سر ورق / کہانی / "دشت محبت میں۔۔۔۔” مہتاب خان

"دشت محبت میں۔۔۔۔” مہتاب خان

 

"دشت محبت میں "

مہتاب خان

وہ ان پر پیچ راستوں پر آھستہ روی سے کار چلا رہا تھا-اطراف میں بے حد خوبصورت نظارے تھے- سامنے بل کھاتی پر پیچ سڑک دائیں طرف دور تک پھیلی ہوئی وادی اور وادی میں لہراتے جھومتے اونچے اور گھنے درخت،بائیں طرف اونچے پہاڑ ،وہ نتھیا گلی کے اس ریسٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہا تھا جسے کرایے پر لینے کے لیے اور دیگر انتظامات کے لیے اس نے ایک ہفتے پہلے اپنے منیجر کو بھیجا تھا-جیسے ہی منیجر نے اسے اطلاع دی کہ سب انتظامات  مکمل ہیں اس نے سفر کاآغاز کر دیا تھا-

وہ ریسٹ ہاؤس پہنچ کر کار سے اترا اور اس کا جائزہ لینے لگا -سرخ کھپریل کی بنی چھت اور مضبوط پتھروں سے بنی عمارت اس کے سامنے تھی-کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا-ہاں رنگ و روغن نے اس عمارت کو مزید چمکا دیا تھا-اس کا منیجر ریسٹ ہاؤس کے دروازے پر اس کے استقبال کے لیے کھڑا تھا-علیک سلیک کے بعد وہ دونوں اندر  گئے -اس نے چاروں طرف کا جائزہ لے کر کہا

"بہت اچھا مین ٹین کر رکھا ہے اسے-"

"ان قدیم عمارتوں کی یہی تو خوبی کے  برسوں گزر جانے کے باوجود یہ جوں کی  توں رہتی ہیں-"منیجر نے کہا-وہ اندر کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ایک ادھیڑ عمر شخص نے آ کر سلام کیا-

"وعلیکم اسلا م-"جواب دیتے ہوئے اس نے سوالیہ نظروں سے منیجر کو دیکھا-"یہ آپکا باورچی ہے-آپ کے لئے کھانا وغیرہ یہی پکائے گا- رحیم  بخش بہت اچھا کھانا پکاتا ہے-"وہ اچھا کہتا ہوا کمرے کی سمت بڑھ گیا-

"یہ آپ کا بیڈ روم ہے -میں نے ضرورت کی سب چیزیں رکھوا دی ہیں-پھر بھی اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ریسٹ ہاؤس کا منشی کریم خان یہاں ہر وقت آپ کے ساتھ ہوگا–وہ ابھی کچھ ضروری سامان لینے گیا ہے -بس آتا ہی ہوگا-"

"ٹھیک ہے-"کہتے ہوئے وہ کمرے کی سمت بڑھا-پردہ ہٹایا تو سامنے انتہائی خوبصورت منظر نظر آیا- سامنے برف پوش پہاڑ تھے اور دور تک پھیلی ہوئی حسین وادی تھی وادی میں بہتا ہوا دریا اور ہریالی ہی ہریالی تا حد نظر پھیلی ہوئی تھی-یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ کوئی  جاگتا منظر نہیں بلکہ کسی مشاق مصور  کی بنائی ہوئی سینری ہے-کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا-اس نے گہری سانس لی-

"آپ یہاں پہلی بار آئے ہیں سر؟” منیجر نے پوچھا-

"نہیں،دوسری بار ،پہلی بار دس سال پہلے آیا تھا-"

"میں آپ کا سامان گاڑی سے نکلواتا ہوں-چائے آپ ابھی لیں گے یا بعد میں؟”

"میں  فریش ہو جاؤں،پھر تیار کروا دینا-پھر میں کچھ دیر آرام کروں گا-

"جی بہتر-"کہتا ہوا منیجر دروازے کی سمت بڑھا-

” سنو ، شام تک تم واپس چلے  جانا اور بزنس،ہسپتال وغیرہ کے بارے میں،میں نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں نہ سننا چاہتا ہوں-مجھے یہاں کوئی ڈسٹرب نہ کرے،یہاں میں مکمل آرام کرنے کے لیے آیا ہوں-کوئی بھی مسئلہ ہو تو منیجر صاحب سے ڈسکس  کر لینا-سمجھ گئے ناں ؟”

"جی سر سمجھ گیا-"

یہ نومبر کی ایک ٹھٹھرا دینے والی صبح تھی-اسے یہاں آئے ہوئے  دو دن ہو گئے تھے -ملازم اس کی گاڑی صاف کر رہا تھا-منشی کریم خان وہیں کرسی ڈالے بیٹھا ہوا تھا-"کیا صبح صبح گاڑی صاف کر رہے ہو-وہ بھی ٹھنڈے پانی سے،مجھے تویہ دیکھ کر اور ٹھنڈ لگ رہی ہے-"

"صاحب نے اگر گاڑی نکالنے کو کہا تو….اسی لیے صاف کر رہا ہوں-"

"یہ شہر نہیں ہل  اسٹیشن ہے اور چھٹی گزارنے آئے ہیں صاحب،اتنی جلدی نہیں اٹھیں گے-"منشی نے کہا-

"کل سے تو یہی حال ہے -میں صبح گیارہ بجے تک انتظار کرتا رہا-صاحب جاگے ہی نہیں-باورچی رحیم بخش جو نہ جانے کب سے ان کی باتیں سن رہا تھا-ان کی طرف آتے ہوئے بولا-

"آپ لوگ ناشتہ کریں گے؟”اس نے منشی کریم خان سے پوچھا-

ہاں بلکل کریں گے-"کچھ توقف کے بعد وہ بولا تھا-"اور سنو صاحب کے لیے ذرا ہیوی ناشتہ تیار کرنا-رات انہوں نے کھانا  بھی نہیں کھایا تھا-شام کو وادی میں گئے تھے-واپس آئے تو میں نے ان سے کھا نے کا پوچھا تھا-انہوں نے انکار کر دیا تھا–تو ناشتے پر خاص اہتمام کرنا-"

"صاحب تو صبح صبح کہیں  چلے گئے ہیں-"رحیم بخش نے بتایا-

"کیا؟’کریم خان نے چونک  کر اسے دیکھا-

"ہاں صاحب تڑکے اٹھ گئے تھے-پھر وادی کی طرف چلے گئے-"

                                                                                          ***********************************

ڈاکٹر جہاں زیب ریسٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر روڈ کے کنارے ایک چھپر ہوٹل میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے-چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ چائے والے سے بولے-

"اب تو بہت بدل گیا ہے یہ ہل  اسٹیشن،دس سال پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو اتنا آباد نہیں تھا-اک دکا دوکانیں ہوا کرتی تھیں یہاں-اب تو کافی آباد ہو گیا ہے-

"ابھی تو سیزن نہیں ہے صاحب-جب سیزن شروع ہوتا ہے تو یہاں بہت رش ہوتا ہے-ایک بھی ہوٹل خالی نہیں ملتا-سب کرائے پر اٹھ جاتے ہیں-

"ہاں اب تو کرائے بھی بہت بڑھ گئے ہیں اور بے شمار ہوٹل بھی بن گئے ہیں -اس جگہ کی شکل ہی کچھ اور ہوا کرتی تھی-وہ جو ٹال ہے ناں لکڑیوں کی …”اس نے لکڑیوں کی ٹال کی طرف اشارہ کیا جو اس چھپر ہوٹل سے کچھ فاصلے پر تھی–"وہاں ایک حکیم صاحب کا چھوٹا سا مطب اور مطب کے ساتھ ہی ان کا گھر ہوا کرتا تھا-"

"آپ کب آئے تھے یہاں؟”

"بہت سال ہو گئے-"وہ سوچ میں ڈوبے لہجے میں بولا-

"اچھا اس ٹال کے پیچھے پہاڑ کے دامن میں بڑے بڑے نا ہموار پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیاں بھی ہیں ناں ؟” جہاں زیب نے کہا-

"جی اب بھی ہیں-"وہ بولا تھا-

"میں انہیں کیسے بھول سکتا ہوں-"جہاں زیب بڑبڑایا –

 لیکن وہاں کسی حکیم کا مطب تو نہیں ہے-،میں نے تو کبھی نہیں دیکھا-

"آپ حکیم محمد ستار کی بات کر رہے ہیں شاید-"ایک عمر رسیدہ بزرگ جو کچھ فاصلے پر بیٹھے تھے بیچ میں بول پڑے –

"ہاں ہاں میں حکیم محمد ستار کی ہی بات کر رہا ہوں-وہ جلدی سے بولے-

"انہیں فوت ہوئے تو چھ سال ہو گئے-"

"لیکن وہ ایسے بوڑھے تو نہیں تھے-"

بوڑھا ہوتے کیا دیر لگتی ہے صاحب اور انسان کو غم لگ جائے تو دیکھتے  ہی دیکھتے بوڑھا ہو جاتا ہے-"

"لیکن انہیں ایسا کون سا غم لگ گیا تھا؟”

"بیٹی کا غم بہت بڑا غم ہوتا ہے صاحب ..جوان بیٹی تھی ان کی بھلا سا نام تھا اس  کا…………”وہ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے بولا-

"رشنا……….”جہاں زیب نے کہا-

"ہاں رشنا …..وہ شادی نہیں کرتی تھی-کہتی تھی کوئی ڈاکٹر آئے گا اس سے بیاہ کرنے-……………..”

"پھر؟”

"کہاں کوئی آتا ہے.پتا نہیں کون تھا جو اس سے جھوٹے وعدے کر کے چلا گیا تھا-وہ لڑکی برادری بھر میں بدنام ہو گئی تھی-وہ کسی طرح بھی کسی سے شادی کرنے پر تیار نہیں ہوتی تھی-بیٹی کے اس غم نے حکیم صاحب کی جان لے لی-"

"اور رشنا………. اس کا کیا ہوا؟”

"باپ کے مرنے کے بعد اس کا کوئی دور پرے کا چچا اسے اپنے گھر لے گیا تھا-نیچے گھاٹی میں دریا کے کنارے اس کا گھر تھا-وہیں دریا کے کنارے ایک انڈسٹریل ہوم ہے وہاں وہ گاؤں کی عورتوں کو سلائی کڑھائی سکھاتی تھی ……………اس کے چچا نے حکیم صاحب کا مطب اور  گھر ہوٹل والوں کو فروخت کر دیا تھا – اس کے بعد رشنا کو یہاں کبھی کسی نے نہیں دیکھا-"

"ایک گلاس پانی ملے  گا؟”ڈاکٹر جہاں زیب نے چائے والے سے کہا-ان کا گلا سوکھ رہا تھا اور چہرے کا رنگ بدل گیا تھا-

پانی پی کر وہ کچھ دیر گم صم سے وہاں بیٹھے رہے پھر اٹھ کر چل دیئے-ان کا رخ حکیم صاحب کے مطب کی طرف تھا–جہاں اب ایک ہوٹل بن گیا تھا- پھر ٹال کا چکر لگا کر اس کے عقب میں بنی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئے-ان کا ماضی ایک فلم کی طرح ان کی نظروں میں گھوم گیا تھا-

                                                                                                            ****************************************

جہاں زیب ان دنوں میڈیکل فائنل ایئر کے امتحانات سے فارغ ہوا  تو اس کے تین دوستوں نے اس ہل اسٹیشن پر تفریح کا پروگرام بنایا تھا–یہاں دو تین دن قیام کے بعد دوست بضد تھے کہ  آگے بڑھا جائے اور ناران و کاغان کی سیر کی جائے مگر جہاں زیب کو یہ جگہ اتنی بھائی کے وہ آگے جانے کے لئے تیار نہیں ہوا -اس  نے کہا کہ وہ لوگ جہاں گھومنا چاہتے ہیں گھوم آئیں اور واپسی میں اسے  اپنے ساتھ لے کر گھر چلے جائیں-دوستوں نے بہت اصرار  کیا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا -آخر وہ اسے  تنہا اس ریسٹ ہاؤس میں چھوڑ کر چلے گئے-

اس دن شام کو وہ کافی دیر سیر سپاٹے کے بعد ان ہی اونچے نیچے پتھروں سے بنی ہوئی سیڑھیوں پر تیزی سے اتر رہا تھاکہ اس کا پاؤں رپٹ گیا اور وہ گر گیا تھا-جب اٹھنے کی کوشش کی تو کرا ہ کر رہ گیا-اس کے پاؤں میں شدید درد ہو رہا تھا-وہ دوبارہ بیٹھ گیا کہ اچانک ایک لڑکی ان کے نزدیک آئ  اور بولی-

"گر گئے کیا؟”

"ہاں .اتنی اونچی اور ناہموار سیڑھیاں ہیں-"وہ درد سے کرا ہ رہا تھا-

"شاید آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی ہے-"کچھ دیر ٹہر کر وہ بولی-"ادھر  پاس میں ہی ایک حکیم صاحب کا مطب ہے وہاں سے دوا لگوا لیں ،ٹھیک ہو جائیں گے-"

"کہاں ہے مطب ؟”

"وہ ادھر نیچے-"وہ ایک جانب اشارہ کر کے بولی-پھر چلی گئی-وہ اس وقت تکلیف کی شدت کے باوجود اس لڑکی کے ملکوتی حسن میں کھو کر رہ گیا تھا-

وہ لنگڑاتا اور تکلیف کی شدت سے کراہتا حکیم صاحب کے مطب کی جانب بڑھ گیا-

حکیم محمد ستار مطب میں بیٹھے کھرلی میں کوئی دوا کوٹ رہے تھے اسی وقت دروازے پر انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی -وہ بولے-

"آ گئیں  رشنا وہ پتے ملے جو میں نے تمہیں بتائے تھے-

"ہاں بابا مل گئے اور ایک مریض بھی ملا -اس کے پاؤں میں موچ آ گئی ہے-ابھی آئے گا کچھ دیر میں-وہ ٹال کے پیچھے جو سیڑھیاں ہیں ناں وہیں گر پڑا ہے بے چارہ -"وہ ہنس کر بولی-

خود گرا تھا یا تم نے دھکا دیا تھا-؟”حکیم صاحب نے مسکرا کر کہا-

"میں کیوں دھکا دیتی؟’

"ہو سکتا ہے اپنے بابا کے کاروبار میں مدد کرنے کا خیال ہو-"وہ ہنس کر بولے-

"کوئی گر پڑا تو میں دھکا دیا ہے؟پتا نہیں آپ کیا سمجھتے ہیں مجھے-"وہ ناراض ہو کر اندر چلی گئی-کچھ دیر بعد ایک نوجوان لنگڑاتا ہوا ان کے مطب میں داخل ہوا-

"آؤ آؤ آ جاؤ موچ آ گئی پاؤں میں-"حکیم صاحب بولے-

"جی ہاں ایسا ہی  لگتا ہے-"

"بیٹھو بیٹھو -"حکیم صاحب نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-"لاؤ پاؤں دکھاؤ -"نوجوان نے کراہتے ہوئے پاؤں حکیم صاحب کے سامنے بڑھا دیا-تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی-

"تو آپ سیڑھیوں سے گر گئے-شکر ہے ٹخنہ بچ گیا-انہوں نے پیر کا مواینا کرتے ہوئے کہا پھر آواز دی-"رشنا وہ درد دور کرنے والا  تیل گرم کر لیا-"

"جی بابا ……ہلدی بھی لاؤں کیا؟”

"ہاں وہ بھی لے آؤ -"

"دیکھا،مریض کے آنے سے پہلے ہی ہم نے دوا تیار کرنا شروع کر دی تھی-"وہ حیران و پریشان حکیم صاحب کو دیکھ رہا تھا-

"آپ کوئی نجومی ہیں کیا؟”اتنی دیر میں وہی لڑکی جو اسے سیڑھیوں پر ملی تھی ایک ٹر ے میں تیل وغیرہ لے کر اندر داخل ہوئی-

"اچھا …اب مجھے پتا چلا کے آپ کو کیسے علم ہوا-"وہ رشنا کو دیکھتے ہوئے بولا-

"کہاں سے آئے ہو ،اجنبی لگتے ہو؟حکیم صاحب نے مسکرا کر اس سے پوچھا-

"جی اسلام آباد سے-"

"نام کیا ہے؟”

"جہاں زیب-"

"کیا کرتے ہو؟”حکیم صاحب دوا کا لیپ اس کے پاؤں پر کرتے ہوئے بولے-

"میڈیکل فائنل ایئر کا اگزام دیا ہے -"

اوہ گویا ہمارے ہی قبیلے سے تعلق ہے-"

"جی -"اوہ اچنبھے سے بولا-

"یعنی انسانیت کی خدمت؟”کچھ دیر ٹہر کر وہ بولے-"دیکھو اگر انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہو تو اس سے اچھا کام اور کوئی نہیں ہے-اتنا سکوں ملتا ہے کسی مریض  کا دکھ دور کر کے کہ پوچھو نہیں،یہ بلکل عبادت جیسا کام ہے-"

"جی میں اسی لیے میڈیکل میں آیا ہوں-"

"تو شہر میں ہی کھولو گے کلینک،یہاں جیسی کسی جگہ پر تو نہیں چلے گا کلینک-اتنی مہنگی دوائیں یہاں کوئی نہیں خرید سکتا-یہاں تو ہماری جڑی بوٹیاں ہی چلتی ہیں- تم کہاں ٹہرے ہو؟”

"یہاں سے کچھ دور سرخ کھپریل والے ریسٹ ہاؤس میں-"جہاں زیب نے جواب دیا-

اس دوران رشنا خاموشی سے بیٹھی انہیں دیکھتی رہی تھی-

"اچھا اچھا ٹھیکیدار آصف کے ریسٹ ہاؤس میں ٹہرے ہو-"

"یہ لیں بابا پٹی -"رشنا نے انہیں پٹی دی -دوا لگانے کا کام مکمل ہو گیا تھا-انہوں نے پٹی باندھنی شروع کی تو جہاں زیب کرا ہا پھر بولا-

"بہت شکریہ آپ کا …….کتنے پیسے دوں -"اس نے جیب سے والٹ نکالتے ہوئے کہا-

"ارے رہنے دو…پہلے ٹھیک ہو جاؤ پھر دے دینا-کل صبح آ جانا-دوا لگا کر پٹی بدل دوں گا-جہاں زیب نے اصرار کیامگر حکیم صاحب نہیں مانے –

"چلیں ٹھیک ہے-بہت شکریہ آپ کا -چلتا ہوں-"کہہ کر جہاں زیب اٹھ گیا-تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا-

رشنا انہیں میری چپل دے دو جوتا یہ نہیں پہن سکیں گے-"رشنا نے اسے چپل لا کر دی-وہ  لنگڑاتے ہوئے باہر جانے لگا کہ اچانک لڑ کھڑا یا –

"ارے سنبھل کر،یہ لو رشنا انہیں یہ چھڑی دے دو-حکیم صاحب نے اپنی چھڑ ی رشنا کو دیتے ہوئے کہا-

"صبح یہ دونوں چیزیں یاد سے لے آنا-"رشنا نے اسے تاکید کی-

"جی-"

کھلتے ہوئے گورے رنگ اور بڑی بڑی بھوری چمکدار آنکھوں والی رشنا جب ہنستی تھی تو اس کے گالوں میں گڑھے پڑ پڑ جاتے تھے-جہاں زیب نے ان گڑھوں میں خود کو ڈوبتا محسوس کیا تھا-

دوسرے دن صبح سے دوپہر ہو گئی جہاں زیب نہیں آیا تو رشنا نے بابا سے کہا-

"آپ کا مریض  تو نہیں آیا بابا-"

"ارے موچ آئ  ہے اسے،تکلیف میں ہوگا-راستے بھی تو یہاں کے اونچے نیچے ہیں-چلنے میں اسے مشکل ہو رہی ہوگی-"

"اکثر گاؤں والے مریضوں سے آپ پیسے نہیں لیتے کہ غریب ہیں-ایک مریض مشکل سے ملا تھا اس سے بھی پیسے نہیں لیے-ایسے ہی سب کا مفت میں علاج کرتے رہو گے بابا تو گھر کیسے چلے گا اور اوپر سے اپنی چپل اور چھڑی بھی دے دی اسے-میں شام کو اپنی سہیلی نیلم   کے پاس جاؤں گی-اسی ریسٹ ہاؤس کے پاس تو اس کا گھر ہے اس سے آپ کی چیزیں بھی لیتی آؤں گی-"

"پگلی،وہ کیا سوچے گا-"حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا-

سوچنے دو جو سوچے گا-"وہ بولی-

شام کو رشنا جہاں زیب کے ریسٹ ہاؤس پہنچی-دروازہ کھٹکھٹایا تو جہاں زیب نے کافی دیر بعد دروازہ کھولا تھا-اس نے چھڑ ی کا سہارا لے رکھا تھا-

"ارے تم رشنا-"

"تم آئے نہیں بابا انتظار کر رہے  تھے-"

"آؤ  اندر آؤ وہ اسے راستہ دیتے ہوئے بولااور کمرے میں آ گیا-بستر پر بیٹھتے ہوئے بولا-

"مجھے رات سے بخار ہے اور پاؤں بھی سوج گیا ہے-"

"اوہ،تم نے کچھ کھایا مطلب کھانا کھایا؟”

"نہیں رات سے کچھ نہیں کھایا بھوک ہی نہیں ہے-"

"تم آرام کرو میں تمھارے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں-کچن کس طرف ہے؟”اس نے پوچھا-

"ادھر-"جہاں زیب نے ایک جانب اشارہ کیا-

کچھ دیر بعد وہ چائے بنا کر لےآئ  اور کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی-

"میں بابا سے کہ دوں گی کہ وہ یہاں آ کر پٹی کر دیں  اور دوا بھی دے دیں -اب میں چلتی ہوں-"

"ارے سنو تمھارے ہاں تھرما میٹر ہے؟”

"کیوں اس کی کیا ضرورت؟”وہ جاتے جاتے رک کر بولی-

"بخار دیکھنے کے لیے ضرورت ہے-"وہ مسکرا کر بولا-

بخار دیکھنے کے لیے تھرما میٹر کی کیا ضرورت -"وہ زور سے ہنسی-"ہم تو چھو کر بتا دیتے ہیں کے بخار کتنا ہے-"

"اچھا تو پھر چھو کر بتاؤ کہ کتنا بخار ہے-"رشنا نے اس کا ماتھا چھوا اور تیزی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا-جیسے ہزاروں واٹ  کا جھٹکا لگا ہو-

"ہے مگر زیادہ نہیں-” وہ کچھ دیر ٹہر کر بولی-

تمھارے لیے بخار  کی دوا بھی بھیج دوں گی-

"کون سی ٹیبلٹ ہے تمھارے پاس-"

"ٹیبلٹ ویبلٹ نہیں ہوتی ہمارے پاس بنفشے کے پھولوں کا کاڑا بنا کر بھیجوں گی-دیکھنا منٹوں میں بخار اتر جائے گا-"

"تم تو خود اچھی خاصی حکیم ہو-"وہ دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا-

"دن رات بابا کو علاج کرتے دیکھتی ہوں اور جڑی بوٹیوں میں پلی بڑھی ہوں -آدھی حکیم  تو ہو گئی ہوں-"

"نیم حکیم خطرہ جاں -"وہ مسکراتے ہوئے بولا-

یہ خطرہ تو اب لینا پڑے گا مجبوری ہے-"وہ ہنستی ہوئی بولی-"اچھا اب میں چلتی ہوں-تمھارے لیے دوا بھی تیار کرنی ہے……………..یہ بابا کی چھڑ ی اور چپل لیتی جاؤں؟”وہ جاتے جاتے رک کر بولی-

"نہیں ابھی  رہنے دو ، مجھے ضرورت ہے ان کی-"

وہ گھر پہنچی تو حکیم صاحب مطب  میں کسی مریض کا مواینہ کر رہے  تھےاور ایک دو مریض اور بیٹھے تھے-وہ حکیم صاحب کے پاس آ کر بولی-

"بابا ..وہ موچ والے لڑکے کا پاؤں تو سوج گیا ہے اور اسے بخار بھی ہے-اس کا کیا کرنا ہے؟”

"میں دوا دیتا ہوں کسی سے اس کے پاس بجھوا دو-"حکیم صاحب نے کہا-

"بابا بس …..اب اس سے جان چھڑاؤ -ایک روگ کے پیسے دیے نہیں کہ دوسرا روگ بھی لگا لیا-

"دے دے گا بیٹی،ارے ڈاکٹر ہے وہ، کل کو لوگوں کی خدمت کرے گا بلکہ ایسا کرو کے دوا خود ہی دے آؤ اسے اور مرہم پٹی بھی کر آنا-میں ابھی مریضوں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا-"

وہ دوائیں وغیرہ لے کر جہاں زیب کے پاس آئ -اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے بستر پر بے سدھ لیٹا ہوا تھا-رشنا نے اس کا کندھا ہلایا-

"اٹھیں میں آپ کے لیے دوا لائی ہوں-"جہاں زیب نے آنکھیں کھولیں اور کہنیوں کے سہارے اٹھ بیٹھا-

"پاؤں دکھائیں،میں دوا لگا دوں -"وہ بیٹھ گیا اور پاؤں آگے بڑھایا-وہ بستر پر بیٹھ گئی-پاؤں کی پٹی کھولی اور آہستگی سے دوا لگانے لگی-اس کی نازک انگلیوں کے لمس سے جہاں زیب کے تن بدن میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں-دوا لگانے کے بعد اس نے بڑی مہارت سے پٹی باندھ دی تھی -"ڈاکٹر بننے کے لیے تو ڈھیروں کتابیں پڑھنا پڑتی ہیں ناں ؟”

"اور نہیں تو کیا ،تمھاری طرح نہیں کہ آدمی کسی حکیم  کے پاس بیٹھے اور حکمت سیکھ جائے-"وہ تمسخر سے بولا تھا-

"اتنا آسان نہیں ہے جناب،ہزاروں قسم کی جڑی بوٹیاں ہیں،پھول ہیں-ایک ایک پتی پہچاننا پڑتی ہے-تب جا کر کچھ سیکھا ہے-ایسے ہی تھوڑی کہ چار  کتابیں پڑھ لیں اور علاج کر لیا اور اگر اتنا ہی آسان ہے تو تم نے خود کیوں نہیں کر لیا اپنا علاج-تم خود بھی تو ڈاکٹر ہو؟”

"ہاں میں خود کر سکتا ہوں اپنا علاج،مگر مجھے جو دوائیں چاہییں وہ یہاں نہیں ملتیں-"

"پھر کہاں ملتی ہیں؟”

"شہر میں-"

"پھر وہیں گرنا تھا نا ،یہاں کیوں گرے؟”اس کی اس بات پر وہ زور سے ہنسا تھا-وہ اٹھ کھڑی ہوئی-

"اب اگر دوا چاہیے تو مطب پر آ جانا،میں جا رہی ہوں -پھر کچھ سوچ کر رکی-

"بابا کی چھڑی اور چپل لیتا آؤں گا….معاف کر دو-"وہ مزاحیہ انداز میں کان پکڑتا ہوا بولا-

دوسرے دن صبح رشنا اور حکیم صاحب ناشتہ کر رہے  تھے جب جہاں زیب آیا تھا-

"آؤ آؤ بیٹھو-"حکیم صاحب اسے دیکھتے ہی بولے-وہ تخت پر ان کے قریب ہی بیٹھ گیا-

"رشنا جہاں زیب کے لیے ناشتہ لاؤ -"

"رہنے دیں حکیم صاحب تکلف نہ کریں-"

"ارے تکلف کیسا ..یہ بتاؤ اب تمھاری طبیعت کسی ہے؟”

"جی اب تو بلکل ٹھیک ہے-"اتنی دیر میں رشنا ناشتے کی ٹر ے لیے کمرے میں داخل ہوئی اور حکیم صاحب کے سامنے ٹر ے رکھ  دی-

"بخار بھی اتر گیا اور درد بھی کم ہے-"وہ انہیں اپنا حال بتانے لگا-

"لو بیٹا ناشتہ کرو-"انہوں نے ٹر ے اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا-

"ناشتہ مزےدار ہے-"جہاں زیب نے کن انکھوں سے رشنا کو دیکھتے ہوئے کہا-جو کل کی باتوں سے کچھ روٹھی ہوئی لگ رہی تھی-

"بھئی جو روکھا سوکھا ہے گھر کا بنا ہوا ہے-میں تو کہتا ہوں تم جب تک یہاں ہو،کھانا ہمارے ساتھ کھایا کرو….کیوں بیٹی؟”حکیم صاحب نے رشنا کی سمت دیکھا-وہ سر جھکائے بیٹھی رہی کچھ بولی نہیں-

"ارے نہیں حکیم صاحب،میں ویسے بھی ایک دو دن میں جانے والا ہوں-میرے دوست یہاں پہنچنے ہی والے ہوں گے-میں آپ کی چپل لے آیا ہوں اور پٹی ابھی کریں گے یا …..”

"پٹی شام کو بدلی جائے گی-"حکیم صاحب بولے-

"ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں-"وہ چھڑ ی اٹھا کر لنگڑاتا ہوا باہر جانے لگا-

"یہ چھڑ ی کہاں لے جا رہے  ہو-رشنا جھٹ بولی-

"دیکھیں بابا ..کب سے اس چھڑی کے پیچھے پڑی ہے-میرے پاؤں کی فکر ہی نہیں اسے-"

"رہنے دو بیٹا-"حکیم صاحب زور سے ہنسے-

شام کو وہ مطب آیا تو حکیم صاحب کہیں گئے ہوئے تھے-رشنا نے بتایا کہ وہ کسی دوست سے ملنے گئے ہیں-جہاں زیب نے کہا-

"کوئی بات نہیں میں ان کا انتظار کر لوں گا-

"ٹھیک ہے میں چائے بنا کر لاتی ہوں،ورنہ بابا ناراض ہوں گے کہ میں نے تمہیں چائے کا نہیں پوچھا-"وہ اٹھتے ہوئے بولی-

"نہیں رہنے دو-بیٹھو مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے-"

"کیا بات؟”

"دیکھو،میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے-میرے دوست آ گئے ہیں،ہو سکتا ہے ہم پرسوں یہاں سے چلے جائیں-تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو -میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں اور تمہیں اپنانا چاہتا ہوں-"

"یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو-وہ کھڑی ہو گئی اور وہاں سے جانے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ جہاں زیب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

"میری پوری بات سنے بغیر تم یہاں سے نہیں جا سکتیں،بیٹھو-"اس نے اس کے کندھے پر دباؤ ڈال کر اسے دوبارہ بیٹھا دیا-

"میں یہاں سے جاتے ہی ڈیڈی سے بات کروں گا-مجھے امید سے وہ ماں جائیں گے-میں ڈیڈی کے ساتھ ایک ہفتے بعد آؤں گا اور تمھارے بابا سے تمہیں مانگ لوں گا-اور کل تین بجے ان ہی سیڑھیوں پر تمہارا انتظار کروں گا،جہاں ہم پہلی بار ملے  تھے-بس اور مجھے کچھ نہیں کہنا-"

"مجھے نہیں کرنی شادی وادی-"وہ گردن جھکا کر بولی-

"میری طرف دیکھو-اچھا خاصہ ہوں،کیا برائی ہے مجھ میں-"وہ شرارت سے بولا-

رشنا نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی-بلیو جینز پر بلیک جیکٹ پہنے کسرتی جسم والا انتہائی ہینڈسم جہاں زیب مسکراتے ہوئے اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا-کسی کے قدموں کی چاپ سے وہ دونوں چونک گئے-حکیم صاحب آ گئے تھے–رشنا اٹھ کر اندر چلی گئی-

دوسرے دن ٹھیک تین بجے جہاں زیب ان ہی سیڑھیوں پر بیٹھا رشنا کا انتظار کر رہا تھا-اس کی نظر بار بار اس راستے کی طرف اٹھ رہی تھی جہاں سے رشنا کو آنا تھا-اس کا روم روم سراپا انتظار تھا-اسے یہاں بیٹھے ایک گھنٹہ ہو گیا تھا-ہر بار اس کی نظریں  اس راستے کی طرف اٹھتیں اور مایوس واپس لوٹ آئیں-اس کی بے چینی اور بے قراری بڑھتی جا رہی تھی-رشنا کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی کل وہ دیکھ چکا تھا-پھر وہ کیوں نہیں آئ -وہ خود سے سوال کرتا رہا-ایک گھنٹہ مزید گزر گیا تو وہ بڑا دل گرفتا سا واپس جانے لگا تھا کہ دور سے وہ آتی ہوئی نظر آئ –

"تم آ گئیں …………..بڑا انتظار کروایا-"وہ اس کے قریب آ کر بولا-

"آنا ہی پڑا اس دل کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ،لیکن آج ہی تمہیں بابا سے بات کرنا ہو گی-اگر وہ مان گئے تو ٹھیک ہے ورنہ …”

"انہیں منانا میرا کام ہے دیکھو میں تمھارے لیے کیا لایا ہوں-"وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے سیڑھیوں پر آ کر بیٹھ گئے-

جہاں زیب نے ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھایا-رشنا نے اسے کھول کر دیکھا تو اس کے لیے ایک بہت خوبصورت لباس اور سفید موتیوں کا ہار تھا-

"بھئی یہاں ابھی یہی کچھ میسر آیا ہے-یہ ہار تم پر بہت اچھا لگے گا پہن  کر دکھاؤ-"

"ابھی-"وہ بولی-

"پھر کب؟”رشنا نے ہار پہنا  اور اس کی طرف دیکھا-جہاں زیب کی آنکھوں میں اس کے لیے بے پناہ پیار چھلک رہا تھا-

حکیم صاحب کچھ تردد کے بعد اس شرط  پر رشنا کی شادی جہاں زیب کے ساتھ کرنے پر مان  گئے تھے کہ وہ ایک ہفتے بعد اپنے والد کے ساتھ آئے گا اور بیاہ کر رشنا کو لے جائے گا-

اس کے دوستوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان چند دنوں میں جہاں زیب کے دل کی دنیا ہی بدل گئی تھی –

                                                                                             ****************************************

وہ نہ جانے کب سے ان سیڑھیوں پر بیٹھا اپنے خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک بادل زور سے گرجے-اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا-وہ چونکا اور آس پاس دیکھنے لگا-بادل گھر  آئے تھے اور کسی بھی وقت بارش شروع ہو سکتی تھی-وہ اٹھا اور ریسٹ ہاؤس کی سمت روانہ ہو گیا-وہ جیسے ہی ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوا،کریم خان جو نہ جانے کب سے اس کا منتظر تھا،لپک کر اس کے قریب آیا اور کہا-

"صاحب ناشتہ لگوا دوں ؟”

"نہیں،میں نے ناشتہ کر لیا ہے-تم ذرا میرے ساتھ آؤ ،کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں-"وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھتا ہوا بولا تو کریم خان اس کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا-

"بیٹھو-"جہاں زیب نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہااور خود بیڈ پر بیٹھ گیا-

"یہ بتاؤ کہ نیچے لکڑی کی ٹال کے پاس جو ہوٹل ہے وہ کس کی ملکیت ہے؟”

"ایک مقامی بندہ ہے اقبال نام کا اس کے یہاں اور بھی ہوٹل ہیں لیکن آپ کیوں پوچھ  رہے ہیں صاحب؟”

"میں وہ ہوٹل خریدنا چاہتا ہوں،کسی بھی قیمت پر-اس کے بارے میں تمام معلومات تم آج ہی حاصل کر لو-"

"ٹھیک ہے-"کچھ توقف کے بعد کریم خان بولا-"میں آج ہی پتا کرتا ہوں-"

"ٹھیک ہے اب تم جا سکتے ہو-"وہ اٹھ کر جانے لگا ابھی دروازے تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ جہاں زیب نے اسے آواز دی-

"سنو-"وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا-"نیچے گھاٹی میں دریا کے کنارے کیا کوئی انڈسٹریل ہوم ہے؟”

"جی صاحب ہے-"

"صبح مجھے وہاں جانا ہے ڈرائیور کو بتا دینا-"

"ایک اور انڈسٹریل ہوم بھی ہے وادی میں-وہ اس سے بھی اچھا ہے-"کریم خان نے کہا-

"نہیں …..مجھے وہیں جانا ہے-جو دریا کے کنارے ہے-"

"ٹھیک ہے  صاحب،میں ڈرائیور سے کہ دیتا ہوں-"کہتا ہوا وہ کمرے سے باہر چلا گیا-

جہاں زیب نے تیمور کو فون ملایا اور علیک سلک کے بعد اس سے کہا کہ وہ یہاں ایک ہاسپٹل بنانا چاہتا ہے-اس کے لیے ڈاکٹرز،میڈیکل اسٹاف اور دیگر انتظامات کرے-تیمور نے پوچھا-

"یہ سب تو ٹھیک ہے مگر پہلے یہ بتاؤ کہ وہ ملی یا نہیں؟”

"ابھی تک نہیں ملی-جیسے ہی ملے  گی سب سے پہلے تمہیں ہی انفارم کروں گا-بس تم جلد سے جلد سارے انتظام کرو-مجھے یقین ہے کہ جگہ میں حاصل کر لوں گا-"کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں-پھر اس نے فون بند کر دیا-وہ کافی پر جوش نظر آ رہا تھا-

اگلے دن دس بجے صبح وہ نیچے گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیا-یہ راستہ بہت نا ہموار اور کچا تھا گاڑی بری طرح  ہچکولے کھا رہی تھی-وہ تو ڈرائیور بہت ماہر اور مشاق تھا ورنہ اتنے نا ہموار راستے پر گاڑی چلانا آسان نہیں تھا- بہر حال  کچھ دیر بعد وہ دریا کے کنارے اس انڈسٹریل ہوم کے باہر کھڑا تھا جہاں اس کی معلومات کے مطابق رشنا مقامی عورتوں کو سلائی کڑھائی سکھاتی تھی-

انڈسٹریل ہوم ایک بڑے ہال نما کمرے پر مشتمل تھا جس کے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا کیبن بنا ہوا تھا-وہاں ایک نوجوان بیٹھا تھا-جہاں زیب اس کے پاس گیا ہاتھ ملایا اور رسمی سلام دعا کے بعد اس سے پوچھا-

"میں رشنا نامی ایک خاتوں کو ڈھونڈ رہا ہوں،جو شاید آپ کے ہاں کام کرتی ہیں–مطلب خواتین کو سلائی کڑھائی سکھاتی  ہیں-"جہاں زیب نے باہر ہال کی طرف دیکھا-جہاں بیس پچیس خواتین اس وقت بھی کام کر رہی تھیں-

"کیا نام بتایا آپ نے؟”

"رشنا-"

"ہاں شاید ہے تو سہی -"اس کا دل تیزی سے دھڑکا ،یوں لگا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا-

"آپ بیٹھیں ،میں بلا دیتا ہوں-:وہ کہتا ہوا بھر چلا گیا-

کچھ دیر بعد وہ نوجوان کسی کو ساتھ لیے اندر آتا ہوا بولا-"آؤ اندر آ جاؤ ،گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے-"وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا-اس کی نظریں دروازے پر ٹکی تھیں اور ان میں برسوں کی پیاس تھی-وہ بیس بائیس سال کی نوجوان لڑکی تھی-یہ اس کی رشنا نہیں تھی –

"یہی ہے نہ رشنا جسے آپ پوچھ  رہے تھے؟”

"جی نہیں …….معاف کیجیۓ میں نے آپ کو تکلیف دی-"وہ لڑکی کی طرف دیکھ کر بولا-

وہ ذرا بڑی عمر کی ہیں-"

"آپ پہچانتے ہیں انہیں؟”

"ہاں اچھی طرح-"

"آپ کو پکا معلوم ہے کہ وہ یہیں کام کرتی ہیں-؟”لڑکے نے کہا-

"ہاں  -"کچھ د یر ٹہر کر وہ بولا-"آپ یہاں کب سے کام کر رہی ہیں؟’

"مجھے تو یہاں سال بھر ہی ہوا ہے-"

"میں سات آٹھ سال پہلے کی بات کر رہا ہوں-"

"اوہ اچھا آپ ٹہریں ،میں چا چا عثمان کو بلاتا ہوں-وہ یہاں پاس میں ہی رہتے ہیں،پہلے وہ ہی یہاں کے انتظامات -سنبھالتے تھے "کچھ دیر بعد ایک ادھیڑ عمر شخص اس نوجوان کے ساتھ کیبن میں داخل ہوا

"یہ صاحب شہر سے آئے ہیں اور کسی رشنا نامی عورت کو ڈھونڈ رہے ہیں-"عثمان نامی شخص اس کے قریب  کرسی پر بیٹھ گیا -کچھ دیر ذہن پر زور دیتا  رہا-پھر بولا-

"مجھے تو کچھ یاد نہیں پڑ تا ،یہیں کی رہنے والی تھی کیا؟”اس نے

"-اپنے والد کی  بعد وہ اپنے چچا کے پاس یہاں رہنے آئ تھی-جہاں زیب نے کہا-

"آپ حکیم محمد  ستار کی بیٹی کی تو بات نہیں کر رہے؟حکیم صاحب کے مرنے کے بعد  اس کا چچا اسے یہاں لے آیا تھا-،بہت لالچی اورظالم تھا -اس کا  چچا اور چچی دونوں اس پر بڑا  ظلم کرتے  تھے اور اپنے نکھٹو بیٹے سے اس کی شادی کروانا چاہتے تھے-رشنا بڑی لائق اور اور پیاری لڑکی تھی-"

"کچھ پتا ہے کہ اب وہ کہاں ہے؟کہاں مل سکتا ہوں میں اس سے؟”جہاں زیب جلدی سے بولا-

"یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اب وہ کہاں ہے،تین چار سال تک تو وہ یہیں تھی-اکثر وہ ایک حکیم  صاحب کا ذکر کرتی تھی جو کوٹھیالا  نامی گاؤں میں مطب کرتے تھے-وہ اس کے والد کے بہت اچھے دوست تھے-وہ مجھ سے ایک بار کوکوٹھیالا  گاؤں کا راستہ بھی پوچھ رہی تھی-ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے چچا کے ظلم سے تنگ آ کر وہیں چلی گئی ہو-وہ ان دنوں بہت پریشان تھی-"

"آپ مجھے وہاں کا ایڈریس دے دیں اور میرے ڈرائیور کو راستہ سمجھا دیں ،میں وہاں جانا چاہتا ہوں-"جہاں زیب نے کہا-

یہ سفر تقریبآ ایک گھنٹے میں پورا ہوا-وہاں پہنچ کر لوگوں سے پوچھتے ہوئے وہ بلآخر حکیم صاحب کے مطب تک پہنچ گئے-جہاں زیب اندر گیا-سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا-

"اسلام و علیکم ،معاف کیجیئے گا میں مخل ہوا،دراصل میں ایک خاتوں رشنا کو تلاش کر رہا ہوں-حکیم محمد ستارہ کی بیٹی رشنا،اگر آپ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو پلیز میری مدد کریں-"حکیم صاحب خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہے پھر بولے-

"ہاں وہ میرے پاس ہی رہتی تھی،میرے دوست کی بیٹی تھی،بڑی اچھی اور ذہین لڑکی تھی-"

"تھی؟……….مطلب اب نہیں ہے؟”جہاں زیب نے بے قراری سے کہا-انہوں نے جہاں زیب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

"نہیں چلی گئی تھی یہاں سے ……..بہت سال پہلے کی بات ہے-میرے لیے جڑی بوٹیاں جمع کر کے لا یا کرتی تھی -میرے پاس یہاں  دوائیاں بھی بنایا کرتی تھی-اس کا چچا بڑا ظالم تھا ،جو پیسے وہ جمع کرتی تھی وہ چھین  کر لے جاتا تھا-"

"وہ گئی کہاں؟”

"بتاتا ہوں بتاتا ہوں بھائی،بات تو پوری ہونے دو-ان ہی دنوں ایک  صاحب اپنی فیملی کے ساتھ یہاں آئے تھے-ان کی بیٹی ان دنوں بیمار پڑ گئی تھی وہ اسے لے کر میرے پاس علاج کے لیے آئے تھے-رشنا نے اس  بڑا خیال رکھا تھا اور اپنے کچھ نسخے بھی بنا کر دیے تھے-لڑکی چند ہی دنوں میں بھلی چنگی ہو گئی تھی- چودھری صاحب کی بیوی کی  رشنا سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی-جب انہیں رشنا کے بارے میں پتا چلا تو انہوں نے اسے اسلا م آباد اپنے گھر ساتھ لے جانے کی  پیش کش کی تھی ،رشنا اپنے چچا کی وجہ  سے یہاں رہتے ہوئے بھی پریشان تھی-وہ ان لوگوں کے ساتھ جانے پر تیار ہو گئی-بھلے اور نیک لوگ تھے-اس لیے میں نے بھی اجازت دے دی-"

"ان کا ایڈریس ہے آپ کے پاس؟”جسے وہ کب سے تلاش کر رہا تھا،وہ اس کے اپنے شہر میں رہ رہی تھی-

حکیم صاحب اٹھ کر دیوار میں بنی ایک الماری سے موٹا سا رجسٹر اٹھا لائے اور ایک صفحہ کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا-اور اس پر لکھا ایڈریس اسے دکھایا-"یہ وہ خود لکھ کر گئی تھی-"

"ہاں ہاں یہ اسی کی رائٹنگ ہے-"جہاں زیب نے جلدی سے کہا-

"تم رشنا کے بارے میں کیوں پوچھ  رہے ہو اور اسے کیسے جانتے ہو؟”

"میں ڈاکٹر جہاں زیب ہوں حکیم صاحب ………..دس سال پہلے میں حکیم محمد ستاراور رشنا سے ملا تھا-لمبی کہانی ہے پھر کبھی آپ کو سناؤں گا-انشا الله جلد رشنا کو یہاں لاؤں گا-"

"اوہ اچھا …..تم ہی وہ ڈاکٹر ہو جس کا ذکر میرا دوست کرتا تھا اور رشنا نے تمھارے انتظار میں ہی شادی نہیں کی تھی-تم نے آنے میں اتنی دیر کیوں کر دی ڈاکٹر-"

                                                      *******************************

اکٹر جہاں زیب جیسے ہی ریسٹ ہاؤس پہنچا،کریم خان اس کے پاس آ کر بو-

"صاحب میں نے ہوٹل کے مالک سے بات کی ہے-وہ ہوٹل فورخت کرنے پر تیار ہے مگر اس کی قیمت بہت زیادہ لگا رہا ہے آپ اس سے مل لیں-"

"مجھے وہ جگہ ہر قیمت پر چاہیے ،ہم تین بجے ہوٹل کے مالک کے پاس چلیں گے اور سنو میں کل صبح واپس جا رہا ہوں-میرا منیجر یہاں آئے گا اور ہوٹل کی جگہ اسپتال تعمیر کر وائے گا-باقی انتظامات میں خود دیکھ لوں گا-"جہاں زیب پر جوش لہجے میں بولا-

ٹھیک ہے صاحب جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہوگا-"دوسرے دن شام کو اسلام آباد اپنے گھر پہنچتے ہی اس نے تیمور کو فون کیا تھا-

"آ گیا تو ……….کچھ پتا چلا رشنا کا؟”

"یار ایک ایڈریس ملا توہے – کل صبح میں وہاں جاؤں گا- رشنا اسلام آباد میں ہی ہے-"

حد ہو گئی بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں-میں بھی وہاں تمہارے ساتھ جاؤں گا-اور ہم بھابھی کو ساتھ لے کر ہی آئیں  گے-

"تمہیں بہت جلدی ہے-"

"جلدی کیوں نہ ہو تمھاری وجہ سے میری شادی بھی رکی ہوئی ہے-تمہارے چچا یعنی میرے ابو کی شرط ہے کہ ہم دونوں کی شادی ایک ساتھ ہی ہو گی-

"تو یوں کہو کہ تمہیں اپنی شادی کی جلدی ہے-"تیمور اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اس سے پورے پانچ سال چھوٹا تھا مگر ان دونوں میں دوستوں کی طرح کی بے تکلفی تھی-چچا جان اور ان کی فیملی نے جہاں زیب کا بڑا ساتھ دیا تھا-اس کے والد کی وفات کے بعد چچا جان نے ان کا بزنس بڑے احسن طریقے سے سنبھالا تھا-

دوسرے دن صبح گیارہ بجے جہاں زیب اور تیمور اس ایڈریس پر پہنچے جو حکیم صاحب نے اسے دیا تھا-یہ چھٹی کا دن تھا اور توقع تھی کے چودھری عثمان گھر پر ہی ہوں گے-

جہاں زیب نے گیٹ پر نصب ڈور بیل بجائی،گیٹ سے ایک شخص بر آمد ہوا جو اپنے حلیے سے چوکیدار لگتا تھا-جہاں زیب نے اسے اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہاکہ اسے چودھری عثمان سے ملنا ہے-چوکیدار کارڈ لے کر اندر چلا گیا-وہ اور تیمور باہر ان کا انتظار کرنے لگے -جہاں زیب کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں-کچھ دیر بعد چوکیدار ایک لڑکی کے ساتھ آتا نظر آیا -جیسے ہی وہ لوگ قریب آئے جہاں زیب کو خوشگوار حیرت کا جھٹکا لگا-

"ارے ڈاکٹر صفیہ ……یہ آپ کا گھر ہے؟”ڈاکٹر صفیہ جہاں زیب کے اسپتال کی ایک جونیئر ڈاکٹر تھی-وہ عرصہ دو سال سے ان کے اسپتال میں کام کر رہی تھی-ڈاکٹر صفیہ بھی کم حیران نہیں تھی-

"زہے نصیب ڈاکٹر صاحب ………….آپ ہمارے گھر آئے-لیکن آپ کو ڈیڈی سے کیا کام تھا-؟خیر اندر چلیں اطمینان سے بیٹھ کر باتیں کریں گے-"وہ تیمور اور جہاں زیب کو ساتھ لیے ڈرائنگ روم میں آ گئی-

"تشریف رکھیں-"اس نے صوفے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا-"پہلے یہ بتایں کہ کیا پییں گے چائے یا ٹھنڈا-"

"تکلف کی ضرورت نہیں صفیہ-"جہاں زیب نے کہا-

"تکلف کیسا ڈاکٹر صاحب-"اس نے ملازمہ کو آواز دی اور اسے چائے بنانے کا کہہ کر ان کی طرف متوجہ ہوئی-

"یہ میرے کزن تیمور ہیں اور میں یہاں ایک بہت ضروری کام سے آیا ہوں-"جہاں زیب نے تیمور کا تعارف کرواتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا-"اسی سلسلے میں چودھری صاحب سے ملنا چاہتا تھا-"

"ڈیڈی تو کسی کام سے باہر گئے ہوئے ہیں -مجھے بتایں شاید میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں-"

"صفیہ .میں نے سنا ہے کہ رشنا نام کی ایک خاتوں جس کا تعلق نتھیا گلی سے ہے-یہاں رہ رہی ہے-"یہ کہتے ہوئے جہاں زیب کی نظروں میں امید کے ہزاروں دیے روشن تھے-

اسی وقت ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی ٹرالی دھکیلتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی کچھ دیر کے لیے گفتگو کا سلسلہ تھم گیا تھا-ملازمہ کے جانے کے بعد صفیہ بولی-

"آپ شاید روشن آپا کی بات کر رہے ہیں-جی ہاں وہ ہمارے ساتھ ہی رہتی ہیں-"پھر اس نے وہ پورا قصہ سنایا کہ کیسے رشنا انہیں ملی تھی اور صفیہ کی بیمار بہن کی دیکھ بھال اس نے کی تھی-

"ہاں یہ وہی رشنا ہے-مجھے اس سے ملنا ہے-ابھی وہ یہاں ہے؟”

"جی ہیں،شاید آرام کر رہی ہیں-آج صبح سے ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے-"پھر کچھ توقف کے بعد بولی-"آپ لوگ چائے پییں میں انہیں لے کر آتی ہوں-"یہ کہہ کر وہ اٹھ کر اندر چلی گئی-

جہاں زیب کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا-یوں جیسے سینے سے باہر آ جائے گا-وہ سراپا انتظار تھا اور اس کی نظریں باربار دروازے کی سمت اٹھ رہی تھیں-کچھ دیر گزری تھی کہ وہ صفیہ کے ساتھ سر جھکائے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی-وہ جس کے لیے ڈاکٹر جہاں زیب نے در در کی خاک چھانی تھی وہ اس کے اتنے قریب تھی -وہ اٹھ کھڑا ہوا-زمین و آسمان کی گردش جیسے لمحہ بھر کے لیے تھم گئی تھی-رشنا کے لیے اس کے دل میں جو بے انتہا محبت تھی وہ اس کی آنکھوں میں سمٹ  آئ تھی -وہ بے اختیار اس کی سمت بڑھا-

اسی لمحے رشنا نے سر اٹھا یا اور جیسے ہی جہاں زیب سے اس کی نظریں ملیں،وہ جہاں کی تہاں رہ گئی-اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے-جہاں زیب نے دیکھا کہ وہ پہلے سے بہت کمزور ہو گئی تھی اور رنگ بھی کافی پھیکا پڑ گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے حسن میں کوئی کمی نہیں آئ تھی-

"رشنا …..میں آ گیا ….تمہیں کہاں کہاں تلاش نہیں کیا میں نے-"جہاں زیب اس کے قریب جا کر دھیمے لہجے میں بولا-

"کون ہیں آپ؟”وہ اب اپنی پہلے والی کیفیت سے نکل آئ تھی-اس کے چہرے پر بے گا نگی تھی-وہ سخت لہجے میں بولی تھی-"میں اپ کو نہیں جانتی -‘کہتی ہوئی وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی-

"ارے …روشن آپا  نے آپ کو کیوں نہیں پہچانا؟ خیر آپ بیٹھیں اور مجھے پورا تفصیل بتایں کہ کیا قصہ ہے؟”

"تم بیٹھو جہاں زیب میں خود جا کر ان سے بات کرتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کے تم بے قصور ہو-"تیمور بولا-

"نہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں-پہلے آپ لوگ مجھے پوری تفصیل بتایں-پھر میں آپا سے خود بات کر لوں گی-"صفیہ نے کہا-

وہ لوگ دوبارہ صوفے پر آ کر بیٹھ گئے تھے-جہاں زیب نے بتایا کہ کیسے رشنا سے ملنے کے بعد وہ اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا تھا-اس کے بعد وہ اپنے گھر آ گیا تھا اور ڈیڈی کو بھی اس شادی کے لیے رضا مند کر لیا تھا کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان  گئے تھے-آخر وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا-ان ہی دنوں ڈیڈی کو ایک اہم میٹنگ کے لیے دبئی جانا پڑا ایک اہم آرڈر کی سپلائی بھی دینا تھی-یوں آفس میں بھی ان کا ہونا ضروری تھا-انہوں نے جہاں زیب سے کہا کہ وہ میٹنگ اٹینڈ کرنے دبئی چلا جائے،صرف چار دن کی تو بات ہے -جب تک وہ واپس آئے گا آفس کا کم بھی نمٹ چکا ہو گا-پھر وہ اس کی اور رشنا کی شادی کا سلسلہ چلائیں گے-نہ چاہتے ہوئے بھی جہاں زیب کو دبئی جانا پڑا اس زمانے میں ٹیلی فون وغیرہ کے ذرائع اتنے ترقی یافتہ نہیں تھے–واپس آنے کے بعد رشنا سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا-بہرحال دبئی روانگی کے وقت ایئر پورٹ پر اسے ایک بوڑھی عورت ملی اور اس سے درخوست کی کہ اسے اپنے بیٹے کے لیے کچھ دوائیں بھجوانی ہیں اور یہ کہ وہاں اس کا بیٹا بہت بیمار ہے-وہ دبئی ایئر پورٹ پر آئے گا اور آپ سے یہ دوائیں لے لے گا-اس نے ایک پیکٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا-ایک تو مظلوم صورت نظر آنے والی عمر رسیدہ خاتوں سے ہمدردی کا جذبہ پھر ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے  دواؤں کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس نے بغیر سوچے سمجھے وہ پیکٹ اپنے سامان میں رکھ لیا-وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ آگے چل کر یہ پیکٹ اس کے لیے کتنی بڑی مصیبت کھڑی کرنے والا ہے-

دبئی ایئر پورٹ پر جیسے ہی اس کے سامان کی تلاشی لی گئی اسے چاروں طرف سے گھیر لیا گیا-اس کے سامان میں موجود اس پیکٹ میں جو اس بوڑھی عورت نے اسے دیا تھا دوا کے ڈبوں میں چھپائی ہوئی خطرناک قسم کی منشیات تھیں-جہاں زیب کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی اور اسے اس کے گھر اطلاع دینے کا موقع بھی نہیں دیا گیا-اس کی کہیں کوئی سنوائی نہیں ہوئی اور اس جرم میں اسے پانچ سال کی جیل ہو گئی-اسی صدمے سے جہاں زیب کے ڈیڈی کو جا ن لیوا ہارٹ اٹیک ہو گیا-ان کے انتقال کے بعد جہاں زیب کے چچا نے ان کا بزنس سنبھالا اور جہاں زیب کی بھی تلاش جاری رکھی-آخر سال بھر بعد انہیں علم ہوا کہ وہ دبئی کی جیل میں ہے اور اپنے نہ کردہ جرم کی سزا کاٹ رہا ہے-بہرحال جیسے ہی انہیں علم ہوا انہوں نے اس کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کر دیں لیکن تمام شواہد اس کے خلاف تھے وہ عدالت میں اس کی بے گناہی ثابت نہیں کر سکے-

جہاں زیب اپنی سزا پوری کر کے پاکستان واپس آیا تو پانچ سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا-جہاں زیب کا اس پورے عرصے میں رشنا سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا تھا-وہ اکثر سوچا کرتا کہ رشنا اسے بے وفا سمجھتی ہو گی اور اسے کبھی معاف نہیں کرے گی-اور شاید اب تک اس کی شادی بھی ہو گئی ہو گی-یہی سب سوچ کر جہاں زیب نے اسے بھلانے کے لیے خود کو بزنس اور اسپتال کے کاموں میں مصروف کر لیا لیکن رشنا کی یاد نے اسے کبھی چین نہ لینے دیا-وہ اسے بھلانے کی جتنی کوشش کرتا وہ اسی شدت سے اسے یاد آتی تھی-

اسلام آباد میں قائم اس کا اسپتال شہر کا ایک معتبر ،مشھور اور نفع بخش اسپتال تھا جہاں کی جونیئر اور سینیئر ڈاکٹرز اس کے ساتھ مصروف عمل تھے-وہ خود بھی شہر کا ایک مشھور و معروف ڈاکٹر بن چکا تھا-ان ہی جونیئر ڈاکٹرز میں ایک ڈاکٹر صفیہ بھی تھی-پانچ سال مزید گزر گئے تھے-جہاں زیب کے ڈیڈی کا چھوڑا ہوا بزنس اور اس کا اسپتال دونوں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے تھے-یہ ساری کامیابیاں اور ان کامیابیوں کو حاصل کرنے میں مصروف جہاں زیب کے دل کی بے قراری کم نہ ہو سکی تھی-

ایک سال پہلے تیمور کی منگنی اس کی پسند کے مطابق ہو گئی تھی اور ان دنوں اس کی شادی کی تیار یاں ہو رہی تھیں کہ اچانک چچا جان نے اپنا فیصلہ صادر کیا کہ تیمور اور جہاں زیب کی شادی ایک ساتھ کی جائے گی-اگر اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دے ورنہ خاندان میں سے ہی کسی کے ساتھ رشتہ طے  کر دیا جائے گا-جہاں زیب نے پہلے کی طرح ان کو ٹالنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے تو تیمور نے اس سے کہا تھا-

"آج تو تمہیں بتانا ہی پڑے گا کہ تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے-"جب تیمور کا اسرار حد سے بڑھا تو اس نے رشنا کے بارے میں اسے سب کچھ بتا دیا تھا-وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا-

"یار…..جب تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اسے بھلانے میں ناکام ہو گئے ہو تو تم اس کے پاس کیوں نہیں جاتے؟”

"کیا پتا اب وہ کہاں ہو شاید اب تک اس کی شادی بھی ہو گئی ہو-دس سال ایک لمبی مدت ہوتی ہے-جہاں زیب نے کہا تھا-

"یہ سب مفروضے ہیں -ہو سکتا ہے اس نے شادی نہ کی ہو اور تمہاری طرح تمہاری منتظر ہو-ایک بار اس سے مل کر دیکھو-بس فیصلہ ہو گیا تم اس سے ملنے جا رہے ہو-بزنس وغیرہ کی تم فکر نہ کرنا،میں سب سنبھال لوں گا-بس تم کل ہی روانہ ہو جو -"وہ فیصلہ کن انداز میں بولا تھا-

تیمور کے اکسانے پر اور اپنے دل کی بے چینی اور بے قراری کی خاطر وہ رشنا سے ملنے نکل گیا اور نتھیا گلی پہنچ گیا-اس کے بعد کے سارے واقعات اس نے صفیہ کو سنا دیئے -یہ سب کہ کر اس نے ایک کھڑی سانس لی،جیسے اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو-

"آپ کے ساتھ بہت برا ہوا ڈاکٹر صاحب،بہرحال آپ فکر نہ کریں،ہم سب مل کر روشن آپا کو سمجھائیں  گےکہ آپ بے وفا نہیں تھے بلکہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو گئے تھے-

تیمور،چچی جان ،صفیہ اور اس کے گھر والوں نے رشنا کو منانے اور اسے تمام حقیقت بتانے میں اہم کردار ادا کیا تھا-ان سب کی کوششیں رنگ لائیں اور بلآخر رشنا جہاں زیب کی دلہن بنی آج اس کے پہلومیں بیٹھی تھی-اس کا ملکوتی حسن دلہن کے روپ میں جہاں زیب کی آنکھوں کو خیرا ہ کیے دے رہا تھا -وہ آج بھی اتنی ہی دلکش اور حسین نظر آ رہی تھی جیسی دس سال پہلے تھی-جہاں زیب نے اس کا نرم و نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تھا-

"رشنا ہم اپنا ہنی مون نتھیا گلی کے اسی ریسٹ ہاؤس میں منائیں گے جہاں سے ہماری محبت کا آغاز ہوا تھا-"رشنا نے شرما کر گردن جھکا لی تھی-وہ بات جاری رکھتا ہوا بولا تھا-"جب تک ستار اسپتال بھی مکمل ہو چکا ہو گا-میرے منیجر نے آج ہی فون کر کے بتایا ہے کہ اسپتال کی تعمیر کا کم تقریبآ مکمل ہے-میں چاہتا  ہوں کے اس کا افتتاح تمہارے ہاتھوں ہو-"

"اسپتال………”وہ حیران ہو کر بولی-"وہ کب بنا؟”

"میں تمہیں تلاش کرنے جب وہاں گیا تھا اور مطب کی جگہ ہوٹل بنا دیکھا تھا تو اسی وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یہاں اسپتال بنواؤں گا-جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو گا-یہ حکیم صاحب جیسے بے لوث ،بے غرض اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے عظیم انسان کے لیے ایک تحفہ ہوگا اور میرا کفارہ بھی-"

"بابا  کی روح کتنی خوش ہو گی-"

"ہاں اور تم بھی  خوش ہو نا ں -"وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تھا -اس نے اثبات میں سر ہلایا اور شرما کر گردن جھکا لی-

                                                                   ******************************************************

مہتاب خان

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

: "آخری جلسہ” … آندرے گروشینکو (روس… ستار طاہر

: "آخری جلسہ” آندرے گروشینکو (روس ستار طاہر بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے