سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری..قسط نمبر13

ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری..قسط نمبر13

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر13

حانہ اور آماندہ، واپس اپنے گھروں کو روانہ ہو چکی تھیں…. سبھی لوگ اپنے اپنے کمروں، اپنی اپنی خواب گاہوں میں داخل ہو چکے تھے…. الحان اپنے کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر کاٹتا کافی بے چین دکھائی دے رہا تھا…. دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی…. الحان دروازے کی جانب دیکھتا گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

”یس!“

دروازے کا ہینڈل ہلکے سے گھوما، الحان کی نگاہیں دروازے پر تھیں…. دروازے کا پٹ کھلا، اور کبیر دندناتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا…. الحان آنکھیں میچ کر رہ گیا….

”ہمیں تم سے پیار کتنا، یہ ہم نہیں جانتے…. مگر جی نہیں سکتے تمہارے بنا….“

دروازہ بند کرتے ہی، وہ کمینی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کے اردگرد چکر کاٹتا، گنگنانے لگا…. الحان پہلے ہی چڑا ہوا تھا…. اس کی اس حرکت پر مزید چڑ کر رہ گیا….

”سالے!“

الحان نے پاس رکھے صوفے پر سے کشن اٹھا کر، کھینچ کر کبیر کے سر پر دے مارا…. وہ جو گنگنانے میں مگن تھا…. اپناسر تھام کر رہ گیا….

”ابے…. جان لے گا کیا؟“

وہ اب الحان کی جانب گھورنے لگا تھا….

”دل تو یہی چاہ رہا ہے میرا کہ جان سے مار ڈالوں تجھے سالے!“

”ابے کیوں؟…. ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی یار!“

”چل بکواس نہ کر…. تو نے مجھے آنے سے پہلے کال کیوں نہیں کی؟“

وہ اب اس کے روبرو جا کھڑا ہوا….

”انکل کا حکم تھا کہ تمہیں آنے کی اطلاع نہ دی جائے…. دراصل وہ یہاں آ کرچھاپہ مارنا چاہتے تھے….“

الحان اسے گھورنے لگا….

”سچ کہہ رہا ہوں…. تیری قسم!“

کبیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…. الحان نے چڑتے ہوئے اس کا ہاتھ جھٹک دیا….

”اچھا سن…. تیرے سے ایک ضروری بات کرنا تھی….“

الحان اسے اگنور کرتا کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا….

”ابے سن ناں….“

کبیر اس کے تعاقب میں گیا…. الحان خاموش کھڑا رہا….

”پوچھے گا نہیں کہ کیا بات ہے؟“

الحان پھر بھی خاموش رہا….

”اچھا چل…. تو اتنا فورس کر رہا ہے تو بتا ہی دیتا ہوں….“

الحان لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

”یار! آفس میںایک نئی لڑکی آئی ہے…. فجر…. مسلمان ہے…. یار! وہ اتنی چھوئی موئی سی ہے کہ کیا بتاﺅں؟…. مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے….“

وہ بیچارگی چہرے پر سجائے الحان کی جانب دیکھنے لگا….

الحان ازحدمتانت چہرے پر سجائے خاموش کھڑا رہا….

”ابے تیرے سے بات کر رہا ہوں…. کچھ بولے گا؟“

”کیا بولوں؟“

الحان چڑچڑا ہو رہا تھا….

”کوئی مشورہ دے ناں یار….! کیسے بات کروں اس سے؟“

”تُو؟…. اور مجھ سے مشورہ مانگ رہا ہے کہ لڑکی سے بات کیسے کرنی ہے؟“

الحان اسے گھورنے لگا….

”افکورس!“

کبیر کی ڈھٹائی پر وہ بھناتا، اسے گھورتا،صوفے پر جا بیٹھا…. کبیر اس کے برابر میں آ بیٹھا….

”کبیر! ابھی مجھے تنگ مت کر…. جا دفعہ ہو جا یہاں سے….‘

وہ چڑ کر بولا کبیر کشن اٹھا کر گود میںرکھ بیٹھا….

”بہت افسوس کی بات ہے یار الحان! تُو میرے مشکل وقت میں میرا ساتھ نہیں دے رہا ہے….“

وہ منہ بسورنے لگا…. الحان خاموش رہا….

”یار! ایک مسئلہ ہے….“

کبیر ڈھٹائی سے بولا….

”وہ لڑکی، جس پر بھائی کا دل آ گیا ہے…. اس کا ایک عدد منگیتر بھی ہے…. اور سب سے بڑی اور بُری خبر یہ کہ اگلے مہینے ان دونوں کی شادی ہونے والی ہے…. میں تو لُٹ گیا یار…. برباد ہو کر رہ گیا….“

وہ رونے کی ایکٹنگ کرنے لگا…. الحان دانت بھینچے، خود پر کنٹرول کیے گھورتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا….

”کیا کروں میں؟“

وہ افسردہ نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگا….

”جا کر چُلُو بھر پانی میں ڈوب مر….“

الحان نے اپنی زبان کھولی….

”تجھے کوئی اور نہیں ملی…. ایک وہی آخری لڑکی رہ گئی تھی دنیا میں…. جو پہلے سے ہی کسی کی ملکیت میں ہے….“

الحان اسے گھور رہا تھا…. کبیر افسردگی سے گویا ہوا….

”محبت ہے یار! پوچھ کر برباد تھوڑی نہ کرتی ہے…. یہ تو خودبخود اپنے شکاری کو ڈھونڈ کر، اس کا کچومر بنا کر رکھ دیتی ہے…. نجانے کس جنم کا بدلہ لیتی ہے سالی….“

وہ کن اکھیوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگا….

الحان نظروں کا زاویہ پھیرتا، نیچے زمین پر کچھ ڈھونڈنے لگا….

عشق وہ کھیل نہیں جو کمزور دل والے کھیلیں

روح تک کانپ جاتی ہے، غم سہتے سہتے

کبیر نے ایک شعر جھاڑا…. الحان خاموش بیٹھا رہا….

”میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے…. کہ شادی کروں گا تو صرف فجر سے…. ورنہ کنوارا ہی مر جاﺅں گا….“

”جا مر جا…. جان چھوڑ میری….“

”ابے کیسا دوست ہے یار…. میری مدد کرنے کے بجائے…. الٹا تُو….“

”کیا مدد کروں میں تیری؟…. اس کی شادی ہو رہی ہے…. وہ کسی اور کی ملکیت ہے…. بھول جا اسے…. اور کہیں اور دل لگا…. بہت سی لڑکیاں ہیں دنیا میں….“

کبیر خاموشی سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. پھر دھیمے سے گویا ہوا….

”کیا اتنا آسان ہوتا ہے بھول جانا…. بھلا دینا….“

الحان تیوری چڑھانے لگا…. کبیر بول رہا تھا….

”تُو بتا…. کیا تو مانہ کو بھلا سکتا ہے؟“

الحان براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگا…. کبیر خاصا سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا…. الحان ساکت ہو کر رہ گیا….

”نہیں….“

کافی دیر بعد، دور سناٹے میں ڈوبی ایک سرگوشی اُبھر کر سماعت سے ٹکرائی…. کبیر سیدھا ہو بیٹھا…. نظروں کا محور الحان تھا….

”تجھے مانہ سے محبت ہو گئی ہے ناں؟“

وہ پوچھ رہا تھا…. الحان خاموشی سے نظریں چرا گیا….

”بول…. تجھے اس سے محبت ہو گئی ہے…. ہے ناں؟“ وہ اگلوانے لگا….

”ہاں…. ہو گئی ہے….“

وہ بنا نظریں ملائے، آسانی سے مان گیا…. کبیر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا کشن اُچھالا….

”اوئے ہوئے…. خس کم جہاں پاک….“

وہ اپنے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتا، شریر لہجے میں گویا ہوا…. الحان سرسری سی نگاہ اس پر دوڑاتا ایک بار پھر سے کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا…. کبیر اس کے تعاقب میں تھا….

”تو محبت ہو گئی ہے جناب کو….“

”دیکھ کبیر!…. وہ شرط کب کی ختم ہو چکی ہے….“

وہ اسے وارن کرتے ہوئے بولا….

”کس نے کہا؟“

کبیر کو اچنبھہ ہوا….

”میں نے….“

وہ گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

”شرط ختم نہیں ہوئی میری جان…. تم شرط ہار گئے ہو…. اور مابدولت شرط جیت چکے ہیں….“

وہ تھوڑے غور سے بولا…. الحان کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا….

”کہا تھا ناں تجھے…. کہ محبت بڑی کتی چیز ہے…. ایک بار جکڑ لے تو راہ فرار کا موقع نہیں دیتی…. اور وہ تُو ہی تھا جو ایک ہی رَٹ لگائے بیٹھا تھا کہ نہیں مجھے زندگی میں کبھی کسی سے محبت نہیں ہو سکتی….“

کبیر نے اس کی نقل اُتاری…. الحان اسے گھورنے لگا….

”تیری بکواس ختم ہو گئی ہو تو میں جا کر سو جاﺅں؟“

”ایسے کیسے سو جاﺅں؟ شرط ہارے ہیںآپ الحان ابراہیم صاحب!“

وہ شریر نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا…. الحان اسے گھورتے ہوئے بولا….

”کیا چاہتا ہے تُو؟“

”اوں….“

کبیر کچھ سوچنے لگا…. پھر جلدی سے بولا….

”نہیں…. اچھی طرح سے سوچنے کے بعد کوئی بڑا سا کام کرواﺅں گا تیرے سے…. فی الحال تجھے معاف کیا….“

الحان اسے گھورتا ہوا بیڈ کی جانب بڑھ گیا…. کبیر وہیں کھڑا شریر مسکراہٹ لبوں پر بکھیر کھڑا ہوا تھا….

ض……..ض……..ض

”یااللہ پاک! میں ایک کھلونا مٹی کا…. تیرے کُن سے جو تخلیق ہوا تیرے کرم نے ذی روح کیا مجھے…. تیرے حکم سے سانسیں چلتی ہیں…. تیرے فضل سے ہستی قائم ہے…. تُو اول، تُو ہی آخر، تُو ظاہر، تُو ہی باطن ہے میرے اللہ پاک….! تُو ہی میرا خالق، میرا مالک، میرا مولیٰ ہے…. اے اللہ پاک! میں تیری عبادت کرتی ہوں…. تجھ ہی سے مدد چاہتی ہوں…. یااللہ! میں بہت کمزور ہوں…. مجھے طاقت عطا فرما…. میں بُری ہوں یااللہ بہت بُری…. تُو تو اچھا ہے میرے مولیٰ میری مدد فرما….“

تہجد کے نوافل پڑھنے کے بعد وہ اپنے دونوں ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھائے بیقراری سے گڑگڑا رہی تھی…. آنسو تھے کہ تھمنے کا نام تک نہ لے رہے تھے…. وہ کافی دیر یونہی جائے نماز پر بیٹھی روتی رہی…. پھر بیدردی سے اپنے رخسار رگڑتی، جائے نماز لپیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی…. اس نے جائے نماز کرسی پر رکھی پھر لائٹ بجھاتی، اندھیرے کمرے میں چلتی بیڈ پرآ بیٹھی…. جانے اسے کس چیز کی بے چینی تھی…. وہ بیڈ پر بیٹھی بے چینی کے عالم میں ہلتی رہی…. اس نے ایک سسکی لی…. آنسو آبشار کی صورت اس کی بند آنکھوں سے بہے چلے جا رہے تھے…. چاند کی مدھم نیلی روشنی کمرے کے در و دیوار سے ٹکراتی سر پٹخ رہی تھی…. خنک ہوا، شیشے کی کھڑکی پر دستک دینے سے باز نہ آ رہی تھی…. اس کا دل ہوک رہا تھا…. سر میں بھی شدید درد ہونے لگا تھا….

”جو لمحات…. جو احساسات، جو یادیں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں دفن کرنے میں کوشاں رہی…. وہ ایک بار پھر سے میرا دل چیر دینے کو مستعد ہیں….“

بند ادھیرے کمرے میں ایک درد بھری سسکی اُبھری….

”یااللہ پاک! میری مدد فرما!“

وہ ٹانگیں اٹھا کر، بیڈ پر دبک کر بیٹھ گئی تھی، ایسے جیسے اس کا ماضی اپنی پوری ہیبت سمیت ایک بار پھر سے واپس لوٹ آیا ہو…. اسے جھنجوڑ دینے کے لیے….

اتنی سی عمر اور اتنے سارے آنسو!

وہ لڑکی زندگی کی ماری ہوئی لگتی ہے!

ض……..ض……..ض

(House of Happiness) کا بڑا سا قدآور گیٹ کراس کرتے ہی وین میں موجود سبھی لڑکیاں سپاٹ نگاہوںسے بلڈنگ کی جانب دیکھنے لگیں…. مانہ خوف سے کانپتی، خود میں سمٹی، خوفزدہ نگاہوں سے بلڈنگ پر نظر دوڑاتی لمبی لمبی سانس کھینچنے لگی…. خوف کے مارے اس کے ہاتھوں پیروں پر پسینہ نمودار ہونے لگا تھا…. مسکان نے اپنی دوستی آشلے سے بڑھا لی تھی، تبھی وہ اس کے ساتھ سیٹ شیئر کرتی پورا راستہ کھلکھلاتی، خوش گپیاں کرتی آئی تھی…. کریو کے چند لوگ کیمرے سنبھالے ساتھ ساتھ موجود تھے…. مس فاطمہ، صاحبہ، عاشر اور باقی کا تمام کریو Ranch میں ہی موجود تھا…. الحان، اپنے موم ڈیڈ اور کبیر کے ساتھ اپنی الگ کارمیں سوار بلڈنگ کے لیے نکلا تھا…. وین میں بہت سے لوگ موجود تھے…. لیکن مانہ ان سب کی موجودگی کے باوجود بالکل تنہا تھی….اسے کسی کے سہارے کی تلاش تھی…. کہ جس کے عقب میں چھپ کر وہ اسے ڈراتی ماضی کی یادوں سے چھٹکارا حاصل کر پاتی…. لیکن وہ اکیلی تھی…. اسے سہارا دینے کے لیے اس وقت وہاں کوئی موجودنہ تھا…. وہ لمبی لمبی سانس کھینچتی اپنی تھمتی سانسوں کو بحال کرنے لگی…. بلڈنگ کی لمبی لمبی قد اور کھڑکیاں، سفید جالی کے پردوں سے ڈھنپی تھیں…. مانہ نظر اٹھا کر بلڈنگ کی جانب دیکھنے لگی…. سبھی لوگ وین سے نیچے اُترتے بلڈنگ کا نظارہ کر رہے تھے….

”وہ دیکھو! کتنے معصوم بچے ہیں….“

برٹش مسلم تائبہ بچوں کو دیکھتے ہی خوشی کا اظہار کرنے لگی…. مانہ نے نظریں گھما کر اس کے اشارے کی سمت دیکھا….

”ایسی جگہوں میں موجود سبھی بچے معصوم نہیں ہوا کرتے…. کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں…. جو اپنوں کی دی ہوئی اذیت سہتے سہتے، اپنی تمام معصومیت کھو دیتے ہیں….“

وہ من ہی من میں ہمکلام ہوئی…. درد کی اک لہر بیدردی سے اس کا سینہ چیرتی اس کے پورے جسم میں دوڑتی محسوس ہوئی…. اس نے درد کی اذیت سہتے ایک گہری لمبی سانس کھینچی….

”وقت…. وقت گزر جاتا ہے…. پر وقت کے ہاتھوں اپنوں سے جواذیت ملتی ہے…. وہ کبھی نہیں بھولی جا سکتی….“

لاکھ کنٹرول کرنے کی کوشش کے باوجود دو موتی شرارت سے لڑھکتے اس کے رخسار پرآن ٹھہرے…. مانہ جلدی سے نظر بچاتی اپنی نازک انگلیوں سے آنسو کے قطرے چنتی، سوں سوں کرنے لگی…. اس نے پھر سے بلڈنگ پر نگاہ دوڑائی….

”وقت کیسے گزرتا ہے…. آہٹ بھی نہیں ہوتی…. ہم وہیں کھڑے رہتے ہیں…. اور وہ گزر جاتا ہے…. یا شاید…. ہم گزر جاتے ہیں…. اور وقت وہیں کھڑا رہتا ہے….“

اس کی آنکھوں میں سناٹا تھا…. خوف تھا…. درد تھا…. وہ سرخ ہوتی نگاہیں بلڈنگ پر ٹکائے درد سے کراہ کر رہ گئی…. بلیک مرسڈیز گیٹ سے اندر داخل ہوئی…. الحان کار ڈرائیو کر رہا تھا…. کبیر فرنٹ سیٹ پر تھا اور الحان کے والدین بیک سیٹس پر براجمان تھے…. کار گھمنڈ سے چلتی وین کے قریب آ رُکی…. مسزابراہیم کے کار سے باہر نکلتے ہی وہاں پر موجود سبھی بچے جو کہ ایک مخصوص یونیفارم میں ملبوس تھے…. ان کی جانب لپکے…. بچوں کے چہروں پر ایک الگ قسم کی خوشی نمودار ہوئی تھی…. مسزابراہیم تمام بچوں میں گھریں خوشگوار انداز میںانہیں پیار کرنے لگی تھیں…. ابراہیم صاحب بھی خوشگوار اور کافی حد تک شاداں دکھائی دے رہے تھے…. الحان اور کبیر الگ کھڑے بچوں کو دیکھتے مسکرا رہے تھے….

”یہ بچے جو بظاہر مسکرا رہے ہیں…. اندر سے کس قدر ٹوٹے پھوٹے ہوتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا….“

مانہ کی نگاہ اب ان بچوں پر مرکوز تھی….

”ان بچوں کے ہر دن کی شروعات ایک آس ایک اُمید سے ہوا کرتی ہے…. کہ شایدآج ان کا اپنا کوئی…. انہیں لینے کے لیے آ جائے…. اور پھر ہر دن کا اختتام، وہی ایک آس وہی ایک امید ٹوٹ جانے پر ہوتا ہے…. یہ بچے عام بچوں کی طرح نارمل ہرگز نہیں ہوا کرتے…. بہت سی امیدوں کو مار کر…. بہت سی خواہشات کا گلا گھونٹ کر یہ اپنے بچپن میں ہی بڑے ہو جایا کرتے ہیں…. زندگی مار دیتی ہے…. لیکن…. یہ پھر بھی زندہ رہتے ہیں….“

مانہ کی ہمکلامی کا سلسلہ ٹوٹا جب اس نے دیکھا کہ سبھی لوگ ایک ساتھ بلڈنگ کے اندر داخل ہو رہے تھے…. وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی ان سبھی کے ساتھ بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی…. ماربل کے سفید فرش نے ان سبھی کو خوش آمدید کہا…. مسزابراہیم وہاں پر موجود سسٹر کے ساتھ ساتھ چلتیں اس بلڈنگ کی ہسٹری بیان کر رہی تھیں کہ انہوں نے یہ جگہ کیسے لی اور اسے کس طرح سے ڈیکوریٹ کیا…. سبھی لڑکیاں بغور مسزابراہیم کو سنتی اندر داخل ہوئی تھیں…. مانہ کا دھیان کہیں اور تھا…. وہ مسزابراہیم کو سنتے ہوئے بھی سن نہ پا رہی تھی…. اس نے گرد ن گھما کر پلٹ کر دیکھا…. الحان، ابراہیم صاحب کے برابر میں کھڑا اسی کی جانب دیکھتا پایا گیا…. نظریں ملتے ہی وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجا کھڑا ہوا…. مانہ بھی ہلکے سے مسکرا دی…. اور اگلے ہی پل وہ اپنی نظروں کا زاویہ پھیرتی اس سے نظریں چرا گئی…. وہ اپنی اندرونی حالت سے واقف تھی…. اور اپنی اس حالت کی خبر کان و کان کسی کوہونے نہیں دینا چاہتی تھی…. وہ آنکھیں میچتی لمبی سانس کھینچنے لگی…. الحان کو وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی….

”اسے ہو کیا گیا ہے اچانک…. کل رات سے اتنی بجھی بجھی سی ہے…. کچھ تو مسئلہ ہے….“

وہ اس پر نظریں ٹکائے من ہی من میں ہمکلام ہوا…. وہ سبھی لوگ ایک کلاس روم میں داخل ہوئے…. جہاں کچھ بچے پڑھ رہے تھے، کچھ کھیل رہے تھے تو کچھ چپ چاپ بیٹھے ویران اکھیوں سے اجنبی لوگوں کا ہجوم دیکھ رہے تھے…. ابراہیم صاحب، مسزابراہیم اور سسٹر کے ہمراہ باتیں کرتے کلاس روم سے باہر نکل گئے…. سبھی لڑکیاں الحان کو امپریس کرنے کی غرض سے ایک ایک بچے کی جانب بڑھتیں، ان سے پیار جتانے لگی تھیں…. الحان دروازے میں کھڑا مسکرا رہا تھا…. کبیر اپنے موبائل پر کال ریسیو کرتا کلاس روم سے باہر نکل گیا…. مانہ نے پورے کمرے میں نگاہ دورائی…. پھر اس کی نگاہ کمرے کے ایک کونے میں سہمی بیٹھی، گڑیا گود میں رکھے ننھی پری پر جا ٹکی…. جو خوفزدہ نگاہوں سے اسے اپنی ہی جانب دیکھتی دکھائی دی تھی…. وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی اس ننھی پری تک پہنچی….

"Hi!”

مانہ نے خوشگوار مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے پیار سے اسے مخاطب کیا…. اجنبی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہ بچی جو اپنی گڑیا کے بال سنوارنے میں مگن تھی، یکایک چونکتی، تجسس بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. مانہ کو اس کے احساس کا احساس تھا…. وہ اس کی فیلنگز سے واقف تھی…. اس پانچ سالہ سی بچی میں وہ اپنے آپ کو محسوس کرنے لگی…. اس کا دل درد سے پھٹنے کو تیار تھا…. خود پر کنٹرول کرتی وہ درد بھری آوازمیں گویا ہوئی….

”میرا نام مانہ ہے…. اور آپ کا؟“

وہ درد بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائے انگلش میںاس پانچ سالہ برٹش بچی سے پوچھ رہی تھی….

”جوجو!“

وہ اپنے بکھرے سنہری بال،کانوں کے پیچھے اُڑستی، معصومیت سے گویا ہوئی…. مانہ پیار بھرے انداز میں اس کے چہرے کو چھوتی مسکرا دی…. وہ بچی مانہ کو معصومیت سے دیکھ کر جواباً مسکرائی تھی….

”یہ ڈول کتنی پیاری ہے…. سیم آپ جیسی….“

مانہ نے اس بار اس کی ڈول کی جانب اشارہ کیا….

”رئیلی؟“

بچی کھلکھلا اٹھی….

”رئیلی!“

”آر یُو سیریس؟“

”یس! آئی ایم!“

بچی دمکتا چہرہ لیے گڑیا کو اٹھا کر دمکتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی…. مانہ کی آنکھیں بھر آئیں…. آنسو ضبط کرتے، آنسو بہاتے، اس کی آنکھیں سرخ سے سرخ تر ہوتی چلی جا رہی تھیں…. اس کے لیے کنٹرول کرنا دشوار ہو رہا تھا…. پھر بھی وہ کنٹرول کیے رخسار پر بہتے آنسوﺅں کو پونچھنے لگی…. اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا…. وہ بنا نظریں گھمائے جلدی سے اپنے آنسو پونچھنے لگی….

”مانو!“

شناسا آواز سماعت سے ٹکرائی…. وہ اس کی جانب دیکھنا نہیں چاہتی تھی…. آنسو تھے کہ فل بند توڑ کر موسلادھار بہہ نکلنے کو تیار تھے….

”مانو!“

اس نے ایک بار پھر سے پکارا…. بچی ساکت بیٹھی اب مانہ کے بہتے آنسوﺅں کی جانب دیکھنے لگی…. الحان وہیں زمین پر بیٹھ گیا…. ان دونوں کے بالکل قریب…. سبھی لڑکیاں اب نفرت بھری نگاہ سے مانہ کی جانب گھورتی نظر آئیں….

”مانو!“

اس بار اس نے سرگوشی کی…. وہ حیران کن نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتا اسے مخاطب کیے ہوئے تھا….

”ہوں….“

وہ صرف اتنا ہی بول پائی….

”میری طرف دیکھو….“

وہ اس کے آنسو دیکھ چکا تھا…. اسے پہلے سے کسی گڑبڑ کا اندازہ تھا تبھی وہ اس پر نظر رکھے اس کے اکیلے ہونے کا انتظار کر رہا تھا…. جب موقع ملا تو اس کے نزدیک چلا آیا…. مانہ بمشکل کنٹرول کرتی ذرا کی ذرا پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھتی اگلے ہی پل نظریں چرا گئی….

”مانو! تم ٹھیک ہو!….“

وہ تفکر بھرے انداز میں گویا ہوا….

”یس!….“

لرزتی دھیمی آواز الحان کی سماعت سے ٹکرائی….

”نہیں…. مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہیں…. کیا بات ہے؟ مجھے بتاﺅ…. کسی نے تم سے کچھ کہا؟ ٹیل می!“

وہ بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھتا تفکرانہ انداز میں گویا تھا….

”آئی ایم فائن….!“

وہ اسے اگنور کرتی زمین پر نظریں گاڑھ بیٹھی….

”مانو پلیز!“

”الحان پلیز! فی الحال مجھے اکیلا چھوڑ دیں…. پلیز!“

وہ رُندھے لہجے میں بولی…. اس کی آنکھیں ایک تواتر سے بہہ نکلیں…. وہ جلدی سے آنسوپونچھتی…. سوں سوں کرتی خود پر کنٹرول کر بیٹھی…. الحان کو مزید فکر لاحق ہوئی…. وہ بغور اس کی جانب دیکھتا ہنوز تفکر بھرے لہجے میں گویا ہوا….

”ہرگز نہیں…. جب تک تم مجھے نہیں بتاتیں کہ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے…. میں یہاں سے نہیں جانے والا….“

”ٹھیک ہے بیٹھے رہیں یہیں پر…. میں چلی جاتی ہوں….“

وہ اٹھنے لگی، الحان نے اس کے بازوﺅں سے پکڑ کر اسے اٹھنے سے روک دیا…. مانہ نے ایک جھٹکے سے اپنے بازو چھڑائے….

”مانو! کیا ہو گیا ہے اچانک تمہیں…. کل تک تو تم بالکل ٹھیک تھیں…. کیا ہوا ہے بتاﺅ مجھے…. کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی…. یا کسی نے تم سے کچھ کہا…. نام بتاﺅ مجھے اس کا….“

”الحان! کچھ نہیں ہوا ہے…. کسی نے کچھ نہیں کہا…. میرے سر میں شدید تکلیف ہے…. طبیعت ٹھیک نہیں میری…. بس!“

اس نے جلدی سے ایک جھوٹ گاڑھا…. الحان خاموشی سے اس کا چہرہ تکتا رہا…. پھر دھیمے سے بولا….

”تم اتنی کمزور نہیں ہو مانو کہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے رو دو…. جانتا ہوں میں تمہیں…. تم مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتیں…. تمہاری آنکھیں مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتیں…. ضرور کچھ ہوا ہے…. تم مجھے بتا نہیں رہیں….“

”جب آپ کو معلوم ہے کہ میں نہیں بتانا چاہ رہی تو آپ پوچھنے کی ضد کیوں کر رہے ہیں؟“

وہ اب براہراست اس کی آنکھوں میں جھانکتی، درد بھری لرزتی آواز میں گویا ہوئی…. اس کی آنکھوں میں سوجن تھی، درد تھا…. ٹوٹی کرچیاں تھیں…. الحان اس کی آنکھوں کو پڑھنے لگا…. وہ آنسو بہاتی نظریں چرا گئی….

”کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں…. جو ہم کسی سے شیئر نہیں کر سکتے…. وہ ہمارے دل میں دفن رہتی ہیں…. ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!“

ایک سسکی کے ساتھ ہی وہ بُری طرح سے اپنے رخسار رگڑ بیٹھی…. الحان اسے تکلیف میں دیکھ کر بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ اٹھا تھا…. وہ جاننا چاہتا تھا…. اس کا غم بانٹنا چاہتا تھا…. اسے اس کی ہر تکلیف سے نجات دلانا چاہتا تھا…. وہ ہر بار اس کے غموں کا برابر کا شریک ہونا چاہتا تھا اور مانہ ہر بار اس کی کوشش ناکام کی دیتی تھی…. وہ دکھ سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”مانو! ایسا نہیں کرو…. تمہیں معلوم ہے کہ جب تم روتی ہو تومجھے تکلیف ہوتی ہے….“

”آپ مجھے تنہا کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟“

وہ پھر سے آنسو بہانے لگی….

”نہیں چھوڑسکتا…. نہ ہی کبھی چھوڑنے کا ارادہ ہے….“

”چھوڑ دیں گے….“

وہ فرش پر نظریں ٹکائے درد بھرے لہجے میں گویا ہوئی….

”سبھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں…. یہ اس دنیا کی اور اس میںبستے لوگوں کی حقیقت ہے….“

ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہہ نکلے….

درد کی کیفیات اس کے چہرے کے نقوش سے واضح طور پر ٹپکتی دکھائی دیں…. الحان ٹھٹھر کر رہ گیا….

”مجھے کسی سے کوئی اُمید نہیں…. انسان اس دنیا میں اکیلا آتا ہے اور اکیلا ہی واپس جاتا ہے…. اور اس دوران…. بہت سے نقاب پوش لوگ ہماری زندگی میں شامل ہوتے ہیں…. وہ لوگ ہمارے اپنے ہی ہوتے ہیں…. ہمیں جھنجھوڑتے ہیں…. زندگی کا اصلی بھیانک چہرہ دکھاتے ہیں، اور پھر…. اس بیدرد زندگی کے حوالے کیے، ہمیں اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں…. بہت دور…. ہم ان کی راہ تکتے تکتے تھک جاتے ہیں…. مگر وہ لوٹ کر نہیں آتے…. اور پھر یہ زندگی ہمیں اس دنیا کے سمندر میں گراتی ہے…. وقت ہمارا ہاتھ تھامتا ہے…. اور پھر وہی وقت ہمیں دنیا کے اس سمندر میں تیرنا سکھاتا ہے…. ہم تنہا تیرنا سیکھتے ہیں…. بالکل تنہا….“

وہ سپاٹ نظریں زمین پر گاڑھے، بھل بھل آنسو بہاتی سپاٹ لہجے میںبول رہی تھی…. الحان اس کی باتیں اس کا درد اس کی تکلیف سمجھنے میں کوشاں تھا…. مانہ نے نظریں اٹھاکر، سرخ سوجھی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا…. اس کا دماغ ماﺅف ہو چکا تھا…. شاید اب وہ اپنے ہوش میں باقی نہ رہی تھی…. اس کا دل بھر بھر آیا تھا…. اسے اب کسی چیز کا خوف نہیں تھا…. اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا…. وہ پہلے سے لوگوں کی بے اعتنائیاں سہہ سہہ کر پتھر بن چکی تھی…. اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اس پل کیا بول رہی ہے…. یا پھر اسے اب کسی کا خوف باقی نہ رہا تھا….

ایک وقت آتا ہے کہ جب ہم اپنے کسی ہمدرد کے سامنے وہ وہ راز افشاءکر دیتے ہیں جنہیں ہم برسوں سے اپنے سینے میں دفن کیے چلے آ رہے ہوتے ہیں…. وہ وقت کی کمزور گھڑی ہوتی ہے شاید…. کہ اس دفن شدہ راز کا بوجھ ہمیں تھکا دیتا ہے…. یا پھر…. وہ لمحہ اس قدر پاورفل ہوتا ہے کہ جس راز کو ہم نے برسوں سینے میں دفن کیے رکھا…. وہ اک پل میں ہم افشاءکر دیتے ہیں…. کیونکہ ہمیں کسی کا ڈر باقی نہیں رہتا…. شاید یہ اس کا کمزور لمحہ تھا…. یا پھر…. شاید وہ واقعی نڈر ہو گئی تھی…. وہ سپاٹ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی برفیلے لہجے میں گویا ہوئی….

”اس دنیا کے لوگوں نے مجھے توڑنے کی بہت کوشش کی….“

وہ بھل بھل بہتے آنسوﺅں سمیت طنز سے مسکرائی….

”ان لوگوں کو کیا پتا…. کہ پتھر کی چیزیں اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹا کرتیں….“

وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی…. لہجہ ہنوز سپاٹ تھا…. تاثرات سے بالکل خالی…. برفیلی نگاہیں…. ایک بار پھر سے سامنے فرش پر مرکوز تھیں….

” میری نانی ماں کہتی تھیں…. کہ چیزیں بدلتی ہیں تو اچھی لگتی ہیں…. انسان بدلتے ہوئے اچھے نہیں لگتے….“

مانہ کے درد کی کیفیت اب الحان کے چہرے پر سے واضح ہونے لگی تھی…. وہ اس کی تکلیف محسوس کر رہا تھا…. اس کی اذیت کو محسوس کرنے لگا تھا…. مانہ ہنوز بول رہی تھی….

”لیکن اس دنیا کا انسان تو پیدا ہی بدلنے کے لیے ہوا ہے…. یہ زندگی موم کو پتھربنانے میں ذرا دیر نہیں لگاتی…. اور سچ پوچھیں تو میں نے زندگی میں کبھی کسی پتھر کو موم بنتے نہیں دیکھاالحان!“

وہ پھر سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”دیکھیں اس بچی کی طرف….“

اس نے گڑیا سے کھیلتی بچی کی طرف اشارہ کیا….

”کتنی معصوم ہے…. موم سے زیادہ نازک…. لیکن آنے والا وقت…. اسے بھی پتھر بنا دے گا…. اور آپ جانتے ہیں…. ابھی جب ہم لوگ یہاں سے واپس چلے جائیں گے تو ان سبھی بچوں کے دل پر کیا گزرے گی…. یہ کیا سوچیں گے…. یہی…. کہ شاید یہ سبھی بچے ہمیں پسند نہیں آئے…. ان کا درد…. ان کی فیلنگز مجھ سے بہتر اور کوئی نہیں جان سکتا…. پتا ہے کیوں؟“

وہ اس کی جانب دیکھتی، آنسو بہاتی اس سے پوچھ رہی تھی…. الحان درد کے عالم میں کچھ بول ہی نہ پایا…. وہ خاموشی سے اس کے چہرے کی جانب دیکھتا رہا….

”کیونکہ مجھے معلوم ہے…. کہ ٹوٹے بکھرے خوابو ںکی کرچیاں انکھوںمیں بہت تکلیف دیتی ہیں….“

اس نے ایک سسکی بھری…. الحان تڑپ اٹھا….

”مانو!“

اس نے سرگوشی کی…. مانہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں…. وہ پھر سے اس کی جانب دیکھتی سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی….

”میں بھی انہی میں سے ایک ہوں الحان! میرا بچپن بھی ایک ایسی ہی کسی جگہ پر گزرا ہے…. ایسے جب کوئی خاص مہمان آیا کرتا…. تو میں خوش ہو جایا کرتی تھی کہ شاید مجھے میراکوئی اپنا، لینے چلا آیا….مگر جب وہ مہمان مجھے لیے بغیر واپس چلے جایا کرتے تو میں بہت خاموش ہوجایا کرتی…. میرے آنسو باہر نہیں بہتے تھے…. وہ اندر ہی اندر مجھے گھائل کرتے رہتے اور پھر تکلیف کی صورت اختیار کر کے غصہ بن کر باہر نکل آتے…. اور وہ غصہ بھی میں خود پر نکالا کرتی تھی….“

اس نے درد میں لپٹی ایک بوجھل سی سانس کھینچی….

”ایکسکیوزمی….‘

وہ جلدی سے اٹھتی…. تیز تیز قدم بڑھاتی کمرے سے باہر نکل گئی…. الحان اس کے پیچھے لپکا تھا…. سبھی لڑکیاں حیرانگی سے ان دونوں کی جانب دیکھنے لگی تھیں….

مانہ کاریڈور میں دوڑتی چلی جا رہی تھی…. الحان اس کے پیچھے تھا….

”مانو!“

وہ اسے پکار رہا تھا….

”یار! پلیز سٹاپ اٹ…. ہر چیز کی ریکارڈنگ ضروری نہیں ہوتی ہے….“

الحان نے اپنے پیچھے لپکتے کیمرہ مین کی جانب پلٹتے ہی غصے کا اظہار کیا…. کیمرہ مین واپس کمرے میں داخل ہو گیا…. الحان، مانہ کے پیچھے دوڑا…. کاریڈورکے آخر میں ایک دروازہ تھا جو شاید لیڈیز باتھ روم تھا…. مانہ نے اندر گھستے ہی دروازہ اندر سے بند کر دیا…. الحان دروازے تک پہنچا…. اس نے اپنا ہاتھ ہینڈل تک پہنچایا ہی تھا کہ دروازے کے پاس کھڑی چھوٹی سی بچی چلا اٹھی…. وہ انگلش میں گویا تھی….

”کانٹ یُو سی؟“

اس نے لیڈیز لوگو کی جانب اشارہ کیا….ننھے معصوم چہرے پر غصہ واضح طور پر عیاں تھا…. الحان جھٹکے سے پیچھے ہٹا….

”آئی ایم سوری!“

وہ کان پکڑ کر معافی مانگنے لگا…. بچی غصہ میں پھنکارتی، پیرپٹختی آگے بڑھ گئی…. الحان اب بند دروازے کی جانب دیکھنے لگا….

”مانو!“

اس نے سرگوشی کی….

”الحان! مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیں…. پلیز….!“

دروازے کے اس پار سے مانہ کی آوازاُبھری….

”نہیں….میں تمہیں اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والا…. تمہیں میری ضرورت ہے مانو!“

”مجھے کسی کی ضرورت نہیں…. چلے جائیں یہاں سے….“

وہ اندر سے چلّائی…. الحان لب بھینچ کھڑاہوا…. وہ اس کے لیے واقعی پریشان تھا…. اسے اس کے درد کا احساس تھا۔ وہ کافی دیر باہر کھڑا رہا…. تقریباً پندرہ منٹ اچھے سے دل کا بوجھ ہلکا کر لینے کے بعد اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے…. ٹشو سے اپنا چہرہ صاف کرتی وہ آہستگی سے ہینڈل گھماتی باہر نکل آئی…. دروازہ کھلتے ہی ایک بار پھر سے اس کا سامنا ہوا…. وہ نظریں چرا گئی…. الحان اس کی جانب لپکا تھا….

”مانو! تم ٹھیک ہو ناں؟“

”میں بالکل ٹھیک ہوں….“

وہ چند ثانیے خاموش رہی…. پھر اس کی جانب دیکھتی سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی….

”اب تک تو آپ کو بھی مجھ سے نفرت ہو گئی ہو گی….“

”ہرگز نہیں…. میں تم سے نفرت نہیں کر سکتا….“

الحان حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ طنزیہ ہنسی ہنس دی….

”کم آن الحان! یہاں کیمرے نہیں ہیں…. اس لیے سٹاپ ایکٹنگ…. پلیز!“

”تمہیں لگتا ہے کہ میں ایکٹنگ کرتا ہوں….“

وہ تاسف بھرے انداز میں گویا ہوا….

”یقینا!“

وہ برفیلے لہجے میں بولی…. الحان دکھ بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”کاش کہ تم نے مجھ پر کبھی یقین کیا ہوتا….“

درد میں ڈوبی آواز اُبھری…. مانہ برفیلی نگاہیں سامنے کسی غیرمرئی نقطہ پر ٹکاتی برفیلے لہجے میں گویا ہوئی….

”یقین!…. اور مرد ذات پر…. اچھا مذاق ہے….“

وہ طنز کرنے لگی…. الحان تاسف سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد وہ پھر سے بولی….

”میں نے اپنی زندگی میں ایک بار…. پہلی بار…. اور…. آخری بار ایک مرد ذات پر یقین کیا تھا…. اور وہ مرد ذات اور کوئی نہیں، میرے اپنے باباجان تھے….“

وہ پھر سے رو دی…. الحان پر سکتہ طاری ہو گیا…. وہ بنا جنبش کیے، پھٹی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھے گیا…. کچھ دیر آنسو بہاتی وہ اپنی عینک اُتار کر بیدردی سے گال رگڑنے لگی…. اس کی آنکھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں…. آنکھوں میں اس قدر درد تھا کہ الحان بُری طرح سے کانپ اٹھا…. اس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی…. وہ کچھ بول نہیں پایا…. مانہ نے اپنا چشمہ واپس آنکھوں پر ناک پر ٹکایا…. وہ ناک سوں کرتی پھر سے گویا ہوئی….

”میں پانچ سال کی تھی…. میری ماما کی ڈیتھ ہو گئی…. کچھ ہی عرصہ گزرا…. بابا نے دوسری شادی کر لی…. وہ اپنی نئی نویلی دلہن گھر لے آئے…. ان کی نئی نویلی دلہن سے میرا ننھا سا وجود برداشت نہیں ہوتا تھا….وہ مجھ پر بہت غصہ کرتیں…. بات بات پر ڈانٹتیں…. مجھ پر ہاتھ اٹھاتیں…. میں سہم کر رہ گئی…. پھر ایک دن بابا نے کہا کہ وہ مجھے ایک اچھی سی آنٹی کے یہاں چھوڑنے والے ہیں…. جب نئی ماما کا غصہ ٹھنڈاہوجائے گا تو وہ آ کر مجھے ان آنٹی کے گھر سے واپس لے جائیں گے…. میں بہت روئی…. گڑگڑائی…. کہ مجھے کہیںنہیں جانا…. بابا آپ کے ساتھ رہنا ہے…. پر…. انہوں نے میری ایک نہ سنی…. وہ مجھے پاکستان،لاہور کے ایک یتیم خانے میں چھوڑ آئے…. یہ کہہ کر گئے…. کہ وہ جلد لوٹ آئیں گے…. اور مجھے واپس لے جائیں گے…. لیکن…. وہ نہیں آئے…. میں روز صبح اٹھ کر ان کا انتظار کرتی…. اور روز رات روتے روتے اس امید سے سو جاتی کہ شاید کل صبح وہ مجھے لینے آ جائیں…. پر وہ نہیں آئے…. کبھی واپس نہیں آئے….“

وہ زار و قطار رو دی…. اتنا روئی کہ اس کی سسکیاں بندھ گئیں…. اسے زار و قطار روتا دیکھ، الحان لپک کر اس کی جانب بڑھا…. اور اسے کھینچ کر اپنی بانہوں میں دبوچ کھڑا ہوا…. سہارا ملنے کی دیر تھی…. وہ اس کے سینے میں سر چھپاتی دل کھول کر رو دی…. الحان بہتی نگاہوں سمیت اپنی فل طاقت سے اسے اپنی بانہوں میں دبوچ کھڑا ہوا تھا ایسے جیسے اس ایک لمحے میں مانہ کے سارے غم نچڑ کر ایک ساتھ باہر نکل آئیں گے…. اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ان غموں سے آزاد، خوشی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی…. وہ رو رو کر تھک چکی…. تو اسے ہوش آیا…. وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی…. ایسے جیسے الحان نے الیکٹرک شاک دینا شروع کر دیا ہو…. وہ اپنے گال رگڑنے لگی…. الحان اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…. وہ کچھ دیر خاموش رہی…. پھر بولی….

”آئی ایم سوری!“

”مانو! تمہارے بابا کی کی گئی غلطی کی سزا تم مجھے نہیں دے سکتیں…. سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے مانو!…. میں تمہاری قسم کھا کر کہتا ہوں مانو!…. تم تنگ آ جاﺅ گی مجھ سے…. لیکن میں پھر بھی تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا…. مجھے تمہاری قسم ہے مانو! پلیز مجھ پر اتنا سا اعتبار رکھو…. پلیز!“

”میں مرد ذات پر اعتبار کرنے کے قابل نہیں رہی الحان….“

”صرف اپنے بابا کی وجہ سے؟“

”ہاں….“

”ایسا نہیں کہو مانو! بہت محبت کرتا ہوں تم سے…. مر جاﺅں گا تمہارے بغیر!“

”کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا الحان!…. یہ سب بکواس باتیں ہوتی ہیں…. یہ زندگی…. اتنی آسانی سے مرنے بھی نہیں دیتی….“

کس قدر برفیلا لہجہ تھا اس کا…. الحان بجھ کر رہ گیا….

”آپ پلیز کلاس روم میں جائیں…. وہ سب لوگ آپ کی راہ تک رہی ہوں گی….“

”میں کہیں نہیں جانے والا….“

”اللہ کا واسطہ ہے الحان….! میرے لیے مزید مشکلات مت بڑھائیں پلیز!“

وہ ہاتھ جوڑتی التجا کرنے لگی…. الحان افسردگی سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”پلیز گو….“

اس کی التجا پر وہ نظریں جھکائے، بنا کچھ کہے نڈھال قدموں سے چلتا واپس چلا گیا…. مانہ واپس دروازہ کھولتی شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی…. اس کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو رہی تھیں….

”جذبہ چاہے شدید محبت کا ہو…. یا شدید نفرت کا…. دونوں صورتوں میں انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے….“

اس نے من ہی من میں سوچا…. اور اگلے پل وہ پانی کے چھینٹے منہ پر مارنے لگی….

”تو آنسوﺅں نے کام کر ہی دکھایا….“

آشلے کی زہرخند آواز مانہ کی سماعت سے ٹکرائی…. آنکھیں کھولتی، سر اوپر اٹھاتی وہ آئینے میں ہی اپنے پیچھے کھڑی، پھنکارتی اورنفرت بھری نگاہوں سے خود کی جانب دیکھتی آشلے کی جانب دیکھنے لگی…. مانہ نے ٹشو کھینچتے ہی اپنا چہرہ ٹشو سے رگڑ ڈالا….

”تم بھی رو لو تھوڑا سا جا کر، شاید تمہارا کام بھی بن جائے….“ وہ تحمل بھرے انداز میں جواباً بولی….

آشلے اس کے قریب چلی آئی….

”تمہیں لگتا ہے کہ الحان تم میں دلچسپی رکھتا ہے؟“

آشلے بولتے بولتے نفرت سے مسکرائی، اس کی مسکراہٹ میں طنز تھا…. وہ مانہ کو نفرت اور طنز بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی….

”ہونہہ! وہ صرف اور صرف ٹائم پاس کر رہا ہے، اکیلے میں وہ بھی تمہارا مذاق اُڑاتا ہے…. اس لیے زیادہ ہواﺅں میں اُڑنے کی ضرورت ہرگز نہیں….“

”مجھے لگتا ہے کہ میرے بیٹے نے اگر زندگی میں کوئی غلطی کی ہے تو تمہیں اس شو میں اب تک رکھنے کی غلطی کی ہے….“

مسزابراہیم کی درشت آواز نے ان دونوں کو چونکنے پر مجبور کر دیا تھا…. وہ دونوں پلٹ کر دروازے میں کھڑی مسزابراہیم کی جانب دیکھنے لگیں…. آشلے اک لمحے کو گھبرائی، پھر نفرت بھری نگاہ مانہ پہ دوڑاتی، وہ تیزی سے قدم دوڑاتی دروازے سے باہر نکل گئی….

مسزابراہیم اب براہ راست مامتا بھری نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھ رہی تھیں….

”آئی ایم سو سوری!“

مانہ بیچاری سی شکل بنائے اب ان کے سامنے موجود تھی….

”تم کیوں سوری بول رہی ہو بیٹا!….“

مسزابراہیم نے آگے بڑھ کر پیار سے اس کے رخسار کو چھوا….

”تم رو رہی تھیں؟“

مسزابراہیم نے اس کی آنکھوں میں جھانکا…. انہیں فکر لاحق ہوئی….

”کیوں بیٹا؟ کیا الحان نے کچھ کہا؟…. بتاﺅ مجھے…. میں ابھی اس کی کلاس لوں گی….“

”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں….“

مانہ نظریں چرا گئی…. مسزابراہیم مامتا بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگیں…. پھر دھیمے لہجے میں گویا ہوئیں….

”پھر کیوں رو رہی تھیں تم؟“

”بچوں کو دیکھ کر دل بھر آیا…. اس لیے….“

مانہ دھیمے لہجے میں بولی….

”یہی بات ہے؟“

وہ پوچھ رہی تھیں…. مانہ نظریں چرا گئی…. مسزابراہیم دھیمے سے مسکرا دیں…. وہ سمجھ گئی تھیں…. بات کچھ اورتھی…. انہوں نے زیادہ کریدنے کی ضرورت محسوس نہ کی….

”دیکھو بیٹا!“

وہ اس کے بال سنوارتی مامتا بھرے لہجے میں گویا ہوئیں….

”میں یہاں کسی کی سفارش کرنے نہیں آئی…. نہ ہی تمہیں فورس کرنے آئی ہوں…. بس یہ ایک بے بس ماں کی ایک چھوٹی سی گزارش سمجھ لو….“

وہ ایک لمحے کو رکیں…. پھر بولیں….

”میں نے الحان کی نگاہوں میں تمہارے لیے چاہت دیکھی ہے، سچی محبت دیکھی ہے…. میں ماں ہوں اس کی…. اور اپنے بیٹے کو بخوبی جانتی ہوں…. وہ بدل گیا ہے بیٹا! وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا…. میں نے محسوس کیا ہے…. وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے…. ہو سکے تو صرف ایک بار…. صرف ایک موقع میرے بیٹے کو دے کر دیکھنا…. وہ تمہیں مایوس نہیں کرے گا…. میرا دل کہتا ہے…. وہ تمہیں کبھی مایوس نہیں کرے گا…. اس کی گواہی میں تمہیں دیتی ہوں….“

مانہ بغور ان کی جانب دیکھتی، لمبی سانس کھینچتی اپنی نظریں جھکا گئی….

”دو گی ناں اسے ایک موقع؟“

وہ اُمید بھری نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگیں….

مانہ سر جھکائے اثبات میں سر ہلانے لگی….

”شکریہ میری جان!“

مسزابراہیم نے آگے بڑھ کر مامتا بھرے انداز میں اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے تھے…. مانہ دھیمے سے مسکراتی ان کی جانب دیکھنے لگی تھی….

ض……..ض……..ض

وہ لوگ Ranch واپس آ گئے تھے…. صاحبہ خوشگوار موڈ سمیت مانہ سے ملنے کو بیقرار تھی…. مانہ کو اس کی خوشی کی وجہ معلوم تھی…. اس کا مسکراتا خوشگوار چہرہ پہلی ہی جھلک میں مانہ کو اس کی خوشیوں بھری داستان سنا گیا تھا…. وہ اسے دیکھتے ہی مسکرا دی…. ابراہیم صاحب، مسزابراہیم اور کبیر واپس گھرکے لیے روانہ ہو گئے تھے…. سبھی کچھ روز کے معمول کے مطابق ہونے لگا…. ڈنر کے بعد وہ صاحبہ سمیت کافی کا مگ تھامے بالکونی میںچلی آئی….

”عاشر نے مجھے پرپوز کیا!“

صاحبہ نے اپنے بائیں ہاتھ کی سیکنڈ لاسٹ فنگر میں چمکتی انگوٹھی اپنے ہاتھ سمیت مانہ کی جانب بڑھائی…. اس کے لہجے میں خوشی تھی…. اس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں….

”رئیلی؟“

مانہ کو دلی خوشی محسوس ہوئی…. وہ اس کی چمکتی انگوٹھی پرنظریں ٹکائے شیریں لہجہ میں گویا ہوئی….

”کانگریٹس صاحبہ!…. آئی ایم رئیلی ہیپی فور یُو!“

صاحبہ جھینپ سی گئی….

”عاشر نے کہا…. کہ وہ اس شو کے فوراً بعد میرے گھر والوں سے آ کر ملیں گے….“

مانہ مسکرا دی….

”بہت اچھی بات ہے…. تو غالباً اس شو کے فوراً بعد آپ پیا گھر سدھار جائیں گی؟“

مانہ اب اسے چھیڑنے کے موڈ میں تھی…. صاحبہ جھینپ جھینپ سی گئی….

”یہ سب تمہاری اور الحان کی مدد کے بغیر ناممکن تھا مانہ! اگر تم میری ہمت نہیں بڑھاتیں…. تو شاید میں عاشر سے اور عاشر مجھ سے اپنے دل کی بات کہہ نہیں پاتے…. اس سب کا کریڈٹ تمہیں اور الحان کو جاتا ہے…. تھینک یُو…. تھینک یُو سو مچ!“

وہ ممنون نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھنے لگی…. مانہ نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا….

”میری دعا ہے کہ تم ہمیشہ خوش رہو….“

”تم بھی….“

صاحبہ اس کی جانب دیکھتی خوشگوار انداز میں مسکرا دی….

ض……..ض……..ض

وہی محسوس کرتے ہیں سزا درد محبت کی!

جو اپنی ذات سے بڑھ کر کسی سے پیار کرتے ہیں!

الحان بیڈ پر بیٹھا، لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے کسی کام میں مصروف تھا…. وہ بار بار اپنی پوری توجہ لیپ ٹاپ پر، اپنے کام میں لگانے کی بھرپور کوشش کرتا، مگر ہر باراس کی سوچیں اس کی ساری توجہ کھینچ تان کر اسے اس کے کام سے انفکاک کر ڈالتیں…. وہ جھلّا اٹھا…. لیپ ٹاپ بند کرتا وہ اپنے بالوںمیں انگلیاں پھنسا بیٹھا….

”کیوں ہوتا ہے ایسا…. کہ جس سے ہم اپنی ذات سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں…. وہی ہم پر یقین نہیں کرتا…. وہی ہمیں زخم پر زخم دیے چلا جاتا ہے….“

وہ بیڈ پر نیم دراز ہو بیٹھا…. اس کی نظریں سامنے بند سکرین پر مرکوز تھیں….

”کیا غلطی واقعی ہماری ہوتی ہے کہ ہم ان سے اپنی ذات سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں؟“

وہ من ہی من میں خود سے سوال جواب کرنے لگا…. اس کے سر میں شدید در دکا احساس ہوا…. وہ اگلے ہی پل اپنی آنکھیں موند گیا…. اس کا دل بے چین تھا…. اک پل کا سکون میسر نہ تھا…. وہ بے چینی کے عالمی میں اٹھ بیٹھا…. ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکائے وہ اپنا سر تھام بیٹھا….

”کیوں ہے اس قدر بی چینی؟…. کیوں سکون میسر نہیں؟….“

وہ عالم بے چینی میں،دل ہی دل میں ہمکلام ہوا….

”دل بے چین ہے بیٹا؟…. اسے اللہ کے حضور پیش کرو…. سکون اپنے آپ میسر ہو جائے گا…. کیونکہ دلوں کا سکون صرف اللہ کی ذات کے پاس میسر ہوا کرتا ہے….“

موم کی آواز پر وہ یکایک چونک اٹھا…. اس نے گردن گھما کر پورے کمرے میں نگاہ دوڑائی…. وہاں کوئی نہیں تھا…. اسے اچنبھہ ہوا…. پھر اسے یاد آیا کہ جب وہ ایک بار بیمار ہوا تھا…. تب بھی اس کا دل بے چین ہوا تھا…. تب موم نے اس کا ماتھا چوم کر اس کے دل کی بے چینی کو سکون میں بدلنے کا بہترین فارمولہ بتایا تھا…. الحان یاد آتے ہی مسکرا دیا…. اس نے سامنے دیوار پر لگی ٹک ٹک کرتی گھڑی پر نظر دوڑائی…. تہجد کا ٹائم ہوا چاہتا تھا…. وہ اٹھا…. آستینیں کہنیوں سے اوپر تک فولڈ کرتا، وہ واش روم میں چلا آیا…. اس نے وضو کیا…. پھر جینز کے پائنچے ٹخنوں سے اوپر فولڈ کرتا وہ جائے نماز بچھائے اس پر چڑھ کھڑاہوا…. اک پل میںاس کا دل زوروں سے دھڑکتا محسوس ہوا…. اسے خوف آنے لگا…. اللہ کے حضور نجانے وہ کتنی صدیوں بعد پیش ہونے جا رہا تھا…. اسے خود یا د نہ تھا کہ آخری بار اس نے اللہ کے حضور سجدہ کب پیش کیا تھا…. شاید پچھلی عید…. نماز عید ادا کرتے وقت…. وہ بھی ابراہیم صاحب کے زبردستی لے جانے پر وہ نماز عید ادا کرنے کو گیا تھا…. اسے یاد آیا…. وہ نادم دکھائی دینے لگا….

”کس قدر خودغرض ہوتے ہیں ہم لوگ…. تکلیف ہوتی ہے…. تب ہی اللہ کے حضور حاضری کو چلے آتے ہیں…. دل بے چین ہوتا ہے تب ہی اللہ کویاد کرتے ہیں…. کتناخودغرض انسان ہوں میں….“

اس نے دل ہی دل میں سوچا…. وہ نادم دکھائی دے رہا تھا….

ایک لمبی سانس کھینچتا وہ نماز تہجد کی نیت باندھ کھڑا ہوا…. اس نے بڑے ٹھہر ٹھہر کر…. بڑے آرام آرام سے کافی سارا ٹائم لگا کرنماز تہجد ادا کی…. وہ اب سلام پھیرے جائے نماز پر نظر ٹکا بیٹھا….

”جب کوئی چیز…. تمہیں مشکل سے مشکل تر لگے…. جب تمہیں لگے کہ وہ تمہارے لیے کتنی ضروری ہے…. جب تمہیں لگے کہ اسے حاصل کرنا تمہارے بس کی بات نہیں…. تو جان لو بیٹا! وہ چیز تمہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا…. اسے اللہ سے مانگ کر دیکھنا…. اللہ سب کچھ دیتا ہے….“

موم کی آواز ایک بارپھر سے اس کی سماعت سے ٹکرائی…. وہ درد کی کیفیت میں مسکرا دیا….

”موم! یہ دعا کیا ہوتی ہے؟“

اس کا بچپن اس کی آنکھوں کے سامنے موجود تھا…. موم جائے نماز پر بیٹھی تھیں…. آٹھ سالہ الحان ان کے پاس زمین پر بیٹھا معصومیت سے ان کی جانب دیکھ رہا تھا…. موم مامتا بھرے انداز میں مسکرا دیں….

”دعا! یعنی اللہ تعالیٰ سے براہ راست باتیں کرنا!“

”موم! کیا اللہ تعالیٰ ہماری باتیں سنتا ہے؟“

وہ معصومیت سے گویا ہوا….

”ہاں بیٹا! ہم اللہ سے باتیں نہیں کریں…. وہ تب بھی ہمیں سنتا ہے…. وہ ہماری رگ رگ سے واقف ہے…. دعا تو ایک بہانہ ہے…. ہماری تسلی کے لیے…. ورنہ اللہ ہمیں ہر پل سنتا ہے….“

موم پیار سے اسے سمجھانے لگیں….

”اتنے سارے لوگ ہیں دنیا میں…. کیا اللہ سب کی سنتا ہے؟“

وہ پھر سے پوچھنے لگا….

”ہاں بیٹا!…. وہ سب کی سنتا ہے…. کیونکہ وہ ہماری لاکھ کوتاہیوں کے باوجود…. ہم سے بے پناہ محبت کرتا ہے….“

معصوم الحان معصومیت سے موم کی جانب دیکھنے لگا…. پھر بولا….

”موم! دعا کیسے مانگتے ہیں؟‘

موم مسکرا دیں….

”دعا کے لیے دھیان ضروری ہوتا ہے…. دھیان کے لیے وجدان…. وجدان یعنی سارے وجود کا ایک نقطے پر مرتکز ہو جانا…. جب ہم تکلیف میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری مشکل آسان کیے دیتے ہیں…. حالت اضطرارمیں مانگی جانے والی دعا کی قبولیت کی راہ میں کوئی شے حائل نہیں ہو سکتی….“

الحان دھیمے سے مسکرا دیا…. پلک جھپکتے ہی اس کا بچپن، اس کی موم اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں…. وہ بے چین نگاہوں سے اردگرد دیکھنے لگا…. جب ہوش میں آیا تو جائے نماز پر نظریں ٹکائے وہ اپنے دونوں ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں بلند کرنے لگا…. اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا…. اس نے اپنی آنکھیں موند لیں…. اس کا سر جھک گیا…. اس کے لب تھرتھرائے…. وہ اللہ کے حضور پیش ہوا…. اس نے سرگوشی کی….

”اے اللہ! تُو جانتا ہے کہ میں تیری کائنات کا سب سے حقیر ذرّہ ہوں…. میری کم ظرفی کی داستانیں آسمان سے بھی بلند ہیں…. میری حقیقت سے اور میرے دل میں چھپے ہر چور سے بس تُو ہی واقف ہے…. میرے گناہوںکی فہرست کتنی بھی طویل سہی، لیکن تیری بے کراں رحمت سے کم ہے…. میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں اور ان پر ندامت کے ساتھ تجھ سے معافی مانگتا ہوں…. اور توبہ کرتا ہوں…. میری توبہ قبول کرکے اپنی شان کے مطابق مجھے معاف فرما دے…. اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ میرا نفس مجھے ہر لمحہ تیری نافرمانی پر اکساتا رہتا ہے…. میں اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر تجھ سے معافی مانگتا ہوں…. اور اس کے بعد پھر میرا نفس قابو میں رکھنے کا ارادہ کرتا ہوں…. اے اللہ! تجھ کو تیرے فضل و کرم اور رحمت و برکت کے ذریعے سے پکارتا ہوں…. تُو مجھے اتنا معاف کر، جتنا تُو معاف کرنے والا ہے…. اے اللہ! ہر لمحہ میری لاج رکھ ، اس لیے میں جانتا ہوںکہ صرف تُو ہی ایسا ہے جو اپنے بندوں کی لاج رکھنے والا ہے…. اے اللہ! میرے عیبوں،گناہوں اور جہالت پرپردہ ڈالے رکھ…. میرے مالک! تو ہی میرا سہارا ہے…. اور تیرا ہی مجھے آسرا ہے…. اے اللہ! تُو ہی عیبوں کا پردہ دار ہے…. میری جھولی میں سو چھید ہیں…. لیکن تیری رحمت کی کوئی حد اور حساب نہیں…. اے اللہ! میری جھولی تیرے سامنے پھیلی ہے…. اسے معافی و بخشش سے بھر دے…. اور مجھے استقامت دے کہ اب پھر گناہوں سے اپنے آپ کو سیاہ نہ کروں…. میرے دل کو سکون دے…. میرے حق میں بہتری عطا فرما میرے اللہ!…. تُو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے اللہ! تُو سب جانتا ہے…. مجھے معاف فرما! میری مشکل آسان کر دے…. میرے سارے زنگ اُتار یا رب! اور اپنا رنگ چڑھا مجھ پہ!…. آمین! یااللہ پاک آمین!….“

دعا کے اختتام پر وہ بے حد پُرسکون دکھائی دینے لگا…. اس کے دل میں سکون اُترتا چلا گیا …. اس نے اللہ کے حضور سجدہ پیش کیا اور جائے نماز فولڈ کرتا، اٹھ کھڑا ہوا…. وہ اب بے حد پُرسکون تھا…. اس کے لبوں پر، پُرسکون مسکراٹ بکھرتی چلی گئی…. وہ کھڑکی میں چلا آیا…. اس نے آسمان پر چمکتے چاند پر نظر دوڑائی…. اس نے گہری لمبی سانس کھینچی…. اور پھر مسکراتا ہوا من ہی من میں اللہ کے حضور شکر ادا کرنے لگا….

”یااللہ! تیرا شکریہ!“

ض……..ض……..ض

اگلا پورا ہفتہ ہمیشہ کی طرح بزی گزرا…. الحان اس پورے ہفتے مانہ سے دور رہا…. اس نے اس سے بات کرنے کی کوشش بھی نہ کی تھی…. وہ اسے ٹائم دے رہا تھا…. مانہ نے یہ ہفتہ صاحبہ کے ساتھ گزارا…. وہ باقی کا وقت اپنا ناول لکھتے گزارتی…. باقی تمام لڑکیاں ہمیشہ کی طرح الحان کو امپریس کرنے کی ناکام کوشش میں مگن رہیں…. اگلی ایلمنیشن کا دن آن پہنچا تھا…. صاحبہ بے چین تھی…. اسے الحان سے بات کرنا تھی….

”مانہ! میں اس بار کی ایلمینیشن میںایلیمنیٹ ہو کر گھر واپس جانا چاہتی ہوں….“

مانہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”تم نے عاشر سے اس بارے میں بات کی؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”ہاں!…. عاشر نے ہی تو بولا…. لیکن وہ اس قدر بزی ہیں کہ انہیں الحان سے بات کرنے کا ٹائم ہی نہیں ملا…. میں الحان سے بات کرتی ہوں….“

”لیکن…. تم اتنی جلدی کیوں جانا چاہتی ہو؟“

”مانہ! مجھے اپنے گھر والوں سے عاشر کے بارے میں بات کرنی ہے…. عاشر نے کہا ہے کہ وہ اس شو کے فوراً بعد شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں…. مجھے تیاریاں کرنا ہیں….“

وہ پریشان دکھائی دی….مانہ مسکرا دی….

”اچھاجاﺅ…. الحان سے کہہ دو…. کہ اس بار وہ تمہیں گھر واپس بھیج دے….“

صاحبہ مسکراتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی…. الحان اصطبل کے قریب اپنے گھوڑے کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتا دکھائی دیا…. صاحبہ اس کے قریب آئی….

”الحان!“

”ہوں….؟“

وہ پلٹا اور اس کی جانب دیکھنے لگا….

”الحان! مجھے اس بار ایلیمنیٹ کر دو….“

الحان حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”خیریت؟“

”ہاں…. مجھے شادی کی تیاریاں کرنی ہیں…. وقت کی کمی ہے…. اس لیے پلیز….“

اس کی التجا پر الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا….

”اوئے ہوئے…. شادی کی تیاریاں…. پہلے اس گدھے کو…. اوہ سوری!…. آئی مین…. آپ اپنے عاشر صاحب کو اچھے سے پرکھ تو لیں میڈم!“

وہ اب شرارت پر آمادہ تھا….

”الحان!“

صاحبہ آنکھیں دکھانے لگی….

”اچھا سوری!“

الحان نے کان پکڑے…. پھر پوچھنے لگا….

”تم نے عاشر سے اس بارے میں بات کی؟“

صاحبہ اپنی آنکھیں میچتی حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”الحان! تمہیں معلوم ہے…. مانہ نے بھی ابھی مجھ سے سیم سوال پوچھا تھا….“

”رئیلی؟“

الحان مسکرانے لگا….

”ہم دونوں کی سوچ بہت ملتی ہے ناں؟“

وہ خوامخواہ خوش ہونے لگا…. صاحبہ مسکرا دی….

”تم مانہ سے محبت کرتے ہوناں؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”ہاں! کرتا ہوں…. مگر پلیز کسی سے کچھ کہنا مت…. میں نہیں چاہتا کہ باقی کی تمام لڑکیاں یہ خبر سنتے ہی میرا قتل کر ڈالیں….“

الحان نے سرگوشی کی…. صاحبہ کھلکھلا کرمسکرا دی….

”مانہ کا بہت سارا خیال رکھنا…. وہ بہت اچھی ہے…. اس کی قدر کرنا….“

”شیور میڈم! آپ کا حکم سر آنکھوں پر….“

الحان مہذبانہ انداز میں گویا ہوا….

”گڈ! مجھے یہاں آ کر…. تم سے اور مانہ سے مل کربہت اچھا لگا…. بہت سی خوبصورت یادیں لیے جا رہی ہوں…. تم بہت اچھے ہو الحان…. اللہ تمہیں اور مانہ کو ایک ساتھ ہمیشہ خوش رکھے….“

”آمین آمین!…. یار! میری تھوڑی سی تعریف مانو کے سامنے بھی کر دو…. اسے بھی بتا دو کہ میں اچھا انسان ہوں….“

صاحبہ اس کے انداز پر کھلکھلاتی قہقہہ لگانے لگی….

”شیور!“

ض……..ض……..ض

مانہ لاﺅنج میںبیٹھی تھی…. سامنے والے صوفہ پر مسکان براجمان تھی…. وہ شاید کوئی میگزین دیکھنے میں مصروف تھی…. صاحبہ خوشی سے دمکتا چہرہ لیے اندر چلی آئی…. وہ مانہ کے ساتھ آ بیٹھی…. مانہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”الحان نے کہا کہ وہ مجھے گھر واپس بھیج دے گا!“

اس نے کھلکھلاتے ہوئے اطلاع دی…. مانہ مسکرا دی….

”مجھے معلوم تھا…. آئی وش یُو آل دی ویری بیسٹ!“

”تھینک یُومانہ!“

”میں تمہیں مس کروں گی….“

”می ٹو!“

ان دونوں کی گفتگو کے دوران مسکان نظریں اٹھا کر ان دونو ںکی جانب دیکھنے لگی…. مانہ نے اسے اگنور کیا…. وہ دونوں سرگوشی میںبات کر رہی تھیں…. مسکان تجسس بھری نگاہیں ان دونوں پر دوڑاتی ایک بار پھر سے میگزین کے اوراق پلٹنے لگی….

”مانہ! مجھے لگتا ہے کہ تمہیں الحان کو ایک چانس ضرور دینا چاہیے…. وہ یقینا بہت اچھا انسان ہے…. تمہاری بہت عزت کرتا ہے…. بہت محبت کرتا ہے تم سے….“

صاحبہ سرگوشی میں گویا ہوئی…. مانہ خاموشی سے سر ہلانے لگی….

”فی الحال میں کچھ کہہ نہیں سکتی…. لیٹس سی…. دیکھتی ہوں زندگی کس کروٹ بیٹھتی ہے….“

وہ گہری سنجیدگی سے گویا ہوئی….

”ڈونٹ وری…. ان شاءاللہ ! سب اچھا ہی ہو گا….“

صاحبہ کی سرگوشی پر وہ ہلکے سے مسکرا دی….

ض……..ض……..ض

ایلیمنیشن کی گھڑیاں آن پہنچیں…. خرم کی تھوری سی سپیچ کے بعد الحان ایک بار پھر سے پھولوں بھری ٹرالی کے سامنے کھڑا تھا…. لڑکیوں کے چہروں پر وہی پرانا خوف منڈلا رہا تھا…. الحان ان سب سے تنگ آ چکا تھا…. وہ جلد از جلداس شو کا اختتام چاہتا تھا…. اور اختتام کے بعد وہ مانہ کے پاس جا کر اس شو سے ہٹ کر اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا…. مگر ابھی وقت باقی تھا…. آج کی رات ٹاپ (4) کی رات تھی…. اور آج کی ایلیمنیشن کے بعد مانہ کا اس شو میں آخری ہفتہ باقی رہ جانے والا تھا…. الحان اس کے چلے جانے کی سوچ پر ہی اُداس ہونے لگا تھا اور دوسری طرف وہ جلد از جلد اس شو کا اختتام بھی چاہتا تھا…. اس نے ایک پھول اٹھایا…. اور لمبی سانس کھینچنے کے بعد مانہ کا نام پکار ڈالا…. وہ جلدی سے چلتی، پھول تھامتی ایک الگ سائیڈ پر مس فاطمہ کے برابر میں جا کھڑی ہوئی…. آشلے کی نفرت بھری نگاہیں مانہ پر مرکوز تھیں…. دوسرا پکاراجانے والا نام تائبہ کا تھا…. آشلے اور مسکان پھنکارنے لگیں…. تیسرا نام آشلے کا پکارا گیا…. وہ اسے اور مسکان کو ایلیمنیٹ کرنا چاہتا تھا…. لیکن ان دونوں کی ہائی ریٹنگ اور چینل والوں کی ڈیمانڈ پر وہ انہیں ایلیمنیٹ کرنے سے باز رہا…. چوتھا نام مسکان کا پکارا گیا…. وہ خوشی سے اُچھلتی، پھول تھامتی سلیکٹ کی جانے والی لڑکیوں کے بیچ آ کھڑی ہوئی…. صاحبہ نے سکون کی سانس لی جبکہ جینی کافی افسردہ دکھائی دینے لگی

”سوری لیڈیز!“

الحان نے ہمیشہ کی طرح ایک مخصوص جملہ بولا…. سبھی لڑکیاں، ایلیمنیٹ کی جانے والی دونوں لڑکیوں سے بعلگیر ہونے لگیں…. مانہ پہلی بار کسی لڑکی کے ایلیمنیٹ ہو جانے پر افسردہ تھی…. صاحبہ سے ملتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں….

ض……..ض……..ض

نہیں ہم کو شکایت اب کسی سے

بس اپنے آپ سے روٹھے ہوئے ہیں

بظاہر خوش ہیں، لیکن سچ بتائیں

ہم اندر سے بہت ٹوٹے ہوئے ہیں!

صاحبہ کے چلے جانے کے بعد سے اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر کے رکھ دیا تھا…. ٹاسک کے دوران وہ نیچے چلی آتی اور پھر ٹاسک ختم ہوتے ہی واپس اپنے کمرے میں گھس جاتی…. دو دن ایسے ہی گزر گئے…. الحان نے خود سے اسے بلوانے کی کوشش تک نہ کی…. ٹاسک اور کھانے کے دوران وہ نظر بھر کر دیکھ لیتا، پھر نظر ملتے ہی وہ نظریں چرا جاتا…. یہ سلسلہ دو دنوں تک مسلسل چلتا رہا…. آج وہ لوگ ڈنر سے فری ہو کر کافی کا دور چلا ہی رہے تھے کہ خرم نے پُرجوش انداز میں اپنی اینٹری دی….

”سرپرائز!“

"What?”

تائبہ، مسکان اور آشلے کی شکل دیکھنے والی تھی، وہ یقینا حیران تھیں کہ صرف دو دن بعد اگلی ایلیمنیشن کیسے آ سکتی ہے…. الحان بھی حیران کن نگاہوں سے خرم کی جانب دیکھنے لگا…. خرم شریر مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے اپنے مخصوص انداز میں گویا تھا….

”ویل! لیڈیز! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں…. میں آج یہاں ایلیمنیشن کا سرپرائز نہیں بلکہ ایک سپیشل سرپرائز لے کر حاضر ہوا ہوں…. گیس واٹ؟“

تینوں لڑکیاں سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگیں…. مانہ ان سب سے انجان، اپنا کپ منہ سے لگا بیٹھی تھی….

”سب سے پہلے آپ چاروں لیڈیز کو کامیابی کے اتنا قریب آنے پر بہت بہت مبارک ہو!….“

”تھینک یُو!“

وہ تینوں جھینپتی ہوئی یک آواز ہو کر بولیں….الحان اپنا سر جھکائے بیٹھا تھا…. مانہ نے ایک اچٹتی سی نگاہ الحان پر دوڑائی…. خرم ہنوز مسکراہٹ لبوں پر سجائے لیڈیز سے مخاطب تھا….

”سو!…. آپ سبھی لیڈیز کا سرپرائز یہ ہے…. کہ آپ چاروں لیڈیز،کل صبح، اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے والی ہیں….“

”رئیلی؟“

آشلے حیران ہوئی….

”کیوں؟“

اس بار مسکان نے اپنی زبان کھولی….

”آپ چاروں اپنے اپنے گھروں کو پہنچ کر، اپنی فیملی سمیت،الحان کا اپنے گھر وزٹ کا انتظار کریں گی….“

خرم کی اطلاع پر الحان یکایک چونک اٹھا…. وہ خاصا حیران دکھائی دے رہا تھا…. مانہ بھی حیرانی سے خرم کی جانب دیکھنے لگی…. جبکہ باقی تینوں لڑکیاں خاصی شاداں دکھائی دے رہی تھیں….

”رئیلی؟“

آشلے نے خوشی کا اظہار کیا….

”یس افکورس!…. اب یہ آپ سب پر ہے کہ آپ چاروں لیڈیز، اپنی فیملی سمیت الحان کو امپریس کرنے کی کوشش اور تیاری کیسے کرتی ہیں…. آپ چاروں کو کل کا پورا دن دیا جائے گا…. پرسوں الحان آپ میں سے دو لیڈیز کے گھروں کو وزٹ کریں گے…. آپ کی فیملی سے ملیں گے اور چند گھنٹے آپ کی فیملی کے ساتھ گزاریں گے…. اور پھر اگلے دن وہ باقی رہ جانے والی دونوں لیڈیز کے یہاں وزٹ کرنے آئیں گے…. اور پھر اس سے اگلے دن…. یعنی کے چوتھے روز آپ سب لیڈیز ایک بار پھر سے ہمارے ساتھ یہاں Ranch پر الحان ابراہیم سے ملاقات کریں گی…. سو لیڈیز! ایکسائیٹڈ؟“

خرم نے ڈیٹیل دیتے ہی مسکراتے ہوئے سوال پوچھا…. وہ تینوں لیڈیز خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھیں، جبکہ مانہ ایک بار پھر سے اُداس ہو بیٹھی تھی…. الحان خود جھلّایا ہوا نظر آ رہا تھا…. لیکن وہ کہیں نہ کہیں خوش بھی تھا…. کیونکہ اس بار وہ مانہ کی فیملی سے ملنے والا تھا…. اس نے نگاہ اٹھا کرمانہ پر دوڑائی…. مانہ بظاہر نارمل بیٹھی ہوئی تھی…. الحان ہلکے سے مسکرا دیا….

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے