سر ورق / ناول / دلربا۔۔۔ نفیسہ سعید ۔۔۔ قسط نمبر 2

دلربا۔۔۔ نفیسہ سعید ۔۔۔ قسط نمبر 2

دلربا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 2

سمرن خاموشی سے باہر برآمدے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی، مغرب کی اذان کی آواز نے اس کے دل کو رقت سے بھر دیا تھا۔ وہ خاموشی سے سر پر دوپٹہ اوڑھے عقیدت و احترام سے اذان کے کلمات کو اپنی روح میں جذب کر رہی تھی۔ جب اچانک ہی سرفراز صاحب آگئے، وہ کبھی بھی اس وقت گھر نہیں آتے تھے سمرن انہیں دیکھ کر خاصی حیران ہوئی۔

”تمہاری ماں کہاں ہے؟“ مزید حیرت کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے تو انہوں نے کبھی گھر آکر شہ پارا کا نہ پوچھا تھا، لیکن سمرن کے جواب دینے سے قبل ہی وہ شہ پارا کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر اس جانب بڑھ چکے تھے۔ شہ پارا پچھلے کئی سالوں سے علیحدہ کمرے میں رہ رہی تھیں۔

”یہ لینڈ کروزر میں ہمارے گھر کون آتا ہے؟“ ان کی بارعب اور غصیلی آواز کمرے سے باہر تک سنائی دی، اس کا مطلب ہے بابا میں ابھی بھی دم خم باقی ہے، ان کی اس جواب طلبی نے سمرن کے اندر سکون ہی سکون بھر دیا۔

شہ پارا بڑے اطمینان سے اپنے ناخنوں پر کیوٹکس لگا رہی تھی جبکہ دریہ سرفراز صاحب کے کمرے میں داخل ہوتے ہی خاموشی سے باہر نکل کر برآمدے میں رکھی کرسی پر نہایت اطمینان سے بیٹھ گئی تھی، بالکل اس طرح جیسے اسے سرفراز صاحب کی جواب طلبی سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔ سمرن نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس پر نظر ڈالی۔

”میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔“ انہوں نے اپنی آواز کو حتیٰ الامکان مدھم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا جبکہ شہ پارا ان کی بات کو بنا کوئی اہمیت دیئے خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔ پھر نیل پالش کاڈھکن بند کرکے اپنے ناخنوں پر پھونک مارتے ہوئے بالکل اس طرح کھڑی ہوئی جیسے کمرے میں کوئی دوسرا فرد موجود ہی نہ ہو نیل پالش کی بوتل ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی اور پلٹ کر نہایت اطمینان سے چلتی ہوئی عین اس کے مقابل آکھڑی ہوئی۔

”مجھ سے کچھ کہا ہے آپ نے؟“ اس کی بے نیازی عروج پر تھی۔

”ہاں تم سے ہی کہہ رہا ہوں، کون ہے یہ شخص جو آج کل ہمارے گھر آرہا ہے۔“

”میری کزن کا بیٹا، بھانجا لگتا ہے میرا۔“ اس کا اطمینان دیدنی تھا۔

”یہ تمہاری ایسی کون سی کزن پیدا ہو گئی، جس کا بیٹا لینڈ کروزر کا مالک ہو۔“ سرفراز صاحب کا انداز استہزائیہ تھا۔

”کیوں کیا ہم جیسوں کی کوئی کزن نہیں ہوتی یا ان کا کوئی بیٹا نہیں ہو سکتا، آپ کو اعتراض کس بات پر ہے، کزن پر، بیٹے پر یا لینڈ کروزر پر۔“

وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی تھیں، جانے ان کے لہجے میں ایسا کیا تھا کہ ایک دم ہی سرفراز صاحب گھبرا اٹھے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس بڑھاپے میں آکر تیس سال قبل اٹھایا جانے والا غلط قدم ان کی بدنامی کا باعث بنے۔ انہیں اپنے سے زیادہ اپنی بیٹی کی فکر تھی اور یقینا شہ پارا کا ماضی ان کی بیٹی کے مستقبل کو داغ دار کر سکتا تھا۔

”دیکھیں سرفراز صاحب اگر آپ کے بہن، بھائی اس گھر میں آسکتے ہیں آپ سے مل سکتے ہیں تو پھر میرا بھانجا کیوں نہیں، اگر آج تیس سال بعد میرا کوئی رشتے دار آپ کے گھر آبھی گیا ہے تو آپ کی غیرت ایک دم جاگ اٹھی۔ اگر میرا بھانجا ایک مرد ہے تو کیا آپ کے بھانجے، بھتیجے مرد نہیں ہیں یا وہ غیرت کے زمرے میں نہیں آتے، آپ کا قانون سب مردوں کو ایک برابر نہیں سمجھتا؟ کیا اس میں میرے رشتہ داروں اور آپ کے خاندان والوں میں کوئی فرق ہے، آپ کا بھانجا آئے تو ٹھیک میرا آئے تو گناہ…. واہ جی واہ۔“ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی۔

”وہ تو ٹھیک ہے، لیکن میں تو صرف دریہ کی وجہ سے۔“

”آپ دریہ کی فکر نہ کریں۔“ وہ تیزی سے ان کی بات کاٹ کر بولی۔

”اللہ خیر کرے، اس کے ماں، باپ دونوں موجود ہیں، اپنی بیٹی کا بھلا برا سب دیکھنے کیلئے، آپ صرف اپنی بیٹی کا خیال کریں جو آپ کی ذمہ داری ہے۔“ اس نے سمرن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، اب سرفراز صاحب کے پاس مزید بات کرنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی تھی۔

”شادی کرتے وقت تو دیکھتے نہیں کہ کس خاندان میں کر رہے ہیں، اس وقت عشق کا بخار دماغ پر چڑھ جاتا ہے، بعد میں دنیا دکھاوے کےلئے پارسا بن بیٹھتے ہیں ڈرامہ باز لوگ یاد رکھئے گا، سرفراز صاحب میں جو بھی ہوں جیسی بھی ہوں اللہ کا شکر ہے آپ کیلئے اپنے گھر سے بھاگ کر نہیں آئی، خود بیاہ کر لائے تھے مجھے آپ اور پھر ساری عمر ایک کونے میں ڈال کر اپنے فرض سے آزاد ہو گئے اور میری زندگی گزر گئی آپ کی عزت بچاتے ہوئے اونہہ۔“ انہوں نے ایک نخوت بھری نظر سرفراز صاحب پر ڈالی جو ایسے کھڑے تھے جیسے وہاں موجود ہی نہ ہوں ندامت سے گردن جھکائے، اپنے ماضی پہ شرمسار اس غلطی پر نادم جس کے نتیجہ میں شہ پارا ان کی دو بیٹیوں کی ماں بنتے کی حق دار ٹھہری کاش یہ سب آج سے تیس سال قبل سوچا ہوتا تو آج اتنی ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑتا، ”اے کاش میں اپنی محبت کے زور پر اس عورت ہی کو بدلنے کی ایک کوشش کر لیتا، لیکن اب لاحاصل۔ اب وقت میرے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل گیا، نہ میں نے اپنے ماں، باپ کو کوئی خوشی دی اور نہ ہی اس عورت کو وہ بھرپور توجہ دی جو شاید آج اس کے دل میں موجود زہر کو تریاق میں بدل دینے کے کام آتی۔“ وہ مرے مرے قدموں سے واپس مڑے۔

”اور ہاں ایک بات اور یاد رکھئے گا میں نے دریاب کو ماں بن کر پالا ہے، سگی ماں سے بڑھ کر اس سے محبت کی ہے۔ راتوں کو اس کے ساتھ جا گی ہوں، اس کی ہر دکھ اور تکلیف کو اپنے دل پر محسوس کیا ہے، میں کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاﺅں گی جس سے اسے تکلیف پہنچے۔“

شہ پارا کی نخوت بھری آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی، وہ خاموشی سے باہر نکل آئے۔

جہاں دروازے کے قریب ہی سمرن کھڑی تھی، آنکھوں میں ڈھیروں سوال لئے۔ اس کا دل چاہا آج ضرور اپنے باپ کو روک کر پوچھے کہ اس کی ماں کا تعلق کس خاندان سے ہے؟ کیا جو لوگ کہتے ہیں وہ سچ ہے؟ کیا اس کی ماں کا تعلق ریڈ لائٹ ایریا سے ہے؟ لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کا باپ ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب نہ دے پائے گا اور وہ جاننا بھی نہیں چاہتی تھی، کیونکہ ”شک“ اور ”یقین“ میں کتنا فرق تھا۔ وہ اسے آج صحیح معنوں میں معلوم ہوا اور اس آگہی کی اذیت نے اسے اندر تک چیر دیا، شاہ ویز جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا اندر سے آنے والی تیز و تند گفتگو سن کر پل بھر میں ہی ساری بات جان گیا اور دانش سہگل سے متعلق شہ پارا سے کسی بھی جواب طلبی پر لعنت بھیج کر خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے فلور کی جانب بڑھ گیا۔

QQQQ

شام میں جب اس کی آنکھ کھلی تو گھر میں حسب معمول خاموشی کا راج تھا۔ یقینا دریہ اور اماں کہیں باہر گئی ہوں گی، یہ سوچ کر وہ باہر برآمدے میں آگئی۔ پہلے چاہا اوپر چلی جائے، لیکن شاہ ویز کی موجودگی کے خیال سے ارادہ بدل دیا اور جانے کیا بات تھی آج کل وہ شاہ ویز کے سامنے زیادہ جانے سے گریز کرتی تھی، وجہ شاہ ویز کی حال دل بیان کرتی آنکھیں تھیں، اس کی بولتی نگاہوں سے وہ گھبرا اٹھتی تھی۔ عورت ہونے کے ناتے وہ بنا کہے ہی شاہ ویز کی دل کی آواز سن چکی تھی اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اس سے کترانے لگی تھی، اسی لئے خاموشی سے نیچے ارم چچی کے پاس آگئی جو اس وقت نایاب کو کھانا کھلا رہی تھیں، اپنی بیماری کی بدولت وہ اٹھارہ، انیس سال کی عمر میں بھی بچوں ہی کی طرح ری ایکٹ کرتی تھی، اسی وجہ سے آرزو اور ولید ہمیشہ اپنی ماں کی عدم توجہی کا شکار رہے۔

”اچھا ہوا آپی آپ آگئیں اب مجھے میتھ کا یہ والا سوال سمجھا دیں۔“ ولید اسے دیکھتے ہی اپنی کاپی لے کر آگیا جبکہ ارم، نایاب کا کھانا ختم کرنے کے بعد اس کا منہ ہاتھ گیلے تولیے سے اچھی طرح صاف کر رہی تھیں۔

”چلو تم ولید کو ہوم ورک کروا دو، میں تمہارے لئے چائے لاتی ہوں۔“ ارم چچی نے فارغ ہو کر تمام برتن سمیٹے اور کچن کی جانب بڑھتے ہوئے سمرن کو مخاطب کیا۔

”رہنے دیں چچی میں پی کر آئی ہوں۔“

”کوئی بات نہیں میرے ساتھ ایک دفعہ اور پی لو۔“ وہ ولید کو سوال سمجھا رہی تھی، جب شاہ ویز دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

”میں تمہیں سارے گھر میں ڈھونڈ رہا ہوں، تم یہاں چھپی بیٹھی ہو۔“ وہ کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

”خیر چھپی تو نہیں بیٹھی، ویسے ہی تنہا دل گھبرا رہا تھا، اسی لئے سوچا نیچے چلوں ذرا بچوں میں دل ہی بہل جائے گا۔“ وہ اپنے اندر کی کیفیت کو چھپا کر بڑے نارمل انداز میں بولی۔

”چلو خیر تمہاری مرضی، ورنہ دل تو مجھ سے بھی بہل سکتا ہے۔“ اس نے سفید دوپٹے کے ہالے میں موجود سمرن کے چہرے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے شوخی سے کہا، اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی ارم آگئیں، ہاتھ میں پکڑی ٹرے سمرن کے سامنے رکھی۔

”مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ شاہ ویز بھی آیا ہوا ہے، چلو اب تم بیٹھو میں ایک کپ چائے اور بنا لاﺅں گا۔“ یہ کہہ کر وہ واپس کچن کی جانب مڑ گئیں جبکہ شاہ ویز کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے سمرن کچھ کنفیوز سی ہو گئی، اسی لئے منہ نیچے کئے جلدی جلدی ولید کو سوال سمجھانے لگی اور شاہ ویز بڑی دلچسپی سے اس کی حرکات کو نوٹ کرتا رہا۔ گھبراہٹ میں سمرن نے گرم گرم چائے کا ایک بڑا سا گھونٹ لے لیا اور پھر جلدی سے کپ واپس ٹرے میں رکھ دیا شاہ ویز بے اختیار ہی مسکرا دیا اور جانے کیا سوچ کر سمرن کی چائے کا کپ اٹھا لیا۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ سمجھتی شاہ ویز نے بڑے مزے سے اس کی بچی ہوئی چائے کے سپ لینے شروع کر دیئے، ارم چچی ایک اور کپ لے کر واپس آچکی تھیں اور نایاب کی جانے کون سی بات سننے میں مصروف تھیں۔ دو تین سپ لے کر اس نے کپ واپس ٹرے میں رکھ دیا۔

”یہ باقی چائے تم پی لینا، میں اوپر سے پی کر آیا تھا۔“ بچی ہوئی چائے کا کپ اس نے سمرن کے سامنے رکھ دیا۔

”اب یہ مت کہہ دینا میں تمہارا جھوٹا نہیں پیوں گی۔“ نہایت آہستہ سے کہہ کر وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔

”ارے تم کہاں جا رہے ہو چائے تو پی لو۔“ نایاب میں الجھی ارم چچی نے شاہ ویز کے کھڑے ہوتے ہی اس کی توجہ چائے کی جانب مبذول کروائی۔

”بس چچی مجھے کہیں جانا تھا میں تو ویسے بھی ولید سے ملنے نیچے آگیا تھا۔“ اس نے ولید کے بالوں کو آہستہ سے چھو کر سمرن پر ایک نظر ڈالی اور باہر نکل گیا۔

QQQQ

شہ پارا کے دو ہی شوق تھے ایک شاپنگ، دوسرا فلم بینی، لیکن جانے آج کل ایسا کون سا قارون کا خزانہ اس کے ہاتھ لگ گیا تھا کہ جب بھی دونوں گھر سے جاتیں واپسی میں خوب لدی پھندی ہوتیں قیمتی ملبوسات، ہینڈ بیگ، امپورٹیڈ جوتے، پرفیوم اور جیولری سے دونوں کی مشترکہ الماری لدی پڑی تھی، ڈریسنگ ٹیبل پر موجود میک اپ کے قیمتی سامان میں ہونے والے دن بہ دن اضافہ نے بھی سمرن کو دنگ کر رکھا تھا۔ دونوں کے ہاتھوں میں موجود موبائل ان کے بیش قیمت ہونے کا اعلان کرتے۔ اس سلسلے میں استعمال ہونے والی اضافی رقم کا ذریعہ کیا تھا، شاید یہ سوال سمرن کو مزید کچھ عرصہ پریشان رکھتا، اگر ایک دن یونیورسٹی سے واپسی پر وہ اپنی ماں اور دریہ کو دانش سہگل کے ساتھ نہ دیکھ لیتی۔

”تو قارون یہ شخص ہے جس کے خزانے سے میری ماں اور دریہ فیض یاب ہو رہی ہیں۔“ جیولر شاپ سے باہر آتی دریہ پر ایک تاسف بھری نظر ڈال کر اس نے سوچا۔

QQQQ

اچانک ہی اس کی نگاہ سفید یونیفارم میں ملبوس اس لڑکی پر پڑی تو واپس پلٹنا بھول گئی۔ ”اپسرا“ اس لڑکی کو دیکھتے ہی پہلی تشبیہ مہر علی کے دل نے دی جسے دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے ہوئے مہر علی نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ یونیفارم پر بڑی بے نیازی سے دوپٹہ گلے میں ڈالے اپنی دوست سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی، وہ مہر علی کی جانب بڑھتی آرہی تھی اور اس کا اٹھتا ہوا ہر قدم مہر علی کو اپنے دل پر پڑتا محسوس ہو رہا تھا، جانے وہ لڑکی واقعی اپنے قیامت خیز حسن کی تجلیوں سے بے خبر تھی یا اپنی بے نیازی کے زور پر دلوں کو تسخیر کرنے کا فن جانتی تھی۔ مہر علی کو یکسر نظر انداز کرتی وہ اس کی گاڑی کے پاس سے ایسے گزری جیسے سبک رفتار ہوا کا جھونکا۔ مہر علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زمین پر نہیں بلکہ پانی پر چل رہی ہو، نہایت ہی دلکش اور دل کو موہ لینے والی چال چلتی ہوئی جیسے ہی وہ سڑک کا موڑ مڑ کر مہر علی کی نظروں سے اوجھل ہوئی ایسا محسوس ہوا جیسے ایک دم ہی سارے عالم پر اندھیرا چھا گیا ہوا اور پھر مہر علی کا دل وہاں ایک پل بھی نہ لگا۔

وہ اپنے دوست عمر لغاری کے ساتھ مقامی گرلز کالج آیا تھا جہاں عمر کی والدہ پرنسپل تھیں، عمر کو اپنی والدہ سے کوئی کام تھا، اسی لئے وہ زبردستی مہر کو بھی اپنے ساتھ لے آیا، اب پچھلے پندرہ منٹ سے وہ اندر اپنی والدہ کے پاس تھا جبکہ مہر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا اس کے انتظار میں سخت بو ہو رہا تھا کہ اچانک ہی اس ”اپسرا“ کے دیدار نے مہر علی کی بوریت کو اڑن چھو کر دیا اور دل کی گہرائیوں سے عمر لغاری کا مشکور ہوا، جس کی بدولت ایسے حسن جہاں سوز کا نظارہ اس کیلئے ممکن ہوسکا۔

QQQQ

آج کل اسلام آباد سے پھوپھو اور زوار آئے ہوئے تھے، زوار تو ویسا ہی تھا خوش و خرم اور ہشام بشاش، لیکن جانے کیا بات تھی اسے پھوپھو پہلے جیسی دکھائی نہ دے رہی تھیں، سمرن نے جب بھی انہیں دیکھا افسردہ اور بجھی بجھی ہی نظر آئیں، نیچے تو خیر وہ ویسے ہی کم آتی تھیں، لیکن جب وہ تائی سادیہ کے پاس اوپر گئی پھوپھو کو کسی گہری سوچ میں غرق ہی پایا، جب تک وہ اوپر رہتی پھوپھو خالی خالی نظروں سے اس کی جانب تکا کرتیں اور پھوپھو کی اس حالت نے اسے حقیقتاً پریشان کر دیا۔

”بھابی یہ پھوپھو واقعی ہی پریشان ہیں یا صرف مجھے محسوس ہو رہا ہے۔“ اس سے رہا نہ گیا اور فاریہ بھابی سے پوچھ ہی بیٹھی۔

”پریشان نہیں بلکہ کافی پریشان ہیں۔“ فاریہ بھابی دھیمے سے جواب دے کر اپنے کام میں مشغول ہو گئیں اور وہ جو ان کی پریشانی جاننا چاہتی تھی منتظر ہی رہی کہ فاریہ بھابی مزید کچھ بتائیں لیکن بھابی کی طرف سے طاری ہنوز خاموشی کسی سنجیدہ بات کی سمت اشارہ کر رہی تھی۔

”پریشانی کی وجہ۔“ کریدنے کی عادت نہ ہوتے ہوئے بھی وہ پھر سے پوچھ بیٹھی۔

”زوار حسن۔“ بابھی نے پلٹ کر اس پر ایک نظر ڈالی اور پھر اس کے سوالیہ انداز کو سمجھتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔

”وہ ایسا ہے سمرن۔“ بھابی کی سمجھ میں نہ آیا بتائیں کہ نہیں۔

”زوار، دریاب سے شادی کرنا چاہتا ہے۔“ آخرکار بھابی نے بتانے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

”تو اس میں اس قدر پریشانی والی کیا بات ہے۔ ایسا تو ہوتا ہی تھا۔“ وہ حیران ہو کر بولی۔

”دریہ نہ صرف ان کے بھائی کی بیٹی ہے بلکہ ان کے بیٹے کی پسند بھی ہے اور اتنی خوبصورت لڑکی کی خواہش تو کوئی بھی شخص کر سکتا ہے اس میں زوار حسن کا کیا قصور ہے بھلا۔“

”ہر شخص تو خیر نہیں ہاں البتہ ہر بے وقوف شخص ضرور کہا جا سکتا ہے۔“

بلاشبہ یہ آواز شاہ ویز کی تھی جو غالباً ابھی ابھی آفس سے آیا تھا۔

”اور میرا خیال ہے کہ زوار کا شمار بھی ان ہی بے وقوف لوگوں میں ہوتا ہے ورنہ کم از کم میرے جیسے پریکٹیکل آدمی کیلئے صورت سے زیادہ سیرت او رمضبوط کردار اہمیت کا حامل ہے اور مجھے آج تک دریہ میں کوئی ایسی خوبی نظر نہیں آئی جس کی بنا پر اس کے دائمی ساتھ کی خواہش کی جائے۔“

”تمہاری بات بھی ٹھیک ہے لیکن پھر بھی سب کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے کچھ لوگ صورت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔“ بھابی نے اپنا تجزیہ بیان کیا۔

”لیکن پھوپھو کے نزدیک صورت سے زیادہ سیرت اہم ہے وہ ایک حسین مجسمہ سے زیادہ سگھڑ بہو کی خواہش مند ہیں جبکہ زوار اپنی ضد پر مکمل طور سے اڑا ہوا ہے اب دیکھو اونٹ کس کروٹ بیٹھے۔“

بھابی نے ہاتھ دھو کر تولیہ سے صاف کئے اور پلٹ کر سمرن کی جانب دیکھا۔

”ویسے ایک بات بتاﺅ سمرن تمہیں کبھی برا نہیں لگا کہ زوار، دریہ میں اتنا انٹرسٹڈ ہے جبکہ وہ تم سے منسوب تھا اور یہ بات تقریباً سب ہی جانتے تھے۔“

سمرن کیلئے بھابی کے دل میں موجود فطری محبت تاسف کی صورت میں ان کے لہجے میں در آئی جبکہ شاہ ویز کی موجودگی میں سمرن کیلئے اس بات کا جواب دینا خاصا دقت طلب تھا اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ جان چکی تھی کہ شاہ ویز بھی اس کا جواب جاننے کیلئے بے قرار ہے۔

”بات دراصل یہ ہے بھابی میرے نزدیک کبھی بھی وہ شخص عزت اور اہمیت کا حامل نہیں ہو سکتا جس کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہ ہو اور یہ تو زیادہ اچھا ہوا کہ زوار نے خود ہی اپنی زندگی کے فیصلہ سے سب کو آگاہ کر دیا ورنہ دوسری صورت میں مجھے خود اس کے رشتے سے انکار کرنا پڑتا کیونکہ میں خود بھی ذہنی طور پر خود کو شاید اس رشتے کیلئے آمادہ نہ پاتی تھی۔

وہ اطمینان سے جواب دے کر کچن سے باہر نکل گئی اور خاموشی سے سیڑھیاں اتر کر اپنے فلور پر آگئی۔

یہ سچ ہی تھا کہ بھابی کی دی گئی خبر سے اس کے دل میں دریہ یا زوار کے متعلق کوئی بھی ملال یا منفی خیال نہ آیا تھا زوار حسن اس کے بچپن کی ایک ایسی خواہش تھی جو دوسروں کے احساس دلانے سے اس کے دل میں ابھری ضرور تھی لیکن زوار کے رویہ نے اس خواہش کو سرے سے ختم کرکے اسے حقیقت پسندی کی دنیا میں لاکھڑا کیا تھا اور اب زوار، دریہ سے شادی کرتا یا کسی اور سے اسے کم از کم اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا پھوپھو نے اپنے چھوٹے بھائی شہباز کے سامنے دریاب گل کےلئے دست سوال دراز کیا تو تقریباً ہر وہ شخص حیران رہ گیا جو سمرن اور زوار حسن کے متوقع رشتے سے باخبر تھا اور ایسے موقع پر پھو پھو کو نہایت شرمندگی سے اعتراف کرنا پڑا کہ زوار خود دریاب کے ساتھ کا خواہش مند ہے اور پھو پھو کی اس وضاحت نے ہر شخص کو خاموش کر دیا جبکہ شہباز اس رشتے کی قطعی حمایت میں نہ تھے ان کے نزدیک یہ سراسر سمرن کے ساتھ نا انصافی تھی لیکن سرفراز صاحب کے سمجھانے بجھانے پر وہ بھی نیم رضا مند ہو ہی گئے سرفراز صاحب کے خیال میں دریاب کے بہتر مستقبل کےلئے ضروری تھا کہ اس کی شادی جلد از جلد کر دی جائے ان کے نزدیک شادی دریاب کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ تھی۔

اس طرح لاشعوری طور پر ان کی کوشش تھی کہ دریاب کو شہ پارا سے دور کر دیا جائے اور اس کیلئے زوار سے بہتر رشتہ کوئی اور نہیں مل سکتا تھا رسمی کارروائی کے طور پر ارم نے شہ پارا سے دریاب کی رضا مندی جاننے کیلئے رابطہ کیا کیونکہ وہ سب سے زیادہ شہ پارا کے ہی قریب تھی اور اس کی پسند نا پسند اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا دریاب اور زوار کے درمیان موجود رابطہ کو دیکھتے ہوئے سب کو ہی یقین تھا کہ زوار نے یہ قدم دریاب کی مکمل رضا مندی کے بعد ہی اٹھایا ہے لہٰذا پھو پھو نے منگنی کی شاپنگ کی غرض سے بازار کا ایک چکر بھی لگا لیا تھا خیال تھا کہ ہفتے تک پھوپھا جان اور دوسرے گھر والے بھی پہنچ جائیں گے اور ان کے آتے ہی منگنی کی باقاعدہ رسم کر دی جائے گی اور اس وقت جب سب ہی اس فیصلے کو اللہ کی رضا جان کر خوش اور مطمئن ہو چکے تھے دریاب نے ایک ایسا دھماکہ کیا جسے سن کر ہر شخص حیران رہ گیا۔

QQQQ

”یہ آپ نے کس سے پوچھ کر پھوپھو کو ہاں کی ہے؟“

وہ ارم کے سامنے تنی کھڑی اس کی نگاہوں میں نگاہیں ڈالے نہایت بدتمیزی سے جواب طلب کر رہی تھی جبکہ حیران پریشان ارم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس کی بات کا کیا جواب دیں وہ تو ابھی تک اس کی اس قدر دیدہ دلیری پر ہی حیران ہو رہی تھیں جس نے ماں اور بیٹی کے درمیان ادب و احترام ہی ختم کر دیا تھا۔

”بولیں چچی آپ نے کس سے پوچھ کر پھوپھو کو ہاں کی ہے۔“

وہ شروع سے ہی شہ پارا کو مما اور ارم کو چچی کہنے کی عادی تھی۔

”ہاں میں نے نہیں تمہارے ابو نے کیا ہے جا کر ان سے پوچھو۔“ وہ بال آخر اپنا غصہ برداشت کرتے ہوئے بولیں۔

”اور یہ تم مجھ سے بات کس طرح کر رہی ہو تمیز بھول گئی ہو کیا۔“

”میں اسی طرح بات کرتی ہوں آپ نے کبھی کی ہو تو آپ کو پتا چلے آپ کو تو ہمیشہ اپنے بچوں سے ہی فرصت نہیں ملی آپ نے صرف نایاب کو پیدا کیا تھامجھے نہیں اور ہاں منع کر دیجئے گا اپنے میاں کو میری شادی کی فکر میں انہیں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“

وہ تیزی سے کہہ کر واپس پلٹی اور سیڑھیاں چلتی چلی گئی جبکہ ارم اپنی جگہ پر کھڑی ہکا بکا اس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھیں جانتی تھیں کہ وہ بہت زبان دراز اور بدتمیز ہے لیکن اس کا عملی مظاہرہ آج پہلی بار دیکھا تھا۔

QQQQ

اور پھر دریاب گل نے سب کے سامنے نہایت بے باکی اور جرا ¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زوار سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اس انکار کو سن کر ہر شخص دنگ رہ گیا۔ شاہ ویز کا کہنا تھا کہ وہ بے باکی کی آخری حد ہے جس پر دریاب کھڑی ہے اور اس کی یہ بے باکی آنے والے وقتوں میں یقینا اسی کیلئے ایک عذاب ثابت ہو گی۔ جیسے ہی دریاب نے انکار کیا پھوپھو کے من کی گویا مراد پوری ہوئی انہوں نے جھٹ پٹ سمرن کیلئے دامن پھیلا دیا ان کا کہنا تھا کہ زوار خود سمرن سے شادی کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی آنکھوں پر بندھی دریہ کے عشق و حسن کی پٹی اتر چکی ہے پھوپھو کی اس خواہش کا علم جیسے ہی سمرن کو ہوا وہ اپنے باپ سرفراز صاحب کے پاس پہنچ گئی۔

”بابا آپ کا جہاں اور جس سے دل چاہے میری شادی کر دیجئے، لیکن پلیز زوار حسن سے نہیں اور آپ مجھ سے اس انکار کی وجہ پوچھئے گا بھی مت کیونکہ میری پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے سوائے اس کے کہ میں دریاب کی ٹھکرائی ہوئی چیزوں کو اپنانے کا حوصلہ شاید اب خود میں نہیں پاتی۔“

نہایت خود اعتمادی سے بات کرتے کرتے اس کا لہجہ بھرا گیا اور آنکھوں میں پانی بھر آیا اس لمحہ سرفراز صاحب کو اپنی اس بیٹی پر ٹوٹ کر پیار آیا انہوں نے نہایت خاموشی سے اپنا دست شفقت اس کے سر پر رکھ کر اسے اپنے ساتھ کی یقین دہانی کروائی اور پھر اس کے عملی ثبوت کے طور پر اپنی بہن کو انکار کر دیا اور اس انکار میں انہوں نے سمرن کا کوئی ذکر نہ کیا زوار نے بہت کوشش کی کہ وہ ایک دفعہ اس کی بات سن لے لیکن سمرن نے صاف انکار کر دیا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ بات تب سنی جاتی ہے جب دلوں میں کوئی گنجائش موجود ہو یا فیصلوں میں لچک ہو لیکن جب ایسا نہ ہو تو بات سننے کا کوئی فائدہ نہیں۔

اور یہ ہی بات فاریہ بھابی سے کہہ کر جب وہ نیچے اتری تو آخری سیڑھی پر اسے شاہ ویز کھڑا دکھائی دیا۔ چاہتی تھی کہ نظر انداز کرکے نکل جائے لیکن اس نے دیوار پہ ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ مسدود کر دیا ناچار اسے رکنا پڑا۔

”تھینک یویار۔“

”کس بات کا….“ اس کی حیرانی بجا تھی۔

”زوار کے رشتے سے انکار کا، جانتی ہو مجھے تم سے اتنی جرات مندی کی امید نہیں تھی لیکن تمہاری اس جرات نے تو مانو مجھے نئی زندگی بخش دی ہے۔“

”اوہ…. اس کا مطلب ہے بابا نے شاہ ویز کو وجہ بتا دی ہے۔“ اس نے سوچا۔

”اچھا لیکن میرے انکار سے تمہارا کیا تعلق ہے۔“

وہ تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے بولی۔

”تم نہیں جانتیں؟“ وہ سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔

”نہیں…. اچھا اب ہٹو آگے سے بابا آنے والے ہیں مجھے کھانا بنانا ہے۔“ وہ شاہ ویز کی نظروں سے خائف ہوتے ہوئے بولی۔

”ہٹ جاتا ہوں لیکن پہلے وعدہ کرو میرے پرپوزل پر تو انکار نہیں کرو گی نا۔“ وہ یکدم ہی بنا کسی تمہید کے بولا اور سمرن کچھ بول ہی نہ پائی۔

”ویسے تو بڑے کہتے ہیں خاموشی نیم رضا مندی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود میں تم سے جواب سننا چاہوںگا جو یقینا ہاں ہی ہو گا۔“

”جب تمہیں پتا ہے تو پھر کیوں پوچھ رہے ہو؟ اور چلو اب ہٹو آگے سے۔“ وہ اپنے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے تیزی سے بولی۔

تھینک یو یار…. تھینک یو سو مچ اور ہاں یاد رکھنا تم میری سکینڈ چوائس نہیں ہو بلکہ پہلی اور آخری پسند ہو کیونکہ مجھے کم از کم دریاب جیسی لڑکیاں کبھی پسند آہی نہیں سکتیں۔“ وہ اسے راستہ دیتا ہوا بولا۔

”جانتی ہوں۔“ یہ کہہ کر سمرن تیزی سے آگے کی جانب بڑھ گئی۔

QQQQ

موسم بدل رہا تھا ہلکی ہلکی خنکی کے ساتھ فضا میں ہر طرف ایک نامعلوم سی اداسی چھائی ہوئی تھی سمرن اپنے کمرے میں بیٹھی بظاہر تو پڑھ رہی تھی لیکن اس کی ساری توجہ برابر والے کمرے میں مرکوز تھی جہاں دانش سہگل اپنی کسی آنٹی کے ساتھ آیا تھا اور اس کی یہ آمد بلا مقصد نہ تھی بلکہ وہ دریاب کا پرپوزل لے کر آیا تھا اس کی اس جرا ¿ت پر جہاں شہباز صاحب سخت حیران تھے وہاں سرفراز صاحب نہایت ہی غصے میں تھے دانش سہگل دریہ سے دوگنی عمر کا ایک معمولی شکل و صورت کا بندہ تھا جس کی واحد خوبی شاید اس کا بینک بیلنس اور لمبی چوڑی گاڑی تھی جس نے دریہ اور شہ پارا کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا اور اس میں کوئی ایسی خوبی نہ تھی جس کی بنا پر دریہ جیسی کم عمر اور حسین لڑکی اس کا مقدر بنائی جاتی۔

یہ وہی وجہ تھی کہ دونوں بھائیوں نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا جیسے ہی شہ پارا نے کچھ کہنے کی کوشش کی سرفراز صاحب نے اسے جھڑک کر خاموش کروا دیا اور شاید وہ بھی موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خاموش ہو گئی تایا جی کی طبیعت کی خرابی کے باعث تایا جی اور تائی سادیہ بھی نیچے نہ آئے تھے جبکہ ارم چچی، دریاب کی اس دن کی بدتمیزی سے خاصی کبیدہ خاطر تھیں یہ ہی وجہ تھی کہ انہوں نے بھی نایاب کی بیماری کا بہانہ بنا کر اوپر آنے سے معذرت کر لی تھی اور دریاب شاید اپنے اور شہ پارا کے مشترکہ کمرے میں تھی سمرن کی کھڑکی کا پردہ ہٹا ہوا تھا جب اس نے دانش سہگل کو ایک نہایت ہی الہڑ ماڈرن سی خاتون (جن کا جسم ساڑھی پہننے کے باوجود عریاں تھا) کے ساتھ واپس جاتے دیکھا دانش سہگل کے چلنے کا انداز اس کے اندرونی غصہ کا غمازی کر رہا تھا جبکہ وہ خاتون شہ پارا سے جانے آہستہ آہستہ کیا باتیں کر رہی تھیں جن کے جواب میں شہ پارا کی صرف گردن ہی مل رہی تھی اور پھر وہ دونوں سیڑھیاں اتر گئی اور سمرن نے یہ خبر سن کر اطمینان کا سانس لیا کہ چچا جان نے اس رشتے سے انکار کر دیا ہے لیکن اس کا یہ اطمینان چند روزہ ہی ثابت ہوا۔

وہ جو کہتے ہیں ناکہ رشتے تو آسمان پر بنتے ہیں تو شاید درست ہی تھا حالانکہ خاندان کا کوئی بھی فرد اس رشتے پر دل سے راضی نہ تھا کہاں زوار حسن جیسا خوبرو نوجوان اور کہاں دانش سہگل جیسا گھاگ اور منجھا ہوا مرد جو سمرن کو کم از کم ایک ایسا گھاگ شکاری نظر آتا جو معصوم پرندوں کو اپنے جال میں پھانسنے کا فن بخوبی جانتا تھا اور اس کے نزدیک دریہ بھی ایک ایسا ہی معصوم پرندہ تھا جو اپنی بے وقوفانہ خواہشات کے حصول کیلئے دانش کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے کےلئے باخوشی تیار تھی یہ ہی وجہ تھی کہ سب کے انکار کے باوجود وہ شہباز صاحب سے جواب طلبی کیلئے نیچے پہنچ گئی۔

”آپ نے دانش کے رشتے سے انکار کیوں کیا ہے؟ کیا خرابی ہے اس میں؟“ وہ ابھی ابھی گھر آئے تھے اور ہاتھ دھو کر کھانا کھانے ٹیبل کی جانب بڑھ رہے تھے جب اچانک دریاب ان کے راستے میں آگئی۔

”کیا بدتمیزی ہے دریہ آرام سے بیٹھو پہلے اپنے باپ کو کھانا کھانے دو پھر بات کرنا۔“ ارم نے اسے کندھے سے تھام کر سمجھانا چاہا۔

”پلیز آپ میرے معاملے میں نہ ہی بولیں تو اچھا ہے۔ ورنہ آپ جانتی ہیں کہ میں کسی کا لحاظ کرنے کی عادی نہیں ہوں اور خاص طور پر آپ سے تو میری کوئی ایسی روا داری بھی نہیں ہے جس کے باعث میں آپ کا لحاظ کر جاﺅں۔“ وہ اپنے کندھوں سے ارم کے ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی تو نہ صرف ارم بلکہ شہباز بھی اس کی اس قدر بدتمیزی پر ششدر رہ گئے۔

”تمہاری ماں ہے یہ معافی مانگو فوراً اس سے۔“

وہ حتیٰ الامکان اپنے غصے کو دباتے ہوئے آہستہ آواز میں بولے۔

”میری ماں یہ نہیں شہ پارا مما ہیں یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں یہ صرف نایاب، آرزو اور ولید کی امی ہیں اور ویسے بھی میں آپ سے یہ نہیں پوچھنے آئی کہ میری ماں کون ہے؟ اور نہ ہی مجھے اب اس کی ضرورت رہی ہے میں تو آپ سے صرف آپ کے انکار کی وجہ پوچھنے آئی ہوں۔“

اس کے لہجے میں ارم کےلئے اس قدر زہر بھرا ہوا تھا کہ ارم بھی ہکا بکا رہ گئیں۔

”اور ہاں اگر دانش میں کوئی برائی ہے تو بھی مجھے وہ قبول ہے اس لئے پلیز آپ کی عزت اسی میں ہے کہ آپ اپنی رضا مندی کا اظہار کر دیں۔“

وہ بے باکی سے اپنے باپ کے سامنے تن کر کھڑی تھی اور شہباز تو زمین میں گڑ کر رہ گئے ان کا رعب اور طنطنہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور انہیں ایسا محسوس ہوا کہ اب اگر انہوں نے مزید کوئی بات کی تو شاید دریہ ان کی اتنی بھی عزت نہ کرے جتنی اب تک کر چکی ہے اور اسی پل انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی عزت بچانے کا واحد حل یہ ہے کہ بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کر دیا جائے یہ جانے بغیر کہ دانش سہگل کے ساتھ وہ خوش رہ سکے گی یا نہیں اور اسی میں ان کی عافیت تھی ورنہ دریہ سب کچھ ختم کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی اور اس سب میں اس کے باپ اور خاندان کی عزت بھی شامل تھی جس کی اس کے نزدیک ذرا بھی وقعت نہ تھی اور پھر ایک پل لگا شہباز کو فیصلہ کرنے میں۔

”تم اوپر جاﺅ میں ابھی بھابی کے پاس آتا ہوں باقی بات وہیں ہو گی۔“

وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح بولے دریہ ارم پر ایک تیز نظر ڈال کر دروازے سے باہر نکل گئی جبکہ شہباز بغیر کھانا کھائے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے اور آج اٹھارہ سال بعد ارم کو اس خسارے کا احساس ہوا جو انہوں نے اپنی اولاد کی طرف سے غفلت برت کر حاصل کیا تھا اور شاید یہ پہلا دن تھا جب وہ نایاب کو کھانا کھلانا بھی بھول گئیں وہ تو جب نایاب نے ٹوٹے ہوئے لفظوں میں واویلا کرنا شروع کیا تو انہیں ہوش آیا۔

”یا خدا ایک لڑکی اس حال میں اپنی بیماری کے ہاتھوں زندہ درگور اور دوسری خود اپنے ہاتھوں زندہ درگور ہونے جا رہی ہے یا میرے مالک ہم پر رحم کر۔“ وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گرائے ساکت بیٹھی تھیں جبکہ آنسو خود بخود ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔

QQQQ

اور پھر دانش سہگل کا پرپوزل قبول کر لیا گیا۔ اس پرپوزل پر سوائے دریاب اور شہ پارا کے کوئی خوش نہ تھا۔ دریاب تو بے حد خوش تھی دانش کے روپ میں اسے اپنی منزل قریب نظر آرہی تھی شوبز کی چکا چوند نے بنا دیکھے ہی اس کے دل و دماغ پر قبضہ جما رکھا تھا وہ خود کو ہمیشہ کسی ایسی بڑی اداکارہ کے روپ میں دیکھتی جس سے آٹو گراف لینے والوںکی قطاریں لگی ہوں اپنے اس خواب کے حصول کےلئے دانش سہگل سے بہتر شخص اس کی نظر میں کوئی نہ تھا دانش کے تعلقات شوبز کے حلقوں میں اوپر تک تھے اور نہ صرف اپنے ملک بلکہ پڑوسی ملک کے بھی کئی ڈائریکٹر اور ہدایتکار اس کے جاننے والے تھے اور اسی چیز نے دریہ کو اس کا دیوانہ بنا رکھا تھا۔ دریہ نے اپنی شادی کی ساری شاپنگ شہ پارا کے ساتھ جا کر مکمل کی یہاں تک کہ اپنی بری کی خریداری بھی اس نے خود شہر کے بہترین ڈریس ڈیزائنر اور بوتیک سے کی تھی اس کی بارات کا سوٹ جانے کتنے لاکھ کا تھا جو خود دانش کی اپنی پسند کا تھا غرض کہ اس کی ہر چیز اعلیٰ معیار اور کوالٹی کی تھی یہاں تک کہ اس کی بری دیکھ کر خاندان کی دیگر خواتین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں اور سب نے ہی ظاہری نمود نمائش دیکھ کر دریاب کے مقدر کو خوب سراہا اور ان کے رشک سے بھرے جملے سن سن کر دریاب کی گردن فخر و غرور سے تن سن گئی اور اسے ایسا لگا یہ بازی وہ پورے اعزاز کے ساتھ جیت چکی ہے اور اسی فخر و غرور کے ساتھ وہ دانش سہگل کی ہمراہی میں رخصت ہو کر اس کی طویل و عریض کوٹھی میں پہنچ گئی جہاں اس کا استقبال کرنے کیلئے سوائے چند ملازمین کے کوئی نہ تھا اسے ایک سجے سجائے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔

”میم آپ آرام سے بیٹھے۔“

اسکرٹ، بلاوز میں ملبوس نہایت اسمارٹ سی ملازمہ نے اسے تکیہ سے ٹیک لگا کر آرام سے بٹھایا۔

”میم آپ کیا لینا پسند کریں گی جوس یا کافی۔“

”کچھ بھی نہیں“ وہ دھیمے سے بولی جبکہ احساس تفاخر واضح طور پر اس کی آواز سے چھلک رہا تھا۔

”میں آرام کروں گی تم جاﺅ۔“

”ٹھیک ہے میم صغرا نے آپ کے کپڑے نکال کر باتھ روم میں رکھ دیئے ہیں آپ کو جب چینج کرنا ہو یہ بیل بجا دیجئے گا صغرا آپ کی مدد کو آجائے گی۔“

”ٹھیک ہے اب تم جاﺅ۔“

”بے وقوف عورت بھلا دانش کے دیکھے بغیر میں کیسے اس ڈریس کو چینج کر سکتی ہوں، اتنا پیسہ خرچ کرکے میں جس کیلئے تیار ہوئی ہوں وہ ہی نہ دیکھے تو کیا فائدہ ہوا۔“ وہ تنفر سے سوچتی کراﺅن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی دروازے پر ہونے والے کھٹکے سے وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھی تو پہلے تو یہ ہی یاد نہ رہا کہ وہ کہاں ہے؟ اور جیسے ہی اندر آتے دانش پر نظر پڑی ایک دم بوکھلا کر اٹھ بیٹھی فوراً اپنا دوپٹہ درست کیا جو بھی تھا، تھی تو وہ ایک کم عمر اور شریف خاندانی لڑکی تھی۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا وہ لاکھ بے باک سہی لیکن پھر بھی اس کے جذبات میں کبھی پہلے کسی غیر مرد نے کوئی ایسی ہلچل نہ مچائی تھی دانش تھکا تھکا سا کمرے میں داخل ہوا۔

”تم نے ابھی تک اپنا ڈریس چینج نہیں کیا۔“ وہ حیرانی سے بولا اور اس دم دریہ کی نگاہ سامنے دیوار پر لگے بیش قیمت وال کلاک پر پڑی جو پانچ کا ٹائم دے رہی تھی۔

”اومائی گاڈ کہیں تم عام مڈل کلاس لڑکیوں کی طرح میرا انتظار تو نہیں کر رہی تھیں۔“ وہ اس کے قریب ہی نیم دراز ہوتا ہوا بولا۔

”بٹ سوری میری جان میں ان تمام فارمیلٹیز کا عادی نہیں ہوں بہرحال تمہاری منہ دکھائی تمہیں دینا ضروری تھی اسی لئے آیا ہوں ورنہ کس کافر کا دل چاہتا تھا کہ اتنی حسین رقاصہ کو چھوڑ کر….“

جملہ ادھورا چھوڑ کر اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور گاڑی کی چابی نکال کر اس کی گود میں رکھ دی وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی۔

”یہ تمہاری گاڑی کی چابی ہے لیکن یہ یاد رکھنا تم میری مرضی کے بغیر گاڑی لے کر باہر نہیں جاﺅ گی کیونکہ اب تم کوئی عام عورت نہیں بلکہ دانش سہگل کے نام سے منسوب ہو۔“ وہ سرخ سرخ آنکھوں سے دریہ کو گھورتا ہوا بولا۔

اور دریہ جو اپنے لئے ستائشی جملے او رتعریفی کلمات سننے کی منتظر تھی ایک بالکل نئی صورتحال کا سامنا کرنے پر حیران ٹکر ٹکر اس کی شکل دیکھے جا رہی تھی اپنی تعریف کی شوقین دریہ حیران تھی کہ یہ کس قسم کا مرد ہے جسے اپنی بیوی کی خوبصورتی میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔

”اور ہاں۔“ وہ یکدم دریہ کے قریب ہوا تو اس کے منہ سے آنے والے بدبو کے بھبھکے نے دریہ کو احساس دلایا کہ وہ نشے میں ہے۔

”تم بھی ڈریس چینج کرکے باہر آجاتیں ہال میں۔ آکر دیکھتیں تارا بائی کو کیا زبردست ناچتی ہے اس کا رقص مانو مردہ جسم میں جان ڈال دیتا ہے قیامت ہے قیامت۔“

وہ آنکھیں بند کرکے تصور ہی تصور میں تارا بائی کے لچکیلے بدل کا تصور کرتا ہوا بولا۔

”لیکن پھر بھی تمہارے والی بات نہیں ہے تم تو جب میدان میں آﺅ گی نا میری جان تو یقین کرنا تمہارے سامنے تو کوئی بھی نہ ٹک سکے گا بلیومی۔“

وہ اچانک ہی دریہ کا دوپٹہ کھینچ کر بولا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر خود سے قریب کر لیا اور دریہ جو اس کی کچھ دیر قبل کی گئی گفتگو سے خاصی بدمزا ہوئی تھی ایک دم ہی اس کی قربت کے احساس سے دہک اٹھی، اسے اپنے دل کی دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔

”تم بہت خوبصورت ہو میری جان، بہت خوبصورت بالکل کسی گڑیا کی مانند باربی ڈول۔“ وہ دریہ کوکندھوں سے تھام کر بولا۔

”لیکن جانتی ہو گڑیا صرف اس وقت تک اچھی لگتی ہے جب تک شوکیس میں سجی ہو اگر اسے باہر نکال کر کھیل لیا جائے تو وہ جلد ہی میلی ہو جاتی ہے اور میلی گڑیا جلد ہی کوڑے دان کا حصہ بن جاتی ہے اور پھر اس کی جگہ کوئی اور خوبصورت اور نئی گڑیا لے لیتی ہے لیکن میں اتنا کم ظرف نہیں ہوں جو تم سے کھیل کر تمہیں کوڑے دان میں پھینک دں….“ پھر وہ رک کر تھوڑا سا مسکرایا۔

”یاد رکھنا تم ہمیشہ ایک قیمتی اور خوبصورت تمغہ کی مانند میری الماری میں ہی سجی رہو گی۔“ وہ دریہ کے بالکل قریب ہو کر بولا لیکن دریہ تو اس وقت ہوش میں ہی نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بھی نظر انداز کر چکی تھی اس کا سپر سٹار بننے کا خواب کہیں دور رہ گیا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی کہ اچانک ہی دانش کے ہاتھوں کی حرکت تھم گئی اور وہ بالکل ساکت سے ہو گئے۔ صرف اس کی سانسوں کی آواز تھی جو دریہ کے کانوں میں سنائی دے رہی تھی اس نے کسی انہونی کے احساس کے تحت یکدم آنکھیں کھول کر دیکھا دانش سو چکا تھا اس کے بازو پر اپنا سردھرے بے خبر اور بدمست دریہ کو ایسا لگا جیسے وہ تپتے صحرا میں ننگے پاﺅں کھڑی ہے اس کے اندر آگ کے جلتے بھانبھڑ تھے جن پر پانی ڈالنے والا بھی کوئی نہ تھا وہ یکدم ہی بے بسی کے احساس تلے دب کر رونے لگی۔

QQQQ

صبح تقریباً دس بجے اس کے گھر سے ناشتہ آگیا شہ پارا، سمرن اس کی خالہ زاد نورین خلاف توقع شاہ ویز کے ساتھ ناشتہ لے کر آئیں تو سہگل ابھی سو ہی رہا تھا جبکہ دریہ کو ایک ماہر بیوٹیشن تیار کر چکی تھی اس کا گھر اور ٹھاٹ باٹ دیکھ کر اس کی کزن نورین خاصی حیران ہوئی جبکہ سمرن اور شاہ ویز بالکل ہی خاموش تھے دانش کی غیر موجودگی کا عذر پیش کرتے ہوئے دریہ نے چپکے سے شہ پارا کو بتایا کہ وہ صبح ہی سوئے ہیں شہ پارا اس کی وضاحت کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر خوش ہو گئی دریہ نے سب کو اپنی گاڑی دکھائی جو اسے منہ دکھائی میں ملی تھی اور شاہ ویز کی خاموشی محسوس کرکے دل ہی دل میں خوب اترائی۔

”ہونہہ دیکھا کیسا جلا میرے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر۔“

وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ لوگوں کے بارے میں غلط اور جلدی اندازے لگانے والی اور جانتی تھی کہ ہمیشہ شاہ ویزکے سلسلے میں لگایا جانے والا اس کا اندازہ غلط ہوتا ہے لیکن پھر بھی باز نہ آئی تھی

QQQQ

رات شہر کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اس کا ولیمہ تھا اور دریہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی دانش کی ہدایت کے مطابق بے حد ڈیپ گلے کی سلیولیس میرون کلر کی میکسی پہننا پڑی جس پر اونچا کرکے بنایا گیا ہیر اسٹائل اس پر خوب کھل رہا تھا اور کانوں میں پہنی ہوئی ڈائمنڈ جیولری اپنی عجیب ہی بہار دکھا رہی تھی جب ماہر حسن نے تیار کرکے اسے آئینہ کے سامنے کھڑا کیا تو اپنا روپ دیکھ کر وہ خود بھی مبہوت سی ہو گئی ایسے میں اپنے لباس کی عریانی کا احساس اس کی پیشانی کو عراق آلود کر گیا اسے رہ رہ کر خیال آرہا تھا کہ اس کے گھر والے کیا سوچیں گے لیکن جب دانش کی ہمراہی میں اس نے بنکویٹ ہال میں قدم رکھا تو خود پر پڑنے والی ستائشی نظروں اور تعریفی جملوں نے ایک دم ہی اس کے احساس عریانی کو زائل کر دیا ہر طرف سے اس کے کانوں میں پڑنے والے جملوں نے اسے احساس دلایا کہ شاید وہ کوئی اپسرا ہے جو آسمان سے اتری ہو پارو تو اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی، تائی سادیہ کے گھر سے صرف فاریہ بھابی اور بھائی ہی آئے تھے۔ فاریہ بھابی اور سمرن نے اسے دیکھتے ہی بے اختیار شرم سے اپنی نظریں جھکا لیں ارم بے تاثر چہرہ لئے بیٹھی شکر ادا کرتی رہیں کہ شاہ ویز اور شہباز نہیں آئے جبکہ پھوپھو اور ان کی فیملی کا کوئی بھی فرد شادی میں شریک نہ ہوا تھا ایسے میں سرفراز صاحب نہایت ہی شرمندہ دکھائی دیئے انہیں شدت سے یہ احساس ہوا کہ بے راہ روی اور بے حیائی کا جو پودا وہ شہ پارا کی شکل میں لائے تھے اس نے دریہ نامی بیل کو اپنے گرد لپیٹ کر خوراک ضرور فراہم کی تاکہ وہ زندہ رہ سکے لیکن اس بیل کا اپنا وجود بالکل ختم کر دیا جبکہ دریہ کسی بھی احساس سے عاری دانش کی سنگت اور ہمراہی میں خود کو آسمانوں پر اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔

تقریب میں بے حیائی، رقص و سرور اور ام الخبائث کا دور اپنے عروج پر تھا یہ ماحول سرفراز صاحب اور ان کی فیملی کے باقی لوگوں کےلئے تقریباً ناقابل برداشت تھا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ لوگ بغیر کھانا کھائے تایا جی کی طبیعت کی خرابی کا عذر پیش کرکے جا چکے تھے لیکن دریہ کو کسی کی بھی کوئی پروا نہ تھی وہ تو دانش کی بہکی بہکی نظریں محسوس کرکے اسی احساس سے سرشار تھی کہ یقینا آج دانش سہگل اس کے قدموں میں ہو گا اور اسے تسخیر کر لے گا لیکن رات کے بڑھتے سایوں نے اس کی اس غلط فہمی کو جلد ہی دور کر دیا ہوٹل سے واپس آتے ہی دانش اپنے بار روم میں چلا گیا تھا جو کہ اس نے اپنے گھر کی بیسمنٹ میں بنایا ہوا تھا۔

”پلیز ابھی ڈریس چینج نہ کرنا۔“ وہ دریہ کے ہاتھ تھام کر حسن کے حضور درخواست پیش کرتا ہوا بولا۔

”میں ابھی آتا ہوں۔“ دریہ آنے والے خوش کن لمحات کے تصور میں گھر کے اس کا انتظار کرنے لگی اس کا انتظار ابھی طویل نہ ہوا تھا کہ اچانک ہی کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھول کر کوئی اندر داخل ہوا وہ اس کی میڈ میری تھی۔

”میم آپ کو صاحب نیچے بلا رہے ہیں اپنے بار روم میں۔“ اطلاع دے کر وہ جواب کے انتظار میں مودب کھڑی تھی۔

”کیوں؟“ وہ حیرت زدہ تھی۔

”پتا نہیں میم آپ آئیں میں آپ کو وہاں تک چھوڑ دوں۔“ وہ خاموشی سے اٹھ کر میری کے پیچھے سیڑھیاں اتر کر نیچے آگئی بیسمنٹ کا شیشے کا دروازہ میری نے کھولا تو وہ خاموشی سے اندر داخل ہو گئی میری دروازہ بند کرکے واپس جا چکی تھی بیسمنٹ میں بکھری ہوئی رنگین روشنی میں اس نے دیکھا کہ سارے ہال میں صرف قالین ہی بچھا ہے جبکہ دیوار کے ساتھ کچھ گاﺅ تکیے رکھے ہوئے ہیں ایک دیوار کے ساتھ چند کرسیاں بھی دھری تھیں جو فی الوقت ساری ہی خالی تھیں اے سی کی خنکی محسوس کرتے ہی اسے اپنی کم لباس کا احساس ہوا قیمتی ایئر فریشنر کی خوشبو بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی وہ خاموشی سے آگے بڑھی دیوار گیر الماریوں میں مہنگے برانڈڈ مشروبات رکھے تھے۔

”آجاﺅ یہیں آجاﺅ میرے پاس۔“ دانش سامنے ہی گاﺅ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھا ”ام الخبائث“ پی رہا تھا نہایت ہی نفیس اور بلوریں گلاس اس کے پاس دھرے تھے وہ خاموشی سے اس کے قریب آکر بیٹھ گئی۔

”پیوگی….“ اس نے خالی جام اٹھاتے ہوئے دریافت کیا۔

”پلیز دانش میں نہیں پیتی۔“ وہ یکدم گھبرا گئی اس کی گھبراہٹ دیکھ کر دانش بہت محظوظ ہوا اور دھیرے سے ہنسا۔

”کوئی بات نہیں خود یہ پینے لگو گی ہمارے ساتھ رہو گی تو ضرور پیوگی جانتی ہو میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا تھا۔“ اس نے آہستہ سے اپنی گردن نفی میں ہلا دی۔

”آج میں نے تارا بائی کو منع کر دیا کیونکہ آج میں تمہارا رقص دیکھنا چاہتا ہوں صرف تمہارا میری جان۔“

”یا خدا یہ کیسی فرمائش تھی جو اس کا شوہر شادی کی دوسری رات اس سے کر رہا تھا بغیر یہ جانے کہ اس کے جذبات کیا ہیں اس کے دہکتے اور کنوارے جذبوں کی اسے کوئی پروا نہ تھی وہ صرف اپنے نفس کا بندہ تھا اپنی خواہشات کا غلام…. اور تم؟“ کوئی اس کے اندر دھیرے سے ہنسا۔

”تم کون ہو؟ تم نفس کی غلام نہیں ہو؟ ناچنا گانا تو خود تمہارا بھی شوق رہا پھر اب کیا ہوا جو تمہارے شوہر نے تم سے فرمائش کر دی غیروں کے سامنے بھی تو ناچنا ہی ہے نا۔“ اس کا ضمیر دل کھول کر ہنس رہا تھا اس کا مذاق اڑا رہا تھا وہ ایک دم گھبرا اٹھی۔

”اب انتظار نہ کرواﺅ۔ تم نہیں جانتیں جب شراب کا نشہ مجھ پر چڑھتا ہے تو رقص اس کو دو چند کر دیتا ہے اسی لئے آج کی میری اس محفل کو صرف تم سجاﺅ گی صرف تم۔“ اب کوئی چارا نہ تھا وہ خاموشی سے کھڑی ہو گئی دانش سی ڈی پلیئر پر گانا لگا کر تکیے کے سہارے لیٹ گیا اور اس ساری رات ناچ ناچ کر دریہ کا انگ انگ ٹوٹ گیا تھکن سے اس کا جسم چور ہو گیا لیکن جانے دانش کا شوق کیسا تھا جب تک صبح پانچ بجے تک وہ نہ سویا اس نے دریہ کے پیروں کو تھمنے نہ دیا اور آج پہلی بار اسے پتا چلا اپنے شوق سے کوئی کام کرنا اور کسی جبر کے تحت وہ ہی کام کرنا دونوں کس قدر مختلف امر ہیں لیکن بہرحال یہ ایک ایسا راستہ تھا جس کا انتخاب اس نے خود کیا تھا بنا کسی نتیجہ کی پرواہ کئے اور ظاہر ہے اب اس راستے پر اسے آگے تک کا سفر اکیلے ہی طے کرنا تھا بنا کسی سہارے کے بغیر تھکے….

QQQQ

”تم ایک گھنٹے تک تیار ہو کر میرے آفس آجانا تمہارا پاسپورٹ بنوانا ہے اور ہاں اپنے تمام ضروری پیپرز بھی ساتھ لے آنا۔“

دانش نے تیار ہو کر خود پر پرفیوم کا اسپرے کیا اور پھر ایک اچٹتی سی نظر خاموش بیٹھی دریہ پر ڈالی اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی ٹائی کی ناٹ درست کرنے لگا۔

”ٹھیک ہے۔“ وہ اپنے بال درست کرتی بستر سے اتر آئی اور خاموشی سے باتھ روم کی جانب بڑھ گئی بنا کوئی سوال و جواب کئے۔ ایک پل کےلئے تو دانش بھی حیران ہوا اور پلٹ کر دریہ پر ایک نظر ڈالی لیکن اسے اپنی جانب متوجہ نہ پاکر پھر سے اپنی تیاری میں مشغول ہو گیا اور پھر اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر دریاب کا پاسپورٹ بن کر آگیا۔

”اپنی پیکنگ کر لو ہم کل شام کی فلائٹ سے ملائیشیا جا رہے ہیں۔“

دانش نے رات اس کا پاسپورٹ چیک کرکے اپنے کاغذات میں رکھتے ہوئے اسے اطلاع دی اور وہ جو بڑی بے دلی سے گلاس پر گلاس چڑھاتے دانش کو تک رہی تھی اس اطلاع پر حیران رہ گئی جو یقینا اس کیلئے غیر متوقع تھی۔

”اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو؟ دراصل میں ملائیشیا میں کپڑے کی مارکیٹ چیک کرنا چاہتا ہوں عام خیال ہے کہ وہاں پڑوسی ملک کے ڈریسز خاصے مقبول ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہاں اپنے کچھ نئے ڈریسز متعارف کرواﺅں بس اسی لئے ایک ہفتے کا وزٹ ہے سوچا تمہیں بھی لے چلوں اسی بہانے ہمارا ہنی مون بھی ہو جائے گا۔“

دریاب تو ملائیشیا جانے کا سن کر ہی اس قدر خوش ہو گئی تھی کہ اسے مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہی نہ رہی تھی اس کا دل چاہا فوراً گھر پر فون کرکے شہ پارا کو اطلاع دے تاکہ سارے گھر میں خبر نشر ہو جائے کہ دریاب سہگل ملائیشیا جا رہی ہے وہ اونچائی جس کے خواب بچپن سے وہ دیکھتی آئی تھی اس کی پہلی سیڑھی پر اس نے قدم رکھ دیا تھا اور اب جلد ہی اس کے خواب کی تعبیر اسے ملنے والی تھی دولت کے بعد، شہرت اور پہچان بھی جلد ہی اس کا مقدر بننے والی تھی اسے یقین تھا جلد ہی شوبز کی دنیا کا وہ ایک چمکتا دمکتا ستارہ بننے والی تھی جس کے آٹو گراف کےلئے لوگ اس کے پیچھے بے قرار پھریں گے اس کے سکول اور کالج کی فرینڈز اسے دیکھ کر حسرت سے کہا کریں گی۔

”کاش ہم نے دریاب سے ایک آٹو گراف لے لیا ہوتا اے کاش۔“

یہ خیال آتے ہی اسے خود ہی ہنسی آگئی یقینا یہ ہی تو وہ خواب تھا جس کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے اس نے دانش سہگل کا انتخاب کیا تھا وہ جانتی تھی کہ اس جیسی معمولی سا بیک گراﺅنڈ رکھنے والی لڑکی کو یہ مقام صرف اور صرف دانش کی جان پہچان سے ہی حاصل ہو سکتا ہے دانش کے سنگ ہی وہ بلندی کا یہ سفر بہ خوبی طے کر سکتی تھی ورنہ اپنے گھر کے دقیانوسی ماحول میں تو سوائے شادی اور بچوں کے اس کیلئے تیسری چیز کی کوئی گنجائش نہ تھی۔

QQQQ

وہ فیض محمد سے ملنے آرٹ اکیڈمی آیا تھا لیکن فیض محمد کو اپنے کمرے میں موجود نہ پاکر اسے ڈھونڈتا ہوا اوپر ہال میں آگیا جہاں غالباً کوئی رقص کا پروگرام تھا جس کی اطلاع اسے فیض محمد پہلے ہی دے چکا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مہر علی اچھے رقص کا شیدائی تھا۔ ایک وڈیرا ہونے کے باوجود مہر علی آرٹسٹک ذہن رکھنے والا بندہ تھا خوبصورت، کلاسیکل رقص اس کی کمزوری تھے حالانکہ جس فیلڈ سے اس کا تعلق تھا وہاں تو اتنی نازک مزاجی کا کوئی عمل دخل ہی نہ تھا لیکن مہر علی کو اپنے پیشہ سے زیادہ آرٹ سے دلچسپی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ آرٹ سے منسلک لوگوں سے اس کی ہمیشہ اچھی دوستی رہی اسی بنا پر فیض محمد اس کے بہترین دوستوں میں شمار ہوتا تھا ابھی بھی جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوا اس کی نگاہیں ہال کے ملگجے اندھیرے سے گزر کر فوراً سامنے اسٹیج پر مرکوز ہو گئیں۔ جہاں سفید فراک اور چوڑی دار پاجامہ میں ملبوس ”اپسرا“ کو محو رقص دیکھ کر اس کی نظریں ساکت ہو گئیں اور آج اس کی سمجھ میں آیا کہ اس کی چال اس قدر دلکش کیوں تھی؟ یقینا وہ ایک فنکارہ تھی اور پھر اس کا ہر اٹھتا قدم مہر علی کو اپنے دل پر پڑتا محسوس ہوا، جانے کب پروگرام ختم ہوا اس لڑکی کو غالباً پہلا انعام بھی دیا گیا لیکن مہر علی کو کچھ پتا نہ چلا جب ہوش آیا تو ہال تقریباً خالی ہو چکا تھا اور وہ اسی اپسرا کے خیال کو دل میں بسائے خاموشی سے فیض محمد کے ہمراہ ہال سے باہر آگیا۔

QQQQ

جیسے ہی اس نے کے ایل ایئر پورٹ پر قدم رکھا اس کی گردن فخر و غرور سے تن گئی کون کہہ سکتا تھا کہ دریاب گل جس نے کبھی اسلام آباد بھی اپنی زندگی میں نہ دیکھا ہو آج ایک شان سے کوالالمپور ایئر پورٹ پر کھڑی ہو گی جہاں باہر نکلتے ہی باوردی ڈرائیور اور شہر کے بہترین فائیو سٹار ہوٹل کا ایک بہترین سویٹ اس کا منتظر ہو گا کہ کاش شاہ ویز دیکھ سکتا میں کس قدر شان سے یہاں کھڑی ہوں شاہ ویز جسے مجھ جیسی لڑکیاں ناپسند تھیں اونہہ….“ نخوت سے سوچتے ہوئے اس نے اپنی گردن کو جھٹکا دیا اور فخر و غرور کے احساس میں گھری ہوٹل کی جانب رواں ہو گئی اور بھرپور ایک ہفتہ اس نے ملائیشیا کا چپا چپا گھوما اور خوب شاپنگ کی دانش تو سارا دن اپنے کام میں مصروف رہتا جبکہ دریاب کو اس نے گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت فراہم کر رکھی تھی جس کا دریہ نے خوب فائدہ اٹھایا۔

وہ کے ایل سی سی گئی تو وہاں کی خوبصورتی نے اسے اپنے سحر میں جکڑ لیا آئی لینڈ اس کے خوابوں کا جزیرہ جہاں آکر وہ کئی پل مبہوت رہی او رپھر لنکاوی جسے دیکھتے ہی اسے احساس ہوا کہ واقعی دنیا حسن و خوبصورتی سے بھری ہوئی ہے یہ سات دن کس طرح گزرے اسے احساس ہی نہ ہوا اور جس دن وہ واپس آئی اس کے قدم ہی زمین پر نہ تھے اس کا دل چاہا آج ہی گھر جائے اور سب کو اپنی تصاویر دکھائے تاکہ گھر کا ہر فرد اس کی قسمت پر رشک کرے وہ یقینا ان لوگوں میں سے تھی جن میں خود نمائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اور جو دوسروں سے تعریف و توصیف سمیٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں ان ہی سوچوں میں گھری وہ اپنے بیڈ روم تک آگئی دانش فریش ہوتے ہی بیسمنٹ میں چلا گیا تھا جہاں اس کا بار روم تھا جبکہ اس کے ساتھ صغرا اسی کے روم میں آگئی تھی۔

وہ فریش ہو کر ڈھیلا سا گاون پہن کر باہر آئی تو صغرا کو اپنا منتظر پایا وہ جانتی تھی کہ صغرا کیوں بیٹھی ہے؟ اس کے بستر پر بیٹھتے ہی صغرا نے اس کے پاﺅں اپنی گود میں رکھ لئے اور نہایت ہی پیار سے اس کے نرم و نازک پاﺅں کا مساج شروع کر دیا اسے ایک عجیب سی راحت ملنے لگی اس سے قبل کہ وہ سو جاتی مس میری اس کیلئے تازہ اورنج جوس لے آئی جو اسے بے حد پسند تھا اس نے بڑی نزاکت سے جوس کا گلاس تھاما اور اپنے لبوں سے لگا لیا گھونٹ گھونٹ جوس اس کے حلق کو تر کرنے لگا اس تمام عرصہ میں میری نہایت مو ¿دب سی اس کے پاس کھڑی رہی جوس ختم کرکے اس نے خالی گلاس میری کے ہاتھ میں موجود کرسٹل کی نازک سی ٹرے میں دھر دیا اور خود ٹشو سے اپنا منہ صاف کیا صغرا اب اس کے کندھے دبا رہی تھی جبکہ میری ابھی بھی اپنی جگہ پر کھڑی تھی یقینا کوئی خاص بات تھی جو وہ اس سے کرنا چاہتی تھی۔

”کوئی کام ہے تمہیں مجھ سے۔“

”جی میم دراصل آپ کے کزن آئے تھے آپ سے ملنے کیلئے، شاہ ویز آئی تھنک یہ ہی نام انہوں نے بتایا تھا۔“

”کتنا جلا ہو گا جب اسے پتا چلا ہو گا میں ملائیشیا گئی ہوں اپنے ہنی مون ٹرپ کےلئے۔“ اپنے ایک وزٹ کو ہنی مون ٹرپ کا نام دے کر اس نے خود ہی لطف لیا اور اب اپنی عادت کے مطابق شاہ ویز کے سلسلے میں غلط اندازے لگا کر خود ہی خوش ہو رہی تھی۔

”میم وہ آپ کیلئے مٹھائی دے کر گئے ہیں۔“

میری نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکلا اور خوب پیٹ بھرا ہونے کے باوجود مٹھائی کا سن کر اس کا دل للچا گیا کیونکہ وہ بچپن سے ہی مٹھائی بہت شوق سے کھاتی تھی جبکہ شادی کے تقریباً ایک ماہ بعد سب کچھ میسر ہونے کے باوجود اس نے مٹھائی نہ چکھی تھی کیونکہ دانش کا خیال تھا کہ مٹھائی اور سوفٹ ڈرنک عورت کے فیگر کو خراب کر دیتے ہیں اور یہ ہی سوچ کر اس نے بھی دل پر جبر کر لیا کہ اپنا حسن اور جسمانی خوبصورتی اس کا بھی جنون تھا۔

”بتایا نہیں مٹھائی کس خوشی میں لایا تھا۔“

وہ تکیے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند چکی تھی۔

”جی میم غالباً ان کی انگیجمنٹ ہوئی ہے آپ کی کزن سمرن کے ساتھ۔“میری نے سب کے نام اچھی طرح رٹ رکھے تھے۔

بظاہر یہ کوئی بات نہ تھی پھر بھی جانے کیوں دریاب کا حلق اندر تک کڑوا ہو گیا اور اس کے دل میں اک پھانس سی چبھ گئی۔

”اونہہ بڑا آیا نیک پاکباز، نیک پروین سے شادی کرنے کا خواہشمند کنویں کا مینڈک۔“

”بس صغرا اب مجھے سونا ہے تم جاﺅ اور ہاں جاتے ہوئے کچن سے مٹھائی لے جانا تمہارے بچے کھا لیں گے میں اور تمہارے صاحب مٹھائی بالکل پسند نہیں کرتے اور میری اب تم بھی جا سکتی ہو جاتے ہوئے لائٹ آف کر دینا۔“

صغرا سے بات ختم کرکے اس نے میری کو ہدایت دی اور تکیے سے ٹیک لگا کر خاموشی سے آنکھیں موند لیں۔

QQQQ

وہ چاہتی تھی کہ ملائیشیا سے لائے گفٹ گھر جا کر خود دے آئے ویسے بھی شہ پارا کے دو تین فون آچکے تھے وہ دریہ سے ملنے کیلئے بے قرار تھی وہ گھر جانے کےلئے خوب نک سک سے تیار ہو کر لاﺅنج میں داخل ہوئی تو سامنے بیٹھے دانش پر نظر پڑ گئی جو نہایت اطمینان سے صوفے پر نیم دراز سگریٹ پی رہا تھا۔

”کہاں جا رہی ہو؟“ دانش نے اس کے دلکش سراپے پر ایک نظر ڈالی اور بلیک اور وائٹ سوٹ میں اس کے کھلتے ہوئے حسن کو دل ہی دل میں سراہا۔

”گھر۔“ مختصر سا جواب دے کر اس نے ڈرائیور کو فون کرکے گاڑی نکالنے کا حکم دیا اس…. دوران دانش بڑی خاموشی سے اس کا جائزہ لیتا ہو۔

”میرا خیال ہے تم یہ تمام تحائف نور محمد کو دے دو وہ تمہارے گھر پہنچا دے گا۔“ دریہ کے موبائل آف کرتے ہی دانش نے سامنے ٹیبل پر رکھے ہوئے تحائف پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر حکم نامہ جاری کیا۔

”کیوں….؟“ اس نے ابرو اچکاتے ہوئے دانش کی طرف دیکھا۔

”مجھے صرف تحائف ہی نہیں دینے بلکہ اپنے گھر والوں سے ملنا بھی ہے مما کئی بار فون کر چکی ہیں۔“

”مل لینا میری جان گھر والوں سے بھی مل لینا ایسی بھی کیا جلدی ہے مگر آج نہیں آج میں نے تمہاری بیوٹیشن کو ٹائم دے رکھا ہے وہ بس آنے ہی والی ہو گی۔ دیکھو تمہاری اسکن کتنی رف ہو رہی ہے۔“

دانش اسے رام کرنے کے تمام گر جان چکا تھا۔

”آج کا پورا دن تمہارا ہے اسے خوب ریلیکس ہو کر گزارو آرام کرو کیونکہ کل میں نے فارم ہاﺅس پر چودھری عبدالباری کے اعزاز میں ایک شاندار فنکشن ارینج کر رکھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس فنکشن میں تم سب سے نمایاں نظر آﺅ کیونکہ چودھری صاحب کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں اور پھر وہ ایک فلم بھی پروڈیوس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کو خوش کرکے نہ صرف مجھے انگلینڈ میں ملبوسات کا ایک بڑا آرڈر مل سکتا ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں اپنی نئی فلم میں بطور ہیروئن بھی سائن کر لیں، ویسے تو خیر ہمارے ملک میں فلم کا کوئی اچھا مستقبل نہیں ہے لیکن پھر بھی آگے جانے کی ابتداءتو یہیں سے ہی کرنا ہو گی۔“

دانش نے دریہ کی کمر کے گرد بازو حمائل کرکے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے بڑی خوبصورتی سے قائل کرنے کی کوشش کی اور اس طرح دانش سہگل نے خوبصورت الفاظ میں لپیٹ کر کونین کی کڑوی گولی کو بھی میٹھا بنا دیا جو با آسانی دریاب کے حلق سے اتر گئی اور نہ صرف دریاب نے اسے نگلا بلکہ اس نے دریاب کے جسم میں کیف و سرور سا بھر دیا اس نے تمام سامان ڈرائیور نور محمد کے ہاتھ گھر بھیج دیا اور پھر اس کا سارا دن بے حد مصروف گزرا کیونکہ آنے والا کل اس کیلئے بہت اہمیت کا حامل تھا اسے خراج وصول کرنا تھا اپنے حسن و خوبصورتی کا۔

QQQQ

یقینا آج وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی بہت مختصر سا نیٹ کاریڈ ٹاپ جس کا قدرے ڈیپ گلا ایک لمحے کیلئے اسے بھی شرمسار کر گیا تھا لیکن جلد ہی وہ اپنی شرمساری کے حصار سے نکل کر پراعتماد ہو گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس فنکشن میں اس سے بھی زیادہ مختصر لباس دکھائی دیں گے ٹاپ کے نیچے نہایت مختصر سا بلیک اسکرٹ اس کی ٹانگوں کے حسن کو مزید نمایاں کر رہا تھا اور وہ جانتی تھی کہ آج کی رات صرف اس کی ہے اور وہ سب کچھ جو وہ اور دانش سہگل حاصل کرنا چاہتے تھے با آسانی حاصل کر لیں گے اور ایسا ہی ہوا چودھری عبدالباری اسے دیکھتے ہی پاگل سا ہو گیا جس کا اندازہ اسے فارم ہاﺅس میں داخل ہوتے ہی ہو گیا تھا دانش اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتا ہوا اسے چودھری صاحب کے قریب لے گیا جو اپنے قریب کھڑے کسی شخص سے باتیں کرنا بھول کر یک ٹک دریہ کی جانب تک رہا تھا۔

”چودھری صاحب ان سے ملیں یہ دریاب سہگل ہیں مائی وائف۔“ چودھری کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی اس نے ستائشی انداز میں اپنی باچھوں کو مزید پھیلا لیا اور دریہ کو اس کے منہ سے باقاعدہ طور پر رال ٹپکتی محسوس ہوئی۔

”بے شرم پچاس سال کی عمر میں بھی یہ حال ہے۔“

دریہ نے سوچا ضرور مگر کہا نہیں۔

”آیئے۔ آیئے دریاب میرے پاس بیٹھیں۔“ وہ دریاب کو بازو سے تھام کر قدرے اندھیرے سے گوشے میں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گیا اور دریہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی صرف اپنے مفاد کے پیش نظر کوئی مزاحمت نہ کر سکی اور نہایت خاموشی سے صوفے پر اس کے پہلو سے لگ کر بیٹھ گئی اور پھر ایک پچاس سالہ شخص کو بیس سالہ عاشق کا رول پلے کرتے دیکھ کر دریہ کی گردن فخر و غرور سے اکڑ گئی اور آج پہلی بار اس نے دانش کے کہنے پر سب کے سامنے ایک مختصر سا رقص بھی پیش کیا جو صرف اس کے فن کے اظہار کے طور پر تھا اور اس مختصر رقص کے دوران اس نے نہ صرف چودھری عبدالباری بلکہ آس پاس موجود تمام افراد کو حیرت سے گنگ کھڑے دیکھا اور لوگوں کے چہرے پر نظر آنے والی ستائش نے اس کے اندر بجلی سی بھر دی اور پھر رقص کے اختتام پر اسے اتنی داد و تحسین ملی کہ پل بھر کو وہ آسمان کی بلندیوں پر پہنچ گئی اور محفل میں جو رنگ دریہ کے رقص نے بھرا پھر وہ بعد میں آنے والی کمرشل رقصائیں بھی نہ بھر سکیں۔

چودھری نے اس رات دریہ کے حصول کی بہت کوشش کی لیکن دانش سہگل نے اس کی اس کوشش کو کسی طور بھی بار آور ثابت نہ ہونے دیا دانش جیسا گھاگ شخص دریہ کی قیمت بڑھانا جانتا تھااور ویسے بھی وہ اس کے نزدیک ایک نرم و نازک گڑیا کی حیثیت رکھتی تھی جو زیادہ ہاتھوں میں جا کر مسلی جا سکتی تھی اس کی اپنی ذاتی رائے تھی کہ ایسی قیمتی اور نایاب چیزوں کو بہت سوچ سمجھ کر استعمال کیا جانا چاہئے اور وہ بھی اس وقت جب آنے والے وقتوں میں اس سے دگنا منافع حاصل کیا جا سکے اسی خیال کے پیش نظر بالکل مدہوش چودھری کو اپنی بلائی ہوئی ایک رقاصہ کے حوالے کرکے وہ نہایت خاموشی سے دریہ کو وہاں سے نکال لایا اس کے اس عمل نے دریہ کو اندر تک مطمئن کر دیا اور اس غلط فہمی کا شکار ہو گئی کہ شاید دانش سہگل نے یہ قدم دریہ کو اپنی عزت سمجھ کر اٹھایا ہے آخر تھی تو مڈل کلاس کی پست ذہن عورت، جو یہ سمجھتی تھی کہ مرد اپنی عورت کا محافظ و نگران ہوتا ہے اسے کیا پتا تھا ایسے مرد تو صرف اس معاشرے میں پائے جاتے ہیں جسے وہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی اب تو جس معاشرے کو وہ اپنا چکی تھی یہاں تو عورت صرف ایک کھلونا تھی ایک قیمتی اور نایاب کھلونا جسے صرف اپنے مفاد اور ضرورت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اس سے زیادہ اس سوسائٹی میں عورت کی کوئی عزت نہ تھی۔

QQQQ

”میڈم چودھری صاحب کا فون ہے۔“ وہ جانے کب تک بے خبری سے سوئی رہتی اگر چودھری کی مسلسل آنے والے کال کی بنا پر میری کو اسے بے دار نہ کرنا پڑتا۔

”کیا ٹائم ہوا ہے۔“ کارڈ لیس میری کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے دریافت کیا۔

”میم سکس او کلاک۔“

”اومائی گاڈ مجھے تو دانش کے ساتھ فنکشن میں جانا تھا۔“ یہ خیال دماغ میں آتے ہی وہ بجلی کی سی پھرتی سے اٹھی اور فون کو کان سے لگا لیا۔

”جی چودھری صاحب کیسے یاد کر لیا۔“ اپنے لہجے میں حتیٰ الامکان شیرینی گھولتے ہوئے اس نے دریافت کیا۔

”وہ جی آپ آج رات میرے ساتھ ڈنر کر رہی ہیں نا۔“

چودھری کا خوشامد بھرا لہجہ اس کے کان سے ٹکرایا۔

”ڈنر…. لیکن مجھے تو آج دانش کے ساتھ….“

”گولی مارو دانش کے ساتھ کو آپ نے میرے ساتھ جانا ہے میں ابھی دانش کو فون کرکے بات کر لیتا ہوں۔“

چودھری نے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے بڑی بے قراری سے کہا اور پھر چودھری کے فون رکھنے کے صرف چند سیکنڈزبعد ہی دانش کا فون آگیا جس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے دریہ نے خود کو ڈنر کیلئے اچھی طرح تیار کیا تقریباً نو بجے چودھری صاحب کا ڈرائیور اسے لینے آگیا اور پھر باوردی ڈرائیور کی ہمراہی میں وہ شہر کے مشہور فائیو سٹار ہوٹل پہنچی جہاں اس کا استقبال باری نے بڑی بے صبری اور بے قراری سے کیا۔

”اتنی دیر، ہم تو آپ کے انتظار میں جان سے ہی گزر گئے تھے۔“

باری نے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا۔

”بس باری صاحب میری طبیعت ٹھیک نہ تھی آپ نے بلایا تو انکار نہ کر سکی۔“ دریہ نے کرسی سنبھالتے ہوئے نزاکت سے کہا۔

”چلیں پھر پہلے آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلیں۔“

”نہیں نہیں پلیز آپ بیٹھیں میں میڈیسن لے کر آئی ہوں۔“

دریہ نے جلدی سے گھبراتے ہوئے کہا اور پھر اس ڈنر کے بعد دریہ نے بمشکل باری سے اپنی جان چھڑوائی اور تقریباً ایک بجے کے قریب گھر واپس آئی۔

QQQQ

”جانتی ہو عبدالباری نے میرے ساتھ مل کر انگلینڈ میں ملبوسات کی نمائش پر سرمایہ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔“

دانش غالباً اس کے انتظار میں ہی بیڈ روم میں موجود تھا یہ خبر دریہ کو سناتے ہوئے خوشی اس کے لہجے سے چھلک رہی تھی دریہ نے ایک نظر اس کے خوشی سے بھرپور چہرے پر ڈالی اور اپنا پرس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہیں صوفے پر نیم دراز ہو گئی صغرا نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے پاﺅں کو جوتے کی قید سے آزاد کیا۔

”لیکن اس کی ایک شرط ہے۔“

دریاب نے آنکھیں کھول کر دانش کی جانب دیکھا جو بیڈ سے اٹھ کر اس کے قریب صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔

”وہ تمہیں بھی ساتھ لے کر جانا چاہتاہے اس کا خیال ہے کہ تمہیں بھی ان ملبوسات کی نمائش میں بطور ماڈل حصہ لینا چاہئے تاکہ تمہاری خود اعتمادی کو مزید جلا ملے۔“

”لیکن میں تو ماڈلنگ کر ہی نہیں سکتی یہ کیٹ واک میرے بس کا کام نہیں ہے۔“ دریہ نے قطعی انداز اختیار کیا۔

”پھر بھی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔“

دانش نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔

”اور دیکھو نا اس میں فائدہ بھی سراسر تمہارا ہی ہے اسی بہانے تم نہ صرف میڈیا بلکہ شوبز سے وابستہ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بھی بن جاﺅ گی کیونکہ اس فیشن شو میں تقریباً تمام ہی ممالک حصہ لے رہے ہیں اور ہو سکتا ہے اس طرح میڈیا میں کلک ہونے کے بعد تمہیں وہ پذیرائی حاصل ہو جس کا تم نے تصور بھی نہ کیا ہو۔“

دانش کے لب و لہجے میں ایسا ضرور کچھ ہوتا تھا جو دریہ کو پل بھر میں اپنی مرضی کے راستہ کی جانب گامزن کر لیتا تھا لہٰذا ابھی بھی ایسا ہی ہوا اور اس فیشن شو میں دریاب کے تین رقص شامل کر لئے گئے اس کے کلاسیکل رقص کیلئے سلوائے گئے مشرق و مغرب کے امتزاج کے ساتھ تیار کردہ بہترین ملبوسات کا شمار قیمتی برائیڈل ڈریسز میں ہوتا تھا اور پھر دریاب کے حسین جسم پر سج کر ان ملبوسات کی قیمت کئی سو گنا بڑھ گئی یہ ایک اہم شو تھا جس پر دانش سہگل اور چودھری عبدالباری نے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا اور اس پیسے کو سو فیصد منافع کے ساتھ واپس حاصل کرنے میں بھی وہ دونوں اتنے ہی پرامید تھے یہ ہی وجہ تھی کہ اس شو کی تیاری بڑے اہتمام سے کی جا رہی تھی دانش کا زیادہ تر وقت اپنے اسٹوڈیو میں گزرتا جہاں وہ مختلف ماڈلز کو اس شو کے متعلق بریفنگ دیتا ایسے میں دریاب بھی ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی ویسے تو اس نے باقاعدہ ڈانس اکیڈمی سے رقص سیکھا تھا لیکن پھر بھی یہاں ایک ڈانس ڈائریکٹر کا خاص طور پر اہتمام کیا گیا تھا جو ماڈلنگ کے لحاظ سے دریاب کو رقص کی پریکٹس کروا رہا تھا۔ دریہ کو ہر لباس کے حساب سے رقص کا اتار چڑھاﺅ سکھایا جا رہا تھا اس تمام عرصہ میں چودھری بھی ہمہ وقت وہیں پایا جاتا جہاں دریہ ہوتی اس اور اس کی پیاسی نگاہیں ہر دم دریہ کا طواف کرتی رہتیں۔ جس دن صبح چھ بجے کی اس کی لندن کی فلائٹ تھی اسی رات اس کے پاس شہ پارا کا فون آگیا۔

”کہاں غائب ہوتی ہو تم نہ کوئی اتا نہ پتا۔ تم یہ بھی جانتی ہو کہ تمہارے بغیر میں کتنی تنہا ہو چکی ہوں۔“ دریاب سے شکوہ کرتے ہوئے خود بہ خود اس کی آواز بھرا گئی۔

”جذباتی بلیک میلنگ۔“ اس نے نخوت سے سوچا

”کہیں نہیں ہوتی مما بس آج کل کچھ بزنس کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔“ اور بزنس کی مصروفیات کیا ہیں؟ یہ جاننے سے زیادہ شہ پارا کےلئے اس بات کی اہمیت تھی کہ دریہ، دانش سہگل کے ساتھ خوش ہے۔

”مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر گھر کا ایک چکر لگا لو کیونکہ نایاب کی طبیعت کافی خراب ہے دو دن ہسپتال میں ایڈ مٹ رہ کر کل ہی گھر آئی ہے“ نایاب بیمار تھی یہ کوئی ایسی خبر نہ تھی جو دریاب کے دل کے تاروں کو چھوتی کیونکہ اسے نایاب سے تو کیا اپنے گھر کے کسی بھی فرد سے کوئی جذباتی لگاﺅ نہ تھا اس نے تو آنکھیں کھولتے ہی اپنے پاس رشتہ کے نام پر صرف شہ پارا کو ہی دیکھا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ صرف شہ پارا ہی کیلئے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ رکھ سکتی تھی ورنہ تو باقی سب اس کیلئے ایک ہی جیسے لوگ تھے لیکن پھر بھی دنیا داری نبھانا بھی ایک فن ہے جسے وقت کے ساتھ ساتھ دریہ بھی سیکھ چکی تھی۔

”کیا ہوا نایاب کو۔“ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ شروع ہی دماغی عارضہ کا شکار ہے الفاظ خود بخود اس کے منہ سے پھسل گئے۔

”اسے پھر بہت زیادہ ٹمریچر ہے شاید دماغ پر بخار چڑھ گیا ہے اکثر ہی دورے پڑ رہے ہیں اب تو بیٹھے بیٹھے بے ہوش بھی ہو جاتی ہے۔“

”اگر مما مجھے نہ بتائیں تو شاید گھر کا کوئی دوسرا فرد مجھے کبھی بھی اطلاع دینا ضروری نہیں سمجھے ایک دم ہی یہ شکوہ اس کے دل میں ابھرا۔

جب میرے اپنے ماں باپ نے مجھے اطلاع دینا ضروری نہ سمجھا تو پھر میں وہاں کیوں جاﺅں۔“

اس کی انا نے نایاب کو دیکھنے کی خواہش کو پیدا ہونے سے قبل ہی ختم کر دیا۔

”وہ ایسا ہے مما کہ میں کل انگلینڈ جا رہی ہوں۔ انشاءاللہ دو ہفتے تک واپس آجاﺅں گی پھر گھر آﺅں گی اس سے قبل تو میرا آنا تقریباً ناممکن ہے اور ہاں اگر آپ کو کچھ چاہئے تو بتا دیں میں لیتی آﺅں گی۔“ اور محبت کے اس اظہار نے شہ پارا کا خون سیروں سیر بڑھا دیا وہ کھل اٹھی۔

”نہیں بیٹا مجھے کچھ نہیں چاہئے بس تم خیریت سے واپس آجاﺅ میرے لئے یہ ہی کافی ہے۔“

QQQQ

لاکھ کوششوں کے باوجود مہر علی کو آخری کیس بھگتاتے، دوپہر کے دو بج ہی گئے اس نے اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور کورٹ سے نکل کر تیزی سے اپنے چیمبر کی جانب بڑھ گیا جہاں اس کی سیکریٹری مس نین تارا غالباً اسی کی منظر تھی۔

”ایکسیکوزمی سر آپ کے ٹکٹ آگئے ہیں۔“

کمپیوٹر پر مصروف نین تارا، مہر علی کو دیکھتے ہی اس کی جانب متوجہ ہو گئی۔

”گڈ۔ کب کی فلائٹ ہے۔“ مہر علی نے وہیں کاﺅنٹر کے پاس کھڑے ہو کر دریافت کیا۔

”جمعے کو صبح چھ بجے۔“ نین تارا نے ٹیبل کی دراز سے ٹکٹ نکال کر دیکھتے ہوئے کہا۔

”آج منگل ہے۔ یعنی ٹھیک تیسرے دن اس کا مطلب ہے کہ میرے پاس گاﺅں جانے کیلئے صرف یہ ہی دو دن ہیں۔“ مہر علی نے دل ہی دل میں حساب لگایا۔ جانے بابا جان کو مجھ سے کیا کام پڑ گیا ہے جو اس قدر ایمرجنسی میں بلاوا بھیجا ہے۔

”تارا میرے اگلے دو دن کی اپائنمنٹ کینسل کرکے نئی تاریخ دے دیں کیونکہ میں گاﺅں جا رہا ہوں۔“ نین تارا کو یہ اطلاع فراہم کرکے وہ باہر نکلا جہاں اللہ بخش گاڑی لے کر اس کا منتظر تھا۔

گاﺅں سے اس کی کوئی بھی ایسی جذباتی وابستگی نہ تھی کہ اسے وہاں جا کر خوشی حاصل ہوتی گاﺅں کے ساتھ ہی صدوری کا تصور اس کے ذہن میں آکر اس کی طبیعت کو خاصا مکدر کر گیا۔ صدوری نہ صرف اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کی ماں تھی بلکہ اس کے چچا کی اکلوتی بیٹی اور سات بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی دو بہنوں کی نند بھی تھی یہ ہی نہیں بلکہ وہ مہر علی کے بابا نواز علی کی خاص منظور نظر بھی تھی مہر علی جیسے آرٹسٹک بندے کے ساتھ صدوری جیسی بے تحاشا موٹی اور کھانے کی شوقین عورت ذرا نہ جچتی تھی لیکن کیا کیا جائے خاندانی رسم و رواج میں جکڑے ہوئے لوگ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے پیروں کو ان زنجیروں سے آزاد نہیں کر سکتے جو جائیداد کی حریصانہ خواہش نے ان کے پیروں میں ڈال رکھی تھیں۔

مہر علی کو اپنے گاﺅں کے رسم و رواج اور جاگیردارانہ نظام سے سخت نفرت تھی یہ ہی وجہ تھی کہ اپنے باپ کا اکلوتابیٹا ہونے کے باوجود اس نے کبھی بھی جاگیر کے معاملے میں دلچسپی نہ لی تھی بلکہ یہ کام اس کے چچا کا بیٹا اور اس کا بڑا سالا منصور علی لغاری ہی کرتا تھا اس کی بہ نسبت منصور اس کے باپ کا نہ صرف دست راست بلکہ نہایت منہ چڑھا بھی تھا یہ ہی وجہ تھی کہ مہر علی اس سے بہت کم بات چیت کرتا تھا اور اب بھی گاﺅں جا کر گزارنے والے چوبیس گھنٹے اس کیلئے سوہان روح تھے۔ اسے ہر حال میں جمعرات کو واپس آنا تھا تاکہ جمعہ کی صبح لندن کیلئے روانہ ہو سکے جہاں اہم کلائنٹ سے اس کی ملاقات طے تھی۔

عبدالوہاب گوندل ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار ہونے کے علاوہ قومی اسمبلی کے ممبر بھی تھے پاکستان میں ان کی کچھ جائیداد تھی جس کے سلسلے میں انہیں مہر علی کی خدمات درکار تھیں اسی سلسلے میں مہر علی کو ایک ہفتے کے وزٹ پر لندن جانا تھا اس کے علاوہ بھی وہاں اس کو اپنا بھی کوئی ذاتی کام تھا اور چونکہ اگلا پورا ہفتہ کورٹ متوقع ہڑتال کے سبب بند تھا۔ اس لئے مہر علی کے پاس اس سے بڑھ کر کوئی اچھا موقع نہ تھا۔ گاﺅں کی حدود شروع ہوتے ہی مہر علی کو ایک عجیب سی تھکن نے گھیر لیا اور اس نے اپنی آنکھیں موند کر خاموشی سے اپنی سر گاڑی کی سیٹ سے ٹکا لیا۔

QQQQ

آنے والے چوبیس گھنٹوں نے دریاب کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا وہ انگلینڈ کی سرزمین پر پہنچ چکی تھی ہوٹل مون لائٹ کے سویٹ میں پہنچ کر بھی اسے یقین نہ آیا کہ وہ لندن جیسے عظیم الشان شہر میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی دوسری ماڈلز بھی تھیں لیکن وی آئی پی کمرہ اس کے پاس تھا اور یہ بات اس کیلئے بہرحال اعزاز کی تھی کہ وہ مسز دانش سہگل تھی لیکن اپنے اس اعزز پر فخر و غرور کرنے کا موقع اسے بہت کم ہی نصیب ہوا اور جلد ہی اس کی ملاقات مشہور ماڈل نشاءسے ہو گئی نشاءنے ان کے گروپ کو لندن میں ہی جوائن کیا تھا اور دوسری ماڈلز کی نسبت وہ خاصی منہ پھٹ اور صاف گو شخصیت کی مالک تھی دریاب سے اس کی ملاقات فیلکن ہال میں ہوئی جہاں یہ نمائش منعقد ہوئی تھی اس نمائش میں حصہ لینے کیلئے مختلف ممالک کے علاوہ، پاکستان سے بھی دوسرے اور لوگ آئے ہوئے تھے۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی ملبوسات اور جیولری کی نمائش تھی اور اس وقت جب وہ دانش کی ہمراہی میں ہال کے ڈریسنگ روم میں موجود ماڈلز کی آخری تیاریاں دیکھ رہی تھی اچانک ہی نشاءآگئی دانش اس سے اسی طرح ملا جیسے دوسری ماڈلز سے ملتا تھا یہ سب اس کلچر کا حصہ تھا جس میں دریاب قدم رکھ چکی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اسے یہ بالکل بھی برا نہ لگتا تھا۔

”میٹ ہر شی ازمائی وائف دریاب سہگل۔“

اس نے بڑی ترنگ سے دریاب کا تعارف نشاءسے کروایا اور نشاءاس تعارف پر حیران سی رہ گئی اور جیسے ہی دانش وہاں سے ہٹا وہ دریاب کے قریب آگئی۔

”تمہارے ماں باپ نہیں ہیں۔“ اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر دریہ سے سوال کیا۔

”کیوں؟“ اس کا سوال ہی ایسا تھا کہ دریاب کا حیران ہونا بجا تھا۔

”حیرت ہے میری جان تم جیسی معصوم اور خوبصورت ہرنی کو کون سے ماں باپ ہوتے ہیں جو دانش جیسے مرد کے ہاتھوں میں سونپ دیتے ہیں۔“ وہ سگریٹ کا دھواں اس کے منہ پر چھوڑتے ہوئے تلخی سے ہنسی۔

”میں شاید غلط کہہ گئی دانش تو مرد کہلانے کے قابل بھی نہیں ہے کیونکہ مرد تو وہ ہوتا ہے جو کسی عورت کو عزت، سائبان، تحفظ اور محبت دے سکے جبکہ دانش کے پاس تو دینے کیلئے ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک کہ وہ تو کسی عورت کے قابل بھی نہیں ہے پھر تم اتنے ماہ سے کیسے اس کے ساتھ رہ رہی ہو حیرت ہے مجھے۔“

تاسف اس کے لہجے سے جھلک رہا تھا اور اس کے الفاظ دریاب کو کسی نیزے کی انی کی مانند لگ رہے تھے۔

”جانتی ہو عورتوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں اسٹیج پر چلنا سکھاتے سکھاتے اس میں خود وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی ہیں جو دیگر مردوں کو اس کی جانب متوجہ کرتی ہیں یقین نہ آئے تو کبھی آزما کر دیکھ لینا۔“

الفاظ تھے پا پگھلا ہوا سیسہ جو اس نے دریاب کے کانوں میں انڈیل دیا اور پھر بنا اس کے درد کا درماں کئے اس پر ایک تاسف بھری نظر ڈال کر کچھ دور کھڑے پریس فوٹو گرافر شکیل کی جانب بڑھ گئی جبکہ دریاب اس نئے نکشاف کے بعد زمین میں ہی گڑ گئی دانش کا گریز آج اس کی سمجھ میں آیا وہ بھرم جو اس نے اپنے اور دانش کے درمیان پچھلے کئی ماہ سے قائم کر رکھا تھا ریت کی دیوار ثابت ہوا اور اس کو اپنا آپ جلتی دھوپ میں جھلستا محسوس ہوا۔

”تو کیا دانش کے تمام ملنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ دانش میرے حقوق پورے نہیں کر سکتا؟ یہ ایسے سوال تھے جنہوں نے اس سے، اس کا فخر و غرور سب چھین لیا۔

”میں جو دنیا کے سامنے فخر و غرور سے گردن اکڑائے گھومتی ہوں کہ میں مسز دانش سہگل ہوں تو یہ سب لوگ مجھ پر کتنا ہنستے ہوں گے؟ سوچتے ہوں گے آسائشات کی ماری عورت ایک ادھورے مرد کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔“ لاکھ خود کو سمجھانے کے باوجود اندر سے بالکل ٹوٹ گئی اس رات فیلکن ہال میں پیش کیا جانے والا فیشن شو ہر لحاظ سے بہت کامیاب رہا دریاب کے تینوں رقص بے حد پسند کئے گئے اسے لوگوں نے بے حد سراہا اس کا انداز فیشن ماڈلنگ میں بالکل ایک نیا لک تھا۔ ان ڈریسز کی مانگ سب سے زیادہ رہی جنہیں دریاب نے دوران رقص استعمال کیا تھا لیکن پھر بھی جانے کیوں اس سب سے بھی دریاب کو دلی خوشی حاصل نہ ہوئی وہ اندر سے بالکل بکھر چکی تھی اسے رونے کیلئے ایک کندھا درکار تھا جیسے ہی ان کا شو ختم ہوا وہ خاموشی سے باہر نکل کر لابی میں آگئی اور یقینا آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ لابی میں بالکل تنہا کھڑی تھی جب کسی کام سے باہر آتے چودھری عبدالباری کی نگاہ اس پر پڑی۔

”زہے نصیب سرکار آپ کدھر جا رہے ہیں۔“

وہ اپنی حریصانہ نظریں اس کے جسم کے پار اتارتے ہوئے بولا۔

”اپنے روم میں۔“ وہ تھکی تھکی آواز میں بولی۔

”گولی مارو جی اپنے روم کو آﺅ میرے ساتھ۔“ چودھری نے اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کرکے اسے سہارا دیا اور وہ کوئی احتجاج بھی نہ کر سکی کیونکہ اس وقت وہ اپنے حواسوں میں ہی نہ تھی بنا کسی مزاحمت کے نہایت خاموشی سے وہ چودھری کے روم میں آگئی اور یہ پہلی رات تھی جب اس نے ام الخبائث کو منہ لگایا اور پھر پیتی چلی گئی اسے اپنے دکھ درد دور کرنے کیلئے چودھری کا کندھا نصیب ہو گیا تھا اور چودھری نے اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی محبت کی پھوار سے وہ گوہر مقصود حاصل کر لیا جس کیلئے شطرنج کی یہ بساط بچھائی گئی تھی یہاں بھی وہ اپنی بے خبری کے ہاتھوں ماری گئی صبح کے طلوع ہوتے سورج نے رات کے گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور صبح جب وہ بے دار ہوئی تو اسے پہلا خیال دانش کا ہی آیا دانش کا خیال آتے ہی وہ متضاد کیفیات میں گھر گئی کہیں دانش ناراض ہی نہ ہو جائے۔ پہلا خیال اسے یہ ہی آیا میں دانش کو اس رات کا کیا جواز دوں گی؟ وہ گھبرا اٹھی شاور لیتے ہوئے بھی اس کی ذہنی رو بہک کر دانش کی سمت ہی جا رہی تھی اسے حیرت تھی کہ اس کی غیر حاضری کو محسوس کرتے ہوئے دانش نے اب تک اسے تلاش کیوں نہ کیا؟

اس کے موبائل پر دانش کی کوئی ایک مس کال نہ تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ چودھری کے ساتھ گزارا جانے والا وقت دانش کی مرضی کے مطابق ہی تھا جس کیلئے وہ ایک بڑی اور معقول رقم معاوضے کی شکل میں چودھری سے حاصل کر چکا تھا جبکہ دریہ اپنی بے خبری کے سبب دانش کا سامنا کرتے ہوئے سخت شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔ اپنے اسی گلٹ اور احساس شرمندگی کے بوجھ تلے دبی جب وہ دانش سے ملی تو اس کے نارمل رویے نے جلد ہی اس کے احساس شرمندگی کو زائل کر دیا۔

”افوہ میں تو ایسے ہی گھبرا رہی تھی اسے تو کچھ پتا ہی نہیں چلا۔“

وہ سمجھ رہی تھی کہ یہ رات غالباً دانش اس کے کمرے میں آیا ہی نہ تھا۔ ابھی وہ اس سوسائٹی کی روایات اور تقاضوں سے بے بہرہ تھی ورنہ جان جاتی کہ یہاں اس طرح کے واقعات پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی بلکہ اپنے عاشقی کے ایسے واقعات کو نجی محفلوں میں فخریہ بیان کیا جاتا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ جو کچھ اس کے ماحول کے حساب سے بے راہ روی اور بے حیائی میں شمار ہوتا تھا وہ اس جدید معاشرے کا فیشن تھا۔

QQQQ

وہ جیسے ہی رائل اپارٹمنٹ کی لفٹ سے باہر نکلا سرد ہوا کا جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا اس نے فوراً اپنے کوٹ کے کالر کھڑے کر لئے اور تیزی سے پارکنگ کی جانب بڑھ گیا جہاں گوندل صاحب کا شو فراسی کا منتظر تھا گوندل صاحب سے اس کی آج کی یہ ملاقات کاروباری اعتبار سے کافی کامیاب رہی تھی تمام ضروری معاملات ڈسکس کرکے وہ ان کا کیس لینے کا فیصلہ کر چکا تھا اس سلسلے میں تقریباً تمام کاغذی کارروائی اس نے مکمل کر لی تھی ان کی جائیداد کے ضروری کاغذات اس کے ہاتھ میں موجود فائل میں لگے ہوئے تھے جس کا گھر جا کر اس نے اچھی طرح مطالعہ کرنا تھا تاکہ کیس کی شروعات کے سلسلے میں مدد مل سکے ابھی وہ گاڑی تک پہنچا ہی تھا کہ اس کے موبائل کی مخصوص دھن بجنے لگی موبائل کوٹ کی اندرونی جیب میں تھا جسے نکالتے نکالتے بھی کال منقطع ہو گئی شوفر نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کیلئے گاڑی کا دروازہ کھول دیا اس سے قبل کہ وہ اندر بیٹھتا فون بجنے لگا اس نے اسکرین پر ایک نظر ڈالی۔

”شعازل کالنگ۔“ اسکرین پر جگمگا رہا تھا اس نے فوراً اس کا بٹن دبا کر فون کان سے لگا لیا۔

”ہیلو۔“

”کہاں ہو مہر علی تم ابھی تک میری exhibition میں نہیں پہنچے۔“

مہر علی نے بے اختیار اپنی گھڑی پر نظر ڈالی جہاں سات بج رہے تھے پھر اس نے گاڑی کے شیشے سے باہر جھانکا جہاں چھائی ہوئی دھند کے سبب سارا شہر لندن تیز روشنیوں میں نہا سا گیا تھا۔

”شو کتنے بجے شروع ہو گا؟“

”تقریباً آٹھ بجے تک۔“

”اوکے میں آرہا ہوں۔ اس نے ایک پل کو سوچا اور جواب دے کر فون بند کر دیا۔

”ایسا کرو مجھے وکٹوریہ روڈ پر فیلکن ہال کے پاس ڈراپ کر دو۔“

آج اگر شعازل نے فون کرکے یاد دہانی نہ کروائی ہوئی تو یقینا میں اس کا یہ شو بھول چکا تھا اس نے دل ہی دل میں شعازل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکا لیا۔

شعازل نہ صرف اس کی بہترین دوست تھی بلکہ ایک مشہور ڈریس ڈیزائنر بھی تھی لیکن اس کے شو میں شرکت کی اصل وجہ فیض محمد سے کیا ہوا وعدہ تھا شعازل، مسز فیض محمد تھی اور فیض محمد اپنے کسی آفیشل کام کی بدولت لندن نہ آسکا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ اس نے مہر علی کو اس شو میں شرکت کرنے کی خاص ہدایت کی تھی اور اگر آج وہ اپنا وعدہ بھول جاتا تو فیض محمد یقینا ناراض ہوتا اور اسے یقین تھا کہ تقریباً ایک گھنٹے تک وہ فیلکن ہال پہنچ جائے گا۔

QQQQ

وہ جیسے ہی یونیورسٹی سے واپس آئی گھر میں پھیلے ہوئے سناٹے نے اس کا استقبال کیا یقینا ہم لوگ ہسپتال گئے ہوئے تھے کیونکہ رات سے نایاب کی حالت کافی خراب تھی جس کی بنا پر اسے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا تھا نیچے کے فلور پر صرف آرزو اور ولید تھے وہ خاموشی سے اوپر آگئی کچن میں جا کر کھانا گرم کیا ابھی کھانے ہی بیٹھی تھی کہ موبائل پر ایس ایم ایس کی مخصوص دھن سنائی دی یقینا سمن کا مسیج ہو گا کیونکہ آج کل سب نایاب کی وجہ سے خاصے پریشان تھے اس نے فوراً موبائل اٹھا کر چیک کیا مسیج تو سمن کا ہی تھا لیکن کیوں کیا تھا یہ فوری طور پر سمرن کی سمجھ میں نہ آیا مسیج میں کسی ویب سائٹ کا ایڈریس دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی اس ویب سائٹ کو جلد از جلد سرچ کرنے کی ہدایت بھی درج تھی۔

”اتنی کیا ایمرجنسی ہو گئی اس ویب سائٹ کو سرچ کرنے کی۔“

سمرن نے حیرانی سے سوچا ویب سائٹ کسی فیشن شو کے متعلق تھی جبکہ سمرن کو کبھی بھی کسی ایسی ویب سائٹ سے دلچسپی نہ تھی اور یہ بات سمن اچھی طرح جانتی تھی پھر بھی اگر اس نے سمرن کو چیک کرنے کی ہدایت کی تھی تو ضرور کوئی خاص بات ہی تھی سمرن کو کسی انجانی بے چینی نے گھیر لیا اس نے جلدی جلدی کھانا ختم کیا اور فوراً کمپیوٹر آن کر دیا۔ کمپیوٹر کے آن ہوتے ہی وہ فوراً سمن کی بتائی ہوئی ویب سائٹ سرچ کرنے لگی جو تھوڑی ہی دیر میں اسے مل گئی لندن میں کئے ہوئے مختلف فیشن شوز، اسٹیج پر کیٹ واک کرتی ماڈلز کچھ بھی ایسانہ تھا جو سمرن کی دلچسپی کا سبب بنتا اس سے قبل کہ وہ کمپیوٹر بند کر دیتی۔ اسکرین پر نظر آنے والی شخصیت کو دیکھ کر اس کی انگلیاں کی بورڈ پر چلنا بھول گئیں۔

”او میرے خدا۔“ اسے یقین ہی نہ آیا کہ جو وہ دیکھ رہی ہے سچ ہے۔

”دریاب…. یہ دریاب ہے نا۔“

عقب سے آتی شاہ ویز کی آواز سن کر وہ کرنٹ کھا کر پلٹی اس طرح کی شاہ ویز بھی غیر یقینی کیفیت میں گھرا اسکرین کی جانب یک ٹک دیکھ رہا تھا پھر وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آگیا۔

”تمہیں اس ویب سائٹ کا کس نے بتایا۔“

”سمن نے….“ سمرن نے تھکی تھکی آواز میں جواب دیا۔

”کمپیوٹر بند کرو اور کسی سے اس بات کا ذکر مت کرنا کیونکہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ ارم چچی پہلے ہی نایاب کی وجہ سے سخت ٹینشن کا شکار ہیں اب انہیں کچھ اور مت بتانا۔“

اسے سختی سے ہدایات دیتا ہوا شاہ ویز تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ وہ دیر تک حیران کن کیفیت میں گھری ہوئی اپنی جگہ سن بیٹھی رہ گئی۔

اتفاق کی بات تھی کہ آج تیسری دفعہ بھی مہر علی نے اسے اسٹیج پر ہی دیکھا تھا بے حدخوبصورت پرفارمنس دیتے ہوئے لیکن جانے کیوں وہ مہر علی کو پچھلی دو بار کی دیکھی ہوئی ”اپسرا“ سے قطعی مختلف لگی نہایت گم صُم اور کھوئی کھوئی۔

”آج میں ضرور اس سے بات کروں گا۔“ اپنی سیٹ پر بیٹھتے بیٹھتے مہر علی دل ہی دل میں پکا ارادہ کر چکا تھا لیکن شاید اس کے نصیب میں ابھی یہ ملاقات نہ تھی یہ ہی وجہ تھی کہ شو ختم ہونے کے بعد وہ اسے کہیں دکھائی نہ دی مہر علی نے اپنے طور پر اسے کافی تلاش کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکا اس لئے بنا کسی سے کچھ پوچھے خاموشی سے اپنے اپارٹمنٹ میں واپس آگیا۔

”اب مجھے یہ ضرور معلوم کرنا ہے کہ یہ لڑکی کون ہے۔“ مہر علی اسے کھوجنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

QQQQ

گھر واپس آتے ہی اسے پہلی خبر یہ ملی کہ نایاب فوت ہو گئی۔

”اچھا ہی ہوا اس زندگی سے موت اچھی ہے۔“ اس نے اپنے دل میں اطمینان محسوس کیا بے شک وہ اپنے گھر کے ہر فرد سے لاتعلق رہ کر زندگی گزارتی آئی تھی یہ بھی سچ تھا کہ نایاب کی حالت دیکھ کر وہ دل ہی دل میں کڑھتی رہتی تھی اور اکثر ہی سوچتی تھی کہ اس کا مستقبل کیا ہو گا اگر اس سے پہلے ارم چچی کو کچھ ہو گیا تو؟ یہ وہ سوال تھے جو دریاب جیسے بے حس اور رشتوں سے بے بہرہ لڑکی کے ذہن میں بھی کبھی کبھی آہی جاتے تھے لیکن پھر بھی نایاب کی وفات کا سن کر اسے وقتی طور پر دکھ ضرور ہوا جو بھی تھا جیسی بھی تھی، تھی تو ایک انسان اور پھر اس کی بہن جس نے ہوش سنبھالتے ہی دنیا میں دیکھا ہی کچھ نہ تھا۔

”میرا کوئی سا بھی وائٹ کاٹن کا سوٹ نکال کر رکھو مجھے ابھی اپنے گھر جانا ہے۔“ صغرا کو ہدایت دے کر وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی شاور لیتے ہوئے بھی نایاب ہی اس کے ذہن پر سوار رہی، جانے کیوں آج اسے گھر جانے کی بھی جلدی تھی وہ جیسے تیسے شاور لے کر باہر نکلی تو سامنے بیڈ پر نیم دراز دانش کو دیکھ کر ساکت سی رہ گئی دانش کا رویہ اس سے ہمیشہ ہی نارمل سا رہا تھا وہ جب بھی کبھی کمرے میں آتا صوفے پر بیٹھ کر خوب پیتا اور اکثر وہیں ڈھیر ہو جاتا دریہ کوئی روایتی بیوی تو تھی نا جو اس کی خدمت کرتی اور جوتے اتار کر ٹانگیں سیدھی کر دیتی لہٰذا اس کام کیلئے وہ فوراً سے بیشتر صغرا کو بلاتی اور خود نہایت اطمینان اور بے نیازی سے اپنے بیڈ پر سو جاتی آج شاید یہ پہلا موقع تھا کہ دانش اس کے روم میں، اس کے بیڈ پر نیم دراز تھا وہ مکمل طور پر اسے نظر انداز کرتی ڈریسنگ کے سامنے آکر اپنے بال سلجھانے لگی اسے احساس ہو گیا تھا کہ دانش نہایت باریک بینی سے اس کا جائزہ لے رہا ہے اور ابھی کچھ پوچھنے والا ہے۔

”کہیں جا رہی ہو؟“ بالآخر اس کا اندازہ درست ثابت ہوا۔

”ہاں! اپنے گھر میری بہن کی ڈیتھ ہو گئی ہے آج سے تقریباً دس دن قبل جب میں لندن میں تھی۔“ اس نے تفصیلی جواب دینا مناسب سمجھا اسے خدشہ تھا کہ کہیں دانش اسے جانے سے منع ہی نہ کر دے اور جلد ہی اس کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔

”ویری سیڈ یار بہت افسوس ہوا۔“ وہ آہستہ آہستہ چلتا دریہ کے قریب آگیا نہایت قریب یہاں تک کہ اس کی سانس کی آواز دریہ کو اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی لیکن جانے کیوں آج دریہ کو اس کا اس قدر قریب آنا ذرا اچھا نہ لگ رہا تھا۔ اس کے کلون اور سگریٹ کی ملی جلی خوشبو جس نے شادی سے قبل دریہ کو اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا اب اپنی اہمیت کھو چکی تھی کیونکہ اب دریاب کسی حد تک اس کی شخصیت کے گھناﺅنے کردار سے واقف ہو چکی تھی بے شک وہ جس قدر گھٹیا شخص تھا اتنا دریاب شاید کبھی بھی نہ جان پاتی لیکن جو اس نے جانا وہ بھی اس کےلئے قابل نفرت ہی تھا بظاہر اوپر سے نظر آنے والا ایک صحت مند مرد، اندر سے کیا تھا یہ تو صرف وہ ہی جانتی تھی یا وہ لوگ جو دانش سہگل کے قرب کا شرف رکھتے تھے دریاب اپنی چین گلے میں ڈال کر لاک لگانے کی کوشش کر رہی تھی دانش نے خاموشی سے اس کی گردن پر ہاتھ رکھ کر لاک بند کر دیا۔

”شکریہ۔“ وہ اپنی جوتی کی جانب بڑھی اس کی کوشش تھی کہ جلد از جلد اس کمرے سے باہر نکل جائے۔

”وہ ایسا ہے دریاب جان تم اپنے گھر کل چلی جانا۔“

اسے اپنے عقب سے دانش کی پرسکون آواز سنائی دی وہ کرنٹ کھا کر پلٹی۔

”واٹ ڈیو یومین؟ دانش صاحب میں نے ابھی آپ کو بتایا ہے کہ میری بہن کو فوت ہوئے دس دن ہو چکے ہیں پورے دس دن میرے گھر والے میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے اس بات کا احساس ہے آپ کو؟ کیا میں اتنی بے حس ہو چکی ہوں کہ اپنی سگی بہن کی عیادت تو نہ کر سکی اب تعزیت بھی نہ کروں۔“

”وہ تو ٹھیک ہے جان لیکن آج رات چودھری صاحب نے مقامی فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا ہے جس کی مہمان خصوصی تم ہو۔“ وہ نہایت ڈھٹائی سے اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا۔

”اور جانتی ہو اس تقریب میں لاہور سے ایک دو فلمی پروڈیوسر بھی خاص طور پر شرکت کرنے آرہے ہیں جنہیں اپنی فلم کیلئے نئے اور فریش چہروں کی تلاش ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تمہیں اپنی فلم میں بطور ہیروئن منتخب کر لیں اس لئے رات تمہارا فریش ہونا نہایت ضروری ہے۔“ وہ نہایت گھاگ شکاری تھا اس نے دریاب کو اس کی پسند کا دانہ ڈال دیا تھا۔

”میرا خیال ہے کہ تم ابھی اچھا سا ناشتہ لو میں ایرج کو فون کر دیتا ہوں وہ آکر تمہاری سروس کر دے گی دوپہر میں اچھی نیند لینا تاکہ رات کو تمہارے چہرے پر تھکن کے آثار نہ ہوں تمہارے ڈریس اور میک اپ کےلئے بھی میں نے ایرج کو ہدایات دے دی ہیں اس کی ایکسپرٹ رات آٹھ بجے تک آئے گی تمہیں تیار کرنے میں، میں چاہتا ہوں آج کا پورا دن تم مکمل ریلیکس ہو کر گزارو تاکہ تمہارے چہرے پر ایک فریش لک آئے جہاں تم نے دس دن تعزیت نہیں کی وہاں ایک دن اور رک جاﺅ۔“ اس نے رک کر دریاب پر ایک نظر ڈالی۔

”ویسے کوئی زبردستی نہیں ہے اگر تم جانا چاہو تو تمہاری مرضی۔“

وہ جانتا تھا دریاب کو اپنا مفاد دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ عزیز ہے۔

”ٹھیک ہے میں کل چلی جاﺅں گی۔“ شوبز کی متوقع چکا چوند نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر رکھا تھا۔

”گڈ گرل۔“ وہ آہستہ آہستہ اسے اپنے ساتھ لگائے بیڈ تک لے آیا اور دریاب بالکل بھول گئی کہ اس کی سگی بہن کو فوت ہوئے محض دس دن ہوئے ہیں۔

اسے یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ اپنی ماں جائی کی تعزیت کیلئے جانا چاہتی تھی اسے یاد رہا تو صرف اتنا کہ آج کی رات اس کی زندگی میں روشنیاں بھرنے والی تھی آج کی رات کی زندگی کو کامیابیوں کی راہ پر گامزن کر دینے والی ایک رات تھی جس کا ہر لمحہ اس نے کشید کرنا تھا۔ اپنی پہچان اپنا نام بنانے کیلئے اسے صرف ایک فلم چاہئے تھی ایک فلم کے بعد کامیابی اس کا مقدر بن جانے والی تھی وہ جانتی تھی کہ اوپر جانے کیلئے پہلا اسٹیپ مل جائے تو پھر اونچائی پر پہنچنا کچھ مشکل نہ تھا۔

QQQQ

رات چودھری صاحب کی منعقد کردہ پارٹی میں اس کی ملاقات مشہور فلمی پروڈیوسر فاضل کریم سے ہوئی جو دریاب کو دیکھ کر حقیقی معنوں میں دنگ رہ گیا دریاب کرنکل شفیون کی ریڈ عریبئین میکسی میں غضب ڈھار ہی تھی میکسی کے دونوں جانب سے اوپر تک کھلے چاک اس کے جسم کی خوبصورتی کو واضح طور پر نمایاں کر رہے تھے تقریب میں موجود ہر شخص اس کی اک نظر کرم کا متمنی تھا لیکن وہ صرف فاضل کریم کی توجہ چاہتی تھی جس میں مکمل طور پر کامیاب رہی اور تقریب کے اختتام تک وہ اسے کل رات شہر کے مہنگے ترین ہوٹل میں ڈنر پر انوائٹ کر چکا تھا اور دریاب کے نزدیک یہ شہرت کی سیڑھی پر رکھا جانے والا پہلا قدم تھا جو جلد ہی اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جانے والا تھا۔

QQQQ

گھر میں داخل ہوتے ہی برآمدے میں بچھی دری پر اسے ارم نظر آئیں غم کی شدت سے نڈھال، دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی ارم کو دیکھتے ہی جانے دریاب کو کیا ہوا ارم کی اس قدر ناگفتہ بہ حالت کو دیکھتے ہی اس کا دل دکھ اور غصے کی شدت سے بھر گیا۔

”اونہہ…. ایک پاگل بیٹی کا اتنا دکھ اور کہاں میری زندگی بھر کبھی کوئی خبر نہ لی۔“ وہ خاموشی سے ارم کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔

”کیسی ہیں ارم چچی آپ۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ارم کے ہاتھ تھام لئے اور اس کا دل یکدم ماں کی محبت سے بھر گیا۔

”میری نایاب چلی گئی مجھے چھوڑ کر۔“ ارم ذرا سا دل جوئی کا احساس پاتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں دریہ جس کا دل کچھ دیر قبل ماں کی محبت سے لبریز ہونے چلا تھا نایاب کی خاطر ماں کو روتا دیکھ کر یکدم مکدر سا ہو گیا۔

”آج نایاب گئی تو اتنا دکھ، کل مجھ ایک دن کی بچی کو دوسروں کی گود میں ڈالا تھا تب دل نہ کانپا تھا۔“ چاہا کہہ دے لیکن حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے خاموش رہی اور جلد ہی ارم کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچ کر کچھ دور ہو کر بیٹھ گئی۔

”ارے دریاب آئی ہوئی ہے۔“ اچانک ہی سمرن کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اس نے پل بھر کو نظر اٹھا کر سمرن کی جانب دیکھا سانولی سلونی سمرن پہچانی نہ جا رہی تھی بلیک اور ریڈ سوٹ میں وہ دریاب کو پہلے سے کہیں زیادہ مختلف اور خوبصورت نظر آئی شاید اس کے حسن کو یہ جلا شاہ ویز کی محبت نے بخشی تھی۔

”کیسی ہو تم اور مما کہاں ہیں نظر نہیں آرہیں۔“ بیک وقت کئی سوالات اس نے سمرن سے کر ڈالے۔

”میں ٹھیک ہوں البتہ مما کی طبیعت پچھلے کچھ دنوں سے خراب ہے بخار نہیں اتر رہا۔“

”اوہ چلو پھر میں اوپر ہی چلی جاتی ہوں۔“ وہ فوراً سے بیشتر اٹھ کھڑی ہوئی اور سیڑھیاں چڑھ کر شہ پارا کے فلور پر آگئی شہ پارا اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی۔

”ارے تم، تم کب آئیں۔“ اس کے تن مرہ میں جان سی پڑ گئی۔

”ابھی آئی تھی کیا ہوا آپ کو۔“ وہ کرسی کھینچ کر شہ پارا کے بیڈ کے قریب ہی بیٹھ گئی۔

”کچھ نہیں بس معمولی سا بخار ہے تم بیٹھو میں تمہارے لئے کچھ لے کر آتی ہوں۔“

”نہیں نہیں مما پلیز آپ بیٹھیں میں بس آپ سے مل کر جاﺅں گی مجھے دیر ہو رہی ہے دانش میرا انتظار کر رہے ہوں گے کئی مس کال آچکی ہیں۔“

”ارے بیٹھو ابھی تم کہاں جا رہی ہو کھانا کھا کر جانا۔“ سمرن اس کیلئے اورنج جوس لے کر آئی تھی۔

”تم نے خوا مخواہ زحمت کی۔“ ٹرے سے گلاس اٹھاتے اس نے سمرن کو مخاطب کیا۔

”زحمت کیسی تم اتنے دنوں بعد آئی ہو کم از کم اتنی خدمت تو تمہارا حق بنتا ہے۔“ سمرن نے مسکرا کر جواب دیا اور وہی بیڈ پر شہ پارا کے قریب ہی بیٹھ گئی۔

”تمہاری شادی کب ہو رہی ہے۔“ گھونٹ گھونٹ جوس حلق میں اتارتے ہوئے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سوال کر بیٹھی۔

”اصل میں تایا جی اور تائی سادیہ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے گئے ہوئے ہیں جیسے ہی واپس آئیں گے تاریخ رکھ دی جائے گی بس ان کے ساتھ ساتھ سمن اور شاہ زیب بھائی کا انتظار ہے۔“

”شاہ ویز آج کل کہاں جاب کر رہا ہے؟“

”بینک میں…. ویسے تو اسے شارجہ میں ایک بہت اچھی جاب آفر ہوئی تھی لیکن چونکہ اس وقت گھر کی تمام ذمہ داری اسی پر ہے اس لئے اس نے آفر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔“

”حیرت ہے تم نے سمجھاناتھا دوسروں کیلئے کیوں اپنے مستقبل کو داﺅ پر لگا رہا ہے۔“

”میں نے ہی سمجھایا کیونکہ میں بغیر رشتوں کے زندگی نہیں گزار سکتی اور ویسے بھی دنیا میں زندگی گزارنے کےلئے نمود و نمائش ہی کام نہیں آتی اپنوں کا ساتھ بھی بہت تقویت دیتا ہے۔“

اچانک ہی جوس کا گھونٹ اس کے حلق میں پھنس گیا اس نے آدھا گلاس واپس رکھ دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میں چلوں دیر ہو رہی ہے۔“

شہ پارا سے گلے مل کر وہ واپس پلٹی تو جانے یکدم سمرن کو کیا ہوا۔

”ارے یاد آیا میں نے تمہارے فیشن شو کی تصویریں دیکھی تھیں۔“ اپنی عادت کے برخلاف جانے کیوں وہ دریہ کو جتائے بنا نہ رہ سکی۔

دریہ نے یکدم پلٹ کر سمرن پر ایک نظر ڈالی۔

”میری تصویریں تم نے کہاں دیکھ لیں۔“ ایسے جیسے اسے سمرن کی بات پریقین ہی نہ آیا ہو۔

”نیٹ پر۔“ سمرن کا اطمینان قابل دید تھا۔ جیسے اسے دریہ کے اس اقدام سے کوئی فرق نہ پڑا ہو۔

”اچھا میں چلوں دانش کئی فون کر چکے ہیں۔“ سمرن کی بات کو یکسر نظر انداز کرتی وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی۔

”کوئی دیکھتا ہے تو بے شک دیکھے آخر کل جب میں نے فلم سائن کرنی ہے تب بھی تو ان لوگوں کو پتا چلنا ہی ہے نا۔“ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے اپنے دل کو تسلی دی ویسے بھی اس نے کبھی کسی کو پروا کرنے کی عادت ڈالی بھی نہ تھی تو خوامخواہ میں دوسروں کا سوچ کر اپنے شاندار مستقبل کو وہ داﺅ پر نہیں لگا سکتی تھی اور یہ یقینا اس کا آخری فیصلہ تھا۔

QQQQ

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے