سر ورق / ناول / چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں

آسیہ مظہر چوہدری

قسط نمبر 2

دو دن ہو گئے تھے اسے کمرے میں بند ہوئے ۔ وہ اتنی شرمندہ تھی کہ کسی کا سامنا کرنے کی بھی روادار نہیں تھی ۔ پری اپنی ناراضگی بھلا کر ایک بار پھر اسے سمجھا رہی تھی۔

”گلناز اب کیا مسئلہ ہے تمہیںجو گھر والوں سے بھی بات نہیں کر رہی ہو اور یونیورسٹی جانا بھی بند کر دیا ہے ۔ پتا ہے تمہیں مس عائلہ اور مس شوکت تمہارا پوچھ رہی تھیں ۔ “ وہ اس کے قریب آتے ہوئے بولی تھی۔

” میرا دل اچاٹ ہو گیا ہے سب سے۔“ وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی۔

”واٹ! دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟“ پریشے کو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہوا تھا۔

”دیکھو گلناز اگر تم مجھے اپنی دوست مانتی ہو تو اپنا مسئلہ شئیر کرو۔“ پریشے نے ایک مرتبہ پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

”میں بہت بری ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ یکدم پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور پھر پری کو ساری روداد سناتی چلی گئی اور پری جیسے جیسے سنتی گئی حیرت کے مارے گنگ ہوتی گئی۔ اس کہانی نے اس کے دماغ کی چولیں تک ہلا دی تھیں۔

”تم لالہ خان کی بیٹی نہیں ہو اور گل بخت چاچی اور گل بخت چاچی اوہ خدایا یہ کیا ماجرا ہے؟“ پری تو سب سن کر سر پکڑ کر رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

”امو جان ہم نے گلناز سے حقیقت چھپا کر غلطی کی ہے۔ہمیں بہت پہلے ہی اسے سب بتا دینا چاہیے تھا تو شاید اس کا ری ایکشن اتنا شدید نہ ہوتا۔“ گل بخت اس وقت امو جان کے کمرے میں موجود تھیں۔

” چلو۔۔۔ اب جو ہوا اچھا ہوا۔ اسے حقیقت پتا چل گئی، اب وہ سنبھل جائے گی اور میں بھی اسے سمجھاو ¿ں گی۔“ امو جان نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔

”ہوں وہ تو ٹھیک ہے۔ پر امو جان آپ جانتی ہیں دو دن ہو گئے ہیں اسے کمرے میں بند ہوئے۔ یونیورسٹی کا بھی بائیکاٹ کیے ہوئے ہے۔“ گل بخت کا لہجہ پریشان کن تھا۔

”ہم جانتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔ وہ شرمندہ ہے ہم سے اس لیے اپنا آپ چھپائے پھر رہی ہے۔ تم دیکھنا ابھی وہ معذرت کرنے آئے گی۔ ہمیں ا سکے بارے میں خوب علم ہے۔“ اموجان کا اندازہ آخر میں فخریہ ہو گیا تھا۔ گل بخت نے ان کی بات پر محض سر ہلایا تھا۔

٭….٭….٭

”مجھے تم سے ایسی بے وقوفی کی امید نہیں تھی گلناز۔“ پری نے اسے ناراض نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”تم بھی ایسا کہہ رہی ہو؟“ گلناز نے صدمے سے اسے تکا تھا۔

”ہاں کیونکہ یہ ایک نہایت بے وقوفانہ ردعمل تھا۔ تم نے سب کی محبتوں پر شک کیا۔ تم نے لالہ خان پر شک کیا ۔ گل بخت چاچی کو ان کی نظروں سے گرانا چاہا۔ ان سب پر تمہارا شرمندہ ہونا تو بنتا ہے۔“ پری صاف گوئی سے بولی تھی۔

 ”میں تو صرف یہ پوچھنے گئی تھی کہ میری اصل شناخت کیا ہے۔ میں کون ہوں؟“

”ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ سچ جاننا تمہارا حق ہے مگر تمہارے پوچھنے کا طریقہ انتہائی غلط تھا ۔ تم گل بخت چاچی سے پوچھتی۔ ان سے سچ جانتی مگر تم نے ڈائریکٹ سب سے پوچھ کر سب کو اپنی ہی نظروں سے گرا دیا ہے۔“ پری نے تاسف سے اسے دیکھا تھا ۔ وہ سر جھکا کر رہ گئی تھی۔

”میرا مقصد تم کو ہرٹ کرنا نہیں ہے سمجھانا ہے کہ جس با ت کو لے کر تم نے اتنا ایشو کریٹ کیا ہے اس کی ہمارے خاندان میں کوئی ویلیو نہیں ہے۔ یہ بات صرف تم یا میں نہیںجانتے تھے یا چند اور لوگ باقی سب بڑوں کے علم میں تھا اور باقی سب خاندان والوں کو بھی علم تھا کہ تم لالہ خان کی بیٹی نہیں ہو۔“

پری کی اپنی پشمینہ سے اس معا ملے پر پوری تفصیل بات ہوئی تھی اب جبکہ معاملہ کھل گیا تھا تو پشمینہ نے بھی بات چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں سمجھا اور ہر بات پری کو بتا دی۔

تو کیا لالہ خان ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں؟ گلناز کے اس سوال پر پری بری طرح چونکی تھی کیونکہ اس طرف تو اس کا دھیان بھی نہیں گیا تھا۔

٭….٭….٭

 آج کی رات اس پر بھاری اتری تھی۔ ادھوری محبت کے ناگ آج پھر اس کو اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے اور تنہائی نے چاروں اور اپنا جال بچھایا ہوا تھا۔ محبوب کی وہ ادھوری ملاقاتیں ، باتیں آج پھر اسے بری طرح یاد آرہی تھیں ، اور دل کی بے چینی ہر لمحے میں بڑھتی جا ررہی تھی۔

”کیا میں اب بھی تمہارے دل کے کسی نہاں خانے میں موجود ہوں گی۔“ اس نے بے اختیار دل میں اسے مخاطب کیا تھا۔

”یا تم مجھے قصہ پارینہ سمجھ کر بھول چکے ہو گے۔“ وہ اب کے بڑبڑائی تھی۔

”مگر تم تو کہتے تھے تمہاری محبت کمزور نہیں ہے، ہماری محبت کا دھاگہ کبھی نہیں ٹوٹے گا تو پھر اب یہ سب کیسے ہو گیا۔ تم مجھے یوں چھوڑ کر چلے گئے جیسے ہماری کوئی آشنائی نہیں تھی۔ وہ قسمیں وہ وعدے سب جھوٹے تھے کیا۔ جواب دو؟“ وہ ہلکے ہلکے بڑبڑا رہی تھی۔ آج پھر محبت گھاتی ساگر نے اس پر حملہ کیا تھا اور اب پوری رات اس نے جاگتے میں گزرنا تھی۔

٭….٭….٭

اس نے سب سے معافی مانگ لی اور سب نے اسے معاف کر دیا تھا ۔ اموجان کی زبانی اسے پتا چلا تھا کہ اس کا باپ زندہ ہے لیکن کہاں ہے یہ معلوم نہیں۔ اس کی پیدائش کے دو ماہ بعد ہی وہ روز گار کی تلاش میں بیرون ملک گیا اور پھر ایساگیا کہ پلٹ کر واپس نہیں آیا۔ سسرال والوں نے گل بخت اور اس کی ذمہ داری یہ کہہ کر اٹھانے سے منع کر دیا کہ اب اسکا سرپرست کماو ¿ ہو گیا ہے اور وہ ان کی بہترین کفالت کر سکتا ہے۔ جب ہمیں اس بارے میں علم ہوا تو ہم گل بخت اور تمہیں بے سرو سامانی کے عالم میں گھر لے آئے اور ایسے نہیں پورے خاندان کے سامنے لائے تھے۔ تمہارے بہترین مستقبل کی خاطرلالہ خان نے تمہیں اپنا لیا تاکہ تمہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہو۔ بس یہی حقیقت ہے جو ہم نے تم سے چھپائی تھی۔ امو جان کی باتیں سن کر وہ ایک بار پھر سے شرمندہ ہو گئی تھی کہ اس نے ان لوگوں پر شک کیا جنہوں نے اسے سہارا دیا ۔ معاشرے میں مقام دلوایا۔ اسے اپنی سوچ پر پہلے سے بڑھ کر شرمندگی ہوئی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ پھر سب سے معافی مانگی تھی اور سب نے اسے سچے دل سے معاف بھی کر دیا تھا۔

٭….٭….٭

وہ راہ داری کے سرے پر بنے ٹیبل پر بیٹھی بوٹس بنا رہی تھی جب مس عائلہ کی آواز نے اسے متوجہ کر لیا تھا۔ انہیں دیکھ کر وہ فوراً اٹھ کھڑی ہو گئی تھی۔

 ”السلام و علیکم میم۔۔۔“ ا نے فوراً سلام کیا تھا۔

”وعلیکم السلام آپ گلناز ہیں نا؟“ مس عائلہ نے دھیمی مسکراہٹ لبوں پر سجائے جواباً اس سے پوچھا تھا۔

”جی میم میں گلناز ہوں آپ ہماری کلاس میں بھی پیریڈ لیتی ہیں۔“ گلناز نے انہیں یاد دلایا تھا۔

”جی جی مجھے یاد ہے آپ تین چار دن لیو پر رہی ۔ خیریت تو ہے نا؟“ انہوں نے پوچھا تھا۔

”جی میم تھوڑی طبیعت ناساز تھی۔“ اس نے فوراً بہانہ گھڑا تھا،

”ہوں ۔۔۔ ویسے تو سنا تھا کہ آپ سخت سے سخت بیماری میں بھی چھٹی نہیں کرتیں۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا تو وہ جھجک کر نگاہیں جھکا گئی۔

”نہیں میم ایسی تو کوئی بات نہیں۔“

”ہوں دراصل مجھے بریلینٹ اور لائق اسٹوڈنٹس اٹریکٹ کرتے ہیں۔ جن میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے۔“ مس عائلہ نے کہا تو وہ حیرت سے انہیں تکنے لگی۔

”اوکے پھر ملاقات ہوتی ہے۔ میری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے۔ ٹیک کئیر۔۔۔“ دائیں باازو پر بندھی ہوئی سیاہ ریسٹ واچ پر نگاہ ڈالتی وہ آگے بڑھ گئیں تھیں جبکہ وہ حیرت کا بت بنی ان کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔

٭….٭….٭

”امی آپ سے ایک بات پوچھوں۔ برا تو نہیں مانیں گی؟“ وہ رات کو گل بخت کے کمرے میں دودھ کا گلاس دینے آئی تو اس نے پوچھا۔

”ہاں بولو برا ماننے والی کون سی بات ہے مجھے تو ابھی تک ملال ہو رہا ہے مجھے تم سے یہ بات نہیں چھپانی چاہیے تھی۔“ گل بخت جواباً سرد آہ بھر کر بولی تھی۔

”امی پلیز اب اس بات کو بھول جائیں۔ دیکھا جائے تو ۔۔۔ غلطی میری تھی۔ مجھے آپ سے حقیقت جاننی چاہیے تھی۔خواہ مخواہ میں نے نادانی میں یہ قدم اٹھایا اور شرمندگی کی مستحق ٹھہری۔“ اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے گل بخت کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا تھا۔

 انہوں نے بھی جواباً اس کا ماتھا چوما تھا۔

 ”ہاں تم کچھ پوچھ رہی تھیں؟“ انہوں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

”امی اصل بات پوچھیں تو مجھے شروع سے ہی یہاں کے لوگ پر اسرار لگتے ہیں۔“ اس نے بات شروع کی۔

”ارے وہ کیوں؟“ گل بخت اس کے اس انداز پر بے ساختہ مسکرا اٹھی تھی۔

”امی مجھے لالہ خان کو دیکھ کر ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ جیسے وہ کوئی دہری شخصیت اپنائے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے رحم دل بن جاتے ہیں اور کبھی اتنے سخت کہ بندے جو بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ مہروز لالہ اور ظہیر لالہ بھی تو ہیں۔ وہ تو ایسے نہیں ہیں۔ اور آج میں جو سوال پوچھنے آئی ہوں وہ بھی لالہ خان سے ریلیٹڈ ہے۔“ گل بخت اس کی ساری بات دھیان سے سنتے سنتے آخر میں ایک دم سے چونکی تھی۔

”کیا سوال؟“ گل بخت نے اچھنبے سے پوچھا تھا۔

”کیا لالہ خان ابھی تک ان میریڈ ہیں؟“ گلناز کی اس بات نے یکدم انہیں ساکت کر دیا تھا۔

”کیا ہوا امی؟“ گلناز نے ان کا کندھا ہلاتے ہوئے پوچھاتھا۔

”کچھ نہیں۔۔۔ یہ کیسا سوال ہے؟“ انہوں نے فوراً اپنے آپ کو کمپوزڈ کرتے ہوئے کہا۔

”امی سمپل سا سوال ہے کہ مہروز لالہ میرڈ ہیں۔ سب جانتے ہیں مگر لالہ خان، کیا ان کی وائف ہیں؟“ گلناز ان سے وہ سب پوچھ رہی تھی جو راز تھا شاہ زر کی زندگی کا راز، جس کا بخت گل نے عہد کیا تھا ہ وہ اس راز کو ساری زندگی اپنے سینے میں دفن رکھیں گی۔ آج وہی گلناز ان کو اپنے دل سے نکلنے کا کہہ رہی تھی۔ بھلاوہ شاہ زر خان سے کیا ہوا عہد کیسے توڑ سکتی تھیں۔

”امی کہاں گم ہو گئیں؟“ گلناز نے ان کا ہاتھ تھاما تو وہ چونکی تھی۔

”ہاںشاہ زر خان ان میرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے کچھ معلوم نہیں۔ اب تم جاو ¿ رات کافی ہو گئی ہے۔“

 انہوں نے سرسری سا جواب دے کر ٹالا تھا۔ وہ جواباً انہیں الجھن بھری نظروں سے دیکھتی باہر نکل گئی تھی۔ گل بخت کا بے قابو ہوتا دل ایک دم تھم سا گیا تھا۔

٭….٭….٭

”یہ تم آج کل مس عائلہ کے ارد گرد بڑی نظر آ رہی ہو۔ خیریت ہے؟“ وہ چاروں مس امتیاز کے دیے لیکچر کے نوٹس بنا رہی تھیں۔ جب مرینہ نے اس سے پوچھا تھا۔

”کیوں نہیںآنا چاہیے؟“ گلناز نے جواباً الٹا سوال کیا۔

”نہیں نہیں ناز ہمارے گروپ میںصرف تمہیں گھاس ڈالتی ہیں تو ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔“ مرینہ نے ٹون بدلی تھی۔

”تم جانتی ہو نیکسٹ منتھ بیالوجی کا پیپر ہے۔ اس لیے مس عائلہ نے مجھے کہا ہے کہ اگر میں چاہوں تو ان کے گھر ٹیوشن پڑھ سکتی ہوں۔“ اس نے انہیںآگاہ کیا۔

”ہیں؟ یہ بات کب ہوئی؟ تم نے مجھے بھی نہیں بتایا۔“ پریشے نے اس بات پر سر اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

”یار ابھی تو میں سوچ رہی ہوں کہ اگر امی جان اور لالپ خان نے اجازت دی تو ضرور پڑھوں گی۔“

”ضرور پڑھنا کیونکہ مس عائلہ ایک نہایت اچھی ٹیچر ہیں۔“ زرینہ نے سرہلایا۔

”وہ تو ہیں“ گلناز نے بھی اس کی بات پر اتفاق کیا۔

”ویسے مس عائلہ کی شخصیت بالکل لالہ خان سے میچ کھاتی ہے وہی سوبر انداز ، بات بات پر دھیما سا مسکرانا، کافی عادتیں ملتی ہیں۔“ پری اچانک ہی موضوع دوسری جانب لے آئی تھی۔ اور پری کی اس بات سے یکدم گلناز کے ذہن میں کچھ کلک ہوا تھا۔

٭….٭….٭

”نیہا تم کیوں ضد کر رہی ہو میں تمہیں اس بات کی بالکل اجازت نہیں دے سکتا۔“ اسرار آفندی نے اسے کافی بے بس نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

” لیکن کیوں ڈیڈ؟ دو دن کی تو بات ہے اور میں کون سا کسی دوسرے ملک میں جا رہی ہوں؟ سکاٹ لینڈہی تو جانا ہے۔“ اس نے جواباً جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔

” بات دور نزدیک کی نہیں، بس میں تمہیں اکیلے نہیں بھیج سکتا۔“اسرار افندی کا انداز رسانیت لیے ہوئے تھا۔

”اوہ ۔۔۔ اس کا مطلب آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟“ اس نے دکھ سے جواباً انہیں دیکھا۔

”مجھے تم پرخود سے زیادہ اعتبار ہے۔ بس میرا دل نہیں مانتا۔“ اب کے ان کا لہجہ زہر تھا۔

” میرے ساتھ جولی بھی ہو گی ڈیڈ مگر پتا نہیں کیوں جب میں کہیں جانے کی بات کرتی ہوں آپ انکار کر دیتے ہیں یہ بھی غنیمت ہے کہ آپ نے یونیورسٹی جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔“

”دیکھو نیہا تم جانتی ہو یہاں میرا تمہارے علاوہ کوئی اپنا نہیں ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں کھو دوں۔“آخری بات پر پتا نہیں کیوں ان کا لہجہ اتنا عجیب ہو گیا تھایا نیہا کو لگ رہا تھا۔

”ڈیڈ ہمارا کوئی رشتے دار تو ہو گا۔فیملی،آپ کی فیملی، ریلیٹو،کچھ تو ہو گا۔“ وہ ان کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی۔

”سب تھا پر کہیں کھو گیا۔“ وہ مدھم سا بولے۔

”کیا مطلب؟“ نیہا نے اچھنبے سے پوچھا تھا۔

”کچھ نہیں تم یہ بتاو ¿ تمہارا بھائی حیدر پاکستان چلا گیا کیا؟“ انہوں نے بات کا رخ دوسری جانب موڑ دیا تھا۔

” کیوں آپ کی اس سے بات نہیں ہوئی؟؟“ وہ پوچھنے لگی۔

”ہوئی تھی پر اس نے جانے کا نہیں بتایا تھا۔“

”ہوں چلا گیا۔ ڈیڈ دعا کیجیے گا اس کے بابا کے، اس کی فیملی کے ساتھ دوبارہ تعلقات قائم ہو جائیں۔“وہ بولی تھی۔

”ہوں، حیدر بہت نیک لڑکا ہے۔ اس کا باپ بھی ایسا ہی ہو گا۔۔۔ پھر یہ سب؟“ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

”ڈیڈ مجھے زیادہ معلوم نہیں۔ حیدر کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے لو میرج کی تھی جس کی بنیاد پر ان کی فیملی نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔“ وہ انہیں بتانے لگی۔

”اوہ سو سیڈ اس کے باپ کی غلطی کا خمیازہ حیدر کو بھی دور رہ کر بھگتنا پڑا۔“ وہ افسردہ ہو گئے۔

”جی ڈیڈ! بس دعا کریں کہ حیدر کو اس کی تمام خوشیاں واپس مل جائیں۔“ وہ جذب سے بولی تھی۔

”انشاءاللہ۔۔۔“ اسرار آفندی نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

٭….٭….٭

وہ سب بمعہ امو جان ٹی وی لاو ¿نج میں بیٹھی شیدہ کپڑے والی سے کپڑے دیکھ رہی تھیں۔ شیدہ مہینے کے بعد ایک چکر ضرور ان کی طرف لگاتی تھی اور اس گھر میں واحد امو جان تھیں جنہیں شیدہ کے لائے ہوئے کپڑے پسند آئے تھے۔ورنہ تائی پشمینہ اور ثمرہ چچی کو نہ شیدہ ایک آنکھ بھاتی تھی نہ اس کے لائے ہوئے کپڑے۔ کیونکہ شیدہ جب بھی ان کے گھر آتی امو جان زبردستی ان دونوں کو اس سے کپڑے دلواتیں۔ گل بخت کا مزاج اور تھا کہ اسے شیدہ کے منتخب کردہ کپڑے پسند نہ آتے تھے اور جس کا اظہار وہ امو جان کے سامنے بڑی سمجھ داری سے کر چکی تھی۔اب اینڈ میں لے دے کر یہ دونوں پس جاتی تھیں۔ گلناز اور لالہ خان شاپنگ کرواتے تھے۔ گلناز اور پری کو لالہ خان شاپنگ کروا دیتے تھے۔ ان کی پسند لاجواب تھی، وہ جو بھی لاتے پری اور گلناز کے معیار پر پورا اترتا تھا۔ اس لیے ان دونوں کو شیدہ سے کوئی پرخاش نہ تھا۔

”وہ فیروزی والا دکھاو ¿ شیدہ۔“ امو جان نے سائیڈپر پڑے جوڑے کی طرف اشارہ کیا۔

”یہ لیں جی۔۔۔ پشیل فیصل آبادی مل کا ہے۔“ شیدہ نے فخریہ لہجہ اپناتے ہوئے وہ جوڑا بڑے احترام سے امو جان کی خد مت میں پیش کیا تھا۔

”اچھا اچھا زیادہ باتیں نہ بناو ¿ ´ ہاں پشمینے ثمرہ تمہیں کون کون سے پسند ہیں ان چاروں میں سے؟“

امو جان نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے سائیڈ پر پڑے ہوئے منتخب جوڑوں کی جانب اشارہ کیاتھا۔

”جی امو جان یہ ریڈ اور مرون ہمیں پسند ہے۔“ وہ جواباً بولی تھیں۔

”یہ آج ذرا گل بخت کو تو بلا کر لاو ¿ وہ بھی اپنے لیے کچھ پسند کرے۔“ امو جان نے اب اگلا حکم ارشاد کیا تو پشمینہ اور ثمرہ ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگیں۔

”امو جان! آپ تو جانتی ہیں گل بخت کو شوخ رنگ نہیں پہنتیں۔“ ثمرہ مدھم سا بولی تھی۔ امو جان گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔

”ہاں پتا نہیں۔۔۔ کب تک اسے سہاگ کے ہوتے ہوئے بھی بن سہاگ رہنا پڑے گا۔“ امو جان یکدم افسردہ ہو گئی تھیں۔

٭….٭….٭

ہر گزرتے دن کے ساتھ گلناز ، عائلہ خان زئی کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ شاید عائلہ خان زئی کی شخصیت کا کمال تھا یا کچھ اور۔۔۔ گلناز کو ان سے باتیں کرنا ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی اپنے سے بات کر رہی ہے۔ اجنبیت کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا ااور سب سے بڑی بات کہ لالہ خان اور امو جان نے اسے اجازت دے دی تھی ٹیوشن پڑھنے کی۔وہ ہر روز لالہ خان کے ساتھ عائلہ خان زئی کے گھر جاتی۔ پک اینڈ ڈراپ کی ذمی داری لالہ خان نے خود لی تھی۔ اس روز بھی وہ لالہ خان کے ساتھ گاڑی میں مس عائلہ کے گھر جا رہی تھی جب اچانک لالہ خان نے اسے مخاطب کیا۔

”گل تم اپنی ٹیچر کی اتنی تعریف کرتی ہو لگتا ہے مجھے ان سے ملنا پڑے گا۔“ لالہ خان نے ڈرائیو کرتے ہوئے اچانک اس سے کہا تھا۔

”جی ہاں مگر ایک پرابلم ہے۔“ وہ جواباً بولی تھی۔

”وہ کیا؟“ لالہ خان نے پوچھا۔

”س عائلہ غیر مردوں سے پردہ کرتی ہیں۔“ اس نے بتایا۔

”اوہ اچھا“ لالہ خان ایک دم خاموش ہو گئے تھے،

”لالہ خان ایک بات پوچھوں اگر آپ برا نہ مانیں تو؟“ اسے یکدم کچھ یاد آیا تھا۔

”ہاں پوچھو، برا ماننے والی کون سی بات ہے۔“ وہ ہلکا سا مسکرائے تھے۔

” آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟“

یہ سوال تھا یا پگھلا ہوا سیسہ جو ان کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا۔ وہ بے بسی کی انتہا پر پہنچ گئے تھے اور شدتِ جذبات سے اسٹیرنگ پر ہاتھوں کی گرفت اور مضبوط ہو گئی تھی۔

”لالہ خان سوری اگر آپ کو برا لگا تو، میں نے امی سے بھی پوچھا تھا انہوں نے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا اب جبکہ سارا معاملہ کلئیر ہو چکا ہے تو یہ سوال اہمیت رکھتا ہے۔“ اس نے تائید چاہی تھی لیکن لالہ خان مستقل خاموش سامع بن کر بیٹھے تھے۔

”لالہ خان۔۔۔!“ اس نے انہیں خاموش پا کر دوبارہ پکارا تھا۔

”تمہاری ٹیچر کا گھر آ گیا ہے۔ میں لینے آ جاو ¿ں گا۔“ گاڑی ایک دم زور دار جھٹکے سے رکی تھی اور گلناز بغیر کچھ کہے گاڑی سے اتر گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب لالہ کان کسی سوال کا جواب نہ دینا چاہیں تو ایسے ہی لاتعلق انداز اپنا لیتے ہیں۔ وہ سست روی سے گیٹ کے اندر داخل ہو گئی تھی۔

٭….٭….٭

پیاس بڑھتی ہے سرشام سے جلتا ہے بدن

عشق سے کہہ دو کہ لے آئے کہیں سے ساون

زندگی مجھے ایسے مقام پر لاکھڑا کرے گی کبھی سوچانہیں تھا۔ آبلہ پائی، گھٹ گھٹ کر زندگی جینے کا رستہ میرا مقدر ہو گا ۔ یہ بھی نہ سوچا تھا۔ مجھے تم نے میرے کس جرم کی ، کس غلطی کی سزا دی۔ یہ بھی نہیں جانتی۔ میں اتنا جانتی ہوں کہ میں نے تم سے محبت کی ہے۔ اور بے انتہا کی ہے۔ بغیر کسی مفاد کے کی ہے مگر یوں محبت کا یہ صلہ ملے گا۔ کبھی سوچا نہ تھا۔ آج بھی تمہارے انتظار کی لو جلائے ہوئے ہوں کہ شاید لوٹ آو ¿، شاید ااب تو انتظار کی زنجیریں بھی زنگ آلودہ ہوتی جا رہی ہیں اور میں ان زنجیروں میں جکڑی جا رہی ہوں۔ اب تو لوٹ آو ¿ اسرار افندی۔ اب تو لوٹ آو ¿۔ “ گل بخت کی صدائیں اندھیرے کمرے میں گونج رہی تھیں اور گونج گونج کر آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔ محبت اپنی بے قدری پر غمزدہ سی ایک جانب کھڑی تھی۔ افسردہ دل سوز سی۔

٭….٭….٭

”گلناز ! آپ کے گھر میں کو ن کون ہوتا ہے؟“ وہ اسٹڈی سے فارغ ہو کر عائلہ سے ادھر ادھر کی باتیں کر رہی تھی، جب عائلہ نے اس سے پوچھا تھا۔

”جی میم امو جان، لالہ خان ہیں، مہروز خان ہیں، ظہیر تایا ہیں، پشمینے اور ثمرہ چاچی ہیں اور پری کو تو آپ جانتی ہی ہیں نا اور میری امی گل بخت ہیں۔“ اس نے جواب میں تفصیلاً سب بتا دیا تھا۔

”ماشاءاللہ کافی بڑی فیملی ہے“ وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولی تھی۔ وہی مخصوص مسکراہٹ۔

”جی ایک شہروز تایا بھی ہیں لیکن وہ لندن میں ہوتے ہیں۔“اس نے مزید بتایا۔

”ہوں“

”میم آپ اکیلی ہوتی ہیں کیا؟“ اس نے جواباً پوچھا تھا۔

”نہیں اکیلی تو نہیں ہوتی میری تنہائی میرے ساتھ ہوتی ہے۔“ وہ بے ساختہ بول اٹھی تھی۔

”کیا مطلب؟“ گلناز نے ناسمجھی کے عالم میں ان کی جانب دیکھاتھا۔

”میرے ددھیال اور ننھیال کافی مختصر لوگوں پر مشتمل تھا۔ میری والدہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھیں اور یہی معاملہ میرے والد کے ساتھ بھی تھا وہ بھی اکلوتے تھے۔ اس لیے خالہ، پھوپھی ، چاچی ، تایا کے میں تو رشتے سے بھی ناواقف ہوں کہ یہ رشتے کیسے ہوتے ہیں؟ جب پانچ سال کی ہوئی تو والد اس دنیا سے چلے گئے اور والدہ ہی میرا سب کچھ ہو گئیں۔ میں انہیں میں ہر شے تلاش کرتی تھی اور اب چند سال پہلے ان کا بھی انتقال ہو گیا تو بالکل اکیلی رہ گئی۔“ آج پہلی بار عائلہ نے اس سے کھل کر بات کی تھی۔

”اوہ۔۔۔“ گلناز یہ سب سن کر ایک دم افسردہ سی ہو گئی ۔

”اور جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا اللہ ہوتا ہے اور جن کا اللہ ہو وہ اکیلا نہیں ہوتا۔“ وہ دوبارہ بولی تھیں۔

”جی میم سب سے بڑا سہارا تو بے شک اس پاک ذات کا ہی ہے۔“ گلناز نے بھی جواباً اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

”تم مجھے میم مت بلایا کرو۔“ عائلہ نے اسے ٹوکا تھا۔

 ”وہ کیوں میم؟“ وہ شوخی سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی۔

”میم جیسے الفاظ سے اجنبیت ظاہر ہوتی ہے۔“ انہوں نے جواب دیا۔

”تو پھر کیا کہوں؟“

”مس عائلہ کہہ لیا کرو۔“

”عائلہ ممانی نہ کہہ لیا کروں؟“ یہ بات وہ دل میں سوچ کر رہ گئی۔

”اوکے مس عائلہ‘ وہ یکدم کھلکھلا کر ہنس دی۔

”آپ سے ایک بات پوچھوں؟“

”ہاں پوچھو“

”آپ برا تو نہیں مانیں گی؟“

”نہیں میں تمہاری بات کا برا نہیں مانوں گی۔“

”آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟“ اور یہ سوال عائلہ خان کو ساکت کر گیا تھا۔

”کیا ہوا مس؟“ گلناز نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا ´

”تم بیٹھو میں تمہارے کھانے کو کچھ لاتی ہوں۔“ وہ فوراً اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئیں تھیں جبکہ گلناز سوچ رہی تھی کہ لالہ خان اور مس عائلہ کی ایک اور عادت مشترک نکل آئی مگر ابھی وہ کچھ بھی نہ جانتی تھی کچھ بھی۔

٭….٭….٭

وہ سب کھانے کی میز پر بیٹھے کھانا کھانے میں مشغول تھے جب ان سب کو امو جان نے اچانک مخاطب کیا اور جب بھی وہ ایسے مخاطب کرتیں ضرور کوئی نا کوئی اہم بات ہوتی تھی۔

”شہروز کا بیٹا حیدر پاکستان آ رہا ہے۔“

اور یہ جملہ چار نفوس کو چھوڑ کر باقی کے سروں پر بم کی طرح گرا تھا۔

”شہروز خان کا بیٹا یہاں؟“ سب سے پہلے گل بخت کے بڑبڑانے کی آواز سنائی دی جبکہ پشمینے اور ثمرہ تو ابھی تک ساکت تھیں۔

”یہ حیدر کہاں سے آ گیا اچانک؟“ پری نے اچانک اسے ٹہوکا مارتے ہوئے پوچھا۔

”مجھے کیا پتا، تم تو ایسے پوچھ رہی ہو جیسے میں شہروز تایا کے ساتھ رہی ہوں۔“ اس نے سرگوشی کے انداز میں جواباً اسے ڈپٹا تھا۔

” پشمینے تم ملازموں کی نگرانی میں اوپر والا کمرہ صاف کر دینا۔“ انہوں نے فوراً اگلا حکم صادر کیا۔

”جی بہتر امو جان“ وہ یکدم ہڑبڑا کر چونکی تھی۔

” یہاں کب تک پہنچے گا؟“ اب کے ان کا رخ لالہ خان کی جانب ہوا۔

”جی امو جان پرسوں تک یہاں پہنچ جائے گا۔ دبئی میں کچھ کام تھا اسے وہاں رکا ہے۔“ انہوں نے جواب دیا۔

”ہوں“ امو جان یہ کہہ کر دوبارہ کھانے میں مشغول ہو گئیں اور ان کوایسا لگ رہا تھا کہ یہاں کوئی غیر معمولی بات کا شبہ تک نہ گزرا مگر اموجان کے علاوہ ان سب کے دل بے چینی کی شیرینی سے لبالب بھر چکے تھے۔

٭….٭….٭

 رات یوں دل میں تری

کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے

بہار آ جائے

جیسے صحرا میں چپکے سے

بہار آ جائے

جیسے صحرا میں ہولے سے

چلے باد نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ

قرار آ جائے۔۔۔

محبت صرف ملن کا نام نہیں ہوتا بچھڑنے کا بھی ہوتی ہے۔ ضروری تو نہیں ہم محبت کا انجام ملن پر ہو جدائی پر بھی ہو سکتا ہے اور محبت کبھی کبھار قربانی بھی مانگ لیتی ہے۔“ لالہ خان کے کانوں میں یکدم کسی کی کہی بات گونجتی تھی۔ یکدم ان کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ در آئی۔

”ہاں تم ٹھیک کہتی تھی ہر محبت کا انجام ملن پر نہیں ہوتا۔ محبت قربانی بھی مانگتی ہے اور دیکھو محبت کی قربانی ہم دونوں کے حصے میں آئی۔ شاید ہماری محبت خوش قسمت نہ تھی۔ اگر ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا۔“ بند آنکھوں کے پیچھے وہ کسی صورت کو سموئے اس سے مخاطب تھے۔

”مگر ایک بات ہے ، جب بھی تمہارا خیال آتا ہے میرا بے چین دل یکدم ٹھہر جاتا ہے۔ قرار کی لہر میر ے پورے سراپے میں دوڑنے لگتی ہے۔ کیا تمہیں بھی میرا خیال آتا ہے۔ ہاں بولو؟ بولو نا۔۔۔“ اور کسی کام سے اندر آتی گلناز لالہ خان کا یہ روپ دیکھ کر اپنی جگہ تھم سی گئی تھی۔ لالہ خان کی شخصیت کا پہلا عقدہ گلناز نے دیکھ لیا تھا۔

٭….٭….٭

رات بارش خوب برسی تھی اور برف روئی کے گالوں کی مانند زمین کے کشادہ سینے پر گر رہی تھی۔ آج پورا بلیک بار خاموشی میں ڈوبا تھا۔ ساکت خاموشی اور ایسی ہی خاموشی شہروز خان کے من میں بھی بسی ہوئی تھی ۔ہر رات کی طرح ان کی یہ رات بھی بے سکون گزرنی تھی۔ خلش ، ندامت ، پشیمانی کے پنجے انہیں اپنے شکنجے میں جکڑنے کو بے تاب تھے۔

”میں نے وہ کیوں کیا جو نہیں کرنا تھا۔“ بے بسی کی آخری حد ان کی آنکھوں میں نمی لے آئی تھی۔

”تم نے اپنے دل کی خوشی کے لیے یہ سب کیا شہروز خان اب کیوں پچھتا رہے ہو؟“ اس کا ضمیر تن کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔

”دل کی خوشی۔۔۔ ہونہہ۔۔۔ “ وہ تلخی سے مسکرائے۔

”اگر دل خوش ہوتا تو میں مطمئن ہوتا جو کہ میں نہیں ہوں۔“

”ایسا ہے تمہارا دل مطمئن ہے تب ہی تو تم اپنی زندگی شان وشوکت سے گزار رہے ہو۔“ ضمیر نے ان کی بات کو بڑی آسانی سے رد کیا تھا۔

”ہونہہ یہ شان و شوکت تو محض دکھاوا ہے۔ میرا وجود تو اندر سے کھوکھلا ہو گیا ہے بس اس کھوکھلے پن کو چھپانے کی ایک نام نہاد کوشش ہے۔“

”ہا ہا ہا! اپنی ذات کو بچانے کے لیے دلیلیں ڈھونڈنا کوئی تم سے سیکھے۔“ ان کے ضمیر نے ایک ہولناک قہقہہ لگاتے ہوئے کہاتھا۔

”وہ اور دور تھا جب میں دلیلیں پیش کرتا تھا اب تو میں مسمار عمارت کی طرح ہوں۔ٹوٹے پھوٹے لوگ دلیلیں پیش نہیں کرتے۔“

”اگر تم وہ قدم نہ اٹھاتے تو آج اپنوں کے پاس ہوتے۔ان کے ساتھ ہوتے۔ یوں اکیلے نہ ہوتے۔“ ضمیر نے ایک مرتبہ پھر ان کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا وہ بلبلا کر رہ گئے تھے۔

”ہاں میں اس ایک غلطی کا ہی آج تک خمیازہ بھگت رہا ہوں اور نہ جانے کب تک بھگتوں گا۔ شاید زندگی کی آخری سانس تک۔۔۔“

رات قطرہ قطرہ بھیگ رہی تھی، اور شہروز خان کرب کے سمندر میں آہستہ آہستہ ڈوب رہے تھے۔ بس فرق صرف اتنا تھا کہ رات کا بھیگنا خاموش پر محبت تھا جبکہ شہروز کے اندر جوار بھاٹا ہلچل مچا رہا تھا۔ اور ان کی بد نصیبی پر ماتم کناں تھا۔

٭….٭….٭

پری۔۔۔ مجھے لالہ خان کے زار کا پتہ چل گیا ہے۔“ گلناز پھولی سانس کے ساتھ اٹک اٹک کر بولی تھی جیسے کہیں سے لمبی مسافت طے کر کے آئی ہو۔

”ہیں کون سا راز؟ کیا مطلب؟“ پری نے گلناز کی بات پر اچھنبے سے پوچھا۔

”اگر تمہیں بتایا تو تم بے ہوش ہو جاو ¿ گی۔“وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی تھی۔

”بلاوجہ کا سسپنس پھیلانا بند کروم تم جانتی ہو کہ اتنا سسپنس میں برداشت نہیں کر سکتی۔“

پری نے اب کے سخت لہجے میں ٹوکتے ہوئے کہا۔

”پری لالہ خان ماضی میں کسی سے محبت کرتے تھے۔“

یہ سن کر پری کی آنکھیں شاک کے مارے پوری کھل گئیں۔

”کیا؟“ وہ بے ساختہ بولی تھی۔

”دیکھا۔۔۔ ہو گیا نا سکتا۔۔۔ مجھے بھی ایسے ہی ہوا تھا۔“ گلناز نے اسے باور کرایا تھا۔

”تمہیں یہ سب کیسے پتا چلا؟“ پری نے بے تابی سے پوچھا۔

”میں خود لالہ خان کے کمرے سے سن کر آ رہی ہوں۔“ وہ بولی۔

” گلناز میں تو پاگل ہو جاو ¿ں گی۔ کیسے کیسے رازوں سے پردہ اٹھ رہا ہے۔“ پری نے یکدم اپنا سر تھام لیا تھا۔

”پتا نہیں اابھی آگے کیا کیا ہوتا ہے؟“

”پہلے تم سے ریلیٹڈ واقعے نے حواسوں کو ہلا دیا اور اب یہ۔۔۔“ پری کا لہجہ بہت رسانیت لیے ہوئے تھا۔

” ہمارا معاملہ تو بالکل صاف صاف تھا، اور سب کے علم میں تھا لیکن یہ۔۔۔“ گلناز نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

”گلناز مجھے تو لگتا ہے کہ ہمارے خاندان والے اپنے اپنے راستوں سے بھٹکے ہوئے ہیں، نہ مسافت کا تعین ہے منزل کا پتا۔“ پری کا لہجہ اب کے تھوڑا تبدیل ہو گیا تھا۔ گلناز نے بھی جواباً اثبات میں سر ہلا دیا۔

” تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ شہروز چچا کی کہانی، ہماری اپنی کہانی اور اب لالہ خان ۔۔۔ عجب بھول بھلیوں کی نگری ہے۔“

”تم نے کسی اور سے ذکر تو نہیں کیا؟“ پری نے پوچھا تھا۔

”پاگل ہوں میں؟“ گلناز نے اسے گھورا اور بولی۔

”میرے خیال میں تو یہ لالہ خان اور مس عائلہ تھے۔“ گلناز اپنی ہی دھن میں بولی تھی۔

”کیا مطلب؟“ پری نے جواباً سوالیہ لہجے میں پوچھا۔

”مس عائلہ بھی ان میریڈ ہیں۔“ گلناز بولی۔

” مگر ایسا نہیں ہو سکتا اب۔۔۔“

پریشے کے اس جملے نے گلناز کو افسردہ کر دیا۔

٭….٭….٭

حیدر شہروز پاکستان آ چکا تھا۔

 لالہ خان ڈرائیور کے ہمراہ اسے ریسیو کرنے پہنچے تھے اور اسے دیکھ کر بالکل دنگ رہ گئے تھے۔ وہ پورے کا پورا شہروز کی کاپی تھا۔ انہوں نے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ ان کے سینے سے لگ گیا تھا۔

”میں جانتا ہوں آپ لوگوں کے دلوں میں میرے لیے کوئی جذبہ نہیں ہے صرف نفرت اور غصہ ہے لیکن میرے دل میں آپ سب کے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے۔ جس کی گہرائی آپ ماپنا بھی چاہیں تو نہیں ماپ پائیں گے۔“ وہ ان کے گلے سے لگے کہہ رہا تھا اور وہ اپنی جگہ ساکت ہو گئے تھے۔

ائیر پورٹ سے گھر تک کا سفر خاموشی سے کٹاتھا۔دونوں اپنی اپنی سوچ میں گم خان ولا پہنچ گئے تھے ۔وہ ان کے ہمراہ گاڑی سے اترا اور ان کے ساتھ ہی اندرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا۔آج اس کے دل کی حالت عجیب سی تھی ۔ ایک بے نام سی خوشی تھی جسے وہ کوئی نام نہیں دے پا رہا تھا۔آج بالاآخر وہ اپنوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔ اب اس کے اپنے اسے اپناتے ہیں یا نہیں یہ اس کی قسمت۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ لاو ¿نج میں داخل ہوا تھا جہاں اس کے اپنے موجود تھے۔

”دیکھیں امو جان کون آیا ہے“۔

وہ لالہ خان کے پیچھے چھپا کھڑا تھا جب لالہ خان یہ کہتے ہوئے اس کے آگے سے ہٹے تھے۔اس کی پہلی نظر اٹھی تو پھر پلٹنا بھول گئی۔

اسے دیکھتے ہی امو جان کی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہہ نکلے تھے۔ وہ اٹھ کر آگے بڑھی تھیں اوردوسرے ہی لمحے امو جان کا ناتواں وجود اس کے مضبوط کشادہ سینے سے لگا بلک رہا تھا۔ امو جان کے آنسو اس کے دل پر گر رہے تھے۔

”امو جان بس کریں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی“۔

 مہروز خان فوراً آگے بڑھے اور انہیں اس سے الگ کرتے ہوئے بولے تھے۔ امو جان کا وجود اب تک ہولے ہولے لرز رہا تھا۔

بیس سال بعد آخر کار امو جان کی انا کا خول چٹخ گیا تھا۔

٭….٭….٭

وہ سب سے ملا تھا لیکن سب کا انداز لیا دیا تھا۔ ان کے ملنے میں کوئی جوش وولولہ نہیں تھا۔ وہ سب خاموش تھے۔ پری خاموش کھڑی گلناز کو ٹہوکے مار رہی تھی۔

”کیا ہے؟ “ گلناز نے غصے سے مگر دھیمی آواز میں پوچھا۔

”یہ حیدر بھائی تو بڑے ڈیشنگ ہیں۔“

”تو اچار ڈالوں کیا؟“ وہ بپھری تھی۔

”افف۔۔۔ تم سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے۔“ وہ اس کے کورے جواب پر بل کھا کر رہ گئی تھی۔

”ہونہہ احمقوں کی ملکہ تو شروع سے ہی مر د م بیزار ہے۔“ وہ دل میں اسے کوس کر رہ گئی تھی۔

وسیع و عریض ہال میں اس وقت ساکت خاموشی چھائی تھی۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ خاموش تھا۔ وہ بھی ان سب کے درمیان خاموش نگاہ جھکائے بیٹھا تھا۔

”سفر کیسا رہا حیدر بیٹا؟“ ساکت خاموشی کو توڑنے میں پہل ظہیر خان نے کی تھی۔

”جی اچھا رہا تایا ابو‘ آخری الفاظ پر یکدم وہ خاموش ہو گیا۔

”سوری“ اب کے اس کا لہجہ ندامت لیے ہوئے تھا۔

”کس بات پر؟“ ظہیر خان بولے۔

”تایا ابو کہنے پر۔۔۔ کیونکہ میرے ابو تو جاتے ہوئے آپ لوگوں سے ہر رشتہ ختم کر گئے تھے۔ مجھے بھی کوئی حق نہیں ہے آپ کو کسی رشتے سے بلانے کا۔“ وہ شرمندہ سا بولا تھا۔

”تم قصور وار نہیں ہو۔“ خاموش بیٹھی گل بخت بولیں۔

”میں ہی قصور وار ہوں کیونکہ میں شہروز خان کا بیٹا ہوں اور ماں باپ کے جرم کی سزا اکثر ان کے بچوں کو بھگتنی پڑتی ہے اور ایسا کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ اگر آپ سب مجھے یہاںسے دھکے دے کر بھی نکالیں گے تو آپ حق پرہیں۔“ وہ لحظہ بھر کو رکا۔

”میرا باپ اپنے کیے کی اتنی سزا بھگت چکا ہے کہ اب اس میں اپنے کیے اور سزا بھگتنے کی سکت نہیں رہی۔ پلیز میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ آپ انہیں معاف کر دیں۔ بے شک ان کے حصے کی سزا مجھے دے دیں میں بخوشی جھیلوں گا لیکن انہیں معاف کر دیں۔“

وہ اونچا پورا مرد ہاتھ جوڑے رو رہا تھا اور اس کے رونے سے یہاں بیٹھے ہر شخص کا دل کٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا تھا مگر کب سے ساکت بیٹھی امو جان یہ سب سن کر یکدم ایک جانب لڑھک گئی تھیں۔

”امو جان۔۔۔!“ ان سب کی چیخیں یکدم پورے ہال کو دہلا گئی تھیں

٭….٭….٭

آج سنڈے تھا اور یونی سے آف ہونے کی وجہ سے آج نیہا ں یوم صفائی منا رہی تھی۔ اس کا یوم صفائی مہینے میں دو یا تین بار ہی آتا تھا۔وہ بھی موڈ کے مطابق ورنہ باقی کے دنوں میں تو شمس ہی پورے کا پورا گھر دیکھتیں۔ شمس بوا دہلی کی رہنے والی تھیں اور یہاں اپنے بیٹے کے پاس آئی تھیں لیکن بیٹے کی حادثاتی موت نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا اور بہو نے بیٹے کے مرتے ہی انہیں یہ کہہ کر گھر سے باہر نکال دیا کہ اس کا ان سے کوئی رشتہ نہیں انجان ملک انجان لوگ میں ایک بوڑھی ان پڑھ عورت کہاں تک سفر کرتی۔ ایسے میں انہیں اسرار افندی ملے اور انہیں گھر لے آئے۔ نیہا اس وقت سات برس کی تھی۔ اسرار افندی کو ایک عورت کی ضرورت تھی جو گھر کے کام کرتی اور نیہا کو بھی سنبھالتی۔ ایسے میں انہیں شمس بوا کے علاوہ کوئی نظر نہیں آیا اور انہوں نے شمس بوا کو مستقل اپنے پاس رکھ لیا۔ بوا کا بھی اس دنیا میں اور کوئی آسرا نہ تھا، اس لیے انہیں بھی سر چھپانے کے لیے آسرا مل گیا تھا۔

”اری او بیٹا کیوں اسرار بیٹے کی چیزوں کو چھیڑ رہی ہے تو بس کر دے میں خود کر لوں گا۔“ اپنا کمرہ صاف کرنے کے بعد اب وہ اسرار آفندی کے کمرے میں آ دھمکی تھی اور ان کی چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ رہی تھی۔ جب بوا اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔

”بوا آپ بھی اپنی ہڈیوںکو ذرا آرام دے لیا کریں جو اسپرنگ کی طرح ہر وقت اچھلتی ہیں۔“ وہ ان کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی ہانکنے لگی تھی۔

”او نوج سٹھیا گئی ہے کیا اور اب قیمتی کاغجوں (کاغذوں)کو کیوں فائل سے نکال رہی ہے؟“ بوا نے اس کی کارستانیوں کو دیکھتے ہوئے اپنا سر تھاما تھا۔

”اف بوا! ویسے تو مجھے مائی منڈا کہتی رہتی ہیں اور آج اگر سگھڑ بیبیوں کی طرح کام کر رہی ہوں تب بھی مسئلہ ہے۔“ اس نے حسبِ عادت ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔

”اے بی بی! تم ہمارے لیے وہی صحیح، ہم تم جیسی سگھڑ بیبیوں سے باز آئے۔“ بوا نے فٹ کہا اور وہ برا سا منہ بنا کر رہ گئی۔

”اب یہ سب چھوڑو کچن میں چلو۔ شو کیس میں سے برتن نکال کر دو۔“ انہوں نے کہا تو اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل ٹیبل پر پھینکنے والے اندازسے رکھی تو اچانک اس فائل میں سے ایک تصویر نکل کر نیچے زمین پر گر گئی۔ نیہا کی اس تصویر پر نظر پڑی تو دنگ رہ گئی تھی۔

٭….٭….٭

مس امتیاز کا پیریڈ لینے کے بعد وہ پری کو ڈھونڈنے کینٹین آئی تو حسب معمول وہ تینوں وہیں بیٹھی کولڈ ڈرنک اور برگر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔

”اچھا تو تم تینوں یہاں پکنک منا رہی ہو؟‘ اس نے گھور کر ان تینوں کو دیکھا۔

”پکنک تو نہیں۔۔۔ دعوت کہہ سکتی ہو۔“ مرینہ نے برگر کا بڑا سا بائیٹ لیتے ہوئے اسے جواب دیا۔

”کیا مطلب کیسی دعوت؟“ اس نے مرینہ کی بات پر سوالیہ نگاہوں سے پریشے کی جانب دیکھا۔

”یار اس کا ہینڈسم ڈیشنگ کزن لندن سے آیا ہے اس کی خوشی میں۔“ پری کی بجائے زرمینہ نے جواب دیا تو گلناز بل کھا کر رہ گئی۔

”پری تمہیں ایسی حرکتیں زیب دیتی ہیں؟ امو جان گھر میں بیمار پڑی ہیں اور تم یہاں دعوتیں دے رہی ہو۔ بہت افسوس ہے مجھے۔“

یہ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی اور کینٹین سے باہر نکل گئی تھی۔ جبکہ وہ تینوں شرمندہ سے نگاہیں جھکا گئی تھیں اور سب سے زیادہ شرمندگی پریشے کے چہرے پر رقم تھی ۔

”سوری پری ہماری وجہ سے۔۔۔“ مرینہ نے معذرت کی تو وہ بول اٹھی۔

”اٹس اوکے، مرینہ تمہیں معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ غلطی میری ہے مجھے خیال کرنا چاہیے تھا۔“

”امو جان کیا ہوا؟“ ان دونوں نے پوچھا۔

”بس بی پی لو ہو گیا تھا۔“ اس نے بہانہ گھڑا اور فوراً وہاں سے اٹھ کر گلناز کے پیچھے چل دی۔ گلناز اسے ایک سائیڈ پر قطار میں لگے سفیدے کے درختوں کے نیچے کھڑی نظر آئی تو وہ فوراً اس کی جانب لپکی۔

”سوری گل ! میں نے کوئی دعوت نہیں دی ۔ وہ مذاق کر رہی تھیں۔“اس نے صفائی پیش کی تھی۔

”بہرحال جو بھی تھا، تمہیں حیدر کا ذکر ان سے نہیں کرنا تھا بلکہ یونی میں کسی سے بھی نہیں۔“ گلناز نے اسے سمجھایا۔

”کیوں؟“ وہ سوالیہ پوچھنے لگی۔

”تم جانتی ہو کل جو کچھ ہوا ہمیں تو وہاں سے بھیج دیا گیا تھا۔ ایسی کیا بات ہوئی کہ امو جان کا نروس سسٹم اتنی بری طرح متاثر ہوا، ضرور حیدر نے ہی کوئی ایسی بات کہی ہو گی جو امو جان برداشت نہیں کر سکیں۔ پہلے شہروز چچا نے ہمیںدکھ دیا اور اب ان کا بیٹا آ گیا ہے ہمارا سکون درہم برہم کرنے۔ تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ہر ایک سے اس کا ذکر کرنے کی۔ وہ ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔“ گلناز نے اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال لی تھی کیونکہ پچھلے دنوں ہی اسے گل بخت سے کچھ کچھ معاملے کا پتہ چلا تھا اور اس روز حیدر کے لیے اس کے دل میں نفرت پیدا ہو گئی تھی۔

٭….٭….٭

عائلہ زہرہ کے ساتھ مارکیٹ میں چند گھریلو اشیاءخریدنے بازار آئی تھیں اور اب زہرہ نے اسے کسی نئی مارکیٹ میں چلنے کا کہہ رہی تھیں جہاں لان کے ایمبرائیڈری جوڑوں پر سیل لگی ہوئی تھی۔

”زہرہ اتنی گرمی میں میرے سے نہیں جانا ہو گا۔ میں یہاں فوڈ کارنر میں بیٹھی ہوں۔ تم لے آو ¿۔“ اس نے انکار کیا۔

”تم بھی چلو کچھ اپنے لیے پسند کر لینا۔۔۔“اور زہرہ کے اصرار پر وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی۔ وہ ابھی شاپ کے اندر داخل ہی ہوئی تھیں کہ عائلہ کی نظر سامنے پڑی اور پھر جھپکنا بھول گئی۔

٭….٭….٭

نہایت افسوس کے ساتھ آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ نائیجیریا سے آنے والی فلائٹ نمبر ۱۲۲ ایک حادثے کا شکار ہو کر بحیرہ عرب میں لاپتہ ہو گئی ہے۔ ابھی تک جہاز اور اس کے کسی مسافر کو تلاش نہیں کیا جا سکا۔“

٭….٭….٭

سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی

سرشام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئی

مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا

مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

کوئی بات بن کر بگڑ گئی تو پتا چلا

مرے بے وفا نے کرم کیا تو خبر ہوئی

مرے قصہ گو نے کہا ں کہاں سے بڑھائی بات

مجھے داستان کا سرا ملا تو خبر ہوئی

”بھابھی ! مہروز آفس چلا گیا کیا؟“ وہ اپنے کف لنکس بند کرتے ہوئے ثمرہ سے مخاطب ہوئے تھے۔

”ہاںشہروز تو صبح صبح چلے گئے تھے شاید کسی آفیشل کام سے انہیں دوسرے شہر جانا تھا۔“ ثمرہ نے جواباً بتایا۔

”ہوں“ یہ کہہ کر وہ امو جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔

”السلام و علیکم امو جان“ انہوں نے دروازے پر دستک دی اور پھر اجازت ملنے پر کمرے میں داخل ہو گئے، کمرے میں آگے شاہ زر خان موجود تھے جو شاید امو جان سے کوئی مسئلہ ڈسکس کر رہے تھے۔

”وعلیکم السلام آو ¿ شہروز ،ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔“ امو جان نے مسکراتے ہوئے لہجے میں جواب دیا تھا اور وہ مودب ان کے پاس بیٹھ گئے تھے۔

”جی امو جان حکم کیجیے۔“ وہ بولے جبکہ نظریں بد ستور شاہ زر کی جانب تھیں جیسے کہہ رہے ہو ں۔” خیر ہے نا؟“

”گل بخت کا آج فون آیا تھا۔“ امو جان نے بات شروع کی۔

”تو پھر؟“ شہروز کا لہجہ سوالیہ ہوا۔

”اسرار آج کل اپنی جاب کے لیے بہت پریشان ہے۔ تم تو جانتے ہو کہ گل کتنی خود دار ہے۔ یہ بات بھی اس نے شاہ زر سے کہی ہے کہ وہ اسرار کے لیے کوئی جاب تلاش کرے۔“ امو جان جواباً بولی تھیں۔

”ہوں وہ تو ٹھیک ہے امو جان لیکن فی الحال میرے آفس میں کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔“

”بھائی پرسنل سیکرٹری کی سیٹ تو خالی ہے نا اور شاید آپ آج کل انٹرویو بھی لے رہے ہیں۔“ شاہ زربولا۔

”ہاں شاہ زر ہماری کمپنی کو سیکرٹری کی ضرورت ہے پر اب کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ دس امیدواروں کے نام سلیکٹ کر چکا ہوں اور آج ان میں سے ایک کا نام منتخب کر لیا جائے گا۔“انہوں نے تفصیلاً بتایا تو شاہ زر ان کی بات پر محض سر ہلا کر رہ گئے۔“

”لیکن آپ پریشان نہ ہوں امو جان! میں کوشش ضرور کروں گا، اسرار کی جاب کے لیے۔“ اس نے امو جان کو تسلی دی۔

”ٹھیک ہے بیٹاکوشش ضرور کرنا۔“ امو جان نے اثبات میں سر ہلایا۔

”اور تم ابھی تک یونیورسٹی نہیں گئے؟“ شہروز کا رخ سخن اب مکمل طور پر شاہ زر کی جانب ہوا تھا۔

”جی بھائی جا ہی رہا تھا امو جان نے بلالیا۔“ شاہ زر جواباً بولا۔

”اوکے چلو تمہیں ذرا ڈراپ کر دوں۔ میرا بھی آفس کا ٹائم ہو رہا ہے۔“ انہوں نے اس سے کہا ااور جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

”جی ۔۔۔“ شاہ زر بھی ان کی تقلید میں کھڑا ہو گیا۔

”اللہ حافظ امو جان۔“ دونوں باری باری سلام کرتے کمرے سے نکل گئے تھے۔

”فی امان اللہ“ ۔اموجان نے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا تھا۔

٭….٭….٭

”عائلہ بیٹا یونیورسٹی کا ٹائم نکلا جا رہا ہے اور تم ابھی تک سوئی پڑی ہو۔“ شمشاد خان زئی اس کے کمرے میں آتے ہی بولی تھیں۔

وہ جو نیند میں مکمل طور پر ڈوبی ہوئی تھی، ان کی آواز پر یکدم اٹھ بیٹھی۔

”اوہو! ساڑھے آٹھ بج گئے۔“ اس نے وال کلاک کی طرف نظر دوڑائی۔

”جلدی سے فریش ہو کر نیچے آ جاو۔ ناشتہ ریڈی ہے۔“ شمشاد نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی اور وہ تیزی سے اپنے سیاہ ریشمی بالوں کو سمیٹتی فریش ہونے واش روم میں گھس گئی تھی۔ دس بجے وہ ٹیبل پر موجود تھی۔ شمشاد نے چائے کی کیتلی اس کے آگے رکھی اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔

”پاپا آفس چلے گئے کیا؟“ اس نے چائے کے تیز تیز گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے پوچھا۔

”ہاں وہ تو صبح سات بجے ہی چلے گئے تھے۔“ شمشاد نے جواب دیا اور پھر یکدم خاموش ہو گئیں۔

” کیا ہوا امی آ پ خاموش کیوں ہو گئیں؟“ عائلہ نے ان کے خاموش ہو جانے پر حیرانی سے پوچھا تھا۔

”آج تمہاری تائی کا نائیجیریا سے فون آیا تھا۔“

”کیوں خیریت؟“ اس نے پوچھا۔

”تمہارے تایا کی طبیعت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، انہیں ہاسپٹلائز کر دیا گیا ہے۔“

یہ سن کر وہ خود بھی پریشان ہو گئی تھیں۔

”اوہ تو پھر۔۔۔؟“

”تمہارے ابو نائیجیریا جانے کا سوچ رہے ہیں۔“ شمشاد کی اس بات پر یکدم حیران رہ گئی۔

”ابو مان گئے؟“ اس کا لہجہ حیران کن تھا۔

”انہیں اب ماننا ہی تھا۔ بھائی چند گنی چنی سانسیں لے رہا ہے۔ اب بھی سوکالڈ ناراضگی ختم نہ کرتے؟“ یہ کہتے ہوئے شمشاد کے لہجے میں دکھ جھلک رہا تھا۔ عائلہ بھی افسردہ ہو گئی تھی۔

”امی آپ کو اور ابو کو وہاں جانا چاہیے۔ ان کو ہماری ضرورت ہے۔“ عائلہ نے کہا تو شمشاد نے سر لا ددیا۔

”پر مجھے وہاں جانے پر تمہارا ہی خیال آتا رہے گا۔ تم پیچھے اکیلی کیسے رہو گی؟“ شمشاد کو اس کی فکر ہوئی۔

”امی آپ پریشان نہ ہوں۔ اکیلی کہاں، اللہ ہے نا اور پھر ماہا اور فاریہ کو بلا لوں گی یا زہرہ آ جائے گی۔ ایک مہینے کی تو بات ہے۔ آپ بے فکر ہو جائیں۔“ ااس نے مسکراتے ہوئے انہیں مطمئن کیا تھا۔

”چلو دیکھتے ہیں۔“ انہوں نے یہ کہہ کر اپنی توجہ اخبار کی جانب مبذول کر لی تھی۔

٭….٭….٭

” مے آئی کمنگ سر“ مسٹر ابراہیم نے دروازہ ناک کرتے ہوئے اجازت مانگی تھی۔

”یس کم ان“ شہروز کے اجازت دینے پر وہ اندر داخل ہوگئے۔

”آئیے بیٹھیے“ شہروز نے سامنے رکھی چئیر کی جانب اشارہ کیا تھا۔

”شکریہ‘ یہ کہہ کر وہ ایک جانب رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔

”جی ابراہیم صاحب یاور انڈسٹری والی فائل مکمل ہو گئی؟“انہوں نے پوچھا تھا۔

”جی سر ہو گئی ہے۔ یہی دینے آیا تھا۔”ابراہیم نے ہاتھ میں پکڑی نیلے کور کی فائل شہروز کی جانب بڑھائی تھی۔

”گڈ اینڈ تھینکس“ وہ دھیما سا مسکرایا۔

”سر آج دو سے چار تک آپ کو انٹرویو کالز لینی ہیں۔“مسٹر ابراہیم نے انہیں آج کے شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا۔

”ہاں اچھاا ہوا آپ نے یاد دلا دیا، یہ سب آپ اپنی نگرانی میں ہی کیجیے گا۔“ انہوں نے جواباً کہا تھا۔

”جی اوکے سر“

”ٹھیک ہے اب آپ جا سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر دوبارہ کسی فائل میں مصروف ہو گئے تھے۔

٭….٭….٭

”خالہ دعا کیجیے گا آج جہاں انٹرویو دینے جا رہی ہوں سلیکٹ ہو جاو ¿ں۔“ ااس نے چائے کی پیالی میں سوکھارس ڈبو کر کہا تھا۔

”میری دعائیں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی رہی ہیں۔ تم بس امید نہ چھوڑنا۔“ خالہ نے جواباً اسے تسلی دی تھی کیونکہ جانتی تھیں شہنیلہ پچھلے چھ ماہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نوکری کی تلاش میں دھکے کھاتی پھر رہی ہے پر ابھی تک منزل نہ ملی تھی۔ جس جگہ جاتی وہاں تعلیمی قابلیت اور ڈگری سے دیکھنے سے پہلے رشوت مانگی جاتی تھی اور شہنیلہ مایوس ہو کرالٹے قدموں واپس لٹ آتی تھی۔صبح ایک امید لے کر گھر سے نکلتی تھی کہ شاید آج کامیابی مل جائے ، پر نہیں جو لوگ رشوت کے پیسوں سے اپنے جسم کی پرورش کرتے ہیں وہ پھر اتنی آسانی سے اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔

”خالہ اگر امید چھوڑ دیتی تو کیا ہر روز ایسے ہی دھکے کھاتی؟“ وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔

”میں جانتی ہوں کہ میری شہنیلا بہت بہادر ہے۔“ خالہ بی نے بہت شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔

”اچھا خالہ میں چلتی ہوں۔ دعا کیجیے گا اور ہاں میں نے آپ کی روٹی بنا کر ہاٹ پاٹ میں رکھ دی ہے۔ یاد سے کھا لیجیے گا اور دوائیاں بھی آپ کی چارپائی کے دائیں والی تپائی پر رکھ آئی ہوں وہ بھی لے لیجیے گا۔“ اس نے جاتے جاتے یاد دہانی کرائی تھی۔ خالہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

”جاو ¿ فی امان اللہ۔۔۔!“ خالہ بی نے اسے بیرونی دروازے سے نکلتا دیکھ کر دل میں کہا تھا۔

٭….٭….٭

”شاہ زر تمہیں گھر میں یہ بات بتانے کی کیا ضرورت تھی خواہ مخواہ سب کو پریشان کر دیا۔“

 اسرار کی جاب کے حوالے سے جو بات شاہ زر نے گھر والوں کو بتائی تھی گل بخت اس وجہ سے اس پر برہم ہو رہی تھی۔

”ارے غصہ کیوں ہو رہی ہو؟ تم کوئی ہم سے الگ ہو جو اپنی پریشانیاں ہم سے مخفی رکھتی ہو؟“ شاہ زر نے الٹا اسے لتاڑا تھا۔

”یہ بات نہیں ہے شاہ زر! تم جانتے ہو کہ خود داری کے معاملے میں میں کوئی کمپرومائز نہیں کرتی اور دوسری بات یہ کہ میں پھوپھو کو اپنی جانب سے کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتی تھی۔“ وہ بے ساختہ بولی تھی۔

”اچھا کچھ بنا اسرار کی جاب کا؟“ اس نے دوبارہ پوچھا۔

”نہیں کافی جگہ انٹر ویو دءچکے ہیں پر ابھی تک کہیں سے بھی کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔“ وہ مایوسی سے بولی۔

”اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ضرور مدد کرے گا۔“ شاہ زر نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا تھا۔

”اسی پاک ذات پر تو بھروسہ ہے۔“ گل بخت بولی،

”ہاں بے شک وہی ہے جو ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔“ شاہ زر کا لہجہ پریقین تھا۔

گل بخت کو کچھ ڈھارس بندھی تھی۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے