سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا…امجد جاوید..قسط نمبر 14

بے رنگ پیا…امجد جاوید..قسط نمبر 14

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 14

آیت النساءشام ہونے تک کبھی شکیل کی باتوں میں اُلجھ جاتی اور کبھی اس کا رویہ اسے سمجھ میں نہ آ تا۔ وہ یہ تو بہر حال سمجھ رہی تھی کہ شکیل کس طرح کے دور سے گزر رہا ہے ۔ وہ اُس کے بارے میں سوچ کر مطمئن ہو جاتی ۔ پھر جیسے ہی اسے سرمد کا خیال آ تا ، اسے بے چینی ہونے لگتی ۔ اسی کشمکش میں شام اُتر آئی ۔ یہاں تک کہ رات کا اندھیرا ہر طرف پھیل گیا۔

وہ ڈنر کے بعد ٹی وی لاﺅنج میں آ کر بیٹھ گئی ۔ اسے لگ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر میں سرمد کو لے کر طاہر آ جائے گا ۔دادا جی بھی وہیں آ گئے ۔ ٹی وی دیکھتے ہوئے وہ کافی دیر باتیں کرتے رہے۔پھر دادا جی تو اٹھ گئے لیکن وہ وہیں بیٹھی رہی ۔اس کی نگاہیں سامنے ٹی وی اسکرین پر تھیں اور ذہن سرمد کی طرف ۔اسے ہر آ واز پر گمان ہوتا کہ جیسے سرمد آ گیا۔فون اٹھاتی کہ پوچھ لے ابھی تک کیوں نہیںآ یا۔لیکن پوچھنے کی ہمت نہ کر سکی ۔اس کے انتظار کے ساتھ وقت بھی بڑھتا رہا ، یہاںتک کہ رات کا دوسرا پہر بھی ختم ہو گیا۔ اسے یقین ہو گیا کہ اب سرمد سو گیا ہوگا۔وہ اٹھی اور اپنے بیڈ روم میں چلی گئی ۔اس کے دل میں ہوک اٹھ رہی تھی ، سرمد ماں کے بنا کیسے سویا ہوگا؟کیا اس نے سونے سے پہلے ضد کی ہوگی کہ میں نے بڑی ماما کے پاس جانا ہے یا نہیں؟

ز….ژ….ز

سرمد یونیفارم پہنے آئینے کے سامنے کھڑا بال سنوار رہا تھا۔ اس کے پاس طاہر کوٹ پکڑے کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی سرمد بال بنا چکا، طاہر نے کوٹ آ گے بڑھایا تو اس نے پہن لیا۔طاہر نے ایک ناقدانہ نگاہ سرمد پر ڈالتے ہوئے کہا

” چلیں شاباش، ناشتہ کریں۔“

” جی پاپا۔“ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور باہر کی جانب چل پڑا۔طاہر اس کے پیچھے تھا۔ جیسے ہی وہ ڈائنگ ہال میں آ ئے ، ان کی نگاہ لاﺅنج میں بیٹھی ہوئی بلقیس بیگم پر پڑی ۔ وہ بڑے کروفر سے ایک صوفے پر بیٹھی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔طاہر کی جیسے ہی نگاہ بلقیس بیگم پر پڑی ، وہ اس جانب مڑ گیا۔ اس کے ساتھ ہی سرمد بھی طاہر کے پیچھے لپکا۔

”السلام علیکم ماں جی ۔“ طاہر نے دھیمے لہجے میں کہا ۔

” وعلیکم ا لسلام ۔“ بلقیس بیگم نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے جواب دیا تو سرمد نے بھی سلام کر دیا۔ بلقیس بیگم نے سرمد کی آ واز سنتے ہی اس کی جانب گھور کر دیکھا، جیسے اس کا سلام کرنا اسے بہت برا لگا ہو ، لمحہ بھر رُک کر اس نے سلام کا جواب دئیے بنا کہا ،”میں نے تمہارے ملازموں سے سنا ، تم اس لڑکے کی کنگھی پٹی کر رہے تھے عورتوں کی طرح ؟“

بلقیس بیگم کی آواز اور لہجے میں حد درجہ طنز اور نفرت گھلی ہوئی تھی ۔ طاہر نے سنا مگر اپنی ماں کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا

” اماں آ ئیں ، ناشتہ کریں۔“

” نہیں، میں ناشتہ کر کے آ ئی ہوں ۔مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔“

” جی حکم ۔“ وہ کھڑے کھڑے متوجہ ہو گیا تو بلقیس بیگم نے سرمد کی طرف آ نکھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

” اسے بھیجو پہلے ، پھر بات کر تی ہوں۔“

”آ پ کو کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ابھی ہم نے ناشتہ کرنا ہے ، پھر میںنے سرمد کو اسکول چھوڑنا ہے ، اس کے بعد آ کر میں آ پ کی بات سنتا ہوں۔“

طاہر نے کہا تو بلقیس بیگم کو جیسے آ گ لگ گئی ۔ وہ نفرت بھرے لہجے میں بولی

” اب ماں سے زیادہ تمہیں یہ بچہ عزیز ہو گیا ہے ، جس کا پتہ نہیں کہ وہ کس کی اولاد ہے۔“

” اماں جی بس ، آپ مزید کچھ نہیں کہیں گی ،میں آ تا ہوں۔“اس نے سرمد کا بازو پکڑا اور واپس مڑنے لگا ، تبھی بلقیس بیگم اٹھتے ہوئے بولی ۔

” میں تو کچھ اور ہی سمجھ کر یہاں آ ئی تھی کہ تمہیںکوئی عقل آ گئی ہو گی۔ لیکن لگتا ہے میرا بیٹا مجھے واپس نہیںملے گا۔“

” آپ اس بچے کی ماں لوٹا دیں، آ پ کا بیٹا آ پ کو مل جائے گا۔“

طاہرنے نرم لہجے میں بڑی بات کہہ دی تو بلقیس بیگم اس کی جانب ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی ۔

” اب تک تو تمہارا باپ ہی تمہارے خلاف تھا ، کیا تم اپنی ماں کو بھی اپنا مخالف دیکھنا چاہتے ہو ؟“

” مگر میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا ۔“ اس نے نرم لہجے میں جواب دیا

”کیا تم نہیں سمجھتے کہ تمہاری اس ہٹ دھرمی پر ،نافرمانی پر تمہارا باپ تمہیں عاق بھی کر سکتا ہے ۔یہ جو تم ایم این اے بنے پھرتے ہو ،تمہارے باپ کی وجہ سے ، ایک کوڑی کی عزت نہیں رہے گی تمہاری۔عزت خاندان سے ہوتی ہے، ان ایرے غیروں سے نہیں ، جن کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہ ہو ۔“ بلقیس بیگم نے غصے میں تھرتھراتے ہوئے کہا

”اماں جی ، آپ نے جو بات بھی کرنی ہے ، ہم سکون سے کر لیں گے ، ابھی سرمد کو سکول سے دیر ہو رہی ہے ، میں واپس آ تا ہوں اسے چھوڑ کر ۔“

”مطلب میں نے جو اب تک تمہیں کہا، اس کا تم پر کوئی اثر نہیں؟“ بلقیس بیگم نے زچ ہوتے ہوئے غصے میں کہا تو کافی دور کھڑے ملازم کو طاہر نے پاس آ نے کا اشارہ کیا ۔ وہ تیزی سے آ یا تو سرمد کی طرف اشارہ کر کے کہا

” اسے ناشتہ کراﺅ ، میں آتا ہوں ابھی ۔“

وہ سرمد کو لے کر چلا گیا ۔طاہر نے اپنی اماں کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا

” اماں جی ، میں اس بچے کے سامنے ایسی باتیں نہیں کرنا چاہتا ، جس کا اثر اس پر ہو ۔ “

” اس بچے کا خیال ہے ، ماں کا نہیں؟“ وہ تنک کر بولیں

” خیال ہی توہے جو ایسا کر رہا ہوں ، ورنہ اسے بھی پتہ چل جاتا کہ آپ اور میرے بابا، اُس بچے کی ماں کے قاتل ہیں۔ “طاہر نے خود پر قابو رکھتے ہوئے دبے لہجے میں کہا۔ اس پر بلقیس بیگم نے کہا

” جو بھی ہماری راہ میں آئے گا ، وہ ….“

” اماں جی ایسا نہیں کہتے ، یہ تکبر ہے ، جو میرے رَبّ کو پسند نہیں ۔“ طاہر کے یوں کہنے پر وہ خاموش رہی ،تب وہ کہتا چلا گیا،”اگر میں بابا کی وجہ سے ایم این اے بنا ہوں تو میں آج ہی استعفیٰ دے دیتا ہوں۔اگر وہ مجھے ایم این اے بنا سکتے ہیں تو وہ اپنا ایم پی اے نہیں بنا پائے۔اور عزت، دنیا کی چند روزہ جاہ و حشمت سے نہیں ہوتی، رَبّ تعالیٰ سے ، اس کی مخلوق سے جڑنے کے ساتھ ہوتی ہے ۔کسی کو مار دینے سے نہیں، زندگی دینے سے عزت بنتی ہے ۔ بے شک زندگی اور موت دینے والا میرا رَبّ ہے لیکن ہمیں کسی بھی امتحان سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔میرے رَبّ کے ہاں کسی کی کیا عزت ہے ، اس پر سوچنا چاہئے۔“

”تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے ۔تمہیں اپنے ماں باپ کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔“ بلقیس بیگم نے کہا

” پرواہے اماں ، یہ جس سے آپ نے ماں چھین لی ہے ، اس کی کیا قصور،وہ کفّارہ اب مجھے ادا کرنا ہے ، کر سکتے ہیں آ پ؟“ طاہر نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا

” بولو ، کیا دیں اس بچے کو ،اسے دو اور دُور کر اسے اپنی زندگی سے ۔“ بلقیس بیگم نے غرور سے کہا

”میری زندگی دے دیں ۔“ طاہر نے سکون سے کہا

” یہ کیا بات ہوئی ؟“ وہ ایک دم سے غصے میں بولیں

” اس کے سوا چارہ نہیں ہے ۔ “ اس نے مودب لہجے میں کہا

” نہ تم سمجھ سکتے ہو نہ سنو ر سکتے ہو ۔ کیا اب ہم تمہیں بھول جائیں۔“ انہوں نے پوچھا ۔اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا، ڈائننگ ہال سے سرمد کی آ واز آ ئی

” پاپا۔ آ جائیں ، دیر ہو رہی ہے ۔“

” جی آ یا۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا، پھر لمحہ بھر بعد بولا،” آ پ ٹھہریں، میں اسے چھوڑ کر آ تا ہوں۔“

” مجھے اب تمہارے ہاں نہیںرُکنا۔ “ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور ایک بھرپور نگاہ طاہر کے چہرے پر ڈالی پھر تیزی سے چلتی ہوئی باہرچلی گئی ۔ طاہر کھڑکی سے دیکھتا رہا ۔ وہ کار میں بیٹھیں اور چلی گئیں۔ اس نے ایک طویل سانس لی اور سرمد کی جانب بڑھ گیا جو اس کے انتظار میں ابھی تک بیٹھا ہو اتھا۔اس نے ناشتہ شروع ہی نہیںکیا تھا۔ طاہر اس کے پاس گیا تو اس نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

ز….ژ….ز

اس دن سید ذیشان رسول صاحب اپنے کمرے میں تشریف فرما تھے اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔ طاہر اور وہ نوجوان ہی سامنے صوفے پر بیٹھے ہو ئے تھے۔اکثر ہی ایسا ہوتا کہ وہ دونوں وہاں موجود ہوتے تھے۔دونوں ہی اب یہ سمجھ چکے تھے کہ ان کی منزل یا سطح ایک جیسی ہے ، اسی لئے دونوں کو ایک ہی وقت ملتا ہے ، ورنہ یہاں تو اجازت لینے کو بڑی دنیا پڑی ہے ۔انہیں ان کی منزل کے مطابق وقت ملتا ہے ۔کچھ دیر تک حالات حاضرہ پر ، ان کی خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد نوجوان نے سوال کیا

”حضور یہ انسان کا کائنات سے تعلق کیسے بنتا ہے ؟“

اس پر شاہ صاحب چند لمحے خاموش رہے پھر کہتے چلے گئے ۔

”زمین کا جتنا بھی نظام ہے ، زمین جس نظام کے ساتھ منسلک ہے ، سورج اور چاند کے ساتھ جو سولر سسٹم ہے ، یہ سب محوری نظام ہے ۔ اس میں دایاں یا بایا ںنہیںہے ۔جب دایاں یا بایاں کی بات ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسی دائرے کے اندر ہی میں رہتے ہوئے، دائیں یا بائیں کی بات ہو رہی ہے ۔زمین کے اس محوری نظام میں زمین مرکز بنتی ہے ۔آپ کہیں گے کہ سورج مرکز ہے اور باقی سب اس کے گرد گھوم رہا ہے ۔ آ پ ٹھیک کہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک مرکز ہے کہ سورج کی روشنی بھی اسی زمین پر پڑتی ہے اور چاند کی بھی ۔ان کی روشنی سے زمین ایک توانائی کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔چاند اور سورج اپنی روشنی سے فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھائیں لیکن زمین کی قوت بن جاتی ہے ۔زمین میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اس توانائی کو ڈی کوڈ کر تی ہے ،تبدیل کرتی ہے ۔اب اس میں کیا راز ہے ؟ راز یہ ہے کہ زمین اپنی مرکزی حیثیت قائم رکھے ہوئے ہے ۔ دائروی نظام میں یہ ہمیشہ اپنی جگہ پر رہتی ہے ، یہ اپنے مرکز سے باہر نہیںجاتی ۔اسی لئے توانائی کا ذریعہ بھی ہے ۔جب انسان اسی طریقہ سے ، زمین کی مانند اپنے آ پ کو نظام قدرت کے ساتھ ایڈجسٹ کر تا ہے ، تو وہ بھی توانائی کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے ۔سورج اور چاند کے انرجی زون میں زمین کی طرح۔اسی طرح انسان قدرت کے ساتھ رہ کر ہی توانائی کا ذریعہ بنتا ہے ۔“

 ” حضور اگر اسے مزید آ سانی سے سمجھنا ہو تو ….“ نوجوان نے کہا توشاہ صاحب نے مسکرا کر فرمایا

”اسے اگر مزید آ سان ترین مثال سے بیان کروں تو یوں ہوگا کہ گھر میں باپ ہے ، ماں ہے اور بچے ہیں۔باپ اپنے گھر کے لئے سارے وسائل جمع کرتا ہے ۔ساری ذمہ داری اس پر ہے ۔لیکن عام طور پر مشاہدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاملہ ہوگا سارے بچے اپنی ماں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ایسا کیوں ؟ کیونکہ ماں کو خاندان میں، گھر میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔جہاں بھی ماں نے فیصلہ لیا بچے اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔مرکزیت ہی دراصل قوت ہے ۔ اب یہاں میں اصل بات کہہ دوں کہ درود پاک ، جو رَبّ تعالی بھی اپنے نبی ﷺ پر پڑھتے ہیں اور اُمت بھی ۔ یہ عبادت کا درجہ اور اعلی ترین درجہ نبی رحمت ﷺکی مرکزی حیثیت ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اسی تناظر میں یہ بات سمجھ لیں۔“

”بے شک ایسا ہی ہے ،اور اس میں عشق کو درجہ کہاں پر ہے؟“ نوجوان نے پوچھا

 ” مرکزی درجہ ہے ۔اب جو کوئی عشق کے دائرے میں ہے تو اسی دائرے میں رہ کر ہی سارے معاملات ہوں گے ۔چاہے جتنے مرضی دائیں بائیں بنا لیں ، مثبت منفی ، یا جو بھی ۔ دائرے سے باہر نہیں۔اگر کوئی عشق کے دائرے سے نکل کر کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس کا عشق خام ہے ۔“

” یہ دائروی نظام انسان کو پابند کرتا ہے ؟“ اس نے پوچھا تو شاہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا

”یہ دائروی نظام دراصل آ زادی کا نام ہے ۔ دائرہ اسے غلام یا پابند نہیںبناتا بلکہ اسے مزید آ زادی بخشتا ہے۔ یہ آزاد ہو کر ہی سب چیزوں کو حاصل کر تا ہے ۔دائرے کے اندر رہ کر ہی حاصل کیا جانا ممکن ہے ، باہر رہ کر نہیں۔سورج چمک رہا ہے ۔ سورج کی کرنیں زمین پر پڑ رہی ہیں۔ اس کی کرنوں کا اثر زمین پر ہو گا ۔ اسی طرح بے رنگی کی طاقت دوسرے انسان پر ہوتی ہے ۔ یہی تعلق پوری کائنات سے جوڑتا ہے ۔“

”کائنات سے جڑ کر یا دائروی عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کرنے کے بعد انسان کا عمل کیسے ترتیب پاتا ہے ،مطلب اسے کیا کرنا ہوگا؟“نوجوان نے پوچھا تو شاہ نے سنجیدگی سے کہا

”انسان کو اپنی ذات میں توازن لانا ہوگا۔ بنیادی طور پر انسان میں توازن ہوتا ہے ۔لیکن معاشرہ اس میں عدم توازن کا باعث بنتا ہے ۔جہاں سے اس کے معاملات بھی عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں۔“

”شاہ صاحب ۔! یہ توازن کس طرح اور کیسے ہوگا؟“ نوجوان نے تیزی سے پوچھا تو شاہ صاحب نے طاہر کی طرف دیکھ کر فرمایا

”انسان کی چاہت اور ارادہ اگر برابر آ جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے وہ چاہت اور ارادہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔اگر چاہت اور ارادہ ایک دوسرے کی نفی کر رہے ہیں تو وہ فیصلہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔جس طرح چاہت اور ارادہ دونوں ہم آ ہنگ ہو کر کامیاب ہو جاتے ہیں بالکل اسی طرح ظاہر اور باطن کو ہم آہنگ کر لینے سے کامیابی حاصل ہو جاتی ہے ۔چاہت اور ارادے کی ہم آہنگی میں ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں عقل کو اہمیت نہیں دی گئی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق ہمیشہ سے بالاتر رہاہے ۔ دوسرا انسان کی چاہت میں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو اس کی سمجھ میں نہیںآ تیں ۔یہی وہ جگہیں ہیں، یہی وہ خلا ہیں ، جہاں سے شیطان یا نفس ، انسان کو اسکے ظاہری مفاد دکھا کر اُسے پھنسا دیتا ہے ۔اور انسان اپنے دل کی آواز سننے سے قاصر ہو جاتا ہے ۔اب اس میں ہوتا کیاہے ، جب کچھ وقت گزر جانے کے بعد وہ اسی حالت میں آ گے تک کا سفر کرتا ہے تو اسے اندازہ ہو تا ہے کہ میں غلطی کر بیٹھا ہوں ۔یہاں مجھے عقل نے پھنسا دیا ۔چاہت اور ارادہ ہو تو عقل کو پیچھے رکھیں،تبھی بندہ کامیاب ہو تا ہے۔اگر آ گے لے آ ئے گا تو ناکام ہوگا۔“

 ”وہ شے جو اس توازن کو توڑتی ہے وہ کیا ہے ؟“ نوجوان نے پوچھا تو شاہ صاحب نے فرمایا

”ہر وہ بندہ جو اپنی اَنا پر کھڑا ہے وہ ساتھ میں یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ جیسے دو متحارب فریق ہیں ، دونوں لڑ پڑتے ہیں ۔تو دونوں فریق ہی اپنے آ پ کو حق پر ثابت کرتے ہیں۔ ہم عدالت میں چلے جائیں، وہاں ہر ایک یہی کہے گا کہ وہ حق پر ہے ۔دراصل حق پر کیا ہے ؟ حق پر ہے اُن کی اَنا۔ اگر سبھی اپنی اَنا چھوڑ دیں تو سب کو ہی وہی شے مل جائے جو وہ چاہتے ہیں۔ حق کے پردے میں شیطان یانفس بڑا بھر پور وار انسان کی اَنا پرکرتا ہے ۔انسان اَنا اور حق کی جنگ میں ساری زندگی لڑتا رہتا ہے اور وہ شے بھی حاصل نہیں کرپاتا۔مطلب وہ حقیقی خوشی حاصل نہیں کر سکتا۔ساری زندگی بے چین اور تکلیف میں رہتا ہے ۔حاصل کچھ نہیںہوتا اور ساری زندگی گزار کر چلا جاتا ہے ۔اس پر عشق کا دروازہ ہی نہیںکھلتا۔ کیونکہ عشق اور اَنا دونوں متحارب ہیں۔عشق میں لازمی پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کی اَناکو ختم کر دیتا ہے ۔انسان میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے پھر انسان جو چاہتا ہے اسے مل جاتا ہے ۔عشق ایک تبدیلی ہے ۔اگر اَنا ہے تو عشق نہیں ، اگر عشق ہے تو اَنا نہیں۔جیسے دن ہے تو رات نہیں۔اَنامرکزیت بناتی ہے نفس کے ساتھ اور عشق مرکزیت بناتا ہے کائنات کے ساتھ ۔“

”اَنا انسان پر حاوی کیوں ہو جاتی ہے ؟“ نوجوان نے پوچھا تو شاہ صاحب بولے

”ہم دیکھتے ہیں بہت سارے لوگ اپنی اَنا کا شکار ہو کر بہت سارے سورس رکھنے کے باوجود اپنی زندگی کو انجوائے نہیں کر پاتے ۔کیونکہ وہ حقیقی خوشی کے سامنے خود ہی حائل ہوتے ہیں۔وہ اپنے مستقبل کو سنوارتا رہتاہے۔اپنے سورس پر اکتفا کرنے کی بجائے دوسروں کے سورسز کو اپنا حق مانتے ہیں،خوشی کے درمیان ہمیشہ اَنا حائل رہتی ہے ۔عشق کی طاقت اس پر کھلتی ہی نہیں۔ عشق آ زادی دیتا ہے لیکن اس کے سامنے مورچہ کس نے لگایا ہوا ہے ؟وہ اَنا ہے ۔کیونکہ وہ اسے حق کا درس پڑھاتی رہتی ہے ۔مثبت منفی کا درس ، یوں اَنا اس پر حاوی ہو جاتی ہے ۔یہ غلط اور درست کے چکر میں کائنات سے تعلق کو چھوڑ بیٹھتاہے ۔“

”اب اس سے اگلی ایک بات ہے کہ ایک اَنا کا فیز ہے ایک عشق کا فیز ، آخر کوئی تو ایسا بٹن ہے جو ایک سے دوسرا فیز چل پڑتا ہے ؟“ نوجوان نے سوچتے ہوئے سوال کیا۔ اس پر شاہ صاحب نے کہا

” دیکھیں،اہل عشق ہیں یا نہیںہیں، جیسے کوئی زندہ ہے مر گیا۔اسی طرح عشق ہے یا نہیں ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئے ، پھر کہتے چلے گئے،”جب انسان، قوت کے اُس منبع سے جڑتا ہے جس نے قوت کو تخلیق کیا اور جو کہہ رہاہے کہ تم میرے ساتھ جڑو گے تو میں تمہیںمثال بنا دوں گا ۔وہ انسان جب رَبّ تعالیٰ سے جڑتا ہے تو وہ زمین پر خود انحصاری کی مثال بن جاتا ہے ۔ یہ ہے حقیقی آزادی ۔اسے بقا کہہ لیں ، یا پھر بے رنگی کی اعلی ترین منزل یا پھر تعین کا درجہ ۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ منبع انسان کے اندر ہی ہے ،جسے بڑے منبع سے ملاتا ہے اور خود کو ایکٹیویٹ کر لیتا ہے ۔اب انرجی کو بنانا کیسے ہے ؟ اس کا استعمال کیاہے؟ یہ ایک الگ سے بحث ہے ۔ ابھی تو ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ فیز کیا ہے ۔“

 ” سرکار یہ عشق کا فارمیٹ ہے کیا ؟عشق اور عشق کی سمجھ کیسے ؟ عشق کا فارمیٹ بھی تو ہوگا ؟“ نوجوان نے قدرے مسکراتے ہوئے پوچھا تو شاہ صاحب نے متبسم چہرے سے کہا

” عشق اور عشق کا فارمیٹ ، عشق کا راز بے رنگی ہے ۔“

” یہ سارا عمل کس طرح سے ہے؟“ نوجوان نے پوچھا تو شاہ صاحب نے کہا

”انسان نے جو ایجادات کی ہیں ، وہ دریافت کے بعد ہوئیں۔مطلب لوہا دریافت ہوا تو انسان نے کیا سے کیا بنا دیا ۔بجلی ، پیٹرول کی دریافت کے بعد کاریں ، کمپیوٹر ، ہوائی جہاز بن گئے ۔ یہ ساری دریافتیں یہیں اس زمین سے ہوئیں ہیں۔اسی زمین سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے مل کر نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ سارے سورس زمین کے ہیں۔اسی طرح انسان کے اندر سارے سورس عشق کے ہیں۔اور اس انرجی کے جو ایک منبع انرجی سے مل جانے کے بعد ۔سورج کی کر نوں کی طرح رحمت کا نزول ہو رہا ہے انسان اس کو حاصل کرنے والا بنے اور پھر اسے استعمال کرے ۔ صرف بے رنگ ہونا شرط ہے ۔ جتنا بے رنگ ہوگا، اتنا ہی بے رنگی کے سورس سے جڑ جائے گا ۔یہی بے رنگی اسے یکتائی میں لے جائے گی ۔ یوں انسان اور کائنات کو تعلق جڑ جائے گا۔دوسرے لفظوں میں رَبّ تعالیٰ اور بندے کا تعلق بن جاتا ہے ۔“

یہ کہتے ہوئے شاہ صاحب نے دیوار پر لگے کلاک کی طرف دیکھا تبھی طاہر اور وہ نوجوان سمجھ گئے کہ اب انہیں جانا چاہئے تاکہ دوسرے بھی آ سکیں۔ سو وہ اٹھے ، انہوں نے مصافحہ کیا اور باہر کی جانب بڑھ گئے ۔

ز….ژ….ز

 اس دن بھی آیت النساءنے آفس پہنچتے ہی امبرین کو فون کیا۔وہی روزانہ کی طرح سرمد کے بارے میں پوچھا ۔ انہی باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ کل بچوں کو چھٹی ہے ۔یہ سنتے ہی اس کادل ہمک گیا کہ وہ سرمد کے ساتھ ایک دن گزارے ۔اس نے فون کال ختم کر کے پلان کرنا شروع کر دیا ۔ وہ آج ہی آفس کے بعد فارم ہاﺅس جائے گی اور سرمد کو اپنے ساتھ لے کر ہی گھر جائے گی یا پھر طاہر سے بات کرکے وہ خود ہی اسے سکول سے لے کر گھر چلے جائے گی ۔اس نے پتہ کیا کہ طاہر آفس آ گیا ہے یا نہیں؟ وہ ابھی تک آ فس نہیںپہنچا تھا ، سو وہ اپنے معمول کے کاموں میں لگ گئی ۔تقریباً دو گھنٹوں کے بعد اسے بتایا گیا کہ طاہر اپنے آ فس میں آ چکا ہے ۔ وہ اٹھی اور اس کے آ فس میں چلی گئی ۔

طاہر باجوہ سر جھکائے لیپ ٹاپ پر کچھ لکھ رہا تھا۔آہٹ پا کر اس نے سر اٹھایا تو اس کی نگاہ آیت کے چہرے پر پڑی ۔ اس ایک لمحے میں آ یت نے محسوس کیا کہ طاہر کا چہرہ کھل اٹھا ہے ۔خوشی کا وہ تاثر جو کسی بھی تصنع اور بناوٹ سے پاک ہوتا ہے ، اس کے چہرے پر روشن چراغوں کی مانند دمک پھیل گئی ۔جس طرح ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ۔اسی طرح آیت نے اس خلوص بھرے تاثر کا اثر بھی ویسا ہی لیا۔ اس کے من بھی ایک خوشگواریت پھیل گئی ۔ طاہر نے لیپ ٹاپ کو ایک طرف کرتے ہوئے مسکرا کر کہا

” زہے نصیب ، آپ نے بھی قدم رنجہ فرما کر ہمارے آفس کو رونق بخشی ۔“

” جناب ، اسے ہم طنز سمجھیں یا عزت افزائی ؟“ اس نے بھی مزاحاً کہا اور مسکراتے ہوئے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔

” وہ کہتے ہیںنا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ، اپنے دل سے پوچھ لیں۔“ طاہر نے اُس کے چہرے پر دیکھ کر مسکراتے ہوئے جواباً کہا

” بھئی خوب ، لگتا ہے آ ج کل شاعری پڑھی جا رہی ہے یا ہو رہی ہے ۔“ آیت نے خوشگوار لہجے میں پوچھا تو طاہر نے بڑے سکون سے جواب دیا

” وہ جو تمام فنون لطیفہ کا منبع ہے ، ہم تو اس چہرے کو پڑھ رہے ہیں۔“

طاہر کے یوں کہنے پر آ یت چند لمحے خاموش رہی پھر خود کو نارمل کرتے ہوئے بولی

”آج شام کیا کر رہے ہو؟“

” کچھ بھی نہیں، کوئی خاص بات ؟“ طاہر نے جواب دیتے ہوئے پوچھا

” اگر آج تم اور سرمدمیرے ہاں آ جاﺅ ۔ مجھے پتہ چلا ہے کل سرمد کو چھٹی ہے ۔“ اس نے ملائمت سے یوں کہا جیسے وہ پوچھتے ہوئے جھجک رہی ہے ۔

” ویسے میرااور سرمد کا کوئی بھی پروگرام پلان نہیںہے ۔باقی ہم آ جائیں گے۔“ اس نے سکون سے کہا تو آیت نے اجازت طلب لہجے میں پوچھا

” نہیں اگر تم بزی ہو تو میں اسے سکول سے لے لیتی ہوں ،تم آفس سے ادھر ہی آ جانا؟“

” کوئی بات نہیں، ایسے بھی ٹھیک ہے ۔ہاں بس اسے وقت پر سکول سے لے لینا۔“ طاہر نے مسکراتے ہوئے کہا

” نہیں میں اسے لے لوں گی ، بلکہ کچھ پہلے ہی چلے جاﺅں گی، تھوڑی دیر امبرین سے گپ شپ ہی سہی ۔“ اس نے اپنا پروگرام بتا دیا

” اوکے ۔“ طاہر نے حتمی انداز میں کہا تو وہ اٹھ گئی۔

” ارے بیٹھو ، چائے کافی کچھ تو ، کچھ دیر تو بیٹھو ۔“ طاہر نے تیزی سے کہا

” نہیں، میں کچھ کام سمیٹ لوں ۔“ آ یت نے کہا اور آ فس سے نکلتی چلی گئی ۔طاہر اسے جاتے ہوئے دیکھ کر مسکرا دیا۔

اس وقت دو پہر ہونے والی تھی ، جب آیت کا فون بج اٹھا۔ اس نے اسکرین پر دیکھا ، دادا جی کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ اس نے فون اٹھا کر کال رسیو کی تو وہ بولے

” تمہیں پتہ ہے شکیل صبح سے ہسپتال میں ہے ؟“

” نہیں تو ، کیا ہوا اسے ؟“ آ یت نے پریشانی سے پوچھا

” مجھے بھی ابھی کچھ دیر پہلے پتہ چلا ہے ۔بس بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو گیا۔اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ ابھی تک وہ وہیں ہے ۔“ دادا جی نے ہسپتال کا نام بتاتے ہوئے کہا

” اچھا ، تو وہ بے ہوش ہو گیا۔ خیر، آ پ جا رہے ہیں اس کی طرف عیادت کے لئے ؟“ آ یت نے پوچھا تو دادا جی نے کہا

” بیٹا۔! میں اس وقت شہر سے باہر ہوں،اگر تم جا سکو تو ٹھیک ورنہ پھر میں آ کر چلا جاﺅں گا ۔“

” نہیں داداو ، میں چلی جاتی ہوں ۔“ آیت نے کہا

” ہاں ضرور ابھی جاﺅ ،تمہارا جانا بنتا ہے ،ابھی جاﺅ ۔“ دادا جی نے تیزی سے کہا اور فون بند کر دیا۔آیت نے وہیں کام چھوڑا اور ہسپتال کے لئے چل دی ۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی اس نے طاہر کو فون کرکے صورت حال کا بتایا۔

” ٹھیک ہے تم جاﺅ ۔ میں لے لوں گا سرمد کو ۔“ طاہر نے سکون سے کہا تو اسے اطمینان ہوگیا۔لیکن دل میں نجانے کیوں پریشانی پھیل گئی ۔ پورچ میں کھڑی کارمیں بیٹھنے سے لیکر ہسپتال پہنچ جانے تک ، ایک خیال اسے بار بار آ نے لگا تھا۔ میرے اور سرمد کے ملنے میں اتنی رکاوٹیں کیوں آ رہی ہیں؟

وہ ہسپتال کے اس کمرے میں جا پہنچی ۔دھیمی سی روشنی میں شکیل بیڈ پر پڑا تھا۔اس کی آ نکھیں بند تھیں۔اس کے پاس اس کی امی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ چہرے سے اتنی پریشان نہیں لگ رہی تھیں۔اس سے آ یت کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شکیل کسی بھی خطرے سے باہر ہے ۔ آ یت سلام کر کے ان کے پاس بیٹھ گئی ، پھر دھیمے سے لہجے میں پوچھا

” آنٹی کیا ہوا ؟“

” پتہ نہیں بیٹی، صبح بس بیٹھے بیٹھے یونہی بے ہوش ہو گیا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ہم پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اگر یہ کمرے میں ہوتا تو نجانے کب تک بے ہوش رہتا ہمیں پتہ ہی نہ چلتا۔بس پھر یہاں لے آ ئے۔“ انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا

” ڈاکٹر کیا بتاتے ہیں؟“آیت نے دھیمی آواز سے پوچھا

” کچھ نہیں، بس انہوں نے ٹریٹنمنٹ کیا اس کا اور کر رہے ہیں؟“ انہوں نے بتایا تو آیت نے تیزی سے پریشانی میں پوچھا

” کیا تب سے ہوش نہیں آ یا اسے مطلب ….“

” ایک بار ہو ش آ یا ، پورے حواسوں میں آ یا ہے ، بات بھی کی ہم سے ، اب دوا کے اثر سے سو رہا ہے ۔“ آ نٹی نے تفصیل بتائی تو وہ سکون سے بولی

”اوہ اچھا۔خیر میں خود ڈاکٹر سے بات کر لیتی ہوں۔“

” ہاں بیٹا۔تم پوچھ لینا۔“ انہوں نے اسی دُکھ سے کہا اور پھر تفصیل بتانے لگیں کہ وہ شکیل کو یہاں کس طرح سے لے کر آ ئے ۔ چھوٹا بھائی اپنے کام پر چلا گیا تھا ، گھر میں نوکر تھا، اور ڈرائیور ۔ وہی ساتھ میں انہیں بٹھا کر ہسپتال تک لے آ ئے ۔ وہ ابھی یہی باتیں کر رہی تھیں کہ شکیل کا چھوٹا بھائی وہیں آ گیا۔ آ نٹی اس بارے روداد سنا رہی تھیں کہ شکیل کی آ نکھ کھل گئی ۔اس نے اپنے ارد گرد دیکھا تو اس کی امی نے تیزی سے پوچھا

”کیسے ہو بیٹا؟“

” ٹھیک ہو امی ، آ پ پریشان نہ ہو ں۔ میں ٹھیک ہوں ۔“ اس نے خمار آ لود آ واز میں کہا

کچھ دیر یونہی گپ شپ کے بعد شکیل نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا

” جاﺅ ، امی کو گھر چھوڑ آ ﺅ ۔“

” میں ایسے کیسے چھوڑ کے چلی جاﺅں بیٹا؟“ امی نے بھرائی ہوئی آ واز میں کہا

 ” امی ، تب تک آ یت میرے پاس بیٹھی ہے ۔ آپ یہاں پریشان ہو رہی ہیں۔عقیل آ جائے گا نا میرے پاس ۔“ اس نے کہا تو امی نے چند لمحے سوچا پھر جانے کو اٹھ گئی ۔وہ دونوں چلے گئے تو آ یت نے کہا

” میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آ تی ہوں ، کیا ہوا ہے تمہیں۔“

” یہاں آ جائے گا تو پوچھ لینا، ویسے مجھے احساس ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔“ اس نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا

” اچھا ، کیا ہوا تھا؟“ آ یت نے غور سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اس پر شکیل کچھ دیر خاموش رہا ، پھر جیسے اس میں تھوڑی قوت پیدا ہوئی ، وہ تھوڑا سا اٹھا اور سرہانے کی جانب ٹیک لگاتے ہوئے بولا

”دیکھو، میں نے نفسیات کا علم حاصل کیا، تو مجھے انسان بارے ، اپنے بارے اتنا تو پتہ ہے ،کیا شے بندے پر کیسا اثر چھوڑتی ہے ۔جیسے کوئی ڈاکٹر یہ جانتا ہے کہ بیماری کیا ہے ، اس کا علاج کیا ہے لیکن وہ خود بھی بیمار ہو جاتا ہے ۔سو ۔! میں جب سے یہاں آ یا ہوں ، میں سمجھتا ہوں کہ میں ایسے ہی کسی ڈپریشن کے شدید جھٹکے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ میں اندر سے خوش نہیںتھا۔میں دھیرے دھیرے کسی بھربھری مٹی کی طرح جھڑتا چلا جارہا تھا۔اس دوران میںنے اپنے آ پ کو سنبھالنے کی کوشش کی، خود پر قابو بھی پایا بھی لیکن نہ خود کو سنبھال پایا اور نہ ہی اپنے آپ پر قابو رکھ سکا۔ سب کچھ میرے بس سے باہر ہوتا چلا گیااور آج یہاں ہوں۔“

” کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم نے خود کو سنبھالنے کے لئے کیا کچھ کیا؟“ آیت نے گہری سنجیدگی سے پوچھا تو وہ لمحہ بھر سوچنے کے بعد بولا

” بہت کچھ،سب سے پہلے میں نے خودکو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ میں نے جو کیا ٹھیک کیا۔میں اور شارلین الگ ہوئے ، اس کے ساتھ میرا بیٹا گیا ۔ میں یہاں آ گیا ۔میں نے خود کو یہ یقین دلایا کہ میں حق پر ہوں اور میرا یہ قدم بالکل ٹھیک ہے ۔اس کے بعد میں نے اپنی تنہائی دور کرنے کی کوشش کی ۔میں نے سوچا کہ نیا جیون ساتھی مل جانے سے میں سب کچھ بھول جاﺅں گا ۔میں اسی جستجو میں تھا کہ تم مل گئی۔“

” اچھا، تو پھر ….؟“ آ یت نے بات بڑھائی

” آیت ، میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہوسکی ، وہ محبت جس کے بارے میں تمہارا اپنا نظریہ ہے ۔جس محبت کو میں ٹھیک سمجھتا تھا، اس میں ایک بار خطا کھا گیا، ویسی محبت …. بلکہ وہ محبت نہیں۔وہ میں وہاں ، یہاں جب چاہے کسی سے شادی کر لیتا۔“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

” پھر تنہائی دور کی نہیں؟“ آیت نے پوچھا

” میں نے جیسے کہا کہ مجھے تم سے محبت نہ ہو سکی لیکن تم نے میرے لاشعور تک کو ہلا کر رکھ دیا۔تم محبت نہیں لیکن ایک محور ضرور بن گئی ہو ۔جس کے گرد میں اپنی زندگی کو سوچ سکتا ہوں ۔تمہارا یہ محبت والا نظریہ جو باطن کے ساتھ جڑنے والا ہے ، اس نے مجھے اٹریکٹ تو کیا لیکن میں اس میں اُتر نہیں سکا۔جس نے میرے ساتھ یہ کیا کہ میں تیزی سے اپنے آ پ پر قابو کھوتا چلا گیا ۔شاید آگہی بہت بڑی زحمت ہے ،میں اگر کوئی عام انسان ہوتا تو شاید میں تمہاری بات نہ سمجھتا اور نہ یہ حالت ہوتی ۔“وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے بے بس ہے ۔اس کا لہجہ خاصا درد مند تھا۔ اس پر آ یت نے بڑے سکون سے کہا

”ایسا نہیں ہے شکیل ،اگر اس دنیا میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو اس کے حل بھی یہیں ہیں۔اگر کوئی حل نہ کرنا چاہئے تو الگ بات ہے ۔“

”کیسے ….یہ کیسے ہوگا؟“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

”تمہارا مسئلہ کوئی بہت بڑا نہیں ہے ،تم اپنے مسئلے کے حل میں خود ہی رکاوٹ ہو ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو شکیل نے اسکے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

” وہ کیسے ؟“

” دیکھو ، میں بتاتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی پھر کہتی چلی گئی ،”زندگی ہر لمحہ مسرت کا نام ہے زندگی وہ شے ہے جس سے ہر لمحہ مسرت پھوٹتی ہے ۔زندگی یہی ہے کہ ہم ہر لمحہ جی کر دکھاتے ہیں۔ہم اپنی خوشی اور مسرت کے ساتھ زندہ ہیں۔اگر کوئی اپنے عشق کے ساتھ ہے تو تمام چیزیں اس عشق کے زیراثر ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں ایسے لوگ بظاہر جن کی زندگی بڑی صعوبت میں گذری لیکن انہوں نے جی کر دکھایا۔ایسا جئیے کہ آج تک زندہ ہیں۔اس کا آخر رازکیا ہے ۔ وہ ہے ان کی باطنی محبت ۔اس میں طاقت اتنی ہے کہ وہ ظاہر پر چھا جاتا ہے۔صبر کرنے کی قوت کہاں سے آتی ہے ۔ اس کا باطن فراہم کرتا ہے۔“

”یہ باطن سے ملنا ،….تم کہہ تو رہی ہو ، اس سے ہوگا کیا؟“ اس نے اکتاتے ہوئے کہا

” اس قوت کا حصول ، جس میں زندگی ہے ۔دیکھو،اگر ظاہر اور باطن یکجا نہیںہیں تو ان میں یکتائی نہیں آ ئے گی ۔دونوں ہی اک دوسرے کو قوت دینے والے ہیں۔جب دونوں برابر ہو جائیں گے تو ایک نئی قوت پیدا ہوتی ہے ۔اور یہ سب کرنے والا عشق ہے ۔ اب میں اس کی ایک مثال دیتی ہو ں ۔ہمارے پاس بیج ہے اور زمین بھی ہے ۔ ہم لاکھ یہ سمجھتے ہیں کہ بیج کو زمین میںبو دیں گے تو یہ پھوٹ پڑے گا ۔بیج سمجھ رہا ہے کہ وہ زمین کے اندر چلا جا ئے گا تو پھوٹ پڑے گا اور ایک درخت بن جائے گا ۔زمین یہ جانتی ہے کہ جیسے ہی بیج میرے اندر آ ئے گا ، میں اسے اُگا دوںگی۔ یہاں تک محض تھیوری ہے ، مفروضہ ہے سوچنے سمجھنے کی حد تک تو ہے لیکن تخلیق کے عمل کا جو کیف و سرور ہوتا ہے، وہ دونوں کے پاس نہیںہے۔جب وہ دونوں اس عمل سے گزریں گے تو ایک نئی قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ ہے نیا شجر ۔ نئی زندگی ۔“

”میں باطن کو بھی سمجھ رہا ہوں اور ظاہر کو بھی ، کیا مجھے یہی کرنا ہوگا، تو ہی میرا مسئلہ حل ہوگا؟“ اس نے کہا تو آ یت بولی

”اپنے باطن کے ساتھ ہم آ ہنگ ہونے کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں، انہیںدور کردو ۔ باطن کے ساتھ مل کر تو دیکھو ۔عشق توانائی کا ذریعہ ہے ۔عشق میں آ کر نہ صرف خود کو قوت بنا لو ، بلکہ اسی قوت کا ذریعہ بھی بن جاﺅ ۔تم دولت کے محتاج مت بنو بلکہ دولت تمہاری محتاج بن جائے ۔ عشق ایک طاقت ہے اور یہ طاقت کیسے ہے؟ انسان خود کو اس قوت میں خود کو بدل لیتا ہے جب وہ اس قوت میں بدل جاتا ہے تو پھر جو وہ سوچتاہے ، جو چاہتا ہے ، جو ارادہ کرتا ہے اس کے مطابق ہو جاتا ہے ۔ یہ ہے بنیادی بات ۔“

” میں اپنے باطن سے جڑ جاﺅں گا تو میرا اپنا آ پ کہاں رہے گا ، میں تو ختم ہو جاﺅں گا۔“ اس نے یوں کہا جیسے کہیں اس کے اندر ضد بول رہی ہے ۔تب آ یت نے مسکراتے ہوئے کہا

”باطن کی یکتائی ظاہر کی وحدت کو قائم رکھتی ہے ۔ظاہر کی وحدت، باطن کی یکتائی کو قائم رکھتی ہے۔یہ ایک توازن ہے ۔اگر ان میں سے کوئی شے باہر جائے گی تو تصادم برپا کرے گی۔تشخص برقرار نہیں رہے گا ۔عشق اگر اپنی انفرادیت دکھاتا ہے تو ساتھ میں وہ شخص جو عشق پر کار بند ہے وہ اس کی انفرادیت کو قائم رکھتا ہے اور اپنی انفرادیت اس عشق سے دکھاتا ہے ۔“

” میں نے مان لیا کہ تم سب درست کہہ رہی ہو ، میں اسے سمجھ بھی رہا ہو تمہاری بیج اور زمین والی مثال کی طرح ، لیکن سوال یہ میں اپنے باطن سے جڑ جاتا ہوں تو اس کا اثر شارلین پر کیا ہوگا؟میں یہاں وہ وہاں ؟“ اس نے بات سمجھ کر اس کے بارے میں مزید سوال کر دیا۔

” شکیل ، میں یہ جو کچھ تمہیں کہہ رہی ہوں ، یہ کوئی جُوا نہیں، رسک نہیں، نہ کوئی ٹریپ ہے اور نہ تمہیں برین واش کرنے کی کوئی کوشش ۔ بلکہ میں جو کہہ رہی ہوں یہ ایک فطری تقاضا ہے ۔یہ حقیقت پر مبنی ہے ۔یہ عشق کی حقیقی فلا سفی ہے ۔تم بات کر رہے ہو افعال کی منفی مثبت ، کھونا پانا، نفع نقصان ، اسی میں الجھے ہو ئے ہو ۔میں یہ کہتی ہوں کہ اس کائنات کے دائرے میں یہ منفی مثبت کہاں ہیں۔ انسان کا جب دوسرے انسان تعلق ہوگا۔ اسی تعلق کے دائرے میں مثبت منفی ہیں، گلے شکوے ، ناراضگی ، ہمدردی ، محبت ، یا جو بھی ہو وہ ممکن ہے ۔ لیکن جہاں تعلق ہے ہی نہیں، تعلق کا کوئی دائرہ ہی نہیںوہاں کیا مثبت منفی؟وہ سب بے اثر ہے۔“

” میں تو شارلین سے محبت کرتا ہوں۔ میں دائرہ بنا لیتا ہوں وہ کہاں ؟“شکیل نے کہا

” تم شارلین سے محبت کرتے ہی نہیںہو ۔سنو ۔! اس نے جو مانگا کیا تم نے وہ سب دے دیا؟“

”سب سے مراد ؟“اس نے پوچھا

” روپیہ پیسہ ، وقت ، رویہ ،اس نے جو خواہش کی وہ سب پوری کیں ؟ “آیت نے پوچھا

” نہیں ، ایساکچھ نہیں، میں یہ سب نہیں دے سکا۔“ اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا

” تو پھر کس دائرے کی بات کرتے ہو ، تم اس کے دائرے ہی میں نہیں آ ئے ،تمہارے عشق کا تشخص کہاں بر قرار رہتا؟تم نے دائرہ بنایا ہی نہیں جس میں اسے مرکزی حیثیت دیتے یا اپنی ذات کو مرکزی حیثیت دلوا سکتے ؟ آج تم جس طرح یہاں ہسپتال میں پڑے ہو ، ختم ہو جاتے ہو، تمہاری دولت، وقت اور سب کچھ کیا یہ حقیقی مسرت دے سکتا ہے ۔سچی خوشی انسان کی انسان سے جڑنے میں ہے ، لیکن اس سے پہلے انسان کو خود سے جڑنا ہوگا ۔ اپنے باطن سے ، ظاہر اور باطن ایک کرنا ہوگا۔“آیت نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو وہ چونک گیا۔پھر دھیرے سے بولا

 ” میں کیسے کر سکتا ہوں بولو، میں ابھی سب کچھ کرنے کو تیار ہوں ۔“

” وہ ساری چیزیںجو تمہیں خود سے جڑنے نہیں دے رہیں۔ وہ سب ختم کردو ۔ پھر دیکھو،عمل کا رد عمل کیا ہوتا ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان دائرے میں رہ کر کوئی عمل کرے اور اس کا ردعمل نہ ہو ۔“ آ یت نے کہا وہ سوچ میں پڑ گیا۔ان کے درمیان یہ خاموشی طویل ہوگئی ۔ آ یت سمجھ رہی تھی کہ اندر ایک طوفان ہے ۔ اَنا سے الگ ہونے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔وہ خاموش رہی ۔ اسی دوران اس کے کمرے میں ڈاکٹر آ گیا۔شکیل کو ہوش میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا

” کیسے ہیںآپ ؟“

” میں اب ٹھیک ہوں ۔اچھا محسوس کر رہا ہوں۔“ اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ، میں دیکھ لیتا ہوں ، پھر اگر آ پ چاہیں تو گھر جا سکتے ہیں۔“ ڈاکٹر نے کہا اور اسے دیکھنے لگا۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے کہا،” میرے خیال میں اب آپ نارمل ہیں۔“

” اب میں گھر جا سکتا ہوں ؟“ شکیل نے پوچھا

” ہاں ، مگر کچھ دیر مزید رُک جائیں۔ایک دو ٹیسٹ لے لوں پھر چلے جائیے گا ۔“ ڈاکٹر نے کہا اور اس کے چارٹ پر لکھنے لگا۔ڈاکٹر کے جانے کے بعد شکیل نے آ یت سے کہا

” گھر فون کر دو ، سب ٹھیک ہے ،میں تمہارے ساتھ ہی گھر چلا جاﺅں گا ، اگر تم بزی ….“

” نہیں، میں تمہیں لے جاﺅں گی ۔“ آیت نے تیزی سے کہا اور سیل فون اٹھا لیا۔

آیت النساءجس وقت شکیل کو گھر چھوڑ کر اپنے گھر آ ئی تو سورج ڈوبنے کو تھا ، شام ہونے کو تھی۔ اس کے دل میں ایک کسک تھی ۔ اسے آ ج سرمد سے ملنا تھا لیکن نہ مل سکی ۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ فارم ہاﺅس چلی جائے یا طاہر سے کہے کہ وہ سرمد کو چھوڑ جائے ۔ گھر آ نے تک وہ کوئی فیصلہ نہ کر پائی تھی ۔اس نے کار پورچ میں روکی اور داخلی دروازے کو پار کرکے لاﺅنج میں آ ئی تو سامنے بیٹھے سرمد پر نگاہ پڑی ۔ وہ کسی کھلونے سے کھیل رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی تیر کی مانند اس کی جانب بڑھا۔آ یت نے اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے پوچھا

” ارے آ پ کب آ گئے ؟“

” میں اور پاپا تو کافی دیر سے آ گئے تھے ۔ “سرمد نے خوش ہوتے ہوئے بتایا تو آ یت کی نگاہ داداجی اور طاہر پر پڑی جو ایک طرف بیٹھے باتیں کر رہے تھے لیکن اب اس کی جانب متوجہ تھی ۔ وہ سرمد کو اٹھائے ان کی طرف بڑھتے ہوئے بولی

”میرے دیر سے آ نے کی وجہ سے بور تو نہیںہوئے ۔“

” نہیں، پاپا نے بتایا تھا کہ آ پ کسی کی عیادت کرنے گئی ہیںاور عیادت کرنا ثواب کاکام ہے نا ۔ پھر میں بور نہیںہوا ۔“

” اچھا، مطلب تمہارے پاپا تمہیںاچھی اچھی باتیں بھی سکھاتے ہیں۔“ آ یت نے کہا ۔ تب تک وہ ان کے پاس پہنچ چکی تھی ۔ وہ سرمد کو گود میںبٹھاتے ہوئے خود ایک صوفے پر بیٹھ گئی ۔ علیک سلیک کے بعد وہ شکیل کا احوال بتانے لگی ۔ وہ بتا چکی تو دادا جی نے کہا

” یہ تو اچھا ہوا تم نے اسے گھر چھوڑ دیا۔“

تبھی طاہر نے اٹھتے ہوئے کہا

” میں چلتا ہوں ۔سرمد کو کل شام لے لوں گا۔“

” ارے کہاں ، یہیں رہو نا۔“ آیت نے تیزی سے کہا

” نہیں میں کچھ کام کر لوں گا ۔“ اس نے کہا اور دادا جی سے ہاتھ ملا کر سرمد کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ باہر کی جانب چل دیا۔ آ یت اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھتی رہی ۔وہ داخلی دروازہ پار گیا۔

” بڑی ماما۔! آج پھر دادا ابو کو لے کر فاسٹ فوڈ چلیں۔“

” نہ بھائی ، مجھے معاف رکھو۔ اپنی ماما ہی کو لے جاﺅ ۔“ دادا جی نے مسکراتے ہوئے کہا

”نہیں آ پ جائیں گے ہمارے ساتھ ۔“ سرمد آیت کی گود سے نکل کر دادا جی کی گود میں چلا گیا۔

” نہیں، میں نہیں۔“ انہوںنے بچوں کی طرح سر ہلاتے ہوئے کہا

” دادو مان جائیںنا، سرمد کہہ رہا ہے ۔“ آیت نے کہا

” اچھا ، تیار ہو جاﺅ ۔“ دادا جی ہنستے ہوئے بولے تواس پر وہ دونوں بھی ہنس دئیے ۔

ز….ژ….ز

طاہر باجوہ آفس میں بیٹھا اپنے کام میں مگن تھا۔انہی لمحوں میں اس کا سیل فون بجا۔ وہ ساجد کی کال تھی۔ اس نے فون اٹھا کر کال رسیو کی اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا

” ہاں ساجد بولو۔“

” وہ بات میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں لیکن پہلے میری ایک بات کاجواب دو ۔“ ساجد نے کہا

” بولو، بلکہ پوچھو۔“ اس نے کہا

”رابعہ بھابی تو نہیں رہیں،لیکن اب تم نے شادی کرنی ہے ، کوئی خیال ہے ، کیا ارادہ ہے ؟“ ساجد نے کچھ دبے دبے الفاظ میں پوچھا

” تم سیدھے سیدھے بولو، کہنا کیا چاہتے ہو ؟“ اس نے کہا تو تیزی سے کہتا چلاگیا۔

”دیکھو، تمہارے بابا سکندر حیات صاحب روزانہ مجھے بلوا کر دھمکی دیتے ہیں کہ میں تمہیں شادی کے لئے تیار کروں ۔ وہاں تمہارے پاس لاہور جاﺅں ، وہیں ڈیرے ڈال لوں اور تمہیں مناﺅں ، ورنہ ….“

” ورنہ کیا….“ اس نے پوچھا

” تم جانتے ہو ، تیرے بابا نے میرا جینا حرام کر دینا ہے ۔اگر ایک پر چہ دے دیانا میرے خلاف تو پولیس مجھے جب جی چاہے تنگ کرتی رہے گی ۔“ساجد نے اکتاتے ہوئے کہا

” یار یہ کوئی بات نہیں،کیسی باتیں کر رہے ہو ؟“ اس نے غصے میں کہا

” تم تو آ تے نہیںہو یہاں ،لاہور تم نے چھوڑا نہیں، یہاں کے سارے معاملے تمہارے اباحضور دیکھتے ہیں، پولیس ان کے آ گے کیا ہے ۔اب ایم پی اے سے میں کچھ کہہ نہیں سکتا، اگر کہا تو تیرے بابا اسے بھی اپنے خلاف سازش قرار دے دیں گے ۔میری زندگی بھی عجیب گھن چکر بن گئی ہے یار۔“ اس نے آ رزدہ ہوتے ہوئے کہا تو طاہر اسے سمجھاتے ہوئے بولا

” کچھ نہیںہوتا کہہ دو کہ میں تمہاری بات نہیںسنتا۔“

” اور سنو ، میں نے اتنا کہہ دیا تو جو تھوڑا بہت تیرے بابا کے عتاب سے بچا ہوا ہوں ،وہ بھی پردہ ہٹ جائے ،خدا کے بندے وہ مجھے تمہارا دوست سمجھ کر ابھی کچھ نہیںکہتے ۔“ اس نے غصے میں کہا تو اسے ہنسی آ گئی ۔ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا

” اچھا چل بول کیا کہتے ہیں؟“

”بتا تو دیا ہے ۔میں تمہیں شادی کے لئے تیار کروں ۔“ اس نے کہا تو طاہر بولا

”اچھا ان کی بات مان کر ایک دو دن کے لئے آ جا یہاں ، پھر میں تمہیں جواب دے دوں گا ۔“

” بات اصل میں کچھ اور ہے ۔وہ تمہارے لئے لڑکی تلاش کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے یہ ٹاسک دیا جا رہا ہے کہ تمہیں مناﺅں۔ ورنہ ان سے جو ہو سکے گا پھر وہ کریں گے ۔دھمکی اصل میں یہی ہے ۔“ ساجد نے اصل بات بتائی تو وہ پریشان ہو گیا۔

” ہاں ، یہ بات پریشانی والی ہے ، ظاہر ہے وہ مجھے تو کچھ نہیںکہیں گے ، نقصان وہ سرمد ہی کا کریں گے ۔ایسا میں ہونے نہیںدوں گا ۔“ اس نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا

” وہ زیادہ وقت نہیں دینا چاہتے ۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر زیادہ وقت دیا گیا تو کہیں وہ لڑکی والے ہی نہ بھاگ جائیں یا پھر رابعہ والی بات کہیںنہ کھل جائے ۔“

”یہ تو کریں گے ۔ خیر ، میں دیکھتا ہوں ۔“ طاہر نے پریشانی میںکہا

”دیکھو ، تم اپنے ماں باپ کو کچھ کہتے نہیںہو ، مجھے پریشان کر کے یہ بات انہوں نے تم تک پہنچا دی۔ ایک ہفتے سے میں ٹال رہا تھا کہ میری بات سن کر تم پریشان ہو جاﺅ گے ۔وہ ٹلنے والے نہیںہیں۔“ ساجد نے آرزدہ لہجے میں کہا

” کچھ نہیںہوتا،میں وہاں کے ڈی ایس پی کو تمہارے بارے میں فون کر دوں گا ۔“ اس نے تسلی دی

” بات تو پھر وہی ہے، اس سے تمہارا بابا ہمیں مقابلے پر سمجھے گا ۔تم نے کچھ کہنا نہیں،میں غریب آدمی مارا جاﺅں گا ۔“ اس نے احتجاجاً کہا

” یار تھوڑا حوصلہ کر ، میں تمہیں کچھ نہیںہونے دوں گا ۔تم انہیں کہہ دو کہ مجھ تک ساری بات پہنچ گئی ہے اور چند دن تک میں ان کا جواب دے دوں گا۔“طاہر نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا

 ”ٹھیک ہے ، میں آ ج ہی حویلی جا کر کہہ دیتا ہوں ۔تم جانو اور تمہارا باپ ۔“ اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا

” اور ہاں، دھیان رکھنا، کوئی ایسی ویسی بات ہو تو مجھے بتا دینا۔“ طاہر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

” بتا دوں گا ، تم بھی سرمد کا اب بہت خیال رکھنا۔“ اس نے جواباً اسے سمجھا یا۔

پھر کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے فون بند کر دیا۔ طاہر کی سوچوں میں طوفان آ گیا تھا۔ وہ یہ سوچ کر ہی لرز گیا تھا کہ سرمد کو کوئی نقصان پہنچانے کی سوچ رہا ہے ۔اس نے ایک بار تو یہ ظلم سہہ لیا تھا، کیا دوسری بار وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا؟ اس سوال نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔اس سے بھی اہم سوال یہ تھا کہ کیا اس بارے وہ آیت سے بات کرے یا نہیں؟ ایک اور امتحان درپیش تھا۔

ز….ژ….ز

 اس دن آیت النساءایک بزنس میٹنگ میں تھی ۔شہر کے بڑے بزنس مین اس میں شامل تھے۔کسی حکومتی پالیسی پر بات چیت چل رہی تھی ۔وہ میٹنگ ابھی درمیان ہی میں تھی کہ خاموشی پر لگے ہوئے فون پر امبرین کے نمبر جگمگانے لگے ۔ اس نے کال ڈراپ کر کے میسج کر دیا کہ میں میٹنگ میں ہوں ۔ چند لمحے بعد ہی امبرین کا میسج آ گیا۔ اس نے دیکھا تو ایک دم سے حواس باختہ ہو گئی ۔ کھیل کے میدان میں کھیلتے ہوئے سرمد کے چوٹ لگ گئی تھی۔ اس کی پٹی کر دی گئی تھی۔ ممکن ہے عام حالات میں امبرین اسے یہ بتاتی ہی نہ لیکن آیت نے اسے سختی سے کہا ہوا تھا کہ ذرا سی بھی کوئی بات ہو تو اسے فوراً مطلع کیا جائے ۔اگرچہ امبرین نے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ خطرے والی کوئی بات نہیں لیکن پھر بھی آیت نے وہ میٹنگ چھوڑی اور جلدی میں عمارت سے باہر آ گئی ۔ وہ کار میںبیٹھی اور سیدھی اس کے اسکول جا پہنچی ۔

سرمد اس وقت امبرین ہی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔شرٹ پر خون کے دھبے تھے ۔ کالر پر بھی خون کے نشان تھے ۔ آیت ایک باراسے دیکھ کر دھک سے رہ گئی ۔اس نے تیزی سے سرمد کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا

” کیسے ہوا یہ سب ؟ چوٹ زیادہ تو نہیں لگی ؟“

” بڑی ماما۔! میں سب کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا،میںگول کرنے لگا تو سیدھا پول میں جا لگا ۔ اب پٹی ہو گئی ہے میں ٹھیک ہوں۔“ سرمد نے کہا تو اس کی سانس میں سانس آ یا

” میرے کہنے پر یقین نہیں آ یا کیا؟“ امبرین نے ناراضگی بھرے لہجے میں پوچھا تو آ یت نے ایک طویل سانس لی اور پھر کافی حد تک مطمئن انداز میں کہا

” آ تو گیا تھا لیکن خود کو نہ روک پائی ۔“

”میںنے اسے دودھ بھی پلا دیا ہے اور بسکٹ بھی کھلا دئیے ہیں۔“ یہ کہہ کر اس نے سرمد کی طرف دیکھا اور اسے کہا،” بتا دو اپنی بڑی ماما کو ۔“

اس پر وہ مسکرا دیا اور پھر بڑی معصومیت سے بولا

” اب میں جاﺅں اپنی کلاس میں؟“

” ہاں جاﺅ ۔“ امبرین نے کہا تو وہ اٹھ کر جانے لگا تبھی آ یت نے روک کر کہا

” نہیںجانا، میں تمہیں ہسپتال لے کر جاﺅں گی، چلو میرے ساتھ۔“

” ٹھیک ہے بڑی ماما، میںبیگ لے لوں ۔“

” لے لو ۔“ اس نے کہا اور ساتھ ہی اٹھ گئی ۔ تبھی امبرین بھی اس کے ساتھ اٹھتے ہوئے بولی

” آ یت ۔! ویسے مجھے تمہاری اس کے ساتھ محبت دیکھ کر رشک آ تا ہے ۔“

” تم کیا جانو بی بی ، یہ میرے لئے کیا ہے ۔“ آیت نے کہیں ڈوب کر کہا

”میں کبھی کبھی سوچتی ہوں ، تمہارے بچے ہو گئے تو ان کے ساتھ کیا کرو گی ؟“ امبرین نے ہنستے ہوئے کہا تو آ یت مسکراتے ہوئے بولی

” وہ جب وقت آ یا تو خود ہی دیکھ لینا، تم نے انہیںپڑھانا ہے ۔“اس پر امبرین قہقہہ ہی لگا سکی ۔ تبھی آیت نے اس سے کہا،”ایک پورا کمرہ ڈسپنسری کے لئے مختص کردو ، اورآن کال ڈاکٹرکا بھی بندو بست کرو ۔“

”ٹھیک ہے۔“ امبرین نے کہاتو آیت نے طاہر کو فون کال ملا دی ، رابطہ ہوتے ہی اس نے کہا

” میں سرمد کے سکول میں ہوں ۔“

” خیریت ….؟“ اس نے لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا تو پرسکون لہجے میں بولی

”بس ایسے ہی مجھے پتہ چلا کہ سرمد کھیلتے ہوئے گر گیا ہے اور اسے معمولی سی چوٹ لگی ہے ۔“

” اوہ ۔!“ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، نجانے اس ایک لمحے میں کتنے خیال آ کر گزر گئے تھے۔اس بے ساختہ پن میں جو ایک خوف تھا، وہ آ یت سے چھپا نہ رہ سکا ۔ اس لئے بولی

” طاہر ، تم خیریت سے ہو نا ؟“

” ہاں ہاں میںٹھیک ہوں۔ اب کدھر ہے سرمد ؟“ اس نے تیزی سے جواب دیتے ہوئے پوچھا

”میں ایسے ہی اسے ساتھ لے جا رہی ہوں ، راستے میں ہسپتال سے پٹی بھی کرواتی جاﺅں گی ۔یہاں کیا پٹی ہوئی ہو گی ۔“ آ یت نے اپنے لہجے کو بہت حد تک عام سا رکھتے ہوئے کہا

” اچھا ، کس ہسپتال میں جا رہی ہو ؟“ اس نے پوچھا تو آ یت نے نام بتا دیا ، اتنے میں سرمد بیگ لے کر اس کے پاس آ گیا، تبھی آ یت نے اسے فون دیتے ہوئے کہا،” لو پاپا سے بات کرو اور انہیں اپنے بارے میں بتاﺅ ۔“

یہ کہتے ہوئے آیت نے اسپیکر آن کر دیا ۔سرمد فون کے قریب آ کر بولا

” پاپا۔! میں ٹھیک ہوں ۔“

” زیادہ چوٹ تو نہیںآئی ؟“ طاہر کی آواز ابھری

” نہیں پاپا،میں ٹھیک ہوں ،آپ پریشان نہ ہوں ۔“ سرمد نے کہا

” ٹھیک ہے ،آپ اپنی ماما کے ساتھ جاﺅ ، میںبھی آ تاہوں۔“ طاہر نے کہا

” ٹھیک ہے ۔“ سرمد نے کہا اور پیچھے ہٹ کر اپنا بیگ سنبھالنے لگا۔ آیت نے فون بند کر دیا اور سرمد کو لے کر کار کی جانب بڑھ گئی۔

ہسپتال میں جب ڈاکٹر نے سرمد کی پٹی اتار کر اس کا زخم دیکھا توزخم اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن اس کے ارد گرد کافی بڑا نیل کا نشان پڑ گیا تھا۔

” کہیں کوئی سیریس بات تو نہیں؟“

جس طرح آیت نے پوچھا، اس کے رد عمل میںڈاکٹر نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” نہیں، کچھ نہیں ہے ۔فکر کی بات نہیں۔میں نئی پٹی کردیتا ہوں ۔“ یہ کہتے ہوئے چند لمحے رکا پھر بولا،” ہاں اگر سر میں درد محسوس ہو اور مسلسل ہو تو پھر ضرور دکھا لیں۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ آیت نے کہا تو عام سے لہجے میں اندر سے کانپ گئی تھی ۔ اسے برسوں پہلے سرمد کا ہسپتال میں جانے کا واقعہ یاد آ گیا تھا۔ جب وہ بہاولپور گئی تھی اور انہی دنوں اسے طاہر باجوہ ملا تھا۔ ایک نرس آ گے بڑھ کر سرمد کے پٹی کرنے لگی تھی۔اسی دوران طاہر بھی وہاں آ گیا ۔

 اس نے آتے ہی سرمد کی طرف دیکھا اور پھر آیت سے مخاطب ہو کر بولا

”زخم زیادہ گہرا تو نہیں ہے؟“

” نہیں معمولی سی چوٹ ہے ، دیکھ لو ۔“ آیت نے سرمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

” لیکن یہ شرٹ پر ….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا تو سرمد بولا

” پاپا ، میں ٹھیک ہوں ۔آپ اور ماما پریشان نہ ہوں۔ اب تو میرے درد بھی نہیںہورہا۔“

” اوکے ۔“طاہر نے کہا اور نرس کو پٹی کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ تینوں ہسپتال سے باہر آگئے۔پارکنگ کے پاس آ کرآیت نے طاہر کی طرف دیکھا،اس کے ذہن میں یہی تھا کہ سرمد اب کس کے ساتھ جائے گا؟وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ طاہر نے یہ لفظ کہہ دئیے۔ چند لمحوں کے لئے خاموشی چھا گئی ۔ اس کا جواب کیا ہوسکتا تھا؟ یہ خاموشی سرمد نے توڑی ۔

” پاپا ۔! فارم ہاﺅس چلیں نا، میں نے ڈریس بدلنا ہے ۔“ اس نے کہا تو گویا فیصلہ کر دیا کہ اُسے کس کے ساتھ جانا ہے ۔ آیت اس پر مسکرا دی ۔اسے اپنے آپ پر مان بڑھ گیا تھا۔

” اوکے ، آپ جاﺅ ۔اگر سر میں معمولی سا بھی درد ہو تو مجھے کال کرنا۔“ آیت نے کہا

” میں شام کے وقت لے آﺅں گا ۔“ طاہر نے کہاتو آیت نے آنکھوں کے اشارے سے اس کی بات مان لینے کا عندیہ دیا۔

آیت گھر آ گئی ۔وہ اتنی جلدی گھر نہیںآتی تھی ۔اس لئے لاﺅنج میں بیٹھے ہو ئے دادا جی نے پوچھا

” خیریت بیٹا۔! آج جلدی واپس آ گئے ہو ۔طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“

 ” ہاں ، میں ٹھیک ہوں لیکن سرمد ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے ساری روداد سنا دی

” اوہ ، اب کیسا ہے وہ ؟“

” ٹھیک ہے، آ جائے گا شام کو ۔“ اس نے کہا پھر لمحہ بھر رُکر بولی،” دادو ، میں نے آ پ سے ایک بات کرنی ہے ۔بہت اہم بات ۔“

” بولو بیٹا، کیا بات ہے ؟“

” دادو، آپ ایسا کریں ، میری اور طاہر کی شادی کروا دیں۔“ آیت نے عام سے لہجے ایک بہت بڑی بات کہہ دی تھی ۔ جس پر دادا جی حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے ۔ وہ چند لمحے اسی کیفیت میں رہے پھر خود پر قابو پاکر بولے

” میں جانتا ہوں بیٹا، تم اس سے محض سرمد کی وجہ سے شادی کرنا چاہتی ہو ۔مجھے نہیںمعلوم کہ طاہر کے لئے تمہارے دل میں وہ جذبہ یا کیفیت اب بھی ہے ، جب ہم نے طاہر سے تمہاری شادی کی بات کی تھی ۔مجھے یہ بھی علم نہیں کہ اب طاہر کیا چاہتا ہے ۔یا تم دونوں کی آپس میں کیا انڈر سٹینڈنگ ہے ۔ لیکن….“ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا

” لیکن کیا دادو….؟“ آیت نے الجھتے ہوئے پوچھا

”تب کی بات اور تھی ،اس وقت میں نے اور شکیل کے والدین نے سب طے کر لیا ہوا ہے ۔یہ درمیان میں شکیل نے ہی کچھ دنوں کے لئے شادی کو موخر کر دیا، اب چند دن پہلے وہ ہسپتال جا پہنچا ، یہ سب اسی وجہ سے رُکا ہوا ہے ۔ ورنہ سب طے ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد تمہاری شادی شکیل سے ہو جائے ۔“ دادا جی نے تفصیل سے بتایا تو آیت نے بڑے سکون سے کہا

” ابھی شادی ہوئی تو نہیںنا۔آپ انہیں منع کر دیں۔“

” ایسے کیسے منع کردوں ۔دو ماہ ہو گئے ہیں، ساری بات چیت چلتے ہوئے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکے اور پھر بولے ،” انہیںمنع کیا بھی جا سکتا ہے لیکن کوئی وجہ ؟“

” یہی کہ میں طاہر سے شادی کر رہی ہوں۔“ اس نے پھر اسی سکون ہی سے کہا

” بیٹا کیسی باتیں کر رہی ہو ؟“ دادا نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

”دادو ، جس طرح آپ میرے بنا نہیں رہ سکتے ، میں بھی سرمد کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔طاہر کی رابعہ سے شادی ایک دوسرا مسئلہ تھی لیکن اب ….اب میں سرمد کو نہیںچھوڑ سکتی ہوں۔“ اس نے یوں بھیگے ہوئے لہجے میں کہا جیسے وہ رو دے گی۔ دادا جی اس کی طرف دیکھتے رہے ، پھر بولے

”ایک دم سے تو کچھ نہیںہو سکتا۔میں چند دن میں ہی انہیں منع کر پاﺅں گا نا ، اس دوران میں طاہر سے بھی بات کر لیتا ہوں ۔تم جانتی ہو اس کے والدین کا بھی ایک بڑا ایشو ہے ۔مجھے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دو میرے بچے ۔“

” اوکے ،لیکن جلدی پلیز ، سرمد کو ….“ آیت نے کہنا چاہا تو دادا جی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

”ٹھیک ہے ۔ میں سمجھ گیا۔“

آیت نے دادا کی طرف دیکھا، پھر مسکرائی اور اٹھ کر تیزی سے اندر کی جانب چلی گئی ۔

ز….ژ….ز

اس دن آیت النساءواک کے بعد گھر آئی تو حسب معمول دادا جی کویڈور میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔وہ اُن کے قریب پہنچی تو وہ اخبار پر نگاہیں ہٹا کر بولے

” آج کا کیا پروگرام ہے؟“

”آج آف ہے ، آفس تو جانا نہیں،ناشتہ کر کے فارم ہاﺅس جاﺅں گی سرمد کے پاس ۔میرا تو یہ پروگرام ہے ، آپ بتائیں؟“آیت ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی

 ” ٹھیک ہے ۔“ دادا جی نے کہا اور پھر سے اخبار پر نگاہیں جمالیں۔

” دادو کوئی خاص بات ؟“ اسے تسلی نہیںہوئی تھی

” نہیں، تم ناشتہ لگواﺅ ۔“ دادا نے عام سے انداز میںکہا تو وہ کندھے اُچکائے اندر چلی گئی۔وہ ان کا موڈسمجھ چکی تھی۔ اب وہ جو بھی کہتی رہتی ، انہوں نے بتانا نہیںتھا۔

ناشتے کے بعدآیت تیار ہو کر فارم ہاﺅس جانے کے لئے لاﺅنج میں آئی تو دادا جی کے پاس ایک سفید فام جوان عمر لڑکی بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی ۔اس کے سیاہ گھنگریالے بال ، تیکھے نین نقش ، گہری نیلی آ نکھیں ، پتلی سی تھی۔ اس نے سفید پتلون ، ہلکے کاسنی کی شرٹ اور سیاہ جوتے پہنے ہوئے تھے۔اس نے گھوم کر آیت کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کھڑی ہو گئی ۔تبھی دادا جی نے کہا

” آیت ، ان سے ملو ، یہ ہے شارلن، شارلن شکیل ۔“

 ” واہ ، کیا بات ہے ۔“ آ یت نے خوشگوار لہجے میں کہا اور شارلن کی جانب بڑھی پھر اسے گلے لگاتے ہوئے انگریزی میں بولی ،” کیسی ہو شارلن ؟“

” میں ٹھیک ہوں ۔“ اس نے انگریزی میں جواب دیا تو آیت ایک دم سے مسکرا دی اور پھر پوچھا

” بہت اچھا، آ ﺅ بیٹھو۔“ آیت نے اس کا ہاتھ پکڑ کر صوفے پر بٹھایا تو دادا اٹھتے ہوئے بولے

”اوکے کرو گپ شپ ۔“

یہ کہتے ہوئے وہ باہر چلے گئے ۔

” شارلین ، تم اچانک ….؟“

” ہاں ، میں اچانک ہی آ ئی ہوں ، چند دن پہلے مجھے بھی معلوم نہیںتھا کہ میں یوں پاکستان آ جاﺅں گی ۔میں کل شام یہاں پہنچی ہوں ۔شکیل خودگیا تھا ائیرپورٹ لینے ۔“ اس نے انتہائی سنجیدگی سے بتایا

”میں تو سن رہی تھی کہ تم اور شکیل ….“

” وہ سب ٹھیک تھا، میں اسے طلاق دینے والی تھی ۔ حتمی طور پر سب ختم کر دینا چاہتی تھی ۔ اس کے لئے میں پورا پلان کر لیا تھا اور یہ فیصلہ تب کیا تھا ، جب مجھے یہ چلا کہ شکیل تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔“اس نے کہا تو آ یت نے بڑے تحمل سے پوچھا

 ”اچھا ، تمہیں پتہ چل گیا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے ؟“

” ہاں ، اس نے اپنے دوست کو تمہاری تصویر بھیجی تھی اور پھر بیٹے حیدر کو بھی اور اس سے پوچھا تھا کہ تمہاری یہ نئی ماما ، تمہیں کیسی لگی ؟تب مجھے پتہ چلا اور میں نے سوچا کہ اس نے سب کچھ ختم کردیا ہے تو مجھے اپنا قانونی حق لے لینا چاہئے ۔“

” تو پھر تمہارا یہاں آ نا ، اس قانونی حق ….“آیت نے وضاحت کے لئے پوچھا

” نہیں ،نہیں، میں اب شکیل کو لینے آ ئی ہوں اپنے ساتھ ، ہمارے درمیان سب مسئلے ختم ہو گئے ہیں۔“ اس نے تیزی سے کہا

” یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔سارے مسائل ختم ہو گئے ۔ کیا میں جان سکتی ہوں کہ ….“ اس نے پوچھنا چاہا تو شارلین نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا

” تم ہی نے سارے مسئلے حل کئے اور خود ہی پوچھ رہی ہو ۔“

” میں سمجھی نہیں؟“ آیت نے واقعتا نہ سمجھتے ہوئے پوچھا

”دیکھو ، میں تمہیں شروع سے بتاتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوئی پھر بولی ، ” میرے اور شکیل کے درمیان تقریباً دو برس تک انڈر سٹینڈنگ چلی۔مجھے وہ اس لئے پسند تھا کہ وہ بہت اچھا ہے، بہت محنت کرتا ہے ۔وہ پڑھا لکھا ہے اور دولت کمانا جانتا ہے ۔ہم دو برس تک دوست رہے اور اس کے بعد ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم شادی کریں گے اور ہم نے شادی کرلی ۔ایک برس بعد ہمارا بیٹا پیدا ہو گیا۔“

” مسائل کب شروع ہوئے ؟“ آیت نے پوچھا

” بیٹا پیدا ہونے کے بعد ۔مجھے لگا کہ وہ مجھ سے متنفر ہو گیا ہے ۔مجھ میں کشش نہیں رہی یا وہ بدل گیا ہے ۔ اس پر دولت کمانے کا بھوت سوار ہو گیا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ میں گھر میں رہوں اور وہ کام کرے ۔ جبکہ میں ایک فیشن ڈیزائنر ہوں ۔میں بہت سارا پیسہ کما سکتی ہوں ۔پھر میں نے اس کے سامنے ایک شرط رکھ دی کہ اگر میں نہیںکماﺅں گی تو پھر سب میرے نام کرو ۔میں جانتی تھی کہ اس نے مجھے چھوڑنا نہیں، مجھے ہی اسے چھوڑنا پڑے گا، قانون ہی ایسا ہے وہاں کا ۔ مجھے لگا کہ وہ مجھے اپنا دست نگر رکھنا چاہتا ہے ۔میں ایسی زندگی نہیںچاہتی تھی ، جس میں ہم ایک چھت کے تلے رہیں اور اجنبی کی مانند زندگی گزاریں۔ہمارے درمیان تلخیاں بڑھنے لگیں۔ہم کئیکئی دن ایک دوسرے کو دیکھتے بھی نہیںتھے ۔ میں نے ضد میں آ کر ایک فرم جوائن کر لی ۔اس سے وہ چڑ گیا۔ اختلافات زیادہ ہو گئے ۔پھر ہم میں علیحدگی ہو گئی ۔ کچھ عرصے بعد وہ پاکستان آ گیا ۔“

”تم نے منانے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟“ آ یت نے پوچھا

” کیونکہ میں حق پرتھی۔“ اس نے حتمی انداز میں کہا

” ٹھیک ،اور شکیل بھی سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی حق پر ہے ۔خیر۔!تم لوگ قریب ہوتے ہوئے الگ ہو گئے اور دور رہ کر اچانک مل گئے ، یہ سب کیا؟“ آ یت نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”تمہارا بہت شکریہ کہ تم نے اسے راہنمائی دی ۔ مجھے اس نے سب بتایا۔“ شارلین نے خوشگوار لہجے میں کہا تو آ یت بولی

” یہ تو بتاﺅ ، کیسے ؟“

”کچھ عرصے سے وہ میرے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں اسے کچھ اور ہی سمجھ رہی تھی۔جب سے تمہاری تصویر اس نے بھیجی تھی ۔ میں یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ کچھ لے اور دے کر میرے ساتھ معاملہ ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ قانونی طور پر کسی زد میں نہ آ ئے ۔لیکن چند دن پہلے مجھے پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں ہے ۔ اس کے ایک دوست نے مجھے بتایا۔ پھر وہی دوست میرے پاس آ یا ۔ اس کے ساتھ وکیل بھی تھا۔ اس نے وہاں کا سب کچھ میرے نام کر دیا تھا۔سب دولت ،گھر،گاڑی سب۔پھر میں نے شکیل سے رابطہ کر کے پوچھا۔یہ سب کیوں کیا۔“ شارلین یہ کہتے ہوئے تھوڑا جذباتی ہو گئی

” تو پھر ۔!“آیت نے اسے جذباتیت سے نکالنے کے پوچھا تاکہ اس کی توجہ بٹ جائے

”تو اس نے مجھے یہ کہا کہ میرا سب کچھ تمہارا ہے ۔اگر یہ سب چیزیں دے دینے کا نام ہی محبت ہے تو جان لو کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔“

” اور یہی سن کر یہاں آ گئی ؟“ آ یت نے خوشگواریت سے پوچھا تو وہ بولی

” نہیں۔ میں شکیل کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں ۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ اس میں بہت بڑی تبدیلی تھی ، اتنی بڑی کہ جس کا میں یقین نہیںکر سکتی تھی ۔مجھے پاگل کر دینے والا سوال یہی تھا کہ وہ ایسا کیوں ہو گیا ہے؟“

 ” جواب ملا ؟“ آ یت نے پوچھا

” ہاں ، مجھے شکیل نے بتایا کہ جس کے ساتھ میں شادی کرنا چاہتا تھا ،اسی نے مجھے بتایا کہ محبت ہوتی کیا ہے ۔ ہم دو دن لگاتار بات کرتے رہے ۔اس نے مجھے تمہارا نظریہ محبت سمجھایا۔اس نے مجھے سب سمجھا کر یہ بتایا کہ سب لے لو ۔ مجھے اب ضرورت نہیں۔میں اب اپنی نئی زندگی یہاں شروع کر سکتا ہوں۔صرف تمہیں یہ بتانا تھا کہ مجھے تم سے محبت ہے اور بس ۔“

” اس نے یہ نہیںکہا کہ آجاﺅ یا دوبارہ سے نئی زندگی کا آ غاز کریں ….‘؟‘ آ یت نے پوچھا

” نہیں اس نے صرف یہی سمجھایا اور یہی کہا کہ مجھے اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے جو فیصلہ بھی کرو اس میں آ زاد ہو۔ کسی بھی قسم کا کوئی بوجھ مت رکھنا۔یہ بھی اختیار مجھے دے دیا کہ اگر بیٹا ملوانا چاہو ںیا نہیں ۔“ شارلین نے جذب سے بتایا

”تو پھر ….“

” پھر میرا اور اس کا مسئلہ ہی نہیں رہ گیا، تب ناراضگی کس بات کی ؟وہ پھر بھی میری محبت ہے ، میرے بیٹے کا باپ ، میں نے سوچا اسے خود لے آﺅں ۔سو میں آ گئی۔“ اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا

” بہت اچھا کیا، ورنہ میںنے اس سے شادی کرلینا تھی ۔“ آ یت نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو شارلین بھی کھل کے ہنس دی پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی

” میں جانتی ہوں ۔جس کے خیالات اتنے اچھے ہیں ، اور جس نے اپنے خیالات کے مطابق عمل کر کے بھی دکھا دیا ، وہ کسی پر ظلم نہیں کر سکتا۔ تم بہت اچھی ہو تم نے توڑا نہیں جوڑا ہے ۔“

” بہت اچھا کیا، تم اسے لینے یہاں آ گئی مرد کو اگر محبت دے سکتی ہے تو وہ عورت ہے ۔اس میں عورت کا بھی بڑا پن ہے ۔ خدا تم دونوں کو آ باد رکھے ۔“آ یت نے مسکراتے ہوئے کہا

” تمہارا بہت شکریہ ، تم نے شکیل کا خیال رکھا ، اسے بھٹکنے سے بچا لیا۔“ شارلین نے محبت سے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

”چلو آﺅ ، میں تمہیں تھوڑا گھماپھرالاﺅں۔چلو گی ؟“ آیت نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔ اس کے ذہن میں سرمد تھا، جو اس کا انتظار کر رہا تھا۔جس کے ساتھ اس نے کل آنے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔

” چلو ، آ ج کا دن میںنے تمہارے نام کیا ہے ۔“ شارلین نے کہا اور اٹھ گئی ۔

پورچ میں کار کھڑی تھی ۔ آیت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ، شارلین پسنجر پر ،توآیت نے کار بڑھا دی ۔

ز….ژ….ز

دادا جی اور طاہر ایک اوپن ائیر ریستوران نے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے۔اُن دونوں کے درمیان یہ ملاقات طے تھی ۔ جیسے ہی آیت اور شارلین فارم ہاﺅس پہنچیں ، طاہر وہاں سے نکل کر اس ریستوران میں آ گیاتھا۔دادا جی یہاں اس کا انتظار کر رہے تھے۔تھوڑی دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد دادا جی نے کہا

”طاہر ۔! کیاتم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا ہے ؟“

” جی ، یہ آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں، تاہم اتنا احساس تو ہے کہ کوئی بہت ہی اہم بات ہے ۔“ اس نے مودب لہجے میں کہا

” بیٹا۔! آیت نے خود مجھ سے یہ کہا کہ میں تم سے شادی کی بات کروں۔مطلب ، آ یت تم سے شادی کی خواہش مند ہے ۔“ داداجی نے بڑے تحمل سے کہا تو وہ بولا

” جی ، میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا، کیونکہ وہ سرمد کے بنا نہیں رہ سکتی۔“

”تو پھر تم کیا کہتے ہو ؟“ دادا جی نے پوچھا

”جیسے اس کی خواہش ہے۔“اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” مطلب ، میں سمجھا نہیں، اس کی خواہش ہے تمہاری نہیں؟کیا یہ زور زبردستی ہے کوئی ؟“ داداجی نے بات کو واضح کرتے ہوئے سکون سے پوچھا

”بات دراصل یہ ہے دادا جی ، میں نے پہلے بھی رابعہ سے شادی اسی کے کہنے پر کی تھی ، آپ بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔جہاں تک میری خواہش یا مرضی ہے تو میں اب سرمد کو نہیں چھوڑ سکتا۔اسی طرح آیت بھی اُسے نہیںچھوڑ سکتی۔اب ہماری خواہشیں یا مرضی نہیں دادا جی ، اب ہمارے درمیان سرمد ہے۔“طاہر نے بھی بڑے تحمل سے اپنا موقف واضح کیا۔

” میں سمجھتا ہوں اس بات کو۔لیکن ایک بات ہے ۔“ اس نے یہ کہتے ہوئے سوالیہ انداز میں طاہر کی جانب دیکھا تو اس نے پوچھا

” وہ کیا دادا جی ؟“

” میں جانتا ہوں رابعہ سے شادی کو لے کر تمہارے والدین کا ردعمل کیا تھا اور انہوں نے اس کے ساتھ جو کیا، سب سامنے ہے ۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اس شادی پر اُن کا رویہ کیا ہوگا؟“انہوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

” میں نہیںجانتا ، ان کا ردعمل کیا ہوگا۔کیونکہ میں ان سے نہیںملا ۔لیکن اب میں بہت محتاط ہوں ۔“ اس نے گول مول انداز میں اپنی بات کہہ دی

” دیکھو بیٹا۔! تمہارا سیاسی کیرئیر وہاں پر ہے ۔مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم کہاں رہتے ہو کہاں نہیں رہتے ۔ آیت نے بھی وہاں بزنس شروع کر رکھا ہے ۔اگر تم دونوں کی شادی ہو جاتی ہے تومجھے تم لوگوں کے معاملات اور جو بھی فیصلے ہوں ان پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جو ….“ انہوں نے کہنا چاہا تو وہ جلدی سے بولا

”مجھے اب سیاست سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔وہ ایک عجیب طرح کی زندگی ہے ۔رابعہ کا معاملہ کچھ دوسرا تھا لیکن آیت وہ نہیںہے ۔اس کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے ۔“

”کیا اس شادی پر تم انہیںشامل نہیںکرو گے ؟“ انہوں نے پوچھا

”نہیں، کیونکہ وہ سرمد کو ہماری زندگی سے نکالنا چاہتے ہیں۔میں ایسا نہیںکر سکتا۔وہ میرے والدین ہیں ، ان کا ادب مجھ پر فرض ہے لیکن ظلم ایک حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے ۔“ طاہر نے پھر اشاروں میں ہی کہا

” مجھے بس تمہارے والدین ہی کی طرف سے خدشہ ہے ، تم جانتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ انہیں روکنے کی قوت مجھ میں ہے لیکن۔! تمہارے گھر کے معاملات تمہارے ہیں، انہیں تم نے ہی حل کرنا ہے ۔“ دادا جی نے سکون سے کہا تو وہ بولا

” جی میں جانتا ہوں اور سمجھتا بھی ہوں ۔ میں بہر حال انہیں سمجھا لوں گا۔“

” تو ٹھیک ہے بیٹا،تم اور آ یت دونوں مل کر یہ طے کر لو کہ کیا کرنا ہے ۔“دادا نے کہا

” جی ٹھیک ہے ۔میں آ ج کل میں اس سے بات کر لیتا ہوں۔“ اس نے سعادت مندی سے کہا اور دادا کی طرف دیکھنے لگاتو وہ مسکراتے ہوئے بولے

” میرا خیال ہے ہم بات کر چکے ہیں۔“

” لیکن اب یہ تو بتا سکتے ہیں کہ آر ڈر کیا کریں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ہنس دیا تو دادا جی بھی مسکرا دئیے ۔

” ہاں بھئی بلایا میں نے میزبان تو میں ہی ہوں گا نا ۔“وہ بولے

” نہیں آپ سب کچھ ہیں، مہمان ، میزبان اور مہربان ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

تبھی دادا جی نے ویٹر کو اشارہ کر دیا۔

ز….ژ….ز

سہ پہر ہونے کو تھی ۔آیت النساءکے گھر میں بزنس کمیونٹی کے بہت سارے لوگ آ رہے تھے۔ان میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ لاﺅنج بھر ا بھرا لگ رہا تھا۔دادا جی کے ساتھ شکیل کھڑا مہمانوں کا استقبال کر رہے تھا۔ایسے میں طاہر کی کار پورچ میں رُکی۔اگلی نشست پر سے سرمد اترا،جبکہ پچھلی نشست سے طاہر اورساجد کار سے باہر آئے۔ ان کے پیچھے ہی منیب کی کار رکی ، جس کے ساتھ اس کی فیملی کی چند خواتین باہر آ گئیں ۔ طاہر باجوہ نے بہترین تراش کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔بالکل اسی جیسا سوٹ سرمد کا بھی تھا۔ ان کے آتے ہی لاﺅنج میں ہلچل ہوئی ۔ طاہر وہاں موجود ہر شخص سے ملا۔اس ملنے ملانے میں کچھ وقت لگ گیا۔جیسے ہی طاہر اپنے لئے مخصوص صوفے پر بیٹھا، ان کے پاس نکاح خواں آ کر بیٹھ گیا اور دادا جی سے اجازت چاہی ۔

ایجاب و قبول ہوا ۔ آیت النساءسے اجازت کے بعدوہاں موجود مبارک باد دینے لگے ۔خطبہ اور دعا کے بعد آیت النساءکو اندر سے لایا گیا۔ اس کے ساتھ دائیں جانب شارلین تھی اور بائیں طرف امبرین تھی ۔انہوں نے اسے طاہر کے ساتھ بٹھا دیا ۔ ان دونوں کے درمیان میں سرمد بیٹھا ہوا تھا۔آیت النساءبہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی ۔ اس نے گہرے سبز رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا ، جس پر سنہرا بھاری کام تھا۔پہلی بار کسی نے اسے یوں میک اپ اور سنگھار میں دیکھا تھا۔طاہر کے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ ایک اطمینان بھرا تاثر تھا۔وہ یہ بات ذہن میںبھی نہیںلے کر آیا کہ اس کی شادی پر اس کے والدین نہیںہیں۔بزنس کمیونٹی کے وہ خاص لوگ وہاں موجود تھے ، جن سے ان دونوں کا روزانہ ہی سابقہ رہتا تھا۔ مغرب تک مہمان کھاتے پیتے اور ایک دوسرے سے گپ شپ کرتے رہے ۔امبرین نے ایسے وقت ہی میں سرمد کو سنبھال لیا۔مغرب ہوتے ہی مہمان جانے لگے ، یہاں تک کہ گھر والے ہی رہ گئے ۔ایسے میں دادا جی نے آ یت کو رخصت کیا۔

طاہر کی کار پورچ میں کھڑی تھی۔آیت النساءجب دادا کے گلے ملی تو نجانے آ نسو کہاں سے آ گئے ۔ دونوں ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے ۔ اگرچہ وہاں پر ہر بندے کو یہ احساس تھا کہ اب دادا جی اکیلے رہ گئے ہیں لیکن جب بھی بیٹی گھر سے رخصت ہوکر اپنے سسرال جاتی ہے توہر آ نکھ اشک بار ہو جاتی ہے ۔شاید یہ ایک فطری تقاضا ہے جو مشرقی تہذیب میں رچ بس گیا ہوا ہے ۔

کار کی اگلی نشست پر طاہر تھا ، تو پچھلی پر آ یت اور امبرین بیٹھی ہوئیں تھیں۔ ان کے درمیان سرمد بیٹھا ہوا خاموش خاموش سا تھا۔کار میں بھی خاموشی تھی ، ایسے میں آیت کی نگاہ سرمد کے چہرے پر پڑی تو آیت نے سرمد سے پوچھا

” آپ اتنے خاموش خاموش سے کیوں ہیں؟“

” بڑی ماما۔! آپ رو کیوں رہی تھیں؟“ اس نے معصومیت میں سوال کر دیا۔

” کیوں آپ کو ماما کا رونا اچھا نہیںلگا؟“ امبرین نے اس سے پوچھا

” نہیں، میں بڑی ماما کو کبھی روتے ہوئے نہیںدیکھا، یہ آ ج کیوں رو رہی تھیں؟“ اس کے پوچھنے پر آ یت کو لگا کہ سرمد کو شاک لگا ہے ۔تبھی وہ بولی

” دیکھو۔! اب میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی ، یہ آپ کو پتہ ہے نا؟“

” ہاں ، پاپا نے بتایا تھا، لیکن آپ رو کیوں رہی تھیں۔“ اس کا ذہن ابھی تک وہیں تھا۔

” اس لئے کہ اب دادو یہاں اپنے گھر میں اکیلے ہو جائیں گے ۔ان کا خیال کون رکھے گا۔اس دکھ سے مجھے رونا آ گیا ۔“آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” اچھا، تو یہ بات ہے ، ہم دادا جی کو اپنے پاس لے آ ئیں گے ۔“ اس نے اپنی طرف سے حل دیا

” اب یہ تمہارا کام ہوگا، وہ نہیںآ ئیں گے اپنا گھر چھوڑ کر لیکن آپ لے آ نا۔“ آیت نے اسے سمجھایا

” یہ تو کوئی بات نہیں، میں ضد کر کے لے آ ﺅں گا ۔“ اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” تو بس پھر ۔“ اس نے سرمد کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو وہ مطمئن ہو گیا۔

جس وقت ان کی کار فارم ہاﺅس کے پورچ میں رکی تو وہاں ساجد ، منیب اور اس کے گھر والوں کے ساتھ شکیل اور شارلین بھی کھڑے تھے۔ اسے دیکھ کر شارلین نے کہا

” مجھے تمہاراروایتی استقبال کر نا تو نہیںآ تا لیکن تمہارے اپنے ہی گھر پر تمہارا خوش آ مدید ۔“

”ہم جو ہیں روایتی استقبال کرنے والے ، چل بھئی بیگم ۔“ منیب نے کہتے ہوئے اپنی بیوی کو اشارہ کیا تو وہ آ گے بڑھ آئی ۔ ساری خواتین اسے لے کر لاﺅنج میں چلی گئیں۔

پر تکلف ڈنر کے بعد سبھی آ ئے ہوئے مہمان چلے گئے ۔تھکا ہوا سرمد بھی امبرین کے پاس سو گیا۔ آیت وہیں رابعہ کے بیڈ روم میں طاہر کا انتظار کر رہی تھی ۔ اس نے وہاں کچھ بھی نہیںبدلا تھا۔ سب ویسے ہی رہنے دیا۔اس نے طاہر سے یہی کہا تھا کہ ہمیں یہ احساس رہے کہ رابعہ ہمارے ساتھ ہے ، ہم اسے نہیںبھولے۔ آ یت انہیں خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ ہلکی سی آ ہٹ کے ساتھ طاہر اندر آ گیا۔ وہ سیدھا ایک الماری کی جانب بڑھا، اس میں سے ایک پیکٹ نکالا اور پھر اس کے پاس آ بیٹھ گیا۔

” آیت النساء، آج سے ہم زندگی کے اس سفر پر ہمسفر ہیں۔ہماری خوشیاں ، دکھ ، غم سب کچھ ایک ہے ۔ایسی ہی ایک رات جب میںنے رابعہ کے ساتھ سفر شروع کیا تھا تواس کا دل رکھنے کو ، اسے احساس دلانے کو دو ڈائریاں دی تھیں۔ایک میںنے خود رکھی اور دوسری اسے دے دی اور یہ کہا کہ اگر میری طرف سے کوئی بھی منفی خیال اس کے من میں آ ئے تو لکھ دے ۔“آ یت خا موش رہی ۔ اس نے پیکٹ سے دونوں ڈائریاں نکالیں ۔ اور اس کے سامنے رکھ دیں ، پھر انہیں کھولتے ہوئے کہا،” دونوں ہی کوری ہیں۔ اس نے کچھ نہیںلکھا اور نہ میں نے ۔ یہ میں تمہیں اس لئے دکھا رہا ہوں کہ اس سے شادی تمہارا حکم تھا، اور میں نے پورا کیا۔لیکن میں شرمندہ ہوں کہ میرے والدین نے اسے قبول نہیںکیا اور ….“ یہ کہتے ہوئے وہ آرذدہ ہو گیا

” طاہر ۔! زندگی اور موت کا فیصلہ تورَبّ تعالیٰ کے پاس ہے ، انسان اس معاملے میں عاجز ہے ۔ بس انسانوں کی آ زمائش ہوجاتی ہے ۔میں کسی بھی آ زمائش پر پورا اترنے کی کو شش کروں گی ۔“ آیت نے دھیمے سے کہا تو وہ بولا

”آیت ، تمہاری یہ بات سچ ہوئی کہ قدرت نے اگر چاہا تو ہمیں ملا دے گی ۔ آ ج ہم مل گئے ۔تحمل ، حوصلہ ، برداشت ،یہ سب عشق کی دین ہیں۔ہم اپنا یہ سفر بھی اسی عشق کے ساتھ ہی کریں گے ۔“ آیت نے کہاتو وہ مسکرا دیا۔چند لمحے یونہی خاموشی کے ساتھ گذر جانے کے بعد وہ بولا

” میں نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ سرمد ہمارے درمیان عشق قرار پا جائے گا ۔کبھی میں عاشق اور تم معشوق اور کبھی تم عاشق اور میں معشوق ۔“

”مقام عشق پر فائز ہونے کے لئے عاشقی اور معشوقی دونوں سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ سفر ختم نہیں ہوتا۔ جو بھی یہ کہتا ہے کہ عشق کا سفر لاحاصل ہے ، وہ کبھی مقام عشق پر فائز ہوتا ہی نہیں۔وہ پہلے یہ دیکھ لے کہ اس کا عشق کیسا ہے ؟ناقص عشق والا تو دائرے ہی میں نہیںآتا ۔حاصل اور لا حاصل تو بعد کی بات ہے ۔عشق ہو اور وہ لا حاصل ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہے ۔ عشق اگر بے رنگ نہ کرے تو وہ عشق ہی نہیں۔“ آیت نے دھیمے سے لہجے میں کہا ۔ طاہر یہ سن کر سر ہلانے لگا جیسے اس کی بات سے اتفاق کر رہا ہو ۔ کچھ دیر بعد بولا

”ویسے تو میرا اور تمہارا ملن ہو جانا، ہم دونوں کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے لیکن یہ میری طرف سے تمہارے لئے ۔“ یہ کہتے اس نے ایک چھوٹا سا پیکٹ اس کی طرف بڑھا دیا۔آیت نے وہ پیکٹ لیا اور کھولنے لگی ۔چند لمحوں بعد جب وہ تحفہ سامنے آ یا تو اس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی ۔ آنکھیں اور لب تک مسکرانے لگے۔ اس پیکٹ میںکنگن، ہیرے کی انگوٹھی اور سُچّے موتیوں والے بُندے پڑے ہوئے تھے۔

” یہ آپ نے ….“ آیت نے خوشگوار حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا

” ہاں میں نے سنبھال کر رکھے تھے ۔“اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا پھر بولا” نکاح کے بعد تم یہ آپ جناب ….“

”جی،اب آ پ میرے مجازی خدا ہو ۔“

آیت نے شرم سے کہا تواس نے ایک گہری سانس لی پھر بولا

” میں بھی آپ کو اب آپ ہی کہوں گا کہ آپ میری شریک حیات ہو ۔آﺅ ، شکرانے کے نوافل پڑھ لیں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اُٹھ گیا۔آیت بھی اٹھ گئی ۔

کچھ دیر بعد وہ سادہ سے لباس میں رَبّ تعالی کے حضور کھڑے تھے ۔

ز….ژ….ز

فارم ہاﺅس کو گیٹ سے لے کر لان تک رنگین روشنیوں سے سجایا ہوا تھا۔ لان میں پر تکلف ولیمہ ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا۔آیت النساءاور طاہر باجوہ میں یہ طے ہو چکا تھا کہ سادگی سے نکاح کے بعد ولیمہ اہتمام سے کیا جائے گا تاکہ ان کی شادی میں سبھی ملنے والوں کو شامل کیا جائے ۔ایک مہنگے ہوٹل کے لوگ سارا اہتمام کر چکے تھے۔مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ساجد اور منیب کے ساتھ طاہر باجوہ مہمانوں کے استقبال کے لئے کھڑا تھا۔اس کے ارد گرد کافی لوگ تھے۔ طاہر نے اپنے سیاسی تعلقات والے لوگوں کو بھی دعوت دی ہوئی تھی۔یوں طاہر کے آ فس سے لے کر بزنس کمیونٹی تک اور بہاول پور کے سیاسی ورکرز سے لے کر اسلام آباد کے ایوانوں تک سبھی موجود تھے۔ خواتین کی طرف آیت النساءموجود تھی ، جس کے پاس سرمد تیار ہوا بیٹھا تھا۔اس کے ارد گرد شارلین اورا مبرین تھیں۔اس کے آ فس سٹاف سے کر سرمد کے سکول اساتذہ تک ، پرانی سہیلیوں سے لے کر بزنس کمیونٹی تک کو بلایا ہوا تھا۔

 دونوں طرف کے پنڈال بھرے ہوئے تھے۔ابھی کھانا شروع نہیںہوا تھا کہ پورچ میں کار رُکی ۔ طاہر نے دور ہی سے دیکھ لیا کہ اس کے بابا سکندر حیات آ گئے ہیں۔ ساجد سمجھ گیا تھا کہ کیا کرنا ہے ۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ طاہر نے انہیں بلایا نہیں تھا۔اب جبکہ وہ آ گئے تو اس نے طاہر کی جانب دیکھا۔ طاہر نے آنکھوں کے اشارے سے اسے سمجھا دیا ۔ وہ منیب کو لے کر فوراً آ گے بڑھا ۔ اتنی دیر میں بلقیس بیگم بھی کار سے اتر آ ئی تھی۔ ساجد اور منیب ان کے پاس پہنچ گئے۔ منیب نے بلقیس بیگم کو خواتین کے پنڈال کی طرف جبکہ ساجد نے سکندرحیات کولیا اور طاہر کی جانب بڑھ آ یا۔وہ دو قدم آ گے بڑھا اور باپ سے بغل گیر ہوگیا۔ سکندر حیات نے اسے پیار کیا اور ساجد کے ساتھ چلتا ہوا وہاں تک آ یا جہاں دادا جی بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں آ پس میں ملے۔اس کے ساتھ ہی ساجد نے وہاں موجود ہوٹل مینیجر کو ڈنر کے لئے کہہ دیا ۔

 تقریباًایک گھنٹے بعد مہمان واپس جانے لگے تو سکندر حیات بھی اٹھ گیا۔ساجد دیکھ رہا تھا۔وہ تیر کی طرح اس کی جانب بڑھا ۔وہ جیسے ہی قریب پہنچا، سکندر حیات نے بڑے کروفر سے کہا

”بیگم صاحبہ کو بلاﺅ ۔“

” آپ ابھی سے جا رہے ہیں۔“

اس نے پوچھا تو اس کی تیوریوں پر بل پڑ گئے ،پھر دھیمے سے لہجے میں بولا

” طاہر کو بتانا ، ہم کل صبح کچھ ضروری باتیں کرنے آ ئیں گے۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ ساجد نے مودب لہجے میں کہا تو وہ بولا

” تو جاﺅ ، بلاﺅ بیگم صاحبہ کو ۔“

”جی جی ….“ یہ کہتے ہوئے وہ خواتین کے پنڈال کی جانب بڑھ گیا۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں میاں بیوی پورچ میں کھڑی کار میں بیٹھ کر چلے گئے ۔طاہردور کھڑا انہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ تبھی ساجد نے سکندر حیات کا پیغام اسے دے دیا۔وہ چند لمحے اس پر سوچتا رہا ، پھر سر جھٹک دیا۔

رات گئے جب ہر طرف سکون ہو گیا۔طاہر بیڈ روم میں گیا تو آیت النساءاس کے انتظار میں جاگ رہی تھی ۔ سرمد سو رہا تھا ۔وہ سکون سے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا تاکہ سرمد ڈسٹرب نہ ہو ۔وہ خاموش بیٹھا تھا کہ آیت النساءنے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا

” خیریت …. کوئی مسئلہ تو نہیں؟“

” نہیں، ٹھیک ہے سب ، یہ بابا اور اماں کو تم نے انوائیٹ کیا تھا؟“ اس نے دھیمے سے انداز میں پوچھا تو آ یت النساءنے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا

” نہیں ، میں نے نہیں بلایا،آپ کو پتہ ہے ، میںنے جسے بھی بلایا ، وہ آ پ ہی کے ذریعے بلایا تھا۔“

” تو اس کا مطلب ہے وہ خود ہی آئے ۔“ خود کلامی کے سے انداز میں کہتے ہوئے اس نے ساجد کے ذریعے بابا کا پیغام بھی اسے بتا دیا۔

” ٹھیک ہے ، آ جائیں۔“ آ یت نے سکون سے کہا

”نجانے مجھے کیوں عجیب سا لگ رہا ہے ۔“اس نے الجھتے ہوئے کہا

” گھبرانے کی ضرورت نہیں۔سب ٹھیک ہو جائے گا ، آ پ تھک گئے ہوں گے ، اب آپ سوجائیں ۔“ آ یت نے تسلی آ میز لہجے میں کہا تو خاموش ہو گیا۔وہ اس کی طرف دیکھتی رہی پھر سائیڈ ٹیبل کی لائیٹ آ ف کردی ۔

اگلی صبح وہ تینوں ناشتے کے بعد لاﺅنج میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ۔سرمد ان دونوں سے سوال کر چکا تھا کہ آ ج کا دن کیسے گزاریں گے ؟

” آ پ بتاﺅ ….“ آ یت نے جواباً اسی سے پوچھ لیا

” پہلے تو چھٹی والے دن میں اور پاپا لان میں کھیلتے تھے ۔اب آ پ بتائیں، کیا آ پ بھی ہمارے ساتھ کھیلیں گی؟“ اس نے پوچھا تو طاہر جلدی سے بولا

” نہیںیار، تمہاری بڑی ماما ، اچھا نہیں کھیلتی ہیں، یہ صرف ہمیں دیکھیں گی بس ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ وہ ایک دم سے مان گیاتو آیت نے پوچھا

” ایسا نہ کریں کہ آج ہم سب دادو کے پاس چلیں ، پھر شام کو آ جائیں گے ؟“

” یہ بھی ٹھیک ہے ۔ابھی ہم تھوڑا سا کھیل لیتے ہیں ، پھر چلیں گے ۔“ سرمد نے کہا تو وہ سبھی ہنس دئیے ۔ انہیںلمحات میں ان کے پورچ میں کار آ ن رُکی ۔تھوڑی دیر کے بعد سکندر حیات اور بلقیس بیگم اندر آ گئے۔ طاہر انہیں دیکھ کر کھڑا ہوگیا تو آ یت بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ وہ دونوں علیک سلیک کرنے کے بعد صوفے پر بیٹھ گئے ۔وہ دونوں بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھے تو ان دونوں کے درمیان سرمد بیٹھ گیا۔تبھی سکندر حیات نے کہا

” یہ مجھے لگا کہ تم دونوں میاں بیوی نے ہمارا احترام کیا ، کھڑے ہو گئے ، اس سے مجھے لگا کہ تم دونوں میری بات اچھی طرح سمجھ جاﺅ گے ۔“

” کیسی بات ….“ طاہر نے پوچھا

” یہی کہ تمام گلے، شکوے اور رنجشیں ختم کر کے اب تم اپنے گھر لوٹ آ ﺅ ،آیت دیر ہی سہی ، اب ہماری بہو بن چکی ہے ۔تم دونوں اُدھر بہاول پور میں آ کر رہو ۔نئی زندگی کی شروعات کرو اپنے خاندان کے ساتھ ، اسی میں عزت ہے اور بھلائی بھی ۔“ سکندر حیات نے اپنے لہجے میں رعب اور دبدبہ رکھتے ہوئے کہا

” آپ نے ایسا کہا، بہت اچھا لگا لیکن بابا آ پ بھول رہے ہیں کہ ہم دو نہیںتین ہیں، میں ، سرمد اور آیت…. تین ہیں ہم ۔اور ….“ اس نے کہنا چاہا تو سکندر حیات نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا

”یہ اچھی بات ہے کہ تم نے اور آ یت نے ایک بے چارے یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھا ہے ۔لیکن تم ساری زندگی اسے ساتھ میں نہیں رکھ سکتے ہو ۔اس کا بھی بندو بست کر دیں گے ۔“

اس کے یوں کہنے پر آ یت النساءایک لمحہ کو تڑپ کر رہ گئی لیکن خود پر قابو رکھتے ہوئے وہ خاموش رہی ۔ تبھی طاہر نے گھمبیر لہجے میںکہا

”نہیںبابا۔! یہ یتیم نہیں ہے ۔ میں اس کا باپ ہوں اور آیت النساءاس کی بڑی ماما ہے۔ یہ فارم ہاﺅس اس کا ہے ،ہم تو اس کے پاس رہ رہے ہیں۔“

” دیکھو، یہ بچہ تم دونوں کے پاس نہیں رہے گا۔ اس کے خاندان والے ہیں،اس کا چاچا ہے ، تایا ہے ، وہ اس کے سرپرست ہیں ، قانونی طور پر بھی وہ اسے لے سکتے ہیں۔“ سکندر حیات نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے ہلکی ہلکی مسکان میں کہا

” یہ آ پ کیا کہہ رہے ہیں؟“ طاہر نے گھبراتے ہوئے کہا

” وہ آ ئے تھے میرے پاس ، انہوںنے مجھ سے کہا کہ میں ان کا بچہ انہیں واپس دِلا دوں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں بات کروںگا طاہر سے۔ وہ دے دے گا اس بچے کو ۔وہ لوگ تو میرے ساتھ ہی آ نا چاہ رہے تھے۔ مگر میں نے منع کر دیا۔“ سکندر حیات نے یوں کہا جیسے دھمکی دے رہا ہو ۔

”بابا ۔! آ پ ایسا کچھ نہیںکریں گے ۔“ طاہر نے ایک دم سے جذباتی ہوتے ہوئے کہا

” میں خاموش ہو جاﺅں گا تو وہ عدالت چلے جائیںگے۔پھر ہم نہ عوام سے کچھ کہہ پائیں گے اور نہ میڈیا چپ رہے گا ۔ ایک طوفان بد تمیزی اٹھ کھڑا ہوگا۔کیوں سر دردی لیتے ہو تم دونوں، نئی زندگی کی شروعات ہیں، سکون سے اپنی زندگی گذارو۔ کیوں اس بچے کے لئے اپنی زندگی برباد کرتے ہو ۔“ اس بار سکندر حیات کے لہجے میں دبا دبا غصہ تھا۔طاہر نے آیت کی طرف دیکھا ، جس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔اپنی طرف دیکھتا ہوا پاکر اس نے طاہر سے مخاطب ہو کر کہا

”میرے پاس اس کا بہت اچھا حل ہے ؟“

” کیا….“ طاہر نے تیزی سے پوچھا تو وہ سکون سے بولی

” میں بتاتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنی ملازمہ کو بلایا، چند ہی لمحوں میں وہ آ گئی۔ تبھی آیت نے کہا،”ہمارے ہاں مہمان آ ئے ہیں، شیف سے کہو کہ ان کے لئے چائے بھجوائے ۔ سرمد کو لے جاﺅ اور سیکورٹی چیف سے کہنا کہ اس کا خیال رکھے ۔“

” جی بہتر ۔“ ملازمہ نے کہا اور سرمد کو لے گئی ۔وہ جب وہ لاﺅنج سے چلے گئی تو آیت نے پہلو بدلا اور سکندر حیات کی طرف دیکھ کر بڑے سکون اور تحمل سے بولی

”محترم سکندر حیات صاحب ۔! میں ایک بزنس وویمن ہوں ۔میں وہاں ایک روپیہ لگاتی ہوں جہاں سے مجھے دو روپے واپسی کی اُمید ہو ۔ میں اپنی آ مدنی کا تیس فیصد اب سرمد کی سیکورٹی کے لئے لگاتی ہوں۔عدالتیں کوئی بڑی بات نہیں،میں اپنی ساری آمدنی لگا کر بھی عدالت کا کیس لڑ لوں گی ۔ کیونکہ مجھے احساس تھا کہ ایک دن ایسا آ نا ہے کہ سرمد کے معاملے میں عدالت کا سامنا کر نا پڑے گا۔“

”تم مجھے دھمکی دے ….“ سکندر حیات نے کہنا چاہا تو وہ تیزی سے بولی

” ابھی آ پ میری پوری بات سنیں ۔“

” بولو۔….“ اس نے غصے میں کہا

” اس کے علاوہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہوگی کہ رابعہ قتل کیس دوبارہ کھل جائے ۔یہ تو تھی میری ظاہری بات ۔ لیکن ۔!آپ ہمارے والدین ہیں۔جس طرح آپ نے دنیا داری رکھی ہے ، اسی طرح رکھیں اور ہمیں اپنی زندگی جینے دیں۔“

” دیکھو لڑکی ، نہ ہمارے لئے عدالتیں نئی ہیں اور نہ قتل کیس۔اگر تم یہ شوق پورا کرنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے ، تم یہ شوق بھی پورا کر لو ۔“ سکندرحیات نے دبے دبے غصے میں کہا تو وہ بولا

” نہیں،میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں کسی صورت بھی اس لڑکے کو برداشت کرنے والا نہیںہوں ۔“

اس پر آیت نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

”نہ کریں برداشت ،آپ سکون سے اپنے ہاں رہیں اور ہمیں یہاں رہنے دیں۔میرا اور طاہر کا بزنس یہاں ہے اور سرمد کا اسکول بھی یہیں ہے ۔میرا خیال ہے ہمیں اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنی چاہئے۔“

تبھی بلقیس بیگم نے تڑپ کر کہا

” دیکھو آ یت میں ایک ماں ہوں ، تم پرائے بچے کے لئے یوں تڑپ رہی ہو اور میں نے تو اسے جنم دیا ہے ، کیا تم میری تڑپ نہیں سمجھتی ہو ۔“

” کاش آ پ نے رابعہ کے بارے میں ایسا سوچا ہوتا۔اس کے بیٹے سے آ پ نے ماں چھین لی ؟ کیوں کیا اُس کے ساتھ ایسا ، کیا بگاڑا تھا اُس نے آپ دونوں کا ۔اسے سے ماں چھین کر آپ نے اپنا بیٹا گنوا لیا ہے ماں جی ۔ اب میں آ پ کو اُس وقت تک نہیں مل سکتا ، جب تک سرمد کی ماں اسے نہیںمل جاتی ، کیا آپ اس کی ماں لوٹا سکتے ہیں؟“ طاہر نے بے حد جذباتی ہوتے ہوئے کہا تو سکندر حیات بولا

” بلقیس بیگم ۔! تم دل پر پتھر رکھ لو ، تمہارا بیٹا تمہیں نہیں ملنے والا۔“یہ کہہ کر اس نے طاہر کی طرف دیکھا اور انتہائی غصے میں کہا،”میں تمہیں عاق کر دوں گا ، پھر میں دیکھتا ہوں ، تمہاری سیاست کیسے رہے گی اور عوام میں تم ….“

” بابا۔! میں سیاست کو ویسے ہی چھوڑ رہا ہوں۔اب میرے لئے کوٹھی ، بنگلہ ، جھونپڑی سب ایک جیسے ہیں۔آپ مجھ سے سب کچھ چھین لو ، میں اپنے رہنے کے لئے دوبارہ کوئی گھر بنا لوں گا۔وہ چھوٹا سا کیوں نا ہو ۔“ یہ کہہ کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا،” آپ میرے والدین ہیں تو میںنے سرمد کے بارے میں اتنی باتیں سن لیں، میں نہیںچاہتا کہ میں کوئی گستاخی کروں۔ پلیز۔!مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور آپ اپنی دنیا میں خوش رہیں۔“

یہ کہتے ہوئے وہ اٹھا اور اندر کی جانب چلا گیا۔وہ اُسے جاتا ہوا دیکھتے رہے ۔تبھی بلقیس بیگم نے انتہائی غصے اور بے بسی میںکہا

” میرے گھر میں آ گ لگانے والی تم ہو آیت، میں تمہیںمعاف نہیں کروں گی ۔“

” اور مجھے اپنا گھر بچانا آ تا ہے ۔میں کسی پر ظلم نہیں کرتی ۔سرمد میری زندگی ہے پلیز۔!ہمیں جینے دیں۔ مجھے بس یہی کہنا ہے۔“ آیت نے کہا اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔

” بہت پچھتاﺅ گی آیت ۔“ بلقیس بیگم نے کہا اور اٹھ کر باہر کی جانب چل دی ۔ سکندر حیات اٹھا اور وہ بھی اس کے پیچھے چل دیا۔کچھ دیر بعد پورچ سے کار روانہ ہوگئی ۔

آیت النساءانہیںجاتا ہوا دیکھتی رہی ۔ وہ یہ بات پوری طرح سمجھتی تھی کہ کبھی بھی سرمد کو اس سے چھین لینے کی کوشش کی گئی تو کہاں کہاں سے وار ہو سکتے ہیں۔ اس نے وقت سے بہت پہلے سارا بندو بست کرلیا ہوا تھا۔رابعہ کی زندگی ہی میں اس نے سارے دستاویزی ثبوت بنا کر رکھ لئے تھے ۔ اس نے ایک طویل سانس لی اور اندر کی جانب چل دی۔

ز….ژ….ز

 آیت النساء، طاہر باجوہ اور سرمد کو پتہ ہی نہیںچلا کہ دوماہ سے زیادہ وقت کیسے گزر گیا۔وہ صبح تیار ہوتے ، مل کر ناشتہ کرتے ، سرمد کو سکول چھوڑ کر آفس چلے جاتے ۔ جیسے ہی سرمد کو چھٹی ہونے کا وقت ہوتا، وہ واپس آ جاتے ۔اگر آ فس میں کوئی کام ہوتا تو طاہر واپس چلاجاتا لیکن آیت واپس نہیںجاتی تھی۔وہ باقی سارا وقت سرمد کو ہوم ورک کرواتی ، اس کے ساتھ باتیں کرتی ، لان میں چہل قدمی کرتی، پھر سرشام وہ ڈنر کی تیاری میں مدد کرتی ۔ایک معمول بن گیا تھا۔وہ بہت خوشگوار دن گزار رہے تھے۔

انہی دنوں میں آ یت نے کچھ دیر پہلے اس نے ایک بزنس میٹنگ لی تھی ۔و ہ آفس میں بیٹھی ہوئی کام کر رہی تھی لیکن باوجود کوشش کے اس کا من کام میں نہیں لگ رہا تھا۔اسی دوران اسے چکر آ نے لگے ۔اسے یوں لگا جیسے ہر شے گھوم رہی ہے اور وامٹنگ ہونے لگی ہے ۔ وہ تیزی سے واش روم کی جانب بڑھ گئی ۔وہاں تک جاتے ہوئے وہ نارمل ہو گئی ۔ وہ کچھ دیر کھڑی رہی پھر واپس اپنے ٹیبل تک آئی اور کرسی پر بیٹھ گئی ۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ خوشی کی ایک لہر اس کے وجود میں پھیل گئی ۔ اس نے ٹیبل پر پڑا ہوا فون اٹھایا اور طاہر کو کال ملا دی ۔ اس کے بولنے سے پہلے ہی طاہر نے پوچھا

” جی بیگم صاحبہ ، کیسے یاد کیا۔“

” جلدی سے آ ئیں، ہمیں ہسپتال جانا ہے ۔“ اس نے خود پر قابو رکھتے ہوئے نارمل لہجے میں ہی کہا تھا لیکن اس کا بدلا ہوا لہجہ سن کر وہ پریشان ہوتے ہوئے بولا

” خیریت توہے نا….“

” آپ جلدی سے آ ﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔

طاہر اسی بلڈنگ میںموجود ایک آ فس میںتھا۔وہ فوراً ہی پہنچ گیا۔ اسے دیکھتے ہی آیت اٹھی

” آیت آپ ٹھیک تو ہو نا؟“

” ہاں ، میں ٹھیک ہوں ،آپ چلیں میرے ساتھ ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی جانب بڑھ گئی ۔طاہر کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑا۔کچھ دیر بعد وہ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہسپتال کی جانب جا رہی تھی ۔ راستے میں طاہر نے کچھ نہیںپوچھا، اس کی ساری توجہ ڈرائیونگ پر تھی ۔ کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال میں تھے ۔وہ سیدھی ایک خاتون ڈاکٹر کے پاس جا پہنچی ۔وہ ادھیڑ عمر ڈاکٹرالماس حبیب فربہ مائل بدن کی تھی ۔تیکھے نین نقش والی ، سفید رنگ کی ہنس مکھ سی ڈاکٹر الماس نے اسے دیکھتے ہی کہا

” تو آ پ آ گئیں ۔“

”جیسا آ پ نے بتایا تھا ، مجھے ویسا محسوس ہو اہے ۔“

” آﺅ۔“ پھر طاہر کی طرف دیکھ کر اٹھتے ہوئے بولی ،” آپ بیٹھیں۔“ وہ بیٹھ گیا تو ڈاکٹر نے آیت کو ایک اندرونی کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔

تقریباً آ دھے گھنٹے بعد جب وہ واپس آ ئی تو آ یت کے چہرے پر گلاب کھلے ہوئے تھے ۔اس کی آنکھوں میں خوشی کے دیپ روشن تھے ۔وہ طاہر کے پہلو میں آ کر بیٹھ گئی ۔اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر آ کر بیٹھ گئی۔اس نے مسکراتے ہوئے طاہر سے کہا

” آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ آ پ باپ بننے والے ہیں۔“

”الحمد للہ ۔! “ اس نے سکون سے کہاتو ڈاکٹر نے آ یت کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA Epi 12 Abdul Hnnan Ch

  DEVINE CHROMA Epi 12 (Bay Rang Peyya By Amjad Javeed) Abdul Hnnan Ch It …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے