سر ورق / ناول / چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں…آسیہ مظہر چوہدری…قسط نمبر 3

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں…آسیہ مظہر چوہدری…قسط نمبر 3

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں

آسیہ مظہر چوہدری

قسط نمبر 3

ایبٹ آباد میں سردیاں پوری شد ومد سے اتر آئی تھیں اور اوپر سے یونیورسٹی کی نئی کلاسیس بھی باقاعدہ اگلے دو دن سے شروع ہونے والی تھیں۔ ایسے میں عائلہ یونیورسٹی اور گھر کے درمیان گھن چکر بنی ہوئی تھی کیونکہ شمشاد اور فاروق خان زئی کی سیٹیں کنفرم ہو چکی تھیں اور انہیں دو دن بعد نائیجیریا روانہ ہو نا تھا۔ زہرہ کو اس نے لاہور سے بلوا لیا تھا ۔ وہ بھی اس کا پورا پورا ساتھ دے رہی تھی۔ شاپنگ سے لے کر پیکنگ تک عائلہ اور زہرہ نے مل کر کام کیا تھا۔

”ابو اپنا اور امی کا خیال رکھیے گا اور دوائیاں ٹائم سے لیجیے گا۔“

شام کو ان کی فلائیٹ تھی اور ان کے روانہ ہونے سے پہلے عائلہ انہیں خصوصی ہدایات ازبر کروا رہی تھی۔

”ارے بیٹا یہ بات آپ کوئی سو سے زائد مرتبہ کہہ چکی ہو، اب تو یہ جملہ ہمارے دل پر نقش ہو چکا ہے۔“ فاروق خان زئی نے شرارت سے اسے ٹوکا تھاا۔

”اچھا بیٹا اپنا بہت خیال رکھنا اور ہاںزہرہ تم اب یہیں رہنا۔ میں نے تمہاری ماں سے اجازت لے لی ہے، ایک مہینے کی بات ہے۔ پلک جھپکتے گزر جائے گا۔“ شمشاد خان زئی نے جواباً کہا تو وہ دونون سر ہلا کر رہ گئیں پر عائلہ نہیں جانتی تھی کہ تقدیر کیا سوچے بیٹھی ہے۔

٭….٭….٭

وہ جس وقت رکشہ سے اتری سورج پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان پر چمک رہا تھا۔ اس نے رکشے والے کو کرایہ تھمایا اور عمارت کی جانب بڑھ گئی۔ ایس کے بلڈنگ اپنی پوری طاقت اور غرور کے ساتھ زمین پر سینہ تانے جلوہ افروز تھی۔ اس نے عمارت میں داخل ہونے سے پہلے جتنی قرانی آیات ازبر تھیں، دل میں پڑھ لیں۔ بس دل میں ہی امید ڈیرے ڈالے بیٹھی تھی کہ اسے آج جاب مل جائے پچھلے چھ ماہ سے دھکے کھاتے کھاتے اب وہ جسمانی طور پر تھکنے لگی تھی۔ لوگوں کے رویے اب اسے کمزور کرنے لگے تھے۔ آج یہاں وہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ آئی تھی کہ جیسے بھی اسے یہ نوکری ضرور حاصل کرنی ہے۔

رسیپشن پر پہنچ کر اس نے معلومات لی اور ویٹنگ روم کی جانب چل دی۔ ویٹنگ روم میں پہلے سے ہہی اس جیسے بہت سے امید وار محو انتظار تھے۔ وہ انتظار میں لگے ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ اب اسے بلائے جانے کا انتظار کرنا تھا۔

٭….٭….٭

”شاہ زر سنا ہے کہ کچھ نئے اسٹودنٹس بھی یونی میں آئے ہیں۔“ وہ تینوں دوست اس وقت کیفے ٹیریا میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے ، جب عباد نے خبر سنائی۔

”تو کیا کریں یار، طاہر یونیورسٹی تعلیمی ادارہ ہے ، ہر کوئی یہاں تعلیم حاصل کرنے آتا ہے۔اس نے بات ہوا میں اڑاتے ہوئے جواب دیا۔

”یار وہ تو ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں آئی ہیں۔“ اب کے صغیر نے شرارت سے آنکھ دبائی۔

”کمینوں میں اب سمجھاکچھ شرم کرو۔“ شاہ زر نے لتاڑا تھا۔

”ارے ہم نے کیا کیا ہے؟“ وہ سب مسکین صورت بنائے بولے تھے۔

”میں تم لوگوں کی خصلت سمجھتا ہوں، جہاں لڑکی دیکھتے ہو رال ٹپکنے لگتی ہے۔“ شاہ زر نے ان کا پول کھولا۔

”ہاں اب ہم تمہاری طرح پتھر دل تو نہیں ہیں۔۔“ فراز الٹا اسے گھورتے ہوئے کہنے لگا، وہ جواباً سر جھٹک کر رہ گیا۔

”اسٹاپ دس ٹاپک، چلو پیریڈ کا ٹائم ہونے والا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

وہ سب بھی اس کے پیچھے باہر نکل گئے تھے۔

٭….٭….٭

”مس شہنیلا فاروق۔۔۔“

اس کا نام پکارا گیا تو وہ ہڑبڑا کر خیالوں کی دنیا سے نکل آئی۔

”مس آپ کانفرنس روم میں آئیے۔“ کانفرنس روم کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑانے لگے تھے۔ وہ نروس ہو رہی تھی۔ دل تھا کہ تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔

”مے آئی کم ان سر“ مسٹر ابراہیم اسے ساتھ لیے کانفرنس روم میں داخل ہوئے۔

”سر یہ لاسٹ امیداوار بچی ہیں۔“ مسٹر اابراہیم نے اس کی جانب اشارہ کیا۔

”آئیں مس شہنیلا بیٹھیے۔“ شہروز نے سامنے رکھی کرسیوں کی جانب اشارہ کیا تو وہ جھجکتے ہوئے ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔

”پلیز گیو می یور ڈوکومینٹس۔“ شہروز نے یہ کہتے ہوئے اپنا مضبوط ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی سی وی فائل شہروز کی جانب بڑھائی تھی۔ پتا نہیں کیوں آج وہ خلاف معمول زیادہ نروس اور گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھیں۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ انٹرویو کے لیے جہاں بھی جاتی تھی ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا پھر پتا نہیں آج اس کے ساتھ کیا ہو رہا تھا۔

”یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟“ اس نے دل میں جھنجھلاتے ہوئے سوچا تھا،

”مس شہنیلا۔۔۔“ شہروز نے پکارا تو وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔

”آپ یہاں جاب کے لیے انٹرویو دینے کے لیے آئی ہیں اس لیے پلیز دماغ یہاں حاضر رکھیں،“ شہروز نے کہا تو اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔

”سوری سر! “ وہ شرمندہ سی معذرت کر گئی تھی۔

”آپ کا پہلے کوئی تجربہ رہا ہے جاب کا؟“ انٹرویو کا باقاعدہ آغاز ہونے سے پہلے سوال شروع ہو گیا تھا۔

”جی سر میں ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر کے عہدے پر کچھ عرصہ فائز رہی ہوں۔“اس نے جواباً صاف گوئی سے کہا۔

”ہوں پر آپ کی تعلیمی قابلیت تو کافی گڈ ہے تو آپ نے کسی بڑے ادارے میں جاب کیوں نہیں کی؟“ شہروز سے اس سوال پر وہ تلخی سے مسکرائی تھی۔

”سر ہمارے معاشرے میں تعلیمی قابلیت میں صرف رشوت دیکھی جاتی ہے۔“

”اوہ۔۔۔“ شہروز کو شہنیلا کے کہے جملے نے کاافی کچھ سمجھا دیاتھا۔

”آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں۔“ شہروز کی بات پر وہ ساکت رہ گئی تھی۔

”سر! مجھے یہاں جاب مل گئی۔“ ابھی بھی بے یقینی سی تھی۔

”ہاں مس شہنیلا آپ کل سے آ سکتی ہیں۔“ شہروز اب کے بے ساختہ مسکرا اٹھا تھا۔

”شکریہ سر! میں آپ کی شکر گزار ہوں۔“ وہ خوشی کے مارے بے ربط ہو گئی تھی۔ من تھا کہ ہواوں میں اڑ رہا تھا۔

” نو تھینکس مس شہنیلا! ہم اتنی لائق اور جیئنس خاتون کو کبھی بھی رد نہیں کر سکتے۔“

شہروز جواباً بولا تھا اور وہ خوشی کے مارے اونچی فضاوں میں اڑتی جا رہی تھی۔

٭….٭….٭

 شمشاد خان زئی اور فاروق خان زئی کو نائیجیریا روانہ ہوئے دو دن ہو چکے تھے۔ آج وہ یونیورسٹی آئی تھی۔ نیو کلاسز کی وجہ سے ابھی پڑھائی پر اتنا زور نہ تھا اس لیے کافی اسٹوڈنٹس کیفے ٹیریا میں یا یونی سے ملحقہ باغ میں بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ اس نے سائیڈ بورڈ پر نظر دوڑائی اور کلرک کے آفس کا راستہ معلوم کرنے کے بعد سیدھی سیکنڈ فلور کی جانب بڑھ گئی۔

”آوچ۔۔۔“ ابھی پانچویں سیڑھی پر ہی پہنچی تھی کہ کسی کے ساتھ زور دار ٹکر نے اسے دن میں تارے دکھا دئیے۔

”دیکھ کر نہیں چل سکتے۔“ ماتھے کو سہلاتے ، تیوریاں چڑھائے ہوئے وہ مخالف پر چڑھ دوڑی۔

”میڈم قصور میرا نہیں آپ کا ہے جو آپ آنکھیں بند کر کے چل رہی ہیں۔“ مخالف سمت والا بھی جواباً اسی لہجے میں بولا تھا۔

” مسٹر۔۔۔“ اسنے دانت کچکچاتے ہوئے کہا۔

”میرا نام شاہ زر خان ہے، مسٹر نہیں۔“ وہ شرارت بھرے لہجے میں اسے اور تپا رہا تھا۔

”جسٹ شٹ اپ۔“ وہ غصے سے کہتی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی جبکہ شاہ زر ابھی تک وہیں کھڑا مسکرا رہا تھا۔

٭….٭….٭

”گل مجھے جاب مل گئی ہے۔“ وہ اپنے کمرے میںٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہی تھی جب اسرار آفندی کی آواز اس ک کانوں میں پڑی تھی۔

”سچ۔۔۔” وہ خوشی کے مارے بول اٹھی تھی۔

”سچ میری جان مجھے لندن میں جاب ملی ہے۔“ اسرار نے اس کے دونوں بازووں کو تھامتے ہوئے کہا۔

”لندن؟“ اب وہ افسردہ ہو گئی تھی۔

”ارے میری جان پریشان کیوں ہو رہی ہو۔ میں وہاں سیٹل ہوتے ہی تمہیں بھی بلا لوں گا۔“

اسرار نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

”سیٹل ہونے میں بھی ٹائم لگے گا۔“

”اور یہ ٹائم تم میری محبت کو یاد کرتے گزار لینا۔“ اسرار شرارتی سا بولا۔

” اتنا آسان نہیں ہے آپ کے بنا یہاں رہنا۔“

”بس میری خاطر رہ لینا اور پلیز اب ٹینشن نہ لو۔ میرے بچے پر برا اثر پڑے گا۔“

اسرار کی اس بات پر وہ شرما کر منہ پھیر گئی تھی۔

٭….٭….٭

”امو جان۔۔۔شہروز بھائی کب سدھریں گے؟“

رات بھر بارش برسنے کے بعد صبح تک مطلع کافی حد تک صاف ہو گیا تھا پر سردی کی شدت ابھی تک باقی تھی۔ آزاد کشمیر کے ہر موسم کا رنگ دلفریب اور نرالا ہوتا تھا کبھی سردی میں دھوپ اور کبھی دھوپ میں ہلکی ہلکی ٹھنڈ، آزاد کشمیر کی فضاوں کا اپنا سندیسہ دینے پہنچ جاتی تھی۔ اموجان بھی اس وقت باہرلان میں بیٹھی ااون کے گولوں سے چھیڑ خانی کرتے اس موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ جب ثمرہ چائے کی ٹرے لیے دھپ سے ان کے پاس آ بیٹھی۔

”کیوں کیا ہوا شہروز کو؟“ امو جان نے ناسمجھی کے عالم میں اسے تکا تھا۔

”شہروز بھائی کیا بوڑھے ہو کر شادی کریں گے؟“

”اچھا۔۔۔“ امو جان مسکرائیں اور پھر بولیں۔

”بس بہت جلد شہروز بھی گھر والا ہو جائے گا۔“ امو جان کا لہجہ مزح بھرا تھا۔

”ہاں جب ہمارے بچوں کی شادیا ں ہو جائیں گی۔“ ثمرہ برا مان کر بولی۔

”ہا ہا ہا ابھی بچے آئے نہیں اور بچوں کی شادیوں کی تیاریاں پہلے ہی شروع ہو گئیں۔“ امو جان نے اب ثمرہ کی درگت بنائی۔ وہ امو جان کی شرارت سمجھتے ہوئے فوراً اباہر بھاگی تھی۔

”کس کی تیاریاں شروع ہیں؟“ شہروز کے کان میں ان دونوں کی آخری بات پڑی تھی اس لیے وہ بغیر کوئی تاثر دئیے پوچھنے لگے۔

”ارے آج جلدی آفس سے آ گئے۔“امو جان نے رسانیت سے پوچھا۔

”جی امو جان آپ کو بتایا تو تھا کہ آج انٹرویو کالز لینی تھیں۔“ شہروز بولے۔

”ہاں ہاں چائے منگواو¿ں۔“ امو جان نے پوچھا

”جی منگوا دیجیے۔“ انہوں نے اثبات میں سر ہلا یا تھا۔

”اور مجھے آج تم سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے۔“

”جی کیجیے امو جان۔“ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔

”تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟“ امو جان نے آج دو ٹوک بات کرنے کا تہیہ کیا تھا۔

”امو جان اتنی جلدی کیا ہے؟“ انہوں نے ٹالا۔

”جلدی کیا ہے۔ ارے تیس سے اوپر کے ہو رہے ہو اور جلدی کیا ہے کی رٹ لگا رکھی ہے بس میں تو اب تمہارا رشتہ پکا کرنے لگی ہوں۔“ امو جان آج رعایت کے موڈ میں نہیں تھیں۔

 شہروز خان یکدم الرٹ ہو گئے تھے۔

”کہاں؟“

”روزینہ کی بیٹی گل جان سے۔“ یہ سنتے ہی شہروز خان کے سر پر یکدم ملبہ آ گرا تھا۔

”گل جان کے ہاں۔“ وہ بڑبڑائے تھے۔

”کیوں کیا کمی ہے گل جان میں۔“ امو جان نے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے پوچھا تھا۔

”نہیں یہ بات نہیں ہے۔“ وہ فوراً بولے تھے۔

”پھر۔۔۔؟“ امو جان کا لہجہ سوالیہ ہوا۔

 ” اچھا دیکھیں گے۔“ یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے اٹھ گئے تھے۔ پھر پتا نہیں کیوں شادی کے نا م پر ان کی نظروں میں کسی کا چہرہ آ سمایا تھا اور وہ چہرہ شہنیلا فاروق کا تھا۔

٭….٭….٭

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے

پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

غالب ہمیں نہ چھیڑ پر جوش اشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے

 عائلہ خان زئی اور شاہ زر خان کی وہ پہلی عجیب ملاقات ہی ان کے دل کا کنکشن جوڑ گئی تھی۔ وہ اجنبی پھر ایسے ایک ہوئے کہ سارے جہان کو بھول گئے۔ محبت کی دیوی نے انہیں اپنے حصار میں لے لیا کہ صرف وہ دو ہی ایک دوسرے کو نظر آنے لگے۔ محبت بڑی عجیب شے ہے جس کسی پر مہربان ہو تی ہے تو پھر اسے اپنا مہربان کر لیتی ہے۔ عائلہ اور شاہ زر کو بھی اس نے اپنا مہربان کر دیا تھا۔ محبت کی پھوار ان دو نفوس پر ایسے برسی کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے پاگل کر دیا۔

٭….٭….٭

اسرار لندن جا چکا تھا ۔ گل بخت کو امید دلاسے دلا کر ۔ محبت کی ڈوری میں باندھ کر کہ وہ جلد اسے اور اپنے ہونے والے بچے کو اپنے پاس بلا لے گا ااور گل بخت نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی بات پر یقین کر لیا تھا اس کے جانے کے ایک ماہ بعد ان کے گھر گلناز پیدا ہوئی تھی۔ اور اس موقع پر گل بخت نے اسرار آفندی کو بڑی شدت سے یاد کیا تھا کہ یہ ایسا لمحہ تھا جس میں اس بچے کے باپ کو اسکے پاس ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہ ہوا تھا اسرار آفندی نے دو منٹ کی کال میں ان لمحوں کا خراج ادا کر دیا تھا۔ گل بخت جب گھر آئی تو ایک اور مصیبت نے ان کی راہ دیکھ لی۔ اسرار کے گھر والوں نے ان دونوں ماں بیٹی کو یہ کہہ کر داخل ہونے سے منع کر دیا تھا کہ وہ اسرار کی ذمہ داری ہیں ان کی نہیں کہ وہ بوجھ اٹھائیں ۔ اسرار کے ماں باپ فوت ہو چکے تھے اور بھائی آج کے دور میں خونی رشتوں میں ناہونے کے برابر ہی تھے ایسے میں گل بخت کو صرف ایک شخص کا خیال آیا تھا پھر اپنی خودادری کے باعث وہ اپنے اس خیال کو زیر عمل لانے میں ہچکچاہٹ کا شکا ر تھی۔

٭….٭….٭

 ”شاہ زر محبت بھی کتنی عجیب ہوتی ہے۔ دو اجنبیوں کو ایک دوسرے سے برسوں کا شناسا بنا دیتی ہے۔“ وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی کی لائبریری میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے اپنی دنیا میں گم تھے جب عائلہ نے اسے کہا تھا۔

”ہاں عائلہ یہ سچ ہے کہ محبت بندے کا پورا مزاج ہی بدل دیتی ہے۔“ شاہ زر نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا تھا۔

”تم سے پہلی ملاقات کا سوچتی ہوں تو اپنے آپ پر ہنستی ہوں کہ میں کیا تھی اور میں کیا بن گئی ہوں۔“ وہ مسکراتے ہوئے اپنی حالت بیان کر رہی تھی۔

”اور میں بھی یہی سوچتاہوں کہ میں کیا تھا اور مجھے تمہاری محبت نے کیا بنا دیا ہے۔“ شاہ ززر نے بھی کھل کر اظہار کیا۔

”اچھا تم سچ میں میرے پیچھے پاگل ہو۔“ عائلہ کا لہجہ اب کے شرارت بھرا تھا۔

”کیوں تمہیں کوئی شک ہے کیا؟“ شاہ زر اس کی بات پر ٹھٹکا۔

”ہا ہا ہا ۔۔۔ پلیز اپنی شکل ٹھیک کرو۔ میں مذاق کر رہی تھی۔“ عائلہ اس کی شکل دیکھ کر بے ساختہ ہنس دی تھی۔

”آئندہ مذاق میں بھی میری محبت پر شک مت کرنا۔“ شاہ زر کا لہجہ سنجیدہ تھا۔

وہ سر ہلا کر رہ گئی تھی۔

”تمہارے والد ین کا فون آیا۔“ شاہ زر نے اس سے پوچھا۔

”ہاں دو دن پہلے کیا تھا۔ کہہ رہے تھے تایا ابو کی طبیعت اب کچھ بہتر ہے۔“ اس نے بتایا۔

”چلو اللہ صحت دے۔ کب تک تمہارے امی بابا آ رہے ہیں۔“

”جلد ہی ۔۔۔کیوں؟“ اس نے سوال کیا۔

 ”طاہر ہے اس لیے پوچھ رہا ہوں تاکہ اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیج سکوں۔“ شاہ زر بولا تو وہ شرم کے مارے سر جھکا کر رہ گئی۔

”اب کیا ہوا میڈم کو؟“ شاہ زر نے اسے شرماتے دیکھ کر پوچھا۔

”تم بہت بد تمیز ہو شاہ زر۔“ وہ اسے آنکھیں دکھا کر رہ گئی تھی۔

شاہ زر قہقہہ لگا کر ہنس دیاتھا۔ پر یہ دو پریمی نہیں جانتے تھے کہ طوفانی لہریں ان کی پریم ناو¿ کو ایک لمحے میں الٹ کر رکھ دیں گی۔

٭….٭….٭

”خالہ شہروز سر بہت اچھے ہیں۔ آج کے دور میں ایسا شخص کم کم ہی ملتا ہے۔“ وہ دونوں اس وقت بیرونی برآمدے میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں جب باتوں ہی باتوں میں شہنیلا شہروز کی باتیں خالہ سے کرنے لگی۔

”ہاں صحیح کہہ رہی ہو اور دیکھو، کچھ کہے بغیر جاب دے دی، اس سے پہلے بھی تم نامرادوں کی کمپنیوں میں جاتی رہی ہو جو رشوت منہ پھاڑ کر مانگتے ہیں اور تمہار پڑھائی کی کوئی قدر ہی نہ تھی۔“

”جی خالہ قدردان کوئی کوئی ہی ملتا ہے،“ وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

”بس ووہی بات جہاں نصیب ہو وہیں بندہ جاتا ہے۔“ خالہ نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔

”شہنیلا جاب تو مل گئی تمہیں، اب آگے کا کیا سوچا ہے ؟“وہ بات جو خالہ کے دماغ میں کھلبلی مچا رہی تھی آخر کار نوک زبان پر آ گئی تھی۔

”کیا مطلب خالہ؟“ اس نے ناسمجھی کے عالم میں خالہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”دیکھو شہنیلہ، ماں باپ تمہارے بچپن میں ہی چل بسے تھے اور اس وقت میں نے تمہاری ذمہ داری اس لیے لے لی تھی کہ میری کوئی اولاد نہیں تھی اور نہ تمہارے آگے پیچھے کوئی ددھیال ووالوںمیں سے تھا۔ ننھیال میں صرف میں بچی تھی جس نے تمہیں گود لے لیا پر اب میں بھی اس عمر کو پہنچ چکی ہوں کہ جہاں سانسوں کا پتا نہیں چلتا۔ اس لیے چاہتی ہوں کہ تمہارے ہاتھ پیلے کر دوں۔“ خالہ بی نے بالآخر پوری بات بیان کر دی تھی اور ان کی یہ باتیں سن کر شہنیلا کی آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو آ گئے تھے۔

”خالہ آئندہ ایسی کوئی بات نہ کیجیے گا۔“ وہ روتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی۔

” ارے پگلی موت تو برحق ہے جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن جانا ہے۔“ خالہ نے اس کا سر تھپکتے ہوئے جواباً کہا تھا۔

”خالہ میرا آپ کے سوا اس دنیا میںکوئی نہیں ہے اور آپ بھی مجھے چھوڑ کر جانے کی باتیں کر رہی ہیں۔“ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے اداسی سے بولی تھی۔

”دیکھو بیٹا اس لیے کہہ رہی ہوں کہ تمہاری شادی کر دوں تاکہ تمہیں ایک گھر والا مل جائے جو تمہارا خیال رکھ سکے۔“ خالہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”خالہ مجھے نہیں کرنی شادی وادی۔“ وہ دو ٹوک انداز میں بولی تھی۔

”کیوں؟“ خالہ نے پوچھا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئی۔

”مجھے آپ کی خدمت کرنی ہے بس۔“

” تم پاگل ہو ۔ معاملے کی نزاکت کو سمجھ نہیں سکتیں۔“ خالہ کی بات کتنی سچی تھی۔ آنے والے دنوں میں شہنیلا کو خوب اچھی طرح سے پتا چل گیا تھا۔

٭….٭….٭

زہرہ کا لاہور سے بلاوا آ گیا کہ ا سکی تائی کی ٹانگ میں فریکچر ہو گیا ہے اور اسے جلد از جلد تائی کے پاس اسلام آباد پہنچنا ہے۔

”یہ تمہارے گھر والے تمہیں کہیں نرس کی نوکری کیوں نہیں دلوا دیتے؟“ عائلہ نے اس کے جانے کا سنا تو منہ پھلا کر بولی۔

” عائلہ تم تو جانتی ہو کہ تائی کی دونوں بیٹیاں لندن میں ہیں۔ ایسے میں میں ہی ان کی تیمارداری کے لیے بچتی ہوں اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ تائی نے مجھے اس سے زیادہ چاہا ہے اور جو انسان آپ سے بے حد محبت کرے پھر اس سے محبت کرنا آپ کا حق ہوتا ہے۔“ زہرہ نے اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھتے ہوئے اس سے کہا تھا ۔ وہ سر ہلا کر رہ گئی تھی۔

”تم پریشان مت ہو فاریہ مایا آ رہی ہیں۔“

”نہیں پریشان تو نہیں ہوں۔ بس میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ تم جاو۔“ وہ ا سکے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی تھی۔

”اب تو آنٹی انکل کے آنے میں بھی ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے۔ تب بھی تو مجھے جانا تھا۔“ زہرہ جواباً بول۔

”ایک ہفتہ ابھی دور ہے۔“

”چلو یہ بتاو شاہ زر کی کہانی کہاں تک پہنچی۔“ زہرہ نے موضوع بدلا۔

”ابھی تو شروعات ہے۔“ شاہ زر کا نام سنتے ہی ا س کے یاقوتی ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی تھی۔

”اختتام کب ہو گا؟“ زہرہ نے اب کے شرارت سے پوچھا تو وہ اسکے کندھے پر مکا رسید کر کے رہ گئی۔

”تمہیں کیوں بتاوں؟“ اس نے بے نیازی دکھائی۔

”آفٹر آل تمہاری دوست ہوں اور دوست تو راز داربھی ہوتے ہیں۔“ زہرہ بھی مکمل موڈ میں آ چکی تھی۔

”ہاں دوست کبھی کبھی آستین کا سانپ بھی بن جاتے ہیں۔“ وہ شرارت سے بولی تو زہرہ غصے سے منہ پھیر گئی۔

”اوہ پلیز اب ناراض مت ہونا۔ مذاق کر رہی تھی۔ شاہ زر نے کہہ دیا ہے کہ امی بابا کے یہا ں آتے ہی وہ اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیجے گا۔“ عائلہ نے خوشی خوشی بتایا تو زہرہ مسکراتی نگاہوں سے اسے تکنے لگی،

”بہت محبت کرتی ہو شاہ زر سے؟“ زہرہ نے یکدم اس سے پوچھا تھا۔

”ہاں بہت زیادہ سے بھی زیادہ‘ اس کے لہجے میں چاہت کی چاشنی تھی۔

زہرہ نے اس کی محبت کو نظر نہ لگنے کی دعا دی تھی۔ وہ اپنی جان سے پیاری کزن کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتی تھی۔

٭….٭….٭

نہیں فرصت یقیں جانو

ہمیں کچھ اور

کرنے کی

تیری باتیں تیری یادیں

ہمیں بہت مصروف رکھتی ہیں۔

شہروز جیسا پریکٹیکل بندہ بھی آج کل کسی کے خیالوں میں بری طرح کھویا کھویا رہنے لگا تھا۔ پوری رات کسی کا چہرہ اس کی آنکھوں کے آ گے رہتا اور وہ تکتا رہتا۔ شہروز جیسے بندے کو بھی محبت نے اپنے بس میں کرنا شروع کر دیا تھا اور ا سکی خبر شہروز کو بھی نہ ہو سکی تھی۔

محبت مایا جال ہوتی ہے جو بندے کے وجود سے ایسی لپٹتی ہے کہ پھر کاٹے نہیں کٹتی۔اس کے رگ رگ میں بس جاتی ہے اور شہرو زنے بھی محبت کا زہر چکھنا شروع کر دیا تھا۔ شہنیلا فاروق اس کے حواسوں پر ایسی چھائی کہ اسے پھر اور کچھ نظر ہی نہ آ سکا۔ یہاں تک کہ امو جان کی پسند کی ہوئی گل جان بھی نہیں۔

٭….٭….٭

پورا لندن اس وقت برف اور دھند کی چادر میں لپٹا پڑا تھا۔ ہر طرف سفید چادر تنی تھی ۔ برف کے سفید گالے زمین پر گرتے اور اس میں کھو جاتے ایسے میں ایک شخص بلیک لانگ کوٹ پہنے وکٹوریا روڈ پر چلتا ہوا جا رہا تھا ۔ اس کے قدموں میں تیزی تھی۔ جیسے اس شخص کہیں بہت جلدی پہنچنا ہو وہ تیز تیز چلتا اچانک ایک مکان کے سامنے رک گیا تھا۔ یہ مکان اس کی مطلوبہ جگہ تھی۔

٭….٭….٭

وردہ سلیم ایک پاکستانی نژاد خاتون تھیں جو بیس برس پہلے پاکستان سے لندن یہاں شفٹ ہوئی تھیں۔وہ اپنے شوہر کے ساتھ یہاں کے شہر لیڈز میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کے شوہر سلیم خان یہاں کے مشہور اور تجربہ کار ڈینٹل سرجن تھے پر ان کی حادثاتی موت نے یکدم وردہ سلیم کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا اور یہی صدمہ انہیں چھ ماہ کے لیے کومہ میں لے گیا تھا۔

٭….٭….٭

گل بخت کو اس مشکل گھڑی میں اپنی پھوپھو یاد آئی تھیں حالانکہ گل بخت اپنی خود داری کے باعث نہیں چاہتی تھی کہ وہ کسی سے بھی مدد لے پر اب اس کے ساتھ ایک ننھی جان بھی تھی۔ اپنے لیے تو نہیں پر اس کے لیے اسے ہر حالت میں کسی کی مدد کی ضرورت تھی۔ اس نے فوراً ہی امو جان کو فون ملا لیا تھا۔

”السلام و علیکم“ امو جان نے فون اٹھا کر کہا تھا۔

”وعلیکم السلام امو جان!“ اور ضبط کا بند ٹوٹا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

”کیا ہوا گل بخت؟“ امو جان تشویش زدہ بولی تھی۔ پر وہ دوسری جانب صرف روئے جا رہی تھی۔

”بتاو گل کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہی ہو؟“

”امو جان آپ یہاں جلدی آ جائیں۔ میں بہت اکیلی رہ گئی ہوں۔“ وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور امو جان فوراً اس کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

وہاں پہنچ کر تمام معاملہ خود بخود سمجھ میں آ گیا تھا۔ اس لیے امو جان نے بغیر کوئی سوال جواب کے گل بخت اور گلناز کو ساتھ لیا اور وہاں سے نکل آئیں۔ گھر آ کر سب بیٹے ان کا ہی انتظار کر رہے تھے۔ شاہ زر تو گل بخت کو ایسی حالت میں دیکھ کر غصے سے لال پیلے پڑ گیا تھا۔

” میں چھوڑوں گا نہیں ان گھٹیا لوگوں کو انہوں نے اپنی عزت کو نکال باہر کیا ہے۔ کیسے بے حس لوگ ہیں۔‘ وہ غصے میں مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔

”شاہ زر ہوش سے کام لو تو یہ ذمہ داری اس کے شوہر کی بنتی ہے وہ خود تو لندن نکل گیا اور پلٹ کر دیکھا تک نہیں کہ یہاں اس کی بیوی اور بچے کا کیا حال بنے گا؟“ پشمینہ جواباً بولی تھیں۔

”جاو¿ ثمرہ گل کو کمرے میں لے جاو¿۔“ امو جان نے ثمرہ کو اسے کمرے میں لے جانے کا کہا اور خود فکر مند سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئیں۔

”مہروز اور شہروز آ ئیں تو ان سے بات کرتی ہوں۔“ وہ دل ہی دل میں تانے بانے بننے لگی تھیں۔

٭….٭….٭

شاہ زر تم دو دن یونیورسٹی نہیں آئے خیریت تو تھی نا؟“

شاہ زر آج یونیورسٹی آیا تو عائلہ فوراً پریشان سی اس کے پیچھے آئی تھی۔

”نہیں یار! گل کو اس کے سسرال والوں نے گھر سے نکال دیا ہے اور امو جان اسے ہمارے یہاں لے آئی ہیں۔ شاہ زر نے بتایا تو وہ افسوس سے سر ہلا کر رہ گئی۔

”گل کے ساتھ تو بہت برا ہوا اور ان کی بچی؟“ عائلہ نے پوچھا۔

”وہ بھی ساتھ ہے۔ بس اسی مسئلے کی وجہ سے یونی نہیں آ پایا تھا۔“ وہ راہداری پر بنے اسٹیپ پر بیٹھ گئے تھے۔

”اب کیا ہو گا؟“ وہ پریشان سی بولی تھی۔

”کیا ہو گا؟ گل اب ہمارے ساتھ رہے گی۔ ظاہر ہے اب تو ہم اسے جانے نہیں دیں گے۔“

”میں آو¿ں گی اس سے ملنے۔“ وہ بولی تو شاہ زر نے محض سر ہلا دیا۔

”تم گھر پر کب بات کرو گے شاہ زر؟“ اس نے یکدم موضوع گفتگو اپنی طرف موڑ لیا تھا۔

”دیکھو عائلہ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ جلد بات کروں پر اب یہ مسئلہ سلجھے تو ہی بات کر سکتا ہوں۔“ وہ بولا تھا۔

”ہاں یہ مسئلہ اور ا سکا حل تو ضروری ہے۔“ عائلہ کو در حقیقت گل بخت سے ہمدردی محسوس ہوئی تھی۔

”ہوں“ شاہ زر اس کی بات پر محض سر ہلا کر رہ گیا تھا۔

٭….٭….٭

لندن جیسے شہر میں بہت اچھی جاب ملنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس بات کاا ندازہ اسرار آفندی کو یہاں آتے ہی ہو گیا تھا۔ جس جاب کے بل بوتے پر وہ یہاں آیا تھا وہ تو محض بہت معمولی ٹیکسی ڈرائیور کی جاب تھی۔ وہ تو یہاں بہت بڑے بڑ ے خواب سوچ کر آئے تھے۔ پر یہاں آتے ہی ان کے بڑے بڑے خوابوں کی تعبیر پانی کے بلبلے کی طرح پھر سے اڑ گئی تھی۔ پر شاید قسمت اس کے ساتھ تھی جس نے اس کا ٹکراو¿ وردہ سلیم سے کرا دیا تھا اوریہیں سے اسرار آفندی کی کایا پلٹی تھی۔

٭….٭….٭

اسرار کو شہروز ، مہروز حتیٰ کہ امو جان نے بھی کئی بار فون کیا لیکن اس نے اپنا نمبر بدل لیا تھا۔ ان کا اسرار سے کوئی رابطہ نہ ہو پایا تھا ۔ گل بخت نے بھی کئی بار فون کرنے کی کوشش کی اس کے سب دوستوں سے معلومات لی پر کسی کوبھی اسرار کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

”مجھے اسرار سے اس سب کی توقع نہیں تھی۔“ وہ اور شاہ زر اس وقت ٹیرس میں کھڑے تھے جب گل بخت گلو گیر آواز میںمخاطب ہو ئی تھی۔

”اسرارنے تمہارے ساتھ بلکہ ہم سب کے ساتھ بہت برا کیا۔“ شاہ زر تلخ سا بولا تھا۔

” ہاں میں جانتی ہوں اور دیکھو میری وجہ سے تم سب بھی بلاوجہ پریشانی کا شکار ہوئے ہو۔“ وہ ندامت زدہ بولی تو شاہ زر نے یکدم اسے ٹوک دیا۔

” گل تمہیں کئی بار کہا کہ ایسی باتیں مت کیا کرو مگر تم“ وہ کچھ بولتے بولتے یکدم رک سا گیا تھا۔

”تم ہمارے لیے بوجھ نہیں ہو، یہ ہمارا اپنا گھر ہے گل تمہیں کسی سے بھی شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھیں۔“

”اوہ سوری“ وہ شرمندہ سی ہو گئی تھی۔

” تمہاری ایسی غیروں والی باتیں مجھے تکلیف دیتی ہیں۔ اگر یہ سب امو جان سن لیں تو تمہیں پتا کہ انہیں کتنا دکھ پہنچے۔“ وہ دوبارہ بولا تو وہ سر جھکا کر رہ گئی۔

”گلناز اب کیسی ہے؟“ اس ے اسے شرمندہ دیکھ کر ایک دم بات بدلی۔

”ہاں اب بخار کچھ کم ہوا ہے۔“

” کل پھر چیک اپ کروا لینا۔“

”ہاں ڈاکٹر نے بھی دوبارہ آنے کو کہا تھا،“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

”ہوں۔“

”شاہ زر اس دن تم مجھے اس لڑکی کا پتا بتا رہے تھے ۔ کیا نام تھا اس کا عائلہ، اس کے تایا کی طبیعت اب کیسی ہے؟“ اس نے یکدم یاد آنے پر پوچھا تھا تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔

”ٹھیک ہے اب اس کے ممی پاپا بھی اگلے ہفتے آ رہے ہیں۔“ اس نے بتایا۔

”تم نے امو جان سے بات کی؟“ گل بخت نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔

”نہیں ابھی تو نہیں کی پر جلد کروں گا۔“

”ہاں میرا ووٹ تمہارے ساتھ ہے۔“

”ظاہر ہے تم ہی تو اکلوتی دوست ہو میری۔“ وہ مسکرایا تھا۔ وہ بھی جواباً ہولے سے مسکرا دی تھی۔

٭….٭….٭

”مس شہنیلا آپ دو دن چھٹی پر رہیں خیریت تھی؟“ وہ اس کے آفس میں فائل دینے آئی تھی تو شہروز نے اس سے پوچھا تھا۔

”جی سر میری خالہ بیمار تھیں اس وجہ سے“ وہ جواباً بولیں،

”اوہ اب کیسی ہیں وہ؟“ اس نے ہمدرد لہجے میں پوچھا۔

”جی اب تھوڑی بہتر ہیں۔“

”مس شہنیلا آپ سے ایک بات پوچھوں؟“

”جی سر!“ وہ مدھم سا بولی۔

”آپ کہیں انگیجڈ ہیں؟“ شہروز خان نے آخر دل میں چھپی بات بول ہی ڈالی۔

”جج ۔۔۔ جی۔۔۔“ ووہ شاکڈ رہ گئی۔

”آر یو انگیجڈ؟“ شہروزخان اب ہلکا سا مسکرا اٹھا۔

”دیکھیں مس شہنیلا میں سیدھی اور صاف بات کرنے والاآدمی ہوں۔ گھما پھرا کر بات کرنا میری فطرت میں شامل نہیں ہے ۔ میں آپ کے گھر پروپوزل بھیجنا چاہتا ہوں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو۔“ وہ سیدھے اور عام لہجے میں بولا تھا جیسے یہ کوئی روز مرہ کی بات ہو اور شہنیلا تو یہ سن کر ساکت ہی رہ گئی تھی۔

”مس شہنیلا آپ یہاں ہی موجود ہیں؟“ شہروز نے اسے پکارا تو وہ چونکی۔

”سر آپ میری خالہ بی سے بات کریں۔“ یہ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی کمرے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ شہروز اس کی پشت پر جھولتی گھنے بالوں کی چوٹی کو مسکراتے ہوئے دیکھتا رہ گیا تھا۔

٭….٭….٭

اسرار آفندی اور وردہ سلیم کی پہلی ملاقات ریچڈل روڈ پر ہوئی تھی۔ یہ سراسر ایک اتفاقی ملاقات تھی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ وردہ سلیم کی اپنی کار میں کچھ پرابلم ہو گئی تھی اور اسے گھر جلدی پہنچنا تھا۔ اس لیے مجبوراً ٹیکسی میں گھر جانا پڑا اور وہ ٹیکسی اسرار آفندی کی تھی۔

”میڈم آپ کچھ پریشان سی دکھائی دے رہی ہیں؟“ فرنٹ آئینے میں اسے پیچھے بیٹھی وردہ کا پریشان کن چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس لیے وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکا۔

”آر یو پاکستانی؟“ وہ اس کی زبان جان کر ایک دم بولی تھی۔

”یس آئی ایم پاکستانی۔“ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوا تھا۔

”وہ دراصل میرے گھر میں کام کرنے والے مزدور کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور مجھے جلد گھر پہنچنا ہے۔“ وہ پریشان سی بولی تھیں۔

”اوہو سو سیڈ“ چند لمحوں بعد ہی اس کی ٹیکسی بڑے سے عالی شان بنگلے کے سامنے رکی تھی۔

”یہ میرا کارڈ ہے۔ اگر کبھی کسی مدد کی ضرورت پڑی تو مجھے یاد کر لیجیے گا مجھے ویسے بھی پاکستانی لوگوں کی خدمت کر کے اچھا لگتا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ چلی گئی تھی۔ پر اسرار آفندی کو منزل دکھا گئی تھی۔

٭….٭….٭

”ہیلو ۔۔۔ ہیلو امی کیسی ہیں؟ ابو کیسے ہیں؟“ وہ چھوٹتے ہی بولی تھی۔

”سب ٹھیک ہیں۔ تم کیسی ہو؟“ شمشاد خان زئی نے جواباً پوچھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔ سیٹیں کنفرم ہو گئیں آپ لوگوں کی؟“

”ہاں پرسو ںکی ہوئی ہیں۔“ انہوں نے بتایا۔

”بس امی جلدی سے آ جائیں۔“ وہ یکدم بولی تھی۔

”ہاں بہت جلد ہم تمہارے پاس ہوں گے۔“ شمشاد خان زئی گویا ہوئیں تو اسے ان کا لہجہ کچھ عجیب سا لگا تھا۔

”امی ابھی دو دن ہیں آنے میں؟“ یہ کہتے ہوئے اس کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا۔

”جلد گزر جائیں گے۔ تم اپنا بہت سا خیال رکھنا اللہ حافظ۔“ یہ کہتے ہی فون منقطع ہو گیا تھا اور وہ فون ہاتھ میں تھامے کتنی ہی دیر ایک ہی زاویے پر بیٹھی رہی تھی۔

٭….٭….٭

”دیکھو بیٹا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے پر تمہارے گھر والے۔“ شہنیلہ چائے لے کر آئی توخالہ شہروز سے کہہ رہی تھیں۔

”وہ میرا مسئلہ ہے خالہ بی میں انہیں منا لوں گا اور وہ مان بھی جائیں گے، بس مجھے آپ کی رائے جاننی تھی اور وہ جان لی۔“ شہروز نے خالہ بی کے تمام خدشات کو ہواو¿ ں میں اڑا دیا اور خالہ بی بھی اس کے لہجے کی مضبوطی کی جان کر مطمئن ہو گئیں۔

” میںکل اپنی امو جان کے ساتھ باقاعدہ رشتہ لے کر آوں گا۔“ اس نے کہا خالہ بی کو اور دیکھا شہنیلہ کی طرف تھا جو چائے کپوں میں ڈالتے سر کچھ اور نیچے جھکا گئی تھی ۔

”بسم اللہ کر کے آو¿۔ یہ ااب تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔“ خالہ بی تو خوشی سے نہال ہی ہو گئی۔

”میں کل آوں گا میرا انتطار کرنا۔“ وہ بیرونی دروازے سے پار ہونے لگا تو یکدم رک کر بولا تھا۔ وہ اس کے پیچھے آتی ٹھہر گئی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ شہروز کے الفاظ امرت بن کر کانوں میں گونجے ہوں ۔ وہ حسبَ معمول سر جھکا گئی تھی۔ اور شہروز اس کی اس ادا پر قربان ہوتا دروازہ پار کر گیا تھا۔

٭….٭….٭

”امو جان۔۔۔“ اس نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا تھا۔

”آ جاو شہروز۔“ امندر سے امو جان کی آواز آئی تو وہ اندر داخل ہو گیا۔ امو جان آگے بیڈ پر لیٹی کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں۔

”امو جان رات کے اس پہر میں نے آپ کو ڈسٹرب تو نہیں کیا۔“ وہ ان کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھتے بولا تھا۔

”نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ رات کے اس پہر اگر تم ہمارے کمرے میں آئے ہو تو ضرور کوئی اہم بات ہے۔“ امو جان نے کتاب بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تھی اور مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔

”امو جان آپ چاہتی ہیں نا کہ ہم شادی کریں تو ہم شادی کے لیے تیار ہیں۔“ وہ سیدھی سیدھی بغیر کوئی تمہیدباندھے اپنے مطلب پر آ گیا تھا ۔

”سچ “امو جان کو تو یہ سن کراپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا۔ وہ ابھی بھی بے چینی کی حالت میں اسے تکے جا رہی تھیں۔

”جی امو جان ہم سچ کہہ رہے ہیں۔“ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔

”تم نے تو ہمارا جی خوش کر دیا، شہروز تم جانتے ہو ہمیں تمہاراگھر بسانے کی کتنی تمنا تھی۔ “ امو جان فرحت انگیز احساس کے تحت بولیں تو شہروز خان ہنس دئیے۔

”میں کل ہی روزینہ سے بات کرتی ہوں۔“ امو جان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تو شہروز خان نے ان کا ہاتھ لبوں سے لگا لیا تھا۔

”امو جان ہم شادی کرنا چاہتے ہیں پر گل خان سے نہیں شہنیلہ فاروق سے۔“

اور ایک بم تھا جو امو جان کے سر پر گرا تھا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گئی تھیں۔

٭….٭….٭

”میں کل یونیورسٹی نہیں آوں گی شاہ زر“وہ دونوں اس وقت مس آصفہ کی کلاس لینے کے بعد یونی سے ملحقہ گارڈن میں بیٹھے تھے جب عائلہ بولی تھی۔

”کیوں نہیں آو¿ گی؟“ شاہ زر نے اچنبھے سے پوچھا۔

”کل امی بابا آ رہے ہیں۔“ اس نے وجہ بتائی۔

” اوہ اوکے پر میرا تو تمہارے بغیر یونیورسٹی میں دل لگتا ہی نہیں ہے۔“ شاہ زر جواباً مسکین سی صورت بنائے بولا تو وہ اس کے کندھے پر مکا رسید کر کے رہ گئی۔

”لگا لینا دل ایک دن کی ہی بات ہے۔“

”ابھی کہاں یار ابھی تو طویل ہجرہمارے درمیان جدائیاں ڈالے ہوئے ہے۔“ وہ دل پر ہاتھ رکھتے آہ بھر کر بولا تھا۔

”چلو تمہارا میلو ڈرامہ شروع ہو گیا“ وہ کپڑے جھاڑتے اٹھ کھڑی ہوئی تو شاہ زر نے اس کی کلائی تھام لی۔

”ظالم میری بے چینیوں اور بیقراریوں کو میلو ڈرامہ کہہ رہی ہو۔“ وہ یکدم افسردہ ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔

”توبہ ہے شاہ زر تم پورے مسخرے لگتے ہو۔“

”ہاں تمہارے پیار میں ہو گیا ہوں۔“ وہ دو بدو بولا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔

”اب چلو مس نازلی کی کلاس شروع والی ہے۔ اگر ٹائم پر نہ پہنچے تو پوری کلاس کے سامنے عزت کا فالودہ بنا کرر کھ دیں گی۔“وہ دونوں ساتھ ساتھ ہم قدم ہوتے ہنستے مسکراتے کلاس کی جانب چل دئیے، پروہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا یہ ہم قدم چلنا بس تھوڑے لمحوں کے لیے تھا۔ سماج کی کانٹے دار جھاڑیاں ان کا راستہ روکے کھڑی تھیں۔

٭….٭….٭

اسرار آفندی دوسرے ہی دن وکٹوریہ روڈ پر بنے وردہ سلیم کے بنگلے کے باہر موجود تھا۔ وردہ سلیم کا اس سے ٹکرانا بے مقصد نہ تھا یہ دراصل اسرار آفندی کی سوچ تھی۔ وردہ سلیم اپنے مرحوم شوہر کا کلینک چلانے کے ساتھ ساتھ ایک اپنی ذاتی فیکٹری بھی چلا رہی تھی جن کی تمام تفصیلات وہ کارڈ پر پڑھ چکا تھا۔ اب آگے اسے وردہ کو کیسے متاثر کرنا تھا کہ وہ اسے جان دے دے تویہ وہ بہت اچھی طرح سوچ کر آیا تھا۔ یہ ترپ کا پتا تھا جو اسے کھیلنا تھا اور جس کی عملی تیاری وہ اچھی طرح کر کے آیا تھا۔

”آئیے اسرار صاحب، بتائیے کیسے آنا ہوا؟“ وہ اس وقت ٹی وی لاونج میں وردہ سلیم کے مد مقابل بیٹھا تھا۔

وردہ سلیم اس وقت سفید شیفون کی ساڑھی پہنی اور اس کے ساتھ سفید پرل جیولری زیب تن کیے کافی جاذب نظر لگ رہی تھیں۔

”وہ اس دن کار میں“ وہ یاد دلاتے بولا تو وہ یکدم اسے ٹوک گئیں۔

”جی مجھے یاد ہے، آگے بتائیے۔“

”وہ آپ نے کہا تھا کہ اگر مجھے کسی مدد کی ضرورت ہو تو آپ سے کہوں۔“ وہ نگاہیں نیچی کیے بولا تھا تو وردہ سلیم ایک دم ہنس دیں۔

”مسٹر آفندی یہ میرا گھر ہے آفس نہیں جو یہاں میں آپ کی مدد کی درخواستیں وصول کرتی پھروں خیر آپ کل نو بجے میرے آفس آ جائیے گا۔ پھر دیکھ لیں گے۔“ وردہ سلیم کا لہجہ روکھا تھا اور انداز تلخ۔ اسرار آفندی اپنی جگہ شرمندہ سا ہو گیا۔

” معاف کیجیے گا مجھے معلوم نہیں تھا۔“ وہ معذرتی انداز میں بولا تو وردہ سلیم نے سر جھٹکا۔

”اٹس اوکے اب آپ جا سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وردہ سلیم فون کی جانب متوجہ ہو گئیں تھیں جبکہ وہ اپنا سا منہ لے کر اس شاندار بنگلے پر الوداعی نظر ڈالتا ہوا باہر نکل گیا تھا اسے اپنی عملی تیاری بھاڑ میں جاتی دکھائی دی تھی۔

٭….٭….٭

”خان ولا“ میں اس وقت ایک حشر برپا تھا۔ بات ہی کچھ ایسی تھی کہ جس نے خان ولا کے سب افراد کو حیرت میں ڈال دیا تھا وہ سب اس وقت بڑی بیٹھک میں امو جان کے سامنے پیش تھے جہاں امو جان ہیبت اور غصے کی زیادتی کا شکار ہوئی دکھائی دے رہی تھیں وہ بھی ان سب میں موجود تھا۔ جس کی کہی بات نے اس گھر کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔

”تمہاری ہمت کیسے ہوئی کسی غیر لڑکی کا نام لینے کی بتاو¿ مجھے۔“ امو جان کی دھاڑ ان سب کے کانوں پر زلزلے کی مانند گری تھی۔ پر وہ خاموش کھڑا اس زلزلے کے جھٹکے کو سہہ گیا تھا۔

”امو جان شادی سے پہلے ہر لڑکی غیر ہی ہوتی ہے۔“ وہ ہمت کر کے بولا۔

” پر ہمارے ہاں برادری کی لڑکی غیر نہیں ہوتی سمجھے، گل جان ہماری برادری کی ہے اورتمہیں اس کے ساتھ شادی کرنا ہو گی“

پوری زندگی اولاد کے چاو چونچلے اٹھانے والی امو جان آج اپنی انا اور بے اعتنائی کی تمام حدیں پار کر گئیں تھیں۔ شاید تمام ماں باپ اس وقت تک ہی ٹھیک رہتے ہیں جب تک ان کی مرضی سے اولاد ریل کی مانند چلتی رہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے