سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر6

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر6

۔

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر6

”اب کیا ارادہ ہے باس-“ ساری کہانی دلچسپی سے سننے کے بعد امان نے روہن سے پوچھا-

”ارادہ کیا ہونا ہے- اس کے سامنے بار بار جانا ہے- اس کے دل میں اتر کر اپنا بنانا ہے اور ساتھ چلنے کے لئے منانا ہے- اور کیا؟-“ روہن نے چہکتے ہوئے جواب دیا-

”مطلب آج سے تم پورے ٹھرکی ہوجاﺅ گے-ہی ہی ہی-“ رویندر نے جملہ دیا-

”ٹھرکی نہیں- نیرو کا عاشق بول- میں نے آج تک کسی لڑکی کے بار ے میں ایسا ویسا سوچا بھی نہیں ہے-“ روہن نے رویندر کی گردن پکڑتے ہوئے کہا-

”چھوڑ یار- جان لے گا کیا-“ رویندر اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے بولا-تم کون سے تیس مار خان بن گئے ہو- تمہارے اوپر مرنے والی لڑکیاں اب تمہیں للو سمجھنے لگی ہوں- ہا ہا ہا-“ رویندر تالی بجا کر ہنسنے لگا-

”میری شرافت کو کوئی للو پن سمجھے تو سمجھے- میں تو شروع سے ہی مانتا آیا ہوں کہ اگر آدمی اپنی بیوی سے وفا کی امید کرتا ہے تو اس کو بھی تو بیوی کا وفادار ہونا چاہئے-“ روہن نے جواب دیا-اور چارجنگ پر لگایا ہوا اپنا فون آن کر لیا-

” ایک دم ٹھیک بولے ہو تم روہن بھائی- لیکن آج کل کی لڑکیاں بھی تو بس لڑکیاں ہی ہیں-ویسے تم قسمت والے ہو کہ تمہیں نیرو مل گئی-“ امان بھی بحث میں حصہ لیتا ہوا بولا-

”ابھی کہاں مل گئی ہے یار- ابھی تو صرف دیکھا ہے- کہانی لمبی چلے گی- ایسا ہی لگتا ہے-“ شیکھر نے خیال ظاہر کیا-

”ہوں- ڈونٹ ووری روہن- جب تک تمہیں منزل نہیں مل جاتی تم یہیں رہو گے- مہمان بن کر نہیں- اپنا گھر سمجھ کر- میں ذرا باہر جاکر آتا ہوں- انجوائے کرو-“ کہہ کر امان کھڑا ہوگیا-

”اور میں- میں کہاں رہوں گا؟-“ رویندر نے مذاق کیا-

” تم کوشل کی بانہوں میں رہو گے یار- میرا اس سے دل بھر گیا ہے- اب اس کو تم سنبھالو- آج بھی آنے کو بول رہی تھی- بلا لوں؟-“

”بلا لوں یار- نیک کام میں دیر کیسی- ہی ہی ہی-“ رویندر نے تال میں تال ملائی-

امان باہر نکلا ہی تھا کہ روہن کا فون بج اٹھا- نتن کا نمبر دیکھ کر روہن نے فون اٹھایا-

”ہاں بھائی- وہ نیرو مل گئی ہے-“

”کیا- کیا بکواس کر رہے ہو یار- یہ کیسے ہو سکتا ہے؟-“ نتن کی پھٹی ہوئی سی آواز فون پر ابھری-

”ہاں بھائی سچ میں- میں نے اس کو دیکھ بھی لیا ہے- جیسا اس نے مجھے سپنے میں بتایا تھا- بالکل اسی جگہ پر-“ روہن نے رومانٹک لہجے میں کہا-

”مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم اس خواب کے چکر میں اپنی زندگی برباد کر لو گے- میں نے بتایا تو تھا کہ سب کچھ شروتی کا کیا دھرا تھا- اور نیرو نام کی ہزاروں لڑکیاں دکھا سکتا ہوں میں- کیا نام کے چکر میں تم کسی بھی نیرو کو اپنا سب کچھ سونپ دو گے-“ نتن کا اشارہ اس کی جائیداد کی طرف تھا-

”مگر بھائی وہ بہت خوبصورت ہے- اتنی پیاری ہے کہ بس- اور بہت ہی خاص فطرت کی مالک ہے وہ- اور-“ روہن کچھ بول ہی رہا تھا کہ نتن نے بیچ میں ہی ٹوک دیا-

”میں وہاں آرہا ہوں- شروتی بھی میرے ساتھ ہی آ رہی ہے-“ نتن نے کہا-

”کیا- مگر یہاں کیسے— اور وہ شروتی کیسے آئے گی— تم لوگ رہو گے کہاں-“ ایک ہی سانس حیرت زدہ روہن نے سوالوں کی جھڑی لگا دی-

”جہاں تم رہ رہے ہو- وہاں ہم نہیں رہ سکتے کیا— باقی باتیں آنے کے بعد بتاﺅں گا- ہم کل صبح نکلیں گے- گھر سے کچھ لے کر آنا ہے کیا؟-“ نتن نے جلدی میں کہا-

”ہاں بھائی‘ میرا ویلٹ لیتے آنا- جلدی میں گھر ہی بھول آیا ہوں- میرا اے ٹی ایم وغیرہ سب کچھ اسی میں ہے- اور ہاں – پانچ چھ ڈریس بھی لیتے آنا- مگر شروتی کیسے آسکتی ہے بھائی-“ روہن کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا-

”بولا نا یار- سب کچھ آکر بتاﺅں گا-“ نتن نے کہتے ہی فون کاٹ دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

شروتی نتن کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی-

”مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے- بابا کو اگر یہ پتہ چل گیا کہ کالج سے کوئی ٹور نہیں جا رہا تو؟-“ شروتی کا دل بیٹھا جا رہا تھا-

نتن نے ساتھ چلنے کی بات جب سے کہی تھی وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی-

”کیوں بلاوجہ اپنا دماغ خراب کر رہی ہو– سنبھال کے رکھو اپنا دماغ- عمر کوٹ میں اسے بہت استعمال کرنا ہے تمہیں- لو تمہارا گاﺅںآگیا- بھولنا مت- کل صبح ساڑھے آٹھ بجے- یہیں-“ کہتے ہوئے نتن نے اس کی ران پر چٹکی کاٹ لی- شروتی جیسے رو ہی پڑی- لیکن آنسوﺅں کو اس نے سسکیاں نہ بننے دیا- چپ چاپ گاڑی سے اتری اور اپنے گھر کی طرف چل پڑی- بھاری بھاری قدموں سے-

٭٭٭٭٭٭٭

امان شہر کے بیچو ں بیچ آہستہ رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے جا رہا تھا- اس کے دل میں رہ رہ کر روہن کے عجیب سے خوابوں کو لے کر کئی خیال آرہے تھے- اور خواب بھی ایسا جو سچ ہوگیا- پچھلا جنم ہوتا ہے- یہ اس نے ہندی دیومالا یا بالی ووڈ کی فلموں میں دیکھا تھا -مگر اس کو اپنے سامنے سچ ہوتا ہوا وہ پہلی بار ہی دیکھ رہا تھا- اس کو روہن کی قسمت پر ناز تھا اور اسی لئے شاید اس سے لگاﺅ سا بھی ہوگیا تھا- یادوں کے بھنور میں الجھے امان کو اچانک اپنے پہلے پیار کی یاد آگئی اور اس کی آنکھوں سے خودبخود آنسو چھلک پڑے- کتنی پیار ی تھی وہ- ایک دم پھول سی نازک- دونوں کو ایک دوسرے سے بہت پیار ہوگیا تھا- مگر اقرار کبھی نہیں کر پائے – وہ اس کو دیکھ کر رہ جاتا اور وہ امان کو دیکھ کر رہ جاتی- گھر کی منڈیر پر کھڑے ہوکر گھنٹوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہنے کا سلسلہ ایک دم بند ہوگیا- اس دن امان رات ہونے تک وہیں کھڑا رہا تھا- اگلے دن جب اس کو پتہ کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ شہر چھوڑ کر چلی گئی ہے تو وہ تڑپ اٹھا- دو دن تک کھانا بھی نہیں کھایا گیا اس سے- کم سے کم بتا تو دیتی- مگر ہو بھی کیا سکتا تھا- وہ اس کو روک تھوڑے ہی لیتا- آخر عمر ہی کیا تھی اس کی اس وقت- مگر پیار عمر دیکھ کر تو نہیں ہوتا ہے- وہ تو بس ہو جاتا ہے- کہیں بھی- کسی سے بھی- اچانک- اچانک امان نے گاڑی ایک طرف روکی اور ایک فوٹو کاپی نکال کر پڑھنے لگا-

”ہائے امان- جس دن تم نے مجھے پہلی بار چھت پر کھڑے دیکھا تھا- شاید تم نے پہلی بار دیکھا تھا- مگر میں نے پہلی بار نہیں- میں تو تمہیں کتنے ہی دنوں سے گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھتی آرہی تھی- گھر کی کھڑکی سے تمہیں چھت پر پتنگ اڑاتے ہوئے دیکھتی آرہی تھی- پتنگ اڑاتے ہوئے تم جب بھی پیچھے ہٹتے ہوئے بالکل کنارے کے پاس آجاتے تو میرا ننھا سا دل دھڑک اٹھتا تھا- کہیں تم گر نہ جاﺅ- میرا تمہیں پکار کر وہاں سے ہٹ جانے کے لئے کہنے کو دل کرتا- مگر کبھی آواز ہی نہیں نکال پائی- تمہارا نام لینا شاید میرے بس میں نہیں تھا- اور شاید میری قسمت میں بھی نہیں- تمہیں یاد ہے ایک بار انکل نے تمہیں تمہار چھت پر آکر چانٹا مارا تھا- (پتہ نہیں کیوں) تم تو صرف روئے تھے- مگر میری چیخ نکل گئی تھی- میری ممی دوڑی ہوئی آئی تھی چھت پر- کیا بتاتی ان کو؟—- سال پورا ہونے کو ہے- تم روز چھت پر آتے ہو- مگر ہمیشہ مجھ سے لیٹ- ہمیشہ میں ہی تمہارا انتظار کرتی ہوئی ملتی ہوں- ہے نا؟— کئی بار تم آدھا آدھا گھنٹہ انتظار کروا کر آتے- میرا تم سے روٹھنے کو دل کرتا- مگر پھر مناتاکون؟— تمہیں دیکھ کر ہی اتنا سکون ملتا تھا کہ ہر روز نیچے جاتے ہی اگلے دن کی شام کا انتظار کرنا مشکل ہوجاتا تھا- تم سے ملنے کو اتنی تڑپتی تھی کہ سوتے ہوئے تکیہ سر سے نکال کے سینے پر چپکا لیتی تھی- لیکن تمہارا سینہ کبھی اس تکیئے کی جگہ نہیں لے پایا- کتنی ہی بار تمہارے آگے سے گزری– لیکن تم نے روکا ہی نہیں- کتنی ہی بار جان بوجھ کر تمہاری بیٹنگ یا بولنگ کے ٹائم وکٹوں کے بیچ جاکر کھڑی ہوگئی- مگر کبھی تم نے ٹوکا ہی نہیں- تمہیں یاد ہے ایک دن جب ہم دونوں ایک ہی کلر کے کپڑے پہن کر چھت پر آگئے تو دونوں کتنا ہنسے تھے- کلر تو یاد ہوگا نا؟— اس کے بعد تمہاری سبھی شرٹوں کے کلر میں نے یاد کر لئے تھے- روز سوچ کر پہنتی اورچھت آتی کہ تم نے شاید یہی کلر پہن رکھا ہو- مگر اس کے بعد کبھی کلر نہیں ملے- ایک دن تمہارے اوپر آتے ہی میں بھاگ کر نیچے گئی تھی- پتہ ہے کیوں؟— تمہاری شرٹ کے کلر کا سوٹ پہننے- ہی ہی ہی—- تم آج شام آئے ہی نہیں چھت پر آج تو تمہارا آنا بہت ضروری تھا- آج میں تم سے کچھ بولنا چاہتی تھی- پہلی بار- اور شاید آخری بار بھی- لیکن میری قسمت میں شاید تھاہی نہیں- ایک بار تم سے بولنا- تمہارا ہاتھ پکڑ کر رونا- اور بتانا کہ آنکھوں ہی آنکھوں میں تم میرے کیا بن گئے ہو- میں کل جا رہی ہوں- ہمیشہ کے لئے – پاپا کا ٹرانسفر ہوگیا ہے- اب چھت پر نظر نہیں آﺅں گی کبھی- لیکن تمہیں بھول بھی نہیں پاﺅں گی – تم بھی نہیں بھولو گے نا— تم صبح دیر سے اٹھتے ہو- اس لئے خط تمہارے دوست ببلو کو دے کر جاﺅں گی- امید ہے وہ تمہیں دے دے گا- کبھی بول نہیں پائی تم سے- بولنے کا بڑا من کرتا تھا- کہنے کا بڑا من کرتا تھا- آئی لو یو- میں بالکل بھی نہیں رو رہی- تم بھی رونا مت- پلیز-

تمہاری (نام مٹ گیا تھا- شاید آنسوﺅں نے مٹا دیا تھا)“

امان کاغذ کو دوبارہ پرس میں رکھتے ہوئے مسکرا اٹھا- مگر اس کی آنکھیں تو چھلک آئی تھیں- مسکراہٹ شاید بے بس آنکھوں کو دلاسہ دینے کے لئے ہی آئی ہوگی- آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے جیسے ہی وہ گورنمنٹ کالج کے سامنے سے گزرا اس کی نظر ببلو پر پڑ گئی-

”اوئے ببلو-“ امان نے چلا کر اس کو پکارا-

ببلو بھاگا ہوا اس کے پاس آیا اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا-

”کیا بات ہے یار- آج کل گھر کے اندر ہی رہتے ہو زیادہ تر؟-“

”پہلے تم بتاﺅ- یہاں لڑکیوں کے کالج کے گیٹ پر کیا کام ہے تیرا- نوکری مانگنے آیا ہے کیا-“ امان نے مذاق کرتے ہوئے کہا-

”ارے نوکری کریں ہمارے دشمن- میں تو لائن مار رہا ہوں- ہی ہی ہی–“

”کس پر– کس پرلائن مار رہا ہے-“ امان ہنسا-

”لائن مل جائے پہلے- میں تو بس اپنا کام کر رہا ہوں- آگے کیا ہو یہ تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے- کیا پتہ کس گھڑی کسی نازنین کو ترس آجائے-میری بھری جوانی پر- ہی ہی ہی- بتا نا کہاں جا رہا ہے؟-“ ببلو نے آخر میں پوچھا-

”او تیری بھری جوانی- کہیںجاکر آناہے- تیرے لائن مارنے کے کام تو پھر بھی ہوتے رہیں گے- چلیں-“ امان نے پوچھا-

”چلو یار- کبھی تمہیں منع کیا ہے-“ ببلو نے باہر نکل کر وقار کو پکارا- ”میری گاڑی لے جانا بھائی-“ پھر بیٹھ کر دروازہ بند کرلیا اور گاڑی چل پڑی-

٭٭٭٭٭٭٭

”ارے آنٹی جی کوئی ہے کیا-“ امان نے ایک گھر کے باہر آواز لگائی-

”کون ہے؟-“ اندر سے لگ بھگ بھاگتی ہوئی چھریرے بدن کی لمبی سی گوری لڑکی دروازے تک آتے ہوئے بولی اور امان کو دیکھتے ہی خوش ہوگئی-

”امان- آج کیسے یاد آگئی اس گھر کی- آج تو بارش ہونی چاہئے اس خوشی میں-“ اور کھلھلاتے دروازہ کھول دیا-”آﺅ-“

امان اور ببلو دونوں ٹہلتے ہوئے گھر کے اندر آگئے-

”آنٹی جی کہاں ہیں گوری-“

”وہ تو نہیں ہیں- شام تک آئیں گی- کچھ کام تھا کیا؟-“ گوری نے ان کو پانی دیتے ہوئے پوچھا-

”نہیں کچھ خاص نہیں تھا- میں پھر آجاﺅں گا- اچھا-“ امان نے پانی پی کر گلاس میز پر رکھا اور کھڑا ہوگیا- ببلو نے بھی ویسے ہی کیا-

”ارے یہ بھی کوئی بات ہوئی- ابھی آئے اور ابھی چل دیئے- بیٹھو نا- چائے لاتی ہوںبنا کر-“ گوری حق سا جتاتے ہوئے دروازے پر کھڑی ہوگئی-

”نہیں گوری- آج جلدی میں ہوں- وہ شیکھر آیا ہے- زیادہ دیر تک اکیلا چھوڑا تو برا مان جائے گا- میں بعد میں آﺅں گا-“ امان نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا- شیکھر کا نام امان کے منہ سے سن کر گوری کے کان کھڑے ہوگئے- اچانک ہی حیرت کی ایک میٹھی سی لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی- پھر سنبھلتے ہوئے بولی-

”شیکھر آیا ہے- کب– – اس کو کیوں نہیں لے کر آئے؟— کتنے سال ہوگئے اسے شکل دکھائے ہوئے-“

”وہ- دراصل کچھ اور بھی دوست ہیں وہاں- ان کو اکیلا چھوڑنا تو بالکل ہی اچھا نہیں لگتا- شام کو بھیج دوں گا- اگر آیا تو-“ گوری کے برابر سے باہر نکلتے ہوئے امان نے کہا-”دروازہ بند کرلو- ہم جا رہے ہیں-“

”ٹھیک ہے-“ گوری چہکتی ہوئی ان کے ساتھ آئی اور دروازہ بند کرتے ہی بدحواسی میں اندر کی طرف دوڑ پڑی- اندر جاتے ہی اس نے فون اٹھا کر ایک نمبر ملایا-

”گوری میں کلاس میںہوں – بعد میں بات کرتی ہوں-“ سرگوشیانہ آواز فون پر سنائی دی-

”شلپا سن تو سہی- فون مت رکھنا- بعد میں پچھتائے گی نہیں تو-“ گوری نے کہا-

”کیا ہوا— تمہاری سانسیں اتنی تیز کیوں چل رہی ہیں- سب ٹھیک تو ہے نا-“ شلپا کی آواز اب بھی بہت دھیمی تھی-

گوری نے آنکھیں بند کرکے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور بڑھتی ہوئی دھڑکنوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی-

”ہاں- بس کیا بتاﺅں- — سنو— وہ شیکھر آیا ہوا ہے-“

”کیا؟-“ شیکھر کا نام سن کر شلپا بھول ہی گئی کہ وہ کلاس روم میں ہے- پھر ہڑبڑاتے ہوئے اس نے فون کو چھپانے کی کوشش کی تو پوری کلاس میں قہقہہ گونج اٹھا-

”گیٹ آﺅٹ آف دی کلاس-“ لیکچرار نے پڑھانا چھوڑ کر اس کو یک سطری حکم سنا دیا-

پوری کلاس امید کر رہی تھی کہ شلپا اب معاف کر دینے کے لئے گڑگڑائے گی- سب اسی کی طرف دیکھ رہی تھیں- مگر اس کا جواب سن کر سبھی چونک پڑیں-

”تھینکس مادام- تھینک یو ویری مچ-“ شلپا نے یہ سب بھاگتے بھاگتے ہی کہا اور کلاس سے غائب ہوگئی- کلاس میں سناٹا سا چھا گیا- سب لڑکیاں آنکھیں پھاڑے لیکچرار کی طرف دیکھ رہی تھیں- اور لیکچرار آنکھیں پھاڑے دروازے کی طرف-

شلپا نے بھاگتے ہوئے گیٹ پر آتے ہی رکشہ پکڑااور بنا مول تول کئے بولی- ”جلدی چلو- سیدھے-“

”کہاں ہے وہ؟-“ گرتے پڑتے سنبھلتے شلپا گوری کے گھر پہنچی- بڑی مشکل سے دھونکنی کی طرح چل رہی اپنی سانسوں پر قابو پاتی ہوئی وہ اندر پہنچی اور گوری کے علاوہ کسی کو بھی وہاں نہ پاکر جھلا گئی-

گوری مسلسل اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی- شلپا کے صوفے پر ڈھیر ہوتے ہی بولی-

”پوری بات تو سن لیتی- مجھے پتہ تھا- تم اب سیدھی یہیں آﺅ گی-“

”نہیں- وہ تو لیکچرار نے نکال دیا- لیکن ہے کہاں شیکھر- “ شلپا میز پر رکھے جگ کو اٹھا کر غٹاغٹ پانی پیتے ہوئے بولی-

”امان آیا تھا- اسی نے بتایا کہ شیکھر آیا ہوا ہے- ابھی وہ اسی کے پاس ہے- شام کو آئے گا شاید-“ گوری اٹھ کر جگ کو فرج کے اوپر رکھتے ہوئے بولی-

”کون امان؟-“ شلپا نے پوچھا-

”ارے وہی یار- جو پہلے ہمارے گھر کے پاس رہتے تھے- یاد نہیں-“

”اوہ ہاں- مگر شیکھر اس کا دوست ہے کیا؟-“ شلپا نے متجسس لہجے میں پوچھا-

”ہاں – وہ تو بچپن سے ہی اچھے دوست ہیں- تمہین امان کا نام یاد نہیں ہے- شکل سے ضرور پہچان لو گی-“ گوری نے بتایا-

” ابھی تو شیکھر یہیں رہے گا نا-“ شلپا اٹھ کر اس کے پاس آگئی-

”مجھے کیا پتہ- اسی سے پوچھ لینا-“ گوری شرارت سے مسکرانے لگی-

شلپا نے اپنے چہرے پر آئی شرم کی لالی چھپانے کے لئے تکیہ اٹھا کر گور ی کو دے مارا-

”کیا اب بھی وہ اتنا ہی شرمیلا ہوگا—- چار سال ہو گئے اس کو دیکھے ہوئے- تمہیں یاد ہے جب ایک بار ہم چھپن چھپائی کھیل رہے تھے تو غلطی سے وہ اسی رضائی میں گھس گیا تھا جس میں ‘ میں چھپی ہوئی تھی- ہی ہی ہی- پتہ ہے کیسے اچھل پڑا تھا- جیسے اس کو کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو- اس کے بعد وہ کبھی ہمارے ساتھ نہیں کھیلا- میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی گوری- پوری زندگی نہیں بھول سکتی-“ کہتے ہوئے شلپا نے پیچھے سر ٹکایا اور مند مند مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں-

”ہاں تم نے بتایا تھا- وہ پورے کا پورا تیرے اوپر لیٹ گیا تھا-“ گوری نے کچھ اور بھی یاد دلانے کی کوشش کی- مگر شاید شلپا تو پہلے ہی اسی پل میں کھوئی ہوئی تھی- شیکھر کے ہاتھ کا لمس آج تک اس کے رگ و پے میں بسا ہوا تھا- وہ لمس وہ تڑپ آج تک شلپا کے سینے میں آگ لگائے ہوئے تھی- اور اس آگ کو بجھانے کے لئے بیس برس کی ہونے پر بھی کوئی اور ہاتھ اس کو گوارا نہیں تھا- وہ شیکھر سے تب بھی پیار کرتی تھی اور آج بھی‘ وہ اسے کبھی بھول ہی نہیں پائی تھی-

”چار سال بعد-“ آنکھیں بند کئے ہوئے ہی شلپا کے منہ سے نکلا-

”کیا؟-“ گوری نے پوچھا-

”آج چار سال بعد وہ مجھے دکھائی دے گا- بھول تو نہیں گیا ہوگا نا-“ شلپا نے دوہرایا اور آنکھیں کھول دیں-

”تمہیں کیسے بھول سکتا ہے وہ- تم ہی تو ا س سے سب سے زیادہ لڑا کرتی تھیں- اور پھر مناتی بھی تم ہی تھیں- اور اگر بھول بھی گیا ہو تو تم یاد دلا دینا- چھپن چھپائی والی بات بتا کر- ہی ہی ہی-“ گوری ہنسنے لگی-

”وہ پھر بھاگ جائے گا- اگر چھپن چھپائی والی بات یاد دلا دی تو- جھینپو کہیں کا- ہی ہی ہی- کتنا پیارا تھا نا وہ-“ شلپا کی آنکھیں چمک اٹھیں-

”تھا – کیوں بول رہی ہے پاگل- وہ تو ابھی بھی ہے-“ گوری نے اس کو ٹوکا-

”ہی ہی ہی- مگر کیا وہ اب بھی اتنا ہی کیوٹ ہوگا-“ خود ہی کہہ کر شلپا شرما گئی- کشن اٹھا کراپنے چہرے کو چھپا لیا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز۔۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر5

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر5 صبح میری آ نکھ کھلی تو ارم کے بیڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے