سر ورق / افسانہ / کندن … ناصر خان ناصر

کندن … ناصر خان ناصر

کندن

ناصر خان ناصر
نیو اورلینز، لوزیانہ. امریکہ
————-
بیگم اور بچے سیزن کے لئے نتهیا گلی روانہ ہوئے، پلان کے مطابق مجهے بهی دو دن کے بعد انهیں جا ملنا تها، مگر منسٹر صاحب کے دورہ کی بنا پر سب سرکاری نوکریوں والوں کی چهٹیاں منسوخ کر دی گئیں تو مجهے رکنا پڑا..
پہلی بار بیگم کی بیحد کمی محسوس ہوئ..سارا گهر گندہ لگنے لگآ..تین دن باہر ہوٹلوں کے باسی تپاسی بدذائقہ کهانے کهائے تو معدہ اور بجٹ دونوں چیں بول گئے….کسی نوکر کی تلاش شروع ہوئ جو گهر کی صفائ ستهرائ کے ساته ساته کهانا بهی بنا سکے…
کسی دوست کی بیگم نے ترس کها کر کندن کی دادی کو بهیجا..
یہ کندن ہے؟.یہ تو بہت چهوٹی سی ہے….میں نے چهوٹی سی معصوم سی بچی کی طرف اشارہ کیا..
یہ کیا کهانے بنائے گی؟…اسکی تو ابهی خود گڑیوں سے کهیلنے کی عمر ہے…
نہ صاب جی…کندن بڑی ہوشیار ہے…قد چهوٹا ہے اس لئے کم عمر لگتی ہے…میں نے خود اسے سارا کچه سکها دتا ہے….بوڑهی دادی کا سر بے تہاشا ہلتا تها..
کچه انکی آه و زاری، کچه اپنی مجبوری…اور پهر دونوں کے غربت کے مارے سوکهے بدن دیکه کر میں نے نیم رضامندی سے سر ہلا دیا.کندن باورچی خانے کی طرف بڑه گئ اور دادی نوٹ گنتی ہوئ اپنے گهر لوٹ گئ.
دفتر سے واپسی پہ گهر واقعی چمکتا ہوا ملا…اتنی سی چهنگلی برابر بچی اور اتنی سگهڑ. ..کهانا بهی برا نہیں تها…دانت صاف کرنے کے بعد میں نے اسےبتایا کہ وہ اب گهر واپس جا سکتی ہے.
وہ بے نیاز کهڑی برتن دهوتی رہی…میں ایک کتاب لے کر اپنے کمرے میں آ گیا…..دروازه کهلنے اور بند ہونے کی آواز سے میں سمجه گیا کہ کندن جا چکی ہے.میں دلچسب کتاب میں غرق ہو کر ره گیا.
آہٹ سن کرسر کتاب سے اٹهایا تو وه کندن تهی…..
کندن!.تم گهر نہیں گئیں؟
وہ میرے قدموں کی طرف بڑهی…
صاب جی…میں آپ کے پیر دباواں گی…وه ڈری ڈری آواز میں بولی.
"دادی نے مجهے سب کچه سمجها دیا ہے….دادی کہتی تهی…نوکری پکی کروا کر ہی گهر لوٹنا”
*********************************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

پھاٹک والا: اشرف گِل۔

پھاٹک والا: اشرف گِل۔       اللہ دتا کا خاندان ایک چھوٹے سے گاوں میں تین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے