سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا…امجد جاوید…قسط نمبر 13

بے رنگ پیا…امجد جاوید…قسط نمبر 13

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 13

وہ ایک اُلجھی ہوئی صبح تھی۔طاہر رات کا پارٹی اجلاس کے لئے اسلام آباد چلا گیا تھا۔وہ ساجد کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گیا تھا۔یہ ہنگامہ خیز اجلاس کیوں تھا، اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ لیکن وہ یہ جانتی تھی کہ آج سرمد کو اس نے سکول چھوڑنے جانا ہے۔ وہ نماز سے فارغ ہوکر تلاوت کر نے لگی ۔دن چڑھنے کے آ ثار ہوئے تو وہ سرمد کو جگانے بیڈ روم میںآ ئی ۔سرمد جاگ رہا تھا۔ وہ اسے تیار ہونے کہہ کر کچن میں چلی گئی۔

 وہ سرمد کا بستہ اٹھائے پورچ میں آ گئی۔ ڈرائیور کار لئے تیار کھڑا تھا۔ وہ بھی ساتھ بیٹھنے لگی تو سرمد نے کہا

” ماما۔! میں چلا جاﺅں گا سکول ،آپ بے شک رہیںگھر۔“

”کوئی بات نہیںبیٹا، میںبھی اسی بہانے آپ کے سکول کی سیر کر آ ﺅں گی۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور پچھلی نشست پر بیٹھ گئی ۔تبھی ڈرائیور کے ساتھ سرمد بیٹھا تو اس نے کارکو گیئر لگا دیا۔کار شناسا راستوں سے چلتی ہوئی جا رہی تھی۔ سکول تھوڑے فاصلے پر تھا۔جیسے ہی وہ گیٹ کے پاس پہنچے ۔ایک بالکل کاران کے ساتھ آ لگی۔ ایک تو رفتار آ ہستہ تھی، دوسرا ڈرائیور بہت محتاط تھا، اس لئے بر وقت بریک لگا لئے۔ کار رکی ہی تھی تو دوسری کار میں سے چند لوگ باہر نکل آ ئے ۔وہ انتہائی سرعت کے ساتھ ان کی کار کے چاروں جانب پھیل گئے۔ ایک نے ڈرائیور کے سر پر پسٹل رکھ دیا۔

” خبردار کوئی ہو شیاری دکھانے کی کوشش کی ۔“ اسی بندے نے کہا اتنے میں ایک بندہ سرمد کی طرف چلا گیا۔ جیسے ہی اس شخص نے سرمد کی طرف والا دروازہ کھولا، رابعہ نے چیختے ہوئے کہا۔

” بشیر بھگاﺅ گاڑی….“

 لیکن بشیر ڈرائیور کار نہ بھگا سکا۔ باہر کھڑے آ دمی نے سرمد کو کھینچ کر نیچے اُتار لیا تھا۔ اسے دو مزید لوگوں نے جھپٹ کر پکڑا تب تک رابعہ باہر نکل کر سرمد کی طرف لپکی ۔

” چھوڑو …. چھوڑو میرے بچے کو ….“

” اگر زندگی چاہتی ہو تو پیچھے ہٹ جاﺅ ۔“ اسی شخص نے پسٹل نکالتے ہوئے کرخت لہجے میںکہا

”تم میرے بچے کو نہیںلے جا سکتے۔“وہ شیرنی کی طرح دھاڑتے ہوئے چیخی اور سرمد کو پکڑ لیا۔ وہ اسی اپنی جانب کھیچ رہی تھی جب وہ لوگ سرمد کو گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔ رابعہ ساتھ گھسیٹی چلی جا رہی تھی

”اسے تو ہم لے کر ہی جائیںگے ، چاہیں تمہیںمارنا پڑے، پرے ہو جاﺅ ۔“وہی شخص اسی بھیانک لہجے میںبولا وہ رابعہ نے التجائیہ لہجے میں کہا

”مجھے مار دو ، سکندر حیات سے کہو جو کہو گے میںمان لوں گی ۔ میرے بچے کو ….“

” بند کر بکواس …. “ اس نے پسٹل والے ہاتھ کے ساتھ اسے زور سے دھکا دیا۔ وہ سڑک پر جا گری۔ دوسرے شخص نے سرمد کو کار میںپھینکا۔ رابعہ تڑپ کر اٹھی اور سرمد کی جانب بڑھی ۔تب اس شخص نے رابعہ کے سر پر پسٹل کا دستہ زور سے مارا۔ لہو کی دھار کے ساتھ وہ گرتی چلی گئی۔

” ماما….“ سرمد ایک بار چیخا، پھر اس کی آ واز دب کر رہ گئی۔

 اگلے چند لمحوں میں وہ لوگ کار میںبیٹھے اور چل دئیے ۔ بشیر نے سڑک پر گری رابعہ کو دیکھا ۔ اس نے فوراً طاہر کو فون کرنے لگا۔چونکہ یہ واقعہ سکول کے پاس پیش آ یا تھا۔ وہاں کافی عورتیں اور مردتھے۔ جو اپنے بچوں کو چھوڑنے آ ئے ہوئے تھے۔ وہ ان تک آ گئے ۔رابعہ کو کار میںڈالا گیا تاکہ فوراً ہسپتال پہنچا دیا جائے۔

جس وقت تک رابعہ کو قریبی ہسپتال پہنچایا گیا ، تب تک آ یت وہاں جا پہنچی تھی۔وہ ایک نجی ہسپتال تھا ۔ جب وہاں کے لوگوں کو پتہ چلا کہ کون مریضہ ہے ، وہاں ایک ہلچل مچ گئی۔اسے فوراً آ پریشن تھیٹر میںلے جایا گیا۔آیت باہر کھڑی مختلف لوگوں کو فون کر رہی تھی۔اس نے اپنے دماغ کو قابو میںرکھا ہوا تھا۔ دو گھنٹے کے مسلسل آ پریشن کے بعد جب ڈاکٹر زباہر آ ئے تو سینئر ڈاکٹر نے آیت سے کہا

”زخم اتنا گہرا نہیں ہے ، لیکن خون بہت بہہ گیا ہے۔“

” خطرے والی تو نہیںہے نا ڈاکٹر صاحب؟“ اس نے پوچھا

”بظاہر تو نہیںہے،اگر دو گھنٹے بعد ہو ش آ گیا تو پھر کوئی خطرہ نہیں۔“ ڈاکٹر نے اسے تسلی دی اور اپنے آ فس کی جانب بڑھ گیا۔ انہی لمحات میں طاہر کا فون آ گیا۔ آیت نے اسے صورت حال بتائی تو وہ بولا

” آ یت ۔!تم نے یہیں رہ کر رابعہ کا خیال کرنا ہے ، میں سرمد کو لے کر ہی لوٹوں گا۔“

” پتہ چلا کس نے اغوا….“اس نے پوچھنا چاہا لیکن وہ فون بند کر گیا۔

کچھ دیر بعد رابعہ کو آئی سی یو میںشفٹ کر دیا گیا۔

ز….ژ….ز

 طاہر انتہائی تیز رفتاری سے لاہور پہنچ گیا تھا۔ تمام راستے اس کا پولیس سے لے کر اپنے بندوں سے رابطہ رہا۔بشیر ڈرائیور نے اسے جب ساری تفصیل سے بتایا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ اغوا کس کی طرف سے ہے ۔ اسے یقین اس وقت ہو گیا ، جب اسے پتہ چلا کہ اس کا بابا سکندر حیات لاہور والی رہائش گاہ پر کل شام سے موجود ہے ۔ساجد اپنی جگہ رابطے میں مصروف تھا۔ لاہور پہنچتے ہی ساجد اس سے الگ ہو گیا۔طاہر فارم ہاﺅس نہیںگیا ، بلکہ سیدھا اسی رہائش گاہ پر گیا ، جسے وہ ڈیرہ کہتے تھے اور بابا سکندر حیات وہاں موجود تھا۔

وہ اپنی کار پورچ میں روک کر سیدھا لاﺅنج میں گیا۔بابا سکندر حیات وہاں پر اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے طاہر کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا، پھر نہایت تکبرانہ لہجے میں بولا

” مجھے پتہ تھا تم سیدھے میرے پاس ہی آ ﺅ گے۔“

” ظاہر ہے بابا مجھے آپ ہی کے پاس آ نا تھا۔“ اس کے لہجے میں ادب تھا

”بولو کیا چاہتے ہو؟“ اس نے یوں پوچھا جیسے بھیک دینا ہو

”بابا۔! مجھے سرمد چاہئے، ابھی اور اسی وقت، اسے کوئی نقصان نہیںپہنچنا چاہئے۔“طاہر نے التجائیہ انداز میں یوں کہا جیسے وہ بھیک ہی مانگ رہا ہے۔

” مجھے سمجھ نہیںآ تی ، میرا شیر پتر، ایک عورت کے لئے چوہے کی طرح کیوں ہو گیا ہے۔ شرم آ تی ہے مجھے تمہیںاپنا بیٹا کہتے ہوئے۔“ اس نے نفرت سے کہا

” مجھے سرمد چاہئے۔“ اس نے پھر التجا کی ۔

” تمہیں مجھ پر غصہ کرنا چاہئے، دھاڑو شیر کی طرح ،میرے پنجے سے چھڑا کر لے جاﺅ اُسے ، پھر میں سمجھو گا تم میرے وہی بیٹے ہو ،جس پر میں ناز کیا کرتا تھا۔ “اس نے جوش سے کہا پھر اگلے ہی لمحے حقارت سے بولا،” کیا بن گئے ہو تم ؟“

”بابا،آپ میرے باپ ہو ، میں آپ کے سامنے کیسے بول سکتا ہوں۔بس مجھے سرمد چاہئے، وہ دے دیں آپ ۔“ طاہر نے ادب سے لبریز لہجے میںکہا

” تم کیا سمجھتے ہو ، میں نے اسے یونہی اغوا کرا لیا، میں اسے اغوا کروں گا ، تم آ ﺅ گے ، یوں مانگو گے اور میں آسانی سے تمہیں تھما دوں گا ۔“سکندر حیات نے تکبرانہ لہجے میں حقارت سے کہا

”کیوں کیا ایسا، کیا چاہتے ہیں آ پ؟“طاہر نے پوچھا تو وہ صوفے سے لگی ٹیک ہٹا کر بولا

”میں جانتاہوں کہ تم نے اسی لڑکے کے لئے سارا تماشہ بنایا ہوا ہے۔وہ لڑکا صرف ایک صورت میں تمہیں مل سکتا ہے ؟“ اس نے یوں کہا جیسے کسی اجنبی سے بات ہو رہی ہو

”وہ کیا ہے بابا؟“ طاہر نے پوچھا

”مت کہو مجھے بابا، اس وقت تک نہ کہو ، جب تک میری بات نہیںمان لو گے۔“ اس نے غصے میںکہا، پھر ایک لمحہ خاموش ہو کر بولا،”جاﺅ ، رابعہ کو طلاق دے کر آ جاﺅ ، وہ لڑکا تمہیںمل جائے گا ۔“

” بابا ایسے نہ کہیں، میں اسے طلاق نہیں دے سکتا اور نہ ہی یہ برداشت کروں گا کہ سرمد کو ایک خراش بھی آ ئے ، آپ ایسی کوئی شرط مت رکھیں جو میں پوری نہ کر سکوں پلیزبابا، میں ….“ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے بڑی عاجزی سے کہا تو سکندر حیات نے حقارت ہی سے جواب دیا

”جس نے میرا بیٹا چھین لیا ، کیا میں اس کا بیٹا زندہ رہنے دوں گا؟“

یہ سن کر طاہر سناٹے میں آ گیا۔کئی تصور اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔اس کے اندر سے اسی ضدی، اکھڑ اور بے باک طاہر نے سر اٹھایا، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود پر قابو پا کر کہا

”جیسا آ پ سرمد کے ساتھ سلوک کریں گے ، ویسا ہی آپ کے بیٹے کے ساتھ ہو جائے گا۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیںکہہ سکتا۔“ طاہر نے کہا اور اپنے باپ کے چہرے پر دیکھا۔جہاں لمحہ بھر کو ایک ہیولا سا آ یا تھا لیکن اگلے ہی لمحے رعونت چھا گئی ۔

” ٹھیک ہے ۔ میرا بیٹا تو اب بھی میرا نہیںہے۔“ وہ سختی سے بولا

” بابا۔! سرمد کے بنا میری زندگی نہیںہے،سرمد کی حفاظت نہ کر سکنا میری موت ہے بابا۔سوچ لیں۔“ اس نے اپنے لہجے کو حد درجہ مودب رکھتے ہوئے کہا

” میں نے بہت سوچ کر ہی ایسا کیا ہے ۔میں سمجھو ں گا ، میں بے اولاد ہی رہا۔میں اگر تم سے اپنی بات نہ منوا سکا تو پھر میرا ہونا کیا۔ تمہیںرابعہ کو طلاق دینا ہو گی ۔ میں تمہیں آ ج شام تک کا وقت دیتا ہوں۔جاﺅ چلے جاﺅ اب ۔ “ سکندر حیات غصے میں کہتا چلا گیا۔

طاہر اپنے باپ کی طرف دیکھتا رہا۔اس نے مزید کچھ کہنا چاہا تو سکندرحیات نے ہاتھ کے اشارے سے روک کر واپس چلے جانے کا اشارہ کیا۔طاہر پھر چند لمحے رُکا رہا، پھر مایوس ہو کر پلٹ گیا۔

حالات مایوس کر دینے والے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ سرمد کس کے پاس ہے لیکن وہ بتا نہیںسکتا تھا ۔ اپنے باپ کا جرم کس کے سامنے بیان کرتا۔ جبکہ باپ نے جو شرط رکھی تھی وہ اس کی زندگی ہار جانے کے مترادف تھا۔ ایک امتحان تھا یا کیا تھا؟ وہ سمجھ نہیںپا رہا تھا۔

ز….ژ….ز

رابعہ آ ئی سی یو میں پڑی تھی ۔ تین گھنٹے گذر جانے کے باوجود اسے ہوش نہیںآ یا تھا۔آیت نے جو خود پر قابو رکھا ہوا تھا، اسے لگا اس کے اعصاب دھیرے دھیرے جواب دے رہے ہیں۔ وہ مسلسل ڈاکٹرز کے سر پر سوار تھی ۔ اس کا یہی ایک سوال تھا کہ اب تک اسے ہوش کیوں نہیںآ رہا۔ سینئر ڈاکٹر کا یہی کہنا تھا کہ یہ حیران کن بات ہے ، اسے اتنی دیر تک بے ہوش رہنا تو نہیںچاہئے۔ وہ لوگ تب سے یہ جاننے کی کو شش میں لگ گئے کہ وہ اتنی دیر سے بے ہوش کیوں ہے۔

اب آ یت وہاں پر اکیلی نہیںتھی ۔ اس کے اور طاہر کے آ فس کا سینئر عملہ وہاں موجود تھا۔دادا جی بھی پہنچ گئے تھے لیکن وہ آ یت کے پاس ہونے کی بجائے سرمد کو تلاش کرنے کے لئے رابطے میں تھے۔گھڑی کی ٹک ٹک اور سانس کی آ مدورفت ایک جیسی ہو گئی تھی ۔وہ کاریڈور میں بیٹھی اپنی پوری توجہ رابعہ پر لگائے بیٹھی تھی۔اگرچہ اسے سرمد کی زیادہ فکر تھی لیکن وہ اس نے طاہر پر چھوڑ دیا تھا۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس معصوم سے خار رکھنے والا کون ہو سکتا ہے ۔ اگر طاہر نے سرمد کی تلاش اپنے ذمے نہ لی ہوتی تو وہ اب تک سکندر حیات کو مجبور کر دیتی کہ وہ سرمد کو واپس کرے ۔وہ نا امید اب بھی نہیںتھی ۔

وقت جوں جوں گزرتا چلا جا رہا تھا، رابعہ کی پریشانی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ڈاکٹرز کچھ بتا نہیں رہے تھے کہ آخررابعہ کو ہوش کیوں نہیںآ رہا ۔ وہ اٹھی اور سینئر ڈاکٹر کے آ فس میں چلی گئی ۔ وہاں پر دو ادھیڑ عمر مرد اور ایک خاتون ڈاکٹر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ جب وہاں گئی تو سبھی خاموش ہو گئے۔

” آئیں بیٹھیں۔“ سینئر ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھ کر سامنے پڑی کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ تو اس نے بیٹھتے ہوئے پوچھا

” ڈاکٹر صاحب۔! وہ ہوش میںکیوں نہیںآ رہی؟“

” دیکھیں۔!ابتدائی طور پر ہم نے سر پرلگی چوٹ کا ہی جائزہ لیا تھا۔ وہ ایسا نہیںتھا کہ اب تک ہوش نہ آ تی ۔ لیکن اب ہم نے اس کے ٹیسٹ لئے ہیںجو اُمید افزا نہیںہیں۔“

” کیا ہوا ؟“ اس نے تشویش سے پوچھا

”اب میں آ پ کو یوں سمجھاﺅں،یہ چوٹ ایک بہانہ بن گئی ہے ، ورنہ وہ خاتون کسی بھی وقت اس حالت میں آ جانے والی تھیں۔انہیں بہت زیادہ بلڈ پریشر ہے یا تھا، شدید صدمے سے وہ خود پرقابو نہیںرکھ پائیں ۔اس کے ساتھ انہیںاور عارضہ بھی تھا، جو دماغ کے شریانی پھیلاﺅ میں سخت دباﺅآ جانا ہوتا ہے ۔“

” لیکن ڈاکٹر، وہ کبھی بھی ….“ یہ کہتے کہتے وہ رُک گئی جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو ۔ وہ خاموش ہوگئی

” ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا،ہمیں ان کا مزید جائزہ لینا ہے ۔یہ سب سینئر ہمارے پاس ہیں۔ سی ٹی انجیو گرافی سمیت کچھ مزید ٹیسٹ لیتے ہیں ۔“ سینئر ڈاکٹر نے بتایا تو بہت کچھ سوچنے لگی۔ پھراپنی سوچ سے باہرآتے ہوئے بولی

”ٹھیک ہے ، ظاہر ہے میں تو چاہوں گی اسے ہوش میںلانے کی جتنی بھی کو شش ہوسکے، پلیز۔“

” جی ، یہ ہمارے لئے بھی سنجیدہ مسئلہ ہے ، ہم کسی بھی لمحے غافل نہیںہیں۔ آ پ دعا کریں۔“ ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا تو وہ اٹھ گئی۔حالات بہت نازک ہو گئے تھے۔

ز….ژ….ز

طاہر کار کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہسپتال کی جانب جا رہا تھا۔ اسے فون پر مسلسل اطلاعات مل رہی تھیں کہ سرمد کی بازیابی کے لئے کیا کو ششیں کی جارہی ہیں۔جب تک انسان لاعلم ہو اس وقت تک ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے لیکن جیسے ہی اسے علم ہو جائے وہ رسائی کے لئے راستہ بنا لیتا ہے۔جب تک اس نے رابعہ سے شادی نہیںکی تھی ، تب تک وہ بھی انہی راہوں کا راہی تھا، جس پر اس کے بابا چل رہے تھے۔ وہی لوگ تھے، جن سے ان کا بابا کام لیتے تھے، وہی مہرے تھے جن سے پہلے بابا چال چلتے تھے ، پھر وہ چلتا رہا تھا۔وہ ہسپتال سے ابھی تھوڑی دور ہی تھا کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ فون ساجد کا تھا۔ اس نے کال رسیو تو دوسری جانب ساجد نے کہا

” سرمد مل گیا ہے ۔“

” کہاں ہے ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” میرے پاس ہے ، میں لا رہا ہوں ۔وہ پوری طرح محفوظ ہے ۔“ اس نے تسلی دی

” اسے لے کر ہسپتال آ جاﺅ ۔میں گیٹ پر ہی تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ اس نے کہا

” ٹھیک ہے ۔“ سا جد نے کہا اور فون بند کر دیا۔

ایک گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔ساجد مسلسل رابطے میںتھا۔ وہ ہر پانچ دس منٹ اسے بتا دیتا کہ وہ کہاں پر ہے ۔ یہاں تک کہ وہ گیٹ پر آ گیا۔جیسے ہی طاہر کی نگاہیں سرمد سے چار ہوئیں ، طاہر کے دل سے ایک ہو ک نکلی۔درد کی لہر اس کا اندر چیر گئی ۔ ایک احساس شرمندگی نے دکھ کی اتھا ہ گہرائیوں میں لا پھینکا۔ میں سرمد کی حفاظت بھی نہیںکر سکا ؟ایک لمحے کے لئے اسے یوں لگا جیسے وہ اس دنیاہی میں نہیںہے ۔اسے احساس اس وقت ہوا ، جب سرمد اس کی ٹانگوں سے آ ن لپٹا۔

” پاپا۔! انہوں نے ماما کو بھی مارا، مجھے بھی ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔لفظوں سے لپٹا ہوا دکھ،شکایت میں مان اور معصومیت بھری آہ نے طاہر کو اندر تک سے چیر دیا۔اک آگ کا شعلہ بلند ہوا ،یوں لگا دھواں چاروں طرف پھیل گیا ہے ۔اسے خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔اس کی آ نکھیں آنسوﺅں سے تر ہو گئیں۔ اس نے سرمد کو تسلی دینا چاہی لیکن ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا۔ وہ ساکت وہیں کھڑا رہا۔ سرمد کے لفظوں نے گویا سمندر کے دو پاٹ کر دئیے تھے۔

” یہیں کھڑے رہو گے یا اندر بھی چلو گے؟“ ساجد کی آواز پر وہ چونکا ۔ وہ سرمد کو لے کر اندر چل دیا۔ اس کا ڈرائیور کار کو پارکنگ میں لگانے کے لئے چل پڑا۔

کاریڈور کے سامنے والے لان میں اس کے جاننے والے لوگ کھڑے تھے۔ ان سے کافی پیچھے کاریڈور میں آ یت کھڑی اپنے دادو سے بات کر ہی تھی۔دادو کی نگاہ طاہر اور سرمد پر پڑی اس نے چونک کر انہیںدیکھا اور پھر آ یت کو بتایا، وہ تڑپ کر پلٹی ۔ سرمد نے طاہر کی جانب دیکھا۔اس نے سرمد کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ وہ بھاگتا ہوا آیت کی جانب بڑھ گیا۔ اس نے سرمد کو گلے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ اسے سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ یہ خوشی کے آ نسو ہیں یا دکھ آنکھوں سے بہہ رہا ہے ۔اتنی دیر میں طاہر ان دونوں کے پاس پہنچ گیا تھا۔سرمد رو رو کر بتا رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ۔

” بڑی ماما…. بڑی ماما…. وہ مجھے نا…. ایک گھر میںلے گئے….بڑا سارا گھر تھا…. مجھے ایک کمرے میں….بند کر دیا۔میںنے نا …. ماما کے پاس جانے کو کہا…. تو انہوں نے مجھے مارا…. بڑی ماما مجھے بہت زور سے مارا…. “

” تم میرے بہادر بیٹے ہو ۔ اب رونا نہیں۔“ آیت نے اسے اپنے سینے کے ساتھ بھینچتے ہوئے کہا

” ماما کہاں ہیں ، بڑی ماما، ان کا خون نکلا تھا۔“ سرمد نے سسکی لیتے ہوئے کہا

”بیٹا، میری بات غور سے سنو، وہ نہ کچھ سن رہی ہیں اور نہ بول رہی ہیں۔ دعا کرو ، وہ بات کریں ۔ انہیںتنگ مت کرنا۔وہ اندر ہیں۔“ آیت نے اسے ذہنی طور پر تیار کرتے ہوئے کہا۔ تبھی دادا جی نے سرمد کو پکڑا اور اسے اٹھا کر وہاں لے گئے ، جہاں سے وہ شیشے میں سے رابعہ کو دکھا سکیں۔

”کون لے گیا تھا؟“ آیت نے طاہر کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں پوچھا

”بابا کے لوگ ۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں انتہائی شرمندگی سے کہا

” کون لایا؟“ اس نے تصدیق کر نے والے انداز میں پوچھا

” ساجد ۔“ اس نے کہا اور پھر لمحہ بھر خاموشی کے بعد تفصیل بتاتا چلا گیا،” اسے شک تھا، اس لئے اسلام آ باد سے واپسی پر اس نے خاص لوگوں سے رابطہ کیا تو اسے پتہ چل گیا۔جن لوگوں نے سرمد کو اغوا کیا تھا ، انہیںپتہ ہی نہیںتھا کہ سرمد کون ہے اور اس کا میرے ساتھ تعلق کیا ہے ۔جیسے ہی انہیںپتہ چلا، انہوں نے اسے ساجد کے حوالے کر دیا۔“

” مطلب ، تم ان دونوں کی حفاظت نہیں کر سکے ۔“ آ یت نے حتمی لہجے میںکہا

”میں تمہارا مجرم ہوں ۔“ اس نے گردن جھکا دی ۔آیت النساءاس کی طرف چند لمحے دیکھتی رہی پھر انتہائی دکھ سے بولی

” رابعہ کی حالت انتہائی خطرناک ہے۔“ اس نے بتایا

” کیا اسے ہوش نہیںآ یا؟“ اس نے حیرت سے پوچھا تو وہ تفصیل بتا کر بولی

”اس کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے طاہر ۔“ اس نے کہا اور پلٹ گئی ۔ گویا یہ ایک طرح سے وارننگ تھی کہ اگر اسے کچھ ہو گیا تو بہت برا ہوگا۔طاہر کو یوں لگا جیسے وہ چکی کے دو پاٹوں میں آ گیا ہے ۔

ایسے میں اس کے کاندھے پر ساجد نے ہاتھ رکھا۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

”حوصلہ کرو طاہر ، رَبّ سے اُمید رکھو ۔ وہ بڑا پالنہار ہے ۔ کوئی راستہ ضرور نکالے گا ۔“

 طاہر نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور گہری سانس لیتے ہوئے کہا

” تم آیت النساءسے کہو، وہ سرمد کو اپنے ساتھ گھر لے جائے۔وہ پہلے ہی شاک میںہے، مزید ڈسٹرب ہوگا۔ ایک وہی ہے جو اس کی ذہنی حالت کو درست رکھ سکتی ہے ۔“

”ٹھیک ہے ، میں کہتا ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اس طرف بڑھ گیا جہاں سر مد کو لئے آیت النساءکھڑی تھی۔

سورج غروب ہو چکا تھا۔ آفس سے آئے ہوئے لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ آیت النساءکو بھی گھر بھیج دیا گیا تھا۔ وہاں پر دادا جی موجود تھے، جن سے آیت نے رابطہ رکھا ہوا تھا۔ ڈاکٹرز پوری جانفشانی سے رابعہ کے لئے مصروف تھے۔طاہر کی درخواست پر اس مرض کے اندرون اور بیرون ملک کے کچھ ماہر ترین لوگوں سے رابطہ کر لیا گیا تھا۔ ممکن ٹیسٹ کئے جا رہے تھے۔طاہر کی پوری کوشش تھی کہ رابعہ کسی طرح ہوش میں آ جائے ۔کیونکہ آیت کا ایک ہی فقرہ اس کے دماغ میں گونج رہا تھا۔

” مطلب ، تم ان دونوں کی حفاظت نہیں کر سکے ۔“

یہ فقرہ اس کے دماغ میںخنجر کی مانند پیوست ہو گیا تھا۔

یہی وہ لمحات تھے جب اس کا فون بج اٹھا، اس نے اسکرین پر دیکھا۔ اس کے بابا کا فون تھا۔وہ چند لمحے کسی جذبے سے بے نیاز اسکرین دیکھتا رہا۔ اگلے ہی لمحے اس کے اندر ہلچل مچ گئی۔اس نے بہت کچھ کہنے کے لئے کال رسیو کرنا چاہی،تبھی نجانے کس طاقت نے اسے روک دیا۔ اس نے ایک طویل سانس لی اور کال رسیو کرلی۔اس نے ہیلو کہا توسکندر حیات کی آ واز گونجی

”کیا تم نے رابعہ کو طلاق دے دی ہے؟“

 ”بابا۔! آپ دعا کریں ، وہ زندہ رہے ، ورنہ اس کا قتل آپ کی گردن پر ہوگا۔“ طاہر نے خود پر قابو رکھتے ہوئے بڑے حوصلے کے ساتھ دھیمے لہجے میں جواب دیا

”سر مد کو لے جانے کا مطلب یہ نہیںکہ تم جیت گئے ہو۔اسے چھوڑ کر آ جاﺅ ، ورنہ وہ نہیںرہے گا۔“ اس نے دوسری طرح سے دھمکی دی ۔ اس پر طاہر چند لمحے خاموش رہا، پھر ضبط کو تھامے بولا

” کسی کا بیٹا چھین لینے سے کیا آپ کا بیٹا آ پ کو مل جائے گا۔ ظلم مت کریں بابا۔“

” اب تم مجھے سکھاﺅ گے؟“ وہ نے تڑپ کر کہا

”مجھے بحث نہیں کرنی ، بس مجھے اتنا بتانا ہے ، سرمد کی جان میں میری زندگی ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کا باپ ضد کی انتہا پر جا پہنچا ہے ۔

ز….ژ….ز

ابھی سورج نہیںنکلا تھا۔آیت النساءجائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھی۔روزانہ اس وقت تک وہ اپنے معمولات سے فراغت کے بعد واک کے لئے نکل جایا کرتی تھی۔ لیکن اُس دن آیت کی دُعا لمبی ہوگئی تھی۔اس کا واک پر جانے کا دھیان ہی نہیںتھا۔ دعا ختم کر کے اس نے سوئے ہوئے سرمد پر نگاہ ڈالی اور اٹھ گئی ۔ اس نے کھڑکی میں سے دیکھا، دادو جی لان میں ٹہل رہے تھے۔ اسے پتہ تھا کہ رات کے آخری پہر گھر واپس آ گئے تھے۔ وہ رات بھر ایک لمحہ کے لئے بھی نہیںسو سکی تھی۔آیت باہر جانے کے لئے تیزی سے تیار ہونے لگی۔

وہ پورچ میںآئی تودادو جی روزانہ کی طرح کاریڈور میںبیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ وہ اس جانب بڑھ آئی تو دادو جی نے اخبار سمیٹ دی ۔

”کیسی تھی رابعہ ؟“

” جب میں آیا تھا ، اس وقت تک تو اُسے ہوش نہیںآیاتھا۔“

”ٹھیک دادو، میںجا رہی ہوں ہسپتال ، آپ سرمد کا بہت زیادہ خیال رکھیں۔“وہ انتہائی سنجیدہ لہجے میںبولی

”ہاں ، بیٹا میںسمجھ رہا ہوں۔سکندحیات نے یہ بہت غلط کیا، خیر تم کسی بھی قسم کی فکر مت کرنا،میں کچھ مزید سیکورٹی کا بندو بست کر لیتا ہوں۔“ داداجی نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے میں چلتی ہوں۔“آیت کہتے ہوئے پلٹ گئی ۔

وہ ہسپتال پہنچی تو دن نکل آ یا تھا ۔ کار پارکنگ میں کھڑی کر کے جب وہ آئی سی یو میںپہنچی توساجد باہر بیٹھا ہوا تھا ۔ اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔وہ اس کے قریب جا پہنچی اور سلا م کرنے کے بعد پوچھا

”کیسی ہے رابعہ ؟“

”ابھی تک ہو ش نہیںآیا۔ “ اس نے شیشے کے پار پڑی ہوئی بے ہوش رابعہ کی جانب دیکھ کر بتایا ۔ اس کے پاس ہی طاہر موجود تھا۔دو ڈاکٹر اورنرسیں اس کے ارد گرد تھیں۔آیت کو لگا جیسے کچھ اچھا نہیں ہے ۔وہ تیزی سے آ ئی سی یو میںبڑھ گئی ۔اس نے وہاں موجود سبھی چہروں پر تشویش دیکھی۔ڈاکٹر بار بار رابعہ کے سرہانے لگی مشینوں کو دیکھ رہے تھے۔آیت کے لب دعا کے لئے ہلنے لگے۔تبھی مشینیں خاموش ہو گئیں۔ڈاکٹرز نے مایوسی سے طاہر کی طرف دیکھا۔وہ سمجھ گیا۔اس کی نگاہ آیت النساءپر پڑی۔آیت نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسوﺅں بہہ نکلے تھے۔ ایک ڈاکٹر رابعہ کو پھر سے دیکھنے لگا۔ چند منٹ دیکھتے رہنے بعد اس نے سفید چادر اس پر ڈال دی ۔تبھی آیت کی آنکھیں بھی سارے بندھ توڑ گئیں۔

ز….ژ….ز

” بڑی ماما۔! جو لوگ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں، وہ کہاں رہتے ہیں؟“ سرمد نے آیت سے پوچھا تو اس کا دل ہمک اٹھا۔وہ جانتی تھی کہ اب اسے سرمد کے بے شمار سوالوں کے جواب بڑے تحمل سے دینا تھے۔اس نے بڑے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

” بیٹا۔! رَبّ تعالی کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت جگہ ہے ۔ جہاں بہت سکون اور آرام ہے۔وہ وہاں جا کر رہتے ہیں۔“

” بڑی ماما، وہ تو سکون سے رہتے ہیں۔ماما کو نہیں پتہ تھا کہ میں اور آپ یہاں پر ہیں۔ہم انہیں یاد کرتے ہیں۔پاپا بھی اب چپ رہتے ہیں۔“ سرمد نے کہا

” دیکھو بیٹا،اللہ بہت پیار کرنے والا ہے نا۔ وہ جب اپنے بندے کو بہت زیادہ تکلیف میں دیکھتا ہے نا تو پھر اسے اپنے پاس بلا کر سکون دیتا ہے ۔ آپ کی ماما کو بہت تکلیف تھی نا، اس لئے ۔“ آیت نے خود پر بہت زیادہ حد تک قابو پاتے ہوئے سکون سے کہا ۔

”وہ مجھے بچا رہی تھی نا؟“ سرمد نے دکھی لہجے میںکہا

” ہاں ، اگر تم روئے ، یا ماما کو یاد کیا تو پھر ماما کو یہاں آکر پھر سے اسی تکلیف میں سے گزرنا پڑے گا۔کیا تم چاہتے ہو کہ ….“ آیت نے کہنا چاہا تو سرمد تیزی سے بات کاٹتے ہوئے بولا

” نہیںبڑی ماما، میں نہیںچاہوں گا ۔“

” شاباش ،تم بہت بہادر ہو نا، اس لئے ۔میںہوں ، آپ کے پاپا ہیں۔ دادو ہیں، سب ہیں۔“

شاید سرمد سمجھ گیا تھا یاوہ خاموش ہوگیا۔ اس نے مزید سوال نہیںکیا ۔وہ آیت کی گود میں سر رکھے ہوئے لیٹا ہوا تھا۔

سرمد ایک ہفتے سے آیت ہی کے پاس تھا۔ رابعہ کو لحد میں اُتارنے سے پہلے سرمد کو وہاں لے جایا گیا تھا۔طاہر چاہتا تھا کہ اسے نہ لے جایا جائے ، مگر آیت النساءچاہتی تھی کہ سرمد کو ابھی سے حقیقت آ شنا کر دیا جائے۔اس نے سرمد کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا۔ فارم ہاﺅس پر لوگ تعزیت کے لئے آ تے رہے ۔ وہیںایصال ثواب کے لئے دعائیں ہوتی رہیں۔لیکن سرمد کو آیت ہی کے گھر میں رکھا گیا۔یہ آیت ہی جانتی تھی کہ سرمد کتنی بڑی نعمت سے محروم ہو گیا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کی ذمہ داری کس قدر بڑھ گئی ہے۔

جانے والوں کے ساتھ کوئی جا نہیںسکتا ۔دنیا کے کاروبار رُکتے نہیں۔سو آیت نے سرمد کو سکول جانے کے لئے تیار کر لیا تھا۔ اب فارم ہاﺅس پر بھی کوئی نہیںآتا تھا۔

اس صبح وہ سرمد کو لے کر فارم ہاﺅس پر جا پہنچی ۔ جیسے ہی اس نے پورچ میں کار روکی ۔ اسے لگا جیسے وہاں سب اجڑا اجڑا سا ہے ۔جیسے وہاں کی ساری رونق رابعہ اپنے ساتھ ہی لے گئی ہے ۔وہ دکھی دل کے ساتھ سرمد کو لئے لاﺅنج میں آئی وہاں بھی ویرانی تھی ۔ وہاں کے ملازمین اس کی آمد کے بارے میں جان کروہاں آ نے لگے۔تبھی وہاں کی خاص ملازمہ سے آ یت نے پوچھا

” طاہر صاحب کہاں ہیں؟“

” وہ پیچھے والے لان میں بیٹھے ہیں۔“ اس نے بتایا

”وہ آ فس نہیںگئے ؟“ آیت نے قدرے حیرت سے پوچھا

” نہیں، وہ نہیںجا رہے ہیں۔“اس نے بتایا

” اچھا، یہ تم سرمد کو سنبھالو ،میں دیکھتی ہوں ۔“ آیت نے کہا اور اٹھ کر باہر کی جانب چل پڑی۔اس نے دور ہی سے دیکھا۔سفید شلوار قمیض میں ملبوس طاہر، ایک کرسی پر سر نہیوڑے کسی سوچ میںڈوبا ہوا تھا۔اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ دنیا و مافہیا سے بے خبر بیٹھا ہوا تھا۔ آیت اس کے پاس جا پہنچی تو اس نے سر اٹھایا۔جونہی اس پر نگاہ پڑی وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔آیت اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔چند لمحے یونہی خاموشی میںگزر گئے۔ تب وہ بولی

”کیا اس طرح بے حوصلہ بھی ہو اجاتا ہے؟“

” تم خود ہی اس کا بہت پہلے جواب دے چکی ہو ؟“ طاہر نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” کیا تم اس جواب کو دہرا سکتے ہو ؟“ آیت نے پوچھا

”ہاں، یہی کہ میں سرمد اور رابعہ کی حفاظت کرنے میںناکام رہا ہوں ۔“ طاہر نے دکھی لہجے میںکہا

”تو پھر کیا کرو گے؟“ آیت نے سکون سے پوچھا

”ظاہرہے ، اپنے آ پ کو سزا دینا تو بنتا ہے ۔سزا دوں گا ۔“اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

” کیسے دو گے سزا خود کو ؟“ اس نے پوچھا

” یہی تو سوچ رہا ہوں ۔“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

” مطلب ابھی تک سوچا نہیں، خیر جب کسی نتیجے پر پہنچو تو بتانا، فی الحال سرمد آ یا ہے۔“اس نے بتایا

” آیت میں بہت شرمندہ ہوں،تم سے سرمد سے رابعہ سے ، میں اپنی شرمندگی کیسے مٹاﺅں۔یہ سمجھ میں نہیںآ رہا۔“ اس نے روہانسا لہجے میں میںکہا تو آ یت کا من کٹ گیا۔اس لئے بولی

”تم اس وقت ایسا نہیں سوچ رہے ہو ، جس میں زندگی ہو ۔وہ تمہارا عشق، وہ بھی نہیںرہا؟“

” اس عشق کے لئے تو اس قدر صبر کئے بیٹھا ہوں ۔“ طاہر نے کہا

” ورنہ کیا کرتے ؟“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی پھر بولی،” کیا اپنے بابا کے خلاف جاتے ، ان سے بدلہ لیتے ۔“

” ہاں ، میں ان سے بدلہ لیتا، اپنا آ پ ختم کر کے ۔لیکن یہ میرا عشق مجھے اجازت نہیںدے رہا۔کیا سبق دیا ہے اس عشق نے بھی ، صرف صبر کرنا ہے ۔ظلم سہنا ہے، صبر کرنا ہے۔ کچھ نہیںکہنا۔“ وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے خود کلامی کر رہا ہو۔آیت اس کی طرف دیکھتی رہی ، کوئی بھی تبصرہ کئے بغیر بولی

” زندگی فرار کا نام نہیں، اس کی آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر جینے کا نام ہے ۔خیر ،! میں کہہ رہی ہوں سرمد آ یا ہے میرے ساتھ۔“

”اگر تم نے اسے اپنے ساتھ واپس لے جانا ہے تو میں نہیں ملوں گا ۔“ اس نے اسی سنجیدگی سے کہا

” تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ؟“ آیت اسکی بات سمجھتے ہوئے بولی تو اس نے کہا

” یہی کہ اگر اس نے یہیں میرے ساتھ رہنا ہے تو پھر میں اس سے ملتا ہوں ۔“

”کیا یہ تمہاری کیا منطق ہوئی ؟“ اس نے پوچھا

”میری سوچ یہ کہہ رہی ہے کہ اگر میں سرمد کی خدمت کروں توشاید میری تلافی ہو ، ورنہ میری مزید زندگی کا کیا فائدہ ۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا جائے۔“ طاہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا

” سرمد کی ذہنی حالت ایسی ہے کہ اسے ابھی میری ضرورت ہے اور….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

” میں زبردستی نہیں کر رہا اور نہ ہی میری ضد ہے ۔اگر اسے تمہاری ضرورت ہے تو ٹھیک ہے ۔سب سے پہلے سرمد ہے، اس کے بعد کوئی دوسرا ہے ۔“ طاہر نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا

” یہ تمہارا فیصلہ ہے ۔“ آیت نے حتمی لہجے میں پوچھا

” نہیںمیری درخواست ہے ، اگر تم قبول کر لو ۔“ اس نے انکساری سے کہا، جس میں دکھ چَھلک رہا تھا۔آیت سوچ میں پڑ گئی۔وہ کچھ دیر تک سوچتی رہی ۔پھر اٹھتے ہوئے بولی

” ٹھیک ہے وہ تمہارے پاس رہے گا۔“

یہ سنتے ہی طاہر میں گویا جان پڑ گئی ۔وہ بھی اٹھ گیا۔

لاﺅنج میں کوئی نہیںتھا۔ سرمد کے بارے میں ملازمہ نے بتایا کہ وہ بیڈ روم میں ہے ۔ وہ دونوں وہاں چلے گئے۔سرمد سو رہا تھا۔ یوں جیسے ماں کی مہک اسے گود کا احساس دیتی ہے۔ آیت باہر آ گئی ۔ وہ سیدھی پورچ میںگئی اور کار میںبیٹھ کر واپسی کے لئے چل دی ۔

شام تک وہ خود کو بہلائے رہی۔وہ سوچتی رہی کہ طاہراسے سنبھال لے گا۔ وہ بھی تو اس کے ساتھ بہت مانوس ہو گیا تھا۔پھر طاہر بھی تو اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے ۔جیسے جیسے سورج مغرب میں جھکنے لگا ، اس کے اندر کی بے چینی بڑھنے لگی ۔کئی بار اس کا ہاتھ سیل فون کی طرف گیا تاکہ سرمد کے بارے میں بات کر سکے لیکن ہر بار رُک جاتی ۔ یہ ایک طرح سے طاہر پر بے اعتباری والی بات تھی۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اگر حالت یہی رہی تو وہ رات کیسے نکالے گی ؟

وہ بے دلی سے ڈنر لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔سامنے بیڈتھا ، مگر اس پر جانے کو اس کا من نہیں چاہا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی ۔ وہ خود کو بہلانے کی کوشش کرنے لگی ۔اس کا سارا دھیان سرمد کی طرف تھا۔وہ کیا کر رہا ہوگا؟ کہیں وہ رابعہ کو یاد کر کے رو تو نہیں ہوگا؟ اسے نیند آ گئی ہو گی ؟ حالانکہ وہ خود اےسے سوتا ہوا چھوڑ کر آ ئی تھی ۔کافی تک یونہی بے سروپا سوچتے رہنے کے بعد اس سے رہا نہ گیا۔اس نے سیل فون لیا اور کال ملانے لگی تاکہ ایک بار ہی سرمد کے بارے میںپوچھ لے۔وہ نمبر ملانے لگی مگر پھر رُک گئی۔ اس نے سوچا، اُسے خود پر جبر کرنا چاہئے۔آج رات کے بعد سرمد خود ہی فیصلہ کر دے گا کہ اس نے کیا کرنا ہے۔ وہ اٹھی اور بیڈ پر چلی گئی ۔ وہ سو جانا چاہتی تھی لیکن نیند کا شائبہ تک اس کی آ نکھوں میں نہیں تھا۔

رات کا پہلا پہر ختم ہو چکا تھا۔وہ جاگ رہی تھی۔تبھی اس کا سیل فون بجنے لگا۔وہ طاہر کا نمبر تھا۔ اس نے جلدی سے کال رسیو کی ۔طاہر کی آ واز اس کے کانوں پر پڑی۔

”میں آپ کے پورچ میں ہوں ۔“

” خیریت ….؟“ اس کا دل دھڑک اٹھا

” خیریت ہے ۔سرمد چاہ رہا تھا کہ وہ آ پ کے پاس سوئے ، اس لئے میں اسے لے کر آ یا ہوں۔“ اس نے بڑے سکون سے جواب دیا تو وہ بے ساختہ تیزی سے کہتے ہوئے اٹھ گئی ۔

” میں آ رہی ہوں۔“

وہ پورچ میں پہنچی تو سرمد کے ساتھ طاہر کھڑا تھا۔اس نے سرمد کو گلے لگایا تو سرمد بولا

” بڑی ماما ، مجھے نیند نہیںآ رہی تھی۔“

” ٹھیک ہے بیٹا، آ پ یہاں سو جائیں۔“ اس نے پیار سے کہا

” میں چلتا ہوں۔“ طاہر نے کہا

” آ پ بھی ادھر ہی سوجائیں۔“ آیت نے دھیمے سے لہجے میں کہا جس پر وہ سنجیدگی سے بولا

” نہیںمیں فارم ہاﺅس ہی جاﺅں گا۔“ یہ کہہ کر وہ پیچھے کھڑی کار کی جانب بڑھ گیا۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔اس نے سرمد کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور کار بڑھا لے گیا۔ جس وقت وہ گیٹ پار نہیںکر گیا، تب تک وہ اندر کی جانب نہیں گئی ۔اُسے لگا ، اُس سے کچھ غلط ہو گیا ہے۔اس نے طاہر کو اندر آ نے کا ہی نہیںکہا۔ یہ ٹھیک ہے وہ سرمد کے لئے پریشان تھی ۔ لیکن اس قدر بھی نہیں کہ وہ طاہر کو بالکل فراموش کر دے ۔اسے تھوڑا قلق ہوا کہ یہ اچھا نہیںہوا ۔ لیکن اگلے لمحے اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ وہ سرمد کو لئے بیڈ روم میں چلی گئی ۔

اس نے پر سکون نیند لی تھی ۔ اس وقت وہ اپنے سارے معمولات سے فراغت لے کر واک کے لئے جانے والی تھی ۔ جب سرمد بیدار ہو گیا۔آیت نے واک پر جانا موخر کر دیا اور سرمد کو نہلانے دھلانے لگی ۔ فریش ہو کر وہ دونوں ناشتے کی میز پر آ کر ناشتہ کرنے لگے ۔دادا جی واک کرنے اور اخبار وغیرہ پڑھنے کے بعد اپنے کمرے میں جا چکے تھے تاکہ تیار ہو کر ناشتے کی میز پر آ ئیں۔ اُن کے ناشتہ کر لینے تک دادا جی باہر نہیںآ ئے تھے۔

” بس بڑی ماما ، میں نے ناشتہ کر لیا۔“

”خوب ڈٹ کے نا۔“ آ یت نے پیار سے ممتا بھرے لہجے میں پوچھا

” بالکل ڈٹ کے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

انہی لمحات میں آ یت کا سیل فون بجا ۔طاہر نے نمبر جگمگا رہے تھے ۔ اس نے کال رسیو کی تو طاہر بولا

” میں گیٹ پر کھڑا ہوں۔“

” گیٹ پر کیوں؟ اندر کیوں نہیںآئے ؟“ آیت نے دبے ہوئے لہجے میں کہا، اسے رات والا رویہ یاد آ گیا تھا۔

” میں سرمد کو لینے آ یا ہوں ۔اسے سکول جانا ہے ۔“

” اوہ ۔!“آیت کے منہ سے سرسراتے ہوئے نکلا پھر تیزی سے بولی،” تم آ جاﺅ نا اندر ۔“

” نہیں سرمد کو سکول سے دیر ہو جائے گی۔“ اس نے کہا تو ایک ہی لمحہ میں سمجھ گئی کہ اب مزید اس بارے اسے بات نہیںکرنی چاہئے ۔ وہ سرمد کو لے کر گیٹ پر چلی گئی ۔ وہ سڑک پر کار میں بیٹھا تھا۔آیت نے سرمد کو بٹھانے کے لئے کار کا اگلا دروازہ کھولا تبھی طاہر بولا،”سرمد کو پیچھے بٹھاﺅ ، اس کی یونیفارم وہاں پڑی ہے ، راستے میں پہن لے گا۔“

آیت نے پچھلی نشست پر دیکھا، سرمد کی یونیفارم پریس کی ہوئی ہینگر میں وہاں موجود تھی ۔اس نے کوئی بات کئے بنا ، پچھلا دروازہ کھولا اور سرمد کو بٹھا دیا۔اس کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ خود ساتھ میں جائے لیکن وہ ایسا خواہش کے باوجود نہیںکر سکی ۔طاہر چلا گیا تھا ۔ وہ کتنی ہی دیر تک وہیں کھڑی رہی ۔ اسے لگا اس کی ساری سوچیں جامد ہو گئی ہیں۔

سہ پہر ہو گئی تھی۔آیت واپس گھر آگئی ۔ اس کا دھیان سرمد ہی کی طرف لگا رہا۔آفس میں اس نے امبرین سے باتوں ہی باتوں میں نہ صرف سرمد کے بارے میںپوچھ لیا تھا بلکہ اُس کا خیال رکھنے کو بھی کہہ دیا۔گھرمیں دادا جی نہیںتھے ۔ وہ نجانے کہاں تھے ۔ وہ کچھ دیر تک گھر میں رہی پھر لان میں آ بیٹھی۔اس کے پاس سوائے سرمد کے بارے میں سوچنے کے اور کوئی دوسری سوچ نہیںتھی ۔اسے وہاں بیٹھے کچھ دیر ہوئی تھی کہ شکیل اسے گیٹ کے پاس دکھائی دیا۔وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس تھا،اس کے ٹائی نہیںلگی ہوئی تھی ۔بال سنورے ہوئے تھے لیکن یوں دکھائی دے رہا تھا کہ جیسے وہ خود سے لاپرواہ ہے۔ اس نے دور ہی سے آیت کو لان میں بیٹھا دیکھا تو دھیمے سے چلتا ہوا اس کی جانب بڑھ آیا ۔ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے علیک سلیک کی اور مسکراتے ہوئے پوچھا

”کیسا چل رہا ہے ؟“

” تم دکھائی نہیںدئیے اتنے دن کہاں تھے ؟“ جواب دینے کی بجائے اس نے پوچھ لیا

” کہیں بھی نہیں ادھر ہی تھا۔“اس نے ہولے سے کہا

” پھر دکھائی نہیںدئیے ۔“ اس نے پھر وہی پوچھا تو شکیل یوں ہو گیا جیسے کسی سوچ میں کھو گیا ہو ۔کچھ دیر تک یونہیں خاموش بیٹھا رہا ، پھر آیت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولا

” مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میری زندگی میں ایک دوراہا آ گیا تھا۔کئی دن پہلے جب میں آخری بار تم سے ملا تھا، اسی دن سے تذبذب کا شکار ہو گیا تھا۔مجھے لگا، تم میری باتوں کا پوری طرح جواب نہیں دینا چاہتی ۔“

” ایسا کیوں لگا؟“ آیت نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا

” کیونکہ جب میںنے اپنے اس خیال کا اظہار تم سے کیا تو پتہ ہے تم نے کیا جواب دیا تھا۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکا ، پھر بولا،” میری محبت سب کے لئے ہے ، جیسا تعلق ہوگا، محبت ویسی ہو جائے گی ۔“

” تو ….“ اس نے کہا

”یہ بات مجھے مطمئن کر دینے والی نہیں تھی ۔ اس سے تو دو ہی باتیں سامنے آ تی ہیں، کیا میں اُس محبت کو نہیں سمجھ رہا، جس کے بارے تمہیںادراک ہے ، یا پھر تم نے مجھے ٹال دیا ہے ؟“ اس نے کہا تو آ یت خاموش رہی وہ کہتا چلا گیا،”سب سے اہم سوال یہی تھا کہ تم شارلین سے کیوں ملانا چاہتی ہے؟ سیدھی سی بات ہے ، میں شارلین سے اور شارلین مجھ سے ختم کر چکی ہے ۔میںنئی شادی کر نا چاہتا ہوں ، جس پر تمہیں اعتراض بھی نہیںہے ؟تب پھرتمہارا یہ کہنا کہ میں چاہتی ہو تم سب کچھ بُھلا کر، پورے دل سے ، بے رنگ ہو کر شارلین کو محبت دو ۔مانتی ہوں تمہارے لئے مشکل ہو گی لیکن ناممکن نہیںہے۔ آیت یہ کیا ہے؟مجھے سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کیا تم کچھ وقت چاہتی ہے ؟کیا تم کسی دوسرے سے محبت کر تی ہے ؟“

”میں تو سب سے محبت کرتی ہوں ، خیر یہ سوچیں تمہیںکیوں آ ئیں اور اب ….“ آ یت نے کہنا چاہا ، مگر وہ اس کی سنی ان سنی کرتا ہوا بولا

”شایدمیری یہ ساری سوچیںمحو ہو جاتیں، یا کچھ ہی وقت کے بعد معدوم ہو جاتیں لیکن جیسے ہی میں نے شارلین سے دوبارہ رابطہ کیا….“

”واہ ۔! تم نے شارلین سے رابطہ کیا؟ کیسا رہا؟“ آیت نے بے ساختہ پوچھا

”مجھے کوئی بھی ، کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل نہیںملا۔“ وہ جذبات سے عاری لہجے میں بولا

” تو کوئی ردعمل نہیں؟“وہ سوچتے ہوئے انداز میںبولی

” ہاں ، اس رابطے کے بعد مجھے لگا کہ جیسے میں نے ایک خلا میں صدا لگائی ہو ۔ میںنے اپنے دوستوں میں شارلین سے دوبارہ رابطہ کی بات کی تاکہ وہ اس تک پہنچا دیں ۔ میرے خیال میں یہی موثر تھا۔ اگر شارلین کے دل میں ذرا سی بھی چاہت ہوئی تو وہ کسی نہ کسی طرح ردعمل ضرور دے گی ۔ مگر وہاں تو آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی تھی۔کسی دوست کی جانب سے بھی کسی بات کا اظہار نہیںہوا تھا۔“

” مطلب ابھی تک تمہیں کوئی جواب نہیںملا؟“ آ یت نے پوچھا تو بڑے جذب میںبولا

”میں منتظر تھا۔ لیکن تمہاری سہیلی رابعہ کو حادثہ پیش آ گیا۔اس دوران جہاں تمہارا رابعہ سے تعلق سامنے آ یا، وہاں یہ بھی پتہ چلا کہ طاہر باجوہ سے تمہارے تعلق کی نوعیت کیا رہی ہے ۔طاہر تم سے شادی کرنا چاہتا تھا،لیکن تم نے اس کی شادی رابعہ سے کروا دی ۔ یہ کیا ہے؟“

” تم نے کیا سمجھا؟“ آیت نے جواب دینے کی بجائے اس سے پوچھ لیا

” سچ بات تو یہی ہے ۔ میں نے سوچا کہ کیا تم واقعی نفسیاتی مریض ہے ؟ یا تمہارا جومحبت کا نظریہ ہے وہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو شادی سے کیوں بچ رہی ہو ؟ ایسے ہی بے شمار سوال ذہن میںآ تے چلے گئے ۔ جن کا جواب میرے پاس نہیںتھا۔“ اس نے دھیرے دھیرے کہا اور اس کے چہرے پر دیکھنے لگا

” تو کیا تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، ابھی تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ میری سوچ کا رُخ ہی مڑ گیا۔“

” کیسے ….“ آیت نے پوچھا، تب وہ چند لمحوں تک خاموش رہا جیسے سوچ رہا ہو ، پھر بولا

”یہاں تک سوچتے ہوئے میرے سامنے ایک مزید دوراہا آ گیا؟میںنے سوچا،کیا میں اپنے ہی محبت کے نظریہ پر قائم رہوں یا پھر تمہارے بتائے ہوئے نظریہ محبت پر تجربہ کر کے دیکھ لوں ؟ میں اس بات پر سوچتا رہا یہاں تک کہ ایک دن مجھے یہ خیال آگیا کہ میں جس نظریہ محبت پر تجربے کرنا چاہتا ہوں، پہلے مجھے یہ تعین کرلینا چاہئے ،کیا مجھے کسی سے محبت ہے بھی؟کیا مجھے شارلین سے محبت تھی ؟کیا مجھے آیت سے محبت ہو گئی ہے ؟ کیا دونوں سے محبت ایک جیسی ہی ہے ؟اگر مجھے شارلین سے محبت نہیںتھی تو پھر میں شارلین سے محبت کا دعویدار کیسے ہوں ؟ شارلین کا تو اس میںکوئی قصور نہیں، اس کا فیصلہ درست ہے ۔ جسے محبت ہی نہیں، اس کو چھوڑ دینا ہی بہتر۔اور اگر میںویسی ہی محبت آ یت سے کرتا ہوں تو کل اس کا انجام بھی شارلین کے جیسا ہوگا، اس کا مطلب ہے میں خود ہی کہیں غلط ہوں ۔مجھے خود اپنا آ پ ٹٹولنا چاہئے ؟تم نے جو راہ دکھائی تھی کہ شارلین سے بے رنگ ہو کر محبت کرو ، تو کیا میرے اندر کہیںاَنا موجود ہے جو مجھے بے رنگ نہیں ہونے دیتی؟“

” تو پھر کیا پایا تم نے ؟“ آیت نے بہت کچھ سمجھتے ہوئے سکون سے پوچھا

” یہی کہ میں ایک بارپوری طرح سب کچھ بھلا کر شارلین سے رابطہ کروں ،اپنی آخری حد تک کوشش کروں ۔جو بھی نتیجہ ہو ۔اس فیصلے کا پہلا اثر یہ ہو کہ میں نے جب اپنے آ پ کو ٹٹولا، اپنے من میںجھانکا، اپنے ماضی میں دیکھا،بہت سارے چھوٹے چھوٹے واقعات فضول لگے ،جنہیںمیں نے زندگی کے لئے بہت اہم سمجھا ہوا تھا۔ یہ پچھلے تین چار دن اسی سوچ میں گزرے ہیں ۔ مجھے احساس ہوا، بہت سارے ایسے معاملات ہیں، جس میںخود میری اپنی غلطی تھی ۔“

” بہت اچھی بات کہ تم نے اپنے من میں جھانکا ، خود اپنی غلطیوں کا ادراک کیا؟ لیکن ایک بات ہے ، مجھے اب تک یہ سمجھ میں نہیںآ سکا کہ تم مجھے بتانا کیا چاہتے ہو، مجھ سے کیا پوچھنا….“ اس نے کہنا چاہا مگر شکیل نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے تیزی سے کہا

” کچھ نہیں، کچھ بھی تو نہیں،میں نہ بتانا چاہتا نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں ،نہ پوچھنا، بس ….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا، جیسے وہ بہت حد تک اُلجھا ہوا ہو ۔ اس پر آیت نے پوچھا

” اچھا تو پھر شارلین سے رابطے کا کیا ارادہ ہے ؟“

” میں نے کل شام شارلین سے بات کی تھی ۔“ اس نے سکون سے کہا

”تو پھر ۔! کیا کہا اس نے ؟“ آیت نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا

”وہ پہلے والے سارے قصور اپنی جگہ پر تو ہیں ہی، نئے بہت زیادہ غلطیاں ، قصور اور کوتاہیاں مجھ پر لاد دئیے اس نے ۔ میں وہاں سے کیوں بھاگ کرآ گیا؟دوستوں کو اپنے اور میرے بارے باتیں کرنے والوں کی کیا ضرورت تھی ؟ دوبارہ رابطہ کر کے میں وقت ضائع کر رہا ہوں ۔ایسا ہی سب کچھ جو وہ کہہ سکتی ہے ۔“ اس نے انتہائی دکھ سے کہا

”ٹھیک طرح سے بات نہیں کی ؟“ اس نے پوچھا

” اس کا لہجہ ، بات کرنے کا انداز ہتک آ میز تھا۔“شکیل نے شرمندہ سے لہجے میں بتایا

” ہوں ، مطلب نہیںمانی ۔“ آیت نے حتمی سے لہجے میں پوچھا

” نہیں، مجھے اندازہ ہے ،اتنا وقت گزر گیا، اب تک اس کے خیالات میں بہت زیادہ تبدیلی آ گئی ہو گی ، میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو آ یت سکون سے بولی

”تم کہتے ہو کہ میں نے بے رنگ ہو کر اس سے بات کی ، جبکہ ابھی کئی رنگ تمہارے اندر کنڈلی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔“

” میں سمجھا نہیں ، میں تو …. کیسے رنگ ؟“ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا

” بدگمانی ، ابھی تم اس کے بارے میں بدگمانی کر رہے ہو ۔یہ بے رنگی یونہی نہیںمل جاتی ہے شکیل، میں نے کہا تھا ، تمہارے لئے مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔کو شش جاری رکھو ۔“ اس نے کہا تو شکیل نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے وہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھنا چاہتا ہو ۔وہ کچھ دیر یونہی سر جھکائے بیٹھا رہا ، پھر اٹھ کر چل دیا۔ جیسے اسے آیت کی بات بالکل بھی اچھی نہ لگی ہو ۔ آ یت نے بھی اسے نہیںروکا۔ اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ گیٹ پار کر گیا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA Epi 11 Abdul Hnnan Ch

DEVINE CHROMA Epi 11 (Bay Rang Peyya By Amjad Javeed) Abdul Hnnan Ch The lake …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے