سر ورق / ناول / تھیا، تھیا …قسط : 4 :شہباز اکبر الفت

تھیا، تھیا …قسط : 4 :شہباز اکبر الفت

تھیا، تھیا
قسط : 4
مصنف :شہباز اکبر الفت
” آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔؟“ تانیہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی، اس نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا ، تابش کسی چینل کے رپورٹر سے بات کر رہا تھا ۔
” میرے بہت رابطے ہیں، تمہارےبہت کام آسکتا ہوں۔،، اس نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے اپنا وزیٹنگ کارڈ اس کی طرف بڑھا دیا
” اگر کبھی پیسوں کی ضرورت ہو تو کال کرلینا۔ “
٭٭٭
” امی! آج مجھے احمد نواز ملا تھا۔“ دن بھر کی مصروفیت اور اپنی شارٹ فلم کی پزیرائی بارے تفصیل سے اپنی ماں کو بتاتے ہوئے اچانک تانیہ کو وہ فضول سا آدمی یاد آگیاتھا ۔
”کون احمد نواز؟“ تہمینہ بیگم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا
”کوئی ایکسٹرا سپلائر ہے، کہہ رہا تھا کہ تمہاری ماں مجھے بہت اچھی طرح جانتی ہے، تمہارے باپ کو میں نے ہی تمہاری ماں سے ملوایا تھا۔ “
”اوہ، وہ کم بخت تمہیں کہاں سے مل گیا۔“ تہمینہ بیگم نے جھلا کر کہا، اس کی تیوری پر بل پڑ گئے تھے۔
”فلم فیسٹویل میں“
” اور کیا کہااس نے ؟“
”کہہ رہا تھا کہ میرے بہت رابطے ہیں، تمہارے بہت کام آسکتا ہوں۔“ تانیہ نے لاپرواہی سے بتایا
” ہونہہ ۔۔۔ وہ کیا کسی کے کام آئے گا، صرف عورتوں کی کمائی کھانا جانتا ہے۔“
”مطلب؟“
” پرانا دلال ہے ،ہیرامنڈی میں کوٹھوں پر گاہکوں کو گھیر کر لایا کرتا تھا، پھر اس نے شہر میں ایک کوٹھی خانہ بنا لیا اور ایکسٹرا سپلائی کے نام پر لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کروانے لگا۔ “ تہمینہ بیگم نے تفصیل بتائی تو تانیہ کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔
”سنو! تم اسے دوبارہ نہیں ملو گی۔ “ تہمینہ بیگم نے گویا اپنا حکم سنا یا
” جی بہترامی‘۔‘ تانیہ نے سعادت مندی سے جواب دیا اور سر جھکا کر کھانا کھانے میں مصروف ہوگئی ۔
٭٭٭
محبت زندگی ہے، روشنی ہے، تخلیق کائنات کا جواز ہے، عدم کی دلیل ہے، باطن کا راز ہے، زمین سے آسماں اور خلائے بسیط کی حدوں اور وسعتوں تک، جہاں تک جو بھی ہے، سب کچھ محبت ہے لیکن عورت کی محبت ہمیشہ سات پردوں میں چھپی رہتی ہے ،اسے کبھی اظہار کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، اسے اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ زندگی بھر کی ریاضتوں کے بدلے میں خود اس کو کیا ملا، اسے خود سے زیادہ اس شخص کی پرواہ رہتی ہے جس کو اس نے زندگی بھر ٹوٹ کر چاہا، اس کے ماتھے پر شکن، چہرے پر تفکرات کے سائے دیکھ کر وہ مر جاتی ہے، تانیہ بھی اندر سے جیسے مر گئی تھی، اسے تابش کی فکر ستائے جا رہی تھی، اسے تابش کا ہارنا پسند نہیں تھا ، وہ اس کے سپنوں کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی، وہ اس کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن پیسوں کے حصول کا کوئی طریقہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، زمدگی میں پہلی بار اسے اپنی کم مائیگی پر غصہ آیا لیکن وہ چاہ کر بھی اپنے بارے میں الٹا سیدھا نہ سوچ سکی ، سوچ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ اس عظیم باپ نے بھلے ترکہ میں کوئی لمبی چوڑی جائیداد، گاڑیاں، بینک بیلنس نہیں چھوڑا لیکن اپنی اچھی شہرت، اخلاق اور کام سے معاشرے میں عزت ضرور کمائی اور وہی عزت انہیں وراثت میں دے گیا تھا جو ان کے لیے قارون کے خزانہ سے کم نہ تھی۔
”امی! میں کیا کروں؟“ وہ تہمینہ بیگم کے سامنے رو پڑی تھی۔
”میں کیا کہہ سکتی ہوں تانی ، ہماری تو اتنی پسلی ہی نہیں لیکن ۔۔۔۔“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئیں
” لیکن کیا ؟۔“ تانیہ نے بے صبری سے پوچھا
”میں کچھ کہوں گی تو تمہیں برا لگے گا۔“ تہمینہ بیگم نے صاف گوئی سے کام لیا
”نہیں لگتا امی، آپ بتائیں، میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں“ تانیہ جھلا گئی
”بیٹا، اس کے والد ایک اچھے بھلے کاروباری آدمی ہیں، عرصہ دراز سے مارکیٹ میں بیٹھے ہیں،لاکھوں کا لین دین کرتے ہیں، چار، پانچ لاکھ کوئی اتنی بڑی رقم تو نہیں،بڑی آسانی سے بندوبست کر سکتے ہیں“ تہمینہ بیگم کے دل کی بات آخر ان کی زبان پر آگئی۔
”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ وہ سردست کچھ نہیں کر سکتے،ان کا بال بال قرضے میں پھنسا ہوا ہے اور انہوں نے خود تابش سے اس معاملہ میںکوئی مدد کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے ۔“ تانیہ نے مایوسی سے سر جھٹکتے ہوئے صورت حال واضح کی
” پھر اب کیا کیا جاسکتا ہے؟۔“ تہمینہ بیگم کے استفسار پر تانیہ کے چہرے پر تفکرات کے سائے مزید گہرے ہوگئے ۔
”کچھ تو کرنا پڑے گا امی“ اس نے بے چینی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا، اس کا ذہن تیزی سے پیسوں کے حصول بارے امکانات پر غور کر رہا تھا
ہوئے کہا، ”مطلب، ہم کیا کرسکتے ہیں۔“
”ہم نہیں، میں “ تانیہ نے کچھ سوچ کر اچانک ہی پرجوش لہجے میں کہاتو تہمینہ بیگم چونک پڑیں
”اے لڑکی، کیا سوچ رہی ہے تو“ وہ کسی انجانے خدشہ کے تحت چلا اٹھیں۔
”کچھ غلط نہیں سوچ رہی ، آپ بے فکر رہیں “ اس نے اطمینان سے جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
اس کا ماننا تھا کہ محبت صرف ایک احساس کا نام ہے اور احساسات کا کوئی مادی وجود نہیں ہوتا، محبت، زندگی کا دھارا بدل دینے کے ایک مشکل ترین فیصلے کا نام ہے اور مشکل فیصلوں کے راستے میں رکاوٹیں تو آیا ہی کرتی ہیں، اثاثوں کے نام پرتانیہ کی ملکیت میں سونے کی ایک چین، انگوٹھی اور دو بالیاں تو تھیںجو اس کی ماں نے پائی پائی جوڑ کر اس کے لیے بنوائی تھیں تاکہ اس کے جہیز میں کام آسکیں تاہم ماں کی مخالفت کے باوجود جب اس نے ایک صراف سے دام لگوائے تو اس نے بمشکل ایک لاکھ بائیس ہزار دینے پر آمادگی ظاہر کی۔
” بھائی! یہ آپ تو بہت کم پیسے بتا رہے ہیں۔“ تانیہ نے احتجاج کیا
” دو تولہ سونے کے اتنے ہی پیسے بنتے ہیں، مارکیٹ سے پتہ کروالیں۔ “
” لیکن یہ صرف سونا نہیں ہے۔“
” زیور بھی نہیں ہے بہن جی، اتنے اولڈ فیشن کی جیولری اب نہیں چلتی۔ “
” اولد فیشن کیوں؟ یہ کوئی مغلیہ دور کے زیورات ہیں، تین، چار سال پہلے ہی تو بنوائی تھیں یہ چیزیں۔“ تانیہ ہکا بکا رہ گئی
” مارکیٹ میں روز ایک نیا ڈیزائن آتا ہے اور پہلے والا پرانا ہو جاتا ہے، سادہ سی بات ہے ، بہرحال میں تو اتنے ہی دے سکتا ہوں ، آگے آپ کی مرضی “ جیولر کے لہجے میں قطعیت کے عنصر کو دیکھ کر تانیہ نے چپ چاپ اپنے زیورات کو آگے بڑھایا اور پیسے گن کر پرس میں ڈال لیے ، اب اسے ایک اور فکر لاحق ہوگئی، اول تو یہ پیسے بہت کم تھے اور تابش کی ضرورت زیادہ، دوم یہ کہ پیسے تابش کو کس طرح دیئے جائیں کہ اس کی خودداری کو ٹھیس نہ پہنچے، اس نے سو سوال کرنا تھے اور اگر اسے پتہ چل جاتا کہ تانیہ نے اپنا زیور بیچا ہے تو وہ مر کر بھی یہ پیسے نہ لیتا ۔
٭٭٭
” یار! آخرتم تانیہ سے اپنے دل کی بات کہنے سے اتناڈرتے کیوں ہو؟ “تبریز نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، تبریز اس کا صرف یونی فیلو ہی نہیں بلکہ بچپن کا دوست اور محلے دار بھی تھا، بچپن سے ہی دونوں کی گاڑھی چھنتی تھی اور دونوں میں کوئی امر کبھی مخفی نہ رہا تھا،وہ تانیہ اور تابش کی دوستی کے تمام پہلوﺅں سے بھی اچھی طرح واقف تھا لیکن آج پہلی بار اس نے تبریز کے سامنے لب کشائی کی کہ اسے تانیہ سے محبت ہے اوریہ بات وہ اسے کبھی نہیں بتاسکتا تو وہ دنگ رہ گیا۔
”یار، وہ بہت معصوم اور حساس ہے، میں اسے کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا “
” آزمائش کیسی؟وہ تمہیںپسند کرتی ہے ، تبھی تو ہر وقت تمہارے ساتھ پائی جاتی ہے ، تمہارے علاوہ تو اسے کبھی کسی سے سیدھے منہ بات کرتے بھی نہیں دیکھا گیا ۔“ تبریز جھلا گیا
” دوستی اور محبت میں بہت فرق ہوتا ہے “
” دوستی ہی تو محبت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے، یار میری مانو تو زیادہ مت سوچو اور اس کے سامنے جاکر سیدھا سیدھا اظہار محبت کر دو، ڈگری کے ساتھ ساتھ نکاح نامہ بھی ہاتھ آجائے گا۔“ تبریز ہنسا
” وہ تو ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔۔۔“ وہ پھر کچھ الجھ سا گیا
” وہ کیا؟“
”میرا مسئلہ پتہ کیا ہے؟ میں اس کے سامنے جا کر اپنا وجود کھو بیٹھتا ہوں، وہ گوشت پوست کی ایک عام سی لڑکی ہونے کے باوجود مجھے آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی کا منبع محسوس ہوتی ہے، دل ہی دل میں دہرائے ہوئے لفظ کہیں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، ہزار باتیں کرنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک جملہ نہیں کہہ سکتا کہ
”مجھے تم سے محبت ہے “

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے