سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔قسط نمبر12

ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔قسط نمبر12

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر12

الحان اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا…. غصہ اور جیلسی اس کے چہرے کے نقوش پر واضح طور پر عیاں تھی…. دروازے پر کسی نے دستک دی تھی…. الحان اس قدر بے چین تھا کہ اسے دروازے پر ہوتی دستک سنائی تک نہ دی…. اگلی بار باہر کھڑے انسان نے دستک کے ساتھ آواز بھی لگائی….

”الحان!“

یہ مس فاطمہ کی آواز تھی…. آواز پہچانتے ہی وہ دروازے کی جانب دیکھنے لگا….

”یس؟“

”کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟“

وہ بند دروازے کی دوسری جانب کھڑی پوچھ رہی تھیں…. الحان نے تیوری چڑھاتے ہوئے آگے بڑھ کر ہینڈل گھماتے ہی دروازہ کھول دیا…. مس فاطمہ ہاتھ میں کھلا لیپ ٹاپ تھامے اسی کی جانب دیکھ رہی تھیں….

”آپ نے انٹرنیٹ چیک کیا؟“

”نہیں…. کیوں؟“

”سوشل میڈیا میں تہلکہ مچا ہوا ہے…. آپ کی اور مسکان کی ڈیٹ کو لے کر….“

انہوں نے خبر دیتے ہی، لیپ ٹاپ الحان کی جانب بڑھا دیا….

”مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ لوگ، مسکان کے منافق ہونے پر کوئی نہ کوئی ری ایکشن ضرور دیں گے….“

وہ تیوری چڑھائے، لیپ ٹاپ تھامتا،سامنے چیئر پر جا بیٹھا…. مس فاطمہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئیں….

”ایسا نہیں ہے…. بلکہ لوگ مسکان کو داد دے رہے ہیں…. لوگوں کا کہنا ہے کہ مسکان اس کومپیٹیشن کی سب سے ایماندار لڑکی ہے…. ان کا ماننا ہے کہ مانہ نے شو کے پہلے دن سے لے کراب تک اس شو میں اور آپ میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی…. وہ یقینا سبھی سے الگ اور گم سم سی رہتی ہے…. وہ واقعی ایک عجیب لڑکی ہے جسے الحان خوامخواہ سپورٹ کر رہا ہے….“

مس فاطمہ کی ڈیٹیل سنتے ہی وہ لیپ ٹاپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتا، غصے میں پھنکارتا اٹھ کھڑا ہوا….

”لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟…. کیا وہ پرسنلی جانتے ہیں مانو کو؟ اختلاف، تنقیداور تذلیل میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے…. اختلاف کر سکتے ہیں لوگ…. لیکن تنقید کا حق کسی کو نہیں ہوتا…. اور تذلیل کا حق تو کسی کو بھی نہیں ہوتا…. کون ہے یہ مسکان؟ کون ہیں یہ سوشل میڈیا کے لوگ؟…. میں کسی کو نہیں جانتا …. میں بس وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا….“

اس کا غصہ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا…. مس فاطمہ خاموش کھڑی تفکرانہ انداز میں اس کی جانب دیکھتی رہیں…. پھر بولیں….

”لیکن الحان! یہ بات بھی تو سچ ہے کہ مانہ نے واقعی شروع دن سے اس شو میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی….“

”کیونکہ وہ ان منافق لڑکیوں جیسی نہیں ہے…. وہ اس شو کا حصہ نہیں ہے…. وہ ان لڑکیوں سے،اس شوسے الگ ہے، بالکل الگ….“

مس فاطمہ خاموش کھڑی رہیں…. الحان چند ثانیے خاموش رہا پھر بولا….

”آپ مجھے یہاں صرف یہی خبر دینے آئی تھیں….“

وہ غالباً انہیں اپنے کمرے سے چلے جانے کو بول رہا تھا…. مگر مس فاطمہ سرہلاتے ہوئے ایک بار پھر سے بولیں۔

”ایک خبر اور بھی ہے…. وہ یہ کہ چینل والے چاہتے ہیں کہ آپ مسکان کو ایلیمینٹ نہیں کریں گے۔“ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ مانہ کو زیادہ فیور دیتے ہیں…. جس کی بناءپر آپ مسکان سے ناراضی اختیار کرتے ہوئے اسے گھر واپس بھیجنے کا یقینا ارادہ کرچکے ہوں گے…. چینل والے چاہتے ہیں کہ مسکان ٹاپ 4تک ایلیمینٹ نہیں ہونی چاہئے….“

مس فاطمہ کی ڈیٹیل سنتا وہ مزید آتش پا ہوتا چلاگیا…. شعلہ بھڑکاتی نگاہیں میچتا وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ جب تھوڑا سنبھل گیا تو تحمل سے گویا ہوا….

”اس شو کا پروڈیوسر کون ہے؟“

”آپ!“

”اس شو کا Bachelorکون ہے؟“

”آپ!“

”تو میں چینل والوں کے آرڈرز ایکسپٹ کیوں کروں؟ وہ مجھے آرڈر دینے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟….“

”الحان! بات کو سمجھنے کی کوشش کریں…. چینل والے مجبور ہیں…. آشلے اور مسکان کی ریٹنگ بہت زیادہ آئی ہے…. صرف ٹاپ 4تک کی بات ہے….“

الحان خود پرکنٹرول کرتا، لمبی سانس کھینچتا، اپنے بالوں میں ہاتھ پھنساتا، آنکھیں میچ کھڑا ہوا…. میں فاطمہ لیپ ٹاپ اٹھائیں، دروازہ بند کیے واپس جاچکی تھیں۔ الحان کا بس نہ چل رہا تھا…. کہ وہ پاس پڑی ہر چیز اٹھاکر توڑ پھوڑ کر رکھ دیئے……..

”بناوٹ اور ملاوٹ سے بھرپور لوگ…. دماغ خراب ہو گیا ہے سب کا…. جب وہ سب لوگ اسے جانتے تک نہیں…. تو اس پر انگلی کیسے اٹھا سکتے ہیں….“

غصہ کے عالم میں اس کا اس بند کمرے میں دم گھٹتا محسوس ہوا تھا…. ہینڈل گھما کر دروازہ کھولتا وہ غصہ کا اظہار کرتے ہوئے دروازہ زور سے پٹختا کمرے سے باہر نکل گیا….

ض……..ض……..ض

الحان کمرے سے نکلتا،سیدھا چوب محل کے مین دروازے کے بیچ و بیچ آن کھڑا ہوا…. سبھی لڑکیاں کوئی گیم پلان کرنے کا سوچ رہی تھیں….الحان نے دائیں جانب نگاہ دوڑائی…. مانہ الگ ایک بینچ پر بیٹھی، ایک خوبصورت چھوٹی سی بکری گودمیں لیے اس سے کھیلنے میں مصروف تھی…. کبھی وہ اس سے باتیں کرتی…. کبھی اسے پیار کرتے ہی مسکرا دیتی…. الحان محبت بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”کتنی معصوم ہے یہ…. سچائی اور ایمانداری کی بے مثال حقیقت…. کوئی بناوٹ نہیں، کوئی ملاوٹ نہیں…. بالکل صاف، شفاف…. جو دل میں ہو، وہی زبان پر رکھتی ہے…. اوروں جیسی منافق نہیں…. بناوٹی نہیں…. جھوٹی نہیں…. لوگ تو اندھے ہیں…. بناوٹی دنیا کے بناوٹی لوگ…. بناوٹی لوگوں اور چیزوں کو ہی پسند کرتے ہیں…. مجھے کسی کی پرواہ نہیں…. مجھے مانو سے محبت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا…. کوئی نہیں….“

من ہی من میں ہمکلام، وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا مانہ کی جانب بڑھنے لگا….

”الحان!“

آشلے دور سے اس کا نام پکارتی، اس کی جانب دوڑی چلی آئی…. مانہ کی جانب اٹھتے قدم تھم سے گئے…. آشلے اس کے نزدیک چلی آئی تھی….

”الحان! ہم لوگ ایک گیم پلان کر رہے ہیں…. تمہیں بھی ہمارے ساتھ کھیلنا ہو گا….“

وہ لاڈ سے بولی…. الحان دھیمے سے مسکرا دیا….

”اوکے…. تم چلو…. میں آتا ہوں….“

”نہیں…. ابھی چلو!“

وہ اس کے بازو کھینچتی کھلے میدان کی جانب لے جانے لگی…. الحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بازوﺅں سے الگ کیا….

”آشلے!…. مجھے ایک ضروری کام ہے…. تم چلو…. میں پانچ منٹ میں آ کر تمہیں جوائن کرتا ہوں….“

”مجھے معلوم ہے تمہارا ضروری کام!“

اس نے ایک نفرت بھری نگاہ مانہ پر دوڑائی…. پھر اگلے ہی پل پھر سے لاڈ کرتے ہوئے بولی….

”اچھا چلو ٹھیک ہے…. پانچ منٹ کا مطلب پانچ منٹ…. اوکے؟“

”اوکے….“

آشلے ایک بار پھر سے جاتے جاتے ایک نفرت بھری نگاہ مانہ پر دوڑاتی گئی تھی…. الحان اس کی اس حرکت پر دانت بھینچتا رہ گیا تھا…. تحمل کا مظاہرہ کرتا وہ مانہ کی جانب بڑھنے لگا…. وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا…. مانہ اس کی موجودگی سے انجان، بکری کو پیار کرنے میں مصروف رہی….

”آئی ایم سوری!“

الحان کی دھیمی سی آوازمانہ کی سماعت سے ٹکرائی…. وہ گردن گھما کر اپنے پیچھے کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”میں نے اوور ری ایکٹ کیا…. کیا مجھے اس کوتاہی کی معافی مل سکتی ہے؟“

وہ نظروں اورلہجے میں محبت سموئے، اس سے مخاطب تھا…. مانہ نے دھیمے سے مسکرا کرمعافی کا اشارہ دے دیا…. الحان بھی اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسی بینچ پر، اس کے برابر میںبیٹھ گیا….

”لیکن! مجھے واقعی پسند نہیں کہ تم عاشر سے بات کرو…. مجھے اس سے جیلسی فیل ہوتی ہے مانو!“

وہ براہ راست اس کی جانب دیکھتا، خفگی کا اظہار کرنے لگا….

مانہ اپنی آنکھیں میچ کر رہ گئی….

”خیر! مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے….“

مانہ خاموشی سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. الحان تھوڑی دیر خاموش رہا…. پھر مانہ سے نظریں چراتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”چینل والے چاہتے ہیں کہ میں ٹاپ (4) تک مسکان کو ایلیمنیٹ نہ کروں….“

مانہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”کیونکہ اس کی ریٹنگ بہت زیادہ آئی ہے اس لیے…. لوگ اسے اس شو میں پسند کر رہے ہیں….“

الحان نے اپنی بات مکمل کی….

”مسکان کی ہائی ریٹنگ، آپ دونوں کی ڈیٹ کے بعد سے آئی ہے؟“

مانہ کی دردبھری آواز اُبھری…. الحان خاموش رہا…. وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا…. وہ جانتا تھا کہ مانہ کا دل دکھا ہے…. وہ اسے ہرٹ نہیں دیکھ سکتا تھا….

”لوگ اسے پسند اس لیے کر رہے ہیں…. کیونکہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے؟“

وہ نم بھری نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھ رہی تھی…. اس کی آنکھوں میں ٹوٹی،بکھری پڑی درد کی کرچیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں…. اس کی آواز رندھی ہوئی تھی…. الحان پہلے سے ہی ہرٹ تھا…. منتشر تھا…. اس سے مانہ کی یہ حالت برداشت نہ ہوئی…. وہ پوری طرح سے مڑ کر براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگا….

”لوگ اندھے ہیں مانو! انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے…. پاگل ہیں سب کے سب….“

دو موتی لڑھکتے مانہ کے گالوں پر آن ٹھہرے…. اس نے جلدی سے اپنی شال کا پلو اٹھایا، اور اپنے گال بُری طرح سے رگڑ ڈالے….

”ان لوگوں کو کیا معلوم کہ سچائی، ایمانداری اور محبت کس چیز کا نام ہے…. عیب دار دنیا ہرکسی میں عیب تلاش کرتی ہے…. انہیں کیا معلوم کہ محبت عیب نہیں دیکھتی…. محبت اگر عیب دیکھتی تو اللہ کبھی ہماری طرف دیکھتا ہی نہیں….“

مانہ نم بھری نگاہیں اٹھائی الحان کی آنکھوں میں جھانکنے لگی…. جن آنکھوں میں صرف اس کی ذات کے لیے بے پناہ محبت چھلکتی دکھائی دے رہی تھی….

”اور مجھے تم میں کوئی عیب دکھائی دیتا ہی نہیں…. سوائے اس چشمے کے…. جو مجھے زہر لگتا ہے…. یہ چشمہ میرے اور میری من پسند آنکھوں کے بیچ دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے…. آئی ہیٹ یور چشمہ یار!…. لیکن پھر بھی یہ تم سے جڑا ہے…. اس لیے مجھے تمہاری چشمے سے بھی محبت ہے….“

مانہ روتے روتے اچانک سے ہنس دی…. الحان بھی مسکرا دیا تھا….

”دیٹس لائیک آ گڈ گرل…. مجھے تمہاری مسکراہٹ سے بھی محبت ہے…. تمہارے غصے سے بھی محبت ہے…. تم پرفیکٹ ہو مانو! بالکل پرفیکٹ!“

وہ سرگوشی میں گویا ہوا…. مانہ ہاتھوں سے گال پر اٹکے آنسو صاف کرتی دھیمے لہجے میں گویا ہوئی….

”تھینک یُو!“

”یو آر موسٹ ویلکم مائے لیڈی!“

وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا…. مانہ جھینپ جھینپ سی گئی….

”الحان!“

مسکان لمبے لمبے ڈگ بھرتی ان دونوں کی طرف بڑھتی دکھائی دی….

”مجھے اس کی آوازسے بھی نفرت ہونے لگی ہے….“

الحان نے تیوری چڑھائی…. مانہ دھیمے سے مسکرا دی….

”کوئی بات نہیں…. ٹاپ (4) تک برداشت کریں اسے….“

”اُف…. ہیل…. آئی ہیٹ ہر….“

الحان نفرت کااظہار کرتا اسی کی جانب بڑھنے لگا….مانہ وہیں پر بیٹھی، بکری کو گود میں لیے الحان کو خود سے دور جاتا دیکھتی رہی….

ض……..ض……..ض

سب سے یوں ملنا کہ جیسے دل میں کوئی دکھ نہ ہو

مجھ میں یہ خوبی بھی ہے سب خامیوں کے باوجود

کیکر کے درخت کے پار، دور اُفق پر چمکتے چاند کونظروں کا محور بنائے، وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی خاصی افسردہ دکھائی دے رہی تھی….

”میں جتنا خود کو سمیٹنے کی کوشش کرتی ہوں…. لوگ اتنا مجھے پاش پاش کرنے چلے آتے ہیں….“

درد سے کراہتی وہ آنکھیں جھپکانے لگی…. دو موتی لڑھکتے اس کے رخسار پر آن ٹھہرے….

”زندگی کی تلاش میں ہوں…. نجانے کہاں تک جاﺅں گی میں؟ یااللہ! تیری دنیا بہت اچھی ہے…. لیکن لوگ گندے ہیں…. کسی بھی طرح سے نہیں جینے دیتے….“

وہ افسردہ نگاہیں آسمان پر ٹکائے اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کرنے لگی تھی….

”کچھ حادثے تو ایسے بھی ہوئے ہیں میرے ساتھ…. چوٹ نہیں لگی…. پردرد بہت ہوا ہے….“

ٹیس اس قدر شدید تھی کہ وہ آنکھیں میچ کررہ گئی….

چاندنی، سفید اور سیاہ مربعے اور مستطیلیں اب اس کی نگاہ میں تھیں…. چاندنی کی دمک اس کی آنکھوں کو گدگدا رہی تھی….ہوا کی سرسراہٹ اس کے کانوں میں آرہی تھی…. خنکی اس کے رگ و پے میں سرایت کرنے لگی…. اس نے کھڑکی میں کھڑے رہنے کا ارادہ ترک کر دیا…. وہ بیڈ کے پاس رکھی سائیڈ ٹیبل کے پاس چلی آئی…. ٹیبل پرخالی گلاس رکھا اس کا منہ چڑا رہا تھا…. وہ کچھ سوچتے ہوئے گلاس اٹھاتی کمرے سے باہر نکل آئی…. زینہ بہ زینہ، دبے قدموں نیچے اُترتی، وہ آتش دان کے پاس تنہا بیٹھی صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی…. وہ شاید کوئی کتاب پڑھ رہی تھی…. مانہ اس ک قریب چلی آئی…. قدموں کی چاپ سنتے ہی صاحبہ نے کتاب پر سے نظریں ہٹا کر اوپر کی جانب نظریں دوڑائیں…. مانہ کو وہاں موجود دیکھتے ہی وہ ہڑبڑا اٹھی…. جلدی سے کتاب بند کرتی، وہ کتاب اپنی بائیں ٹانگ کے نیچے چھپا بیٹھی….

”آئی ایم سوری…. میں نے تمہیں ڈسٹرب کیا….“

مانہ نادم دکھائی دے رہی تھی….

”کوئی بات نہیں…. تم سوئی نہیں؟“

”سونے ہی لگی تھی…. بس پانی پینے آئی تھی…. تم کیوں نہیں سوئیں؟“

”مجھے نیندنہیں آ رہی….“

”خیریت؟“

”ہاں….“

مانہ لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتی کچن کی جانب قدم بڑھانے لگی کہ صاحبہ کے پکارنے پر اس کے قدم تھم سے گئے….

”مانہ!“

”ہوں؟“

وہ پلٹ کر اس کی جانب دیکھنے لگی….

”بیٹھو!“

وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی…. مانہ اس کی جانب دیکھتی، دو قدم آگے بڑھاتی…. گلاس ٹیبل پر رکھتی، وہیں آتش دان کے پاس صاحبہ کے سامنے بیٹھ گئی…. صاحبہ چند ثانیے خاموش رہی…. پھر اپنے گھنے لمبے کالے سلکی کھلے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑستی،اپنی ٹانگ کے نیچے چھپائی کتاب باہر نکالتی وہ ہنوز دھیمے لہجے میں گویا ہوئی….

”میں تمہارا ناول پڑھ رہی تھی….“

مانہ نے پہلے حیرت بھری نگاہ اپنی کتاب اور صاحبہ پر دوڑائی…. پھر دھیمے سے مسکرا دی….

”میں نے اس سے پہلے تمہارا ناول کبھی پڑھا نہیں تھا….پھر جب مجھے پتا چلا کہ تمہارے لکھے گئے ناول خاصے پسند کیے جاتے ہیں تو مجھے بھی پڑھنے کا شوق ہوا…. مجھے یہ کتاب عاشر نے دی ہے…. یہ ناول اتنا اچھا ہے کہ کتاب واپس کرنے کو دل ہی نہیں چاہ رہا ہے….“

”ہوں…. ناول اتنا اچھا ہے؟…. یا یہ کتاب دینے والا؟“

وہ اب اسے چھیڑنے لگی تھی…. صاحبہ جھینپ سی گئی….

”کیا مطلب؟“

”تم عاشر کو پسند کرتی ہو ناں؟“

”نہیں تو….“

صاحبہ گھبرا سی گئی…. مانہ مسکرا دی….

”اچھا…. مجھے ایسا لگتا ہے کہ عاشر بھی تمہیں پسند کرتے ہیں….“

”رئیلی؟“

وہ پھٹی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. اس کی آنکھوں میں جاگتی امید کی کرن مانہ سے چھپی نہ رہی تھی…. وہ بغور اس کی نگاہوں میں جھانکتی دھیمے لہجے میں گویا ہوئی….

”مجھے ایسا لگتا ہے….“

”کیا عاشر نے تم سے ایسا کچھ کہا؟“

”نہیں، کہا تو نہیں…. لیکن مجھے چہرے پڑھنا آتے ہیں صاحبہ!…. مجھے لگتا ہے تم دونوں کو آپس میں اس بارے میں بات کرنی چاہیے…. دل کی بات دل میںنہیں رکھنی چاہیے….“

صاحبہ خاموش بیٹھی کچھ سوچ میں پڑ گئی….

”زیادہ سوچو نہیں…. اگر دل میں واقعی ایسا کچھ ہے تو بول دو….“

”میں کیسے بول دوں…. لڑکی ذات ہوں…. خود سے جا کرمحبت کا اظہار کیسے کر سکتی ہوں….“

وہ پریشانی سے گویا ہوئی…. مانہ کن اکھیوں سے اس کی جانب دیکھتی دھیمے سے مسکرا دی….

”آ گئی ناں لائن پر….“

صاحبہ جھینپ سی گئی….

”دیکھو عاشر سے اس بارے میں بات کرو گی…. تبھی بات آگے بڑھے گی…. ورنہ یہ آنکھ مچولی کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا….“

”میں عاشر سے اس بارے میں بات نہیں کر سکتی…. وہ پہلے ہی مجھے اتنا ستاتے ہیں….“

”کیا مطلب؟‘

”Island پر جب میں مورنگ واک پر جاتی تھی تو عاشر ہمیشہ مجھے جوائن کرتے تھے…. اور اتنی ٹیز کرتے تھے کہ اللہ کی پناہ…. مجھ سے بات نہیں ہو گی….“

مانہ کو اچنبھہ ہوا اور خوشی بھی….

”اوہ…. آئی سی…. تو موصوف روز صبح تمہیں جوائن کرنے کو واک پر جایا کرتے تھے…. اور میں سمجھتی تھی کہ جناب کو فٹ رہنے کی عادت ہے…. اب سمجھی ساری بات…. اب مجھے کنفرم ہو گیا ہے…. کہ یہ محبت ایک طرفہ نہیں ہے…. بلکہ آگ دونوں جانب برابر کی لگی ہے…. آئی ایم شیور!“

”تم اتنا یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟“

صاحبہ پوچھ رہی تھی….

”انسان اسی کو زیادہ ٹیز کرتا ہے…. جس سے وہ محبت کرتا ہے….“

صاحبہ کی گوری رنگت میں گلابیاں چھانے لگیں…. وہ جھینپ جھینپ سی گئی…. اسی پل الحان سیڑھیاں اُترتا کچن کی جانب بڑھتا دکھائی دیا…. وہ دونوں اس پر نگاہ دوڑاتیںاک دوجے کی جانب دیکھنے لگیں…. مانہ دھیمی آواز میں گویا ہوئی…. الحان کو دیکھتے ہی اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا کوندا تھا….

”آج کل عاشر ہر وقت مصروف دکھائی دیتے ہیں…. شاید کام بہت بڑھ گیا ہے…. ہمیں کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ عاشر کو تھوڑی فرصت ملے اور پھر تم دونوں آرام سے بیٹھ کر اس بارے میں بات کر سکو….“

”مجھ سے بات نہیں ہو پائے گی….“

”ڈونٹ وری…. ہم کچھ ایسا کریں گے کہ عاشر خود چل کر آ کر تم سے اظہار محبت کریں….“

”کیا ایسا ممکن ہے؟“

صاحبہ کے چہرے پر 440 واٹ کا بلب چمکتادکھائی دیا….

”ان شاءاللہ!“

مانہ نے مسکراتے ہوئے، ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو چھوا….

”تھینکس! یُو آر سچ آ سویٹ ہارٹ!“

صاحبہ کی خوشی پر مانہ مسکرا کر رہ گئی….

”یُو ٹو!“

ض……..ض……..ض

”الحان!“

وہ جوکافی مگ میں پھینٹنے میں مگن تھا…. مانہ کی آواز سماعت سے ٹکرتے ہی سر اٹھاکر اس کی جانب دیکھنے لگا….

”مانو!“

ایک خوبصورت سی مسکراہٹ الحان کے لبوں پر پھیلتی چلی گئی….

”ہماری خوش قسمتی…. کہ آپ آج اپنے آپ ہم سے مخاطب ہوئیں!“

وہ مغلیہ انداز میں گویا ہوا تھا….

” مجھے آپ کی ہیلپ چاہیے….“

”ہاں،بولو!“

”آپ کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ عاشرزمان اپنے سب کام وام چھوڑ کر فرصت کے چند لمحات حاصل کر پائیں…. میرا مطلب کہ اگر کوئی ان سے کوئی اہم بات کرنا چاہے تو وہ آرام سے بیٹھ کر بات کر سکیں….“

الحان کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ایک دم غصہ میں بدلتی محسوس ہوئی…. وہ تیوری چڑھائے مانہ کی جانب پیٹھ کیے ایک بار پھر سے کافی پھینٹنے لگا….

"No!”

”کیوں نہیں…. آپ کے لیے ایسا کرنا آسان ہے…. مجھے معلوم ہے….“

”میں ایسانہیں کر سکتا…. اور میں ایسا کروں بھی کیوں؟“

وہ شعلہ بھڑکاتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”میں اپنے لیے ایسا نہیں چاہ رہی….“

وہ اس کی شعلہ بھڑکاتی نگاہوں سے سہم سی گئی تھی…. نظریں جھکائے وہ دھیمے لہجے میں گویا تھی…. الحان کو اچنبھہ ہوا….

”تو پھر؟“

وہ پوچھ رہا تھا….

”صاحبہ کے لیے!“

”صاحبہ کے لیے؟“

وہ چونکا…. پھر سوالیہ نگاہیں اس پر ٹکاتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”کیا مطلب؟ کیا کہنا چاہ رہی ہو تم؟“

”مجھے پہلے شک تھا کہ صاحبہ اور عاشر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں…. لیکن آج مجھے کنفرم ہو گیا ہے…. صاحبہ نے قبول کرلیا ہے…. عاشر کے دل میں کیا ہے…. یہ میں چاہتی ہوں کہ آپ پتا لگائیں…. کیونکہ میں نے ایک بار عاشر سے اس بارے میں بات کی تھی مگر انہوں نے میری بات ٹال دی…. شاید وہ آپ کو اپنے دل کی بات بتا پائیں…. اور اگر ایسا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ دونوں اس بارے میں ایک بار آپس میں بات کر لیں…. وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں…. لیکن اک دوجے کو یہ بات بتا نہیں پا رہے ….“

مانہ نے دھیمے لہجے میں تفصیل بتائی…. الحان چند ثانیے خاموش کھڑا کچھ سوچتا رہا…. اس کے چہرے پر حیرانی کے اثرات واضح طور پر عیاں تھے….

”تمہیں مجھ پر تو کبھی ترس نہیں آیا مانو!“

وہ اب شکوہ کرنے لگا….

”ہمارے بارے میں سوچنے کے بجائے تم اور لوگوں کی Love Story آگے بڑھانے میں لگی ہو….“

مانہ نے آنکھیں دکھائیں…. الحان مسکرا دیا….

”اچھا ٹھیک ہے…. سوچتا ہوں کچھ….“

”تھینک یُو!“

مانہ خوشی سے اُچھل پڑی…. الحان محبت بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ جلدی سے گلاس میں پانی بھرتی واپس دروازے میں آ کھڑی ہوئی…. وہ جاتے جاتے پلٹی….

”گڈ نائٹ!“

خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتی وہ تقریباً دوڑتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگنے لگی….

”گڈ نائٹ….“

الحان اسے نگاہوں سے اوجھل ہوتے دیکھ…. مسکرا کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

اگلی صبح وہ متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتا اصطبل کے پاس چلا آیا، جہاں عاشر گھوڑوں کا نظارہ کرتا، موبائل پر کسی سے محو گفتگو تھا…. الحان نے اسے دیکھتے ہی لمبی سانس کھینچی…. اسے اب عاشر سے جلن محسوس نہیں ہو رہی تھی…. نہ ہی اسے دیکھ کر اس کا خون کھول رہا تھا…. وہ اب پوری طرح سے ریلیکس تھا…. اسے اس شخص سے اب کسی قسم کا کوئی بھی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا تھا…. وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب چلا آیا….

”عاشر!“

عاشر نے ابھی ابھی بات ختم کرتے ہی موبائل اپنی جینز کی پاکٹ میں رکھا تھا…. الحان کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ سوالیہ نگاہیں اس پر ٹکا کھڑا ہوا….

”آج کوئی ڈیٹ نہیں شیڈول میں؟“

الحان نے نزدیک آتے ہی پوچھا….

”فی الحال نہیں….“

وہ سادگی سے بولا….

”ارینج کروا دو یار!…. بہت بور ہو رہا ہوں….“

الحان نے ایکٹنگ کی…. عاشر ایک اچٹتی نگاہ اس پر دوڑاتا ہاتھ میں پکڑے چند کاغذوں کو آگے پیچھے، الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا….

”اچھا سنو!“

الحان پھر سے بولا….

”ہوں؟“

عاشر مصروف انداز میں گویا ہوا…. الحان نے کن اکھیوں سے اس کی جانب دیکھا….

”ایسا کرو…. اس بار کی ڈیٹ صاحبہ کے ساتھ ارینج کرواﺅ…. میں اسے مزید جاننا چاہتا ہوں…. انفیکٹ ہماری ابھی تک کچھ زیادہ بات تک نہیں ہوئی ہے….“

الحان نہایت سنجیدگی اختیار کرتے، پاس کھڑے عاشر کو چھیڑنے لگا…. صاحبہ کا نام سنتے ہی عاشر کے مصروف ہاتھ ایک لمحے کے لیے رُکے…. وہ کچھ سوچنے لگا…. الحان نے دیکھا…. عاشر کے چہرے پر گہری سنجیدگی اور جلن ایک ساتھ بکھرتی دکھائی دی تھی…. الحان اندر ہی اندر بھنگڑے ڈالنے لگا…. معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ ایک دم سنجیدہ ہو کھڑا ہوا….

”تو پھر تم ارینج کروا رہے ہو ناں ہماری…. میرا مطلب میری اور صاحبہ کی ڈیٹ؟“

وہ بغور اس کی جانب دیکھتا اسے مزید کھوجنے کو تیار تھا….

”نہیں!“

وہ گہری سنجیدگی میں بولا….

”کیوں نہیں؟“

الحان نے ناراضی کی ایکٹنگ کی….

”کیونکہ فی الحال انتظامات نہیں کیے جا سکتے…. موسم کبھی بھی خراب ہو سکتا ہے….“

”کہاں کا موسم؟…. آسمان کا یا تمہارا؟“

الحان کی سرگوشی پر وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”کیا مطلب؟“

”مطلب یہ کہ….“

الحان چند ثانیے کو رُکا…. پھر بولا….

”تم صاحبہ کو پسند کرتے ہو…. رائٹ؟“

الحان شرارت سے مسکرانے لگا…. عاشر حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتا، نظروں کا زاویہ گھمائے متانت بھرے لہجے میں گویا ہوا….

”نہیں…. تم سے کس نے کہا؟“

”اندھا نہیں ہوں یار!…. تمہارے آنکھوں میں دکھائی دیتا ہے….“

عاشر خاموش ہو کھڑا ہوا….

”تم اقرار کرتے ہو…. یا پھر میں اقرار ہی سمجھوں؟….“

الحان اسے چھیڑنے لگا…. عاشر مسکرا دیا….

”ہاں کرتا ہوں…. لیکن اس کے دل میں کیا ہے…. یہ نہیں جانتا….“

”وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے….“

”یہ تمہیں صاحبہ نے کہا؟“

عاشر حیران ہوا….

”نہیں…. مانو نے اس سے بات کی تھی…. صاحبہ نے اپنی محبت کا اقرار کیا ہے….“

”اوہ….“

عاشر لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

”تو یہ تم دونوں کی ملی بھگت تھی….“

”بالکل…. اب بتاﺅ کہ صاحبہ سے بات کب کر رہے ہو؟“

”اس سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا…. جب سے ہم لوگ Ranch آئے ہیں…. ایک پل کی فرصت نہیں ملی یار….“

الحان کچھ سوچتے ہوئے بولا….

”ہوں…. چلو اس کا بھی کچھ نہ کچھ بندوبست ہم کیے دیتے ہیں…. ایسا کرتے ہیں…. کل میں ساری لڑکیوں کو ہائیکنگ پر لے جاتا ہوں…. صاحبہ بیمار رہنے کا بہانہ کر لے گی…. ہم لوگ چلے جائیں گے…. پیچھے تم دونوں آرام سے بیٹھ کر بات کرلینا….“

عاشر بھی سوچ میں پڑ گیا….

”ہوں…. گڈ آئیڈیا….“

الحان دھیمے سے مسکرا دیا….

ض……..ض……..ض

خبر ملتے ہی صاحبہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی…. شرم کے مارے سرخ ہوتا چہرہ جھکائے وہ جھینپ سی گئی….

دن ڈھل چکا تھا….سبھی لوگ چوب محل کے اندر موجود کسی نہ کسی کام میں جتے تھے…. ڈنر کی تیاریاں شروع کی جا چکی تھیں…. کوئی سلاد بنانے میں مصروف تھا تو کوئی گرِل کرنے میں، کوئی ہانڈی میں چمچ ہلا رہاتھا تو کوئی کچن میں ایسے ہی کھڑا خوش گپیوں میں مصروف تھا…. باہر لاﺅنج میں قدرے خاموشی تھی…. الحان عاشر کے برابر میں بیٹھا محو گفتگو تھا…. آسمان پر بھی نیلی چادر اب کالی چادر میں تبدیل ہو چکی تھی…. چوب محل کے باہر خنک ہوا کھلم کھلا دندناتی پھر رہی تھی…. دور سے دو تارے چمکتے ہوئے چوب محل کی طرف بڑھتے دکھائی دئیے تھے…. وہ دونوں چمکتے دمکتے، ٹمٹماتے تارے نزدیک ہوتے ہی کار کی ہیڈلائٹس میں تبدیل ہو چکے تھے…. ایک لمبی کالی مرسڈیز نخوت سے چلتی، اِتراتی بل کھاتی، چوب محل کے باہر آ رُکی…. گاڑی کے گھمنڈی ہارن پر الحان اور عاشر حیرانگی کا اظہار کرتے، تیزی سے چلتے، چوب محل سے باہر نکل آئے…. کار کا دروازہ کھلا تھا…. الحان متلاشی نگاہیں، ڈرائیونگ سیٹ کے کھلے دروازے پر ٹکائے کار کے نزدیک جانے لگا تھا…. وہ شاید اس کار کو پہچان گیا تھا…. تبھی خاصا حیران دکھائی دے رہا تھا….

”الحان! میری جان، میرے بھائی، میرے دوست!“

کبیر نے باہر نکلتے ہی خوشی کا اظہار کیا…. الحان اسے دیکھتے ہی تیوری چڑھا کر رہ گیا…. کبیر دوڑ کر اس کے نزدیک چلا آیا….

”ارے کتنا خوش دکھائی دے رہا ہے میرے یہاں آنے پر…. آ آ آ میرا پالا بچہ…. پہلے بول دیتا…. میں پہلے ہی چلا آتا….“

کبیر نے اس کے بگڑتے تیور دیکھ لیے تھے…. تبھی وہ اسے مزید تپانے کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑ رہا تھا….

”تُویہاں کیا کر رہا ہے؟“

الحان نے نزدیک پہنچتے ہی دانت پیسے…. کبیر معنی خیز نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتا، زبردستی بغلگیر ہوا….

”یاد ستا رہی تھی جناب آپ کی…. اس لیے دوڑے چلے آئے….“

الحان اسے گھورتا کچھ کہنے کو تھا کہ اگلے پل اس کی نگاہ کار کی پچھلی سیٹس کے کھلتے دونوں دروازوں پر جا رُکی….

”ڈیڈ!…. موم!“

ایک جانب ابراہیم صاحب سوٹڈ بوٹڈ کھڑے تھے اور کار کی دوسری جانب سوبر پرسنالٹی کی مالکہ مسزابراہیم…. الحان دونوں کو حیرانی سے دیکھتا ان دونوں کی جانب لپکا…. ابراہیم صاحب گھوم کر اپنی بیگم کے برابر میں آ کھڑے ہوئے….

”الحان! میرا بچہ!“

مسزابراہیم نے اپنے لاڈلے کو سامنے دیکھتے ہی اپنی مامتا کا اظہار کیا…. وہ تیزی سے چلتیں الحان کے قریب چلی آئیں…. زور سے بغلگیر ہونے کے بعد وہ اس کی پیشانی چوم رہی تھیں…. مسزابراہیم کی بہ نسبت، ابراہیم صاحب کافی چڑچڑے دکھائی دے رہے تھے…. ماں سے بغلگیر ہونے کے بعد اب وہ اپنے ڈیڈ سے بغلگیر ہوا تھا….

”تمہاری موم تم سے ملنے کو بے چین تھیں….“

ابراہیم صاحب نے اردگرد نگاہ دوڑائی…. کریو کے کچھ لوگ آس پاس جمع تھے…. سبھی نے آگے بڑھ کر سلام پیش کیا….

”ڈیڈ! یہ عاشرزمان! اسے تو آپ جانتے ہی ہیں…. میرا یونیورسٹی فیلو رہا ہے….“

الحان نے عاشر کا تعارف کروایا…. ابراہیم صاحب اثبات میں سر ہلاتے عاشر سے ہاتھ ملانے لگے…. ابراہیم صاحب کا رعب اتنا تھا کہ کریو کی پوری ٹیم سمیت الحان بھی چوکنا کھڑادکھائی دیا تھا….

”آپ لوگ اندر آئیے….“

الحان کی ریکویسٹ پر موم ڈیڈ سمیت سبھی لوگ چوب محل کے اندر داخل ہوتے دکھائی دئیے…. کبیر سے نظریں ملتے ہی الحان ایک بارپھر سے اسے گھور کر رہ گیا…. کبیر اس کی گھورتی نگاہوں کے بھی مزے لیتا، دندناتا ہوا اندر داخل ہو گیا….

ض……..ض……..ض

سبھی چوب محل کے لاﺅنج میں جمع تھے…. ابراہیم صاحب اور ان کی بیگم صوفوں پر براجمان تھے…. سبھی لڑکیاں کافی حد تک سٹپٹائی دکھائی دے رہی تھیں…. مس فاطمہ الگ کھڑی تھیں…. خرم، عاشر کے بغل میں موجود، عاشر کو تمام کیمرہ مین کو ہدایات دیتا دیکھ رہا تھا…. تمام کیمرے سیٹ کر دئیے گئے تھے…. ابراہیم صاحب اپنے اس چوب محل میں موجود ان تمام کیمروں کو دیکھتے مزید چڑچڑے دکھائے دے رہے تھے…. ان کے لیے یہ سب فضولیات میں شمار کیا جاتا تھا….اور پھر جب سے الحان نے اس شو میں آنے کی ٹھانی تھی تب سے ابراہیم صاحب کو اس شو سے کچھ خاص قسم کی نفرت محسوس ہونے لگی تھی…. مسزابراہیم اردگرد کا تمام نظارہ اگنور کرتیں، صرف لڑکیوں کو دھیان میں رکھے ہوئے تھیں…. وہ نہایت باریک بینی سے ہر ہر لڑکی کا سرتا پا جائزہ لیتی دکھائی دے رہی تھیں…. تمام کیمرے سیٹ کیے جا چکے تھے…. الحان نے گلا کھنگارا….

”لیڈیز! یہ میرے موم ڈیڈ ہیں….“

اس نے انٹروڈکشن کرایا….

”اینڈ موم ڈیڈ! یہ مانہ ہے….“

اس نے سب سے آگے اور گھبرائی کھڑی مانہ کی جانب اشارہ کیا….

مانہ سر ہلا کر سلام کرنے لگی….

”اور یہ صاحبہ!“

الحان نے مانہ کے برابر میں کھڑی صاحبہ کی طرف اشارہ کیا….

”اور یہ آماندہ، تائبہ، حانہ، جینی، اشلے اور مسکان!“

اس نے ایک ساتھ سبھی کا تعارف کرایا….

”او رمجھے بھول گیا؟“

الحان کے بغل میں کھڑے کبیر نے اسے کہنی ماری…. الحان اسے گھورتا، مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کا تعارف کرانے لگا….

”اینڈ لیڈیز…. یہ ہے کبیر،میرے بچپن کا دوست….“

الحان نے تعارف کراتے ہی دانت پیس لیے تھے، جبکہ کبیر کھلکھلا کر سبھی لڑکیوں کی جانب دیکھنے لگا تھا….

”اوکے گرلز! میرے پیرنٹس تھوڑی دیر آرام کریں گے…. پھر ہم سب ساتھ میں ڈنر کریں گے….“

الحان نے ابراہیم صاحب کا چڑچڑاپن نوٹ کرتے راہ فرار چاہی تھی…. وہ اب اگلے لمحے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا…. اور اس سب کے لیے وہ کبیر کا منہ نوچ لینے کو بھی تیار تھا…. وہ اپنے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتا، اپنی ماں کی جانب ہاتھ بڑھا کھڑا ہوا…. مسزابراہیم اس کا ہاتھ تھامتی اٹھ کھڑی ہوئیں…. ابراہیم صاحب بھی کھڑے ہو چکے تھے…. الحان ایک اچٹتی سی نگاہ گھبرائی کھڑی مانہ پر دوڑاتا اپنے موم ڈیڈ سمیت، گیسٹ روم کی جانب بڑھنے لگا…. گیسٹ روم میں داخل ہوتے ہی اس نے آہستگی سے دروازہ بند کر دیا…. دروازہ بند کرنے کی دیر تھی…. ابراہیم صاحب گھورتی نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگے…. موم سامنے رکھی کرسی پر جا بیٹھیں….

”الحان! تم ہماری فون کالز کا جواب کیوں نہیں دے رہے تھے؟…. تمہیں اندازہ بھی ہے کہ ہم لوگ کس قدر پریشان ہو گئے تھے….“

وہ درشت لہجے میں گویا ہوئے….

”ڈیڈ! میں شو میں بزی تھا…. یہاں فون زیادہ یوز کرنا الاﺅڈ نہیں ہے…. اور ویسے بھی یہ شو روز آن ایئر جاتا ہے…. میں اس شو میں دکھائی دیتا ہوں…. آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ میں بالکل ٹھیک ہوں….“

الحان اپنی موم کی جانب دیکھتا آہستگی سے گویا ہوا….

”میں یہ فضول شو نہیں دیکھتا….“

”میں دیکھتی ہوں الحان! باقائدگی سے دیکھتی ہوں تمہارا شو…. اور مجھے ایک لڑکی بھی پسند ہے….“

اس کی موم شیریں لہجے میں گویا ہوئیں….

”رئیلی؟“

الحان حیرانگی سے ان کی جانب دیکھنے لگا….

”یس بیٹا!…. مجھے مانہ پسند ہے….“

موم کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں…. الحان حیرانگی کا اظہار کرتا مسکرا دیا….

”تمہیں بھی مانہ پسند ہے ناں؟“

وہ اب اسے کن اکھیوں سے دیکھتی پوچھ رہی تھیں…. الحان جھینپ سا گیا….

”یس!“

اس نے اپے اندر خوشی سے اُچھلتے دل پر قابو پاتے، نارمل انداز میں کندھے اُچکا کر کہا….

”پوور گرل (Poor Girl) میری پوری ہمدردی ہے مانہ کے ساتھ…. بہت ستاتے ہو تم اسے….“

الحان مسکرانے لگا….

”اور ہاں…. مسکان کو اس بار تم ایلیمنیٹ کرو گے…. سمجھے تم….“

وہ اب خفگی کا اظہار کرنے لگیں….

”موم! میں ابھی مسکان کو ایلیمنیٹ نہیں کر سکتا…. چینل والے اسے ٹاپ (4) تک اس شو میں چاہتے ہیں….“

الحان نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا….

”مجھے یقین نہیں آ رہا…. کہ تم دونوں اس قدر بے وقوف ہو!“

ابراہیم صاحب ماں بیٹے کے بیچ میں کود پڑے…. الحان اب ابراہیم صاحب کی جانب دیکھنے لگا…. وہ بول رہے تھے….

”الحان تم…. اچھا خاصا بزنس چھوڑ کر ان تمام فضولیات میں لگے ہوئے ہو…. شرم آتی ہے مجھے تمہیں اپنا بیٹا تصور کرتے ہوئے….“

وہ اچھے خاصے بھنا گئے…. الحان موم کی جانب دیکھنے لگا…. موم خاموش بیٹھی رہیں….

”ڈیڈ!“

”دیکھو الحان! میں پہلے ہی تمہاری وجہ سے اچھی خاصی شرمندگی اٹھا چکا ہوں…. اب مزید کسی شرمندگی کی گنجائش نہیں رکھتا…. میں جانتا ہوں کہ تم یہاں گیم کھیلنے آئے ہو…. ٹائم پاس کرنے آئے ہو…. تم ایک لڑکی میں مسلسل دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہو…. اور اگر اس شو کے اینڈ پر یا اس شو کے بعد تم نے اسے دھتکار دیا تو میری بچی کچی عزت بھی خاک میں مل کر رہ جائے گی…. جانتے ہو تم؟“

وہ مسلسل اس پر گرجے چلے جا رہے تھے….

”ڈیڈ! میں مانہ کے ساتھ واقعی سیریس ہوں….“

”تم سیریس ہو؟“

وہ بغور اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگے….

”یس ڈیڈ!“

وہ اپنی بات پر ڈٹا رہا….

”تم پچھلے سال مسٹرتھامس کی بیٹی کے ساتھ بھی سیریس تھے…. تمہیں معلوم ہے ناں؟“

وہ اسے کچھ یاد دلانے لگے…. الحان آنکھیں میچ کر رہ گیا….

”میں اپنے پاسٹ میں کبھی کسی کے ساتھ سیریس نہیں رہا ڈیڈ!…. وہ میرے لیے سیریس تھی…. میں اس کے لیے سیریس ہرگز نہیں تھا….“

”دیکھو الحان! میری بات کان کھول کر سن لو…. تم اگر اس شو کے اینڈ میں یا بعد میںاس لڑکی کو دھتکارنے والے ہو تو اس گیم شو کو ابھی روک دو…. ورنہ….“

”ڈیڈ پلیز…. یہاں آپ کو مجھ پر ٹرسٹ نہیں…. وہاں مانو مجھ پر ٹرسٹ نہیں کرتی…. میں کیا کروں؟“

وہ بُری طرح جھلّا گیا….

”کیونکہ تم ٹرسٹ کے قابل نہیں ہو….“

ابراہیم صاحب نے آنکھیں دکھائیں…. الحان بجھ کر رہ گیا….

”یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟…. یقین کیوں نہیں کر رہے میرے بیٹے پر؟…. ہو سکتا ہے اس بار ویسا ہی ہو…. جیسا وہ بول رہا ہے….“

مسزابراہیم پریشانی سے گویا ہوئیں…. ابراہیم صاحب غصے میں پھنکارتے بیڈ پر جا بیٹھے…. الحان اپنا سر تھام کھڑا ہوا….

”الحان بیٹا!“

مسزابراہیم نے اپنے ہینڈ بیگ میں سے ایک کتاب نکالی اور پھر اٹھ کر اس کے نزدیک چلی آئیں….

”میں نے مانہ کی کتاب بھی پڑھی ہے…. بہت اچھا لکھتی ہے وہ بچی! کیا تم مجھے اس کتاب پر اس کا آٹوگراف لے کر نہیں دو گے؟“

وہ دمکتا چہرہ لیے، شیریں لہجہ میں گویا ہوئیں…. الحان کو دھچکا لگا…. وہ پہلے ان کے ہاتھ میں پکڑی کتاب اور پھر ان کے دمکتے چہرے کی جانب دیکھنے لگا…. اس نے بمشکل خود پر قابو پایا….

”موم! آپ نے اس کا ناول پڑھا ہے؟“

”ہاں بیٹا!…. تمہارے ڈیڈ نے بھی پڑھا ہے….“

وہ بخوشی بتانے لگیں…. الحان بے یقینی کے عالم میں بیڈ پر بیٹھے اپنے ڈیڈ کی جانب دیکھنے لگا…. نظریں ملتے ہی ابراہیم صاحب نے نظروں کا زاویہ پھیر لیا….

”آ…. آپ کو کیسے معلوم کہ مانہ لکھاری ہے؟“

وہ اچنبھے اور خوشی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے مخاطب تھا….

”لاسٹ ایلیمنیشن والی دونوں لڑکیوں نے باہر آتے ہی ٹی وی اور انٹرنیٹ پر واضح طورپر اعلان کیا تھا…. کہ ہماری مانہ مشہور مصنفہ میمانہ انان ہے….“

”اوہ….“

الحان اپنے لب بھینچ کررہ گیا….

”اوکے! آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں…. ہم لوگ ڈنر ساتھ میں کریں گے….“

موم اثبات میں سر ہلانے لگیں…. الحان موم کے رخسار اور پیشانی چومتا، کمرے سے باہر نکل آیا….

ض……..ض……..ض

رات کے کھانے کی شروعات کی جا چکی تھی…. سبھی لوگ بڑی سی ڈائننگ ٹیبل پر برجمان کھانا نوش فرمانے میں مصروف تھے…. ابراہیم صاحب گہرے خاموش انداز میں کھانا کھا رہے تھے،جبکہ مسزابراہیم گاہے بگاہے، کھانے کے دوران کچھ نہ کچھ بولے چلی جا رہی تھیں…. ان کی بات شروع کرتے ہی سبھی لوگ ان کی جانب متوجہ ہو بیٹھتے…. کیمروں کے پیچھے کی ٹیم کیمروں کے پیچھے کام کے ساتھ کھانا نوش فرما رہے تھے…. عاشر ہمیشہ کی طرح چھوٹی سی سکرین کے سامنے بیٹھا ہر چیز کا باقاعدہ سے جائزہ لے رہا تھا…. الحان نے چاولوں کی بائٹ لیتے ہی بے ارادہ طور پر نظریں اٹھا کر اپنے سامنے والی کرسی پر چاول کھاتے کبیر کی جانب دیکھا…. جومعنی خیز نگاہوں سے اسے اپنی ہی جانب دیکھتا دکھائی دیا تھا….الحان اسے گھور کر رہ گیا…. کبیر شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے نظروں کا زاویہ پھیر گیا…. کھانے کے بعد مسز ابراہیم صوفہ پر براجمان ہوئی تھیں…. سبھی لڑکیاں ان کے اردگرد پھیلیں ان کی چاپلوسی کرنے میں مصروف تھیں…. ایسے جیسے ان کی چاپلوسی کرنے پر وہ انہی میں سے کسی ایک کو اپنی بہو بنا کر اپنے ساتھ گھر لے جائیں گی…. ابراہیم صاحب خاموش بیٹھے ہر ہر فرد، ہر ہر چیز کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے، جبکہ الحان اور کبیر اپنی موم کے اردگرد بیٹھی سبھی لڑکیوں کی حرکتوں کا مزہ لیتے دکھائی دے رہے تھے….

”میں سب کے لیے کافی بناتی ہوں….“

مانہ کچن کی جانب بڑھنے لگی….

”میں تمہاری مدد کرتی ہوں….“

صاحبہ بھی اس کے پیچھے دوڑ گئی…. ابراہیم صاحب نے ان دونوں کو کچن کی جانب برھتے دیکھا تھا…. چند ثانیے بعد وہ الحان سے نظر بچاتے اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئے….

مانہ اور صاحبہ کافی بنانے میں مصروف تھیں…. عقب سے اُبھرتی گلہ کھنگارنے کی آواز پر وہ دونوں چونک کر پلٹیں…. سامنے ابراہیم صاحب کھڑے تھے…. انہیں دیکھتے ہی مانہ کے ہاتھ پیر پھولنے لگے…. خوف کے مارے اس کا گلا خشک ہونے کو آیا تھا…. ابراہیم صاحب کا رعب اتنا تھا کہ وہ خود سے کچھ بول ہی نہ پائی…. خاموشی سے لب بھینچتی وہ سوالیہ نگاہیں ان کے چہرے پر دوڑاتی صاحبہ کی جانب دیکھنے لگی…. جو خود کافی حد تک ڈری ہوئی دکھائی دے رہی تھی….

”آپ بیٹا تھوڑی دیر کے لیے باہر جائیں گی؟ مجھے مانہ سے ایک ضروری بات کرنی ہے….“

ابراہیم صاحب کا اشارہ صاحبہ کی جانب تھا…. وہ خاموشی سے سر اثبات میں ہلاتی کچن کے دروازے کی جانب بڑھنے لگی….

”اور ہاں، باہر کسی سے کچھ کہنا مت…. دو منٹ بعد چپکے سے واپس آ جانا….“

”جی!“

وہ سر ہلاتی، مانہ پر نگاہ دوڑاتی کچن سے باہر نکل گئی…. مانہ کی حالت بری ہو چلی تھی…. وہ ساکت کھڑی، سانس روکے ابراہیم صاحب کی جانب دیکھنے لگی…. وہ اب اس سے مخاطب تھے….

”آپ اچھی خاصی سمجھدار ہو مانہ! ایک رسپیکٹ ایبل کام کرتی ہو…. اس کے باوجود…. اس فضول سے شو میں، ان منافق لڑکیوں کے بیچ کیوں چلی آئی ہو؟“

وہ گہری سنجیدگی سے گویا تھے…. مانہ کا سانس پھولنے لگا تھا…. سردی کے باوجود اس کے ماتھے اور ہاتھوں پر پسینے کے چند قطرے نمودار ہونے لگے تھے….

”تھوری پرابلم…. کچھ…. مسئلہ…. اچانک….“

اس کی آواز گلے میں دب کر رہ گئی…. اس کے الفاظ خوف کے مارے باہر نکلنے کو تیار ہی نہ تھے…. اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے، کیا بولے۔ وہ خاموش ہو کھڑی ہوئی…. ابراہیم صاحب نے گہری لمبی سانس کھینچی….

”خیر! تم کافی سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی ہو اس شو میں…. لیکن الحان!….“

وہ چند ثانیے رُکے….پھر بولے….

”اس کی عادات سے تو میں اچھے سے واقف ہوں…. میری ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ الحان زندگی کے بارے میں سیریس ہو جائے…. اپنے بزنس کے لیے سیرس ہو جائے…. لیکن اس نے ہمیشہ مجھے شرمندہ اور نااُمید ہی کیا ہے….“

مانہ خاموش کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی….

”الحان کا کہنا ہے کہ وہ تمہارے لیے سیریس ہے….“

مانہ نظریں جھکا کھڑی ہوئی…. اس کی حالت بری سے بری تر ہوتی چلی جا رہی تھی….

”اگر ایسا واقعی ہے تو یقینا میرے لیے خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہے گی کہ تم جیسی شریف،نیک، ایماندار اور سمجھدار لڑکی میرے اس نادان بیٹے کی زندگی میں چلی آئے، جس نے اسے سچی محبت سے آشنا کرایا…. جس نے اسے زندگی کے لیے سیریس ہونا سکھایا…. میں بیٹا خوشی خوشی تمہیں اپنی بہو کی صورت قبول کرنے کو تیار ہوں….“

مانہ انکھیں میچتی لمبا سانس کھینچنے لگی…. وہ رونے کو آئی تھی…. بمشکل خود پر قابو پاتی وہ اپنے آنسو اندر کی جانب کھینچنے لگی…. ابراہیم صاحب بول رہے تھے….

”لیکن مجھے ڈر ہے…. کہ شاید الحان تمہیں صرف اس شو کے لیے پسند نہیں کر رہا ہو…. کہیں وہ اس شو کے اینڈ میں یا شو کے باہر تمہیں دھتکار نہ دے…. میں الحان سے ڈرتا ہوں…. اس کی حرکتوں سے اس کے فیصلوں سے ڈرتا ہوں…. میری تم سے صرف ایک گزارش ہے بیٹا!…. تم جیسے اس شو میں چل رہی ہو…. ویسے چلتی رہو…. الحان کو اپنی جانب سے کوئی امید کی کرن مت تھمانا…. پوری دنیا دیکھتی ہے یہ شو…. اگر تم نے اسے امید کی کرن تھما دی…. اور اس کے بعد اس نے اگر تمہیں دھتکار دیا تو یہ صدمہ میں برداشت نہیں کر پاﺅں گا…. پہلے بھی لوگ الحان کے اس شو کو لے کر طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں…. وہ میرا بیٹا ہے…. مجھے اس سے محبت ہے…. کوئی میرے سامنے میرے بیٹے کے خلاف بات کرے یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا….“

مانہ ان کے خاموش ہونے پر نظریں نہ اٹھا پائی…. اس کی آنکھیں بھیگی تھیں…. ابراہیم بغور اس کے چہرے کا جائزہ لینے لگے….

”تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں؟“

انہوں نے پوچھا…. مانہ آہستگی سے سرہلانے لگی….

”مجھے تم سے یہی اُمید تھی….“

ابراہیم صاحب پہلی بارمسکرائے….

”الحان کو تھوڑا ٹائم دو…. اس شو کے باہر، اس شو سے ہٹ کر، اگر الحان تمہیں پروپوز کرتا ہے…. تمہیں اپنانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے…. تو میں وعدہ کرتا ہوں بیٹا کہ میں اسی دن، اسی پل تمہیں اپنی بہو بنا کر اپنے گھر لے جاﺅں گا…. اور میری خواہش ہے کہ ایسا ہی ہو….“

مانہ نے ذرا کی ذرا پلکیں اٹھا کر ابراہیم صاحب کے مسکراتے چہرے کی جانب دیکھا…. وہ اس سے نظریں ملاتے…. اثبات میں سر ہلاتے، کچن سے باہر نکل گئے….مانہ کے جسم میں جان واپس آئی…. اس نے لمبی سانس کھینچی اور گم صم نگاہوں سے کچن کے دروازے کی جانب دیکھنے لگی…. اس کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی…. وہ پلٹی اور سامنے شیلف پر رکھے خوبصورت کانچ کے مگوں پر نظر دوڑاتی آنکھیں میچ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

کافی کا دور اختتام کو تھا…. سبھی لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے…. مانہ سب سے الگ تھلگ بیٹھی…. مگ تھامے نجانے کن سوچوں میں گم تھی…. الحان گاہے بگاہے نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھ رہا تھا….

”سرپرائز!“

خرم الہٰ دین کے چراغ کے جن کی طرح ایک بار پھر سے آن وارد ہوا تھا…. سبھی لوگوں نے ایک ساتھ سر اٹھا کرسامنے کھڑے، شریر مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے خرم کی جانب دیکھا…. لڑکیوں کے چہروں پر حیرانگی کے ساتھ خوف بھی ناچتا دکھائی دے رہا تھا…. کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ خرم سرپرائز صرف ایک ہی چیز کا دیا کرتا تھا…. اور وہ سرپرائز ہوتا تھا…. ایلیمنیشن….

’یس! ایلیمنیشن سرپرائز!“

سبھی لڑکیاں ایک ساتھ چلاّئی تھیں….

”یس!“

خرم دانت نکالتا الحان کی جانب دیکھنے لگا…. الحان اس کا اشارہ سمجھتا، سر ہلاتا اس کے بغل میں جا کھڑا ہوا…. سبھی لڑکیاں منہ بسور بیٹھی تھیں….

”لیڈیز پلیز!“

خرم نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں قطار بنا کر کھڑے ہو جانے کو کہا…. سبھی لڑکیاں منہ بسورتی قطار بنا کھڑی ہوئیں…. ابراہیم صاحب ہنوز چڑچڑے دکھائی دئیے، جبکہ مسزابراہیم تفکر بھرے انداز میں سبھی لڑکیوں اور پھر خرم کے بغل میں خاموش کھڑے الحان کی جانب دیکھنے لگیں…. کبیر پُرشوق نگاہوں سے براہ راست ایلیمنیشن کی گھڑیاں دیکھ رہا تھا….

”الحان آج دو لیڈیز کو ایلیمنیٹ کریں گے…. جو ابھی اسی وقت اپنا سامان پیک کریں گی…. اور باہر کھڑی وین…. جو کہ انہی کا انتظار کر رہی ہے، پر سوار ہو کر، اپنے اپنے گھروں کو واپس روانہ ہو جائیں گی….“

مانہ اور صاحبہ کو چھوڑ کر باقی سبھی لڑکیوں کے چہروں پر بجتے بارہ کسی سے چھپے نہ رہے تھے…. خرم کیمروں کے پیچھے جا کھڑا ہوا…. گلابوں بھری ٹیبل الحان کے سامنے موجود تھی…. اس نے گلا کھنگارا…. سبھی لڑکیوں پر نگاہ دوڑائی، پھرایک گلاب اٹھایا…. اور کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مانہ کا نام پکار ڈالا…. مانہ خاموشی سے چلتی اس کے قریب آئی، گلاب تھامتی، دوسری جانب کھڑی ہوئی…. دوسرانام صاحبہ کا پکارا گیا…. وہ بھی گلاب تھامتی، مانہ کے بغل میں جا کھڑی ہوئی…. آشلے نفرت بھری نگاہوں سے گلاب پکڑے کھڑی دونوں لڑکیوں کو گھورنے لگی…. تیسرا پکارا جانے والا نام جینی کا تھا…. چوتھا نام تائبہ، پانچواں آشلے اور پھر آخر میں بہت سوچنے کے بعد مسکان کا نام پکارا گیا…. جو اپنا نام سنتی سکون کا سانس لیتی،مسکراتی ہوئی الحان کے سامنے آ کھڑی ہوئی…. الحان نے نارمل بی ہیو کیا…. مسکان گلاب تھامتی سلیکٹ کی جانے والی پانچوں لڑکیوں کے برابر جا کھڑی ہوئی…. ایلیمنیٹ کی جانے والی دونوں لڑکیاں، حانہ اور آماندہ افسردہ سر جھکائے کھڑی آنسو بہانے لگی تھیں….

”سوری لیڈیز!“

الحان نے افسردگی سے کہا….

ایلیمنیٹ کی جانے والی دونوں لڑکیاں، سلیکٹ کی جانے والی لڑکیوں سے بغلگیر ہوتی، اپنا سامان پیک کرنے کی غرض سے زینہ بہ زینہ سیڑھیاں چڑھتی چلی گئیں….

”لیڈیز! آپ لوگوں کا الحان کے ساتھ کل کی ہائیکنگ کا ٹرپ کینسل ہوا چاہتا ہے…. کیونکہ کل آپ سبھی کو ہائیکنگ کے بجائے کہیں اور لے جایا جائے گا…. کہاں؟…. یہ آپ کو مسزابراہیم بتائیں گی….“

خرم مہذب انداز میں بولتا،مسزابراہیم کی جانب دیکھنے لگا….

الحان یکایک چونک اٹھا….وہ حیرانگی سے اپنی موم کی جانب دیکھنے لگا….

”سوری بیٹا! آپ لوگوں کی ہائیکنگ کا پلان کینسل کرا دیا گیا…. میں دراصل چاہ رہی تھی کہ آپ سبھی کو ایسی جگہ لے جایا جائے جہاں صرف آپ لوگوں کا ہی نہیں بلکہ وہاں پر موجود، وہاں پر بستے سبھی بچوں کا دل بھی آپ سبھی سے مل کر یقینا خوش ہو جائے گا….“

مسزابراہیم چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئیں، مسکرائیں، پھر بولیں….

”ہماری شادی کے آٹھ سال تک، ہمارے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی…. ابراہیم صاحب کو بچوں سے بہت لگاﺅ تھا…. پھر ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ ایک سینٹر کھولنا چاہتے ہیں…. جہاں یتیم بچوں کی اچھے سے پرورش کی جا سکے…. ان کا اچھا مستقبل بنایا جا سکے…. میں نے ان کی سوچ پر انہیں داد دی…. پھر ہم نے ایک سینٹر کھولا…. جس کا نام ہم نے (House of Happiness) رکھا…. وہ سینٹر کھولنے کے ٹھیک ایک سال بعد، اللہ نے ہمیںایک بیٹے کی خوشی سے نوازا….“

مزابراہیم چمکتی نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگیں…. الحان خوشگوار مسکراہٹ لبوں پر سجائے انہی کی جانب دیکھ رہا تھا…. سبھی لڑکیاں بہت غور سے ان کی باتیں سن رہی تھیں…. لاﺅنج میں بالکل خاموشی چھائی تھی…. صرف مسزابراہیم کی آواز گونج رہی تھی….

”میں چاہتی ہوں کہ آپ سبھی وہاںچل کر،ان یتیم بچے بچیوں کے ساتھ تھوڑا ٹائم گزاریں…. انہیں آپ سبھی سے مل کربہت خوشی ہو گی…. وہ بچے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو جیتے ہیں…. اور مجھے یقین ہے کہ آپ سبھی کو بھی وہاں جا کر ان معصوم بچوں سے مل کر یقینا دلی خوشی محسوس ہو گی….“

مسزابراہیم کی بات کے اختتام پر سبھی لڑکیاں کھلے دل سے مسکراتی اثبات میں سر ہلانے لگی تھیں…. اب نجانے وہ دل سے مسکرائی تھیں یا صرف سامنے ریکارڈنگ کرتے کیمروں کے لیے…. ان سب میں صرف ایک تھی…. جو بے حد افسردہ، سر جھکائے کھڑی تھی…. نجانے اسے کس بات کا غم تھا…. ابراہیم صاحب کی باتوں کا یا پھر مسزابراہیم کی باتیں سن کر وہ اس قدر افسردہ ہو کھڑی ہوئی تھی…. الحان نے اس پر نگاہ دوڑائی…. وہ اس کے افسردہ چہرے کا جائزہ لیتا من ہی من میں ہمکلام ہوا….

اسے کیا ہو گیا ہے اچانک؟….“

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے