سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 48

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 48

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

قسط نمبر 48

جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز بھی کچھ اسی انداز کا تھا جیسا کہ عالمی ڈائجسٹ کا آغاز یعنی اقبال صاحب نے معراج صاحب کے ساتھ کچھ اس نوعیت کی پارٹنر شپ کی تھی کہ سرمایہ اور انتظامی امور معراج صاحب کے ذمے جب کہ ادارتی ذمے داریاں اقبال صاحب کا حصہ لیکن دنیا کی روایت یہی ہے کہ جو سرمایہ لگاتا ہے، وہی مالک ٹھہرتا ہے اور پھر نتیجے کے طور پر فریق ثانی اپنی کمزور پوزیشن کی وجہ سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہوتا ہے۔

جاسوسی ڈائجسٹ ابتدا ہی سے کامیابیوں کے زینے چڑھنے لگا تھا، دیگر لکھنے والے بھی اس کی طرف متوجہ ہورہے تھے یا ان سے رابطہ کیا جارہا تھا، بقول ایچ اقبال، وہ معراج صاحب کو ترجمہ کہانیوں کے لیے اثر نعمانی صاحب کے پاس لے گئے، نعمانی صاحب پرانے مترجم تھے اور بہت سی انگریزی کہانیوں کا ترجمہ کرچکے تھے جو ناول کی شکل میں شائع ہوتی رہی تھیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ معراج صاحب اور نعمانی صاحب کے درمیان معاوضے کے سلسلے میں خاصی بحث و تکرار ہوئی، شاید نعمانی صاحب کا مطالبہ ڈھائی روپے فی صفحہ تھا اور معراج صاحب 2 روپے سے آگے نہیں بڑھ رہے تھے، بہر حال کسی طرح معاملہ طے ہوگیا اور اثر نعمانی صاحب بھی ادارے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے مصروف کار ہوئے اور تقریباً اپنی زندگی کے آخری دنوں تک ادارے سے وابستہ رہے، یہ ایک طویل وابستگی تھی، ہماری بھی ان سے واقفیت رہی ، وہ بہت ہی شریف النفس ، دھیمے اور نرم لہجے میں گفتگو کرنے والے انسان تھے، آواز بھی خاصی باریک تھی،قد چھوٹا تھا لیکن بھاری بھرکم نظر آتے تھے، ان کی رہائش ناظم آباد میں تھی، ہم نے انھیں پہلے بھی دیکھا تھا لیکن ہم جانتے نہیں تھے کہ وہ کون ہیں؟ناظم آباد میں ہماری بھی رہائش رہی اور لڑکپن وہیں گزرا، وہ ایسی عمر تھی جب پیدل ہی گھومنا پھرنا ہوتا تھا، ان دنوں اثر نعمانی صاحب ناظم آباد بڑا میدان میں ریلوے پھاٹک کے قریب ایک دکان میں بیٹھا کرتے تھے اور ہم اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ آخر اس دکان میں قابل فروخت اشیا کیا ہیں جو نظر نہیں آتیں، پوری دکان میں ایک ٹیبل اور شاید دو تین کرسیوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا، نعمانی صاحب تنہا بیٹھے سرجھکاکر لکھنے میں مصروف نظر آتے تھے اور یہی بات ہمارے لیے حیرانی کا باعث تھی، بعد میں جب ان سے پہلی ملاقات جاسوسی ڈائجسٹ کے دفتر میں ہوئی تو ہمیں معلوم ہوسکا کہ نعمانی صاحب اس دکان میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے۔

٭٭

اثر نعمانی صاحب کا تعلق دہلی کے بقائی گھرانے سے تھا، ان کے ایک بھائی گرومندر پر باقاعدہ مطب کیا کرتے تھے لیکن شاید ان کا اپنے بھائی سے زیادہ ربط و ضبط نہیں تھا، اپنی ذات کے حوالے سے یا زندگی کے حوالے سے ہم نے انھیں کبھی کھل کر گفتگو کرتے نہیں دیکھا، ممکن ہے اس کا سبب یہ ہو کہ ہم ان سے عمر میں بہت چھوٹے تھے اور وہ اپنے چھوٹوں ، دوسرے معنوں میں برخورداروں سے بے تکلف ہونا پسند نہ کرتے ہوں، ہمیشہ ان سے گفتگو کہانی کی حد تک رہی، زبان و بیان پر انھیں عبور تھا، تحریر میں بڑی روانی اور سلاست تھی، ترجمے کے علاوہ اثر نعمانی صاحب نے طبع زاد کہانیاں بھی بے تحاشا لکھیں، خاص طور سے سرورق کے رنگوں میں سے ایک رنگ انہی کی ذمے داری رہی۔

جاسوسی ڈائجسٹ کے ابتدائی مصنفین میں ایچ اقبال کے علاوہ اقلیم علیم ، ایم اے راحت، شکیل انجم، اقبال پاریکھ وغیرہ نمایاں رہے، ایچ اقبال صاحب ابتدائی مرحلے ہی میں یعنی پہلے سال ہی میں علیحدہ ہوگئے،اس کی بنیادی وجہ تو یہی تھی کہ اقبال صاحب اور معراج صاحب کے مزاجوں میں بڑا فرق تھا اور دوسری وجہ وہی ہے جو خود اقبال صاحب نے بیان کی، وہ کسی ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے اور جب انھیں یہ احساس ہوا کہ میری پوزیشن یہاں وہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے تھی تو انھوں نے علیحدگی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔

بقول اقبال صاحب ایک بار جب وہ دفتر پہنچے تو دیکھا کہ پرچا تقریباً تیار ہے لیکن پہلی کاپی موجود نہیں ہے یا ان کے سامنے نہیں لائی گئی، وہ سمجھ گئے کہ یقیناً ان کا نام ادارتی صفحے سے حذف کردیا گیا ہے، چناں چہ انھوں نے معراج صاحب سے کہا کہ کچھ چائے کا موڈ ہورہا ہے، آو، کیفے جارج پر چلتے ہیں، اس زمانے میں کیفے جارج کے پیٹس بہت مشہور تھے، چناں چہ دونوں کیفے جارج پہنچ گئے اور انھوں نے معراج صاحب سے کہا کہ میں محسوس کر رہا ہوں، دفتر کی فضا تبدیل ہوچکی ہے لہٰذا کسی بحث کے بغیر ہمیں اب الگ ہوجانا چاہیے، معراج صاحب نے بھی اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کی اور وہ خاموشی سے علیحدہ ہوگئے۔

جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستگی سے قبل وہ باقاعدگی سے ناول لکھ رہے تھے جس سے معقول آمدنی ہورہی تھی لیکن اب ان کے ذہن میں اپنا پرچا نکالنے کا خیال آیا ، نئے پرچے کے لیے انھوں نے جو نام سوچا ، وہ ”دستک“ تھا، اس زمانے میں دستک کے نام سے سرور سکھیرا صاحب ایک پرچا نکالا کرتے تھے، سیاسی وجوہات کی بنیاد پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ پرچا بند کردیا تھا، دستک اپنی نوعیت کا ایک منفرد میگزین رہا تھا جس نے اردو صحافت میں خاصے ہنگامے برپا کیے تھے۔

نیا پرچا نکالنے کے لیے اقبال صاحب نے بھی اپنے بعض قریبی احباب سے مشورہ کیا اور تیاریاں شروع کردیں،اس سلسلے میں ایجنٹوں سے رابطہ بھی ضروری ہوتا ہے، حیدرآبادکے ایجنٹ شکیل عادل زادہ کے زیادہ معتقد تھے ، ان سے ملاقات کے لیے اقبال صاحب نے شکیل صاحب کو ساتھ لیا اور حیدرآباد روانہ ہوگئے، راستے میں پرچے کا نام زیر بحث آیا تو شکیل صاحب نے دستک پر اعتراض کیا اور نیا نام ”الف لیلہ“ تجویز کیا، اقبال صاحب نے بھی اسے قبول کرلیا، گویا کراچی سے نکلنے والے کامیاب ڈائجسٹوں میں سے تیسرا نام بھی شکیل صاحب ہی کا تجویز کردہ تھا۔

الف لیلہ کا آغاز ہوا تو ہمارے خیال میں اس پرچے کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے والی واحد شے خود ایچ اقبال کا نام تھا، جاسوسی ناول نگاری اور پھر کچھ عرصے جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستگی ان کا طرئہ امتیاز تھا، ہم نے خود ان کے نام کی وجہ سے جاسوسی ڈائجسٹ اور بعد میں الف لیلہ پڑھنا شروع کیا تھا۔

 اگرچہ کہانیاں لکھنے والے اس زمانے میں کم نہیں تھے لیکن لکھنے کا بہت زیادہ بوجھ خود اقبال صاحب نے اٹھالیا تھا اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی،اسی لیے ہمارا خیال ہے کہ کسی اچھے مصنف کو ایڈیٹر و پبلشر نہیں بننا چاہیے، اقبال صاحب کے بقول ان دنوں وہ ڈائجسٹ کے تقریباً سو صفحے ماہانہ لکھ رہے تھے، یہ بہت زیادہ ہے، اتنا زیادہ لکھنے سے تخلیقی عمل بھی متاثر ہوتا ہے اور مصنف کی صحت بھی،اس زمانے میں مصنفین کا کوئی قحط نہیں تھا، اقبال صاحب کو اتنا زیادہ تحریری بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا مگر مزاجی ٹیڑھ کا کوئی علاج نہیں ہوتا، یہی ٹیڑھ شکیل عادل زادہ کے لیے مسئلہ بنی اور بالآخر سب رنگ بند ہوگیا، اقبال صاحب بھی شاید اسی کا شکار ہوئے ، وہ شاید دوسرے مصنفین سے آسانی سے مطمئن نہیں ہوتے تھے، جب سب رنگ میں الیاس سیتا پوری کی تاریخی کہانی مقبول ہوئی تو ڈائجسٹوں میں تاریخی کہانی کا رواج شروع ہوا، اتفاق سے کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ الیاس صاحب نے سب رنگ سے علیحدگی اختیار کی اور دیگر پبلشرز ان کی طرف متوجہ ہوئے، ایچ اقبال صاحب نے بھی ان سے کہانی لکھوائی مگر بقول ان کے خود انھیں تاریخی کہانی لکھنے کا شوق پیدا ہوگیا، چناں چہ فوری طور پر تاریخی کُتب کی خریداری کی گئی اور پھر یہ ذمے داری بھی انھوں نے اپنے سر لے لی۔

الف لیلہ نے صحیح معنوں میں مقبولیت کا سفر صبیحہ بانو کی ”چھلاوا“ سے شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے الف لیلہ کی اشاعت پچاس ہزار کا ہدف عبور کرنے لگی، اس زمانے میں یہ بڑی زبردست کامیابی تھی مگر اس تمام کامیابی کا بہت زیادہ بوجھ تنہا اقبال صاحب کے کاندھوں پر تھا، اگرچہ ان کے پاس معاونین کی ایک معقول ٹیم موجود تھی، شمیم نوید بھی الف لیلہ سے وابستہ ہوگئے تھے اور دیگر مصنفین و مترجمین بھی الف لیلہ کے لیے کام کر رہے تھے مگر پرچے کا بہت زیادہ تحریری بوجھ خود انھوں نے اٹھا رکھا تھا، اس کا نتیجہ بالآخر ایک روز نروس بریک ڈاون کی صورت میں نکلا ۔

بقول اقبال صاحب ایک روز وہ بے ہوش ہوگئے، ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو اس نے لکھنے پڑھنے پر پابندی لگادی اور مکمل آرام کا مشورہ دیا، مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا پڑا اور اقبال صاحب تمام ذمے داریاں اپنے دفتر کے ساتھیوں پر ڈال کر خود آرام اور تفریح کی غرض سے سیر سپاٹے کے لیے نکل پڑے، انہی دنوں وہ انڈیا بھی گئے جہاں اپنی پسندیدہ شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں لتا منگیشکر سرفہرست تھیں، قصہ مختصر یہ کہ ایک طویل دورے کے بعد جب واپسی ہوئی تو الف لیلہ کی اشاعت گِر چکی تھی اور اقبال صاحب یہ سوچ رہے تھے یہ تو وہی جگہ ہے ، گزرے تھے ہم جہاں سے۔

ہمارا ارادہ ہے کہ اقبال صاحب سے وقتاً فوقتاً ملاقات کے دوران میں اس زمانے کی سنہری یادیں ایک انٹرویو کی شکل میں ریکارڈ کی جائیں، اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ہم نے کوشش بھی کی لیکن چوں کہ ہم ریکارڈنگ وغیرہ کے طریقہ ءکار سے پوری طرح واقف نہیں ہیں لہٰذا یہ کوشش زیادہ کامیاب نہیں رہی مگر ان شاءاللہ بشرط زندگی یہ مہم ضرور سر انجام دینی ہے، خاص طور پر ان کا انڈیا کا سفر بڑا یادگار تھا۔

اقبال صاحب کی غیر موجودگی میں چھلاوا کی آخری دو قسطیں بھی شمیم نوید صاحب نے لکھیں اور پھر انھوں نے خود ”ہمزاد“ بھی شروع کی لیکن پرچا سنبھل نہیں سکا اور صورت حال روز بہ روز بد سے بدتر ہوتی چلی گئیں، انہی دنوں انھیں ایک نئے تجربے کا خیال آیا ، شکیل عادل زادہ ہی کے تعاون سے انھوں نے ایک نیا پرچا ”نئی نسلیں“ خرید لیا، اس کا ڈکلیریشن ذکاءالرحمن صاحب کے پاس تھا، شاید بہت سے لوگ ذکاءالرحمن صاحب سے واقف نہ ہوں، جدید اردو ادب میں ان کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے، وہ اس بات کے دعوے دار تھے کہ پہلی ”نثری نظم“ انھوں نے لکھی تھی اور اس طرح وہ خود کو نثری نظم کا بانی بھی کہتے تھے، کراچی کے ادبی حلقوں میں اپنے جدید ادبی نظریات کے سبب ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے، انھوں نے نئی نسلیں کے نام سے ڈکلیریشن لے کر ایک ادبی پرچا نکالا تھا، شاید اس کے مدیران میں عبیداللہ علیم بھی شامل تھے، ایک بار ہمیں یاد ہے انور سن رائے نے بھی اس پرچے سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا تھا لیکن ہم نے یہ پرچا کبھی نہیں دیکھا یا شاید اس کا کوئی ایک آدھ ہی شمارہ شائع ہوسکا، بہر حال ایچ اقبال صاحب نے یہ پرچا لے لیا اور اسے ڈائجسٹ سائز کے برخلاف ذرا بڑے سائز میں نکالنے کا پروگرام بنایا، یہ غالباً 1982 ءیا 83 ءکی بات ہے، جب ہم نے سنا کہ اقبال صاحب نئی نسلیں نکالنے کی تیاری کر رہے ہیں ، جمال احسانی بھی اس مہم جوئی میں ان کے ہمراہ تھے۔

نئی نسلیں ڈائجسٹ سائز کے برخلاف ”زیب النسا یا ”شمع“ وغیرہ کے سائز میں شائع ہوا لیکن اپنے مواد اور اور ہیئت میں ایک مکمل ڈائجسٹ ہی تھا، پہلے شمارے میں خان آصف کا تصوف پر ایک مضمون بھی شامل تھا، بلاشبہ یہ نیا تجربہ ایک اچھی اور جداگانہ کوشش تھی، اقبال صاحب کے قارئین نے اسے پسند کیا لیکن بدقسمتی سے وقت اور زمانہ بدل چکا تھا، پاکستان میں جنرل ضیاءالحق حکم ران تھے اور ان کے اوپننگ بیٹسمین کے نام سے مشہور راجا ظفر الحق وزیراطلاعات تھے، فلم انڈسٹری کے علاوہ ڈائجسٹ پرچوں پر بھی ان کا نادر شاہی کوڑا برس رہا تھا، سنسر کی سختیاں عروج پر تھیں اور بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈکلیریشن منسوخ ہورہے تھے، جاسوسی ڈائجسٹ کا ڈکلیریشن بھی انہی دنوں منسوخ ہوا تھا، ہم یہ قصہ پہلے بیان کرچکے ہیں، چناں چہ نئی نسلیں بھی اس کی زد میں آگیا لیکن پہلی مرتبہ اقبال صاحب کے ذاتی تعلقات کام آئے، اس زمانے میں سیکریٹری اطلاعات کراچی میں احمد مقصود حمیدی تھے جو انور مقصود صاحب کے بڑے بھائی تھے، اقبال صاحب سے ان کے مراسم بہت اچھے تھے، چناں چہ کسی نہ کسی طور ڈکلیریشن بحال ہوا لیکن پھر تیسرے پرچے میں ایک نہایت ہی معمولی بات پر فحش نگاری کا الزام لگا اور ڈکلیریشن منسوخ ہوگیا، کہانی میں کسی جگہ لکھا گیا تھا ”اس نے ننگے پاوں کمرے میں قدم رکھا“ قدم رکھنے والی کوئی لڑکی تھی، چناں چہ لفظ ”ننگے“ کا استعمال فحاشی میں شمار ہوا، کراچی میں اس دور میں ایک انفارمیشن ڈائریکٹر غنوی صاحب ہوا کرتے تھے، ان کے کھاتے میں ایسے بہت سے کارنامے رہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اس بار ڈکلریشن کی بحالی ممکن نہ ہوسکی اور نئی نسلیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا،الف لیلہ اقبال صاحب فروخت کرچکے تھے، کراچی ہی کے ایک صحافی اور کہانی کار یعقوب جمیل نے الف لیلہ لے لیا تھا اور اسے بعد میں نکالنے کی کوشش بھی کی جس میں وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکے،بہت بعد میں شاید 90ءکی دہائی میں، الف لیلہ کا ڈکلیریشن کراچی ہی کے نجم الدین شیخ صاحب کے پاس آگیا اور ہمیں یاد ہے کہ ہمارے دو بہت عزیز دوست جو انفارمیشن میں ڈائریکٹر تھے،ہمارے پاس آئے ، وہ درپردہ رہتے ہوئے الف لیلہ شروع کرنا چاہتے تھے، اس سلسلے میں ہماری درپردہ معاونت چاہتے تھے، ہم ان دنوں جاسوسی ڈائجسٹ کے علاوہ سرگزشت کی ذمے داری کا بھاری بوجھ سر پر لیے بیٹھے تھے، چناں چہ معذرت کرلی پھر معلوم ہوا کہ انھوں نے اقبال پاریکھ سے رابطہ کیا اور الف لیلہ اقبال پاریکھ کی ادارت میں نکلنا شروع ہوا لیکن بہر حال کامیاب نہ ہوسکا۔

ایچ اقبال صاحب کی اشاعتی سرگرمیاں ختم ہوئیں تو تحریری سرگرمیوں کے لیے نئے میدان کی تلاش شروع ہوئی اور انھوں نے اس حوالے سے پہلا رابطہ معراج صاحب ہی سے کیا اور انھیں بتایا کہ اگر میری ضرورت ہے تو میں حاضر ہوں، بہت پہلے جب الف لیلہ عروج پر تھا تو معراج صاحب نے بھی ایک خط کے ذریعے ان سے رابطہ کیا تھا اور تحریری تعاون کی درخواست کی تھی کیوں کہ ان دنوں وہ ایم اے راحت کی طرف سے پریشان تھے، اقبال صاحب خود تو ان کی کوئی مدد نہ کرسکے البتہ شمیم نوید کو معراج صاحب کے پاس لے گئے کہ یہ تحریری طور پر آپ کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، شمیم نوید نے کچھ عرصہ جاسوسی سسپنس کے لیے لکھا مگر پھر ایک بات پر ایسی تلخی پیدا ہوئی کہ معراج صاحب نے انھیں ہمیشہ کے لیے اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا، یہ بھی ایک بڑا معمولی سا واقعہ تھا جو باہمی رنجش کا باعث بنا، بنیادی مسئلہ محض انا کا تھا۔

اس زمانے میں معراج صاحب اپنے مخصوص کمرے تک محدود ہوگئے تھے اور ان سے ملاقات کے طور طریقے بھی مقرر ہوگئے تھے، شمیم صاحب شاید ان باتوں کے عادی نہیں تھے، وہ معراج صاحب سے ملنے آئے تو انھیں انتظار کے لیے بٹھادیا گیا، بس اس بات پر وہ برہم ہوئے اور معراج صاحب کے پی اے سے خاصی گرما گرمی کرکے اور معراج صاحب کے حوالے سے کچھ سخت الفاظ کہہ کر رخصت ہوگئے لیکن ایسے تمام انا پرستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وقت بڑی عجیب شے ہے، خدا معلوم کب آپ کو پھر اسی دروازے پر دستک دینا پڑے جس پر آپ لات مار کر چلے گئے تھے، چناں چہ ایسا ہی ہوا، سرگزشت کے اجرا کے بعد جب وہ ماہنامہ سچی کہانیاں سے فارغ ہوگئے تھے تو ہمارے پاس آئے اور سرگزشت کے لیے لکھنے کی فرمائش کی، ہم نے معراج صاحب سے بات کی تو وہ اس پرانے واقعے کو بھولے نہیں تھے، دوسری بات یہ کہ وہ شمیم نوید کی تحریری خشکی سے بھی بے زار تھے،ان کا خیال تھا کہ شمیم نوید کی تحریر میں کوئی چاشنی نہیں ہے، انھوں نے ہمیں ان سے کام کرانے کی اجازت تو دے دی لیکن یہی کہا کہ مجھ سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں رہے گا،تم ہی انھیں ڈیل کرنا اور پھر اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔

معراج صاحب نے ایچ اقبال صاحب کو مایوس نہیں کیا اور ان کے تحریری تعاون کی دعوت قبول کرلی، اس طرح جے ڈی پی میں دوبارہ اقبال صاحب کی کہانیاں شائع ہونے لگیں، سب سے پہلے انھیں جاسوسی ڈائجسٹ کے سرورق کی کہانی پر طبع آزمائی کی دعوت دی گئی لیکن صرف ایک کہانی سے تو گزارا نہیں ہوسکتا تھا، چناں چہ سرگزشت کی سچ بیانیاں بھی وہ لکھنے لگے، جاسوسی کے سرورق کی کہانیاں اگرچہ معاشرتی مسائل پر مبنی ہوتی تھیں لیکن ان میں جرم و سزا کا پہلو بھی نمایاں رہتا تھا، کسی کہانی میں سراغ رسی بھی ضروری ہوتی تھی اور یہ اقبال صاحب کے مزاج کے مطابق تھا لیکن جب انھوں نے سرگزشت کے لیے سچ بیانیاں لکھیں تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ آل راونڈر ہیں، افسوس کہ سرگزشت میں شائع ہونے والی کہانیاں ان کے نام سے شائع نہیں ہوئیں، ہمارا خیال ہے کہ ان کہانیوں میں بعض بڑی غیر معمولی کہانیاں بھی تھیں، خاص طور پر ایک کہانی جو مرحوم مہدی حسن صاحب کی زندگی کا سچا واقعہ تھا، بمبئی کی ایک خاتون استاد مہدی حسن کے عشق میں بری طرح گرفتار تھی، استاد کو اگر عشق تھا تو موسیقی سے تھا لیکن وہ اس خاتون کے عشق کو نظرانداز نہ کرسکے، اس طرح دونوں کے باہمی تعلقات کا ماجرا بڑا ہی دلچسپ اور دل سوز رہا، الغرض ایسی بہت سی کہانیاں سرگزشت کی سچ بیانیوں میں شائع ہوئی جو مشہور لوگوں کی زندگی کے سچے واقعات پر مشتمل تھیں۔

ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ اعجاز رسول صاحب سے ایچ اقبال صاحب کے مراسم بہت پرانے تھے لیکن ایک ملاقات میں اقبال صاحب نے بتایا کہ ایسا نہیں تھا، اعجاز رسول صاحب سے ان کے مراسم اسی دوران میں شروع ہوئے جب وہ دوبارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ ہوئے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت جلد یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کے اتنا قریب آگئے تھے کہ ہم دھوکے میں رہے اور یہی سمجھتے رہے کہ ان کے تعلقات بہت پرانے ہیں بلکہ یہ غلط فہمی بھی رہی کہ دوبارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں اقبال صاحب کی واپسی شاید اعجاز صاحب کی سفارش پر ہوئی تھی، اقبال صاحب اس کی تردید کرتے ہیں۔

اقبال صاحب سے ہمارے مراسم کی ابتدا بھی اسی دور میں شروع ہوئی اور بہت جلد تعلقات اس سطح پر پہنچ گئے کہ ہمارا آنا جانا ان کے گھر تک ہوگیا،اس کی ایک وجہ ان کا اور ہمارا مشترکہ شوق موسیقی بھی تھا لیکن اس تمام صورت حال کے باوجود ہم نے ہمیشہ محسوس کیا کہ معراج رسول اور اقبال صاحب کے درمیان ایک کھنچاو سا موجود ہے، ابتدا میں وہ ضرور دفتر آتے تو معراج صاحب سے بھی ملاقات کرتے تھے لیکن بعد میں یہ سلسلہ بالکل موقوف ہوگیا تھا اور وہ زیادہ تر دفتر آکر ہمارے کمرے تک ہی محدود رہتے تھے۔

بہت سی باتیں اب اقبال صاحب کو یاد نہیں رہتیں یا پھر انھیں یاد دلانا پڑتا ہے، جہاں تک ہماری یادداشت کا تعلق ہے، آخری واپسی کے بھی دو مرحلے ہوئے کیوں کہ درمیان میں جب انھوں نے ”پاکیشیا“ نکالا اور ایم کیو ایم کا مقدمہ لڑنا شروع کیا تو ادارہ جاسوسی سے تعلق ٹوٹ گیا تھا، پاکیشیا کے بعد ایم کیو ایم کا روزنامہ ”پرچم“ نکالنا شروع کیا اور جب پوری طرح ایم کیو ایم نوازی کے خواب سے بے دار ہوئے تو دوبارہ ادارہ جاسوسی کے لیے لکھنا شروع کیا پھر یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوا بلکہ تاحال جاری ہے، گزشتہ سال کچھ عرصے کے لیے وہ 92 نیوز سے وابستہ ہوگئے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر ایک سلسلہ وار کہانی لکھنا شروع کی تھی لیکن اب یہ سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے (جاری ہے)

جاسوسی ڈائجسٹ کا آغاز۔۔۔ ایچ اقبال۔۔ اثر نعمانی کا تذکرہ۔۔۔ جاسوسی ڈائجسٹ کے ابتدائی مصنفین ایچ اقبال ، اقلیم علیم ، ایم اے راحت، شکیل انجم، اقبال پاریکھ۔۔۔دونوں کیفے جارج۔۔ دستک سے ”الف لیلہ“۔۔۔کراچی سے نکلنے والے کامیاب ڈائجسٹوں میں سے تیسرا نام۔۔۔ ایچ اقبال اور سو صفحے۔۔۔ سفر صبیحہ بانو کی ”چھلاوا“۔۔۔نروس بریک ڈاون۔۔۔ شمیم نوید صاحب کا ذکر۔۔۔ لوگ ذکاءالرحمن صاحب اور نئی نسلیں۔۔ نئی نسلیں ڈائجسٹ سائز کے برخلاف ”زیب النسا یا ”شمع“ وغیرہ کے سائز میں۔۔۔ میں جنرل ضیاءالحق کے اوپننگ بیٹسمین راجا ظفر الحق وزیراطلاعات۔۔۔ شمیم نوید ،  معراج رسول اور انا پرستی۔۔۔ایچ اقبال، نے ”پاکیشیا“ اور پرچم ۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    عبدالحسیب زاہد

    السلام علیکم.
    آپ بہت اچھا لکھتے ہیں جناب. اک خاص قسم کی کشش اور دلچسپی ہے آپ کی تحریر میں.
    نیز آپ کی یادداشت بھی غضب کی ہے. ما شا اللہ
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ. آمین
    مجھے آپ کی اجازت درکار تھی…. یہ سب میں فیس بک پر شئیر کرنا چاہتا ہوں…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے