سر ورق / کہانی /  پرندے ۔۔۔۔ نرمل ورما/عامر صدیقی

 پرندے ۔۔۔۔ نرمل ورما/عامر صدیقی

 پرندے

نرمل ورما/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

 نرمل ورما،پیدائش، ۳ اپریل ۹۲۹۱ ء،شملہ، ہماچل پردیش۔ میدان:ناول، کہانی،نقاد وغیرہ۔ اہم تخلیقات :ناول،انتم ارنیہ، رات کا رپورٹر، ایک چتھڑا سکھ، لال ٹین کی چھت، وہ دن۔کہانیوں کے مجموعے: پرندے، کوے اورکالا پانی،سوکھا اور دیگر کہانیاں، بیچ بحث میں، جلتی جھاڑی،پچھلی گرمیوں،دھاگے۔رپورتاژ، سفرنامے: ہر بارش میں، چہروں پر چاندنی۔ڈرامہ: تین ایکانت۔مضامین اور تنقید:ڈھلان سے اترتے ہوئے،بھارت اور یورپ وغیرہ۔ایوارڈز، اعزازات:پدم بھوشن،ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈسمیت دیگر کئی ایوارڈز۔انتقال :۵۲ اکتوبر ۵۰۰۲ئ۔

…………

اندھیرے گلیارے میں چلتے ہوئے لتیکا ٹھٹک گئی۔ دیوار کا سہارا لے کر اس نے لیمپ کی لوبڑھا دی۔ سیڑھیوں پر اسکا سایہ ایک بے ڈول کٹی پھٹی صورت اختیار کرنے لگا۔ سات نمبر کمرے میں لڑکیوں کی بات چیت اور ہنسی مذاق کی آواز ابھی تک سنائی دے رہی تھی۔ لتیکا نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ شور اچانک بند ہو گیا۔ ”کون ہے؟“

لتیکا خاموش کھڑی رہی۔ کمرے میں کچھ دیر تک کانا پھوسی ہوتی رہی، پھر دروازے کی چٹخنی ،کھلنے کی آوازآئی۔ لتیکا کمرے کی دہلیز سے کچھ آگے بڑھی، لیمپ کی جھپکتے شعلے میں لڑکیوں کے چہرے ،سنیما کے پردے پر ٹھہرے ہوئے کلوز اپ کی مانند ابھرنے لگے۔

”کمرے میں اندھیرا کیوں کر رکھا ہے؟“لتیکا کے لہجے میں ہلکی سی جھڑکی کا تاثر تھا۔

”لیمپ میں تیل ہی ختم ہو گیا، میڈم۔“یہ سُدھا کا کمرہ تھا، اس لئے اسے ہی جواب دینا پڑا۔ہوسٹل میں شاید وہ سب سے زیادہ مقبول تھی، کیونکہ ہمیشہ چھٹی کے وقت یا رات کو ڈنر کے بعد آس پاس کے کمروں میں رہنے والی لڑکیوں کا جمگھٹا اسی کے کمرے میں لگ جاتا تھا۔ دیر تک گپ شپ، ہنسی مذاق چلتا رہتا۔

”تیل کےلئے کریم الدین سے کیوں نہیں کہا؟“

”کتنی بار کہا میڈم، لیکن اسے یاد رہے تب تو۔“

کمرے میں ہنسی کی پھوار ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیل گئی۔ لتیکا کے کمرے میں آنے سے نظم و ضبط کی جو گھٹن گِھر آئی تھی، وہ اچانک بہہ گئی۔ کریم الدین ہوسٹل مین تھا۔ اس کی کاہلی اور کام میں ٹال مٹول کرنے کے قصے ،ہوسٹل کی لڑکیوں میں پیڑھی در پیڑھی چلے آتے تھے۔ لتیکا کواچانک کچھ یاد آگیا۔ اندھیرے میں لیمپ گھماتے ہوئے چاروں جانب نگاہیں دوڑائیں۔ کمرے میں چاروں طرف گھیرا بنا کر وہ بیٹھی تھیں ،پاس پاس ایک دوسرے سے چپک کر۔ سب کے چہروں سے واقفیت تھی، لیکن لیمپ کی پیلی مدھم روشنی میں گویا کچھ بدل گیا تھا، یا جیسے وہ انہیں پہلی بار دیکھ رہی تھی۔

”جولی، اب تک تم اس بلاک میں کیا کر رہی ہو؟“

جولی کھڑکی کے پاس پلنگ کے سرہانے بیٹھی تھی۔ اس نے خاموشی سے آنکھیں نیچی کر لیں۔ لیمپ کی روشنی چاروں طرف سے سمٹ کر اب صرف اس کے چہرے پر مرکوزہو رہی تھی۔

 ”نائٹ رجسٹر پر دستخط کر دیے؟“

” ہاں ، میڈم۔“

” پھر ۔۔۔؟“ لتیکا کا لہجہ سخت ہو گیا۔ جولی گھبراکر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ جب سے لتیکا اس اسکول میں آئی ہے، اس نے محسوس کیا ہے کہ ہوسٹل کے اس اصول پر عمل، ڈانٹ پھٹکار کے باوجود نہیں ہوتا۔

 ”میڈم، کل سے چھٹیاں شروع ہوجائیں گی،اس لئے آج رات ہم سب نے مل کر ۔۔۔“ اورسُدھا پوری بات مکمل کئے بغیر، ہےمنتی کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرانے لگی۔ پھر گویا ہوئی،”ہےمنتی کے گانے کا پروگرام ہے، آپ بھی کچھ دیر بیٹھیں نہ۔“

 لتیکاکو الجھن محسوس ہوئی۔ اس وقت یہاں آکر اِس نے، انکے مزے کو کرکرا کر دیاتھا۔ اس چھوٹے سے ہل اسٹیشن پر رہتے ہوئے اسے خاصا عرصہ ہو گیا، لیکن وقت کب، گرمیوں اورخزاں کا گھیرا پار کرکے سردی کی چھٹیوں کی گود میں سمٹ جاتا ہے، اسے کبھی یاد نہیں رہتا۔ چوروں کی طرح خاموشی سے وہ دہلیز سے باہر گئی۔ اس کے چہرے کی کشیدگی میں کمی آ گئی تھی ۔ وہ مسکرانے لگی۔ ”میرے ساتھ سنو فال دیکھنے کوئی نہیں ٹھہرے گا؟“

” میڈم، چھٹیوں میں کیا اپنے گھر نہیں جا رہی ہیں؟“سبھی لڑکیوں کی نگاہیں اس پر جم گئیں۔

 ”ابھی کچھ پکا نہیں ہے،آئی لو دی سنوفال۔“

 لتیکا کو لگا کہ یہی بات اس نے گزشتہ سال بھی کہی تھی اور شاید گزشتہ سے گزشتہ سال بھی۔ اسے لگا شاید لڑکیاں اسے شکوک بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں،گویا انہوں نے اس بات پر یقین نہیں کیا۔ اس کا سر چکرانے لگا، گویا بادلوں کا سیاہ جھرمٹ کسی انجانے کونے سے اٹھ کر اسے خود میں ڈوبا لے گا۔ وہ ہولے سے ہنسی، پھر آہستہ سے اس نے سر کو جھٹک دیا۔ ”جولی، تم سے کچھ کام ہے،اپنے بلاک میں جانے سے پہلے مجھ سے مل لےنا،ویل گڈ نائٹ۔“ لتیکا نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا۔

”گڈ نائٹ میڈم، گڈ نائٹ، گڈ نائٹ ۔۔۔“

لتیکاگلیارے کی سیڑھیاں نہیں اتری، بلکہ ریلنگ کے سہارے کھڑی ہو گئی۔ لیمپ کی بتی کو نیچے گھما کر کونے میں رکھ دیا۔ باہردھند کی نیلی تہیں بہت گہری ہو چلی تھیں۔ لان پر لگے ہوئے چیڑ کے پتوں کی سرسراہٹ ،ہوا کے جھونکوں کے ساتھ کبھی تیز، کبھی دھیمی ہو کر اندر بہہ آتی تھی۔ ہوا میں سردی کا ہلکا سا احساس پاکر لتیکا کے دماغ میں کل سے شروع ہونے والی چھٹیوں کا خیال کہیں سے بھٹک آیا۔ اس نے آنکھیں موند لیں ۔ اسے لگا کہ جیسے اس کی ٹانگیں بانس کی کھپچیوں کی طرح اس کے جسم سے بندھی ہیں، جس کی گانٹھیں آہستہ آہستہ کھلتی جا رہی ہیں۔ سر کا گھومنا ابھی مِٹا نہیں تھا، مگر اب جیسے وہ اندرسے نکل کر باہر پھیلی دھند کا حصہ بن گئی تھی۔

سیڑھیاں پر باتوں کاشور سن کر لتیکا جیسے سوتے سے جاگی۔ شال کو کندھوں پر سمیٹا اور لیمپ اٹھا لیا۔ ڈاکٹر مکرجی،ایم ہیوبرٹ کے ساتھ ایک انگریزی دھن گنگناتے ہوئے اوپر آ رہے تھے۔ سیڑھیاں پر اندھیرا تھا اور ہیوبرٹ کو بار باراپنی چھڑی سے راستہ ٹٹولنا پڑرہا تھا۔ لتیکا نے دو چار سیڑھیاں اتر کر لیمپ کو نیچے جھکا دیا۔ ”گڈ ایوننگ ڈاکٹر، گڈ ایوننگ ایم ہیوبرٹ ۔“

” تھینک یو مس لتیکا۔“ہیوبرٹ کے لہجے میںتشکر تھا۔ سیڑھیاں چڑھنے سے ان کی سانس تیز ہو رہی تھی اور وہ دیوار سے لگے ہوئے ہانپ رہے تھے۔ لیمپ کی روشنی میں ان کے چہرے کا پیلاپن کچھ تانبے کے رنگ جیسا ہو گیا تھا۔

”یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو مس لتیکا ؟“ ڈاکٹر نے ہونٹوں کے اندر سے سیٹی بجائی۔

 ”چیکنگ کرکے لوٹ رہی تھی۔ آج اس وقت اوپر کیسے آنا ہوا مسٹر ہیوبرٹ ؟“

 ہیوبرٹ نے مسکراکر اپنی چھڑی ڈاکٹر کے کندھوں سے چُھلا دی،” انہی سے پوچھو، یہی مجھے زبردستی گھسیٹ کرلائے ہیں۔“

”مس لتیکا ، ہم آپ کو دعوت دینے آ رہے تھے۔ آج رات میرے کمرے میں ایک چھوٹا سا کنسرٹ ہوگا جس میں ایم ہیوبرٹ ، شوپاں اور چائیکووسکی کی کمپوزیشن بجائیں گے اور پھر کریم کافی پی جائے گی۔ اور اسکے بعد اگر وقت رہا، تو گزشتہ سال ہم نے جو گناہ کئے ہیں، انہیں ہم سب مل کر کنفینس کریں گے۔“ڈاکٹر مکرجی کے چہرے پر گہری مسکراہٹ کھیل گئی۔

”ڈاکٹر، مجھے معاف کریں، میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔“

”چلئے، یہ ٹھیک رہا۔ پھر تو آپ ویسے بھی میرے پاس آتیں۔“ڈاکٹر نے آہستہ سے لتیکا کے کندھوں کو پکڑ کر اپنے کمرے کی جانب موڑ دیا۔ ڈاکٹر مکرجی کاکمرہ بلاک کے دوسرے سرے پر چھت سے جڑا ہواتھا۔ وہ آدھے برمی تھے، اسکی جھلک ان کی تھوڑی دبی ہوئی ناک اور چھوٹی چھوٹی چنچل آنکھوں سے صاف عیاں ہوتی تھی۔ برما پر جاپانیوں کا قبضہ ہونے کے بعد وہ اس مختصر سے پہاڑی شہر میں آ بسے تھے۔ پرائیویٹ پریکٹس کے علاوہ وہ کانوینٹ اسکول میں ہائی جن،فزیالوجی بھی پڑھایا کرتے تھے اور اس وجہ سے ان کو اسکول کے ہوسٹل میں ہی ایک کمرہ رہنے کےلئے دے دیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ برما سے آتے ہوئے راستے میں ان کی بیوی کی موت واقع ہو گئی تھی، لیکن اس سلسلے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ،کیونکہ ڈاکٹر کبھی اپنی بیوی کے متعلق بات نہیں کرتے تھے۔

گفتگوکے دوران ڈاکٹر اکثر کہا کرتے ہیں۔ ”مرنے سے پہلے میں ایک دفعہ برما ضرور جاو ¿ں گا۔“اور پھر ایک لمحے کےلئے ان کی آنکھوں میں ایک نمی سی چھا جاتی۔ لتیکا چاہنے پر بھی ان سے کچھ پوچھ نہیں پاتی۔ اسے لگتا کہ ڈاکٹر نہیں چاہتے کہ کوئی ماضی کے تعلق کے بارے میں ان سے کچھ بھی پوچھے یا ہمدردی دکھلائے۔ دوسرے ہی لمحے اپنی سنجیدگی کو دور دھکیلتے ہوئے وہ ہنس پڑتے۔ ایک خشک، بوجھی ہوئی ہنسی۔

ہوم سکنےس ہی ایک ایسی بیماری ہے، جس کا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ چھت پر میز کرسیاں ڈال دی گئیں اور اندر کمرے میں پرکولےٹر میں کافی کا پانی چڑھا دیا گیا۔

 ”سنا ہے اگلے دو تین برسوں میں یہاں پر بجلی کا بھی انتظام ہو جائے گا۔“ ڈاکٹر نے اسپرٹ لیمپ جلاتے ہوئے کہا۔

 ”یہ بات تو گزشتہ دس سالوں سے سننے میں آ رہی ہے۔ انگریزوں نے بھی کوئی لمبی چوڑی اسکیم بنائی تھی، پتہ نہیں اس کا کیا ہوا۔“ ہیوبرٹ نے کہا۔ وہ آرام کرسی پر لیٹا ہوا باہر لان کی جانب دیکھ رہا تھا۔

 لتیکا کمرے سے دو موم بتیاں لے آئی۔ میز کے دونوں سروں پر ٹکاکر انہیں جلا دیا گیا۔ چھت کا اندھیرا موم بتی کی پھیکی روشنی کے ارد گرد سمٹنے لگا۔ ایک گنجان اداسی چاروں جانب گھرنے لگی۔ ہوا میں چیڑ کے درختوں کی سائیں سائیں، دور دور تک پھیلی پہاڑیوں اور وادیوں میں سیٹیوں کی گونج سی چھوڑتی جا رہی تھی۔

”اس بار شاید برف جلدی گرے گی، ابھی سے ہوا میں ایک سرد خشکی سی محسوس ہونے لگی ہے۔“ ڈاکٹر کا سگار اندھیرے میں سرخ شعلے سا چمک رہا تھا۔

 ”پتہ نہیں، مس ووڈ کو اسپیشل سروس کا گورکھ دھندہ کیوں پسند آتا ہے۔ چھٹیوں میں گھر جانے سے پہلے، کیا یہ ضروری ہے کہ لڑکیوں فادر اےلمنڈ کا سرمن سنیں؟“ ہیوبرٹ نے کہا۔

ڈاکٹر کو فادر اےلمنڈ ایک آنکھ نہیںبھاتے تھے۔ لتیکا کرسی پر آگے جھک کر پیالوں میں کافی انڈےلنے لگی۔ ہر سال اسکول بند ہونے کے دن یہی دو پروگرام ہوتے ہیں ،چیپل میں اسپیشل سروس اور اسکے بعد دن میں پکنک۔ لتیکا کو پہلا سال یاد آیا ،جب پکنک کے بعد وہ ڈاکٹر کے ساتھ کلب گئی تھی۔ ڈاکٹر بار میں بےٹھے تھے۔ بار روم کماﺅ رجمنٹ کے افسروں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ دیر تک بلیئرڈ کاکھیل دیکھنے کے بعد، جب وہ واپس بار کی جانب آ رہے تھے، تب اس نے دائیں جانب کلب کی لائبریری میں دیکھا، مگر اسی دوران ڈاکٹر مکرجی پیچھے سے آ گئے تھے۔

” مس لتیکا ، یہ میجر گریش نیگی ہے۔“

بلیئرڈ روم سے آتے ہوئے ہنسی مذاق کے بیچ وہ نام دب سا گیا تھا۔ وہ کسی کتاب کے بیچ، انگلی رکھ کر لائبریری کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ ”ہیلو ڈاکٹر۔“ وہ پیچھے مڑا۔ تب اس لمحے ۔۔۔

اس لمحے نہ جانے کیوں لتیکا کا ہاتھ کانپ گیا اور کافی کے کچھ گرم قطرے اس کی ساڑی پر چھلک گئے۔ اندھیرے میں کسی نے نہیں دیکھا کہ لتیکا کے چہرے پر ایک سپاٹ سا احساس گِھر آیا ہے۔ ہوا کے جھونکے سے موم بتیوں کی لو تھرتھرانے لگی۔ چھت سے بھی بلند کاٹھگودام جانے والی سڑک پر یو پی روڈویز کی آخری بس، ڈاک لے کر جا رہی تھی۔ بس کی ہیڈ لائٹس میں آس پاس پھیلی ہوئی جھاڑیوں کے سائے ،گھر کی دیوار پر سرکتے ہوئے غائب ہونے لگے۔

”مس لتیکا ، آپ اس سال بھی چھٹیوں میں یہیں رہیں گی؟“ڈاکٹر نے پوچھا۔

ڈاکٹر کا سوال ہوا میںمعلق رہا۔ اسی لمحے پیانو پر شوپاں کا نوکٹرن ،ہیوبرٹ کی انگلیوں کے نیچے سے پھسلتا ہوا آہستہ آہستہ چھت کے اندھیرے میں گھلنے لگا،جیسے پانی پرکومل خوابیدہ لہریں، بھنوروں کا جھلملاتا جال بنتی ہوئیں، دور دور کناروں تک پھیلتی جا رہی ہوں۔ لتیکا کو لگا کہ جیسے کہیں بہت دور برف کی چوٹیوں سے پرندوں کے جھنڈ نیچے انجان دیشوں کی جانب اڑے جا رہے ہیں۔ ان دنوں اکثر اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے انہیں دیکھا ہے۔دھاگے میں بندھے چمکیلے لٹوﺅں کی طرح وہ ایک لمبی، ٹیڑھی میڑھی قطار میں اڑے جاتے ہیں، پہاڑوں کی سنسان اداسیوں سے پرے، ان عجیب شہروں کی جانب جہاں شاید وہ کبھی نہیں جائے گی۔

 لتیکا آرام کرسی پر اونگھنے لگی۔ ڈاکٹر مکرجی کا سگار اندھیرے میں چپ چاپ جل رہا تھا۔ ڈاکٹر کو تعجب ہوا کہ لتیکا نہ جانے کیا سوچ رہی ہے اور لتیکا سوچ رہی تھی،”کیا وہ بوڑھی ہوتی جا رہی ہے؟“ اس کے سامنے اسکول کی پرنسپل مس ووڈ کا چہرہ گھوم گیا،پوپلا منہ، آنکھوں کے نیچے جھولتی ہوئی گوشت کی تھےلیاں، ذرا ذرا سی بات پر چڑ جانا، کرخت آواز میںچیخنا۔سب اس ”اولڈمےڈ“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ چند سالوں بعد وہ بھی ہو بہو ویسی ہی بن جائے گی ۔ لتیکا کے پورے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی،مانو جیسے انجانے میںاس نے کسی غلیظ چیز کو چھو لیا ہو۔ اسے یاد آیا، چند مہینے پہلے اچانک اسے ہیوبرٹ کا محبت نامہ ملا تھا ،جذباتی التجا ﺅںسے بھرا ہوا ایک خط، جس میں اس نے نہ جانے کیا کچھ لکھا تھا، جو کبھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اسے ہیوبرٹ کی اس بچکانہ حرکت پر ہنسی آئی تھی، لیکن اندرہی اندر خوشی بھی محسوس ہوئی تھی۔ اس کی عمر ابھی بیتی نہیں ہے، اب بھی وہ دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتی ہے۔ ہیوبرٹ کا خط پڑھ کر اسے غصہ نہیں آیا، آئی تھی تو صرف ممتا۔ وہ چاہتی تو اسکی غلط فہمی کو دور کرنے میں دیر نہ لگتی، لیکن کوئی طاقت اُسے روکے رہتی ہے، اس کی وجہ سے خود پر یقین رہتا ہے، اپنی خوشیوں کابھرم گویا ہیوبرٹ کی غلط فہمی سے جڑاہے ۔

 ہیوبرٹ ہی کیوں، وہ کیا کسی کو چاہ سکے گی، اس آگاہی کے سنگ، جو اب نہیں رہی، جو سائے سی اس پر منڈراتی رہتی ہے، نہ خود مٹتی ہے، نہ اسے نجات دے پاتی ہے۔ اسے لگا، جیسے بادلوں کا جھرمٹ پھر اسکے ذہن پر آہستہ آہستہ چھانے لگا ہے، اس کی ٹانگیں پھرسُن اور یخ بستہ سی ہو گئی ہیں۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔

 ”ڈاکٹر معاف کرنا، مجھے بہت تھکاوٹ سی لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔“بات مکمل کئے بغیر ہی وہ چلی گئی۔ کچھ دیر تک ٹےرس پرمردنی چھائی رہی۔ موم بتیاں بجھنے لگی تھیں۔ ڈاکٹر مکرجی نے سگار کا نیاکش لیا۔ ”سبھی لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہے،بیوقوف اور سےنٹی مینٹل۔“

ہیوبرٹ کی انگلیوں کا دباو ¿ پیانو پر ڈھیلا پڑتا گیا، آخری بار سروں کی جھجکی سی باز گشت کچھ لمحوں تک ہوا میں تیرتی رہی۔

”ڈاکٹر، آپ کو معلوم ہے، مس لتیکا کا رویہ گزشتہ کچھ عرصے سے عجیب سا لگتا ہے۔“ ہیوبرٹ کے انداز میں لاپرواہی کا تاثر تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ڈاکٹر کو لتیکا کے تئیں اس کے اندرونی جذبات کا رتی برابر بھی اندازہ ہو سکے۔ جس کومل احساس کو وہ اتنے عرصے سے سیج رہا ہے، ڈاکٹر اسے ہنسی کے ایک قہقہے میں مضحکہ خیز بنا دے گا۔

 ”کیا تم قسمت میں یقین رکھتے، ہیوبرٹ ؟“ڈاکٹر نے کہا۔ ہیوبرٹ دم روکے انتظار کرتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ کوئی بھی بات کہنے سے پہلے ڈاکٹر کوفلاسوفائز کرنے کی عادت تھی۔ ڈاکٹر ٹےرس کے جنگلے سے چپک کر کھڑا ہو گیا۔ پھیکی سی چاندنی میں، چیڑ کے پےڑو ںکے سائے، لان پر پھیل رہے تھے۔ کبھی کبھی کوئی جگنو اندھیرے میں سبز روشنی چھڑکتا ،فضا میں غائب ہو جاتا تھا۔

”میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان زندہ کس لئے رہتا ہے۔کیا اسے کوئی اور بہتر کام کرنے کو نہیں ملا؟ ہزاروں میل اپنے ملک سے دور میں یہاں پڑا ہوں۔ یہاں کون مجھے جانتا ہے، یہیں شاید مر بھی جاو ¿ں گا۔ ہیوبرٹ ، کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ایک اجنبی کی حیثیت سے پرائی زمین پر مر جانا کافی خوفناک خیال ہے ۔۔۔۔“

 ہیوبرٹ حیران سا ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔ اس نے پہلی بار ڈاکٹر مکرجی کے اس پہلو کو دیکھا تھا۔اپنی بابت وہ اکثر خاموش رہتے تھے۔

”کوئی پیچھے نہیں ہے، یہ بات مجھ میں ایک عجیب قسم کی بے فکری پیدا کر دیتی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کی موت آخر دم تک پہیلی بنی رہتی ہے، شاید وہ زندگی سے بہت امید لگاتے تھے۔ اسے ٹریجک بھی نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ آخری دم تک انہیں مرنے کا احساس نہیں ہوتا۔“

” ڈاکٹر، آپ کس کا ذکر کر رہے ہیں؟“ ہیوبرٹ نے پریشان ہوکر پوچھا۔ ڈاکٹر کچھ دیر تک خاموشی سے سگار پیتا رہا۔ پھر مڑ کر وہ موم بتیوں کی بجھتی ہوئی لو کو دیکھنے لگا۔

”تمہیں معلوم ہے، کسی وقت لتیکا بلا ناغہ کلب جایا کرتی تھی۔ گریش نیگی سے اس کا تعارف وہیں ہوا تھا۔ کشمیر جانے سے ایک رات پہلے اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا تھا۔ میں اب تک لتیکا سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکا ہوں۔ لیکن اس رات کون جانتا تھا کہ وہ واپس نہیں لوٹے گا۔ اور اب۔۔اب کیا فرق پڑتا ہے۔ لیٹ دی ڈیڈ۔ ڈائی ۔۔۔“ڈاکٹر کی خشک اور سرد ہنسی میں خالی پن بھرا تھا۔

”کون گریش نیگی؟“

” کماﺅ رجمنٹ میں کیپٹن تھا۔“

” ڈاکٹر، کیا لتیکا ۔۔۔“ ہیوبرٹ سے مزید کچھ نہیں کہا گیا۔ اسے یاد آیا وہ خط، جو اس نے لتیکا کو بھیجا تھا، کتنا بے معنی اور احمقانہ، جیسے اس کا ایک ایک لفظ اس کے دل کو کچوٹ رہا ہو۔ اس نے آہستہ سے پیانو پر سر ٹکا لیا۔ لتیکا نے اسے کیوں نہیں بتایا، کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھا؟

 ” لتیکا ۔۔۔ وہ تو بچی ہے، پاگل۔ مرنے والے کے ساتھ خود تھوڑے ہی مرا جاتا ہے۔“

کچھ دیر خاموش رہ کر ڈاکٹر نے اپنے سوال کو دوبارہ دہرایا۔ ”لیکن ہیوبرٹ ، کیا تم قسمت پر یقین رکھتے ہیں؟“

ہوا کے ہلکے جھونکے سے موم بتیاں ایک بارٹمٹماکر بجھ گئیں۔ ٹےرس پر ہیوبرٹ اور ڈاکٹر اندھیرے میں ایک دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہے تھے، پھر بھی وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کانوےنٹ اسکول سے کچھ دور میدانوں میں بہتے پہاڑی نالے کی آواز آ رہی تھی۔ اب بہت دیر بعدکماﺅ رجمنٹ سےنٹر کا بگل سنائی دیا، تو ہیوبرٹ ہڑبڑاکر کھڑا ہو گیا۔ ”اچھا، چلتا ہوں، ڈاکٹر، گڈ نائٹ۔“

”گڈ نائٹ ہیوبرٹ ۔۔۔معاف کرنا، میں سگار ختم کرکے اٹھوںگا ۔۔۔“

صبح کی بدلی چھائی تھی۔ لتیکا کے کھڑکی کھولتے ہی دھندکابادل سا اندر گھس آیا، جیسے رات بھر دیوار کے سہارے سردی میں ٹھٹھرتا ہوا وہ اندر آنے کا انتظار کر رہا ہو۔ اسکول سے اوپر چیپل جانے والی سڑک بادلوں میں چھپ گئی تھی، بس چیپل کا ”کراس“ دھند کے پردے پر ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی پنسل کی لکیروں جیسا دکھائی دے جاتا تھا۔

 لتیکا نے کھڑکی سے آنکھیں ہٹائیں، تو دیکھا کہ کریم الدین چائے کی ٹرے لئے کھڑا ہے۔ کریم الدین ملٹری میںاردلی رہ چکا تھا،اسی لئے ٹرے میز پر رکھ کر ”اٹےنشن“کی حالت میں کھڑا ہو گیا۔ لتیکا جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ صبح سے آلسی کرکے کتنی بار جاگ کر وہ سو چکی ہے۔اپنا کھسیاناپن مٹانے کےلئے لتیکا نے کہا ،”بڑی سردی ہے آج، بستر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔“

”اجی میم صاحب، ابھی کیا سردی آئی ہے۔ بڑے دنوں میں دیکھنا کیسے دانت کٹکٹاتے ہیں۔“اورکریم الدین اپنے ہاتھوں کو بغلوں میں ڈالے ہوئے اس طرح سکڑ گیا ،جیسے ان دنوں کے محض تصور سے ہی اسے جاڑا لگنا شروع ہو گیا ہو۔ گنجے سر پر دونوں اطراف موجود اسکے بال خضاب لگانے سے کتھئی رنگ کے بھورے ہو گئے تھے۔ بات چاہے کسی موضوع پر ہو رہی ہو، وہ ہمیشہ کھینچ تان کر اسے ایسے مقام پر گھسیٹ لاتا تھا، جہاں وہ بلا جھجھک اپنے خیالات کا ا ظہار کر سکے۔

”ایک دفعہ تو یہاں لگاتار اتنی برف گری تھی کہ بھوالی سے لے کر ڈاک بنگلے تک کی ساری سڑکیں جام ہو گئیں۔ اتنی برف تھی میم صاحب کہ درختوں کی ٹہنیاں تک سکڑ کر تنوں سے لپٹ گئی تھی ،بالکل ایسے۔“اور کریم الدین ،نیچے جھک کرمرغا سا بن گیا۔

 ”کب کی بات ہے؟“ لتیکا نے پوچھا۔

”اب یہ تو حساب جوڑ کرکے ہی پتہ چلے گا، میم صاحب، لیکن اتنا یاد ہے کہ اس وقت انگریز بہادر یہیں تھے۔ کنٹونمنٹ کی عمارت پر قومی جھنڈا نہیں لگا تھا۔ بڑے زبردست تھے یہ انگریز، دو گھنٹوں میں ہی ساری سڑکیں صاف کروا دیں۔ ان دنوں ایک سیٹی بجاتے ہی پچاس گھوڑسوار جمع ہو جاتے تھے۔ اب تو سارے شیڈز خالی پڑے ہیں۔ وہ لوگ اپنی خدمت بھی کروانا جانتے تھے، اب توسب اجاڑ ہو گیا ہے۔“کریم الدین اداسی بھرے انداز سے باہر دیکھنے لگا۔ آج یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب لتیکا، کریم الدین سے اُن دنوں کی باتیں سن رہی ہے ،جب انگریز بہادر نے اس جگہ کو جنت بنا رکھا تھا۔

 ”آپ چھٹیوں میں اس سال بھی یہی رہیں گی میم صاحب؟“

” لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے کریم الدین ، تمہیں پھر تنگ ہونا پڑے گا۔“

” کیا کہتی ہیں میم صاحب۔ آپ کے رہنے سے ہمارا بھی من لگ جاتا ہے، ورنہ چھٹیوں میں تو یہاں کتے لوٹتے ہیں۔“

”تم ذرا مستری سے کہہ دینا کہ اس کمرے کی چھت کی مرمت کر جائے۔ گئے سال برف کا پانی دراڑوں سے ٹپکتا رہتا تھا۔“ لتیکا کو یاد آیا کہ پچھلی سردیوں میں جب کبھی برف گرتی تھی، تو اسے پانی سے بچنے کے لئے رات بھر کمرے کے کونے میں سمٹ کر سونا پڑتا تھا۔

 کریم الدین چائے کی ٹرے اٹھاتا ہوا بولا۔ ” ہیوبرٹ صاحب تو شاید کل ہی چلے جائیں، کل رات ان کی طبیعت پھر خراب ہو گئی۔ آدھی رات کے وقت مجھے جگانے آئے تھے۔ کہتے تھے،چھاتی میں تکلیف ہے۔ انہیں یہ موسم راس نہیں آتا۔ کہہ رہے تھے، لڑکیوں کی بس میں وہ بھی کل ہی چلے جائیں گے۔“ کریم الدین دروازہ بند کرکے چلا گیا۔ لتیکا کی خواہش ہوئی کہ وہ ہیوبرٹ کے کمرے میں جا کر ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھ آئے۔ لیکن پھر نہ جانے کیوں سلیپر پیروں میں ٹنگے رہے اور وہ کھڑکی کے باہر بادلوں کو اڑتا ہوا دیکھتی رہی۔ ہیوبرٹ کا چہرہ، جب اسے دیکھ کر سہما سا ،قابلِ رحم ساہو جاتا ہے، تب لگتا ہے کہ وہ اپنی خاموشی بھری معصوم التجاﺅں میں اسے کوس رہا ہے ۔ نہ وہ اس کی غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کر پاتی ہے، نہ اسے اپنی مجبوریوں کی صفائی دینے کی ہمت ہوتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس جال سے باہر نکلنے کے لئے وہ دھاگے کے جس سرے کوبھی پکڑتی ہے، وہ خود ایک گرہ بن کر رہ جاتا ہے۔

باہر بونداباندی ہونے لگی تھی، کمرے کی ٹین کی چھت ٹن ٹن بولنے لگی۔ لتیکا پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بستر کو صاف کرکے بچھایا۔ پھر پیروں میں سلیپروں کو گھسیٹتے ہوئے وہ بڑے آئینے تک آئی اور اسکے سامنے پڑے اسٹول پر بیٹھ کر بالوں کو کھولنے لگی۔ مگر کچھ دیر تک کنگھی بال میں ہی الجھی رہی اور وہ گم صم ہوئی شیشے میں اپنا چہرہ تکتی رہی۔ کریم الدین کو یہ کہنا یاد ہی نہیں رہا کہ دھیرے دھیرے آگ جلانے کی لکڑیاں جمع کر لے۔ ان دنوں سستے داموں سوکھی لکڑیاں مل جاتی ہیں۔ پچھلے سال تو کمرہ دھوئیں سے بھر جاتا تھا، جس کی وجہ سے کپکپاتے جاڑے میں بھی اسے کھڑکی کھول کر ہی سونا پڑتا تھا۔

آئینے میں لتیکا نے اپنا چہرہ دیکھا ۔ وہ مسکرا رہی تھی۔پچھلے سال اپنے کمرے کی سیلن اور ٹھنڈ سے بچنے کےلئے کبھی کبھی وہ مس ووڈ کے خالی کمرے میں چوری چپکے سونے چلی جایا کرتی تھی۔ مس ووڈ کا کمرہ بغیر آگ کے بھی گرم رہتا تھا، ان کے گدیلے سوفے پر لیٹتے ہی آنکھ لگ جاتی تھی۔ کمرہ چھٹیوں میں خالی پڑا رہتا ہے، لیکن مس ووڈ سے اتنا نہیں ہوتا کہ دومہینوں کےلئے اسکے حوالے کر جائیں۔ ہر سال کمرے میں تالا مار کر جاتی ہیں۔ وہ تو پچھلے سال غسل خانے میں اندرونی کنڈی لگانا بھول گئی تھیں، جسے لتیکا چور دروازے کے طور پر استعمال کرتی رہی تھی۔

پہلے سال اکیلے میں اسے بڑا ڈر سا لگتا تھا۔ چھٹیوں میں سارے اسکول اور ہوسٹل کے کمرے سائیں سائیں کرنے لگتے ہیں۔ ڈر کے مارے اسے جب کبھی نیند نہیں آتی تھی، تب وہ کریم الدین کو رات گئے تک باتوں میں الجھائے رکھتی۔ باتوں میں جب کھوئی سی وہ سو جاتی، تب کریم الدین خاموشی سے لیمپ بجھا کر چلا جاتا۔ کبھی کبھی بیماری کا بہانہ کر کے وہ ڈاکٹر کو بلا بھیجتی تھی اور بعد میں بہت ضد کرکے دوسرے کمرے میں ان کا بستر لگوا دیتی۔

 لتیکانے کندھے سے بالوں کا گچھا نکالا اور اسے باہر پھینکنے کےلئے وہ کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ باہر چھت کی ڈھال سے بارش کے پانی کی موٹی سی دھار مسلسل لان پر گر رہی تھی۔ بادلوں سے بھرے آسمان میں سرکتے ہوئے بادلوں کے پیچھے پہاڑیوں کے جھنڈ کبھی ابھر آتے تھے، کبھی چھپ جاتے تھے، گویا چلتی ہوئی ٹرین سے کوئی انہیں دیکھ رہا ہو۔ لتیکا نے کھڑکی سے سر باہر نکال لیا ،ہوا کے جھونکے سے اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اسے جتنے کام یاد آتے ہیں، اتنی ہی کاہلی بڑھ جاتی ہے۔ بس کی سیٹیں ریزرو کروانے کے لئے چپراسی کو روپے دینے ہیں۔ جو سامان ہوسٹل کی لڑکیاں پیچھے چھوڑے جا رہی ہیں، انہیں گودام میں رکھواناہوگا۔ کبھی کبھی تو چھوٹی کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ پیکنگ کروانے کے کام میں بھی اسے ہاتھ بٹانا پڑتا تھا۔

وہ ان کاموں سے اُوبتی نہیں۔ آہستہ آہستہ سب نمٹتے جاتے ہیں، کوئی غلطی ادھر ادھر رہ جاتی ہے، سو بعد میں سدھر جاتی ہے۔ ہر کام میں کھچ کھچ رہتی ہے، پریشانی اور دقت ہوتی ہے، لیکن دیر سویر اس سے چھٹکارا مل ہی جاتا ہے ۔لیکن جب لڑکیوں کی آخری بس چلی جاتی ہے، تب دل اچاٹ سا ہو جاتا ہے۔ خالی کاریڈور میں گھومتی ہوئی وہ کبھی اِس کمرے میں جاتی ہیں اور کبھی اُس میں۔ وہ نہیں جان پاتی کہ خود سے کیا کرے، دل کہیں بھی نہیں ٹک پاےا، ہمیشہ بھٹکابھٹکا سا رہتا ہے۔

ان سب کے باوجود جب کوئی سادگی میں پوچھ بیٹھتا ہے،”مس لتیکا ، چھٹیوں میں اپنے گھر نہیں جا رہیں؟“تب وہ کیا کہے؟

ڈنگ ڈانگ ڈنگ ۔۔۔ اسپیشل سروس کے لئے اسکول چیپل کے گھنٹے بجنے لگے تھے۔ لتیکا نے اپنا سر کھڑکی کے اندر کر لیا۔ اس نے جھٹپٹ ساڑی اتاری اور پیٹی کوٹ میں ہی کندھے پر تولیہ ڈالے غسل خانے میں گھس گئی۔ لیفٹ رائٹ۔ لیفٹ ۔۔۔لیفٹ ۔۔۔

کنٹونمنٹ جانے والی پکی سڑک پر چار چار کی قطاروں میں کماﺅ رجمنٹ کے سپاہیوں کی ایک ٹکڑی مارچ کر رہی تھی۔ فوجی بوٹوں کی بھاری کھردری آوازیں، اسکول چیپل کی دیواروں سے ٹکراکر اندر ”پریئر ہال“ میں گونج رہی تھیں۔

”بلےسڈ آر دی میک ۔۔۔“ فادر اےلمنڈ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کھنکھارتی آواز میں ”سرمن آف دی ماﺅنٹ“ پڑھ رہے تھے۔ عیسی مسیح کی مورتی کے نیچے ”کنےڈلابرَم’“ کے دونوں جانب موم بتیاں جل رہی تھیں، جنکی روشنی آگے والی بنچ پر بیٹھی ہوئی لڑکیوں پر پڑ رہی تھی۔ پچھلی لائنوں کی بینچیں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں، جہاں لڑکیاں دعائیہ انداز میں بیٹھی ہوئی سر جھکائے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ مس ووڈ، اسکول سیزن کے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرہونے پراسٹوڈنٹس اور عملے کے ارکان کو مبارکبادپر مبنی تقریر دے چکی تھیں اور اب فادر کے پیچھے بیٹھی ہوئی کچھ بڑبڑا رہی تھیں، گویا دھیرے دھرے فادر کو ”پرومٹ“کی کر رہی ہوں۔

”آمین۔“ فادر اےلمنڈ نے بائبل میز پر رکھ دی اور ”دعائیہ کتاب“ اٹھا لی۔ ہال کی خاموشی لمحے بھر کےلئے بکھر گئی۔ لڑکیوں نے کھڑے ہوتے ہوئے جان بوجھ کر بینچوں کو پیچھے دھکیلا ۔بینچیں فرش پر رگڑ کھا کر سیٹی بجاتی ہوئی پیچھے کھسک گئیں۔ ہال کے کونے سے ہنسی پھوٹ پڑی۔ مس ووڈ کا چہرہ تن گیا، پیشانی کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ پھر اچانک سکوت سا چھا گیا۔ ہال کے اس گھٹے ہوئے ملگجے ماحول میں فادر کی تیکھی پھٹی آواز سنائی دینے لگی۔ ”جیسز سےڈ، آئی ایم دی لائٹ آف دی ورلڈ، ہاﺅ ایورفالوزمی وِل نیور واک اِن دی ڈارکنس، بٹ وِل ہیو دا لائٹ آف دی لائف۔“

ڈاکٹر مکھرجی نے بوریت اور اکتاہٹ سے بھری جمائی لی،”کب یہ قصہ ختم ہو گا؟“انہوں نے اتنی اونچی آواز میں لتیکا سے پوچھا کہ وہ کھسیا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اسپیشل سروس کے وقت ڈاکٹر مکرجی کے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ کھیلتی رہتی اور وہ آہستہ آہستہ اپنی مونچھوں کو کھینچتا رہتا۔ فادر اےلمنڈ کا گاﺅن دیکھ کر لتیکا کے دل میں گدگدی سی دوڑ گئی۔ جب وہ چھوٹی تھی، تو اکثر یہ بات سوچ کرششدر ہوا کرتی تھی کہ کیا واقعی پادری لوگ سفید گاﺅن کے نیچے کچھ نہیں پہنتے، اگر غلطی سے وہ اوپر اٹھ جائے تو؟

لیفٹ ۔۔۔لیفٹ ۔۔۔لیفٹ ۔۔۔ مارچ کرتے ہوئے فوجی بوٹ، چیپل سے دور ہوتے جا رہے تھے۔صرف انکی باز گشت ہوا میں باقی رہ گئی تھی۔

”پیج نمبر ۷۱۱“فادر نے دعا ئیہ کتاب کھولتے ہوئے کہا۔ ہال میں ہر لڑکی نے میز پر رکھی ہوئی کتاب کھول لی۔ صفحات کے الٹنے کی کھڑکھڑاہٹ پھسلتی ہوئی، ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئی۔ آگے کی بینچ سے اٹھ کر ہیوبرٹ پیانو کے سامنے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ موسیقی کا استاد ہونے کی وجہ سے ہر سال اسپیشل سروس کے موقع پر اسے ”کویر“ کے ساتھ پیانو بجانا پڑتا تھا۔ ہیوبرٹ نے اپنے رومال سے ناک صاف کی۔اپنی گھبراہٹ کو چھپانے کےلئے ہیوبرٹ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتا تھا۔کنکھیوں سے ہال کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے کانپتے ہاتھوں سے کتاب کھولی۔لِیڈ کائنڈلی لائٹ ۔۔۔

پیانو کے سُر دبے،اور جھجکتے سے ملنے لگے۔ گھنے بالوں سے ڈھکیں ہیوبرٹ کی لمبی، پیلی انگلیاں کھلنے سمٹنے لگیں۔ ”کویر“ میں گانے والی لڑکیوں کے سُر ایک دوسرے سے گتھے اور کومل،نرم لہروں میں بندھ گئے۔ لتیکا کو لگا، اس کاجُوڑا ڈھیلا پڑ گیا ہے، شاید گردن کے نیچے جھول رہا ہے۔ مس ووڈ کی نظر بچا کر، لتیکا نے خاموشی سے بالوں میں لگے کلپوں کو کس کر کھینچ دیا۔

 ”بڑا جھکی آدمی ہے ۔۔۔صبح میں نے ہیوبرٹ کو یہاں آنے سے منع کیا تھا، پھر بھی چلا آیا۔“ ڈاکٹر نے کہا۔

 لتیکا کو کریم الدین کی بات یادآ گئی۔ رات بھر ہیوبرٹ کو کھانسی کا دورہ پڑا تھا، کل جانے کےلئے کہہ رہے تھے۔ لتیکا نے سرٹیڑھا کرکے ہیوبرٹ کے چہرے کی ایک جھلک پانے کی ناکام کوشش کی۔ اتنے پیچھے سے کچھ بھی دیکھ پانا ناممکن تھا، پیانو پر جھکا ہوا بس ہیوبرٹ کا سر دکھائی دیتا تھا۔

لِیڈ کائنڈلی لائٹ، سنگیت کے سُرمانو ایک اونچی پہاڑی پر چڑھ کرہانپتی ہوئی سانسوں کو آسمان کے لامحدود خلاﺅں میں بکھےرتے ہوئے نیچے اتر رہے ہیں۔ بارش کی نرم وملائم دھوپ، چیپل کے لمبے چوکور شیشوں پر جھلملا رہی ہے، جس کی ایک باریک چمکیلی لکیر عیسی مسیح کی مورتی پر ترچھی ہوکرپڑ رہی ہے۔ موم بتیوں کا دھواں دھوپ میں نیلی سی لکیر کھینچتاہوا، ہوا میںتیرنے لگا ہے۔ پیانو کے عارضی ”پوز“ میں لتیکا کو پتوں کی مانوس چرمراہٹ کہیں دور کسی انجانی سمت سے آتی ہوئی سنائی دے جاتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے ایک وہم ہوا کہ چیپل کا پھیکا سا اندھیرا، اس چھوٹے سے ”پریئرہال“ کے چاروں کونوں سے سمٹتا ہوا، اس کے آس پاس گِھر آیا ہے،مانو کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے یہاں تک لے آیا ہو اور اچانک اس کی آنکھیں کھول دی ہوں۔ اسے لگا کہ جیسے موم بتیوں کی ملگجی روشنی میں کچھ بھی ٹھوس، حقیقی نہ رہاہو۔ چیپل کی چھت، دیواریں، ڈیسک پر رکھا ہوا ڈاکٹر کا ماہر سڈول ہاتھ اور پیانو کے سُر ماضی کی دھند کو منتشرکرتے ہوئے ،خودہی اس دھند کا حصہ بنتے جا رہے ہوں۔

ایک پاگل سی یاد، ایک بلبلے جیسا احساس۔چیپل کے شیشوں کے باہر پہاڑی پرخشک ہوا، ہوا میں جھکی ہوئی ویپنگ ویلوز کی کانپتی ٹہنیاں، پیروں تلے چیڑ کے پتوں کی مدھم سی چرمراہٹ،کھڑ۔۔کھڑ۔۔ وہیں پر گریش ایک ہاتھ میں ملٹری کا خاکی ہیٹ لئے کھڑا ہے۔چوڑے، اٹھے ہوئے، مضبوط کندھے، اپنا سر وہاں ٹکا دو، تو جیسے سمٹ کر کھو جائے گا، چارلس بوئیر، یہ نام اس نے رکھا تھا، وہ جھےنپ کر ہنسنے لگا۔ ”تمہیں آرمی میں کس نے چن لیا، میجر بن گئے ہو، لیکن لڑکیوں سے بھی گئے گزرے ہو، ذرا ذرا سی بات پر چہرہ لال ہو جاتا ہے۔“یہ سب وہ کہتی نہیں، صرف سوچتی بھر تھی، سوچا تھا کبھی کہوں گی، وہ ”کبھی“ کبھی نہیں آیا، بُروس کا سرخ پھول لائے ہو نہ جھوٹے، خاکی قمیض کی جس جیب پر بیج چپکے تھے، اس میں سے مسلا ہوابُروس کا پھول نکل آیا۔ چھی، بالکل مرجھا گیا، اب کِھلاکہاں ہے؟ اسکے بالوں میں گریش کا ہاتھ الجھ رہا ہے، پھول کہیں ٹک نہیں پاتا، پھر اسے کلپ کے نیچے پھنساکر اس نے کہا۔” دیکھو۔“

وہ مڑی اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی، گریش نے اپنا ملٹری ہیٹ دھپ سے اس کے سر پر رکھ دیا۔ وہ مسحور سی ویسی ہی کھڑی رہی۔ اس کے سر پر گریش کا ہیٹ ہے۔ماتھے پر چھوٹی سی بندیا ہے۔ بندیا پر اڑتے ہوئے بال ہے۔ گریش نے اس بندیا کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا ہے، اس نے اس کے ننگے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں سمیٹ لیا ہے۔” لتیکا۔“ گریش نے چڑاتے ہوئے کہا۔ ”مین اِیٹر آف کماﺅ (اس کا یہ نام گریش نے اسے تنگ کرنے کے لئے رکھا تھا)“ ۔۔۔ وہ ہنسنے لگی۔

 ” لتیکا سنو۔“گریش کالہجہ کیسا ہو گیا تھا۔

”نا، میں کچھ نہیں سن رہی۔“

” لتیکا ۔۔۔ میں چند ماہ میں واپس لوٹ آو ¿ں گا۔“

” نا ۔۔۔ میں کچھ بھی نہیں سن رہی۔“لیکن وہ سن رہی ہے۔ وہ نہیں جو گریش کہہ رہا ہے، لیکن وہ جو نہیں کہا جا رہا ہے، جو اس کے بعد کبھی نہیں کہا گیا ۔۔۔

لِیڈ کائنڈلی لائٹ ۔۔۔

لڑکیوں کی آوازپیانو کے سُروں میں ڈوب رہی ہے، اٹھ رہی ہے۔ ہیوبرٹ نے سر موڑ کر لتیکا کوپل بھرکو دیکھا، آنکھیں موندے مستغرق پتھر کی مورت سی بنی، وہ غیر متحرک اورمگر مستحکم کھڑی تھی۔ کیا یہ انداز اس کےلئے ہے؟ کیا لتیکا نے ایسے لمحات میں اسے اپنا ساتھی بنایا ہے؟ ہیوبرٹ نے ایک گہری سانس لی اور اس سانس میں ڈھیر سی تھکاوٹ امڈ آئی۔

 ”دیکھو ۔۔۔ مس ووڈ کرسی پر بیٹھے بیٹھے سورہی ہے۔ ”ڈاکٹر منہ ہی منہ میں پھسپھسایا۔ یہ ڈاکٹر کا پرانا مذاق تھا کہ مس ووڈ پریئر کے بہانے آنکھیں موندے ہوئے نیند کی جھپکیاں لیتی ہے۔

 فادر اےلمنڈ نے کرسی پر پھیلے اپنے گاو ¿ن کو سمیٹ لیا اور پریئربک بند کر کے مس ووڈ کے کانوں میں کچھ کہا۔ پیانو کی آوازترتیب سے مند پڑنے لگی، ہیوبرٹ کی انگلیا ںڈھیلی پڑنے لگی۔ سروس کے ختم ہونے سے پہلے مس ووڈ نے آرڈر پڑھ کر سنایا۔ بارش ہونے کے خدشہ سے آج کے پروگرام میں کچھ ضروری تبدیلیاں کرنی پڑی تھیں۔ پکنک کے لئے جھولا دیوی کے مندر جانا ممکن نہیں ہو سکے گا،اس لئے اسکول سے کچھ دور ”میڈوز“ میں ہی سب لڑکیاں ناشتے کے بعد جمع ہوں گی۔ تمام لڑکیوں کو دوپہر کا ”لنچ“ہوسٹل کچن سے ہی لے جانا ہوگا، صرف شام کی چائے ”میڈوز“ میں بنے گی۔

پہاڑوں کی بارش کابھلا کیا بھروسہ؟ کچھ دیر پہلے دھواںدھار بادل گرج برس رہے تھے، سارا شہر پانی میں بھیگا ٹھٹھر رہا تھا۔ اب دھوپ میں نہاتا نیلا آسمان، دھندکی اوٹ سے باہر نکلتا ہوا پھیل رہا تھا۔ لتیکا نے چیپل سے باہر آتے ہوئے دیکھا۔ویپنگ ویلوز کی بھیگی شاخوں سے دھوپ میں چمکتی ہوئی بارش کی بوندیں ٹپک رہی تھیں، لڑکیاں چیپل سے باہر نکل کر چھوٹے چھوٹے گروپ بناکر کاریڈور میں جمع ہو گئی ہیں، ناشتے کےلئے ابھی پون گھنٹہ پڑا تھا اور ان میں سے اب کوئی بھی لڑکی ہوسٹل جانے کی خواہاں نہیں تھی۔ چھٹیاں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں، لیکن شاید اسی لیے وہ ان چند بچے کچے لمحات میں، نظم و ضبط کے اندر رہتے ہوئے بھی ،بھرپورفائدہ اٹھا لینا چاہتی تھیں۔

مس ووڈ لڑکیوں کا یہ غل غپاڑہ ناگوار گذرا، لیکن فادر اےلمنڈ کے سامنے وہ انہیں ڈانٹ پھٹکار نہیں سکی۔ اپنی جھنجھلاہٹ دبائے وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ ”کل سبھی چلی جائیں گی، سارا اسکول ویران ہو جائے گا۔“

 فادر اےلمنڈ کا لمبا،پرتاثر چہرہ ،چیپل کی گھٹی ہوئی گرمائش سے سرخ ہو اٹھا تھا۔ کاریڈور کے جنگلے پر اپنی چھڑی لٹکا کر وہ بولے۔ ”چھٹیوں میں پیچھے ہاسٹل میں کون رہے گا؟“

” پچھلے دو تین سالوں سے مس لتیکا ہی رہ رہی ہیں۔“

” اور ڈاکٹر مکرجی چھٹیوں میں کہیں نہیں جاتے؟“

” ڈاکٹر تو سردی گرمی یہیں رہتے ہیں۔“مس ووڈ نے حیرت سے فادر کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھ نہیں سکی کہ فادر نے ڈاکٹرکا سیاق و سباق کیوں چھیڑ دیا ہے۔

”ڈاکٹر مکرجی چھٹیوں میں کہیں نہیں جاتے؟“

” دو ماہ کی چھٹیوں میں برما جانا کافی مشکل ہے، فادر۔“ مس ووڈ ہنسنے لگی۔

”مس ووڈ، پتہ نہیں آپ کیا سوچتی ہیں۔ مجھے تو مس لتیکا کا ہوسٹل میں اکیلے رہنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔“

” لیکن فادر۔“مس ووڈ نے کہا،” یہ تو کانوےنٹ ا سکول کا اصول ہے کہ کوئی بھی ٹیچر چھٹیوں میں اپنے خرچے پر ہوسٹل میں رہ سکتاہے۔“

” میں اس وقت اسکول کے قوانین کی بات نہیں کر رہا۔ مس لتیکا، ڈاکٹر کے ساتھ یہاں اکیلی ہی رہ جائیں گی اور سچ پوچھئے مس ووڈ، ڈاکٹر کے بارے میں میری رائے کچھ بہت اچھی نہیں ہے۔“

” فادر، آپ کیسی بات کر رہے ہیں؟ مس لتیکا بچی تھوڑی ہی ہے۔“مس ووڈ کو ایسی امید نہیں تھی کہ فادر اےلمنڈ اپنے دل میں ایسی دقیانوسی سوچ کوجگہ دیں گے۔

 فادر اےلمنڈ کچھ حیران سے ہوگئے، بات پلٹتے ہوئے بولے۔ ”مس ووڈ، میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ آپ تو جانتی ہیں، مس لتیکا اور اس ملٹری افسر کو لے کر ایک اچھا خاصا اسکینڈل بن گیا تھا، اسکول کی بدنامی ہونے میں کیا دیر لگتی ہے ۔“

” وہ بے چارہ تو اب نہیں رہا۔ میں اسے جانتی تھی فادر۔ایشور اس کی روح کو سکون دے۔“مس ووڈ نے آہستہ سے اپنی دونوں ہاتھوں سے کراس بنایا۔

 فادر اےلمنڈ کو مس ووڈ کی نافہمی پر اتنا زیادہ غضب ہوا کہ ان سے آگے اور کچھ نہیں بولا گیا۔ ڈاکٹر مکرجی سے ان کی کبھی نہیں پٹتی تھی،اس لئے مس ووڈ کی آنکھوں میں وہ ڈاکٹر کو نیچا دکھانا چاہتے تھے۔ لیکن مس ووڈ، لتیکا کا رونا لے بیٹھی۔ آگے بات بڑھانا بیکار تھا۔ انہوں نے چھڑی کو جنگلے سے اٹھایا اور اوپر صاف کھلے آسمان کو دیکھتے ہوئے بولے ،”پروگرام آپ نے یوں ہی بدلا، مس ووڈ، اب کیا بارش ہوگی۔“

 ہیوبرٹ جب چیپل سے باہر نکلا ،تو اس کی آنکھوں چندھیا سی گئیں۔ اسے لگا جیسے کسی نے اچانک ڈھیر سی چمکیلی ابلتی ہوئی روشنی، مٹھی میں بھر کر، اس کی آنکھوں میں جھونک دی ہو۔ پیانو کی موسیقی کے سُر، چھوئی موئی کے ریشوں کی مانند اب تک اسکے دماغ کی تھکی ماندی نسوں پر پھڑپھڑا رہے تھے۔ وہ کافی تھک گیا تھا۔ پیانو بجانے سے اسکے پھیپھڑوں پر ہمیشہ بھاری دباو ¿ پڑتا، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ موسیقی کے ایک نوٹ کو دوسرے نوٹ میں اتارنے کی کوشش میں، وہ ایک اندھیری کھائی کو پار کر رہا ہے۔

”آج چیپل میں، میں نے جو محسوس کیا، وہ کتنا پراسرار، کتنا عجیب تھا۔“ ہیوبرٹ نے سوچا۔ ”مجھے لگا، پیانو کا ہر نوٹ ،عتیق خاموشی کی اندھیری کھوہ سے نکل کر باہر پھیلی نیلی دھند کو کاٹتا، تراشتا ہوا ،ایک بھُولا سا مفہوم کھینچ لاتا ہے۔گرتا ہوا ہر ”پوز“ ایک چھوٹی سی موت ہے، گویا گھنے سایہ داردرختوں کے کانپتے سایوں میں کوئی پگڈنڈی گم ہو گئی ہو، ایک چھوٹی سی موت ،جو آنے والے سروں کو، اپنی بچی کھچی گونجوں کی سانسیں وقف کر جاتی ہے، جو مر جاتی ہے، لیکن مٹ نہیں سکتی،مٹتی نہیں اس لئے مر کربھی زندہ ہے، اوردوسرے سُروں میں جذب ہو جاتی ہے۔ “

”ڈاکٹر، کیا موت ایسے ہی آتی ہے؟،اگر میں ڈاکٹر سے پوچھوں تو وہ ہنس کر ٹال دے گا۔ مجھے لگتا ہے، وہ پچھلے کچھ دنوں سے کوئی بات چھپا رہا ہے،اسکی ہنسی میں جو ہمدردی کا تاثر ہوتا ہے، وہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ آج اس نے مجھے اسپیشل سروس میں آنے سے روکا تھا۔ وجہ پوچھنے پر وہ چپ رہا تھا۔ کون سی ایسی بات ہے، جسے مجھ سے کہنے میں ڈاکٹر کتراتا ہے۔ شاید میں نک چڑھا ہوتا جا رہا ہوں۔ کوئی اور بات نہیں ہے۔ “

 ہیوبرٹ نے دیکھا، لڑکیوں کی قطاریں، اسکول سے ہوسٹل جانے والی سڑک پر نیچے اترتی جا رہی ہیں۔ اجلی دھوپ میں انکے رنگ برنگے ربن، ہلکی آسمانی رنگ کی فراکیں اور سفید پےٹیاں چمک رہی ہیں۔ سینئر کیمبرج کی کچھ لڑکیوں نے چیپل کی واٹیکا کے گلاب کے پھولوں کو توڑکر اپنے بالوں میں لگا لیا ہے، کنٹونمنٹ کے تین چار سپاہی، لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے فحش مذاق کرتے ہوئے ہنس رہے ہیں اور کبھی کبھی کسی لڑکی کی طرف ذرا جھک کر سیٹی بجانے لگتے ہیں۔

”ہیلو ایم ہیوبرٹ ۔“ ہیوبرٹ نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ لتیکا ایک موٹا سا رجسٹر بغل میں دبائے کھڑی تھی۔

”آپ ابھی یہیں ہیں؟“ ہیوبرٹ کی نظر لتیکا پر ٹکی رہی۔ وہ کریم کلر کی پوری آستینوں والی اونی جےکٹ پہنے ہوئی تھی۔ کماﺅ نی لڑکیوں کی طرح لتیکا کا چہرہ گول تھا، دھوپ کی شدت سے پکا گندمی رنگ کہیں کہیں سے ہلکا سا گلابی ہو گیا تھا،گویا بہت دھونے پر بھی گلال کے کچھ دھبے ادھر ادھر بکھرے رہ گئے ہوں۔

 ”ان لڑکیوں کے نام نوٹ کرنے تھے، جو کل جا رہی ہیں، سو پیچھے رکنا پڑا۔ آپ بھی تو کل جا رہے ہیں ایم ہیوبرٹ ؟“

” ابھی تک تو یہی ارادہ ہے۔ یہاں رک کر بھی کیا کروں گا۔ آپ اسکول کی طرف جا رہی ہیں؟“

 ”چلئے۔“

پکی سڑک پر لڑکیوں کی بھیڑ جمع تھی، اس لئے وہ دونوں پولو گراﺅنڈ کا چکر کاٹتے ہوئے پگڈنڈی سے نیچے اترنے لگے۔ہوا تیز ہو چلی تھی۔ چیڑ کے پتے ہر جھونکے کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کر پگڈنڈی پر ڈھیر لگاتے جارہے تھے۔ ہیوبرٹ راستہ بنانے کےلئے اپنی چھڑی سے انہیں ہٹا کر دونوں جانب بکھیر دیتا تھا۔ لتیکا پیچھے کھڑی ہوئی دیکھتی رہتی تھی۔ الموڑا کی جانب سے آتے ہوئے چھوٹے چھوٹے بادل، ریشمی رومالوں کی مانند اڑتے ہوئے ، پہلے سورج کے منہ پر لپٹتے ، پھر ہوا میں بہہ نکلتے تھے۔ اس کھیل میں دھوپ کبھی مند، پھیکی سی پڑ جاتی تھی،تو کبھی اپنا اجلا آنچل کھول کر پورے شہر کو خود میں سمیٹ لیتی تھی۔

 لتیکا ذرا آگے نکل گئی۔ ہیوبرٹ کی سانس چڑھ گئی تھی اور وہ آہستہ آہستہ ہانپتا ہوا پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔ جب وہ پولوگراﺅنڈ کے پویلین کو چھوڑ کر سمیٹری کے دائیںجانب مڑے، تو لتیکا، ہیوبرٹ کا انتظار کرنے کےلئے کھڑی ہو گئی۔ اسے یاد آیا، چھٹیوں کے دنوں میں جب کبھی کمرے میں اکیلے بیٹھے بیٹھے اس کا دل اوب جاتا تھا، تو وہ اکثر ٹہلتے ہوئے سمیٹری تک چلی جاتی تھی۔ اس سے ملحقہ پہاڑی پر چڑھ کر وہ برف میں ڈھکے دیودار کے درختوں کو دیکھا کرتی تھی۔ جنکی جھکی ہوئی شاخوں سے روئی کے گولوں سی برف نیچے گرا کرتی تھی، نیچے مارکیٹ جانے والی سڑک پر بچے سلیج پر پھسلا کرتے تھے۔ وہ کھڑی کھڑی برف میں چھپی ہوئی اس سڑک کا اندازہ لگایا کرتی تھی، جو فادر اےلمنڈ کے گھر سے گزرتے ہوئی ملٹری ہسپتال اور پوسٹ آفس سے ہوکر چرچ کی سیڑھیوں تک جاکر گم ہو جاتی تھی۔ جو تفریح ایک ناقابل تفہیم پہیلی کو سلجھانے میں ہوتی ہے، وہی لتیکا کو برف میں کھوئے رستوں کو کھوج نکالنے میں ہوتی تھی۔

”آپ بہت تیز چلتی ہیں، مس لتیکا۔“ تھکاوٹ سے ہیوبرٹ کا چہرہ کملا گیا تھا۔ پیشانی پر پسینے کی بوندیں چھلک آئی تھیں۔

”کل رات آپ کی طبیعت کیا کچھ خراب ہو گئی تھی؟“

” آپ نے کیسے جانا؟ کیا میں بیمار دکھ رہا ہوں؟“ ہیوبرٹ کے لہجے میں ہلکی سی جھلاہٹ کا تاثر تھا۔”سب لوگ میری صحت کو لے کر کیوں بات شروع کرتے ہیں۔“ اس نے سوچا۔

 ”نہیں، مجھے تو پتہ بھی نہیں چلتا، وہ تو صبح کریم الدین نے باتوں ہی باتوں میں ذکر چھیڑ دیا تھا۔“ لتیکا کچھ خجل سی ہوگئی۔

 ”کوئی خاص بات نہیں، وہی پرانا درد شروع ہو گیا تھا، اب بالکل ٹھیک ہے۔“اپنے بیان کی تصدیق کےلئے ہیوبرٹ چھاتی سیدھی کرکے تیز قدم بڑھانے لگا۔

 ”ڈاکٹر مکرجی کو دکھلایا تھا؟“

” وہ صبح آئے تھے۔ ان کی بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ ہمیشہ دو باتیں ایک دوسرے سے متضاد کہتے ہیں۔ کہتے تھے کہ اس بار مجھے چھ سات مہینوںکی چھٹی لے کر آرام کرنا چاہیے ، لیکن اگر میں ٹھیک ہوں، تو بھلا اس کی کیا ضرورت ہے؟“

 ہیوبرٹ کے لہجے میں درد کے سائے لتیکا سے چھپے نہ رہ سکے۔ بات کو ٹالتے ہوئے اس نے کہا ۔ ”آپ تو ناحق فکر کرتے ہیں، ایم ہیوبرٹ ۔ آج کل موسم بدل رہا ہے، اچھے بھلے آدمی تک بیمار ہو جاتے ہیں۔“ ہیوبرٹ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ اس نے لتیکا کو غور سے دیکھا۔ وہ اپنے دل کا شک مٹانے کےلئے پر یقین ہو جانا چاہتا تھا کہ کہیں لتیکا اسے صرف دلاسہ دینے کےلئے ہی تو جھوٹ نہیں بول رہی۔

”یہی تو میں سوچ رہا تھا، مس لتیکا ۔ ڈاکٹر کا مشورہ سن کر میں ڈر ہی گیا۔ بھلا چھ ماہ کی چھٹی لے کر میں اکیلا کیا کروں گا۔ اسکول میں تو بچوں کے ساتھ دل لگا رہتا ہے۔ سچ پوچھو تو دہلی میں یہ دو مہینوں کی چھٹیاں کاٹنا بھی دوبھر ہو جاتا ہے۔“

”ایم ہیوبرٹ،کل آپ دہلی جا رہے ہیں؟“ لتیکا چلتے چلتے اچانک ٹھٹک گئی۔ سامنے پولو گراﺅنڈ پھیلا تھا، جسکی دوسری طرف ملٹری کے ٹرک کنٹونمنٹ کی طرف جا رہے تھے۔ ہیوبرٹ کو لگا، جیسے لتیکا کی آنکھیںادھ کھلی رہ گئی ہیں،گویا پلکوں پر ایک بھولابسرا ساسپنا سرک آیا ہے۔

”ایم ہیوبرٹ ۔۔۔آپ دہلی جا رہے ہیں۔“اس بار لتیکا نے سوال نہیں دوہرایا۔ اس کے لہجے میں صرف ایک بڑی دوری کا تاثراتر آیا۔ ”بہت عرصہ پہلے میں بھی دہلی گئی تھی،ایم ہیوبرٹ ۔ تب میں بہت چھوٹی تھی، نہ جانے کتنے برس گزر گئے۔ ہماری خالہ کی شادی وہیں ہوئی تھی۔ بہت سی چیزیں دیکھی تھیں، لیکن اب تو سب کچھ دھندلا سا پڑ گیا ہے۔ اتنا یاد ہے کہ ہم قطب مینارپر چڑھے تھے۔ سب سے اونچی منزل سے ہم نے نیچے جھانکا تھا، نہ جانے کیسا لگا تھا۔ نیچے چلتے ہوئے آدمی چابی بھرے ہوئے کھلونوں سے لگتے تھے۔ ہم نے اوپر سے ان پر مونگ پھلیاں پھینکی تھیں، لیکن ہم بہت مایوس ہوئے تھے، کیونکہ ان میں سے کسی نے ہماری طرف نہیں دیکھا۔ شاید ماں نے مجھے ڈانٹا تھا اور میں بس نیچے جھانکتے ہوئے ڈر گئی تھی۔ سنا ہے، اب تو دہلی اتنا بدل گیا ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔“

وہ دونوں پھرسے چلنے لگے۔ ہوا کی رفتار دھیمی پڑنے لگی۔ اڑتے ہوئے بادل اب سستانے سے لگے تھے، انکے سائے نندا دیوی اور پنچولی کی پہاڑیوں پرپڑ رہے تھے۔ اسکول کے پاس پہنچتے پہنچتے چیڑ کے درخت پیچھے چھوٹ گئے، کہیں کہیں خوبانی کے درختوں کے آس پاس بروس کے سرخ پھول دھوپ میں چمک جاتے تھے۔ اسکول تک آنے میں انہوں نے پولوگراﺅنڈ کا لمبا چکر لگا لیا تھا۔

 ”مس لتیکا ، آپ کہیں چھٹیوں میں جاتی کیوں نہیں، سردیوں میں تو یہاں سب کچھ ویران ہو جاتا ہوگا؟“

”اب مجھے یہاں اچھا لگتا ہے۔“ لتیکا نے کہا،”پہلے سال تنہائی کچھ کھلی تھی، اب عادی ہو چکی ہوں۔ کرسمس سے ایک رات پہلے کلب میں ڈانس ہوتا ہے، لاٹری ڈالی جاتی ہے اور رات کو دیر تک ناچ گانا ہوتا رہتا ہے۔ نئے سال کے دن کماﺅ رجمنٹ کی جانب سے پریڈ گراﺅنڈ میںکارنیوال کیا جاتا ہے، برف پر اسکیٹنگ ہوتی ہے، رنگ برنگے غباروں کے نیچے فوجی بینڈ بجتا ہے، فوجی افسر فینسی کپڑوں میں حصہ لیتے ہیں، ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے ، ایم ہیوبرٹ ۔ پھر کچھ دنوں بعد ونٹر اسپورٹس کےلئے انگریز سیاح آتے ہیں۔ ہر سال میں ان سے متعارف ہوتی ہوں، واپس لوٹتے ہوئے وہ ہمیشہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگلے سال بھی آئیں گے، پر میں جانتی ہوں کہ وہ نہیں آئیں گے، وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ نہیں آئیں گے، پھر بھی ہماری دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر ۔۔۔پھر کچھ دنوں بعد پہاڑوں پر برف پگھلنے لگتی ہے، چھٹیاں ختم ہونے لگتی ہیں، آپ سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے واپس لوٹ آتے ہیں اورایم ہیوبرٹ پتہ بھی نہیں چلتا کہ چھٹیاں کب شروع ہوئی تھیں، کب ختم ہو گئیں۔“

 لتیکا نے دیکھا کہ ہیوبرٹ اس کی طرف خوف بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ سٹپٹاکر خاموش ہو گئی۔ اسے لگا، گویا وہ اتنی دیر سے پاگلوں سی،بے دھڑک، بے دریغ باتیں کر رہی ہے۔ ”مجھے معاف کرنا ایم ہیوبرٹ ، کبھی کبھی میں بچوں کی طرح باتوں میں بہک جاتی ہوں۔“

” مس لتیکا ۔۔۔“ ہیوبرٹ نے آہستہ سے کہا۔ وہ چلتے چلتے رک گیا تھا۔

 لتیکا، ہیوبرٹ کی بھاری آواز سے چونک سی گئی۔ ”کیا بات ہے ایم ہیوبرٹ ؟“

” وہ خط، اس کےلئے میں شرمندہ ہوں۔ اسے آپ واپس لوٹا دیں، سمجھ لیں کہ میں نے اسے کبھی نہیں لکھا تھا۔“

 لتیکا کچھ سمجھ نہ سکی، گم صم سی کھڑی ہوئی ہیوبرٹ کے زرد دھندلے چہرے کو دیکھتی رہی۔ ہیوبرٹ نے آہستہ سے لتیکا کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ”کل ڈاکٹر نے مجھے سب کچھ بتا دیا۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو ۔۔۔تو۔۔۔۔“ ہیوبرٹ ہکلانے لگا۔

”ایم ہیوبرٹ ۔۔۔“مگر لتیکا سے آگے کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ اس کا چہرہ سفید پڑگیا تھا۔

دونوں چپ چاپ کچھ دیر تک اسکول کے گیٹ کے باہر کھڑے رہے۔ میڈوز۔۔پگڈنڈیوں، پتوں، چھایاﺅں سے گھرا چھوٹا سا جزیرہ، مانو کوئی گھونسلا دوہری وادیوں کے درمیان آ دبا ہو۔ اندرگھستے ہی پکنک کے، آگ سے جھلسے ہوئے کالے پتھر، ادھ جلی لکڑیاں، بیٹھنے کےلئے بچھائے گئے پرانے اخباروں کے ٹکڑے ادھر ادھر بکھرے ہوئے دکھائی دے جاتے ہیں۔ اکثر سیاح پکنک کےلئے یہاں آتے ہیں۔ میڈوز کو درمیان میں کاٹتا ہوا ٹیڑھا میڑھابرساتی نالہ بہتا ہے، جو دور سے دھوپ میں چمکتا ہوا سفید ربن سا دکھائی دیتا ہے۔

یہیں پر لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا ٹوٹا سا پل ہے، جس پر لڑکیاں ہچکولے کھاتے ہوئے چل رہی ہیں۔

”ڈاکٹر مکرجی ، آپ تو سارا جنگل جلا دیں گے۔“ مس ووڈ نے اپنی اونچی ایڑی کے سینڈل سے جلتی ہوئی دیا سلائی کو دبا ڈالا، جو ڈاکٹر نے سگار سلگاکر چیڑ کے پتوں کے ڈھیر پر پھینک دی تھی۔ وہ نالے سے کچھ دور ہٹ کر چیڑ کے دو درختوں کے گتھے ہوئے سائے میں بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے ایک چھوٹا سا راستہ نیچے پہاڑی گاو ¿ں کی طرف جاتا تھا، جہاں پہاڑ کی گود میں شکرپاروں کے کھیت ایک دوسرے کے نیچے بچھے ہوئے تھے۔ دوپہر کے سناٹے میں بھیڑ بکریوں کی گردنوں میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کا شور ہوا میں بہتا ہوا سنائی دے جاتا تھا۔ گھاس پر لیٹے لیٹے ڈاکٹر سگار پیتے رہے۔ ”جنگل کی آگ کبھی دیکھی ہے، مس ووڈ ۔۔۔ایک بھرپور نشے کی طرح دھیرے دھیرے پھیلتی جاتی ہے۔“

”آپ نے کبھی دیکھی ہے ڈاکٹر؟“مس ووڈ نے پوچھا،” مجھے تو بڑا ڈر لگتا ہے۔“

”بہت سال پہلے شہروں کو جلتے ہوئے دیکھا تھا۔“ڈاکٹر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف تک رہے تھے۔ ”ایک ایک مکان، تاش کے پتوں کی طرح گرتاجاتا ہے۔ بدقسمتی، ایسے موقع دیکھنے میں بہت کم آتے ہیں۔“

”آپ نے کہاں دیکھا، ڈاکٹر؟“

”جنگ کے دنوں میں اپنے شہر رنگون کو جلتے ہوئے دیکھا تھا۔“مس ووڈ کی روح کو ٹھیس لگی، لیکن پھر بھی ان کی بے چینی شانت نہیں ہوئی۔

”آپ کا گھر، کیا وہ بھی جل گیا تھا؟“

ڈاکٹر کچھ دیر تک خاموش لیٹا رہا۔

”ہم اسے خالی چھوڑ کر چلے آئے تھے، معلوم نہیں بعد میں کیا ہوا۔“اپنی ذاتی زندگی کے تعلق سے کچھ بھی کہنے میں ڈاکٹر کو مشکل محسوس ہوتی ہے۔

”ڈاکٹر، کیا آپ کبھی واپس برما جانے کی بات نہیں سوچتے؟“ڈاکٹر نے انگڑائی لی اور کروٹ بدل کر اوندھے منہ لیٹ گئے۔ ان کی آنکھیں مند گئیں اور پیشانی پر بالوں کی لٹیں جھول آئیں۔

”سوچنے سے کیا ہوتا ہے مس ووڈ ۔۔۔ جب برما میں تھا، تو کیا کبھی سوچا تھا کہ یہاں آکر عمر کاٹنی ہوگی؟“

”لیکن ڈاکٹر، کچھ بھی کہہ لو، اپنے ملک کا سکھ کہیں اور نہیں ملتا۔ یہاں آپ چاہے جتنے سال رہ لو، خود کو ہمیشہ اجنبی ہی پاو ¿ گے۔“

ڈاکٹر نے سگار کے دھوئیں کو آہستہ آہستہ ہوا میں چھوڑ دیا۔ ”دراصل اجنبی تو میں وہاں بھی سمجھا جاو ¿ں گا، مس ووڈ۔ اتنے سالوں بعد مجھے کون پہچانے گا۔ اس عمر میں نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا کافی سر درد کا کام ہے، کم از کم میرے بس کی بات نہیں ہے۔“

”لیکن ڈاکٹر، آپ کب تک اس پہاڑی قصبے میں پڑے رہیں گے، اسی ملک میں رہنا ہے تو کسی بڑے شہر میں پریکٹس شروع کیجیے۔“

”پریکٹس بڑھانے کے لئے کہاں کہاں بھٹکتا پھروں گا، مس ووڈ۔ جہاں رہو، وہیں مریض مل جاتے ہیں۔ یہاں آیا تھا کچھ دنوں کےلئے، پھر مدت ہو گئی اورٹکا رہا۔ جب کبھی جی گھبرائے گا، کہیں چلا جاو ¿ں گا۔ جڑیں کہیں نہیںجمتی، تو پیچھے بھی کچھ نہیں چھوٹ جاتا۔ مجھے اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے مس ووڈ، میں خوش ہوں۔“

مس ووڈ نے ڈاکٹر کی بات پر خاص توجہ نہیں دی۔ دل میں وہ ہمیشہ ڈاکٹر کوسست، لاپرواہ اور سنکی سمجھتی رہی ہے، لیکن ڈاکٹر کے کردارپر انہیں پورا یقین ہے، نہ جانے کیوں، شاید ڈاکٹر نے جانے انجانے میں اس کا کوئی ثبوت دیا ہو، یہ انہیں یاد نہیں پڑتا۔

مس ووڈ نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ اگر ڈاکٹر اتنا سست اور لاپرواہ نہ ہوتا، تو اپنی قابلیت کے بل پر کافی چمک سکتا تھا۔ اس لیے انہیں ڈاکٹر پر غصہ بھی آتا تھا اور دکھ بھی ہوتا تھا۔

مس ووڈ نے اپنے بیگ سے اون کا گولا اور سلائیاں نکالیں، پھر اس کے نیچے سے اخبار میں لپٹا ہوا چوڑا سا کافی باکس اٹھایا، جس میں انڈوں کی سینڈوچ اور ہیمبرگر بھرے ہوئے تھے۔ تھرماس سے پیالوں میں کافی انڈیلتے ہوئے مس ووڈ نے کہا ۔ ”ڈاکٹر، کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔“

ڈاکٹر لیٹے لیٹے بڑبڑایا۔ مس ووڈ نے نیچے جھک کر دیکھا، وہ کہنی پر سر ٹکائے سو رہا تھا۔ اوپرکا ہونٹ ذرا سا پھیل کر مڑ گیا تھا،گویا کسی سے مذاق کرنے سے پہلے مسکرا رہا ہو۔

اسکی انگلیوں میں دبا ہوا سگار نیچے جھکا ہوا لٹک رہا تھا۔

 ”میری، میری، واٹ ڈو یو وانٹ، واٹ ڈو یو وانٹ؟“دوسرے اسٹےنڈرڈ میں پڑھنے والی میری نے اپنی چنچل، چست آنکھیں اوپر اٹھائیں، لڑکیوں کا دائرہ اسے گھیرے ہوئے کبھی پاس آتا تھا، کبھی دورہوتا چلا جاتا تھا۔

”آئی وانٹ ۔۔۔ آئی وانٹ بلیو۔“دونوں ہاتھ ہوا میں گھماتے ہوئے میری چلائی۔ دائرہ پانی کی طرح ٹوٹ گیا۔ سبھی لڑکیاں ایک دوسرے پر گرتی پڑتی کسی نیلی چیز کو چھونے کےلئے بھاگ دوڑ کرنے لگیں۔ دوپہر کے کھانے کے ختم ہو چکا تھا۔ لڑکیوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ میڈوز میں بکھر گئے تھے۔ اونچی کلاس کی کچھ لڑکیاں چائے کا پانی گرم کرنے کےلئے درختوں پر چڑھ کر خشک ٹہنیاںتوڑ رہی تھیں۔

دوپہر کی اس گھڑی میں میڈوز سستاتا ،اونگھتا سا معلوم پڑتا تھا۔ ہوا کا کوئی بھولا بھٹکا جھونکاآتا تو، چیڑ کے پتے کھڑکھڑا اٹھتے تھے۔ کبھی کوئی پرندہ اپنی کاہلی مٹانے جھاڑیوں سے اڑ کر نالے کے کنارے بیٹھ جاتا تھا، پانی میں سر ڈبوتا تھا، پھر اکتا کرہوا میں دو چارمبہم سے چکر کاٹ کر دوبارہ جھاڑیوں میں دبک جاتا تھا۔

لیکن جنگل کی خاموشی شاید کبھی خاموش نہیں رہتی۔ گہری نیند میں ڈوبی خوابوں سی کچھ آوازیںسکوت کے ہلکے مہین پردے پر سلوٹیں بچھا جاتی ہیں، لہروں سی ہوا میں تیرتی ہیں،مانو کوئی دبے پاو ¿ں جھانک کر خفیہ سا اشارہ کر جاتا ہے۔

 ”دیکھو میں یہاں ہوں۔“ لتیکا نے جُولی کے ”باب ہیئر“ کو سہلاتے ہوئے کہا،”تمہیں کل رات بلایا تھا۔“

”میڈم، میں گئی تھی، آپ اپنے کمرے میں نہیں تھیں۔“ لتیکا کو یاد آیا کہ رات وہ ڈاکٹر کے کمرے کے ٹےرس پر دیر تک بیٹھی رہی تھی اور اندر ہیوبرٹ ،پیانو پر شوپاں کا نوکٹرن بجا رہا تھا۔

”جولی، تم سے کچھ پوچھنا تھا۔“اسے لگا، وہ جولی کی آنکھوں سے خودکو بچا رہی ہے۔

 جولی نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اسکی بھوری آنکھوں سے تجسس جھانک رہا تھا۔

”تم آفیسرز میس میں کسی کو جانتی ہو؟“جولی نے غیر یقینی سے سر ہلایا۔ لتیکا کچھ دیر تک جولی کوایک ٹک گھورتی رہی۔

”جولی، مجھے یقین ہے، تم جھوٹ نہیں بولوگی۔“کچھ لمحے پہلے جولی کی آنکھوں میں جوتجسس تھا، وہ خو ف میں تبدیل ہونے لگا۔ لتیکا نے اپنی جیکٹ کی جیب سے ایک نیلا لفافہ نکال کر جولی کی گود میں پھینک دیا۔

 ”یہ کس کی چٹھی ہے؟“

جولی نے لفافہ لینے کےلئے ہاتھ بڑھایا، لیکن پھر ایک لمحے کے لئے اس کا ہاتھ کانپ کر ٹھٹک گیا۔لفافے پر اس کا نام اور اسکے ہوسٹل کا پتہ لکھا ہوا تھا۔

”تھینک یو میڈم، میرے بھائی کا خط ہے، وہ جھانسی میں رہتے ہیں۔“جولی نے گھبراہٹ میں لفافے کو اپنے اسکرٹ کی تہوں میں چھپا لیا۔ ”جولی، ذرا مجھے لفافہ دکھاﺅ۔“ لتیکا کا لہجہ تیکھا،چڑچڑا سا ہوگیا۔

جولی نے بے کسی بھرے انداز سے لتیکا کو خط دے دیا۔ ”تمہارے بھائی جھانسی میں رہتے ہیں؟“جولی اس بار کچھ نہیں بولی۔ اس کی مضطرب اکھڑی سی آنکھیں لتیکا کو دیکھتی رہیں۔

”یہ کیا ہے؟“

جولی کا چہرہ سفید، پھک پڑ گیا۔ لفافے پرکماﺅ رجمنٹل سینٹر کی مہر اس کی طرف گھور رہی تھی۔

 ”کون ہے یہ؟“ لتیکا نے پوچھا۔ اس نے پہلے بھی ہوسٹل میں اڑتی ہوئی افواہ سنی تھی کہ جولی کو کلب میں کسی ملٹری افسر کے ساتھ دیکھا گیا تھا، لیکن ایسی افواہیں اکثر اڑتی رہتی تھیں اور اس نے ان پر یقین نہیں کیا تھا۔

”جولی، تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔“ جولی کے ہونٹ کانپے،اس کی آنکھوں میں معصومیت کا تاثرابھر آیا۔

”اچھا اب جاو ¿، تم سے چھٹیوں کے بعد باتیں کروں گی۔“جولی نے للچائی نظروں سے لفافے کو دیکھا، کچھ بولنے کو تیار ہوئی، پھر بغیر کچھ کہے خاموشی سے واپس لوٹ گئی۔

 لتیکا دیر تک جولی کو دیکھتی رہی، جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔ کیا میں کسی کھوسٹ بڑھیا سے کم ہوں؟ اپنی محرومی کا بدلہ کیا میں دوسروں سے لے رہی ہوں؟

شاید، کون جانے ۔۔۔ شاید جولی کی یہ پہلی ملاقات ہو، اس احساس سے، جسے کوئی بھی لڑکی بڑے شوق سے سنجوکر، سنبھال کر خود میں چھپائے رہتی ہے، ایک نرالا سکھ، جو دکھ رکھتا ہے، دکھ اور سکھ کو ڈبوتی ہوئی امنڈتے جذبے کی خماری، جو دونوں کو خود میں سمو لیتی ہے۔ ایک درد، جو خوشی سے حاصل ہوتا ہے اوردکھ دیتا ہے۔

یہیں اسی چیڑ کے نیچے اسے بھی یہی لگا تھا، جب گریش نے پوچھا تھا۔ ”تم خاموش کیوں ہو؟“

وہ آنکھیں موندے سوچ رہی تھی، سوچ کہاں رہی تھی، جی رہی تھی، اس لمحے کو جو ڈر اورتحیر کے بیچ پھنسا تھا،بہکا سا پاگل لمحہ۔ وہ ابھی پیچھے مڑے گی تو گریش کی ”نروس“ مسکراہٹ دکھائی دے گی، اُس دن سے آج دوپہر تک کا ماضی ایک ڈراو ¿نے خواب کی مانند ٹوٹ جائے گا۔ وہی چیڑ کا درخت ہے، جس پر اس نے اپنے بالوں کے کلپ سے گریش کا نام لکھا تھا۔ درخت کی چھال اترتی نہیں تھی، کلپ ٹوٹ ٹوٹ جاتا تھا، تب گریش نے اپنے نام کے نیچے اس کا نام لکھا تھا۔ جب کبھی کوئی حرف بگڑ کر ٹیڑھا میڑھا سا ہو جاتا تھا تو وہ ہنستی تھی اور گریش کا کانپتا ہاتھ اور بھی کانپ جاتا تھا۔

 لتیکا کو لگا کہ جو وہ یاد کرتی ہے، وہی بھولنا بھی چاہتی ہے، لیکن جب واقعی بھولنے لگتی ہے، تب اسے خوف آتا ہے کہ جیسے کوئی اس کی کسی چیز کو اس کے ہاتھ سے چھین کر لئے جا رہا ہے، ایسا کچھ جو ہمیشہ کےلئے کھو جائے گا۔ بچپن میں جب کبھی وہ اپنے کسی کھلونے کو کھو دیتی تھی، تو وہ گم صم سی ہوکر سوچا کرتی تھی، کہاں رکھ دیا میں نے۔ جب بہت دوڑ دھوپ کرنے پر کھلونا مل جاتا، تو وہ بہانہ کرتی کہ ابھی اسے تلاش کر ہی رہی ہے، کہ وہ اب ملا نہیں ہے۔ جس جگہ پر کھلونا رکھا ہوتا، جان بوجھ کر اسے چھوڑ کر گھر کے دوسرے کونے میں اسے تلاش کرنے کا عزم کرتی۔ تب کھوئی ہوئی چیز یاد رہتی، اس لئے بھولنے کا خوف نہیں رہتا تھا۔

آج وہ اُس بچپن کے کھیل کا بہانہ کیوں نہیں کر پاتی؟ ”بہانہ“شاید کرتی ہے، اسے یاد کرنے کا بہانہ، جو بھولتا جا رہا ہے ۔۔۔دن، مہینے بِیت جاتے ہیںاور وہ الجھی رہتی ہے، انجانے میں گریش کا چہرہ دھندلا پڑتا جاتا ہے، یاد وہ کرتی ہے، لیکن جیسے کسی پرانی تصویر کے دھول بھرے شیشے کو صاف کر رہی ہو۔ اب ویسا درد نہیں ہوتا، صرف اس کو یاد کرتی ہے، جو پہلے کبھی ہوتا تھا، تب اسے خود پر شرمندگی ہوتی ہے۔ وہ پھر جان بوجھ کر اس زخم کو کرےدتی ہے جو بھرتا جا رہا ہے، خود بخود، اس کی تمام ترکوششوں کے باوجود بھرتا جا رہا ہے۔ دیودار پر نقش ادھ مٹے نام لتیکا کی جانب معصومیت بھرے انداز سے دیکھ رہے تھے۔ میڈوز کے گھنے سناٹے میں نالے پار سے کھیلتی ہوئی لڑکیوں کی آوازیں گونج جاتی تھیں ۔۔۔

واٹ ڈو یو وانٹ؟ واٹ ڈو یو وانٹ؟

تتلیاں، جھینگر، جگنو۔۔۔میڈوز پر اترتی ہوئی سانجھ کی چھایاﺅں میں پتہ نہیں چلتا، کونسی آواز کس کی ہے؟ دوپہر کے وقت جن آوازوں کو الگ الگ شناخت کیا جا سکتا تھا، اب وہ ہم آہنگی کی دھارا میں گھل گئی تھیں۔ گھاس سے اپنے پیروں کو پونچھتا ہوا کوئی رینگ رہا ہے، جھاڑیوں کے جھرمٹ سے پروں کو پھڑپھڑاتا ہوا جھپٹ کر کوئی اوپر سے اڑ جاتا ہے ،لیکن اوپر دیکھو تو کہیں کچھ بھی نہیں ہے۔میڈوز کے جھرنے کا گنگناتا شور، جیسے اندھیری سرنگ میں جھپاٹے سے ٹرین گزر گئی ہو، اور دیر تک اس میں سیٹیوں اور پہیوں کی آواز گونج رہی ہو۔

پکنک کچھ دیر تک مزید چلتی، لیکن بادلوں کی تہیں ایک دوسرے پر چڑھتی جا رہی تھیں۔ پکنک کا سامان جمع کیا جانے لگا۔میڈوز کے آس پاس بکھری ہوئی لڑکیاں مس ووڈ کے ارد گرد جمع ہونے لگیں۔ اپنے ساتھ وہ عجیب و غریب چیزیں بٹورکر لائی تھیں۔ کوئی کسی پرندے کے ٹوٹے پنکھ کو بالوں میں لگائے ہوئے تھی، کسی نے درخت کی شاخ کو چاقو سے چھیل کرچھوٹی سی چھڑی بنا لی تھی۔ اونچی کلاس کی کچھ لڑکیوں نے اپنے اپنے رومالوں میں نالے سے پکڑی ہوئی چھوٹی چھوٹی بالشت بھر کی مچھلیوں کو دبا رکھا تھا، جنہیں مس ووڈ سے چھپاکر وہ ایک دوسرے کو دکھا رہی تھیں۔

مس ووڈ لڑکیوں کی ٹولی کے ساتھ آگے نکل گئیں۔ میڈوز سے پکی سڑک تک تین چار فرلانگ چڑھائی تھی۔ لتیکا ہانپنے لگی۔ ڈاکٹر مکرجی سب سے پیچھے آ رہے تھے۔ لتیکا کے پاس پہنچ کر وہ ٹھٹک گئے۔ ڈاکٹر نے دونوں گھٹنوں کو زمین پر ٹکاتے ہوئے سر جھکا کر کہا ۔ ”میڈم، آپ اتنی پریشان کیوں نظر آ رہی ہیں؟“اور ڈاکٹر کے ڈرامائی انداز کو دیکھ کر لتیکا کے ہونٹوں پر ایک تھکی سی، ڈھیلی ڈھیلی مسکراہٹ بکھر گئی۔ ”پیاس کے مارے گلا سوکھ رہا ہے اور یہ چڑھائی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی۔“

ڈاکٹر نے اپنے کندھے پر لٹکتے ہوئے تھرماس کو اتار کر لتیکا کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے کہا ۔ ”تھوڑی سی کافی بچی ہے، شاید کچھ مدد کر سکے۔“

” پکنک میں آپ کہاں رہ گئے ڈاکٹر، کہیں دکھائی نہیں دیئے؟“

” دوپہر بھر سوتا رہا،مس ووڈ کے سنگ۔ میرا مطلب ہے، مس ووڈ پاس بیٹھی تھیں۔ مجھے لگتا ہے، مس ووڈ مجھ سے محبت کرتی ہیں۔“کوئی بھی مذاق کرتے وقت ڈاکٹر اپنی مونچھوں کے کونوں کو چبانے لگتا ہے۔

”کیا کہتی تھیں؟“ لتیکا نے تھرماس سے کافی کو منہ میں انڈےل لیا۔

 ”شاید کچھ کہتیں، لیکن بدقسمتی سے بیچ میں ہی مجھے نیند آ گئی۔ میری زندگی کے کچھ خوبصورت محبت بھرے سیاق و سباق، کم بخت اس کی نیند کی وجہ سے ادھورے رہ گئے ہیں۔“

اور اس دوران جب دونوں باتیں کر رہے تھے، ان کے پیچھے میڈوز اور موٹر روڈ کے ساتھ چڑھتی ہوئی چیڑ اور بانج کے درختوں کی قطاریں شام کے گھرتے اندھیرے میں ڈوبنے لگیں، گویا دعا کرتے ہوئے انہوں نے خاموشی سے اپنے سر نیچے جھکا لیے ہوں۔ انہی درختوں کے اوپر بادلوں میں چیپل کا کراس کہیں الجھا پڑا تھا۔ اس کے نیچے پہاڑوں کی ڈھلانوں پر بچھے ہوئے کھیت بھاگتی ہوئی گلہریوں سے لگ رہے تھے جومانو کسی کی ٹوہ میں ٹھٹک گئے ہوں۔

”ڈاکٹر، ایم ہیوبرٹ پکنک پر نہیں آئے؟“

ڈاکٹر مکرجی ٹارچ جلا کر لتیکا کے آگے آگے چل رہے تھے۔ ”میں نے انہیں منع کر دیا تھا۔“

”کیوں؟“

اندھیرے میں پاو ¿ں کے نیچے دبتے ہوئے پتوں کی چرمراہٹ کے آگے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ ڈاکٹر مکرجی نے آہستہ سے کھانسا۔ ”گزشتہ کچھ دنوں سے مجھے شبہ ہوتا جا رہا ہے کہ ہیوبرٹ کے سینے کا درد شاید معمولی درد نہیں ہے۔“ڈاکٹر تھوڑا سا ہنسا، جیسے اسے اپنی یہ سنجیدگی بدمزہ لگ رہی ہو۔

ڈاکٹر نے انتظار، شاید لتیکا کچھ کہے گی۔ لیکن لتیکا خاموشی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔ ”یہ میرا محض شک ہے، شاید میں بالکل غلط ہوں، لیکن یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے ایک پھیپھڑے کا ایکس رے کروا لیں، اس سے کم از کم کوئی وہم تو نہیں رہے گا۔“

” آپ نے ایم ہیوبرٹ سے اس کے بارے میں کچھ کہا ہے؟“

” ابھی تک کچھ نہیں کہا۔ ہیوبرٹ ذرا سی بات پر فکر مند ہو جاتا ہے، اس لیے کبھی جرات نہیں کر پاتا۔“ڈاکٹر کو لگا، اس کے پیچھے آتے ہوئے لتیکا کے پیروں کی آواز اچانک بند ہوگئی ہے۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، لتیکا بیچ سڑک پر اندھیرے میںپرچھائیں بنی خاموش اداس کھڑی ہے۔

”ڈاکٹر ۔۔۔“ لتیکا کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔

”کیا بات ہے مس لتیکا ، آپ رک کیوں گئی؟“

” ڈاکٹر،کیاایم ہیوبرٹ ۔۔۔؟“

ڈاکٹر نے اپنی ٹارچ کی مدھم روشنی لتیکا پر اٹھا دی ۔اس نے دیکھا لتیکا کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا ہے اور وہ رہ رہ کر کانپ جاتی ہے۔ ”مس لتیکا ، کیا بات ہے، آپ تو بہت ڈری ہوئی سی معلوم پڑتی ہیں؟“

” کچھ نہیں ڈاکٹر، مجھے ۔۔۔مجھے کچھ یاد آ گیا تھا۔“وہ دونوں پھر چلنے لگے۔ کچھ دور جانے پر ان کی آنکھیں اوپر اٹھ گئیں۔ پرندوں کا ایک جھنڈ ملگجے آسمان میں تکون بناتا ہوا پہاڑوں کے پیچھے سے ان کی طرف آ رہا تھا۔ لتیکا اور ڈاکٹر سر اٹھا کر ان پرندوں کو دیکھتے رہے۔ لتیکا کو یاد آیا، ہر سال موسم سرما کی چھٹیوں سے پہلے یہ پرندے میدانوں کی جانب اڑتے ہیں، کچھ دنوں کےلئے بیچ کے اس پہاڑی اسٹیشن پر بسیرا کرتے ہیں، انتظار کرتے ہیں برفانی دنوں کا، جب وہ نیچے اجنبی،انجانے دیشوں میں اڑ جائیں گے۔

کیا وہ سب بھی انتظار کر رہے ہیں؟ وہ، ڈاکٹر مکرجی ،ایم ہیوبرٹ ، لیکن کہاں کےلئے، ہم کہاں جائیں گے؟

لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔اس اندھیرے میں میڈوز کے آبشار کے شور اور دیودار کے پتوں کی سرسراہٹ کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ لتیکا ہڑبڑاکر چونک گئی۔ اپنی چھڑی پر جھکا ہوا ڈاکٹر آہستہ آہستہ سیٹی بجا رہا تھا۔

”مس لتیکا ، جلدی کریں، بارش شروع ہونے والی ہے۔“ہوسٹل پہنچتے پہنچتے بجلی چمکنے لگی تھی۔ لیکن اس رات بارش دیر تک نہیں ہوئی۔ بادل برسنے بھی نہیں پاتے تھے کہ ہواﺅں کے تھپےڑوں سے دھکیل دیئے جاتے تھے۔ دوسرے دن تڑکے ہی بس پکڑنی تھی، اس لئے ڈنر کے بعد لڑکیاں سونے کےلئے اپنے اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں۔

جب لتیکا اپنے کمرے میں گئی، تو اس وقت کماﺅ رجمنٹل سینٹر کا بگل بج رہا تھا۔ اس کے کمرے میں کریم الدین کوئی پہاڑی دھن گنگناتا ہوا لیمپ میں گیس پمپ کر رہا تھا۔ لتیکا انہی کپڑوں میں، کشن کو دوہرا کر کے لیٹ گئی۔ کریم الدین نے اچٹتی ہوئی نگاہ سے لتیکا کو دیکھا، پھر اپنے کام میں لگ گیا۔

 ”پکنک کیسی رہی میم صاحب؟“

” تم کیوں نہیں آئے،سبھی لڑکیاں تمہیں پوچھ رہی تھیں؟“ لتیکا کو لگا، دن بھر کی تھکاوٹ آہستہ آہستہ اس کے جسم کی پسلیوں پر چپٹتی جارہی ہے۔ یکایک اس کی آنکھیں نیند کے بوجھ سے جھپکنے لگیں۔

 ”میں چلا آتا تو ہیوبرٹ صاحب کی تیمارداری کون کرتا۔ دن بھر ان کے بستر سے لگاہوا بیٹھا رہا اور اب وہ غائب ہو گئے ہیں۔“ کریم الدین نے کندھے پر لٹکتے ہوئے میلے کچےلے تولیے کو اتارا اور لیمپ کے شیشوں کی گرد پونچھنے لگا۔

 لتیکا کی نیم وا آنکھیں کھل گئی۔ ”کیا ہیوبرٹ صاحب اپنے کمرے میں نہیں ہیں؟“

” خدا جانے، اس حالت میں کہاں بھٹک رہے ہیں۔ پانی گرم کرنے کچھ دیر کےلئے باہر گیا تھا، واپس آنے پر دیکھتا ہوں کہ کمرہ خالی پڑا ہے۔“ کریم الدین بڑبڑاتا ہوا باہر چلا گیا۔ لتیکا نے لیٹے لیٹے چپلوں کو پیروں سے اتار دیا۔

 ہیوبرٹ اتنی رات کو کہاں گئے؟ لیکن لتیکا کی آنکھیں پھر جھپک گئیں۔ دن بھر کی تھکاوٹ نے سب پریشانیوں، سب سوالوں پرکنجی لگا دی تھی،گویا دن بھر آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے اس نے اپنے کمرے میں ”دیے“ کو چھو لیا تھا۔ اب وہ محفوظ تھی، کمرے کی فصیل کے اندر اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ دن کے اجالے میں وہ گواہ تھی، مجرم تھی، ہر چیز کا اس سے تقاضہ تھا، اب اس تنہائی میں کوئی گلہ نہیں، ملامت نہیں، سبھی کھینچاتانیاں ختم ہو گئی ہیں، جو اپنا ہے، وہ بالکل اپنا سا ہو گیا ہے، جو اپنا نہیں ہے، اُس کا دکھ نہیں، اپنانے کی فرصت نہیں ۔۔۔

 لتیکا نے دیوار کی طرف چہرہ گھما لیا۔ لیمپ کے پھیکی روشنی میں ہوا میں کانپتے پردوں کے سائے ہل رہے تھے۔ بجلی کڑکنے سے کھڑکیوں کے شیشے چمک چمک جاتے تھے، دروازے چٹخنے لگتے تھے، جیسے کوئی باہر سے دھیرے دھیرے کھٹکھٹا رہا ہو۔ کاریڈور سے اپنے اپنے کمروں میں جاتی ہوئی لڑکیوں کی ہنسی،باتوں کے چند لفظ، پھر سب کچھ پرسکون ہو گیا، لیکن پھر بھی دیر تک کچی نیند میں وہ چراغ کا دھیما سا ”سی سی“ کا شور سنتی رہی۔ کب وہ شور بھی خاموشی کا حصہ بن کر خاموش ہو گیا، اسے پتہ نہ چلا۔ کچھ دیر بعد اس کو لگا، سیڑھیوں سے کچھ دبی آوازیں آ رہی ہیں، بیچ بیچ میں کوئی چیخ اٹھتا ہے اور پھر اچانک آوازیں مدہم پڑ جاتی ہیں۔

 ”مس لتیکا ، ذرا اپنا لیمپ لے آئیں۔“کوریڈور کے زینے سے ڈاکٹر مکرجی کی آواز آئی تھی۔

کاریڈور میں اندھیرا تھا۔ وہ تین چار سیڑھیاں نیچے اتری، لیمپ نیچے کیا۔ سیڑھیاں کے جنگلے پر ہیوبرٹ نے اپنا سر رکھ دیا تھا، اس کا ایک بازو جنگلے سے نیچے لٹک رہا تھا اور دوسرا ڈاکٹر کے کندھے پر جھول رہا تھا، جسے ڈاکٹر نے اپنے ہاتھوں میں جکڑ رکھا تھا۔

 ”مس لتیکا ، لیمپ ذرا اور نیچے جھکا دیجئے۔۔ ہیوبرٹ ۔۔ ہیوبرٹ ۔۔ ۔“ڈاکٹر نے ہیوبرٹ کو سہارا دے کر اوپر کھینچا۔ ہیوبرٹ نے اپنا چہرہ اوپر کیا۔ وہسکی کی تیز بو کا جھونکا لتیکا کے سارے جسم کو جھنجھوڑ گیا۔ ہیوبرٹ کی آنکھوں میں لال ڈورے کھنچ آئے تھے، قمیض کا کالر پلٹ گیا تھا اور ٹائی کی گرہ ڈھیلی ہو کر نیچے کھسک آئی تھی۔ لتیکا نے کانپتے ہاتھوں سے لیمپ سیڑھیوں پر رکھ دیا اورخود دیوار کے سہارے کھڑی ہو گئی۔ اس کا سر چکرانے لگا تھا۔

”ان اے بیک لین آف دی سٹی، دیئر اِز اے گرل ہو لوز می۔۔۔“ ہیوبرٹ ہچکیوں کے درمیان گنگنا اٹھتا تھا۔

” ہیوبرٹ پلیز ۔۔۔پلیز۔“ڈاکٹر نے ہیوبرٹ کے لڑکھڑاتے جسم کو اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا۔

”مس لتیکا ، آپ لیمپ لے کر آگے چلئے۔“ لتیکا نے لیمپ اٹھایا۔ دیوار پر ان تینوںکے سائے ڈگمگانے لگے۔

”ان اے بیک لین آف دی سٹی، دئیر از اے گرل ہو لوز می۔“ہیوبرٹ ، ڈاکٹر مکرجی کے کندھے پر سر ٹکائے ،اندھیری سیڑھیوں پر الٹے سیدھے پاو ¿ں رکھتا چڑھ رہا تھا۔

”ڈاکٹر، ہم کہاں ہیں؟“ ہیوبرٹ دفعتاً اتنی زور سے چلایا کہ اسکی لڑکھڑاتی آواز سنسان اندھیرے میں کاریڈور کی چھت سے ٹکراکر دیر تک ہوا میں گونجتی رہی۔

” ہیوبرٹ ۔۔۔“ ڈاکٹر کو ایکدم ہیوبرٹ پر غصہ آ گیا، پھر اپنے غصے پر ہی اسے جھنجھلاہٹ سی محسوس ہوئی اور وہ ہیوبرٹ کی پشت تھپتھپانے لگا۔ ”کوئی بات نہیں ہے ہیوبرٹ ڈئیر،تم صرف تھکے ہو۔“ ہیوبرٹ نے اپنی آنکھیں ڈاکٹر پر گڑا دیں، ان میں ایک خوفزدہ بچے کی سی وحشت جھلک رہی تھی، گویا ڈاکٹر کے چہرے سے وہ کسی سوال کا جواب حاصل کر لینا چاہتا ہو۔ ہیوبرٹ کے کمرے میں پہنچ کر ڈاکٹر نے اسے بستر پر لٹا دیا۔ ہیوبرٹ نے بغیر کسی مزاحمت کے خاموشی سے جوتے موزے اتروا دیئے۔ جب ڈاکٹر، ہیوبرٹ کی ٹائی اتارنے لگا، تو ہیوبرٹ ، اپنی کہنی کے سہارے اٹھا، کچھ دیر تک ڈاکٹر کو آنکھیں پھاڑتے ہوئے گھورتا رہا، پھر آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

 ”ڈاکٹر، کیا میں مر جاو ¿ں گا؟“

” کیسی بات کرتے ہو ہیوبرٹ ۔“ڈاکٹر نے ہاتھ چھڑا کر آہستہ سے ہیوبرٹ کا سر تکیے پر ٹکا دیا۔ ”گڈ نائٹ ہیوبرٹ۔“

 ”گڈ نائٹ ڈاکٹر۔“ ہیوبرٹ نے کروٹ بدل لی۔

”گڈ نائٹ ایم ہیوبرٹ ۔۔۔“ لتیکا کی آواز بھرا گئی۔ لیکن ہیوبرٹ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کروٹ بدلتے ہی اسے نیند آ گئی تھی۔

کاریڈور میں واپس آکر ڈاکٹر مکرجی ریلنگ کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ہوا کے تیز جھونکوں سے آسمان میں پھیلے بادلوں کی پرتیں جب کبھی اکہری ہو جاتیں، تب ان کے پیچھے سے چاندنی بجھتی ہوئی آگ کے دھواں کی مانند آس پاس کی پہاڑیوں پر پھیل جاتی تھی۔

 ”آپ کو ایم ہیوبرٹ کہاں ملے؟“ لتیکا کاریڈور کے دوسرے کونے میں ریلنگ پر جھکی ہوئی تھی۔

 ”کلب کے بار میں ان کو دیکھا تھا، میں نہ پہنچتا تو نہ جانے کب تک بیٹھے رہتے۔“ڈاکٹر مکرجی نے سگریٹ جلائی۔ انہیں ابھی ایک دو مریضوں کے گھر جانا تھا۔ کچھ دیر تک انہیں ٹال دینے کے ارادے سے وہ کاریڈور میں کھڑے رہے۔نیچے اپنے کوارٹر میں بیٹھا ہوا کریم الدین ماﺅتھ آرگن پر کوئی پرانی فلمی دھن بجا رہا تھا۔

”آج دن بھر بادل چھائے رہے، لیکن کھل کر بارش نہیں ہوئی۔“

 ”کرسمس تک شاید موسم ایسا ہی رہے گا۔“کچھ دیر تک دونوں خاموش کھڑے رہے۔ اسکول کے باہر پھیلے لان سے جھینگروں کا مسلسل آتا شور چاروں جانب پھیلی اداسی کو اور بھی زیادہ گھمبیر بنا رہا تھا۔ کبھی کبھی اوپر موٹر روڈ پر کسی کتے کی بلبلاہٹ سنائی پڑ جاتی تھی۔

 ”ڈاکٹر ۔۔۔ کل رات آپ نے ہیوبرٹ سے کچھ کہا تھا میرے بارے میں؟“

” وہی جو سب لوگ جانتے ہیں اور ہیوبرٹ ، جسے جاننا چاہیے تھا، نہیں جانتا تھا۔“ڈاکٹر نے لتیکا کی طرف دیکھا، وہ مذبذب سی ریلنگ پر جھکی ہوئی تھی۔

”ویسے ہم سب میںاپنی اپنی ضد ہوتی ہے، کوئی چھوڑ دیتا ہے، کوئی آخر تک اس سے چپکا رہتا ہے۔“ڈاکٹر مکرجی اندھیرے میں مسکرائے۔ ان کی مسکراہٹ میں خشک سی اکتاہٹ کا اظہار بھرا ہوا تھا۔ ”کبھی کبھی میں سوچتا ہوں مس لتیکا ، کسی چیز کو نہ جاننا اگر غلط ہے تو جان بوجھ کر نہ بھول پانا، ہمیشہ جونک کی طرح اس سے چپٹے رہنا، یہ بھی غلط ہے۔ برما سے آتے ہوئے میری بیوی کی موت ہوئی تھی، مجھے اپنی زندگی بیکار سی لگی تھی۔ آج اس بات کو عرصہ گزر گیا اور جیسا کہ آپ دیکھتی ہیں، میں جی رہا ہوں ،امید ہے کہ کافی عرصہ مزید جیوںگا۔ زندگی بہت دلچسپ لگتی ہے اور اگر عمر کی مجبوری نہ ہوتی تو شاید میں دوسری شادی کرنے میں بھی نہ ہچکچاتا۔ اس کے باوجود کون کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا تھا، آج بھی کرتا ہوں۔“

” لیکن ڈاکٹر ۔۔۔ ” لتیکا کا گلا رندھ گیا۔

”کیا مس لتیکا ۔۔۔“

”ڈاکٹر ،سب کچھ ہونے کے باوجود وہ کیا چیز ہے جو ہمیں چلائے جاتی ہے، ہم رکتے ہیں تو بھی اپنے ریلے میں وہ ہمیں گھسیٹ لے جاتی ہے۔“ لتیکا کو لگا کہ وہ جو کہنا چاہ رہی ہے، کہہ نہیں پا رہی، جیسے اندھیرے میں کچھ کھو گیا ہے، جو مل نہیں پا رہا، شاید کبھی نہیں مل پائے گا۔

 ”یہ تو آپ کو فادر اےلمنڈ ہی بتا سکیں گے مس لتیکا۔“ ڈاکٹر کی کھوکھلی ہنسی میں ان کا پرانا سنک ابھر آیا۔ ”اچھا چلتا ہوں، مس لتیکا ، مجھے کافی دیر ہو گئی ہے،” ڈاکٹر نے دیاسلائی جلا کرگھڑی کو دیکھا۔ ”گڈ نائٹ، مس لتیکا ۔“

” گڈ نائٹ، ڈاکٹر۔“

ڈاکٹر کے جانے کے بعد لتیکا کچھ دیر تک اندھیرے میں ریلنگ سے لگی کھڑی رہی۔ ہوا چلنے سے کاریڈور میں جمع ہواکہرا اڑ جاتاتھا۔ شام کو سامان باندھتے ہوئے لڑکیوں نے اپنے اپنے کمروں کے سامنے جو پرانی کاپیوں، اخبارات اور ردی کے ڈھیر لگا دیئے تھے، وہ سب کے سب بھی اندھیرے کاریڈور میں ہوا کے جھونکوں سے ادھر ادھر بکھرنے لگے تھے۔

 لتیکا نے لیمپ اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگی۔ کاریڈور میں چلتے ہوئے اس نے دیکھا، جولی کے کمرے میں روشنی کی ایک پتلی لکیر دروازے کے باہر کھنچ آئی ہے۔ لتیکا کو کچھ یاد آیا۔ وہ کچھ لمحوں تک سانس روکے جولی کے کمرے کے باہر کھڑی رہی۔ کچھ دیر بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے کوئی آواز نہیں آئی۔ لتیکا نے دبے ہاتھوں سے ہلکا سا دھکا دیا، دروازہ کھل گیا۔ جولی لیمپ بجھانا بھول گئی تھی۔ لتیکا آہستہ آہستہ دبے پاو ¿ں چلتی جولی کے پلنگ کے پاس چلی آئی۔ جولی کا سوتا ہوا چہرہ لیمپ کے پھیکی روشنی میں زرد سا دکھائی دے رہا تھا۔ لتیکا نے اپنی جیب سے وہی نیلا لفافہ نکالا اور اسے آہستہ سے جولی کے تکیے کے نیچے دباکر رکھ دیا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

رسپَرِیا….پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی

رسپَرِیا پھنیشورناتھ رینو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. پھنیشورناتھ رینو ۔پیدائش:۴ مارچ ۱۲۹۱ ء، اوراہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے