سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 47

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 47

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 47

آپ بیتی یا جگ بیتی عام طور سے ماضی کا حصہ ہوتی ہے لیکن ہماری اس الف لیلہ میں اکثر حال کے واقعات بھی شامل ہوتے رہتے ہیں، حال ہی مستقبل میں ماضی بن جاتا ہے، کچھ عرصہ پہلے یہ خبر ملی کہ ماہنامہ نئے اُفق بند ہورہا ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے نہایت افسوس کا اظہار کیا گیا ، بلاشبہ ماہنامہ نئے اُفق کا ڈائجسٹ انڈسٹری میں ایک مقام رہا ہے، محترم مشتاق احمد قریشی ادارہ نئے اُفق پبلی کیشنز کے بانی ہیں، ان کے صاحب زدگان عمران احمد قریشی اور طاہر احمد قریشی بھی نئے اُفق سے وابستہ رہے، اب طویل عرصے سے صرف طاہر احمد قریشی نئے اُفق کو دیکھ رہے تھے، عمران احمد کا اس حوالے سے کوئی عمل دخل نہیں تھا، مزید یہ کہ مشتاق قریشی صاحب بھی ایک طویل عرصے سے ادارے سے تقریباً علیحدہ ہیں۔

ایک طویل عرصے سے مشتاق صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی،گزشتہ سال بڑی شدت سے ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی، ہم نے ان کے صاحب زادے عمران قریشی سے فرمائش کی کہ بھئی ملاقات کی کیا صورت ہوگی؟انھوں نے بتایا کہ قریشی صاحب کا زیادہ وقت عبادات میں گزرتا ہے، بہر حال ایک روز ہم ان کے گھر پہنچ گئے اور اس طرح تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات ہوگئی جس میں زیادہ گفتگو ماضی کے حوالے سے رہی، حال پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی، سوائے اس کے کہ انھوں نے پہلے ہی واضح کردیا کہ اب میرا اپنے پرچوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے،عمران احمد ہمیں پہلے ہی بتاچکے تھے کہ وہ بھی ادارے سے لاتعلق ہیں۔

ہم اس الف لیلہ میں پہلے بھی ادارہ نئے اُفق کے حوالے سے وقتاً فوقتاً بعض واقعات لکھتے رہے ہیں، مشتاق صاحب بنیادی طور پر ایک ادب دوست انسان ہیں اور خاص طور پر ابن صفی صاحب کے زبردست فین ہیں، بقول ان کے صفی صاحب نے ہی انھیں ڈائجسٹ نکالنے کی راہ دکھائی تھی اور نہ صرف راہ دکھائی بلکہ رہنمائی اور دست گیری بھی کی، مشتاق صاحب نے نئے اُفق کو سب سے پہلے ”ابن صفی میگزین“کے نام سے شروع کیا تھا، اس وقت صفی صاحب حیات تھے اور ان کی تخلیقات بھی ابن صفی میگزین میں شائع ہوتی تھیں، اس کے پہلے ایڈیٹر اظہر کلیم مرحوم تھے۔

قریشی صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ جب اس پرچے کا آغاز کیا گیا تو ڈکلیریشن کا حصول بڑا ہی مشکل مرحلہ ہوتا تھا، چناں چہ ہم نے نئے اُفق کا ڈکلیریشن ایک صاحب سے خرید لیا، شاید دس ہزار روپے میں اور پھر اسی ڈکلیریشن کے تحت ابن صفی میگزین شروع کیا گیا لیکن بعد میں شاید ابن صفی صاحب کے انتقال کے بعد اس کا اصل نام ”نئے اُفق“ بحال کردیا گیا جو آج تک برقرار ہے۔

مشتاق احمد قریشی صاحب بنیادی طور پر اچھے منتظم اور کاروباری امور کو سمجھنے والے انسان ہیں، خوش قسمتی سے انھیں ابتدا ہی میں اظہر کلیم جیسے محنتی اور تجربے کار ایڈیٹر کا ساتھ مل گیا، نئے افق نے ڈائجسٹ انڈسٹری میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرایا اور اس ادارے نے مزید ڈائجسٹ بھی جاری کیے جن میں ”نیا رُخ“ اور ”حجاب“ کے علاوہ خواتین کے لیے ”آنچل“کا نام سرفہرست ہے، ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ مشتاق قریشی صاحب کے ساتھ اظہر کلیم کی رفاقت خاصی کامیاب رہی لیکن بدقسمتی سے ایک مرحلے پر دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی، یہ وہی زمانہ تھا جب ہم نئے نئے جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن میں وارد ہوئے تھے اور اس سے پہلے چند روز نئے اُفق میں اظہر کلیم کے ساتھ گزار چکے تھے۔

کوئی مانے یا نہ مانے ہمارا خیال یہی ہے کہ اظہر کلیم کی ادارہ نئے اُفق سے علیحدگی، اس ادارے کے زوال کا باعث بنی کیوں کہ کہانیوں پر جو نظر اور دسترس اظہر کلیم کو حاصل تھی وہ کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور کسی پرچے کی کامیابی کے لیے اس کی کہانیوں کا اعلیٰ معیار ہی کامیابی کی ضمانت ہے، اظہر کلیم کے بعد ہمارے خیال سے کوئی شخص بھی ادارہ نئے اُفق میں ایسا نہیں آیا جو اس خلا کو پُر کرسکتا جو مرحوم اظہر کے جانے سے پیدا ہواتھا۔

قسمت کی ستم ظریفیاں بھی عجیب ہوتی ہیں، ادارے سے علیحدگی کے بعد اظہر صاحب نے ”اشارہ“ کے نام سے ایک ڈائجسٹ نکالا تھا جو ناکام رہا، اس کی ناکامی کی وجوہات اگرچہ کچھ اور ہیں ، ہم نے گزشتہ اقساط میں ان پر روشنی بھی ڈالی تھی ،بہر حال اس ناکامی کے بعد اظہر صاحب کی ادارہ نئے اُفق میں واپسی کا امکان پیدا ہوگیا تھا اور بقول عمران احمد قریشی ایک روز وہ دفتر آئے بھی تھے مگر کسی شادی میں انھیں فیصل آباد جانا تھا اور واپسی پر دوبارہ نئے اُفق میں اپنی سابقہ ذمے داریاں سنبھالنا تھیں، فیصل آباد سے ان کی واپسی نہ ہوسکی، وہیں شادی کی تقریب ہی میں دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا، اس طرح نئے اُفق دوبارہ ان کی خدمات سے محروم رہ گیا۔

کراچی سے ڈائجسٹ کا آغاز

شکیل عادل زادہ اپنی یاد داشتوں میں لکھ چکے ہیں کہ کراچی سے جاری ہونے والا پہلا ڈائجسٹ ”عالمی ڈائجسٹ“ تھا ، اس سے پہلے کراچی سے ادبی ماہنامے ، فلمی، اخبار و رسائل وغیرہ شائع ہوا کرتے تھے، شکیل صاحب جب ترک وطن کرکے کراچی پہنچے تو انھوں نے اپنے والد کے قریبی دوست جناب رئیس امروہوی سے رابطہ کیا، رئیس صاحب تقسیم ہند سے قبل جس ادبی رسالے سے وابستہ تھے وہ شکیل صاحب کے والد کا تھا، انھوں نے شکیل صاحب کی سرپرستی قبول کی اور انھیں اپنے کراچی سے نکلنے والے ماہنامہ شیراز اور انشا میں جون ایلیا کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا، یہ تمام روداد شکیل صاحب اپنی سرگزشت میں بیان کرچکے ہیں جو پہلی بار ماہنامہ رازدار میں شائع ہوئی تھی، یہ ماہنامہ برادرم جمال احسانی نے نکالا تھا، ہم اس کا تذکرہ پہلے کرچکے ہیں۔

شکیل صاحب نے اپنی سرگزشت میں ضروری نہیں ہے کہ ہر بات کھل کر لکھ دی ہو اور ایسا ہوتا بھی نہیں ہے، بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں کیوں کہ کہیں نہ کہیں وضع داریاں بھی آڑے آتی ہیں یا فساد خلق کا اندیشہ ہوتا ہے،شکیل صاحب نے اپنی عالمی ڈائجسٹ سے علیحدگی کی بنیادی وجوہات بیان نہیں کیں، صرف اتنا ہی لکھا کہ میں وہاں جس محنت اور جاں فشانی سے کام کر رہا تھا، اس کا حاصل اطمینان بخش نہیں تھا، چنان چہ میں نے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا اور علیحدہ ہوگیا۔

واقعہ یہ ہے کہ جب شیراز اور انشا کی اشاعت زیادہ نہ ہوسکی اور انھیں فائدہ بخش طریقے سے چلانا ممکن نہ رہا تو شکیل صاحب ہی کے مشورے سے انشا کا نام عالمی ڈائجسٹ کردیا گیا، اردو اور سیارہ ڈائجسٹ ان دنوں مقبولیت میں سرفہرست تھے ، یہ دونوں پرچے لاہور سے نکلتے تھے اور تقریباً ریڈر ڈائجسٹ سے مشابہ تھے، البتہ عالمی ڈائجسٹ کو مکمل طور پر ایک فکشن کا پرچا بنادیا گیا، نتیجے کے طور پر عالمی ڈائجسٹ کی اشاعت بڑھنے لگی اور وہ روز بہ روز مقبولیت حاصل کرنے لگا، بے شک عالمی کی اس کامیابی میں شکیل عادل زادہ کی فطری صلاحیت اور محنت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

بعض معتبر ذرائع کے مطابق جب رئیس صاحب نے شکیل صاحب کو جون ایلیا کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا تھا تو یہ طے ہوا تھا کہ آپ دونوں اس کاروبار میں برابر کے شریک ہیں، گویا پچاس فیصد کے پارٹنر مگر جب عالمی کی اشاعت بڑھی اور آمدن میں اضافہ ہوا تو شکیل صاحب نے محسوس کیا کہ اصل مالک جون ایلیا ہیں اور میری حیثیت ایک ملازم کی سی ہے،یہی بات انھیں گوارہ نہ ہوئی اور بالآخر انھوں نے عالمی سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا، اپنے بعض احباب سے مشورہ کیا اور سب رنگ کا آغاز کردیا، گویا کراچی سے پہلا ڈائجسٹ عالمی شائع ہوا اور دوسرا سب رنگ، اس کے بعد دیگر ڈائجسٹوں کا اجرا ہوا، یہ کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔

اردو بازار

60 ءکی دہائی میں کراچی کا اردو بازار پبلشنگ کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتا تھا اور آج بھی اس کی ایک اپنی اہمیت ہے، کراچی کا اردو بازار ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے اور خاص اس علاقے سے ملحق ہے جسے کبھی ”عیدگاہ“ کہا جاتا تھا، صدر کراچی کے بعد یہ اپنی ابتدا ہی سے بڑا بارونق اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز علاقہ ہے،اسی علاقے میں ایک گلی کاتبوں کی گلی کہلاتی تھی یعنی کاتب پوری گلی میں باقاعدہ دکانیں لیے بیٹھے تھے،یہ گلی موجودہ صابری ہوٹل کے بالکل سامنے تھی، گلی کے آغاز پر ہی ایک پیٹرول پمپ ہوا کرتا تھا، شاید کمپیوٹر کمپوزنگ کے آغاز نے اس گلی میں موجود کاتبوں کی مارکیٹ کا خاتمہ کردیا۔

اردو بازار ابتدا میں صابری ہوٹل سے شروع ہوکر سوبھراج اسپتال تک پھیلا ہوا تھا، اسی علاقے میں ایک بہت بڑا اور کشادہ نالہ بھی تھا، بعد میں اس نالے پر بھی بڑی بلند و بالا عمارات بن گئیں، کراچی کی مشہور بہادر شاہ ظفر مارکیٹ اور اورنگزیب مارکیٹ اسی نالے پر واقع ہیں ، خواتین ڈائجسٹ کے دفاتر بھی اسی نالے پر ہیں، گزشتہ دنوں جب کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو اس نالے کی تجاوزات بھی آپریشن کی زد میں آگئیں لیکن تاحال کوئی باقاعدہ کارروائی ابھی تک نہیں ہوئی۔

اسی اردو بازار میں 60 ءکی دہائی میں جناب معراج رسول کے والد ع، غ شیخ کی دکان تھی اور یہیں خواتین ڈائجسٹ کے بانی محمود ریاض، نئے افق کے بانی مشتاق احمد قریشی کی دکان بھی تھی، اس کے علاوہ بھی بہت سے پبلشرز اسی اردو بازار میں دکانیں کھولے بیٹھے تھے، چناں چہ اکثر مصنفین کی آمدورفت بھی اسی بازار میں رہتی تھی جس کے نتیجے میں ان کی راہ و رسم پبشلرز سے بھی ہوجاتی تھی، ابن صفی صاحب کی علالت کے زمانے میں جو جعلی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناول شائع ہوئے اس کا گڑھ بھی یہی اردو بازار تھا، معراج صاحب کے والد ع، غ شیخ صاحب نے بھی این صفی یا اس سے ملتے جلتے ناموں سے صفی صاحب مرحوم کے کرداروں پر ناول شائع کرکے فائدہ اٹھایا، معراج رسول صاحب نے بھی پبشلنگ کے کام کا آغاز اپنے والد صاحب کی دکان سے ہی کیا، ہمیں نہیں معلوم اور کون سے پبلشرز صفی صاحب کے کرداروں پر جعلی ناول شائع کرتے رہے۔

اس موقع پر ہمیں ایچ اقبال صاحب یاد آرہے ہیں، انھوں نے بھی صفی صاحب کے کرداروں پر جاسوسی ناول لکھے لیکن اپنے نام سے اور یہ سلسلہ کس طرح شروع ہوا ؟ اس کی تفصیل بھی خاصی دلچسپ ہے، ایک ملاقات میں اقبال صاحب نے ہمیں بتایا کہ میں ابتدا ہی سے کسی بھی ملازمت سے سخت نالاں رہا ہوں، شاعری ، افسانہ نگاری کا چسکا شروع ہی سے رہا، والد صاحب کے دوستوں میں رئیس امروہوی صاحب اور جوش ملیح آبادی جیسے ادبی قد آور شامل تھے، والد صاحب نے ان سے بھی ملوایا اور ایک مرحلے پر رئیس صاحب نے ایچ اقبال صاحب کو بھی یہ مشورہ دیا کہ وہ ان کے پرچے شیراز اور انشا سے وابستہ ہوجائیں لیکن اس طرح کہ اسے کوئی ملازمت نہ سمجھیں بلکہ اپنے ہی پرچے سمجھیں، دراصل اقبال صاحب نے پہلے ہی رئیس صاحب پر یہ واضح کردیا تھا کہ میں کوئی ملازمت نہیں کرنا چاہتا، چناں چہ رئیس صاحب نے فرمایا کہ آپ کام کریں اور ہر مہینے مجھ سے ایک چیک لے لیا کریں، اُس پر اپنی ضرورت کے مطابق رقم لکھ لیا کریں گویا کوئی لگی بندھی تنخواہ نہ ہوگی۔

رئیس امروہوی کی ناول نگاری

بقول ایچ اقبال اس زمانے میں رئیس صاحب کو بھی جاسوسی ناول لکھنے کا شوق ہوا اور انھوں نے ایک ناول لکھا بھی جو ڈاکٹر رازی کے نام سے شائع ہوا، اقبال صاحب کی اس بات نے ہمیں چونکا دیا تھا کیوں کہ شاید بہت قریب سے رئیس صاحب کو جاننے والے بھی یہ راز نہ جانتے ہوں کہ حضرت رئیس امروہوی نے کبھی کوئی جاسوسی ناول بھی لکھا ہوگا، شاید اقبال صاحب کے علاوہ شکیل عادل زادہ جانتے ہوں،ناول کا نام معلوم نہیں ہوسکا، ممکن ہے پرانی کتابوں میں کبھی کسی کو ڈاکٹر رازی کے نام سے شائع شدہ کوئی جاسوسی ناول مل جائے ، ابراہیم جمالی کے لیے ایک نئی تلاش!

ہم نے اقبال صاحب سے ان کی ناول نگاری کے بارے میں سوال کیا کہ آپ اس راستے پر کیسے آئے تو انھوں نے یہ دلچسپ قصہ سنایا کہ وہ ابتدا ہی سے اردو کے کلاسیکل ادب کے علاوہ عام ناول وغیرہ بھی پڑھنے کے شوقین تھے اور اس سلسلے میں ایک بار انھوں نے ایک ناول بھی لکھا تھا جو پاکستان چوک پر ایک پبلشرز صاحب کو اشاعت کے لیے دیا، پبلشر نے حسب معمول روایتی انداز میں ٹال مٹول سے کام لیا اور جب وہ کئی چکر لگاچکے تو بالآخر ناول واپس کردیا، اس واقعے نے انھیں خاصا ذہنی صدمہ پہنچایا، اسی دوران میں وہ ایک لائبریری سے کوئی جاسوسی ناول لے کر آئے، اسے پڑھا اور سخت غصے میں پھاڑ دیا، ناول واپس لے جاکر لائبریری کے مالک کے حوالے کیا اور کہا ”آپ اس ناول کے پیسے لے لیں، اتنا بکواس ناول میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھا“

لائبریری کے مالک نے طنزیہ کہا ”آپ اس سے اچھا لکھ سکتے ہیں تو لکھ لائیں، ہم اسے چھاپ دیں گے“

یہ بات اقبال صاحب کے دل میں بیٹھ گئی اور بقول ان کے اسی رات سے انھوں نے ایک جاسوسی ناول لکھنا شروع کردیا اور دوسرے دن شام تک مکمل بھی کرلیا ، فوراً ہی وہ یہ ناول لے کر لائبریری والے کے پاس پہنچ گئے ، لائبریری والا تھوڑا سا حیران ہوا اور ناول لے کر رکھ لیا لیکن دوسرے دن وہ ان کے گھر پہنچ چکا تھا، یہ خوش خبری لے کر کہ آپ کا ناول ہم شائع کریں گے اور آپ دوسرا ناول لکھنا شروع کردیں۔

عزیزان من! یہ بھی قسمت کے عجب کھیل ہیں، یہ لائبریری والا کوئی عام آدمی نہیں تھا، جاسوسی ڈائجسٹ کے اولین مدیروں میں سے ایک تھا، شاید اسے بھی اس وقت نہیں معلوم تھا کہ اس کے ایک طنز نے جاسوسی ناول نگاری میں ایک نئے نام کا اضافہ کردیا تھا، ہمایوں اقبال بلگرامی کو ایچ اقبال بنادیا تھا اور بعد میں وہ خود جاسوسی ڈائجسٹ کے مدیر بنے، ان کا نام احمد سعید تھا، شافع صاحب کے لقب سے مشہور تھے، ہمیں بھی ان کے معاون کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا اور جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں ہماری پہلی ملاقات انہی سے ہوئی تھی جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں، شافع صاحب سے بہت عرصہ ہوا ملاقات نہیں ہوئی، ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے، اب وہ حیات ہیں یا نہیں، ہمیں کوئی علم نہیں، اقلیم علیم صاحب سے معلوم ہوسکتا ہے۔

ایچ اقبال کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناول پسند کیے جانے لگے اور اس طرح احمد سعید اور خود ایچ اقبال کی معقول آمدنی کا ذریعہ پیدا ہوگیا، اقبال صاحب کا آنا جانا اردو بازار میں بھی تھا اور وہیں پر ان کی ملاقات معراج رسول ، مشتاق احمد قریشی وغیرہ سے بھی ہوئی کیوں کہ ان کے ناول مقبول ہوچکے تھے لہٰذا معراج صاحب سے بہت اچھے مراسم ہوگئے، معراج صاحب بھی مختلف قسم کے ناول وغیرہ شائع کیا کرتے تھے،ایک بار ڈاک کے محکمے کی غلطی سے عالمی ڈائجسٹ کو لکھا گیا ایک خط معراج صاحب کے ہاتھ لگ گیا، یہ کسی دوسرے شہر سے بھیجا گیا تھا اور کسی ایجنٹ نے اپنا آرڈر بک کرایا تھا، اس خط کے ذریعے معراج صاحب کو اندازہ ہوا کہ عالمی ڈائجسٹ کی اشاعت خاصی غیر معمولی ہے، چناں چہ انھیں خیال آیا کہ کیوں نہ ہم بھی ایک ڈائجسٹ نکالیں ، وہ بنیادی طور پر رائٹر نہیں تھے، ادارتی امور سے بھی واقفیت نہیں تھی لہٰذا انھوں نے اس سلسلے میں ایچ اقبال صاحب سے بات کی ، اقبال صاحب نے مالی مسئلے کا حوالہ دیا تو معراج صاحب نے کہا کہ میں اس کا بندوبست کرلوں گا، آپ ادارتی شعبہ سنبھال لیں، اس طرح دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوگیا اور ابتدا میں بغیر ڈکلیریشن کے جاسوسی سیریز شروع کی گئی اور ڈکلیریشن کے لیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا، ابتدائی سرمائے کے طور پر پانچ ہزار روپے کافی ثابت ہوئے جس کا بندوبست معراج صاحب نے ہی کیا تھا۔بغیر ڈکلیریشن کے تین شمارے شائع ہوئے جو ایچ اقبال ہی کے مرتب کردہ تھے اقبال صاحب نے جاسوسی کے لیے ایک قسط وار کہانی ”رتنا کماری کی جیون کہانی“ بھی شروع کی پھر جب ڈکلیریشن مل گیا تو جنوری 1970 ءسے باقاعدہ جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز ہوا، کہانیوں کا انتخاب اور دیگر ادارتی فرائض ایچ اقبال ہی کے ذمہ تھے بلکہ پیسٹنگ وغیرہ بھی انھوں نے کی، جاسوسی کے پہلے شمارے پر ان کا نام بطور مدیر موجود تھا اس کے علاوہ ایم اے راحت ، اقلیم علیم اور انوار مجتبی صدیقی کا نام بھی موجود تھا۔

گویا عالمی ، سب رنگ کے بعد تیسرا جاسوسی ڈائجسٹ کراچی سے منظر عام پر آیا۔

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر اُنیسویں قسط …اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر اُنیسویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️یہ 1998 کی بات ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے