سر ورق / کہانی / دادی اماں…کرشنا سوبتی/عامر صدیقی

دادی اماں…کرشنا سوبتی/عامر صدیقی

دادی اماں

کرشنا سوبتی/عامر صدیقی

ہندی کہانی

………………..

کرشنا سوبتی،پیدائش :۸۱ فروری ۵۲۹۱ ئ، گجرات، ہند۔میدان:ناول، کہانی۔ اہم تخلیقات:ناول: ڈار سے بچھڑی،مترو مرجانی، یاروں کے یار تن پہاڑ، سورج مکھی اندھیرے کے، سوبتی ایک صحبت،زندگی نامہ، اے لڑکی،سمیہ سرگم، جینی مہربان سنگھ،کہانیوں کے مجموعے: بادلوں کے گھیرے، نفیسہ،سکہ بدل گیا،۔ایوارڈ، اعزازات:ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، شرومنی ایوارڈ، شلاکا ایوارڈ، مےتھلی شرن گپت سمان وغیرہ۔ حال مقیم نئی دہلی، ہند۔

…………

بہار پھر آ گئی۔ بسنت کی روشن ہوائیں پت جھڑ کے پھیکے ہونٹوں کو چپکے سے چوم گئیں۔ جاڑے نے سکڑے سکڑے پنکھ پھڑپھڑائے اور سردی دور ہو گئی۔ آنگن میں پیپل کے درخت پر نئے پات کِھل کِھل آئے۔ خاندان کے ہنسی خوشی میں تیرتے دن رات مسکرا اٹھے۔

بھرا بھرایا گھر۔ سنبھلی سنوری سی خوبصورت سلونی بہویں۔ شوخیوں سے کھلکھلاتی بیٹیاں۔ مضبوط بازووالے نوجوان بیٹے۔ گھر کی مالکن مےہراں اپنے ہرے بھرے خاندان کو دیکھتی ہے اورمسرت میں بھیگ جاتی ہیں، یہ پانچوں بچے اسکی عمر بھر کی کمائی ہیں۔

اسے وہ دن نہیں بھولتے، جب بیاہ کے بعد چھ سالوں تک اس کی گود نہیں بھری تھی۔ اٹھتے بیٹھتے ساس کی گھمبیر کٹھور نظریں، اسکے پورے بدن کو ٹٹولتی رہتیں۔ رات کو تکیے پر سر رکھے رکھے وہ سوچتی کہ شوہر کی محبت کے سائے میں لپٹے لپٹے بھی اس میں کچھ مہمل سا ہو گیا ہے، قابل عمل نہیں رہ گیا ہے۔ کبھی ہچکچاتی سی سسر کے پاس سے گزرتی تو لگتا کہ اس گھر کی دہلیز پر پہلی بار پاو ¿ں رکھنے پر جو آشیش اسے ملی تھی، وہ اس کی قدر نہیں کر پائی۔ وہ سسر کے چرنوں میں جھکی تھی اور انہوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا،”بہورانی، پھولو پھلو۔“ کبھی آئینے کے سامنے کھڑی کھڑی وہ بانہیں پھیلا کر دیکھتی۔کیا ان بانہوں میں اپنے پیدا ہوئے کسی ننھے منے کو بھر لینے کی صلاحیت نہیں؟

چھ سالوں کے طویل انتظار کے بعد سردیوں کی ایک لمبی رات میں کروٹ بدلتے بدلتے میہراں کو پہلی بار لگا تھا کہ جیسے نرم نرم لحاف میں وہ سکڑی پڑی ہے، ویسے ہی اس میں، اس کے تن من کے نیچے گہرائی میں کوئی دھڑکن اس سے لپٹی ہوئی ہے۔ اس نے اندھیرے میں ایک بار سوئے ہوئے شوہر کی طرف دیکھا اور خود ہی سے شرماکر اپنے ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ لی تھیں۔ بند پلکوں کے اندر سے دو چمکتی آنکھیں تھیں، دو ننھے ننھے ہاتھ تھے، دو پاو ¿ں تھے۔ صبح اٹھ کر کسی میٹھے اطمینان میں گھری گھری سی انگڑائی لی تھی۔ آج اس کا دل بھرا ہوا ہے۔ ساس نے بھانپ کرپیار برسایا تھا۔ ”بہو،خود کو تھکاﺅ مت، جوآرام آرام سے کر سکو، کرو۔ باقی میں سنبھال لوں گی۔ “

وہ مضبوطی سے مسکرا دی تھی۔ کام پر جاتے شوہر کو دیکھ کردل میں آیا تھا کہ کہے۔ ”اب تم باہر ہی نہیں، میرے اندر بھی ہو۔“

دن میں ساس آ بیٹھی، ماتھا سہلاتے سہلاتے بولی۔ ”بہورانی،بھگوان میرے بچے کو تم سا روپ دے اور میرے بیٹے سا جگرا۔“

بہو کی پلکیں جھک گئیں۔

”بیٹی، اس مالک کا نام لو، جس نے بیج ڈالا ہے۔ وہ پھل بھی دے گا۔ “

مےہراں کو ماں کا گھر یاد آگیا۔ پاس پڑوس کی عورتوں کے درمیان ماں ،بھابھی کا ہاتھ آگے کر کہہ رہی ہے،”بابا، یہ بتاو ¿، میری بہو کی قسمت میں کتنے پھل ہیں؟“

پاس کھڑی میہراں سمجھ نہیں پائی۔ ہاتھ میں پھل؟

”ماں، ہاتھ میں پھل کب ہوتے ہیں؟ پھل کسے کہتی ہو ماں؟“

ماں لڑکی کی بات سن کر پہلے ہنسی، پھر ناراض ہو کر بولی،”دور ہو میہراں ، جا، بچوں کے ساتھ کھیل۔“

اس دن میہراں کا چھوٹا سا دماغ یہ سمجھ نہیں پایا تھا، لیکن آج تو ساس کی بات وہ سمجھ ہی نہیں، بوجھ بھی رہی تھی۔ بہو کے ہاتھ میں پھل ہوتے ہیں، بہو کی قسمت میں پھل ہوتے ہیں اور خاندان کی بیل بڑھتی ہے۔

مےہراں کی گود سے اس کے خاندان کی بیل بڑھی ہے۔ آج گھر میں تین بیٹے ہیں، اُن کی بہویں ہیں۔ بیاہ کے لائق دو بیٹیاں ہیں۔ ہلکے ہلکے کپڑوں میں لپٹی اسکی بہویں جب اس کے سامنے جھکتی ہیں، تو لمحے بھر کےلئے میہراں کے دماغ میں گھر کی مالکن ہونے کا غرور ابھر آتا ہے۔ وہ بیٹھے بیٹھے انہیں آشیش دیتی ہے اور مسکراتی ہے۔ ایسے ہی، جیسے وہ کبھی اپنی ساس کے سامنے جھکتی تھی۔ آج تو وہ تیکھی نگاہوں والی مالکن، بچوں کی دادی اماں بن کر رہ گئی ہے۔ پچھواڑے کے کمرے میں سے جب دادا کے ساتھ بولتی ہوئی اماں کی آواز آتی ہے، تو پوتے لمحے بھر ٹھٹک کرسنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ بہویں ایک دوسرے کو دیکھ کر دل ہی دل میں ہنستی ہیں۔ لاڈلی بیٹیاں سر ہلا ہلا کر کھلکھلاتی ہوئی کہتی ہیں،”دادی اماں بوڑھی ہوگئیں، پر دادا سے جھگڑنا نہیں چھوڑا۔“

مےہراں بھی کبھی کبھار شوہر کے قریب کھڑی ہو کہہ دیتی ہے،”اماں ناحق باپو کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔ بہو بےٹیوںوالا گھر ہے، کیا یہ اچھا لگتا ہے؟“

شوہرصاحب ایک بار پڑھتے پڑھتے آنکھیں اوپر اٹھاتے ہیں۔ لمحے بھر کےلئے بیوی کی طرف دیکھتے ،پھر دوبارہ صفحے پر نظریں گڑا دیتے ہیں۔ ماں کی بات پر شوہر کی خاموش بھری سنجیدگی میہراں کو نہیں بھاتی۔ لیکن لاکھ کوشش کرنے پر بھی وہ کبھی شوہر کو کچھ کہہ دینے تک، اکسا نہیں پائی۔ بیوی پر ایک اچٹتی نگاہ، اور بس۔ کسی کو حکم دیتی میہراں کی آواز سن کر کبھی انہیں وہم ہوجاتا ہے۔ وہ میہراں کی نہیں اماں کی رعب دار آواز ہے۔ ان کے ہوش میں اماں نے کبھی ڈھیلاپن جانا ہی نہیں۔ یاد نہیں آتا کہ کبھی ماں کے کہنے کو وہ جانے انجانے میں ٹال سکے ہوں۔ اور اب جب ماں کی بات پر بیٹیوں کو ہنستے سنتے ہیں، تو یقین نہیں آتا۔ کیا واقعی ماں آج ایسی باتیں کیا کرتی ہیں کہ جن پر بچے ہنس سکیں۔

اور اماں تو سچ مچ اٹھتے بیٹھتے بولتی ہے، جھگڑتی ہے، جھکی کمر پر ہاتھ رکھ کر وہ چارپائی سے اٹھ کر باہر آتی ہے، تو جو سامنے ہو ،اس پر برسنے لگتی ہے۔ بڑا پوتا کام پر جا رہا ہے۔ دادی اماں پاس آ کھڑی ہوئی۔ ایک بار اوپر تلے دیکھا اور بولی،”کام پر جا رہے ہو بیٹے، کبھی دادا کی طرف بھی دیکھ لیا کرو، کب سے ان کا جی اچھا نہیں۔ جس گھر میں بھگوان کے دئیے بیٹے پوتے ہوں، وہ اس طرح بغیر دوا دارو کے پڑے رہتے ہیں۔ ”

بیٹا دادی اماں سے نظر بچاتا ہے۔ دادا کی خبر کیا گھر بھر میں اسے ہی رکھنی ہے۔ چھوڑو، کچھ نہ کچھ کہتی ہی جائیں گی اماں، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ لیکن دادی اماں جیسے راہ روک لیتی ہے،”ارے بیٹا، کچھ تو لحاظ کرو، بہو بیٹے والے ہوئے، میری بات تم کو اچھی نہیں لگتی۔“

مےہراں ،منجھلی بہو سے کچھ کہنے جا رہی تھی، لوٹتی ہوئی بولی،”اماں کچھ تو سوچو، لڑکا بہو بےٹوںوالا ہے۔ تو کیا اس پر آپ اس طرح برستی رہو گی؟“

دادی اماں نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے میہراں کو دیکھا اور جل کر کہا،”کیوں نہیں بہو، اب تو بیٹوں کو کچھ کہنا تم سے پوچھ کرہوگا۔ یہ بیٹے تمہارے ہیں، گھر بار تمہارا ہے، حکم کا حق تمہارا ہے۔ “

مےہرا ںپر ان سب کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ساس کو وہیں کھڑا چھوڑ کروہ بہو کے پاس چلی گئی۔ دادی اماں نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے بہو کی یہ رعب دار چال دیکھی اور اونچی آواز میں بولی،”بہورانی، اس گھر میں اب میرا اتنا سا، مان رہ گیا ہے۔ تمہیں اتنا گھمنڈ ۔۔۔“

 میہراں کو ساس کے پاس لوٹنے کی خواہش نہیں تھی، پر گھمنڈ کی بات سن کر لوٹ آئی،”گھمنڈ کی بات کرتی ہو اماں؟ تو آئے دن چھوٹی چھوٹی بات لے کر جلنے جلانے سے کسی کا مان نہیں رہتا۔“

اس الٹی بات نے دادی اماں کومزید جلا دیا۔ ہاتھ ہلا ہلا کر غصے میں رک رک کر بولی،”بہو، یہ سب تمہارے اپنے سامنے آئے گا۔ تم نے جو میرا جینا دوبھر کر دیا ہے، تمہاری تینوں بہویں بھی تمہیں اسی طرح سمجھےں گی،کیوں نہیں، ضرور سمجھےںگی۔ “

یہ کہتے کہتے دادی اماں جھکی کمر سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف چل دی۔ راستے میں بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھا تو بولی،”جس بیٹے کو میں نے اپنا دودھ پلا کر پالا، آج اسے دیکھے مجھے مہینوں گزر جاتے ہیں، اس سے اتنا نہیں ہو پاتا کہ بوڑھی اماں کو یاد کرے۔“

 میہراں منجھلی بہو کو گھر کے کام دھندے کےلئے حکم دے رہی تھی۔ پر کان ادھر ہی تھے۔ ”بہویں اسے بھی سمجھےں گی۔“ اس بددعاکو وہ تلخ گھونٹ سمجھ کر پی گئی تھی، پر شوہر کےلئے ساس کی یہ ملامت سن کر نہ رہا گیا۔ دور سے ہی بولی،”اماں، میری بات چھوڑو، پرائے گھر کی ہوں، پر جس بیٹے کو گھر بھر میں سب سے زیادہ تمہارا خیال ہے، اس کےلئے یہ کہتے تمہیں شرم نہیں آتی؟ پھر کون ماں ہے، جو بچوں کو پالتی پوستی نہیں۔“

اماں نے اپنی جھریوں بھری گردن پیچھے کی۔ پیشانی پر پڑے تیوروں میں اس بار غصہ نہیں قیامت تھی۔ چہرے پر وہی پراناانداز لوٹ آیا،”بہو، کس سے کیا کہا جاتا ہے، یہ تم بڑے سمدھیوں سے ماتھا لگا کر سب کچھ بھول گئی ہو۔ماں اپنے بیٹے سے کیا کہے، یہ بھی کیا اب مجھے بیٹے کی بہو سے ہی سیکھنا پڑے گا؟ سچ کہتی ہو بہو،سب مائیں بچوں کو پالتی ہیں۔ میں نے کوئی انوکھا بیٹا نہیں پالا تھا، بہو۔ پھر تمہیں تو میں پرائی بیٹی ہی مانتی رہی ہوں۔ تم نے بچے خود جنے، خود ہی وہ دن کاٹے، خود ہی بیماریاں جھےلیں۔ “

 میہراں نے کھڑے کھڑے چاہا کہ ساس ان سب کے بعد کچھ اور بھی کہتی۔ وہ اتنی دور نہیں اتری کہ ان باتوں کا جواب دے۔ خاموشی سے شوہر کے کمرے میں جا کر ادھر ادھر بکھرے کپڑے بچانے لگی۔

دادی اماں کڑوے دل سے اپنی چارپائی پر جا پڑی۔ بڑھاپے کی عمر بھی کیسی ہوتی ہے۔ جیتے جی دل سے سنگ ٹوٹ جاتا ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں، جانتا نہیں۔ گھر کے پچھواڑے جسے وہ اپنی چلتی عمر میں کوٹھری کہا کرتی تھی، اسی میں آج وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک کونے میں اس کی چارپائی اور دوسرے کونے میں شوہر کی، جس کے ساتھ اس نے ان گنت بہاریں اور پت جھڑ گزار دیئے ہیں۔ کبھی گھنٹوں وہ خاموشی سے اپنی اپنی جگہ پر پڑے رہتے ہیں۔ دادی اماں بیچ بیچ میں کروٹ بدلتے ہوئے گہری سانس لیتی ہے۔ کبھی کچی نیند میں پڑی پڑی سالوں پہلے کی کوئی بھولی بسری بات کرتی ہے، پر بچوں کے دادا اُسے سنتے نہیں۔ دور کمروں میں بہوو ¿ں کی میٹھی دبی دبی ہنسی ویسے ہی چلتی رہتی ہے۔ بیٹیاں کھل کھل کر کھلکھلاتی ہیں۔ بیٹوں کے قدموں کی بھاری آواز کمرے تک آکر رہ جاتی ہے اور دادی اماں اور پاس پڑے دادا میں جیسے گزر گئے برسوں کی دوری جھولتی رہتی ہے۔

آج دادا جب گھنٹوں دھوپ میں بیٹھ کر اندر آئے تو اماں لیٹی ہوئی نہیں، چارپائی کی پٹی پر بیٹھی تھی۔ گاڑھے کی دھوتی سے پورا تن نہیں ڈھکا تھا۔ پلّو کندھے سے گر کر ایک طرف پڑا تھا۔سینہ کھلا تھا۔ آج سینے میں ڈھکنے کو رہ بھی کیا گیا تھا؟گلے اور گردن کی جھریاں ایک جگہ آکر جمع ہو گئی تھیں۔ بوڑھے سینے پر کئی تل چمک رہے تھے۔ سر کے بال بے ترتیبی سے پیشانی کے اوپر بکھرے تھے۔

دادا نے دیکھ کر بھی نہیں دیکھا۔اپنے جیسا ہی پرانا کوٹ اتار کر کھونٹی پر لٹکایا اور چارپائی پر لیٹ گئے۔ دادی اماں دیر تک بغیر ہلے ڈلے جوں کی توں بیٹھی رہی۔ سیڑھیوں پر چھوٹے بیٹے کے قدموں کی امنگوں بھری سی آہٹ ہوئی۔ امنگ کی چھوٹی سی گنگناہٹ دروازے تک آکر لوٹ گئی۔ بیاہ کے بعد کے وہ دن، میٹھی مدھر دن۔ پاو ¿ں بار بار گھر کی طرف لوٹتے ہیں۔ پیاری سی بہو آنکھوں میں محبت بھر بھر دیکھتی ہے، لجاتی ہے، ہچکچاتی ہے اور شوہر کی بانہوں میں لپٹ جاتی ہے۔ ابھی کچھ مہینے ہوئے، یہی چھوٹا بیٹا پیشانی پر پھولوں کا سہرا لگا کر بارات لے گیا تھا۔ باجے گاجے کے ساتھ جب لوٹا تو سنگ میں دلہن تھی۔

سب کے ساتھ دادی اماں نے بھی بہو کا ماتھا چوم کر اسے ہاتھ کا کنگن دیا تھا۔بہو نے جھک کر دادی اماں کے پاو ¿ں چھوئے تھے اور اماں لین دین پر میہراں سے لڑائی جھگڑے کی بات بھول کر بہت پلوں تک دلہن کے مکھڑے کی طرف دیکھتی رہی تھی۔ چھوٹی بیٹی نے چنچل پن سے ہنس کر کہا تھا،”دادی اماں سچ کہو بھیا کی دلہن تمہیں پسند آئی؟ کیا تمہارے دنوں میں بھی شادی بیاہ میں ایسے ہی کپڑے پہنے جاتے تھے؟“

یہ کہہ کر چھوٹی بیٹی نے دادی کے جواب کا انتظار نہیں کی۔ ہنسی ہنسی میں کسی دوسری جانب پلٹ گئی۔ میہراں، بہو بیٹے کوگھیر کر اندر لے چلی۔ دادی اماں بھٹکی بھٹکی نظر سے لوگوں کے چہرے دیکھتی رہی۔ کوئی پاس پڑوسن اسے مبارکباد دے رہی تھی،”مبارک ہو اماں، سونے سی بہو آئی ہے شکر ہے اس مالک کا، تم نے اپنے ہاتھوں چھوٹے پوتے کا بھی کاج سنوارا۔“

اماں نے سر ہلایا۔واقعی آج اس جیسا کون ہے۔ پوتوں کی اسے ہونس تھی، آج پوری ہوئی۔ پر کاج سنوارنے میں اس نے کیا کیا، کسی نے کچھ پوچھا نہیں تو کرتی کیا؟ سمدھیوں سے بات چیت، لین دین، دلہن کے کپڑے گہنے، یہ سب میہراں کے ہنرمند ہاتھوں سے ہوتا رہا ہے۔ گھر میں پہلے دو بیاہ ہو جانے پر اماں سے صلاح مشورہ کرنا بھی ضروری نہیں رہ گیا۔ صرف کبھی کبھی کوئی نیا گہنا گڑھوانے پر یا نیا جوڑا بنوانے پر میہراں اسے ساس کو دکھا تی رہی ہے۔

بڑی بیٹی دیکھ کہتی ہے،”ماں، اماں کو دکھانے جاتی ہو، وہ تو کہیں گی کہ یہ گلے کا گہنا ہاتھ لگاتے اڑتا ہے۔ کوئی بھاری ٹھوس کنٹھا بنواﺅ، سر کی سنگار پٹی بنواﺅ۔ میرے اپنے بیاہ میں میکے سے پچاس تولے کا رانی ہار چڑھا تھا۔ تمہیں یاد نہیں، تمہارے سسر کو کہہ کر اسی کے بھاری جڑاﺅ کنگن بنوائے تھے تمہارے بیاہ میں۔ ”

 میہراں ، بیٹی کی طرف لاڈ سے دیکھتی ہے۔ لڑکی جھوٹ نہیں کہتی۔ بڑے بیٹوں کی سگائی میں، بیاہ میں، اماں بیسیوں بار یہ دہرا چکی ہیں۔ اماں کو کون سمجھائے کہ یہ پرانی باتیں پرانے دنوں کے ساتھ گئیں۔ اماں ناطے رشتوں کی بھیڑ میں بیٹھی بیٹھی اونگھتی رہی۔ اچانک آنکھ کھلی تو نیچے لٹکتے پلو سے سر ڈھک لیا۔ ایک بے خبری کہ بغیر سرڈھانکے بیٹھی رہی۔ پر دادی اماں کو اس طرح خود کو سنبھالتے کسی نے دیکھا تک نہیں۔ اماں کی جانب دیکھنے کا خیال بھی کسے ہے؟

بہو کو نیا جوڑا پہنایا جا رہا ہے۔ روشنی میں دلہن شرما رہی ہے۔ نندیں مسخرہ پن کر رہی ہیں۔ میہراں گھر میں تیسری بہو کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچ رہی ہے کہ بس، اب دونوں بیٹیوں کو ٹھکانے لگا دے تو سرخ رُو ہو۔

بہو کا سنگھار دیکھ دادی اماں بیچ بیچ میں کچھ کہتی ہیں،”لڑکیوں میں یہ کیسا چلن ہے آج کل؟ بہو کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی نہیں رچائی ۔ یہی تو پہلا شگن ہے۔“ دادی اماں کی اس بات کو جیسے کسی نے سنا نہیں۔

سنگھار میں چمکتی بہو کو گھیر کر میہراں دولہا کے کمرے کی طرف لے چلی۔ رشتے ناتے کی لڑکیاں مسکرا مسکراکر شرمانے لگیں، دولہے کے دوست ،بھائی آنکھوں میں نہیں، بانہوں میں نئی نئی تصویریں بھرنے لگے اور میہراں بہوپر آشیرواد برساکر لوٹی تو دہلیز کے ساتھ لگی ہے دادی اماں کو دیکھ کر پیار جتاکر بولی،” آﺅ اماں، شکر ہے بھگوان کا، آج ایسی میٹھی گھڑی آئی۔“

اماں سر ہلاتی ہلاتی ،میہراں کے ساتھ ہو لی، پر آنکھیں جیسے سالوں پیچھے گھوم گئیں۔ ایسے ہی ایک دن وہ میہراں کو اپنے بیٹے کے پاس چھوڑ آئی تھی۔ وہ اندر جاتی تھی، باہر آتی تھی۔ وہ اِس گھر کی مالکن تھی۔

پیچھے مزید پیچھے، باجے گاجے کے ساتھ اس کا اپنا ڈولا اس گھر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔گہنوں کی چھنکار کرتی وہ نیچے اتری۔ گھونگھٹ کی اوٹ سے مسکراتی، نیچے جھکتی اور شوہر کی بوڑھی پھوپھی سے آشیرواد پاتی۔

دادی اماں کو اونگھتے دیکھ کر بڑی بیٹی ہلا کر کہنے لگی،”اٹھو اماں، جاکر سو جاﺅ، یہاں تو ابھی دیر تک ہنسی مذاق ہوتا رہے گا۔“ دادی اماں موندی آنکھوں سے پوتی کی جانب دیکھتی ہے اور جھکی کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنے کمرے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔

اس دن اپنی چارپائی پر لیٹ کر دادی اماں سوئی نہیں۔ آنکھوں میں نہ اونگھ تھی، نہ نیند۔ ایک دن وہ بھی دلہن بنی تھی۔ بوڑھی پھوپھی نے سجاکر اسے بھی شوہر کے پاس بھیجا تھا۔ تب کیا اس نے یہ کوٹھری دیکھی تھی؟ بیاہ کے بعد برسوں تک اس نے جیسے یہ جانا ہی نہیں کہ پھوپھی دن بھر کام کرنے کے بعد رات کو یہاں سوتی ہے۔ آنکھیں مند جانے سے پہلے جب پھوپھی بیمار ہوئی تو دادی اماں نے سعادت مند بہو کی طرح اس کی خدمت کرتے کرتے پہلی بار یہ جانا تھا کہ گھر میں اتنے کمرے ہوتے ہوئے بھی پھوپھی اس پچھواڑے میں اپنے آخری برس کاٹ گئی ہے۔ پر یہ دیکھ کر، جان کر اسکو حیرت نہیں ہوئی تھی۔

گھر کے پچھواڑے میں پڑی پھوپھی کا بدن چھاﺅںدار درخت کے پرانے تنے کی طرح لگتا تھا، جس کے پتوں کی چھاﺅں اس سے الگ، اس سے آگے، گھر بھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ آج تو دادی اماں خود پھوپھی بن کر اس کوٹھری میں پڑی ہے۔ بیاہ کے ہنگامے سے نکل کر جب دادا تھک کر اپنی چارپائی پر لیٹے ،تو ایک لمبی چین کی سی سانس لے کر بولے،”کیا سو گئی ہو؟ اس بار کی رونق، لین دین تو منجھلے اور بڑے بیٹے کے بیاہ کو بھی پار کر گئی۔ سمدھیو ںکا بڑا گھر ٹھہرا۔“

دادی اماں لین دین کی بات پر کچھ کہنا چاہتی تھی پر بولی نہیں بولی۔ خاموشی سے پڑی رہی۔ دادا سو گئے،آوازیں دھیمی ہو گئیں۔ برآمدے میں میہراں کا رعب دار لہجہ ،نوکروں چاکروں کو صبح کےلئے ا حکامات دے کر خاموش ہو گیا۔ دادی اماں پڑی رہی اور کچی نیند سے گھری آنکھوں سے نئی پرانی تصویریں دیکھتی رہی۔ اچانک کروٹ لیتے لیتے، دو چار قدم اٹھائے اور دادا کی چارپائی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ جھک کر بہت دیر تک دادا کی طرف دیکھتی رہی۔ دادا نیند میں بے خبر تھے اور دادی جیسے کوئی پرانی شناسائی کر رہی ہو۔ کھڑے کھڑے کتنے لمحے گزر گئے۔ کیا دادی نے دادا کو پہچانا نہیں؟ چہرہ اس کے شوہر کا ہے پر دادی تو اس چہرے کو نہیں، چہرے کے نیچے شوہر کو دیکھنا چاہتی ہے۔ ان بچھڑ گئے سالوں کو واپس لوٹا لینا چاہتی ہے۔

سرہانے پر موجود دادا کا سر بالکل سفید تھا۔ بند آنکھوں کے ارد گرد جھریاں ہی جھریاں تھیں۔ ایک سوکھا ہاتھ کمبل پر سکڑا سا پڑا تھا۔ یہ نہیں ۔۔یہ تو نہیں۔۔ دادی اماں جیسے سوتے سوتے جاگ پڑی تھی، ویسے ہی اس بھولے بھٹکے بھنور میں اوپر سے نیچے ہوتی چارپائی پر جا پڑی۔

اس دن صبح اٹھ کر جب دادی اماں نے دادا کو باہر جاتے دیکھا تو لگا کہ رات بھر کی بھٹکی بھٹکی تصویروں میں سے کوئی بھی تصویر اس کی نہیں تھی۔ وہ اس سوکھے بدن اور جھکے کندھوں میں کسے ڈھونڈ رہی تھی؟ دادی اماں چارپائی کی بانہوں سے اٹھی اور لیٹ گئی۔ اب تو اتنے سے ہی معمولات باقی رہ گئے ہیں۔ بیچ بیچ میں کبھی اٹھ کر بہوو ¿ں کے کمروں کی جانب جاتی ہے تو لڑ جھگڑکر لوٹ آتی ہے، کیسے ہیں اس کے پوتے جو عمر کی مستی میں کسی کی بات نہیں سوچتے؟ کسی کی طرف نہیں دیکھتے؟ بہو اور بیٹا، انہیں بھی کہاں فرصت ہے؟ میہراں تو کچھ نہ کچھ کہہ کر چوٹ کرنے سے بھی نہیں چوکتی۔ لڑنے کو تو دادی بھی کم نہیں، پر اب تیز اونچی آواز میں بات کرنے پر جیسے وہ تھک کر چور چور ہو جاتی ہے۔ بولتی ہے، بولے بغیر رہ نہیں سکتی، بعد میں گھنٹوں بیٹھی سوچتی رہتی ہے کہ وہ کیوں ان سے متھا لگاتی ہے، جنہیں اسکی پروا نہیں۔ میہراں کی تو اب چال ڈھال ہی بدل گئی ہے۔ اب وہ اس کی بہو نہیں، تین بہوو ¿ں کی ساس ہے۔ ٹھہری ہوئی سنجیدگی سے گھر کی حکومت چلاتی ہے۔ دادی اماں کا بیٹا اب زیادہ دوڑ دھوپ نہیں کرتا۔ میل ملاقات سے زیادہ اب بہوو ¿ں کی جانب سے سسر کا مان سمان ہی زیادہ ہوتا ہے۔ کبھی اندر باہر جاتے اماں مل جاتی ہے تو جھک کر بیٹا ماں کو پرنام ضرور کرتا ہے۔ دادی اماں گردن ہلاتے ہلاتے آشیرواد دیتی ہے،”جیو بیٹا، جیو۔“

کبھی میہراں کی جلی کٹی باتیں سوچ کربیٹے پر غصہ کرنے اورڈانٹنے کو د ل کرتا ہے، پر بیٹے کو پاس دیکھ کر دادی اماں سب بھول جاتی ہے۔ ممتا بھری بوڑھی آنکھوں سے بغور دیکھ کر بار بارآشیرباد برساتی چلی جاتی ہے،”سکھ پاﺅ،بھگوان بڑی عمر دے۔۔“ کتنا سنجیدہ اور سعادت مند ہے اس کا بیٹا۔ ہے تو اس کا نہ؟ پوتوں کو ہی دیکھ سکتے ہیں، کبھی جھک کر دادا کے پاو ¿ں تک نہیں چھوتے۔ آخر ماں کا اثر کیسے جائے گا؟ ان دنوں بہو کی بات سوچتے ہی دادی اماں کو لگتا ہے کہ اب میہراں اس کے بیٹے میں نہیں اپنے بیٹوں میں لگی رہتی ہے۔ دادی اماں کو وہ دن بھول جاتے ہیں جب بیٹے کے بیاہ کے بعد بہو بیٹے کے لاڈ پیار میں اسے شوہر کے کھانے پینے کا خیال تک نہ رہتا تھا اور جب لاکھ لاکھ منتیں کرنے پر پہلی بار میہراں کی گود بھرنے والی تھی تو دادی اماں نے آکر دادا سے کہا تھا،”بہو کے لئے اب یہ کمرہ خالی کرنا ہوگا۔ ہم لوگ پھوپھی کے کمرے میں جاکر رہیں گے۔“

دادا نے بھرپور نظروں سے دادی اماں کی طرف دیکھا تھا، جیسے وہ گزرے سالوں کو اپنی نظروں سے ٹٹولنا چاہتے ہوں۔ پھر سر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے کہا تھا،”کیا بیٹے والا کمرہ بہو کے لئے ٹھیک نہیں؟ ناحق کیوں یہ سب کچھ الٹا سیدھا کرواتی ہو؟“

دادی اماں نے ہاتھ ہلا کر کہا،”اوہ ہو، تم سمجھو گے بھی۔ بیٹے کے کمرے میں بہو کو رکھوں گی تو بیٹا کہاں جائے گا؟ الٹے سیدھے کی فکرتم کیوں کرتے ہو، میں سب ٹھیک کر لوں گی۔“

اور بیوی کے چلے جانے پر دادا بہت دیر بیٹھے بھاری دل سے سوچتے رہے کہ جن سالوں کابیتنا انہوں نے آج تک نہیں جانا، انہی پر بیوی کی امید پہاڑ بن کر آج کھڑی ہو گئی ہے۔ آج سچ مچ ہی اسے اس الٹ پھیر کی پروا نہیں۔

اس کمرے میں بڑی پھوپھی انکی دلہن کو چھوڑ گئی تھی۔ اس کمرے کو چھوڑ کر آج وہ پھوپھی کے کمرے میں جا رہے ہیں۔ لمحے بھر کے لئے، صرف لمحے بھر کے لئے انہیں بیٹے سے جلن ہوئی اور بے حسی میں بدل گئی اور پہلی رات جب وہ پھوپھی کے کمرے میں سوئے تو رات گئے تک بھی بیوی، بہو کے پاس سے نہیں لوٹی تھی۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد ان کی پلکیں جھپکیں تو انہیں لگا کہ ان کے پاس بیوی نہیں پھوپھی کا ہاتھ ہے۔ دوسرے دن میہراں کی گود بھرائی تھی، بیٹا ہوا تھا۔ گھر کی مالکن شوہر کی بات جاننے کے لئے بہت زیادہ مصروف تھی۔

کچھ دن سے دادی اماں کا جی اچھا نہیں۔ دادا دیکھتے ہیں، پر بڑھاپے کی بیماری سے کوئی دوسری بیماری بڑی نہیں ہوتی۔ دادی اماں بار بار کروٹ بدلتی ہے اور پھر کچھ کچھ دیر کے لئے ہانپ کر پڑی رہ جاتی ہے۔ دو ایک دن سے وہ باورچی خانے کی طرف بھی نہیں آئی، جہاں میہراں کا قبضہ رہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہ کچھ نوکروں کو سنانے میں چوکتی نہیں ہے۔ آج دادی کو نہ دیکھ کر چھوٹی بیٹی ہنس کر منجھلی بھابھی سے بولی،”بھابھی، دادی اماں کے پاس اب شاید کوئی لڑنے جھگڑنے کی بات نہیں رہ گئی، نہیں تو اب تک کئی بار چکر لگاتی۔“

دوپہر کو نوکر جب اماں کے یہاں سے ان چھوئی تھالی اٹھا لایا تو میہراں کا ماتھا ٹھنکا۔ اماں کے پاس جا کر بولی،”اماں، کچھ کھا لیا ہوتا، کیا جی اچھا نہیں؟“

 اماں کچھ بولی نہیں۔ لمحے بھر رک کر آنکھیں کھولیںاور میہراں کو دیکھتی رہ گئی۔

”کھانے کو دل نہ ہو تو اماں دودھ ہی پی لو۔“

اماں نے ہاں ،نہ کچھ نہیں کہا۔ نہ پلکیں ہی جھپکیں۔ ان نظروں سے میہراں بہت سالوں کے بعد آج پھر ڈری۔ ان میں نہ غصہ تھا، نہ تحقیر تھی، نہ بیزاری تھی۔ ایک گہری ملامت پہچاننے میں میہراں کو دیر نہیں لگی۔

ڈرتے ڈرتے ساس کے ماتھے کو چھوا۔ ٹھنڈے پسینے سے بھیگا تھا۔ پاس بیٹھ کر آہستہ سے پیار بھرے لہجے میں بولی،”اماں، جو کہو، بنا لاتی ہوں۔“

اماں نے پڑے پڑے سر ہلایا، نہیں، کچھ نہیں اور بہو کے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔

 میہراں لمحے بھر کچھ سوچتی رہی اور بغیر آہٹ کئے باہر چلی گئی۔ بڑی بہو کے پاس جا کر فکر مند لہجے میں بولی،”بہو، اماں کچھ زیادہ بیمار لگتی ہیں، تم جا کر پاس بیٹھو تو میں کچھ بنا لاو ¿ں۔“

بہو نے ساس کی آواز میں آج پہلی بار دادی اماں کےلئے گھبراہٹ دیکھی۔ دبے پاو ¿ں جاکر اماں کے پاس بیٹھ کر ہاتھ پاو ¿ں دبانے لگی۔ اماں نے اس بار ہاتھ نہیں کھینچے۔ نڈھال سی لیٹی رہی۔

 میہراں نے باورچی خانے میں جا کر دودھ گرم کیا۔ اوٹانے لگی تو اچانک ہاتھ اٹک گیا،کیا اماں کےلئے یہ آخری بار دودھ لئے جا رہی ہے؟

دادی اماں نے مد ہوشی میں دو چار گھونٹ دودھ پی کر چھوڑ دیا۔ چارپائی پر پڑی اماں چارپائی کے ساتھ لگی دیکھتی تھیں۔ کمرے میں کچھ زیادہ چیزیں نہیں تھا۔ سامنے کے کونے میں دادا کا بچھونا بچھا تھا۔

شام کو دادا آئے تو اماں کے پاس بہو اور بیٹی کو بیٹھے دیکھ کر پوچھا،”اماں تمہاری روٹھ کر لیٹی ہے یا۔۔۔۔؟“

 میہراں نے اماں کا بازو آگے کر دیا۔ دادا نے چھوکر ہولے سے کہا،”جاو ¿ بہو، بیٹا آتا ہی ہوگا۔ اسے ڈاکٹر کولانے بھیج دینا۔ ” میہراں سسر کے الفاظ کی سنجیدگی کو جانتے ہوئے خاموشی سے باہرنکل گئی۔ بیٹے کے ساتھ جب ڈاکٹر آیا تو دادی اماں کے تینوں پوتے بھی پیچھے آ کھڑے ہوئے۔ ڈاکٹر نے ماہر ہاتھوں سے دادی کی جانچ کی۔ جاتے جاتے دادی کے بیٹے سے کہا،”کچھ ہی گھنٹے اور۔۔“ میہراں نے بہوو ¿ں کو دھیمے لہجے میں حکم دیئے اور بیٹوں سے بولی،”باری باری کھا پی لو، پھر باپ اور دادا کو بھیج دینا۔“ اماں کے پاس سے ہٹنے کی والد اور دادا کی باری نہیں آئی اس رات۔ دادی نے بہت جلدی کی۔ ڈوبتے ڈوبتے ہاتھ پاﺅں سے چھٹپٹاکر ایک بار آنکھیں کھولیں اور بیٹے اور شوہر کے آگے بانہیں پھیلا دیں۔ جیسے کہتی ہو، ”مجھے تم پکڑ کے رکھو۔“

اماں کا سانس اکھڑا، دادا کاگلا جکڑا اور بیٹے نے ماں پر جھک کر پکارا،”اماں ۔۔۔اماں۔“

”سن رہی ہوں بیٹا، تمہاری آواز پہچانتی ہوں۔“

 میہراں ،ساس کی جانب بڑھی اور ٹھنڈے پڑتے پاو ¿ں چھوکر التجا بھری نظروں سے دادی اماں کو بچھڑتی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔ بہو کو روتے دیکھ کر اماں کی آنکھوں میں لمحے بھر کو اطمینان جھلکا، پھر سالوں کی لڑائی جھگڑے کا تاثر ابھرا۔ دروازے سے لگی تینوں پوتوں کی بہویں کھڑی تھیں۔ میہراں نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ باری باری دادی اماں کے قریب تینوں جھکیں۔ اماں کی پتلیوں میں زندگی بھر کا موہ اتر گیا۔ میہراں سے الجھا کڑواپن معدوم ہو گیا۔ چاہا کہ کچھ کہے ۔۔کچھ۔۔ پر چھوٹتے تن سے دادی اماں، ہونٹوں پر کوئی لفظ نہیں کھینچ پائی۔

”اماں، بہوو ¿ں کو آشیرواد دیتی جاﺅ۔“ میہراں کے گیلے سے لہجے میں اصرار تھا،گذارش تھی۔

اماں نے آنکھوں کے جھلملاتے پردے میں سے اپنے پورے خاندان کی طرف دیکھا بیٹا ۔۔بہو ۔۔شوہر۔۔پوتی بہو۔۔پوتیاں۔ چھوٹی پوتی بہو کی گلابی اوڑھنی جیسے دادی کے تن من پر بکھر گئی۔ اس اوڑھنی سے لگے گورے گورے لال لال بچے، ہنستے کھیلتے، بھولی کلکاریاں۔۔۔

دادی اماں کی دھندلی آنکھوں میں سے اور سب مٹ گیا، سب اڑ گیا، صرف ڈھیر سارے ان گنت بچے کھیلتے رہ گئے ۔۔۔۔

اس کے پوتے، ان کے بچے ۔۔۔

باپ اور بیٹے نے ایک ساتھ دیکھا، اماں جیسے ہلکے سے ہنسی، ہلکے سے۔۔۔

 میہراں کو لگا، اماں بالکل ویسے ہنس رہی ہے جیسے پہلی بار بڑے بیٹے کی پیدائش پر وہ اسے دیکھ کر ہنسی تھی۔ سمجھ گئی-بہوو ¿ں کوآشیرواد مل گیا۔ دادا نے اپنے سوکھے ہاتھ میں نانی کا ہاتھ لے کر آنکھوں سے لگایا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رو پڑے۔ رات گزر جانے سے پہلے دادی اماں گزر گئی۔ اپنے بھرے پورے خاندان کے بیچ وہ اپنے شوہر، بیٹے اور پوتوں کے ہاتھوں میں آخری بار گھر سے اٹھ گئی۔ انتم سنسکارہوا اور دادی اماں کا بوڑھا بدن خاک ہوگیا۔

دیکھنے سننے والے بولے،”قسمت ہو تو ایسی، پھلتا پھولتا خاندان۔“

 میہراں نے اداس اداس دل سے سب کے لئے نہانے کا سامان جٹایا۔ گھر باہر دھلایا۔ عزیز رشتہ دار، پاس پڑوس، اب تک لوٹ گئے تھے۔ موت کے بعد روکھی سہمی سی دوپہر۔ اَن چاہے دل سے کچھ کھا پی کر گھر والے خاموشی سے بیٹھ گئے۔ اماں چلی گئی، پر خاندان بھراپورا ہے۔ پوتے تھک کراپنے اپنے کمروں میں جا لیٹے۔ بہوئیں اٹھنے سے پہلے ساس کا فرمان لینے کے لیے بیٹھی رہیں۔ دادی اماں کا بیٹا نڈھال ہوکر کمرے میں جا لیٹا۔ اماں کی خالی کوٹھری کا دھیان آتے ہی من بہہ آیا۔ کل تک اماں تھی تو سہی اس کوٹھری میں۔ روہانسی آنکھیں برس کر جھک آئیں تو خواب میں دیکھا، دریا کنارے گھاٹ پر اماں کھڑی ہے،اپنی چتا کو جلتے دیکھ کر کہتی ہے۔”جاو ¿ بیٹا، دن ڈھلنے کو آیا، اب گھر لوٹ چلو، بہو راہ دیکھ رہی ہوگی۔ ذرا سنبھل کر جانا۔ بہو سے کہنا، بیٹیوں کو اچھے ٹھکانے لگائے۔“

منظر بدلا، اماں دروازے پر کھڑی ہے۔ جھانک کر اس کی طرف دیکھتی ہے۔”بیٹا، اچھی طرح کپڑا اوڑھ کر سو۔ ہاں بیٹا، اٹھو تو۔کوٹھری میں باپو کو مل آو ¿، یہ دکھ ان سے نہ جھیلا جائے گا۔ بیٹا، باپو کو دیکھتے رہنا۔ تمہارے باپو نے میرا ہاتھ پکڑا تھا، اسے آخر تک نبھایا، پر میں ہی چھوڑ چلی۔“ بیٹے نے ہڑبڑاکر آنکھیں کھولیں۔ بہت دیر دروازے کی طرف دیکھتے رہے۔ اب کہاں سے آئے گی اماں اس دہلیز پر۔۔۔

بغیر آہٹ کئے میہراں آئی۔ روشنی کی۔ چہرے پر اماں کی یاد نہیں، اماں کا دکھ تھا۔ شوہر کو دیکھ کر ذرا سی روئی اور بولی،”جا کر سسرجی کو تو دیکھو۔ پانی تک منہ نہیں لگایا۔“

شوہر کھڑکی میں سے کہیں دور دیکھتے رہے۔ جیسے دیکھنے کے ساتھ کچھ سن بھی رہے ہوں۔ ”بیٹا، باپو کو دیکھتے رہنا، تمہارے باپو نے تو آخر تک ساتھ نبھایا، پر میں ہی چھوڑ چلی۔“

”اٹھو۔“ میہراں کپڑا کھینچ شوہر کے پیچھے ہو لی۔ اماں کی کوٹھری میں اندھیرا تھا۔ باپو اسی کوٹھری کے کونے میں اپنی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ نظریں دادی اماں کی چارپائی والی خالی جگہ پر گڑی تھی۔ بیٹے کو آیا دیکھ کر بھی ہلے نہیں۔

”باپو، اٹھو، چل کر بچوں میں بیٹھو، جی سنبھلے گا۔“

باپو نے سر ہلا دیا۔

 میہراں اور بیٹے کی بات باپو کوگویا سنائی نہیں دی۔ پتھر کی طرح بغیر ہلے ڈلے بیٹھے رہے۔ بہو ،بیٹا، بیٹے کی ماں۔۔۔خالی دیواروں پر اماں کی تصویریں اوپر سے نیچے ہوتی رہیں۔ دروازے پر اماں گھونگھٹ نکالے کھڑی ہے۔ باپو کو اندر آتے دیکھ کر شرماتی ہے اور پھوپھی کی آڑ میں ہو جاتی ہے۔ پھوپھی پیار سے ہنستی ہے۔ پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر کہتی ہے۔”بہو، میرے بیٹے سے کب تک شرماﺅگی؟“

اماں بیٹے کو گود میں لیے دودھ پلا رہی ہیں، باپو گھوم پھر کر پاس آ کھڑے ہوتے ہیں۔ تیور چڑھے۔ بکھرے بال پھیلائے کہتے ہیں۔”میری دیکھ بھال اب سب بھول گئی ہو۔ میرے کپڑے کہاںڈال دیئے؟ ” اماں بیٹے کے سر کو سہلاتے سہلاتے مسکراتی ہے۔ پھر باپو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہے۔”اپنے ہی بیٹے سے محبت کا بٹوارہ کرکے اوپر سے جھنجھلانے لگے۔“

باپو اس بار جھنجھلاتے نہیں، جھجکتے ہیں، پھر اچانک دودھ پیتے بیٹے کو اماں سے لے کر چوم لیتے ہیں۔ منے کے نازک نرم ہونٹوں پر دودھ کی سفیدی اب بھی چمک رہی ہے۔ باپو اندھیرے میں اپنی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ ہاتھ گیلے ہو جاتے ہیں۔ ان کے بیٹے کی ماں آج نہیں رہی۔

تینوں بیٹے دبے قدموں جاکر دادا کو جھانک آئے۔ بہوئیںساس کا حکم پاکر اپنے اپنے کمروں میں جا کر لیٹ گئیں۔ بیٹیوں کو سوتا جان میہراں شوہر کے پاس آئی تو سر دباتے دباتے پیار سے بولی،”اب حوصلہ کرو۔“ ۔۔۔ لیکن اچانک کسی کی گہری سسکی سن کے چونک پڑی۔ شوہر پر جھک کر بولی،”باپو کی آواز لگتی ہے، دیکھو تو۔“

بیٹے نے جاکر باہروالا دروازہ کھول دیا، پیپل سے لگا جھکا سا سایا۔ بیٹے نے کہنا چاہا۔”باپو۔“ پر بیٹھے گلے سے آواز نکلی نہیں۔ ہوا میں پتے کھڑکھڑائے،ٹہنیاں ہلیں اور باپو کھڑے کھڑے سسکتے رہے۔

”باپو۔“

اس بار باپو کے کانوں میں بڑے پوتے کی آواز آئی۔ سر اونچا کیا، تو تینوں بیٹوں کے ساتھ دہلیز پر جھکی میہراں دکھائی پڑی۔ آنسوو ¿ں میں دھند بہہ گئی تھی۔ میہراں اب گھر کی بہو نہیں، گھر کی اماں لگتی ہے۔ بڑے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر باپو کے قریب آئی۔ جھک کر بڑے پیار سے بولی،”باپو، اپنے ان بیٹوں کی طرف دیکھو، یہ سب اماں کا ہی تو کروفرہے۔ مہینے بھر کے بعد بڑی بہو کی جھولی بھرے گی، اماں کا خاندان اور پھولے پھلے گا۔“

باپو نے اس بار سسکی نہیں بھری۔ آنسوو ¿ں کو کھل کر بہہ جانے دیا۔ درخت کے سخت تنے سے ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے سوچا ،دور تک زمین میں بیٹھی بے شمار جڑیں اندر ہی اندر اس بڑے پرانے پیپل کو تھامے ہوئے ہیں۔ دادی اماں اسے مسلسل پانی دیا کرتی تھی۔ آج وہ بھی زمین میں مل گئی ہے۔ اسکے تن سے ہی تو بےٹے پوتے کا یہ خاندان پھیلا ہوا ہے۔پیپل کی گھنی چھاﺅں کی طرح یہ اور پھےلے گا۔ بہو سچ کہتی ہے۔ یہ سب اماں کا ہی کروفر ہے۔ وہ مری نہیں۔ وہ تو اپنے بدن پر موجود کپڑے بدل گئی ہے، اب وہ بہو میں جئے گی، پھر بہو کی بہو میں۔۔۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

: "آخری جلسہ” … آندرے گروشینکو (روس… ستار طاہر

: "آخری جلسہ” آندرے گروشینکو (روس ستار طاہر بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے