سر ورق / ناول / خون ریز۔۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر5

خون ریز۔۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر5

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر5

صبح میری آ نکھ کھلی تو ارم کے بیڈ روم میں لگے کلاک پر نگاہ پڑی ۔ گیارہ سے بھی اوپر کا وقت ہو گیا تھا ۔گرم پانی سے نہانے کے بعد ساری کسلمندی اُتر گئی ۔میرے لئے وراڈروب میں کپڑے تھے۔ وہاں سے لے کر پہنے اورتیار ہو کر لاﺅنج میں آ گیا ۔ میری توقع کے مطابق ارم وہیں پر موجود تھی ۔وہ اپنے فون میں محو تھی ۔ میری آ ہٹ پا کر مجھے دیکھا ، پھر فون ایک جانب رکھتے ہوئے اس نے اپنی ملازمہ کو آ واز دے دی ۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی

” تیرا ہی انتظار کر رہی تھی ، چل آ ، ناشتہ کر لیں ۔“

 ہم ٹیبل پر جا بیٹھے ۔ وہ ابھی تک فون پر مصروف تھی ۔ میں اس کے چہرے کی طرف دیکھتا جا رہا تھا ۔ وہ بلاشبہ حسین تھی ۔ اس کے حسن کا شاید ایک راز یہ بھی تھا کہ اس کا چہرہ گلابی سا تھا ۔ یوں جیسے ابھی خون پھوٹ پڑے گا ۔ رات وہ مجھے کتنی بری لگ رہی تھی لیکن ڈھلتی رات کے ساتھ وہ سارا تاثر زائل ہو گیا تھا ۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ پہلے تاثر پر کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں دے دینا چاہئے ۔ ملازمہ ناشتہ رکھنے لگی تو اس نے اپنا فون بند کر کے ایک جانب رکھ دیا ۔

میںنے ڈٹ کر ناشتہ کیا تھا ۔ پھر جیسے ہی اس نے چائے ختم کی تو میری جانب دیکھ کر بولی

”چائے پی کر آ جاﺅ ، میں باہر پورچ میں ہوں ۔“

” جانا ہے کہیں ؟“ میںنے پوچھا

”ہاں جانا ہے ۔“ اس نے کہا اور باہر کی جانب نکل گئی ۔ کچھ دیر بعد میں باہر آ یا تو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ میرے بیٹھتے ہی وہ چل پڑی ۔ وہ خاموش تھی اور اس کے چہرے پر بڑی گہری سنجیدگی تھی ۔وہ تیزی سے کار بھگاتی ہوئی نہر پر آ گئی ۔ یونیورسٹی پل سے اس نے کار علامہ اقبال ٹاﺅن کی جانب موڑ لی ۔دو بئی چوک کے ساتھ ہی مشرق کی جانب اس نے کار موڑ لی ۔ کچھ ہی دور جانے کے بعد یوں دکھائی دینے لگا جیسے کہ کوئی پرانا علاقہ ہو ۔ اس کے ارد گرد تو اچھے خاصے گھر تھے ۔ لیکن جوں جوں آ گے بڑھتے جارہے تھے تو مجھے لگا یہ کوئی پرانا شہر ہے ۔ میں لاہور میں رہا تھا لیکن اس علاقے میں آ نے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا ۔وہ تنگ گلیاں ، وہ ترقیاتی کاموں کی منتظر سڑکیں ، وہی جگہ جگہ کوڑا کرکٹ تھا۔ تقریباً آ دھا کلو میٹر اندر جا کر ہم گنجان آباد علاقے میں آ گئے ۔ اس نے سڑک کے ایک جانب کار لگائی اور مجھے نیچے آنے کا اشارہ کر کے اُتر گئی ۔ سامنے ہی ایک تنگ سی گلی تھی ۔وہ اُسی تنگ گلی میں دیکھنے لگی ۔میں اس کے ساتھ ہوا تو و ہ چل دی۔ ذرا آگے جا کروہ ایک چھوٹے سے مکان کے باہر رک گئی ۔

” یہ گھر دیکھ رہے ہو ؟“ اس نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا مجھے لگا کہ وہ ابھی رو دے گی ۔ میں نے اس کے چہرے پر دیکھااور دھیمے سے کہا

” ہاں ، میرے سامنے ہے ، دیکھ رہا ہوں ۔“

” میں اس گھر میں پیدا ہو ئی تھی اور میرا تھوڑا سابچپن اسی گھر میں گزرا ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آ واز لرز رہی تھی ۔ میں خاموش رہا پھر دروازہ کھول کر اندر چلے گئی ۔ کچھ دیر بعد ایک جوان سال لڑکی نے مجھے اندر بلا لیا ۔ وہ اندر سے ایک چھوٹا سا گھر تھا ۔ذرا سا صحن ، برآمدہ اور ایک کمرہ ، ایک جانب باتھ روم اور کچن بنا ہوا تھا ۔برآمدے میں ایک ادھیڑ عمرعورت بیٹھی ہوئی سبزی بنا رہی تھی ۔ ارم اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرتی رہی ۔ کچھ دیر بعد اسے کچھ نوٹ تھمائے اور اٹھ گئی ۔ وہ خاتون چائے کا پوچھتی رہی لیکن ارم نے جانے کا کہا اور باہر کی جانب چل دی۔

ہم دوبارہ کار میں آ بیٹھے ۔میرے ذہن میں کئی سوال ابھر رہے تھے لیکن میں اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ وہ کیا کہنا چاہتی تھی اور کیا دکھانا چاہتی تھی ۔ ہم میں خاموشی تھی ۔ وہ کار ایک بازار میں لے گئی ۔ وہاں کافی رش تھا ۔ مجھے الجھن ہو رہی تھی کہ اس رش والے تنگ بازار میں کار کیوں ڈال دی ہے ۔ اس نے ایک جگہ کار روکی تو لمحہ بھر میں کئی ہارن بجنے لگے ۔

” کیوں رک گئی ہو؟“

” یہ جگہ دیکھ لو ۔“ اس نے کہا اور پھر کار بڑھا دی ۔ کچھ دیر بعد وہ رش سے نکلی اورکار گھما کر دو بئی چوک لے آ ئی ۔وہ واپس چل دی تھی ۔ بھگیوال موڑ سے نکلتے ہوئے اس نے ذراخوش کن لہجے میں پوچھا

” تم نے اب تک کوئی سوال نہیں کیا؟“

” تم خود بتا دو ، میرے پوچھنے پر بھی تم نے وہی بتانا ہے ، جو تم چاہتی ہو ۔“میں نے سکون سے کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہی پھر کہتی چلی گئی

”میرا باپ ویلڈنگ کی دوکان چلاتا تھا ۔اس نے وہ دوکان کرایے پر لی ہوئی تھی ۔ بڑی مشکل سے اس نے یہ گھر بنایا تھا ۔ میرا باپ بیمار رہنے لگا تھا۔ میں اس وقت چھ سال کی تھی ، جب میرے باپ کا سایہ میرے سر سے اٹھ گیا ۔ میں یتیم ہوگئی ۔ہمارا کوئی پرسان حال نہ رہا ۔میری ماں گھروں میں کام کرنے لگی ۔ اس کے لئے دوہرا عذاب یہ تھا کہ وہ مجھے اکیلا چھوڑ نہیں سکتی تھی اور ساتھ لے کر جاتی تو وہ لوگ ناراض ہوتے جہاں وہ کام کرتی تھی ۔“

” بہت مشکل تھا وہ ؟“ میں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا

” ہاں ، لیکن آ سانی یہ ہو گئی کہ یہ جو خاتون تم دیکھ کر آ ئے ہو ، یہ ہماری یہاں ہمسائی تھی ۔ یہ مجھے اپنے پاس رکھ لیتی تھی ۔ ماں جاتے ہوئے مجھے سکول چھوڑ جاتی ، یہ ہمسائی مجھے لے آتی ۔ مجھے کھانا کھلاتی اور میں اپنی ماں کے آ جانے تک اسی کے پاس رہتی تھی ۔وقت تھوڑا سا گزرا تو میری ماں کے سر پر ایک اور عذاب آن پڑا۔“اس نے کھوئے ہوئے دکھی لہجے میں کہا

” وہ کیا ؟“ میں نے پوچھا

” اسی علاقے کا ایک بدمعاش میری ماں پر بری نگاہ رکھنے لگا ۔وہ اکثر میری ماں کا راستہ روک لیتا ، کبھی شراب پی کر رات کو دروازے پر آ جاتا ۔محلے میں کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ اسے کچھ کہہ سکے ۔وہ میری ماں سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔میری ماں کو یہ گوارا نہ تھا ۔وہ ہر طرح سے مزاحمت کرنے لگی ۔ یہاں تک کہ ایک برس گزر گیا ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک طویل سانس لی ۔

” وہ بدمعاش مایوس ہو گیا ….؟“ میں نے تیزی سے پوچھا

” نہیں ، بلکہ وہ اسے اپنی ہتک سمجھنے لگا ۔ اس علاقے کا بدمعاش ہو کر بھی میری ماں اس سے خوف زدہ نہیں ہے ۔“

” پھر کیا ہوا ؟“ میںنے تجسس سے پوچھا

”ایک صبح میری ماں مجھے سکول چھوڑنے جا رہی تھی کہ وہ راستے میں آ گیا ۔ اس کے پاس ایک کار تھی ۔ اس نے بھرے بازار میں میری ماں کو پکڑ کر کار میں بٹھانے کی کوشش کرنے لگا ۔ اُسی جگہ پر، جہاں ابھی میں نے کار روکی تھی۔ تب اتنا رش نہیں ہوا کرتا تھا لیکن بازار تو تھا، تھوڑا تھا لیکن رش تھا ۔“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی پھر کچھ لمحوں بعد بولی ،”میری ماں مزاحمت کرنے لگی ۔ کسی بندے کی جرات نہیں ہوئی کہ اس بدمعاش کا ہاتھ روک سکے ۔یہ سب میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا ۔ میری ماں کس طرح منت سماجت کر رہی تھی ۔رو رو کر کس طرح ہلکان ہو رہی تھی ۔ اس پر کوئی مدد کے لئے نہ بڑھا ۔“ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ بھیگ گیا ۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر کہنے لگی ،”کچھ دیر تک وہ بدمعاش میری ماں کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا رہا لیکن نہ لے جا سکا۔ علی ۔! جب میں نے دو چار بار اپنی ماں کوچھڑوانا چاہا تو اس نے مجھے تھپڑ مارے ، ایک بار مجھے پکڑ کر سڑک پر پھینک دیا اور ایک بار مجھے کار میں مارا۔میں تڑپ تڑپ گئی تھی ، میرے آ نسو کسی کو نہ رُلا سکے تھے ۔ بھرے بازار میں ہم ماں بیٹی تماشہ بنی ہوئی تھیں ۔آخر کار وہ تھک کر ہمیں لے جائے بنا چلا گیا ۔ ا س کے ساتھ اس نے یہ دھمکیاں بھی لگائیں کہ اگر میری ماں نے اس کی بات نہیں مانی ، تو میری ماں کو مار دے گا ۔“

”یار یہ سب بازار میں ہوتا رہا ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا

” ہاں ، وہیں بازار میں ۔“ اس نے رندھے ہوئے گلے سے کہا

 ” پھر کیا ہوا ؟“ میںنے پوچھا

”میری ماں ڈر گئی ۔وہ یہیں علامہ اقبال ٹاﺅن میں موجود ایک گھر میں کام کرتی تھی ۔وہ مجھے سکول لے جانے کی بجائے وہیں لے گئی ۔ اس نے ایک خاتون کو اپنی مشکل بتائی ۔وہ خاتون پہلے تو سوچتی رہی پھر اس نے ہاں کر دی ۔ میں اس گھر میں بنا تنخواہ صرف تحفظ کے نام پر ملازمہ ہو گئی ۔ صرف چھ سال کی عمر میں ۔ میرا بستہ میرے ساتھ تھا ۔ ماں سارا دن کام کرتی ۔ میں بھی ا سکے ساتھ کام کرتی رہتی ۔ وہ شام کو چلی جاتی تو میں وہیں رہ جاتی ۔“

” ماں تمہیں واپس کیوں نہیں لے جاتی تھی ۔“ میں نے پوچھا

” کیونکہ وہ مجھے مرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔“ اس نے بڑے درد مند لہجے میں کہا، پھر چند لمحے رُک کر رندھے ہوئے لہجے میں بولی،” تیسرا دن تھا ، جب یہ اطلاع آ گئی کہ میری ماں قتل ہو گئی ہے ۔اس بد معاش نے میری ماں کو مار دیا تھا ۔“

کار میںخاموشی چھا گئی تھی ۔ اس نے ایک جگہ کار روک کر افسردگی سے اپنا سر سیٹ سے لگا لیا ۔ وہ چند لمحے یونہی بیٹھی رہی ۔ پھر گیئر لگا کر بولی

”میں اس گھر میں رہی ۔ واپس پلٹ کر اپنے گھر نہیں گئی ۔ محلے والوں نے میری ماں کو دفنا دیا ۔میں اپنی ماں کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکی ۔خیر ، جو ہونا تھا ، وہ ہوگیا ۔ میں اس گھر میں ملازمہ کی حیثیت سے رہ رہی تھی ۔اس گھر میں زیادہ افراد نہیں تھے ۔ ایک بوڑھی خاتون ، ایک اس کا بوڑھا شوہر ۔اس کے دو بیٹے تھے ۔ ایک وہیں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا ۔ بڑے بیٹے کا ایک ہی بیٹا تھا جو امریکہ پڑھنے گیا ہواتھا۔ بوڑھی خاتون کا دوسرابیٹا فورسز میں ملازمت کرتا تھا ۔ وہ عید پر اپنے بیوی بچوںکے ساتھ آیا تو میرے متعلق پوچھا ۔بوڑھی خاتون نے اسے میرے بارے میں سب بتا دیا ۔وہ بہت افسردہ ہوا ۔ وہ اسی رات مجھے اپنے ساتھ لے گیا ۔ نئے کپڑوں سے لے کر جوتوں تک دلائے ۔ جس شے کی مجھے خواہش تھی وہ لے کر دی ۔میں اس دن بہت خوش بھی تھی اور بہت دکھی بھی کہ میری ماں نہیں ہے ۔“یہ کہہ کر اس نے طویل سانس لی ۔

”اس کا مطلب وہ بندہ بہت اچھا تھا ؟“

” یہ تو مجھے بہت بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس وقت وہ اپنی فورس میں اچھے عہدے پر تھا ۔اس نے بیٹھ کر مجھ سے سبق سنا ، مجھے سے لکھواتا بھی رہا ۔ مجھے وہ آتا تھا ۔ میں نے سنا بھی دیا اور لکھ کر بھی دکھا دیا ۔ خیر ۔! چوتھے دن جب وہ جانے لگا تو بوڑھی اماں سے نجانے کیا کہا ۔ اس دن سے مجھے اس گھر میں کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا گیا ۔ مجھے ملازمہ نہیں سمجھا گیا ۔بلکہ کام کے لئے ایک خاتون ملازمہ رکھ لی ۔ میں سکول جانے لگی ۔ روزانہ وین مجھے لے جاتی اور لے آ تی ۔یوں دن گزرتے گئے ۔“

” چلو اللہ نے تمہیں ایک آسرا دے دیا ۔ ورنہ تو ….“ میں کہتے کہتے رک گیا ۔ میں جانتا تھا کہ ایسے بچوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔

” میں نے میٹرک میں تیسری پوزیشن لی تھی ۔“ اس نے خوش دلی سے کہاتو میں بولا

” جب تمہارا کام ہی پڑھنا تھا تو پوزیشن بنتی تھی ۔“

” ایسانہیں تھا کہ میں کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی تھی ۔ میںنے وقت کے ساتھ سمجھ لیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ میں اس بوڑھی اماں کی بے حد خدمت کرتی تھی ۔ ا س کے سارے کام میرے ذمے تھے ۔ میٹرک تک بوڑھے بابا فوت ہوگئے تھے ۔اب میں ہوتی تھی یا اماں بی ۔ “

” اچھا ، پھر کیا ہوا ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا

” انہی دنوں وہی صاحب آ گئے ۔اب وہ بڑے عہدے پر ہو گئے تھے ۔انہوں نے مجھے خوب شاباش دی ۔ پھر بڑے پیار سے پوچھا کہ ارم بتاﺅ تمہاری کیا خواہش ہے ؟ تو پتہ ہے میںنے کیا کہا ؟“اس نے سوالیہ انداز میں میرے طرف دیکھا

” کیا کہا ؟“ میںنے کہا

” میںنے کہا کہ میں اس بدمعاش کو مار دینے کی شدید خواہش رکھتی ہوں جس نے میری ماں کو مارا تھا ۔وہ حیران رہ گیاتھا۔ شاید یہ بات حیرت والی نہیں تھی ۔ یہ تو اس بچے سے پوچھا جائے جس نے یتیمی اور بے بسی میں دن گزارے ہوں اسے یہ بھی پتہ ہو کہ یہ سب کس کی وجہ سے ہوا تھا ۔ میں اپنے بچپن کو ابھی تک نہیں بھولی تھی۔وہ پورا دن سوچتا رہا ۔ پھر اس نے میرے سامنے ایک آ پشن رکھ دیا ۔ جسے میںنے وہ قبول کرلیا ۔“

” کیا تھی وہ آ پشن ؟“ میں نے پوچھا

” مجھے مزید پڑھنے کے لئے کہا گیا ۔ دو برس مجھے کالج کی تعلیم حاصل کرنا تھی ۔ سو میں انہی کے ساتھ چلی گئی ۔“

” کہاں چلی گئی ؟“ میںنے تجسس سے پوچھا

” ان کے ساتھ ، جہاں ان کی ڈیوٹی تھی ۔ میںنے وہاں سے کالج کی تعلیم لی ، اس کے ساتھ مجھے پڑھنے کے لئے بہت کچھ دیا گیا اور تمہیں بتاﺅں میںنے اسی وقت سے جم جوائین کر لیا تھا ۔“

” مطلب تم نے ….“ میںنے پوچھنا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے کہا

” کالج تعلیم کے بعد میں نے باقاعدہ ٹریننگ کی ۔ تین برس بعدواپس آگئی ۔ایک برس فیلڈ میں لگایا۔ تب پھر میںنے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا ۔یہ یونیورسٹی میں داخلہ بھی میری ڈیوٹی تھی ۔ “ اس نے کہا تو میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

” مطلب تم ….“ میں نے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئی ۔

” یہ سب تو نہیں بتایا جاتا، مر جاتا ہے بندہ لیکن یوں میرے جیسے بندے کو نہیں ….“ میںنے رُک رُک کر کہنا چاہاتووہ ہنس کر بولی

”اُو پاگل ، میںنے تم میں ساری صلاحیتیں دیکھی تھی تو تیرے قریب ہوئی تھی اور سچ پوچھو تو مجھے تم سے پیار ہو گیا تھا ۔ ویسے تم کیا سمجھے تھے ۔“اس نے پوچھا تو میںنے جواب دینے کی بجائے اس سے پوچھا

” پھر تم نے اپنی خواہش کو پورا کیا یعنی اس بدمعاش کو مارا ؟“

”میں نے اس کے ساتھ جو کیا، وہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔وہ اس علاقے کا بہت بڑا بدمعاش ، منشیات فروش ،قاتل اور سیاست دان بن گیا تھا ۔عام آ دمی کا یہی خیال تھا کہ اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔“

” کیاکیا تم نے ؟“میں نے بے ساختہ پوچھا

” میں خود اس کے ڈیرے پر گئی ۔اسی ڈیرے پر گئی، جسے وہ قلعہ سمجھتا تھا ۔ میںنے اُ سے وہاں سے اٹھایا اور ….“

” جتنی آ سانی سے تم نے کہہ دیا ،کیا اسی طرح ….“ میں نے حیرت سے پوچھنا چاہا تو وہ میری بات کاٹ کر بولی

”بس دو گارڈ مرے تھے اس کے ۔کئی تو بھاگ گئے ۔میں نے اس بدمعاش کو مارا نہیں ۔ صرف اس کی ٹانگوں میں گولیاں ماریں ۔ پھر اسے اسی طرح اسی بازار میں لے کر آ ئی ۔وہاں لے جا کر میں نے اسے بتایا کہ میں کون ہو ں ۔“

” وہاں بازار میں اس کا کوئی حمایتی نہیں تھا ؟“میں نے پوچھا تو وہ نفرت سے بولی

” ایسے بے غیرتوں اک کوئی حمایتی نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ کتے کی موت مرتے ہیں اور لوگ انہیں مرتا ہوا دیکھ کر اندر سے خوش ہو تے ہیں ۔“

” اچھا پھر کیا ہوا ؟“ میںنے پوچھا

” تب میں نے اسی بھرے بازار میں گولیاں مار مار کر ختم دیا ۔وہ میرے سامنے گڑگڑاتا رہا ، رحم مانگتا رہا ، ہاتھ جوڑ کر میرے پیروں میں پڑا رہا ۔ لیکن میں نے اسے معاف نہیں کیا ۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحوں کے لئے رُکی پھر کہتی چلی گئی،”پھر میری اس کے خاندان سے دشمنی چل پڑی ۔ میں ہر ہفتے میں ان کا ایک بندہ پھڑکانے لگی ۔ کیا چھوٹا کیا بڑا،یہاں تک کہ ان کے خاندان کے سارے مرد مار دئیے ،کوئی نہیں رہنے دیا ۔“اس نے انتہائی کھردرے لہجے ،میں نفرت سے کہا تو مجھے جھرجھری آ گئی میں نے پوچھا

” مطلب ان کے بچے بھی مار دئیے ؟“

” نہیں ، وہ ہیں ، انہیں کچھ نہیں کہا ۔بس جو بھی جوان تھا اسے ٹھکانے لگا دیا ۔“ اس نے نفرت بھرے لہجے میں کہا

” مجھے تم سے خوف آ نے لگا ہے ۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

” اور مجھے پیار آ نے لگا ہے ۔یقین نہیں آ تا تو کروں اس طوائف کی طرح تمہارے ساتھ بھی ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے قہقہ لگا دیا ۔مجھے اس کی یہ دھوپ چھاﺅ ں اچھی لگی تھی ۔ وہ اندر سے اتنی دکھی تھی ۔یہ کیوں بنگلہ نما گھر میں رہتی تھی ۔ یہ ساری عیاشیاں یہ امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ کی مجھے سمجھ میں آنے لگی تھی ۔ اس کے ساتھ میں اتفاقاً نہیں ملا تھا بلکہ بہت سوچ کر اس نے مجھے اپنے قریب کیا تھا ۔

باتوں ہی باتوں میں ہم بہت آ گے تک آ گئے تھے ۔ اس نے ایک بڑے سارے بنگلے کے باہر کار روکی ۔ وہ ایک پروڈکشن ہاﺅس کا مین آ فس تھا ۔اس نے ہارن دیا تھا چند لمحوں بعد گیٹ کھل گیا ۔ وہ کار پورچ میں لے گئی ۔اس نے مجھے اپنے ساتھ لیا اور ایک کمرے میں چلے گئی ۔ کمرے میں ایک نوجوان ملازم تھا ۔ ارم نے تحکم بھرے لہجے میں کہا

” چائے لاﺅ مگر بہت اچھی ۔“

” جی میڈم ۔“ اس نے تیزی سے کہا اور باہر نکل گیا ۔ تنہائی میسرآتے ہی ارم نے کہا

 ”تم جب اپنے گاﺅں چلے گئے تو میرے دھیان میں تھا کہ تمہارے پاس جاﺅں گی ۔ میں تمہیں اپنے بالکل قریب کرنے کا کوئی پلان کرنا چاہ رہی تھی ۔ میں چاہتی تھی کہ تمہیں اپنے ساتھ شامل کر لوں ۔لیکن یہ اتفاق تھا کہ مجھے تمہارے بارے میں پتہ چلا اور فوراً وہاں پہنچ گئی ۔“

” میں بھی کہوں اتنی رسائی کیسے ؟“ میں نے سنجیدگی سے کہا تو میری سنی ان سنی کرتے ہوئے خوشگوار لہجے میں بولی

” اس اتفاق کے ساتھ ہی مجھے جب تمہارے علاقے میں جانے کا موقعہ ملا ، میں وہاں رہی تو مجھے وہاں بہت کچھ دیکھنے کو ملا ۔ہمارا ایک پراجیکٹ چل رہا ہے ۔اس کا ایک بڑا حصہ تمہارے علاقے میں دکھائی دیا ۔میں نے وہاں کچھ بندے لگائے ۔ وہاں کے بارے میں سٹڈی کیا ، وہاں بہت کچھ ہے ہمارے مطلب کا ۔“

” مثلا ً کیا کیا ہے ؟“ میں دلچسپی سے پوچھا

” اُوئے ابھی تم اپنے دماغ پر بوجھ مت ڈالو ، سب پتہ چل جائے گا ۔مگر میں حیران اس بات پر ہوئی کہ یہ جو لوگ ہیں ، تمہیں ایک کٹھ پتلی کی مانند استعمال کرنے لگے ہیں۔ اب اگر میں اپنے بارے میں نہ بتاتی تو تمہیں پتہ نہ چلتا توتم استعمال ہو تے چلے جارہے ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ استعمال کرنے والے بڑے شاطر ہیں ۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو میںنے پھر اپنا سوال دہرا دیا

” تم ابھی تو کچھ بتاﺅ نا ؟“ میںنے اصرار کرتے ہوئے کہا

”علی ، تم نہیں جانتے ہو کہ تم کیا ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیںکہ تم فضول چیزوں کو اپنے سر پر سوار کر لو جو تمہارے متعلق ہیں ہی نہیں ۔میںنے کہا نا کہ تمہیں سب پتہ چل جائے گا ۔“ اس نے مطمئن لہجے میں کہا

” اوکے ۔ “ میںنے کاندھے اُچکاتے ہوئے کہا تو اس نے بیل دے دی ، جس کی گونج میں ایک نوجوان آ گیا ۔ اس نے سر کے ہلکے سے اشارے سے سلام کیاتو ارم بولی

”وہ عاطف کو بلاﺅ ۔ اس سے نئے پراجیٹ بارے فائنل کر لیں۔“

” جی میں ابھی بھجواتا ہوں ۔“اس نے کہا اور پلٹ گیا ۔ملازم چائے رکھ گیا تھا ۔ہم چائے پی رہے تھے کہ ایک نوجوان سا لڑکا اندر آ گیا ۔ ارم نے اسے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔پھر بڑے رسان سے بولی

”یہ ہیں علی احسن ، آپ نے جو نئی سیریل بنانی ہے ، وہ انہی کے علاقے میں شوٹ ہو گی ، میںنے جو لوکیشن بتائی تھی ، وہ سب وہاں پر ہے ۔“

” آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ۔“ عاطف میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ۔ میںنے اس سے مصافحہ کیا تو اس نے ارم کی جانب دیکھ کر کہا

”سب کچھ فائنل ہے ۔جب آپ کہیں گے ہم نکل جائیں گے ۔“

”میں بھی تم سب کے ساتھ جاﺅں گی ۔ ادھر ہی رہوں گی کچھ دن ۔بلکہ میں تو آج رات ہی نکل جاﺅں گی علی کے ساتھ ۔ تم کل آ جانا ۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا

” بس تو پھر تیاری کرو ۔مجھ سے رابطے میں رہنا ۔“ ارم نے کہا تو عاطف فوراً اٹھ کر چلا گیا ۔

” اب یہ کیا نیا ڈرامہ ہے ۔“ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا

”چائے پی لو ، پھر بتاتی ہوں یہ سارا ڈرامہ ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور چائے کا سپ لے لیا ۔

” مجھے یہ تمہاری عادت بہت بری لگتی ہے ، ہر وقت ہر بات میں تجسس۔“ میںنے بھنّاتے ہوئے کہا تو ایک دم سے ہنس پڑی

” اپنے اعصاب پر قابو رکھنے کی قوت پیدا کرو میری جان ۔یہ بڑا ضروری ہے ۔سیاست دان بڑے سکون سے سامنے کھڑے لوگوں سے گالیاں کھا لیتے ہیں ۔ انہیںکچھ نہیں کہتے ،پتہ ہے نا ؟“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں خاموش رہا ۔

ہم چائے پی چکے تو اس نے سیٹ سے اٹھتے ہوئے مجھے اٹھنے کاا شارہ کیا ۔ ہم دونوں کمرے سے باہر نکل گئے ۔ ایک راہداری پار کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں گئے ۔ وہاں سے نیچے تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر رہی تھیں ۔ ہم دونوں نیچے جا پہنچے ۔ سامنے فرش پر ساجن بٹ پڑا ہوا تھا ۔ اس کی حالت بڑی مخدوش تھی ۔ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس پر کافی تشدد کیا گیا تھا ۔ ارم اس کے پاس جا کر اکڑوں بیٹھ گئی۔ پھر بڑے نرم لہجے میں پوچھا

”اب بھی کچھ نہیں بتاﺅ گے توپھر گولی ہی مارنی پڑے گی تمہیں ؟“

”تم نہیں مارو گی تو وہ مجھے مار دیں گے ۔“اس نے دھیمے سے لہجے میں نفرت سے کہا

”چلو ، ٹھیک ہے ، تمہاری مرضی ، وہ تم اکیلے کو ماریں گے لیکن میں تمہاری نسل ختم دوں گی ۔ وہی جو خون کرنے والے معاوضے کے پیسوں پر عیاشی کر رہے ہیں۔تم کیا سمجھتے ہو ، تم کھاﺅ اس ملک کا اور وفا داری کسی دوسرے کی ؟ ایسا تو نہیں ہوسکتا نا۔“

” میں بتا دیتا ہوں ۔“ اس نے دھیمے سے کہا

” بولو ، میں سن رہی ہوں ۔“ ارم نے نرمی سے کہا تو وہ کہنے لگا

”وہ جو دو بھارتی ایجنٹ آ ئے ہیں ، وہ سائیں محبت خان کے پاس ہیں ، اس نے انہیں کہاں رکھا ہے ، میں نہیں جانتا ۔“

” وہی جو اس دربار کا گدی نشین ہے ؟“ ارم نے پوچھا

”آپ کو پتہ ہے وہ صرف گدی نشین نہیں ہے ، اس علاقت کا جاگیردار بھی ہے اور سیاست دان بھی ۔ اس کی مرضی کے بغیر اس علاقے میں پتہ نہیں ہل سکتا ۔“ اس نے تیز تیز لہجے میں کہا

”تم یہاں پر کیا کر رہے تھے ؟“ اس نے پوچھا

”میںنے سرحد پار جو ٹریننگ لی ہے ، اس میں یہی تھا کہ جو لوگ اُدھر سے یہاں آ ئیں انہیں مطلوبہ جگہ تک پہنچا دینا ہے ۔انہیں ہر طرح کی سہولت دینی ہے ۔“ اس نے بتایا

”جن لوگوں کو تم نے لینا تھا ، وہ تو پہنچ گئے اب وہاں پر کیا کر رہے تھے ؟“ ارم نے اس سے پوچھا تو وہ بولا

”ابھی دو بندے مزید آ نے ہیں ۔میں ان کے انتظار میں تھا ۔وہ آ ج کل میں آ نے والے ہیں ۔“

” انہیں کہاں پہنچانا تھا ؟“ اس نے پوچھا

” یہ اسی وقت پتہ چلتا ہے ، جب انہیں رسیو کر لیا جائے ۔وہی بتاتے ہیں کہ کہاں جانا ہے ۔ عارضی ٹھکانہ وہیں سائیں محبت خان والا ہی ہے ۔“ اس نے بتایا تو ارم کی آنکھیں چمک گئیں ۔وہ چند لمحے سوچتی رہی پھر بولی

” دیکھو ، ایک شرط پر تمہاری جان بخشی کی جا سکتی ہے ۔ پھر تمہیں پوچھا نہیں جائے گا ۔تم اپنے خاندان کے ساتھ آرام سے رہ سکتے ہو، یہ میرا وعدہ ہے ۔“

”وہ کیسے ، کیا شرط ہے ؟“ اس نے پوچھا

”نئے آ نے والے دونوں میرے حوالے کر دو ۔میں تمہیں اتنا دوں گی جتنا تمہیں وہاں سے ملے گا ۔ پھر سکون سے اپنی زندگی گزارنا ۔“ارم نے اسے آ فر دی تواس نے فوراً سر ہلا تے ہوئے کہا ۔

” مجھے منظور ہے ۔“

” تو پھر سنو ، میں تمہیں ابھی چھوڑ رہی ہوں ۔وہ میڈم کی بیٹی ابھی ادھر ہی ہے ۔ اسے لے کر میڈم ہی کے پاس رہو ۔اس کے عوض تیرے بچے میرے پاس رہیں گے ۔کام ہوتے ہی تم سب آ زاد ہوگے ۔“اس نے سرد سے لہجے میں کہا تو ساجن بٹ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا

” ٹھیک ہے ۔ “

ارم نے اس سے کوئی بات نہیں کی ۔ ساتھ کھڑے ایک نوجوان کو اس نے اشارہ کیا تو اس نے بھی سر ہلا دیا ۔ گویا جو کچھ اس نے سنا اس پر عمل کیا جائے ۔وہ مجھے لیتی ہوئی اوپر اپنے آفس میں آ گئی ۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میرے چہرے پر دیکھ کر بولی

” سمجھے ہو کچھ ؟“

” بالکل سمجھ گیا ہوں ۔ میں توسائیں محبت خان کو بہت اچھا انسان سمجھتا تھا ، وہ ملک دشمن ہو گا ، یہ میں تو کیا، کوئی بھی نہیں سوچ سکتا ۔“ میرے لہجے میں حیرت تیر رہی تھی ، جس کا خود مجھے احساس ہوا ۔

” اسی لئے کہا ہے نا کہ اعصاب پر قابو پانا سیکھو ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے ہنس دی ۔ پھر چند لمحوں بعد بڑی سنجیدگی سے بولی ” زندگی یہ نہیں جو تم دیکھ رہے ہو، زندگی وہ ہے جو تم جیتے ہو ۔“

”تم ٹھیک کہہ رہی ہو ۔“

” چل اٹھ چلیں ، ابھی تیرے لئے کچھ شاپنگ کرنی ہے ، پھر تیرے گاﺅں کے لئے نکلنا بھی ہے ۔“ اس نے کہا اور ہم اٹھ گئے ۔

٭….٭….٭

 صبح کا نیلگوںاُجالا پھیل رہا تھا جب ہم گاﺅںکے قریبی شہر میں آ گئے ۔ سارے راستے ارم مجھے مختلف باتیں بتاتی رہی ۔ یہاں اس نے کیا کرنا تھا ، پوری تفصیل مجھے بتا دی ۔جس وقت ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو میں نے اس سے کہا

” یار تم نے سب کچھ مجھے بتا دیا ، اگر میں ہی تمہارا دشمن نکل آ یا تو پھر ؟“

” اوئے سوہنے ، تیرے ہاتھوں مر جاﺅں ، مجھے اور کیا چاہئے ۔میں اگر تمہیں سمجھنے میں خطا کھا جاﺅں تو کھا جاﺅں دوسرے لوگ بھی تمہیں جانتے ہیں ۔علی ، میں جانتی ہوں تم ایک محب وطن ہو ۔ تم کبھی اپنے وطن کے خلاف نہیںجا سکتے ہو ۔“

”ہو سکتا ہے مجھے بہت لالچ دے دیا جائے ؟“ میںنے سنجیدگی سے کہا

”میں جانتی ہوں تم لالچ میں نہیں آ ﺅ گے ۔ویسے میرا ایک پلان ہے ؟“ اس نے کہا

” کیا ، کیسا پلان ؟“ میںنے پوچھا

” یہی کہ تم کوئی اچھا سا بزنس کرو ، یہ سیاست وغیرہ کو مارو گولی۔اب تک جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اس سارے جھنجھٹ سے نکلو ۔ “اس نے کہا

”یہ پلان کیوں دے رہی ہو ؟“میںے مسکراتے ہوئے پوچھا

” اس لئے کہ میں بھی تیرے ساتھ سکون سے رہوں ۔“ اس نے کہا تو میں ہنس دیا ۔ وہ نجانے کیا خواب دیکھنے لگی تھی ۔میںنے سوچا ، وہ جو بھی تھی جیسی بھی تھی ، بہر حال میرے خوابوں کی شہزادی جیسی نہیں تھی ۔ میں جسے چاہتا تھا ، وہ ابھی میرے سامنے ہی نہیں آ ئی تھی ۔مجھے اس کا انتظار کرنا تھا ۔ یہ بات میں اسے جلد ہی مناسب وقت پر سمجھادوں گا ۔ یہ بہت ضروری تھا ۔ ورنہ وہ نجانے کیا کچھ سوچنے لگ جاتی ۔

ارم اسی کوٹھی تک اپنی کار لے گئی ، جہاں ہم کچھ دیر ٹھہرے تھے ۔گیٹ پر وہی ملازم تھا ۔ کار پورچ میں کھڑی کر کے ہم لاﺅنج میں آ گئے ۔تبھی ارم نے ملازم سے پوچھا

” کب لے کر گئے تھے اس لڑکی کو ؟“

” کل دوپہر کے بعد ۔اسے اپنے گھر تک پہنچا دیا ہے ۔“ ملازم نے بتایا

” چلو ٹھیک ہے ۔ تم جلدی سے ناشتہ بنا دو ۔“اس نے کہا اور صوفے پر دراز ہو گئی ۔ میں صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کا فون بج اٹھا ۔اس نے اسکرین پر دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی

” ساجن بٹ ہے ، ڈنگ تو اس کا نکال لیا ہے ، اب دیکھو ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کال رسیو کے کے کہا ،” ہاں بولو ساجن۔“ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر سنتی رہی پھر فون ایک طرف رکھ تے ہوئے بولی ،” وہ پہنچ گیا ہے یہاں ۔ایک دودن ہی میں کوئی خبر دے گا ۔“

” چلو اچھا ہے ۔“ میں نے صوفے سے ٹیک لگا لی ۔

ناشتے کے بعد ہم کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے پھر گاﺅں کے لئے نکل پڑے ۔ ہم ابھی شہر سے نکلے نہیں تھے میرا فون بجا ۔ وہ تنّی کا فون تھا ۔میں کال رسیو کی تو اس نے پوچھا

” علی کہاں ہو تم ؟“

” میں ابھی لاہور ہی میں ہوں ۔بولو خیریت ہے نا ؟“میں نے پوچھا

” ہاں یار ، وہ مجھے پتہ چلاہے کہ اسلم اے ایس آئی واپس آ گیا ہے ۔سنا ہے کہ وہ ایک دو دن میں ڈیوٹی جوائین کر لے گا ۔“اس نے بتایا

”تمہیں یہ خبر کہاں سے ملی ؟“ میںنے پوچھا

” رات وہ چوہدری سردار کے ڈیرے پر تھا ۔ وہیں طے ہوا ہے ۔ ایک دو دن میں وہ تجھ سے معافی مانگنے آ ئے گا ۔ممکن ہے اس کے ساتھ فیروز بھی ہو ۔اب یہ تم پر ہے کہ انہیں معاف کرتے ہو یا نہیں ۔“ اس نے تیزی سے بتایا

”تمہارا کیا خیال ہے ؟“ میں نے پوچھا

” میرے خیال میں تو یہی ہے کہ اُڑا دیں اسے ۔ ابھی تو چوہدری سلطان کا بھی حساب باقی ہے َ“ اس نے نفرت سے کہا

”اس کا اتہ پتہ معلوم کرو ، کہاں ہے وہ ؟“ میںنے کہا

” کس کا چوہدری سلطان کا یا اسلم ….“اس نے کہنا چاہا تو میںنے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

”جو بھی مل جائے ، سلطان کے بارے میں شاید تمہی نے بتایا تھا کہ وہ کہیں باہر چلا گیا ہے ؟“

” نہیں یہ افواہ ہی تھی ۔ وہ چھپا ہوا تھا ۔ کل رات وہ بھی تو چوہدری سردار کے ڈیرے پر تھا ۔“اس نے بتایا

” چل ٹھیک ہے ، تم ان کا حساب کتاب لگاﺅ ، میں آ تا ہوں تو پھر تفصیلی بات کرتے ہیں ۔“ میں نے کہا اور پھر چند باتوں کے بعد فون بند کر دیا ۔

” یہی وہی تنّی ہے نا ؟“ ارم نے پوچھا

” ہاں وہی تھا ، ویسے خبر نکال کر لاتا ہے ۔“ میںنے کہا

” ہاں ، یہ تو ہے ۔خیر اس بار میں بھی اس سے ملنا چاہوں گی ۔ بندہ کافی با صلاحیت لگتا ہے ۔“ ارم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا

دن کافی نکل آ یا تھا ۔ جب ہم حویلی پہنچ گئے ۔ میں کچھ دیر بابا کے پاس بیٹھا رہا پھر سونے کے لئے چلا گیا ۔ یہاں تک کہ مجھے لنچ کے لئے اٹھایا گیا ۔

 سہ پہر سے کچھ پہلے ارم کی پروڈکشن کمپنی کا اپنے سارے لوگوں کے ساتھ آ ن پہنچے ۔مہمان خانہ اس کے تصرف میں دے دیا ۔ چند میل اور فیمیل اداکار وں کو اوپر منزل میں چند کمرے دے دئیے ۔

 شام ہو نے میں ابھی کافی وقت تھا ۔ہم سب کچھ کاروں میں دربار پر جا پہنچے ۔ پروڈکشن ہاﺅس والے وہ لوگ ارد گرد کا سارا علاقہ دیکھنا چاہتے تھے جہاں انہوں نے شوٹنگ کرنا تھی ۔سب اپنے طور پر وہاں کا جائزہ لیتے رہے ۔میں دربار پر کھڑا سامنے پھیلے ہوئے صحرا کو دیکھ رہا تھا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ صحراکی ڈھلتی ہوئی شام جادو کر دیتی ہے اور میں اس وقت سحر زدہ تھا ۔اس وقت سورج ڈھل گیا تھا ، جب ہم واپس حویلی کی جانب چل پڑے ۔

٭….٭….٭

اگلی صبح شوٹنگ والے سارے لوگ چلے گئے ۔ ارم بھی ان کے ساتھ چلی گئی تھی ۔ وہ مجھے ساتھ لے کر جانا چاہتی تھی لیکن مجھے گاﺅں کے کچھ لوگوں سے ملنا تھا ۔ محکمہ مال کے کچھ لوگ آ رہے تھے ۔ بابا نے اکبر کے ساتھ میری دیوٹی لگا دی تھی کہ ان کے معاملات دیکھوں۔ ایک زمین کی پیمائش تھی ۔ دو خاندانوں کے درمیان زمین کی تقسیم تھی ۔گاﺅں کے چند لوگ اس پیمائش میں ساتھ تھے ۔ میں جاگنگ کے بعد ناشتہ کر چکا تھا کہ وہ لوگ آ گئے ۔ سارا دن اسی میں گزر گیا ۔ سہ پہر کے وقت وہ لوگ واپس گئے ۔

میں کچھ دیر آ رام کے بعد اٹھا تو ارم حویلی میں تھی۔ چند اداکار بھی واپس آ چکے تھے ۔ شام ہونے کو تھی ۔میں اور ارم لان میں بیٹھے تھے ۔ و ہ مجھے سارے دن کی روداد سنا رہی تھی ۔ایسے میں اس کا فون بج اٹھا ۔ اس نے اسکرین پر دیکھا تو اس کی آ نکھیں چمک اٹھیں ۔

” ہاں بول ساجن۔“اس نے کہا تو میں بھی چونک گیا ۔وہ تقریباً پانچ منٹ تک بات سنتی رہی ۔ پھر مطمئن ہو کر بولی،” اوکے ، میں وہیں ملتی ہوں ۔رابطے میں رہنا ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔

” خیریت ….؟‘ ‘ میں نے تجسس سے پوچھا

”وہ جو دو بھارتی آ نے والے تھے ، آج آ رہے ہیں ، جن کا مجھے انتظار تھا ۔ “ اس نے برجوش لہجے میں کہا

” تو پھر ….“ میںنے پوچھا

” بس چلتے ہیں ۔ اگر تم ساتھ جانا چاہو تو آ جاﺅ ، مجھے تو بہر حال جانا ہے ۔“ اس نے کاندھے اچکا کر کہا اور کال ملانے لگی ۔وہ اپنے لوگوں کو ہدایات دینے لگی تھی ۔ اس دوران میںنے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بہرحال اپنے علاقے میں ہونے والی کاروائی کا پتہ ہو نا چاہئے ۔ میں بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ وہی کچھ کر رہی ہے جو کہہ رہی ہے یا مجھ سے تو کوئی کھیل نہیں کر رہی ۔ وہ ہدایات دے چکی تو تو کال بند کر دی ۔

” میں بھی چلتا ہوں ۔“ میں نے اس کے چہرے پر دیکھ کر کہا تو وہ ایک دم سے خوش ہو گئی ۔

” اچھا ہے تم بھی چلو ، شاید تمہارے لئے کچھ نیا ہو وہاں پر ۔“اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا

’کچھ نیا مطلب ….“ میںنے پوچھا تو وہ بولی

”ہر بات پوچھتے نہیں ، دیکھتے بھی ہیں۔“ اس نے کہا اور اٹھ گئی ۔

ہم دربار سے بھی آ گے اس جگہ پہنچ گئے جہاں صحرا میں شوٹنگ چل رہی تھی ۔ اندھیر ا پھیل گیا تھا ۔ جنریٹر چلنے کی وجہ سے وہاں کافی ساری روشنی کے باعث وہ بڑا سارا خیمہ دکھائی دے رہا تھا جو انہوں نے لگایا ہوا تھا ۔ ہم نے جا کر فور وہیل وہاں کھڑی کر دی ۔ارم کے پہنچتے ہی اس کا ہدایت کار اس کے پاس آ گیا ۔ اس نے ارم کو سین سمجھانا شروع کردیا

” دیکھیں ، یہاں سے کچھ دور لوکیشن ہے ، وہاں پر یہ سین ہوگا ۔ ایک فورہیل پر چند لوگ اسلحہ لے کر سوار ہیں ۔ وہ ہیرو کی تلاش میں ہے ۔ وہ ہیرو کو زندہ پکڑنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں میں جو آ نکھ مچولی چل رہی ہے ، ہم نے اسے شوٹ کرنا ہے ۔“

” بہت خوب ، تو سب تیاریاں ہو گئی ہیں وہاں پر ؟“ ارم نے چمکتی آنکھوں سے پوچھا تو ہدایت کار سرد سے لہجے میں بولا

” سب تیاریاں مکمل ہیں ۔مجھے امید ہے کہ ہم آ دھی رات سے پہلے ہی یہ سب شوٹ کر لیں گے ۔“

” اوکے ۔ میں جا رہی ہوں لو کیشن پر ، آپ بھی آ جائیں ۔“ یہ کہہ کر اس نے میرا بازو اپنے بازو میںلیا اور خیمے سے باہر نکلتی چلی گئی ۔

لوکیشن پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ وہاں سین شوٹ کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ۔ہم نے فوروہیل ان کے پاس روکی ۔ ارم ان سے باتیں کرتی رہی ، پھر میری طرف دیکھ کر بولی

” چلو آﺅ ذرا کھلی فضا میں وہاں چلتے ہیں ۔“

یہ کہتے ہوئے اس نے انگلی سے دور کسی ان دیکھی جگہ کی جانب اشارہ کیا تو میںنے ہنستے ہوئے کہا

” یہاں کون سا بند کمرے میں ہیں ۔کھلی فضا ہی ہے ۔“

” آ ﺅ نا ، وہاں تک چلتے ہیں ۔“ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا تومیں نے اس کے ساتھ قدم بڑھا دئیے۔ کچھ قدم چلنے کے بعد تھوڑا تنہائی میں جا کر وہ بولی

” ہم سب گھات لگائے ہوئے ہیں ، جانے کب ساجن نمودار ہو جائے ۔ تمہیں پتہ ہے نا اس بات کا ؟“ اس نے یوںپوچھا جیسے مجھے کچھ بھی سمجھ میںنہ آ رہا ہو ۔ حالانکہ میں سب سمجھ رہا تھا ۔میںنے کوئی جواب نہیں دیا ۔ یہاں تک کہ ہم ایک اونچے ٹیلے پر پہنچ گئے ۔

جنوب سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا مست کر دینے والی تھی۔ سردی کا احساس کچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا ۔ ہم کچھ دیر وہاں کھڑے رہے ۔ تبھی ارم وہیں ریت پر بیٹھ گئی پھر مجھے بھی ساتھ بٹھا کر بولی

” علی ، تم نے کسی سے محبت کی ہے ، سچ سچ بتانا ؟“

”تم اپنے دشمن کی فکر کرو ، اس وقت ایسی باتیں عجیب سی لگتی ہیں۔“ میں نے جان چھڑوانے والے انداز میں کہاتو اس نے ایک دم سے قہقہ لگا دیا پھرخمار آ لود لہجے میںبولی

”یار میں لڑکی ہوں ، اس وقت تمہیں تنہائی کا فائدہ اٹھانا چاہئے ،کیسے مرد ہو تم ؟“

” مردانگی یہ نہیں ہے کہ عورت کو اکیلی پاﺅ تو اس وقت کا ناجائز فائدہ اٹھالو ۔“ میں نے اس کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو نشیلی ہو رہی تھی۔ میری بات سن کر وہ چند پل کے لئے ساکت رہی پھر بڑے دھیمے سے لہجے میں پوچھا

” تو پھر مردانگی کیا ہے ؟“

” مردانگی یہ ہے کہ عورت کا دل جیت لو۔“ میں نے سکون سے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی

”علی، میں پورے دل سے کہہ رہی ہو ں ، تم نے میرا دل جیت لیا ہوا ہے ۔میں تو نجانے کب سے اپنے آپ کو تمہارے سپرد کر چکی ہوں ۔“

وہ مسکراتی ہوئی آ نکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی ۔پھر اس نے آ نکھیں یوں بند کر لیں جیسے خود پر قابو پا رہی ہو ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا ۔ اس کا بدن یوں تپ رہا تھا جیسے اسے بخار ہو گیا ہو ۔ لیکن مجھے اتنا تو احساس تھا کہ یہ گرمی بخار کی نہیں جذبات کی ہے ۔میں اس کے گرد اپنا بازو حمائل کر دیا ۔پھر اپنے ہاتھ سے اس کا کاندھا دباتے ہوئے بولا

”یہ جو محبت ہوتی ہے نا ، اس کے بارے میرا خیال یہی ہے کہ یہ بندے کو کمزور کر دیتی ہے ، باندھ لیتی ہے ۔ایسا حصار بنا لیتی ہے کہ چاہنے کے باوجود بندہ اس سے نکل نہیں پاتا ۔بس اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے ۔“

وہ میرے حصار میں مچلنے لگی جیسے کو ئی بچہ سو جانے کی کوشش میں ہو ۔ اس نے اپنا چہرہ میرے سینے پر رکھ دیا ۔ اس کی گرم سانسیں مجھے اپنے سینے پر محسوس ہونے لگیں ۔میں نے اسے دونوں بازوﺅں میں بھر لیا ۔وہ میری بانہوں میں پرسکون سی ہو گئی جیسے کسی بیمار کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔چند ثانئے یونہی بیت گئے ۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ، تبھی وہ بولی

”علی ، یہ محبت انسان کو بڑا مضبوط بھی بنا دیتی ہے ۔ یہ تو بندے ہی اپنی محبت پر ہے نا ، وہ کیسی محبت کر رہا ہے ۔ صرف بدن کی پکار ہے یا پھر یہ معاملے روح کے ہیں ۔“

”محبت ہو تی ہی روح کے ساتھ ہے ۔بنا روح کے تو محبت ہو تی ہی نہیں ۔“ وہ دھیمے سے بولی ۔ ہم دونوں میں خاموشی چھا گئی ۔میں اس سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا کہ اسی لمحے میرا فون بج اٹھا ۔ میں نے ارم کو خود سے الگ کیا اور جیب سے فون نکالا۔وہ تنی کی کال تھی ۔ میں کال رسیو کرلی تو اس نے تیزی سے پوچھا

” کدھر ہو علی ؟“

” میں ادھر ہوں دربار کے پاس ، خیریت ہے نا تنّی ؟“

” میں بھی ادھر ہی ہوں ،ابھی آ یا ہوں ۔“اس نے پھر تیزی سے کہا

” خیریت تو ہے نا ؟“ میں نے تشویش سے پوچھا

”ہاں ہاں خیریت ہے ۔میں حویلی گیا تھا ، وہاں سے پتہ چلا کہ تم ان شوٹنگ والوں کے ساتھ ہو ، میرا بھی دل کیا کہ دیکھوں یہ سب کیسے کرتے ہیں ۔ مگر تم ہو کہاں ؟“اس نے اپنی کہتے ہوئے پوچھا

” میں بھی ادھر قریب ہی ہوں ۔ذرا ہٹ کر بیٹھا ہوں ۔ تم بتاﺅ ، میںآ جاتا ہوں تمہارے پاس ۔“ میں نے کہا

” میں دربار پر ہی ہوں ۔ تم جب شوٹنگ والوں کے پاس آ جاﺅ تو مجھے فون کر دینا ۔“ اس نے کہا اور پھر فون بند کر دیا ۔ میں فون جیب میں رکھ رہا تھا کہ ارم نے ہنستے ہوئے کہا

” یہ تنّی نے نا سارا ماحول ہی خراب کر کے رکھ دیا ۔“

” یار ہے نا ، فون تو سننا تھا ۔ باقی ماحول کا کیا ہے ، دوبارہ بنا لیتے ہیں ۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” نہیں اب نہیں بننا یہ ماحول ، چل واپس ادھر ہی چلتے ہیں۔اب تو بس انتظار ہے ۔“

”کوئی وقت کا انداز نہیں بتایا ؟“ میں نے پوچھا

” یہی آ دھی رات کے بعد ، یہ جو سارا تماشا لگایا ہے ، یہ صرف ان بندوں کے لئے نہیں ہے ، انہیں تو آ سانی سے پکڑا جاسکتا ہے ۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

”تو پھر یہ اتنا تماشا کیوں لگایا ہوا ہے ؟“ میںنے حیرت سے پوچھا تو وہ اسی لہجے میں بولی

” پلان بی اور سی بھی ساتھ ساتھ ہیں ۔تم دیکھنا ، صرف وہ دو بندے نہیں پکڑے جائیں گے ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوگا ۔“اس نے بڑے مضبوط انداز میں کہا

”کیا کچھ ہوسکتا ہے ، کیا ممکن ہے ؟“ میں تجسس سے پوچھا تو وہ چند پل میری جانب دیکھتی رہی پھر بے ربط سے انداز میں کہتی چلی گئی ۔

” ایسا ممکن ہے کہ شاید تم سوچ بھی نہ سکو، میں نے اتنا بڑا رسک لیا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ایسا کیوں کیا ہے ، یہ اس وقت پتہ چلے گا جب ویسا ہوگیا جو میں سوچ رہی ہوں تب ۔ پھر تمہیں بھی سمجھ آ جائے گی ۔ چل اٹھ چلیں ۔“

وہ اٹھی تو میں بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گیا ۔ہم دونوں آہستہ خرامی سے چلتے ہوئے اس جانب بڑھ گئے جہاں پر شوٹنگ والے موجود تھے ۔

 ہم ابھی وہاں پہنچے ہی تھے کہ ساجن کا فون آ گیا ۔ارم نے اپنے فون کی اسکرین پر دیکھا اور کال رسیو کرتے کہا

” ہاں بول ۔“

وہ کچھ دیر تک اس کی بات سنتی رہی پھر کال ختم کر کے بولی ،”بارڈر کے پار لوگ آ گئے ہوئے ہیں ۔کسی بھی وقت وہ بارڈر کراس کریں گے تو ہمارا کام شروع ہو جائے گا ۔“

” تب تک …. یہ انتظار بھی نا ۔“ میں نے کہا تو وہ ہنستے ہوئے آ نکھ دبا کر بڑے سوقیانہ انداز میںبولی

” یہ انتظار بھی کسی معشوقعہ کی طرح ہوتا ہے جانی ۔ “

”یہ لوگ کیا کریں گے ؟“ میںنے پوچھا

” بس ڈرامہ کرتے رہیں گے ۔“ اس نے عام سے انداز میں کہا اور ڈائریکٹر کے پاس چلی گئی ، وہ اس سے باتیں کرتی رہی ۔ اس دوران میں نے تنّی کو فون کر دیا کہ میں کہا ںہوں ۔اس نے آ نے کا کہہ دیا ۔ذرا سیدیر میں تنّی ہمارے پاس آ گیا ۔ ہم وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے ، جبکہ ارم ہم سے تھوڑے فاصلے پر اپنے سیل فون میں مصروف رہی ۔

٭….٭….٭

رات گہری ہو گئی تھی ۔ ارم نے مجھے نکلنے کا اشارہ کر دیا تھا ۔ میں انتہائی خاموشی سے نکلا اور اپنی فور وہیل تک آ گیا ۔ ارم اس میں پہلے ہی بیٹھ چکی تھی ۔ میں نے فور وہیل سٹارٹ کی اور اس جانب بڑھ گیا، جدھر ارم نے جانے کا اشارہ کیا ۔میں فوروہیل چلاتا ہوا بڑا محتاط تھا۔ اس پھیلے ہوئے صحرا میں نجانے کہاں کہاں جال لگا ہوا ہوگا ۔ ہم ان دو لوگوں کے شکار پر نکلے تھے ، جو سرحد پار کر کے اونٹوں پر سوار تیزی سے آ رہے تھے ۔ساجن ہمیں مسلسل اطلاع دے رہا تھا۔ایک خاص جگہ پر ارم نے مجھے رک جانے کو کہا ۔میں نے فوروہیل روک کر ہیڈ لائیٹس آف کر دیں ۔

” ہمیں یہاں انتظار کرنا ہے ۔“ اس نے دھیمے سے کہا

” میں اب تک سمجھ نہیں سکا ، اصل میں تمہارا پلان کیا ہے ؟“ میں نے اندھیرے میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ وہ ایک ہیولے کی مانند میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ بس سیل فون کی ذرا سی روشنی تھی ، وہ بھی بند ہو ھی ۔

”ہاں ، میرا خیال ہے تمہیں بتا ہی دو ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک طویل سانس لیا ، پھر کہتی چلی گئی ،”یہ جو دو لوگ آ رہے ہیں ، ان دونوں کو پکڑ لینا ، کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ہماری اصل کامیابی یہ ہے کہ یہ دونوں کہاں جاتے ہیں ، انہیں پکڑا جائے ۔اسی سے ….“ کہہ رہی تھی کہ میں نے تیزی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” وہ تو ساجن نے بتایا نہیں کہ سائیں محبت خان کے پاس….“

” ہمارے پاس ثبوت کیا ہے ؟یہ لوگ وہاں جائیں گے تو ہمیں ایک ثبوت ہو گا نا ہمارے پاس ۔“ اس نے بھی میری بات درمیان سے اچکتے ہوئے کہہ دیا

” سائیں محبت خان بڑا ظالم بندہ ہے ، میں نے توت اس کے بارے میں سنا ، وہ بہت شاطر ہے ۔“ میں نے اسے آ گاہ گیا

”ہاں ہے تو ، جس طرح تمہیں معلومات ملی ہیں ، اسی طرح مجھ تک بھی بہت ساری باتیں بہت پہنچ چکی ہیں ۔ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔“اس نے پرخیال انداز میں کہا تو ہمارے درمیان خاموشی آ گئی ۔شاید ہم دونوں ہی اپنی اپنی معلومات کی بنیاد پر اس صورت حال کا جائزہ لے رہے تھے ۔فور وہیل کے اندر کا ماحول بڑا کھردرا سا ہو گیا تھا ۔ ایک تناﺅ کی کیفیت ہمارے ارد گرد پھیل چکی تھی۔میں اندھیرے میں ارد گرد دیکھ رہا تھا کہ مجھے اپنے گردن پر ارم کا ہاتھ رینگتا ہوا محسوس ہوا ۔ وہ اپنی انگلیاں میری گردن پر پھیر رہی تھی ۔ میرے بدن میں سرسراہٹ ہونے لگی۔وہ اپنا ہاتھ میرے گالوں تک لے گئی ۔اس کے ساتھ ہی وہ کھسک کر میرے نزدیک ہوئی اور اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا ۔

” تم سوچ رہے ہو گے ، ایسی سیچوئشن میں بھی مجھے رومانس سوجھ رہا ہے ۔“وہ مخمور لہجے میں بولی تو مجھے اس کی آ واز کہیں دور سے آ تی ہوئی سنائی دی۔میرا بدن بھی جاگ اٹھا تھا ۔لہو کی روانی تیز ہوئی تو سانسوں کی رفتار بھی بڑھ گئی ۔

” ارم ، انسان سوچ بھی نہیں سکتا ، اسے زندگی اپنے کیسے کیسے رنگ دکھائے گی ۔ وہ صرف سوچ سکتا ہے مگر مرضی حالات کی چلتی ہے ۔“ میں نے یونہی کہہ دیا ، میں اپنا ذہن کسی دوسری جانب لگانا چاہتا تھا ۔

” یہ حالات بھی سالے بگولوں کی مانند ہمارے ارد گرد موجود ہیں ، ایک طرح کے حالات سے نکلتے ہیں تو دوسری طرح کے حالات میں آن پڑتے ہیں ۔ کہیں بھی کچھ ایسا نہیں ہے جو وہی ہو جیسا ہم سوچتے ہیں۔“ اس نے گہرے لہجے میں دھیمی سی آ واز کے ساتھ کہا

”یہ سب ہماری خواہشوںکاکیادھرا ہے ۔ہماری خو ا ہشیں ، دوسروں کی خواہشیں ، کہیں ٹکراﺅ ، کہیں اختلاف ، کہیں نفرت ، اور محبت، وہ بے چاری کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے ۔“ میں نے کہا تو ایک دم سے ہنس دی ۔ پھر بولی

” ہاں ، محبت بے چاری کہیں گم ہو گئی ہے اور یہ ….“

وہ کہہ رہی تھی کہ ارم کا سیل فون بج اٹھا ۔اس نے اسکرین پر دیکھاپھر فوراً ہی کال رسیو کر لی ،” ہاں بول ۔“

”وہ لوگ ساجن کے پاس پہنچ چکے ہیں ۔ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں ۔“ دوسری جانب سے جو کہا گیا وہ بھنبھناہٹ سی آ واز مجھے سنائی دی جا چکی تھی ۔

”اب وہ تم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو ں۔کوئی شک ؟“ اس نے حکم دیتے ہوئے پوچھا

” کوئی شک نہیں ۔“ اس آ واز کے ساتھ ہی کال بند ہو گئی ۔ اس نے اپنا سر میرے کاندھے سے اٹھایا اور آ گے بڑھنے کو کہا ۔ وہ فون پر لوکیشن دیکھ رہی تھی ۔ تاروں کی ملجگی روشنی میں ہم لمحہ بہ لمحہ اس لوکیشن کے قریب ہو رہے تھے ۔فور وہیل کی ہیڈ لائیٹس بند تھیں اس لئے مجھے ڈرائیو کرنے میں خاصی مشکل ہو رہی تھی ۔سو رفتار بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ تھوڑی سی دیر کے بعد کچھ فاصلے پر ہمیں دو اونٹ دکھائی دئیے ۔ وہ ہیولوں کی مانند تھے ۔ میں نے بریک لگا دئیے ۔ ذرا سا غور کرنے پر معلوم ہواوہاں تین اونٹ تھے ۔ بلاشبہ تیسرا ان کے ساتھ ساجن تھا ۔وہ تینوں ایک جانب بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔ارم کے پھیلائے ہوئے لوگ بھی ارد گرد تھے ۔ وہ کافی آ گے نکلے تو میں بھی چل پڑا۔

ایسے میں اچانک سامنے سے تیز روشنی نمودار ہو ئی ۔ وہ کسی جیپ کی ہیڈ لائیٹس تھیں جو لمحہ بہ لمحہ ان اونٹوں کے قریب ہو تی چلی جا رہی تھی ۔ وہ لائیٹس ان اونٹوں کے قریب آ کر رک گئیں ۔تبھی ارم کے منہ سے نکلا

” اوہ ، یہ کیا ؟“

”کون لوگ ہو سکتے ہیں ؟“ میں نے فور وہیل کو روکتے ہوئے پوچھا تو وہ تشویش سے بولی

” یہ ہمارے لوگ نہیں ہیں ۔“

”تو پھر اب کرنا کیا ہے ؟“میں نے پوچھا ہی تھا کہہ ساجن کی کال آ گئی

” ہاں بول ؟“ ارم نے کہا

”ہمارا راستہ روک لیا گیا ہے ، کیا ان لوگوں کو یہ بندے دے دوں ؟“ اس نے پوچھا

” یہ میرے لوگ نہیں ہیں ۔“ ارم نے کہا

”تو پھر کون ہیں یہ ؟“ اس نے متوحش لہجے میں پوچھا

”ٹھہرو ، ابھی پتہ کرتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے کال بند کی اور فوراً دوسری طرف ملائی ،ایک پل میں رابطہ ہو گیا ،” کون ہیں یہ لوگ ؟“

” پتہ نہیں؟“ دوسری جانب سے کہا گیا

” ٹھیک ہے ، میں پتہ کرتی ہوں ، تم سب کور پر آ جاﺅ ۔“ اس نے کہا اور مجھے چلنے کا اشارہ کیا ۔ میں نے گیئر لگایا اور چل پڑا۔ وہ میرے سامنے تھے ۔ اس لئے میں نے ہیڈ لائیٹس روشن کر لیں اور چند منٹ میں وہاں ان کے قریب جا پہنچا ۔ ہمارے سامنے بھی ایک فور وہیل کھڑی تھی ۔ اس کا رخ اونٹوںکی طرف تھا ۔اس سے کچھ لوگ باہر نکل آ ئے تھے ۔ ممکن ہے کوئی ایک آ دھ ہی اندر ہو ۔ارم رکتے ہی نیچے اتر گئی ۔وہ سب لوگ ہماری فور وہیل کی ہیڈ لائیٹس دیکھ سکتے تھے لیکن ہم کتنے ہیں ، یہ انہیں پتہ نہیں چل سکتا تھا ۔دوسری جانب سے میں بھی اتر آ یا ۔ میں نے اپنا پسٹل نکال لیا تھا ۔میرے بائیں جانب ارم آ گے بڑھ رہی تھی ۔ایسے میں ساجن کی آ واز گونجی

” کون ہو تم لوگ ؟“وہ آواز بازگشت ہی ثابت ہوئی ۔ سامنے سے کوئی آ واز نہیں ابھری ۔” کون ہے بولو ؟“

یہ لفظ ابھی فضا میں پھیلے ہی تھے اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا ، ہم روشنی میں نہا گئے ۔ ایک دم سے ہمارے ارد گرد تیز روشنی پھیل گئی ۔ روشنی کے پھیلتے ہی دو فائر ہوگئے ۔ گولیاں ہم سے ذرا سے فاصلے پر ریت اُڑا چکی تھی ۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ ہمیں وارننگ دی گئی تھی ۔ میں نے تیز روشنی کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اٹھنے لگا تبھی ایک آ واز گونجی

” کوئی بھی حرکت ہوئی تو گولی مار دیں گے ۔“

” جانی پہچانی آ واز سن کر میرا دماغ بھک سے اُڑ گیا ۔ میں ابھی خود پر قابو پا ہی رہا تھا کہ وہ میرے سامنے آ گیا ۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا

” تنّی تم ؟“

” ہاں میں ، حیرت ہوئی نا ؟“ اس نے زہریلی مسکراہٹ سے کہا تو نجانے کیوں میرے بدن میں سنسنی پھیل گئی ۔ اس کا لہجہ ، انداز اور بات کرنے کا انداز بالکل ہی بدل چکا تھا ۔

” یہ کیا مذاق ہے تنّی؟“ میں نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو اس نے سرد لہجے میں کہا

” یہ مذاق نہیں حقیقت ہے ۔میں تو سمجھتا تھا تم بہت عقل مند ہو گے ، لیکن تم انتہائی بے وقوف نکلے ہو ۔“

یہ لفظ ابھی اس کے منہ ہی میں تھے کہ ارم نے پسٹل نکالنے کی کوشش کی ، اسی لمحے فائر اس کے دونوں پیروں کے درمیان آ پڑا ۔ بلاشبہ اس کے ساتھ آئے لوگ اندھیرے میں کھڑے تھے ۔

” یہ کیا کر رہے ہو تنّی؟“ میں نے سخت لہجے میں کہا

”یہ اپنے آپ کو بڑی چالاک سمجھ رہی ہے ، سوچ رہی ہوگی کہ یہاں لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا مقصد پورا کر لے گی ۔ لیکن میں بتا دوں ، یہاں سارے اس علی جیسے احمق نہیں ہیں ۔اپنا پسٹل نکال کر نیچے پھینک دو ۔“ آخری لفظ اس نے حقارت بھرے لہجے میں کہے تھے ۔

”تنّی تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟“میں نے تپتے ہوئے دماغ کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا

” بالکل سمجھ رہا ہوں ، اب وقت یہ ہے کہ تمہیں سمجھنا چاہئے ۔یہ جو ڈرامے کی آ ڑ میں جال بچھا کر بیٹھی ہے نا ا سکا کھیل ختم ہو گیا ۔“

” تنّی ، تم بہت غلطی کر رہے ہو۔ “ میں نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ ہنس دیا

” غلطی ، بڑا زبردست لطیفہ سنایا ہے تم نے ۔“اس نے طنزیہ لہجے میں کہااور آ گے بڑھا۔ وہ میرے قریب پہنچ گیا ۔ اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا ۔ اسی لمحے کچھ لوگ پیچھے سے آئے اور انہوں نے مجھے قابو کر لیا ۔ میں نے مزاحمت کرنا چاہی تو ایک نال میرے ماتھے سے آ لگی ۔

” نہیں ، تم دونوں کو ہمارے ساتھ جانا ہوگا ۔“ تنّی نے گھمبیر لہجے میں کہا

میں نے دیکھا ارم کے ارد گرد بھی چند لوگ آ گئے تھے ۔ ارم چند لمحے کھڑی سوچتی رہی ، پھر اس نے پسٹل ریت پر پھینک دیا ۔

” یہ ہو ئی نا بات ، اسے کہتے ہیں عقل مندی ۔ “ تنّی نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر اپنے لوگوں کو اشارہ کر کے پلٹ گیا ۔تبھی تیز روشی ہم سے ہٹ گئی ۔ فوری طور پر میری نگاہوں کے سامنے اندھیر چھا گیا ۔ مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔وہ ہمیں دھکیلتے ہوئے آ گے بڑھ رہے تھے ۔ وہ مجھے میری فور وہیل تک لائے اور میرے ہاتھوں کو باندھنے لگے ۔مجھے ارم کو انہوں نے باندھا اور میری ہی فور وہیل میں مجھے لا پھینکا ایک بندہ اپنے ساتھی کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔

تنّی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن اس بندے نے فور وہیل کو گیئر لگا دیا تھا ۔ مجھے یہ انداز بھی نہیں تھا کہ وہ ہمیں کہاں لے کر جا رہے ہیں ۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھا میں باہر دیکھے کی کوشش کر رہا تھا ۔ہر جانب بکھرے صحرا میں کہاں پتہ چلتا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں ۔میں نے ڈرائیور کی طرف دیکھ کر پوچھا

”اوئے ۔! ہمیں کہاںلے کر جا رہے ہو ؟“

میرے پوچھنے پر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔انہوں نے یوں رویہ دکھایا جیسے میری بات سنی ہی نہ ہو۔میں نے دوسری بات پوچھا تو وجاب نہیں دیا ۔

” رہنے دے ، یہ جواب نہیں دیں گے ۔“ارم نے سکون سے کہا تو میں بھنا گیا

” یہ تنّی بے غیرت ….یہ کتنا دھوکے باز نکلا ، ایک بار میرے ہتھے چڑھ جائے ۔“ میں دانت پیستے ہوئے کہا تو ارم ہنس دی ۔ اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کہنے کو تو اس نے کہہ دیا تھا کہ میں پر سکون رہوں لیکن مجھے کہاں چین آ سکتا تھا ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ مجھے دھوکا دے گا

تھوڑی دیر گزری تھی ، مجھے دربار پر جلتی بتیاں دکھائی دینے لگیں ۔ تب مجھے پتہ چلا وہ ہمیں وہیں لا رہے تھے ، جہاں سے ہم نکلے تھے لیکن چند ثانئے بعد ہی جب اس نے فور وہیل دائیں جانب موڑی تو مجھے یقین ہوگیا ۔ وہ ہمیں سائیں محبت خان کے ڈیرے کی طرف لے جا رہا تھا ۔

کم ازکم آ ٹھ ایکٹر میں پھیلے ہوئے سائیں محبت خان کے ڈیرے کی کچی دیواریں اونچی اونچی تھیں ۔ سامنے ایک قطار میں کافی سارے کچے کمرے بنے ہوئے تھے ۔ ان کے سامنے ایک طو یل برآمدہ تھا جہاں روشنی ہو رہی تھی ۔ دائیں جانب ایک بڑا سا ہال نما کچا کمرہ تھا ۔جہاں مویشوں کے لئے چارہ وغیرہ رکھا جاتا تھا ۔ ایک جانب باڑا تھا جہاں بھیڑیں ،بکریاں ، گائیں اور اونٹ بندھے ہوئے تھے ۔ وہاں چند لوگ ہیولوں کی مانند دکھائی رہے تھے ۔

 فور وہیل اس برآمدے کے پاس آن رکی، جہاں پہلے کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں ۔اسی لمحے چند لوگ تیزی سے ہماری جانب بڑھے۔ انہوں نے ایک حصار بنا لیا ۔ پہلے مجھے نکالا اورپھر ارم کو نکال کے برآمدے میں لے گئے ۔اگلے بند لمحوں میں ہم کمرے کے اندر تھے ۔اونچی چھت ، چھوٹے دروازے اور عجیب کچی کچی کچی بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔وہاں جاتے ہی دولوگوں نے گنیں تان لیں ۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ گنیں انتہائی جدید قسم کی تھیں ۔میری حیرت ابھی کم نہیں ہوئی تھی کہ ایک بندے نے مجھے پشت سے دھکا دیا اور کمرے کے اندر بنے دروازے میں دھکیل دیا ۔ میرے پیچھے ہی وہ ارم کو لے آ ئے ۔وہاں کمرے میں ایک بندہ کھڑا تھا ۔ اس نے کچے فرش پر پڑی ہوئی بڑی سی ترپال ہٹائی ۔اس ترپال کے نیچے فرش میں سے سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھیں ۔ بلاشبہ وہ تہہ خانہ تھا ۔

کافی بڑا تہہ خانہ تھا ۔ مدقوق سے بلب کی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ ایک طرف چند لکڑی کے صندوق رکھے ہوئے تھے ۔چند مٹی کے برتن اور کونی میں ایک لاٹھی پڑی ہوئی تھی ۔وہ ہمیں چھوڑ کر واپس پلٹ گئے ۔ہم دونوں آ منے سامنے کی دیواریوں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔

” یہ تنّی نے کیا ہے سب کچھ ….“ میں خود کلامی کے سے انداز میں بولا تو ارم نے سنجیدگی سے کہا

”ایسا ہوتا ہے ۔ یاد کر میں نے کہا تھا نا تمہیں ، تیرے ارد گرد ہی کوئی دشمن ہے ۔باہر کا بندہ جتنی مرضی پلاننگ کرلے ، وہ اتنی کامیاب نہیں ہوتی جتنا اندر کا بندہ نقسان پہنچاتا ہے ۔“

” تم ٹھیک کہتی ہو ، میں ہی اپنے ارد گرد کا ہوش نہیں رکھ سکا ۔مجھے اگر بھنک بھی ….“میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹ کر بولی

”منافق کی یہی کامیابی ہے کہ وہ اپنی منافقت کا پتہ نہیں چلنے دیتا ۔اسی لئے منافق خطرناک ترین مخلوق ہے ۔دشمن جتنا بھی مضبوط ہو ، اس کا مقابلہ کیا جا سکتاہے لیکن منافق جو کچھ کرتا ہے، وہ بہت بڑا نقصان پہنچاتا ہے ۔“

”لیکن وہ تو ….“ میں نے کہنا چاہا کہ سیڑھیوں پر چاپ سنائی دی اور چند لمحوں بعد تنّی ہمارے سامنے تھا ۔ اس کے ہو نتوں پر بڑی خبیثانہ مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔وہ ہمارے درمیان میں کھڑا ہو گیا ۔ اس نے باری باری ہم دونوں کو دیکھا اور پھر قہقہ لگا کر حقارت سے بولا

”کیوں…. پڑے ہو نا ایک بے بس چوہے کی مانند ، کیسا لگ رہا ہے ؟“

مجھے غصہ پہلے ہی تھا اس کے لفظوں نے میرے اندر آگ لگا دی ، میں اسے جی بھر کے گالیاں دینا چاہتا تھا ، اسے اس کی اوقات یار دلانا چاہتا تھا لیکن اپنے جذبات کا اظہار سوائے فضول کوشش کے اور کچھ نہیں تھا ۔میں نے اس کے طنزیہ انداز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا

”میں نہیں جانتا ، تم نے ایسا کیوں کیا ہے ۔لیکن اتنا جان لو ، یہ تم نے بہت خطر ناک کھیل کھیلا ہے ۔“

”کھیل …. تم اسے صرف کھیل سمجھتے ہو ، لیکن میں تم جیسے زمینداروں ، جاگیرداروں سے نفرت کرتا ہوں ۔“ اس نے انتہائی نفرت سے کہا ، پھر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا،”ہاں اگر تم اسے کھیل ہی سمجھتے ہو نا ، تو پھر داد دو مجھے ، کس طرح میں نے تمہیں اپنے اشاروں پر نچایا ہے ۔تم ایک بندر کی منند میرے اشاروں پر ناچتے رہے ہو ۔“

”  اس کا مطلب یہ ہوا ….“ میں نے غصے میں کہنا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکتے ہوئے کہا

”بس ، زیادہ بکواس نہیں کرو ، صرف میری سنو ۔“

”میرے ایک بار ہاتھ کھول ، پھر میں تمہیں بتاتا ہوں ۔“ میں نے سرد لہجے میں کہا

”میں تمہارے ہاتھ کھول بھی دوں ، تمہیں آ زاد بھی کرودوں پھر بھی تم میرا کچھ بگاڑ سکتے ۔تم ایک مریل چوہے کی طرح ،نہین بلکہ ایک کتے کی طرح میرے سامنے دُم ہلاتے پھرو گے ۔جانتے ہو کیسے ؟“اس نے سرخ ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔ میں خاموش رہا تو وہ کہتا چلا گیا ،”تم بے وقوف نہیں انتہائی درجے کے احمق ہو ۔ کیونکہ بے وقوف کو سمجھایا جا سکتا ہے لیکن احمق نہیں سمجھتا ، میں یہ بھی جانتا ہوں تم بھولے نہیں ہو ، مگر میں نے تیرے جذبات سے کھیل کر تجھے اپنی راہ پر لے آ یا ہوں ، اس طرح جیسے کسی کتے کو سدھایا جاتا ہے ۔“

” لیکن اس وقت تم میرے سامنے کسی کتے کی طرح بھونک رہے ہو ۔تم نہیں جانتے میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتا ہوں ۔“ میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہ ا

” تم کچھ بھی نہیں کرسکتے ، اگر یہ کتیا تیرا ساتھ نہ دیتی تو اب تک تم وہی کرتے جو میں چاہتا ، سنو ، جس دن پہلی بار میں تیرے پاس لاہور گیا تھا ، اسی دن میںنے فیصلہ کر لیا تھا کہ تجھے کس طرح استعمال کرنا ہے ۔“

” تم اور مجھے استعمال کرو گے ، بے غیرت ….“ میں نے اسے اشتعال دلایا

”ہاں ، کروگے نہیں ، تم استعمال ہوئے ہو ، جیسا میںنے چاہا تم ویسا ہی کر رہے تھے کہ یہ لونڈیا ٹپک پڑی ، لیکن پھر بھی تم اتنا کچھ کر چکے ہو کہ میرے اشاروں پر ناچ سکو ۔“ یہ کہہ کر اس نے قہقہ لگا دیا ۔

”یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟“ میںنے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو مسکراتے ہوئے بولا

”ہم نے چاہا تھا کہ تیرے ہاتھوں پورے علاقے میں پھیلا ہوا وہ گند صاف کروا دیں ، جو ہمارے راستے میں رکاوٹ ہیں ۔تمہیں اہمیت دیں ۔ پڑھے لکھے ہو ، تمہیں ایم این اے بنوائیں ، اور پھر تمہیں پوری طرح استعمال کریں ۔ لیکن تم اس کے ہاتھ چڑھ گئے ۔جو ہماری ہی جڑیں اکھاڑنا چاہتی ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے ارم کی جانب دیکھا اور دانت پیستے ہوئے بولا ،”یہ ، خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتی ہے ، اسے تو اب مرنا ہے ، بڑی اذیت ناک موت مرنا ہے ۔کیونکہ اس نے بھی تمہیں استعمال کیا ، اس نے بھی تیرے سہارے اس علاقے میں ہمیں ختم کرنا چا ہا مگر یہ نہیں جانتی ، صحرا میں شکار کھیلنا بڑے دل گردے کا ، بڑے حوصلے کا اور بڑے صبر کا کام ہے ۔دماغ کو حاضر رکھنا پڑتا ہے ۔“

وہ اپنی بات کہہ کر چپ ہو گیا ۔ ہمارے درمیان بھی خاموشی آ ن ٹھہری ۔میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ارم بولی

”کیا چاہتے ہو تم ؟“

”تم جانتی ہو ، لیکن اس علی کو نہیں پتہ ۔سنو میں اس علاقے کا بے تاج بادشاہ بننا چاہتا ہوں ۔ جو چاہوں وہی کروں ، کوئی مجھے روکنے ٹوکنے والا نہ ہو ۔“

” سائیں محبت خان بھی نہیں ، جس کے تم کتے ہو ؟“ ارم نے زہریلے لہجے میں کہا تو وہ بھنا کر رہ گیا ۔ وہ اس کے قریب بیٹھ گیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لے کر بولا

”جس رات تم نے ساجن کو پکڑا، پھر اسے غائب کیا، میں اسی دن سمجھ گیا تھا کہ تم کون ہو اور کیا کھیل کھیلنا چاہتی ہو ۔سرحد پار ہمارا کاروبار ہے ۔ بڑے لوگ آ تے ہیں اور جاتے بھی ہیں ۔یہ سائیں محبت خان جانے اور اس کا کام۔“ یہ کہتے ہوے اس نے ارم کے چہرے کو جھٹک دیا

”تنّی ، تم حد سے تجاوز کر رہے ہو ، اتنا کچھ ہی کرو ، جتنا تم سہہ سکو ۔“ میں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

” مجھے کون روک سکتا ہے ۔ اِس ارم نے جو اپنے ساتھ لائے لوگوں کا جال پھیلایا ہوا ہے ۔ وہ سب پکڑے جا رہے ہیں ، اب وہ ہمارے جال میں یوں گر رہے ہیں جیسے تیتر گرتے ہیں ۔انہیں تو صبح پتہ چلے گا ، ان کے ساتھ ہو کیا گیا ہے اور تم دونوں ، اس وقت آ سمانوں پر پہنچ چکے ہوں گے ۔“اس نے کہا اور قہقہ لگا دیا

” اب چاہتے کیا ہو ؟“ میں نے کہا

”جب تک ارم کے سارے ساتھی پکڑے نہیں جاتے، اس وقتتک تم دونوں کو مہلت ہے ۔ ارم نے تو مرنا ہی مرنا ہے ، اس کی موت کا فیصلہ تو ہو چکا ہے ۔ اتنی محنت سے بنایا نیٹ ورک تباہ کرنے کی سزا موت ، بہت تھوڑی ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے ایک ٹھوکر ارم کی پسلیوں میں ماری ، وہ دہری ہو کر رہ گئی ۔اس سے انداز ہو رہا تھا کہ تنّی کے اندر کتنی نفرت پھیلی ہوئی تھی ۔ارم دہری ہو گئی ہوئی تھی ۔ مجھے دکھ ہو رہا تاھ کہ میرے سامنے کھڑا تنّی ہی مجھے للکار رہا ہے اور ہمیں ٹھوکریں مار رہا ہے ۔ یہ میرے اعصاب کا امتحان تھا ۔

”تنّی ، تم نے ہمیں مارنا ہے تو مار دے لیکن اپنی اوقات میں رہ ، مجھے دکھ ہو گا کہ تیرے جیسے بے غیرت بندے کے ہاتھوں میرا قتل ہوا ہے ۔چلا گولی اور مار دے ہمیں ۔“میں نے بے قابو ہو تے ہوئے کہا

” مارنا تو ہے تمہیں ، لیکن میں تمہیں ایک چانس دینا چاہتا ہوں ۔ ورنہ موت تمہارے مقدر میں ہے ۔“ اس نے سوچنے ہوئے لہجے میں کہا

”کیسا چانس ؟“ میں نے پوچھا

”دیکھ ، اب تک تم نے جو کیا ، وہ کسی نہ کسی صورت میرے پاس محفوظ ہے ۔تم نے جتنے قتل کئے ، میں ان سب کے بارے میں جانتا ہوں ، تیرے ساتھ رہا ہوں۔ میںنے سارا بندوبست کیا ہوا ہے ۔اس بار اگر تم جیل چلے گئے تو پھانسی کے پھندے سے ….“

” سیدھی طرح بھونک کیا کہنا چاہتا ہے ؟“میں نے حقارت سے کہا

” سمجھا رہا ہوں ، بتا رہا ہوں کہ میں کیوں تمہیں چانس دینا چاہتا ہوں ۔سن ، غور سے سن پیارے ۔“ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا تومیں خاموش رہا ۔ وہ کہتا چلا گیا ،”دو تین پرچے تو تیار پڑے ہوئے ہیں ، ایک آ دھ مزید بنا لیا جائے گا ، اس میں کون سا محنت کرنا پڑتی ہے ، علاقے کی کوئی بھی واردات تجھ پر ڈال دی جائے گی ۔یہ ہے تمہارا اس وقت کا حال ، بلکہ وہ جو تم کہا کرتے ہو، اس وقت کا اسٹیٹس ….“

” تو پھر کیا ہوگا ؟“ میںنے سمجھتے ہوئے پوچھا

”ہوگا کیا ؟ اگر تم ہماری بات مان لیتے ہو ، وہی کچھ کرتے ہو جو ہم کہتے ہیں تو ہم تجھے اس علاقے کا ایم این اے بنوا دیں گے ۔تیرا رعب ہو گا پورے علاقے پر ، لیکن اس سے پہلے تمہیں چوہدری سردار کو اسی طرح مارنا ہو گا، جس طرح پہلے ان بندوں کو مارا ہے ۔اس وقت وہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔“

” اگر تم اتنے ہی طاقت ور ہو تو خود کیوں نہیں مار دیتے ہوتم ، اتنی تمہاری اوقات ….“

” اوقات بڑی ہے ، اس کا ثبوت تم دونوں ہو جو اس وقت میری ٹھوکروں میں پڑے ہو ۔میں نے صرف چوہدری سردار نہیں اور نہ جانے کتنے بندے تجھ سے مروانے ہیں ۔“

” اچھا، ایسا چاہتا ہو تم ؟“ میں حیران رہ گیا

”میں ایسا ہی چاہتا ہوں اور تم کرتے چلے آ رہے ہو ، میں تمہیں ایک ایک کرکے وہ سب کچھ بتا سکتا ہوں کہ جب تم نے جو کچھ کیا ، وہ میںنے کس طرح تم سے کروایا ۔پوری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ روشن مسلّی کو پھتو مسلی نے مارا ، میںنے مارا اسے ، میں نے تمہیں پورے دو ہفتے دیکھا ۔“

” یہ تمہارا گھٹیا پن ہوا نا پھر ۔“ میںنے طنز سے کہا

” لیکن تم جیسے احمق نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ یہ سارا کچھ میں ہی تمہیں کیوں بتا رہا ہوں ؟“ یہ کہہ کر وہ ذرا سا خاموش ہو اپھر کہنے لگا ،” جس رات تم اپنے مزارع کو لے کر چوہدری سلطان کے ڈیرے پر گئے تھے ، میں دور سے نگرانی کر رہا تھا ، میں دیکھ رہا تھا تم دونوں نے کیسے کیا ہے یہ سب ، وہاں کی تسویریں ہیں میرے پاس ۔لیکن ایک بات ہے ، ہو تم جی دار ، مجھے بڑا دکھ ہوگا جو تم میرے ہی ہاتھوں مارے جاﺅ گے ۔افسوس ہو گا ۔“

”تم جیسے گھٹیا بندے کا افسوس بنتا ہی نہیں ہے ۔اب جو کرنا وہ تم کرو ۔“ میں نے کہا لیکن اس نے میری بات نظر انداز کرتے ہوئے کہا

 ”علی ، میں تمہیں اسی شرط پر چھوڑ سکتا ہوں ، تم وہی کرو گے جو ہم چاہتے ہیں ۔بولو کیا کہتے ہو ؟“

” ہم دونوں کو چھوڑ دو ، میں ….“ میںنے کہنا چاہا لیکن وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولا

” اس کی موت کا فیصلہ تو ہو چکا ، یہ جانے اور سائیں محبت خان جانے ۔ مجھے تم سے غرض ہے ۔ میری پھیلائی ہوئی شطرنج کے مہرے تم ہو ۔ بولو تم کیا کہتے ہو ۔ شرط مانتے ہو یا اسی لونڈیا کے ساتھ مرنا چاہتے ہو ؟“

” علی تم جاﺅ ، اپنی زندگی بچاﺅ ، میری وجہ سے موت کو گلے مت لگانا ۔ “ ارم نے حسرت سے کہا

”نہیں ، میں ایسا نہیں کر سکتا ، جاﺅ تنّی ، تم جو چاہو کرو ، لیکن میں تمہاری بات نہیں مانوںگا ۔“ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

” نہیں علی تم ….“ ارم نے کہنا چاہا تو تنّی بولا

” ٹھہرو ، میں تم دونوں کو تھوڑا سا وقت دے دیتا ہوں ، سوچ لو ، مجھے تم دونوں کو مارنے کی کوئی جلدی نہیں ، صبح تک کا بڑا وقت ہے ۔میں کسی بھی وقت تم دونوں کے بھیجے میں گولی اتار سکتا ہو ۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے کھڑا دیکھتا رہا ، پھر پلٹ کر سیڑھیا ں چڑھتا چلا گیا ۔

٭….٭….٭

 ہم دونوں میں خاموشی تھی ۔ شاید ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ سوچ رہے تھے ۔ مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ تنّی ایسا کر سکتا ہے ؟ وہ میرے سامنے یوں تن کر بات کرے گا ؟ اس کی سوچ اتنی گھٹیا ہو سکتی ہے ؟ وہ مظلوم کے بھیس میں ایک ایک مجرم تھا ؟ میں نے اس پر اعتماد کیا ۔ کیا یہ اعتماد کرنے کا نتیجہ ہے کہ میں یہاں پڑا ہوا ہوں ۔میری سوچیں تھیں کہ پھیلتی چلی جا رہی تھیں ۔

کافی دیر بعد ارم نے کہا

” علی ، تمہیں زندگی کا ایک بڑا چانس مل رہا ہے ۔ یہ قتل کرانا ، جرائم کی دنیا کی سرپرستی کرنا ، یہی معمول ہے ، تم زندگی مت گنواﺅ ،تنّی کی بات مان لو ۔ جاﺅ زندگی کے مزے لو ۔“

”مجھے افسوس ہے ارم ، تم نے مجھے اب تک سمجھا ہی نہیں ۔ اگر میری سوچ مجرمانہ ہوتی نا تو میں لاہور میں ….“ میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹ کر بولی

” تجھ میں اور مجھ میں بڑا فرق ہے ۔ تم کسی فرض کو نہیں نبھا رہے ہو ، لیکن میں ایک محاذ پر کھڑی لڑ رہی ہوں ۔“

” ارم ، ضروری نہیں بندہ کسی فرض کی ادائیگی میں محاذ پر ہی ہو ، ہم خود کو بھی جوابدہ ہیں ، انسانیت اور درندگی میں فرق ہوتا ہے ۔ میں انسان ہوں درندہ نہیں ۔“ میںنے کہا

” میں توتمہیں زندگی بچانے کا مشورہ دے رہی ہوں ۔“ اس نے میرے چہرے پر غور سے دیکھتے ہوئے کہا

”میں جانتا ہوں کہ میں نے تنّی جیسے بندے پر اعتماد کرکے بہت بڑا نقصان کیا ہے ۔ میں اس پر نہیں پچھتا رہا بلکہ مجھے افسوس یہ ہو رہا ہے کہ تم اس وجہ سے اس کے چنگل میں پھنس گئی ہو ۔“میں نے پوری سچائی سے کہا

” تو پھر کیا کرو گے ؟ میرے ساتھ تم کیوں مرنا پسند کرو گے ، صرف اس لئے کہ میں تمہاری وجہ سے ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

” بات یہ نہیں ہے ، موت تو اسی دن آ نی ہے جب لکھی گئی ہے ، یہ کچھ نہیں کر سکتے ۔“

” تم حقیقت سے نگاہ چرا رہے ہو علی ؟“اس نے دھیمے سے کہا تو میں خاموش رہا ۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ وہ کچھ لمحے میرے جواب کا انتظار کرتی رہی پھر بولی ،”تیرے پاس صرف دو آپشن ہیں ۔“

” کیسے آ پشن ؟“ میںنے پوچھا

”تم ان کی بات مان لو اور عیش کرو ۔ اپنی جان بچاﺅ ،مجھے مر جانے دو ۔دوسرا ، میرے ساتھ مزاحمت کرو اور میرے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرو ۔کامیاب ہو گئے تو ٹھیک ، ورنہ مرنا تو ہوگا ۔“

”میں مزاحمت کروں گا ۔“ میں نے اسی لمحے کہہ دیا تو ارم کی نگاہیں چمک اٹھیں ۔اس نے دھیرے سے دیوار سے ٹیک چھوڑ دی ۔وہ کھسکتی ہوئی میرے طرف آ نے لگی ۔ میں بھی اس کی جانب بڑھ گیا ۔ تہہ خانے کے وسط میں وہ بالکل میرے قریب آ گئی ۔وہ میرے چہرے پر دیکھنے لگی ، پھر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ ایسی حرکت کیوں کر رہی ہے ؟

گرم ہونٹوں کے لمس کے ساتھ ایسی شدت لپٹی ہوئی تھی جو میرے جسم کے ہر مسام تک جا پہنچی تھی ۔چند لمحے وہ مجھ میں یوں پیوست رہی جیسے مجھ سے الگ ہو ئی تو مر جائے گی ۔پھر وہ ایک دم سے پیچھے ہٹ گئی ۔اس کا چہرہ میرے سامنے تھا ۔ وہ مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے مجھے پور ے وجود کے ساتھ ہی اپنی آ نکھوں میں سما لینا چاہتی ہو ۔اس کی آ نکھیں جیسے شور مچا رہی تھیں ۔ ان میںکہنے کے لئے اتنا کچھ تھا جن کے لئے کئی برس درکار ہو سکتے تھے ۔ اس کا ذرا سی دیر میرے چہرے پر دیکھتے رہنا، نجانے مجھ پر کتنے انکشاف کر گیا تھا ۔ شاید لمحوں میں صدیوں کا سفر اسے ہی کہتے ہیں ۔

میںاس کی وحشتوں کو دیکھ کر مسکرا دیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور اس کے گال پر رکھ دیا ۔ اس کا جسم تپ رہا تھا ۔ چند ثانئے میں اس کی طرف دیکھتا رہا ، پھر اسے گلے لگا کر موہوم سی آ واز میں اسے سمجھاتا چلا گیا کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ میرے ساتھ چپکی سنتی رہی ۔سب سن کر وہ مجھ سے الگ ہوگئی ۔اس کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں ۔وہ میری بات سمجھ گئی تھی جس میں جہاں رہائی کی امید تھی ، وہاں اتنا ہی موت ہمارے قریب تر تھی ۔ لیکن ہم نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔

ہم آ منے سامنے کی دیواروں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ سنائی دی ۔میں نے ارم کی طرف دیکھا اور تیار ہو گیا ۔آنے والا تنّی ہی تھا ۔وہ کمرے میں آ کر رک گیا ۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا

” ہاں ، علی پھر کیا فیصلہ کیا تم نے ؟“

” دیکھ تنّی ، اس بار تم ارم کو چھوڑ دو میں ….“میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولا

” یہ میرا فیصلہ نہیں ہے جانی ، یہ سائیں محبت خان کا فیصلہ ہے ۔ وہ اسے برداشت نہیں کر رہا ہے ۔شاید اس ارم نے اُسے بہت زیادہ نقصان پہنچا دیا ہے ۔میرا معاملہ تو تیرے ساتھ ہے ۔“

” تم جاﺅ ، ایک بار میرا پیغام سائیں محبت خان کو دو ، اسے کہو کہ ایک بار ارم کو چھوڑ دو ، پھر اس کے بعد ساری ذمے داری میری ہے ۔میں ضمانت لیتا ہوں ہر طرح کی ۔“میںنے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”وہ نہیں مانے گا ۔“ تنّی نے سر پھیرتے ہوئے کہا

” نہیں مانے گاتو پھر جو تم کہتے ہو،وہ کر لیں گے ۔“ میںنے کہا تو ایک لمحہ کو اس نے سوچا ، تبھی میںنے بات بڑھاتے ہوئے کہا،” یا پھر سائیں سے میری بات کروا دو ۔“

” تم کیا بات کرو گے ؟“اس نے تیزی سے پوچھا

”میں اسے قائل کرنے کی کوشش کروں گا ، ظاہر ہے ، میں اسے کچھ نہ کچھ تو کہوں گا ۔“میں نے سکون سے کہا

” اوکے ، وہ اوپر موجود ہے ، ابھی آ یا ہے ۔ اسی نے مجھے کہا ہے کہ میں آخری بار تم سے پوچھ لوں ، اگر ….“ اس نے مزید کہنا چاہا تو میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” یار میری بات کروا دو ، پھر دیکھتے ہیں ۔“

” ایک منٹ ، انتظار کر ۔“ اس نے کہا اور فوراً ہی واپس پلٹ گیا ۔مجھے لگا ، میں بہت حد تک کامیاب ہو گیا تھا ۔میں نے ارم کی طرف دیکھا ، وہ بے حد مطمئن تھی ۔وہ پھر میری جانب بڑھی ۔میں اس کی جانب لپکا ۔ہم ایک دوسرے بالکل قریب ہو گئے ۔ اتنے قریب کہ جیسے یک جان دو قالب ہوں ۔ اس وقت ہمارے درمیان کوئی جذباتی ربط نہیں تھا بلکہ میں ارم کے ہاتھ کھولنا چاہتا تھا ۔ میری کلائیاں اگر بندھی ہوئیں تھیں تو میری انگلیاں کام کر رہی تھیں ۔ اس کی بھی کلائیاں ہی بندھی ہوئیں تھیں ۔وہ جیسے ہی میرے ساتھ لگی ، میںنے تیزی سے اس کی کلائیوں پر بندھی رسی کھولنا شروع کر دی ۔ ایک یا دو منٹ لگے ہوں گے ۔ اس کی رسیاں کھل گئیں ۔ لیکن ان رسیوں کو جدا نہیں کیا ۔ پہلی نگاہ میں یہی دکھنا چاہئے تھا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔

تنّی کو گئے ہوئے پانچ منٹ سے بھی زیادہ کا وقت ہو گیا تھا ۔وہ واپس نہیں پلٹا تھا ۔ میرے اندر سنسنی پھیلنے لگی تھی ۔ اس کا دیر کرنا ہی ہمارے لئے ایک اچھا شگون تھا ۔ارم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیلنے لگی تھی ۔

سیڑھیوںپر قدموں کی چاپ پھر سے ابھرنے لگی تھی ، ہم خاموش تھے ۔ تنّی پھر ہمارے سامنے آ ن کھڑا ہوا تھا ۔اس نے پہلے میری طرف اور پھر ارم کی جانب دیکھ کر کہا۔

” تم یہیں رہو گی ، اوپر صرف علی جائے گا ۔“

ارم نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ تنّی نے مجھے اپنے ساتھ آ نے کا اشارہ کیا اور قدم بڑھا دئیے ۔اس وقت میرے بھی ہاتھ بندھے تھے ۔میںنے جان بوجھ کر تنّی کے سامنے اپنے ہاتھ کر دئیے ۔ وہ مجھ سے بہ مشکل دو قدم آ گے تھا ۔ میں اسے جکڑ سکتا تھا ۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا ۔میں سمجھ رہا تھا کہ وہ جان بوجھ کر مجھے موقع دے رہا ہے ۔ اس نے میرے ہاتھ کھول دئیے ۔میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اوپر جا پہنچا ۔

وہاں منظر ہی الگ تھا ۔ ایک طرف چارپائی پر سائیں محبت خان بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کے سرخ و سپید چہرے پر سکوت طاری تھا ۔ پہلی نگاہ میں سمجھا ہی نہیں جا سکتاتھا کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ۔اس کی آ نکھیں ٹھہری ہوئیں تھیں ، جیسے کچھ بھی سننے کی عادی ہوں ۔اس کے ڈھیلی سڑابری کی طرح ہونٹ ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے ۔ کرتا شلوار اور بڑی سی پگڑی پہنے وہ کوئی زمیندار تو لگ رہا تھا لیکن اندر سے کتنا خبیث تھا ، اس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا تھا ۔ اس کے ارد گرد کئی گن مین کھڑے تھے ۔ جن کے ہاتھوں میں جد ید گنیں پکڑی ہوئیں تھیں ۔ اس کے ایک اشارے پر وہ کئی برسٹ مار سکتے تھے ۔ میری نگاہ برآمدے میں پڑی تو وہاں بھی فور وہیل کے پاس کچھ لوگ کھڑے تھے ۔میںنے ایک ہی نگاہ میں سارا جائزہ لیا اور اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے سر سے پاﺅں تک مجھے دیکھا اور بڑے نرم سے لہجے میں کہا

” بہت عرصے بعد دیکھا ہے تمہیں ، جوان ہو گئے ہو ؟“

” بس سائیں دعاہے آ پ کی ۔“ میں نے ممنونیت سے کہا تو وہ زہریلے انداز میں ہلکا سا مسکرا دیا پھر بڑے پر سکون سے لہجے میں پوچھا

” تم اسے کیوں بچاناچاہتے ہو ؟“

” اس میں بہتری ہے ؟“ میں نے گھمبیر لہجے میں کہا

” یہی کہنا چاہ رہے ہو نا کہ وہ ایجنسی کی عورت ہے ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” ہاں ، یہی ،بتانا چاہ رہا تھالیکن آپ کو تو پتہ ہے ۔“ میں نے کھسیانا سا ہو کر کہا

”یہ جس دن یہاں آ ئی تھی نا ، مجھے اس دن کا پتہ ہے ، میرے لوگوں نے اسی دن بتا دیا تھا ، ایجنسی والے لوگ تو اپنا پتہ ہی نہیں لگنے دیتے ۔ یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے ۔“ اس نے نفرت سے کہا

”پھر بھی ایک بار اسے معاف کردیں ۔“ میں نے اسے کہا تو وہ غضب ناک انداز میں بولا

”کیوں معاف کردوں ؟“

” اس لئے کہ اگر مجھے آپ کے ساتھ کام کرنا ہے تو میں کوئی نیا محاذ نہیں کھولوں گا ۔“ میںنے کہا تو اس نے چمکتی ہوئی آ نکھوں سے پوچھا

 ” تو اس کا مطلب ہے ، تم ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہو ؟“

” بالکل ، میں یہ سب کر کیوں رہا ہوں ۔کوئی تو میرا قدر دان میرے سامنے آ ئے ۔بابا نے بڑی زندگی شرافت سے گزار لی ۔ یہ وقت ہی نہیں ہے شرافت کا ۔“ میںنے کمینے پن سے کہا تو وہ ہنس دیا

” مطلب جو کچھ بھی تنّی نے کہا ، وہ کر وگے نا؟“ اس نے دوبارہ وہی سوال دوسرے انداز میں کر دیا

”سائیں ایم این اے بننا کسے اچھا نہیں لگتا ۔لوگوں پر حکومت کرنا کسے پسند نہیں ۔بابا کے اصولوں پر چلتا رہا تو کبھی کونسلر نہیں بن سکتا ۔“میں صاف لہجے میں کہا

” اچھا ، تو یہ بات ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ ذرا دم لینے کو رُکا پھر بولا ،” دیکھو، تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چاہئے کسی بھی ایجنسی کی ہے ، یہ جانے اور ہم ، تم جاﺅ ، ہم تم سے رابطہ کر لیں گے ۔“ اس نے جانے کے لئے ہاتھ کا اشارہ کیا۔پھر تنّی سے بولا ،” لاﺅ اسے ، میں اپنے ہاتھ سے ماروں گا ، سالی نے نقصان ہی بہت کر دیا ہے ۔“

مجھے پتہ تھا کہ تہہ خانے میں کوئی نہیں ہے ۔نیچے ارم بندھی ہوئی نہیں تھی ۔تنّی انتہائی تیزی سے نیچے چلا گیا ۔مجھے لگا جیسے وہ ارم کو مارنے میں جلدی دکھا رہا ہے ۔میں اس کی طرف سے اپنا دماغ ہٹاتے ہوئے سائیں محبت خان کی طرف دیکھا پھربڑی ممنونیت سے بولا

” جیسے آپ کی مرضی سائیں ۔آپ جو کہو گے اب میں تو وہی کروں گا نا ۔ یہ لڑکی جانے اور آپ۔“ یہ کہتے ہوئے میں اس کے پیروں پر جھکا۔ اس نے میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرا ، میں سیدھا ہوا اور دونوں ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھائے ۔ اس نے شان بے نیازی سے ایک ہاتھ آ گے بڑھا دیا ۔ میںنے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لیا ۔ ان ہاتھوں کو چومنے کی غرض سے جھکا اوراگلے ہی لمحے میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔

 وہ وزن میں بہت بھاری تھا ۔ اسے پوری قوت سے کھینچتے ہوئے مجھے تارے نظر آ نے لگے تھے لیکن میں اسے کھینچ کر چار پائی سے نیچے پھینکنے میں کامیاب ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں حمائل کیا اور خود فرش پر آ ن رہا ۔ اسے اپنے اوپر لٹا کر اس کی گردن پر دباﺅ ڈالا۔وہ خرخرانے لگا ۔ مجھے اندازہ تھا کہ اسے بہت تکلیف ہورہی تھی ۔ وہ مچل رہا تھا ۔وہ گالیاں نکال رہا تھا لیکن وہ صحیح طرح بول نہیں پا رہا تھا۔ اوپر بھی ایک دم سے ہلچل مچ گئی تو میں تیزی سے بولا

” رک جاﺅ، ورنہ میں اس کی گردن یہیں توڑ دوں گا۔“

اس کے ساتھ ہی ہاتھ ڈھیلا کر دیا تو اس نے تیزی سے کہا

” رُکو ….“

ایک دم سے خاموشی چھا گئی ۔اس کے ساتھ ہی میںنے اپنا شکنجہ سخت کر تے ہوئے کہا

”سائیں میں اب بھی تیری بات ماننے کو تیار ہوں ، لیکن ارم کو جانے دو ۔ “

” ٹھیک ہے ۔“ اس نے فوراً ہی میری بات مان لی ۔ کیونکہ میں اس کی گردن پر دباﺅ بڑھاتا جا رہا تھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ میں زیادہ وقت نہیںنکال سکتا ۔ کچھ ہی دیر بعد میری گرفت ڈھیلی پر جائے گی ۔ اس طرح وہ باآ سانی میری گرفت سے نکل سکتا تھا ۔ تب پھر میرے لئے بہت مشکل ہو جانے والی تھی ۔

انہی لمحات میں تنّی تہہ خانے سے باہرآ گیا ۔ میںنے ارم کی ایک جھلک دیکھی تھی ۔شاید تنّی کے ذہن میں بھی نہیں ہوگا کہ باہر کا منظر ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔یہی وہ لمحہ تھا ، جب ارم نے پوری قوت سے چھلانگ لگائی اور ایک طرف کھڑے ہوئے گن مین پر جا پڑی ۔ اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں گن تھی ۔سبھی ایک لمحہ کے لئے ساکت ہو گئے ۔اس کے بندھے ہوئے ہاتھ کھل چکے تھے اور ان میں گن پکڑی ہوئی تھی ۔

” بس اب کھیل ختم ہو گیا سائیں ۔“ اس نے وحشت ناک انداز میں کہا تو ہر جانب سناٹا چھا گیا ۔کسی نے کوئی آ واز نہیں نکالی یوں جیسے وہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔

سائیں جو پہلے مچل رہا تھا ، اس نے بھی مزاحمت ختم کر دی ۔ وہ مجھ پر آ رہا تھا ۔ مجھے لگا جیسے میرا سانس بند ہو جائے گا ۔ میں نے تو خود کو اس لئے نیچے گرایا تھا کہ کوئی اوپر سے مجھ پر وار نہ کر دے ۔ اب بہت حد تک خطرہ ٹل گیا تھا ۔میں نے سائیں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن دبوچے اوپر آ گیا ۔میرے سامنے تنّی تھا جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا ۔میں نے اسے غور سے دیکھا اور پھر سائیں سے بولا

” سائیں ، میں اب بھی تمہارے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں ۔یقین جانو ، یہ سارا علاقہ تیرے لئے غلام بنا لوںگا۔ میں اب بھی کہتا ہوں ، ارم کو جانے دے ۔“

” جج…. جائے ….لیکن ….“اس کی آ واز نہیں نکل رہی تھی ۔ اس لئے اٹک کر بولا تھا ، میںنے اس کی گردن ذرا ڈھیلی چھوڑ دی ۔تو وہ بولا،” اسکی کیا گارنٹی ہے، یہ ہم سے انتقام نہیں لے گی ۔“

” میں اس کی گارنٹی دیتا ہوں ۔“ میں نے کہا

” کیا، کیسے ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

”میں ، آپ اور ارم ابھی دربار پر جاتے ہیں ، وہیں سب طے کر لیتے ہیں ، چلو گے ہمارے ساتھ ؟ “ میںنے کہا تو وہ ایک دم سے سہم گیا۔ میںنے بڑی خطرناک بات کہہ دی تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا ، ارم کی تیز آ واز گونجی

” پرے ہوجا علی ، میں نے اسے اب زندہ نہیں چھوڑنا ؟“

” نہیں ارم ، ہمارے درمیان بات ہو گئی ہے ۔ تم کچھ نہیںکرو گی ۔“ میںنے تیزی سے کہا

” انہوں نے ہمیں مارنا ہے ،کیوںنا ، مرتے مرتے انہیںمار جائیں ۔“ اس نے چیخ کر کہا

” نہیں ۔ “ میں نے مزاحمت کی ، اس دوران وہ باتیں کرتی ہوئی میرے قریب آ گئی ۔ اس نے گن کی نال سائیں محبت خاں کے سینے پر رکھ دی ۔ اس کی آ نکھوں سے نفرت بھرے شعلے نکل رہے تھے ۔

” چل ، وہاں دربار پر چل ۔“ ارم نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

”چلو سائیں جی چلیں ۔“ میں نے اسے باہر کی جانب لے جاتے ہوئے کہا

میںجانتا تھا کہ وہ آسانی سے جانے والا بندہ نہیں بہت گہرا آ دمی ہے ۔ اس نے کوئی نہ کوئی بندو بست کیا ہوا ہوگا ۔ لیکن میں جانتا تھا کہ ارم اکیلی یہاں تک نہیں آ گئی تھی ۔اس کے پیچھے بھی پورا انتظام تھا ۔ وہ اب تک سامنے کیوں نہیں آئے تھے ،ارم اس بارے بہتر جانتی تھی ۔

ہم برآمدے سے باہر کھڑی فور وہیل کے پاس آ گئے تھے ۔میں نے کن اکھیوں سے دیکھا ، تنّی حیرت زدہ ہمیں دیکھ رہا تھا ۔میں نے اس کی طرف سے نگاہیںہٹائیں اور سائیں محبت خان سے کہا

” سائیں جی ، ہم آپ کو بالکل نقصان نہیں پہنچائیں گے ، یہ میرا وعدہ ہے ۔لیکن اگر کوئی سامنے آیا تو معاف نہیںکریں گے ، یہ سمجھا دیں انہیں ۔“

” تم مجھے یہیں چھوڑ دو ، اور جاﺅ ۔“ اس نے کہا تو ارم نے بھناتے ہوئے مجھے گالی دے دی

”اُوئے بہن ….، اس کے ساتھ’ مذکرات‘ کر رہا ہے ، چل بٹھا اسے ۔“

یہ کہہ کر اس نے گن مجھے دی اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھی ۔میں نے سائیں محبت خان کو پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور خود بیٹھنے لگا تھا کہ ایک فائر ہوا ، گولی سنساتی ہوئی میرے بائیں جانب سے نکل گئی ۔ میں انتہائی سرعت کے ساتھ فور وہیل میں بیٹھتے ہی سامنے دیکھا ، تنّی پسٹل تھامے کھڑا تھا ۔ اس نے تب تک دوسرا فائر کر دیا ۔

” یہ اعلان جنگ ہے سائیں ۔“ میں نے سرد لہجے میںکہا تو وہ یوں سیٹ پر ڈھ گیا جیسے اس کی ساری مزاحمت ہی ختم ہو گئی ہو ۔اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا

” مروا دیا اس بے غیرت نے ….“

لفظ اس کے منہ ہی میں تھے کہ ارم نے فور وہیل کو بیک گیئر لگایا اور پیچھے تک چلی گئی ۔ تب تک تنی فائر کرتا رہا ۔ارم نے جونہی فو ر وہیل گھمائی ۔ تبھی میں نے تاک کر فائر کیا ۔ اسے گولی نہیں لگی ۔ وہ سامنے سے ہٹ چکا تھا ۔فور وہیل پھاٹک کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ پیچھے سے زیادہ فائر ہو نے لگے ۔تقریباً ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہم پھاٹک سے باہر چلے گئے تھے ۔

تھوڑا سا فاصلہ طے کیا تھا کہ ارم نے کہا

”علی ، یہاں سیٹ کے نیچے میرا سیل فون ہوگا ۔اسے نکال ۔“

”کب رکھاتھا ؟“ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا

” جب تیرے یار نتّی کے لوگوں نے ہمیں باندھ کر یہیں بٹھایا تھا ۔ جلدی نکال ، مجھے بات کرنی ہے ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میںنے فون کو سیٹ کے نیچے تلاش کیا ۔ ایک جگہ وہ سیٹ میں دھنسا ہوا تھا ۔اسی وقت سائیں محبت خان کسمسانے لگا ۔اس نے میرے طرف دیکھ کر کہا

”مجھے یہیں اتار کر چلے جاﺅ ، میں ….“

”ابے چل ،احمق سمجھا ہے ہمیں ۔تجھ سے تو میں نے پورا نیٹ ورک نکالنا ہے ، فون ملا کہ نہیں۔“ ارم نے انتہائی نفرت سے کہا ۔

” مل گیا ہے ۔“ میںنے کہا

”بند ہے یا ….“ اس نے پوچھا تو اسی لمحے بالکل سامنے سے دور ہیڈ لائیٹس دکھائی دینے لگیں ۔میں فون آن کیاتو وہ مجھے ایک نام بتا کر بولی

”اسے کال ملاﺅ، اسپیکر آن کرو ۔“

میں نے نام تلاش کر کے کال ملا دی ۔لمحوں میں یوں رابطہ ہوا جیسے دوسری طرف والا کال ہی کے انتظار میں ہو ۔

” ہیلو ، ارم بولو ۔“

” کہاںہو تم لوگ ؟“ اس نے پوچھا

” یہیں اسی صحرا میں ، ایک گاڑی سامنے دکھائی دے رہی ہے ۔“

” میں وہاں ڈیرے سے آ زاد ہو گئی ہوں اور فور وہیل میں نکل پڑی ہوں۔ اپنی لوکیشن بھیجو ۔“ ارم نے تیزی سے کہا تو دوسری طرف سے اسی تیزی سے کہا گیا

”میرے پاس جو لو کیشن ہے اس کے مطابق تم بالکل سامنے والی گاڑی میں ہو ۔“

” ٹھیک ، ہیڈ لائیٹس دو بار بند کر کے آن کرو ۔میں کرتی ہوں ۔“ یہ کہتے ہی دونوں طرف سے ہیڈ لائیٹس آن آف کر کے اشارہ دیا گیا ۔ پھردو منٹ سے بھی کم وقت میں وہ ہمارے پاس تھے ۔

سامنے بھی ایک فور وہیل ہی تھی ۔ اس میں سے ایک لمبا تڑنگا سا نوجوان باہر نکلا ۔ اس کے ساتھ فور وہیل میں کچھ اور لوگ بھی تھے ۔ ارم نے اترتے ہی پوچھا

” کیا صورت حال ہے ؟“

” میں لوکیشن کے مطابق اس ڈیرے کے پاس پچھلے ایک گھنٹے سے پہنچ چکا تھا۔ اب حرکت ہوئی تو میں سامنے آ یا ہوں ۔“

” ٹھیک ہے ، اسی ڈیرے پر موجود لوگوں کو پکڑنا ہے ۔ یہ بندہ سائیں محبت خان ہے ، سمجھے تم ؟“ ارم نے کہا

” سمجھ گیا ۔“ اس نے تیزی سے کہا اور اپنا فون نکال کر نجانے کس سے رابطہ کر نے لگا ۔

” علی یار ، اس بار بچا لے ، جو تم کہوگے وہی کروں گا ۔“ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے سائیں محبت خان نے بڑی لجالت سے کہا تو مجھے اس غصہ آ نے لگا ۔مگر اپنا غصہ ظاہر کئے بنا میںنے کہا

” سائیں جیسے آ پ کہیں ، آپ تعاون کرو ، میں آ پ کو اس معاملے سے یوں نکال لوں گا جیسے مکھن سے بال نکالتے ہیں ۔“

” یہ ہوگا کیسے وہ تو ….“

” او سائیں جی سار اکچھ تنّی اور چوہدری سردار پر ڈال دیں گے ، فکر کیوں کرتے ہو ۔“ میںنے ہنستے ہوئے کہا

” چل جیسے بھی کر ، اس بار مجھے بچا دے ۔“ اس نے منّت بھرے انداز میں کہا

” نکل گئے بس ۔“میں نے کہا اور فور وہیل سے نیچے اتر گیا ۔ ارم مجھے دیکھ کر چونکی

”اوے وہ ادھر ….“

” کچھ نہیں ہوتا ۔ سائیں ہمارا دوست ہے ۔اسے کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔“میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” یہ بھڑوا کب سے تیرا دوست بن گیا ؟“ اس نے نفرت سے کہا

”نہیں دوستوں کو گالی نہیں نکالتے ۔ “ یہ کہتے ہوئے میں بالکل اس کے قریب چلا گیا ۔ میرے چہرے پر سامنے والی گاڑی کی ہیڈلائیٹس کی روشنی پڑ رہی تھی ۔ میںنے اسے آ نکھ مارتے ہوئے کہا

” سائیں سب کچھ بتا دے گا ، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کچھ تنّی اور چوہدری سردار پر ڈالنا ہے ۔“ میں نے کہا

”اور اگر اس نے سب کچھ نہ بتایا تو ؟“ ارم نے کہا

” تو پھر تمہارا جو چاہئے دل کرنا ۔“ یہ کہہ کر میں پلٹا ۔ ہماری بات سائیں محبت خان سن رہا تھا ۔ میںنے اس سے پوچھا ،” بولو کیا کہتے ہو ؟“

”تم جو کہو گے میں مانو ںگا ۔“ اس نے یقین دہانی کروا دی تو میںنے ارم کی طرف دیکھ کر کہا

”میرا خیال ہے اب تمہیں یقین کر نا چاہئے ۔“

” اوکے ۔“ یہ کہہ کر اس نے اسی نوجوان کو اپنے پاس بلایا ۔ وہ تیزی سے آگیا تو ارم نے سائیں محبت خان کی جانب اشارہ کر کے کہا

”یہ ہمارے مہمان ہیں۔انہیںعزت واحترام کے ساتھ ہیڈ کوارٹر لے جاﺅ اور میرے حکم کا انتظار کرو ۔ “

” جیسے آپ کا حکم ۔“ اس نے کہا اور سائیں کو فور وہیل سے باہر آ نے کا اشارہ کیا ۔ اس نے سائیں کے بندھے ہاتھ کھول دئیے ،فورا تلاشی لی اور اپنے ساتھ سامنے والی فور وہیل میں لے گیا ۔

فور وہیل ہم سے دور ہو تی چلی گئی تھی۔ وہ جب نگاہوں سے اوجھل ہوئی تو ارم نے کہا

”کیسے رام کیا تم نے اسے ؟“

” وہ خود ہی ہو گیا ، وہ سمجھدار بندہ ہے ، پرانا کھلاڑی ہے ۔اسے یقین ہوگیاتھا کہ اب وہ بچ نہیں پائے گا ۔“ میں نے بڑبرانے والے انداز میں کہا

”وہ اب بھی ڈنڈی مارے گا ۔“ ارم نے تبصرہ کیا

” بالکل ، وہ باز نہیں آ ئے گا ، خود بے گنا ہ بنے گا ۔“ میںنے تلخی سے کہا

”کوئی نہیںمیں دیکھ لیتی ہوں ۔“ اس نے کہا اور فون کال ملا دی ۔ چند لمحوں بعد بولی،” یہ جو تیرے ساتھ ہے ، اس پر بھروسہ نہیں کرنا ۔راستے میں بھی اٹیک ہو سکتا ہے ۔ بس میرے آ نے تک ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔

اسی دوران ہمارے سامنے کافی ساری گاڑیاں آ گئی تھیں ، اب پتہ نہیں وہ دوستوں کی تھیںیا دشمنوں کی۔

 ٭….٭….٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے