہی عرصے میں سب کچھ بہت تیزی سے بدلا۔ فائزہ مجھ سے کافی بڑی ہی تھی مگر میری بہترین دوست بن گئی۔ وہ تعلیم کے معاملے میں میری بہت مدد کرتی تھی۔ میں نے اس سے اعتماد، اپنے آپ سے محبت کرنا اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا سیکھا۔ ان کی شادی کے تیسرے مہینے ہی فائزہ نے ایک نئی زندگی کی خبر سنادی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا میرا ماسٹرز شروع ہوگیا اور ہمارے گھر میں ایک پیاری سی گڑیا کا اضافہ ہوگیا۔ سیدہ تطہیر متقی۔ وہ بالکل فائزہ جیسی ہی تھی۔ مگر پھر وہ ہوا جس کا کسی نے شاید سوچا بھی نہیں تھا۔ تطہیر 4 ماہ کی تھی جب متقی اور فائزہ اسے میرے پاس چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے بازار گئے مگر وہیں کسی نے ان پہ فائرنگ کردی۔ یہ کبھی پتا نہیں چل سکا کہ فائرنگ کرنے والا کون تھا مگر ڈھکی چھپی بات یہ سننے میں آئی کہ انہیں انہی کے چھوٹے بھائی نے مروایا تھا تاکہ والد کی موت کے بعد گدی نشینی اسے مل سکے وہ عمومااس رائے کا اظہار کرتا رہتا کہ متقی اگر گدی نشین بن جاتے تو وہ تمام روایات کو ختم کردیتے اور سید گھرانے کا نام مٹی میں ملا دیتے۔ میرے پاس دو راستے تھے ایک تو یہ کہ میں واپس گھر والوں کے پاس چلی جاوں اور دوسرا یہ کہ میں متقی کی دی ہوئی زندگی جئیوں۔ اپنی زندگی جئیوں۔ میں نے وہی کیا جو مجھے بہترلگا۔ میں نے دو سال اپنی تعلیم کا گیپ دیا اور تطہیر کی پرورش کابہانا کر کے اسی گھر میں رکی رہی۔ میں نے بہت سوچا، میں ایک باحیا روایتی عورت کی طرح متقی کے نام اور تطہیر کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزار سکتی تھی۔ مگر کیوں؟ معاشرے میں ایک ایسا امیج بنانے کے لیے میں ایسا فیصلہ کیوں کروں جس سے مجھے اور تطہیر کو کوئی فائدہ نا ہو۔ جب کہ قانون اور شرعیت کے مطابق میرے پاس ایک بہتر حل موجود تھا۔ لہٰذامیں نے متقی کا انداز اپنایا بہرحال میں عورت ہوں تو مجھے زیادہ مشکل کا سامنا ہوا مگر میں گھروالوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ماسٹرز کے آخری سال میری ملاقات ظفر منصور سے ہوئی اور ہمیں ایک دوسرے میں وہی کشش محسوس ہوئی جس کی مجھے اب تک کمی لگتی تھی۔ فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت اس لیے نہیں لگا کیونکہ عموما فیصلے لوگ کیا کہیں گے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتے ہیں۔ جلد ہی میری شادی ظفر منصور سے ہوگئی۔

اسے بہتر انداز میں کہوں تو ہم دونوں نے شادی کرلی۔ شادی کو موسمی بدلاو کی طرح نہیں ہونا چاہیے کہ ہوگئی اور اس پہ کرنے والوں کا کوئی بس نا ہو۔

ایک بہت عجیب بات یہ ہوئی کہ کئی بار میں تطہیر کو فائزہ کہہ جاتی۔ اس کے قریب ہونے سے مجھے فائزہ کے پاس ہونے کا احساس ہوتا۔ پھر میں نے بہت سوچ کر تطہیر کا نام فائزہ ہی رکھ دیا۔ اسے ہر بار فائزہ کہہ کر بلانا مجھے اندرونی اعتماد دیتا ہے۔ فائزہ میں متقی کی ذہانت اور اپنی ماں کا اعتماد پیدائشی ہے۔ اسے پتا ہے کہ وہ میری سگی بیٹی نہیں کیونکہ کسی کی سوتیلی بیٹی ہونا کوئی جرم نہیں اسے اس بات پہ بھی فخر ہے کہ وہ متقی اور فائزہ کی بیٹی ہے اور اس پہ بھی کہ میں اور ظفر اس کے قانونی والدین ہیں۔

فائزہ کی اپنی چھوٹے تین بہن بھائیوں سے بہت بنتی ہے انہیں ہوم ورک کرانا نئی چیزیں سیکھنے میں مدد کرنا فائزہ کا پسندیدہ مشغلہ ہیں۔ مجھے پتا ہے فائزہ اور ارمغان میں وہی قدرتی کشش ہے اور یہی سب سمجھتے ہوئے میں نے فائزہ کو ہر لحاظ سے ذہنی طور پہ تیار کردیا۔ اسے ارمغان سے بات کرنے کے لیے ہم سے جھوٹ نہیں بولنا پڑتا۔ ارمغان ہمارے ساتھ غریب بچوں کو پڑھانے کے دوران بھی شامل تھا وہ دونوں ہی اتنے سمجھدار ہیں کہ اپنی پسندیدگی کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کووقتی تسکین کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی شخصیت کو نکھارنے میں مدد کر رہے ہیں وہ دونوں ہر مثبت کام میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان کے اس تعلق میں کچھ عرصے کی دوری آئے گی مگر ہمیں پتا ہے کہ ہم واپس یہیں آنا ہے کیونکہ ہماری صلاحیتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہمارے اپنے لوگوں کو ہے۔

فائزہ کے جانے کے بعد بسمہ جذباتی طور پہ خود کو بہت کمزور سجھنے لگی۔ وہ اپنی ذات میں مقید ہوتی جارہی تھی۔ میکے جائے نا جائے کسی کو زیادہ پروا ہی نہیں ہوتی کہ پوچھے وہ کیوں نہیں آئی جب کہ باقی دونوں بہنوں کے کسی ہفتے نا آنے پہ امی خود فون کر کے پوچھتی تھیں اور اگر نا پوچھ پائیں تو اگلی دفعہ آنے سے پہلے وہ جتانے کے لیے فون کرتیں کہ آپ لوگوں کو ہماری پروا ہی نہیں تو آنے کا کیا فائدہ؟ پھر باری باری امی، ابو، دادی، بڑے بھیا فون کرکر کے مناتے اور خاص دعوت کا اہتمام کیا جاتا۔ بسمہ کو کبھی بھی شکایت کی عادت ہی نہیں تھی تو نہ وہ شکایت کرتی تھی نہ کسی کو احساس ہوتا تھا کہ اس کی خیریت بھی پوچھنی چاہیے۔

زندگی یونہی معمول پہ گزر رہی تھی۔ اتنے مہینے گزرنے کے باوجود بچے کے بارے میں پوچھ تاچھ اس لیے شروع نہیں ہوئی تھی کیونکہ باسط نے ہی صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ دو سال تک کوئی ان سے اس متعلق ناپوچھے اس کی تنخواہ اتنی نہیں کہ بچوں کے خرچے پورے کرسکے۔ وہ کیا چاہتی ہے اس سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

ایک دن معمول سے ہٹ کر دوپہر میں ہی باسط کا فون آگیا

”بسمہ آج شام میں تیار رہنا ایک دوست کے گھر دعوت ہے”

بسمہ کافی حیران ہوئی کیونکہ باسط عموما دوستوں کے گھر اسے نہیں لے کر جاتا تھا یہ سب دوست باہر ہی مل لیتے تھے۔ بس اس کی شادی پہ اس کے کچھ دوست اپنی بیگمات کو لائے تھی اور ایک آدھ ہی کے گھر شادی کے بعد دعوت ہوئی تھی۔ مگر یہ شاید وہ دوست نہیں تھا۔ شام کو آفس سے آیا تو موڈ کافی خوشگوار تھا تیارہوتے ہوتے خود ہی بتاتا جارہا تھا۔

 ”احمد اور میں نے ایک ہی اسکول سے میٹرک کیا تھا پھر یہ لوگ دوسرے محلے میں شفٹ ہوگئے تھے۔ کالج تک رابطہ تھا پھر اس کی جاب لاہور میں ہوگئی تھی باقی گھر والے تو یہیں ہوتے ہیں۔ میری آج آفس میں ملاقات ہوئی تو پتا چلا اس کی بھی شادی ہوگئی دو سال پہلے،اتنا اصرار کر کے دعوت پہ بلایا ہے میں منع ہی نہیں کرپایا۔ ویسے بھی بہت اچھی فیملی ہے ہمارا کافی آنا جانا تھا ایک دوسرے کے گھر۔ امی صرف اسی کو آنے دیتی تھیں گھر میں اتنا شریف لڑکا ہے۔ بلکہ یہ کیا اس کے سب گھر والے ہی بہت شریف اور مہذب ہیں تم ملو گی تو تمہیں بھی اچھا لگے گا۔” جتنی تفصیل سے باسط سب بتا رہا تھا اسی سے لگ رہا تھا کہ احمد اس کا کافی قریبی دوست ہے اور وہ اس سے مل کر بہت خوش بھی ہے۔

باسط کھانے کے ٹائم سے کافی پہلے ہی پہنچ گیا احمد کے گھر۔ سب سے پہلے احمد کی امی سے ملاقات ہوئی انہیں دیکھ کر بسمہ کو لگا انہیں کہیں دیکھا ہے کچھ عجیب سا ناخوشگوار سا احساس ہوا۔ انہوں نے بہت محبت سے لاونج میں لے جاکر بٹھایا احمد کی بیوی اپنی چند ماہ کے بیٹے کو بھی لائی وہ بھی کافی ملنسار لڑکی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد احمد بھی آگیا اسے دیکھ کر بسمہ کچھ لمحے کے لیے شاک میں رہ گئی بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے اسلم 26 یا27 سال کا ہوگیا ہو۔ اسے اندازہ ہوا کہ احمد کی امی میں بھی انہی نقوش کی جھلک تھی۔ ان کے بہت ملنسار رویئے کے باوجود بسمہ بہت بے چین ہوگئی۔ احمد کی بیوی ہی باتیں کیے جارہی تھی بسمہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی۔

انہیں بیٹھے آدھا گھنٹا ہوا ہوگا کہ پیچھے سے کافی مانوس آواز آئی۔

”ارے باسط بھائی کہاں سے برآمد ہوگئے اتنے دن بعد”

آواز تھی یا کوئی بم بسمہ نے مڑ کے پیچھے دیکھا لاونج کے دروازے سے اسلم اندر آرہا تھا۔

اسلم کو دیکھ کر بسمہ کا دل بیٹھ گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زندگی میں دوبارہ اس کا اسلم سے سامنا ہوگا اور وہ بھی اس طرح۔ بسمہ کے ہاتھ پاوں ایک دم ٹھنڈے پڑ گئے۔ اسلم آگے آیا اس نے ایک نظر بسمہ پہ ڈالی صرف ایک لمحے کے لیے اس کی نظروں میں شناسائی کی جھلک آئی جو شاید صرف بسمہ کو ہی محسوس ہوئی ہو پھر وہ باسط کی طرف متوجہ ہوگیا۔

باسط بہت گرم جوشی سے اسلم سے ملا۔

 ”اور بھئی اسلم کیا ہورہا ہے آج کل؟ احمد کیا گیا شہر سے تم نے بھی دعا سلام چھوڑ دی ورنہ تو ہر وقت باسط بھائی باسط بھائی لگائے رکھتے تھے”۔ باسط نے ہلکے پھلکے انداز میں شکوہ بھی کیا۔

 ”بس باسط بھائی تب تو چھوٹا اتنا تھا میرے اپنے پاس تو موبائل تھا ہی نہیں۔ پھر آپ کا نمبر نہیں مل پایا۔ بھائی کے پاس جو نمبر تھا وہ بھی شاید آپ نے بدل لیا تھا۔

” ”ہاں اصل میں آفس کی طرف سے دوسرا نمبر مل گیا تھا کچھ عرصے تو وہ سم بند ہی رہی پھر منگنی کے بعد بسمہ کو دے دیا وہ نمبر بس تب سے اسی کے پاس ہے۔”

 ”واہ آپ نے بھی شادی کرلی۔ مبارک ہو بہت۔ نا بلانے کا شکوہ ہم کریں گے نہیں کیونکہ ہم بھی نہیں بلا پائے آپ کو بھائی کی شادی میں۔”

 ”ہاں اچھا یاد دلایا اس پہ تو ابھی میری احمد سے لڑائی رہتی ہے۔ شادی کر کے بیٹھ گیا بتانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ تم بتاو آج کل کیا کر رہے ہو؟”

”بی ای میں ایڈمیشن کی تیاری کر رہا ہوں۔ دعا کریں ہوجائے”

”ارے تم نے انٹر کرلیا۔ لو بھلا بتاو ہمارے سامنے کے بچے کیسے بڑے ہوجاتے ہیں پتا بھی نہیں چلتا۔”

اس جملے پہ اسلم اور بسمہ نے غیر ارادی طور پہ ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر شاید اسلم ہی کو احساس ہوا۔

” باسط بھائی تعارف تو کرا دیں”

 ”ارے ہاں سوری یار یہ میری وائف ہیں تمہاری بھابھی، بسمہ۔ اور بسمہ یہ احمد کا سب سے چھوٹا بھائی اسلم، بلکہ سمجھو میرے لیے بھی بھائیوں جیسا ہی ہے تمہاری دیور کی کمی پوری کردے گا۔”

بسمہ بہ مشکل مسکرائی۔

اسلم ایک دو باتیں کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا کھانا کہنے کو خوشگوار ماحول میں کھایا گیا مگر بسمہ کی حالت ایسی تھی کہ اس سے کچھ بھی نہیں کھایا گیا۔ احمد کی بیوی اصرار ہی کرتی رہی۔ خدا خدا کر کے واپسی کا وقت آیا۔ اور تب تک بسمہ کا دم سولی پہ اٹکا رہا کہ کہیں سے بھی کوئی ایسی بات نا نکل آئے جس سے پتا چل جائے کہ اسلم اور بسمہ ایک ہی اسکول میں پڑھے ہیں۔ اس نے گھر آکر سکون کا سانس لیا۔ اس نے دل میں پکا عہد کرلیا کہ اب دوبارہ کبھی اسلم کے گھر نہیں جائے گی چاہے کوئی بھی جھوٹ بولنا پڑے۔

جیسے جیسے دن گزرتے جارہے تھے بسمہ اور باسط اور دور ہورہے تھے۔ باسط اب صرف بہت ضرورت کی بات ہی کرتا بسمہ سے۔ اس کا ماننا تھا کہ بسمہ میں اتنی عقل ہی نہیں کہ اس سے بندہ کوئی بات کر سکے۔ ہاں وہ اور نازیہ بھابھی شام میں لمبی لمبی گفتگو کیا کرتے تھے جس میں کئی بار وہ جتاتیں کہ تمہاری بیوی ابھی ناتجربہ کار ہے اس لیے اسے بہت سی چیزوں کا نہیں پتا۔ اور کچھ لاپرواہ بھی۔ میں جب تک نا بتاوں وہ کوئی کام ڈھنگ سے کر ہی نہیں پاتی۔ ساتھ ہی ان دونوں کے آپس میں عجیب قسم کے مذاق بھی چلتے رہتے جو بہت دفعہ کافی معیوب قسم کے ہوتے تھے۔ بسمہ کا شدت سے دل چاہتا کہ امی نے اسے کم از کم اپنے حق کی بات کہنے کی تو عادت ڈالی ہوتی۔پہلے تو فائزہ اسے ہمیشہ ایسے موقعوں پہ اچھی طرح جھاڑتی تھی کہ جب کسی کو جواب دینے کی باری آتی ہے تو تم کوما میں چلی جاتی ہو۔ صرف نازیہ بھابھی ہی کیا اس کا یہ رویہ دیکھ کر اب کوئی بھی اسے کچھ بھی بول جاتا اور وہ کھڑی منہ دیکھتی رہ جاتی۔ کیا ساس، کیا سسر، سنیہ دونوں جیٹھ زیبا بھابھی نازیہ بھابھی رفیعہ باجی ہر کوئی اس کی کم عقلی پہ کوئی نہ کوئی کمنٹ ضرور کرتا اور وہ چپ چاپ سنے جاتی۔

ایک دن وہی معمول کے مطابق وہ سالن پکا رہی تھی کہ نازیہ بھابھی کچن میں آئیں۔

 ”لو تم اب سالن پکا رہی ہو۔ بسمہ اتنی سستی اچھی نہیں ہوتی میری جان۔ میں تمہاری ہی بھلائی کے لیے ٹوکتی ہوں۔ اب دیکھو رات کے کھانے میں صرف ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔ کب سالن پکے گا کب روٹیاں پکیں گی۔ پھر باسط کو غصہ آتا ہے تو تمہارا منہ بن جاتا ہے۔ بھئی دیکھو مرد تو ہوتا ہی غصہ کا تیز ہے عورت کو ہی خیال کرنا پڑتا ہے کہ اسے غصہ نا آئے۔”

”اور کیا جیسے بڑی چاچی رکھتی ہیں خیال روز بازار سے ناشتہ منگوا کر”

پتا نہیں کب فہد کچن میں آگیا تھا۔

” ”فہد میرے تو تم منہ لگو ہی مت،تم جیسے جیسے بڑے ہورہے ہو ساری تمیز ادب بھولتے جارہے ہو۔

 ”بڑی چاچی ادب کروانے کے لیے بندے میں کوئی ایک تو ایسی خصوصیت ہو آپ کوئی ایک بتا دیں” نازیہ غصے میں کچن سے ہی نکل گئی۔

”فہد وہ بڑی ہیں آپ سے اس طرح نہیں کہا کریں”

بسمہ نے ایک بڑے کی حیثیت سے اسے ٹوکا۔

 ”چھوٹی چاچی ان کی عادت ہے جو ان کو جواب نہیں دیتا یہ اس کا جینا مشکل کردیتی ہیں۔ شروع شروع میں سنیہ پھپھو کو بھی بہت تنگ کیا پھر امی نے سنیہ پھپھو کوسمجھایا تو کہیں جاکر ان کی جان چھوٹی۔”

”مگر میری عادت ہی نہیں ایسی میں کیا کروں”

 ”عادت نہیں ہے تو بدل لیں۔ اپنا میاں ان سے سنبھلتا نہیں آپ کے میاں کی فکر میں رہتی ہیں۔ اور آپ اتنی سادہ ہیں کے سامنے سب ہوتا دیکھ کر انجان بنی ہوئی ہیں۔”

بسمہ کو شدید تذلیل کا احساس ہوا کہ اب اسکول کا بچہ بھی اسے کم عقلی کا طعنہ دے گا۔”

 ”کیا مطلب، کیا ہوتا ہے سامنے”اس کا لہجہ تھوڑا تیز ہوگیا۔

 ”چھوٹی چاچی آپ بہت معصوم ہیں۔ مگر بڑی چاچی کو معصوم مت سمجیے گا۔ یہ جو چاچو کے لیے بھائی ہے بھائی ہے کا شور کرتی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں۔”

”فہد بری بات ہے بچے ایسی باتیں نہیں کرتے وہ دونوں تمہارے بڑے ہیں۔”

 ”یہ تو بڑوں کو سوچنا چاہیئے کہ وہ کر کیا رہے ہیں بچے تو دیکھیں گے۔ اور ویسے بھی میں اتنا بھی بچہ نہیں ہوں جتنا گھر والے سمجھتے ہیں۔ شاید آپ سے ایک آدھ سال ہی چھوٹا ہوں گا۔” اس نے ایک دم ہی بسمہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔

 ”چاچی سب آپ سے ایسا سلوک کرتے ہیں مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔ مگر میں آپ کے ساتھ ہوں آپ کو جب میری ضرورت ہو مجھے بتایئے گا۔”

کہنے کو اس نے گھر والوں کے رویئے کے حوالے سے کہا مگر کچھ تو تھا اس کے لہجے میں جس سے بسمہ کو لگا وہ کسی اور ضرورت کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت اسے فہد، اسلم جیسا لگا۔ اس نے ایک دم اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔

”فہد آپ فکر نا کریں مجھے کوئی مسئلہ ہوگا میں باسط سے ڈسکس کر لوں گی آپ پریشان نا ہوں۔”

 ”چاچی باسط چاچو آپ سے بات ہی کہاں کرتے ہیں آپ کیوں سمجھتی ہیں کہ باقی سب اندھے ہیں۔ خیر آپ کی مرضی ہے ورنہ آپ جب چاہیں میں آپ کی مدد کوتیار ہوں۔”

بسمہ کو احساس ہوہی گیا کہ وہ واقعی بچہ نہیں ہے کافی نپے تلے انداز میں اپنے مقصد کی بات کرگیا۔ بسمہ اندر تک کانپ گئی۔ وہ تو سمجھتی تھی یہ اس کا گھر ہے یہاں وہ محفوظ ہے۔ ایک دم اسے اپنی ہی حالت پہ ہنسی آئی۔ روز رات میں باسط اس ”تحفظ” کا احساس کافی مناسب طریقے سے دلاتا ہی تھا۔ اور عموما ہی بسمہ موازنہ کرتی دنیا والوں کے لیے اسلم کا ہاتھ پکڑنا تو غلط تھا مگر اس ظلم پہ کوئی باسط کو کچھ نہیں بولے گا جیسے بسمہ کی جذباتی اور جسمانی تکلیف کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ اب تو یہ حال تھا کہ بسمہ کے سرد رویئے سے جھنجھلا کر وہ اسے مارنے بھی لگا تھا۔ مگر بسمہ خود مجبور تھی۔ اس تکلیف کے جواب میں وہ گرمجوشی کیسے دکھاتی؟

اس نے کئی دفعہ نوٹ کیا کہ باسط اس کا موبائل بھی چیک کرتا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس نہ بیلنس ہوتا نہ میسج پیکج۔ فائزہ کے جانے کے بعد تو پورا پورا دن وہ موبائل اٹھا کے بھی نہیں دیکھتی تھی عموما چارج بھی کرنا بھول جاتی تو کئی دن بند پڑا رہتا۔

اتوار کو وہ ناشتہ وغیرہ بنا کر اوپر آئی تو اس کا موبائل باسط کے ہاتھ میں ہی تھا۔

”کیا مصیبت ہے تم سے ایک موبائل بھی چارج نہیں ہوتا۔ گیم کھیلنا تھا مجھے۔”

بسمہ کی نظر غیر ارادی طور پہ باسط کے موبائل پہ گئی۔

 ”اسی پہ کھیل رہا تھا اس کی بیٹری لو ہوگئی ہے۔ سوچا تمہارے پہ کھیل لوں مگر تم ہمیشہ کی سست عورت ایک موبائل تک چارج کرکے نہیں رکھ سکتیں۔”

اتنی دیر میں وہ بات کرتے کرتے موبائل چارجنگ پہ لگا چکا تھا۔

”مجھے ضرورت نہیں پڑتی تو یاد بھی نہیں رہتا۔”

 ”اوہو ایسے بتا رہی ہیں محترمہ جیسے مجھے تو پتا ہی نہیں۔ آج کل کوئی ہے ایسا جو موبائل استعمال کیئے بغیر رہتا ہو۔ خود بےوقوف ہو تو دوسروں کو بھی سمجھتی ہو۔”

اس نے کہتے کہتے پاور کا بٹن دبایا۔ اسکرین آن ہوتے ہی ایک ساتھ کئی میسج آگئے۔ باسط نے ایک جتاتی ہوئی نظر بسمہ پہ ڈالی اور انباکس میں جاکر پہلا میسج کھول لیا۔

”بسمہ! پلیز مجھے معاف کردو”

”بسمہ مجھے اب تک افسوس ہے میں ایسا لڑکا نہیں ہوں پلیز مجھے معاف کردو۔”

”بسمہ اس دن تمہیں دوبارہ دیکھنے کے بعد سے یہ شرمندگی کا احساس اور بڑھ گیا ہے تم نے معاف نا کیا تو میں مر جاوں گا۔”

باسط با آواز بلند میسجز پڑھتا جارہا تھا۔

اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ پٹخا۔

”دیکھ لیا۔ بڑی پارسا بن رہی تھی دو سیکنڈ پہلے، اب تک یاروں کو پیچھے لگایا ہوا ہے۔ شرم نہیں آتی تجھے نیچ عورت۔”

بسمہ پہ تو سکتہ طاری تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ بس اب اس کی سانس بند ہوجائے گی۔ اسے سمجھ یہ نہیں آرہا تھا کہ اسلم کو اس کا نمبر ملا کہاں سے؟

ایک لمحے کے لیے اسے لگا شاید یہ کوئی اور ہو مگر کیسے، اور کون ہوسکتا تھا؟ اور کسی نے کچھ ایسا کیا ہی کب جس کی اسے بسمہ سے معافی مانگنی پڑے اور جس نے حال ہی میں بسمہ کو دیکھا ہو۔ بسمہ کا دماغ اسی میں الجھا تھا کہ باسط نے آگے بڑھ کے اس کے بال پکڑ لیے۔

”شرم نہیں آتی تجھے اب بھی ملنے جاتی ہے اس سے۔”

 ”میں کہیں نہیں گئی۔” بسمہ اس اچانک حملے پہ گھبرا گئی اس کی آواز کانپنے لگی۔

”جھوٹ پہ جھوٹ؟ تو تیرے عاشق کو خواب میں دیدار ہوا تھا تیرا؟”

 ”باسط میرا یقین کریں۔ مجھے نہیں پتا یہ کون ہے اور کس بات کی معافی کی بات کر رہا ہے اور اس نے مجھے کہاں دیکھا۔” بسمہ سسکی۔

”باسط آپ گھر میں کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں میں گھر سے آپ کے ساتھ ہی تو نکلتی ہوں۔”

 ”کیوں پوچھوں میں کسی سے؟ یہ سامنے ثبوت موجود ہے میرے۔” ہر دفعہ بات کرتے میں وہ بالوں کو زور سے جھٹکا دیتا تھا۔ تکلیف سے بسمہ کے آنسو بہنے لگے۔

 ”عورت ذات ہوتی ہی نیچ ہے، شوہر کا چھونا برا لگتا ہے دوسروں کو سب اجازت ہے۔” باسط اتنی زور زور سے بول رہا تھا کہ برابر کے کمرے سے نازیہ بھابھی اور رافع بھائی بھی نکل کے آگئے۔ نازیہ بھابھی نے آکر بسمہ کو چھڑوایا۔ باسط نے جھٹکے سے بسمہ کو دھکیلا کہ اس کا سر دروازے سے جا کر ٹکرایا اور دندناتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ رافع بھائی نے کچھ سیکنڈ پر تجسس نظروں سے بسمہ کو اور باسط کے پیچھے خالی رہ جانے والی سیڑھیوں کو دیکھا اور پھر کندھے جھاڑ کے کمرے میں چلے گئے۔ نازیہ بھابھی نے بسمہ کو سہارا دے کر بیڈ پہ بٹھایا۔

 ”دیکھا میں کہتی ہوں نا میاں کے مزاج کا خیال رکھا کرو۔ اب پھر کوئی پھوہڑ پن دکھایا ہوگا۔ تم سدھرو گی نہیں اور وہ پھر غصے میں آ کر اور زیادہ مارپیٹ کرے گا۔”

 ”میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔” بسمہ نے بہ مشکل سسکیوں کے درمیان کہا۔

 ”بس بی بی کہنے کی باتیں ہیں ہم عورتوں کی یہی تو غلطی ہے اپنی غلطی نہیں مانتیں اور شوہر کے ظلم کے رونے روتی رہتی ہیں۔بسمہ شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی خدمت ہی تو عورت کی اصل جنت ہے۔”

بسمہ خاموشی سے گھٹنوں میں سر دیئے سسکتی رہی۔ نازیہ بھابھی کچھ دیر بیٹھیں پھر شاید بور ہوکر چلی گئیں۔

روتے روتے جب تھک گئی تو پھر دماغ میں یہی بات آئی کہ اسلم کو اس کا نمبر ملا کہاں سے؟ اس نے موبائل اٹھایا سوچا میسج کرے مگر پھر یاد آیا کہ بیلنس ہی نہیں ہے کافی دیر بعد ایک دم خیال آیا تو 10 روپے کا ایڈوانس لے کر فورا ایک دن کا پیکج کر لیا۔

پیکج کنفرم ہوتے ہی پہلا میسج اس نے یہی کیا۔

”کون ہو تم یہ نمبر کہاں سے ملا تمہیں”

دوسری طرف شاید وہ موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔ فورا ریپلائے آیا۔

 ”میں اسلم فرقان، اس دن تم باسط بھائی کے ساتھ گھر آئی تھیں نا اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنا پرانا نمبر تمہیں دے دیا ہے وہ نمبر تھا میرے پاس۔ بسمہ پلیز مجھے معاف کردو اس دن پتا نہیں مجھے کیا ہوا تھا میں بہت شرمندہ ہوں۔”

”تم نے جو میسج کیا وہ باسط نے پڑھا تھاپہلے۔”

 ”اوہ پھر؟، کچھ کہا کیا تمہیں؟ ایم سوری مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تمہارا موبائل ان کے پاس بھی ہوسکتا ہے۔ مجھے شرمندگی اتنی ہے کہ کچھ زیادہ سوچے سمجھے بغیر ہی میسج کردیا۔ تم کہو تو میں باسط بھائی کو بات کلئیر کردوں؟”

”تم چاہ رہے ہو کہ اب وہ میرا گلا ہی دبا دیں تو موسٹ ویلکم۔”

بسمہ غصے میں اسے ریپلائے کیے جارہی تھی یہ سوچے بغیر کہ یہ مزید مسئلہ نا بن جائے۔

”واہ بھئی پٹ کر بھی یار سے بات نہیں چھوٹی”

پتا نہیں کب نازیہ بھابھی دوبارہ آگئی تھیں۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ باسط سے ساری روداد سن کر آئی ہیں۔

 ”ویسے حیرت ہے باسط جیسا شوہر ہونے کے باوجود تمہیں کسی دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے؟” جس گھٹیا بات تک بسمہ کی سوچ بھی نہیں پہنچتی تھی نازیہ بھابھی وہ باتیں اتنے آرام سے کرلیا کرتی تھیں جیسے ڈیلی روٹین کے کام۔

”نازیہ بھابھی مجھے نہیں سمجھ آرہا آپ کیا کہہ رہی ہیں، کس چیز کی ضرورت؟ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔” کچھ کچھ بسمہ کی سمجھ میں آرہا تھا مگر وہ نازیہ کو مزید کھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ مگر اسے حیرت یہ ہوئی کہ نازیہ جس طرح حوالہ دے رہی ہے کہ باسط جیسا شوہر اس سے نازیہ کا کیا تعلق۔ اسے کیا پتا کہ باسط ”کیسا” شوہر ہے؟

 ”زیادہ معصوم تو تم بنو مت، فہد سے آج کل تمہارے کیا رازونیاز چلنے لگے ہیں اس کا مجھے اندازہ ہے۔ تمہارے لیے کیسے مجھ سے زبان درازی کر رہا تھا۔ یہ فہد ہی کے میسج تو نہیں؟ ویسے زیادہ ہی دلیر ہو جو کھلم کھلا یار سے میسجنگ کی جارہی ہے۔”

 ”نازیہ بھابھی بہت ہوگیا آپ پلیز چلی جائیں آپ کو پتا بھی ہے آپ کتنی گھٹیا بات کر رہی ہیں؟فہد بھتیجا ہے باسط کا۔ میرا اور اس کا احترام کا رشتہ ہے۔”

”ہاں جی تبھی شرما کے دوپٹے ٹھیک کیے جاتے ہیں۔”

بسمہ نے بہت مشکل سے خود کو کوئی جواب دینے سے باز رکھا۔ وہ اٹھ کر باتھ روم منہ دھونے چلی گئی۔

واپس آئی تو نہ نازیہ بھابھی تھیں نہ موبائل۔

بسمہ کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ موبائل بیڈ پہ سامنے ہی چھوڑ کر گئی تھی۔ مگر پھر بھی تسلی کے لیے اس نے تکیے وغیرہ ہٹا کے دیکھے سائیڈ ٹیبل کی درازیں چیک کیں مگر موبائل کہیں بھی نہیں تھا۔ اس نے واقعی نہیں سوچا تھا کہ نازیہ بھابھی اتنا زیادہ بڑھ جائیں گی کہ اس سے پوچھے بغیر اس کا موبائل اٹھا کے لے جائیں گی۔ اسے حیرت ہوتی تھی اس عورت کی اخلاقیات پہ جو ہر وقت کوئی نا کوئی اخلاقی اور مذہبی نصیحت موقعے کی مناسبت سے تیار رکھتی مگر خود کبھی بھی کسی اخلاقی اصول کی پاسداری نہیں کرتی تھی۔ بسمہ کے ہاتھ پاوں پھول گئے یہ سوچ کر کہ اب باسط اس کی ابھی ابھی ہوئی بات چیت پڑھ لے گا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ دو تین بہت بری بری گالیاں خود کو دے اور دو تین اسلم کو۔ وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے اسلم کو ریپلائے میسج کیا تھا۔

پھر ایک موہوم سے امید ہوئی کہ شاید کوئی بچہ کھیل کھیل میں اٹھا کے لے گیا ہو وہ فورا بھاگ کر نیچے آئی مگر آخر کی سیڑھیاں اترے اترتے اس کے قدم آہستہ ہوگئے۔ نازیہ بھابھی اور باسط ہال کمرے میں سامنے ہی بیٹھے تھے نازیہ بھابھی باسط کے کندھے سے جڑی بیٹھی تھیں اور بسمہ کا موبائل انہی کے ہاتھ میں تھا اور وہ باسط کو اس میں کچھ دکھا رہی تھیں۔ دونوں کے سر تقریبا جڑے ہوئے تھے اور نظریں موبائل اسکرین پہ۔ باسط کے چہرے پہ واضح غصہ تھا۔ انہیں شاید بسمہ کے قدموں کی آواز آئی تو ایک ساتھ ہی سر اٹھا کے دیکھا۔ دونوں کی پوزیشن میں صرف اتنا فرق پڑا کہ سر سیدھے ہوگئے اس سے زیادہ دور ہونے کی دونوں میں سے کسی نے کوشش نہیں کی۔

نازیہ بھابھی کے چہرے پہ فاتحانہ سے تاثرات تھے۔ باسط کچھ سیکنڈ بسمہ کو غصے میں گھورتا رہا پھر ایک دم اٹھنے کی کوشش کی مگر نازیہ بھابھی نے ہاتھ پکڑ کے روک دیا اور ہاتھ سہلا کر جیسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔

 ”باسط آپ کمرے میں جاو میں سنبھالتی ہوں مسئلہ بس آپ پریشان نا ہو۔” نازیہ بھابھی نے ایک ہاتھ سے باسط کا گال تھپتھپایا

باسط نے فرمانبردار بچوں کو طرح سر ہلایا اور بسمہ کو گھورتا ہوا برابر سے گزر کے اوپر چلا گیا۔

نازیہ بھابھی نے تاسف سے بسمہ کو دیکھا جو واضح طور پہ بناوٹی لگ رہا تھا۔

 ”بسمہ کتنے افسوس کی بات ہے آپ ایک مسلمان شریف گھرانے کی لڑکی ہو، عزت دار گھرانے کی بہو ہو۔ کس چیز کی کمی ہے آپ کو جو آپ اس طرح گناہ میں مبتلا ہورہی ہو۔”

بسمہ کو ان کا بن بن کر آپ آپ کہہ کر بات کرنا شدید زہر لگ رہا تھا۔ وہ پہلے ہی پریشان تھی۔ سر کی چوٹ میں تکلیف ہورہی تھی پھر نازیہ بھابھی کا اس طرح موبائل اٹھا کے لے آنا، اسے ان پہ اتنا غصہ آرہا تھا کہ کنٹرول مشکل ہورہا تھا۔

”آپ کس کی اجازت کی سے میرا موبائل اٹھا کر لائیں۔”

 ”لو یعنی اپنے کیے پہ کوئی شرمندگی ہی نہیں مجھ سے پوچھ تاچھ ہورہی ہے۔ بی بی آپ کے شوہر کو حق ہے کہ اسے آپ کی حرکتوں کا پتا ہو تاکہ وہ آپ کو گناہ میں مبتلا ہونے سے روک سکے۔ یہ اس کی شرعی ذمہ داری ہے۔”

ابھی تک جو سب اپنے اپنے کمروں میں تھے اس بلند آواز سے کی جانے والی بحث سے ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔ پہلے ساس اور سنیہ باہر آئیں پھر ساتھ والے کمرے سے زیبا بھابھی آئیں۔

”کیا ہوا کیوں صبح صبح شور مچا دیا ہے۔”

سنیہ جھنجھلائی ہوئی تھی۔ اسے کالج کی وجہ سے صرف اتوار کا دن ہی نیند پوری کرنے کا ملتا تھا۔

”یہ تو اپنی پیاری چھوٹی بھاوج سے پوچھو کیا کارنامے کر رہی ہیں۔”

سنیہ نے کچھ حیرت سے بسمہ کی طرف دیکھا کیونکہ اب تک کم از کم اس نے یہی دیکھا تھا کہ بسمہ ”کارنامے” دکھانے والی کیٹیگری کی بندی ہی نہیں تھی۔ سنیہ کو اتنا تو اندازہ تھا کہ اس میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ کچھ ایسا ویسا کام کر سکے۔ بلکہ وہ بچاری تو سسرال میں ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی رہتی۔ سسر کی بار بار کی چائے، بچوں کی نوڈلز یا چپس بنانے کی فرمائشیں، سنیہ کے کپڑوں کی استری، ساس کے پیروں کی مالش،پورا دن کسی ناکسی کی کوئی نا کوئی فرمائش پوری کرنے میں مصروف نظر آتی تھی اسے کارنامے دکھانے کا وقت ہی کہاں تھا۔

”نازی بھابھی آپ سے تو کم ہی کارنامے ہونگے مگر پھر بھی ہوا کیا ہے؟”

”محترمہ کا چکر چل رہا ہے احمد کے چھوٹے بھائی سے۔”

”کون وہ اسلم! وہ تو بہت چھوٹا نہیں ہے؟ یہ جانتی ہے اسے؟”

اس بار زیبا بھابھی حیرت سے بول پڑیں۔

”جانتی ہی ہوگی تبھی تو وہ میسج کر رہا ہے۔ اور پتا نہیں کیا گل کھلائے ہیں دونوں نے کہ وہ معافی مانگ رہا ہے۔”

جانتی ہی ہوگی کیا مطلب؟ یعنی ابھی تک اسے ڈھنگ سے بتانے کا موقع دیئے بغیر ہی تم اس پہ اتنے بڑے بڑے الزام لگا رہی ہو؟””

 ”لے لیں آپ اس کی سائیڈ جب بیٹا ہاتھوں سے نکل جائے گا تو سر پکڑ کے روئیں گی۔”

”فہد کی بات کر رہی ہو؟ اس کا اس سب معاملے سے کیا لینا دینا۔” رافیعہ بھابھی نے مشکوک نظروں سے بسمہ کو دیکھا۔ ساس اور سنیہ کی آنکھوں میں بھی یقین اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات تھے۔ بسمہ کو ان سب کے ردعمل پہ شدید تکلیف ہورہی تھی وہ تقریبا سال سے ان کے سامنے تھی اس کا کردار اپنے مشاہدے پہ پرکھنے کی بجائے وہ سب ایک غیر یقینی بات پہ یقین کرنے کو تیار تھے۔ کیوں؟ مگر اس کا جواب بسمہ کے پاس نہیں تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا گھر اسکول اب سسرال ہر جگہ اس نے یہی رویہ دیکھا تھا پتا نہیں کیوں لوگ پہلے سے سوچ کے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہر لڑکی ہر وقت بہکنے کے لیے تیار ہوتی ہے۔

”امی، سنیہ بھابھی آپ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ایسا کچھ ہوگا۔”

 ”لگنے کی گنجائش چھوڑی ہے تم نے؟ موبائل میں اسلم اور تمہارے میسجز ثبوت ہیں اس کا کہ کچھ تو ہوا تھا تم دونوں کے بیچ۔اور اس کو چلو چھوڑ بھی دیں تو یہ جو تمہارے اور فہد کے بیچ چل رہا ہے وہ کیا ہے؟” نازیہ بھابھی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کچھ نا بول دیں بسمہ کی کردار کی کمزوری کے ثبوت میں۔

 ”یعنی کسی بھی بات کو آپ اس سے جوڑ دیں گی کہ میں کچھ غلط کر رہی ہوں نا میسج میں کچھ ایسالکھا ہے نا آپ نے کبھی فہد اور مجھے کوئی نامناسب بات کرتے دیکھا۔ بلکہ اس حساب سے تو آپ کے اور باسط کے درمیان بھی کچھ ہوسکتا ہے جس طرح وہ آپ کی گود میں سر رکھ کے لیٹتےہیں آپ دونوں باتیں کرتے ہیں جڑ جڑ کر بیٹھتے ہیں۔”

اسے اتنا شدید غصہ آیا کہ اسے جو مبہم سا وہم تھا وہ اس کی زبان پہ آگیا اور وہ بھی صرف اپنا موقف بتانے کے لیے کہ ذرا سی بات چیت کا مطلب ناجائز تعلقات نہیں ہوتے۔

اسے احساس ہی نہیں تھا کہ غصے میں اس نے وہ راز فاش کردیا جو چھپا ہونے کے باوجود چھپا ہوا نہیں تھا۔ بس وہ ہی بے خبر تھی۔

بسمہ کی بات سن کر نازیہ کا رنگ ایک دم فق ہوگیا مگر اسے سنبھلنے میں چند ہی سیکنڈ لگے۔

اس نے آگے بڑھ کر بسمہ کے چہرے پہ تماچہ مارا۔

 ”تیری ہمت کیسے ہوئی مجھ پہ اتنا گھٹیا الزام لگانے کی بدکردار عورت۔ میں تیرا منہ نوچ لوں گی۔ جیسی خود ہے ویسا ہی دوسروں کو سمجھتی ہے اللہ کرے تجھے موت آجائے تو جہنم کی آگ میں جلے میری جیسی باکردار عورت پہ اتنا گھٹیا الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آئی نیچ عورت۔”

نازیہ کا جیسے ذہنی توازن بگڑ گیا تھا وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر بسمہ کو گندی گندی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھی۔ سنیہ نے آگے بڑھ کر نازیہ کو مزید مارنے سے روکا۔

 ”نازیہ بھابھی میں نے بھی وہی بات کی جو کئی دنوں سے آپ میرے لئے کہہ رہی تھیں مگر آپ کے دل میں چور ہے تبھی آپ کواتنا برا لگا کہ آپ غلیظ زبان استعمال کرنے پہ اتر آئی ہیں۔” بسمہ نے بہت غصے میں انگلی کا اشارہ اس کی طرف کر کے کہا

ایک دم سے کسی نے پیچھے سے بسمہ کے بال پکڑ لیے۔

”اب بول کیا بول رہی تھی نازی کے لیے؟ زبان کھینچ کے ہاتھ میں دے دوں گا تیری۔”

بسمہ کو پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کب اس سب شور کو سن کر باسط اوپر سے اتر آیا تھا۔

اب تک جو لوگ کمروں میں تھے وہ بھی نکل آئے تھے واحد بھائی اپنے کمرے کے دروازے پہ کھڑے تھے۔ چھوٹی بیٹی ان کے پیچھے کھڑی باہر جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ فہد ان سے کچھ آگے آکر کھڑا ہواتھا۔ پیچھے سیڑھیوں پہ رافع بھائی دونوں بچوں کو لیے کھڑے تھے۔ بس سسر شاید گھر میں نہیں تھے اتوار کو اس وقت وہ چھوٹا موٹا سودا لینے جاتے تو کچھ دیر دوستوں سے بات چیت کرتے ہوئے آتے تھے۔

نازیہ نے ایک دم خود کو سنیہ سے چھڑایا اور باسط کے کندھے سے لگ گئی۔

”دیکھ رہے ہو تمہاری بیوی میرے اور تمہارے لئے کتنی گندی باتیں کر رہی ہے۔ نکالو اس غلیظ عورت کو اس گھر سے۔”

وہ باسط کے کندھے پہ سر رکھے جھوٹی سسکیاں لینے لگی۔

 ”باسط! بسمہ نے کوئی الزام نہیں لگایا صرف مثال کے طور پہ حوالہ دیا تھا۔ کہ تھوڑی بہت بات چیت کا مطلب ناجائز تعلقات نہیں ہوتے۔ نازیہ فضول میں بات کا بتنگڑ بنا رہی ہے۔

زیبا بھابھی نے بات واضح کرتے ہوئے موقع کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ساس اور سنیہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔

 ”ہاں رافیعہ صحیح کہہ رہی ہے بات ایسی نہیں جیسی نازیہ نے بنا دی۔ یہ خود اتنی دیر سے عجیب عجیب الزام لگا رہی تھی بسمہ پہ، اس بچاری کو تو اب تک کچھ بولنے کا موقع بھی نہیں دیا ٹھیک سے۔”

اب ساس بھی بولیں۔

 ”امی آپ کو اور بھابھی کو جب ساری بات پتا نہیں تو بیچ میں ٹانگ کیوں اڑا رہی ہیں۔ آپ لوگ جائیں اپنے کمروں میں یہ ہم میاں بیوی کا معاملہ ہے ہم آپس میں نپٹا لیں گے۔”

”میاں بیوی کا معاملہ ہے تو یہ کون ہوتی ہیں اس میں بولنے والی۔”

بسمہ نے روتے روتے ایک دم غصے میں نازیہ کی طرف اشارہ کیا۔

 ”واہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے بسمہ بیگم یاروں سے میسجنگ خود کرو اور کوئی تمہیں سدھارنے کی کوشش کرے تو اس پہ گندے گندے الزام لگاو۔”

چیخ چیخ کر گندی گالیاں کوسنے دیتی نازیہ ایک دم سے بڑی پرسکون اور معاملے سدھار قسم کی بن گئی تھی۔ اس کا گھر کی عورتوں اور مردوں کے لیے الگ الگ روپ تھا۔

 ”اور زیبا بھابھی آپ تو کچھ بولنے سے پہلے اپنے بیٹے سے پوچھ لیں پھر ہمت ہو تو مہارانی کی سائیڈ لیجئے گا۔ آپ کی ہی پسند تھی یہ۔ میں نے تو پہلے بھی دیکھ کے کہا تھا کہ لڑکی ٹھیک نہیں لگ رہی اتنی خوبصورت لڑکیاں گھر بنانے والی نہیں ہوتیں ان کا ایک شوہر سے دل نہیں بھرتا۔”

”یہ میں کہاں سے آگیا بیچ میں؟”

ایک دم فہد بول پڑا۔

”تم چپ رہو بچے ہو بچے رہو۔”

 ”میرا نام آئے گا بیچ میں تو بولوں گا ہی بچہ ہوں تو میرا تذکرہ ایسی باتوں میں کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور نازیہ چاچی یہ تو آپ کی بھول ہے کہ ہم ابھی تک بچے ہیں ہمیں بچہ سمجھ کر ہی آپ ہمارے سامنے رات رات کو باسط چاچو کے کمرے میں جاتی تھیں یہ سمجھ کر کہ ہم سمجھ نہیں سکیں گے یا بھول جائیں گے۔” لڑکپن کی دہلیز پہ قدم رکھتا فہد نوجوانی کے جوش میں وہ کچھ بول گیا جو ذرا بڑا ہوتا تو کبھی بھی نا بولتااور اگر کہتا بھی تو کسی اور پیرائے میں۔ اسے شاید بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کی اس بات کا کیا ردعمل ہوسکتا ہے۔

اب کے غصے میں آنے کی باری رافع بھائی کی تھی وہ بچوں کو چھوڑ کر آگے بڑھے اور نازیہ بھابھی کو بازو سے پکڑ کر باسط سے الگ کھینچا۔

”بدچلن عورت شرم نہیں آئی تجھے میری عزت میرے بھائی کے ساتھ ہی نیلام کردی۔”

انہوں نے نازیہ بھابھی پہ لاتوں گھونسوں کی بارش کردی۔

 ”مارو مجھے جی بھر کے مارو مگر میں بسمہ نہیں ہوں جو خاموشی سے ہر بات سہہ لونگی تمہارے خاندان کا کچا چٹھا کھول دوں گی سب کے سامنے۔ ساری دنیا کو بتاوں گی کہ خود تم کس قابل ہو۔ اپنی مردانگی پہ حرف نا آئے اسی لیے خود مجھے اپنے بھائی کے سامنے پیش کیا تھا۔” نازیہ چیخ چیخ کے رو رہی تھی اور پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی۔ رافع بھائی کو جیسے ایک دم سکتہ ہوگیا۔

”یہ۔۔۔۔ یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ خود کو بچانے کے لئے مجھ پہ الزام لگا رہی ہے۔”

رافع بھائی ہکلانے لگے۔ گھر میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ صرف بسمہ اور نازیہ کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

رافع بھائی نے نیچے پڑی روتی نازیہ کو بازو سے پکڑ کے اٹھایا۔

”نکل میرے گھر سے بدکردار عورت مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی جو میری نسل خراب کرے اور خود کو بچانے کے لیے مجھ پہ اور میرے بھائی پہ الزام لگائے۔ نکل جا میرے گھر سے۔” انہوں نے دروازہ کھول کر نازیہ کو باہر دھکا دیا۔

”اب دوبارہ مجھے شکل مت دکھانا اپنی۔ طلاق کے کاغذ پہنچ جائیں گے تیرے باپ کےگھر ”

نازیہ تڑپ کے اٹھی۔ ”میرے بچے تو دے دو۔”

رافع بھائی نے دروازہ بند کردیا

رافع بھائی کے دروازہ بند کرنے تک سب گھر والوں پہ سکتہ سا طاری تھا۔ کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ہوا کیا۔ اتنا اچانک اور اتنا عجیب۔ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک میسج سے شروع ہونے والی بات اتنی بڑھ جائے گی۔ رافع بھائی بہت تیزی سے اوپر چلے گئے۔ سب کی نظریں ان کے پیچھے پیچھے سیڑھیوں تک گئیں۔ باسط نے رافع بھائی سے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر شاید اس کی بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بولے۔

”اوپر چلو تم ذرا، دل ٹھنڈا ہوگیا نا شوہر پہ الزام لگوا کے۔ بتاتا ہوں میں تمہیں ٹھیک سے۔”

باسط کے پاس شاید کچھ تھا ہی نہیں بولنے کو تو سارا غصہ دوبارہ بسمہ پہ اترنے لگا۔

”ارے نازیہ کو تو بلا لو اندر۔”

زیبا بھابھی دروازہ کھولنے کے لیئے بڑھیں۔

 ”چھوڑو زیبا بھگتنے دو اسے، ہماری ناک کے نیچے کھیل چل رہے تھے مگر ہم بھی کیا بولتے جب ہمارا ہی بیٹا مرد بن کے نا دکھا سکے تو۔ اب غیرت جاگی ہے تو کرنے دو تھوڑا اظہار۔ وقتی ہی سہی۔”

 ”امی آپ کو اور ابو کو رافع کے مسئلے کا پہلے سے پتا تھا۔ میں نے پہلے بھی روکا تھا کہ یا تو اس کا علاج کرا لیں پہلے، یا شادی ہی نا کرائیں غلط فیصلہ آپ لوگوں کا تھا اور بھگتنا نازیہ اور بچوں کو پڑے گا۔”

 ”اے بی بی بہو ہو تم اس گھر کی، اماں نا بنو۔ خاندان کی عزت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اپنی عزت سنبھالنا نازیہ کی ذمہ داری تھی۔ ایسی کیا جوانی ٹوٹی پڑ رہی تھی کہ۔۔۔۔۔ بس اب کیا بولوں۔ جو ہوا ٹھیک ہوا۔ ہمیں بھی پتا ہے کہ رافع میاں دو دن بعد جاکر پاوں پکڑ کے معافی تلافی کر کےلے آئیں گے اپنی جورو کو۔”

یہ سب بسمہ نے سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے سنا۔ چند گھنٹوں میں جوکچھ سامنے آیا وہ اس کے ہوش و حواس چکرا دینے کے لیے کافی تھا۔

اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بسمہ کو لگا اب اس کے پاس تھوڑا اختیار آیا ہے کہ وہ باسط سے پوچھ تاچھ کرسکے۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو باسط گم سم سا بیڈ پہ بیٹھا تھا۔ بالکل لاشعوری طور پہ وہ اس کو دیکھنے لگی اسے ابھی تک یقین نہیں تھا کہ جو کچھ اس نے ابھی ابھی نیچے سنا وہ سب صحیح بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے خیال میں تو یہ سب باتیں ڈراموں اور فلموں میں ہوتی تھیں وہ بھی پڑوسی ملک کے۔

”کیوں گھورے جا رہی ہو۔ نکلوا تو دیا نازیہ بھابھی کو گھر سے اب کیا چاہتی ہو۔ میں بھی چلا جاوں۔”

باسط کے لہجے کا تنتنا اب وہ نہیں تھا۔

 ”نازی نہیں بولیں گے؟ بہت دوستی اور انڈراسٹینڈنگ ہے نا آپکی۔ آپ نے تو روکا بھی نہیں کم از کم الزام کی تردید ہی کردیتے۔ جب آپ نے پہلی بار نازیہ بھابھی کے لیے کہا تھا نا کہ کہہ بھی کون رہا ہے جب انہوں نے مجھے ٹوکا تھا۔ پتا نہیں کیوں مجھے تب بھی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔ مگر میں یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ آپ خود ہی ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔

”عورت کردار کی کمزور ہو تو مرد فائدہ اٹھاتے ہی ہیں”

 ”کیوں؟ ویسے تو بڑے بہادری اور عقلمندی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ بھائی کی بیوی کے لیے یہ عقل کہاں تھی؟ بس یہاں آکر اپنی ذات پہ سارا قابو ختم ہوگیا؟”

 ”بسمہ اب تم حد سے زیادہ بڑھ رہی ہو۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ جو الزام نیچے مجھ پہ لگے ہیں وہ بھی ایک بچے کے کہنے پہ اس کی بنیاد پہ تم کچھ بھی بول لو گی۔ اور بسمہ بیگم آپ بھول رہی ہیں کہ آپ کا مسئلہ ابھی وہیں کا وہیں ہے۔ آپ کے اور اسلم کے چکر کا تو ابھی مجھے حساب چکتا کرنا ہے۔

 ”میرا اور اسلم کا کوئی چکر نہیں تھا۔ وہ صرف ایک سال میری کلاس میں پڑھا تھا اور وہ کس بات کی معافی مانگ رہا ہے مجھے پتا بھی نہیں۔ آپ چاہیں تو اس سے پوچھ لیں۔ ساری بات آپ نے پڑھ ہی لی ہے۔”

”واہ بھئی ابھی صبح تک تو آپ انکار کر رہی تھیں کہ آپ اسے نہیں جانتیں”

”اور کیا کہتی جب آپ کوئی منطقی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھے اور ساتھ میں نازیہ بھابھی بات کو بڑھا چڑھا کے بتا رہی تھیں۔”

 ”اس کا تو نام مت لو میرے سامنے کیسے سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے اس عورت نے۔ دو لاتیں پڑیں اور پتا نہیں کیا اول فول بکنے لگی۔ سچ کہتے ہیں لوگ عورت ذات کا اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔ کیا کچھ نہیں کیا میں نے اس کے لیے۔””

 ”ہمم، شوہر کی کمی بھی پوری کی۔” بسمہ نے زیر لب کہا۔ اور مڑ گئی

”کہاں جارہی ہو اب”

 ”دوپہر میں نازیہ کے جانے کا سوگ منانا ہے تو بتا دیں ورنہ کھانا پکالوں کچھ” بسمہ کو خود اپنے طنزیہ لہجے پہ حیرانی تھی شوہر کی ایک کمزوری پتا چلتے ہی اس کے لہجے میں ایک دم اعتماد آگیا تھا۔ باسط چپ ہی رہا وہ نیچے آکر سیدھا کچن میں چلی گئی۔ سارا دن عجیب سا سناٹا طاری رہا گھر پہ رافع بھائی کے کمرے سے وقفے وقفے سے بچوں کے رونے کی آواز اٹھتی پھر رافع بھائی کی ڈانٹ میں دب جاتی۔

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے