سر ورق / مضامین / تنقید یا لفظی جگالی… خرم شہزاد

تنقید یا لفظی جگالی… خرم شہزاد

تنقید یا لفظی جگالی
خرم شہزاد

کسی بھی زبان کے ادب سے اگر صحیح معانی میں لطف اندوز ہونے کو دل چاہے تو اس زبان میں لکھی گئی تنقید کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ ہمارے خیال سے ادب میں تنقیدکا وہی مقام ہے جو کسی بھی کھانے میں مصالحوں کا ہے کہ اصل ذائقہ تو مصالحے ہی بناتے ہیں۔ اردو ادب کی بات کی جائے تو ماضی میں تنقید کے حوالے سے ہمارے پاس بہت سے قد آور نام موجود ہیں، جن کا لکھا سند سمجھا جاتا تھا۔ لکھاری خود اپنے لکھے کو نہ صرف تنقید کے لیے پیش کرتا تھا بلکہ ہم عصر تنقید نگاروں کی تنقید کو کھلے دل سے تسلیم بھی کرتا تھا۔ ماضی کی بہت سی ادبی محفلیں اس روایت کی گواہ ہیں جہاں لکھاری خود اپنی تحریر پر کی گئی تنقید کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اٹھائے گئے سوالات کے جواب بھی دیتے تھے۔ ادب واقعی ادب والوں کا مشغلہ شمار کیا جاتا تھا اور ایسے افراد جو بڑوں کی محفل میں آن بیٹھتے یا جن کا مطالعہ کم ہوتا ، وہ خاموشی سے اکتساب کرتے۔ سوشل میڈیا کی آمد نے جہاں ماضی کے رکھ رکھاو ، بھرم اور وضع داری کا خاتمہ کیا وہیں ادب میں بے ادبی کی روایت کا بھی آغاز کیا۔ آج کوئی بھی شخص کسی بھی صاحب علم کے خیال کو اپنے نام سے پوسٹ کر سکتا ہے اور ایسا کرنے والے سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اگر اس پوسٹ پر کمنٹس کر دیں تو بین السطور میں یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ ادب میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ادب میں آئے روز شروع کی جانے والی ان بحث و مباحث میں حصہ لینے والے بھی بحث کا آغاز کرنے والے سے یہ نہیں پوچھتے کہ میاں تمہاری اپنی ذاتی علمی و ادبی قابلیت کیا ہے اور کس برتے پر تم فلاں بات کہہ رہے ہوبلکہ ہر شخص بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے کہ اپنی علمی و ادبی قابلیت کا مظاہرہ کر سکے۔آپ کسی بھی موضوع پر کئی گئی پوسٹ اور بحث کو کچھ عرصے بعد ایک لائک یا کمنٹ سے دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں اور میدان کارزار پھر سے گرم کر سکتے ہیں، ایسا کرنے کی نہ تو کوئی ممانعت ہے اور نہ کوئی اخلاقی رکاوٹ کسی بھی سوشل میڈیائی شخص کے ہاتھ روکتی ہے۔ اس صورت حال نے ادب کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت آج ہر وہ شخص جس کے پاس سمارٹ فون ہے اور اس سمارٹ فون میں اردو کی بورڈ انسٹال ہے وہ لکھاری سمیت بہت سے درجوں پر فائز ہونے کی قابلیت رکھتا ہے۔ ہزارو ں کی فرینڈ لسٹ میں ایک سے دو درجن ایسے افراد بھی مل ہی جاتے ہیں جو مروت میں ہی سہی لیکن واہ واہ کر دیں ، تو اب کس بات کی کمی رہ جاتی ہے۔ آپ لکھاری بھی ہیں اور تنقید نگار بھی، اگر کوئی اعتراض کرئے تواپنے سوشل میڈیا ئی حلقے کی توپوں کا رخ اس کی طرف کر دیں، چند ہی دنوں میں یاں تو وہ شخص معافی مانگ کر آپ کے مقام کا قائل ہو جائے گا یا پھر فرار ہونے میں عافیت جانے گا۔
سوشل میڈیا کی بے ادبی نے جہاں ادب کو نقصان پہنچایا ہے وہیں تنقید کے فن کو یکسر ختم کر ڈالا ہے۔ آج جہاںکسی بھی شخص کے حق میں کی جانے والی پوسٹ خوشامد کہلاتی ہے وہیں تنقید کا آسان ترین مطلب کسی بھی شاعر یا ادیب کے خلاف لگائی جانے والی پوسٹ ہے۔ سوشل میڈیائی تنقید میں سب سے زیادہ رگڑا سرقہ، توارد اور انسپائریشن کو لگایا جاتا ہے۔ کسی بھی شاعر یا ادیب کے کام کو بہت آسانی سے مسترد کرتے ہوئے سرقہ کہا جا سکتا ہے۔ لکھاری اگر ذرا مشہور ہے اور سرقہ کا الزام آپ کے خلاف بھی محاذ بنا سکتا ہے تو تھوڑی سی محنت کے بعد کسی اور کے کام سے ذرا سی مماثلت ملنے پر توارد کہہ کر بھی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ انسپائریشن کا ٹھپہ تو کہیں گیا ہی نہیں اور اس ٹھپے کو لگانے کے لیے نہ تو ادیب کے کام کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ پرکھنے کی، بس اس کی نظریاتی فکر کے کسی بڑے نام کو ڈھونڈیں، تھوڑی سی لفاظی کریں، انسپائزیشن کا ٹھپہ تیار، لگائیںاور کام ختم۔ آپ بہت بڑے تنقید نگار کہلائیں گے اور آپ کی واہ واہ کرنے والے اس لکھاری کی ایسی کی تیسی کرنے میں پیش پیش ہوں گے۔ آن لائن دنیا میں تو کوئی کام خود بھی کرنے کی ضرورت نہیں ، کسی بھی بڑے لکھاری یا تنقید نگار کی پوسٹ اٹھائیں ، نام بدلیں اور پوسٹ لگا دیں، بھلا کون آپ سے پوچھ رہا ہے کہ ثبوت دیں اور اپنا علمی و ادبی قد بھی بیان کریں۔ درجن بھر پوسٹوں کے بعد اگر لائک اور کمنٹس اچھے مل جائیں تو آپ بھی نامور تنقید نگاروں میں شامل ہونے کے لیے پر تول سکتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کے سیلاب میں اب تنقید پر کام نہیں ہو رہا لیکن جتنے بڑے نام ہمارے پاس ماضی میں تھے اور جیسا ان کا تنقیدی کام ہمارے سامنے نظر آتا تھا، وہ سب اب ماضی کی باتیں لگتی ہیں۔ معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ اس وقت جو احباب تنقید کے فن سے وابسطہ ہیں ان میں سے بہت سے اپنی رائے کے بجائے سوشل میڈیا کی بھیڑ چال کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر کسی کے حق میں ہوا چل رہی ہے تو مخالفت والے کم ہی نظر آئیں گے اور اگر کوئی مخالفت کر بھی رہا ہے تو باقاعدہ کسی دلیل کے بجائے اپنی دکان کا نام بنانے کی کوشش میںہے۔ سوچنے والی یہ بات ہے کہ آن لائن دنیا کے وجود میں آنے کے بعد جب کہ دنیا بھر کا کام اور نام ایک جگہ دستیاب ہے، ادب اور تنقید کے میدان میں بہت سے نئے تجربات ہونے چاہیے تھے۔ بہت سا ایسا کام جو ماضی میں صرف سوچا جا سکتا تھا، اب ممکن ہو نا چاہئے تھا لیکن ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ اب سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مخالفت اور پگڑیاں اچھالنے کو ہم تنقید کا نام دیں گے یا پھر کسی کی لفظی جگالی تنقید کے باب میں نیا اضافہ شمار کی جائے گی۔ اس وقت ہمارے پاس سکہ بند ادبا کی ایک اچھی تعداد نہ صرف حیات ہے بلکہ ادب کے حوالے سے متحرک بھی ہے، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے پہلے سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا کا سیلاب سب کچھ بہا کر لے جائے، فن تنقید کے حوالے سے نیا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ فیس بکی مخالف پوسٹوں کو کسی کے کام پر تنقید سمجھنے کے بجائے ذاتیات کی لڑائی گردانا جائے اور فن تنقید کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط ترتیب دئیے جائیںورنہ آنے والے کچھ عرصے میں نوجوان نسل کے پاس تنقید اور لفظی جگالی میں فرق کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ادب کا دامن بھی آن لائن دنیا کی مخالفت پر مبنی پوسٹوں اور لڑائیوں سے بھرا ملے گا اور ایک عام قاری جو پہلے ہی پڑھنے سے بہت دور جا رہا ہے مزید دور ہوتا چلا جائے گا۔ اس لیے پیشگی اقدامات کی سخت ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہمیں آج اپنے کل ، اپنے مستقبل کے لیے ایک بہتر اور قابل عمل لائحہ عمل کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور اس کام میں ذرا سی دیر بہت زیادہ دیر میں بھی بدل سکتی ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اک آہو ئے خوش چشم ۔۔۔ نورالحسنین

                          اک آہو ئے خوش چشم  نورالحسنین    اورنگ آباد ( دکن )                 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے