سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ضیاءشہزاد
”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا”
٭
قسط نمبر17
٭
٬٬ ابے تو کیا چمتکار دکھائے گا ۔ ۔۔ مجھ سے اپنا ہا تھ تو چھڑ وا نہیں سکا ۔،، بڑے ابا بولے ۔٬٬ بس بس بہت ہو چکا ۔ ۔ ۔ تیرا چمتکار تو میں دیکھ چکا ہوں۔۔ ۔ ۔ ،،بدرالدین ابا نے گردھاری کو للکارا
٬٬ اچھا تو لے ۔ ۔ یہ دیکھ ۔ ۔ ،، گردھاری چیخا اور اس نے اپنے دوسرا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور بولا۔ ۔ ۔ ۔ ٬٬ اب مسلوں کو چمتکار دکھانے کا وقت ٓگیا ہے ۔ ۔ ۔ جی بھر کے تم لوگ ہمارا چمتکار دیکھنا ۔ ۔ ۔ ۔ تم مسلوں کا یہاں سے جانے کا سمے آ گیا ہے ´۔ ۔ ۔ نکل جاﺅ باول سے ۔ ۔ ورنہ بھسم ہو جاﺅ گے ۔،،
گردھاری جانے کس بولی میں کیا کیا بول رہا تھا ، یہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن ایک بات نے چھت پر چڑھی عورتوں اور مجھے حیران کر دیا تھا وہ یہ تھی کہ بڑے ابا کو ایک زور دار جھٹکا لگا ۔ ۔ ۔ وہ زمین پر گرتے گرتے بچے ۔ ۔ ۔ کچھ دیر پہلے تک بڑے ابا نے گردھاری کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑا ہوا تھا جسے وہ کوشش کے باوجود نہیں چھڑا سکا تھا ۔ ۔ ۔ مگر وہ اب کامیاب ہو گیا تھا ۔
٬٬ اری تائی دیکھ تو ۔ ۔ ۔ اس پنڈت نے کوئی منتر پڑھا ہے ابا کے اوپر ۔ ۔ ۔ ان سے اپنا ہاتھ چڑھا لیا ہے پجاری نے ،، محمودن بھابی چیخ کر بولی
٬٬ گردھاری ۔ ۔ ۔ اب اور اشلوک مت پڑھنا ۔ ۔ ۔ ورنہ میں تجھے بھسم کر دوں گا ۔،، کلو تایا چیخ کر بولے تھے
٬٬ اچھا ۔ ۔ ۔ ہماری بلی اور ۔ ۔ ہم سے ہی میاﺅں میاﺅں ۔ ۔ ۔ مندر میں آ کر پنڈت گوکل رام سے دو اکشر کیا سیکھ لئے ۔ ۔ ۔ مجھ جیسے گیانی کو بھسم کرنے چلا ہے ۔،، گردھاری نے حقارت سے چیخ کر تایا کلو سے کہا ، اور اپنا وہ ہاتھ جس میں ترشول تھا اوپر بلند کیا اور کچھ پڑھنے لگا اور ساتھ ہی بولا ۔٬٬ابھی چکھاتا ہوں تجھے مزا۔ ۔ ۔
٬٬ چل ہٹ ۔ ۔ ۔ مزا تو میں چکھاتا ہوں تجھے گردھاری لے سنبھل جا ۔ ۔ ۔ ،، کلو تایا بھی چیخ کر بولے اور اپنے منہ سے کھوں کھوں ۔ ۔ ۔کھاﺅں کھاﺅں ۔ ۔ ۔کھی کھی کی عجیب سی آواز نکالی ۔ اان کے منہ سے یہ آواز کا نکلنا تھا کہ کندھے پر بیٹھا ہوا بڑا بندر اچھل کر زمین پر کود گیا ۔ اور پھر وہ چیخ چیخ کر عجیب سی آوازیں نکالتا ہوا زمین پر کودنے اور اچھلنے لگا ۔ بندر کی یہ حرکت دیکھ کر آس پاس جو دوسرے بندر تھے انہوں نے بھی ایسی ہی اچھل کود شروع کر دی ۔ گردھاری کا ہوا میں اٹھا ہوا ہاتھ اوپر ہی رہ گیا اور وہ بھی حیرت سے یہ سب کچھ دیکھنے لگا۔ بندروں کی اچھل کود دیکھ کر عورتیں بھی ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگیں ۔ بھابی محمودن اماں سے بولیں ٬٬ چاچی جی ۔ ۔ ۔یہ بندروں کا تماشا دیکھ رہی ہو ۔،،
٬٬ اری کیا تماشا دیکھوں ۔ ۔۔ مجھے تو ہول اٹھ رہی ہے ۔۔ ۔ میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے کوئی بہت بڑی گڑ بڑ لگ رہی ہے۔،، اماں نے کہا اور اپنا ہاتھ بڑھا کر میرا بازو پکڑ لیا۔
مگر میں نے ان سے اپنا بازو جھٹک کر چھڑا لیا اور پھر نیچے جھانکنے لگا۔میں نے دیکھا کہ جیسے ہی کلو تایا نے اپنے حلق سے عجیب سی اور بندروں جیسی آواز نکالی تھی ویسے ہی دوسرے بندروں نے بھی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ تایا کلو کا بڑا بندر اپنے دانت نکال کر آواز نکالتا اور اس کے جواب میں کلو تایا کے آگے پیچھے جو بندر تھے ویسی ہی آوازیں نکالتے تھے ۔ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا اور مزا بھی آ رہا تھا ۔ادھر گردھاری بھی حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ اس کا ہاتھ ابھی تک اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔ بڑے ابا اور میرے ابا بھی حیرت سے بندروںکا تماشا دیکھ رہے تھے ۔ سب چپ تھے اور کانوں میں بس بندروں کی ہی آوازیں پڑ رہی تھیں ۔ پھر جیسے گردھاری کو ہوش آگیا اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر بندروں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔٬٬ جے ہنومان جی کی ۔ ۔ جے ہو ۔ ۔ ہنومان جی کی ۔،، اور اس کے ساتھ ہی اس نے پھر منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کردیا ۔ وہ کیا پڑھ رہا تھا یہ تو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا بس اس کے بڑ بڑانے کی آواز سنائی دے رہی تھی جس پر تائی خیرن نے چلا کر کہا تھا کہ ۔٬٬ ارے یہ حرامزادہ پھر منتر پڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ہائے اللہ اب کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ کہیں ہمارے مردوں کو کچھ ہو نہ جائے ۔،،
٬٬ نہیں اماں جی کچھ نہیں ہوگا ۔ ۔۔ ہمارے ساتھ اللہ میاں ہیں ۔ ۔۔ یہ ہندو تو کافر ہیں ان کا کام ہی منتر جنتر ہے ۔،، بھابی محمودن نے جواب دیا تھا
ابھی گردھاری منتر ہی پڑھ رہا تھا کہ کلو تایا نے زمین پر پڑا ہوا ایک پتھر اٹھایا ۔ ۔ ۔ بڑے بندر نے بھی کلو تایا کی نقل میں زمین سے ایک اور پتھر اٹھا لیا ۔ ۔ ۔ کلو تایا نے یہ دیکھ کر بندر کی سی آواز میں کچھ کہا تو بڑا بندر اچھل اچھل کر چیخنے اور کھو کھوں ۔۔ ۔ کھاں کرنے لگا ۔ ۔ ۔ اس کا ایسا کرنا تھا کہ دوسرے بندروں نے بھی ویسی ہی آوازیں نکالیں اور زمین پر پڑے ہوئے ادھر ادھر سے پتھر اپنے ہاتھوں میں اٹھا لئے۔۔ ۔ ۔ کلو تایا گردھاری پر چیخے ۔٬٬ دیکھ گردھاری ۔ ۔۔ میں تجھے ایک موقع دے رہا ہوں ۔ ۔ ۔ تو یہاں سے فوراً اڑن چھو ہو جا ۔ ۔ ۔ اگر نہیں گیا تو پھر تیری خیر نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ تیرے ساتھ مندر میں۔ ۔ میں نے کچھ وقت گزارا ہے اس کا خیال کر رہا ہوں ۔ ۔ ورنہ تجھے اتنا بھی وقت نہیں دیتا۔،،
گردھاری زور سے ہنسا ۔ ۔ ۔ وہ تھوڑی دیر کو رکا اور پھر ہنسا ۔٬ ابے کلوے ۔ ۔ ۔ کیا تو گھاس کھا گیا ہے جو گردھاری پر دھونس جما رہا ہے ۔ ۔ ۔ سارا گڑگاﺅں مجھے مانتا اور مجھ سے ڈرتا ہے ۔ ۔ ۔ تو یہ بات اچھی طرح جانتا ہے ۔،، وہ یہ کہتے کہتے رک گیا اور پھر گرجدار آواز میں بولا ۔ ٬٬ چل ۔ ۔ ۔ میں بات ختم کرتا ہوں ۔۔ ۔ تو حویلی کے اندر سے پرساد کو نکال کے باہر لے آ ۔ ۔۔ میں اپنے سنکھوں کے ساتھ چپ چاپ چلا جاﺅں گا ۔ ۔ ۔ مجھے پنڈت گوکل رام نے بھی یہی اچھا دی تھی اسی کا پالن کر رہا ہوں میں ۔۔ ۔ جا اندر سے پرساد کو لے آ ۔ ۔ ۔ ورنہ مجھے اندر جانا ہوگا ۔ ۔ ۔کھون کھرابہ ہوگا۔،، گردھاری دھمکی دینے کے بعد بڑے فخر سے کلو تایا کو دیکھنے لگا ۔ پھر اس نے باری باری بڑے ابا۔ ۔ ۔ اور میرے ابا کی طرف دیکھا جو ابھی تک خاموش کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
٬٬بس بس ۔ ۔ ۔ حد سے آگے مت بڑھ گردھاری۔ ۔ ۔ بہت ہو گیا ۔ ۔ ۔ لے سنبھل اب میری باری ہے۔،، کلو تایا چیخ کر بولے ، اور فوراً ہی انہوں نے اپنے منہ سے بندر کی آواز نکالی اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا بڑا سا پتھر گردھاری کی طرف اچھال دیا ۔ کلو تایا کے ایسا کرنے کی دیر تھی کہ بڑے بندر نے بھی ایسا ہی کیا اور اپنے ہاتھ میں جو پتھر لیا ہوا تھا وہ گردھاری کی طرف اچھال دیا۔بڑے بندر نے اس کے ساتھ ہی اپنے منہ سے چیخ نکالی اور کھوں ۔ ۔ کھوں۔ ۔ ۔ کھاں کرنے لگا ۔ بس پھر کیا تھا آس پاس جتنے بندر تھے انہوں نے بھی چیخنا شروع کیا اور اپنے ہاتھوں میں جو پتھر اٹھائے ہوئے تھے وہ گردھاری اور اس کے ساتھیوں کی طرف پھینکنا شروع کر دئے۔گردھاری بار بار ہاتھ جوڑ کر جے ہنومان جی ۔ ۔ جے ہنومان جی کہہ رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی وہ اور اس کے ساتھی اپنے آپ کو پتھروں سے بچا رہے تھے ۔یہ سب کچھ اس تیزی سے ہو رہا تھا کہ گردھاری اور اس کے ساتھیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا ۔بڑے ابا اور میرے ابا ایک طرف ہو گئے تھے تاکہ انہیں کوئی پتھر نہ لگ سکے ۔ لیکن گردھاری اور اس کے ساتھی نہیں بچ سکے۔ سارے بندر زمین سے پتھر اٹھاتے اور گردھاری اور اس کے ساتھیوں کی طرف تاک کر پھینک دیتے۔اسی وقت گردھاری زور سے چیخا ٬٬ ہے بھگوان مر گیو ۔،، ایک بڑا سا پتھر گردھاری کے گنجے سر پر لگا تھا اور خون کا فوارہ سا پھوٹ نکلا تھا۔ اس کے ہاتھ سے ترشول چھوٹ کر زمین پر گر پڑا تھا اور اب وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے زمیں پر جھکا ہوا درد سے کراہ رہا تھا ۔ اس کے کچھ ساتھیوں کو بھی پتھر لگے تھے جن سے انہیں چوٹ آئی تھی اور وہ بھی درد سے چیخ رہے تھے ۔ ہے بھگوان ۔ ۔ ۔ ہے بھگوان ۔ ۔ ۔
یہ سب کچھ ایک تماشا سا لگ رہا تھا ۔ تمام عورتیں بھی چھت سے جھانکتے ہوئے یہ تماشا دیکھ رہی تھیں ۔ کلو تایا بھی ان بندروں کے بیچ سے نکل کر ایک طرف ہو گئے تھے اور اپنے منہ سے مسلسل کھوں ۔ ۔ کھاں کی آوازیں نکال رہے تھے ۔ بندروں کے چیخنے چلانے اور گردھاری اور اس کے ساتھیوں کے درد سے کراہنے کی وجہ سے ہر طرف ایک شور سا مچا ہوا تھا ۔ پھر یہ ہوا کہ گردھاری اور اس کے ساتھیوں نے پیچھے کی طرف ہٹنا شروع کر دیا مگر بندر بھی ان کی طرف آگے بڑھ رہے تھے ۔ گردھاری نے یہ سب دیکھتے ہوئے چیخ کر اپنے ساتھیوں سے کہا ۔٬٬ بھاگ لو یہاں سے جلدی ۔ ۔ ہنومان جی ناراج ہو گئے ہیں ۔ ۔ بھاگو مندر کی طرف ۔ ۔ ۔ پنڈت گوکل رام خود ان سے نمٹ لے گا ۔ ،،
دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب بھاگ چکے تھے ۔ اب وہاں صرف بڑے ابا ، میرے ابا اور کلو تایا رہ گئے تھے ۔ کچھ بندر ابھی تک چیخ اور اچھل کود رہے تھے ۔ بڑا بندر خاموش اور تایا کلو کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ کلو تایا نے کچھ اشارا کیا تو وہ اچھل کر ان کے کندھے پر بیٹھ گیا ۔ انہوں نے بندر کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اوراس کے گالوں کو چوم لیا ۔
٬٬ چھی ۔ ۔ ۔ چاچی جی ۔ ۔ کلو تایا کتنے گندے ہیں کہ بندر کا منہ چوم رہے ہیں۔،، محمودن بھابی نے قریب کھڑی ہوئی تائی خیرن سے کہا۔ جس پر اندھی تائی کو پھر غصہ آگیا اور وہ ہکلاتے ہوئے بولیں ۔ ۔ ۔ ٬٬ اپنی ۔ ۔ زبان ۔ ۔ کو سنبھال لے محمودن ۔ ۔ ۔بس ۔ ۔ مجھے مت چھیڑ ۔ ۔ خبردار جو میرے کھسم کو گندا کہا ۔ ۔ تو ۔ ۔ ہاں ۔،،
اب جیسے سب کچھ ختم ہو چکا تھا ۔ تھوڑی دیرپہلے جو بندروں کا تماشا تھا وہ نہیں تھا اور عورتیں بھی نیچے اتر آئی تھی ۔ داداکے پاس بڑے ابا اور میرے ابا کھڑے ہوئے تھے اور فاروق بھائی اور اسلام بھائی بھی ایک طرف خاموش کھڑے تھے۔ میں بھی عورتوں والے کمرے میں دروازے کے پاس جا کھڑا ہوا تھا۔ اماں ے میرا بازوپکڑا ہوا تھا ۔ ساری عورتیں ڈری اور سہمی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ یہ کیا ہو گیا بدر الدین۔ ۔ ۔ یہ کیا ہوگیا ۔ ۔ ۔ یہ کلو نے کیا کردیا۔ ۔ ۔ بھڑوں کے چھتّے کو چھیڑ دیا ہے اس نے ۔ ۔ یا الٰہی تو رحم کرنا مسلمانوں پر ۔ ۔ یا اللہ رحم۔،، دادا ابا سرجھکائے بار بار گردن ہلا ہلا کر یہی کہے جا رہے تھے۔ ۔ ۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ سب ایک دوسرے کو باری باری دیکھ رہے تھے اور سب نے چپ سادھ رکھی تھی ۔
دادا کی آواز سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ابھی رو پڑیں گے۔انہوں نے اپنا سر اوپراٹھایا اور بڑے ابا سے بولے ۔٬٬ کہاں ہے یہ مردود کلو۔ ۔ ۔ بلا کے لاﺅ اسے ۔ ۔ ۔ ہماری ہڈی پسلی تو بعد میں ٹوٹے گی پہلے میں اس خبیث کو جہنم میں پہنچا دوں ۔ ۔ آج میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔ ۔ ۔ اس نے اور اس کے بندروں نے ہم پر وہ قیامت ڈھائی ہے کہ جس کا کوئی توڑ ہی نہیں ہے ۔،، یہ کہتے کہتے وہ تقریباً رو پڑے اور چیخ کر بولے ۔٬٬اب جو ہوگا مجھے معلوم ہے ۔ ۔ ۔ میں ہندوﺅں کی نسلوں سے واقف ہوں۔ ۔ ۔ بدر الدین بڑا غضب ہو گیا ۔ ۔ ۔ یہ کیا ہوگیا بدرالدین ۔ ۔ کیا ہوگیا ۔،،
٬٬ ابا ۔ ۔ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا ۔ ۔ اب ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کیا کرنا ہے ۔،، میرے ابا بولے ۔ دادا نے ان کی طرف دیکھااور گردن ہلاتے ہوئے کہنے لگے ۔٬ ٬ہاں فخرو ۔ ۔ تو ٹھیک کہتا ہے بیٹا ۔ ۔ ۔ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا ۔ ۔ اب ہمیں جلدی سے کچھ کرنا چاہئے ۔ ۔ جلدی سے ۔ ۔ ۔
دیکھتے ہی دیکھتے رات سر پر آگئی ۔ دن بھر کسی نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا ۔ میری بھوک بھی اڑ گئی تھی مگر اماں نے زبردستی صبح کا بچا ہو اپراٹھے کا ٹکڑامجھے کھلا دیا تھا ۔ میں نے جیسے تیسے دو چارنوالے اپنے حلق سے اتارے۔ ابا تو پہلے ہی دادا کے کمرے میں تھے۔وہاں سب لوگ جمع تھے اور بڑی بیٹھک لگنے والی تھی۔اس لئے اماں نے مجھے پراٹھا کھلا کر گود میں بھرا ور وہ بھی مجھے لئے داداکے کمرے کے برابر بنے ہوئے عورتوں کے کمرے میں گھس گئیں۔ وہاں سب عورتیں ]پہلے ہی جمع تھیں اور ان میں کھسر پسر ہو رہی تھی لیکن مجھے اس بات سے دلچسپی نہیں تھی میں تو یہ جاننا چاہتا تھا کہ دادا نے جو بڑی بیٹھک لگائی ہے اس میں کیا ہوگا ۔مجھے پتہ تھا کہ ایک بار پہلے بھی جب دسہرے پر گاﺅں میں بلوائیوں نے دنگا کیا تھا تو دادا نے بڑی بیٹھک بلائی تھی ، اس میں گاﺅں کے کچھ اور لوگ بھی تھے مگر یہ بیٹھک گھر گھر والوں کی ہونے والی تھی ۔ دادا جو بڑی دیر سے سر جھکائے بیٹھے ہوئے تھے ، انہون نے سر اٹھا کر سب مردوں کی طرف باری باری دیکھا اورپھر میرے ابا سے بولے ۔٬٬ فخرو ۔ ۔ ضیاءالدین کو میرے پاس لے کر آ۔،،
٬٬ ابا ۔ ۔ بڑوں کی بیٹھک میں اس کا کیا کام۔ ۔ ۔ وہ بچہ ہے ۔ ۔ یہ ہم بڑوں کی باتیں ہیں ۔ ۔ اس کے ذہن پر کیا اثر پڑے گا ۔،، ابا نے ڈرتے ڈرتے کہا
٬٬ نہیں وہ بچہ ضرور ہے لیکن مجھے معلوم ہے وہ کیا ہے ۔،، دادا میری حمایت میں بولے تو میرا دل خوشی سے اچھل پڑا۔ میں تو پہلے ہی چاہ رہا تھا کہ جا کر سب کے ساتھ بیٹھک میں بیٹھوں۔ اب تو دادا نے خود ہی مجھے بلوا لیا تھا ۔اماں نے بھی دادا کی بات سن کر میرے بازو پر سے اپنے ہاتھا کا دباﺅ کم کر دیا تھا ۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ دادا کا کہنا سنتے ہی ابا عورتوں کے کمرے میں آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر دادا کے پاس لے گئے ۔ دادا نے فورا! مجھے اپنی گود میں بھرلیا اور میرے گالوں کو چوم کر میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔
٬٬ یار کوئی سرائے سے میرا جی کو بلا لاتا تو اچھا ہوتا۔ وہ میرا بچپن کا یار ہے اور میرے ہر اچھے برے میں ساتھ رہا ہے۔،، دادا نے باری باری سب کی طرف دیکھا اور بولے۔٬٬ کیا خیال ہے میرا کو بلواﺅں یا نہیں۔،،
٬٬ ابا آپ اگر کہتے ہو تو میں بلا کر لے آﺅں میرا جی کو ۔ ۔ اور کون جائے گا اس وقت ان کے پاس۔،، بدرالدین ابا نے کہا
©©©٬٬ نہیں ۔ ۔ بدرو تو نہیں جائے گا ۔ ۔ یہیں رہے گا ۔ ۔ ۔ جیسے ہی بٹھک ختم ہوگی تجھے تیاری کرنا ہے دلی جانے کی ۔،،
٬٬ ابا ۔ ۔ کیا اسی وقت ؟،،۔ بڑے ابا نے پوچھا
٬٬ ہاں بیٹھک کے بعد ۔ ۔ ۔ آدھی رات کو جیسلمیر ایکسپریس آئے گی ۔۔ ۔ ۔ تجھے ایکسپریس سے دلی جانا ہے ۔ ۔ ۔ اب تیرا یہاں رہنا جان کو جوکھم میں ڈالنا ہے ۔،، دادا نے کہا ۔ ایک بار پھر خاموشی چھا گئی ۔ ۔ ۔ اور تھوڑی دیر بعد حویلی کے دروازے پر کسی نے آواز لگائی ۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ دادا سرجو ۔،،
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 48

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے