سر ورق / جہان اردو ادب / سید کامی شاہ ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سید کامی شاہ ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سید کامی شاہ ۔۔۔۔۔ انٹرویو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 اردو لکھاری ڈاٹ کام) میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

 1..آپ کا اصل نام ۔۔سید کامران علی کامی شاہ

قلمی نام۔

سید کامی شاہ

کچھ جرائد میں کامران علی کامی کے نام سے بھی کئی تحریریں شائع ہوئیں مگر بعد میں مستقل طور پر سید کامی شاہ کے قلمی نام کو اپنایا۔

 2..تعلیمی اور خاندانی پس منظر ۔۔

ہمارے دادا قیام پاکستان کےوقت لکھنئو کے علاقے کلا نور سے ہجرت کرکے ضلع بہاولنگر کی مہاجر کالونی میں آن بسے جہاں ان کی شادی ہماری دادی سے ہوئی اور ہمارے والد کی پیدائش بھی وہیں ہوئی۔ دادا ابا پہلے انگریز کی پولیس میں ملازم تھے پھر پاکستان آئے تو بہاولپور ڈسٹرکٹ کے پولیس انسٹرکٹر ہوگئے اور اپنی وفات تک پولیس کے شعبے سے ہی وابستہ رہے۔ ہمارے ابا کی شادی ان کے ماموں کی بیٹی سے ہوئی جو ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں شریف میں رہتے تھے ہماری پیدائش بھی چشتیاں میں ہی ہوئی۔ ننھیال میں بہت دل لگتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے نانا کی کچھ زمینیں اور باغات تھے جبکہ نانی اماں اور سب سے چھوٹی خالہ نے گھر میں بہت سارے جانور پال رکھے تھے گائے، بکریاں، بلیاںِ، خرگوش، کتا، مرغیاں وغیرہ کُل ملا کے بہت سے پالتو جانور اور مویشی تھے۔ گائے اور بکریوں وغیرہ کے لیے چارہ نانا ابا کی زمینوں سے آتا تھا تو ہم خوشی خوشی نانی اور خالہ کے ساتھ زمینوں پر اور نانا ابا کے باغات میں جاتے تھے نانا کے پاس آم کینو، امرود اور بیر کے باغات ہوا کرتے تھےاور ہمارا نیچر میں بڑا دل لگتا تھا اس لیے کھیت، کھلیان،نہریں، باغات اور جانوروں سے بڑی دوستی تھی۔ ابا کی ملازمت کے سلسلے میں کئی شہروں میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ کراچی میں ابتدائی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا مگر کچھ عرصہ رہنے کے بعد لاہور چلے گئے ابا فلم انڈسٹری میں کچھ کرنا چاہتے تھے مگر کچھ خاص کامیابی حاصل نہ کرپائے۔ ہم نے وہاں کچھ جماعتیں پڑھیں ساتھ میں شعر و ادب کا شوق بھی چل نکلا۔ پھر کچھ معاملات کی بنا پر ٹوبہ ٹیک سنگھ چلے گئے وہاں ہمارے کچھ عزیز اب بھی رہتے ہیں۔ وہاں ساتویں آٹھویں جماعت پڑھی تو دوبارہ چشتیاں چلے گئے۔ میٹرک میں تھے کہ ابا کو نئے بزنس کی سوجھی اور وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں کراچی آگئے۔ اس سے پہلے جب کراچی آئے تھے تو وہ نوکری کے لئے آئے تھے اس بار 1992 یا 93 میں یہاں آنے کا مقصد کاروبار تھا۔ انہیں پولیس کی نوکری پسند نہیں تھی اس لیے دادا سے ان کے اختلافات بھی تھے۔ انہوں نے مختلف نوعیت کی نوکریاں کیں اور پھر ٹرانسپورٹ کے بزنس سے وابستہ ہوگئے۔  والدین اور دیگر بہن بھائی نوے کی دہائی کے آغاز میں مستقل طور پر کراچی آگئے مگر ہم ننھیال میں ہی رہے اور گریجویشن تک تعلیم وہیں حاصل کی، شعر و ادب اور لکھنے پڑھنے کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ 95 میں کراچی آنے کے بعد تعلیم بھی جاری رکھی اور بچوں کو ٹیوشنیں بھی پڑھاتے رہے، کراچی کے دو بہترین شاعر شکیل احمد اور عاصم اعجاز سے دوستی ہوگئی تو انہی کے توسط سے کراچی یونیورسٹی کا منہ دیکھا۔ عاصم اعجاز بعد میں مجھے صحافت میں بھی لے کر آئے۔

کوئی بیس بائیس سال سے صحافت کر رہے ہیں، صحافیانہ کیریئر کا آغاز 1997، 98  میں روزنامہ دیانت میں پروف ریڈر کی حیثیت سے کیا پھر مختلف اخبارات و جرائد سے ہوتے ہوئے 2004 میں آج ٹی وی تک پہنچے جہاں شعبہ نیوز روم میں دس سال تک نیوزپروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا اس کے علاوہ ایک فیشن میگزین ‘گوسپ’ میں کوئی سال بھر ایڈیٹر رہے علاوہ ازیں کراچی کے ایک پرائیویٹ ادارے ”میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ” میں تین سال تک الیکٹرانک جرنلزم پڑھایا ہے۔ کوئی سال بھر اب تک ٹی وی میں رن ڈائون پروڈیوسر کے عہدے پر بھی کام کیا۔ پھر ایک نجی ٹی وی میں 3 سال سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر رہے۔ آج کل ایک میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ کہانیاں افسانے اور شاعری لکھنے کا سلسلہ بچپن سے ہی چلا آرہا تھا۔ اس دوران درجنوں کہانیاں، مضامین اور افسانے لکھے جن میں سے بیشتر مختلف اخبارات و جرائد اور ڈائجسٹوں میں چھپے۔ اور کئی افسانوں، کہانیوں پر اعزازات بھی ملے۔ 2008 میں شاعری کی پہلی کتاب ‘تجھ بن ذات ادھوری ہے’ شائع ہوئی۔ اس کتاب کے اب تک تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، غزلوں کا مجموعہ ‘قدیم’ کے نام سے 2018 میں یعنی پہلی کتاب کے دس برس بعد شائع ہوا۔ اس کے علاوہ نظموں کی کتاب۔۔ نظم ‘تجھ کو تلاش کرتی ہے’ نثری نظموں کا مجموعہ منہ پھٹ نظمیں، مضامین کا مجموعہ ‘تازہ کامی’۔۔۔ کہانیوں اور افسانوں کی کتاب ‘کاف کہانی’ اور ناول ‘کشش کا پھل’ زیر طبع ہیں۔

علمی و ادبی خدمات کے سلے میں متعدد اداروں سے بہترین شاعر، بہترین کہانی کار، افسانہ نگار کے ایوارڈ مل چکے ہیں۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے اعزازی رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سماجی اشوز پر ارے تم! کےنام سے ایک شارٹ فلم بھی لکھ چکے ہیں۔

 3.. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیق کار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

شروع میں ادب سے براہ راست لگائو تو ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے تاہم ایک چیز تھی من میں کہ کچھ کرنا ہے۔ سو بچوں کی کہانیاں پڑھتے بھی رہے اور لکھتے بھی رہے۔ پہلے سید کامران علی کے نام سے لکھتے رہے، پھر کامران علی کامی کا نام اپنایا۔ جب شاعری شروع کی تو سید کامی شاہ نام رکھ لیا۔  پہلی کہانی پانچویں جماعت میں لکھی تھی۔ اس کے بعد مضامین، تبصرے، تجزیئے، کہانیاں اور شاعری چلتی رہی۔ مزاحیہ اشعار بھی لکھے اور مضامین بھی مگر اس میدان میں جی نہیں لگا کہ میرے نزدیک زیست کرنا ایک سنجیدہ عمل ہے لہذا سنجیدگی سے ادب کی طرف مائل ہوا اور کہانیوں اور مضامین کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ 1996 میں دوشیزہ ڈائجسٹ کی طرف سے میرے پہلے افسانے زیست گزیدہ پر بہترین رائٹر کا ایوارڈ ملا۔ 1998 میں برائٹ رائٹرز فورم کی طرف سے میرے افسانے اندھیرا کو بہترین افسانے کا ایوارڈ ملا۔ میلسی کا کوئی ادارہ تھا اس کا نام اب یاد نہیں آرہا اس نے وطن سے محبت کے حوالےسے مضمون نگاری کا مقابلہ کرایا تھا کوئی 97 یا 98 میں اس میں میرے مضمون کو تیسری پوزیشن ملی تھی۔ اس کے بعد کئی اداروں کی طرف سے اعزازات ملے۔ کراچی پریس کلب کی طرف سے دو بار بہترین شاعر کا اعزاز ملا۔ انٹرنیشنل یوتھ فورم کی جانب سے 2010 میں میری پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کو شاعری کے بہترین مجموعہ کا ایوارڈ ملا۔ بہترین شاعر کا جناح ایوارڈ بھی ملا۔ کراچی کے تعلیمی ادارے محمد علی جناح یونیورسٹی اور آواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ مینجمنٹ سائنس کی جانب سے بہترین شاعر کا اعزاز ملا۔ 2004 میں میرے افسانے تشکیک کو دوبارہ دوشیزہ رائٹرز ایوارڈ ملا۔ 2018 میں ادبی تنظیم فانوس کی طرف سے میری کتاب قدیم کو بہترین شعری مجموعے کا ایوارڈ دیا گیا۔

4۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی۔

پہلی کہانی غالباً 1988 یا 89 میں لکھی جو ماہنامہ پھول میں شائع ہوئی۔ اس سے پہلے پھول، نونہال، آنکھ مچولی، ساتھی، ٹوٹ بٹوٹ، بچوں کی دنیا وغیرہ میں خطوط، تبصرے اور اقتباسات بھیجا کرتا تھا جو چھپ بھی جاتے تھے۔ پھر ہلکی پھلکی مزاحیہ کہانیاں لکھنے لگا، ایک دوست نے مزاحیہ ماہنامہ چاند میں لکھنے کو کہا تو اسے تحریریں بھجوانا شروع کردیں جو باقاعدگی سے چھپتی بھی رہیں۔ کچھ تحریریں آداب عرض میں بھی چھپیں پھر وہ پرچے بند ہوگئے مگر آداب عرض اور چاند کے مالک جناب خالد بن حامد آج بھی ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔ چاند اور آداب عرض سے بہت اچھے دوست ملے۔ جناب امجد جاوید بھی آداب عرض میں لکھا کرتے تھے ایک زمانے میں۔ خاقان ساجد، فاروق احمد انصاری۔ خادم حسین مجاہد، علی عمران جونیئر۔ نوید ظفر کیانی، پرنس اے بی کشمیری اور بھی کئی لوگ تھے جو زمانے کی دھول میں کہیں دھندلا گئے۔ اتنا سارا وقت گزر گیا اور لگتا ہے ابھی کل کی بات ہے۔

 5۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

بالکل ایسا ہی ہے ہمارا معاشرہ علمی اور ادبی لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔ یہاں کتابیں پڑھنے اور ادب کی بات کرنے والوں کا مذاق بنایا جاتا ہے سو ہمیں بھی کتابی کیڑا، فارغ شاعر اور اسی قسم کے دیگر القابات ملے مگر ہم نے کبھی کسی بات کی پروا نہیں کی کہ شاعر ادیب اور سوچنے والے آدمی کی وابستگی خالصتاً اپنے اندرون کے ساتھ ہوتی ہے اسی لئے ہمیشہ اپنے من کی بات سنی اور اسی پر عمل کیا۔ میرا ہی ایک شعر ہے۔

میں جانتا ہوں اسے جھوٹ بولتا نہیں دل

جو کہتا ہے کہ صحیفہ خدا کا ہے انسان۔،،

تو بات یہ ہے کہ انسان کا دل جھوٓٹ نہیں بولتا اور زندگی کے معاملات میں ہم نے دماغ سے زیادہ اپنے دل سے ہی رجوع کیا اور دل کہتا ہے کہ علم و ادب اور حرف و ہُنر کا کام ہی بہترین ہے۔

 6۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

مجھے تو شاعری نے عوام و خواص میں پہچان دی اس لئے کسی ایک چیز کے بارے میں کچھ کہنا پتہ نہیں درست ہوگا یا نہیں۔ جیسا کہ پہلے آپ کو بتایا کہ آغاز بچوں کے جرائد سے ہوا پھر ڈائجسٹوں کے لئے لکھنے لگا اس میں چاند، آداب عرض، دوشیزہ، سچی کہانیاں،سرگزشت، نیا رخ، نئے افق، دستک، آنچل، خواتین ڈائجسٹ، کرن ڈائجسٹ، شعاع ڈائجسٹ، فاصلہ، رابطہ، اخبارِ جہاں، نوائے وقت فیملی میگزین، اسٹار ڈسٹ،عکس، آئینہ، ادیب اور دیگر جرائد شامل تھے، کچھ اخبارات میں بھی میری شاعری اور دیگر تحریریں شائع ہوئیں۔ ادبی جرائد میں صریر، تسطیر، سیپ، آئندہ، ادبیات، سویرا، معاصر، اعصار، فنون، اوراق، زرنگار، ادبِ لطیف، ادبِ معلیٰ، شاعر، سرسبز اور دیگر جرائد شامل ہیں۔  اور یہاں ایک بات آپ کو بتائوں کہ میں نے کوئی ایک چیز نہیں لکھی جو میری پہچان بنی ہو جیسے ہوتا ہے ناں کہ کوئی شخص شاعر ہے تو وہ صرف شاعری ہی کررہا ہے اور کوئی کہانی کار ہے تو صرف کہانیاں لکھ رہا ہے میرے ساتھ معاملات ہمیشہ سے کچھ مختلف رہے میں نے کہانیاں بھی لکھیں، تبصرے اور تجزیئے بھی کئے۔ شاعری بھی کی۔ تلخیص و تراجم کا کام بھی کیا اور یہ تلخیص و تراجم کا کام صرف ادبی نوعیت کا نہیں تھا میں نے فلمی جرائد کے لئے بھی تراجم کا کام کیا اور سماجی جرائد کے لئے بھی۔ میک اپ، بیوٹی، صحت اور کچن کے حوالےسے بھی لکھا، تراجم بھی کئے۔ تدوین اور تلخیص کا کام بھی کیا۔ 2000 سے لے کر 2004 تک ماحولیات کے ایک جریدے میں معاون مدیر کے فرائض بھی انجام دیئے اور ساتھ ساتھ ترجمہ اور تلخیص کا کام بھی کرتا رہا۔ اس عرصے میں ماحولیات پر بھی کافی لکھا۔ میرا پہلا افسانہ زیست گزیدہ بے حد پسند کیا گیا اس پر مجھے دوشیزہ رائٹرز ایوارڈ بھی ملا اس نے مجھے سنجیدہ ادبی حلقوں میں شناخت دی۔ اسی زمانے میں میرا افسانہ خواب میں دھوپ حلقہ دانش کے تنقیدی جلسے میں پڑھا تو خالد معین، ارشد رضوی، احمد ہمیش، عبدالعزیز عزمی، احمد صغیر صدیقی، پروفیسر شبنم رومانی، نورالہدیٰ سید، ڈاکٹر فہیم اعظمی، اور دیگر سینئرز نے بہت پسند کیا اور سنجیدگی سے افسانے لکھنے کا مشورہ دیا۔ پھلی گرم، بھوک، گندا خون، تھینک یو اللہ میاں اور اسی طرح کے دیگر افسانوں کو بھی بہت پزیرائی ملی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ افسانوں کو چھوڑ کر ہم نے شاعری کی راہ پکڑ لی اور کئی سال تک کوئی افسانہ نہیں لکھا۔ 2004 میں علی زبیر سے دوستی ہوئی تو اس نے کہا کہ افسانوں کو نظر انداز مت کرو، شاعری کے ساتھ ساتھ افسانے لکھنے کا عمل بھی جاری رکھو تب میں نے غریب آباد لکھا اور یقینا یہ میرا ایسا افسانہ تھا جسے میری توقعات سے زیادہ پسند کیا گیا پھر وہ فیس بک کے ایک فورم پر لگا تو بہت لوگوں نے اس پر بات کی اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں اس کی بازگشت سنائی دی۔۔ اس کے کچھ عرصے بعد میرا افسانہ آج بھی نتالی نہیں آئی، بہت پسند کیا گیا۔  ڈاکٹر فہیم اعظمی کے پرچے صریر میں تواتر سے میرے افسانے شائع ہوئے اور سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے حد پسند کئے گئے۔

 7..آپ کے ادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

میرے تقریباً نصف سے زیادہ اچھے دوست ادب کے وسیلے سے ہی دوست بنے ہیں اس میں صرف افسانے سے متعلق لوگ نہیں ہیں بلکہ شاعری سے بھی مجھے بہت عمدہ ترین لوگ ملے۔ اور گاہے گاہے اپنی اپنی علمی و ادبی استعداد کے مطابق مفید مشوروں سے بھی نوازتے رہے۔ ابھی میں نے علی زبیر کا ذکر کیا جو مجھے دوبارہ افسانے کی طرف لے کر آیا، اس کے ساتھ کاشی چوہان ہمیشہ مجھے کہتا کہ کامی بھائی آپ کہانیان لکھنا مت چھوڑیئے گا آپ بہت اچھی کہانیاں لکھتے ہیں، سیما غزل، غزالہ رشید، شبینہ فراز، کنیز فاطمہ نے بھی ہمیشہ کہا کہ افسانے لکھتے رہو اس میدان میں تم خوب نام کمائو گے۔ پھر اور بہت سارے شاندار دوست ملے ان میں ڈاکٹر ارشد رضوی، علی زریون، عمران شمشاد، علی زبیر، کاشف حسین غائر، خالد معین، اوجِ کمال، کاشف مجید، کاشف رضا، وجیہ ثانی، میر احمد نوید اور ان کی اہلیہ عفت نوید، عارف شفیق، فرحت عباس شاہ، سید تحسین گیلانی، علی کونین، ارشاد العصر جعفری،سیما غزل، حجاز مہدی، یاور شاہ، سید مہتاب شاہ جی۔ وجیہ وارثی، فہیم شناس کاظمی، شاہین عباس، سانی سید، خادم حسین مجاہد۔، امت الصبور، ناصر رضا، اجمل سراج، ندیم اسد، پرویزبلگرامی، فوزیہ شاہین، فاروق احمد انصاری، شبینہ فراز، جاوید رشید صدیقی، خرم زبیری، فرخ اظہار، علی احمد جان، ہدایت سائر، ابنِ آس محمد، عرفان صدیقی، عمیر علی انجم، مایامریم، خورشید عالم، دلاور علی آذر، مریم ثمر، سیدہ فارحہ ارشد، شاہدہ کاظمی، شفیق الہ آبادی، میروسیم، محمد جاوید انور، کرشن کمار طور، ہاشم خان، حسن امام، عتیق رحمان، ساجد ہدایت، امجد جاوید، شمسہ نجم، عشرت معین سیما، زبیر مظہر پنہوار۔

دوست اور بھی بہت سارے ہیں اور میں ہمیشہ ایک بات کہا کرتا ہوں کہ مجھے سب سے اچھے دوست شاعری اور ادب نے دیئے اگر میں شاعر اور ادیب نہ ہوتا تو ان سارے شاندار لوگوں سے محروم رہ جاتا۔ علی زریون کا شعر ہے کہ ۔۔۔۔۔

یہ میں جو آخرِ شب لَو پذیر ہوتا ہوں

دِیئے نے اپنی طرح کا بنا لیا ہے مجھے،،

سو بات یہی ہے کہ خوبصورتی سے دوستی کریں گے تو آپ خود بھی خوبصورت ہو جائیں گے۔ خوشبو سے دوستی کریں گے تو خود بھی مہکنے لگیں گے۔ سو یہ تمام خوشبو جیسے دوست ہمارا اثاثہ ہیں اور ہم ان خوبصورت لوگوں کا دوست ہونے پر خداوندِ خدا کے شکر گزار ہیں۔

 8۔۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے۔

ادب کی تو گنجائش ہی گنجائش ہے دوست۔ ادب کے بغیر کوئی بھی معاشرہ کیسے پنپ سکتا ہے۔ ادب اور کتاب کے بغیر تو انسان اندھا ہے کیونکہ ادب انسان میں بصیرت پیدا کرتا ہے، آپ کے اندرون کو روشن کرتا ہے آپ کو سوچنا سکھاتا ہے اور جو سائیں نے فرمایا ہے کہ غور و فکر کرو۔ کائنات کی بناوٹ میں اور اشیا و مظاہر میں تعقل کرو اور دیکھو کہ خدائے بزرگ و برتر نے یہ سارا نظام کیسی خوبصورتی اور سہولت کے ساتھ بنایا ہے۔ اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔ اب آپ دیکھیں کہ عقل اور سمجھ بوجھ تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے مگر شعور اور بصیرت انسانوں کے لئے ہے جو انسان کو خدا تک لے کر جاتی ہے اور وہ اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے بھید کو پا لیتا ہے۔ ادب اس شعور اور دانش کو جلا بخشتا ہے جس سے انسان جانور اور آدمی میں تمیز کرنا سیکھتا ہے۔ رہی بات قاری کی چاہت کی تو قاری بھی اچھا ادب پڑھنا چاہتا ہے آپ اچھا لکھیں لوگ اسے ضرور پڑھیں گے۔

 9۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان۔۔

دیکھیں فائدے اور نقصان کی بھی سب کی اپنی اپنی وضاحتیں ہیں، ہوسکتا ہے میں جسے فائدہ سمجھ رہا ہوں کسی دوسرے کے نزدیک وہ سراسر نقصان کا سودا ہو۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر آنے والے متعدد ادیبوں نے نہایت عمدہ ادب تخلیق کیا ہے مگر اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ جو لوگ تحریک سے وابستہ نہیں تھے انہوں نے اچھا ادب تخلیق نہیں کیا۔ سو ادب تو اپنی جگہ تخلیق ہوتا رہتا ہے اسے کسی تحریک کے ساتھ جوڑ کر محدود نہیں کیا جاسکتا اور نہ ایسا کرنا چاہئے۔ ادب مذاہب سے بھی ماورا ہے اور تحاریک سے بھی۔

 10۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پر اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔؟

دیکھیں پہلے تو ہمیں یہ طے کر لینا چاہئے کہ ہمارا مسئلہ قاری ہے یا ادیب۔ اگر ہم قاری کی صوابدید کو سامنے رکھ کر دیکھیں گے تو کئی طرح کے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ کیونکہ قاری کے رجحانات اور دلچسپیاں بدلتی رہتی ہیں اس لئے کبھی بھی  قاری کو خوش کرنے کے لئے مت لکھیں کیونکہ آج وہ آپ کو پسند کررہا ہے کل کو اس کی دلچسپی بدل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی آپ کی تحریر بھی رائیگاں ہوجائے گی۔ جب ہم ڈائجسٹوں میں لکھتے تھے تو وہ کہانیاں ہمیں اچھی لگتی تھیں مگر آج بیس سال بعد ہمیں لگتا ہے کہ وہ کہانیاں اتنی اچھی نہیں تھیں انہیں مزید بہتر کیا جاسکتا تھا۔ دوسری جانب اگر ہم صرف ادب اور ادیب پر دھیان رکھیں تو شاید کوئی بہتری کی صورت نکل سکے۔

اب آتے ہیں آپ کے اصل سوال کی طرف کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا فلسفہ کس حد تک اثر انداز ہوا۔ اس پر بات کرنے سے پہلے ہم چاہیں گے کہ جدیدیت کو سمجھا جائے (مابعد جدیدیت کو اس کے بعد ہی سمجھا جاسکے گا۔)

میرے نزدیک یہ سب مباحث نقادوں اور ادیبوں کا پسندیدہ ٹائم پاس ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جدید اور قدیم کچھ بھی نہیں ہوتا انسان نے اپنی سہولت کے مطابق زمانے کو ادوار میں تقسیم کررکھا ہے کہ کیا ہوا، کیا ہورہا ہے اور کیا ہوگا۔ یہی تین زمانے مستعمل ہیں جبکہ ادیب کے سامنے ایک چوتھا رخ ہے کہ کیا ہوسکتا ہے۔ زندگی اپنے آپ میں جدید بھی ہے اور قدیم بھی ہے۔ میں نے اپنی کتاب کا نام قدیم رکھا تو میرے سامنے انسان کی ذات تھی جو اپنے آپ میں قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ انسان کی محبت نفرت، محنت، حسد، انتقام، سازش، جمال، کمال، خصال کیا ہے جو قدیم ہے اور ان سب میں کیا ہے جو جدید ہے۔ انسان صدیوں پہلے ایک دوسرے سے محبت بھی کرتا تھا اور نفرت بھی۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ نہ کچھ نیا ہے نہ پرانا ہے۔ عشق، محبت، ہوس کل کے شاعر ادیب کا بھی موضوع تھا اور آج بھی ہے۔  سورج، چاند، ہوا، پانی، دن، رات، سردی، گرمی، زندگی اور زندگی کی بے معنویت کل کے آدمی کا بھی مسئلہ تھا اور آج کے آدمی کا بھی مسئلہ ہے۔ لہذا یہ تو ہوئی قدیم اور جدید کی بات اب آپ کے سوال میں مابعد جدیدیت بھی موجود ہے تو پیارے بھائی یہاں کے لوگ تو جدید بھی نہیں ہوسکے مابعدجدیدیت تو بہت آگے کی بات ہے۔ یورپ میں اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مابعدجدیدیت پر بات ہورہی ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کو وہاں تک پہنچنے میں بہت وقت لگے گا۔ اس لئے ان مباحث کو چھوڑ کر اچھی اور پُرتاثیر کہانیاں لکھنے پر توجہ دیں، شاعری کریں اور فیصلہ وقت پر چھوڑ دیں۔

 11۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب۔؟

اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔؟ ادب تو ویسے بھی عام آدمی کے لئے نہیں ہوتا

یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا۔،،

ادب کے معاملات اور معیارات مختلف ہوتے ہیں جبکہ عام آدمی کی مشکلات اور ترجیحات کچھ اور ہیں تو کیوں ہم اس بے چارے کو تکلیف میں ڈالیں جسے ادب اور ادیب سے کوئی علاقہ ہی نہیں ہے۔؟ آپ ادب پڑھتے ہیں یہ آپ کا مسئلہ ہے غریب آدمی کو روٹی کھانی ہے بیٹی بیاہنی ہے یہ اس کا مسئلہ ہے آپ اس کے ہاتھ سے بیلچہ پکڑ کر کتاب کیوں دے رہے ہیں۔؟ کسان کا کام کھیتی باڑی کرنا ہے اسے سائیں نے اسی کام کے لئے منتخب کیا ہے ڈاکٹر کا کام بیماریوں کا علاج کرنا ہے اسے وہ کرنے دیں۔ ادب کا کام ذہن و دل کی صفائی، فکر و نظر میں وسعت اور زبان میں شائستگی پیدا کرنا ہے اور یہ کام ادیب کا ہے سو ادیب کو اس کا کام کرنے دیں۔

12۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

جناب مغرب میں 15ویں صدی میں ترقی کا پہیہ چل پڑا تھا اور ترقی سے مراد صرف سماجی یا اقتصادی ترقی نہیں ہوتی اس میں دل، دماغ، روح اور انسان کا وجود بھی شامل ہوتا ہے سو وہاں سماجی اور معاشی معاملات میں ترقی آنے کے ساتھ انسانی سطح پر بھی ترقی ہوئی ادب چونکہ انسانوں کے لئے ہے تو وہاں کے ادب نے بھی ترقی کی جبکہ یہاں آدمی کو انسان کے درجے تک پہنچنے میں بھی ابھی کئی صدیاں لگیں گی۔۔

یہاں کا تعلیمی نظام دیکھ لیں، سیاسی نظام دیکھ لیں، قانون کو دیکھ لیں۔ ہر طرف تو بکواسیات کا ہجوم ہے ایسے میں آپ کس سے اور کیا توقع رکھیں گے کہ وہ ادب کے لئے پریشان ہوتا پھرے۔؟

اور میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں پر نکتہ چینی کرنے اور دوسروں کی مثالیں دینے سے بہتر ہے کہ خود کچھ کر کے دکھایا جائے۔

غیر کی بات سے نہ بات بنا

دیکھ اپنا نصابِ سبز آثار،،

 13۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔؟

ماضی کے افسانہ نگاروں میں تو ایک ہی بندہ مجھے پسند ہے اور وہ سعادت حسن منٹو ہے وجہ اس کی سچائی، بے باکی اور ایمانداری ہے جو اس کی اپنے فن کے ساتھ ہے، ناول میں گبریل گارشیا مارکیز مجھے بہت متاثر کرتا ہے وجہ اس کی بھی سچائی ایمانداری اور جرات اظہار ہے۔ نئے لوگوں میں ڈاکٹر ارشد رضوی کے افسانے مجھے بے حد پسند ہیں اور ناول میں مستنصر حسین تارڑ نے اچھا کام کیا ہے۔ خاص طور پر ان کا ناول بہائو عجب کمال کا ناول ہے۔ اس کے علاوہ راکھ، قربتِ مرگ میں محبت۔

 14۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے۔

خلا تو ہمارے ہر ہر شعبے میں ہے جناب کس کس کو روئیں گے آپ۔ ابھی میں نے کہا ناں ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ جب انسان سماجیا ور اقتصادی ترقی کرتا ہے تو اس کا دماغ بھی کھلتا ہے اور ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں آدمی آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کرتا ہے جبکہ یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے ہم باحیثیتِ مجموعی بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے کی طرف جارہے ہیں، ناقدین کو تو آپ چھوڑ ہی دیں کہ ہمارے ہاں تنقید سے زیادہ اپنی علمیت جتانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ تنقید کا مطلب کسی بھی فن پارے کے تمام فنی محاسن کا کماحقہ جائزہ لے کر اس کی خوبیاں اور خامیاں بتائی جاتی ہیں مگر یہاں چونکہ ہر معاملہ الٹا ہے تو کسی ادب پارے پر تنقید کے نام پر  تنقیص کا بازار گرم ہے ایسے میں ادیب کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف ادب پارے تخلیق کرے بلکہ نقاد کا کام بھی خود ہی کرے۔

اب رہی بات فنِ افسانہ نگاری کی تو کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوتا کہ پوری کی پوری کھیپ آجائے فنکاروں کی۔ ادب کا کام نہایت  چنیدہ اور منتخب لوگوں کا ہوتا ہے اس لئے ادب پڑھنے والے بھی کم ہوتے ہیں اور لکھنے والے بھی۔  اب ہمارے ہاں جو لکھنے والے ہیں ان میں سے کچھ تو بہت باکمال ہیں اور وہبی صلاحیتوں سے مالامال ہیں جبکہ کچھ ایسے ہیں کہ انہیں بہت زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔

دیکھیں کان پر قلم رکھ لینے سے کوئی ادیب نہیں بن جاتا ( جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ بنے ہوئے ہیں) ادب کا کام بہت وابستگی اور ایمانداری کا کام ہے۔ سب سے پہلے تو خود کو تنقیدی نظر سے دیکھنا ہوتا ہے کہ میں اس کام کا اہل بھی ہوں یا نہیں، حضرت جون ایلیا فرمایا کرتے تھے کہ جن لوگوں کو پڑھنا چاہئے وہ لکھ رہے ہیں اور یہ المیہ ہے۔

ادب کا کام جس سنجیدگی، وسعتِ قلبی اور وابستگی کا متقاضی ہے ہمارے ہاں بہت سے لوگوں میں وہ مفقود ہے۔ اس لئے آپ کو ایسا لگتا ہے کہ افسانہ نگاری کے میدان میں کچھ خلا پیدا ہوگیا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ادب کے معاملات میں سو میں سے چار ہی باکمال اور ہُنر مند لوگ نکلتے ہیں اور وہ آج بھی منظر نامے میں موجود ہیں، سو مجھے تو کوئی پریشانی نہیں ہے اس حوالےسے ۔ ڈاکٹر وحید احمد کی نظم بھی ہے ناں۔۔۔

 ہم شاعر ہوتے ہیں، ہم کم کم ہوتے ہیں، ہم تھوڑے تھوڑے ہیں۔،،

تو شاعر ادیب جو کہ خالص ہوتے ہیں تو وہ تو کم کم ہی ہوتے ہیں۔

 15۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا۔؟

دیکھیں تنقید کا مطلب کسی بھی فن پارے کے تمام محاسن کا جائزہ لے کر اس کی خوبیوں کو اجاگر کرنا اور خامیوں کو کم سے کم ہائی لائٹ کرنا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹا چل رہا ہے یہاں خامیوں کو خوب اچھالا جاتا ہے اور خوبی کو کوئی تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ دیکھیں انسانی کام میں بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے اس لئے ہمیشہ کسی کے کام کو باحیثیتِ مجموعی دیکھا جاتا ہے یعنی اگر آپ کا کام 100 میں سے 70 فیصد بھی اچھا ہے تو میں اسے اچھا ہی کہوں گا اگر 30 فیصد کوئی کمی یا کجی رہ گئی ہے تو اسے بہتر کرکے آپ 70 فیصد اچھائی سے 90 فیصد تک لے جائیں۔ ماسٹر پیس اور کلاسیک تو کوئی کوئی ہی ہوتا ہے  ناں۔ ہر رائٹر کی ہر تحریر تو شاہکار نہیں ہوسکتی۔

تنقید میں مجھے سلیم احمد، جون ایلیا،محمد حسن عسکری، وارث علوی، جمال پانی پتی، سبطِ حسن۔  پسند ہیں۔

 16۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے۔۔؟

مغربی ادب میں مجھے بہت سارے لوگ پسند ہیں سب سے زیادہ تو میں بتا چکا کہ گبریل گارشیا مارکیز پسند ہیں اس کی وجہ ان کی جادوئی حقیقت نگاری ہے دوسرے مجھے دوستو وھسکی بہت پسند ہیں ان کا کہانی بیان کرنے کا انداز مجھے بہت پسند ہے۔ ان کا ضخیم ناول برادرز کرامازوف میری پسندیدہ کتابوں میں شامل ہے۔

 17۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔؟

ادب میں تو ہر چیز کی گنجائش رہتی ہے۔ مختصر کہاںیاں منٹو نے بھی لکھی ہیں دیورندرستیارتھی، جوگندر پال اور دیگر لوگوں نے بھی۔ المختصر والجامع تو کسی بھی تحریر کی خوبی ہوتی ہے اب رہا نام کا جھگڑا تو مائیکرو فکشن کہہ لیں یا افسانچہ کہہ لیں رہنی تو وہ کہانی ہی ہے۔

18۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔؟

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے J بہت کچھ چاہتے ہیں ہم زندگی سے دیکھیں سائیں نے کیا لکھ رکھا ہے ہمارے نصیب میں۔

 19۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔؟

محبت تو کارِ کبریا ہے جناب، سائیں نے یہ سارا نظام بڑی محبت سے بنایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے تمہارے دلوں میں محبت ڈال دی ورنہ تم لوگ ایک دوسرے کو پھاڑ کھاتے۔ تو محبت فاتح عالم ہے محبت سے آپ ایسے مشکل کام بھی کرسکتے ہیں جو کسی صورت انجام نہیں پا سکتے۔  اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور رواداری کے ساتھ پیش آئیں اور محبت کو فروغ دیں تو چیزیں آسان ہوجائیں گی۔

 آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔؟

جی بالکل ہوئی اور ہوتی رہتی ہے کبھی چیزوں سے کبھی لوگوں سے کبھی خود سے۔ محبت کوئی محدود چیز نہیں ہے اس لئے اسے کسی ایک رخ پر محدود نہیں کیا جاسکتا۔

 20۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

بہت سارے واقعات ہیں۔ میرے بچے مجھے کہانیاں سناتے ہیں۔ چھوٹے بیٹے نے جب وہ پانچ سال کا تھا تو اس نے خود ہی گھڑ کے ایک کہانی سنائی جسے ہم نے افسانے کی شکل دے دی اور وہ فیس بک کے کسی فورم پر شائع بھی ہوئی۔ اس کا نام بھی اس نے ہی رکھا تھا فالتو شیر۔ ہم نے اسی نام سے افسانہ لکھا۔

 21۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

پاکیزگی کا بوجھ بہت تھا سو کم کیا

میری برہنگی نے مجھے تازہ دم کیا۔،،

میرا افسانہ ، افسانہ ھائے خواب پڑھ لیں اس میں بھی ہے آپ کے اس سوال کا جواب۔ J

 22۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

پیغام ہمارا تو کتاب کلچر ہی ہے جناب۔ کتابوں سے محبت کریں کتابوں کو اپنائیں کیونکہ کتاب ہی راہِ نجات ہے کتاب انسان کو انسان بناتی ہے، کتاب انسان کو محبت کرنا اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا سکھاتی ہے۔ اس لئے ہمارا نعرہ ہے کتاب کلچر۔ ایک فرد، ایک کتاب، ایک چراغ۔ اپنے حصے کا چراغ جلائیے، روشنی کے فروغ میں ہمارا ساتھ دیجئے۔،،

 23۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

اردو لکھاری کے لئے نیک تمنائیں اور آپ کے لئے خصوصی پیغام کہ غصہ نہ کیا کریں جو بات پسند نہ آئے اسے نظر انداز کردیں اور اپنے فن پر توجہ دیں

کہ آخر میں ہماری شناخت صرف اور صرف ادب ہے۔

 سید کامی شاہ کی شاعری

غزلیں۔۔۔۔۔ سید کامی شاہ۔۔۔

 مہ وشوں کو بھی تڑپنا چاہیے

چاہیے جیسے کو تیسا چاہیے

عاشقی مانگے ہے شوریدہ سری

دشت کو پائے برہنہ چاہیے

نہرِ شیریں کی طلب شیریں کو تھی

کوہکن کو صرف تیشہ چاہیے

میں کروں یا تم کرو یا ہم کریں

یار لوگوں کو تماشا چاہیے

دیکھ کر گُل سے لپٹتی تتلیاں

دیکھنا اُس بُت کا دیکھا چاہیے

کیا مزہ آیا بنانے میں ہمیں

آپ سے اک بار پوچھا چاہیے

ہاں! قیامت آ رہی ہے جلد ہی

اِس خبر کو کیا سمجھنا چاہیے

بھید کھُل جاتے ہیں آخر کو سبھی

آدمی میں صبر ہونا چاہیے

عورتیں ہوں، خواب ہوں کہ راز ہوں

قیمتی چیزوں کو پردا چاہیے

جو نگاہیں دیدہ ور ہوں اُن نگاہوں میں کہیں

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی نہیں ہے انت کہ بے انتہا ہوں مَیں

یعنی ترے خیال سے یکسر جدا ہوں مَیں

سب فلسفے وجود کے مٹی میں مل گئے

ایسی قدیم آگ سے اِک دن ملا ہوں مَیں

اچھا بھلے نہ بول، بُرا ہی سمجھ مجھے

تُو جانتا تو ہے ترے دل کو لگا ہوں مَیں

تُو چاہے چھُپ کے دیکھ مجھے دیکھنے نہ دے

اَے سُرمئی گلاب ترا آئینہ ہوں مَیں

گزرا ہوں اُس گلی سے بھی خوابوں میں بارہا

جس سے قدیم وقت سے نکلا ہوا ہوں مَیں

تُو روشنی ہے یا یہ کوئی اور خواب ہے

دھڑکن کے آر پار تجھے دیکھتا ہوں مَیں

ایسے ہی دیکھتا ہوں یہ دیگر عجائبات

جیسے ترے نشان کو پہچانتا ہوں مَیں

وحشت شدید تر ہے تو حیرت عجیب تر

یعنی تمہارے خواب سے باہر پڑا ہوں مَیں

مجھ سے گریز پا ہے وہ شامِ ستارہ ساز

جیسے کہ اُس کے راز سبھی جانتا ہوں مَیں

چہرے پہ اپنے خون سے لکھ کر تمہارا نام

اِس آئینے کے سامنے کب سے کھڑا ہوں مَیں

کھلنے لگے ہیں کتنے ہی اسرارِ کائنات

یہ جب سے اپنے آپ پہ کھُلنے لگا ہوں مَیں،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوب جھگڑا کریں، خوب گریہ کریں
آئو مِل جُل کے پھر اِک تماشا کریں

دل نہیں لگ رہا ہے کہیں بھی مرا
اِس اذیت میں تھوڑا اضافہ کریں

وہ جوسب کچھ تھا اب وہ نہیں ہے کہیں
اب کسی اور کی کیا تمنا کریں

ٹوٹنا دل کا کوئی نئی بات ہے
بات بھی ہو کوئی جس کا چرچا کریں

اب جو کم پڑ گیا ہے سبھی کچھ یہاں
کس سے کہیے کہ صاحب مداوا کریں

یہ جو سینے میں جلتی ہوئی آگ ہے
آئینہ ہے میاں اِس کو دیکھا کریں

کوئی اُس باغ میں کاسنی بھید ہے
کس سے کہیے بھلا، کس سے پوچھا کریں

آگہی کا سفر بسکہ دُشوار ہے
جو نہیں چل رہا اُس کو چلتا کریں

اُس کی آنکھوں میں ڈوبیں، کنارے لگیں
ایک ہی عشق ہو اور ایسا کریں،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قدیم رنگ وہی ہوبہو نظر آیا

سفید آبِ مقدس میں تُو نظر آیا

تری نگاہ سے دیکھا جو میں نے خود کو کبھی

کوئی طلسم مجھے چار سُو نظر آیا

ہر ایک پھول معطر ہُوا مسرت سے

اگر وہ بادِ صبا سا کبھو نظر آیا

بہار باغ میں آئی تو چشمِ نرگس میں

وہ جوان، وہی خوبرو نظر آیا

مَیں دشت چھوڑ کے جانے کو اُٹھا تھا اِک دن

کہ اِک غزال لبِ آب جُو نظر آیا

عراق میں بھی، فلسطین میں بھی، شام میں بھی

مرا ہی سر تہہِ تیغِ عدو نظر آیا

اس احتیاط سے اُس نے کیا ہے قتل ہمیں

کسی کو بھی نہ ہمارا لہو نظر آیا،،

۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر ایک چہرے میں چہرہ ترا نظر آئے

ترے سوا نہیں کوئی تو کیا نظر آئے

دکھائی دے کہیں پانی میں آگ سی کوئی

اور آگ میں بھی کوئی رنگ سا نظر آئے

تُو میرے دل پہ کبھی ہاتھ رکھ کے دیکھ ذرا

سنائی دے تجھے دھڑکن، دُعا نظر آئے

فسونِ عالمِ ہستی، کمالِ دیدہ و دل

جو کوئی دیکھے اُسے باخدا نظر آئے

تماشا گاہ میں سب کچھ ہے دیکھنے کے لیے

سو دیکھیے جو بھی اچھا بُرا نظر آئے

جو دیکھنے کو ہی راضی نہیں ہے خواب کوئی

بتایئے اُسے کیسے بھلا نظر آئے

ہے دیکھنے کو ضروری نگاہ کا ہونا

سو دھیان کر کہ تجھے دوستا نظر آئے

یہ ریگ زار کسی آنکھ پر کھلے جو کبھی

ہر ایک ذرہٗ ریگ آئینہ نظر آئے

پرائے گھر میں کسی آئنے کو تکتے ہوئے

عجب نہیں جو کوئی دوسرا نظر آئے

دکھائی دے جو کہیں خون میں رواں کامی

وہی چراغ میں جلتا ہُوا نظر آئے،،

۔۔۔۔۔

میانِ دل جو یہاں راستہ بنا ہُوا ہے

ترے لیے ہی تو سارا نیا بنا ہُوا ہے

جہاں کسی کو بھی خاطر میں کوئی لاتا نہیں

ہمارا ہونا وہاں واقعہ بنا ہُوا ہے

وہ جس کے نور سے روشن ہیں انفس و آفاق

وہی چراغ مرا آئینہ بنا ہُوا ہے

لگا کے رنگ مجھے نیلمیں بناتا ہُوا

وہ بوئے گُل سے سِوا، ماسِوا بنا ہُوا ہے

مرے لیے ہے معطر قدیم خوشبو سے

وہ ایک گُل کہ جو بوسہ نُما بنا ہُوا ہے

سنہری باغ کا رستہ دکھا رہا ہے مجھے

بدن پہ پھول جو اُس کے ہرا بنا ہُوا ہے

غلام و شاہ کا اِک کھیل کھیلنے کے لیے

وہ بادشاہوں میں سب سے بڑا بنا ہُوا ہے

یہ آدمی ہے جو انسان تھا کبھی پہلے

بنایا کیا تھا اِسے اور کیا بنا ہُوا ہے

خدا ہی پوچھے گا اُس سے برائے خلقِ خدا

جو ایک شخص زمیں پر خدا بنا ہُوا ہے

سوائے اس کے بھلا کیا ہے واقعہ سارا

ہمارا صبر کسی کی رضا بنا ہُوا ہے

بنا ہے اشک کسی آنکھ میں یہ دل کامی

جگر کا خوں کہیں رنگِ حنا بنا ہُوا ہے،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہے بھیدوں بھری جادوئی شاعری

آدمی کے لئے عشق کی شاعری

یہ جو لفظوں کو چھو کے نیا کرتے ہیں

یہ نئے لوگ ہیں اور نئی شاعری

سرخ پھولوں بھرا اک جزیرہ ہے وہ

اور نیلی، ہری، جل پری شاعری

لال ہوتا ہُوا باغِ شعلہ نما

اور بڑھتی ہوئی شعلگی شاعری

وَحدتِ ہجر میں مجھ پہ نازل ہوئی

مجھ کو حیران کرتی ہوئی شاعری

مَیں زمیں کے لیے نغمہٗ احمریں

وہ خداوند کی کاسنی شاعری

ہم بناتے رہیں گے نشانِ ہُنر

آپ کرتے رہیں جی بڑی شاعری،،

۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹھے بیٹھے یہ ترا دھیان کہاں جاتا ہے

دھیان کر دھیان، ارے نادان! کہاں جاتا ہے

پہلا آدم تھا جو نکلا تھا کسی جنت سے

دیکھیے آخری انسان کہاں جاتا ہے

اُس کی آنکھوں کے حوالے سے بہت سوچتا ہوں

لے کے وہ قتل کا سامان کہاں جاتا ہے

آنکھ بولائی ہوئی پھرتی ہے ہر آن کے ساتھ

دیکھتا ہوں دلِ حیران کہاں جاتا ہے

اِس خرابے میں نہیں تیرے علاوہ کوئی

بیٹھ جا یاں پہ مری مان! !کہاں جاتا ہے

بات کرنی ہے جو کرلے، جو ارادہ ہے بتا

وہم دے، رکھ یہاں ایقان!کہاں جاتا ہے!!

اتنی مشکل سے ملا ہے تو ذرا پاس بھی آ

تجھ پہ ہو  جائوں میں قربان! کہاں جاتا ہے

یار کے گھر کا بھلا یار کی گلیوں کا بھلا

میرے سینے سے یہ طوفان کہاں جاتا ہے

دیکھنے دیجیے ہم کو بھی کہ وہ ناقہ سوار

کرکے اِس راہ کو ویران کہاں جاتا ہے

داغ صاحب کی طرح ہم سے بھی یہ پوچھا گیا

نہ کوئی جان نہ پہچان کہاں جاتا ہے،،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں چاہتا تھا سو اسے ایسا بنا دیا

دل کو تری نگاہ نے شعلہ بنادیا

ذرے میں رکھ دیئے سبھی آغاز و اختتام

نقطے کو کھینچ تان کے دنیا بنادیا

پانی کو آسماں سے گرایا زمین پر

لمبی لکیر کھینچ کے دریا بنا دیا

باغوں میں ایک باغ ہے، پھولوں میں ایک پھول

رنگوں میں ایک رنگ کو نیلا بنا دیا

سب کچھ بنایا اُس نے بغیرِ مشاورت

مجھ کو پھر اس نظام کا حصہ بنا دیا

مجھ کو بنایا اُس نے شبیہِ قدیم پر

میرے لیے تمہارا سراپا بنادیا

دل کے لیے سکون کا باعث ترا خیال

آنکھوں کے واسطے ترا چہرہ بنا دیا

آنکھوں میں اُس نے رنگ ترے خواب کے بھرے

دل کو ہمارے آئینہ خانہ بنادیا

کیجے حضور حمد و ثنا ایک اسم کی

جس نے چراغ و گُل کو صحیفہ بنا دیا

مجھ کو خبر دی اُس نے قلعے میں خزانے کی

تاروں سے آسمان پہ نقشہ بنادیا

ایسا لگایا رنگ ترے عشق نے مجھے

سارا مرا وجود سنہرا بنا دیا

آنکھوں میں جل رہے ہیں کئی شبنمی چراغ

کامی ہمیں بھی عشق نے تجھ سا بنا دیا،،

۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے